International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, June 25, 2008

قبائلی علاقوں میں ہو نے والے تمام امن معاہدوں کی مکمل سر پرستی کی جائے گی ۔ وفاقی حکومت



اسلام آباد ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور صوبہ سرحد میں قیام امن کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہو نے والے تمام امن معاہدوں کی مکمل سر پرستی کی جائے گی معاہدوں کی خلاف ورزی پر سیکورٹی فورسز کو قوت کے استعمال کا حق حاصل ہو گا قبائل اپنی سرحدی علاقوں میں در اندازی روکنے کے ذمہ دار ہوں گے کسی بھی صورت میں فوجی طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا قبائلیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے کے پابند ہوں گے اور ان کی موجودگی اور کاروائیوں کے حوالے سے جوابدہ ہوں گے وزیر اعظم کی صدارت میں بدھ کو اسلام آباد میں صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی ،وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی،وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی،وفاقی وزیر ریاست و سرحدی امور نجم الدین خان، قومی سلامتی کے لئے وزیر اعظم کے مشیر محمود علی درانی،مشیر داخلہ رحمان ملک، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہائی پسندی کے چیلنج سے نمٹنا پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے چیلنج کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل ان کے منتخب نمائندوں قبائلی سرداروں،مقامی با اثر افراد کے ذریعے حل کیا جائے گا کثیر الجہتی حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ دوسری سطح پر قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی ترقی و خود مختیاری فراہم کی جائے گی اور تیسری سطح پر فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن موجود رہے گا کثیر الجہتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد امن کا قیام و مفاہمت معمولات زندگی کوبحال کر نا ہے اور انتہاء پسندوں دہشت گردوں و جرائم پیشہ عناصر کو تنہا کر نا ہے جو کہ پاکستان اور خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام حکومتی ادارے بشمول فوج اور سکیورٹی ایجنسیاںمقامی قبائی روایات اقدار رسوم ورواج کا پورا احترام کریں گی اور پاکستانی حدود سے غیر ملکی عسکریت پسندوں کی بے دخلی کو یقینی بنائیں گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی سر زمین کو کسی دوسرے ملک بالخصوص افغانستان کے خلاف استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اسی طرح کسی بھی غیر ملکی دستوں کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت اپنی حدود میں قیام امن کی ذمہ دار ہو گی گور نر صوبہ سرحد فاٹا میں قیام امن کے حوالے سے سر گرمیوں سے متعلق چیف کو آرڈینیٹر کا کر دار ادا کرتے ہوئے وفاقی حکومت و صوبائی حکومت اہم سیاسی رہنماؤں اور مقامی ملٹری کمانڈرز سے رابطے کے لئے کام کریں گے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فاصا میں جامع ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گور نر صوبہ سرحد وفاقی صوبائی حکومتوں سے مشاورت کریں گے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں قبائل سے ہو نے والے تمام معاہدوں کی پشت پناہی کی جائے گی اور سختی سے ان کے نفاذ و اطلاق کو یقینی بنایا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت کو قوت کے استعمال کا حق حاصل ہو گا گور نر صوبہ سرحد تمام مفاہمتی کاوشوں کی قیادت کریں گے باہمی احترام اور مقامی رسم و رواج کی بنیاد پر سیاسی معاہدوں کو یقینی بنایا جائے گا قبائل کی اپنی علاقوں سے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ملک سے نکالنے کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی اور ان علاقوں میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی اور کاروائی کے حوالے سے قبائل ذمہ دار ہوں گے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قبائل اپنے علاقوں میں در اندازی روکنے کے بھی ذمہ دار ہوں گے تاہم ان تمام معاملات کے حوالے سے سیاسی فوجی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہو گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی قبیلہ فوج فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی واضح کر دیا جائے گا کہ قبائلیوں کہ کسی بھی غیر ذمہ داری پر فوجی طاقت کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہو گی

پاکستان میں پولیس اور بجلی کے ادارے بدعنوانی میں سرفہرست ہیں ۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان کی رپورٹ

اسلام آباد۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیس اور بجلی کے ادارے بدعنوانی میں سرفہرست ہیں جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے اپنی حالی جاری رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یہ ایک بدترین بدعنوانی ہے او رپاکستان میں ہر خاندان تقریباً2330روپے سالانہ کرپشن کی ادائیگیوں میں خرچ کرتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ابتک کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان 1998ء میں کرپشن انتہائی کم سطح پر تھی جب نواز شریف کا دور تھا جبکہ 1996ء میں یہ بلند ترین سطح پر کرپشن رہی ہے ۔ اسوقت پیپلز پارٹی کا دور تھا۔ر پورٹ میں کہاگیا ہے کہ آئندہ چھ جولائی کو رپورٹ جس میں بتایا جائے گا کہ 100دنوں میں حکومت کی کارکردگی کیا رہے گی ۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ 2002ء کے بعد سے کرپشن میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ صوابدیدی اختیارات ہیں

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فاٹا میں فوجی کارروائیوں کا مکمل اختیار ، اعلیٰ سطح اجلاس کا فیصلہ



اسلام آباد ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی فاٹا میں کارروائیوں کی نگرانی کریں گے جبکہ ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورنر اور وزیراعلیٰ کی سربراہی میں امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے استعمال کئے جائیں گے اور وہ چیف آف آرمی سٹاف کی کمانڈ میں ملٹری آپریشن میں حصہ لیں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چیف آف آرٹی سٹاف کو تعداد اور فوجی کارروائیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہو گا اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ کم سے کم طاقت کا استعمال اور بڑے نقصان سے بچا جائے گا ابتدائی طور پر دہشت گردوں کے خاتمے اور سرحد پار آمدورفت کو روکنے کیلئے تیز رفتار آپریشن کئے جائیں گے ۔ یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ افغانستان کے سہ فریقی کمیشن کے ساتھ رابطہ اور تعاون کیاجائے گا اور حکومت کو اس سے آگاہ رکھا جائے گا جبکہ وزیراعظم ، گورنر سرحد ، وزیر دفاع اور مشیر داخلہ کو ہونے والی کارروائیوں سے بھی مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا ۔

مہمند ایجنسی پر امریکی فضائی حملہ بش مشرف حکمت عملی ہو سکتی ہے ‘ حامد کرزئی




نئی دہلی ۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی پر امریکی فضائی حملہ بش مشرف حکمت عملی ہو سکتی ہے پاکستان کو امریکی فضائی حملوں سے بچنے کے لئے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدام کرنا ہو گا ۔ افغانستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔ جب پاکستانی علاقوں سے افغانستان میں اتحادی فورسز پر حملے کئے جائیں گے تو پھر بھی اس قسم کی جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ بھارتی ٹی وی ’’ دور درشن ‘‘ کے مطابق صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقے طالبان اور القاعدہ کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بن چکی ہیں ۔ افغانستان صدر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاکستانی فوج کی مدد سے افغانستان میں حملے کرتے ہیں افغانستان میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لئے پاکستان میں طالبان کے مضبوط گڑھوں کو ختم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیت اللہ محسور ‘ ملاعمر اور فضل اللہ پر جان لے کہ ہم جا کر انہیں ختم کر دیں گے ۔ ہم ان تمام عناصر کو ختم کر دیں گے جو گزشتہ سات سالوں سے افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ حامد کرزئی افغانستان پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ پاکستان سے افغانستان کے علاقوں میں مداخلت کے الزام میں امریکی فورسز نے فضائی حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں پاک فوج کے کئی جوان شہید ہوئے ۔ مہمند ایجنسی پر امریکی حملوں کے بعد یہ حیرت کا باعث ہے کہ پہلی بار پینٹاگان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ۔

ٹانک ، کڑی وام سے نعمت خیل امن کمیٹی کے ٣٠ مغویوں میں سے ٢٨ کی لاشیں برآمد

ٹانک ۔ ٹانک کے علاقے کڑی وام سے نعمت خیل امن کمیٹی کے 28 افراد کی لاشیں ملی ہیں آج نعمت خیل امن کمیٹی اور طالبان کے درمیان لڑائی کے دوران نعمت خیل امن کمیٹی کے 30 ارکان کو یرغمال بنا لیا گیا تھا ۔ 30 مغویوں میں سے 28 کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بدھ کو ایف آر ٹانک کے علاقے کڑی وام سے ملیں جس کے بعد امن کمیٹی میں شامل افراد کی ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی ۔ لاشیں ملنے کے بعد جنڈولہ بازار بند کر دیا گیا ۔ ٹانک جنڈولہ شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا اور سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ سیکیورٹی فورسز کے ٹینک بکتر بند گاڑیاں اور گن شپ ہیلی کاپٹر ایف آر ٹانک کے ہیڈ کوارٹرز جنڈولہ پہنچ گئے ہیں تاہم طالبان پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر جنوبی وزیرستان چلے گئے ہیں ۔

صدرپرویز مشرف اس امریکی منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت پاکستان کو ٢٠١٥ء تک توڑ دیا جائے ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان



نیو یارک ۔ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ صدرپرویز مشرف امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور امریکہ کا منصوبہ ہے کہ2015 تک پاکستان کو توڑ دیا جائے نیویارک کے شائع ہو نے والے اردو ہفت روزہ کو فون پر دئیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ صدر مشرف وہی کچھ کر رہے ہیں جو امریکہ چاہ رہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو2015 تک پاکستان کو تقسیم کر دیا جائے انہوں نے آئی اے ای اے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ عالمی ادارہ نہیں بلکہ امریکہ اور یہودیوں کا مشترکہ ادارہ ہے انہوں نے کہا کہ میں اس ادارے کے سامنے پیش ہو نے کا پابند نہیں ہوں انہو ںنے لیبیا کے بارے میں کہا کہ پسبا جھوٹ بولتا ہے اس نے ہم سے کوئی سامان نہیں لیا بلکہ مادر نازی جس شخص نے سامان خریدا تھا انہوں نے کہا کہ اس وقت جب انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ خوف سے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کیا تھا انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ کہا جا رہا تھا ملک پر بمباری کر دی جائے گی اگر آپ نے یہ جرم اپنے سر نہ لیا انہوں نے کہا کہ دوسرا آدمی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا اب وقت آ گیا ہے کہ میں سچی تصویریں عوام کے سامنے لے آؤں انہوں نے کہا کہ میری رپورٹ محمود الرحمان رپورٹ کی طرح نہیں چھپے گی بلکہ میں نے سب کچھ اپنے بیوی بچوں کو بتادیا ہے اور جلد ہی قوم حقیقت جان جائے گی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی جان کو کسی قسم کا خطرہ ہے جو اب میں ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ میں ایک سچا اور پکا مسلمان ہوں اور زندگی موت خدا کے ساتھ میں ہے جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں میرا اس پر ایمان ہے مجھے موت سے کوئی ڈر نہیں انہوں نے ایٹمی اسلحے کی موجودگی میں بڑے پیمانے پر جو اسلحہ خریدا جا رہا ہے اس کے بارے میں کہا کہ اس اسلحے کی خریداری ایٹمی اسلحے کے سامنے کچھ نہیں اور یہ لوگ صرف کمیشن کمانے کے لئے اسلحہ خرید رہے ہیں انہو ںنے اس کی مثال کراچی کے حوالے سے دی کہ وہاں بڑے بڑے فلائی اور بن رہے ہیں لیکن اگر چھوٹے علاقوں میں جائیں تو وہاں بڑے بڑے گہرے کھڈے ہیں انہوں نے کہا کہ جب بڑی چیزیں تعمیر کی جاتی ہیں یہ کمیشن کھانے کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں بے نظیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک سمجھدار عورت تھیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بے نظیر بھٹو کو اس لئے قتل کیا گیا ہے کہ انہو ںنے ایٹمی اسلحے کی تحقیقات کر انے کا اعلان کیا تھا اور انہیں اس اعلان کی سزا دی گئی ہے نواز شریف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہادر آدمی ہے اور وہ جو بات کہتا ہے اس پر قائم رہتا ہے آصف زر داری کے حوالے سے انہو ںنے کہا کہ میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ڈاکٹر اے کیو نے بہت تعریف کی انہوں نے کہا کہ وہ ایک عظیم آدمی ہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بارے میں ڈاکٹر قدیر نے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام میں سے کچھ پہلے غیر مسلم تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے تو کیا آپ ان کو پچھلے دور سے یاد کریں گے ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ پاکستان کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے

سپریم کورٹ نے حلقہ ١٢٣ لاہور کے ضمنی انتخابات روکنے کا حکم جاری کر دیا



اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کے خلاف اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ 123 لاہور کے ضمنی انتخابات روکنے کا حکم جاری کر دیا ۔فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ سماعت 30 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔نواز شریف کے وکلا کا کہنا ہے کہ نواز شریف پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے ۔بدھ کے روز وفاق اور میاں محمد نواز شریف کے تجویز کنندگان کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے یکجا کر دیاہے ۔جسٹس موسیٰ خیل لغاری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی ۔ بینچ میں جسٹس زوار جعفری اور جسٹس فرخ محمود شامل ہیں۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبد الرحمان نے کیس کی پیروی کی جبکہ میاں نواز شریف کے تجویز کنندگان کی جانب سے اکرم شیخ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حلقہ 123 کے ضمنی الیکشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیاہے ۔دوبارہ سماعت 30 جون کو ہو گی ۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی اٹاری جنرل عبد الرحمان نے کہاکہ ہائی کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی آئینی مسئلہ پر فیصلہ کر سکے۔ انتخابی پٹیشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے قائم انتخابی ٹربیونل میں سماعت کی جاتی ہے ۔جس کے فیصلے کے حوالے سے ہائی کورٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں ۔نواز شریف کی عدالت میں غیر حاضری سے کیس کمزور نہیں ہو گا۔ سپریم کورٹ نے حلقہ 123 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ نواز شریف پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ ان کے کاغذات نامزدگی کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جزوی حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے نواز شریف کو مکمل ریلیف نہیں دیا گیا

عوام کی رائے کی پا مالی اور طاقتور مافیا ۔۔۔ تحریر : اے پی ایس

وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کیں۔ یہ درخواستیں کو ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبد الرحمن نے دائر کی جن میں سے ایک میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے جبکہ دوسری میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یہ درخواستیں سماعت کے لیے منظورکر لی تھی اورجسٹس موسیٰ لغاری، جسٹس زوار جعفری اور جسٹس فرخ محمود پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا جس نے اس کیس کی سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف کی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ متعلقہ فورم نہیں اور اس کیس کو الیکشن ٹریبونل میں بھیجنا چاہیے تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خرم شاہ نہ ہی متعلقہ حلقے کے ووٹر ہیں اور نہ ہی انہیں اس قسم کے کیس دائر کرنے کا استحقاق حاصل ہے لہذاہ یہ کیس بغیر سماعت کے لاہور ہائی کورٹ میں ہی ختم کر دینا چاہیے تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اس مقدمے میں وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے جو کہ اپنا واضح مو¿قف رکھتی ہے۔ اس سے قبل نواز شریف کے پروپوزر ظفر اقبال کے وکیل ارم شیخ نے بھی اس حوالے سے خرم شاہ کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اکرم شیخ نے بھی ایک درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ انہیں اب لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ترمیمی پٹیشن دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ان کی درخواستوں کی سماعت وفاقی حکومت کی دونوں درخواستوں کے ساتھ ہی کی جائے۔ واضح رہے کہ پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی تین رکنی فل بنچ کے رکن جسٹس حسنات احمد خان نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ۔دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بنچ تشکیل دے دیا جو درخواستوں پر دوبارہ سماعت کرے گا۔ شریف برادران کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے جو تین رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ۔ اس میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے درخواستوں پر انکار مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود کی طرف سے بنچ کی تشکیل کے اعتراض کے بعد کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان ، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس احسن بھون پر مشتمل بنچ شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے سماعت کررہا ہے کارووائی کے دوران مسلم لیگ لائیرز فورم پاکستان کے صدر خواجہ محمود احمد نےتین رکنی فل بنچ کی تشکیل پر اعتراض کیا اور کہا کہ بنچ کے ایک رکن قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرویز الہی کے رشتہ دار ہیں جبکہ دوسرے رکن مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے جونئیر رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر خالد رانجھا کو نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے بنچ پر اٹھائے گئے اعتراض کی وجہ سے شریف براردارن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ شریف براردان کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کے خلاف سید خرم شاہ اور نورالہی نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ان درخواستوں پر نواز شریف اور شہباز شریف کو نوٹس جاری کیے تھے تاہم ان کے پیش نہ ہونے پرفل بنچ نے یکطرفہ کارروائی شروع کی تھی۔ فل بنچ کے حکم اٹارنی جنرل کے ایما پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان پیش ہوئے اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ شریف برادران کی اہلیت کا معاملہ فریقین کے درمیان ایک نجی نوعیت کا تنازعہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں لاء افسر کی معاونت درکار نہیں ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار سید خرم شاہ کے رضا کاظم نے شہباز شریف کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل کیے جس کے بعد نورالہی کے وکیل ڈاکٹر محی الدین قاضی نے دلائل کا آغاز کیا تو اسی دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کردیا۔ خیال رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی ۔ یہ درخواستیں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال، حکومت پنجاب ، مسلم لیگ نون لائیرز فورم اور نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے دائر کی تھیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی منتخب ہوئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک وکیل اشتر اوصاف نے عندیہ دیا کہ صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ جج دو چار روز میں بحال ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بجٹ کے فوری بعد ججوں کی بحالی کی یقین دہانی کروائی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کی بات اس پر شبہ کیا جائے۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو بیان دیا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں اور ججوں کی بحالی ان کی ترجیح نہیں تو اشتر اوصاف نے کہا کہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں، لیکن یہ سب کچھ ایک دن یا چھ ماہ میں بھی انہیں دیا جاسکتا جبکہ ججوں کو ایک ہی دن میں بحال کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد میاں نواز شریف ان کے سامنے اپیل میں پیش ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے خلاف میاں نواز شریف حکمت عملی اپنی جماعت کی مشاورت سے ہی طے کریں گے انتخابی معاملات میں امیدوار خود عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور ان کے تجویز یا تائید کنندہ ہوتے ہیں وہ پیش ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر میاں صاحب خود سپریم کورٹ نہیں جاتے تو ان کے تجویز یا تائید کنندہ اپیل کرسکتے ہیں۔اشتر اوصاف نے کہا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات میں کبھی یکطرفہ طور پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اور اس مقدمے میں تو تین گھنٹے کی مختصر سماعت کے بعد ہی فیصلہ دے گیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ میاں نواز شریف کا کوئی نمائندہ عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوا تو انہوں نے کہا قطع نظر اس کے کہ کوئی پیش نہیں ہوا، بنیادی حقوق کے معاملات میں عدالتوں کو تمام پہلوو¿ں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ’میاں نواز شریف کو معافی مل چکی ہے، وہ انتخاب لڑنے کے اہل ہیں اور ان کے خلاف سرکار نے جو بھی اعتراضات اٹھائے ہیں وہ قابل پذیرائی نہیں ہیں‘۔ ان کے مطابق جب سرکاری وکیل نے خود تسلیم کیا ہے کہ میاں صاحب کو معافی مل چکی ہے تو پھر ان کی نااہلیت کا سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہبازشریف نے لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے خود عدالتِ عالیہ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شریف خاندان کے وکیل اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی۔پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جبکہ عدالتی حکم کے مطابق مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اس وقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ پیر کی رات ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں نواز شریف، شہباز شریف ، اشتراوصاف علی ایڈووکیٹ، خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور اکرم شیخ ایڈووکیٹ شامل ہوئے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنے سابقہ موقف قائم ہیں اور پی سی او کے تحت حلف لینے والوں ججوں جج کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے وہ اپنے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ اشتر اوصاف علی کے بقول نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی کیونکہ اس فیصلے سے صرف نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایک نئی ریت اور روایت ڈالی گئی ہے جس پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ مو¿قف ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف درخواستیں ہائیکورٹ کے سامنے قابل سماعت نہیں تھیں۔ ادھر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بعد ازاں ایک نجی ٹی وی چینل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کٹ جائیں گے لیکن ان ججوں کو جج نہیں مانیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے لیے حکومت کیا ہر چیز بھی چلی جائے تو یہ بڑی قربانی نہیں ہے‘۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ عدالت نے پیر کے روز تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا اور سوموار ہی کی شام کو اس فیصلہ کا اعلان کر دیا۔عدالت کے فیصلہ سناتے ہی مسلم لیگ کے حامی وکلاءنے کمرہ عدالت میں ’پی سی او جج نامنظور‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔یاد رہے کہ ان مقدمات میں نواز شریف اور شہباز شریف احتجاجاً پیش نہیں ہو رہے تھے۔ خیال رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیر اعظم اور شہبازشریف وزیر اعلی پنجاب تھے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نور الہی کے وکیل ڈاکٹر قاضی محی الدین نے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے دوران بھی مسترد کیے گئے تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جب عام انتخابات میں کوئی امیدوار نااہل ہوجاتا ہے تو کس طرح اس امیدوار کے کاغذات ضمنی انتخابات میں اہل ہوسکتا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور اس لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔کارروائی کے دوران سید خرم شاہ نے وکیل رضا کاظم نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف کے خلاف الیکشن ٹربیونل نے اختلافی فیصلہ دیا ہے اس لیے شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ سماعت کے دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کے رکن جسٹس شبر رضا رضوی پر اعتراض کیا جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالشکور پراچہ نے انہیں ہائی کورٹ آفس میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی جس پر فورم کے صدر نے اس معاملہ پر درخواست دائر کردی۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیراعظم اور شہبازشریف وزیراعلی? پنجاب تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سوموار کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اسوقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ مسلم لیگ (ن) پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی پاکستان میں حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے پارٹی کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلی مرتبہ احتجاجاً واک آو¿ٹ کیا۔مسلم لیگ کے کارکنوں نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر مظاہرہ کیا اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نعرے لگائے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور میں میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ قومی اسمبلی سے واک آو¿ٹ کرکے باہر آنے والے مسلم لیگ کے منتخب ارکان نے کہا کہ اسمبلی کے اندر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کہنا تھاکہ وہ بدھ کو نواز شریف کی نااہلیت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔اپیل کا اعلان وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی میں کل کے عدالتی فیصلے پر بحث کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابی معاملات پر سماعت کا حق انتخابی ٹرائبونلز کے پاس ہے جو کام کر رہے ہیں۔ اگر اعلان مری پر پیپلز پارٹی کاربند رہتی تو آج یہ فیصلہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ اگر صدر نے کل کو اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو انہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے معاملہ پیش کرنا پڑے گا ’لاہور ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا حق نہیں تھا تاہم انہوں نے اپنی دانست کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست کریں گے کیونکہ ضمنی انتخاب اگلے روز یعنی چھبیس جون کو منعقد ہو رہے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم قانونی معاملہ ہے اور اس کے لیئے جائز سماعت کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین خاص طور پر اپنے ہی اتحادی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مسئلے پر واضع مو¿قف اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت اس فیصلہ کے خاتمے کے لیئے تمام آئینی و قانونی ذرائع استعمال کرے گی اور انہیں امید ہے کہ فتح ان ہی کی ہوگی۔ منگل کو ایوان کی کارروائی کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما چوہدری نثار علی خان نے نقطہ اعتراض پر عدالتی فیصلے کا معاملہ اٹھایا اور تفیصلی بحث کا تقاضہ کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایوان سے معمول کی کارروائی روک کر اس معاملے پر تفصیلی بحث کروانا چاہی۔چودھری نثار نے اسمبلی میں پیپلز پارٹی پر تنقید کی تاہم سپیکر فہمیدہ مرزا نے چند اراکین کو اس معاملے پر اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے پر دو رائے ہوتی ہیں۔ چوہدری نثار نے اپنی تقریر میں ایوان سے دریافت کیا کہ وہ آج فیصلہ کرے کہ اسے جمہوریت کی جانب جانا ہے یا آمریت کی جانب۔ انہوں نے حزب اختلاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی فوجی آمر کی وردی سے چمٹ کر اقتدار میں نہیں آئیں گے جبکہ حزب اقتدار کو اپنی غلطیاں نہیں دہرانی چاہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کی اور جانوں کی قربانیاں دیں لیکن آج یہ جماعت ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ ’میں جانتا ہوں یہ ایسا نہیں کرے گی۔’ وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ ججوں نے یہ فیصلہ ان کے کہنے پر نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس فیصلے کی سماعت کے دوران مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر معزول ججوں سے متعلق اپنا مو¿قف واضح کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین اور قانون کے تحت بحال کریں گے۔ ’ڈنڈے کے زور پر انہیں بحال نہیں کیا جائے گا۔ دو غلط باتوں سے ایک درست بات نہیں بنتی۔‘ بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی وہ اپنی نشست چھوڑ دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال، اور ایاز امیر نے بھی تقاریر کیں اور کہا کہ اگر اعلان مری پر پیپلز پارٹی کاربند رہتی تو آج یہ فیصلہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر نے کل اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو انہیں پی سی او والی عدالتوں کا سہارا لیں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے شیخ وقاص نے اپنی جماعت کا مو¿قف واضح کرتے ہوئے کہا وہ تقاریر کا اپنا وقت بھی پیپلز پارٹی کو دینے کو تیار ہیں تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضع کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملہ پر مزید کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے۔ شہباز شریف راولپنڈی سے بھی بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف پنجاب اسمبلی کی ایک دوسری سیٹ سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے باوجود پی پی اڑتالیس بھکر کی نشست برقرار رکھ سکتے ہیں۔شہباز شریف بھکر کی نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے بعد اسی نشست کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ راولپنڈی کے حلقہ پی پی دس سے شہباز شریف کے مخالف تمام امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہوگئے اور انہیں اس حلقے سے بھی بلامقابلہ کامیاب قرار دیدیا گیا۔ مسلم لیگ قاف کی خاتون رکن بشری گردیزی نے پنجاب اسمبلی میں نکتہ اعتراض اٹھایا اور آئین کے آرٹیکل دوسوتیس (چار) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی سے کامیابی کے نوٹیفیکشن کے بعد ان کی بھکر والی نشست از خود خالی قرار پائی جا چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ شہباز شریف اب پی پی دس سے حلف اٹھائیں اور دوبارہ وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے عمل سے گزریں۔ منگل کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو بھکر سے مسلم لیگ نون کے رکن سعید اکبر نوانی نےنکتہ اعتراض پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر ابہام دورکرنے کے لیے رولنگ جاری کریں۔ان کی اس تجویز پر حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈیسک بجا کر اس کی حمایت کی۔ ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان نے اذان کے وقفے کے فوراً بعد کہا کہ وہ خدا کا نام لیے جانے کا انتظار کر رہے تھے اور اب وہ رولنگ دیتے ہیں چونکہ کسی شخص کے ایک سے زائد نشستوں پر امیدوار ہونے پر پابندی نہیں ہے اور شہباز شریف نے بیک وقت ایک سے زائد نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے آئین شہباز شریف کواجازت دیتا ہے کہ وہ پی پی اڑتالیس بھکر سے اپنی نشست برقرار رکھ سکیں۔منگل کو تمام دن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے حکومتی اراکین اسمبلی نکتہ اعتراض پر بات کرتے رہے اور بجٹ پر بحث نہیں ہوسکی۔ اراکین اسمبلی نے ہائی کورٹ کے ججوں اور صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ اراکین نے نواز شریف کو ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کے فیصلے کو ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ ایسا ایوان صدر کے کہنے پر ہوا ہے۔ بعد میں مال روڈ پر ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔

Tuesday, June 24, 2008

Picture News







Petition prepared to challenge LHC verdict: Naek



ISLAMABAD: Minister for Law and Justice Farooq H Naek said Tuesday that petition has been prepared to challenge the court verdict disqualifying Mian Nawaz Sharif for the bye elections. Earlier, Prime Minister Yousuf Raza Gilani in an address said the people were disappointed over the Lahore High Court verdict. The government will challenge the verdict in Supreme Court and will request for postponing the elections in NA-123.Farooq H Naek in a statement in National Assembly said that the proposed constitutional package would be tabled in the parliament after receiving proposals from the coalition partners. Talking to media he said the draft package has already been handed over to all coalition partners for seeking their proposals. The Minister said it would be finalized keeping in view suggestions from the coalition partners. To a question he said so far the party has not received any suggestions from the coalition partners. He said the PPP would welcome suggestions from any side. Answering another question, he said PPP wanted to restore deposed judges as soon as possible but it was against taking any unconstitutional step for the purpose.

Mirwaiz for structured dialogue over Kashmir




ISLAMABAD: All Parties Hurriyet Conference leader Mirwaiz Umar Farooque has called for structured dialogue between Pakistan and India over Kashmir with a timeframe.
Addressing a news conference here the Kashmiri leader said the institutionalized dialogue over Kashmir with a proper timeframe can help in progress towards seeking solution of the problem.
He called for three to four meetings in a year between the two sides on Kashmir with assessment of progress over the issue.
“We feel that we could not rapidly move forward without institutionalization of the dialogue,” he said.
Mirwaiz also suggested that the leadership of the both parts of Kashmir should also be provided opportunity to meet and discuss the issue. He proposed convening a conference of the Kashmiri leaders.
He said without involvement of Kashmiris no progress can be achieved towards resolution of the problem.
He also called for regular consultation over the issue.
“We want to break status quo while India wants to maintain it with the proposal to recognize the Line of Control as permanent border,” he added.

Govt. aware of Peshawar situation: Malik




ISLAMABAD: Interior Advisor to Prime Minister Rehman Malik Tuesday said that the government was aware of the situation surrounding Peshawar and a major action will be taken within a week. Speaking in National Assembly the Interior Advisor said the government was not negligent of the serious situation in some parts of NWFP. He said the government would provide protection to the people of the province in a way that no person would deteriorate peace in the province.Noor-ul-Haq Qadri MNA from FATA earlier said in the house that the government was unaware of the NWFP situation adding that the conditions are going out of control in the tribal areas.

Petition against AQ Khan detention adjourned




ISLAMABAD: Islamabad High Court adjourned hearing of the petition filed against detention of Dr. Abdul Qadeer Khan till Wednesday.The high court single bench comprised of the Chief Justice Sardar Muhammad Aslam heard the petition on Tuesday.Petitioner Barrister Javed Iqbal Jaffery in his arguments said Dr. Abdul Qadeer is his close friend who has been illegally detained, even his friends and relatives were not being allowed to meet him. Deputy Attorney General Raja Abdul Rehman in his arguments said Dr. Abdul Qadeer has not been kept in detention by the government. Justice Muhammad Aslam asked who has detained A.Q. Khan if he is not in the government detention. The chief justice directed the petitioner to provide the court list of those persons who want to meet him. He also directed the DAG to ensure telephone conversation of the petitioner with Dr. A.Q. Khan.

پیپلز پارٹی نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ بھی پرویز مشرف اور ق لیگ کی طرح عوامی نفرت کا نشانہ بن جائے گی ۔۔ قاضی حسین احمد



لاہور۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کو بجٹ اور فنانس بل کی منظوری کا صلہ نااہلی کی صورت میں دیا گیا ہے۔ فیصلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، ایوان صدر اور سیاسی حریفوں کے عزائم واضح ہوگئے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل اشک شوئی کے مترادف ہے۔ نوازشریف گومگوکی کیفیت سے نکلیں اور عوام کے ساتھ مل کر ججوں کی بحالی اور پرویز مشرف سے نجات کی فیصلہ کن جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ جماعت سلامی کے کارکن بڑی تبدیلی کیلئے رابطہ عوام اور ممبر سازی مہم تیز کردیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا ڈویژن کے ضلعی ومقامی ذمہ داران اور ارکان شوریٰ کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن اور شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پی سی او ججوں سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع تھی۔ ایک طرف این آر او کے تحت آصف علی زرداری پر تمام مقدمات ختم کردئے گئے اور ہزاروں لوگوں کی اربوں ڈالر کی کرپشن معاف کردی گئی جبکہ دوسری طرف میاں نوازشریف کو الیکشن لڑنے کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا سازشی عناصر اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور قومی مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرکے پرویز مشرف کو مواخذے سے بچانا چاہتے ہیں۔ تحفظات کے باوجو دکے قوم کے تمام طبقات نے آصف زرداری کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔ وہ قومی مفاہمت کے ذریعے ایک نئے پاکستان کی داغ بیل ڈال سکتے تھے لیکن وہ ذاتی مفادات اور خوف کے اسیر ہوگئے۔ قوم نے انہیں پرویز مشرف سے نجات اور ججوں کی بحالی کیلئے مینڈیٹ دیا تھا لیکن انہوں نے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جس کی وجہ سے سازشی عناصر کو اپنا کام دکھانے کا موقع ملا ۔ انہوں نے کہاکہ جج بحال کردیئے جاتے اور پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک پیش کردی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ ججوں کی بحالی اور پیپلز پارٹی کے رویے سے متعلق سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ فنانس بل کی منظوری کے بعد بھی ججوں کی بحالی کو آئینی پیکج سے مشروط کیا جارہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی ججوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک ڈکٹیٹر کے غیر آئینی اقدام کو درست کرنے کیلئے آئینی راستہ تلاش کرنے کی باتیں بہانہ اور وقت گزاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کو ایک فوجی ڈکٹیٹر نے غیر قانونی طورپر ہٹایا تھا۔ انہیں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جاسکتا تھا۔ آئینی پیکج کیلئے دو تہائی اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس نہیں ہے اور اس کی منظوری ناممکنات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے پوری قوم نے قربانیاں دی ہیں ان کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پیپلز پارٹی نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ بھی پرویز مشرف اور ق لیگ کی طرح عوامی نفرت کا نشانہ بن جائے گی۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ 100دن پورے ہونے کو ہیں لیکن حکمران مسائل کے حل اور غریب عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ملک میں انتہائی غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے جس کی وجہ سے سرمایہ باہر منتقل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سرحدوں کے تحفظ میں بھی ناکام نظر آتی ہے۔ دو تین ماہ سے بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے پاکستان کی فضائی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں پرواز کررہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ اب فوجیوں کو بھی قتل کیا جارہا ہے لیکن حکومت ڈھنگ سے احتجاج بھی نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ دوستی بڑھا رہے ہیں اور ویزے کی پابندیاں ختم کرکے باہم شیر وشکر ہونا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کشمیر کو پس پشت ڈالنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔

حکمران اتحاد کا مستقبل دائو پر ۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس (ایسوسی ایٹڈ پر یس سروس )،اسلام آباد


پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں اور پنجاب حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس ایک اور آڈیو ٹیپ ہے جس میں ایک حکمران پی سی او کے ججز کو ہدایت دے رہا ہے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے کے تناظر میں قومی اسمبلی میں تفصیلی خطاب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل ایک ایک جماعت اپنی پالیسی واضح کرے ۔ پلوں کے نیچے پانی بہہ چکا ہے ۔ جب تک یہ حالات رہیں گے ۔ پاکستان کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بقا مضبوط ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تقریب میں مولانا فضل الرحمان بار بار کہہ رہے تھے کہ صوبہ سرحد ہاتھ سے جا رہا ہے ۔ یہ ایوان کیوں منتخب کیا گیاہے ۔ ملک کی بقا اور مستقبل کی ضمانت دیں لیکن آج وہی کچھ ہو رہاہے جو آٹھ سالوں تک ہوتا رہا جعلی سپریم کورٹ کو تحفظ دیا جا تا ہے ۔ پی سی او ججز پولیس کے تحفظ میں ہوتے ہیں۔ ہم دھوپ میں ٹھہر کر شاہراہ دستور پر احتجاج کرتے تھے۔ ہم وفاقی کابینہ اور حکومت میں نہیں ہیں جو کچھ کہتے ہیں عمل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈھیٹ لوگ کرسی سے چمٹے رہتے ہیں عوام ملامت کرتے ہیں چھپ کر یہ ایوان صدر اور آرمی ہاو¿س میں بیٹھتے ہیں ۔ نواز شریف کے بارے میںلاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر پریشانی اور ہنسی آتی ہے ہم نے پندرہ وفاقی وزارتوں کی قربانی دی ایسے فیصلے ہمیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتے ۔ جب نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا ہم جب خوفزدہ نہیں ہوئے فاسق اور غاصب حکمران نے ہم کو آٹھ سال بربریت آمریت کا نشانہ بنایا ۔ پی سی او کے ججز کے فیصلوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) قائم رہے گی ۔ فوجی وردی میں ملبوس جرنیل ، انتظامیہ ، ایجنسیوں کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کو طاقت نہیں ملتی ۔ ہم عوامی قوت پر یقین رکھتے ہیں یہ جتنا دبانے کی کوشش کریں گے مسلم لیگ(ن) اتنی ابھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اہم ترین مسئلہ ہے ۔ جس ملک میں دو بار وزیراعظم رہنے والے لیڈر اور اہم حکومتی جماعت کو انصاف نہ ملے ۔ اس ملک میں سب کچھ ہے ۔ انصاف نہیںہے آخری وقت تک وفاق کی حفاظت کریں گے۔ زبانی کلامی سے ملک مستحکم نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلے کے پس منظر میں کون ہے ۔ ڈوری کون ہلا رہا ہے ۔ ایک بار کاغذات نامزدگی منظور ہو جائے تو کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔انتخابات کے بعد رٹ ہو سکتی ہے جعلی لوگو ں کے ذریعے پٹیشن دائر کی گئی ہے ہفتہ کے دن جب چھٹی ہوتی ہے بینچ ٹوٹ گیا ۔ نواز شریف کے تائید کنندہ تجویز کنندہ کو فریق نہیں بنایا گیا ۔نیا بینچ پیر کو بنا دو گھنٹوں میںپاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعت کے لیڈر کو اس کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ۔ ماضی میں جب سپریم کورٹ کے تیرہ ججز کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آچکا ہے ۔ ہائی کورٹ کے تین ججز نے اسے اڑا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ آڈیو ٹیپ ریکارڈ پر موجود ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک اور ٹیپ ہے گھناو¿نی ٹیپ ہے ایک بڑے حکمران نے پی سی او ججز کو ہدایات دیں۔ مطالبہ ہے کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ حکومت فیصلہ کرے کہ یہ آئینی ججز ہیں یا غیر آئینی ہیں پی سی او کے غیر قانونی ا ور غیر آئینی ججز کو فاسق حکمران نے مسلط کیا یہی حکومت ان ججز کو تحفظ دے رہی ہے ۔ غلط فیصلوں پر شاہراہ دستور پر پابندیاں ہو گئی ۔ دفاتر کو تحفظ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ججز سے ہمارے کوئی تعلقات نہیں ہیں اصول کے تحت جن ججز کا ساتھ دے رہے ہیں جب تک آزاد عدلیہ بحال نہیں ہو گی ۔ سنگین بحران رہے گا۔ معمول کی کارروائی کو معطل کرکے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ ہم نے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ۔لال مسجد پر حملہ ، وزیرستان میں فوج کو قتل کر ایا گیا ہے ہم نے احتجاج کیا۔ یہ سب کچھ ہیں اور آزاد عدلیہ نہیں ہے ملک کی بقائ آزادعدلیہ میں ہے ۔ نواز شریف کی نااہلی سے جدوجہد میںفرق نہیں کرے گا۔ 100 بار نااہل قرار دے دیں ۔ 2002 ئ میں مسلم لیگ ن کو ایوان سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی صرف مسلم لیگ ن تھی ۔ عوام نے چاہا کہ 18 سے 93 پنجاب میں 43 سے 118 ارکان ہو گئے ہیں۔ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے پنجاب میں حکومت پہنچنے کی خواہش نہیں ہے ۔ہم نے ملک کو آئین قانون کے مطابق چلانے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔غلطی نہ دہرائی جائے ۔ اپوزیشن قوم سے وعدہ کرے فوجی وردی کے ساتھ چمٹ کر ایوان اور اقتدار میں نہیں لائیں گے ۔ حکومتی بینچوں پر موجود پی پی پی کے حوالے سے یقین ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ارکان کو اپنے دل کی آواز کا موقع دے ۔ ملکر پاکستان کو بچانا ہے۔ غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور واشنگٹن کے بجائے اسلام آباد میںفیصلوں سے حقیقی آزادی ملے گی۔ جس ملک میں انصاف بک رہا ہو نا پید ہو اس ملک کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں 18 فروری کو عوام نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا آج میڈیا پر پابندیا ہے شاہراہ آئین کو بند کیا جاتا ہے پی سی او ججز ایجنسیوں کے جھرمٹ میں فیصلے کر رہے ہیں ۔ ہم نے دو ٹوک فیصلہ کرنا ہے ۔ ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر اور حواریوں سے رشتہ توڑنا ہے۔ غیر قانونی غیر آئینی ججز کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہو گا ۔ فیصلہ کن جدوجہد ہے ۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں اہم فیصلوں کا وقت ہے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کون اپنے موقف پر ڈٹا رہا ۔ سپیکر نے کہا کہ بحث ہو سکتی ہے ۔ دور آرائ ہیں۔ بحث پر وقت لگے ۔ مسلم لیگ ن سے ایک اور رکن کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کا فریق نہ بنائے جانے کے خلاف دو تجویز کنندگان کی اپیل پر سپریم کورٹ نے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مختصر سماعت کی ۔ نواز شریف کے تجویز کنندہ ظفر اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی لیکن اکرم شیخ ایڈووکیٹ اشتر اوصاف اور اے کے ڈوگر پر مشتمل پینل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنی درخواست میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے ( کل ) بدھ تک کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔ جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان وفاق کی جانب سے وفاق کی ایما پر لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا رہی ہے کہ جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ اپیل میں استدعا کی جائے گی کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ضمنی حلقے کا الیکشن ملتوی کر دیا جائے
پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دئیے جانے کے خلاف قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ حکومتی جماعت کے اراکین نے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور آزاد عدلیہ کے حق میں اور پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔ قبل ازیں اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کاایک ایسا حادثہ ہے جس سے قوم کے مقبول ترین لیڈر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جو بارہ سالوں سے جدوجہد کر رہا ہے ۔اس کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ دیا گیا ہے ۔ ہماری حلیف جماعت خود ان عدالتوں پر اعتماد نہیں رکھتے۔ بے نظیر کے سانحے کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔نواز شریف کے خلاف فیصلہ عدلیہ کا نہیں بلکہ آمر کا ہے عدلیہ کے فیصلے ہمارے مستقبل کی نسلوں کو زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں ۔اگر اس پارلیمنٹ نے فیصلے نہیں کئے تو عوام کے ہاتھ اور ہمارے گریبان ہوں گے ۔ ہمارا عہد وزارتوں کے لیے نہیں ہوتا ۔ ہم نے پیپلز پارٹی سے اقتدار کے لیے ہاتھ نہیں ملایا تھا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ مسلم لیگ ( ن ) کے اراکین واک آو¿ٹ کریں گے جس پر مسلم لیگ ن کے اراکین ایوان سے چلے گئے مسلم لیگ ن کے اراکین کے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دیا ۔مسلم لیگ (ن )نے پی سی او ججز پر عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ پی سی او ججوں کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اس لیے ان کے سامنے کوئی اپیل نہیں کریں گے، منگل کو یہاں قومی اسمبلی سے مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی کے واک آو¿ٹ کے بعد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے راہنما اور قومی اسمبلی میں قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت روز اول سے سمجھتی ہے کہ پی سی او ججز آئینی اور قانونی ججز نہیں ہیں اور یہ کسی اور کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے جو قوم سے کھیلا جا رہا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اصل عدلیہ کے ارکان ہمارے رشتہ دار نہیں ہیں وہ صرف آزاد عدلیہ کے علمبردار ہیں اور اسی لیے ہم ان کی سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18فروری سے پہلے پی سی او ججز پرویز مشرف کی ایما پر کام کرتے تھے لیکن یکم اپریل کے بعد پی سی او ججز جو کچھ کرتے ہیں وہ حکومتی ایما پر کرتے ہیں اور یہ صور ت حال ہمارے لیے قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت پی سی او ججز کے سامنے اپیل دائر نہیں کرے گی ۔ پاکستان کے عوام اور دنیا یہ سن لے اور کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اگر مسلم لیگ ن کا ہر رکن قومی اسمبلی غیر آئینی طو ر پر نااہل قرار دے دیا جائے تب بھی ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور نہ جھکیں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بھی نواز لیگ کی مجبوری نہیں ہے اور ن لیگ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ہر چیز قربان کر دے گی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ بعد میں انہوںن ے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اور سنٹرل ایگزیکٹوکی میٹنگ ہو گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گااس موقع پر ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی جاوید ہاشمی نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی تارخ میں ایک اور تاریخی دن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے والی عدلیہ کو پوری قوم نااہل قرار دے رہی ہے اور یہ عدلیہ جو ایک آمر کی باندی ہے اس عدلیہ نے ایک آمر کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس نے پاکستان کے محبوب ترین راہنما کو نااہل قرار دے کر پوری قوم کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تاریکی اور ناانصافی کو ہر صورت مٹائیں گے اور قوم کے روشن مقدر کے لیے جدوجہد کرتے رہیںگے۔مسلم لیگ ن کے راہنما احسن اقبال نے کہا کہ پی سی او ججزصدر پرویز مشرف کے پروردہ ہیں اس لیے مسلم لیگ ن انہیں قانونی اور جائز نہیں سمجھتی ۔ کیونکہ صدر پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ان غیر آئینی ججوں کو تعینات کیا ہے اور یہ غیر آئینی جج آئین کی نگرانی نہیں کرسکتے اور نہ ہی ملک میں امن و امان بحال کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہیں ضرور جانا ہو گا اور عدلیہ بحال ہو کر رہے گی انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ 2 نومبر کی پوزیشن پر بحال نہ کی گئی تو پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ وفاقی حکومت نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل دیتے ہوئے شاہراہ دستور کو ایک بار پھر نوگو ایریا میں تبدیل کردیا ۔ اراکین اسمبلی ، پارلیمنٹ کے وزارتوں کے ملازمین اور صحافیوں کو شاہراہ پر داخلہ کی اجازت نہ دی گئی سیکورٹی اہلکاروں نے اپوزیشن کے چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ کو بھی پارلیمنٹ جانے سے روک دیا جس پر قومی اسمبلی میں انہوں نے شدید احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح ایک بار پھر اسلام آباد کی عوام ی حکومت کی طرف سے سیکورٹی کے نام نہاد انتظامات کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے جب منگل کی صبح پارلیمنٹ ہاو¿س میں جانے والی شاہراہ دستور کو تمام افراد کے لیے بند کردیا گیا حکومت نے اپنی حلیف جماعت مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاو¿س کے ارد گرد سیکورٹی کے ا نتظامات کرتے ہوئے ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث نہ صرف شاہراہ دستور پر کئی کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیںلگ گئیں پولیس اہلکاروں نے اراکین اسمبلی کو بھی قومی اسمبلی جانے نہ دیا مسلم لیگ(ق) کے ریاض حسین پیرزادہ جو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جار ہے تھے کو اپنا تعارف کرانے پر بھی سیکورٹی اہلکاروں نے اجازت نہ د ی تاہم ان کے شدید احتجاج کے بعد انہیں اجازت دی گئی جبکہ دیگر افراد جن میں صحافی ،پارلیمنٹ ہاو¿س اور وزارتوں کے اہلکار شامل تھے کو اپنے کارڈ دیکھانے کے باوجود اجازت نہ دی گئی اس صورت حال کے باعث شاہراہ دستور ایک بار پھر نو گو ایریا بن گئی ۔ ریاض حسین پیرزادہ نے اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بحران ختم کیوں نہیں ہوتا ہم اپنے ہی ملک میں یرغمال بن چکے ہین حکمرانوں کو کیوںیقین نہیں آتا کہ وہ حکومت میں آچکے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے واضح کر دیا ہے کہ آزاد عدلیہ اور نواز شریف کو انتخابات سے نااہل قرار دیئے جانے کے خلاف کوئی بڑا سیاسی اقدام اٹھایا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے منگل کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے نمائندہ وفد نے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں ملاقات کی ۔ مخدوم جاوید ہاشمی ‘ احسن اقبال دیگر اہم رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ذرائع کے مطابق آزاد عدلیہ بحال نہ ہونے پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) حکمران اتحاد کا حصہ نہیں رہے گی ۔ اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے ‘ پی سی او کے ججز قابل قبول نہیں ہیں ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے حوالے سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ججز کی بحالی میں تاخیر سے حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ ( ن ) کو نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا ۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 123 کے ضمنی انتخابات نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل کافیصلہ آنے تک ملتوی کر دئے جائیں ۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے وفاقی حکومت باضابطہ درخواست کرے گی ۔ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں میں انہوں نے کہاکہ بے حد دکھ اور افسوس ہواہے کہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیاگیاہے ۔ قوم نے جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت بڑی قیمت دی ہے ۔ ایک ایک رکن ان کی بھرپور جدوجہد ہے ۔ ہم نے عوام کو عزت اور اسکا راج قائم کرنا ہے ۔ طاقت کے اصل سرچشمہ اس ہاوس ، آئین کو طاقتور اور اداروں کو مضبوط عدلیہ اور میڈیا کو آزاد کرنا ہے ۔ میثاق جمہوریت کے حوالے سے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لندن میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے ۔پنجاب میں مسلم لیگ ن اور وفاق میں پی پی پی کو مینڈیٹ ملا۔ میثاق جمہوریت میں معاہدہ کیا کہ غیر آئینی غیر قانونی طریقے سے ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرائیں گے۔ عوام کے اجتماعی شعور کو دھوکا نہیں دیں گے ۔ اداروں میں ایسے فیصلے ہونے چاہئیں جن کو عوام کو تسلیم کریں ورنہ اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ میں نے نواز شریف ، چوہدری نثار علی ، مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال کے ساتھ مشاورت کی ہے ۔ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمارے پاس نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا آپشن اور عدالت کا حکم آنے تک 123 حلقہ میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی اپیل کریں گے ۔اداروں کو چاہیے کہ وہ اس طرح اپنی ساکھ قائم کریں کہ عوام ان کا عزت و احترام کرے ۔ اتحادیوں کے جذبات جو مجروح ہیں اس پر افسوس ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو ایک دوسرے پر تنقید سے گریزکرنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن نے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت اپنے اتحادیوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے جمہوریت کی نفی ہو اور نہ ہی میاں نواز شریف کے انتخابات پر کوئی قدغن لگانے کا سوچا ہے انہوں نے مسلم لیگ ن کے راہنماوں سے درخواست کی کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ وزیر اعظم سے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی اور این اے 123کے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرانے کی بھی کوشش کریں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت عوام دوست فیصلوں کی خواہاں ہے اور اپنے اتحادیوں سے مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور لائی کورٹ کے اس فیصلے پر آصف علی زرداری کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نون لیگ سے محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتی
ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سروس اے پی ایس۔

مایوس قوم کے ساتھ ایک اور سنگین مذاق ۔۔۔۔۔ تحریر : اے پی ایس،اسلام آباد




وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عہد کیا ہے کہ ایک بار نہیں اگر ١٠٠ بار بھی ہمیں نا اہل قرار دے دیا جائے پھر بھی ہم ان جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سر جھکائیں گے اگر مجھے الٹا بھی لٹکا دیا جائے یا میر ے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو پھر بھی میں ان مشرف کے جعلی ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا ۔ ایوان صدر سازشوں کا منبع بن چکا ہے اور ہمارے خلاف سازشیں کرنے والی وہ قوتیں عناصر ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ دونوں بھائی اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کریں ۔ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ غریبو ںکو تعلیم اور ہسپتالوں میں نہیں مفت دوائی دلواسکیں ملک کو بحرانوں سے نکال کرخوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکی یہ وہ سازشی عناصر ہیں جو ہمیں عوام سے دور رکھنے کے لئے دن رات ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمارا ایک بار پھر ان عدالتوں سے ایمان اٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو مشرف اور ان کے حواریوں کے اشاروں پر نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ عدالتوں میں بیٹھے پر وہ لوگ ہیں جو 1999ء کے ایکشن کے خلاف خاموش رہے ۔جنہوں نے نہ صرف 3نومبر کے غیر آئینی اقدام پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ اس کی حمایت بھی کی یہ وہ لوگ ہیں جو جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے قتل پر خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور عدلیہ کی بحالی تک خاموشی سے نہیں بٹھیں گے ۔ خواہ اس کے لئے ہمیں حکومت کیا جان کسی بھی قربانی دینی پڑ ی پرواہ نہیں کریں گے ۔مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہاہے کہ ضمنی انتخابات میں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ۔ فیصلے کے خلاف اپنے رد عمل میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے یہ آمر کا لکھا ہوا فیصلہ ہے جو سنا دیا گیا ہے انہو ںنے کہاکہ پٹیشنر آمروں کے ٹاو¿ٹ ہوتے ہیں جو ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں قوم ہمارے ساتھ ہے اور عدلیہ دونومبر کی پوزیشن میں ضرور بحال ہو گی اور ہم اس وقت تک چین سے نہیںبیٹھیں گے جب تک عدلیہ بحال ، مشرف کا مواخذہ نہیں ہوتا اور 1999ء کا آئین بحال نہیں ہوتا جب تک یہ تینوں مقاصد حاصل نہیں ہوتے پاکستانی عوام چین سے نہیں بیٹھے گی اوران مقاصد کے حصول کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے سازش کا مقابلہ ہم اپنے اتحاد حکمت عملی سے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ان مقاصد کے حق میں ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاہے کہ فنانس بل کی منظوری سے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ ہم نے 29ججوں کافنانس بل میں ذکر آنے سے پی سی او ججز کو تسلیم کرلیا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے یہ ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے کسی فرد یا کمیٹی کی ذاتی غلطی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کا واضح ایجنڈہ ہے کہ ہم پی سی او ججز کو قبول نہ کریں گے ۔ فنانس بل سے ججز کی بحالی کے طریقے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے قوم یہ امیدلگائے بیٹھی تھی کہ لیڈر اس کی رہنما کریں گے اور راستہ دکھائیں گے مگر تاثر یہ پھیلتا جارہاہے کہ لیڈر پیچھے اور قوم اس کے آگے جارہی ہے تمام پارٹیوں کے لیڈرز کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ قوم کواب مزید طفل تسلیوں میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ قوم کو نقصان پہنچانے والوں میں جہاں آمروں کا حصہ ہے وہاں سیاستدانوں کابھی کرادار کوئی قابل فخر نہ ہے عوام کے صبر کا جام اب چھلک رہاہے ۔ رہنما و¿ں نے اس کا احساس نہ کیاتو وقت ہاتھوں سے نکل جائے گا ۔ عدلیہ کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ آمروں کاراستہ کوئی نہ روک سکے گا اور آئندہ نسلیں ہمیں نہ معاف کریں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے حلیفوں سے گلہ ہے ہم نے ہمیشہ نیک نیتی سے ان کا ساتھ دیا ہے مگر شیری رحمان اور دوسرے وزرائ نے ٹیکنیکل غلطی کو پوری پارٹی کا فیصلہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی ہے دراصل پارٹی لائن واضح نہ تھی اس لئیے سب اراکین نے منی بل کے لیے ووٹ دے دیا مجھے کیونکہ شک تھا اس لیے میں میاں نوازشریف سے اجازت لیکر وووٹ نہ دیا ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم ججز کی بحالی قرارداد کے ذریعے چاہتے ہیں جومری ڈیکلریشن میں واضح ہے ہم کسی صورت ججز کی تعداد بڑھانے کے حق میںنہ ہیں منی بل کے ذریعہ ججوں کی بحالی کاذریعہ نہ آئینی ہے نہ قانونی نہ اخلاقی طورپر درست ہے ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے ہیں ججزکی بحالی ہیقوم ملک اور آئین کو بچاسکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل قرار دیئے جانے سے متعلق فیصلہ کی اطلاع جیسے ہی پنجاب اسمبلی میں پہنچی تو ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان میں بجٹ پر بحث چھوڑ کر گو مشرف گو ، پی سی او ججز نا منظور ، مشرف کا جو یار ہے وہ غدار ہے اور دیگر نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔ سپیکر نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بجٹ پر بحث روک دی اور اجلاس ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ بجٹ پر بحث آج مکمل ہونا تھی جو نہیں کی جا سکی لہذا اب کل بھی بجٹ پر بحث جاری رہی گی ۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تمام ارکان ایوان سے باہر آگئے اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر زبردست نعرہ بازی شروع کر دی ۔ ارکان اسمبلی گو مشرف گو، پی سی او ججز نا منظور اور مشرف کو پھانسی دو ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرو ، ہم نہیں مانتے مشرف تیرے ضابطے ، مشرف کی عدلیہ نا منظور کے نعرہ لگاتے ہوئے واپڈا ہاو¿س کی جانب سے جلو س کی شکل میں مال روڈ پر آگئے اور سڑک پر لیٹ کر ٹریفک بلاک کر دی ارکان اسمبلی نے اس موقع پر نعرے لگاتے ہوئے سینہ کوبی بھی کی اور تقریبا آدھا گھنٹہ تک ٹریفک بلاک رکھنے کے بعد افلاح بلڈنگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں واپس آگئے اور صدر مشرف اور پی سی اوججز کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی جاری رکھی ۔مسلم لیگ (ن ) کے رہنما احسن اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کو پاکستانی عدلیہ جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر جگہسائی سے تعبیر کیا ہے اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی مقبولیت کو عالمی سطح پر بھی مانا جارہا ہے دو دن قبل امریکی تھینک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت 86فیصد سے زائد ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ دو دفعہ وزیر اعظم رہنے والے اور 86فیصد مقبول رہنما کو اگر انتخاب کے لئے نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جگ ہسائی کا باعث بنے گا ۔ اس فیصلے نہ ہمارے اس موقف کو بھی سچ ثابت کردیا ہے کہ پی پی اور عدلیہ سے کسی قسم کے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ یہ پی سی او عدالتیں نہیں بلکہ جنرل مشرف کے حامی ججز ہیں وہ مشرف کے ایجنڈے پر عملدر آمد کرا رہے ہیں تاکہ جمہوریت اور مخلوط حکومت کو ناکام بنایا جائے اور مشرف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ 4مہینے ہونے کو ہیں مگر حکومت مشرف کے دیے ہوئے نظام اور مشرف کے اٹارنی جنرل کی حکومت ختم نہیں کر سکی ہم اپنے اتحادیوں سے بھی یہ پوچھیں گے کہ ہمارے خلاف جو ایکشن جاری ہے اور جمہوریت کی بساط الٹتی نظر آرہی ہے وہ اس پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں اب ایک جمہوری حکومت ہے اور اس کی موجودگی میں غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے دیے جارہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ یہ حکومت موثر نہیں ہے ۔ آج بھی نظام کار مشرف کے پاس ہے اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا تو شاید اس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مشرف کے حامی نواز شریف کی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے کہ اگر نواز شریف اسمبلی میں آگئے تو وہ ایک چیلنج ہوں گے اور شہباز شریف پر بھی بطور وزیر اعلیٰ ایک تلوار لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ گورنر پنجاب کی تعیناتی کی گئی وہ اس کا شاف نہ ہے ۔ ایسی سب باتیں 18فروری کے عوامی فیصلے کی نفی کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کے ساتھ گہری سازش ہے ۔ مگر یہ ایسے فیصلے ہیں جن کی حیثیت پاکستان کی تاریخ میں ردی کی ٹوکری سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہم اس فیصلے کی مذمت اور مزاحمت کریں گے کیونکہ یہ عدلیہ کا نہیں پی سی او ججز کا فیصلہ ہے یہ مشرف کی عدالتوں کا فیصلہ ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے آج پیر کو میان نواز شریف کے این اے 123 اور میاں شہباز شریف کے پی پی 48 بھکر سے مختلف مقدمات کی سماعت کررہا تھا یہ سماعت پیر کو بارہ بجے تک مکمل ہو گئی اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اس کے بعد تقریبا ساڑھے چھ بجے عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے تحت میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے ا ور میاں نواز شریف کی این اے 123 سے انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ د وسری جانب میاں شہباز شریف جو انتخابات میں کامیاب ہو چکے تھے ان کا معاملہ بننے والی ٹریبونل کے سپرد کردیا گیا ہے تاہم اس وقت تک میاں شہباز شریف بطور وزیراعلی اپنا کام جاری رکھ سکیں گے عدالت کا یہ فیصلہ سننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بھاری تعداد میں کارکن جمع ہو گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے فیصلے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے لائرز ونگ کے مختلف عہدے داروں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا شدید احتجاج کرتے ہوئے ” گو مشرف گو “ کے نعرے لگائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے میاں نواز شریف کو نہ صرف قومی اسمبلی لے جانے سے روکا گیا بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کی گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے این اے 123 سے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے اور ان کے خلاف نور الہی نامی شخص نے مختلف اعتراضات فائل کیے گئے تھے جن کے تحت طیارہ سازش کیش مختلف بینکوں کا ڈیفالٹر ہونے اور عدالتوں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرنے کے ممکنہ الزامات عائد کیے گئے تھے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کا فی الحال مختصر فیصلہ سامنے آیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ایک دو دن میں جاری کردیا جائے گا تاہم اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ میاں نواز شریف پٹشنر نور الہی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ حقیقی طورپر درست ہیں ۔ طیارہ ساز ش کیس ‘سپریم کورٹ پر حملہ کیس مختلف بنکوں کے ڈیفالٹر ہونا شامل ہے ۔ اس سے قبل جو بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس پر وکلاء نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ا ن ججز کی مختلف حوالوں سے سابق حکومت (ق) سے ان کی وابستگی تھی اس لیے ان سے صحیح فیصلے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ جسٹس حسنات نے اس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔نتیجتا یہ بینچ ٹوٹ گیا تھا۔مسلم لیگ ( ن ) کے راہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی 29 ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں شریک نہیں تھی اور نہ ہی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو جج تسلیم کرتے ہیں ۔ پیر کو پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فنانس بل میں 21 ججوں کی کلاز پر رائے شماری نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے اس موضوع پر اظہار خیال ضرور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پالیسی زیادہ واضح نہ ہو سکی ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 29 ججوں کی کلاز صوتی ووٹ سے منظور ہوئی اور اس صوتی ووٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی کوئی آواز شامل نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے آج انہوں نے اسمبلی میں کھڑا ہو کر اپنی جماعت کی پالیسی کی وضاحت کی اور کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان اسمبلی نے فنانس بل کی منظوری میں یقیناً شریک تھے لیکن 29 ججوں کی کلاز میں حصہ نہیں لیا ۔ اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ لاتعلق رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پی سی او ججوں کو ہم اس طرح جائز جج نہیں مانتے اور معزول ججوں کی بحالی بھوربن معاہدے کے تحت ایگزیکٹو آرڈر سے ہونی چاہئے ۔ جبکہ پاکستان بار کونسل کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے ججوں کی تعداد کو 16سے بڑھا کر29کرنے کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرویزمشرف کے 3نومبر کے اقدامات کو تحفظ دینے کی ایک کوشش ہے جسے پاکستان کے وکلاءاور عوام تسلیم نہیں کرتے تاہم وہ معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے آل پاکستان وکلاء نمائندگان کنونشن میں ملک بھرکے تمام شہروں میں ہفتہ میں ایک دفعہ جمعرات کے روز وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ اور ریلی کے موقعہ پر اہم مقامات پر تین گھنٹے کیلئے وکلاء کے دھرنے کی تجویز دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر افتخار محمد چودھری دیگرمعزل ججوں کو معاہدہ بھوربن کے تحت ایک قراردا دکے زریعے بحال کیاجائے اور اس کیلئے قانو ن سازی کی کوئی ضرورت نہ ہے تاہم اگر معزول ججوںکو بحال نہ کیا گیا تو وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکمرانوں کو معزول جج ہر صورت میں بحال کرنا ہونگے کیونکہ ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہونے سے سرمایہ کاری نہ ہورہی ہے اورترقی وخوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے پی سی او ججوں کو تسلیم نہیںکیااور نہ ہی پی سی او ججوں کو تسلیم کرے گی تاہم حکومت نے معزول ججوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرکے معزول ججوں کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اب آئنی پیکیج کے زریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر پی سی او ججوں کو بھی بحال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء نے کامیاب لانگ مارچ اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلا کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھ لیا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر کی بار ایسوسی ایشنوں نے پاکستانی وکلاءکی تحریک کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ دس غیر ملکی یونیورسٹیوں نے معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیدی ہے جبکہ دنیا بھر کی62بار ایسوسی ایشنوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کی جرات کی وجہ سے تاحیات ممبر شپ دیدی ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی نے چیف جسٹس افتخا رمحمد چودھری کو میڈل آف فریڈم کا ایواڈ دیا ہے جو یونیورسٹی کی طرف سے دیا جانے والا تیسرا ایوارڈ ہے تاہم بارسلونہ کی بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بھر کے وکلاء کو اعزاز ی ممبر شپ دیدی ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جلد ہی انٹرنیشنل لائرز کانفرنس بلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی کسی تنظیم نے بھی اسلام آباد میں دھرنے کا فیصلہ نہیں کیاتھا تاہم ملک میں وکلاء کے تمام فیصلے پاکستان بار کونسل کررہی ہے جس نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھاجس میں دھرنے کا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا تاہم وہ وکلاء اور عوام کے دھرنے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کی تحریک پرامن ہے اور پرامن ہی رہے گی تاہم ڈاکٹر شیرافگن پر تشدد کے واقعہ کی وجہ سے وکلاء دنیا بھر میں بدنام ہوئے اور بعض کالم نگاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن کووکلاء نے بچایا تھا لیکن ڈاکٹر شیرافگن پر تشد د کے واقعہ کے بعد ایک سازش کے تحت کراچی میں وکلاء کو قتل کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان با رکونسل کے صدر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے اور ا ب واپس نہ آرہے ہیں تاہم اگر ملک میں عدلیہ آزاد ہوتی تو شوکت عزیز کو ملک سے بھاگنے کا موقعہ نہ ملتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کے کامیاب لانگ مارچ نے ساری دنیا میں وکلائکے وقار کو بڑھایا ہے تاہم جب تک معزول جج بحال نہیں ہوجاتے اس وقت تک وکلا کی تحریک جاری رہے گی ۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ تاریخی ہے تاہم لانگ مارچ مزاحمتی موبائیل دھرنا بھی تھا جو9جون کو شروع ہوا اور اس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معزول ججوں کی بحالی سے پارلیمنٹ اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی ۔ اس سے قبل کنونشن سے پنجا ب با رکونسل کے وائس چےئرمین اسلم سندھو ایڈووکیٹ ، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف کوآرڈنیٹر اطہر من اللہ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ارشد محمود بگو ایڈووکیٹ کے علاوہ ڈویثرن بھر کی پندرہ تحصیلوں کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدور نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں ممبران پنجاب با رکونسل ایم اظہرچودھری ، رانا نصر اللہ خان کے علاوہ سینکڑوں وکلاء شریک تھے جنہوں نے گو مشرف گو کے زبردست نعرے بھی لگائے جبکہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر چودھری اعتزاز احسن کا سیالکوٹ آمد پر بھرپور استقبال کیاگیااور ان پر منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ایک جلوس کی شکل میں انوار کلب آڈیٹوریم لایا گیا جہاں چار گھنٹے سے زائد عرصہ تک کنونشن جاری رہا ۔اے پی ایس۔

سو بار بھی نا اہل قرار دیا جائے جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سرجھکائیں گے۔ شریف برادران کا عہد



لاہور ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عہد کیا ہے کہ ایک بار نہیں اگر ١٠٠ بار بھی ہمیں نا اہل قرار دے دیا جائے پھر بھی ہم ان جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سر جھکائیں گے اگر مجھے الٹا بھی لٹکا دیا جائے یا میر ے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو پھر بھی میں ان مشرف کے جعلی ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا ۔ ایوان صدر سازشوں کا منبہ بن چکا ہے اور ہمارے خلاف سازشیں کرنے والی وہ قوتیں عناصر ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ دونوں بھائی اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کریں ۔ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ غریبو کو تعلیم اور ہسپتالوں میں نہیں مفت دوائی دلواسکیں ملک کو بحرانوں سے نکال کرخوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکی یہ وہ سازشی عناصر ہیں جو ہمیں عوام سے دور رکھنے کے لئے دن رات ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمارا ایک بار پھر ان عدالتوں سے ایمان اٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو مشرف اور ان کے حواریوں کے اشاروں پر نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں بیٹھے پر وہ لوگ ہیں جو 1999ء کے ایکشن کے خلاف خاموش رہے ۔جنہوں نے نہ صرف 3نومبر کے غیر آئینی اقدام پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ اس کی حمایت بھی کی یہ وہ لوگ ہیں جو جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے قتل پر خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور عدلیہ کی بحالی تک خاموشی سے نہیں بٹھیں گے ۔ خواہ اس کے لئے ہمیں حکومت کیا جان کسی بھی قربانی دینی پڑ ی پرواہ نہیں کریں گے

شریف برادران ، مسلم لیگ لائرز ونگ کا اجلاس ، مسلم لیگ (ن) کا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نہ جانے کا فیصلہ

لاہور ۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف او روزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ اور میاں نواز شریف کے میڈیا ایڈوائزر کا ایک مشترکہ اجلاس رائیونڈ لاہور میں پیر کی شب منعقد ہوا ۔ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں متفقہ طورپر فیصلہ کیاگیا ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیںکیاجائے گا ۔اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہاکہ معزول کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے انہیں جو بھی قیمت چکانا پڑی چکائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ سے انصاف کی توقع نہ تھی اس لئے دونوں بھائی اس بینچ کے سامنے پیش نہیں ہوئے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک معزول ججز بحال نہیں ہوتے ان کامکمل بائیکاٹ کیا جائے گا کسی ایک کیس میں بھی شریف برادران یا مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پیش نہیں ہو

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری میں دوگھنٹے تک اہم ملاقات

اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان وزیراعظم ہاؤس ا سلام آباد میں پیر کو اہم ملاقات ہوئی ۔ یہ ملاقات تقریبا دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی ۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان مشیر داخلہ رحمان ملک اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی محمود علی درانی بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال کے علاوہ کابینہ میں توسیع ‘ آئینی پیکج اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کے معاملات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں فیصلہ کیا گیاہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد آئینی پیکج کو جولائی کے وسط تک قومی اسمبلی میںپیش کیا جائے گا اور آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو اعتماد میں لیا ۔

نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ،صدیق الفاروق


اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہاہے کہ ضمنی انتخابات میں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ۔ فیصلے کے خلاف اپنے رد عمل میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے یہ آمر کا لکھا ہوا فیصلہ ہے جو سنا دیا گیا ہے انہو ںنے کہاکہ پٹیشنر آمروں کے ٹاؤٹ ہوتے ہیں جو ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں قوم ہمارے ساتھ ہے اور عدلیہ دونومبر کی پوزیشن میں ضرور بحال ہو گی اور ہم اس وقت تک چین سے نہیںبیٹھیں گے جب تک عدلیہ بحال ، مشرف کا مواخذہ نہیں ہوتا اور 1999ء کا آئین بحال نہیں ہوتا جب تک یہ تینوں مقاصد حاصل نہیں ہوتے پاکستانی عوام چین سے نہیں بیٹھے گی اوران مقاصد کے حصول کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے انہو ںنے کہاکہ سازش کا مقابلہ ہم اپنے اتحاد حکمت عملی سے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ان مقاصد کے حق میں ہے۔

پی سی او ججز کوکسی صورت قبول نہ کریں گے ، مخدوم جاوید ہاشمی



ملتان ۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاہے کہ فنانس بل کی منظوری سے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ ہم نے 29ججوں کافنانس بل میں ذکر آنے سے پی سی او ججز کو تسلیم کرلیا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے یہ ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے کسی فرد یا کمیٹی کی ذاتی غلطی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کا واضح ایجنڈہ ہے کہ ہم پی سی او ججز کو قبول نہ کریں گے ۔ وہ گذشتہ روز اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ۔ انہوںنے کہاکہ فنانس بل سے ججز کی بحالی کے طریقے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے قوم یہ امیدلگائے بیٹھی تھی کہ لیڈر اس کی رہنما کریں گے اور راستہ دکھائیں گے مگر تاثر یہ پھیلتا جارہاہے کہ لیڈر پیچھے اور قوم اس کے آگے جارہی ہے تمام پارٹیوں کے لیڈرز کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ قوم کواب مزید طفل تسلیوں میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ قوم کو نقصان پہنچانے والوں میں جہاں آمروں کا حصہ ہے وہاں سیاستدانوں کابھی کرادار کوئی قابل فخر نہ ہے عوام کے صبر کا جام اب چھلک رہاہے ۔ رہنما ؤں نے اس کا احساس نہ کیاتو وقت ہاتھوں سے نکل جائے گا ۔ عدلیہ کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ آمروں کاراستہ کوئی نہ روک سکے گا اور آئندہ نسلیں ہمیں نہ معاف کریں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے حلیفوں سے گلہ ہے ہم نے ہمیشہ نیک نیتی سے ان کا ساتھ دیا ہے مگر شیری رحمان اور دوسرے وزراء نے ٹیکنیکل غلطی کو پوری پارٹی کا فیصلہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی ہے دراصل پارٹی لائن واضح نہ تھی اس لئیے سب اراکین نے منی بل کے لیے ووٹ دے دیا مجھے کیونکہ شک تھا اس لیے میں میاں نوازشریف سے اجازت لیکر وووٹ نہ دیا ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم ججز کی بحالی قرارداد کے ذریعے چاہتے ہیں جومری ڈیکلریشن میں واضح ہے ہم کسی صورت ججز کی تعداد بڑھانے کے حق میںنہ ہیں منی بل کے ذریعہ ججوں کی بحالی کاذریعہ نہ آئینی ہے نہ قانونی نہ اخلاقی طورپر درست ہے ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے ہیں ججزکی بحالی ہیقوم ملک اور آئین کو بچاسکتی ہے۔

دوسری شادیاں کرانے کے چکر میں دوخاوندوں نے دو ساتھیوں کی مدد سے اپنی بیویوں کا گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا

ڈیرہ غازی خان ۔ دوسری شادیاں کرانے کے چکر میں دوخاوندوں نے دو ساتھیوں کی مدد سے اپنی بیویوں کا گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بیویاں دوسری شادی کرنے میں رکاوٹ ڈال رہی تھی ۔ جبکہ معمولی جھگڑے پر سات افراد نے سوٹوں اور کلہاڑیوں سے وار کر کے ایک مخالف کو موت کے گھاٹ اتار کر دوسرے مخالف کو شدید زخمی کر کے فرار ہوگئے ۔ تفصیل کے مطابق حدود تھانہ محمد پور ، موضع بخارہ شریف کے سیف اللہ کھوکھر نے بتایا کہ ملزمان ممتاز حسین وغیرہ تین افراد نے ملزم اللہ وسایہ کے ایماء پر میری ہمشیرہ مسماۃ نجمہ بی بی اور مسماۃ نظام خاتون ان شوہروں نے دونوں کا گلہ دبا کر رات کے ڈیڑھ بجے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزمان ممتاز حسین اور وزیر حسین دونوں بھائی دوسری شادیاں کرنا چاہتے تھے کہ ان کی بیویاں راضی نہ تھیں۔ ملزمان نے انہیں ناحق قتل کر دیا ہے۔ جبکہ حدود تھانہ سٹی راجن پور موضع جاگیر گبول کے فیض اللہ سرگانی نے بتایا کہ ملزمان حبیب اللہ وغیرہ سات افراد کے ساتھ معمولی جھگڑا ہوا تھا کہ ملزمان نے بدلہ لینے کی غرض سے کلہاڑیوں اور سوٹوں سے وار کر کے میرے والد سیف اللہ اور میرے بھائی عبدالغفور کو تشدد کرکے شدید زخمی کر دیا۔ جبکہ میرا والد غلام سرور زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ۔ متعلقہ تھانوں کی پولیس نے مدعیان کے بیان پر ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔

مولانا فضل الرحمن کو دل کا دورہ ، ہسپتال داخل ، طبی معائنے کے بعد فارغ



اسلام آباد ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کو پیر کو دل کی تکلیف کے باعث پولی کلینک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی امداد دی اور بعد ازاں طبی معائنے کے بعد ان کی طبعیت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فارغ کردیا ڈاکٹروں کے مطابق مولانا کی حالت تسلی بخش ہے اور ڈپریشن کی وجہ سے انہوں نے دل کی تکلیف محسوس کی اب وہ بالکل ٹھیک ہیں اور خطرے کی کوئی بات نہیں ۔

میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں مشرف اور پی سی او ججز کے خلاف زبردست نعرہ بازی ، سپیکر نے اجلاس کل صبح تک ملتوی کردیا

لاہور ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل قرار دیئے جانے سے متعلق فیصلہ کی اطلاع جیسے ہی پنجاب اسمبلی میں پہنچی تو ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان میں بجٹ پر بحث چھوڑ کر گو مشرف گو ، پی سی او ججز نا منظور ، مشرف کا جو یار ہے وہ غدار ہے اور دیگر نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔ سپیکر نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بجٹ پر بحث روک دی اور اجلاس کل صبح دس بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ بجٹ پر بحث آج مکمل ہونا تھی جو نہیں کی جا سکی لہذا اب کل بھی بجٹ پر بحث جاری رہی گی ۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تمام ارکان ایوان سے باہر آگئے اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر زبردست نعرہ بازی شروع کر دی ۔ ارکان اسمبلی گو مشرف گو، پی سی او ججز نا منظور اور مشرف کو پھانسی دو ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرو ، ہم نہیں مانتے مشرف تیرے ضابطے ، مشرف کی عدلیہ نا منظور کے نعرہ لگاتے ہوئے واپڈا ہاؤس کی جانب سے جلو س کی شکل میں مال روڈ پر آگئے اور سڑک پر لیٹ کر ٹریفک بلاک کر دی ارکان اسمبلی نے اس موقع پر نعرے لگاتے ہوئے سینہ کوبی بھی کی اور تقریبا آدھا گھنٹہ تک ٹریفک بلاک رکھنے کے بعد افلاح بلڈنگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں واپس آگئے اور صدر مشرف اور پی سی اوججز کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی جاری رکھی ۔

Monday, June 23, 2008

نواز شریف نا اہلی فیصلہ ، عدلیہ ، جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق ہے ۔ احسن اقبال



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن ) کے رہنما احسن اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کو پاکستانی عدلیہ جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر جگہسائی سے تعبیر کیا ہے اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی مقبولیت کو عالمی سطح پر بھی مانا جارہا ہے دو دن قبل امریکی تھینک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت 86فیصد سے زائد ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ دو دفعہ وزیر اعظم رہنے والے اور 86فیصد مقبول رہنما کو اگر انتخاب کے لئے نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جگ ہسائی کا باعث بنے گا ۔ اس فیصلے نہ ہمارے اس موقف کو بھی سچ ثابت کردیا ہے کہ پی پی اور عدلیہ سے کسی قسم کے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ یہ پی سی او عدالتیں نہیں بلکہ جنرل مشرف کے حامی ججز ہیں وہ مشرف کے ایجنڈے پر عملدر آمد کرا رہے ہیں تاکہ جمہوریت اور مخلوط حکومت کو ناکام بنایا جائے اور مشرف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ 4مہینے ہونے کو ہیں مگر حکومت مشرف کے دیے ہوئے نظام اور مشرف کے اٹارنی جنرل کی حکومت ختم نہیں کر سکی ہم اپنے اتحادیوں سے بھی یہ پوچھیں گے کہ ہمارے خلاف جو ایکشن جاری ہے اور جمہوریت کی بساط الٹتی نظر آرہی ہے وہ اس پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں اب ایک جمہوری حکومت ہے اور اس کی موجودگی میں غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے دیے جارہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ یہ حکومت موثر نہیں ہے ۔ آج بھی نظام کار مشرف کے پاس ہے اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا تو شاید اس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مشرف کے حامی نواز شریف کی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے کہ اگر نواز شریف اسمبلی میں آگئے تو وہ ایک چیلنج ہوں گے اور شہباز شریف پر بھی بطور وزیر اعلیٰ ایک تلوار لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ گورنر پنجاب کی تعیناتی کی گئی وہ اس کا شاف نہ ہے ۔ ایسی سب باتیں 18فروری کے عوامی فیصلے کی نفی کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کے ساتھ گہری سازش ہے ۔ مگر یہ ایسے فیصلے ہیں جن کی حیثیت پاکستان کی تاریخ میں ردی کی ٹوکری سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہم اس فیصلے کی مذمت اور مزاحمت کریں گے کیونکہ یہ عدلیہ کا نہیں پی سی او ججز کا فیصلہ ہے یہ مشرف کی عدالتوں کا فیصلہ ہے ۔

نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا



لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے آج پیر کو میان نواز شریف کے این اے 123 اور میاں شہباز شریف کے پی پی 48 بھکر سے مختلف مقدمات کی سماعت کررہا تھا یہ سماعت پیر کو بارہ بجے تک مکمل ہو گئی اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اس کے بعد تقریبا ساڑھے چھ بجے عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے تحت میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے ا ور میاں نواز شریف کی این اے 123 سے انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ د وسری جانب میاں شہباز شریف جو انتخابات میں کامیاب ہو چکے تھے ان کا معاملہ بننے والی ٹریبونل کے سپرد کردیا گیا ہے تاہم اس وقت تک میاں شہباز شریف بطور وزیراعلی اپنا کام جاری رکھ سکیں گے عدالت کا یہ فیصلہ سننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بھاری تعداد میں کارکن جمع ہو گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے فیصلے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے لائرز ونگ کے مختلف عہدے داروں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا شدید احتجاج کرتے ہوئے ’’ گو مشرف گو ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے میاں نواز شریف کو نہ صرف قومی اسمبلی لے جانے سے روکا گیا بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کی گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے این اے 123 سے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے اور ان کے خلاف نور الہی نامی شخص نے مختلف اعتراضات فائل کیے گئے تھے جن کے تحت طیارہ سازش کیش مختلف بینکوں کا ڈیفالٹر ہونے اور عدالتوں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرنے کے ممکنہ الزامات عائد کیے گئے تھے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کا فی الحال مختصر فیصلہ سامنے آیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ایک دو دن میں جاری کردیا جائے گا تاہم اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ میاں نواز شریف پٹشنر نور الہی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ حقیقی طورپر درست ہیں ۔ طیارہ ساز ش کیس ‘سپریم کورٹ پر حملہ کیس مختلف بنکوں کے ڈیفالٹر ہونا شامل ہے ۔ اس سے قبل جو بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس پر وکلاء نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ا ن ججز کی مختلف حوالوں سے سابق حکومت (ق) سے ان کی وابستگی تھی اس لیے ان سے صحیح فیصلے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ جسٹس حسنات نے اس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔نتیجتا یہ بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

کشمیریوں سے ہمارا خون کا رشتہ ہے ‘ بات چیت میں کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا ‘ آصف زرداری



اسلام آباد ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے ۔ حریت کانفرنس کے وفد کی قیادت میر واعظ عمر فاروق نے کی ۔ ملاقات میں مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات اور کئی دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بے نظیر بھٹو کے قتل پر آصف علی زرداری سے تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی ۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کئے جانے والے مذاکرات میں کشمیریوں کی شرکت لازمی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ حریت کانفرنس کو کشمیریوں کا نمائندہ تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی آصف علی زرداری نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوششیں مزید تیز کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ حریت کے وفد نے بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی اور ان سب شہیدوں کے لئے دعا کی جنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے ہمارا خون کا رشتہ ہے اور پیپلزپارٹی کشمیر کے مسئلے پرہی وجود میں آئی ۔ بعد میں جہانگیر بدر نے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی اور حریت رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں طے پایاگیا کہ اے پی ایچ سی اور پیپلزپارٹی کے درمیان شہید بھٹو کے قائم کردہ تعلقات کو قائم رکھیں گے اور انہیں مزید آگے بڑھایا جائے گا ۔ طے پایا کہ اے پی ایچ سی اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشمیر کے دونوں جانب کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن میں طلبہ یوتھ وکلاء ‘ تاجروں اور عوام کے منتخب نمائندوں اور سیاسی پارٹیوں کے وفود کا تبادلہ کیا جائے گا ۔ اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ان کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں ۔ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اے پی ایچ سی کشمیریوں کی نمائندہ جماعت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عزم دہرایا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے باہمی مشاورت کی جائے گی ۔ دیگر اقدامات اور ایسی کاوشیں تیز تر کی جائیں گی جن سے مسئلہ کشمیر کا دیر پا حل تلاش کیا جا سکے ۔جس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر جب بھی بات ہو گی کشمیریوں کے موقف کو مدنظر رکھا جائے گا ۔

بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اہمیت دی جائے گی ۔یوسف رضا گیلانی





اسلام آباد۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل اور پاک بھارت امن مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل ہی اس خطے میں امن کی ضمانت ہے اور بھارت کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اہمیت دی جائے گی اس موقع پر کشمیری رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاک بھارت مذاکرات کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پرمظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو بھی شریک کیا جائے کیونکہ کشمیریوں کی شرکت کے بغیر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ حریت کانفرنس کے وفد نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت پرا ن کا شکریہ ادا کیا

٢٩ ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا پی سی او والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتے ‘ چوہدری نثارعلی خان



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ ( ن ) کے راہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی 29 ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں شریک نہیں تھی اور نہ ہی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو جج تسلیم کرتے ہیں ۔ پیر کو پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فنانس بل میں 21 ججوں کی کلاز پر رائے شماری نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے اس موضوع پر اظہار خیال ضرور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پالیسی زیادہ واضح نہ ہو سکی ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 29 ججوں کی کلاز صوتی ووٹ سے منظور ہوئی اور اس صوتی ووٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی کوئی آواز شامل نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے آج انہوں نے اسمبلی میں کھڑا ہو کر اپنی جماعت کی پالیسی کی وضاحت کی اور کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان اسمبلی نے فنانس بل کی منظوری میں یقیناً شریک تھے لیکن 29 ججوں کی کلاز میں حصہ نہیں لیا ۔ اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ لاتعلق رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پی سی او ججوں کو ہم اس طرح جائز جج نہیں مانتے اور معزول ججوں کی بحالی بھوربن معاہدے کے تحت ایگزیکٹو آرڈر سے ہونی چاہئے ۔

سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کو تسلیم نہیں کرتے یہ پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کی کوشش ہے ۔اعتزاز احسن




سیالکوٹ ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے ججوں کی تعداد کو 16سے بڑھا کر29کرنے کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرویزمشرف کے 3نومبر کے اقدامات کو تحفظ دینے کی ایک کوشش ہے جسے پاکستان کے وکلاء اور عوام تسلیم نہیں کرتے تاہم وہ معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے آل پاکستان وکلاء نمائندگان کنونشن میں ملک بھرکے تمام شہروں میں ہفتہ میں ایک دفعہ جمعرات کے روز وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ اور ریلی کے موقعہ پر اہم مقامات پر تین گھنٹے کیلئے وکلاء کے دھرنے کی تجویز دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر افتخار محمد چودھری دیگرمعزل ججوں کو معاہدہ بھوربن کے تحت ایک قراردا دکے زریعے بحال کیاجائے اور اس کیلئے قانو ن سازی کی کوئی ضرورت نہ ہے تاہم اگر معزول ججوںکو بحال نہ کیا گیا تو وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکمرانوں کو معزول جج ہر صورت میں بحال کرنا ہونگے کیونکہ ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہونے سے سرمایہ کاری نہ ہورہی ہے اورترقی وخوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے ۔سوموار کی دوپہر انوار کلب آڈیٹوریم میں ڈویثرنل وکلاء کنوکشن سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پی سی او ججوں کو تسلیم نہیںکیااور نہ ہی پی سی او ججوں کو تسلیم کرے گی تاہم حکومت نے معزول ججوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرکے معزول ججوں کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اب آئنی پیکیج کے زریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر پی سی او ججوں کو بھی بحال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء نے کامیاب لانگ مارچ اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلا کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھ لیا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر کی بار ایسوسی ایشنوں نے پاکستانی وکلاء کی تحریک کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ دس غیر ملکی یونیورسٹیوں نے معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیدی ہے جبکہ دنیا بھر کی62بار ایسوسی ایشنوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کی جرات کی وجہ سے تاحیات ممبر شپ دیدی ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی نے چیف جسٹس افتخا رمحمد چودھری کو میڈل آف فریڈم کا ایواڈ دیا ہے جو یونیورسٹی کی طرف سے دیا جانے والا تیسرا ایوارڈ ہے تاہم بارسلونہ کی بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بھر کے وکلاء کو اعزاز ی ممبر شپ دیدی ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جلد ہی انٹرنیشنل لائرز کانفرنس بلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی کسی تنظیم نے بھی اسلام آباد میں دھرنے کا فیصلہ نہیں کیاتھا تاہم ملک میں وکلاء کے تمام فیصلے پاکستان بار کونسل کررہی ہے جس نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھاجس میں دھرنے کا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا تاہم وہ وکلاء اور عوام کے دھرنے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کی تحریک پرامن ہے اور پرامن ہی رہے گی تاہم ڈاکٹر شیرافگن پر تشدد کے واقعہ کی وجہ سے وکلاء دنیا بھر میں بدنام ہوئے اور بعض کالم نگاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن کووکلاء نے بچایا تھا لیکن ڈاکٹر شیرافگن پر تشد د کے واقعہ کے بعد ایک سازش کے تحت کراچی میں وکلاء کو قتل کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان با رکونسل کے صدر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے اور ا ب واپس نہ آرہے ہیں تاہم اگر ملک میں عدلیہ آزاد ہوتی تو شوکت عزیز کو ملک سے بھاگنے کا موقعہ نہ ملتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کے کامیاب لانگ مارچ نے ساری دنیا میں وکلاء کے وقار کو بڑھایا ہے تاہم جب تک معزول جج بحال نہیں ہوجاتے اس وقت تک وکلاء کی تحریک جاری رہے گی ۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ تاریخی ہے تاہم لانگ مارچ مزاحمتی موبائیل دھرنا بھی تھا جو9جون کو شروع ہوا اور اس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معزول ججوں کی بحالی سے پارلیمنٹ اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی ۔ اس سے قبل کنونشن سے پنجا ب با رکونسل کے وائس چےئرمین اسلم سندھو ایڈووکیٹ ، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف کوآرڈنیٹر اطہر من اللہ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ارشد محمود بگو ایڈووکیٹ کے علاوہ ڈویثرن بھر کی پندرہ تحصیلوں کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدور نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں ممبران پنجاب با رکونسل ایم اظہرچودھری ، رانا نصر اللہ خان کے علاوہ سینکڑوں وکلاء شریک تھے جنہوں نے گو مشرف گو کے زبردست نعرے بھی لگائے جبکہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر چودھری اعتزاز احسن کا سیالکوٹ آمد پر بھرپور استقبال کیاگیااور ان پر منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ایک جلوس کی شکل میں انوار کلب آڈیٹوریم لایا گیا جہاں چار گھنٹے سے زائد عرصہ تک کنونشن جاری رہا

پاکستان کے اندر کاروائیوں کی دھمکی غیر دانش مندانہ ہے، کونڈولیزارائس

واشنگٹن ۔ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے پاکستان کی سرحد کے اندر تک عسکریت پسندوں کا پیچھا کرنے کی افغانستان کی دھمکی کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو سرحد پر عسکریتپسندوں سے نمٹنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنی چاہیںاور دونوں ملکوں کو اپنے اپنے علاقوں میں مسائل سے خود نمٹنا چاہیے