International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Tuesday, July 29, 2008

ملک کے موجودہ حالات کی ذمہ دار بیورو کریسی اور ملٹری و سول اسٹیبلیشمنٹ ہے۔قاضی حسین احمد


راولپنڈی۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کی ذمہ دار بیورو کریسی اور ملٹری و سول اسٹیبلیشمنٹ ہے جو گزشتہ 60 سال سے پاکستانی قوم کو دھوکہ دے رہی ہے جب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ نہیں ہوا جاتا ہم آزاد قوم کہلوانے کے حقدار نہیں ہم اتنے بے توفیق ہو گئے ہیں کہ دشمن کو دشمن بھی نہیں کہہ سکتے پیپلز پارٹی کے آئینی پیکج کو مسترد کر تے ہیں امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے جو مسلمانوں کا استحصال کر رہا ہے عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ مل کر ججوں کو بحال کر نے کی سازش کے ذریعے ججوں کی توہین کر نے کی کوشش کی گئی ہے پارلیمنٹ کو نذر انداز کیا جا رہا ہے آصف زر داری کی طرف سے جو حکم ملتا ہے رحمن ملک اس کو فوراً نافذ کر دیتا ہے حکومت کے اتحادی فوری طور پر صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کریں لاپتہ افراد کو بازیاب کر وانا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے امریکی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی قابل شرم ہے پولیو ایک مصیبت ہے اس کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے قرطبہ سٹی میں لاہور ڈویژن کے ذمہ داران کی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن سے خطاب کر تے ہوئے کہی اس موقع پر لیاقت بلوچ ، سینیٹر پروفیسر ابراہیم ، امیر العظیم اور حافظ سلمان بٹ بھی موجود تھے قاضی حسین احمد نے کہا کہ صوبہ سرحد ،بلوچستان اور پنجاب کے تمام ڈویژن کے ذمہ داران کا مشاورتی اور تربیتی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے اس کے بعد سندھ کے ذمہ داران کا اجلاس ہو گا انہوں نے کہا کہ پوری جماعت اسلامی مقامی و ضلعی سطح پر مکمل طور پر یکسوع ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور کی بد عنوانیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو گئی ہے امن و امان کی صورتحال اور ملک کی خود مختاری داؤ پر لگی ہے اس صورتحال میں جماعت اسلامی ملک کے خلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کی ذمہ دار بیورو کریسی اور ملٹری و سول اسٹیبلیشمنٹ ہے جس میں گزشتہ ساٹھ سالوں کے دوران قوم کو دھوکہ دیا ہے قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہماری قومی آزادی کو بیچ دیا گیا ہے ہم اپنے فیصلے کر نے اور پالیسی سازی کا اختیار نہیں رکھتے حتیٰ کہ تعلیمی پالیسی بنانے کا اختیار بھی مغربی ایجنٹوں کے ہاتھ میں ہے ہماری معاشی پالیسی پر اغیار کا کنٹرول ہے ہم اتنے بے توفیق ہو گئے ہیں کہ دشمن کو دشمن نہیں کہتے وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ نیٹو افواج ایسے ہی منہ اٹھا کر ہمارے ملک میں نہیں گھس آتی بلکہ ہماری اجازت پر آتی ہے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم امریکہ کے حلیف رہیں گے ہمیں آزاد قوم کہلوانے کا حق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی فوج نے حملہ کیا ہے وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ احتجاجاً اپنا دورہ ختم کر کے وطن واپس آ جاتے قاضی حسین احمد نے کہا کہ لال مسجد کے بچیوں کا قتل اور فوجی آپریشن اسلام مسلمانوں اور ہماری قوم کے خلاف کھلی دہشت گردی ہے قوم کے جذبات اس کے خلاف ہیں ہم پاکستان کی حفاظت مساجد و مدارس کے طلبہ کے دفاع کا حق رکھتے ہیں اور ہم ہر سطح پر اس کے خلاف مزاحمت کریں گے انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے جو مسلمانوں کا استحصال کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو علاقائی ،نسلی اور فرقہ وارانہ سطح پر تقسیم کر نے کی جو سازش کی گئی ہے اس کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا آئینی پیکج کو مسترد کر تے ہیں اور مطالبہ کر تے ہیں کہ 12 اکتوبر 1999ء کا آئین بحال کیا جائے آئینی پیکج در اصل پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنی کرپشن اور این آر او کو تحفظ دینے کا پیکج ہے انہوں نے کہا کہ 3نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور 2 نومبر 2007 کی پوزیشن پر ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر تے ہیں انہوںنے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ جن ججوں نے قوم کو آزادی کا راستہ دکھایا ہے وہ سر بلند ہو کر واپس آئیں گے سر نگوں ہو کر نہیں آئیں گے عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ مل کر ججوں کی بحالی کی جو سازش اختیار کی گئی وہ در اصل ججوں کی توہین کر نے کی سازش تھی حکومت نے 100 دنوں کے اندر کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا جو فیصلہ آصف زر داری کی طرف سے آتا ہے رحمن ملک اس کو نافذ کر تا ہے پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا جارہا ہے اڈھاک طریقے سے ملک نہیں چلایا جا سکتا قاضی حسین احمد نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں امریکی مداخلت کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے جبکہ موجودہ حکومت اپنے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں ہے انہوںنے کہا کہ صدر کے مواخذے کی مطلوبہ تعداد ہو نے کے باوجود مواخذہ نہیں کیا جا رہا حالانکہ صدر کے خلاف 3 نومبر کے اقدام پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صدر کا مواخذہ اس لئے نہیں کر رہی کیونکہ وہ ایک ڈیل کے تحت آئے ہیں اور امریکہ سے وعدہ کر کے آئے ہیں کہ مشرف اور دہشت گرد گروہ ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلیں گے اور اگر ملک پر کوئی حملہ ہوا تو اس پر کوئی احتجاج نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہو نے والے جماعت اسلامی کے کل پاکستانی اجتماع کے حوالے سے ہم نے اپنے تمام ضلعی ذمہ داران کے الگ الگ اجتماعات منعقد کر کے ان سے مشاورت مکمل کر لی ہے انہو ںنے کہا کہ صدر مشرف نے اپنے دور کے اندر پاکستان سے محب وطن افراد کو اغواء کر یے امریکہ کے ہاتھوں ڈالروں کے عوض بیچا ہے موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کروائے اور ان کے لواحقین کو ان کے ملوائے انہوںنے کہا کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی امریکی دباؤ پر نظر بندی قابل شرم ہے ان کو عزت و احترام دینا ہمارا قومی فریضہ ہے قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملک میں آئین کی حکمرانی قانون کی بالادستی کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اس ملک کو خالص فلاحی ریاست بنانے کے لئے نظام میں بنیادی سطح پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے قاضی حسین احمد نے کہا کہ عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں ہے یہ اگر اچھا کام بھی کریں گے تو لوگ اس کو غلط سمجھیں گے انہوں نے کہا کہ پولیو ایک مصیبت ہے اس کو ختم کر نا ایک کاز ہے ہم اس کاز میں حکومت کے ساتھ ہیں لیکن حکومت پہلے اپنا اعتماد بحال کرے

پاک بھارت کے اعلیٰ فوجی حکام کی لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی پر فلیگ میٹنگ

راولپنڈی ۔ پاک فوج نے بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات پر بھارتی حکام سے شدید احتجاج کر تے ہوئے خلاف ورزی کے تمام شواہد پیش کر دئیے ہیں اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے اعلی فوجی حکام نے لائن آف کنٹرول پر فلیگ میٹنگ کی ہے اس میٹنگ میں پاکستانی حکام نے بھارت کی طرف سے لائن آ ف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج و مذمت کی ہے اور حکام کو بھارتی فوج کی طرف سے فائرنگ کے واقعے اور چوکی کے قیام کی کوششوں سے متعلق شواہد پیش کئے ہیں جبکہ بھارت نے پاکستان کی افواج پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے 15سپاہیوں نے بھارت کے نو گام سیکٹر میں لائن آف کنٹرول عبور کر نے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں بھارتی سپاہیوں نے جواباً فائرنگ کی جو کہ مسلسل ایک رات تک جاری رہنے کے بعد صبح کے وقت بند ہو گئی یہ فلیگ میٹنگ شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تنگدھار کے سیکٹر میں ٹھٹھوال کے مقام پر ہوئی جو ایک گھنٹہ جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی تاہم پاکستانی اعلی فوجی حکام نے بھارت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے اور واقعہ کی صحیح رپورٹ اس میٹنگ میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی بھارتی افواج نے چوکی کے قیام کی غرض سے کی ہے جس کے نتیجے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تاہم پاکستانی افواج نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی

ایل پی جی کی قیمت میں ٥ روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا

کراچی ۔ مائع پیٹرولیم گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی کے بعد طلب اور رسد میں توازن بگڑ گیا ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں پانچ روپے اضافہ کر دیا گیا۔ ملک میں ایل پی جی کے تمام پروڈیوسرز کی جانب سے مائع گیس کی پیداوار میں 25 فیصد تک کمی کے بعد ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیز نے گیارہ اعشاریہ آٹھ کلو گرام سلنڈر کی قیمت پچاس روپے بڑھا کر سات سو پچاس روپے کر دی ہے۔ جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں پانچ روپے اضافہ سے تہتر روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان کا کہنا ہے کہ طلب اور رسد میں توازن بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ اور بلیک مارکیٹنگ کا خدشہ ہے جس سے بچنے کے لئے فوری طور پر ایل پی جی درآمد کی جائے بصورت دیگر ایل پی جی کی فی کلو قیمت اسی روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مک گیا تیرا شو مشرف ، گو مشرف گو مشرف ، استقبالی جلوس کی معروف تھاپ

کراچی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور وکلاء صدر پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔اس موقع پر ’’نامنظور نامنظور پی سی او ججز نامنظور‘‘ ، ’’ڈمی عدالتیں نامنظور‘‘ ، ’’مک گیا تیرا شو مشرف گو مشرف گو مشرف‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر درجنوں افراد نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے گو مشرف گو مشرف کے نعرے لگاکر ایک سماں باندھ دیا۔مزید براں ’’گو زرداری گو‘‘ کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے جبکہ سنی تحریک کے کارکنان متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد کے ساتھ ساتھ صدر مشرف پر شدید الفاظ میں نعرے بازی کرتے رہے۔

وکلاء کی تحریک کامیابی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اگلہ مرحلہ فیصلہ کن ہوگا۔اعتزاز احسن

کراچی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کامیابی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اگلہ مرحلہ فیصلہ کن ہوگا۔ساکنان کراچی نے چیف جسٹس آف پاکستان کا والہانہ اور تاریخی استقبال کیا ہے جس پر ساکنان کراچی کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک پرامن ہے اور ہم اپنے اہداف کے حصول تک پرامن رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کے قافلے کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جہاں ہمیں کراچی میں 15 ماہ بعد چیف جسٹس افتخار چوہدری کے تاریخی استقبال کی خوشی ہے وہیں اپنے ساتھی امداد علی اعوان کی وفات نے ہمیں رنجیدہ کردیا ہے۔چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ امداد اعوان نہ صرف وکلاء تحریک کے سرگرم رکن تھے بلکہ سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر تھے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کراچی میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کے سلسلے میں نہ توو کوئی اشتہاری مہم چلائی تھی اور نہ ہی کوئی استقبالیہ مہم تاہم اسکے باوجود ساکنان کراچی اور سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں جمع ہوکر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا استقبال کیا۔بیرسٹر اعتزاز نے کہا کہ وکلاء تحریک کامیابی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اگلہ مرحلہ فیصلہ کن ہوگا جس کیلئے وکلاء نے 14 اگست تک کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے۔

پاکستان انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے ۔ سید یوسف رضا گیلانی

واشنگٹن ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے اور یہ حکمت عملی سیاسی مذاکرات اقتصادی ترقی انتظامی اصلاحات اور فوج کے استعمال پر مبنی ہیں۔ وہ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر کی طرف سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ سے خطاب کررہے تھے ۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے علاقے کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے دیں گے۔ تاکہ وہ ہمارے پڑوسیوں پر حملے نہ کر سکیں جہاں تک فوجی طاقت کے استعمال کا تعلق ہے اسے آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو شاندار عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں نہ صرف جمہوریت بلکہ سیاسی مفاہمت کی علامت کے طورپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ عشائیے میں امریکی انتظامیہ کے عہدے داروں اور واشنگٹن میں موجود سفارت کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رحجان رہا

اسلام آباد۔ اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی رہی مجموعی طور پر 112کمپنیوں کا کاروبار ہوا 31کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 81کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 0کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا اور آی ایس ای ٹین انڈکس میں 13.90پوائنٹس کی کمی ہوئی جو مارکیٹ کے اختتام پر 2404.73 رہا گزشتہ روز ہارف حبیب سیکورٹیز 207,400حصص کے ساتھ ،بوسیکور پاکستان 126,000 حصص کے ساتھ ،مسلم کمرشل بینک 100,614حصص کے ساتھ سرفہرست رہیں منگل کے روز مارکیٹ میں کل 1,378,014حصص کا کاروبار ہوا جو کہ گزشتہ روز کے 779,380حصص کے مقابلے میں 598,634حصص زیادہ رہا گزشتہ روز مارکیٹ میں سب سے زیادہ اضافہ انڈس موٹرز کے حصص میں ہوا جس کی قیمت 7.00پیسے/روپے بڑھ گئی جبکہ سب سے زیادہ کمی جے ایس گلوبل کارپوریشن لمیٹڈ کے حصص میں ہوئی جس کی قیمت 12.14 روپے /پیسے کم ہو گئی۔

امریکہ یکطرفہ کارروائی نہ کرے ۔ اپنی حدود میں عسکریت پسندوں سے نمٹنا پاکستان کی ذمہ داری ہے ، سید یوسف رضا گیلانی




واشنگٹن ۔ وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر یکطرفہ کارروائی نہ کرے ، اپنی حدود میں عسکریت پسندوں سے نمٹنا پاکستان کی ذمہ داری ہے اگر گزشتہ روز ہونیوالے حملے میں امریکہ کا ہاتھ ہے تو یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے ۔اسامہ بن لادن کی گرفتاری کیلئے پوری کرششیں کررہے ہیں ۔ عسکریت پسندوں کے خلاف ازخود کارروائی کے لئے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون چاہتے ۔ امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امریکہ یکطرفہ حملے نہیں کرے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیر کو ہونے والے حملے میں امریکہ کا ہاتھ ہے تو یہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔وزیراعظم یوسف گیلانی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کر رہا ہے اور پیر کو پاکستانی سرزمین پر امریکی حملہ واضح طور پر اس کی خودمختاری کے خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام اور قبائلی علاقوں کے لوگ امن پسند ہیں ۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے لیکن یک طرفہ امریکی کارروائیاں قابل قبول نہیں۔ قبائلی علاقے میں حالیہ امریکی حملے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اپنی حدود میں عسکریت پسندوں سے نمٹنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ امریکی تھوڑے سے بے صبرے ہیں۔پاکستان عسکریت پسندوں کے خلاف ازخود کارروائی کے لئے امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون چاہتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے پوری کوشش کررہی ہے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ جس میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں ، دوطرفہ تعلقات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی ، پاکستانی وزراء شاہ محمود قریشی ، حنا ربانی کھر ،نیگرو پونٹے و دیگر دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ ملاقات کے دور ان وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مستحکم اور پرامن افغانستان کی حمایت کررہا ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم پاکستان سیدیوسف رضا گیلانی کی امریکی ریپبلکن صدارتی امیداور جان میکین سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ٹیلی فونک بات چیت میں ری پبلکن صدارتی امیداور جان میکین کا کہناتھا کہ وہ پاکستان کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے کہاکہ مستقبل میں امریکاکا صدر منتخب ہواتو پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مائیکل شرٹوف نے وزیر اعظم گیلانی سے ملاقات کی اس دوران پی آئی اے کی نان اسٹاپ پروازوں کے علاوہ امریکی ہوائی اڈوں سے گرفتار پاکستانیوں تک سفارت خانے کی رسائی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔

پاک فوج نے٢٠٠ میٹر کنٹرول لائن کے اندر گھس جانے کے بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا

راولپنڈی۔ پاک فوج نے بھارتی فوج کے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فائرنگ کے تبادلہ کے بعد پاک فوج کپواڑہ سیکٹر میں 200میٹرکنٹرول لائن کے اندر چلی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ کسی بھی پاکستانی سپاہی نے لائن آف کنٹرول کو عبور نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سپاہی پاکستان کی سرزمین میں چوکی قائم کر نا چاہتے تھے جسے پاکستانی افواج نے روک دیا۔ پاک فوج کے اعتراض کرنے پر بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی جس کا فوری طور پر جواب دیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی طرف سے وقفے وقفے سے ساری رات فائرنگ جا ری رہی اور پریس ریلیز جاری ہو نے تک فائرنگ جا ری تھی ترجمان نے بھارتی فوج کی طرف سے اس بلا اشتعال فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کسی بھی پاکستانی فوجی کے شہید ہونے کے بھارتی فوج کے دعوے کو مسترد کر دیا ۔ ترجمان نے کہاکہ ہمارے پاس بھارتی فوج کے لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں پاکستان کی طرف سے عام شواہد بھارتی افواج کے ساتھ فلیگ میٹنگ میں پیش کر دئیے جائیں گے ۔

اے پی ڈی ایم نے صدر پرویز مشرف سے استعفے کا مطالبہ اور حکومت کو ٣١ اگست تک عدلیہ کو بحال کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی

اسلام آباد ۔ آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم ) نے مطالبہ کیاہے کہ جنرل پرویز مشرف فوری طور پر استعفیٰ دیں اور حکومت اکتیس اگست تک عدلیہ کو دو نومبر 2007ء کی پوزیشن پربحال کرے اور اگر ایسا نہ کیاگیا تو پھر اے پی ڈی ایم مطلبات تسلیم کرانے کیلئے پورے ملک میں سیاسی تحریک منظم کرے گی اور یکم ستمبر 2008ء کو احتجاجاً ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار اے پی ڈی ایم کے مرکزی رہنماوں محمود خان اچکزئی، عمران خان، لیاقت بلوچ، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ، رضا محمد رضا ، عبدالرحیم مندوخیل و دیگرنے منگل کو یہاں الفلاح حال میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے کہاکہ اے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے فوراً بعد اٹھائیس جولائی 2008ء کو سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا کمیٹی اجلاس کی صدارت لیاقت بلوچ نے کی۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ، سید منظور گیلانی ، اختر حسین ، انجنیئر سلیم اللہ خان ، سینیٹر رضا محمد رصا ، سردار اظہار طارق ، نثار شاہ ، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، عبدالقادر رانٹو ، حمید الدین المشرقی ، عبدالحمید کانجو اور میاں محمد اسلم نے شرکت کی ۔ اجلاس میں درج ذیل فیصلے کئے گئے ۔ فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے رہنماؤں نے کہاکہ اے پی ڈی ایم کی تنظیم سازی کیلئے دستوری ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جائے جس میں اغراض و مقاصد ، تنظیمی ڈھانچہ ، تنظیم کے انتخاب اور نئی جماعتوں کی اے پی ڈی ایم میں شمولیت کے طریقہ کار کی وضاحت ہو گی اے پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے چارٹر کے مطابق آئین اور قانون کی حکمرانی ، عدلیہ کی آزادی اور ملک کو ہر طرح کی اندرونی اور بیرونی مداخلت سے نجات کیلئے پر امن آئینی اور سیاسی جدوجہد کیلئے اتحاد ہو گا ۔ سید منظور گیلانی صاحب مسودہ تیار کر کے ممبران کمیٹی کو بھجوائیں گے ۔ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ تیرہ اگست 2008ء کو لاہور میں ہو گا کمیٹی نے طے کیاہے کہ اے پی ڈی ایم کا مالیاتی نظام قائم کیا جائے گا اے پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف فوری طور پر استعفیٰ دیں او رحکومت اکتیس اگست 2008ء تک عدلیہ کو دونومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال کرے وگرنہ اے پی ڈی ایم مطالبات تسلیم کرانے کیلئے پورے ملک میں سیاسی تحریک منظم کرے گی اور یکم ستمبر 2008ء کو احتجاجاً ملک گیر ہڑتال کی جائیگا۔ اے پی ڈی ایم کی جانب سے ہونے والے مطالبات کے بارے میں کہا کہ حکومتی آئینی پیکج مسترد کرتے ہیں 1973ء کا دستور 12اکتوبر 1999ء کی پوزیشن پر بحال کیاجائے۔ 2نومبر 2007ء کی پوزیشن پر عدلیہ بحال کی جائے ۔ جنرل پرویز مشرف استعفیٰ دیں یا حکومت غیر آئینی صدارت کاخاتمہ کرے بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں فوجی آپریشن ختم کیا جائے بجلی کا بحران ختم کیا جائے حکومت مہنگائی ختم کرے۔ آٹا ، تیل ، بجلی ، کھاد ، گیس کی قیمتوں او رریلوے کرایوں میں اضافہ واپس لیا جائے ۔بدامنی اور لاقانونیت ختم کی جائے اور عوام کے جان ومال کی حفاظت کی جائے۔ بلوچستان اور ملک بھر سے لا پتہ افراد کو بازیاب کیاجائے پارلیمنٹ با اختیار ہو ، امریکی اور ہر نوعیت کی بیرونی مداخلت ختم کی جائے نیز بیرونی عناصر کو پاکستان کی سرزمین سے نکالا جائے ۔ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی سیاست میں مداخلت بند کی جائے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کے وسائل پر صوبوں کا حق ملکیت تسلیم کیاجائے ۔ کراچی میں فاشٹ تنظیم ایم کیو ایم کی سرپرستی ختم کی جائے اور بارہ مئی 2007ء کے المناک واقعہ کی تحقیقات کی جائیں۔ ملک میں انفرادی ، گروہی ، جماعتی اور ریاستی دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت ختم کی جائے اے پی ڈی ایم کے رہنماؤںنے کہاکہ اکتیس اگست 2008ء مطالبات کو تسلیم کئے جانے کی ڈیڈ لائن دی گئی اور یکم ستمبر 2008ء کی ملک گیر ہڑتال کیلئے اے پی ڈی ایم عوام سے رابطہ کیلئے درج ذیل شیڈول کے مطابق سیاسی تحریک منظم کرے گی عوام کو آگاہی اور سیاسی کارکنان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کیلئے متحرک کرنا ہدف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اے پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں ، وکلاء ، دانشوروں ، طلبہ ، نوجوانوں ، مزدوروں ، کسانوں ، خواتین اور سول سوسائٹی کی طرف سے بھرپور عوامی سیمینارز منعقد کئے جائیں گے اے پی ڈی ایم کے مطالبات کا موثر ابلاغ کیا جائے گا صوبائی تنظیمیں ان سیمینارز کا اہتمام کریں گی۔5اگست کو لاہو ر،کراچی ، پشاور ، کوئٹہ،6اگست کو فیصل آباد،لاڑکانہ ، صوابی ، لورالائی ، 13اگت کو ملتان ، نواب شاہ ، نوشہرہ ، قلات ،16اگست کو راولپنڈی ، سکھر ، مردان ، نوشکئی میں سیمینار کا اہتمام کیاجائے گا ۔ اے پی ڈی ایم اضلاع کی تنظیموں کے ذریعے چودہ اگست کو پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کی حفاظت اور عوام کی حقیقی جمہوری آزادی اور معاشی انصاف کیلئے اسلام آباد ، کراچی ، لاہور، پشاور ، کوئٹہ میں جلسہ عام منعقد کئے جائیں گے صوبائی تنظیمیں نگرانی کریں گی رابطہ عوام مہم کے ذریعے سیاسی تحریک کو منظم کرنے کیلئے عوامی جلسہ ہائے عام ان تمام تاریخوں میں منعقد کئے جائیں گے ۔ مرکزی قائدین ان جلسوںمیں شرکت کریں گے ۔17اگست کو ملتان میں ،18اگست کو گوجرانوالہ ،19اگست کو مردان ، 20اگست کو ایبٹ آباد ، 22اگست کو کراچی، 24اگست کو حیدر آباد ، 25اگست کو کوئٹہ اور26اگست خضدارمیں منعقد کئے جائیں گے۔ تمام عوامی پروگراموں اور اے پی ڈی ایم کے مطالبات کی اخباری اشتہارات اور مقامی سطح پر پوسٹرز ،بینرز ، ہینڈ بلز کے ذریعے تشہیر کی جائے گی انہوں نے کہاکہ اکتیس اگست 2008ء تک اے پی ڈی ایم کے مطالبات تسلیم کرانے کیلئے ملک گیر ہڑتال کی کامیابی کیلئے تمام ضلعی مقامات پر وفود تاجروں ، ٹرانسپورٹرز ، ریڑھی بانوں ، مزدوروں اور طلبہ سے ملاقاتیں کریں گے اور اکتیس اگست 2008ء بروز اتوار تمام ضلعی و تحصیلی ہیڈ کوارٹرز پر ریلیاں نکالی جائیں گی ضلعی تنظیمیں اس کا اہتمام کریں گی انہوں نے کہاکہ اکتیس اگست کو ہی تمام مرکزی قائدین اسلام آباد میں عوامی سیمینار سے خطاب کریں گے اور قومی و بین الاقوامی پریس کے ذریعے یکم ستمبر 2008ء کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب کرانے کیلئے عوام سے اپیل کی جائے گی

اسٹیٹ بینک نے مالی سال ٢٠٠٨-٠٩ کی پہلی ششماہی کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

کراچی ۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2008-09 کی پہلی ششماہی کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان کراچی میں اسٹیٹ بینک کی گورنر شمشاد اخترنے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود ایک فیصد بڑھا کر 13فیصد کردی،فارن انفلوز میں استحکام کیلئے پہلے شرح سود میں اضافہ کیا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں خام تیل اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، اضافہ پالیسی میکرز کیلئے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت بڑھنے سے عالمی معیشیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے،گذشتہ مالی سال دس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی تیل درآمد کیا گیا۔شمشاد اختر نے کہا کہ ریزرو بینک نے تیسری بار مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کی وجہ سے سبسڈی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مئی2008 ء میں مرکزی بینک نے معاشی استحکام کیلئے متعدد اقدامات کئے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام پر مالیاتی خساری جی ڈی پی کا آٹھ اعشاریہ تین فیصد رہے گا،رواں مالی سال مالیاتی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا سات فیصد لگایا گیا ہے۔شمشاد اختر نے کہا کہ تیل کا درآمدی بل تینتالیس فیصد بڑھ گیا،ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا آٹھ اعشاریہ چار فیصدر ہے گا،زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت میں چھ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کمی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں غیر معمولی مانیٹری پالیسی ہے،سال نو معاشی استحکام کا سال ہے،پالیسی تشکیل کیلئے حکومت اور اسٹاک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی،مانیٹری پالیسی کی تشکیل میں اسٹاک مارکیٹس اور ایف پی سی سی آئی سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

جس معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا نہ ہو تو قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔ شہباز شریف

سیالکوٹ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاںمحمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جس معاشرے میں عدل وانصاف کا بول بالا نہ ہووہ معاشرے اور قومیں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں اور تاریخ میں اپنا مقام کھوبیٹھتی ہیں ۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ معاشرے میں احساس محرومی کے خاتمہ کیلئے نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے اور ہم سب کو متحدہ ہوکر اس کیلئے کام کرنا ہو گا ۔میاں محمد شہباز شریف نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خلاف مقدمہ میں قاضی کے خلیفہ وقت کی عدالت آمد پر کھڑے ہونے پر لرزش کی لیکن آج وقت کے حکام کے قاضی انصاف فراہم کرنے کی بجائے حاکم کے حکم کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع سیالکوٹ میں تحصیل ڈسکہ کے دیہات آلو مہار میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سید مرتضیٰ امین کی رہائشگاہ میں معززین علاقہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں ،ناظمین ، نائب ناظمین ، شہریوں کی کثیرتعدا دبھی اس موقعہ پر موجو دتھی ۔ وزیرا علی نے کہا کہ پاکستان کومسائل ومشکلات کی دلدل سے باہر نکالنے کیلئے پوری قوم کو متحد ہوکرجدوجہد کرنا چاہیے وگرنہ قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان ٹوٹ جائے گا اور اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوگی حالانکہ ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے کے ذمہ دار پرویز مشرف اور سابق حکمران ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ وہ پنجاب کے تمام سرکاری اداروں سے کرپشن اور غفلت کا خاتمہ کریں گے اورعوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کئے جائیںگے ۔انہوں نے آمر پرویز مشرف کے ظالم وجبر کے آٹھ سالہ دور میںپارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے ڈٹ کر جواں مردی کا مظاہرہ کیا اور کسی کی کوئی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھی نواز شریف کے کارکن ہیں اور عوام کے خادم ہیں اور عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور ملک وقوم اور عدلیہ کی بحالی کیلئے انہیں اقتدار چھوڑنا بھی پڑا تو فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیںکریں گے اور ہزار بار بھی اقتدار چھوڑدیں گے ۔ انہوں نے اعلان کیاکہ مسلم لیگ (ن) میںلوٹوں کیلئے کوئی جگہ نہ ہے ۔وزیرا علی پنجاب نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے آٹھ سالوں میں پاکستان کوتباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا گیا ہے اور خدا کی قسم آج پاکستان کا ہرشعبہ مفلوج ہوچکا ہے لیکن وہ کرپشن اور غفلت ہرگز برداشت نہیںکریںگے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران عوام کے مسائل نیک نیتی سے حل کریں تاہم اب آئندہ اگر عوام شکایات لے کر ان کے پاس لاہور آئے تو متعلقہ ضلع کے ڈی پی او اور ڈی سی او سے باز پرس ہوگی ۔ وزیر اعلی پنجاب نے مزید کہا کہ قائد کے پاکستان کو دوبارہ ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرکے قائد کے خواب کو پورا کرنے کیلئے ملک میں عدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی پہلا راستہ ہے کیونکہ جب تک فوری اور آزاد انصاف کی فراہمی شروع نہیں ہوگی اس وقت تک ملک کو مسائل ومشکلات کی موجودہ دلدل سے باہر نہیں نکالا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر ظلم وجبر کے خاتمہ کاواحد حل عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی ہے اور ججوں کی بحالی کیلئے پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کو جدوجہد کرنا ہوگی ۔وزیر اعلی پنجاب نے مزید کہا کہ تھانوں اورکچہریوں میں ظلم ہوتا ہے اور اس ظلم کے خاتمہ کیلئے عدلیہ بحال کروانا ہوگی ۔۔ اس سے قبل اس موقعہ پر مسلم لیگ (ق) کے تحصیل ناظم ڈسکہ حاجی ناصر محمود چیمہ متعدد ناظمین و نائب ناظمین سمیت مسلم لیگ (ن ) میں شامل ہوگئے ۔ انہوں نے آلو مہار شریف میں سابق ایم این اے سید افتخار الحسن المعروف ظاہرے شاہ کی رہائشگاہ پر ایک بڑی تقریب جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف مہماں خصوصی تھے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم قبل ازیں بھی مسلم لیگی ہیں اور انشا ء اللہ مسلم لیگ کیلئے اپنا تن من اور دھن قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے نقش قدم پر چل کر عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور اپنی تمام تر توانائیاں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سید افتخار الحسن ظاہرے شاہ کے خاندان کی مسلم لیگ کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور نواز شریف ہی ہمارا اوڑھنا ور بچھو نا ہے اور انشا ء اللہ نواز شریف کی قیادت میں ملک و قوم کی ترقی کیلئے کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گے ۔ وزیر اعلی پنجاب نے بعدازاں تحصیل ڈسکہ کے تھانہ ستراہ کے موضع کوٹلی کورلاں کا اچانک دورہ کیااور یہاں بغیر چھتوں والی خستہ حالت عمارتوں میں کام کرنے والے بوائز اور گرلز پرائمری سکولوں کا معائنہ کیااور محکمہ تعلیم کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پڑھا لکھا پنجاب کہاں ہے اور اس پروگرام کے فنڈز کہاں خرچ کئے گئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کوٹلی کورلاں گرلز مکتب سکول کو پرائمری اور بوائز پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ دینے ، دونوں سکولوں کی عمارتیں از سر نو تعمیر کرنے اور دوسرے دیہاتوں کی طالبات کو سکول سے گھر اور گھر سے سکول تک مفت بس سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔

حکومت ناکام ہو چکی ، آصف علی زرداری سیاست کی اے بی سی نہیں جانتے ، یوسف رضا گیلانی سٹینو گرافر بننے کے بھی اہل نہیں ہیں ۔ملک غلام مصطفےٰ کھر

لاہور ۔ سابق گورنر پنجاب و پیپلز پارٹی کے رہنما ملک غلام مصطفےٰ کھر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہو چکی ہے ۔ قومی اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کروائے جائیں ۔ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی میں حکومت چلانے اور ملکی مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں ہے ۔ اس وقت بھی حکومت مشرف چلا رہے ہیں اور انہی کی پالیسیوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں اتحادی ہونے کے باعث کمزور ہورہی ہیں ۔ ضمنی الیکشن کے التواء اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تابع کرنے کے فیصلے واپس لینا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے ۔ اس وقت پاکستان محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے ۔ زرداری مرشف کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ جبکہ یوسف رضا گیلانی سٹینو بننے کے اہل بھی نہیں ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ملک غلام مصطفےٰ کر نے کہا کہ موجودہ لیڈر شپ میں کوئی بھی ملکی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا جبکہ ملک کو مشکل ترین حالات میں چھوڑ کر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم ملک سے باہر چلے گئے ہیں وہ بتائیں ملک کو کس کے سپرد کر کے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف یوسف رضا گیلانی امریکی صدر سے ہاتھ ملا رہے تھے تو دوسری طرف پاکستان کی سرزمین پر میزائل داغے جارہے تھے ۔ موجودہ حکمرانوں نے ایسی ناقابل معافی اور ناقابل تلافی غلطیاں کی ہیں جنہیں معاف نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ لندن اور مری ڈیکلریشن سے عوام میں امید کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن ان معاہدہ پر عملدرآمدنہیں ہونے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرہ پر ووٹ لینے کا دعویٰ کرنے والے دوبارہ الیکشن میں اس نعرہ کے ساتھ جائیں انہیں معلوم ہو جائے گا کہ عوام نے کن ایشوز پر انہیں ووٹ دیئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دو بڑی جماعتوں کو صرف انٹی مشرف، ججز کی بحالی اور جمہوریت کیلئے ووٹ دیئے ۔ اگر عوام مشرف کی پالیسیوں پر ہی عملدرآمد چاہتے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو نہیں بلکہ چوہدریوںکو ہی ووٹ دیتے جو مشرف کے زیادہ قریب ہیں ۔ ضمنی الیکشن کے التواء پر ذمہ دار شخص کے خلاف کسی نے کارروائی نہیں کی ۔ حقیقت میں یہ فیصلے آصف علی زرداری کے تھے جو سیاست کی اے بی سی بھی نہیں جانتے ۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھوٹی وصیت ان کی شہادت کے بعد لندن میں تیار کی گئی جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے امین فہیم کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم امین فہیم کی وفاداری کا صلہ انہیں سائیڈ لائن کر کے دیا گیا جبکہ یوسف رضا گیلانی کی پیپلز پارٹی اور ملک کیلئے کوئی خدمات نہیں ہیں وہ جنرل ضیاء کی کابینہ میں بھی شامل رہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ راجہ پرویز اشرف نے کس کے ایماء پر کالا باغ ڈیم ختم کرنے کا اعلان کیا جس سے خیبر سے کراچی تک اس کے حق اور مخالف میں بحث شروع ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ 58 ٹو بی کا استعمال اب کسی زمرے میں نہیں آتا ۔ فوج اس مسئلہ پر مشرف کا ساتھ نہیں دے گی اگر اس نے ایسا کیا تو خود فوج کو بہت نقصان پہنچے گا ۔ حکمران اتحاد چاہتا تو مشرف کو حکومت لینے کے بعد تین روز کے اندر فارغ کیا جا سکتا تھا ۔ مشرف نے پاکستان کو عالمی سطح پر ذلیل اور رسوا کیا ہے اب وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں ۔ ا نہوں نے کہا کہ میں نے غلام مصطفےٰ جتوئی ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، مخدوم امین فہیم اور دیگر سے ملاقاتیں کی ہیں سب کے خیالات میں یکسانیت موجود ہے میں ان رہنماؤں سمیت ڈاکٹر مبشر حسن ، الطاف گوہر، صاحبزادہ فاروق اور خلیل الزمان کو دعوت دیتا ہوں ۔کہ ایک جگہ اکٹھے ہوں اور ملک کو بچانے کیلئے لائحہ عمل تیار کریں ۔ جس کی میزبانی میں خود کرنے کوبھی تیار ہوں ۔ انہوں نے حکمران اتحاد سے بھی کہا کہ وہ مذاکرات کا فائنل راؤنڈ کریں اور اگر ملکی مسائل حل نہیں کر سکتے تو حکومت سے الگ ہو جائیں ۔ وزیر اعظم اسمبلیاں توڑیں اور نئے انتخابات کروائے جائیں ۔ کیونکہ ملک میں انارکی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ مسائل پر کان نہ دھرے گئے تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ح کومت مجھ سے مشاورت کرے تو ملک کی کشتی کو جلد کنارے پر لگایا جا سکتا ہے ۔

معزول چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد کے موقع پر استقبالیہ جلوس میں ٢ وکلاء کو دل کا دورہ

کراچی۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر استقبالیہ جلوس میں 2 وکلاء کو دل کا دورہ پڑا جبکہ ایک خاتون وکیل سمیت دو وکلاء بے ہوش ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبالیہ جلوس میں شامل ان کے ڈرائیور سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امداد علی اعوان کو دل کو دورہ پڑا جنہیں فوری طور پر آغا خان اسپتال منتقل کیاگیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی وفات کے کچھ ہی دیر بعد سینئیر وکیل اویس جعفر کو دل کا دورہ پڑا جنہیں قریبی نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔کراچی میں گرمی اور حبس کے باعث استقبالی جلوس میں ایک خاتون وکیل اور ظہور الحسن ایڈوکیٹ بے ہوش ہوگئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال لایا گیا

معزول چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر اے ایس ایف کے٦٥٠ اور رینجرز کے١٠٠٠ نوجوان کی تعیناتی

کراچی۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی آمدکے موقع پر سیکیورٹی کے پیش نظر شاہراہ فیصل کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا اور اطراف کی دکانوں کو بھی بند کرادیا گیا ہے۔معزول چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کے650 اور رینجرز کے1000 نوجوان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری ارد گرد کی اونچی عمارتوں پر تعینات کی گئی تھی جبکہ استقبالیوں کے ساتھ بھی پولیس کی نفری موجود ہے تاہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وکلاء کی جانب سے درخواست کے باوجود حکومت نے بلٹ پروف گاڑی فراہم نہیں کی۔اس حوالے سے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کراچی ائیرپورٹ آمد پر میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ حکومت سندھ نے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب نہ تو حکومت سندھ کی جانب سے بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی ہوئی جبکہ سیکیورٹی کے انتظامات بھی تسلی بخش نہیں بہرحال کراچی پاکستان کا ہی شہر ہے اور فرد واحد کیلئے پورے شہر کو بند کرنا درست نہیں ہے۔

معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد اور کارکنان کا شاہراہ فیصل پر رقص

کراچی۔ معزل چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور وکلاء تنظیموں کی جانب سے شاہراہ فیصل اور ائیر پورٹ کے اطراف میں استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں اور پورے راستے میں سیاسی کارکنان ڈھول کی تھاپ پر رقص کرہیں ہیں

٩ سیاسی جماعتوں و طلبہ تنظیموں نے معزول چیف جسٹس کا استقبال کیا

کراچی۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد پرمختلف سیاسی جماعتوں نے انکا استقبال کیا تاہم 12مئی کو آنے والی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان استقبالیوں میں شامل نہیں تھے۔منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان (معزول) افتخار محمد چوہدری کے استقبال میں جماعت اسلامی، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف، پختونخواہ ، سنی تحریک، شباب ملی، پاسبان، پنجابی اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن، اسلامی جمعیت طلبہ و دیگر جماعتوں نے کیا

معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو کراچی آمد پر سرکاری پروٹوکول فراہم نہیں کیا گیا

کراچی۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو کراچی آمد پر سرکاری پروٹوکول فراہم نہیں کیا گیا۔انہوں نے اسلام آباد سے کراچی آمد پر سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر امداد علی اعوان ایڈووکیٹ کی گاڑی میں سفر کیا جبکہ قافلے میں موجود ایک گاڑی میں جیمرز بھی نصب کئے گئے تھے تاکہ امپرووآئیزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائس (آئی ای ڈیز) کے امکان کو زائل کیا جاسکے۔

افتخار محمد چوہدری اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز پی کے ۔٣٠١ سے کراچی پہنچے

کراچی۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز
PK-301 سے کراچی پہنچے۔ان کے ہمراہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن بھی موجود تھے۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سینئیر ججز جسٹس صبیح الدین احمد خان، جسٹس سرمد جلالی، جسٹس گلزار اور جسٹس مقبول سمیت سیاسی جماعتوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے انکا استقبال کیا۔

جنوبی وزیرستان میزائل حملے میں ایمن الظہواہری کو نشانہ بنایا گیا

اسلام آباد ۔ جنوبی وزیرستان میں پیر کو کیے گئے میزائل حملے میں القاعدہ کے راہنما ایمن الظہواہری کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک پاکستان سیکورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میزائل حملے میں القاعدہ کے اہم راہنما ایمن الظواہری بھی حملے کا ہدف تھے لیکن ابھی تصدیق ہونا باقی ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ حملے کی ابتدائی رپورٹ ابھی نہیں آئی اور ایمن الظہواہری کو نشانہ بنانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا