International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Sunday, April 27, 2008

Benazir Bhutto posthumously Awarded Irish Tipperary peace award






TIPPERARY, Ireland- Former Pakistan Prime Minister Benazir Bhutto was posthumously awarded the prestigious Tipperary International Peace Award for 2007 in an emotion-filled ceremony in this Irish town on Saturday.
County Tipperary is the largest inland county on the Irish south western coast and a popular tourist destination.
Similar awards had been earlier given to among others, former South African president Nelson Mandela, former Soviet President Mikhail Gorbachev, former US President Bill Clinton, US Senator George Mitchell, and the late Lebanese Prime Minister Rafiq Hariri.
Ms. Bhutto’s long-time associate Bashir Riaz received the award on behalf of her family. Her husband Asif Zardari, now co-chairperson of her Pakistan People’s Party (PPP), expressed regret that he was unable to be in Tipperary to accept the award himself, as he was “busy in the transition of government in Pakistan.”
In the wake of her martyrdom on December 27, 2007, Ms.
Bhutto’s party was voted into power in Pakistan last month.
An emotional Bashir Riaz, in his speech, said that he had been asked to receive the award by Asif Zardari as, in his own words, “this would make her soul happy.”
Riaz, headed a large delegation from Pakistan and the UK, received the award amidst thunderous applause with the audience giving standing ovation to the late leader. It was particularly touching for PPP workers who had come from places as far as Denmark, the UK, France, Belgium.
Zardari, whose message was read on the occasion, said the conferment of the award was a glowing testimony of the international recognition for his spouse life-long endeavour for democracy.
Prime Minister Yousaf Raza Gilani also sent a message of thanks, saying, “ the addition of Mohtarma’s name in the prestigious list is a source of pride and inspiration for Pakistanis.
Pakistan’s High Commissioner-designate to the UK, Wajid Shamsul Hassan was equally emotional when he recalled while speaking at the occasion that Benazir never gave up hope for the betterment of people in Pakistan. “She was a brave woman who could not be deterred by anything if the issue involved principles,” he said, tears in his eyes. She was there to inspire us when some of us would feel down or give up hope about the state of affairs in Pakistan.”
The ceremony brought an array of guests from Ireland and all over Europe with guests making emotional speeches.
“Benazir’s relentless struggle for the restoration of democracy and peace convinced the Tipperary Peace Committee to decide the award in her favour,” said the committee secretary Martin Quinn while announcing the award.
Ireland’s Minister of State for Health and Children Maire Hoctor formally presented the award in an emotionally charged ceremony. The historic Irish town has became internationally famous for promoting peace, one of its contributions being the Tipperary Peace Award.
The huge audience heard the tributes being paid to the late leader in rapt attention.
“It’s a matter of pride that Benazir Bhutto has been given this award posthumously,” said Bashir Riaz in an emotional tone. “But it makes us all sad that she is not here to receive the award herself.”
Pakistan’s delegation was represented by its Ambassador in Ireland, Naghmana Hashmi and PPP leaders including PPP UK President Hassan Bokhari, PPP London President Riaz Chaudhary, PPP Denmark President Sitara Chaudhary, prominent party activists like Ashraf Chughtai and Mohsin Bari. Also present on the occasion were Tipperary Mayor Brendan Lonergan, and members of the Tipperary Peace Convention including its Chairman Joe Quinn.
“In her the world has lost a big leader, “ said Martin Quinn, secretary of the Tipperary Peace Convention. “Benazir worked tirelessly to bring stability to her country and she was one of the biggest leader that we had seen in a long time.

Two main gas pipelines blown up in Malguzar, Doli areas




QUETTA, April 27 (APS): Unknown saboteurs blew up two gas pipelines supplying gas to Och power plant and Punjab in two different incidents in Malguzar area of Jaffarabad and Doli area of Dera Bugti districts in the wee hours of Sunday, police sources told Newsagency.
Some unknown men planted explosive device which went off and damaged
18-inches gas pipeline in Malguzar area and supply to Och gas field was suspended
as a result of the blast.
In another incident, explosive device exploded by 30-inches gas pipeline in Doli area and gas supply to Rajanpur, Raheem Yar Khan, Muzaffar Garh and some other areas of Punjab was suspended as a result of the explosion.
Police have registered cases against unknown miscreants. Investigation is in progress.
Meanwhile, Oil and Gas Development Corporation (OGDC) and Pakistan Petroleum Limited (PPL) sources told that they have sent engineers to the sites for repairing the damaged pipelines.
The OGDC sources said that power supply production, however, was not affected due to the blast as the power plant arranged gas supply from its alternate sources.

اسلام آباد میں مساجد کے خلاف آپریشن کرنے پر پابندی

اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے مساجد کے خلاف کسی قسم کی کارروائی اور آپریشن کرنے پر پابندی عائدکر دی ہے اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی حدود کے اندر کسی مسجد کے خلاف کارروائی نہ کی جائے اور اگر کسی مسجد یا مدرسے کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کو بات چیت کے ذریعے حل کر دیا جائے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کی حدود کے اندر غیر قانونی طور پر قائم کی گئی مساجد کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا اور کئی مسجد کے خلاف کارروائی کی گئی اور جب ان مساجد کے خلاف آپریشن کرنے پر شدید رد عمل سامنے آیا اور مساجد میں ان کی مذمت کی گئی اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تو حکومت نے ان کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ مساجد کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز کیا جائے اور اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان کو طاقت کی بجائے بات چیت سے حل کیا جائے۔ اور حکومت کی ان ہدایات کی روشنی میں سی ڈی اے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شعبہ انفورسٹمنٹ و انکروچمنٹ کے حکام سے کہاہے کہ وہ آئندہ کے لیے کسی مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں اور اگر کوئی کارروائی کرنا بھی ہے تو اس کے لیے حکام سے اجازت لینا ہو گی ۔ ذرائع کے مطابق شعبہ انفورسمنٹ و انکروچمنٹ نے غیر قانونی طور پر قائم مساجد کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا وہ ختم کر دیا ہے ۔

ججوں کی بحالی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے بعد جاری کیا جا سکتا ہے ‘ ذرائع

اسلام آباد ۔ معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ایگزیکٹو آرڈر وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے بعد جاری کیا جا سکتا ہے ۔ حکومتی ذرائع کے حوالے سے ایک نجی ٹیلی ویژن نے بتایا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی مرتب کردہ سفارشات پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے ججوں کی بحالی کے حوالے سے مجوزہ قرار داد اور آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری کی صورت میں وزیر اظم یوسف رضا گیلانی ایگزیکٹو آرڈر جاری کر سکتے ہیں ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کا آئندہ اجلاس 30 اپریل کو اسلام آباد یں متوقع ہے

وکلاء برادری نے٣٠ اپریل تک معزول ججز بحال نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کیلئے بار کونسلوں ‘ سول سوسائٹی اور سیاسی راہنماؤں سے رابطوں

اسلام آباد ۔ اعلان مری کے مطابق 30 اپریل تک اعلٰی عدلیہ کے معزول ججز بحال نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر وکلاء برادری نے مجوزہ احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کے لیے ملک بھر کی بار کونسلوں ‘ سول سوسائٹی ‘ طلباء تنظیموں ‘ این جی اوز اور اے پی ڈی ایم سمیت دیگر سیاسی قائدین سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وکلاء تحریک کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں معزول ججز کی بحالی کی قرارداد پیش نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم چونکہ ابھی اعلان مری کے مطابق ڈیڈ لائن کے خاتمے میں محض تین دن باقی رہ گئے ہیں اس لیے وہ کھل کر اس کا اظہار نہیں کر رہے اور بعض وکلاء قائدین نے رائے دی ہے کہ جب تک ڈیڈ لائن پوری نہیں ہو جاتی اس وقت تک احتجاجی تحریک یا لانگ مارچ کے بیانات سے گریز کیا جائے ۔ وکلاء تحریک کے ایک اہم رہنما اور لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عصمت اللہ نے بتایا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے 9 مارچ کو 16 کروڑ عوام کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے قیام کے 30 دن کے اندر معزول جج صاحبان کو بحال کرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیڈ لائن وکلاء نے نہیں بلکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے دی تھی اور اب جبکہ اس ڈیڈ لائن میں محض تین دن باقی رہ گئے ہیں معزول ججز کی بحالی کا مسئلہ کمیٹیوں میں ہی اٹکا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب معزول ججز کو بحال کرانا ہی ہے تو اس کو کسی دوسری چیز سے منسلک کیوں کیا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں قرار داد کیوں نہیںپیش کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان مری میں واضح ہے کہ معزول ججز کو وفاقی حکومت کے قیام کے تیس دن کے اندر اندر 2 نومبر والی صورت حال پر بحال کیا جائے گا جبکہ پیپلزپارٹی کے بعض ا ہم راہنما تیس دن کی گنتی کو صوبائی حکومتوں کے قیام سے مشروط کرکے معاملے کو طول دینا چاہتے ہیں جو کہ آرمی ہاؤس میں برجمان پرویز مشرف کی سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلان مری کا دوسرا نکتہ 2 نومبر والی صورت حال ہے اور اس صورت حال کے مطابق ججز کی ریٹائرمنٹ کا تعین پہلے سے واضح ہے ۔ اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی اعلان مری کی روح کے برعکس ہو گی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وکلاء عدلیہ میں اصلاحات کے لیے کسی آئینی پیکج کے خلاف نہیں لیکن وکلاء کا موقف ہے کہ پہلے معزول ججز کو بحال کرکے پھر اعلٰی عدلیہ کی مشاورت سے آئینی پیکج تیار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف معزول ججز کی بحالی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور اگر 30 اپریل تک جج صاحبان بحال نہ ہوئے تو ان کی احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کا محور آرمی ہاؤس ہو گا۔ جس میں صدر پرویز مشرف برجمان ہیں انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی حکومت کے خلاف تحریک نہیں چلائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ساری سازش کامرکز ایوان صدر ہے جس نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے عدلیہ سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ عوا م مہنگائی ‘ بے روزگاری اوراشیاء ضروریہ کی قلت اوردیگر مشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ وکیل رہنما نے بتایا کہ وکلاء تحریک کے رہنماؤں نے معزول ججز کی بحالی کے وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ملک بھر کی بار کونسلوں کے قائدین ‘ سول سوسائٹی ‘ طلباء تنظیموں اور اے پی ڈی ایم سمیت دیگر سیاسی قائدین سے رابطوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور تیس دن کی ڈیڈ لائن مکمل ہوتے ہی لائحہ عمل کا اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تحریک کے لیے ہر وقت تیار ہیں ججز کی بحالی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان بارکونسل نے 3 مئی کو اپنا اجلاس بلایا ہے جبکہ ہم نے ان سے اپیل کی ہے کہ اجلاس اگلے دو تین دن میں بلا لیا جائے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معزول ججز 30 اپریل تک بحال ہو جائیں گے لیکن بحال نہ ہونے کی صورت میں وہ تحریک کے لیے تیار بیٹھے ہیں ا ور صرف کال دینے کی د یر ہے انہوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے تحریک شروع کی گئی تھی ان مقصد کے حصول تک تحریک جاری ر ہے گی اور کسی قربانی سے دریع نہیں کیا جائے گا

اولمپک مشعل کو جنوبی کوریا میں شدید مشکلات کاسامنا

سیول ۔اولمپکس مشعل کے سفر کا تازہ مرحلہ جنوبی کوریا میں جاری ہے جہاں مظاہرین دارالحکومت سیول میں مشعل کی پریڈ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔اولمپکس پارک سے سٹی ہال تک کے چوبیس کلو میٹر کے رستے پر آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد جنوبی کوریا کے پناہ گزینوں کی جبراً واپسی اور تبت میں کارروائی کے خلاف مظاہرے کی تیاری کر رہے ہیں۔پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اس ریلی میں گڑ بڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اولمپکس کی مشعل جاپان سے جنبی کوریا پہنچی ہے جہاں مظاہرے میں چار افراد زخمی ہوئے اور پانچ کو گرفتار کیا گیا ہے ۔تفریحی مقام نگانو میں جاپانی قوم پرستوں اور تبت حامی کارکنوں کی چین حامی گروپ کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیول میں بھی اسی طرح کی جھڑپوں کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ وہ مشعل کو شہر کے دریا پر بنے اہم پلوں سے گزرنے نہیں دیں گے۔

چاروں صوبوں کی اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کریں گے ، سید یوسف رضا گیلانی

کسی صوبے نے اعتراض کیا تو متبادل منصوبے پر کام کریں گےقومی مفاہمت کے لیے تمام محب وطن سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیںالہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ آٹھ سالہ خرابیاں فوری طور پر دور کر دیںحقیقی معنوں میں صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی کو ممکن بنائیں گےبجلی و آٹے کے بحران میں کمی کے لیے قوم جلد خوشخبری سنے گیوزیر اعظم کا میانوالی میں سٹی ٹراما سنٹر کی افتتاحی تقریب اور کالا باغ میں جلسہ سے خطاب
میانوالی ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ چاروں صوبوں کی اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کریں گے قومی مفاہمت کے لیے تمام محب وطن سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں ۔ مزید چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔ بجلی اور آٹے کی کمی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے اس ضمن میں قوم جلد خوشخبری سنے گی۔ حقیقی معنوں میں صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی کو ممکن بنائیں گے ۔ بنیادی مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ آٹھ سالہ خرابیاں فوری طور پر دور کر دیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو دورہ میانوالی کے موقع پر سٹی ٹراما سنٹر کے افتتاح اور کالا باغ میں تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال بھی دورے کے موقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعظم نے کالا باغ ڈیم کی مجوزہ سائیٹ کا بھی دورہ کیا جبکہ سٹی ٹراما سنٹر کی توسیع کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا صحت کے شعبے کو خطیر وسائل فراہم کئے جائیں گے ۔ حکومت نے سو روزہ پروگرام کا اعلان کر دیاہے تاکہ لوگوں کو صحت سمیت دیگر بہتر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملک کو صحت کے شعبے کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ ٹراماسنٹر 58 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 ماہ میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ سنٹر میں سرجیکل ‘ میڈیکل ‘ دماغ اور دیگر امراض کی سہولیات موجود ہوں گی ۔ ابتدائی طور پر سنٹر میں 18 مریضوں کے علاج معالجے کی سہولت میسر ہو گی ۔ وزیر اعظم نے کارڈیالوجی وارڈ کا بھی افتتاح کیا ہے ۔ سٹی ٹراماسنٹر کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم نے عوام کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو باآسانی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صحت کے شعبہ کے مسائل کا حل نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے افتتاح پر ہمیں فخر ہے ۔ ٹراما سنٹر کے حوالے سے منعقدہ افتتاحی تقریب میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی جبکہ وزیر اعظم نے ٹراما سنٹر کی توسیع کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔کالا باغ میں عمائدین سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہاکہ مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں اور عوام اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ یہ مسائل کن کے پیدا کردہ ہیں ۔عوام کو مسائل سے نجات دلائیں گے انہوں نے کہاکہ الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ آٹھ سالوں کی خرابیاں فوری دور کر دیں ۔حکومت چاروں صوبوں کی اتفاق رائے کے بعد کالا باغ ڈیم کو تعمیر کرے گی اگر کسی صوبے کو کالا باغ ڈیم پر اعتراض ہوا تومتبادل منصوبے پر کام کریں گے ۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ تمام صوبوں کی رضا مندی سے کیا جائے گا ۔ حکومت بجلی اور آٹے کے بحران کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور آبپاشی کے لیے مزید چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔ تمام ایشوز قومی مفاہمت کے ذریعے حل کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت سیاسی و جمہوری قوتوں سے رابطے کر رہی ہے ۔وزیر اعظم نے اس موقع پر کالاباغ اور ملحقہ علاقوں کو سوئی گیس کی فراہمی کا اعلان کیا اور موقع پر احکامات جاری کیے

فوج کی طرف سے وزیرستان میں پمفلٹ تقسیم: محسود کے ساتھ امن معاہدے کی تصدیق

جنوبی وزیرستان کے رہائشی اپنے علاقوں کو شرپسند عناصر سے پاک رکھنے کیلئے اْن کی نشاندہی کریں ‘ پا ک فو جمقصدکے حصو ل کیلئے فو ج کی بجا ئے طالبان سے کہا جاتا کہ آپ معاہدے کی پاسداری کرکے یہ کام کرکے دکھائیے‘ مولانا معراج
الدین
واشنگٹن۔ افواجِ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے لَدھا میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جِس میںمقا می طا لبا ن کے رہنما بیت اللہ محسود کے ساتھ محسود قبیلے کے ذریعے ہونے والے امن معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔وا ئس آ ف امریکہ کے مطا بق پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان نے معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے ہی جَنڈولہ اور گردونواح کے علاقے کو شر پسندوں سے پاک کرنے کے بعد مکمل فائربندی کردی تھی تاکہ مظلوم شہریوں کی پریشیانیوں کا جلد از جلد ازالہ کیا جا سکے۔اِس سلسلے میں افواجِ پاکستان نے جنوبی وزیرستان سے منسلک راستے بھی کھول دیے ہیں تاکہ پاکستانی شہری اِن علاقوں میں با آسانی نقل و حرکت کر سکیں۔فوجی حکام کے مطابق اب جنوبی وزیرستان اور ملحقہ اضلاع کے رہائشیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو شرپسند عناصر سے پاک رکھیں اور اْن کی نشاندہی کریں تاکہ مستقبل میں بھی اِسی علاقے میں پائیدار امن قائم رہے۔پمفلٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین نے وائس آف امریکہ کو بتایا جِس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے فوج پمفلٹ تقسیم کر رہی ہے اْس مقصد کو حاصل کرنے کا مناسب طریقہ کار یہ ہوتا کہ طالبان یا طالبان کے نمائندے جو اب تک اْن کے ساتھ مصروفِ عمل ہیںمیز پر اْن کے ساتھ بیٹھے ہیں اْن ہی سے کہا جاتا کہ آپ معاہدے کی پاسداری کرکے یہ کام کرکے دکھائیے۔مولانا معراج الدین نے حکومت پر زور دیا کہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں لوگوں کی واپسی کا فوری انتظام کیا جائے

وکلاء اور سول سوسائٹی کا ریس کورس سے معزول جج خلیل الرحمان رمدے کے گھر تک احتجاجی ریلی



۔ اعلان مری کے مطابق 2 نومبر والی عدلیہ بحال نہ کی گئی تو وکلاء کے پاس لانگ مارچ کا آپشن موجود ہے
لاہور ۔ وکلاء اور سول سوسائٹی کا عدلیہ کی بحالی کیلئے ریس کورس پارک سے سپریم کورٹ کے معزول جج خلیل الرحمان رمدے کے گھر تک احتجاجی ریلی نکالی ۔ ریلی کے شرکاء نے 2 نومبر 2007ء والی پوزیشن پر عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر عدلیہ کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے ۔ اس موقع پر شدید نعرے بازی بھی کی گئی ۔ ریلی سے معزول جج خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال اور دیگر نے خطاب کیا ۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے معزول جج خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ وکلاء کی تحریک صرف معزول ججوں کو نوکریاں واپس دینے کی تحریک نہیں ہے بلکہ وکلاء کی جدوجہد اور قربانیاں جمہوریت کی بالادستی اور عوام کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک معزول عدلیہ کی بحالی کے بعد بھی جاری رہے گی ۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا فیصلہ معزول عدلیہ کی بحالی کے بعد کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اعلان مری کے مطابق 2 نومبر والی عدلیہ بحال نہ کی گئی تو وکلاء کے پاس لانگ مارچ کا آپشن موجود ہے ۔ بعد ازاں ریلی کے شرکاء گورنر ہاؤس کے سامنے جا کر منتشر ہو گئے ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی حمایت کے حوالے سے ٩٠ ہزار وکلاء کے دستخطوں پر مشتمل تاریخی دستاویز گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی انتظامیہ کو بجھوائی جائیں گ





اسلام آباد ۔ وکلاء تحریک نے اعلان کیاہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی حمایت کے حوالے سے 90 ہزار وکلاء کے دستخطوں پر مشتمل تاریخی دستاویز گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی انتظامیہ کو بجھوائی جائیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار عصمت اللہ اور دیگر ملتان بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے اتوار کو اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملتان بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو ان کی حمایت میں دستخطی مہم کے تفصیلات سے آگاہ کیا اور انہیں وہ رجسٹر بھی دکھایا ۔ چیف جسٹس نے ججز کی بحالی کی تحریک کے حوالے سے وکلاء کی جدوجہد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ملاقات کے بعد سردار عصمت اللہ اور ملتان بار کے عہدیداروں نے بتایا کہ رجسٹر ملک بھر کی تمام بار میں لے جایاجائے گا۔ پیر کو(آج) اسلام آباد اور راولپنڈی میں بار میں وکلاء سے دستخط لیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی دستاویز ہوں گی جن پر ملک بھر کے 90 ہزار وکلاء کے دستخط لیے جائیں گے دستخط کرنے والے وکلاء اپنی تصویر بھی دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دستخطی مہم مکمل ہونے پر تاریخی دستاویز ات گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی انتظامیہ کو بھجوائی جائیں گی ۔

افغانستان ، سوویت یونین کے قبضے کے خاتمے کی ١٦ ویں تقریب میں صدر حامد کرزئی پر طالبان کا حملہ

کابل ۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 1992 ء میں سوویت یونین کے قبضے کے خاتمے کی 16 ویں تقریب کے دوران اچانک فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں تین طالبان ہلاک اور دو ارکان پارلیمنٹ شدید زخمی ہو گئے تقریب میں صدر حامد کرزئی ، کابینہ کے ارکان اور غیر ملکی سفارتکاروں سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے جو محفوظ رہے ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ تقریب کے دوران صدر حامد کرزئی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک فائرنگ شروع ہو گئی اور زوردار دھماکہ ہوا ۔ اس واقعہ میں صدر حامد کرزئی ، کابینہ کے تمام ارکان اور غیر ملکی سفارتکار محفوظ ہیں جبکہ دو رکن پارلیمنٹ زخمی ہو گئے ۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی اور تقریب میں موجود سینکڑوں افراد تقریب چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔ صدر حامد کرزئی کو محافظوں نے گھیرے میں لے کر کالے رنگ کی چار لینڈ کروز کے سکواڈ میں سے ایک میں بٹھا کر وہاں سے بحفاظت نکال کر لے گئے ۔ادھر طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے فوجی پریڈ کی تقریب میں سلامی کے دوران صدر حامد کرزئی پر حملہ کیا ہے تاہم اس حملے میں ان کے تین جنگجو جاں بحق ہو گئے طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہم نے تقریب پر راکٹوں سے حملہ کیا اس علاقے میں ہمارے چھ ساتھی موجود تھے جن میں سے ہمارے تین ساتھی جاں بحق ہو گئے فوری طور پر انہوں یہ نہیں کہاکہ ان کے ساتھی کیسے جاں بحق ہوئے۔ موقع پر موجود فرانسیسی خبر رساں ادارے کے رپورٹر نے بتایا کہ حملہ آوروں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایاکہ ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان بھارت کو ایران اور ترکمانستان کے ذریعے گیس سپلائی کے منصوبہ کو ترک کردے ۔پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی

راولپنڈی۔ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی نیشنل کونسل نے حکومت سے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان بھارت کو ایران اور ترکمانستان کے ذریعے گیس سپلائی کے منصوبہ کو ترک کردے ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں د اخل ہونے والے دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنانے کی سازش ہے ۔ کونسل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ حکومت میں اٹھائے گئے اقدامات کا کڑا احتساب کیا جائے ۔ آٹھ سالہ مشرف دور میں جن لوگوں نے قومی خزانہ سے بھاری قرضے لے کر معاف کروائے اور کیے ۔ 3 نومبر 2007 ء کو بلا جواز ایمرجنسی نافذ کرنے ‘ ملک میں مہنگائی ‘ امن وامان کی بدترین صورت حال ‘کارگل آپریشن کے ذمہ داروں کے لیے انکوائری کمیشن کا قیام ‘بھارت کا پاکستانی دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرکے پانی روکنا ‘ کشمیر کی تقسیم کے لیے چارنکاتی فارمولا پیش کرنا ‘بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ کو با عزت رہا کرنا ‘ جیسے اقدامات پر صدر پاکستان پرویز مشرف ‘ سابق وزیراعظم شوکت عزیز ‘ سابق وفاقی وزراء اور چیف ا لیکشن کمشنر کا کڑا احتساب کیا جائے ۔ اس بات کا مطالبہ کونسل کے 47 ویں اجلاس میں کیا گیا جس سے پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض علی چشتی ‘ جنرل (ر) شفیق احمد ‘ سکواڈرن لیڈر (ر) لیاقت انصاری ‘ بریگیڈیئر (ر) نصرت جہاں سلیم ‘ کموڈور (ر) فاروق مرزا‘ کرنل(ر) سجاد اختر ‘ میجر(ر) یاسین ‘ کرنل (ر) رفیق مرزا ‘ میجر(ر) طارق زاہد ‘ کرنل۔(ر) صادق ملک ‘ لیفٹیننٹ کنرل(ر) انعام الرحیم سمیت دیگر سابق عسکری افسران و جوانوں نے خطاب کیا اور اپنی آراء پیش کیں ۔فیض علی چشتی نے کہا کہ ٬ قبل ازیں ہونے والے اجلاسوں میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک میں بامقصد ایمرجنسی اٹھائی جائے ۔ آزاد عدلیہ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ سابقہ حکومت اب ختم ہو چکی ہے اور نئی حکومت کی وفاق اور تمام صوبوں میں حکومتیں بن چکی ہیں۔ قوم نے موجودہ الیکشن میں فیصلہ دے دیا کہ اسے آمریت بیرونی مداخلت کرپشن ‘ آزاد عدلیہ ‘ آزاد میڈیا پر پابندی ‘ اور مہنگائی منظور نہیں۔ اب یہ منتخب پارلیمان کا کام ہے کہ وہ قوم کو ان مسائل ے نجات دلائے تاکہ حقیقی جمہوریت بحال ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک باوقار اور ملکی سلامتی کا ایک اہم ادارہ ہے ۔ مختلف اداروں میں تعینات افسران کی واپسی اچھا اقدام ہے تاہم سب کو واپس نہیں بلانا چاہیئے تھا صرف خوشامدیوں کی واپسی ہونی چاہیئے تھی انہوں نے کہا کہ ہمیں آرگنائزیشن کو مضبوط کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ صدر مشرف نے آرمی چیف اور صدر ہونے کے باوجود ریتائرڈ ہونے والے عسکری افسران و جوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ مشرف نے فوج کی ساکھ کو مجروح کیا ۔ سانحہ کارگل پر مشرف کا کورٹ مارشل ہونا چاہیئے ان کا جرم ناقابل معافی ہے انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں روز بروز اصافہ نے پنشن یافتہ ملازمین کی سفید پوشی کو برقرار رکھنا دشوار کردیا ہے لہذا پنشن میں اس حد تک اضافہ کیا جائے کہ پنشن والے لوگ باعزت زندگی گزار سکین اور انہیں پنشن کی فراہمی میں سہولیات فراہم کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کیے بغیر ہمیں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی بھارت کو گیس پائپ لائن کے منصوبہ پر عملدرامد کیا جائے ۔ اجلاس کے دیگر شرکاء نے کہا کہ بھارت کو گیس کی فراہمی کے لیے تعاون ختم کیا جائے ہم بھارت کے اتنے خیر خواہ کیوں ہیں کہ اس کی اکنانومی کو مضبوط کریں ۔ بھارت پاکستان میں دا خل ہونے والے دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کے کھیتوں کو بنجر بنا رہا ہے ۔ امریکی صدر پرویز مشرف کے مزید پانچ سال صدر رہنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے پاکستان کو ڈکٹیشن دی جا رہی ہے مگر ایسی کسی ڈکٹیشن کو مسترد کردیا جائے اجلاس میں بعض شرکاء کی جانب سے ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں بدامنی کی صورتحال ‘ وکلاء کو زندہ جلا ئے جانے پر مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایم کیو ایم جیسی جماعت پر پابندی عائد ہونی چاہیئے شرکاء نے کہا ہے کہ سترہویں ترمیم نے آئین کا بیڑہ غرق کردیا ۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ایکس سروس مین بزنس کے لوگ چیمبر تک رسائی حاصل کریں اور اپنی مصبوط آواز بلند کریں ۔

آٹے اور بجلی کے بحران کو جنگی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ سید یوسف رضا گیلانی

میانوالی ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ملک میں آٹے اور بجلی کے بحران کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں اس امر پر یقین رکھتی ہیں کہ ملک بھوک وبیماری سے پاک اور یہاں آئین وقانون کی حکمرانی ہو ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ غیر جمہری قوتیں مفاہمت کی فضا کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن ہم ایسی سازشوں کا ناکام بنادیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میانوالی میں ٹراما سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال، سینیٹر خواجہ اکبر، اراکین قومی اسمبلی نوابزادہ عماد، حمیر حیات خان روکھڑی، رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر نور خان، ضلع ناظم حاجی عبیداللہ خان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہسپتال کی اپ گریڈیشن کیلئے ساڑھے تین کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے دورآفتادہ ضلع میں ٹراما سنٹر کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحت کیلئے بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال پچیس سے تیس ہزار خواتین زچگی کے دوران وفات پاجاتی ہیں یا انتہائی پیچیدہ امراض کا شکار ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں دانستہ اور نادانستہ طور پر جمہوریت کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث آج قوم ناخواندگی، مہنگائی، آٹا بحران، بجلی کی لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، غربت جیسے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہم انشاء اللہ اتحادی جماعتوں کے تعاون سے قوم کو ان مسائل سے نکالتے ہوئے ایسا ماحول قائم کریں گے کہ ہر حکومتی ادارہ دوسرے ادارے کے معاملات میں دخل نہ دیتے ہوئے ملک کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تہیہ کررہا ہے کہ ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی ہو ، ہمارا وطن بھوک اور بیماریوں سے پاک ہو۔ ہم دفاع کے ساتھ ساتھ زرعی طور پر بھی مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے تحصیل پپلاں کو سوئی گیس کی فراہمی اور میانوالی میں پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کے اجراء کا اعلان کیا۔

بے لگام گھوڑے ۔۔۔۔۔۔ تحریر چودھری احسن پریمی




سیاسی جماعتیں عوام کو مایوس نہ کریں اور 30اپریل تک ہر صورت معزول ججز کو بحال کردیں۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تووکلا لانگ مارچ نکالیں گے وکلاءکی منزل قریب آچکی ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی یہ نہیں چاہتیں کہ عدلیہ کو مکمل طورپر آزاد کیا جائے یہ نہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ دنیا بھر کے حکمران عدلیہ کو مکمل طورپر آزاد نہیں چاہتے کیونکہ وہ حکومت کو بے لگام گھوڑے کی طرح استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ ملک سے جاگیرداری سسٹم اور آمریت کے خلاف تحریک کو حتمی شکل دینا ہوگی تاکہ ملک میں قائم ناانصافی کو روکا جاسکے۔ ملک کی خوش قسمتی ہے کہ موجودہ حکومت نے معزول ججز کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ عدلیہ بحال ہو، عوام کاکہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اس وقت تسلیم کی جائے گی جب ججز کو بغیر کسی شرط پر بحال کیا جائے۔ ایسوسی ایٹد پریس سروس کے مطابق ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت ناگزیر ہے ۔ جبکہ پنجاب سے رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب دھرتی کے دوسرے بڑے سپوت لیڈر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے،عوام نے تبدیلی کیلئے مینڈیٹ دیا اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے،صدر کی موجود گی جمہوریت کیلئے خطرناک ہے، ایوان صدر کا مکین نہیں چاہتا کہ سیاستدان مل بیٹھیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو، عوام سیاست سے فوج کے کردار کے خاتمے کا دعا گو ہیں عوام میڈیا پر کوئی پابندی دیکھنا نہیں چاہتے، 30 اپریل کو 30دن پورے ہونے والے ہیں ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت کرینگے اس سے قبل قومی اسمبلی میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے قرار دادکی منظوری کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا بھی ضروری ہے۔ معزول ججوں کی صرف بحالی کافی نہیںعوام انہیں عملی طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی نیت پر کوئی شک شبہ نہیں۔ لیکن پی ایم ایل ن کے وزراء نے ملک کے وسیع تر مفاد میں صدر مشرف سے حلف لیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو توڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں نواز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آمریت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد نہیں ہے تو سیاست دان، صحافی اور جمہوریت بھی آزاد نہیں ہوگی۔ یہ 70 اور 80 کی دہائی نہیں ہے اب وقت بدل گیاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلی میں ہمیں بھی خود کو ڈھالنا ہوگا۔ جس نے بھی پاکستان کے ساتھ ذیادتی کی قانون اور آئین توڑا اسے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ عوام نے عام انتخابات میں گزشتہ حکومت کی پالیسیوں اور آمریت کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ عوام تبدیلی کے انتظار میں ہیں اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اعلان مری کے مطابق ججوں کو بحال کرنا ہے اور 2 نومبر کی پوزیشن پر انہیں لانا ہے۔ اعلان مری میں ساری بات طے ہو چکی ہے۔ حکمرانوں نے 30 دن میں ایک قرار داد کے ذریعے جج بحال کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ وہ حکومت بنائیں اپنی ذات کیلئے کسی قسم کے کوئی مطالبات نہیں کیے لیکن صدر مشرف کے حوالے سے پی ایم ایل ن کے تحفظات تھے اس کے باوجود ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ان کے وزراء نے ان سے حلف لیا۔ اعلان مری کے تحت 30 اپریل تک ججوں کو نئی حکومت نے بحال کرنا ہے اور توقع ہے کہ اس سے پہلے پہلے اس سلسلے میں قرار داد آجائے گی لیکن عوام سمجھتے ہیں کہ صرف قرار دادہی کافی نہیں ججوں کی بحالی کیلئے اسی وقت ایگزیکٹو آرڈر کا اجراء ہونا چاہیے اور ججوں کواپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیں۔ اٹھاون ٹو بی کے استعمال کے حوالے سے اٹھاون ٹو بی کا استعمال کیوں ہوگا نئی حکومت جج بحال کر رہی ہے جنہیں گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا انہیں نکال تونہیں رہے جو اسمبلی ملک اور عوام کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے کام کر رہی ہے اسے توڑنے کا کیا جواز ہو گا۔عوام کو امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اعلان مری پر عمل کریں گے اور عوام کی توقعات پر پورے اتریں گے اور دعا کرتے ہیں کہ اتحادی حکومت قائم رہے ماضی کی دو متحارب جماعتیں جو اس وقت ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچیں، فوج اپنا کام کرے اور سیاست میں آنے سے گریز کرے۔ جن ججوں نے 2 نومبر کو حلف لینے سے انکار کیا تھا ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانی چاہیں۔ صدر کے وہی اختیارات ہونے چاہیں جو پارلیمانی جمہوریت میں ہوتے ہیں۔ نئے حکمرانوں کو عہد کرنا ہوگا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں اور آمریت کے ایجنٹ نہیں بنیں گے۔ صحافیوں نے ملک میں میڈیا کی آزادی اور بحالی جمہوریت کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ان کی جدوجہد پر انہیں سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عزت بھی کی جائے ۔ نئی حکومت نے بھی لاوارثوں کی طرح میڈیا کے لوگوں کو پارلیمنٹ کے سامنے دھوپ میں بٹھایا ہوتا ہے سابقہ حکومت میں ایسا نہیں تھا تمام ٹی وی چینلز کے کیمرے اندر جاتے رہے اور اپنا کا م کرتے رہے صرف حکومت کے آخری دنوں میں پابندی لگائی گئی ۔ اگر میڈیا کے کیمرے پارلیمنٹ کی چوکھٹ سے اندر نہیں جاسکتے تو موجودہ حکومت خواہ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کتنے ہی بلند بانگ دعو ے کیوں نہ کرے وہ سب فضول ہیں۔ وزیر اعظم گیلانی،جناب آصف زرداری اور میاں نواز شریف اس بات کا نوٹس لیں پیمرا آرڈیننس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے عوام میڈیا پر پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں جو بھی آئین قانون اور جمہوریت کے خلاف قدم اٹھائے اس پر ضرورتنقید ہونی چاہئے۔ جبکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ ایوان صدر سے سازش ہورہی ہے اور سازشی لوگ بھی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں شریف الدین پیر زادہ اورملک قیوم کتنے بڑے سازشی انسان ہیں پرویز مشرف نے خود سازش کر کے اس ملک میں قبضہ جمایا ہوا ہے اور ان کے اردگرد سازشی ٹولہ بیٹھا ہواہے جو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور مشرف ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ضمنی انتخاب کے حوالے سے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا ہے کہ میں عوام سے پوچھ کر فیصلہ کرونگا ۔ پارلیمنٹ کو توڑنا اور آئین کی دھجیاں بکھیرنا ملک اور قوم کے ساتھ بغاوت ہے جوکہ ایسا جرم ہے جس کی سزا موت سے کم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں‘ عوام تو آئین اور دستور کے مطابق سب کو کام کرنا دیکھنا چاہتے ہیں‘ لہٰذ آئینی کام کرنے سے کیوں گھبرائیں‘ اگر ہم ہی ڈرگئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ لوگوں کو آٹا ملے‘ بچے اسکول جائیں اور لوگوں کو انصاف ملے مگر جب انصاف دینے والے کرسیوں پر نہیں بیٹھیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ یہ ساری چیزیں ادھوری رہ جائیں گی۔ ابھی پندرہ دن ہوئے ہیں کہ پنجاب حکومت بنی ہے مسائل پر قابو پانا ان کی ذمہ داری بنتی ہےاگرچہ آصف علی زرداری آئینی پیکیج لانا چاہتے ہیں لیکن پی ایم ایل ن نے کہا ہے کہ پہلے ججز کو قرارداد کے ذریعے بحال کرلیں اس کے بعد میثاق جمہوریت کے مطابق کام کریں گے اور آئینی پیکیج کی بھی حمایت کریں گے۔ ترقی ، تحفظ اور گڈ گورننس کی موثر پالیسی اور عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے،سیاسی استحکام پیدا کیے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے،ملکی ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے،منتخب حکومت فنڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کی جانچ پڑتال بھی کرے۔موجودہ مخلوط حکومت 18فروری کو غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہے اور اس کو انتہائی سوچ سمجھ و ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہئے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کو انتہائی حکمت عملی اور دانشمندی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض ملک دشمن عناصر مسائل پیدا کر رہے ہیں اگر 30اپریل تک جج بحال نہ ہوئے تو لانگ مارچ کی کال دی جائے گی قومی اسمبلی کے اجلاس کا غیر متوقع طور پر غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونا باعث تشویش ہے کیونکہ اس اجلاس کو اعلان مری کے مطابق ججوں کی بحالی کیلئے بلایاگیا تھا۔ عوام کسی بھی مائینس ون یامائینس ٹو کے فارمولے کو قبول نہیں کرینگے۔ چیف جسٹس اور دیگر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مدت ملازمت کا تعین آئینی کے روح کے منافی ہے۔ وکلاءکسی ذاتی مفادکے لئے نہیں بلکہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی تحریک چلا رہے ہیں، اس لئے وکلاء متحد رہیں اور اپنی تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہداستحکام پاکستان کی تحریک بن گئی ہے اس تحریک کی روشنی میں آزاد عدلیہ کی منزل قریب آچکی ہے ملک میں جاری حالیہ تحریک کوئی سیاسی تحریک نہیں نہ ہی اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔ جبکہ عوام کا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ پی سی او ججوں کابھی مواخدہ کیاجائے جبکہ معزول ججوں کی بحالی حکومت کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے اگر معزول جج 30 اپریل تک بحال نہ ہوئے تو وہ اپنی تحریک کو دوبارہ شروع کردیں گے، چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت معزول کیے گئے60ججوں کی بحالی میں تین روز رہ گئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس۔اے پی ایس۔




US Marines in Afghanistan for first time in yrs

HELMAND PROVINCE, Afghanistan - U.S. Marines are crossing the sands of southern Afghanistan for the first time in years, providing a boost to a NATO coalition that is growing but still short on manpower.
They hope to retake the 10 percent of Afghanistan the Taleban holds.
Some of the Marines that make up the 24th Marine Expeditionary Unit helped to tame a thriving insurgency in western Iraq. Some 3,500 newly arrived troops hope to move into regions of Afghanistan now controlled by the Taleban.
The Marines are working alongside British forces in Helmand province — the world's largest opium-poppy region and site of the fiercest Taleban resistance over the last two years. The director of U.S. intelligence has said the Taleban controls 10 percent of Afghanistan — much of that in Helmand.
'Our mission is to come here and essentially set the conditions, make Afghanistan a better place, provide some security, allow for the expansion of governance in those same areas,' said Col. Peter Petronzio, the unit's commander.
Thirteen of the 19 Marines in the platoon of 1st Lt. Adam Lynch, 27, served in 2006 and 2007 in Ramadi, the capital of the Anbar province in western Iraq. The vast region was once Al Qaeda in Iraq's stronghold before the militants were pushed out in early 2007.
Lynch expects the Marines, who arrived last month on a seven-month deployment, will help calm Helmand as well.
'If you flood a city with Marines, it's going to quiet down,' Lynch said in between sets of push-ups on Helmand province's sandy ground. 'We know for seven months we're not here to occupy, we're just here to set conditions for whoever comes in after us.'
Taliban fighters have largely shunned head-on battles since losing hundreds of fighters in the Panjwayi region of Kandahar province in fall 2006, and it's not clear that Taleban fighters will stay to face the Marines in regions they operate.
Lynch, a mobile assault commander, said he doesn't care if the militants flee: 'Just get the Taleban out of here, that's the biggest thing.'
Western countries, including the U.S. and other NATO nations, have been sending more troops to Afghanistan as violence has escalated.
More than 8,000 people, mainly militants, were killed in insurgency-related violence in 2007, the U.N. says.
The number of suicide attacks spiked in 2007, with the Taleban launching more than 140 suicide missions, the highest number since 2001 invasion to oust the Taliban for hosting al-Qaida leader Osama bin Laden.
The U.S. now has 32,500 troops in the country — the most since the 2001 invasion. In late 2006, Afghanistan had 40,000 international troops. Today, that number is almost 70,000.
But Western officials have warned in recent months that the international mission could fail. Washington has lobbied for NATO nations to provide more troops in Afghanistan, and in particular to add forces in the southern and eastern areas which have seen most of the recent fighting against the resurgent Taleban.
The Marines' presence in southern Afghanistan is a clear sign that neither Britain nor Canada — which operates in nearby Kandahar province — have enough troops to control the region. But commanders and troops say the countries are working well together.
British Capt. Alex West helped deliver supplies to a remote and dusty firebase in Helmand province about a week ago.
'We spent the last operations borrowing kit (gear) off you, so it's about time you borrow stuff from us,' said West, 29, of Colchester, England. 'All of us have been in operations where the American have helped us, so we're happy to help.'
The Marines are known as the theater task force, meaning they fall under the direct control of U.S. Gen. Dan McNeill, the commander of NATO troops in Afghanistan. McNeill can move the Marines to whatever flashpoint he wants. Most other U.S. troops are stationed at permanent bases in the east.
The Marines have been moving supplies and forces through Helmand by ground convoys the last several weeks, a draining and dangerous task. Some convoys have taken more than 20 hours to complete, and two Marines were killed by a roadside bomb April 15.
Lt. Col. Ricky Brown, the commander of the logistics battalion, gave a pep talk to a supply convoy last week, hinting at operations to come.
'You all are gonna move down there so the BLT (battalion landing team) can go in there and kick some Taleban butt,' he said.
They have also been given directions to steer clear of the region's poppy fields so they don't risk alienating local farmers who rely on the cash crop for their income.
Counterinsurgency doctrine calls for forces to first clear a region of militants, hold that region and then build up government institutions and businesses. But the Marines are in the country for only seven months, meaning they don't have time to hold and build regions. But it's not clear if there are enough other NATO troops to hold areas, either.
While riding in a 47-vehicle convoy through the sands of Helmand province this past week, 1st Lt. Dan Brown said the terrain reminded him of other missions.
'If you didn't know any better you'd think you were in Anbar right now,' he said, referring to western Iraq.

Taleban attack Kabul military parade, 3 dead



KABUL - Afghanistan's extremist Taleban movement said it had attacked Sunday a military parade attended by President Hamid Karzai and three of its men were killed.
'We carried out the attack. We fired rockets at the scene of the celebration,' a spokesman for the group, Zabihullah Mujahed, told AFP.
'We had place six personnel in the area,' he said.
'Three of our men have been killed.'
He did not immediately say how they were killed but an AFP reporter at the scene said there was an exchange of gunfire, apparently between the attackers and troops.
A security official at the scene said one suspected attacker was arrested.
Explosions and gunfire sent the thousands of troops and dignitaries assembled for the celebration scattering.
Karzai and other officials were safe, a palace official said.

Tackling drought crucial in finding food crisis solution UN




UNITED NATIONS:Fighting drought is essential in resolving the food crisis the world faces, the U.N. agency tasked with minimizing the threat posed by natural disasters said today.
Both drought and unsustainable water management have played a key role in the current problem, and managing drought risk is essential to finding a long-term solution to the crisis, according to a press release issued by the UN International Strategy for Disaster Reduction (ISDR).
Reports of the UN Intergovernmental Panel on Climate Change (IPCC) last year’s Nobel Peace Prize laureate have shown unequivocally that the world is warming, almost certainly due to human activity, with potentially disastrous effects including worsening drought in some regions and heavier rainfall in others.
“Drought creeps, so we can outrun it,” said Slvano Briceo, Director of the ISDR Secretariat. “But this will take a genuine mindset and policy shift towards the ethos that prevention is better than cure, and serious political and economic commitment to saving harvests and lives on a global economic level.”
Major food exporters such as Australia and Ukraine are experiencing the effects of drought, serving as examples of how climate change can trigger future food crises, the agency said.
Water scarcity contributes to food scarcity, and, as the IPCC has pointed out, billions of people are at the risk of water stress by the end of the century unless carbon emissions are slashed and urgent adaptation actions are taken.
ISDR said that a greater emphasis must be placed on disaster risk, urging communities and nations to enhance their defences against global warming, drought and desertification through such measures as improved water management.
On Friday, the head of the UN World Food Programme (WFP) warned that soaring food prices across the globe are threatening the agency’s efforts to feed the world’s hungry.
WFP Executive Director Josette Sheeran warned of the “new face of hunger” the millions being pushed into the urgent hunger category.
“We’re also concerned because this isn’t just an issue of hunger, but also an issue of instability,” she said, with protests against soaring food prices having been held in dozens of countries.

سیاسی جماعتیں عدلیہ کی مکمل آزادی نہیں چاہتیں، جاوید ہاشمی



کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سید مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کو مایوس نہ کریں اور 30اپریل تک ہر صورت معزول ججز کو بحال کردیں۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو وہ وفاقی حکومت سے باہر ہوجائیں گے اور وکلا کے ساتھ مل کر لانگ مارچ نکالیں گے۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے ہفتہ کو سٹی کورٹ میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر شہدائے پنجاب ہال میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری منزل قریب آچکی ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی یہ نہیں چاہتیں کہ عدلیہ کو مکمل طورپر آزاد کیا جائے یہ نہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ دنیا بھر کے حکمران عدلیہ کو مکمل طورپر آزاد نہیں چاہتے کیونکہ وہ حکومت کو بے لگام گھوڑے کی طرح استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ سید مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی کے وکلا پورے پاکستان کے وکلا کے لیے روشنی کا مینار ہیں اور کراچی کے وکلا نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وکلا تحریک کو منزل کے قریب پہنچایا ہے کیونکہ کراچی میں وکلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور 9مارچ سے لیکر اب تک ریاستی تشدد کا سامنا کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے شہری پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں ۔ وکلا نے صرف 14ماہ میں سیاست دانوں سے بڑھ کر کام کر دکھایا اور وکلا کو ابھی مزید کام کرنے ہیں۔ ملک سے جاگیرداری سسٹم اور آمریت کے خلاف تحریک کو حتمی شکل دینا ہوگی تاکہ ملک میں قائم ناانصافی کو روکا جاسکے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملک کی خوش قسمتی ہے کہ موجودہ حکومت نے معزول ججز کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ عدلیہ بحال ہو، ہمارا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اس وقت تسلیم کی جائے گی جب ججز کو بغیر کسی شرط پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو کو پنڈی سے اسلام آباد شفٹ کیاجارہا ہے جس پر 5بلین خرچہ آرہا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں جی ایچ کیو کو اسلام آباد شفٹ نہ کیا جائے اور اس پر ہونے والی لاگت کو تعلیم و صحت پر خرچ کردیا جائے تاکہ عوام خوشحال ہوسکے۔ بعدازاں صحافیوں کے سوالات پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب حکومت سے علیحدہ نہیں ہونگے کیونکہ پنجاب حکومت کے پاس اختیارات نہیں کہ وہ جز کو بحال کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی وکلا ان سے لانگ مارچ میں شرکت کا کہیں تو وہ وکلا کے لانگ مارچ میں شرکت ضرور کریں گے ۔

برطانوی مسلمان وفد ورلڈ اسلامک اکنامک سمٹ میں شرکت کریگا

لندن ... برطانوی مسلمانوں کا وفد کویت میں ورلڈ اسلامک اکنامک فورم اجلاس میں شرکت کرے گا۔ اس سال اجلاس کا موضوع مسلم ممالک برٹش مسلم فورم کا 35 رکنی وفد چوتھی ورلڈ اسلامک اکنامک فورم سمٹ میں شریک ہوگا جو 29 اپریل تا یکم مئی 2008ء کو ہوگی۔ مسلم کونسل آف برٹین بزنس اینڈ اکنامک کمیٹی نے 35 تاجروں اور پیشہ وران کے وفد کا انتظام کیا ہے جن میں بنکرز اور وکلاء اور تجزیہ نگار شامل ہیں سمٹ میں ساٹھ سے زائد ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے۔وفد کی قیادت کرنے والے سراقبال ساکرانی نے کہا ہے کہ سمٹ بزنس میں تعاون کے لیے کام کرے گی جو مختلف ممالک کے درمیان ہوگا۔

سری لنکا،بم دھماکے کے الزام میں9افراد گرفتار

کولمبو ... سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں پولیس نے بم دھماکے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کرلیا ۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبو کے نواحی علاقے میں گزشتہ دنوں ایک مسافر بس میں ہونے والے بم دھماکے میں چھبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اس حوالے سے جاری تحقیقات کے دوران سری لنکن پولیس نے بم دھماکے کے الزام میں نو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

موصل ،تین خود کش حملوں میں دوعراقی پولیس اہلکاروں سمیت9افراد ہلاک

موصل ... عراقی شہر موصل میں تین خود کش اور ایک کار بم دھماکے سے نو افراد ہلاک اور اکتیس زخمی ہوگئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق موصل کے شہر المصطشفٰی ضلع میں ایک خودکش بمبار نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار پولیس قافلے سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں دوپولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔جبکہ دوسرا خودکش حملہ عراقی فوج کی چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں تین عراقی شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔موصل شہر کے ہی الطیران نامی علاقے میں تیسرے خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھرا آئل ٹینکرسے ٹکرا دیا جس کے باعث پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔اسی علاقے میں ایک کار میں نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

ججوں کی بحالی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ کن اجلاس کل ہوگا

اسلام آباد: ججوں کی بحالی کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ کن اجلاس کل پیر کے روز طلب کرلیا گیا ہے۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلان مری کے مطابق تمام معزول ججوں کی بحالی کی قرارداد کے بیشتر نکات پر دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے ہوگیا ہے تاہم معزول ججوں کی 2نومبر 2007ء کی حالت میں ازسرنو فعالیت اور 2نومبر کے ان ججوں جنہوں نے 3نومبر 2007ء کو پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا ان کی موجودہ فعالیت کے تسلسل کے بعض پہلوؤں پر پیر کے روز بات چیت میں تصفیہ طلب معاملات طے کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے بیشتر معاملات پر اتفاق کرلیا ہے اور بہت جلد متفقہ سفارشات پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو پیش کردی جائیں گی۔ میاں رضا ربانی نے ایک استفسار پر بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اعلان مری کے مطابق ججوں کی بحالی کی قرارداد لائیں گے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت الله بابر نے ایک استفسار پر بتایا کہ ججوں کی بحالی کے لئے صرف قرارداد ہی کافی نہیں بعض انتظامی اقدامات بھی درکار ہیں۔ پارٹی کے ایک مرکزی رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ججوں کی بحالی کی قرارداد کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس آئندہ پیر‘ منگل یا بدھ کسی بھی روز طلب کیا جاسکتا ہے۔

سیاسی استحکام پیدا کئے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے ،صدر پرویز





لاہور : صدر مملکت پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ترقی ، تحفظ اور گڈ گورننس کی موثر پالیسی اور عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے،سیاسی استحکام پیدا کیے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے،ملکی ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے،منتخب حکومت فنڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کی جانچ پڑتال بھی کرے۔ اسٹاف کالج لاہور میں زیر تربیت افسروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا موجودہ مخلوط حکومت 18فروری کو غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہے اور اس کو انتہائی سوچ سمجھ و ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہئے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کو انتہائی حکمت عملی اور دانشمندی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ صدرپرویز نے کہا کہ القاعدہ، طالبان اور غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں شمالی علاقوں میں پاک افغان بارڈر پر کام کر رہی ہیں اور دہشت گردوں کو وسائل فراہم کر رہی ہیں تاکہ ہماری سیکورٹی فورسز انکی سرگرمی پر قابو پانے کیلئے تمام تر اقدامات کر رہی ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بعض ملک دشمن عناصر مسائل پیدا کر رہے ہیں اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کیلئے اربوں روپے خرچ کیے ہیں جن میں کوسٹل ہائی وے ، انڈس ہائی وے اور گوادر پورٹ قابل ذکر ہیں جو سماجی ترقی میں اہم کردار کی حامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کے کئی ایک اقدامات کے باعث معیشت مستحکم ہوئی تاہم تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے سے توانائی کا بحران پیدا ہوا جس نے مسائل پیدا کیے اور عوام ان مسائل کا شکار ہوئے۔ گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے شروع کیے جانیوالے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بھاشا ڈیم کا افتتاح کچھی کینال کی تعمیر، تھل کینال، رینی کینال اور منگلا ڈیم توسیعی منصوبہ اس حکومت کے اہم ترین اقدامات تھے جو قومی معیشت میں اہم کردار کے حامل ہونگے۔ اس لیے پالیسیوں کا تسلسل اور ان پر عملدرآمد ملکی ترقی اور معیشت کے استحکام کیلئے ناگزیرہوگا۔ صدر نے کہا غربت کے خاتمے کیلئے کئی ایک اقدامات کیے گئے تاہم اس ضمن میں بہت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منتخب نمائندوں اور سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ جو پالیسی بنائی جائیں وہ ان پر موثر طریقے سے عملدرآمد بھی کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیاں بناتے وقت عوام کے مسائل کو سامنے رکھا جانا چاہئے۔ اسی طرح فنڈز کے استعمال میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی یقینی بنایا جانا چاہئے۔ صدر نے کہا ہمیں معیار اور تکنیکی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے کئی ایک اقدامات کیے جن میں نو انجینئرنگ یونیورسٹیاں بنانا ایک اہم اقدام ہے۔

زرداری کی وطن واپسی موٴخر، وزیر قانون کو دبئی بلا لیا



اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے کسی ذاتی کام کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے دبئی سے اپنی واپسی موخر کر دی ہے اور وفاقی وزیر قانونی سے تازہ ترین صورتحال پر مشورہ کرنے کے لئے دبئی بلا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اہم رہنما فرحت اللہ بابر کے مطابق زرداری نے ہفتے یا اتوار کو واپس آنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی میں ان قیام کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے طویل ہو گیا ہے۔ توقع ہے کہ زرداری اب 30اپریل کو واپس آئیں گے اور اعلیٰ عدلیہ کو بحال کرنا کا ا علان کر دیں گے جس عدلیہ کو صدر مشرف نے 3نومبر کو پی سی اور ایمرجنسی کے تحت معزول کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ججز کی بحالی کی 6رکنی کمیٹی میں بات چیت کسی مسئلے کے پیدا ہونے کی صورت میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر بابر اعوان سے مشورہ کرنے کا کہا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان اور فاروق ایچ نائیک کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات ہو گئے تھے۔ نائیک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی سروس کا دورانیہ 5 سال مقرر کر دینا چاہیے جبکہ بابر اعوان بات چیت کے دوران اصرار کرتے رہے کہ یہ دورانیہ 3سال مقرر کیا جائے گا اگر پیپلزپارٹی یہ دورانیہ 5سال مقرر کرنے کی کوشش کی تو جسٹس افتخار چودھری 2010ء تک اپنی ملازمت جاری رکھیں گے لیکن اگر یہ تین سال کر دیا جاتا ہے تو جسٹس افتخار چودھری کو بحال کے فوراً بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ حقیقتاً چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے 2013ء میں ریٹائر ہونا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ کام کرنا چاہتے ہیں اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں لیکن چیف جسٹس کی مدت ملازمت کو کم کرنے سے کئی نگاہیں اٹھتی ہیں۔

وکلاء متحد رہیں اور تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں،جسٹس افتخارچوہدری




لاہور: معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء کسی ذاتی مفادکے لئے نہیں بلکہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی تحریک چلا رہے ہیں، اس لئے وکلاء متحد رہیں اور اپنی تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہداستحکام پاکستان کی تحریک بن گئی ہے اس تحریک کی روشنی میں آزاد عدلیہ کی منزل قریب آچکی ہے ۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز جوڈیشل کرائسسز مینجمنٹ کمیٹی کے صدر شفقت محمودچوہان ایڈووکیٹ کی قیادت میں وکلاء کے وفد سے ملاقات کے دوران کی، وفد کے دیگر ارکان میں میاں شاہد اقبال میاں ایوب یونس نول گلزار بٹ اللہ بخش گوندل اور میاں اظہر بھی شامل تھے۔ وفد نے اسلام آباد میں معزول چیف جسٹس سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ شفقت محمودچوہان نے ملاقات کے بعد جنگ کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے ججوں کی بحالی میں تاخیر پر جسٹس افتخار محمد چودھری نے وفد سے کہا کہ وہ دیکھیں اور انتظار کریں دیکھتے ہیں آگے حالات کیا ہوتے ہیں پھر کوئی فیصلہ کریں گے معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں جاری حالیہ تحریک کوئی سیاسی تحریک نہیں نہ ہی اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔دریں اثناء معزول ججوں کی بحالی کے لئے لاہور سمیت ملک بھر میں وکلاء کی طرف سے عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کرکے احتجاجی اوربھوک ہڑتالی کیمپوں کے ذریعے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ حکمران اتحاد ججوں کی بحالی کے حوالہ سے قوم سے لئے گئے مینڈیٹ کی پاسداری کریں اور تاخیری حربے استعمال نہ کئے جائیں ۔دوسری جانب آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینئر وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ مقررہ ڈیڈ لائن میں ججز کی بحالی کا امکان نہیں ،قرارداد کے مسودے پر اتفاق ہے تودیر کیوں؟۔انہوں نے کہا کہ 3 مئی کو اسلام آباد میں وکلاء قیادت کا اجلاس ہو گا جس میں آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکیج کی حمایت کر یں گے ،پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑدیئے جائیں ،نواز شر یف





اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت کرینگے،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں،عوام نے تبدیلی کیلئے مینڈیٹ دیا اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے،صدر کی موجود گی جمہوریت کیلئے خطرناک ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ایوان صدر کا مکین نہیں چاہتا کہ سیاستدان مل بیٹھیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو، انہوں نے کہا کہ میں سیاست سے فوج کے کردار کے خاتمے کا دعا گو ہوں،انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا پر کوئی پابندی دیکھنا نہیں چاہتے، 30 اپریل کو 30دن پورے ہونے والے ہیں ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت کرینگے اس سے قبل قومی اسمبلی میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے قرار دادکی منظوری کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا بھی ضروری ہے۔ معزول ججوں کی صرف بحالی کافی نہیں ہم انہیں عملی طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی نیت پر کوئی شک شبہ نہیں۔ ہمارے وزراء نے ملک کے وسیع تر مفاد میں صدر مشرف سے حلف لیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو توڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں آج ہمیں وعدہ کرنا ہے کہ آمریت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد نہیں ہے تو سیاست دان، صحافی اور جمہوریت بھی آزاد نہیں ہوگی۔ یہ 70 اور 80 کی دہائی نہیں ہے اب وقت بدل گیاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلی میں ہمیں بھی خود کو ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کے ساتھ ذیادتی کی قانون اور آئین توڑا اسے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ عوام نے عام انتخابات میں گزشتہ حکومت کی پالیسیوں اور آمریت کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ عوام تبدیلی کے انتظار میں ہیں اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان مری کے مطابق ہم نے ججوں کو بحال کرنا ہے اور 2 نومبر کی پوزیشن پر انہیں لانا ہے۔ اعلان مری میں ساری بات طے ہو چکی ہے۔ ہم نے 30 دن میں ایک قرار داد کے ذریعے جج بحال کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کو واضح طور پر بتا دیا کہ وہ حکومت بنائیں اپنی ذات کیلئے کسی قسم کے کوئی مطالبات نہیں کیے لیکن صدر مشرف کے حوالے سے ہمارے تحفظات تھے اس کے باوجود ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہمارے وزراء نے ان سے حلف لیا۔ اعلان مری کے تحت 30 اپریل تک ججوں کو ہم نے بحال کرنا ہے اور توقع ہے کہ اس سے پہلے پہلے اس سلسلے میں قرار داد آجائے گی لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ صرف قرار دادہی کافی نہیں ججوں کی بحالی کیلئے اسی وقت ایگزیکٹو آرڈر کا اجراء ہونا چاہیے اور ججوں کواپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیں۔ اٹھاون ٹو بی کے استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال کیوں ہوگا ہم جج بحال کر رہے ہیں جنہیں گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا انہیں نکال تونہیں رہے جو اسمبلی ملک اور عوام کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے کام کر رہی ہے اسے توڑنے کا کیا جواز ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اعلان مری پر عمل کریں گے اور عوام کی توقعات پر پورے اتریں گے اور دعا کرتے ہیں کہ اتحادی حکومت قائم رہے ماضی کی دو متحارب جماعتیں جو اس وقت ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچیں، فوج اپنا کام کرے اور سیاست میں آنے سے گریز کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے 2 نومبر کو حلف لینے سے انکار کیا تھا ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے وہی اختیارات ہونے چاہیں جو پارلیمانی جمہوریت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں مجھے مصروفیات محدود رکھنے کو کہہ رہی ہیں۔ لیکن ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں اور آمریت کے ایجنٹ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے ملک میں میڈیا کی آزادی اور بحالی جمہوریت کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ان کی جدوجہد پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے ہم میڈیا پر پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں جو بھی آئین قانون اور جمہوریت کے خلاف قدم اٹھائے اس پر ضرورتنقید ہونی چاہئے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں شرکت کرنے والے مسلم لیگی وزیروں کو علم نہیں تھا کہ صدر مشرف بھی وہاں آ رہے ہیں، اگر علم ہوتا تو وہ نہ جاتے تاہم انہوں نے کھانا مشرف کے مخالف سمت منہ کرکے کھایا، ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ ایوان صدر سے سازش ہورہی ہے اور سازشی لوگ بھی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں شریف الدین پیر زادہ اورملک قیوم کتنے بڑے سازشی انسان ہیں پرویز مشرف نے خود سازش کر کے اس ملک میں قبضہ جمایا ہوا ہے اور ان کے اردگرد سازشی ٹولہ بیٹھا ہواہے جو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور مشرف ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ضمنی انتخاب کے حوالے سے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ میں عوام سے پوچھ کر فیصلہ کرونگا ۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو توڑنا اور آئین کی دھجیاں بکھیرنا ملک اور قوم کے ساتھ بغاوت ہے جوکہ ایسا جرم ہے جس کی سزا موت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں‘ ہم تو آئین اور دستور کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں‘ لہٰذا ہم آئینی کام کرنے سے کیوں گھبرائیں‘ اگر ہم ہی ڈرگئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی۔ ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو آٹا ملے‘ بچے اسکول جائیں اور لوگوں کو انصاف ملے مگر جب انصاف دینے والے کرسیوں پر نہیں بیٹھیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ یہ ساری چیزیں ادھوری رہ جائیں گی۔ ابھی پندرہ دن ہوئے ہیں کہ پنجاب حکومت بنی ہے مسائل پر قابو پانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم آئینی پیکیج لانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے کہا ہے کہ پہلے ججز کو قرارداد کے ذریعے بحال کرلیں اس کے بعد میثاق جمہوریت کے مطابق کام کریں گے اور آئینی پیکیج کی بھی حمایت کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا عمل ہم ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں کہ مذاکرات ہورہے ہیں۔

Pak students protest against move to pardon Sarabjit


Daughters of Sarabjit Singh, who is languishing in a Pakistani jail on death row, at a village near Amritsar.

LAHORE: Amidst appeals for clemency for Sarabjit Singh by his family and human rights activists, hundreds of students in Lahore took to the streets demanding that the Indian death row prisoner not be pardoned. The students marched in the city on Friday and sought withdrawal of all official moves to pardon Sarabjit, sentenced to death for alleged involvement in the 1990 blasts in Punjab province. They also said he should not be made a "hero". The demonstrators termed former Pakistani human rights minister Ansar Burney, who has sent a mercy petition on behalf of Sarabjit to President Pervez Mushrraf, an "Indian agent", The News reported on Saturday. The students said if Sarabjit is released, they would launch a joint movement against the government. The demands were made by student leaders while addressing a conference outside Lahore Press Club. They also protested against an anti-Quran movie by a Dutch lawmaker . Tulaba Jamaatud Dawah chief Muzammil Iqbal Hashmi demanded that Burney should be arrested and tried for treason. He said the release of Sarabjit would "humiliate" the whole nation. Holding banners and placards, the students shouted slogans and blocked roads. Their leaders also demanded a boycott of western products and culture and promotion of Islamic teaching. Sarabjit's April 1 hanging was deferred for 30 days by President Pervez Musharraf. His family, which is in Lahore currently, is seeking clemency for the condemned man.
Kidnappers of IG Punjab’s nephew arrested

ASSOCIATED PRESS SERVICE

LAHORE: Police has arrested four accused for kidnapping Ahsan Khan - nephew of Additional Inspector General Punjab, Khawaja Khalid Farooq.The accused kidnapped Ahsan Khan from Satoktala area of Lahore, snatched his car and withdrew 135,000 through his ATM card and ran away, police said.The police identified the accused through the footage of the surveillance camera installed inside the ATM booth and the arrested Zain-ul-Abideen along with three others from Thokar Niaz Baig.
Women rally against Dutch anti-Islam film in Karachi

ASSOCIATED PRESS SERVICE

KARACHI: Thousands of women staged a protest here against an anti-Islam film made by a Dutch lawmaker.Muslim communities have widely condemned Dutch lawmaker Geert Wilder since he released the short film online last month.More than 4,000 women from Jamaat-e-Islami and other groups attended the rally. Some of them beat an effigy of Wilder before setting it on fire.The protesters, many of them veiled, also condemned there printing of blasphemous cartoons in Denmark, and demanded that Pakistan expel the Dutch and Danish ambassadors.


Qazi wants judges restoration within 30 days

ASSOCIATED PRESS SERVICE
NOSHEHRA: Amir Jamat-i-Islami, Qazi Hussain Ahmed Saturday stressed on the government to restore the deposed judiciary within the announced deadline of 30 days.Addressing a press conference here, Qazi Hussain Ahmed said he neither doubts the intention of the government nor he wants to create any difficulties for it.“The judges issue is one of the most important matter for the government and it is seen as a test case for the newly elected democratic government…the whole nation wants the Bhurban Declaration implemented,” Qazi said.He said meeting of All Parties Democratic Movement (APDM) may be convened on May to consult the leaders had the judges not reinstated within deadline.“The present government respecting the people’s mandate should impeach the President immediately,” Qazi Hussain Ahmed stressed.


Violators of constitution to be brought to justice: Nawaz Sharif

ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD: The Head of Pakistan Muslim League-N Mian Nawaz Sharif has said those who violated the constitution, law and assemblies would be brought to justice.Addressing a press conference in Islamabad, Nawaz Sharif said there was no ambiguity over reinstatement of judges according to the Murree declaration and PML-N would like judges to be restored before April 30 through an executive order. PML-N head said restoring of deposed judges was not a criminal act for which President Musharraf would use 58-2-B. Sharif said he wanted no role of army in politics and would never become part of dictatorship. Regarding Pemra ordinance, Nawaz Sharif said there should not be any restrictions on the press and media and Pemra ordinance was no more in place. A delegation of Islamabad Union of Journalists called on Mian Nawaz Sharif in which PML-N leader eulogized struggle of journalists for the cause of democracy and free media in Pakistan.





Government committed to providing relief to people: PM




ASSOCIATED PRESS SERVICE


ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Saturday said the resilience and steadfastness displayed by people of Azad Jammu and Kashmir after the catastrophic earthquake in 2005 was a reflection of their determination to face challenges.
He was talking to a delegation of PPP Azad Jammu and Kashmir led by PPP AJK President, Chaudhry Abdul Majeed which called on him here at the PM Secretariat this evening.
The Prime Minister said the role of People’s Party workers during the difficult post earthquake period reflected their commitment to serve the people.
He expressed the confidence that the same spirit would facilitate the cause of the people of Jammu and Kashmir for the peaceful resolution of Kashmir issue in accordance with their aspirations.
The Prime Minister said the present government has inherited a number of problems including food inflation and energy shortage.
He said the government is committed to providing relief to people. In this regard, he added, a 100-day austerity programme is underway for which various initiatives are being taken.
The Prime Minister said the majority of Pakistanis have voted for the democratic forces in recent general elections, which showed their confidence in development-oriented and progressive programmes for future.
President PPP AJK informed the Prime Minister that in the 2005 earthquake four districts of AJK were badly affected where nearly 50,000 people were killed whereas numerous others were injured.
He asked for special efforts to accelerate the reconstruction of the destructed areas as well as payment of compensation for all affected people those who have still not been compensated.
The delegation invited the Prime Minister to visit the earthquake affected districts to get first hand information about the difficulties of the people.
The Prime Minister said that keeping in view the difficulties of the people in some areas he has decided to monitor the reconstruction and rehabilitation work himself and would conduct meetings of the ERRA Council on monthly basis. Soon, he said, he would also undertake a visit to the AJK.
The participants apprised the Prime Minister of various issues relating to AJK, including provision of electricity, gas and construction of roads.
They informed him that Kashmiri people are appreciative of the government’s decision to lift ban on trade and students unions.
The delegation also congratulated the Prime Minister on assuming his responsibilities as the head of the coalition government.
Earlier the meeting offered Fateha for Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed.

چو دھری شاھد نواز چیف ایڈیٹر کاسموس نیوز ایجنسی... موجودہ قومی اسمبلی اور چار اپوزیشن لیڈر خدا خیر کرے


ََ گذشتہ روز قومی اسمبلی کی گےلری مےں بےٹھے تھے کہ اےک دوست نے کان مےں آ کر کہا کہ قائد خزب اختلاف جناب پروےز الٰہی اپنے چےمبر مےں پرےس کانفرنس کر رہے ہےں۔خےر وہ ہمارے راہنما ہےں کےا ہوا جو آج اپوزےشن مےں ہےں کل حکومت مےں تھے پھر بھی آ سکتے ہےں۔انکے ساتھ رےاض پےرزادہ‘ماروی مےمن اور بہادر خان بھی موجود تھے۔ادھر تو 40کے قرےب صحافی حضرات موجود تھے اور ابھی سوالات کا سلسلہ شروع نہےں ہوا تھاکہ چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ آپ لوگ تو آ گئے لےکن کےمرہ مےن کدھر ہےں ےہ تو صرف PTVکا کےمرہ ہے۔ انہےں اےک صحافی نے ےاد دلاےا کہ آپ کی حکومت نے قومی اسمبلی مےں کےمرے لانے سے منع کےا ہوا تھا خےر سےاست دانوں کی ےاداشت بہت کمزور ہوتی ہے انکا قصور نہےں۔ اسکے بعد انہوں نے پرےس کو برےف کرنا شروع کےا انہوں نے اعلان کےا کہ قومی اسمبلی مےں تےن ڈپٹی اپوزےشن لےڈر نامزد کر رہے ہےں ۔انجےنئر امےر مقام(سرحد)فہد غوث بخش(سندھ)جام محمد ےوسف(بلوچستان) سے لےا جا رہا ہے جس کی وجہ انہوں نے ےہ کہی کہ اکثر و بےشتر وہ اسمبلی مےں موجود نہےں ہوتے تو انکی جگہ کوئی تو سنبھالے گا۔ ےعنی سےٹ خالی نہےں چھوڑنی۔انہےں ےاد دلاےا گےا کہ اےم کےو اےم کے اےک لےڈر پہلے ہی سندھ سے قومی اسمبلی مےں اپنے آپ کو اپوزےشن لےڈر کہلوا رہے ہےں مےری مراد حےدر عباس رضوی سے ہے۔اسکے جواب مےں چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ اسکو چھوڑو کوئی اور بات کرو۔اسکے بعد جناب پروےز الٰہی نے کہا کہ موجودہ حکومت غےر ملکی آڈےٹر سے آڈٹ کروانے کےلئے پروگرام بنا رہی ہے ےعنی ضلعی حکومتوں کا احتساب باہر سے آئے ہوئے CAحضرات کرےں گے جو ہمےں قبول نہےں ہے۔کےونکہ پہلے ہی ہم نے ضلعی حکومتوں کے آڈٹ کرکے انہےں پاک صاف قرار دے چکے ہےں اور انکے احتساب کےلئے ادارے بھی موجود ہےں اس سے ملکی حالات خراب ہونگے موجودہ ضلعی حکومتوں کو 2009تک وےسے ہی قانونی تحفظ حاصل ہے انہےں کوئی نہےں چھےڑ سکتا موجودہ حکومت کو عقل کے ناخن لےنے چاہئے نہ کہ احتساب کروانا چاہئے۔ہم اس کو عدالت مےں چےلنج کرےں گے وکلاءکی کمےٹی بنا دی ہے۔موجودہ حکومت نے ہمارے قائم کےے ہوئے ادارے ختم کرنے شروع کر دئےے ہےں جن مےں پڑھے لکھے پنجاب کا ٹرےفک وارڈن ادارہ بھی ہے جس مےں ہزاروں کی تعداد مےں سفارشی BAحضرات کو بھرتی کےا گےا تھا۔اور لاہور مےں شروع ہوا تھا جو بعد مےں ملتان ‘گوجرانوالہ‘بہاولپور اور فےصل آباد مےں بھی شروع کےا جانا تھا جسکی تےاری پورے زور و شور سے جاری تھی کہ سندھ کے زردارےوں اور پنجاب کے زردارےوں نے تہس نہس کر دےا اب واڈن بھی جار ہے ہےں خدا خےر کرے۔پنجاب مےں شروع ہونے والے 1122کے بارے مےں انہوں نے کہا کہ ےہ بھی حکومت بند کرنا چاہتی ہے ہم اسکو ختم نہےں ہونے دےںگے۔ اےک ہمارے دوست صحافی نے جناب پروےز الٰہی سے سوال کےا کہ جناب آپ پروےز مشرف کی چھتری سے کب نکل رہے ہےں تو انہوں نے اگنور کر دےا 2سے3مرتبہ ےہی سوال کرنے پر انہوں نے متعلقہ صحافی کو پوچھا کہ کس کے بندے ہو ےہ سوال کس نے پوچھا ہے۔ شوکت عزےز کے بارے مےں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ چلے گئے ہےں ہر سوال جو اسکے بعد ہوا ےعنی اےک صاحب نے پوچھا کہ 3ڈپٹی اپوزےشن لےڈروں کا تقرر کس قانون کے تحت ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون نہےں ہم نے کہہ دےا ہے قانون بعد مےں بتائےں گے۔چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ ہم نے چےف الےکشن کمشنر کو خط لکھا ہے کہ الےکشن شےڈول کے اعلان کے بعد جو تقررو تبادلے کےے گئے ہےں انکا نوٹس لےا جائے(کےونکہ ےہ ہمارا دورہ حکومت نہےں ہے)ہم نے غےر ملکی مبصرےن کو بھی کہا ہے کہ اب بھی آو¿ اور الےکشن مےں ہونے والی دھاندلی دےکھو اب کےوں نہےں آ رہے۔ راقم الحروف کے سوال کے جواب مےں کہ ملک مےں عوام کو آٹا نہےں مل رہا اور بہت برے حالات ہےں اس بارے مےں کچھ فرمائےں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آٹا تک عوام کی رسائی ےقےنی بنانا چاہئے ےہ انکی ناکامی ہے کہ ملک مےں آٹا مےسر نہےں ہے۔اسکے بعد انہوں نے کہا کہ گےٹ پر چلتے ہےں کےمروں کے آگے سوال جواب کرےں گے۔حافظ صاحب آ جاو¿(حافظ طاہر خلےل کو کہا)صحافی حضرات مذاق اڑاتے اور ہنستے چلے گئے مےرا تعلق چونکہ چوہدری پروےز الٰہی کے شہر سے ہے مےں چوہدری صاحب کے پاس 10سے 15منٹ بےٹھا رہا اور خدا سے دعا کرتا رہا کہ کاش کوئی اپوزےشن لےڈر عوام کے مسائل کو سنجےدگی سے لے جب تک اسطرح کے حاکم اور اسی طرح کے اپوزےشن لےڈر آتے رہےں گے عوام کا خدا ہی حافظ ہے ےعنی کوئی سوال بھی کےا جائے تو کہتے ہےں کوئی اور سوال کرو ےا پھر ”چھڈو جی“ےا پھر” خےرمٹی پاو¿جی“ اگر مسائل کو حل نہےں کرنا ےا اس کو مسئلہ ہی نہےں سمجھنا ےا اس پر مٹی ہی ڈالنی ہے تو ہمارے اربوں روپے لگا کر اسمبلےوں اور سےنٹ مےں ان لوگوں کو بےٹھے کا کےا فائدہ پھر تو ہر محلہ کا ناظم ہی بہت ہے جو پانی ‘بجلی اور صحت و صفائی کا مسئلہ تو محلہ کے اندر ہی حل کر سکتا ہے۔مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ 25سال ہو چکے ہےں چوہدری برادران کو قومی اور صوبائی اسمبلےوں مےں آتے جاتے مجھے نہےں پتہ کہ انہوں نے اےک قومی اسمبلی ےا سےنٹ مےں آنے جانے والے صحافی سے زےادہ کام کےا ہو گجرات مےں اےک قصبہ جلالپورجٹاں ہے جہاں کی آبادی آج سے پچےس سال پہلے60000ہزار تھی اور پاور لومز جو اس شہر کی رےڑھ کی ہڈی ہے کاروباری لحاظ سے‘پاور لومز کی تعداد اس وقت اس شہر مےں تقرےباً8سے10ہزار ہو گی آج اس شہر کی آبادی130000سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔اور ہونا تو ےہ چاہےے تھا کہ آبادی کے ساتھ ساتھ کاروباری مواقع پےدا ہوتے اور 8ہزرا پاور لومز سے بڑھ کر 160000ہزار ہوتےں اور اسکے ساتھ بے روزگاری بھی کم ہوتی مگر الٹا حساب آج وہاں بمشکل 800سے 1000ہزار پاور لومز چل رہی ہےں کےونکہ بجلی ہی نہےں ہے کچھ اہل ثروت حضرات نے جنرےٹر کا بندوبست کر لےا ہے لےکن ہر آدمی ےہ نہےں کر سکتا اس لےے لوگ شہر جلالپورجٹاں سے ہجرت پر مجبور ہےں۔مےرا اس وقت بات کرنے کا مقصد ےہ ہے کہ 25سال سے جلالپورجٹاں سے چوہدری برادران کے سوا کوئی MNAےا MPAےا ضلعی ناظم منتخب نہےں ہوا اگر وہ چاہتے تو اپنے باپ ےعنی چوہدری ظہورالٰہی کے گجرات کو پےرس بنانا تو آسانی سے کر سکتے تھے کےونکہ 2ماہ اور 18دن چوہدری شجاعت حسےن بھی وزےراعظم پاکستان رہ چکے ہےں خےر ےہ بات تو ہوئی بے روز گاری کی اسکے علاوہ جو تھانہ کلچر ہے اس کی مثال ہی نہےں ملتی گجرات مےں موٹر سائےکل کا نمبر لگوانے کا کوئی رواج نہ ہے آپکو 8سال 6سال پرانا موٹر سائےکل بغےر نمبر کے مل جائے گا پوچھو تو کہتے ہےں کہ وجاہت فورس کا کارکن ہے(جسکی چوہدری وجاہت حسےن نے جےو کے پروگرام کےپٹےل ٹاک مےں تردےد بھی کی تھی ےعنی وجاہت فورس کا وجود نہےں ہے)۔ شام کے بعد آپ بائی پاس سے گذر نہےں سکتے جلالپور جٹاں شہر مےں اسلام گڑھ اور کےمپ روڈ ‘کھارےاں روڈ‘چوک دومےلا جو کےنٹ کے ساتھ واقع ہے قابل دےد نظارہ پےش کر رہا ہے حالانکہ وہاں کے ناظمےن چوہدری برادران کی تسبےح پڑھتے نہےں تھکتے(اللہ معاف کرے)اور استقبال اسطرح کرتے ہےں گوےا بل کلنٹن آ گےا ہو۔ ہمےں استقبال کرنے سے تکلےف نہےں مگر ان کو کام بھی بتاو¿ نہ کہ جن سڑکوں پرچوہدری صاحب آنے نے خود آنا ہوتا ہے انکی تو حالت سدھاردو۔اگر چوہدری برادران نے 25سالوں مےں وزےراعلیٰ ‘وزےراعظم‘MNA‘MPAاور12سال وزےر بلدےات رہ کر کچھ نہےں کےا تو PPPPوالوں سے بھی امےد نہ رکھےںےہ باتےں تو وےسے ہی لکھ دی ہےں کہ اپنے حلقہ کی عوام کی خدمت نہ کرنے والے پوری قوم کی کےا خدمت کرےں گے جو مےڈےا کے چند سوالات کا جواب نہےں دے سکتے انہوں نے عوام کا سامنا کےا کرنا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اےک ہو مگر نےک ہو مےری مراد اےک اپوزےشن لےڈر سے ہے جو حکومت کے غلط کاموں کو عوام تک لے کر جائے ان چار لےڈروںجےسااےک فضل الرحمان پہلے ہی کافی تھا چار کی کےا ضرورت پےش آ گئی۔خدمت کا آغاز اپنے حلقوں سے کرےں ورنہ 5ےا4نشستوں سے بہتر اےک ہی ہے جہاں آپ وقت دے سکےں اور عوام کے دکھ سکھ مےں شرےک ہوں۔
چو دھری شاھد نواز چیف ایڈیٹر کاسموس نیوز ایجنسی

نبی آخر الزماں اور ہمارا ہندوستاں


8تا14اپرےل کے 4کالموں مےں بحث کی تھی کہ القاعدہ کہاں ہے؟ کہےں ہے تو شاتمےن رسول کےوں اب تک زندہ ہےں؟۔ ان گستاخےوں کے مقاصد کےا ہو سکتے ہےں؟القاعدہ کا ہوا کس طرح کھڑا کےاگےا؟ تو ہےن آمےز خاکوں اور فلم کے مسئلے پر اب تک القاعدہ کا کوئی کردار سامنے نہےں آےا اور اگر کسی نے جرا¿ت کی گستاخوں کو چےلنج کےا تو وہ صرف پاکستانی ہےں۔حکمران نہےں عام پاکستانی۔ اس کا ہر گز ےہ مطلب نہےں کہ ناموس رسالت کے مسئلے پر خدا نخواستہ ہم پاکستانےوں سمےت باقی مسلمانوں کو کچھ نہےں کرنا چاہےے اور القاعدہ ہی پر ےہ فرض عائد ہوتا ہے ۔بدبختوں نے پوری امت مسلمہ کی غےرت کو چےلنج کےا ہے لہٰذا اس کا جواب بھی ساری ملت اسلامےہ پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ےہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اپنی ذمہ داری انسان کو خود ہی پوری کرنا ہوتی ہے ۔ کوئی دوسرا آکر ہاتھ بٹاتا ہے نہ اس کی توقع ہی کر ناچاہےے۔ مگر اس کے باوجود کئی لوگ سوال کرتے ہےں کہ امت کا اجتماعی مسئلہ ہے تو سب اپنا کردار ادا کر ےں صرف پاکستانی ہی کےوں جانےں قربان کرےں اور دنےا بھر کی نظروں مےں شدت پسند قوم قرار پائےں ۔صرف ےہاں کےوں لوگ ڈنڈے سوٹے لے کر بدبختوں کو للکارنے سڑکوں پر نکل آئےں؟۔ان کی خدمت مےں عرض ہے کہ جس کو زےادہ تکلےف ہوتی ہے چےخ بھی اسی کی نکلتی ہے ۔ اور زےادہ تکلےف اسی کو ہوتی ہے جس کا تعلق زےادہ قرےبی ہوتا ہے ۔ ےہ فطری امر ہے حضور نبی اکرم کے ساتھ اہلےان پاکستان کا رشتہ ہی کچھ ہٹ کے ہے ۔ خصوصی نوعےت کا ہے ۔اس بات پر احباب سوال پر سوال کر سکتے ہےں کہ ےہ کےا بات ہوئی۔ حضورنبی کرےم تمام بنی نوع انسان کی طرف آخری پےغمبر بنا کر بھےجے گئے ۔ ان کے لئے ہر قوم برابر ہے اور ہر قوم کے لئے آنحضرت کے ساتھ عقےدت بھی مساوی ہے ان کے امتی بن کر تو سبھی اےک ہی صف مےں کھڑے ہو جاتے ہےں۔ پھر قبےلے اور قومےں تو رہتی نہےں۔ اےک امت اور ملت بن جاتی ہے۔ پھر پاکستانےوں کی تخصےص کےوں اور کےسے؟ توجہ دےجئے اور ملاحظہ فرمائےے۔ اس کا جواب14صدےاں قبل اللہ پاک کے آخری نبی خود دے چکے ہےں۔حضور نے فرماےا۔”مجھے ہندوستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے “غور کےجئے۔ اس اےک فقرہ مےں کتنی معرفتےں پوشےدہ ہےں ےہ بات حضور عالی مقام نے پوری دنےا مےں کسی اور خطے کے لئے نہےں کہی۔چُن کر ہندوستان کے متعلق کہی آج کا پاکستان اسی خطے کا اےک حصہ ہے جسے ماضی مےں ہند ےا ہندوستان کہتے تھے پھر اگر غازی علم دےن ناموس رسالت پر جان لے کر جان وار دےتا ہے پھر اگر والدےن کی امےدوں کا اکلوتا مرکز عامرچےمہ تن تنہا غےر ملک مےں بدبختوں کو چےلنج کر کے شہےد ہو جاتا ہے تو کےا عجب ہے ؟ اللہ کے پےارے حبےب کو ٹھنڈی ہوا ےہےں سے جانا ہے ۔غازی علم دےن اور عامر چےمہ شہےد کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے شمع رسالت کے پروانے اس خطے مےں گزرے ہوں گے جن کے بارے مےں ہمےں علم ہی نہ ہو اےسے ہی اےک اور شہےد کے متعلق گوجرانوالہ سے معزز قاری ارشد مےر نے نشاندہی کی ہے کہ رسول اکرم کی ناموس پر مرمٹنے والے پاکستانےوں مےں عامر چےمہ شہےد اور غازی علم دےن شہےد کے علاوہ غازی اللہ دتہ شہےد بھی شامل ہےں۔ انہوں نے غازی علم دےن سے بھی پہلے 1926ءمےں کنجاہ ضلع گجرات مےں اےک سکھ تھا نےدار کو شان رسالت مےں گستاخی پر موت کے گھاٹ اتاراتھا اور خود سولی چڑھ گئے تھے۔ ان کا مزار کنجاہ کے محلہ غازی پورہ کی مسجد مےں ہے۔ ےہ محلہ انہی سے منسوب ہے۔ آپ کا عرس ہر سال19مارچ کو مناےا جاتا ہے ۔ ان کے متعلق تفصےلات کتاب” گجرات کی بات“ مےں موجود ہےں جو لالہ موسیٰ کے شاعر اسحاق آشقتہ اور لےاقت علی شفقت نے تحرےر کی ہے ۔ہم ارشد مےر صاحب کے انتہائی مشکور ہےں انشاءاللہ ہم کنجاہ سے غازی اللہ دتہ پر مفصل رپورٹ منگوا کر شائع کر ےں گے تاکہ ناموس رسالت کے ان نگہبانوں کے متعلق جہاں اےک طرف ہماری موجودہ نسل کو آگاہی حاصل ہو سکے وہےں سلمان رشدی، تسلےمہ نسرےن، ڈنمارک کے بدبخت اےڈےٹروں کارٹن جسٹCARSTEN JUSTE،فلےمنگ روزFLEMING ROSEکارٹونسٹ کرٹ وےسٹر گارڈKURT WESTER GAARD اور ہالےنڈ کے ملعون فلمسازگےرٹ ولڈرGEERT WILDER کووارننگ بھی مل سکے کہ اس قوم مےں اےسے لوگ ہو گزرے ہےں اور ابھی بھی کچھ لوگ باقی ہےں جو شمع نبوت کے پر وانے ہےں اور ناموس رسالت پر مرمٹ سکتے ہےں بلاشبہ ہمارے لئے ےہ بات باعث افتخار ہے کہ حضور نبی کرےم کی شان پر جان قربان کر نے والوں کی اکثرےت کا خمےر اس خطے سے اٹھا ہے جہاں ہم جےسے گناہ گار بھی بے مقصد زندگےاں بسر کر رہے ہےں۔ ےقےناً کچھ تو ہے اس خطے مےں جو خود ہمارے پےارے نبی حضرت محمد نے ےہ بھی ارشاد فرماےا تھا کہ ” ہند مےں اےک غزوہ ہوگا مگر مےں اس مےں شامل نہےں ہوںگا “ موجودہ پاکستان اسی ہندوستان کا اےک حصہ ہے جس کی طرف حضوراکرم نے اشارہ کےا علامہ اقبال نے بھی شاےد اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کا قومی ترانہ لکھاتھا، سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور آپ دےکھ لےجئے اللہ اور اس کے رسول کے لئے کتنے بڑے بڑے کام ےہاں ہوئے۔ رسول اکرم نے ےہ باتےں14سو سال پہلے کی تھےں۔ کہنے کا مقصد ےہ ہے کہ حضور اکرم کی ہندوستان سے اور ہندوستان کی حضورنبی کرےم کے ساتھ خاص نسبت ہے گزشتہ اور جاری صدی مےں اس کے بڑے بڑے مظاہر دےکھے جاسکتے ہےں۔ اپنے محدود علم سے چند مثالےں پےش کر سکتا ہوں۔دنےا کی سب سے بڑی اسلامی رےاست14اگست1947ءکو اسی ہندوستان کے بطن سے وجود مےں آئی۔حضور نبی اکرم نے مدےنہ منورہ مےں دنےا کی پہلی اسلامی مملکت کی بنےاد رکھی اس کے 14سوسال بعد دنےا مےں جو دوسری مملکت اسلام کے نام پر وجود مےں آئی وہ پاکستان تھی۔ کےا ےہ اتفاق تھا؟ ےا حضوراکرم کی پےش گوئی سچ ثابت ہونے جارہی تھی؟ پھرکذاب اعظم، مرزا غلام احمد ملعون کی سرکردگی مےں قادےانی فتنے نے بھی ےہےں سر اٹھاےا جسے نبی آخر الزماں کے امتےوں نے جانوں پر کھےل کر اور جوانےاں جےلوں مےں کاٹ کر ناکام بناےا۔ مولانا عبدالستار نےازی اور عطاءاللہ شاہ بخاری اسی دھرتی کے سپوت تھے جسے پاکستان کہتے ہےں۔نبوت کے جھوٹے دعوےداروں کی پول اسی مٹی سے جنم لےنے والوں نے کھولی اور دودہائےوں کی جدوجہد کے بعد انہےں غےر مسلم قرار دلوا کر ہی دم لےا ۔ اس ملک کے پہلے متفقہ ،جمہوری آئےن مےں قادےانےوں کا اقلےت ٹھہراےا جانا بھی کےا اتفاق تھا؟ جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے اور ےقےناً ان کی ےہی اےک خدمت اےسی تھی جس کی وجہ سے بھٹو آج بھی زندہ ہے اور مرگئے اس کو مارنے والے۔ اےک ہوا مےں پرزے پرزے ہو کر اڑ گےا اور دوسرے کے چہرے پر ہوائےاں اڑ رہی ہےں۔ اور کےا ےہ بھی محض اتفاق تھا کہ ےہی مملکت خداداد سب سے بڑی دنےاوی طاقت اےٹم بم سے لےس ہوئی اور ےہ کرےڈٹ بھی بھٹو ہی کو جاتا ہے ۔ اسی بھٹو کو جس نے قادےانی فتنے کے تابوت مےں آخری کےل ٹھونکا تھا۔ پھر دنےا نے ےہ منظر بھی ےہےں دےکھا کہ وقت کی سپر پاور کو پاکستان نے افغانستان ہی مےں پچھاڑ کر رکھ دےا اور اس کے بعد چند سال کے اندر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ پاکستان کے ہاتھوں کھائی بالواسطہ شکست ہی کا نتےجہ تھا کہ سوےت ےونےن کے اندر سے اےک نہےں دو نہےں چھ ،چھ اسلامی رےاستےں ابھر آئےں اسی طرح اےک دنےاوی سپر پاور خاک چاٹنے پر مجبور ہوئی اور دوسری کو ےہ شوق اسی سرزمےن پر کھےنچ کر لاچکا ہے کےا ےہ بھی محض اتفاق ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دنےا کی پہلی اسلامی رےاست کو بھی وقت کی دو بڑی طاقتوں قےصر روم اور کسریٰ،اےران سے ٹکرانا پڑا، اس رےاست نے دونوں کو ناکوں چنے چبوائے، اور اسلام کے نام پر بننے والی دنےا کی دوسری رےاست کو بھی وقت کی دو بڑی طاقتوں سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ سوےت ےونےن زوال پذےر ہو چکی ہے اور اب امرےکہ رہ گےا ہے جس کی شکست کے چرچے آسمانوں مےں ہےں۔ وقت کی اکلوتی ،سب سے بڑی غےر مسلم دنےاوی طاقت اسی سرزمےن پر مٹی چاٹنے جارہی ہے ۔ اہل علم کے لئے دعوت فکر ےہ ہے کہ کےا حق اور باطل کی فےصلہ کن جنگ ہماری دھرتی پر شروع ہو چکی ہے؟ کےا غزوہ ہند کے لئے مےدان لگ چکا ہے ؟

امید ہے امن مذاکرات میں پیش رفت ہوگی ۔من موہن سنگھ



پاکستان میں جمہوریت کی بحالی ‘ مل جل کر کام کرنے کا انوکھا موقع ملا ہے
۔’’ غلط اندیشیوں اور تنگ و کوتاہ ایجنڈا‘‘ کے بغیر آگے بڑھنا چاہیئے۔ جموںو کشمیر میں تقاریب سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا خطاب

جموں ۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بھارت دونوں پڑوسی ممالک ماضی کو پیچھے چھوڑ د یں گے اور جھوٹے اندیشوں یا تنگ و کوتاہ ایجنڈوں کے بغیر فوری طورپر آگے بڑھیں گے۔ من موہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورہ کے پہلے دن کاترا میں دو تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت ظاہر کی کہ خط قبضہ کے دونوں جانب سفر کو فروغ دیا جائے اور تجارت کو آگے بڑھایا جائے جو لوگ خطہ قبضہ کے اس پار سے بھارت آنا چاہتے ہیں ان کے لیے فراخدلانہ سفری انتظامات کیے جائیں گے۔ یہ بتاتے ہوئے سرحدات ضروریات یا تقاضوں میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی ہیں ‘ من موہن سنگھ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مشترکہ معاشی وسماجی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیئے ۔ یو این آئی کے بموجب وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سماج کا ہر طبقہ پہل کرے اور اس ریاست کی تعمیر سے متعلق بہادری وشجاعت کے کام میں حصہ لے ۔ من موہن سنگھ نے ضلع ریسی میں کاترا کے قریب موضع کاکرال میں شری ماتا وشنو دیوی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کررہے تھے ‘ کہا’’ یہ میرا خواب ہے کہ نیا جموںو کشمیر بنایا جائے جہاں پر امن وامان رہے ۔ لوگ خوشحالی کی زندگی بسر کریں اور عوام کا اقتدار رہے ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ تعلیم ‘ مہارت میں اضافہ اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کے ذریعے نئے جموںو کشمیر کی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست کے عوام کو تعلیم ‘ بہتر نگہداشت ‘ صحت اور روزگار کے ذریعہ خود مختاری فراہم کی جانی چاہیئے اور اس طرح ایسے عمل کو موثر بنایا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ جب ہم ہمارے عوام کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے وہ سماجی و معاشی واجبات بن سکتے ہیں ۔ لیکن جب ہم سرمایہ کاری کریں گے وہ ایک اثاثہ بن جائیں گے۔ وہ ان کے خاندان کا اثاثہ بنیں گے۔ سماج کا اثاثہ بنیں گے۔ ہمارے ملک کا اثاثہ بنیں گے اور ساری انسانیت کا اثاثہ بنیں گے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ جموںو کشمیر کے نوجوانوں کو تعلیمی وسماجی ومعاشی اعتبار سے خود اختیاری عطا کی جائے تاکہ وہ ریاست اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ دریں اثناء جموں سے موصولہ اطلاع میں بتایا گیا کہ وزیراعظم من موہن سنگھ نے وادی چناب پر 160 میٹر طویل پل کا افتتاح کرنے کے بعد اکھنور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری نقل مقام کرنے والوں اور پناہ گزینوں کے لیے جامع باز آباد کاری پیکج کا اعلان کیا جن میںپ اکستان اور آزاد کشمیر کے رہنے والے بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت اور پاکستان موجودہ باہمی اعتماد کی فضا کو مستقل دوستی میں تبدیل کردیں گے