International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, June 18, 2008

سچ کی تلاش میں جان دینے والے صحافیوں کی یادگار واشنگٹن ڈی سی میں قائم ، واشنگٹن کے میوزیم کی دیوار پر کئی پاکستانی صحافیوں کے نام درج ہیں



واشنگٹن ۔ سچ کی تلاش میں جان قربان کرنے والے صحافیوں کی ایک یادگار واشنگٹن ڈی سی میں قائم کی گئی ہے جو اس شہر کے سب سے جدید نیوز میوزیم کا حصہ ہے۔ نیوزیم کے سینئیر ایڈیٹر ڈان راس کے مطابق خطرے سے جان بچا کر بھاگنا ایک فطری رد عمل ہے مگر گوشت پوست کے انسانوں میں چند کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جو خطرے سے دور نہیں بلکہ خطرے کی طرف بھاگتے ہیں۔ یہ تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، پولیس مین ،فائر مین اور جرنلسٹ۔ جرنلسٹ میموریل کی دیوار پر ان ایک ہزار آٹھ سو تینتالیس صحافیوں کے نام درج ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو قربان کرنے کے بجائے اپنی جان قربان کرنا مناسب سمجھا۔ یہاں موجود تصویریں صحافت کے پیشے کی حقیقی قیمت ادا کرنے والے انہی صحافیوں کی ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہیںکہ میڈیا کی ترقی نے سچ کا سفر تیز تر اور صحافیوں کے لئے خطرات میں اضافہ کر دیا ہیڈان راس کے مطابق اس دیوار پر سب سے پہلا نام جس صحافی کا ہے وہ 1837 میں مارا گیا تھا۔ ۔ اس وقت سے 2000 تک کے زمانے کے درمیان جو نام ہیں ان کی تعداد خاصی کم ہے۔ مگر 2000 کے بعد یہ تعدادبہت زیادہ نظر آتی ہے۔جرنلزم میموریل کے سینئیر ایڈیٹرڈان راس کہتے ہیں کہ جب کسی صحافی کو جان بوجھ کر مارا جاتا ہے تو نیوز کے بزنس میں یہ بڑی خبر ہوتی ہے ،اور آج کے زمانے میں چھپ نہیں سکتی۔ ڈان راس مانتے ہیں کہ اٹھارویں صدی سے سن 2000 کے عرصے کیدوران مرنے والے صحافیوں کی کم تعداد اورگزشتہ آٹھ سالوں میں اس تعداد میں اچانک ریکارڈ کئے گئے۔ اضافے کی ایک وجہ خبروں کی ترسیل کے زیادہ برق رفتار اور ترقی یافتہ ذرائع ہوسکتے ہیں مگران کا کہنا ہے کہ عراق جنگ کے آغاز کے بعد سے صحافیوں کا منہ بند کرانے کی خواہش میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2007 میں مرنے والے 90صحافیوں میں سے30 عراق جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ڈان راس کہتے ہیں کہ اس جنگ کا پچھلی جنگوں سے فرق یہ ہے کہ اب صحافیوں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہیکیونکہ مختلف عناصر نہیں چاہتے کہ سٹوری باہر نکلے۔ ورلڈ وار ٹو اور ویت نام جنگ کے زمانے میں کوئی صحافیوں کی جان کا دشمن نہیں بن گیا تھا مگر اب ایسا کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی زبان بند کی جائے۔میموریل کی دیوار پر نام درج کرانے کی شرط بڑی سخت ہے۔ ڈان راس کہتے ہیں کہ اگر آپ صحافی ہوتے ہوئے ہارٹ اٹیک یا ٹرک کی ٹکر سے مرنے کا سوچ رہے ہیں تو میموریل کی دیوار پرآپ کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اس دیوار پر نام درج کرانے کے لئے صحافی کی موت اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہونی ضروری ہے۔ مگر اس میموریل پر اپنی عقیدت کا خراج پیش کرنے والوں کی رائے کچھ ملی جلی سی ہے۔ جبکہ صحافیوں کو غیر ضروری خطرات سے بچنے کی تلقین کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔دو ہزار کے لگ بھگ صحافیوں کی اس یادگار میں پاکستانیوں کا حصہ کتنا ہے ؟کیا پاکستانی صحافی زیادہ خطرناک صورتحال میں کام کر رہے ہیں ؟ ڈان راس کہتے ہیں کہ پاکستان میں1965 کے بعد سے اب تک 29 صحافی مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پاکستانی صحافی تھے اور شاید ایک دو پاکستانی نہیں تھے۔ لیکن صحافیوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے ڈان راس کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسا ملک نہیں ہے جہاں پرمیں رپورٹنگ کرنا چاہوں گا۔ 1994 میں پاکستان میں دو صحافی مارے گئے تھے۔ 2000 میں ایک ، 2002 میں دو اور2007 میں چھ پاکستانی صحافی مارے گئے۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس سال کے دوران بھی کچھ پاکستانی صحافی مارے جا چکے ہیں اور ڈان راس کا کہنا ہے کہ جو ریکارڈ ہمارے پاس ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس سال کے آخری صحافی نہیں ہونگے۔میموریل کی دیوار پرجہاں 2007 میں شمالی وزیرستان میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی حیات اللہ خان سمیت کئی ایشیائی صحافیوں کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہاں پاکستانی نیوز چینل اے آر وائے کے کیمرہ مین محمد عارف ،روزنامہ مرکز کے جاوید خان ،فری لانس فوٹوگرافر محبوب خان ،روزنامہ پاکستان کے نور حکیم خان،روزنامہ اسلام کے مسعود محمود ،روزنامہ جنگ کے زبیر احمد مجاہد اورچشتی مجاہد کے نام بھی واشنگٹن ڈی سی کے اس جرنلزم میموریل پردرج ہو چکے ہیں

نوازشریف ، زرداری ملاقات بے نتیجہ ، ڈیڈ لاک جاری



لاہور۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کے درمیان رائے ونڈ میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ججوں کی بحالی کے معاملہ پر دونوں جماعتوں کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کے قائدین اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے بعد 20جون بروز جمعہ دوبارہ ملاقات کریں گے۔ ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف، ، راجہ ظفر الحق، مخدوم جاوید ہاشمی، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، سردار یعقوب ناصر، احسن اقبال،خواجہ سعد رفیق، فوزیہ آمنہ جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے جہانگیر بدر، رحمن ملک، راجہ ریاض احمد، عزیز الرحمن چن، چودھری غلام عباس، فوزیہ حبیب اوررخسانہ بنگش نے شرکت کی۔ اجلاس کے تین نکاتی ایجنڈا معزول ججوں کی بحالی، مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور صدر پرویز مشرف کے مواخذہ پر تفصیلی بحث کی گئی۔ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ معزول ججوں کو آئینی پیکج کے ذریعے بحال کیا جائے۔ جب تک حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اکثریتی ارکان کا تعاون حاصل نہیں ہوجاتا صدر مشرف کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش نہ کی جائے اور مسلم لیگ (ن) کے وزراء کیبنٹ میں واپس آجائیں تاکہ حکومتی امور کو بہتر طور پر چلایا جاسکے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) ججوں کی بحالی سے متعلق اپنے موقف پر قائم رہی اور میاں نوازشریف نے آصف علی زرداری پر واضح کیا کہ ججوں کی بحالی مری ڈکلریشن کے تحت قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری اور انتظامی حکم کے ذریعے فوری طور پر ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جج بحال نہیں ہوتے مسلم لیگ (ن) کے مستعفی وزراء واپس نہیںآئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے 18فروری کو ہمیں معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے مینڈیٹ دیا تھا اور ہم نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کے بعد ہماری پہلی ترجیح معزول ججوں کی بحالی ہوگی۔ مسلم لیگ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے اور آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ ہم کسی بھی صورت ججوں کی بحالی کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ تاہم میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومتی اتحاد قائم رہنا چاہئے کیونکہ اگر اس اتحاد کو نقصان پہنچا تو اس کا فائدہ مشرف اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو پہنچے گا۔ پرویز مشرف موجود رہے تو جمہوریت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکے گی اور نہ ہی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اتحاد کو برقرار رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو درپیش موجودہ بحران میں مسلم لیگ (ن) دو اہداف پر کام کررہی ہے جن میں سرفہرست عدلیہ کی دو نومبر 2007ء کی حالت میں بحالی اور پاکستان میں رول آف لاء کی عملداری قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اعلان مری کے تحت معزول ججوں کی بحالی پر قائم ہیںجو اعلان مری کے تحت ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عوام نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سیاسی جماعتوں کو سپلٹ مینڈیٹ دیا۔ ہم ٹرانزیشن پیریڈ سے گزر رہے ہیں اگر اس وقت حکومتی اتحاد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کا فائدہ پرویز مشرف اور جمہوریت مخالف قوتوں کو ہوگا جو پاکستان میں جمہوریت کو پنپتا نہیں دیکھنا چاتیں اور ایوان صدر میں بیٹھ کر سازشیں کررہی ہیں لیکن ہم انہیں ان کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے اور پوری شدت کے ساتھ اعلان مری پر عملدرآمد کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف جس قدر جلد رخصت ہوجائیں وہ قوم اور ملک کیلئے بہتر ہے کیونکہ ان کی موجودگی میں جمہوریت کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ملک میں نہیں آئے گی۔

عدلیہ بحال نہ کی گئی تو آصف علی زرداری کے اربوں روپے کے معاف کئے گئے قرضے بے نقاب کریں گے ۔قومی کانفرنس سے خطاب



اسلام آباد ۔ آل پارٹینر ڈیموکریٹک موومنٹ نے 2 نومبر 2007 ء کی پوزیشن پر عدلیہ بحال نہ کئے جانے کی صورت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے اربوں روپے کی کرپشن کے واپس لئے گئے مقدمات قوم کے سامنے بے نقاب کرنے کی دھمکی دے دی ۔ اے پی ڈی ایم نے ججز کی بحالی ‘ لاپتہ افراد کی بازیابی ‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی‘ سانحہ 12 مئی اور اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات اور آئین کی 12 اکتوبر 1999 ء کی پوزیشن پر بحالی کے مطالبات کرتے ہوئے آئندہ کے روڈ میپ میں سول نافرمانی کی تحریک اسلام آباد میں بڑی سیاسی سرگرمی کی تجویز پش کر دی ۔ اے پی ڈی ایم کے تحت ججز کی بحالی کے حوالے سے قومی کانفرنس اسلام آباد میں شروع ہو گئی ہے ۔ جس میں 100 سے زائد راہنما شریک ہیں ۔ قومی کانفرنس سے اپنے خطاب میں اے پی ڈی ایم کے کنونیئر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان انتہائی خطرناک بحرانوں میں مبتلا ہے ہر پاکستانی سے درخواست ہے کہ مل بیٹھ کر پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے ۔ ملک پر بدترین الزامات لگ رہے ہیں ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کرنے ‘دہشت گردوں کی سرپرستی مطلوب افراد کی موجودگی ‘ ہمسایہ ممالک میں مداخلت کے الزامات لگ رہے ہیں ۔ پاکستان کو سچ اور سچ سے بچا سکتے ہیں اے پی ڈی ایم میں فوج کے سیاسی مداخلت کے خاتمے ‘ آئین کی بحالی ‘ آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن کے تحت صاف شفاف انتخابات کے عدلیہ کی بحالی کے چار نکات پر اتفاق ہے ۔ 60 سال میں وہ ملک نہ بنا سکے جس کا تقاضا ہے ۔ اختلافات نفرت اور دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں فاٹا اور بلوچستان میں فوج کشی ہو رہی ہے ۔ قومی کانفرنس میں بحرانوں کا حل نکالا جا سکتا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دنیا بھر کی دہشت گردی کے الزامات ہم پر لگ رہے ہیں بحران حل نہ ہوئے تو معمولی غلطیوں کی وجہ سے ملک کو گہرائیوں میں جھونکنے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحرانوں کی نشاندہی پرہمیں امریکی ایجنٹ نہ کہا جائے ۔ پاکستان میں امریکی موجودگی کے مخالف ہیں ۔ لیکن امریکہ کو اسلامی دنیا نے سپورٹ دی عراق کی تباہی میں اسلامی ممالک امریکہ کے ساتھ ہیں ۔ اسلامی ممالک نے امریکہ سے کہا کہ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دو ۔ کس اسلامی ملک میں ڈکیٹر نہیں ہے ۔ ایران کو غلطی کا احساس ہوا ہے کہ عراق میں بیرونی جارحیت کی حمایت کر کے غلطی کی ۔ عوام سے وعدہ کرنا ہو گا کہ امریکہ کے لئے کسی کے خلاف آلہ کار نہیں بنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خودمختار ملک جب بنے گا جب یہاں کا ہر شہری خود کو غلام نہ سمجھے ۔ انصاف کا بول بال ہو ۔ وسائل پر قوموں کا حق تسلیم کیا جائے ۔ہمیشہ یہ ملک زندہ باد رہے گا وقت بہت تھوڑا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ امریکہ کے خلاف روس چین سے مدد نہیں لینی چاہئے ۔ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا ۔ امریکہ کو رپورٹس دی گئیں کہ القاعدہ افغانستان ‘ ترکمنستان ‘ تاجکستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ اے پی ڈی ایم امید کی آخری کرن ہے ۔ دفاعی آئینی کمیٹیاں بنا کر ایک اور قومی کانفرنس منعقد کر کے بحرانوں کے حل تجویز کئے جائیں ۔ وکلا ء کی تحریک کو بچانا ہے اس کو ہر قسم کی سپورٹ دے کر مثبت جذبوں میں تبدیل کرنا ہے ۔ وکلاء اور سیاسی جماعتیں مل کر تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں یہ تحریک ایک شخص کے خلاف نہیں ہے ۔ پرویز مشرف کو تو جانا ہو گا ۔ گو مشرف گو 16 کروڑ عوام کا نعرہ بن گیاہے ۔ پرویز مشرف کا جانا ٹھہر گیا ہے آئینی سوالات حل کرنا ہوں گے ۔قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہاہے کہ قومی کانفرنس کا مقصد اے پی ڈی ایم کے مقاصد جن پر عمل کرنے سے ملک ٹھیک ٹریک پر چلے گا کا جائزہ لینا ہے۔ فوج آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرے ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے تو ملک دستور کے مطابق چل سکے گا ۔ آئین قومی میثاق ہے ۔ نظریاتی ملک ہے ۔ اللہ کی حاکمیت قرآن و سنت کی پابندی کو آئین کے تحت تسلیم کیا گیا ہے سب کا اتفاق ہے کہ اسلامی نظریے کی بنیاد پر ملک کو چلائیں گے ۔ صوبوں کو خود مختاری حاصل ہو گی عدلیہ آزاد ہو گی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا ۔ اسلامی اصولوں کے مطابق خواتین کو معاشرے میں امتیازی مقام ملے گا۔ باقی ماندہ پاکستان کو متحد رکھنا چاہتے ہیں۔ دستور اپنی اصل شکل میں موجود ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ دستور کو 12 اکتوبر 1999 ء سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔ وفاقی آئین کے بجائے اسے صدارتی آئین بنا دیا گیا ہے ۔ فوجی مداخلت کے راستے کو بند کرنے پرویز مشرف کے استعفی تمام جماعتوں کی اشتراک سے خود مختار الیکشن کمیشن کی تشکیل پر سب کا اتفاق تھا ۔نواز شریف نے وطن آنے کے بعد کہا تھا کہ پرویز مشرف کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔ملک میں آزادانہ انتخابات نہیں ہوں گے ۔کسی ڈیل کے نتیجے میں انتخابات میں دھاندلی ہوئی جس کی وجہ سے ملک بند گلی میں ہے اور سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کو فراموش کر دیا ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی ، صوبائی کی خود مختاری کے لئے منافقت کو چھوڑ کر آئینی اصولوں کے مطابق ملک کو چلایا جائے ۔ قومی خود مختاری اورآزادی کا تحفظ ہی ہمارا فرض ہے ۔ پوری دنیا میں خود مختاری آزادی کو چھیننے اور حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والا امریکا ہے جو پاکستان کے ہر ادارے میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔پوری دنیا میں خطرات اور فساد امریکی مہم جوئی کا نتیجہ ہے ۔قاضی حسین احمد نے کہاکہ سچ بحرانوں کاعلاج ہے ۔ امریکا غاصب اور ظالم ہے ۔ پاکستانی قوم کو ظلم کی مزاحمت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتوں کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ امریکا کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے خودمختاری و آزادی سے دستبرداری ہو گئیں ۔ بلوچستان اور سرحد کو گیس اور بجلی کی عدل و انصاف کے مطابق رائلٹی ملنی چاہیے ۔صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے۔ چھوٹے صوبوں کو اولیت ملنی چاہیے ۔ انصاف و عدل نہ ہونے کی وجہ سے ملک خطرے میں ہے۔ حکمرانوں اور سٹیبلشمنٹ نے کبھی انصاف نہیں کیا ۔ حق مل جائے کوئی ملک کا مخالف نہیں ہے۔ ہم استعمار کی بالادستی کو قبول نہیں کرتے ۔ امریکا چاروں طرف سے گھیرے میں ہے ۔ روس کی طرح وہ گرفت میں ہے ۔ اس لیے اپنی قوم کو ڈرانے کی بجائے حوصلہ دینے کی ضرورت ہے لانگ مارچ کے ذریعے سے قوم نے بتا دیا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔ عوام ججز کی بحالی چاہتے ہیں ۔ بغیر کسی ٹال مٹول کے عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں ۔ ججز کو سرنگوں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سازشیں ہو رہی ہیں 3 نومبر 2007 ء کے پی سی او کو ناجائز قرار دیا جائے اس کے لیے چیف ایگزیکٹو آڈر کیا جائے ۔یہ غیر قانونی نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی امنگوںکو پورا کرتے ہوئے ججز کو بحال کر دے ۔ امریکا کو خطرہ ہے کہ چیف جسٹس بحال ہو کر لا پتہ افراد کے بارے میں پوچھے گا ۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری لا پتہ افراد کے وکیل بن گئے ہیں ۔ پاکستان امریکا کا عقوبت خانہ ہے ۔ اپنے لوگوں کو ایجنسیوں نے پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا یہ اسلام آباد میں بھی ہو رہا ہے ۔ عقوبت خانوں میں امریکیوں کی موجودگی میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے ۔ سپریم کورٹ یہی پوچھ رہی تھی ۔ امریکا کی نظر میں عدلیہ کا یہ جرم ہے ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی قومی مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر بریگیڈ کے حملے کا کیا جواز تھا۔ مدرسہ خون سے رنگین کر دیاگیا ۔ حکومت بتائے کسی ایک دہشت گرد کو پکڑا گیا ۔ لال مسجد اپریشن پرویز مشرف کے جرائم میں ایک بڑا جرم ہے۔ آزاد عدلیہ سے خطرہ تھا کہ وہ لال مسجد اپریشن کا پوچھے گی ۔ اسی لیے چیف جسٹس کو ہٹایا گیا ۔عوام بارہ مئی کے قتل عام کے ذمہ داران کا پوچھتے ہیں جسے پرویز مشرف نے عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا ۔ اکبر بگٹی پاکستان کے لیے خطرہ نہیں تھے ۔ قومی کانفرنس ، ججز کی بحالی ، لاپتہ افراد کی بازیابی ، دستور کی بحالی ، اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات ، وزیرستان اپریشن سانحہ بارہ مئی ،ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نظر بندی کے خاتمے کے مطالبے اٹھنے چاہئیں ۔امریکا ایٹمی صلاحیت ، اسلامی نظریے ختم کرنے کے درپے ہے عوام کو اے پی ڈی ایم سے توقعات ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا کہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ انتخابی بائیکاٹ درست فیصلہ تھا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری دیگر ججز کی بحالی پرویز مشرف کی رخصتی دونوں مسائل انتخابات سے حل ہو جاتے تو ملک میں یہ بحران نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ اور شوکت عزیز کے بجٹ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ساری ٹیم شوکت عزیز کی بیٹھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے انتخابات بائیکاٹ کی قرار داد منظور کی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اے پی ڈی ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ملک کو ہمیشہ سیاسی جماعتیں قیادت دیتی ہیں ۔ میر جعفر اور میر صادق نے حقیقی قیادت کو سامنے آنے سے روکا اگر وکلاء کی جدوجہد نہ ہوتی تو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پاکستان نہ آ سکتے ۔ ان کی جماعتیں ( ق ) لیگ میں بیٹھی ہوتیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت نے قوم کو مایوس کیا۔ لانگ مارچ پر وکلاء کو مبارکباد دیتے ہیں ۔عمران خان نے کہاکہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک ہر پاکستانی کی تحریک ہے ۔ پاکستان میں جنگل کا قانون ہے۔ انتخابات کا مقصد 3 نومبر 2007 ء کے اقدامات کا جائز قرار دینا تھا۔ وزیرستان اور بلوچستان میں فوج کشی ہوئی ۔ اسلام آباد میں 900 ارب کا جی ایچ کیو بن رہا ہے بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔ تعلیم کے لیے صرف دو فیصد بجٹ مختص کیا گیا ۔ ہتھیاروں پر اخراجات سے ملک کو نہیں بچایا جاسکتا ۔ حقیقی جمہوریت آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے۔ ملک اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے ۔ عوام تبدیلی کے لیے تیار ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ منافقت کی انتہا ہو رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وقت آ گیاہے کہ منافقوں کو بے نقاب کیا جائے ۔ دشمن کی پہچان کرنا ہو گی۔ آصف زرداری روز عدلیہ کی آزادی کے بیانات دیتے ہیں مگر تجویز عدلیہ کی بربادی کی دی جاتی ہے ۔ایسے ججز کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جنہوں نے اپنی عدلیہ سے غداری کرتے ہوئے ایک آمرسے حلف لیا۔ اتفاق رائے سے اسلام آباد میں حقیقی آزادی کے دن کا روڈ میپ دیا جائے ۔اسلام آباد میں جمع ہوں ۔ اس وقت تک اسلام آباد میں رہیں جب تک دو نومبر کی عدلیہ بحال نہ ہو ۔آئینی پیکج ڈرامہ اور دھوکہ ہے۔ الٹی میٹم دینا چاہیے روڈ میپ کے تحت آخر میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے ۔ عوام تبدیلی چاہتے ہیں ۔ کرپٹ عناصر آزاد عدلیہ نہیں چاہتے ۔ واضح کیا جائے کہ اگر عدلیہ بحال نہیں کی جاتی تو آصف زرداری کی کرپشن کے تمام مقدمات قوم کے سامنے بے نقاب کر دیں گے ۔ یہ کیسز ہمارے پاس موجود ہیں ۔ آصف زرداری کے مقدمات معاف کرنے کے لیے حکومت نے پچاس کروڑ روپے خرچ کئے ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ کرپٹ ٹولے نے اربوں روپے کی کرپشن کی باہر سے آ کر یہ دو نمبر لوگ حکومتی عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں مخدوم امین فہیم جیسے اہل لوگ الگ ہو کر بیٹھے ہیں ۔

آزاد جموں وکشمیر کے ٢٩ ارب ٩٧ کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس فری بجٹ کا اعلان

نئے مالی سال کے بجٹ میں ریاستی سطح کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا وزیر خزانہ راجہ نثار احمد خان کی مکمل بجٹ تقریر
مظفرآباد ۔ مالی سال 2008-09کے لیے آزاد جموں وکشمیر کے 29ارب 97کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس فری بجٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 9ارب 55کروڑ 50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جومجموعی طور پر2007-08کے ترقیاتی میزانیہ کے مقابلے میں 20فیصد زائد ہے۔اگلے سال کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 92فیصد مقامی وسائل اور 8فیصد بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔بجٹ میں جاریہ اخراجات کا تخمینہ 20ارب41کروڑ 70لاکھ روپے جبکہ ریاست کی مجموعی آمدن کا تحمینہ15ارب 81کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔بجٹ میں 4ارب 60کروڑروپے کا خسارہ حکومت پاکستان کی مالی امداد سے پورا کیا جائے گا۔ اگلے مالی سال میں آمدنی از ریاستی وسائل7ارب50کروڑ رپے، رائلٹی منگلا ڈیم77کروڑ 90لاکھ روپے،آزاد جموں وکشمیر کونسل سے حصہ 2ارب43کروڑ 80لاکھ روپے اوروفاقی ٹیکسوں سے حصہ5ارب10کروڑ روپے ہوگا۔بجٹ اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سردار طاہر فاروق احمد نے کی۔آزادکشمیرقانون ساز اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ راجہ نثار احمد خان نے کہاکہ اگلے مالی سال کے دوران مجموعی ترقیاتی میزانیہ سے32فیصد رسل ورسائل ،14فیصد لوکل گورنمنٹ، 12فیصد برقیات،11فیصد بیرونی امداد سے روبہ عمل منصوبہ جات پر خرچ ہوں گے ۔بحالی وتعمیر نو پروگرام: وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے زلزلہ سے متاثرہ شہر مظفرآباد کو ممکنہ حد تک بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے کا عزم رکھتی ہے ۔ جس کے مطابق ماسٹر پلان کی تیار کر لیا گیا ہے جس کیلئے 21ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ ماسٹر پلان کے منصوبہ پر بہت جلد کام شروع کر دیا جائے گا ۔اس کے علاوہ باغ شہر کی جدید تعمیر کیلئے 7ارب 34کروڑ روپے اور راولاکوٹ شہر کیلئے 8ارب 20کروڑ روپے کے منصوبے منظور ہو چکے ہیں ۔مظفرآباد ، باغ اور راولاکوٹ کو قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبہ جات پر جلد عملدرآمد موجودہ حکومت کے بڑے کارناموں میں شمار ہوتے ہیں جس کیلئے ہم حکومت پاکستا ن کے ممنون ہیں ۔ بحالی وتعمیر نو پروگرام کے تحت اگلے مالی سال کے دوران 15ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے100 فیصد متاثرین زلزلہ کو مکانیت فراہم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تعلیم، صحت عامہ اور فراہمی آب کے سکمیں مکمل کی جائیں گئی۔ جبکہ زلزلہ سے متاثرہ ایشین ڈیلپمنٹ بینک کے تعاون سے285کلومیٹر بڑی شاہرات کے منصوبوں پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ شہر کی ماسٹر پلاننگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ مائیکرو پلاننگ کا کام جاری ہے جبکہ ان شہروں کی تعمیر وترقی کے لیے37ارب کے منصوبہ جات منظور ہوچکے ہیں۔ مواصلات:وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ مواصلات کے شعبہ کے لیے اگلے مالی سال کے دوران 3ارب8کروڑ 70لاکھ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے ۔ اگلے مالی سال کے دوران436کلومیٹر سڑکیں مکمل کی جائیں گی۔اس سیکٹر میں تعمیرات عامہ (نارتھ،ساوتھ)کشمیر ہائی وے اتھارٹی CDOاور ترقیاتی ادارہ جات کے تحت چلنے والے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات کے تحت ڈبل لین ،میجر روڈز ، رابطہ سڑکیں اور آر سی سی پل ہا کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی:راجہ نثار احمد خان نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے آئندہ مالی سال میں ایک ارب35کروڑ 50لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں20کروڑ روپے کی عالمی بینک کی امداد بھی شامل ہے۔رواں مالی سال کے دوران 662واٹر سپلائی 335کلومیٹر سڑکات کی تعمیر وکشادگی ، 45عمارات کی مرمتی وتعمیر ،14عدد کنوؤں کی تعمیر کے منصوبہ جات مکمل کیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے“Clean Drinking Water for All”کے منصوبے کے تحت 223فلٹریشن پلانٹس آزاد کشمیر کو مہیا کر دئیے ہیں جن سے عوام کوپینے کا صاف پانی میسر ہوگا۔برقیات!ہائیڈرل پاور جنریشن: برقیات کے شعبے کے لیے اگلے مالی سال کے دوران ایک ارب 21کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں8فیصد زیادہ ہے۔مالی سال 2007-08کے دوران 445000سے زائد صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے گئے ہیں 2009تک 100فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت فراہم کر دی جائے گی۔موجودہ حکومت نے اس شعبہ میں اپنے وسائل اور حکومت پاکستان کی خصوصی مدد سے تقریباً2ارب روپے سے زائد مالیت کے نئے پراجیکٹس کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے جس میں سے بیتاڑ تحصیل کہوٹہ ،شاردہ ضلع نیلم، شاریاں ضلع مظفرآباد، دھنہ ضلع کوٹلی ،ہلاں ضلع باغ، رنگڑضلع پونچھ اور ہلمت ضلع نیلم قابل ذکر ہیں۔ ان پراجیکٹس کی کل استعداد تقریباً17MWہے۔ان پراجیکٹس کی تکمیل سے جہاں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا وہاں مقامی آبادی کو روزگار کے بہتر وسائل میسر ہونے کے علاوہ حکومت کو سالانہ15کروڑ روپے کی آمد ن ہو گی۔حکومت پاکستان نے آزادکشمیرمیںبجلی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے 969 میگا واٹ نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ جہاں آزادکشمیر کی جملہ بجلی کی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوگا وہاں یہ پراجیکٹ آزادکشمیر کی معاشی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔84ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس منصوبہ سے معاشی ترقی کے علاوہ کم از کم 5ہزار افراد کو روزگار کے وسائل دستیاب ہوںگے۔ ملٹی سیکٹر رہیبیلیٹیشن اینڈ امپرومنٹ پراجیکٹ!کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام:وزیر خزانہ راجہ نثار احمد خان نے ایوان کو بتایا کہ بیرونی امداد سے جاری منصوبہ جات جن میں آزاد جموں وکشمیر ملٹی سیکٹر رہیبیلیٹیشن اینڈ امپرومنٹ پراجیکٹ کے لیے 68کروڑ 50لاکھ روپے جبکہ آزاد کشمیر کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 39کروڑ 50لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت آئندہ مالی سال میں مزید 116کلومیٹر سڑکوں جن میں سمروٹ پوٹھی گلی! تتہ پانی وشاردہ تا کیل روڈز شامل ہیں کے ٹینڈر ہو چکے ہیں انہیں مکمل کیا جائے گا۔ ان منصوبہ میں زراعت ، تعلیم ، صحت و دیہی ترقی اور ہائیڈل پاور کے شعبہ جات شامل ہیں ۔مقامی آبادی کے تعاون سے ا یسی سکیموں پر عملدرآمد کیا جائے گا جن کی نشاندہی و یہی تنظیمیں اپنی ضرورت کے مطابق کریں گی ۔آزاد جموں و کشمیر میں ایشیائی بنک کی مالی امداد سے زیر عمل منصوبہ (MSRIP)کیلئے 68کروڑ 50لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے اس منصوبہ کے تحت سڑکیں ، ہسپتال اور سکولوں کی تعمیر کے علاوہ بجلی اور آب رسانی کے نظام میں بہتری کیلئے کام کیے جائیں گے ۔تعلیم:وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے آئندہ مالی سال میں تعلیم کے فروغ کے لیے64کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جس کے تحت مختلف سطح کے 107تعلیمی اداروں کی عمارات مکمل کی جائیں گی۔اس کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے جاریہEEAPپراجیکٹ کے تحت 293مڈل سکولوں میں 164کی تعمیر کے لیے کام ایوارڈ ہو چکا ہے جبکہ بقیہ 124مڈل سکولوں کی تعمیر کے لیے بھی عنقریب ورک ایوارڈ کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک کے تعاون سے331پرائمری سکول تعمیر کیے جائیں گے جن میں سے116سکولوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سرسبز وہنرمند کشمیر پروگرام:وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے ویثرن سرسبز وہنرمند کشمیر پروگرام پر عملدرآمد کرنے کے لیے آئندہ مالی سال میں 8.8ارب روپے کے منصوبہ وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کردیا ہے جو اس حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔آزادکشمیر کے سرحدی علاقہ جات میں کثیرالمقاصد تعمیر وترقی کے لیے11ارب روپے کا پیکج بھی وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کر دیا ہے جس سے آزادکشمیر کے بارڈر ایراء کے 13متاثرہ دیہات کوبنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہائیڈرل پاور جنریشن کے 4بڑے منصوبہ جات جن سے 64.4میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکے گی کو بھی وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام سے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس طرح آزادکشمیرمیں مجموعی طور پر 29ارب روپے کے منصوبہ جات کے لیے وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام سے تقریباً ایک ارب50کروڑ روپے کے فنڈز دستیاب ہوں گے۔صحت عامہ:وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان کو بتایا کہ آزاد کشمیر کی عوام کو بہترطبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت اگلے مالی سال کے دوران 40کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ جو موجودہ مالی سال سے 18فیصد زیادہ ہیں۔ جس سے 100بستروں کے تین ہسپتال ،50بستروں کے 4تحصیل ہسپتال اور 3دیہی طبی مراکز کی عمارات تعمیر کی جائیں گی۔ عباس انسٹیٹیوٹ میں توسیع کے لیے مزید 200کنال اراضی خریدی جائے گی۔ حکو مت پاکستان کی جانب سے ایک لاکھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کے اعلان کے نتیجہ میں آزادکشمیر کو حصہ کے طور پر 2ہزار 500لیڈی ہیلتھ ورکرز کی آسامیاں دستیاب ہوں گی جس سے تربیت یافتہ خواتین کو روزگار ملنے کے علاوہ دیہی علاقوں میں صحت کے شعبہ میں خاطر خواہ بہتری پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران ڈسٹرکٹ ہسپتال بھمبر ،ضلعی ہسپتالوں میں ڈائیلسز سینٹرز ،ضلعی ہسپتال کوٹلی کے ہمراہ ڈاکٹر وپیرا میڈیکل ہاسٹل ،ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میرپور اور محفوظ انتقال خون کے منصوبہ جات کی تکمیل کی تجویز ہے۔جنگلات:وزیر خزانہ نے کہا کہ جنگلات آزادکشمیر کی معشیت میں ایک اہم کردار اداء کرتے ہیں۔حکومت جنگلات کے فروغ اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اگلے مالی سال کے دوران 30کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔مختلف نرسریوں میں 2کروڑ25لاکھ پودے تیار کیے جائیں گے اور 27000ایکڑ رقبہ پر شجر کاری کی جائے گی۔فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ:آئیندہ مالی سال کیلئے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کے شعبہ کے لیے55کروڑ 20لاکھ روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے جو رواں مالی سے 20فیصد زیادہ ہے ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی:وزیر خزانہ نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس شعبہ کے تحت آزادکشمیر کے10ڈگری کالجز ،13ہائیر سکینڈری سکولز اور22ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور 10000بے روز گار نوجوانوں اور 2500سرکاری ملازمین کے لیے آئی ٹی کے شعبہ میں تربیت دی گئی ہے۔ خوراک !زراعت !لائیوسٹاک:وزیر خزانہ نے کہ کہ آزادکشمیر میں حالیہ غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے 3لاکھ ٹن غلہ پاکستان سے حاصل کیا جس کے لیے آزادکشمیر حکومت 40کروڑ روپے سے زائد رقم فوڈ سبسڈی کے طور پر فراہم کی ہے جس سے آزادکشمیر میں حالیہ غذائی بحران کے دوران غلہ کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔جبکہ زراعت کے شعبہ کے لیے5کروڑ 20لاکھ روپے اخراجات کا تخمینہ ہے۔ اس سیکٹر کے تحت پھلدار پودہ جات ،اعلیٰ اقسام کے بیج مہیا کیے جائیں گے جن سے زرعی پیداوار میں اضافہ، غربت کے خاتمہ اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ جیسے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔زرعی مقاصد کے لیے ٹیوب ویلز کی تنصیب کے لیے حکومت کی جانب سے 80فیصد رعایت (سبسڈی) دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زرعی کاشتکاروں کو بڑے پیمانے پر تربیت دینے کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جس سے انکی استداد میں اضافہ ہوگا۔کاشتکاروں کو بینکوں سے قرضہ کی سہولیات بہم پہنچانے اور ان قرضوں پر عائد مارک اپ حکومت اداء کرے گی۔انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک شعبہ میں سرسبز و ہنر مند کشمیر ویژن کے تحت وسیع پیمانے پر دیہی آبادی میں ڈیری گوٹ پولٹری فارمنگ کیلئے روزگار اور آمدنی بڑھانے کیلئے مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں ۔ رواں مالی سال کے دوران اس شعبہ میں 4کروڑ جبکہ حکومت پاکستان سے 1کروڑ 20لاکھ روپے کے علاوہ آزاد کشمیر کمیونٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت80لاکھ روپے مہیا کیے جائیں گے ۔آئیندہ مالی سال کیلئے محکمہ امور حیوانات کو 5کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے ۔صنعت وحرفت:راجہ نثار احمد خان نے ایوان کو بتایا کہ صنعت وحرفت کے شعبے کے لیے14کروڑ50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے آزادکشمیر میں کمبائنڈ مشنری ٹریننگ انسٹیٹوٹ (CMTI)قائم کیا جائے گا۔ سماجی بہبود!ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی:وز یر خزانہ نے کہا کہ سماجی بہبود کے شعبہ کے لیے3کروڑ روپے فراہم کیے جائیںگئے۔ کوٹلی میں خصوصی بچوں کے لیے سپیشل ایجوکیشن سینٹر اور سرسبز وہنرمند کشمیر پروگرام کے تحت خواتین کو مساوی نمائندگی دی جائے گی۔ سرسبز وہنرمند کشمیر پروگرام کے تحت پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی اور روزگار کے ذرائع مہیا کرنے کی غرض سے آزاد کشمیر TEVTAکا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی زیر نگرانی42 Skill Development Centersقائم کیے گئے ہیں جبکہ مزید 100ایسے مراکز کے قیام کی تجویز ہے۔اس کے لیے آزاد جموں وکشمیر میں آئیندہ مالی سال میں پنجیڑی ضلع بھمبر، نیلم ،باغ ،سدھنوتی اور ڈڈیال کے مقام پر نئی انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کرنے کے لیے زمین حاصل کرنے کی کاروائی کی جائے گی۔سیاحت:وزیر خزانہ نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں10کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔ موجودہ حکومت نے سیاحت کے شعبہ کو ترقی دینے کے لیے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس سے سیاحوں کو ضروری سیاحتی سہولیات دستیاب ہوں گی۔اطلاعات! میڈیا ڈویلپمنٹ سینٹر:وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت پریس کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے ۔ حکومت اور میڈیا کے درمیان مثالی تعلقات قائم ہیں۔حکومت نے پہلی مرتبہ محکمہ اطلاعات کو ترقیاتی میزانیہ میں بطور علیحدہ سیکٹر شامل کیا ہے۔ اس شعبہ کو آئیندہ مالی سال کے لیے 2کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے اس رقم سے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور ڈویثرنل سطح پر محکمہ اطلاعات کے دفاتر قائم کرنے کے علاوہ مظفرآبا داوراسلام آباد میں میڈیا سینٹرز ،آزادکشمیر نیوز ایجنسی اور پریس کلب مظفرآباد آئیندہ مالی سال میں قائم کیے جائیں گے۔صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے پریس فاؤنڈیشن کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے اشتہارات چھپوانے کی ایک جامع پالیسی وضع کی ہے تا کہ اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماحولیات !ماہی پروری! سپورٹس:وزیر خزانہ نے کہا کہ ماحولیات کے شعبے میں اگلے مالی سال میں 2کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرسبز وہنر مند کشمیر کے تحت لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ماہی پروری کے لیے آئندہ مالی سال میں 5کروڑ روپے جبکہ سپورٹس کے شعبہ کے لیے14کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران 4یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرزاور 6سپورٹس سٹیڈیم کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔وزیر خزانہ نے ایوان میں مالی سال2007-08 کا 25ارب96کروڑ روپے کا نظرثانی شدہ بجٹ پیش کیا۔اے کے ایم آئی ڈی سی !سمال انڈسٹریزکارپوریشن :وزیر خزانہ نے کہا کہ آئیندہ مالی سال میں اے کے ایم آئی ڈی سی کیلئے 2کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ غیر منظور شدہ سکیم ہا کیلئے تقریباً ایک کروڑ 50لاکھ روپے مختص کیے گئے ۔ رواں مالی سال میں لائم سٹون اور بجری پلانٹ مظفرآباد میں قائم کیا جارہا ہے جس کیلئے 2کروڑ 28لاکھ روپے لاگت آئے گی ۔اسی طرح کا ایک پلانٹ ضلع باغ میں بھی لگایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں زلزلہ سے متاثرہ اضلاع میں کاروباری صنعتی طبقہ کو روزگاری کی بحالی کیلئے بلا سود قرضے فراہمی کیلئے کریڈٹ اسسٹنس سکیم مالیاتی 16کروڑ 33لاکھ 30ہزار روپے کا منصوبہ منظور ہو چکا ہے ۔ جس کے تحت اصل رقم متعلقہ شیڈول بنک فراہم کریں گے جبکہ مارک اپ حکومت برداشت کرے گی ۔ اس پروگرام سے متاثرہ اضلاع میں کاروباری طبقے کو روزگار کی فراہمی ممکن ہو سکے گی ۔اسی طرح آزاد کشمیر میں رواں مالی سال میں 9ہینڈی کرافٹس ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کرنے کیلئے کروڑ روپے مختص کیے گئے ۔ شہری دفاع:وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 8اکتوبر 2005کے زلزلہ کے بعد اس شعبہ کو کافی اہمیت دی گئی ۔ آئیندہ مالی سال میں اس شعبہ کیلئے 4کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت میر پور ، کوٹلی ، بھمبرپلندری میں ایمرجنسی سروس مہیا کی جائے گی ۔

’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر “ تحریر : چو دھری احسن پر یمی



ایسو سی ایٹڈ پر یس سروس اے پی ایس، اسلام آباد
افغان صدر حامد کرزئی کی ملک کے اہم مسائل حل کرنے میں ناکامی نے عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت جیسے مسائل نے افغانستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے عہدیدار کریم پاک زاد نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کمزور ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور طالبان جنگجوو¿ں کی طرف سے افغان اور عالمی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی اورملکی عوام پر عدم توجہ عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کررہی ہے تاہم حامد کرزئی کا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی برادری ان کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ افغانستان کے سب سے بڑے اتحادی امریکانے بھی حامد کرزئی سے مایوسی ظاہر کی ہے۔ متعدد ماہرین اور سفارتکاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکاکی حامد کرزئی کے لیے حمایت امریکی صدر بش کے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے تک جاری رہے گی۔ امریکی عہددار افغان صدر کرزئی کو ایک مضبوط رہنما کہتے ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی پر برہمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کریم پارک زاد نے کہا ہے کہ بش انتظامیہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے حامد کرزئی کی صلاحیتوں کی حد جان چکے ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں متعدد ممالک نے افغانستان میں بدعنوانی، منشیات کی تجارت، ملکی کمپنیوں کی نجکاری میں تاخیر سمیت متعدد مسائل پر تشویش ظاہر کی جبکہ بعض ممالک نے حقیقت کے بر عکس افغانستان میں تعلیم ، صحت ، جمہوریت اور حقوق نسواں جیسے شعبوں میں تر قی کا کریڈٹ حامد کرزئی کو دیا ہے۔ جبکہ پا کستان کے عوام نے 29ججوں والے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جو کوئی اس بجٹ کو منظور کرنے کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چھرا گھونپے گا۔صدر حامد کرزئی نیٹوفورسز کی زبان بول رہے ہیں وکلاءآئندہ تحریک کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی گئی تحریک کی بھرپورحمایت کی جائے گی انتیس ججوں والا بجٹ ایک سازش ہے اسے منظور نہیں ہونا چاہیے جو لوگ بھی اس بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ دیں گے وہ دراصل عدلیہ کی بحالی کیلئے شروع کی گئی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گے ۔ فنانس بل کی آڑ میں حکومت اس کو آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جائے گا ملک کی سرحدوںکی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیا اور کہا گیا کہ صدر حامد کرزئی اس وقت اتحادی افواج کی زبان بول رہے ہیں صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں نے ملک کو گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے اگر کوئی اس سے باہر نکلنا چاہیے تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اظہار مقبول ایڈوکیٹ نے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے آئین میں طریقہ کار وضع ہے اگر ججوں کی تعداد بڑھانا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل۔70 کے تحت بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے اقدام کو روکا جائے۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر 18اور 23جون کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کا فل بنچ مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل ہے۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے باوجود پی پی دس سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، انہیں روکا جائے۔ ان کی طرف سے دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی پی دس سے ان کی بلامقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دونوں درخواستوں پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ فاضل عدالت نے بھکر کے حلقہ پی پی انچاس سے جیتنے والے رکن اسمبلی سعید اکبر نوانی کے خلاف الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کرتے ہوئے تین نومبر کو جواب طلب کر لیا۔ ایک اور الیکشن پٹیشن پر ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پی پی ایک سو سات سے امیدوار انتصار حسین بھٹی کو نااہل قرار دے دیا۔حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے 13معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا ، انہوں نے پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزول ججوں کے ترجمان وکیل اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کی تنخواہ کا چیک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے جو کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اس بیان کی نفی کرتا ہے کہ تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے جج اب جج نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معزول ججوں میں شامل جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا کیونکہ انہوں نے پاکستان پریس کونسل کیچیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ سیکرٹری قانون آغا رفیق نے منگل کو ججز کالونی جا کر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصرالملک کو تنخواہ کے چیک دیے جبکہ سپریم کورٹ کے وہ معزول جج صاحبان جو ججز کالونی میں رہائش پذیر نہیں یا بیرون ملک ہیں، ا?ن کے چیک افتخار محمد چوہدری کے حوالے کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان برطانیہ کے دورے پر ہیں جبکہ باقی چھ جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پی سی او کے تحت حلف نہ ا?ٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے 60 ججوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس سردار رضا خان جنہوں نے تنخواہ کا چیک وصول کیا ہے، کہا ہے کہ انہیں یہ چیک ا?س اکاو¿نٹ سے نہیں دیے گئے جہاں سے ا?ن کی تنخواہیں آتی تھیں۔ برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے انہیں وہ دستاویز بھی دکھائی ہیں جس کے تحت انہیں تنخواہوں کے چیک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان بحال ہوں گے تو یہ رقم ا?ن کی تنخواہوں کی مد میں ایڈجسٹ کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیک وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے بھی نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے اس چیک میں معزول ججوں کے زیر استعمال گاڑیوں کا پیٹرول شامل نہیں ہے۔ سردار رضا نے کہا کہ تین نومبر سے پہلے ان جج صاحبان کو چار سو لیٹر ماہانہ پیٹرول ملتا تھا جو اب بڑھا کر چھ سو لیٹر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جو معزول جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہ رہے ہیں ا?ن کے گھر ابھی بھی ججز کالونی میں ہیں۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 ء میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ساٹھ ججوں کو معزول کرنے کے بعد انہیں گھروں میں نظر بند کرد یا تھا۔ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار پھر ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مغربی ممالک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے ایران یا شمالی کوریا کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد فراہم کی ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ان پر یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں گزشتہ روز ہتھیاروں کے سابقہ معائنہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت سے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر سے سوال جواب کر نے کی اجازت دینا چاہئیے۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے میں صدر پرویز، امریکی صدر بش اور ایرانی صدر احمدی نڑاد کو دنیا کا ناقابل اعتبار ترین لیڈر قرار د ے دیا گیا۔ 20 ممالک میں کرائے گئے بین الاقوامی ادارے کی ”سروے رپورٹ “کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کو اس کے اپنے ملک سے باہر زیادہ قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔ اس معاملے میں صدر پرویز مشرف کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی انتہائی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق صدر پرویز دنیا کے سب سے زیادہ ناقابل اعتبار لیڈر ہیں۔ سروے میں پرویز مشرف پر صرف اٹھارہ فیصد لوگوں نے اظہار اعتماد کیا۔ صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں امریکی صدر بش کو لوگوں نے پانچ فیصد زیادہ قابل اعتماد قرار دیا ان پر تئیس فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا سروے میں ایرانی صدر محمود احمدی نڑاد کو بائیس فیصد لوگوں نے قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ سروے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیک مون کو سب سے زیادہ قابل اعتماد لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ انہیں پینتیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ چین کے صدر ہوجن تاو¿ اور روس کے وزیراعظم ولادی میرپیوٹن کو لوگ وعدے کا پکا سمجھتے ہیں۔ جبکہ سابق کور کمانڈر راولپنڈی ایکس سروسز مین سوسائٹی کے رہنما جنرل(ر) جمشید گلزارکیانی نے کہا ہے کہ کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی اسی طرح صدارتی ریفرنڈم پر بھی صدر کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر آپ نے بھی ریفرنڈم کروایا تو آپ میں اور جنرل ضیاء الحق میں کیا فرق رہ جائے گا گزشتہ روز پلڈاٹ کے زیر اہتمام سول ملٹری تعلقات کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ کور کمانڈر اپنی سروس کے دوران چیف آف آرمی سٹاف کو مشورہ ضرور دیتے ہیں یہ تاثر درست نہیں کہ فوج کے افسران دوران سروس فوج کے سر براہ کے سامنے ایشوز کے حوالے سے بات نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے صدارت کا عہدہ حاصل کیا میں اس وقت کور کمانڈر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کا سر براہ تھا ایک ماہ کے بعد میں نے ٹین کور کی کمانڈ سنبھالی تھی انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز ڈمی نہیں ہوتے کہ وہ ایشوز پر چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے بات نہ کریں انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا ایجنڈا پرویز مشرف کو ہٹانا ہے ہم نے آزاد عدلیہ کی غیر مشروط حمایت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ دوران سروس ہم کیوں نہیں بولتے لیکن کیا آج چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تین نومبر کے غیر آئینی صدارتی اقدامات پر صدر پرویز مشرف سے پوچھا کہ انہوں نے یہ اقدام کیوں کیا کیا انہوں نے آئین کی خلاف ورزی پرصدر پرویز مشرف سے بات کی ہے کانفرنس میں سابق گورنر پنجاب شاہد حامد اور جنرل(ر) معین الدین حیدر نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات کے جوابات دئیے ۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ افتخار چوہدری کو فوری واپس لایا جائے انیس ججوں کو نہیں مانتے لانگ مارچ کامیاب رہا وکلاءکو مبارک باد پیش کرتا ہوں کروڑوں روپے سے تعمیر کئے جانے والے جی ایچ کیو کے بجائے اس پیسے سے ملک بھر میں لنگر خانے کھولے جائیں تاکہ لوگ روٹی دال سے اپنا پیٹ بھر سکیں جمہوریت کو خراب کرنے کیلئے ڈبل پالیسی چلی جارہی ہے زرداری اور مشرف ایک ہیں ان کو جوڑنے والا سلیمان تاثیر ہے آمریت اور موجودہ جمہوری حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری کرپشن سے بچنے کیلئے مشرف کا دفاع کر رہے ہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت ہمیں روڈ میپ دے تاکہ ہم روڈ مارچ کے بجائے اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع نیشنل کانفرنس کر سکیں جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے وکلاءکی دعوت پر گئے تھے یہ ہمارا پروگرام نہیں تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ عمران اور قاضی حسین احمد دھرنے سے پہلے ہی چلے گئے میں واضح کر دینا چاہتے ہوں کہ ہم صرف شرکت کیلئے گئے تھے ہم اس کے لیڈر نہیں تھے۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارا وکلائ اور اے پی ڈی ایم اور تمام پاکستانیوں کا ایک ہی نظریہ ہے یہ پاکستانی جو حقیقی جمہوریت، آزادی اور انصاف چاہتا ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے انہوں نے کہاکہ جب سب اسلام آباد میں آئندہ اکھٹے ہوں گے تو ہم چاہتے ہیں کہ اسے حقیقی آزادی کا دن قرار دیا جائے انہوں نے کہاکہ حقیقی آزادی تب آئے گی جب عدلیہ آزاد ہو گی عدلیہ کی آزادی سے ہی قوم کی آزادی ہے عدلیہ آزاد ہے تو الیکشن کمیشن، میڈیا اور دیگر ادارے آزاد ہیں انہوں نے کہاکہ اس حکومت کی دوغلی پالیسی عوام پر ظاہر ہو گئی ہے اس نے آتے ہی نجی ٹی وی کے پروگرام بند کر دئیے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت کا جھوٹ اور دوغلی پالیسی دیکھیے کہتی ہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ جیو کے دوبئی میں دو پروگرام بند کر دئیے گئے ہیں عمران خان نے سوال کیاکہ کون پاکستان چلا رہاہے انہوں نے کہاکہ ہم اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک لیڈر شپ دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی قوم کو ایک واضح روڈ میپ نظر آئے ہمارے کیا کیا مقاصد ہیں کس دن ہم نے حقیقی آزادی کے دن کا اعلان کرنا ہے یہ سب کچھ پہلے سے طے ہو گا عمران خان نے کہاکہ یہ سب کچھ ہمارے اجلاس میں طے ہوا ہے ہم نے اپنی اسٹیئرنگ کمیٹی میں ملک کی سرحدوں پر ہونے والے خطر ناک کھیل کو بھی زیر بحث لایا ہے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ملک کی آبادی کے بیج بوئے جارہے ہیں حکومت نے کہاتھا کہ ہم قبائلی عوام سے بات چیت سے مسئلہ حل کریں گے ہم اپنی فوج کو اپنے لوگوں سے نہیں لڑائیں گے۔ اس پر ہم نے حکومت کو مبارک باد دی تھی عمران خان نے کہا کہ مشرف نے پیسے لے کر کسی اور کی جنگ اپنے سر لے لی او راپنی فوج سے اپنے شہری اور اپنے شہریوں سے اپنی فوج مروائی جو ملک کے خلاف سب سے بڑی غداری ہے اب امریکہ پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کو مار رہا ہے یہ صرف 70ملین ڈالر مہینے کی تنخواہ کے عوض ہو رہاہے امریکہ کے چونکہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس لئے اس نے اسامہ کا ڈرامہ کرنا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ انہوں نے پھر پاکستانی قبائلی علاقوں پر بمباری کرنی ہے او رپھر پاکستانی قوم اور حکومت پر حملہ کرنا ہے پچھلے سال کم سے کم پاکستان میں 65خود کش حملے ہوئے جس سے پورا ملک ہل کر رہ گیا جس طرح زرداری امریکی ایمبیسی کے چکر لگا رہا ہے اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسرا مشرف پیدا ہو گیاہے عمران خان نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت واضح بیان دے کہ اگر مزید ایک بھی شہری امریکی بم سے مرا تو ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی ہے۔عمران خان نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑے دہشت گرد الطاف حسین کو برطانیہ نے لندن میں پناہ دے رکھی ہے تو میرا سوال ہے کہ کیا ہم لندن جاکر بم برسائیں کہ ہمارا دہشت گرد وہاں چھپا ہوا ہے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی جائیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی امریکیوں کی ہیں ہمارے لوگوں اور فوجیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مارا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوبارہ خود کش حملے شروع ہو جائیں گے ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات ہوں تمام قیدی رہا کرائے جائیں قبائلی علاقوں سے فوجی آپریشن ختم ہو فوج اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کرے اس وقت ہم نہ طالبان نہ القاعدہ کیلئے لڑ رہے ہیں ہماری فوج اپنے ہی قبائلی شہریوں سے لڑ رہی ہے جن کو مقامی طالبان کہاجارہاہے یہ ہماری کوئی جنگ نہیں یہ جو پھرسے ہونے جارہی ہے یہ پاکستان کیلئے انتہائی خطر ناک ہے بجٹ کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ ہمارے اجلاس میں بجٹ پر بھی بات چیت ہوئی ہے مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ اس بجٹ سے شوکت عزیز کی بو آرہی ہے ایسا لگ رہا ہیکہ شوکت عزیز کا بنایاہوا بجٹ ہے جس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہے عوام کی اکثریت مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئی ہے کبھی ملک میں اتنے بر±ے حالات پیدا نہیں ہوئے جتنے آج ہیں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں دو ہفتہ سے قبل ختم ہوجاتی ہیں لوگوں کا گزارہ مشکل ہو رہا ہے پستول پکڑ کر لوگوں نے ڈاکے مارنا شروع کردیے ہیں حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھی جرم کی طرف لگ گئے ہیں یہ بجٹ انقلابی ہونا چاہیے تھا اسٹیٹس کو کا بجٹ نہیں ہونا چاہیے تھا عمران خان نے کہا کہ 900ارب کا جی ایچ کیو بن رہا ہے اسمبلی میں اس بارے میں کوئی آواز ہی نہیں اٹھائی یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کیا پاکستان کو 900ارب روپے کا نیا جی ایچ کیو چاہیے یا عوام کی زندگی چاہیے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو نو سو ارب روپے کے ملک بھر میں لنگر خانے کھولنے چاہیے تاکہ لوگ دل روٹی کھاسکیں جس طرح یورپ میں ہوتا ہے عمران خان نے کہاکہ بینظیر کے کارڈ جاری کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا اگر ملک بھر میں دال روٹی کے لنگر کھولے جاتے جس طرح میں نے شوکت خانم ہسپتال میں لنگر کھولا ہوا ہے یہ غریب تو وہاں روٹی کھا سکتے ہیں عمران خان نے کہاکہ عوام یہ جیڈی پی کا دو فیصد بھی خر چ نہیں ہو رہا جبکہ بھارت میں چار فیصد خرچ ہو رہا ہے جب عوام پر پیسہ خر چنہیں ہورہا تو جمہوری حکومت کس بات کی ہے انہوں نے کہاکہ آمریت اور موجودہ جمہوریت میں کوئی فرق نہیں یہ عوامی بجٹ نہیں ہے پاکستان نے پچھلے سال 5.1ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے ہیں جبکہ بھارت جو بہت بڑا ملک ہے اس نے 3.2ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے جبکہ پاکستان میں تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا ہے پڑھے لکھے نعرے کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ملا ۔ جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینٹ میں بجٹ کے لئے دفاعی بجٹ کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں ۔ منگل کے روز سینٹ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر رضا ربانی نے دفاعی بجٹ مالی سال 2008-09 ء کی تفصیلات کی کاپی ایوان میں پیش کی ۔ جس کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ کا حجم 2 کھرب 95 ارب 30 کروڑ 69 لاکھ 8 ہزار روپے ہے ۔ جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 19 ارب روپے زیادہ ہے ۔ جس میں ڈیفنس سروسز ایمپلائز سے متعلقہ اخراجات کا حجم 99 ارب 9 کروڑ 15 لاکھ 62 ہزار روپے آپریٹنگ سے متعلقہ اخراجات کا حجم 82 ارب 84 کروڑ 8 لاکھ 84 ہزار روپے ‘ ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کی مد کے لئے 12 ارب 8 کروڑ 59 لاکھ 53 ہزار روپے ۔ جنرل اخراجات کے لئے 70 ارب 75 کروڑ 49 لاکھ 31 ہزار روپے فزیکل ایسٹس کی مالیت 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار روپے ، دوسرے سٹور ز اور سٹاکس کے لیے 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار ،سول ورکس کے لیے 25 ارب 73 کروڑ 62 لاکھ 46 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس طرح پاکستان فضائیہ کے لیے 71 ارب 66 لاکھ 62 ہزار روپے مختص کیے گئے ہین جن میں ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 10 ارب70 کروڑ 63 لاکھ 58 ہزار روپے ، اپریٹنگ اخراجات کی مد کے لیے 16 ارب46 کروڑ 32 لاکھ77 ہزار ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے 2 ارب 18 کروڑ 36 لاکھ 78 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 14 ارب 27 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار روپے ، فزیکل ایسسٹس کے لیے 39 ارب 59 کروڑ 74 لاکھ روپے ، سول ورکس کے لیے کے لیے 4 ارب 23 کروڑ 96 لاکھ 27 ہزار روپے،اس طرح بحری افواج کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اخراجات کے لیے 6 ارب 75 کروڑ 5 لاکھ 17 ہزار روپے، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 3 ارب 91 کروڑ 3 لاکھ 87 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک ارب 43 کروڑ 24 لاکھ روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 79 لاکھ روپے ، فیزیکل ایسڈز کے لیے 15 ارب 71 کروڑ 28 لاکھ78 ہزار روپے( اس طرح پاک فوج کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 28 ارب 69 کروڑ 97 لاکھ 57 ہزار روپے رکھے گئے ہیں جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلقہ امور کے لیے 71 ارب 27 کروڑ 47 لاکھ 22 ہزار روپے ، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 22 ارب 33 کروڑ 74 لاکھ 51 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن اخراجات کے لیے 4 ارب 68 کروڑ29 لاکھ 40 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 17 ارب 65 کروڑ 45 لاکھ 11 ہزار روپے ، فیزیکل ایسٹس کے لیے 21 ارب 52 کروڑ 73لاکھ 23 ہزار روپے اور سول ورکس کے لیے 13 ارب 56 کروڑ 2 لاکھ 61 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ پہلے دفاعی بجٹ پیش نہیں ہوا تھا لیکن اتحادی حکومت کے تمام پارٹیوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں زیر بحث لائیں گے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ پورا بجٹ ہے لیکن آئندہ سال تفصیلی بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے مسلح افواج کے بجٹ 2008-09 ئ کے لئے مرحلہ وار تحقیقات ایوان میں پیش کرنے کی اجازت مانگی تو چیئرمین سینٹ نے اجازت دی جس کے بعد دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئی۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے آئین کے مطابق اپنا کرداراداکریں۔آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی خود مختاری وبالادستی ، اداروں کا استحکام،اور میڈیاکی آزادی کے عزم پر قائم ہیں بلوچستان اور فاٹاکے مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کریں گے ۔انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہو گی۔ فاٹا کے حوالے سے نئی جمہوری حکومت کی پالیسی کی امریکی صدر بش نے حمایت کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پلڈاٹ کے زیر اہتما م ’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر “ کے موضوع پر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل ، فاٹا کی صورتحال اور ملٹری سول تعلقات پر مختلف سیشنز منعقد ہوئے سابق گورنر پنجاب شاہد حامد ، پلڈاٹ کے چیف ایگزیکٹو بلال احمد محبوب نے وزیراعظم کو کانفرنس کی سفارشات پیش کیں ۔ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے سیاسی ،مالی مسائل کاجائزہ لیاگیابلوچستان میں مذاکرات اور اعتمادکی فضاء کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو نذر انداز کیاگیا حقوق نہیں دئیے گئے بلوچستان کے عوام قانون شکنی پر یقین نہیں رکھتے پاکستان کے ساتھ محب وطن اور مخلص ہیں اعتماد کی فضا برقرار کرنے کی ضرورت ہے ۔ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے بلوچستان شدید مالی مشکلات سے دو چار ہے وفاق اور تین صوبے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان ابھی تک بجٹ پیش نہیں کر سکاہے بلوچستان کو آئینی حقوق دیں گے انہوںنے کہاکہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام حکمرانوں کے رویے سے شاکی نظر آتے ہیں ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ ترقی سے محروم ہیں انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیاہے سیاسی عمل معاشی استحکام ، صوبائی خود مختاری دیں گے اور بلوچستان میں خوشحالی لائیں گے بدقسمی سے بلوچستان کی ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا ساڑھے تین ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ رولز میں نرمی کر کے بلوچستان کے عوام کو نوکریاں دیں فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج کے سربراہ نے بھی اس بارے میں بریفنگ دی انہوں نے کہاکہ فاٹا کی اکثریت امن پسند اور پاکستان کی وفادار ہے ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے تیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بائیومیٹر سسٹم لگایا گیا مگر دوسری طرف سے تعاون نہیں کیاجارہاہے ۔ بمباری کے ایشو پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج کیاگیا کیا پہلے ایسے ہوا تھا وزیر خارجہ نے کونڈا لیزا رائس سے بھی احتجاج کیا ہم امریکہ کے ساتھ دفاعی ، معاشی ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں اپنی خود مختاری سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے فاٹا کے مسائل کے حل کے حوالے سے سیاسی عمل ، معاشی ، سماجی ترقی اور مذاکرات کو حکمت عملی میں ترجیح حاصل ہے فاٹا میں جمہوریت کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں امریکی صدر نے ہماری پالیسی کی حمایت کرتے ہیں آئین پر یقین رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں فوج اور عدلیہ سمیت تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں اداروں کے درمیان تصادم سے کچھ نہیں بچے گا سب کو آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔ہم نے لانگ مارچ بھی کئے ہیں اور جیلیں بھی دیکھیں ہیں بے نظیر بھٹو کے سیاسی دباو¿ کی وجہ سے صدر پرویز مشرف نے وردی اتاری ججز کی تعداد میں اضافہ اتفاق رائے سے کیا گیاہے۔میثاق جمہوریت کا اس کی روح کے مطابق نفاذ چاہتے ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں ججز بحال ہوں گے آزاد عدلیہ چاہتے ہیں آئین کے مطابق پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کرے گی انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ حکومت نے وکلاء کے لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا اسٹیج ، بجلی ، پانی ،ڈنر اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں اورکسی جگہ پولیس نے وکلائ کو نہیں روکا نہ فوج بلائی گئی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ۔ ہم چہرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صحافیوں نے کہاکہ جس دن محسوس کریں گے کہ بے نظیر بھٹو کے مشن سے غداری کر رہے ہیں سب کچھ چھوڑ دیںگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کے حوالے سے تنہا پرواز نہیں کریں گے ساٹھ ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلے کرے گی وہ قبول کیاجائے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں۔ ہم صدر پرویز مشرف کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انہیں آئینی صدر تسلیم نہیں کیا۔ آئندہ صدر کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشورہ کے بعد کریں گے۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے شہادت نوش نہیں کی بلکہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ معزول ججوں کو ضرور بحال کیا جائے گا لیکن ان کی بحالی کیلئے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلافات معمول کی بات ہے اس سے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ اتحاد قائم رہے گا۔ ہم صوبوں کے درمیان ہم اہنگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل آگے بڑھے۔ اسی لئے ہم نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں حالانکہ اگر ہم چاہتے توجوڑ توڑ کرکے وہاں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم کی جاسکتی تھیں۔ ہم پاکستان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں اسی لئے ہم نے بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی اور وہاں فوجی آپریشن بند کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے اس سے ہمیں نہیں تو آئندہ نسلوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوریت کو تقویت دی۔ پیپلز پارٹی کی کوششوں کے باعث ہی جنرل پرویز مشرف نے وردی اتاری جس کیلئے ہم نے ہر چیز کو قبول کیا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ یہ پراپیگنڈا غلط ہے کہ این آر او صرف میرے لئے آیا اس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے حکومت نے میرے خلاف کیس واپس لے کر تسلیم کیا کہ یہ کیس سیاسی انتقام کے نتیجہ میں بنائے گئے تھے۔ میں جمہوری انتقام پر یقین رکھتا ہوں مجھے اس گورنر ہاوس سے گرفتار کیا گیا جہاں میں نے کارکنوں سے خطاب کرکے اپنا جمہوری انتقام لے لیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ میں ہی زمین اور 90ہزار فوجی واپس لئے۔انہوں نے کہا کہ وکلائ اور کچھ سیاسی جماعتوں نے لانگ مارچ کیا جن سے میاں نوازشریف نے بھی خطاب کیا۔ ہم نے خود انہیں روٹی اور پانی فراہم کیا لیکن جب پیپلز پارٹی لانگ مارچ کرے گی تو اسے دنیا دیکھے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی میں میاں نوازشریف سے اتحاد قائم رکھنا چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم نے کسی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے میاں صاحب سے دوستی کی ۔ اگر ہم متحد نہ رہے تو اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ قوم ابھی تک محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدمہ سے باہر نہیں نکل سکی۔ یہ الزام غلط ہے کہ سیاستدان قوم کو مایوس کررہے ہیں۔ انھوں نے صحا فیوں سے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے ہماری رہنمائی کریں اور ریسرچ کے بعد عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔


کرزئی کی ملکی مسائل کے حل میں ناکامی ، عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ



پیرس ۔ افغان صدر حامد کرزئی کی ملک کے اہم مسائل حل کرنے میں ناکامی نے عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت جیسے مسائل نے افغانستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے عہدیدار کریم پاک زاد نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کمزور ہے۔ بدعنوانی اور منشیات کی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور طالبان جنگجوؤں کی طرف سے افغان اور عالمی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکامی اورملکی عوام پر عدم توجہ عالمی برادری کی مایوسی میں اضافہ کررہی ہے تاہم حامد کرزئی کا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی برادری ان کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور ہے۔ افغانستان کے سب سے بڑے اتحادی امریکانے بھی حامد کرزئی سے مایوسی ظاہر کی ہے۔ متعدد ماہرین اور سفارتکاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکاکی حامد کرزئی کے لیے حمایت امریکی صدر بش کے عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے تک جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عہددار افغان صدر کرزئی کو ایک مضبوط رہنما کہتے ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی پر برہمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کریم پارک زاد نے کہا ہے کہ بش انتظامیہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے حامد کرزئی کی صلاحیتوں کی حد جان چکے ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں متعدد ممالک نے افغانستان میں بدعنوانی، منشیات کی تجارت، ملکی کمپنیوں کی نجکاری میں تاخیر سمیت متعدد مسائل پر تشویش ظاہر کی جبکہ بعض ممالک نے حقیقت کے بر عکس افغانستان میں تعلیم ، صحت ، جمہوریت اور حقوق نسواں جیسے شعبوں میں تر قی کا کریڈٹ حامد کرزئی کو دیا ہے۔

قاضی حسین احمد کی صدارت میں جماعت اسلامی کااعلیٰ سطحی اجلاس ، مرکزی و صوبائی ذمہ داران کی شرکت



٢٩ ججوں والا بجٹ سازش ہے ، جو بھی اس کی منظوری کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گا
پاکستان کی سرحدوں کی صورتحال تشویش ناک ہے ،وکلاء رہنما آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں
اسلام آباد ۔ جماعت اسلامی پاکستان نے 29ججوں والے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جو کوئی اس بجٹ کو منظور کرنے کیلئے ووٹ دے گا وہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چھرا گھونپے گا۔صدر حامد کرزئی نیٹوفورسز کی زبان بول رہے ہیں وکلاء آئندہ تحریک کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے ۔جماعت اسلامی پاکستان کا اعلیٰ سطحی اجلاس قاضی حسین احمد کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔جس میں مرکزی اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری سید منور حسن ، نائب امیر جماعت لیا قت بلوچ ، امور خارجہ کے ذمہ دار عبدالغفار عزیز ،فرید احمد پراچہ ، پروفیسر ابراہیم ، پروفیسر خورشید احمد ،مولانا اسد اللہ بھٹو، امیر العظیم ، سراج الحق ، میاں محمد اسلم، سید بلال و دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی گئی تحریک کی بھرپورحمایت کی جائے گی۔اجلاس میں کہاگیا کہ انتیس ججوں والا بجٹ ایک سازش ہے اسے منظور نہیں ہونا چاہیے جو لوگ بھی اس بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ دیں گے وہ دراصل عدلیہ کی بحالی کیلئے شروع کی گئی تحریک کی کمر میں چھرا گھونپے گے ۔ اجلاس میں کہا کہ فنانس بل کی آڑ میں حکومت اس کو آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جائے گا اجلاس میں ملک کی سرحدات کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیاگیا اور کہا گیا کہ صدر حامد کرزئی اس وقت اتحادی افواج کی زبان بول رہے ہیں صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں نے ملک کو گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے اگر کوئی اس سے باہر نکلنا چاہیے تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اجلاس میں کہا گیاہے کہ آئندہ حکمت عملی اے پی ڈی ایم کی سطح پر بنائی جائے گی۔وکلاء رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ تحریک کے اگلے مرحلے میں اپوزیشن سے مشاورت کریں تاکہ آئندہ کسی پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اظہار مقبول ایڈوکیٹ نے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے آئین میں طریقہ کار وضع ہے اگر ججوں کی تعداد بڑھانا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل۔70 کے تحت بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانے کے اقدام کو روکا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پٹیشن پر سماعت کل کریں گے۔

غزہ ۔ اسرائیل کا فضائی حملہ، ٦ فلسطینی شہید

غزہ ۔ غزہ میں اسرائیل کی بہیمانہ کارروائی میں چھ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جنوبی غزہ میں اسرائیل نے گاڑی پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیل کے ایک اور فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق غزہ پر تین فضائی حملے کئے گئے جس میں سے دو حملے گاڑی میں سوارجبکہ ایک حملہ پیدل جانے والے فلسطینیوں پر کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کر دیئے



لاہور ۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف دائر الیکشن پٹیشن پر 18اور 23جون کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کا فل بنچ مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل ہے۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے باوجود پی پی دس سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، انہیں روکا جائے۔ ان کی طرف سے دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی پی دس سے ان کی بلامقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دونوں درخواستوں پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ فاضل عدالت نے بھکر کے حلقہ پی پی انچاس سے جیتنے والے رکن اسمبلی سعید اکبر نوانی کے خلاف الیکشن پٹیشن پر نوٹس جاری کرتے ہوئے تین نومبر کو جواب طلب کر لیا۔ ایک اور الیکشن پٹیشن پر ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پی پی ایک سو سات سے امیدوار انتصار حسین بھٹی کو نااہل قرار دے دیا

حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے ١٣ معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ اطہر من اللہ



اسلام آباد۔ حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے 13معزول ججوں کو سات ماہ کی تنخواہ ادا کر دی ہے۔ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے۔جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا ، انہوں نے پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزول ججوں کے ترجمان وکیل اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کی تنخواہ کا چیک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ججوں کو دیے جانے والے چیک پر جج صاحبان کے ناموں سے پہلے جسٹس لگایا گیا ہے جو کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اس بیان کی نفی کرتا ہے کہ تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے جج اب جج نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معزول ججوں میں شامل جسٹس جاوید اقبال کو تنخواہ کا چیک نہیں دیا گیا کیونکہ انہوں نے پاکستان پریس کونسل کیچیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ سیکرٹری قانون آغا رفیق نے منگل کو ججز کالونی جا کر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصرالملک کو تنخواہ کے چیک دیے جبکہ سپریم کورٹ کے وہ معزول جج صاحبان جو ججز کالونی میں رہائش پذیر نہیں یا بیرون ملک ہیں، اْن کے چیک افتخار محمد چوہدری کے حوالے کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان برطانیہ کے دورے پر ہیں جبکہ باقی چھ جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پی سی او کے تحت حلف نہ اْٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے 60 ججوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے معزول جسٹس سردار رضا خان جنہوں نے تنخواہ کا چیک وصول کیا ہے، کہا ہے کہ انہیں یہ چیک اْس اکاؤنٹ سے نہیں دیے گئے جہاں سے اْن کی تنخواہیں آتی تھیں۔ برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے انہیں وہ دستاویز بھی دکھائی ہیں جس کے تحت انہیں تنخواہوں کے چیک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان بحال ہوں گے تو یہ رقم اْن کی تنخواہوں کی مد میں ایڈجسٹ کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیک وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے بھی نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے اس چیک میں معزول ججوں کے زیر استعمال گاڑیوں کا پیٹرول شامل نہیں ہے۔ سردار رضا نے کہا کہ تین نومبر سے پہلے ان جج صاحبان کو چار سو لیٹر ماہانہ پیٹرول ملتا تھا جو اب بڑھا کر چھ سو لیٹر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جو معزول جج صاحبان اپنے آبائی گھروں میں رہ رہے ہیں اْن کے گھر ابھی بھی ججز کالونی میں ہیں۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 ء میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ساٹھ ججوں کو معزول کرنے کے بعد انہیں گھروں میں نظر بند کرد یا تھا۔

ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ، الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان



اسلام آباد۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار پھر ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اسلام آباد سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مغربی ممالک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے ایران یا شمالی کوریا کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد فراہم کی ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کر نے کے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ان پر یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں گزشتہ روز ہتھیاروں کے سابقہ معائنہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت سے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر سے سوال جواب کر نے کی اجازت دینا چاہئیے۔

صدر پرویز مشرف دُنیا کے ناقابل اعتبار صدور میں پہلے نمبر پر۔عالمی سروے



واشنگٹن ۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے میں صدر پرویز، امریکی صدر بش اور ایرانی صدر احمدی نڑاد کو دنیا کا ناقابل اعتبار ترین لیڈر قرار د ے دیا گیا۔ 20 ممالک میں کرائے گئے بین الاقوامی ادارے کی ’’سروے رپورٹ ‘‘کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کو اس کے اپنے ملک سے باہر زیادہ قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔ اس معاملے میں صدر پرویز مشرف کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی انتہائی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق صدر پرویز دنیا کے سب سے زیادہ ناقابل اعتبار لیڈر ہیں۔ سروے میں پرویز مشرف پر صرف اٹھارہ فیصد لوگوں نے اظہار اعتماد کیا۔ صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں امریکی صدر بش کو لوگوں نے پانچ فیصد زیادہ قابل اعتماد قرار دیا ان پر تئیس فیصد لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا سروے میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو بائیس فیصد لوگوں نے قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ سروے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیک مون کو سب سے زیادہ قابل اعتماد لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ انہیں پینتیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ چین کے صدر ہوجن تاؤ اور روس کے وزیراعظم ولادی میرپیوٹن کو لوگ وعدے کا پکا سمجھتے ہیں۔

Tuesday, June 17, 2008

کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے اور ریفرنڈم پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی۔جمشید گلزار کیانی



اسلام آباد ۔ سابق کور کمانڈر راولپنڈی ایکس سروسز مین سوسائٹی کے رہنما جنرل(ر) جمشید گلزارکیانی نے کہا ہے کہ کور کمانڈرز نے امریکہ سے تعاون کر نے پر صدر پرویز مشرف کی مخالفت کی تھی اسی طرح صدارتی ریفرنڈم پر بھی صدر کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر آپ نے بھی ریفرنڈم کروایا تو آپ میں اور جنرل ضیاء الحق میں کیا فرق رہ جائے گا آج پلڈاٹ کے زیر اہتمام سول ملٹری تعلقات کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ کور کمانڈر اپنی سروس کے دوران چیف آف آرمی سٹاف کو مشورہ ضرور دیتے ہیں یہ تاثر درست نہیں کہ فوج کے افسران دوران سروس فوج کے سر براہ کے سامنے ایشوز کے حوالے سے بات نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے صدارت کا عہدہ حاصل کیا میں اس وقت کور کمانڈر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کا سر براہ تھا ایک ماہ کے بعد میں نے ٹین کور کی کمانڈ سنبھالی تھی انہوں نے کہا کہ کور کمانڈرز ڈمی نہیں ہوتے کہ وہ ایشوز پر چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے بات نہ کریں انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا ایجنڈا پرویز مشرف کو ہٹانا ہے ہم نے آزاد عدلیہ کی غیر مشروط حمایت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ دوران سروس ہم کیوں نہیں بولتے لیکن کیا آج چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تین نومبر کے غیر آئینی صدارتی اقدامات پر صدر پرویز مشرف سے پوچھا کہ انہوں نے یہ اقدام کیوں کیا کیا انہوں نے آئین کی خلاف ورزی پرصدر پرویز مشرف سے بات کی ہے کانفرنس میں سابق گورنر پنجاب شاہد حامد اور جنرل(ر) معین الدین حیدر نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات کے جوابات دئیے

زرداری کی شکل میں دوسرا مشرف پیدا ہو گیا ہے ، دونوں میں قدر مشترک ہے۔ عمران خان



اسلام آباد۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ افتخار چوہدری کو فوری واپس لایا جائے انیس ججوں کو نہیں مانتے لانگ مارچ کامیاب رہا وکلاء کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کروڑوں روپے سے تعمیر کئے جانے والے جی ایچ کیو کے بجائے اس پیسے سے ملک بھر میں لنگر خانے کھولے جائیں تاکہ لوگ روٹی دال سے اپنا پیٹ بھر سکیں جمہوریت کو خراب کرنے کیلئے ڈبل پالیسی چلی جارہی ہے زرداری اور مشرف ایک ہیں ان کو جوڑنے والا سلیمان تاثیر ہے آمریت اور موجودہ جمہوری حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری کرپشن سے بچنے کیلئے مشرف کا دفاع کر رہے ہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت ہمیں روڈ میپ دے تاکہ ہم روڈ مارچ کے بجائے اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع نیشنل کانفرنس کر سکیں جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے وکلاء کی دعوت پر گئے تھے یہ ہمارا پروگرام نہیں تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ عمران اور قاضی حسین احمد دھرنے سے پہلے ہی چلے گئے میں واضح کر دینا چاہتے ہوں کہ ہم صرف شرکت کیلئے گئے تھے ہم اس کے لیڈر نہیں تھے۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارا وکلاء اور اے پی ڈی ایم اور تمام پاکستانیوں کا ایک ہی نظریہ ہے یہ پاکستانی جو حقیقی جمہوریت، آزادی اور انصاف چاہتا ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے انہوں نے کہاکہ جب سب اسلام آباد میں آئندہ اکھٹے ہوں گے تو ہم چاہتے ہیں کہ اسے حقیقی آزادی کا دن قرار دیا جائے انہوں نے کہاکہ حقیقی آزادی تب آئے گی جب عدلیہ آزاد ہو گی عدلیہ کی آزادی سے ہی قوم کی آزادی ہے عدلیہ آزاد ہے تو الیکشن کمیشن، میڈیا اور دیگر ادارے آزاد ہیں انہوں نے کہاکہ اس حکومت کی دوغلی پالیسی عوام پر ظاہر ہو گئی ہے اس نے آتے ہی جیو ٹی وی کے پروگرام بند کر دئیے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں عمران خان نے کہاکہ حکومت کا جھوٹ اور دوغلی پالیسی دیکھیے کہتی ہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ جیو کے دوبئی میں دو پروگرام بند کر دئیے گئے ہیں عمران خان نے سوال کیاکہ کون پاکستان چلا رہاہے انہوں نے کہاکہ ہم اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک لیڈر شپ دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی قوم کو ایک واضح روڈ میپ نظر آئے ہمارے کیا کیا مقاصد ہیں کس دن ہم نے حقیقی آزادی کے دن کا اعلان کرنا ہے یہ سب کچھ پہلے سے طے ہو گا عمران خان نے کہاکہ یہ سب کچھ ہمارے اجلاس میں طے ہوا ہے ہم نے اپنی اسٹیئرنگ کمیٹی میں ملک کی سرحدوں پر ہونے والے خطر ناک کھیل کو بھی زیر بحث لایا ہے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ملک کی آبادی کے بیج بوئے جارہے ہیں حکومت نے کہاتھا کہ ہم قبائلی عوام سے بات چیت سے مسئلہ حل کریں گے ہم اپنی فوج کو اپنے لوگوں سے نہیں لڑائیں گے۔ اس پر ہم نے حکومت کو مبارک باد دی تھی عمران خان نے کہا کہ مشرف نے پیسے لے کر کسی اور کی جنگ اپنے سر لے لی او راپنی فوج سے اپنے شہری اور اپنے شہریوں سے اپنی فوج مروائی جو ملک کے خلاف سب سے بڑی غداری ہے اب امریکہ پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کو مار رہا ہے یہ صرف 70ملین ڈالر مہینے کی تنخواہ کے عوض ہو رہاہے امریکہ کے چونکہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس لئے اس نے اسامہ کا ڈرامہ کرنا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ انہوں نے پھر پاکستانی قبائلی علاقوں پر بمباری کرنی ہے او رپھر پاکستانی قوم اور حکومت پر حملہ کرنا ہے پچھلے سال کم سے کم پاکستان میں 65خود کش حملے ہوئے جس سے پورا ملک ہل کر رہ گیا جس طرح زرداری امریکی ایمبیسی کے چکر لگا رہا ہے اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دوسرا مشرف پیدا ہو گیاہے عمران خان نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت واضح بیان دے کہ اگر مزید ایک بھی شہری امریکی بم سے مرا تو ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی ہے۔عمران خان نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑے دہشت گرد الطاف حسین کو برطانیہ نے لندن میں پناہ دے رکھی ہے تو میرا سوال ہے کہ کیا ہم لندن جاکر بم برسائیں کہ ہمارا دہشت گرد وہاں چھپا ہوا ہے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی جائیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی امریکیوں کی ہیں ہمارے لوگوں اور فوجیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مارا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوبارہ خود کش حملے شروع ہو جائیں گے ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات ہوں تمام قیدی رہا کرائے جائیں قبائلی علاقوں سے فوجی آپریشن ختم ہو فوج اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کرے اس وقت ہم نہ طالبان نہ القاعدہ کیلئے لڑ رہے ہیں ہماری فوج اپنے ہی قبائلی شہریوں سے لڑ رہی ہے جن کو مقامی طالبان کہاجارہاہے یہ ہماری کوئی جنگ نہیں یہ جو پھرسے ہونے جارہی ہے یہ پاکستان کیلئے انتہائی خطر ناک ہے بجٹ کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ ہمارے اجلاس میں بجٹ پر بھی بات چیت ہوئی ہے مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ اس بجٹ سے شوکت عزیز کی بو آرہی ہے ایسا لگ رہا ہیکہ شوکت عزیز کا بنایاہوا بجٹ ہے جس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہے عوام کی اکثریت مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئی ہے کبھی ملک میں اتنے برُے حالات پیدا نہیں ہوئے جتنے آج ہیں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں دو ہفتہ سے قبل ختم ہوجاتی ہیں لوگوں کا گزارہ مشکل ہو رہا ہے پستول پکڑ کر لوگوں نے ڈاکے مارنا شروع کردیے ہیں حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھی جرم کی طرف لگ گئے ہیں یہ بجٹ انقلابی ہونا چاہیے تھا اسٹیٹس کو کا بجٹ نہیں ہونا چاہیے تھا عمران خان نے کہا کہ 900ارب کا جی ایچ کیو بن رہا ہے اسمبلی میں اس بارے میں کوئی آواز ہی نہیں اٹھائی یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کیا پاکستان کو 900ارب روپے کا نیا جی ایچ کیو چاہیے یا عوام کی زندگی چاہیے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو نو سو ارب روپے کے ملک بھر میں لنگر خانے کھولنے چاہیے تاکہ لوگ دل روٹی کھاسکیں جس طرح یورپ میں ہوتا ہے عمران خان نے کہاکہ بینظیر کے کارڈ جاری کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا اگر ملک بھر میں دال روٹی کے لنگر کھولے جاتے جس طرح میں نے شوکت خانم ہسپتال میں لنگر کھولا ہوا ہے یہ غریب تو وہاں روٹی کھا سکتے ہیں عمران خان نے کہاکہ عوام یہ جیڈی پی کا دو فیصد بھی خر چ نہیں ہو رہا جبکہ بھارت میں چار فیصد خرچ ہو رہا ہے جب عوام پر پیسہ خر چنہیں ہورہا تو جمہوری حکومت کس بات کی ہے انہوں نے کہاکہ آمریت اور موجودہ جمہوریت میں کوئی فرق نہیں یہ عوامی بجٹ نہیں ہے پاکستان نے پچھلے سال 5.1ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے ہیں جبکہ بھارت جو بہت بڑا ملک ہے اس نے 3.2ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے جبکہ پاکستان میں تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا ہے پڑھے لکھے نعرے کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ملا

ملکی تاریخ میں پہلی بار دفاعی بجٹ کی تفصیلات سینٹ میں پیش کردی گئیں



اسلام آباد ۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینٹ میں بجٹ کے لئے دفاعی بجٹ کی تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں ۔ منگل کے روز سینٹ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر رضا ربانی نے دفاعی بجٹ مالی سال 2008-09 ء کی تفصیلات کی کاپی ایوان میں پیش کی ۔ جس کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ کا حجم 2 کھرب 95 ارب 30 کروڑ 69 لاکھ 8 ہزار روپے ہے ۔ جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 19 ارب روپے زیادہ ہے ۔ جس میں ڈیفنس سروسز ایمپلائز سے متعلقہ اخراجات کا حجم 99 ارب 9 کروڑ 15 لاکھ 62 ہزار روپے آپریٹنگ سے متعلقہ اخراجات کا حجم 82 ارب 84 کروڑ 8 لاکھ 84 ہزار روپے ‘ ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کی مد کے لئے 12 ارب 8 کروڑ 59 لاکھ 53 ہزار روپے ۔ جنرل اخراجات کے لئے 70 ارب 75 کروڑ 49 لاکھ 31 ہزار روپے فزیکل ایسٹس کی مالیت 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار روپے ، دوسرے سٹور ز اور سٹاکس کے لیے 87 ارب 63 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار ،سول ورکس کے لیے 25 ارب 73 کروڑ 62 لاکھ 46 ہزار روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس طرح پاکستان فضائیہ کے لیے 71 ارب 66 لاکھ 62 ہزار روپے مختص کیے گئے ہین جن میں ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 10 ارب70 کروڑ 63 لاکھ 58 ہزار روپے ، اپریٹنگ اخراجات کی مد کے لیے 16 ارب46 کروڑ 32 لاکھ77 ہزار ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے 2 ارب 18 کروڑ 36 لاکھ 78 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 14 ارب 27 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار روپے ، فزیکل ایسسٹس کے لیے 39 ارب 59 کروڑ 74 لاکھ روپے ، سول ورکس کے لیے کے لیے 4 ارب 23 کروڑ 96 لاکھ 27 ہزار روپے،اس طرح بحری افواج کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 33 لاکھ 11 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اخراجات کے لیے 6 ارب 75 کروڑ 5 لاکھ 17 ہزار روپے، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 3 ارب 91 کروڑ 3 لاکھ 87 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن کے لیے ایک ارب 43 کروڑ 24 لاکھ روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 79 لاکھ روپے ، فیزیکل ایسڈز کے لیے 15 ارب 71 کروڑ 28 لاکھ78 ہزار روپے( اس طرح پاک فوج کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 28 ارب 69 کروڑ 97 لاکھ 57 ہزار روپے رکھے گئے ہیں جن میں ملازمین کی تنخواہوں سے متعلقہ امور کے لیے 71 ارب 27 کروڑ 47 لاکھ 22 ہزار روپے ، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 22 ارب 33 کروڑ 74 لاکھ 51 ہزار روپے ، ٹریول اینڈ ٹرانسپورٹیشن اخراجات کے لیے 4 ارب 68 کروڑ29 لاکھ 40 ہزار روپے ، جنرل اخراجات کے لیے 17 ارب 65 کروڑ 45 لاکھ 11 ہزار روپے ، فیزیکل ایسٹس کے لیے 21 ارب 52 کروڑ 73لاکھ 23 ہزار روپے اور سول ورکس کے لیے 13 ارب 56 کروڑ 2 لاکھ 61 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ پہلے دفاعی بجٹ پیش نہیں ہوا تھا لیکن اتحادی حکومت کے تمام پارٹیوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں زیر بحث لائیں گے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ پورا بجٹ ہے لیکن آئندہ سال تفصیلی بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے مسلح افواج کے بجٹ 2008-09 ء کے لئے مرحلہ وار تحقیقات ایوان میں پیش کرنے کی اجازت مانگی تو چیئرمین سینٹ نے اجازت دی جس کے بعد دفاعی بجٹ کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئی

ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ سید یوسف رضا گیلانی



اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جس دن محسوس کریں گے بے نظیر بھٹو شہید کے مشن سے غداری کر رہے ہیں اقتدار چھوڑ دیں گے۔اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے آئین کے مطابق اپنا کرداراداکریں۔آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی خود مختاری وبالادستی ، اداروں کا استحکام،اور میڈیاکی آزادی کے عزم پر قائم ہیں بلوچستان اور فاٹاکے مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کریں گے ۔انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہو گی۔ فاٹا کے حوالے سے نئی جمہوری حکومت کی پالیسی کی امریکی صدر بش نے حمایت کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں پلڈاٹ کے تحت ’’قانون کی حاکمیت اور جمہوریت ، مستقبل کاسفر ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل ، فاٹا کی صورتحال اور ملٹری سول تعلقات پر مختلف سیشنز منعقد ہوئے سابق گورنر پنجاب شاہد حامد ، پلڈاٹ کے چیف ایگزیکٹو بلال احمد محبوب نے وزیراعظم کو کانفرنس کی سفارشات پیش کیں ۔ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے سیاسی ،مالی مسائل کاجائزہ لیاگیابلوچستان میں مذاکرات اور اعتمادکی فضاء کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو نذر انداز کیاگیا حقوق نہیں دئیے گئے بلوچستان کے عوام قانون شکنی پر یقین نہیں رکھتے پاکستان کے ساتھ محب وطن اور مخلص ہیں اعتماد کی فضا برقرار کرنے کی ضرورت ہے ۔ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے بلوچستان شدید مالی مشکلات سے دو چار ہے وفاق اور تین صوبے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان ابھی تک بجٹ پیش نہیں کر سکاہے بلوچستان کو آئینی حقوق دیں گے انہوںنے کہاکہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام حکمرانوں کے رویے سے شاکی نظر آتے ہیں ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ ترقی سے محروم ہیں انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیاہے سیاسی عمل معاشی استحکام ، صوبائی خود مختاری دیں گے اور بلوچستان میں خوشحالی لائیں گے بدقسمی سے بلوچستان کی ملازمتوں میں چھ فیصد کوٹے پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا ساڑھے تین ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ رولز میں نرمی کر کے بلوچستان کے عوام کو نوکریاں دیں فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج کے سربراہ نے بھی اس بارے میں بریفنگ دی انہوں نے کہاکہ فاٹا کی اکثریت امن پسند اور پاکستان کی وفادار ہے ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے تیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بائیومیٹر سسٹم لگایا گیا مگر دوسری طرف سے تعاون نہیں کیاجارہاہے ۔ بمباری کے ایشو پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج کیاگیا کیا پہلے ایسے ہوا تھا وزیر خارجہ نے کونڈا لیزا رائس سے بھی احتجاج کیا ہم امریکہ کے ساتھ دفاعی ، معاشی ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں اپنی خود مختاری سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے فاٹا کے مسائل کے حل کے حوالے سے سیاسی عمل ، معاشی ، سماجی ترقی اور مذاکرات کو حکمت عملی میں ترجیح حاصل ہے فاٹا میں جمہوریت کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں امریکی صدر نے ہماری پالیسی کی حمایت کرتے ہیں آئین پر یقین رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں فوج اور عدلیہ سمیت تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں اداروں کے درمیان تصادم سے کچھ نہیں بچے گا سب کو آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔ہم نے لانگ مارچ بھی کئے ہیں اور جیلیں بھی دیکھیں ہیں بے نظیر بھٹو کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے صدر پرویز مشرف نے وردی اتاری ججز کی تعداد میں اضافہ اتفاق رائے سے کیا گیاہے۔میثاق جمہوریت کا اس کی روح کے مطابق نفاذ چاہتے ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں ججز بحال ہوں گے آزاد عدلیہ چاہتے ہیں آئین کے مطابق پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کرے گی انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ حکومت نے وکلاء کے لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا اسٹیج ، بجلی ، پانی ،ڈنر اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں اورکسی جگہ پولیس نے وکلاء کو نہیں روکا نہ فوج بلائی گئی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ۔ ہم چہرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صحافیوں نے کہاکہ جس دن محسوس کریں گے کہ بے نظیر بھٹو کے مشن سے غداری کر رہے ہیں سب کچھ چھوڑ دیںگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کے حوالے سے تنہا پرواز نہیں کریں گے ساٹھ ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کے بارے میں پارلیمنٹ جو فیصلے کرے گی وہ قبول کیاجائے گا

ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں ۔۔ آصف علی زرداری



۔ بے نظیر بھٹو نے افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے نہیں جمہوریت کی بحالی کیلئے جان کا نذرانہ دیا، معزول ججوں کی بحالی کے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی

لاہور۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں ملک کی صدارت کا امیدوار نہیں ہوں۔ ہم صدر پرویز مشرف کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اور پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انہیں آئینی صدر تسلیم نہیں کیا۔ آئندہ صدر کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشورہ کے بعد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج گورنر ہاوس میں ایڈیٹروں اور سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے شہادت نوش نہیں کی بلکہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ معزول ججوں کو ضرور بحال کیا جائے گا لیکن ان کی بحالی کیلئے وقت کا تعین پیپلز پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلافات معمول کی بات ہے اس سے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ اتحاد قائم رہے گا۔ ہم صوبوں کے درمیان ہم اہنگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل آگے بڑھے۔ اسی لئے ہم نے جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں حالانکہ اگر ہم چاہتے توجوڑ توڑ کرکے وہاں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم کی جاسکتی تھیں۔ ہم پاکستان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں اسی لئے ہم نے بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی اور وہاں فوجی آپریشن بند کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے اس سے ہمیں نہیں تو آئندہ نسلوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوریت کو تقویت دی۔ پیپلز پارٹی کی کوششوں کے باعث ہی جنرل پرویز مشرف نے وردی اتاری جس کیلئے ہم نے ہر چیز کو قبول کیا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ یہ پراپیگنڈا غلط ہے کہ این آر او صرف میرے لئے آیا اس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ جہاں تک میری ذات کا سوال ہے حکومت نے میرے خلاف کیس واپس لے کر تسلیم کیا کہ یہ کیس سیاسی انتقام کے نتیجہ میں بنائے گئے تھے۔ میں جمہوری انتقام پر یقین رکھتا ہوں مجھے اس گورنر ہاوس سے گرفتار کیا گیا جہاں میں نے کارکنوں سے خطاب کرکے اپنا جمہوری انتقام لے لیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ میں ہی زمین اور 90ہزار فوجی واپس لئے۔انہوں نے کہا کہ وکلائ اور کچھ سیاسی جماعتوں نے لانگ مارچ کیا جن سے میاں نوازشریف نے بھی خطاب کیا۔ ہم نے خود انہیں روٹی اور پانی فراہم کیا لیکن جب پیپلز پارٹی لانگ مارچ کرے گی تو اسے دنیا دیکھے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی میں میاں نوازشریف سے اتحاد قائم رکھنا چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ ہم نے کسی سے سیاسی انتقام لینے کی بجائے میاں صاحب سے دوستی کی ۔ اگر ہم متحد نہ رہے تو اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ قوم ابھی تک محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدمہ سے باہر نہیں نکل سکی۔ یہ الزام غلط ہے کہ سیاستدان قوم کو مایوس کررہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے ہماری رہنمائی کریں اور ریسرچ کے بعد عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔

کیلی فورنیا میں ہم جنس شادیاں

کیلیفورنیا ۔ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں سپریم کورٹ کی طرف سے ہم جنس شادیوں کی اجازت کے بعد درجنوں ہم جنس جوڑوں نے اپنی شادیاں رجسٹر کروائی ہیں۔پیر کی رات بارہ بجے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق عمل میں آتے ہی بیس سے زیادہ کاؤنٹیز میں یہ شادیاں رجسٹر کی گئی ہیں۔ کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں سب سے پہلے شادی کرنے والا جوڑا ہم جنسوں کے حقوق کے لئے کئی دہائیوں سے جد وجہد کرنے والی ستاسی سالہ ڈیل ماٹن اور تراسی سالہ فیلیس لیون کا تھا۔ ریاست میں نومبر کے مہینے میں ایک ریفرنڈم میں لوگوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ آیا ہم جنسوں کی شادی پر پابندی بحال کی جائے یا نہیں۔امریکہ میں میسا چیوسٹ کے بعد کیلی فورنیا وہ دوسری ریاست ہے جہاں ایسی شادیوں کی اجازت دی گئی ہے۔لاس اینجیلس میں ایک ایسی ہی شادی کی تقریب کے موقع پر بیس کے لگ بھگ مظاہرین نے احتجاج بھی کیاآ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر درج تھا کہ ’ہم جنس شادی ایک گناہ ہے۔‘ ریاست کیلی فورنیا میں 2000 ء میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون کی منظوری دی گئی تھی جس کے مطابق شادی صرف مرد اور عورت کے درمیان ہوسکتی ہے۔ لیکن ریاست کے سپریم کورٹ نے اس قانون کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ تاہم ریاست میں ہم جنس شادی کے مخالفین نے اس قانون کے خلاف اتنی حمایت اکھٹی کر لی ہے کہ اس حتمی فیصلہ نومبر میں ایک ریفرنڈم کے دریعے کیا جائے گا۔

برطانیہ میں آرائشی سرجری کا رحجان عروج پر

لندن ۔ عالمی اقتصادی بحران پر اپنی جگہ ہے لیکن برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کے دیوانے آج بھی ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنے کو تیار ہیں یہ بات ایک جائزے میں کہی گئی ہے ۔ برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کی خدمات فراہم کرنے والے ایک بڑے گروپ ہارلے میڈیکل کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران جراحی کے عمل سے گزرنے والوں کی مانگ میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ توند گھٹانے کے آپریشن پر تقریباً دس ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے اس آپریشن کی مانگ جہاں 59 فیصد بڑھی ہے وہیں پستان کو نمایاں اور خوشنما بنانے کی سرجری میں 40 فیصد اضافہ ہوا ۔ گروپ نے بتایا کہ گزشتہ دس ماہ میں توند گھٹانے کے لئے اس نے تین سو سے زائد آپریشن کئے ہیں جبکہ دس ماہ قبل گزرنے والے اس مہینوں میں ایسے صرف 160 آپریشن کئے گئے تھے ۔ تحقیق کرنے سے پتہ چلا ہے کہ آپریشن کرانے والوں نے دیگر اخراجات تو کم کر دیئے ہیں لیکن اپنے آپ کو سنوارنے پر اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی ۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا نیا الزام



پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیل رہی ہےوزیراعظم گورڈن براؤن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے

واشنگٹن ۔ امریکی صدر بش نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے منظم ہونے کا الزام عائد کیا ہے لندن میں برطانوی وزیراعظم گولڈن براؤن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ قبائلی علاقے طالبان اور انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اس موقع پر انہوں نے کہاکہ افغان صدر حامد کرزئی کا گزشتہ روز دیاگیا بیان بلا جواز نہیں تھا انہوں نے افغانستان اورپاکستان پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنی سرحد پر عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے بات چیت کے دائرہ کار کو وسیع کریں اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کہاکہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کے عوض عالمی طاقتوں کی جانب سے پیش کئے گئے مراعاتی پیکج کا مثبت جواب نہ دیا تو تہران پر مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیراعظم نے کہاکہ برطانیہ افغانستان کے لئے مزید فوجی بھیجے گا

” لانگ مارچ کا رستہ ....آزادی کا رستہ “







اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے لانگ مارچ کامشکل ترین مرحلہ بخیر وخوبی گزر گیا۔ جمعہ13جون کی رات لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا ۔ اسی روز میں نے خبر دے دی تھی کہ ”حکومت اوروکلاءرہنمائوں میں یہ انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے کہ ہمیں امن وامان برقرار رکھنا ہے جس کی وجہ سے ملک اورقوم پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی ہے اورمزید کی شاید متحمل نہ ہوسکے۔ لانگ مارچ آرمی ہائوس ،چیئرمین جوائنٹ چیفس کی رہائش، پارلیمنٹ اور ایوان صدر کی طرف نہیں جائے گا تاہم پریڈ ایونیو میںجلسہ کیاجاسکے گا جہاں ایوان صدر بھی بالکل سامنے ہے اورپارلیمنٹ ہائوس بھی۔ اس طرح لانگ مارچ کے مقاصد بھی حاصل ہوجائیںگے اورحکومت امن وامان کے قیام کی ذمہ داری سے بھی عہدہ برآ ہوسکے گی۔ چونکہ بجٹ کے فنانس بل میں سپریم کورٹ ججوں کی تعداد29کرنے کااعلان ہوچکا ہے اس لیے بھی لانگ مارچ کی طرف سے کسی سخت اقدام کاامکان کم ہے“۔ شباب ملی اور اے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے حوالے سے حکومت کے خدشات ضرور تھے کیونکہ لانگ مارچ پرامن رکھنے کیلئے بات چیت مسلم لیگ(ن) کے مرکزی اوروکلاءکی جڑواںشہروں کی قیادت سے ہورہی تھی مگر اس میں اکثریت اوراہمیت چونکہ انہی دو کی تھی جن سے بات ہورہی تھی اس لیے کڑا وقت کسی آزمائش کے بغیر گزر گیا۔ یار لوگ بے شک شور مچاتے رہیں کہ دونوں طرف اپنے ہی لوگ تھے۔ حکومت میں بھی اورلانگ مارچ میں بھی بہرحال یہ بہت بڑی بات ہے کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کے اتنے لمبے مارچ کے باوجود کوئی جانی مالی نقصان نہیں ہوا اورپریڈ ایونیو سے چند گز کے فاصلے پرموجود عالمی برادری کے نمائندہ غیرملکی سفیروں کے شہر ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ پیغام پہنچنا کہ پاکستانی شدت پسندی ،توڑپھوڑ اورجلائو گھیرائو کے بغیر بھی احتجاج ریکارڈ کراسکتے ہیں۔ میری رائے میں بلاشبہ قابل تعریف ،لائق اعتراف ہے ورنہ غیرملکی سفیروں نے ڈنمارک ایمبیسی دھماکے کے بعد انتہائی سخت اورواضح الفاظ میں حکومت کوبتادیا تھا کہ یہی حالات رہے تو وہ یہاں نہیں رہ سکیںگے۔ علاوہ ازیں فرانس اورچین کے سفارتخانوں کودھمکی بھی مل چکی ہے اورفرانس ایمبیسی تو ہے بھی شاہراہ دستور کے بالکل اوپر۔باقی سفارتخانے تو پھر بھی ڈپلومیٹک انکلیو کی بائونڈری کے اندر ہیں۔مشیرداخلہ رحمان ملک ایک ملاقات میں بتا رہے تھے کہ کس لہجے میں سفیروں نے ان سے بات کی مگر انہوں نے یہ یقین دلا کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ انشاءاللہ ان کی طرف کوئی نہیںجائے گا۔ ظاہر ہے میاں نوازشریف بطور سابق وزیراعظم اوراعتزاز احسن بطور صدر سپریم کورٹ بار ملک اورقوم کی طرف اپنی ذمہ داریوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیںاس لیے 4روز تک ملک بھرسے عوام کے طوفان کے ساتھ گزرنے کے باوجود کہیں کوئی گڑ بڑ نہیںہوئی اور نہ غیرملکی نمائندوں ہی کوخوف وہراس کاسامنا کرنا پڑا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ جب لانگ مارچ اسلام آباد پریڈ ایونیو پہنچ جائے گا تو پھر کیاہوگا؟ جلسہ تو ہوگا مگر کیاکچھ اوربھی ہوگا۔ لانگ مارچ کالفظی مطلب لمبی پیش قدمی ہے۔ کیا ایک ہزار میل پیش قدمی کے بعد عوام کا”لشکر“ پسپا ہوجائے گا؟ کیاپارلیمنٹ ہائوس اورایوان صدر کے سامنے پڑائو ڈال دے گا جب تک جج بحال اور صدر فارغ نہ ہوجائیں؟ یاپھر مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہائوس اور ایوان صدر پرحملہ کردیاجائے گا؟ یہ سوال لوگوں کے ذہن میں تھے اورسب سے بڑا سوال ہی یہ تھا کہ ایساہوگیا تو پھر کیاہوگا ؟ پیر پگاڑا کافرمان لوگ پڑھ چکے تھے کہ جج بحال نہیںہوںگے اورملکی تاریخ کابدترین مارشل لاءلگنے والا ہے۔ گویہ امر باعث اطمینان ہے کہ مکمل تصادم سے دونوں فریقوں نے گریز بھی کیا اوراپنا اپنا کام بھی کرلیاجج تو تقریباً بحال ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ بجٹ فنانس بل کے ذریعے تعداد 29کردی گئی ہے اوراس پر نواز لیگ بھی راضی ہے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق ان کی تنخواہوں کی ادائیگی سے بھی ظاہر ہے کہ وہ حاضر سروس ہیں۔ اوربدترین مارشل لاءاب اس لیے نہیں لگ سکتا کہ جنرل مشرف کے مارشل لاءسے بدترین اورکیاہوگا؟ علاوہ ازیں خود وکلاءتحریک ،نوازلیگ کوبھی علم اورشعور ہے کہ ان کی طرف سے کسی بھی قسم کاسخت اقدام ایوان صدر کومضبوط اورپارلیمنٹ کوکمزور کرسکتاہے اوریہ دونوں کبھی نہیں چاہیںگے۔ جہاں تک ایوان صدر کی بات ہے یہ لوگ ایسی دیوار کودھکا مار کراپنی توانائیاں ضائع نہیں کریںگے جو پہلے ہی شکستہ ہوکرگرنے والی ہے اور پارلیمنٹ جو اب ان کی امیدوں کامرکز ہے اسے مجبور تو کرسکتے ہیں اپنے مطالبات ماننے کیلئے مگر اس پرحملہ آور نہیں ہوسکتے ورنہ ان میںاور آمروں میں کیافرق رہ جائے گا۔ 13جون جمعة المبارک کے روز پریڈ ایونیو پرجب لانگ مارچ کے قافلوں کی آمد ہورہی تھی اورسٹیج سے قومی وملی نغمے نشر ہورہے تھے ۔ اللہ اکبر اللہ اکبراے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیاہم زندہ قوم ہیں،پائندہ قوم ہیں۔یہ ترانے شرکاءکے جذبات کوگرما رہے تھے۔ جب قافلے نعرے لگاتے آرہے تھے اور سٹیج سے ان کوخوش آمدید کہا جارہا تھا۔ چاروں طرف چیف جسٹس افتخار کے حق اور صدر مشرف کے خلاف نعروں والے بینر لگے ہوئے تھے سٹیج کے ایک طرف وکلاءنے کیمپ لگا رکھا تھا جبکہ دوسری طرف ٹی وی چینلز کے کیمرے نصب تھے۔ ایمبیسی روڈ سے ہرلمحے کوئی نہ کوئی قافلہ،کوئی نہ کوئی جلوس آتا جارہاتھا۔ کوئی سرحد سے آرہا تھا تو کوئی بلوچستان سے، کوئی سندھ سے پہنچ رہاتھا اورکوئی پنجاب کے مختلف شہروں سے۔ لوگ آتے جارہے تھے اور پریڈ ایونیو کادامن تنگ پڑتا جارہاتھا۔ لوگوں کاجوش وخروش ہرگزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہاتھا ۔ سورج پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہاتھا اور جون کی گرمی اچھے بھلے آدمی کے کس بل نکالنے کیلئے کافی تھی مگر ایک عجیب کیفیت ہرشخص پرطاری نظر آرہی تھی۔ کسی کوگرمی کی پروا تھی نہ بھوک اورپیاس کی۔ ان میں مرد بھی تھے اورعورتیں بھی۔ بڑے بھی تھے اوربچے بھی۔ ہرکسی کے لب پرایک ہی نعرہ تھا۔ ”ہم ملک بچانے نکلے ہیں۔ آئو ہمارے ساتھ چلو“۔ اوراس ماحول کے درمیان میںایک طرف کھڑا ایوان صدر کی طرف دیکھ رہاتھا جوسٹیج کے عین پیچھے نظر آرہاتھا اورجس کی چھت پرقومی پرچم لہراتھا میرے ذہن میں اس وقت ایک ہی سوال گردش کررہاتھا۔ صدرمشرف اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں ہیں یاآرمی ہائوس میں ہیں؟12مئی کو جب کراچی مےں لاشےں گرائی جا رہی تھیں تو اسلام اÈباد مےں اسی مقام پر صدر نے جلسہ کیا جس میں کہا گیا کہ” دےکھی عوام کی طاقت “،اور اب وقت نے عوام کی اصل طاقت اسی جگہ لا کر دکھا دی ہے۔اب بھی کسی کو سمجھ آتی ہے ےا نہیں ،اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا،تاہم عوام کی اکثریت نے اےک بار پھر فےصلہ سنا دےا ہے اور خوب سناےا ہے۔اب جبکہ لانگ مارچ مکمل ہوچکا۔ کراچی سے اسلام آباد تک جوڈیشل بس چل چکی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے حاصل کیاہوا؟ ججوں کی بحالی اور صدر کی رخصتی کااعلان کب ہوگا؟ اس پر تاریخ کامثالی لانگ مارچ کرنے والے عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماوزے تنگ کاقول سامنے رکھناہوگا۔ مائو کے مطابق ”لانگ مارچ ایک منشور ہے۔ایک پراپیگنڈہ فورس ہے۔ یہ ظاہر کرتاہے کہ جس راستے پرچل کرلانگ مارچ اپنی منزل پرپہنچا وہی راستہ ہماری آزادی اورخوشحالی کاراستہ ہے“10 جون سے14جون تک پاکستان میں جولانگ مارچ ہوا اورجس میں ہرطبقہ فکر نے بھرپور شرکت کی دراصل ایک منشور تھا کہ آئین اورقانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہور کی حکمرانی ہی اس ملک کے 16کروڑ عوام کے مسائل کاحل ہے اوریہی وہ راستہ ہے جس پرچل کرہم بھی آزادی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ملکی تاریخ کی سب سے ”بڑی پیش قدمی “کس کس کو پچھاڑے گی ، ہم دیکھیں گے