International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, June 18, 2008

’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر “ تحریر : چو دھری احسن پر یمی



ایسو سی ایٹڈ پر یس سروس اے پی ایس، اسلام آباد
افغان صدر حامد کرزئی کی ملک کے اہم مسائل حل کرنے میں ناکامی نے عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت جیسے مسائل نے افغانستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے عہدیدار کریم پاک زاد نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کمزور ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور طالبان جنگجوو¿ں کی طرف سے افغان اور عالمی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی اورملکی عوام پر عدم توجہ عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کررہی ہے تاہم حامد کرزئی کا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی برادری ان کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ افغانستان کے سب سے بڑے اتحادی امریکانے بھی حامد کرزئی سے مایوسی ظاہر کی ہے۔ متعدد ماہرین اور سفارتکاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکاکی حامد کرزئی کے لیے حمایت امریکی صدر بش کے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے تک جاری رہے گی۔ امریکی عہددار افغان صدر کرزئی کو ایک مضبوط رہنما کہتے ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی پر برہمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کریم پارک زاد نے کہا ہے کہ بش انتظامیہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے حامد کرزئی کی صلاحیتوں کی حد جان چکے ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں متعدد ممالک نے افغانستان میں بدعنوانی، منشیات کی تجارت، ملکی کمپنیوں کی نجکاری میں تاخیر سمیت متعدد مسائل پر تشویش ظاہر کی جبکہ بعض ممالک نے حقیقت کے بر عکس افغانستان میں تعلیم ، صحت ، جمہوریت اور حقوق نسواں جیسے شعبوں میں تر قی کا کریڈٹ حامد کرزئی کو دیا ہے۔ جبکہ پا کستان کے عوام نے 29ججوں والے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جو کوئی اس بجٹ کو منظور کرنے کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چھرا گھونپے گا۔صدر حامد کرزئی نیٹوفورسز کی زبان بول رہے ہیں وکلاءآئندہ تحریک کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی گئی تحریک کی بھرپورحمایت کی جائے گی انتیس ججوں والا بجٹ ایک سازش ہے اسے منظور نہیں ہونا چاہیے جو لوگ بھی اس بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ دیں گے وہ دراصل عدلیہ کی بحالی کیلئے شروع کی گئی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گے ۔ فنانس بل کی آڑ میں حکومت اس کو آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جائے گا ملک کی سرحدوںکی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیا اور کہا گیا کہ صدر حامد کرزئی اس وقت اتحادی افواج کی زبان بول رہے ہیں صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں نے ملک کو گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے اگر کوئی اس سے باہر نکلنا چاہیے تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اظہار مقبول ایڈوکیٹ نے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے آئین میں طریقہ کار وضع ہے اگر ججوں کی تعداد بڑھانا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل۔70 کے تحت بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے اقدام کو روکا جائے۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر 18اور 23جون کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کا فل بنچ مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل ہے۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے باوجود پی پی دس سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، انہیں روکا جائے۔ ان کی طرف سے دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی پی دس سے ان کی بلامقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دونوں درخواستوں پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ فاضل عدالت نے بھکر کے حلقہ پی پی انچاس سے جیتنے والے رکن اسمبلی سعید اکبر نوانی کے خلاف الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کرتے ہوئے تین نومبر کو جواب طلب کر لیا۔ ایک اور الیکشن پٹیشن پر ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پی پی ایک سو سات سے امیدوار انتصار حسین بھٹی کو نااہل قرار دے دیا۔حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے 13معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا ، انہوں نے پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزول ججوں کے ترجمان وکیل اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کی تنخواہ کا چیک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے جو کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اس بیان کی نفی کرتا ہے کہ تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے جج اب جج نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معزول ججوں میں شامل جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا کیونکہ انہوں نے پاکستان پریس کونسل کیچیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ سیکرٹری قانون آغا رفیق نے منگل کو ججز کالونی جا کر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصرالملک کو تنخواہ کے چیک دیے جبکہ سپریم کورٹ کے وہ معزول جج صاحبان جو ججز کالونی میں رہائش پذیر نہیں یا بیرون ملک ہیں، ا?ن کے چیک افتخار محمد چوہدری کے حوالے کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان برطانیہ کے دورے پر ہیں جبکہ باقی چھ جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے 60 ججوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس سردار رضا خان جنہوں نے تنخواہ کا چیک وصول کیا ہے، کہا ہے کہ انہیں یہ چیک ا?س اکاو¿نٹ سے نہیں دیے گئے جہاں سے ا?ن کی تنخواہیں آتی تھیں۔ برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے انہیں وہ دستاویز بھی دکھائی ہیں جس کے تحت انہیں تنخواہوں کے چیک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان بحال ہوں گے تو یہ رقم ا?ن کی تنخواہوں کی مد میں ایڈجسٹ کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیک وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے بھی نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے اس چیک میں معزول ججوں کے زیر استعمال گاڑیوں کا پیٹرول شامل نہیں ہے۔ سردار رضا نے کہا کہ تین نومبر سے پہلے ان جج صاحبان کو چار سو لیٹر ماہانہ پیٹرول ملتا تھا جو اب بڑھا کر چھ سو لیٹر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جو معزول جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہ رہے ہیں ا?ن کے گھر ابھی بھی ججز کالونی میں ہیں۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 ء میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ساٹھ ججوں کو معزول کرنے کے بعد انہیں گھروں میں نظر بند کرد یا تھا۔ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار پھر ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مغربی ممالک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے ایران یا شمالی کوریا کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد فراہم کی ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ان پر یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں گزشتہ روز ہتھیاروں کے سابقہ معائنہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت سے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر سے سوال جواب کر نے کی اجازت دینا چاہئیے۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے میں صدر پرویز، امریکی صدر بش اور ایرانی صدر احمدی نڑاد کو دنیا کا ناقابل اعتبار ترین لیڈر قرار د ے دیا گیا۔ 20 ممالک میں کرائے گئے بین الاقوامی ادارے کی ”سروے رپورٹ “کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کو اس کے اپنے ملک سے باہر زیادہ قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔ اس معاملے میں صدر پرویز مشرف کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی انتہائی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق صدر پرویز دنیا کے سب سے زیادہ ناقابل اعتبار لیڈر ہیں۔ سروے میں پرویز مشرف پر صرف اٹھارہ فیصد لوگوں نے اظہار اعتماد کیا۔ صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں امریکی صدر بش کو لوگوں نے پانچ فیصد زیادہ قابل اعتماد قرار دیا ان پر تئیس فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا سروے میں ایرانی صدر محمود احمدی نڑاد کو بائیس فیصد لوگوں نے قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ سروے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیک مون کو سب سے زیادہ قابل اعتماد لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ انہیں پینتیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ چین کے صدر ہوجن تاو¿ اور روس کے وزیراعظم ولادی میرپیوٹن کو لوگ وعدے کا پکا سمجھتے ہیں۔ جبکہ سابق کور کمانڈر راولپنڈی ایکس سروسز مین سوسائٹی کے رہنما جنرل(ر) جمشید گلزارکیانی نے کہا ہے کہ کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی اسی طرح صدارتی ریفرنڈم پر بھی صدر کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر آپ نے بھی ریفرنڈم کروایا تو آپ میں اور جنرل ضیاء الحق میں کیا فرق رہ جائے گا گزشتہ روز پلڈاٹ کے زیر اہتمام سول ملٹری تعلقات کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ کور کمانڈر اپنی سروس کے دوران چیف آف آرمی سٹاف کو مشورہ ضرور دیتے ہیں یہ تاثر درست نہیں کہ فوج کے افسران دوران سروس فوج کے سر براہ کے سامنے ایشوز کے حوالے سے بات نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے صدارت کا عہدہ حاصل کیا میں اس وقت کور کمانڈر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کا سر براہ تھا ایک ماہ کے بعد میں نے ٹین کور کی کمانڈ سنبھالی تھی انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز ڈمی نہیں ہوتے کہ وہ ایشوز پر چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے بات نہ کریں انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا ایجنڈا پرویز مشرف کو ہٹانا ہے ہم نے آزاد عدلیہ کی غیر مشروط حمایت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ دوران سروس ہم کیوں نہیں بولتے لیکن کیا آج چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تین نومبر کے غیر آئینی صدارتی اقدامات پر صدر پرویز مشرف سے پوچھا کہ انہوں نے یہ اقدام کیوں کیا کیا انہوں نے آئین کی خلاف ورزی پرصدر پرویز مشرف سے بات کی ہے کانفرنس میں سابق گورنر پنجاب شاہد حامد اور جنرل(ر) معین الدین حیدر نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات کے جوابات دئیے ۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ افتخار چوہدری کو فوری واپس لایا جائے انیس ججوں کو نہیں مانتے لانگ مارچ کامیاب رہا وکلاءکو مبارک باد پیش کرتا ہوں کروڑوں روپے سے تعمیر کئے جانے والے جی ایچ کیو کے بجائے اس پیسے سے ملک بھر میں لنگر خانے کھولے جائیں تاکہ لوگ روٹی دال سے اپنا پیٹ بھر سکیں جمہوریت کو خراب کرنے کیلئے ڈبل پالیسی چلی جارہی ہے زرداری اور مشرف ایک ہیں ان کو جوڑنے والا سلیمان تاثیر ہے آمریت اور موجودہ جمہوری حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری کرپشن سے بچنے کیلئے مشرف کا دفاع کر رہے ہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت ہمیں روڈ میپ دے تاکہ ہم روڈ مارچ کے بجائے اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع نیشنل کانفرنس کر سکیں جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے وکلاءکی دعوت پر گئے تھے یہ ہمارا پروگرام نہیں تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ عمران اور قاضی حسین احمد دھرنے سے پہلے ہی چلے گئے میں واضح کر دینا چاہتے ہوں کہ ہم صرف شرکت کیلئے گئے تھے ہم اس کے لیڈر نہیں تھے۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارا وکلائ اور اے پی ڈی ایم اور تمام پاکستانیوں کا ایک ہی نظریہ ہے یہ پاکستانی جو حقیقی جمہوریت، آزادی اور انصاف چاہتا ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے انہوں نے کہاکہ جب سب اسلام آباد میں آئندہ اکھٹے ہوں گے تو ہم چاہتے ہیں کہ اسے حقیقی آزادی کا دن قرار دیا جائے انہوں نے کہاکہ حقیقی آزادی تب آئے گی جب عدلیہ آزاد ہو گی عدلیہ کی آزادی سے ہی قوم کی آزادی ہے عدلیہ آزاد ہے تو الیکشن کمیشن، میڈیا اور دیگر ادارے آزاد ہیں انہوں نے کہاکہ اس حکومت کی دوغلی پالیسی عوام پر ظاہر ہو گئی ہے اس نے آتے ہی نجی ٹی وی کے پروگرام بند کر دئیے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت کا جھوٹ اور دوغلی پالیسی دیکھیے کہتی ہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ جیو کے دوبئی میں دو پروگرام بند کر دئیے گئے ہیں عمران خان نے سوال کیاکہ کون پاکستان چلا رہاہے انہوں نے کہاکہ ہم اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک لیڈر شپ دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی قوم کو ایک واضح روڈ میپ نظر آئے ہمارے کیا کیا مقاصد ہیں کس دن ہم نے حقیقی آزادی کے دن کا اعلان کرنا ہے یہ سب کچھ پہلے سے طے ہو گا عمران خان نے کہاکہ یہ سب کچھ ہمارے اجلاس میں طے ہوا ہے ہم نے اپنی اسٹیئرنگ کمیٹی میں ملک کی سرحدوں پر ہونے والے خطر ناک کھیل کو بھی زیر بحث لایا ہے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ملک کی آبادی کے بیج بوئے جارہے ہیں حکومت نے کہاتھا کہ ہم قبائلی عوام سے بات چیت سے مسئلہ حل کریں گے ہم اپنی فوج کو اپنے لوگوں سے نہیں لڑائیں گے۔ اس پر ہم نے حکومت کو مبارک باد دی تھی عمران خان نے کہا کہ مشرف نے پیسے لے کر کسی اور کی جنگ اپنے سر لے لی او راپنی فوج سے اپنے شہری اور اپنے شہریوں سے اپنی فوج مروائی جو ملک کے خلاف سب سے بڑی غداری ہے اب امریکہ پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کو مار رہا ہے یہ صرف 70ملین ڈالر مہینے کی تنخواہ کے عوض ہو رہاہے امریکہ کے چونکہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس لئے اس نے اسامہ کا ڈرامہ کرنا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ انہوں نے پھر پاکستانی قبائلی علاقوں پر بمباری کرنی ہے او رپھر پاکستانی قوم اور حکومت پر حملہ کرنا ہے پچھلے سال کم سے کم پاکستان میں 65خود کش حملے ہوئے جس سے پورا ملک ہل کر رہ گیا جس طرح زرداری امریکی ایمبیسی کے چکر لگا رہا ہے اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسرا مشرف پیدا ہو گیاہے عمران خان نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت واضح بیان دے کہ اگر مزید ایک بھی شہری امریکی بم سے مرا تو ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی ہے۔عمران خان نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑے دہشت گرد الطاف حسین کو برطانیہ نے لندن میں پناہ دے رکھی ہے تو میرا سوال ہے کہ کیا ہم لندن جاکر بم برسائیں کہ ہمارا دہشت گرد وہاں چھپا ہوا ہے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی جائیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی امریکیوں کی ہیں ہمارے لوگوں اور فوجیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مارا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوبارہ خود کش حملے شروع ہو جائیں گے ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات ہوں تمام قیدی رہا کرائے جائیں قبائلی علاقوں سے فوجی آپریشن ختم ہو فوج اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کرے اس وقت ہم نہ طالبان نہ القاعدہ کیلئے لڑ رہے ہیں ہماری فوج اپنے ہی قبائلی شہریوں سے لڑ رہی ہے جن کو مقامی طالبان کہاجارہاہے یہ ہماری کوئی جنگ نہیں یہ جو پھرسے ہونے جارہی ہے یہ پاکستان کیلئے انتہائی خطر ناک ہے بجٹ کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ ہمارے اجلاس میں بجٹ پر بھی بات چیت ہوئی ہے مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ اس بجٹ سے شوکت عزیز کی بو آرہی ہے ایسا لگ رہا ہیکہ شوکت عزیز کا بنایاہوا بجٹ ہے جس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہے عوام کی اکثریت مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئی ہے کبھی ملک میں اتنے بر±ے حالات پیدا نہیں ہوئے جتنے آج ہیں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں دو ہفتہ سے قبل ختم ہوجاتی ہیں لوگوں کا گزارہ مشکل ہو رہا ہے پستول پکڑ کر لوگوں نے ڈاکے مارنا شروع کردیے ہیں حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھی جرم کی طرف لگ گئے ہیں یہ بجٹ انقلابی ہونا چاہیے تھا اسٹیٹس کو کا بجٹ نہیں ہونا چاہیے تھا عمران خان نے کہا کہ 900ارب کا جی ایچ کیو بن رہا ہے اسمبلی میں اس بارے میں کوئی آواز ہی نہیں اٹھائی یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کیا پاکستان کو 900ارب روپے کا نیا جی ایچ کیو چاہیے یا عوام کی زندگی چاہیے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو نو سو ارب روپے کے ملک بھر میں لنگر خانے کھولنے چاہیے تاکہ لوگ دل روٹی کھاسکیں جس طرح یورپ میں ہوتا ہے عمران خان نے کہاکہ بینظیر کے کارڈ جاری کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا اگر ملک بھر میں دال روٹی کے لنگر کھولے جاتے جس طرح میں نے شوکت خانم ہسپتال میں لنگر کھولا ہوا ہے یہ غریب تو وہاں روٹی کھا سکتے ہیں عمران خان نے کہاکہ عوام یہ جیڈی پی کا دو فیصد بھی خر چ نہیں ہو رہا جبکہ بھارت میں چار فیصد خرچ ہو رہا ہے جب عوام پر پیسہ خر چنہیں ہورہا تو جمہوری حکومت کس بات کی ہے انہوں نے کہاکہ آمریت اور موجودہ جمہوریت میں کوئی فرق نہیں یہ عوامی بجٹ نہیں ہے پاکستان نے پچھلے سال 5.1ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے ہیں جبکہ بھارت جو بہت بڑا ملک ہے اس نے 3.2ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے جبکہ پاکستان میں تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا ہے پڑھے لکھے نعرے کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ملا ۔ جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینٹ میں بجٹ کے لئے دفاعی بجٹ کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں ۔ منگل کے روز سینٹ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر رضا ربانی نے دفاعی بجٹ مالی سال 2008-09 ء کی تفصیلات کی کاپی ایوان میں پیش کی ۔ جس کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ کا حجم 2 کھرب 95 ارب 30 کروڑ 69 لاکھ 8 ہزار روپے ہے ۔ جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 19 ارب روپے زیادہ ہے ۔ جس میں ڈیفنس سروسز ایمپلائز سے متعلقہ اخراجات کا حجم 99 ارب 9 کروڑ 15 لاکھ 62 ہزار روپے آپریٹنگ سے متعلقہ اخراجات کا حجم 82 ارب 84 کروڑ 8 لاکھ 84 ہزار روپے ‘ ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کی مد کے لئے 12 ارب 8 کروڑ 59 لاکھ 53 ہزار روپے ۔ جنرل اخراجات کے لئے 70 ارب 75 کروڑ 49 لاکھ 31 ہزار روپے فزیکل ایسٹس کی مالیت 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار روپے ، دوسرے سٹور ز اور سٹاکس کے لیے 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار ،سول ورکس کے لیے 25 ارب 73 کروڑ 62 لاکھ 46 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس طرح پاکستان فضائیہ کے لیے 71 ارب 66 لاکھ 62 ہزار روپے مختص کیے گئے ہین جن میں ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 10 ارب70 کروڑ 63 لاکھ 58 ہزار روپے ، اپریٹنگ اخراجات کی مد کے لیے 16 ارب46 کروڑ 32 لاکھ77 ہزار ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے 2 ارب 18 کروڑ 36 لاکھ 78 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 14 ارب 27 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار روپے ، فزیکل ایسسٹس کے لیے 39 ارب 59 کروڑ 74 لاکھ روپے ، سول ورکس کے لیے کے لیے 4 ارب 23 کروڑ 96 لاکھ 27 ہزار روپے،اس طرح بحری افواج کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اخراجات کے لیے 6 ارب 75 کروڑ 5 لاکھ 17 ہزار روپے، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 3 ارب 91 کروڑ 3 لاکھ 87 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک ارب 43 کروڑ 24 لاکھ روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 79 لاکھ روپے ، فیزیکل ایسڈز کے لیے 15 ارب 71 کروڑ 28 لاکھ78 ہزار روپے( اس طرح پاک فوج کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 28 ارب 69 کروڑ 97 لاکھ 57 ہزار روپے رکھے گئے ہیں جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلقہ امور کے لیے 71 ارب 27 کروڑ 47 لاکھ 22 ہزار روپے ، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 22 ارب 33 کروڑ 74 لاکھ 51 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن اخراجات کے لیے 4 ارب 68 کروڑ29 لاکھ 40 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 17 ارب 65 کروڑ 45 لاکھ 11 ہزار روپے ، فیزیکل ایسٹس کے لیے 21 ارب 52 کروڑ 73لاکھ 23 ہزار روپے اور سول ورکس کے لیے 13 ارب 56 کروڑ 2 لاکھ 61 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ پہلے دفاعی بجٹ پیش نہیں ہوا تھا لیکن اتحادی حکومت کے تمام پارٹیوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں زیر بحث لائیں گے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ پورا بجٹ ہے لیکن آئندہ سال تفصیلی بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے مسلح افواج کے بجٹ 2008-09 ئ کے لئے مرحلہ وار تحقیقات ایوان میں پیش کرنے کی اجازت مانگی تو چیئرمین سینٹ نے اجازت دی جس کے بعد دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئی۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے آئین کے مطابق اپنا کرداراداکریں۔آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی خود مختاری وبالادستی ، اداروں کا استحکام،اور میڈیاکی آزادی کے عزم پر قائم ہیں بلوچستان اور فاٹاکے مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کریں گے ۔انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہو گی۔ فاٹا کے حوالے سے نئی جمہوری حکومت کی پالیسی کی امریکی صدر بش نے حمایت کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پلڈاٹ کے زیر اہتما م ’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر “ کے موضوع پر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل ، فاٹا کی صورتحال اور ملٹری سول تعلقات پر مختلف سیشنز منعقد ہوئے سابق گورنر پنجاب شاہد حامد ، پلڈاٹ کے چیف ایگزیکٹو بلال احمد محبوب نے وزیراعظم کو کانفرنس کی سفارشات پیش کیں ۔ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے سیاسی ،مالی مسائل کاجائزہ لیاگیابلوچستان میں مذاکرات اور اعتمادکی فضاء کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو نذر انداز کیاگیا حقوق نہیں دئیے گئے بلوچستان کے عوام قانون شکنی پر یقین نہیں رکھتے پاکستان کے ساتھ محب وطن اور مخلص ہیں اعتماد کی فضا برقرار کرنے کی ضرورت ہے ۔ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے بلوچستان شدید مالی مشکلات سے دو چار ہے وفاق اور تین صوبے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان ابھی تک بجٹ پیش نہیں کر سکاہے بلوچستان کو آئینی حقوق دیں گے انہوںنے کہاکہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام حکمرانوں کے رویے سے شاکی نظر آتے ہیں ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ ترقی سے محروم ہیں انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیاہے سیاسی عمل معاشی استحکام ، صوبائی خود مختاری دیں گے اور بلوچستان میں خوشحالی لائیں گے بدقسمی سے بلوچستان کی ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا ساڑھے تین ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ رولز میں نرمی کر کے بلوچستان کے عوام کو نوکریاں دیں فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج کے سربراہ نے بھی اس بارے میں بریفنگ دی انہوں نے کہاکہ فاٹا کی اکثریت امن پسند اور پاکستان کی وفادار ہے ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے تیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بائیومیٹر سسٹم لگایا گیا مگر دوسری طرف سے تعاون نہیں کیاجارہاہے ۔ بمباری کے ایشو پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج کیاگیا کیا پہلے ایسے ہوا تھا وزیر خارجہ نے کونڈا لیزا رائس سے بھی احتجاج کیا ہم امریکہ کے ساتھ دفاعی ، معاشی ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں اپنی خود مختاری سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے فاٹا کے مسائل کے حل کے حوالے سے سیاسی عمل ، معاشی ، سماجی ترقی اور مذاکرات کو حکمت عملی میں ترجیح حاصل ہے فاٹا میں جمہوریت کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں امریکی صدر نے ہماری پالیسی کی حمایت کرتے ہیں آئین پر یقین رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں فوج اور عدلیہ سمیت تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں اداروں کے درمیان تصادم سے کچھ نہیں بچے گا سب کو آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔ہم نے لانگ مارچ بھی کئے ہیں اور جیلیں بھی دیکھیں ہیں بے نظیر بھٹو کے سیاسی دباو¿ کی وجہ سے صدر پرویز مشرف نے وردی اتاری ججز کی تعداد میں اضافہ اتفاق رائے سے کیا گیاہے۔میثاق جمہوریت کا اس کی روح کے مطابق نفاذ چاہتے ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں ججز بحال ہوں گے آزاد عدلیہ چاہتے ہیں آئین کے مطابق پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کرے گی انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ حکومت نے وکلاء کے لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا اسٹیج ، بجلی ، پانی ،ڈنر اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں اورکسی جگہ پولیس نے وکلائ کو نہیں روکا نہ فوج بلائی گئی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ۔ ہم چہرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صحافیوں نے کہاکہ جس دن محسوس کریں گے کہ بے نظیر بھٹو کے مشن سے غداری کر رہے ہیں سب کچھ چھوڑ دیںگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کے حوالے سے تنہا پرواز نہیں کریں گے ساٹھ ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلے کرے گی وہ قبول کیاجائے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں۔ ہم صدر پرویز مشرف کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انہیں آئینی صدر تسلیم نہیں کیا۔ آئندہ صدر کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشورہ کے بعد کریں گے۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے شہادت نوش نہیں کی بلکہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ معزول ججوں کو ضرور بحال کیا جائے گا لیکن ان کی بحالی کیلئے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلافات معمول کی بات ہے اس سے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ اتحاد قائم رہے گا۔ ہم صوبوں کے درمیان ہم اہنگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل آگے بڑھے۔ اسی لئے ہم نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں حالانکہ اگر ہم چاہتے توجوڑ توڑ کرکے وہاں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم کی جاسکتی تھیں۔ ہم پاکستان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں اسی لئے ہم نے بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی اور وہاں فوجی آپریشن بند کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے اس سے ہمیں نہیں تو آئندہ نسلوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوریت کو تقویت دی۔ پیپلز پارٹی کی کوششوں کے باعث ہی جنرل پرویز مشرف نے وردی اتاری جس کیلئے ہم نے ہر چیز کو قبول کیا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ یہ پراپیگنڈا غلط ہے کہ این آر او صرف میرے لئے آیا اس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے حکومت نے میرے خلاف کیس واپس لے کر تسلیم کیا کہ یہ کیس سیاسی انتقام کے نتیجہ میں بنائے گئے تھے۔ میں جمہوری انتقام پر یقین رکھتا ہوں مجھے اس گورنر ہاوس سے گرفتار کیا گیا جہاں میں نے کارکنوں سے خطاب کرکے اپنا جمہوری انتقام لے لیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ میں ہی زمین اور 90ہزار فوجی واپس لئے۔انہوں نے کہا کہ وکلائ اور کچھ سیاسی جماعتوں نے لانگ مارچ کیا جن سے میاں نوازشریف نے بھی خطاب کیا۔ ہم نے خود انہیں روٹی اور پانی فراہم کیا لیکن جب پیپلز پارٹی لانگ مارچ کرے گی تو اسے دنیا دیکھے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی میں میاں نوازشریف سے اتحاد قائم رکھنا چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم نے کسی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے میاں صاحب سے دوستی کی ۔ اگر ہم متحد نہ رہے تو اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ قوم ابھی تک محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدمہ سے باہر نہیں نکل سکی۔ یہ الزام غلط ہے کہ سیاستدان قوم کو مایوس کررہے ہیں۔ انھوں نے صحا فیوں سے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے ہماری رہنمائی کریں اور ریسرچ کے بعد عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔


کرزئی کی ملکی مسائل کے حل میں ناکامی ، عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ



پیرس ۔ افغان صدر حامد کرزئی کی ملک کے اہم مسائل حل کرنے میں ناکامی نے عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت جیسے مسائل نے افغانستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے عہدیدار کریم پاک زاد نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کمزور ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور طالبان جنگجوؤں کی طرف سے افغان اور عالمی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی اورملکی عوام پر عدم توجہ عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کررہی ہے تاہم حامد کرزئی کا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی برادری ان کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ افغانستان کے سب سے بڑے اتحادی امریکانے بھی حامد کرزئی سے مایوسی ظاہر کی ہے۔ متعدد ماہرین اور سفارتکاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکاکی حامد کرزئی کے لیے حمایت امریکی صدر بش کے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے تک جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عہددار افغان صدر کرزئی کو ایک مضبوط رہنما کہتے ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی پر برہمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کریم پارک زاد نے کہا ہے کہ بش انتظامیہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے حامد کرزئی کی صلاحیتوں کی حد جان چکے ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں متعدد ممالک نے افغانستان میں بدعنوانی، منشیات کی تجارت، ملکی کمپنیوں کی نجکاری میں تاخیر سمیت متعدد مسائل پر تشویش ظاہر کی جبکہ بعض ممالک نے حقیقت کے بر عکس افغانستان میں تعلیم ، صحت ، جمہوریت اور حقوق نسواں جیسے شعبوں میں تر قی کا کریڈٹ حامد کرزئی کو دیا ہے۔

قاضی حسین احمد کی صدارت میں جماعت اسلامی کااعلیٰ سطحی اجلاس ، مرکزی و صوبائی ذمہ داران کی شرکت



٢٩ ججوں والا بجٹ سازش ہے ، جو بھی اس کی منظوری کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گا
پاکستان کی سرحدوں کی صورتحال تشویش ناک ہے ،وکلاء رہنما آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں
اسلام آباد ۔ جماعت اسلامی پاکستان نے 29ججوں والے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جو کوئی اس بجٹ کو منظور کرنے کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چھرا گھونپے گا۔صدر حامد کرزئی نیٹوفورسز کی زبان بول رہے ہیں وکلاء آئندہ تحریک کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے ۔جماعت اسلامی پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس قاضی حسین احمد کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔جس میں مرکزی اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری سید منور حسن ، نائب امیر جماعت لیا قت بلوچ ، امور خارجہ کے ذمہ دار عبدالغفار عزیز ،فرید احمد پراچہ ، پروفیسر ابراہیم ، پروفیسر خورشید احمد ،مولانا اسد اللہ بھٹو، امیر العظیم ، سراج الحق ، میاں محمد اسلم، سید بلال و دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی گئی تحریک کی بھرپورحمایت کی جائے گی۔اجلاس میں کہاگیا کہ انتیس ججوں والا بجٹ ایک سازش ہے اسے منظور نہیں ہونا چاہیے جو لوگ بھی اس بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ دیں گے وہ دراصل عدلیہ کی بحالی کیلئے شروع کی گئی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گے ۔ اجلاس میں کہا کہ فنانس بل کی آڑ میں حکومت اس کو آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جائے گا اجلاس میں ملک کی سرحدات کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیا اور کہا گیا کہ صدر حامد کرزئی اس وقت اتحادی افواج کی زبان بول رہے ہیں صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں نے ملک کو گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے اگر کوئی اس سے باہر نکلنا چاہیے تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اجلاس میں کہا گیاہے کہ آئندہ حکمت عملی اے پی ڈی ایم کی سطح پر بنائی جائے گی۔وکلاء رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ تحریک کے اگلے مرحلے میں اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ آئندہ کسی پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اظہار مقبول ایڈوکیٹ نے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے آئین میں طریقہ کار وضع ہے اگر ججوں کی تعداد بڑھانا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل۔70 کے تحت بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے اقدام کو روکا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پٹیشن پر سماعت کل کریں گے۔

غزہ ۔ اسرائیل کا فضائی حملہ، ٦ فلسطینی شہید

غزہ ۔ غزہ میں اسرائیل کی بہیمانہ کارروائی میں چھ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جنوبی غزہ میں اسرائیل نے گاڑی پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیل کے ایک اور فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق غزہ پر تین فضائی حملے کئے گئے جس میں سے دو حملے گاڑی میں سوارجبکہ ایک حملہ پیدل جانے والے فلسطینیوں پر کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کر دیئے



لاہور ۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر 18اور 23جون کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کا فل بنچ مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل ہے۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے باوجود پی پی دس سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، انہیں روکا جائے۔ ان کی طرف سے دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی پی دس سے ان کی بلامقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دونوں درخواستوں پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ فاضل عدالت نے بھکر کے حلقہ پی پی انچاس سے جیتنے والے رکن اسمبلی سعید اکبر نوانی کے خلاف الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کرتے ہوئے تین نومبر کو جواب طلب کر لیا۔ ایک اور الیکشن پٹیشن پر ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پی پی ایک سو سات سے امیدوار انتصار حسین بھٹی کو نااہل قرار دے دیا

حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے ١٣ معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ اطہر من اللہ



اسلام آباد۔ حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے 13معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا ، انہوں نے پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزول ججوں کے ترجمان وکیل اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کی تنخواہ کا چیک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے جو کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اس بیان کی نفی کرتا ہے کہ تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے جج اب جج نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معزول ججوں میں شامل جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا کیونکہ انہوں نے پاکستان پریس کونسل کیچیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ سیکرٹری قانون آغا رفیق نے منگل کو ججز کالونی جا کر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصرالملک کو تنخواہ کے چیک دیے جبکہ سپریم کورٹ کے وہ معزول جج صاحبان جو ججز کالونی میں رہائش پذیر نہیں یا بیرون ملک ہیں، اْن کے چیک افتخار محمد چوہدری کے حوالے کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان برطانیہ کے دورے پر ہیں جبکہ باقی چھ جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے 60 ججوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس سردار رضا خان جنہوں نے تنخواہ کا چیک وصول کیا ہے، کہا ہے کہ انہیں یہ چیک اْس اکاؤنٹ سے نہیں دیے گئے جہاں سے اْن کی تنخواہیں آتی تھیں۔ برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے انہیں وہ دستاویز بھی دکھائی ہیں جس کے تحت انہیں تنخواہوں کے چیک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان بحال ہوں گے تو یہ رقم اْن کی تنخواہوں کی مد میں ایڈجسٹ کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیک وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے بھی نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے اس چیک میں معزول ججوں کے زیر استعمال گاڑیوں کا پیٹرول شامل نہیں ہے۔ سردار رضا نے کہا کہ تین نومبر سے پہلے ان جج صاحبان کو چار سو لیٹر ماہانہ پیٹرول ملتا تھا جو اب بڑھا کر چھ سو لیٹر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جو معزول جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہ رہے ہیں اْن کے گھر ابھی بھی ججز کالونی میں ہیں۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 ء میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ساٹھ ججوں کو معزول کرنے کے بعد انہیں گھروں میں نظر بند کرد یا تھا۔

ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ، الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان



اسلام آباد۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار پھر ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اسلام آباد سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مغربی ممالک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے ایران یا شمالی کوریا کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد فراہم کی ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ان پر یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں گزشتہ روز ہتھیاروں کے سابقہ معائنہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت سے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر سے سوال جواب کر نے کی اجازت دینا چاہئیے۔

صدر پرویز مشرف دُنیا کے ناقابل اعتبار صدور میں پہلے نمبر پر۔عالمی سروے



واشنگٹن ۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے میں صدر پرویز، امریکی صدر بش اور ایرانی صدر احمدی نڑاد کو دنیا کا ناقابل اعتبار ترین لیڈر قرار د ے دیا گیا۔ 20 ممالک میں کرائے گئے بین الاقوامی ادارے کی ’’سروے رپورٹ ‘‘کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کو اس کے اپنے ملک سے باہر زیادہ قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔ اس معاملے میں صدر پرویز مشرف کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی انتہائی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق صدر پرویز دنیا کے سب سے زیادہ ناقابل اعتبار لیڈر ہیں۔ سروے میں پرویز مشرف پر صرف اٹھارہ فیصد لوگوں نے اظہار اعتماد کیا۔ صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں امریکی صدر بش کو لوگوں نے پانچ فیصد زیادہ قابل اعتماد قرار دیا ان پر تئیس فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا سروے میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو بائیس فیصد لوگوں نے قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ سروے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیک مون کو سب سے زیادہ قابل اعتماد لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ انہیں پینتیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ چین کے صدر ہوجن تاؤ اور روس کے وزیراعظم ولادی میرپیوٹن کو لوگ وعدے کا پکا سمجھتے ہیں۔

Tuesday, June 17, 2008

کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے اور ریفرنڈم پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی۔جمشید گلزار کیانی



اسلام آباد ۔ سابق کور کمانڈر راولپنڈی ایکس سروسز مین سوسائٹی کے رہنما جنرل(ر) جمشید گلزارکیانی نے کہا ہے کہ کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی اسی طرح صدارتی ریفرنڈم پر بھی صدر کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر آپ نے بھی ریفرنڈم کروایا تو آپ میں اور جنرل ضیاء الحق میں کیا فرق رہ جائے گا آج پلڈاٹ کے زیر اہتمام سول ملٹری تعلقات کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ کور کمانڈر اپنی سروس کے دوران چیف آف آرمی سٹاف کو مشورہ ضرور دیتے ہیں یہ تاثر درست نہیں کہ فوج کے افسران دوران سروس فوج کے سر براہ کے سامنے ایشوز کے حوالے سے بات نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے صدارت کا عہدہ حاصل کیا میں اس وقت کور کمانڈر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کا سر براہ تھا ایک ماہ کے بعد میں نے ٹین کور کی کمانڈ سنبھالی تھی انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز ڈمی نہیں ہوتے کہ وہ ایشوز پر چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے بات نہ کریں انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا ایجنڈا پرویز مشرف کو ہٹانا ہے ہم نے آزاد عدلیہ کی غیر مشروط حمایت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ دوران سروس ہم کیوں نہیں بولتے لیکن کیا آج چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تین نومبر کے غیر آئینی صدارتی اقدامات پر صدر پرویز مشرف سے پوچھا کہ انہوں نے یہ اقدام کیوں کیا کیا انہوں نے آئین کی خلاف ورزی پرصدر پرویز مشرف سے بات کی ہے کانفرنس میں سابق گورنر پنجاب شاہد حامد اور جنرل(ر) معین الدین حیدر نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات کے جوابات دئیے

زرداری کی شکل میں دوسرا مشرف پیدا ہو گیا ہے ، دونوں میں قدر مشترک ہے۔ عمران خان



اسلام آباد۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ افتخار چوہدری کو فوری واپس لایا جائے انیس ججوں کو نہیں مانتے لانگ مارچ کامیاب رہا وکلاء کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کروڑوں روپے سے تعمیر کئے جانے والے جی ایچ کیو کے بجائے اس پیسے سے ملک بھر میں لنگر خانے کھولے جائیں تاکہ لوگ روٹی دال سے اپنا پیٹ بھر سکیں جمہوریت کو خراب کرنے کیلئے ڈبل پالیسی چلی جارہی ہے زرداری اور مشرف ایک ہیں ان کو جوڑنے والا سلیمان تاثیر ہے آمریت اور موجودہ جمہوری حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری کرپشن سے بچنے کیلئے مشرف کا دفاع کر رہے ہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت ہمیں روڈ میپ دے تاکہ ہم روڈ مارچ کے بجائے اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع نیشنل کانفرنس کر سکیں جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے وکلاء کی دعوت پر گئے تھے یہ ہمارا پروگرام نہیں تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ عمران اور قاضی حسین احمد دھرنے سے پہلے ہی چلے گئے میں واضح کر دینا چاہتے ہوں کہ ہم صرف شرکت کیلئے گئے تھے ہم اس کے لیڈر نہیں تھے۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارا وکلاء اور اے پی ڈی ایم اور تمام پاکستانیوں کا ایک ہی نظریہ ہے یہ پاکستانی جو حقیقی جمہوریت، آزادی اور انصاف چاہتا ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے انہوں نے کہاکہ جب سب اسلام آباد میں آئندہ اکھٹے ہوں گے تو ہم چاہتے ہیں کہ اسے حقیقی آزادی کا دن قرار دیا جائے انہوں نے کہاکہ حقیقی آزادی تب آئے گی جب عدلیہ آزاد ہو گی عدلیہ کی آزادی سے ہی قوم کی آزادی ہے عدلیہ آزاد ہے تو الیکشن کمیشن، میڈیا اور دیگر ادارے آزاد ہیں انہوں نے کہاکہ اس حکومت کی دوغلی پالیسی عوام پر ظاہر ہو گئی ہے اس نے آتے ہی جیو ٹی وی کے پروگرام بند کر دئیے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت کا جھوٹ اور دوغلی پالیسی دیکھیے کہتی ہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ جیو کے دوبئی میں دو پروگرام بند کر دئیے گئے ہیں عمران خان نے سوال کیاکہ کون پاکستان چلا رہاہے انہوں نے کہاکہ ہم اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک لیڈر شپ دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی قوم کو ایک واضح روڈ میپ نظر آئے ہمارے کیا کیا مقاصد ہیں کس دن ہم نے حقیقی آزادی کے دن کا اعلان کرنا ہے یہ سب کچھ پہلے سے طے ہو گا عمران خان نے کہاکہ یہ سب کچھ ہمارے اجلاس میں طے ہوا ہے ہم نے اپنی اسٹیئرنگ کمیٹی میں ملک کی سرحدوں پر ہونے والے خطر ناک کھیل کو بھی زیر بحث لایا ہے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ملک کی آبادی کے بیج بوئے جارہے ہیں حکومت نے کہاتھا کہ ہم قبائلی عوام سے بات چیت سے مسئلہ حل کریں گے ہم اپنی فوج کو اپنے لوگوں سے نہیں لڑائیں گے۔ اس پر ہم نے حکومت کو مبارک باد دی تھی عمران خان نے کہا کہ مشرف نے پیسے لے کر کسی اور کی جنگ اپنے سر لے لی او راپنی فوج سے اپنے شہری اور اپنے شہریوں سے اپنی فوج مروائی جو ملک کے خلاف سب سے بڑی غداری ہے اب امریکہ پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کو مار رہا ہے یہ صرف 70ملین ڈالر مہینے کی تنخواہ کے عوض ہو رہاہے امریکہ کے چونکہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس لئے اس نے اسامہ کا ڈرامہ کرنا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ انہوں نے پھر پاکستانی قبائلی علاقوں پر بمباری کرنی ہے او رپھر پاکستانی قوم اور حکومت پر حملہ کرنا ہے پچھلے سال کم سے کم پاکستان میں 65خود کش حملے ہوئے جس سے پورا ملک ہل کر رہ گیا جس طرح زرداری امریکی ایمبیسی کے چکر لگا رہا ہے اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسرا مشرف پیدا ہو گیاہے عمران خان نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت واضح بیان دے کہ اگر مزید ایک بھی شہری امریکی بم سے مرا تو ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی ہے۔عمران خان نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑے دہشت گرد الطاف حسین کو برطانیہ نے لندن میں پناہ دے رکھی ہے تو میرا سوال ہے کہ کیا ہم لندن جاکر بم برسائیں کہ ہمارا دہشت گرد وہاں چھپا ہوا ہے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی جائیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی امریکیوں کی ہیں ہمارے لوگوں اور فوجیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مارا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوبارہ خود کش حملے شروع ہو جائیں گے ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات ہوں تمام قیدی رہا کرائے جائیں قبائلی علاقوں سے فوجی آپریشن ختم ہو فوج اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کرے اس وقت ہم نہ طالبان نہ القاعدہ کیلئے لڑ رہے ہیں ہماری فوج اپنے ہی قبائلی شہریوں سے لڑ رہی ہے جن کو مقامی طالبان کہاجارہاہے یہ ہماری کوئی جنگ نہیں یہ جو پھرسے ہونے جارہی ہے یہ پاکستان کیلئے انتہائی خطر ناک ہے بجٹ کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ ہمارے اجلاس میں بجٹ پر بھی بات چیت ہوئی ہے مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ اس بجٹ سے شوکت عزیز کی بو آرہی ہے ایسا لگ رہا ہیکہ شوکت عزیز کا بنایاہوا بجٹ ہے جس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہے عوام کی اکثریت مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئی ہے کبھی ملک میں اتنے برُے حالات پیدا نہیں ہوئے جتنے آج ہیں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں دو ہفتہ سے قبل ختم ہوجاتی ہیں لوگوں کا گزارہ مشکل ہو رہا ہے پستول پکڑ کر لوگوں نے ڈاکے مارنا شروع کردیے ہیں حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھی جرم کی طرف لگ گئے ہیں یہ بجٹ انقلابی ہونا چاہیے تھا اسٹیٹس کو کا بجٹ نہیں ہونا چاہیے تھا عمران خان نے کہا کہ 900ارب کا جی ایچ کیو بن رہا ہے اسمبلی میں اس بارے میں کوئی آواز ہی نہیں اٹھائی یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کیا پاکستان کو 900ارب روپے کا نیا جی ایچ کیو چاہیے یا عوام کی زندگی چاہیے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو نو سو ارب روپے کے ملک بھر میں لنگر خانے کھولنے چاہیے تاکہ لوگ دل روٹی کھاسکیں جس طرح یورپ میں ہوتا ہے عمران خان نے کہاکہ بینظیر کے کارڈ جاری کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا اگر ملک بھر میں دال روٹی کے لنگر کھولے جاتے جس طرح میں نے شوکت خانم ہسپتال میں لنگر کھولا ہوا ہے یہ غریب تو وہاں روٹی کھا سکتے ہیں عمران خان نے کہاکہ عوام یہ جیڈی پی کا دو فیصد بھی خر چ نہیں ہو رہا جبکہ بھارت میں چار فیصد خرچ ہو رہا ہے جب عوام پر پیسہ خر چنہیں ہورہا تو جمہوری حکومت کس بات کی ہے انہوں نے کہاکہ آمریت اور موجودہ جمہوریت میں کوئی فرق نہیں یہ عوامی بجٹ نہیں ہے پاکستان نے پچھلے سال 5.1ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے ہیں جبکہ بھارت جو بہت بڑا ملک ہے اس نے 3.2ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے جبکہ پاکستان میں تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا ہے پڑھے لکھے نعرے کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ملا

ملکی تاریخ میں پہلی بار دفاعی بجٹ کی تفصیلات سینٹ میں پیش کردی گئیں



اسلام آباد ۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینٹ میں بجٹ کے لئے دفاعی بجٹ کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں ۔ منگل کے روز سینٹ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر رضا ربانی نے دفاعی بجٹ مالی سال 2008-09 ء کی تفصیلات کی کاپی ایوان میں پیش کی ۔ جس کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ کا حجم 2 کھرب 95 ارب 30 کروڑ 69 لاکھ 8 ہزار روپے ہے ۔ جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 19 ارب روپے زیادہ ہے ۔ جس میں ڈیفنس سروسز ایمپلائز سے متعلقہ اخراجات کا حجم 99 ارب 9 کروڑ 15 لاکھ 62 ہزار روپے آپریٹنگ سے متعلقہ اخراجات کا حجم 82 ارب 84 کروڑ 8 لاکھ 84 ہزار روپے ‘ ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کی مد کے لئے 12 ارب 8 کروڑ 59 لاکھ 53 ہزار روپے ۔ جنرل اخراجات کے لئے 70 ارب 75 کروڑ 49 لاکھ 31 ہزار روپے فزیکل ایسٹس کی مالیت 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار روپے ، دوسرے سٹور ز اور سٹاکس کے لیے 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار ،سول ورکس کے لیے 25 ارب 73 کروڑ 62 لاکھ 46 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس طرح پاکستان فضائیہ کے لیے 71 ارب 66 لاکھ 62 ہزار روپے مختص کیے گئے ہین جن میں ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 10 ارب70 کروڑ 63 لاکھ 58 ہزار روپے ، اپریٹنگ اخراجات کی مد کے لیے 16 ارب46 کروڑ 32 لاکھ77 ہزار ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے 2 ارب 18 کروڑ 36 لاکھ 78 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 14 ارب 27 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار روپے ، فزیکل ایسسٹس کے لیے 39 ارب 59 کروڑ 74 لاکھ روپے ، سول ورکس کے لیے کے لیے 4 ارب 23 کروڑ 96 لاکھ 27 ہزار روپے،اس طرح بحری افواج کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اخراجات کے لیے 6 ارب 75 کروڑ 5 لاکھ 17 ہزار روپے، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 3 ارب 91 کروڑ 3 لاکھ 87 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک ارب 43 کروڑ 24 لاکھ روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 79 لاکھ روپے ، فیزیکل ایسڈز کے لیے 15 ارب 71 کروڑ 28 لاکھ78 ہزار روپے( اس طرح پاک فوج کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 28 ارب 69 کروڑ 97 لاکھ 57 ہزار روپے رکھے گئے ہیں جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلقہ امور کے لیے 71 ارب 27 کروڑ 47 لاکھ 22 ہزار روپے ، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 22 ارب 33 کروڑ 74 لاکھ 51 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن اخراجات کے لیے 4 ارب 68 کروڑ29 لاکھ 40 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 17 ارب 65 کروڑ 45 لاکھ 11 ہزار روپے ، فیزیکل ایسٹس کے لیے 21 ارب 52 کروڑ 73لاکھ 23 ہزار روپے اور سول ورکس کے لیے 13 ارب 56 کروڑ 2 لاکھ 61 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ پہلے دفاعی بجٹ پیش نہیں ہوا تھا لیکن اتحادی حکومت کے تمام پارٹیوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں زیر بحث لائیں گے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ پورا بجٹ ہے لیکن آئندہ سال تفصیلی بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے مسلح افواج کے بجٹ 2008-09 ء کے لئے مرحلہ وار تحقیقات ایوان میں پیش کرنے کی اجازت مانگی تو چیئرمین سینٹ نے اجازت دی جس کے بعد دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئی

ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ سید یوسف رضا گیلانی



اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے آئین کے مطابق اپنا کرداراداکریں۔آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی خود مختاری وبالادستی ، اداروں کا استحکام،اور میڈیاکی آزادی کے عزم پر قائم ہیں بلوچستان اور فاٹاکے مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کریں گے ۔انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہو گی۔ فاٹا کے حوالے سے نئی جمہوری حکومت کی پالیسی کی امریکی صدر بش نے حمایت کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں پلڈاٹ کے تحت ’’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل ، فاٹا کی صورتحال اور ملٹری سول تعلقات پر مختلف سیشنز منعقد ہوئے سابق گورنر پنجاب شاہد حامد ، پلڈاٹ کے چیف ایگزیکٹو بلال احمد محبوب نے وزیراعظم کو کانفرنس کی سفارشات پیش کیں ۔ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے سیاسی ،مالی مسائل کاجائزہ لیاگیابلوچستان میں مذاکرات اور اعتمادکی فضاء کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو نذر انداز کیاگیا حقوق نہیں دئیے گئے بلوچستان کے عوام قانون شکنی پر یقین نہیں رکھتے پاکستان کے ساتھ محب وطن اور مخلص ہیں اعتماد کی فضا برقرار کرنے کی ضرورت ہے ۔ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے بلوچستان شدید مالی مشکلات سے دو چار ہے وفاق اور تین صوبے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان ابھی تک بجٹ پیش نہیں کر سکاہے بلوچستان کو آئینی حقوق دیں گے انہوںنے کہاکہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام حکمرانوں کے رویے سے شاکی نظر آتے ہیں ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ ترقی سے محروم ہیں انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیاہے سیاسی عمل معاشی استحکام ، صوبائی خود مختاری دیں گے اور بلوچستان میں خوشحالی لائیں گے بدقسمی سے بلوچستان کی ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا ساڑھے تین ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ رولز میں نرمی کر کے بلوچستان کے عوام کو نوکریاں دیں فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج کے سربراہ نے بھی اس بارے میں بریفنگ دی انہوں نے کہاکہ فاٹا کی اکثریت امن پسند اور پاکستان کی وفادار ہے ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے تیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بائیومیٹر سسٹم لگایا گیا مگر دوسری طرف سے تعاون نہیں کیاجارہاہے ۔ بمباری کے ایشو پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج کیاگیا کیا پہلے ایسے ہوا تھا وزیر خارجہ نے کونڈا لیزا رائس سے بھی احتجاج کیا ہم امریکہ کے ساتھ دفاعی ، معاشی ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں اپنی خود مختاری سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے فاٹا کے مسائل کے حل کے حوالے سے سیاسی عمل ، معاشی ، سماجی ترقی اور مذاکرات کو حکمت عملی میں ترجیح حاصل ہے فاٹا میں جمہوریت کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں امریکی صدر نے ہماری پالیسی کی حمایت کرتے ہیں آئین پر یقین رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں فوج اور عدلیہ سمیت تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں اداروں کے درمیان تصادم سے کچھ نہیں بچے گا سب کو آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔ہم نے لانگ مارچ بھی کئے ہیں اور جیلیں بھی دیکھیں ہیں بے نظیر بھٹو کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے صدر پرویز مشرف نے وردی اتاری ججز کی تعداد میں اضافہ اتفاق رائے سے کیا گیاہے۔میثاق جمہوریت کا اس کی روح کے مطابق نفاذ چاہتے ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں ججز بحال ہوں گے آزاد عدلیہ چاہتے ہیں آئین کے مطابق پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کرے گی انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ حکومت نے وکلاء کے لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا اسٹیج ، بجلی ، پانی ،ڈنر اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں اورکسی جگہ پولیس نے وکلاء کو نہیں روکا نہ فوج بلائی گئی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ۔ ہم چہرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صحافیوں نے کہاکہ جس دن محسوس کریں گے کہ بے نظیر بھٹو کے مشن سے غداری کر رہے ہیں سب کچھ چھوڑ دیںگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کے حوالے سے تنہا پرواز نہیں کریں گے ساٹھ ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلے کرے گی وہ قبول کیاجائے گا

ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں ۔۔ آصف علی زرداری



۔ بے نظیر بھٹو نے افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے نہیں جمہوریت کی بحالی کیلئے جان کا نذرانہ دیا، معزول ججوں کی بحالی کے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی

لاہور۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں۔ ہم صدر پرویز مشرف کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انہیں آئینی صدر تسلیم نہیں کیا۔ آئندہ صدر کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشورہ کے بعد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج گورنر ہاوس میں ایڈیٹروں اور سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے شہادت نوش نہیں کی بلکہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ معزول ججوں کو ضرور بحال کیا جائے گا لیکن ان کی بحالی کیلئے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلافات معمول کی بات ہے اس سے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ اتحاد قائم رہے گا۔ ہم صوبوں کے درمیان ہم اہنگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل آگے بڑھے۔ اسی لئے ہم نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں حالانکہ اگر ہم چاہتے توجوڑ توڑ کرکے وہاں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم کی جاسکتی تھیں۔ ہم پاکستان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں اسی لئے ہم نے بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی اور وہاں فوجی آپریشن بند کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے اس سے ہمیں نہیں تو آئندہ نسلوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوریت کو تقویت دی۔ پیپلز پارٹی کی کوششوں کے باعث ہی جنرل پرویز مشرف نے وردی اتاری جس کیلئے ہم نے ہر چیز کو قبول کیا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ یہ پراپیگنڈا غلط ہے کہ این آر او صرف میرے لئے آیا اس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے حکومت نے میرے خلاف کیس واپس لے کر تسلیم کیا کہ یہ کیس سیاسی انتقام کے نتیجہ میں بنائے گئے تھے۔ میں جمہوری انتقام پر یقین رکھتا ہوں مجھے اس گورنر ہاوس سے گرفتار کیا گیا جہاں میں نے کارکنوں سے خطاب کرکے اپنا جمہوری انتقام لے لیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ میں ہی زمین اور 90ہزار فوجی واپس لئے۔انہوں نے کہا کہ وکلائ اور کچھ سیاسی جماعتوں نے لانگ مارچ کیا جن سے میاں نوازشریف نے بھی خطاب کیا۔ ہم نے خود انہیں روٹی اور پانی فراہم کیا لیکن جب پیپلز پارٹی لانگ مارچ کرے گی تو اسے دنیا دیکھے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی میں میاں نوازشریف سے اتحاد قائم رکھنا چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم نے کسی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے میاں صاحب سے دوستی کی ۔ اگر ہم متحد نہ رہے تو اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ قوم ابھی تک محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدمہ سے باہر نہیں نکل سکی۔ یہ الزام غلط ہے کہ سیاستدان قوم کو مایوس کررہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے ہماری رہنمائی کریں اور ریسرچ کے بعد عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔

کیلی فورنیا میں ہم جنس شادیاں

کیلیفورنیا ۔ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں سپریم کورٹ کی طرف سے ہم جنس شادیوں کی اجازت کے بعد درجنوں ہم جنس جوڑوں نے اپنی شادیاں رجسٹر کروائی ہیں۔پیر کی رات بارہ بجے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق عمل میں آتے ہی بیس سے زیادہ کاؤنٹیز میں یہ شادیاں رجسٹر کی گئی ہیں۔ کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں سب سے پہلے شادی کرنے والا جوڑا ہم جنسوں کے حقوق کے لئے کئی دہائیوں سے جد وجہد کرنے والی ستاسی سالہ ڈیل ماٹن اور تراسی سالہ فیلیس لیون کا تھا۔ ریاست میں نومبر کے مہینے میں ایک ریفرنڈم میں لوگوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ آیا ہم جنسوں کی شادی پر پابندی بحال کی جائے یا نہیں۔امریکہ میں میسا چیوسٹ کے بعد کیلی فورنیا وہ دوسری ریاست ہے جہاں ایسی شادیوں کی اجازت دی گئی ہے۔لاس اینجیلس میں ایک ایسی ہی شادی کی تقریب کے موقع پر بیس کے لگ بھگ مظاہرین نے احتجاج بھی کیاآ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر درج تھا کہ ’ہم جنس شادی ایک گناہ ہے۔‘ ریاست کیلی فورنیا میں 2000 ء میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون کی منظوری دی گئی تھی جس کے مطابق شادی صرف مرد اور عورت کے درمیان ہوسکتی ہے۔ لیکن ریاست کے سپریم کورٹ نے اس قانون کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ تاہم ریاست میں ہم جنس شادی کے مخالفین نے اس قانون کے خلاف اتنی حمایت اکھٹی کر لی ہے کہ اس حتمی فیصلہ نومبر میں ایک ریفرنڈم کے دریعے کیا جائے گا۔

برطانیہ میں آرائشی سرجری کا رحجان عروج پر

لندن ۔ عالمی اقتصادی بحران پر اپنی جگہ ہے لیکن برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کے دیوانے آج بھی ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنے کو تیار ہیں یہ بات ایک جائزے میں کہی گئی ہے ۔ برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کی خدمات فراہم کرنے والے ایک بڑے گروپ ہارلے میڈیکل کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران جراحی کے عمل سے گزرنے والوں کی مانگ میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ توند گھٹانے کے آپریشن پر تقریباً دس ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے اس آپریشن کی مانگ جہاں 59 فیصد بڑھی ہے وہیں پستان کو نمایاں اور خوشنما بنانے کی سرجری میں 40 فیصد اضافہ ہوا ۔ گروپ نے بتایا کہ گزشتہ دس ماہ میں توند گھٹانے کے لئے اس نے تین سو سے زائد آپریشن کئے ہیں جبکہ دس ماہ قبل گزرنے والے اس مہینوں میں ایسے صرف 160 آپریشن کئے گئے تھے ۔ تحقیق کرنے سے پتہ چلا ہے کہ آپریشن کرانے والوں نے دیگر اخراجات تو کم کر دیئے ہیں لیکن اپنے آپ کو سنوارنے پر اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی ۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا نیا الزام



پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیل رہی ہےوزیراعظم گورڈن براؤن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے

واشنگٹن ۔ امریکی صدر بش نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے منظم ہونے کا الزام عائد کیا ہے لندن میں برطانوی وزیراعظم گولڈن براؤن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ قبائلی علاقے طالبان اور انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اس موقع پر انہوں نے کہاکہ افغان صدر حامد کرزئی کا گزشتہ روز دیاگیا بیان بلا جواز نہیں تھا انہوں نے افغانستان اورپاکستان پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنی سرحد پر عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے بات چیت کے دائرہ کار کو وسیع کریں اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کہاکہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کے عوض عالمی طاقتوں کی جانب سے پیش کئے گئے مراعاتی پیکج کا مثبت جواب نہ دیا تو تہران پر مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیراعظم نے کہاکہ برطانیہ افغانستان کے لئے مزید فوجی بھیجے گا

” لانگ مارچ کا رستہ ....آزادی کا رستہ “







اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے لانگ مارچ کامشکل ترین مرحلہ بخیر وخوبی گزر گیا۔ جمعہ13جون کی رات لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا ۔ اسی روز میں نے خبر دے دی تھی کہ ”حکومت اوروکلاءرہنمائوں میں یہ انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے کہ ہمیں امن وامان برقرار رکھنا ہے جس کی وجہ سے ملک اورقوم پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی ہے اورمزید کی شاید متحمل نہ ہوسکے۔ لانگ مارچ آرمی ہائوس ،چیئرمین جوائنٹ چیفس کی رہائش، پارلیمنٹ اور ایوان صدر کی طرف نہیں جائے گا تاہم پریڈ ایونیو میںجلسہ کیاجاسکے گا جہاں ایوان صدر بھی بالکل سامنے ہے اورپارلیمنٹ ہائوس بھی۔ اس طرح لانگ مارچ کے مقاصد بھی حاصل ہوجائیںگے اورحکومت امن وامان کے قیام کی ذمہ داری سے بھی عہدہ برآ ہوسکے گی۔ چونکہ بجٹ کے فنانس بل میں سپریم کورٹ ججوں کی تعداد29کرنے کااعلان ہوچکا ہے اس لیے بھی لانگ مارچ کی طرف سے کسی سخت اقدام کاامکان کم ہے“۔ شباب ملی اور اے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے حوالے سے حکومت کے خدشات ضرور تھے کیونکہ لانگ مارچ پرامن رکھنے کیلئے بات چیت مسلم لیگ(ن) کے مرکزی اوروکلاءکی جڑواںشہروں کی قیادت سے ہورہی تھی مگر اس میں اکثریت اوراہمیت چونکہ انہی دو کی تھی جن سے بات ہورہی تھی اس لیے کڑا وقت کسی آزمائش کے بغیر گزر گیا۔ یار لوگ بے شک شور مچاتے رہیں کہ دونوں طرف اپنے ہی لوگ تھے۔ حکومت میں بھی اورلانگ مارچ میں بھی بہرحال یہ بہت بڑی بات ہے کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کے اتنے لمبے مارچ کے باوجود کوئی جانی مالی نقصان نہیں ہوا اورپریڈ ایونیو سے چند گز کے فاصلے پرموجود عالمی برادری کے نمائندہ غیرملکی سفیروں کے شہر ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ پیغام پہنچنا کہ پاکستانی شدت پسندی ،توڑپھوڑ اورجلائو گھیرائو کے بغیر بھی احتجاج ریکارڈ کراسکتے ہیں۔ میری رائے میں بلاشبہ قابل تعریف ،لائق اعتراف ہے ورنہ غیرملکی سفیروں نے ڈنمارک ایمبیسی دھماکے کے بعد انتہائی سخت اورواضح الفاظ میں حکومت کوبتادیا تھا کہ یہی حالات رہے تو وہ یہاں نہیں رہ سکیںگے۔ علاوہ ازیں فرانس اورچین کے سفارتخانوں کودھمکی بھی مل چکی ہے اورفرانس ایمبیسی تو ہے بھی شاہراہ دستور کے بالکل اوپر۔باقی سفارتخانے تو پھر بھی ڈپلومیٹک انکلیو کی بائونڈری کے اندر ہیں۔مشیرداخلہ رحمان ملک ایک ملاقات میں بتا رہے تھے کہ کس لہجے میں سفیروں نے ان سے بات کی مگر انہوں نے یہ یقین دلا کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ انشاءاللہ ان کی طرف کوئی نہیںجائے گا۔ ظاہر ہے میاں نوازشریف بطور سابق وزیراعظم اوراعتزاز احسن بطور صدر سپریم کورٹ بار ملک اورقوم کی طرف اپنی ذمہ داریوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیںاس لیے 4روز تک ملک بھرسے عوام کے طوفان کے ساتھ گزرنے کے باوجود کہیں کوئی گڑ بڑ نہیںہوئی اور نہ غیرملکی نمائندوں ہی کوخوف وہراس کاسامنا کرنا پڑا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ جب لانگ مارچ اسلام آباد پریڈ ایونیو پہنچ جائے گا تو پھر کیاہوگا؟ جلسہ تو ہوگا مگر کیاکچھ اوربھی ہوگا۔ لانگ مارچ کالفظی مطلب لمبی پیش قدمی ہے۔ کیا ایک ہزار میل پیش قدمی کے بعد عوام کا”لشکر“ پسپا ہوجائے گا؟ کیاپارلیمنٹ ہائوس اورایوان صدر کے سامنے پڑائو ڈال دے گا جب تک جج بحال اور صدر فارغ نہ ہوجائیں؟ یاپھر مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہائوس اور ایوان صدر پرحملہ کردیاجائے گا؟ یہ سوال لوگوں کے ذہن میں تھے اورسب سے بڑا سوال ہی یہ تھا کہ ایساہوگیا تو پھر کیاہوگا ؟ پیر پگاڑا کافرمان لوگ پڑھ چکے تھے کہ جج بحال نہیںہوںگے اورملکی تاریخ کابدترین مارشل لاءلگنے والا ہے۔ گویہ امر باعث اطمینان ہے کہ مکمل تصادم سے دونوں فریقوں نے گریز بھی کیا اوراپنا اپنا کام بھی کرلیاجج تو تقریباً بحال ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ بجٹ فنانس بل کے ذریعے تعداد 29کردی گئی ہے اوراس پر نواز لیگ بھی راضی ہے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق ان کی تنخواہوں کی ادائیگی سے بھی ظاہر ہے کہ وہ حاضر سروس ہیں۔ اوربدترین مارشل لاءاب اس لیے نہیں لگ سکتا کہ جنرل مشرف کے مارشل لاءسے بدترین اورکیاہوگا؟ علاوہ ازیں خود وکلاءتحریک ،نوازلیگ کوبھی علم اورشعور ہے کہ ان کی طرف سے کسی بھی قسم کاسخت اقدام ایوان صدر کومضبوط اورپارلیمنٹ کوکمزور کرسکتاہے اوریہ دونوں کبھی نہیں چاہیںگے۔ جہاں تک ایوان صدر کی بات ہے یہ لوگ ایسی دیوار کودھکا مار کراپنی توانائیاں ضائع نہیں کریںگے جو پہلے ہی شکستہ ہوکرگرنے والی ہے اور پارلیمنٹ جو اب ان کی امیدوں کامرکز ہے اسے مجبور تو کرسکتے ہیں اپنے مطالبات ماننے کیلئے مگر اس پرحملہ آور نہیں ہوسکتے ورنہ ان میںاور آمروں میں کیافرق رہ جائے گا۔ 13جون جمعة المبارک کے روز پریڈ ایونیو پرجب لانگ مارچ کے قافلوں کی آمد ہورہی تھی اورسٹیج سے قومی وملی نغمے نشر ہورہے تھے ۔ اللہ اکبر اللہ اکبراے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیاہم زندہ قوم ہیں،پائندہ قوم ہیں۔یہ ترانے شرکاءکے جذبات کوگرما رہے تھے۔ جب قافلے نعرے لگاتے آرہے تھے اور سٹیج سے ان کوخوش آمدید کہا جارہا تھا۔ چاروں طرف چیف جسٹس افتخار کے حق اور صدر مشرف کے خلاف نعروں والے بینر لگے ہوئے تھے سٹیج کے ایک طرف وکلاءنے کیمپ لگا رکھا تھا جبکہ دوسری طرف ٹی وی چینلز کے کیمرے نصب تھے۔ ایمبیسی روڈ سے ہرلمحے کوئی نہ کوئی قافلہ،کوئی نہ کوئی جلوس آتا جارہاتھا۔ کوئی سرحد سے آرہا تھا تو کوئی بلوچستان سے، کوئی سندھ سے پہنچ رہاتھا اورکوئی پنجاب کے مختلف شہروں سے۔ لوگ آتے جارہے تھے اور پریڈ ایونیو کادامن تنگ پڑتا جارہاتھا۔ لوگوں کاجوش وخروش ہرگزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہاتھا ۔ سورج پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہاتھا اور جون کی گرمی اچھے بھلے آدمی کے کس بل نکالنے کیلئے کافی تھی مگر ایک عجیب کیفیت ہرشخص پرطاری نظر آرہی تھی۔ کسی کوگرمی کی پروا تھی نہ بھوک اورپیاس کی۔ ان میں مرد بھی تھے اورعورتیں بھی۔ بڑے بھی تھے اوربچے بھی۔ ہرکسی کے لب پرایک ہی نعرہ تھا۔ ”ہم ملک بچانے نکلے ہیں۔ آئو ہمارے ساتھ چلو“۔ اوراس ماحول کے درمیان میںایک طرف کھڑا ایوان صدر کی طرف دیکھ رہاتھا جوسٹیج کے عین پیچھے نظر آرہاتھا اورجس کی چھت پرقومی پرچم لہراتھا میرے ذہن میں اس وقت ایک ہی سوال گردش کررہاتھا۔ صدرمشرف اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں ہیں یاآرمی ہائوس میں ہیں؟12مئی کو جب کراچی مےں لاشےں گرائی جا رہی تھیں تو اسلام اÈباد مےں اسی مقام پر صدر نے جلسہ کیا جس میں کہا گیا کہ” دےکھی عوام کی طاقت “،اور اب وقت نے عوام کی اصل طاقت اسی جگہ لا کر دکھا دی ہے۔اب بھی کسی کو سمجھ آتی ہے ےا نہیں ،اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا،تاہم عوام کی اکثریت نے اےک بار پھر فےصلہ سنا دےا ہے اور خوب سناےا ہے۔اب جبکہ لانگ مارچ مکمل ہوچکا۔ کراچی سے اسلام آباد تک جوڈیشل بس چل چکی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے حاصل کیاہوا؟ ججوں کی بحالی اور صدر کی رخصتی کااعلان کب ہوگا؟ اس پر تاریخ کامثالی لانگ مارچ کرنے والے عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماوزے تنگ کاقول سامنے رکھناہوگا۔ مائو کے مطابق ”لانگ مارچ ایک منشور ہے۔ایک پراپیگنڈہ فورس ہے۔ یہ ظاہر کرتاہے کہ جس راستے پرچل کرلانگ مارچ اپنی منزل پرپہنچا وہی راستہ ہماری آزادی اورخوشحالی کاراستہ ہے“10 جون سے14جون تک پاکستان میں جولانگ مارچ ہوا اورجس میں ہرطبقہ فکر نے بھرپور شرکت کی دراصل ایک منشور تھا کہ آئین اورقانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہور کی حکمرانی ہی اس ملک کے 16کروڑ عوام کے مسائل کاحل ہے اوریہی وہ راستہ ہے جس پرچل کرہم بھی آزادی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ملکی تاریخ کی سب سے ”بڑی پیش قدمی “کس کس کو پچھاڑے گی ، ہم دیکھیں گے

Monday, June 16, 2008

Govt committed to restore deposed judges: Farooq Naek




ISLAMABAD: Federal Law Minister Farooq H. Naek has said that the government is committed to restore the deposed judges and significant steps have already been taken in this regard. The government has paid salaries to the deposed judges and now the strength of Supreme Court judges is being raised to 29 for which the bill has been moved along with the Finance Bill to pave the way for restoration of deposed judges, the Minister said. He added that in the final phase judges will be reinstated through constitutional means for which the constitutional package has been sent to the coalition partners for their opinion. The Minister made the observations while talking to a 3-member delegation of International Crisis Group, which called on him here Monday, The delegation included Dr. Samina Ahmad, Alain Deletroz and Fabienne Hara. Referring to the recent long march of lawyers, Neak said that the participants of the march were allowed to assembly at the Parade site in the capital. He said that police were strictly told not to confront them rather they were provided space, stage, security, food and water by the government and Pakistan People’s Party (PPP).The Minister elaborated that PPP is as much in favor of judges restoration as any other political party or the lawyers.
The difference is only in approach, the Minister said, adding that PPP is against the politicisation of the issue and wants it to be done through the parliament.
The Minister also briefed the delegation about the various legal and constitutional reforms which the coalition government is working on. The Law Ministry is working on draft for setting up National Human Rights Commission of Pakistan, he said and added that deliberations are also underway to introduce a bill namely “Protection of Women against Harassment at Work places.”
Number of other legal reforms including setting up of evening courts and public defender’s office are also being worked out. The Minister informed that three separate bills have been introduced in the Nation Assembly and have been referred to the relevant Standing Committee. First bill is ‘The Representation of the people (Amendment) Act, 2008. It provides that no adjournment shall be given by the Tribunal for more than two days and that too on payment of costs as the court may determine. However, if election petition is not decided within a period of four months further adjournment sought by any party shall be given on payment of special cost of rupees ten thousand per adjournment. It is being provided that while adjourning proceedings reasons for this shall be recorded. It is also being provided that appeal should be decided by the Supreme Court within thirty days. The second bill is ‘The Companies (Appointment of Legal Advisors) (Amendment) Act, 2008. It proposes that lawyers with 5 years of experience will be eligible for appointment as Legal Advisors. Their remuneration is being increased form Rs.1,200 to at least Rs, 5,000 and Rs 10,000 depending upon the paid up capital of the companies. The third bill is ‘The Code of Criminal Procedure (Amendment) Act, 2008. It provides that in murder cases if the case is not decided within two years the accused shall be released on bail. In cases other than murder the accused shall be released on bail if the case is not decided within a year. For females the period is being further reduced.

Funds allocate for reshaping of Peshawar city




PESHAWAR: NWFP Government has allocated Rs. 174.820 million for the development of Peshawar city in fiscal year 2008-09.
NWFP Minister for Finance Eng. Hamayun Khan while presenting annual budget here on Monday said that in financial year out of 14 projects 8 are ongoing whereas 6 are new would be initiated while various projects of renovation and decoration of roads, its construction, exploration of solutions to the traffic problems and for road extension would be started.
He said these projects uplift work would be strated in GT Road, Jamrud Road, Saddar Road and Rehman Baba Road.
Likewise, he said that other projects like improvement of sewerage system, construction of 11 additional fly over, underpasses and construction of Ring Road to southern by pass were included in the new planes.
Moreover, he said there were new projects for renovation of GT Road green belt, construction of roads, streets and proper disposal of garbage. “A new bus terminal in Peshawar would be built on modern lines,” he added.

Sindh allocates Rs.200 m for Heritage Fund




KARACHI : Sindh government has allocated a sum of Rs.200 million for building a Sindh Heritage Fund of Rs 1 billion.
This was announced by the Chief Minister of Sindh, Syed Qaim Ali Shah while delivering speech of provincial budget for fiscal 2008-09.
He said that the Sindh province has a rich history and its historical heritage needs to be protected and projected in multiple ways.

He pointed out that we were building a Sindh Heritage Fund of Rs.1.0 billion.Syed Qaim Ali Shah said the Fund will be managed through a Board comprising public and private sector people having a background of this subject.

Rs.35mln set aside for minorities uplift




PESHAWAR : NWFP Finance Minister, Humayun Khan said on Monday that Rs.35.1 million has been allocated for empowerment of minorities in fiscal year 2008-09.

Presenting the maiden budget of NWFP coalition government here, the Minister said that the government has initiated several mega schemes to ensure restoration, repair and maintenance of the sacred religious premises of minorities such as temple and churches.

Moreover, special package for minority segment of Kalash valley will be provided. In this regard, he said that seven schemes including four new have been included in ADP for development of minorities sector.

Rs 2 billion allocated for Larkana in Sindh Budget 2008-09




KARACHI :An amount of Rs 2 billion has been earmarked for development of Larkana in Sindh Budget for fiscal year 2008-09.

Presenting his budget speech,Sindh Chief Minister, Syed Qaim Ali Shah said "Larkana, the city of our leader Shaheed Benazir will of course be top priority."

He said the Federal government has committed Rs 5 billion package for Larkana. The Sindh government has allocated Rs 2 billion for Larkana's development, he added.

Rs 500 mln to be spent on "Clean Drinking Water




KARACHI: The government will spend Rs 500 million on "Clean Drinking Water for All" project from the provincial kitty. Sindh Chief Minister, Syed Qaim Ali Shah announced this in his speech. He was presenting Sindh Budget for fiscal year 2008-09, in the Provincial Assembly here on Monday. He said Rs 100 million have been allocated in the budget for water supply to Baba Bhit, Shamspir and Salehabad in Manora.

Pakistan starting satellite monitoring of western borders




ISLAMABAD: Federal Advisor for Interior Rehman Malik has said Pakistan is starting satellite monitoring of its western borders from today.

"The database has been prepared and record of every incident will be maintained in future," the Advisor Monday told media.
Advisor to Prime Minister said that no missile was fired by a predator in the evening of June 14 in South Waziristan Agency as reported by the electronic media. The electronic media widely reported that a predator had fired three missiles at Nawaz Kot, Ladha sub-division of Tehsil Makeen, South Waziristan Agency resulting into the death of a civilian.
On these media reports, Advisor Interior, Rehman Malik ordered a fact finding team under the direction of the Prime Minister which was sent to Nawaz Kot to check the authenticity of these media reports. After visiting the site and interaction with the local people, the team confirmed that neither any missile had been fired nor any kind of bombing had taken place as claimed by the media.
Rehman Malik said that such news causes panic and insecurity.
He requested the media to be more responsive and appealed that such news should be verified from Ministry of Interior before reporting.

اقوام متحدہ نے سیکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان میں اپنے دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کی تصدیق کر دی



اسلام آباد ۔ اقوام متحدہ نے سیکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان میں اپنے دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کی تصدیق کر دی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کے عہدیداروں نے امریکی ریڈیو کو بتایا ہے کہ عالمی تنظیم نے اپنے تمام ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن سیکیورٹی خدشات کی نوعیت کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ادھرسفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اقوام متحدہ کے دفاتر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مکمل طور پر نئی شکل دے دی گئی ہے اور ملازمین کو آمد ورفت کے دوران حفاظت کی خصوصی ہدایات بھی دی گئی ہیں جبکہ دو ہفتے قبل عالمی تنظیم کے بعض اداروں کو دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے تھے تاہم نہ تو حکومت پاکستان اور نہ ہی اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے فوری طور پر صورتحال کی مزید وضاحت کی ہے۔واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں ڈنمارک سفارتخانے کے باہر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں چھ مقامی افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ سفارتخانے کے سامنے واقع UNDPکے دفتر کو بھی دھماکے سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس واقع کے بعد وفاقی دارلحکومت میں غیر ملکی سفارتخانوں اور تنصیبات کی حفاظت میں اضافہ کردیاگیاتھا

سانحہ کارگل پر سویلین کمیشن بنایا جائے تاکہ اس سانحہ کے اصل ذمہ داروں کاتعین کیا جاسکے



اسلام آباد ۔ سینٹ اجلاس میں پیر کووقفہ کے بعد بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اے این پی کے حاجی محمد عدیل نے کہا کہ وکلاء لانگ مارچ میں اپوزیشن کی طرف سے کوئی وکیل شامل نہیں ہوا ہے سابق بینکار وزیراعظم نے تباہ حال معیشت اتحادی حکومت کو دی ہے اور غلط اعداد وشمار دئیے گئے تھے کشکول توڑ نے کی بات کرنے والوں نے قوم کو قرضے دئیے جو موجودہ حکومت کو ادا کرنے ہیں موجودہ حکومت کے ابتدائی 2/3 ماہ کے دوران کوئی بم دھماکہ یا خودکش حملہ نہیںہوا مگر کسی نہ کسی طرح اقتدار میں شریک قوتوں نے اپنی ایجنسیوں کے ذریعے امن وامان خراب کرنا شروع کردیا ۔ تازہ امریکی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہین اور موجودہ حکومت نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور قومی جذبات کی نمائندگی کا حق دیا جبکہ سابقہ حکومت امریکی حملوں کا الزام اپنے سر لے لیتی تھی انہوں نے کہا کہ سانحہ کارگل پر سویلین کمیشن بنایا جائے تاکہ اس سانحہ کے اصل ذمہ داروں کاتعین کیا جاسکے ۔ مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر گلشن سعید نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی کے بیان کا سخت نوٹس لیا جائے ان کی دھمکی نا قابل برداشت ہے ہماری پارٹی کو آئینی پیکج دیا جائے تاکہ غوروخوض کے بعد حکومت کو مشورہ دے سکیں ۔ ہماری پارٹی کے ورکروں کو سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم کیا جائے امریکہ طرف سے ہمیں بجٹ کے لیے جو امداد ملتی ہے اسے بھی ایوان مین ڈسکس کیا جائے ۔ 18 دسمبر 2007 ء کے بعد جتنا پیسا ملک سے باہر گیا ہے اسے واپس لانے کا بندوبست کیا جائے ۔ گندم پر سبسڈی برقرار رکھی جائے ۔ بیرونی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے متعلقہ ملکوں سے رابطہ کریں ۔ سینیٹر نیلوفر بختیار نے کہا کہ موجودہ حکومت کہتی ہے کہ معیشت تباہ ہو گئی ہے مگر لوگ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ عام آدمی کو اعداد و شمار اور کاروباری اصطلاحات ہیں کوئی د لچسپی نہیں ہم زرعی ملک ہیں مگر یہاں خوراک اور پانی کی کمی ہے ۔ یہ ویژن منصوبہ بندی اور خلوص نیت کی کمی ہے ۔ غلط اعدا دو شمار پیش کرکے عوام دوست بجٹ نہین بنایا جا سکتا اگر حالات بہتر نہ کیے گئے تو خونی انقلاب آسکتا ہے حکمران آج کالا باغ ڈیم یک لخت ختم کردیا گیا ہے یہ نیب کا ادارہ ختم کرنے کا ارادہ کیا جارہا ہے مگر ان اداروں پر خرچ ہونے والی رقم کا کیا ہو گا آج کرزئی پاکستان پرحملے کی دھمکی دے رہا ہے کیاپارلیمنٹ کے ممبران کو نیٹو سے کیا گیا معاہدہ دکھایا جاسکتا ہے ۔ اے این پی کے سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ جن لوگوں نے سابقہ ادوار میں اعداد و شمار میں ہیرا پھری کی ہے ان کو سامنے لایاجائے ۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ نے کہاکہ واپڈا کی طرف سے فاٹا کو بجلی بند کرنے کا کہا گیا ہے یہ ظلم ہے ۔ شناختی کارڈوں اور ڈومیسائل بنانے کے لیے تیرہ کروڑ سے زائد روپے ادا کیے گئے جو پولیٹیکل ایجنٹ کے کہنے کے مطابق واپڈا کو دئیے جاتے تھے۔پچھلے آٹھ سال میں پاکستان کو جن حالات میں دھکیل دیا گیا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر بجٹ قابل تعریف ہے ۔ آج پاکستان ا ور فاٹا کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ کرزئی کو جواب دینے کے لیے قبائل موجود ہین ۔ ہم افغان مہاجرین کو پال رہے ہیں اس کے باوجود حامد کرزئی ہمیں دھمکیاں دیتا ہے یہ پاکستان کو غلامی کی دھمکیاںدینے کے برابرہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) کی سینیٹر پری گل آغا نے کہا کہ پاکستان میں رہتے ہوئے ہمارے وزراء اور دوسرے لوگ پاکستان کو کمزور ظاہر کر رہے ہین اسی لیے دوسرے لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اس سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔ موجودہ بجٹ میں بلوچستان کا کوئی نشان نہیں ہے ۔ بلوچستان سے حاصل ہونے والی معدنیات کی آمدن بلوچستان کو دی جائے ۔ بلوچستان کو بلدوزر دینے کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے ۔ جب زیاتیوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو بلوچوں کوپاکستان کے غدار ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اگر موجودہ حکومت صوبوں کو ان کا حصہ نہیںد ے گی تو ہم شور کریںگے خزانہ بھرا ہوا ہے مگر بیوروکریٹ اس پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں سینیٹروں کا حج کوٹہ ختم کرنے کے بجائے بڑھا دینا چاہیے ۔ انتقامی سیاسی کارروائیاں ختم کی جائیں ۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر کامل علی آغا نے ذاتی وضاحت پر کہا کہ ہم طالبان سے سرحد حکومت کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں مگر مجھ پر الزام لگانے والے ایسے شخص کے پیرو کار ہیں جس نے کہا تھا کہ میں مر جاؤں تو مجھے پاکستان میں دفن نہیں کرنا چاہیے اس پر الیاس بلور اور حاجی عدیل نے شدید احتجاج کیا اس سے ایوان میں تلخی ہوئی ۔ قائد ایوان سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ پوری تقریر میں ذاتی وضاحت نہیں تھی سیاست میں الزامات لگتے رہتے ہیں ۔ اسحق ڈار اور شوکت عزیز کے دور میں حکومت پر کوئی جرمانہ نہیں لگایا گیا ۔ قد آور سیاسی شخصیات کے لیے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں ۔ چیئرمین نے تمام نازیبا الفاظ حذف کردئیے ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ہم کرزئی کے بیان کی مذمت کرتے ہیں وہ ایک ناکام صدر اور ناکام لیڈر ہیں وہ ا پنی ناکامی کی ذمہ د اری ہم پر نہ ڈالیں ۔ زراعت کے شعبے میں زیادہ کام ہونا چاہیے نگران حکومت کی طرف سے گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے سمگلنگ شروع کردی ۔ کالا باغ ڈیم کے پیچھے بھاگنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں ۔ بعد میںا گر کسی وقت صوبوں میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو بڑا ڈیم بھی ضرور بنانا چاہیے ۔ تعلیم پر بجٹ کو دوگنا کیا جائے ۔ مدرسوں کے لیے بھی فنڈز دئیے جائیں ۔ این ایف سی ایوارڈ کا فورا اعلان کیا جائے ۔ حکومتی رکن سینیٹر انور بیگ نے کہا کہ لانگ مارچ کو کامیابی سے ہینڈل کرنے پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ گندم سیکنڈل پی ایم الی(ق) کی حکومت ختم ہونے کا باعث بنا ۔ اسکے علاوہ چینی ‘ سیمنٹ ‘ پراپرٹی ‘ ٹریکٹر ‘ قرضے معاف کرانے کے سیکنڈل بھی اس حکومت کے نام ہین۔ سابقہ حکومت کے ایک ٹیکسٹائل منسٹر کے نام زلزلہ زدگان کے لیے خیمہ جات کے سیکنڈل ہیں ۔ اس حالات میں نئی حکومت سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھی جا سکتیں ۔ اڑھائی ماہ میں بہت زیادہ ریلیف نہیں دیاجا سکتا بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اسلام آباد میں ایک سکیم شروع کی تھی مگر اس زمین پر کوئی ڈویلپمنٹ شروع نہیں ہوئی ہے اسلام آباد ائیر پورت کا نام محترمہ بے نظیر بھٹوکے نام پر رکھا جانا چاہیے ۔ مزدوروں کے لیے کم قیمت گھروں کی فراہمی یقینی بنائے۔ غریبوں کے لیے 2 سو روپے تک کے شلوار قمیض بنا کر یوٹیلٹی سٹورز پر فراہم کیے جائیں کراچی سٹاک ایکسچینج دنیا کا سب سے بڑا کیسنو بن گیا ہے ۔ سٹاک بروکرز کو چھوٹ دینے کے بجائے ان پر کیپٹل گین ٹیکس لگایا جانا چاہیے ۔ بے نظیر کارڈ کے سلسلہ میں ٹرانسپیرنسی کو یقینی بنایا جائے ۔ایوان صدر کا بجٹ بڑھانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ سینیٹر امجد عباس نے کہاکہ پاکستان میں 80 فیصدکسانوں کے پاس 25 ایکڑ سے کم زمین ہے ہم بہت تھوری تعداد کے لیے اس بڑی تعداد کو نظر انداز کردئیتے ہین ہم چاہتے ہیں کہ آبی گزر گاہوں کو پختہ کیا جائے پانی کے ذخائر بڑھائے جائیں ۔ جب تک کاشتکار کو گندم کی صحیح قیمت نہیں ملے گی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ فصلوں کی انشورنس پالیسی کو موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایگریکلچر چیمبر آف کامرس کی ضرورت ہے بجٹ مین سرائیکی خطے کے لیے مناسب فنڈز دئیے جائیں۔۔ سینیٹر طاہرہ لطیف نے کہا کہ بجٹ آنے سے تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے سلائی مشینیں اور پنکھے غریبوں کے استعمال میں آتے ہیں ان پر ٹیکس لگانا مناسب نہیں۔ سینیٹر جمال خان لغاری نے ذاتی وضاحت پر کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرے والد پر ایمل کانسی کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا۔ اسوقت میرے والد حکومت کی ایگزیکٹو اتھارتی نہیں تھے بلکہ نواز شریف تھے۔ ایمل کانسی نے اپنی شہادت سے پہلے اپنے دستخط شدہ خط میں تحریر کیا تھا کہ ان کے کیس میں لغاری خاندان کا کوئی شخص بھی شامل نہیں تھا۔سینیٹر لطیف نے کہا کہ بجٹ غیر متوازن ہے غریب لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے اگر بجٹ غریب کے لیے اچھا نہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ بجٹ میں غریبوں کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا ہے جو غلط ہے ۔ عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ ملازمتوں میں خواتین کو بیس فیصد سے زیادہ کوٹہ ملنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح سے اضافہ کیا جائے میڈیکل الاؤنس ایک ہزار روپے دیا جائے ۔ عورتوں کو گھروں کے قریب ملازمتیںد ی جائیں۔ دیہی علاقوں میں کام کرنے والی خواتین کو ٹرانسپورت کی سہولت فراہم کی جائے ۔

وہ وقت دور نہیں جب ایوان صدر میں بھی سلمان تاثیر جیسا پیپلزپارٹی کا صدر بیٹھا ہوگا۔ آصف علی زرداری



لاہور ۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہے وہ وقت دور نہیں جب ایوان صدر میں بھی سلمان تاثیر جیسا پیپلزپارٹی کا صدر بیٹھا ہوگا۔ہم جانتے ہیں کہ لانگ مارچ کسے کہتے ہیں جب ہم لانگ مارچ کریں گے تو پورا پاکستان دیکھے گا کہ یہ صرف میلہ نہیں لانگ مارچ ہو گا۔پیپلزپارٹی کے جیالے اور لیڈر تھکے نہیں بلکہ ہم وقت کا انتظار کر رہے ہیں ہماری طاقت دنیا جانتی ہے کسی کو دکھانے کی ضرورت نہیں ۔ ہم جان دینا بھی جانتے ہیں اور جان لینا بھی جانتے ہیں اور نظام بدل کر بی بی کی شہادت کا بدلہ لیں گے۔ہمیں کسی کو بتانے یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں کہ ہم محب وطن ہیں ہم ملک کو غاصبوں اور جمہوریت کے دشمنوں سے نجات دلوائیں گے۔ملک میں مکمل جمہوریت کس روز ہو گی اس کا فیصلہ ہم کریں گے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بلاول بھٹو زرداری کو ہمارے لئے تحفہ کے طور پر چھوڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج گورنر ہاؤس لاہور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر گورنرز پنجاب سلیمان تاثیر نے بھی خطاب کیا۔ آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ گورنر ہاؤس وہ جگہ ہے جہاں مجھے اس دن گرفتار کیا گیاتھا جب ایک غاصب اور لغار نے جمہوریت پر شب خون مارا تھا اور شب خون کے نتیجے میں جمہوریت او رپاکستان کو شدید نقصان پہنچا ہے جو اس وقت جمہوریت کے مجرم تھے وہ آج بھی جمہوریت کے مجرم ہیں اورانہی مجرموں نے ہم سے بی بی کو چھیناہے ہم ان جمہوریت کے مجرموں کو کہتے ہیں کہ یہ بازی خون کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی وہ واحد پارٹی ہے جو اپنا سر فخر سے بلند کر کے یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم شہیدوں کے وارث ہیں اور ہم نے اس ملک کیلئے اپنا خون دیا ہے ہم اس طرز پر جیئں گے جس کا سبق ہمیں ذوالفقار علی بھٹو نے دیاہے۔ہمیں کسی کو اپنے محب وطن ہونے کے بارے میں بتانے یاکسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔پاکستان کو جمہوریت پیپلز پارٹی نے سکھائی ہے اگر اب بھی کسی غاصب اور جمہوریت کے ڈاکو سے جنگ کی تو وہ پیپلز پارٹی ہی کرے گی ہم یہ چیلنج قبول کرتے ہیں ہم جمہوریت کو غاصبوں سے نجات دلائیں گے اور پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کب او رکس طرح ہو گا اس کا فیصلہ پیپلز پارٹی خود کرے گی 21جون کو بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر خون کا عطیہ دے کر ہم دشمن کو بتائیں گے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں ۔ہمارے پاس بی بی صاحبہ کا دیا ہوا ایک بھٹو موجود ہے جس کا نام بلاول بھٹو زرداری ہے وہ ہمارے لئے یہ تحفہ چھوڑ گئیں ہیں تاکہ گورنر ہاؤس اور ایوان صدر میں جیئے بھٹو کے نعرے لگتے رہیں وہ وقت دور نہیں جب ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کاسلمان تاثیر جیسا صدر بیٹھا ہوگا۔ ہم ملک میں جمہوریت لا کر بی بی کا بدلہ لیں گے اور پنجاب میں بیٹھ کر بی بی کے پاکستان کو بچائیں گے اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کھپے ۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اورلیڈر کمزور ہیں ہم نہ کمزور ہیں اور نہ تھکے ہیں بلکہ وقت کا انتظار کر رہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ لانگ مارچ کسے کہتے ہیں اور جب ہم لانگ مارچ کریں گے تو پورے پاکستان کو معلوم ہو جائے گا کہ لانگ مارچ کیسے ہوتا ہے یہ میلہ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ صرف بے نظیر کا خون ہی کر سکتا ہے آصف علی زرداری نے کہا کہ تمہارے پاس وہ اُمنگیں ، خون اور نظریہ نہیں ہے جو پیپلز پارٹی کے پاس ہے ۔قائداعظم نے یہ ملک ڈائیلاگ کے ذریعے بنایا اورہم بھی پاکستان میں ڈائیلاگ کے ذریعے جمہوریت لائیں گے ہماری طاقت دنیا جانتی ہے کسی کو دکھانے کی ضرورت نہیں

پنجاب کا ٣ کھرب ٨٩ ارب ٨٩ کروڑ ٥٠ لاکھ روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کردیا گیا

لاہور۔ صوبہ پنجاب کا سال 2008-09ء کا ترقیاتی بجٹ پیش کردیا گیا۔ بجٹ کا مجموعی تخمینہ 3کھرب 89ارب 89کروڑ 50لاکھ روپے ہے جو گذشتہ سال کے مقابلہ میں تقریبا نو فیصد زائد ہے۔ بجٹ میں غریب طبقہ کو اشیاء خوردونوش، علاج معالجہ کی مد میں 17ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس گذشتہ روز ایک گھنٹہ کی تاخیر سے تقریبا 12بجے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر رانا محمد اقبال خان نے کی۔ اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ حکومت پنجاب نے عدل وانصاف کی ترویج اور کرپشن کے خاتمے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ ماتحت عدلیہ کی تنخواہوں میں بنیادی پے سکیل کے تین گنا کے برابر بطور الاؤنس مہیا کیا جائے۔ عدالیہ عالیہ اس امر کو یقینی بنائے گی کہ آئندہ ججوں کی تقرری شفاف طریقے سے پبلک سرور کمیشن کے ذریعے صرف قابلیت اور ایمانداری کی بنیاد پر کی جائے۔ درآمد شدہ بڑی گاڑیوں پر لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ عدالت کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کی خرید اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور ہاؤسنگ اتھارٹیز میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید وفروخت کو ڈیوٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ تنخواہ دار طبقہ اور ریٹائرد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم اس شرح سے اضافہ کیا جائے گا جس کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کیا ہے۔ پنجاب حکومت بھی اپنے ملازمین کے میڈیکل اور کنوینس الاؤنس میں اسی تناسب سے اضافہ کرے گی۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں میں سیلف فنانس سکیم کا خاتمہ کردیا گیا ہے اب ان اداروں میں صرف میرٹ پر داخلے ہوں گے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے ۔ کڈنی سنٹرز اور ڈائیلسز سنٹرز کو دوبارہ فعال بنایا جارہا ہے اور اس مد میں 54کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے سدباب کیلئے پرائس کنٹرول بورڈ قائم کئے جارہے ہیں۔ بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے 30ارب روپے سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے منصوبے بنائے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا ریونیو اکاؤنٹ میں فاضل رقم 132ارب 94کروڑ روپے اورکیپٹل اکاؤنٹ میں 13ارب 59کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹ میں ایک ارب 22کروڑ روپے کی فاضل رقم کی توقع ہے اور بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کیلئے 12ارب 23کروڑ روپے متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی جٹ میں بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کے حجم میں 23ارب روپے کی کمی کی ہے ۔ صوبے کے ترقیاتی پروگرام کو زیادہ سے زیادہ اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب کے شہری علاقوں میں کم قیمت والے گھروں کی سکیم شروع کررہی ہے جس پر اگلے مالی سال میں ایک ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔زراعت کو جدید مشینری سہولیات دینا اور اسے سائنسی خطوط پر استوار کرنا ہمارا نصب العین ہے۔ غریب کسانوں کیلئے گرین ٹریکٹر سکیم کا دوبارہ اجراء کررہے ہیں۔ اس سکیم کے تحت ساڑھے بارہ ایکڑ تک زرعی اراضی کے مالکان کو جن کے پاس ٹریکٹر نہیں ہیں کمپیوٹرائز قرعہ اندازی کے ذریعے ایک لاکھ روپے فی کسان فی ٹریکٹر سبسڈی دی جائے گی۔ اس مد میں اگے سال ایک ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے جس سے دس ہزار ٹریکٹر مہیا کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ زرعی اجناس اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافے کیلئے ایک سکیم شروع کی جارہی ہے جس کے تحت پڑھے لکھے تعلیم یافتہ اور بے زمین کاشتکاران یا وہ کاشتکار جن کی زری زمین کی ملکی چار ایکڑ تک ہے ان کو ساڑھے بارہ ایکڑ فی کاشتکار سرکاری زمین لیز پر دی جائے گی۔ اس مد میں تقریبا 60ہزار ایکڑ سرکاری زمین لیز پر تقسیم کرنے کا پروگرام ہے جس میں دریاؤں کے کنارے اور بیلے کی زمینیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 144سکولوں کو سنٹر آف ایکسیلنس بنایا جائے گا جن پر 3ارب 63کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کے تحت 72سکولوں میں 11ہزار کے قریب یتیم اور بے سہارا بچوں اور بچیوں کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ رہائشی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب طالب علموں کیلئے اعلی درجہ کی مفت ایئرکنڈیشنڈ سکول بس سروس شروع کی جارہی ہے جس میں بس سیکورٹی گارڈز کا بھی بندوبست کیا جائے گا۔ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ماڈل سکول قائم کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں 4574سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکولوں کو جدید کمپیوٹر لیب سے آراستہ کیا جائے گا جن پر پانچ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ تعلیمی ماحول کی بہتری کیلئے سرکاری سکولوں میں اصلاحات کے پروگرام پر 2ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ضرورت کی بنیادوں پر سکولوں میں اپ گریڈیشن کی جائے گی جن پر ایک ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم نسواں کے فروغ کیلئے 560گرلز ماڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دیا جائے گا جن پر 2ارب روپے خرچ ہوں گے اس کے علاوہ ایک ارب 91کروڑ روپے کی لاگت سے 452بوائز سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ سپیشل بچوں کیلئے بین الاقوامی معیار کے مطابق بحالی کا ایک ارب روپے کی لاگت سے سنٹر قائم کیا جائے گا۔تعلیم اور صحت کے شعبہ جات میں بہتری کیلئے صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی سطح پر 145ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس میں 110ارب روپے تعلیم اور 35ارب روپے صحت کیلئے مختص ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر ضروری سرکاری ضیافتوں اور تقریبات کو محدود کردیا گیا ہے ۔ جہاں سرکاری تقریب میں کھانا اشد ضروری ہوگا وہاں صرف ون ڈشکا اہتمام کیا جائے گا۔ تمام سرکاری محکموں کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے پر مکمل طور پر پابندی لگادی گئی ہے اس کے علاوہ فرنیچر، دیگر سازوسامان ، ایئرکنڈیشنڈ اور دیگر اشیاء پر بھی پابندی رہے گی۔ ایک ری آرگنائزیسن کمیٹی قائم کی جارہی ہے جو محکموں کے غیر ضروری اخراجات کا جائزہ لے کر ان میں توازن پیدا کرنے سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ سماجی شعبہ جس میں تعلیم صحت، فراہمی نکاس آب اور سماجی بہبود شامل ہیں ان کیلئے ترقیاتی پروگرام کیلئے 58ارب 64کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک ارب 50کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ آئندہ مالی سال میں صاف ستھرے پانی کی فراہمی کیلئے 8ارب روپے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جس کے تحت 55فیصد فنڈ دیہی علاقوں میں خرچ کئے جائیں گے۔ 5بڑے شہروں میں 3ارب روپے کی لاگت سے سیوریج کے نظام کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔ کچی آبادیوں کے مسائل کے حل کیلئے 2ارب روپے کے فنڈ مختص کئے گئے ہیں۔ دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے مقامی سطح کی سکیموں کیلئے 3ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس کے تحت رابطہ سڑکیں سکولوں کالجوں میں سہولتیں فراہمی نکاس آب اور دیگر سکیمیں شروع ہوں گی۔ زراعت کے شعبہ میں آئندہ مالی سال میں 3ارب روپے خرچ کئے جائیں گے اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی طرف سے زرعی شعبہ کی مد میں 8ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ زرعی تحقیق کیلئے 21کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ 10اضلاع میں سبزیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کولڈ سٹور بنائے جائیں گے جن پر 35کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ لائیو سٹاک کے شعبے کی بہتری کیلئے ایک ارب 90کروڑ روپے کی لاگت سے نئی ترقیاتی سرمیاں شروع کی جائیں گی۔ جانوروں کی بیماری کی روک تھام کیلئے 2ارب 21کروڑ روپے کی لاگت سے 25اضلاع میں علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے 11ارب 30کروڑ سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔ جنگلی حیات اور ماہی پروری کیلئے 90کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے ائندہ مالی سال میں 30کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کیلئے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک ارب روپے سے قرضے دینے کا پروگرام شروع ہوگا۔ سڑکوں کی تعمیر کیلئے 17ارب 50کروڑ روپے، پبلک بلڈنگ کی تعمیر کیلئے 5ارب 23کروڑ روپے اور اربن ڈویلپمنٹ سیکٹر میں 6ارب 76کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ایک ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کیلئے حکومت پنجاب 10کروڑ روپے سے مری، کھیوڑہ، ننکانہ صاحب، اروڈ، اچ شریف جیسے سیاحتی مقامات اورتہذیبی ورثہ کے تحفظ پر خرچ کرے گی۔ چولستان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے 91کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ جنوبی پنجاب کیلئے 9ارب روپے کی لاگت سے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعلی سیکرٹریٹ کو آئی ٹی یونیورسٹی خواتین میں تبدیل کیا جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے آئندہ مالی سال میں 1ارب 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ پنجاب بھر میں ایمرجنسی سروس مہیا کرنے کیلئے 2ارب 50کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

غریب عوام کوگرین فوڈ سٹیمپ سکیم کے ذریعے ٢١ ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی ۔ میاں شہبازشریف



لاہور۔ وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف نے غریب عوام کیلئے گرین فوڈ سٹیمپ سکیم کیلئے 21ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی جبکہ ساڑھے چار ہزار سرکاری ہائی سکولوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے علاوہ صوبہ کی ہر تحصیل میں یتیم بچوں کیلئے دو ماڈل سکول قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات کا خامتہ اور بنجر زمین کی آبادکاری ہماری ترجیحات ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میاں شہبازشریف نے کہاکہ پنجاب بھر میں غریب لوگوں کیلئے فوڈ سٹمپ سکیم کا اجراء کیا جارہا ہے جس کیلئے بجٹ میں اگرچہ 17ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن عملا یہ سبسڈی 21ارب روپے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں ہیلتھ انشورنس کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں فری ادویات کے ساتھ ساتھ صحت کی دیگر سہولیتں بھی فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجوں سمیت تعلیمی اداروں میں داخلے میرٹ پر کئے جائیں گے اور جو طلبہ فیس ادا نہیں کرسکتے انہیں مفت کتابیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ آٹے میں سبسڈی دینے کے علاوہ سمگلنگ کو کنٹرول کیا جائے گا اور اس کی ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی پر بھی قابو پایا جائے گا۔ امن وامان کے حوالے سے سوال کے جواب میں میاں شہبازشریف نے کہاکہ ابھی مجھے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں میں بلند وبانگ دعوے نہیں کرتا لیکن عوام کو یقینی طور پر امن عامہ کی صورت پہلے سے بہتر نظر آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ جعلی ادویات کا خاتمہ اور بنجر زمین کی آبادکاری ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے بارہ ایکڑ زمین والے دس لاکھ کاشتکاروں کو شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے دس لاکھ گرین ٹریکٹر دیئے جائیں گے جن میں ہر ٹریکٹر پر ایک لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی جبکہ 60ہزار ایکڑ زرعی زمین کاشت کیلئے لیز پر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتوں کا تعین کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے تاہم پرائس کنٹرول کمیٹی کے ذریعے ان قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے گا اور مڈل مین یعنی آڑتھی کے کردار کو کم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی پر بھی اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے

صدر مشرف کی مثال اس گاڑی کی سی ہے جو حادثہ میں تباہ ہو گئی ہو صرف اس کا ریڈیو بج رہا ہو ، چوہدری اعتزاز احسن





ہری پور۔ سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے کہاہے کہ صدرمشرف کی مثال اس گاڑی کی سی ہے جو حادثہ میں مکمل طور پر تباہ اور تمام مسافر مر چکے ہوں صرف ریڈیو بج رہا ہو ۔ وہ آج ہری پور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر سعید اختر خان ایڈووکیٹ سے ان کی رہائش گاہ پر ان کے والد کی وفات پر تعزیت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے انہوں نے لانگ مارچ میں حصہ لینے پر ہزارہ کی وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ لانگ مارچ سے خیبر سے کراچی اور گلگت سے کوئٹہ تک عوام میں شعور اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں کو ججز کی بحالی کی اہمیت باور کرانے کے دونوں مقاصد حاصل ہوئے ہیں لانگ مارچ کے دوران لاکھوں عوام نے گھر بار اور کاروبار اور خواتین نے چولہے چھوڑ کر پارلیمنٹ ،تمام جماعتوں ، سول و فوجی بیورو کریسی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز ، خفیہ ایجنسیوں ، ایوان صدر اور صدر کے حامی امریکہ اور برطانیہ کو یہ باور کرادیا ہے کہ عوام عدلیہ کی بحالی کے کتنی شدت سے منتظر ہیں اگر اس کے بعد بھی کوئی یہ سوچ رہا ہے تو ججز کی بحالی اور عوام کی مرضی کے بغیر نظام چل سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیال ہے انہوں نے پی سی او ججوں سے مطالبہ کیاکہ وہ باضمیر ججوں کی بحالی میں رکاوٹ نہ بنیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا یا آرمی ہاؤس کا گھیرا لانگ مارچ کا ایجنڈا نہیں تھا بلکہ حکومت کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں وکلاء کا ایسا کرنے کا اعلان تھا ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے جبکہ گھیرا یا دھرنے کا فیصلہ کریں گے تو پوری قوت سے عملدرآمد بھی کریں گے مزید احتجاجی پروگرام تشکیل دئیے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ مشرف ’’پرکٹا پرندہ ‘‘ ہے اس سے کوئی خطرہ نہیں ۔ آئینی پیکج کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ حکومت یا کسی جماعت کی طرف سے انہیں باضابطہ طورپر تاحال آئینی پیکج دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔مزید ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ججز کی رہائی کی وزیراعظم کے چار لفظ میں ایک اعلان کے ذریعے ججز کو بحال کیاجا سکتاہے کسی ترمیم کی ضرورت نہیں حکومت نے معزول ججز کی تنخواہیں ادا کرنے اور ان کی تعداد میں اضافہ کی تجویز دے کر ان کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرلیا ہے جنرل (ر) پرویزمشرف نے ججز معطل اور ان کے بچوں کو کئی ماہ تک قید کر کے نہ صرف غیر آئینی بلکہ مجرمانہ فعل کیا ہے۔

لندن میں سینکڑوں افراد کا صدر بش کے دورے کے خلاف مظاہرہ ’’ جارج بش دہشت گرد‘‘ کے نعرے

لندن ۔ امریکہ کے صدر بش نے اگلے سال جنوری میں صدارت کے عہدے سے الگ ہونے سے پہلے برطانیہ کا اپنا آخری دورہ شروع کردیا ہے۔ بش نے ملکہ برطانیہ سے ان کے محل میں ملاقات کی اور پھر انہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ وزیر اعظم گورڈن براؤن اور ان کی اہلیہ کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ لندن میں ان کے دورے کے موقع پر سینکڑوں لوگوں نے ان کے خلاف احتجاج بھی کیا۔صدر بش جب برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچے تو وہاں کھڑے سینکڑوں مظاہرین نے بلند آواز میں شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ’جارج بش دہشت گرد‘ کے نعرے بھی لگائے۔ برطانوی حکام کی یہ کوشش ہے کہ صدر بش کے اس دورے کو ایسے سمجھا جائے جیسے کہ وہ اپنی صدارت کے خاتمے سے پہلے ایک طرح سے برطانیہ سے رخصت لینے آئے ہیں۔ اس سے پہلے صدر بش نے سکائی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں عراق میں معصوم شہری ہلاکت پر افسوس ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں عراق میں حملہ کرنا درست تھا۔ انہوں نے ایسے تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ عراق کے معاملے پر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

پہلی بار ہائیڈروجن کار ایجاد ، ایف سی ایکس کلیرٹی نامی گاڑی ہائیڈروجن گیس اور بجلی سے چلے گی اور صرف آبی بخارات خارج کرے گی

ٹوکیو ۔ جاپانی کار کمپنی ہنڈا نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی کمرشل کار کی پیدوار شروع کر دی ہے جس سے کسی بھی گیس کا اخراج نہیں ہوگا۔چار نشستوں والی ایف سی ایکس کلیرٹی نامی گاڑی ہائیڈروجن گیس اور بجلی سے چلے گی اور صرف آبی بخارات خارج کرے گی۔ ہنڈا کا دعویٰ ہے کہ یہ نئی گاڑی، پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی عام گاڑیوں کی نسبت تین گنا کم ایندھن خرچ کرے گی۔ کمپنی ابتدائی طور پر دو سو گاڑیاں تیار کرے گی جو اگلے تین برسوں میں لِیز پر دستیاب ہوں گی۔تاہم ایندھن کے ’خلیوں‘ سے چلنے والی اس قسم کی گاڑی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہائیڈروجن فراہم کرنے والے سٹیشنوں کی کمی ہے۔امریکی اداکارہ جیمی لی کرٹس اس گاڑی کو حاصل کرنے والے ابتدائی لوگوں میں ہوں گی۔یہ گاڑی جولائی سے کیلیفورنیا میں اور رواں سال کے آخر میں جاپان میں دستیاب ہو گی۔امریکہ میں ہنڈا کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر جان مینڈل کا کہنا ہے ’ایندھن کے خلیوں کی ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کی تاریخ میں یہ ایک اہم دن ہے اور ہم اس وقت سے ایک قدم اور قریب ہوگئے ہیں جب ایسے ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں عام ہوں گی۔ وہ امریکہ اور جاپان میں اس سال ’ایف سی ایکس کلیرٹی‘ کی کچھ درجن کاریں جبکہ اگلے تین برس میں ایسی دو سو گاڑیاں تیار کر لے گی۔ واضح رہے کہ ایف سی ایکس کلیرٹی، چھ سو ڈالر کے عوض ایک مہینے کے لیے لِیز پر مل سکے گی۔

PEMRA AWARDS LICENCE TO GEO ENGLISH NEWS/REITERATES ITS COMMITMENT TO PROMOTE & EXPAND PRIVATE ELECTRONIC MEDIA

ISLAMABAD:(Associated Press Service) Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (PEMRA) in its 49th Authority meeting held at Islamabad today took various significant decisions for promotion of private electronic media in Pakistan. The Authority awarded licences to Business plus, Wikkid plus, Geo English News, ARY Shopping Channel, Aruj TV and Asset Plus Channels. It also granted non- commercial FM Radio license to the Government College University, Faisalabad. Besides, PEMRA gave approval for issuance of 81 CTV licences.
The Authority while examining the current status of electronic media in Pakistan, reiterated its commitment to promote and expand private electronic media in Pakistan so that every one enjoys access to information. The Chairman, PEMRA Mr. Malik Mushtaq, resolved to maintain a level playing ground for all media operators. For that purpose, Licence fee for Cable TV networks operating in rural areas category was reduced in order to proliferate facility in those areas.
Secretary, Ministry of Interior Syed Kamal Shah and other members including Dr. Seemi Naghmana, Samar Minallah, Dr. Najma Najam besides Chairman PEMRA Mr. Malik Mushtaq and Executive Member Ahmed Mahmood Zahid, attended the meeting.

Howzzat! Rani takes cricketing lessons




Mumbai: After playing an angel in "Thoda Pyaar Thoda Magic", actress Rani Mukerji is all set to do another unconventional role - she plays a cricketer in Yash Raj Films' next venture and is busy practising on the field! "I don't know if any actress has played a cricketer before. But I'm playing one for sure. In fact, I've been learning cricket regularly on the field for the past two months. I can most certainly play the game convincingly now, though not as good as professionals yet. It's a very big challenge for me," Rani told IANS from her swanky new home here. So is she equipped to join the Indian Premier League now (IPL) now? "I don't know about that. But I'm definitely enjoying it. My practical sessions are on in full swing." She will also for the first time be paired opposite Shahid Kapur in the film that will be directed by debutant Anurag Singh. Rani says she is hungry for new roles. "At this stage of my career I feel I need new challenges. When Kunal Kohli offered me an angel's role, I was kicked. I don't now of any actress who has played an angel before. "Also, for the first time I was playing a character who couldn't cry. Now they can stop saying Rani cries so much in all her films. It was pretty cool to play a character who actually doesn't know how to cry and who had to fly around like Hrithik (Roshan) in 'Krrish'." Being suspended on a harness, she says, was not easy. "It required a lot of physical strength to assume the correct 'flying' posture on the harness. I guess it'd be equally difficult for me to look convincing as a cricketer. But I'm glad to be doing work with challenges." So is she ok working with a first-time director? "It isn't as if I haven't worked with new directors before. I was in Shaad Ali's first film 'Saathiya', remember? And Kunal Kohli started his career with me in 'Mujhse Dosti Karoge'," she quipped. After an angel and a cricketer what would Rani like to play? "Maybe an astronaut like Kalpana Chawla. And I'd also love to play a doctor. I've never done that before. Come to think of it I've never worked with Shahid Kapur before either. I'm doing so now." Isn't there a danger of her being branded a resident Yash Raj heroine since all her recent films have been with that banner alone? "Why? Wasn't 'Saawariya' with Sanjay Leela Bhansali? And if Yash Raj is making some of the best films in our country why should I keep out just because people are talking? "Incidentally, my marriage date Feb 10 (as reported by some media) has come and gone. Would mediapersons like to set another date for me so I can start getting my trousseau ready?"