International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Sunday, June 29, 2008

حکومتی عملداری اور خیبر آ پریشن ۔۔۔۔ تحریر اے پی ایس،اسلام آباد



قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مخالفین کے کئی مراکز اور موچوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا سب سے بڑا مقصد پشاور کے مضافات میں گزشتہ کچھ عرصے سے جرائم کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا تھاہے۔ جبکہ وفاقی مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ خاص خاص اہداف پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ جمعہ کو باڑہ میں شروع کی جانے والی کارروائی ابھی تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کے علاوہ بعض اہم مراکز اور مورچوں کو تباہ کردیا ان کے مطابق آپریشن کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ مخالفین کی طرف سے کی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں دیکھی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کو ٹینک، توپخانے اور بکتر بندگاڑیوں کی مدد بھی حاصل تھی اور علاقے میں مکمل طور پر کرفیو نافذتھا جبکہ بعض راستوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا کہ یہ کارروائی کسی گروہ یا فرد کے خلاف نہیں کی کی گئی بلکہ اس کا مقصد قبائلی علاقے باڑہ میں حکومتی عملداری کی بحالی اور ان جرائم کی روک تھام کرنا تھا پشاور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر حکومت نے فرنٹیئر کور کو اجازت دے دی کہ وہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دے تحصیل باڑہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کا سب سے بڑا مرکز تھا س لیے انہوں نے پہلے یہاں سے کاروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پشاور کے آس پاس علاقوں میں موجود بعض دیگر چھوٹے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔’یہ بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہے جوگزشتہ پندرہ سال سے پنپ رہا تھا لہذٰا اس آپریشن کے ذریعے مسئلے سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ دوسری طرف خیبر ایجنسی کے پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لشکر اسلام کے خلاف کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تحصیل باڑہ کے علاقے گنداو¿، کوئیی اور آس پاس کے گاو¿ں میں واقع لشکرِ اسلام کے مراکز اور مورچوں کو توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کارروائی اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ وہاں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ’الٹے سیدھے‘ سکول اور مدرسے بنائے گئے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پشاور میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغواء کے باعث صورتحال بگڑ گئی تھی اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اردگرد بھی خاص خاص مقام پر جرائم پیشہ لوگ ہیں اور ان سے صوبائی حکومت نمٹ رہی ہے کیونکہ صوبے میں قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت مخصوص اہداف پر کارروائی کرتی ہے تو مرکزی حکومت اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ اگر ان کو فورس یا لاجسٹک کی ضرورت ہو تو ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں‘۔ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مبینہ مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیا ن ہونے والی ایک جھڑپ میں نو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں فوج کی بیرکوں پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے جمعہ کی صبح باڑہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سنڈا پل کے علاقے میں لشکر الاسلام کے مسلح افراد نے پہاڑ پر واقع انصارالاسلام کے مورچے پر قبضہ کرنے کے لیے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کردیا تھا۔اہلکار کے مطابق پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں لشکرالاسلام کے آٹھ اور انصارالاسلام کا ایک مبینہ جنگجو ہلاک ہوگیا جبکہ دونوں طرف سے چار چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔تاہم فریقین نے ہلاکتوں سے متعلق متضاد دعوے کیے ہیں۔ انصارالاسلام کے ترجمان مولانا مستمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑائی کے دوران مخالف فریق کے بارہ افراد ہلاک کیے گئے ہیں جن میں سے آٹھ کی لاشیں انکے پاس ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ادھر لشکرالاسلام کے ایک رہنما مستری گل نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انکے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے دوران انکی مخالف تنظیم انصارالاسلام کے سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں فریقین اپنا نقصان کم جبکہ دوسرے کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ تحصیل باڑہ میں دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مقامی لوگوں کے مطابق اب تک دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں اور علاقے میں بظاہر حکومتی عملداری ختم ہوگئی ادھر صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔دیر کے ضلعی رابطہ افسر ڈاکٹر عطاء الرحمن کے مطابق ابتدائی تفتیش کے بعد چالیس افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ سترہ افراد اب بھی زیرحراست ہیں ۔ انکے بقول حراست میں لیے گئے افراد میں سے پانچ زیادہ مشکوک افراد بھی شامل ہیں جن میں دو مقامی اور تین افغان ہیں۔انکے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی عمارت میں جمعہ کے روز ہی تقریباً پانچ سو سے زیادہ فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ جنوبی اضلاع لکی مروت، پیزو، اورسرائے نورنگ میں بھی اضافی فوج کو تعینات کردیا گیا ہے فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے تاجہ زئی چوک پر خاردار تاریں بچھاکر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔دوسری طرف پولیس نے دعویٰ کیا کہ پشاور کے مصروف بازار صدر میں کے ایک کار پاکنگ میں تخریب کاری میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی کو قبضہ میں لے لیا گیا جس سے ساڑھے چار کلو وزنی دو اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا گیا پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان نے بتایا کہ گاڑی میں نصب ٹائم بم کا بروقت نہ پھٹنے سے وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے گاڑی سے دھواں اٹھتے دیکھکر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ انکے بقول بعد میں فائر بریگیڈ کو بلاکر آگ بجھائی گئی اور پولیس نے گاڑی سے دو ساڑھے چار کلو وزنی اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا۔فوج اور پولیس کے اہلکار لکی مروت کے راستے بنوں، میانوالی اور پشاور کی طرف جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لیتے رہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت کی درخواست پر صوبے کے جنوبی اضلاع میں تقریباً بارہ ہزار اضافی فوجیوں کو تعیبنات کیا گیا۔ تاکہ ان علاقوں میں طالبانائزیشن کا عمل روکا جاسکے۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیرستان میں متعدد چوکیاں تباہ کی گئی ہیں قبائلی جرگے نے شمالی وزیرستان میں قائم کردہ حفاظتی چوکیوں کے خاتمے تک مقامی طالبان سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا گیا۔پینتالیس رکنی جرگے میں شامل ملک قادر خان نے بتایاتھا کہ انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر سے ملاقات میں واضح کر دیا تھا کہ جب تک حکومت شمالی وزیرستان میں قائم چیک پوسٹوں کو نہیں ہٹاتی تب تک جرگہ طالبان سے مذاکرات کرنے شمالی وزیرستان نہیں جائے گا۔ملک قادر کے مطابق ’ہم گورنر سے کہا کہ پانچ ستمبر کے معاہدے کے مطابق حکومت نئی چیک پوسٹ قائم نہیں کر سکتی لیکن حکومت نے ایسا کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ان کے مطابق انہوں نے گورنر سے کہا کہ اس شرط کو قبول کیے بغیر وہ طالبان سے مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ طالبان کا واحد مطالبہ یہی ہے کہ چیک پوسٹوں کو ہٹایا جائے لہذٰا ایسی صورت میں جرگے کا واپس میران شاہ جانا بے فائدہ ہوگا۔ملک قادر کا کہنا تھا کہ گورنر نے کہا کہ چیک پوسٹیں ہٹانے کے سلسلے میں وہ بے بس ہیں لہذٰا جرگہ ویسے جا کر طالبان کو معاہدے کی بحالی پر رضامند کرے لیکن بقول ان کے جرگے نے گورنر کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ جرگے نے چیک پوسٹوں کو ہٹائے جانے پر غور کرنے کے لیے گورنر کو چار دن کی مہلت دی اور بقول ان کے اگر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی تو جرگہ امن معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا تھا۔ملک قادر خان نے بتایا کہ جرگے نے چیک پوسٹوں کو ہٹائے جانے پر غور کرنے کے لیے گورنر کو چار دن کی مہلت دی تھی اور بقول ان کے اگر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی تو جرگہ امن معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ پینتالیس رکنی جرگے نے میران شاہ میں اپنے چند روزہ قیام کے دوران مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعدپشاور میں گورنر سرحد کو ملاقات کے دوران صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا اور اسے پروگرام کے مطابق طالبان سے مذاکرات کرنے واپس میران شاہ جانا تھا۔پینتالیس رکنی جرگہ صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی کی سفارش پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے چار اراکینِ قومی اسمبلی مولانا نیک زمان، مولانا معراج الدین، مولانا صالح شاہ اور مولانا عبدالمالک کے علاوہ سابق سینیٹر متین شاہ بھی شامل تھے۔جرگے میں شمالی وزیرستان کے پندرہ، جنوبی وزیرستان کے آٹھ، خیبر ایجنسی کا ایک، ،اورکزئی ایجنسی اور جنڈولہ کے دودو، باجوڑ، پارہ چنار، بنوں اور پشاور کے تین تین قبائلی عمائدین شامل ہیں۔ امن جرگے کے انکار کے بعد شمالی وزیرستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان جاری جنگ بندی سے متعلق آخری امید بھی بظاہر دم توڑ گئی جس سے نہ صرف علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر مرتب ہونے کا خدشہ بلکہ قبائلی علاقے میں القاعدہ کے دوبارہ منظم اور شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق امریکہ کے اعلی حکومتی اہلکاروں کے خدشات دور کرنے کی حکومتی کوششیں بھی زائل ہوسکتی تھی۔قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع کرک میں ہونے والے دو مختلف بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے تھے۔خیبر ایجنسی کے پولٹیکل انتطامیہ کا کہنا تھا ضلع پشاور سے متصل تحصیل جمرود کے علاقے وزیر ڈنڈ میں ایک زوردار بم دھماکہ ہوا تھاجس میں دو افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ جمرود کے تحصیلدار خالد کنڈی نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا تھاکہ بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کہیں جارہا تھا کہ حادثاتی طور پر اسکے جسم کے ساتھ بندھا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جسکے نتیجے میں حملہ آور سمیت ایک راہ گیر ہلاک ہو گیا انہوں نے مزید بتایا کہ مبینہ خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء کو تحویل میں لے لیا گیا جس جگہ دھماکہ ہوا اس سے تقریباً پچاس گز کے فاصلے پر خاصہ دار فورس کی ایک چوکی واقع ہے۔ دوسرا بم دھماکہ صوبہ سرحد کے ضلع کرک سے تقریباً چالیس کلومیٹر مغرب کی جانب بہادر خیل نامی گاو¿ں میں پاک فضائیہ کے سابق سکواڈن لیڈر کی رہائش گاہ کے سامنے ہوا جس میں دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکہ میں آتش گیر مادے کا استعمال کیا گیا ۔ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں مسلح قبائلیوں نے ایک مذہبی تنظیم کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ بند کر دی تھی اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا تھادوسری طرف پولیس نے پشاور کے علاقے شیخان میں ایک مزار پر حملے میں آٹھ افراد کو قتل کرنے کے جرم لشکر اسلام نامی مذہبی تنظیم کے امیر منگل باغ اور دیگر کارکنوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا مظاہرین کی قیادت کرنے والے خیبر امن کمیٹی کے صدر شاکر آفریدی کے مطابق حکومت کی موجودگی میں دن دہاڑے لشکر اسلام کے امیرمنگل باغ اور ان کے مسلح حامی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کی گاڑیاں چھین رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک مقامی انتظامیہ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرتی پاک افغان شاہراہ نہیں کھولی جائےگی۔ شاہراہ صبح دس بجے سے بند تھی جس کی وجہ سے افغانستان سے آنے جانے والی ہزاروں گاڑیاں شاہراہ کے دونوں جانب کھڑی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مذہبی تنظیم لشکر اسلام کے سینکڑوں کارکنوں نے شیخان گاو¿ں میں واقع بابا صاحب مزار پر حملہ کرکے نو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔ حملے میں لشکر اسلام کے ایک حامی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ شیخان گاو¿ں پشاور اور قبائلی علاقے باڑہ کے سنگم پر واقع ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مذہبی تنظیم لشکر اسلام اور کوکی خیل قبیلے کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی طے پاگئی تھی مقامی مشران کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھاجس میں دونوں فریقوں نے شرکت کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ کی کوششوں سے متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی ہوگئی جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ادھر تحصیل جمرود میں جھڑپوں کے بعد بندوبستی علاقے میں پیدا شدہ صورتحال پر غوروغوض کےلیے فرنٹیر ہاو¿س پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا تھاجس کی صدارت وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے قبائلی علاقے میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ قبائلی علاقے کی اس آگ کو بندوبستی علاقے تک نہ پھیلنے دیا جائے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ایریا کے گرد مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کی منظوری دی اور حکم دیا کہ دیوار کی تعمیر پر مزید وقت ضائع کئے بغیر عملی کام شروع کیا جائے تاکہ رہائشی اور انڈسٹریل علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ خیبرایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ لڑائی کا سلسلہ عارضی طورپر بند ہے تاہم متحارب گروہ ایک بار پھر شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوگئے تھے انہوں نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس کے قریب بتائی سرکاری ذرائع کا کہنا تھاکہ سکیورٹی فورسز شاہ کس کے علاقے میں داخل ہوگئی تھی اور وہاں موجود لشکر اسلام کے مسلح حامیوں کے بنائے ہوئے مورچوں کے سامنے پوسٹیں بنانی شروع کردئیں تھیں۔ ادھر لشکر اسلام کے کمانڈر منگل باغ نے ایف ایم ریڈیو سے تقریر میں سکیورٹی فورسز کو شام تک علاقہ چھوڑ دینے کی مہلت دی یہ بھی اطلاعات تھیں کہ مذہبی تنظیم کی جانب سے دھمکیوں کے بعد باڑہ سب ڈویڑن میں تعینات زیادہ تر حاضہ دار اور لیوی اہلکار ڈیوٹیاں چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمرود تحصیل سے لائن افسر سمیت پندرہ خاصہ دار اہلکاروں کو بھی اغواءکیا دوسری طرف کشیدگی کی وجہ سے شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں سے مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی بھی کی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ شاہ کس سے ملحقہ پشاور کے علاقے حیات آباد سے بھی لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ حیات آ باد انڈسٹریل اسٹیٹ میں اسی کے قریب کارخانے بھی بند ہوگئے جبکہ متاثرہ علاقے میں تمام تجارتی مراکز اور بازاربند ہیں جبکہ جمرود تحصیل میں تمام تعلیمی ادارے اور نجی و سرکاری دفاتر بھی بند ہیں۔ خیبرایجنسی کے سنگم پر واقع پشاور شہر کا ایک بڑا تجارتی مرکز کارخانو مارکیٹ بھی کشیدگی کی وجہ سے مکمل طورپر بند ہے۔ خیبر ایجنسی میں شدت پسندی بڑھتی جا رہی ہے پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مقامی شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تیراہ کے دور دراز علاقے سنڈہ پال اور آس پاس کے گاو¿ں میں شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصار السلام کے مسلح حامیوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کرتے رہے جبکہ جنگ بندی کے سلسلے میں ابھی تک انتظامیہ اور نہ ہی قبائلی مشران کی جانب سے کسی قسم کے کوئی اقدامات کیے گئے اس سلسلے میں مقامی انتطامیہ سے بارہا رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ یہ جھڑپیں تحصیل باڑہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور ہوئیں جہاں پر رسائی انتہائی مشکل تھی۔ جس علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان لڑائی ہوئی اسے انصار السلام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ لشکر اسلام کی کوشش تھی کہ تحصیل باڑہ کے بعد ان علاقوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ خیبر ایجنسی میں مبینہ طور پر سرگرم کئی مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے لڑائیاں جاری تھیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین سمیت عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت پشاور کے سنگم پر واقع اس قبائلی ایجنسی میں حکومتی عملداری تقریباً ختم ہوچکی تھی۔



چو د ھری شجاعت حسین کا فرانسیسی سفیر کو الوداعیہ


Saturday, June 28, 2008

فاٹا میں بد امنی کا حل فوجی آپریشن نہیں ہے ، فاٹا ارکان اسمبلی کا اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وفاقی وزیر حمید اللہ آفریدی

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بد امنی کا حل فوجی آپریشن نہیں ہے شمالی وزیرستان امن معاہدے کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ اس سلسلے میں فاٹا ارکان اسمبلی کا اعتماد میں نہیں لیا گیا انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا ہمیں علم نہیں ہے کہ وہ کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے بد قسمتی سے جب بھی یہ معاہدہ ہوا اسے نہ دکھایا گیا اور نہ ہی ہم سے کوئی مشورہ کیا گیا۔

خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کر دیا گیا


پشاور ۔ خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز نے آپریشن شرو ع کر دیا ہے ۔باڑہ کو جانے والے تمام خارجی اور داخلی راستے بند کر دیئے گئے اور کرفیو نافذ کر دیاگیا ۔خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود سے سیکورٹی فورسز کے تازہ دم دستے باڑہ پہنچادیئے گئے ۔ان دستوں کے ہمراہ چھ بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی شامل ہیں ۔سیکورٹی فورسز نے پوری باڑہ تحصیل کو گھیرے میں لے لیا ۔پہاڑی چوٹیوں اور باڑہ کے مختلف علاقوں پر چیک پوسٹیں قائم کر دی گئیں ۔باڑہ میں مکمل کرفیو کا نفاذ کر کے مقامی لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے اور لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیدیا ۔باڑہ میں کپڑے کے بڑے بڑے گودام اور تمام کاروباری مراکز بند کر دیئے گئے اور باڑہ جانے والے تمام راستے سیل کر کے باڑہ جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔تحصیل باڑہ کے ساتھ قبائلی سرحدی علاقے پر بھی سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی اور باڑہ میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیاگیا۔باڑہ کے ساتھ ساتھ سربند،پشتہ خرہ اور دوسرے علاقوں میں بھی ایف سی کے اہلکاروں نے گشت شروع کر دی ۔خیبر ایجنسی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق تحصیل جمرود کے شاہ کس علاقے میں عسکریت پسندوں کے قلعے پر تین راکٹ داغے گئے تاہم کوئی جانی مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے باڑہ علاقے کو خالی کر دیاگیا اور بڑی تعداد میں عسکریت پسندخیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقہ تیراہ او ر دوسرے علاقوں کو منتقل ہو گئے ۔عسکریت پسندوں کی جانب سے مورچے سنبھا ل لئے گئے اور باڑہ میں آپریشن کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے ۔

بیت اللہ محسود کا حکومت کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

اسلام آباد ۔ مقامی طالبان کے راہنما بیت اللہ محسود نے ممکنہ آپریشن کے پیش نظر حکومت کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بیت اللہ محسود نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے امن کے قیام کے نام پر ووٹ لئے مگر اب طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسی قسم کی طاقت کا استعمال کیا گیا تو ہم شہادت کے لئے تیار ہیں ۔

قبائلی علاقوں میں ہر قیمت پر حکومت کی رٹ بحال کی جائے گی ۔ سید یوسف رضا گیلانی



پشاور۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قبائلی علاقوں میں ہر قیمت پر امن و امان قائم کرنے اور حکومت کی رٹ برقرا ررکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کو بدامنی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ امن خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے ۔ طاقت کا استعمال نہیں چاہتے ۔ صوبائی حکومت قیام امن کے حوالے سے اپنے صوبے میں جو بھی اقدام اٹھائے گی وفاق حمایت کرے گا ۔ صدر مواخذہ پارلیمنٹ کا کام ہے ۔ اقتدار خیرات میں نہیں ملا ۔ طویل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مقام حاصل ہوا ہے ہفتہ کے روز یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا کے لوگ پرامن اور محب وطن ہیں ۔ قبائلی ارکان پارلیمنٹ اور عوام ہمارے ساتھ ہیں وہ اپنے علاقوں میں امن سے رہنا چاہتے ہیں ۔ روزگار ‘ ترقی چاہتے ہیں ۔ فاٹا میں صنعتی زونز کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اتحادی حکومت کی حکمت عملی یہی ہے کہ مذاکرات کیے جائیں اور ترقیاتی کاموں پر زور دیا جائے لیکن جو لوگ امن خراب کررہے ہیں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور حکومت کی رٹ قائم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت بااختیار ہے اور حکومت کو بے اختیار کہنے والے افراد کا خیال قابل افسوس ہے ۔ ہم امن چاہتے ہیں اور صوبہ سرحد کی جانب سے جو امن معاہدے کیے گئے ان کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ لیکن ان معاہدوں کی پاسداری بھی ہونی چاہیئے ۔ فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدوں کو نبھائیں اور مسلمانوں کا یی شیوا ہے کہ وہ معاہدوں کو پورا کرتے ہیں ۔ اسلام ظلم نہیں امن کا پیغام دیتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین کوشش ہے کہ قبائلی علاقوں کی معاشی صورت حال کو بہتر بنایا جائے اور دفاعی اخراجات میں کمی کرکے ترقیاتی کام کیے جائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں امریکی حملے کی شدید مذمت کی تھی اور پاکستانی علاقے میں کسی کو بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔وزیراعظم نے کہا کہ امن وامان کی بحالی اور غیر قانونی اقدامات روکنے کے لیے صوبائی حکومت مکمل طور پر بااختیار ہے اور مرکزی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی مدد کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کے حوالے سے فورس کا استعمال سرحد حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے ۔ صوبہ سرحد میں حکومتی رٹ کے قیام کے حوالے سے صوبائی حکومت جو اقدام کرے گی اس کی حمایت کریں گے ۔ فاٹا پالیسی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ فاٹا میں ہر صورت میں امن قائم کیا جائے گا۔ اور اس حوالے سے تمام متعلقہ افراد سے بات چیت کی جا رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امن پر یقین رکھنے والوں سے مذکرات کیے جائیں گے اور جو لوگ پرامن نہیں ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے بے نظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی ۔ آئین ‘ اداروں کو بحال کرنا چاہتے ہیں ۔ عدلیہ اور پریس کی آزادی چاہتے ہیں ۔ آئین کے خلاف کوئی کام نہیں کریںگے ۔ پارلیمنٹ نے ہر معاملے کا فیصلہ کرنا ہے ۔ پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی سب کو اس کو قبول کرنا چاہئے ۔ صدر نے بھی یہی کہا ہے کہ پارلیمنٹ جو فیلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا ۔ بعدازاں وزیراعظم اسفند یار ولی خان سے ولی باغ چارسدہ جا کر ان کے بھائی سنگین ولی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ۔ مشیر داخلہ رحمان ملک بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم پشاور پہنچے تو گورنر سرحد اویس احمد غنی اور وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔

حکومت نے پانچ کروڑ کے عوض پا کستان بار کونسل کو خر یدنے کی کوشش کی ۔حامد خان

گجر ات ۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے کہا کہ حکومت نے پانچ کروڑ کے عوض پاکستان بار کونسل کو خریدنے کی کوشش کی جس کی شدید مزمت کرتے ہیں۔ گجرات بار آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والے آئینی پیکیج کی تمام تجاویز بے کار اور فرسودہ ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اس سے پہلے سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان گجرات بار سے خطاب کرنے کیلئے پہنچے تو وکلاء نے صدر سپریم کورٹ بار اعتزاز احسن کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

دوری نہ رہے کوئی ، دوری مٹانے کے لیے اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کا مشترکہ کھانا





واشنگٹن۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما اور پرائمری انتخابات میں ان کی حریف ہیلری کلنٹن نے واشنگٹن میں فنڈ اکھٹا کرنے کے لیے ایک مشترکہ ڈنر کا احتمام کیا ہے۔ ڈنر کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ خاص طور سے پرائمری انتخابات میں اوباما اور ہیلری کلنٹن کے درمیان پیدا ہونے والی ان تلخیوں کے بعد یہ مشترکہ ڈنر اہمیت کا حامل ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باراک اوباما ہیلری کلنٹن کے حمایتوں کی سپورٹ لینے اور خود کلنٹن خاندان ے رشتے بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایک بار جب سابق صدر بل کلنٹن بھی اوباما کی حمایت میں آگے آئیں تو باراک اوباما کو اس دوستی کا فائدہ ضرور حاصل ہو گا۔ باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ہیلری کلنٹن کی پرائمری انتخابات کے دوران چلائی جانے والے مہم کے لیے حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ذاتی طور پر دو ہزار تین سو ڈالر کا چندہ دیں گے۔امریکہ کا قانون انتخابات کے دوران دیئے جانے والے چندوں کی یہ ہی حد مقرر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے امیر حامیوں سے ایسا ہی کرنے کے لیے بات کریں گے۔ جب اوباما نے اس مدد کا اعلان کیا تو ان کے حمایتوں نے اس کا پرجوش استقبال کیا۔

بل گیٹس کا مائیکرو سافٹ کمپنی کی چیئرمین شپ سے ریٹائر ہونے کا اعلان



واشنگٹن ۔دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل اور کمپیوٹر سافٹ وئر کمپنی مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس نے اعلان کیا ہے کہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ گیٹس اب اپنا زیادہ تر وقت خیراتی کاموں میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم وہ مائیکروسافٹ کے چیئرمین رہیں گے لیکن صرف خاص پروجیکٹ پر کام کریں گے۔جوانی میں گیٹس کا خواب تھا کہ ہرگھر میں ایک کمپیوٹر ہو اور انہوں نے اس خواب کی تعبیر کے لیے کام کیا۔ ایک مشہور وکیل کے بیٹے گیٹس نے خود اپنا کمپیٹر پروگرام تیرہ سال کی عمر میں بنایا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انہوں نے کمپیوٹر پروگرامنگ کی صلاحیت کو اور نکھارا۔ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑ کر اپنے بچپن کے دوست پال ایلن کے ساتھ نیو میکسکو میں مائیکروسافٹ کمپنی بنائی۔ ان کو پہلی کامیابی انیس سو اسی میں ہوئی جب انہوں نے آئی بی ایم کے ساتھ ایم ایس ڈوس کامعاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو سافٹ اس لیے کامیاب ہوئی کہ ان کے مقابلے میں کمپنیاں کمزور تھیں۔ ’ان کمپنیوں کے پاس کاروباری لوگ اور انجینیروں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی‘۔ باون سال کی عمر میں گیٹس دنیا کے امیر ترین شخص نہیں رہے۔

Friday, June 27, 2008

وفاقی حکومت کا عدلیہ کی بحالی کے لیے مظاہروں کے دوران وکلاء پر قائم مقدمات ختم کرنے کا اعلان



فاروق ایچ نائیک کی بار کونسل کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد۔ وفاقی حکومت نے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے مظاہروں کے دوران وکلاء پر قائم ہونے والے مقدمات ختم کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان بار کونسل کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ حکومت نے پریکیٹیشن ایکٹ میں 3 نومبر 2007 ء کی ترمیم واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے جمعہ کو پاکستان بار کونسل کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ وفد نے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان کی قیادت میںو زیر قانون سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے ججز کی بحالی کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ حکومت اس ایشو کے حل کے حوالے سے مخلصانہ کوشیشیں کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی نہ صرف معزول ججز کو رہا کردیا گیا ہے بلکہ ججز کو تنخواہیں بھی ادا کی گئی ہیں۔ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئینی پیکج کے مسودے کی کاپیاں تمام سیاسی جماعتوںکو بھجوائی گئی تھیں تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کی حتمی طور پر تجاویز سامنے نہیں آئی ہیں ۔وزیر قانون نے کہا کہ ججز آئینی پیکج کے زریعے ہی بحال ہوں گے۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ میںپیش ہو گا۔ پیکج کو منظور یا مسترد کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہو گا۔ اس حوالے سے کسی کو متعرض نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ وکلاء کے خلاف تمام مقدمات ختم کردئیے جائیںگے۔ وزیر قانون نے کہا کہ حکومت وکلاء کی فلاح و بہبود کے حوالے سے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ وکلاء کے نہ صرف رہائش کے مسائل حل کیے جائیںگے۔ ہسپتالوں میں وکلاء کو مفت طبی امداد کی فراہمی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 3 نومبر 2007 ء کے اقدامات کے ذریعے وکلاء کی پریکٹس کے حوالے سے وکلاء کی کمیٹی کے جو اختیارات سلب کرلیے گئے تھے انہیںبحال کیا جا رہا ہے ۔

عالمی بنک نے پاکستان کو ٣ کروڑ ٨٠ لاکھ ڈالر کے قرضے کی منظوری دیدی




قرضے کی رقم کو سندھ طاس میں پانی کے وسائل کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ کنٹری ڈائریکٹر
اسلام آباد ۔ عالمی بنک نے انڈس ریور بیسن میں پانی کے وسائل کی مینجمنٹ اور ترقی میں مدد کے لیے پاکستان کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے قرضے کی منظوری دیدی ہے ۔ عالمی بنک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس رقم سے پاکستان توانائی اور فصلوں کی پیداوار کے لیے پانی کے وسائل کے فروغ کے لیے ضروری ا ور فوری اصلاحات کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ عالمی بنک اپنے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن پروگرام سے نرم شرائط پر قرضہ فراہم کیا جائے گا جس پر شرح سود 0.75 فیصد پر فراہم کرے گا۔ اس کا گریس پریڈ 10 سال کا ہو گا اور 35 سالوں میں واپس کرنا ہو گا ۔ پاکستان میں عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر یوسو وفاکروکس نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہاکہ پاکستان میں پانی کے شعبے کو انتہائی نازک پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے تسلسل کے ساتھ بہت زیادہ سرمایہ کاری اور طویل المدتی عزم کی ضرورت ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس منصوبے سے پانی کے شعبے کی تجدید اور استحکام کے لیے بنیاد تعمیر کی جائے گی جس سے پانی کی صورت حال بہتر ہو گیا ور آبپاشی اور ہائیڈو پاور ڈویلپمنٹ کی صورت حال بہتر ہو گی انہوںنے کہا کہ اس منصوبے سے انڈس سسٹم کے ادارہ جاتی اور ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت پانی وبجلی انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ، واپڈا اور پلاننگ کمیشن کی تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ جبکہ ہائیڈرو پاورکے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو ترقی ا ور اس کی مدد کی جائے گی ۔ عالمی بنک کے پانی کے شعبے کے لیڈ سپیشلست اور پراجیکٹ ٹیم لیڈر مسعود احمد نے کہا کہ ’’ سندھ طاس کی ترقی اور انتظام ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کے لیے انتظامی ، انجنیئرنگ اور سائنسی صلاحیت کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے ۔ یہ پراجیکٹ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے شعبوں اور پانی کی تنظیم اور ترسیل کو بہتر بنانے کے طریقوں کے لیے سرمایہ کاری اور مالی لائحہ عمل بنانے میں مددد ے گا۔

چار ارب برس قبل مریخ سے دیوہیکل سیارچہ ٹکرایا تھا



نیویارک ۔ زمین پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً چار ارب برس قبل مریخ سے ایک بہت بڑا سیارچہ ٹکرایا تھا، جس کی شدت کی وجہ سے مریخ کے دونوں نصف کرے ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات گذشتہ تیس برس سے یہ جانتے تھے کہ مریخ کے بڑے حصے میں اوپری سطح کی موٹائی 50 کلومیٹر سے کم ہو کر 20 کلومیٹر ہو جاتی ہے، اور دونوں حصوں کی مٹی کی خصوصیات بھی مختلف ہیں اور ان کے اندر پائی جانے والی مقناطیسیت بھی مختلف ہے۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی یونی ورسٹی اور ناسا کے سائنس دانوں اس پتلی سطح والے حصے کا مشاہدہ کیا اور انھیں معلوم ہوا کہ یہ حصہ ساڑھے دس ہزار کلومیٹر لمبا اور ساڑھے آٹھ ہزار کلومیٹر چوڑا ہے۔ واضح رہے کہ چوں کہ مریخ زمین سے بہت چھوٹا ہے، اس لیے یہ رقبہ اس کی کل سطح کا 42 فی صد بنتا ہے۔ ایم آئی ٹی کے سائنس دان کہتے ہیں کہ مریخ پر دو مختلف قسم کی سطحوں کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے، اور وہ ہے کہ ایک بڑے سیارچے سے ٹکر۔کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے اس سیارچے کی جسامت کا اندازہ 16 سوسے 27 سو کلومیٹر کے درمیان لگایا گیا ہے اور یہ تصادم کے وقت چھ سے لے کر دس کلومٹیر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔یہ بات اتنی حیران کن نہیں ہے کہ مریخ سے اس قدر بڑا سیارچہ ٹکرایا ہو۔ اس زمانے میں نظامِ شمسی نیا نیا بنا تھا اور تمام اندرونی سیاروں پر شہابِ ثاقب اور دم دار ستاروں کی بم باری معمول کی بات تھی۔ لگ بھگ اسی زمانے میں زمین سے اس سے بھی بڑا سیارچہ ٹکرایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا چاند اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی پروگرام کی تفصیلات چین کے حوالے کر دی ، امریکہ کا خیر مقدم



پیانگ یانگ ۔ واشنگٹن ۔ شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی پروگرام کی تفصیلات چین کے حوالے کر دی ہیں ادھر امریکہ نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے شمالی کوریا کی طرف سے فراہم کردہ ایٹمی پروگرام کی تفصیلات میں پروگرام میں استعمال ہونے والے مواد سہولیات اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد شامل ہے ۔ شمالی کوریا کو یہ تفصیلات اس سال کے شروع میں دینا تھیں مگر مذاکرات میں بار بار تعطل کے باعث یہ تفصیلات فراہم نہ کی جا سکیں۔ امریکہ نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے شمالی کوریا پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ صدر بش نے کہا ہے کہ ان کا مقصد ہے کہ کوریا کا علاقہ جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو جائے اور وہاں عوام بھوک اور افلاس سے نجات حاصل کر سکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا پر عالمی دباؤ جاری رہے گا تاکہ وہ اپنے ہتھیاروں اور ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر تلف کر دے ۔ اس اعلان کے بعد آئندہ 45دنوں میں شمالی کوریا کے تمام داخلی اور خارجی امور کا جائزہ لیا جائے گا اور شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف مثبت پیش رفت نظر آنے کی صورت میں اسے دہشت گرد ممالک کے فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کاججوں کی تعداد پر وفاق کو نوٹس



اسلام آباد ۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز حکومت کی طرف سے فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے وفاق کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔عدالت نے یہ نوٹس اظہر مقبول ایڈووکیٹ کی درخواست پر جاری کیے ہیں اور ان میں کہا گیا ہے کہ وفاق پیٹیشن میں اْٹھائے گئے اعتراضات پر تفصیلی جواب پندرہ دن کے اندر جمع کروائے۔ اس سے پہلے مذکورہ وکیل نے اسی قسم کی درخواست اسی عدالت میں دائر کی تھی جس کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ اظہر مقبول شاہ نے نظر ثانی کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ستر کے تحت ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور قانون سازی ہونے کے بعد ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے ان کی درخواست مسترد کی تھی تو اس وقت فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا تھا لیکن اب چونکہ اب سے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے ۔ درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھائی گئی تو پھر سینیٹ اور صدر کا کردار ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے اس لیے وہ فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھا کر انتیس کرنے کی تجویز دی تھی اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز سے مشاورت کی تھی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے سمیت فنانس بل کے ذریعے قوانین میں مجوزہ بعض ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بارے میں پیش کی گئی تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دی ہے۔

پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے ۔نواز شریف



مجھے انتخابات کیلئے نااہل قرار دئیے جانے کے پس منظر اور وجوہات سے پوری قوم آگاہ ہے ۔ ولی باغ میں میڈیا سے گفتگو
چارسدہ ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے جو بھی کوششیں کی جائیں گی ہم ان کی حمایت کریں گے۔ مجھے انتخابات کے لیے نااہل قرار دئیے جانے کے پس منظر اور وجوہات سے پوری قوم آگاہ ہے ۔ پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ولی باغ میں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان سے ان کے بھائی سنگین ولی خان کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے کیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف جمعہ کو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کے بھائی سنگین ولی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لیے چارسدہ میں ولی باغ گئے ۔ انہوں نے اسفند یار ولی سے ان کے بھائی کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور فاتحہ پڑھی ۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے موقف پر قائم ہیں ۔ اس اصول سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں نے بحال ہونا ہے ۔ اس حوالے سے قوم کے ساتھ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ انتخابی نااہلی کے حوالے سے وہ نہ اپیل کریں گے نہ پی سی او ججز کے سامنے پیش ہوں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات ٢٠ اور٢١ جولائی کو ہوں گے، کشمیر پر بات چیت ہوگی



نئی دہلی ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہے گا تاکہ متنازعہ امور پر امن طریقے سے حل کیے جا سکیں جامع مذاکرات کے پانچویں مرحلے کے مذاکرات 20اور21 جولائی کو ہوں گے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب پر باب مکھر جی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پرناب مکھر جی سے بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سنجیدہ مسائل کے حل کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کی توجہ مبذول کرائی ہے اور یہ کہ وہ بھارت ایک مثبت فوج کے ساتھ بھارت آئے ہیںاور وہ ایک جمہوری طور پر منتخب ہو نے والی حکومت کے نمائندے ہیںاور یہ جمہوری حکومت دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ تعلقات معمول پر لانا چاہتی ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے اور توقع کرتے ہیں کہ وہ جلد ہی اس دعوت کا مثبت جواب دیں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سود مند رہے اور ان میں تمام اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور امید ہے کہ پاکستان بھی اسی طرح کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے مثبت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے 5ویں مرحلے کے مذاکرات 20اور21جولائی کو ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر امن و امان دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری عمل سے دونوں ملکوں اور پورے علاقے میں ایک پرامن فضا پیدا ہو گی اور ہمیں معیشت اور تجارت کے شعبے میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہو گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی نے کہا کہ قیدیوں اور ماہی گیروں کی رہائی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے جوڈیشنل کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے اور کھوکھر اپارمونا باؤ راستوں کو تجارت کے لیے کھولنے پر غور کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملاقات میں جموں وکشمیر کے بارے میں 21اور22 جولائی کو خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر بات کی جائے گی انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے

آسٹریلیا مسلمانوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دے: مسلمان رہنما

سڈنی سڈنی میں کچھ مسلم رہنماؤں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ تہذیبی اور ثقافتی بنیادوں پر ایک سے زائد شادیوں کو تسلیم کرے ۔آسٹریلیا میں ایک سے زائد شادی غیر قانونی ہے۔ متعدد مسلمان علما نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ غیر قانونی ہے لیکن انہیں اکثر کسی ایسے شخص کا نکاح پڑھوانے کو کہا جاتا ہے جو پہلے سے شادی شدہ ہوتا ہے۔تاہم بہت کم مولوی ایسے ہیں جو ایسے نکاح پڑھوانے کا اقرار کرتے ہیں۔ کمیونٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ مصر، اردن اور سوڈان سے کچھ لوگ دو یا اس سے زیادہ بیویوں سمیت ترکِ وطن کر کے یہاں آئے ہیں مگر آسٹریلیا کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلامک فرینڈشپ ایسو سی ایشن آف آسٹریلیا کے صدر قیصر تراد کا خیال ہے کہ حکومت کو تہذیبی بنیادوں پر اس قانون کو تبدیل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی کے مصداق ہمیں اس ساجھے داری کو قبول کر لینا چاہیئے۔ قرآن پاک نے اس شرط کے ساتھ مسلمان مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے کہ وہ سب کے ساتھ مساوی سلوک کر سکے۔ سڈنی یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ چند گنے چنے علما کو چھوڑ کر آسٹریلیا میں زیادہ شادیوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اور حکومت بھی اس کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔اٹارنی جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ ایسی کوئی ترمیم زیرِ غور نہیں ہے۔ جو لوگ اس قانون میں ترمیم کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں جہاں آسٹریلیا کے قدیم باشندے رہائش پذیر ہیں، کثیر الازدواجی عام ہے اور حکومت رفاعِ عامہ کے کاموں کے دوران ان رشتہ داریوں کا پاس کرتی ہے۔اس سے ملتا جلتا انتظام انگلستان میں موجو د ہے۔ اس سال کے اوائل میں برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اگرا یک سے زیادہ شادیاں ان ممالک میں کی گئی تھیں جہاں یہ قانونی ہیں تو پھر تمام بیویوں کو فلاحی رقوم دی جائیں گی۔

عوام پرجبر کب ختم ہوگا ؟۔۔۔۔۔ تحریر : اے پی ایس،اسلام آباد






دہشت گردی کے خلاف‘ امریکہ کی جنگ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک پاکستان جیسے ملکوں میں عدلیہ کے ذریعے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری یقینی نہیں ہوجاتی۔ پاکستان میں ججوں کی بحالی میں ہر مرتبہ اور ہر اہم موڑ پر جنرل مشرف کے لیے امریکی حمایت سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ جبکہ اعتزاز احسن نے واشنگٹن میں انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر میں ایک خطاب میں کہا ہے کہ اگر امریکہ سمجھ لے کہ آزاد عدلیہ کی بحالی امریکہ کے حق میں ہے کیونکہ کوئی بھی جمہوریت جو عدلیہ کی بربادی یا اس کے ملبے پر کھڑی ہو وہ نہیں چل سکتی۔ اگر امریکہ ان باتوں کو سمجھ لے تو سکیورٹی کے بارے میں ان کی تشویش ختم ہو جائے گیا ا عتزاز احسن نے ایمنسٹی کی تقریب میں ججوں کی بحالی کی تحریک کے بارے میں بتایا کہ وہ کن حالات میں شروع ہوئی اور اس کا پس منظر کیا ہے۔ اگر کوئی سوچتا ہے کہ جن ججوں کو ہٹایا گیا وہ چپ ہو جائیں اور حکومت کو اپنا کام کرنے دیں تو یہ بہت غلط سوچ ہے۔ اگر عدلیہ کو بحال نہ کیا گیا تو اگلے چند ماہ میں پھر سے لانگ مارچ کی طرح کی تحریک شروع کی جائے گی اور اس بار اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی کہ تشدد نہیں ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ معاملہ ان کے ہاتھ میں ہی رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن ججوں کے معاملے میں وہ آصف زرداری کی رائے سے متفق نہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ججوں کی بحالی میں آئین رکاوٹ ہے تو وہ غلط ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ سیاست کے سوا کچھ نہیں اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ امریکہ سے مدد مانگنے نہیں آئے ان کے پاس یہ قابلیت ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کر سکیں۔ وہ امریکہ سے صرف اتنی توقع کرتے ہیں کہ وہ صدر مشرف کی حمایت کرنا چھوڑ دے اور ہمارے اندرونی معاملے ہمیں خود حل کرنے دے۔ ماضی میں جب بھی ججوں کی بحالی کی کوئی کوشش ہوئی چاہے وہ بینظیر بھٹو نے کی یا کسی اور نے امریکہ نے معاملات میں مداخلت کی۔ امریکی نائب وزیر خِارجہ نیگروپونٹے اور ان کے نائب رچرڈ باو¿چر معاملے کو دبانے کے لیے فوراً پاکستان پہنچ جاتے تھے جج قید تھے ان کے بال بچے گھروں میں بند تھے لیکن امریکہ سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نہیں مارشل لاء نافذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے آئین کو معطل کیا ہے اور جب آئین معطل ہوگیا تو مفاہمت کا عمل بھی معطل ہوگیا یہ بات انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد وطن واپسی پر بلاول ہاوس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔بینظیر بھٹو نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھاکہ ملک میں مارشل لاء فوری طور پر ختم کیا جائے اور آئین اور سپریم کورٹ کو بحال کر کے بروقت منصفانہ الیکشن کرائے جائیں ورنہ پاکستانی عوام یوکرین کے عوام کی طرح سڑکوں پر آئیں گے۔’یہ ہمارے لیے بہت تاریک دن ہے کہ اس قسم کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ ہمیں پہلے خدشہ تھا کہ ایمرجنسی نافذ کی جائے گی لیکن یہ تو ایمرجنسی سے بھی بدترین صورتحال ہے کیونکہ یہ تو مارشل لاء ہے ایمرجنسی نہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایمرجنسی لگانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ عدالت جنرل صاحب کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ سنانے والی تھی اور کیونکہ ایک فرد واحد کو عدالت کا فیصلہ قبول نہیں تھا اس لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی۔‘انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی جماعت یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے عوام کے خلاف ہے۔بینظیر بھٹو نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلح افواج نے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو گرفتار کرکے عدلیہ کی دوبارہ توہین کی ہے۔’اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوجائے گی اور کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اگر قانون کی حکمرانی کمزور کی جائے ہماری تو کوشش ہے کہ سول اور سیاسی اداروں کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ سول ادارے ہماری انتظامیہ کی قوت ہے اور سیاسی ادارے عوام کی قوت کا مظہر ہوتے ہیں۔ اس مو قع پر ‘انہوں نے ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ جب میڈیا، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ پر حملہ ہوتا ہے تو یہ کسی بھی قوم کے اہم مفادات پر حملہ ہوتا ہے وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کریں گی اور ان سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ تھا ہماری کوشش ہوگی کہ ہم احتجاج کریں اور عوام کے پاس جائیں۔‘بے نظیر بھٹو نے مقررہ وقت پر منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’انتخابات اس وقت تک منصفانہ نہیں ہوسکتے جب تک ملک میں مارشل لاء ہے کیونکہ آمریت اور جمہوریت ایک اسپیکٹرم کی دو انتہائیں ہیں جو اکٹھے نہیں چل سکتے۔ وہ اس پر احتجاج کریں گے کیونکہ پاکستان کے عوام مارشل لاء کو قبول نہیں کریں گے۔ ’یہ عوامی میدان سے بھاگنے کی کوشش ہے کیونکہ انتخابات کا وقت آرہا تھا اور الیکشن کو اسی دسمبر یا جنوری میں ہونا تھا اسی لئے مارشل لاء لگایا گیا ہے تاکہ انتخابات نہ ہوں اور عوام کو طاقت نہ ملے کیونکہ منصفانہ انتخابات ہوں گے تو عوام کو طاقت ملتی ہے۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جنرل مشرف سے مفاہمت کی کوششوں کا کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا کہ ’ہماری مفاہمت جمہوریت کے لیے تھی اس وقت جمہوریت نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ جب آئین کو معطل کیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ مفاہمت کو بھی معطل کیا گیا ہے۔‘انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے بقول فرد واحد کی پشت پناہی کرنے کے بجائے پاکستان کے عوام کی پشت پناہی کرے۔بینظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے قوم سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ ایمرجنسی کا ایک جواز یہ پیش کیا گیا کہ عدلیہ کے کچھ ارکان انتظامیہ اور مقننہ کے ساتھ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے سلسلے میں تعاون نہیں کررہے ہیں۔ ’یہ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے عبدالعزیز کی فیملی کو لال مسجد واپس دے دی تھی مگر اب سپریم کورٹ پر یہ داغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ انتہاپسندوں کے پیچھے جو لوگ کارفرما ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پی پی انتہا پسندی کے خلاف ہے لیکن جمہوریت کی بحالی کے بغیر انتہاپسندی کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عوام ہی ملک کا دفاع کرسکتے ہیں۔ ’اس وقت تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھ میں دیئے گئے ہیں وہ آئین کو تبدیل کرسکتا ہے اور اب اس نے آئین کو معطل کردیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ پہلے سے ملک کو بہت سے خطرات لاحق ہیں اور اس اقدام سے ان خطرات میں اضافہ ہوگا اور اب پاکستان کی یکجہتی کو بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں سے ملنے دوبئی گئی تھی کیونکہ وہ اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد پریشان تھے۔ مگر جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ پاکستان میں ٹی وی چینلز کو بند کیا جارہا ہے تو وہ فوری طور پر وطن واپس آئی ہیں۔ ’میں پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کی حوصلہ افزائی بھی کرنا چاہتی تھی اور ان کو بتانا چاہتی تھی کہ مشکل دنوں میں میں آپ کے ساتھ ہوں۔،‘انہوں نے کہا کہ عوام غربت اور بیروزگاری سے پریشان ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپوٹ چوراسی صفحات پر مشتمل ہے ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ اور برطانیہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں قید وکلاء، ججوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رہائی، تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی اور آئین کی حکمرانی کے لیے دباو¿ ڈالیں۔تنظیم نے پاکستان کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف رسمی بیانوں کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔ اگر امریکہ اور برطانیہ پاکستان کے سیاسی مستقبل اور استحکام کے خواہاں ہیں تو انہیں پاکستان میں تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی طرف سے نافذ کیئے گیے ہنگامی حالات کے اٹھائے جانے کے باوجود اب بھی درجنوں وکلاء، جج اور حکومت کے مخالفین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر تے رہے ۔ہیومن رائٹس واچ کی پاکستان کی صورت حال کے بارے میں چوارسی صفحات پر مشتمل ’عدلیہ کی تباہی: پاکستان میں وکلاء اور ججوں پر جبر‘ کے عنوان سے شائع کی گئی تھی اس رپورٹ میں تین نومبر کے بعد وکلاء پر پولیس تشدد، گرفتاریوں اور گرفتار شدہ وکلاء کے ساتھ زیادتیوں کے عینی شاہدوں کے بیانات پر قلمبند کیئے گئے اس رپورٹ میں ملک کی مختلف اضلاع اور چاروں ہائی کورٹس کے احاطوں کے اندر آئین کی معطلی اور ہنگامی حالات کے نفاذ کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے وکلاء پر پولیس کے بہیمانہ تشدد اور لاٹھی چارج کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ اس بات کا جائزہ بھی لیا گیا کس طرح صدر مشرف نے اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے کے نام پر ہنگامی حالات نافذ کرکے ملک کی عدلیہ کو بے اختیار کیا اور وکلاء اور دیگر طبقعوں سے اپنے مخالفین اپنے غیر قانونی اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں سیاسی جماعتوں نے ملک میں فوجی آمریت کے لیے اتنی قربانیاں اور جدوجہد نہیں کی جتنی وکلاء برادری کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنی لیڈر بینظیر بھٹو کی زندگی سمیت کئی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان میں نئی جمہوری حکومت کے قیام کا مقصد نظام کی تبدیلی تھا۔ اور یہ نظام کی تبدیلی کس دن سے شروع ہوگی عوام اس کا انتظار کر رہے ہیں۔اور اس ضمن میںسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی میں اس وقت صدر پرویز مشرف نہیں بلکہ پارلیمان رکاوٹ ہے۔ اور یہ بات حرف آخر ہے کہ نظام کی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب عوام کو انصاف ملنا شروع ہوگا۔ اور اس ضمن میں حائل رکا وٹو ں کا خا تمہ کرنا ہوگا۔ اے پی ایس




NKorea presents nuclear report, US eases sanctions




WASHINGTON - North Korea handed over a long-delayed account of its nuclear activities on Thursday, prompting the United States to ease sanctions but leaving questions about the communist state's atomic ambitions.
U.S. President George W. Bush cautiously welcomed the action but warned North Korea, which tested a nuclear device two years ago, that it faced consequences if it did not fully disclose its operations and continue to dismantle its nuclear program.
"If North Korea makes the wrong choices, the United States and our partners in the six-party talks will respond accordingly," he said at the White House in Washington shortly after the declaration was handed over to China.
"If they do not fully disclose and end their plutonium, their enrichment and their proliferation efforts and activities, there will be further consequences," said Bush, who once branded North Korea part of an "axis of evil."
He quickly took a step toward removing North Korea from the U.S. list of state sponsors of terrorism, which will take 45 days, and issued a proclamation lifting some sanctions under the U.S. Trading with the Enemy Act.
Bush's national security adviser Stephen Hadley told reporters that easing those sanctions was "relatively minor" and that if Pyongyang failed to fulfill its obligations the United States could seek reimpose them or push for new ones.
"If they are unwilling to carry out their obligations then there will be consequences," he said. "To the extent applicable and to the extent we can do it legally we would reimpose
past sanctions. We would also have the option to get additional sanctions but it would not be just the United States."
Bush also welcomed an announcement by North Korea that it would blow up the cooling tower at Yongbyon, its main nuclear complex, but said these were all initial steps by the reclusive communist country and more work was required.
In an unprecedented move, North Korea has invited Western media to record the event. North Korea had already begun dismantling its nuclear facilities after talks among China, Japan, Russia, North and South Korea and the United States.
"This isn't the end of the process, this is the beginning of the process," Bush said, and added Pyongyang's current actions would not in themselves end North Korea's international isolation.
He said among other steps North Korea needed to take was a resolution of its differences over abducted Japanese citizens.
North Korea at this stage has also given no details of its existing nuclear arsenal, an issue which will be addressed in another phase of the six-party talks.
Experts on the long-running dispute said the declaration was a step forward, but deepened uncertainties about who will make further concessions, and how much other countries are willing to trust Pyongyang.
"Since this particular declaration has not included nuclear weapons or the exact number of warheads they have, that is a key concern. The other thing is whether or not the North Koreans have stopped work on the uranium enrichment program and how far that has gone," said Lee Chung-min, a professor at Yonsei University in Seoul.
'We can verify'
China, the closest Pyongyang has to an ally, hosted the six-country talks that last year secured a deal offering North Korea energy, aid and diplomatic concessions in return for disabling its main nuclear facility and unveiling past nuclear activities.
"We believe we have ... the means by which to verify the completeness and accuracy of this document," U.S. Secretary of State Condoleezza Rice said as she traveled in Japan.
"For instance, in order to verify the plutonium number that the North Koreans have given, we have been given documents, but we also are expecting access to the reactor core, to the waste pool," she said, referring to the nuclear reactor at Yongbyon.
The latest phase of the nuclear disarmament deal had been due for completion by the end of 2007 but was delayed by wrangling over money, aid and the contents of the declaration.
The chief U.S. envoy to the six-party talks, Assistant Secretary of State Chris Hill, told reporters North Korea's declaration was likely to be soon followed by a new round of negotiations.
Deputy Russian foreign minister Alexei Borodavkin told Interfax news agency a meeting next week had been discussed.
Bush bracketed North Korea, Iraq and Iran in an "axis of evil" after the Sept. 11 attacks, accusing them of state-sponsored terrorism and seeking weapons of mass destruction.
Removal from the U.S. list of state sponsors of terrorism would ease trade restrictions and open the way for other cooperation with the United States, and eventually let Pyongyang work with the World Bank and other international institutions.
"What happens after the declaration will largely depend on domestic political factors in the United States," said Shi Yinhong, a regional security expert at Renmin University in Beijing.
"If U.S. domestic pressure is not big, President Bush will have room to offer North Korea more concessions before his term ends."
Bush and other officials stressed the symbolic nature of the U.S. trading concessions. His Republican administration has come under strong pressure from many conservatives not to be seen as compromising on North Korea five months before a U.S. presidential election in which national security issues will play a big part.

Govt. focusing on provision of low-cost housing: PM







ISLAMABAD: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Thursday said the government is focusing on the provision of low-cost housing to the people to meet housing shortage in the country. He was talking to a delegation of the Association of Builders and Developers of Pakistan that called on him here at the PM House this afternoon.
The Prime Minister said that the government is committed to realising PPP’s vision of ‘Roti, Kapra and Makaan’ for ensuring the provision of these basic necessities of life to the people as was envisioned by Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed.
He said the government is taking steps for solving the problems of the construction industry to ensure its seamless growth and progress.
The Prime Minister formed a committee to look into the problems of the construction industry that includes Secretaries of the Ministries of Housing and Works and Finance, Chairman CBR and the Chairman of Association of Builders and Developers for formulating suggestions.
The delegation informed the Prime Minister about the role and potential of the construction sector to improve the national economy through infrastructure development and employment generation.
The representatives of the construction industry assured the Prime Minister that despite operational difficulties they would gear up their efforts to help the government translate its vision of housing for all into reality.
The Chairman CBR, Secretary Housing, Secretary Planning Commission and senior government officials also attended the meeting.

UN considering Pakistan’s request to probe murder of Benazir: FO







ISLAMABAD : Pakistan’s request for carrying out a United Nations probe into the assassination of Mohtarma Benazir Bhutto has already been submitted to the UN Secretary General and its being reviewed by the UN office of the legal affairs.
“The request was submitted by Pakistan’s Permanent Representative to the UN to UN Secretary General Ban Ki-moon,” said the Foreign Office Spokesman in his weekly briefing.
He said the Foreign Minister will visit New York early next month to meet the Secretary General and representatives of the Security Council member countries for consultation.
“Pakistan’s request for the UN probe is in line with the aspirations expressed in the unanimous resolutions adopted by the National Assembly and the four provincial assemblies,” he said.
Regarding expenditures for UN probe, the Spokesman said its a legal issue and sometimes, the country requesting the probe has to pay the expenditures and sometimes, the UN bears the expenses.

By-poll Battle: PML (N) wins 3, PPP 2 NA seats




ISLAMABAD: The ruling-coalition parties won various constituencies of National and provincial assemblies in the by-polls as per unofficial results.The PML (N) is leading the battle, as it won most of the seats of National and provincial assembly lying vacant in Punjab, followed by PPP and ANP. National AssemblyPPP candidate Khanzada Khan won the National Assembly seat from NA-11 (Mardan-III).At NA-52 (Rawalpindi-III ) son-in-law of PML (N) chief Nawaz Sharif and party’s candidate Captain Safdar was declared successful as per unofficial results.PML (N) candidate Perwez Khan was reported to be successful at NA-55 (Rawalpindi-VI).PML (N) won another seat of National Assembly from NA-131 (Shiekhupura-I) where its candidate Rana Afzal declared successful, according to unofficial results.PPP candidate Khurram Jahangir Watto won the seat of National Assembly from NA-147 (Okara-V).PunjabPPP candidate Qasim Zia reported to be declared successful with 33947 votes against Amjad Waraich (Independent) who received 20370 votes at PP-59 (Faisalabad-IX).Another PML (N) candidate Rana Sanaullah won the seat of provincial assembly from PP-70 (Faisalabad-XX).PPP succeeded to win another seat of Punjab Assembly from PP-99 (Gujranwala-IX) where its candidate Qaiser Sindhu declared successful.PML (N) candidate Rana Shamim Ahmed Khan declared successful with 24994 votes at PP-124 (Sialkot-IV).At PP-154 (Lahore-XVIII) Zaeem Hussain Qadri of PML (N) won the seat of Punjab Assembly.PML (N) candidate Rana Arshad declared successful at PP-171 (Nankana Sahab-II).President PML (N) Punjab Zulfiqar Khosa declared successful at PP-247 (Dera Ghazi Khan-IV).Another PML (N) loyal Fida Hussain won his seat of provincial assembly at PP-277 (Bahawalnagar-I).At PP-258 (Muzaffargarh-VIII), PPP candidate Dr Zakaullah Jatoi won the by-poll battle.NWFPAn ANP candidate Taimoor Khan won the seat of provincial assembly from PF-20 (Charsaddah-IV).AT PF-59 (Batgram-I), an independent candidate Taj Mohammad Khan declared successful.An independent candidate, Khalid Raza Zakori declared successful at PF-75 (Luky Marwat-II).ANP candidate Sher Shah Khan received 7644 votes and declared successful at PF-81 (Swat-II).Anwar Khan Advocate, a PPP candidate, reportedly won the by-polls with 4724 votes at PF-91 (Upper Dir-I).At PF-92 (Upper Dir-II), Badshah Saleh, a PPP candidate, won the polls by getting 13134 as per unofficially announced results.BalochistanPPP candidate Asfandyar Kakar from PB- (Pasheen-II) and an independent candidate Tariq Magsi from PB-32 (Jhal Magsi) declared successful.The ruling alliance’s candidates were also heading the race of by-polls in several other constituencies as well. The by-election held at five National and 28 provincial assemblies’ constituencies on Thursday.

President concerns over economy, law and order




ISLAMABAD: President Pervez Musharraf, expressing his concern over ongoing economical and law and order situation of the country, said that the present government has failed to deliver a clear policy to the nation.Talking to PML-Q parliamentary leader in the National Assembly Faisal Saleh Hayat, President said that he does not want to disturb the political process in the country, adding that the present assemblies should complete their tenure.He would to continue his support to the democratic process in future.Faisal Saleh Hayat apprised the President of his concerns over present government’s progress, recession of national economy and price-hike.

Army to remain in Swat:Bilour




PESHAWAR: Leader of the Government negotiating team senior NWFP Minister Bashir Ahmed Bilour Thursday said that detained Taliban prisoners in Swat would be released on bail and made it clear that security forces would remain in the district till the situation returns to complete normalcy.A joint committee would determine losses of the affectees of Swat operations while checkposts of the security forces at public places in Swat will be gradually abolished.
Talking to reporters after a marathon meeting with representatives of Swat Taliban here at Civil Officers Mess, Mr. Bilour admitted delay in implementation of the peace accord with Taliban, however, he listed various reasons for it, which he declined to mention.
He told the media that army would be withdrawn from the restive district gradually after total peace was restored there. In response to a question, he said that Taliben representatives have held out a clear assurance today that there differences with NWFP Government have ended and the peace pact would be implemented in letter and spirit.
Mr.Bilour maintained that the government was bound to implement Nifaz e Shariat in Malakand Division within three months of the peace accord. He said in today’s meeting it was also agreed upon to continue the talks process.
Ali Bakht who represented Taliban side in the talks in his brief chat with newsmen argued that delay in release of their prisoners infact had deteriorated the law order situation in Swat district. However he made it clear that Taliban would not give any surety bonds for release
of their detainees and the government has to release them without bail. He reiterated that some elements wanted to fail the peace accord and did not want peace to return to Swat district.
Peace Envoy of NWFP Government Afrasiab Khattak clarified that there was no mention by the federal government regarding operations in settled parts of the province and had there been anything it must be in context of the tribal areas. Maintaining peace and harmony in the province was a provincial subject, he said, adding, only the provincial government could better understand how best peace could be restored in the province.

Pervez slams Punjab govt for poor security




ISLAMABAD: Former Chief Minister Punjab,Chaudhary Pervez Elahi Thursday blamed the Punjab government formaking poor security arrangement during the bye-election in variousconstituencies throughout the province. Talking with the media he said that there was very thin deployment of law enforcers at the polling stations which prompted untoward incidents at various places. Pervez Elahi said that during his tenure as Chief Minister he appointed 30,000 policemen and there was no shortage of staff in the force. He said the administration has absolutely failed to ensure fool proof security arrangement . He complained that a number of his party workers were arrested since the start of election campaign and they were still behind the bars. The party will arrange their bails through the courts now, he added. Pervez Elahi blamed that due to poor law and order conditions there was a low turn out during the bye-election. The people preferred to stay at homes fearing occurrence of untoward incidents at the polling stations, he added.

Thursday, June 26, 2008

NWFP PA passes budget 2008-09




PESHAWAR:The NWFP Assembly on Thursday passed the annual budget for the fiscal year 2008-09 with a total outlay of Rs.170 billion with the adoption of Finance Bill.Speaker Karamatullah Khan was in the chair.
The house earlier adopted 39 demands for grants pertaining to various departments after the opposition members withdrawn all their cut motion paving the way for smooth passage of the first annual budget of the NWFP coalition government led by PPP and ANP.

راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن ) نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کرلی

راولپنڈی ۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح راولپنڈی میں بھی جمعرات کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات میں راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن ) نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کرلی ۔ انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55سے (ن ) لیگ کے امیدوار حاجی پرویز خان نے 36604ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے امیدوار (ن ) لیگ کے منحرف راہنما اعجاز خان جازی 11052ووٹ لیکر دروسرے نمبر پر رہے ۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52سے مسلم لیگ (ن ) کے امیدوا ر و سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کپٹن (ر ) صفدر نے 23000ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ان کے مد مقابل ( ق) لیگ کے امیدوار و سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کے بھائی دوسرے نمبر پر رہے اگرچہ حلقہ این اے 55سے سابق وفاقی وزیر کی حمایت یافتہ و( ق) لیگ کی نامزد خاتون امیدوار بیگم نسیم علی سمیت مجموعی طور پر 17امیدوار میدان میں تھے ۔ تاہم یہاں پر حاجی پرویز اور جازی خان میں ون ٹو ون مقابلے کا ماحول رہا ۔ اس طرح جازی خان نے اپنے رہائشی حلقہ کے پولنگ سٹیشن میں 2135جبکہ ان کے مد مقابل (ن ) لیگ حای پرویز خان نے 1998ء ووٹ حاصل کیے ۔ راولپنڈی میں پولنگ مجموعی طور پر پر امن رہی تاہم ووٹ پول ہونے کی شرح انتہائی کم رہی ۔ پولنگ کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

منڈی بہاؤ الدین حلقہ پی پی ١١٨ کے اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر ووٹوں اور نتائج سمیت اغواء

منڈی بہاؤ الدین ۔ کے حلقہ پی پی 118کے اسسٹنٹ پر یذائیڈنگ افسر کو نا معلوم افراد نے ووٹوں اور نتائج سمیت اغواء کرلیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب حلقہ پی پی 118سے میجر ذوالفقار علی گوندل اور احمد خان بھٹی کے درمیان مقابلہ تھا اور آزاد امیدوار لیاقت علی رانجھا بھی اسی حلقے سے امیدوار تھے اس حلقہ کے نواحی گاؤں سپٹا کے پولنگ اسٹیشن کے اسسٹنٹ پریڈائیڈنگ افسر تاج بارڑ حلیق کے نتائج اور ووٹ لے کر عدالت کی طرف جارہا تھا کہ اس کو نا معلوم مسلح افراد نے نتائج سمیت اغواء کر کے نا معلوم مقام پر لے گئے ہیں ۔ عدالتی اور پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کچھ نا معلوم افراد جو گاڑیوں پر سوار تھے پریذائیڈنگ افسر کو اغواء کر کے لے گئے ہیں ۔ پولیس کی بھاری نفری بھیج دی گئی ہے جبکہ عوامی حلقوں اور عدالتوں ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انہیں پیپلز پارٹی کے لوگوں نے کیا ہے ۔ کیونکہ اغواء کاروں کی گاڑیوں پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگے ہوئے تھے ۔ تاہم ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اغواء کر کے کہاں لے گئے ہیں ۔ تاہم انہیں تلاش کیا جارہا ہے ۔

ایک سنیئرمعزول جج نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وزیر اعظم اور حکمران اتحاد کے قائدین کو مجوزہ آئینی پیکج بھیج دیا ، اطہر من اللہ کی تردید

اسلام آباد۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک سنیئرمعزول جج نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور حکمران اتحاد نے قائد ین کو مجوزہ آئینی پیکج بھیج دیا ہے تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 3نومبر پی سی او کی معطلی اور پی سی او کے تحت حلف کے اٹھانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ 3نومبر 2007ء کے اقدامات غیر آئینی غیر قانونی ہیں ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق سینئر معزول جج نے مجوزہ آئینی پیکج کے بارے میں دیگر ججز سے بھی مشاورت کی ہے۔ حکمران اتحاد میں ججز کی بحالی کے حوالے سے اختلاف رائے کی وجہ سے یہ پیکج قائم کیا گیا ہے۔ جس میں عدلیہ کی 2 نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحالی کے بارے میں کہا گیا ہے پیکج میں مائنس ون یا ٹو کا فارمولا نہیں ہے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججز کی بحالی اوسینارٹی برقرار رکھنے کے حوالے سے تجاویز کی گئیں ہیں تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ معزول ججز نے کوئی آئینی پیکج تجویز کیا ہے نہ کریں گے ججوں کی طرف سے کسی قسم کا آئینی پیکج حکومت کو پیش کیے جانے کی خبر میں صداقت نہیں میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججز کی طرف سے کسی قسم کا آئینی پیکج حکومت کو پیش کیے جانے کی خبر بالکل جھوٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ہمیں یہ خبر سن کر بڑا تعجب اور حیرانی ہوئی ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی یہ خبر سن کر بڑا تعجب ہوا۔باقی جج صاحبان بھی حیران ہوئے ہیں جج صاحبان نے نہ کوئی پیکج دیا ہے اور نہ ہی دیں گے ، سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کا آرڈر 3 نومبر کا محفوظ ہے اور اس کے مطابق ہی سب کچھ ہو رہا ہے ججز معزول نہیں صرف انہیں کام سے روک دیا گیا ہے اطہر من اللہ نے کہا کہ اس طرح کی خبرینںوکلاء تحریک کو ناکام کرنے کی ایک کوشش ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ۔جج صاحبان نے اس کی سختی سے تردید کی ہے وہ کسی قسم کی Condemnity دیتے ہیں نہ وہ کسی قسم کا پیکج دیتے ہیں نومبر کے اقدامات غیر آئینی اور غیر قانونی تھے سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سات نومبر کو واضح الفاظ میں پی سی او کو معطل کیا تھا اور روکا گیا تھا کہ کوئی بھی اس پی سی او کے تحت نہ حلف لے گا اور نہ دے گا میں اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔

پاکستا ن میں انتہا پسندوں کو اپنی طرز کا اسلام نافذ نہیں کرنے دیں گے ۔ سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ عوام نے انتخابات میں جدت پسند قوتوں کو واضح مینڈیٹ دیا ہے او رہم نے عوامی نمائندہ حکومت تشکیل دے کر ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کا عزم کیاہے۔ ان خیالات کا اظہار آج انہو ں نے امریکی پبلک افیئر کمیٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے وفود سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا وزیراعظم نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال اور ملکی معیشت کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں معیشت کی بہتری اور ترقی کیلئے حکومت داخلی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی ہے ان عناصر سے مذاکرات کئے جارہے ہیں جنہوں نے ہتھیار ڈال کر سیاسی عمل کا حصہ بن گئے ہیں دوسرے ان علاقوں میں معاشی بہتری لائی جائے گی اور اگر ان علاقوں میں معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو پھر فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان انتہا پسندوں کو اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اورحکومت ملک میں جمہوری استحکام پارلیمانی بالادستی اور 1973کے آئین کی بحالی چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں جمہوریت پٹڑی سے نہ اترے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی وفاقی پارٹی ہے وزیراعظم نے وفد کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ اسلام اور پاکستان کا صحیح تشخص پیش کرنے میں مدد کریں اور مغرب میں پاکستان اور اسلام کے خلاف پائی جانے والی غلط فہمیوں کو کم کرنے کیلئے کوشش کریں انہوں نے کہاکہ پاکستان کو توانائی اور ڈیموں کی تعمیر کیلئے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ وزیراعطم نے وفود سے کہاکہ وہ امریکہ اور برطانیہ کے تاجروں کو حکومت کی سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں سے متعارف کرائیں تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے وفد کے رہنماؤںنے وزیراعظم کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں قابل تحسین ہیں وفد میں ڈاکٹر رضا بخاری ، پرویز لودھی ، فرید خان ، محمد ارشاد کھوکر اور ڈاکٹر شاہد طاہر شامل تھے ۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیےحکومت کو راغب کریں، میر واعظ عمر فاروق کی نوازشریف سے درخواست

لاہور ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے راہنماؤں نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے راہنما میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ حریت کانفرنس کے وفد کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے تھے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی ۔ ملاقات کے دوران میر واعظ عمر فاروق نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اپنی ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔ اور نوازشریف کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح انہوں نے اپنے سابق دور میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جو اقدامات کیے تھے اسی طرح کے اقدامات کے لیے حکومت کو راغب تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو سکے۔ انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ جس طرح انہوں نے 1997ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور ان سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی تھی اسی طرح اب بھی من موہن سنگھ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے اور تمام سیاسی راہنما بیٹھ کر ان سے بات کریں۔ نواز شریف نے انہیں یقین دلایا کہ اس سلسلے میں وہ حکومتی جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کریں گے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت جامع مذاکرات میں ٹھوس موقف اختیار کریں۔

مجھے مکمل آزادی چاہیئے ، دیوار سے لگائے جانے کے بعد اب کسی کی پرواہ نہیں کروں گا۔ ڈاکٹر قدیر خان

اسلام آباد۔ معروف ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ انہیں مکمل آزادی چاہیئے ۔ دیوار سے لگائے جانے کے بعد اب وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ٹیلی فون پر ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت ہی ان کی رہائی میں رکاوٹ بن گئی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ وہ اپنی مکمل آزادی کے لیے ہر مناسب طریقہ اختیار کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صدر پرویز مشرف کے ملک توڑنے کے حوالے سے اپنے سے منسوب بیان کی تردید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں گمراہ کن اور شر انگیز ہیں تاہم جوہری سائنسدان نے کہا کہ سرحد اور بلوچستان کی صورت حال سے دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک بچانے کے لیے حکومت کو داخلی صور تحال بہترکرنا ہو گی ۔

افغان صدر پر حملے میں پاکستان ملوث نہیں۔ کرزئی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ۔ترجمان دختر خارجہ

اسلام آباد ۔ ترجمان دفتر خارجہ محمد صادق نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گئی امداد کی تحقیقات کروانا ضروری نہیں ہے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی 8 جولائی کوا لالمپور میں جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا جائیں گے۔ 31 دسمبر 2009 ء تک پاکستان سے تمام افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ صدر کرزئی پر حملے کے حوالے سے افغان انٹیلی جنس کی رپورٹس غلط ہیں اس میں افغان وزارت دفاع کے لوگ ہی ملوث پائے گئے ہیں افغان حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی کوپاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزائن تک رسائی نہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کی دعوت پر آج 27 جون سے چار روزہ دورے پر بھارت جائیں گے جہان وہ بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات میںد ونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور خطے میں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات پر بات چیت کریںگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور دوسرے سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریںگے۔ ا س کے علاوہ وزیر خارجہ بھارت میں سنٹر فار ریسرچ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ میں بھی خطاب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی چار سے آٹھ جولائی کوالالمپور میں ہونے والے جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے 8 جولائی کو ملائیشیا جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ‘ افغانستان اور نیٹو کے سہ فریقی کمیشن میں یہ طے پا چکا ہے کہ 31 دسمبر 2009 ء تک پاکستان سے تمام افغان مہاجرین ا پنے ملک واپس چلے جائیں گے اور پاکستانی حکومت اس کے مطابق ہی عملدرآمد کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے افغان صدر حامد کرزئی پر حملے کی مذمت کی تھی پاکستان اس حملے میں ملوث نہیں ہے اس طرح کی خبریں بے بنیاد اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا حصہ ہیں بلکہ افغان صدر پر حملے میں افغان وزارت دفاع کے حکام ہی ملوث پائے گئے تھے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اپنائے کیونکہ ایک دوسرے کے خلاف الزامات سے نہ تو ماضی میں کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی فائد ہ ہو گا انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا یہ دعوی کہ پاکستان سے افغانستان مین طالبان جارہے ہیں سراسر غلط ہے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کے شواہد ملے ہیں تاہم ان کی اصل تعداد کے بارے میں علم نہیں ‘ اور فاٹا میں ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے گئے ہین جبکہ سیاسی مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے انہوں نے کہاکہ میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس جن میں سوئٹزرلینڈ سے پاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزائن ملنے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ سراسرغلط ہیں پاکستان کے ایٹمی ڈیزائن تک کسی غیر ملکی کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اگر یہ سچ ہے تو پاکستان حکومت کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی ۔ اور اس ڈیزائن کوضائع کیوں کردیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک میکنزم قائم کیا جائے مہمند ایجنسی پر اتحادی افواج کے حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں امید ہے ان کو دو ہفتے کے اندر مکمل کر لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کو درخواست دے دی گئی ہے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اگلے ماہ نیویارک جائیں گے جہاں پروہ اس حوالے سے مزید پیش رفت کریں گے انہوں نے کہا کہ انٹروپول کے ساتھ پاکستان معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے حوالے سے جو امداد پاکستان کو دی تھی اس کی تحقیقات کی ضرورت نہیں اگر امریکہ چاہے تو تحقیقات ہو سکتی ہیں

پی پی ٢١٩ جہانیاں میں دوران پولنگ مخالف امیدواروں کے درمیان تصادم متعدد افراد زخمی ، کئی گرفتار

خانیوال ۔ خانیوال کے علاقے جہانیاں کے حلقہ پی پی 219میں پولنگ کے دوران دو گرہوں کے مسلح تصادم میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے کچھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اس پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حامیوں اور آزاد امید وار کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں نہ صرف لاٹھیاں اور ڈنڈے استعمال کیے گئے بلکہ سرعام فائرنگ بھی ہوئی۔ حالانکہ پولیس وہاں موجود تھی۔ اس تصادم کے باعث متعدد افراد زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے چند افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ آزاد امید وار چوہدری کرم داد واہلہ کے حمایتیوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بھائی مخدوم مرید حسین قریشی کے حامی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان پر حملہ کیا اور کھلے عام فائرنگ کی اوران کے کارکنوں پر تشدد کیا۔ بعد میں پولیس نے متعد افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔

فرانسیسی آرٹسٹ مونے کی ایک پینٹنگ ٨ کروڑ ڈالر میں نیلام

لندن ۔ فرانسیسی آرٹسٹ کلاڈ مونے کی بنائی ہوئی ’ واٹر للی پانڈ‘نامی ایک پینٹنگ 8 کروڑ ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوئی ہے جو ماضی میں اس فن کار کی فروخت ہونے والی کسی بھی پینٹنگ سے دوگنی قیمت ہے۔ لندن کے نیلام گھر کرسٹیزنے مونے کی یہ پینٹنگ منگل کی رات فروخت کی۔ اس پینٹنگ کی فروخت سے قبل اس کی قیمت کے بارے میں جو اندازے کیے گئے تھے، یہ اس سے کہیں زیادہ میں فروخت ہوئی ۔ اندازہ تھا کہ یہ تصویر ساڑھے تین کروڑ سے چارکروڑ ستر لاکھ ڈالر تک میں فروخت ہوگی۔ یہ فن پارہ ان چار واٹر للی پینٹنگز میں سے ایک ہے جس پر آرٹسٹ کے 1919ء کے کیے جانے والے اپنے دستخط موجود ہیں۔باقی تین میں ایک نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں موجود ہے اور دوسری کسی شخص کی نجی ملکیت ہے اور تیسری کو کاٹ کر اس کی دو تصاویر بنادی گئی ہیں۔ مونے کی پینٹگز کی سابقہ نیلامی کا ریکارڈ گذشتہ ماہ نیویارک میں ایک نیلامی کے دوران قائم ہوا تھا جب ان کی ایک پینٹنگ چار کروڑ دس لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی

West to pursue twin track in Iran nuclear dispute



GENEVA - Western powers will continue a twin track policy of sanctions and diplomacy towards Iran over its nuclear programme, the EU's top diplomat said on Wednesday, despite Teheran's warnings it could backfire.
Britain told Iran it will suffer growing economic and political isolation if it makes the "wrong choice" and fails to comply with U.N. demands on curbing sensitive atomic activities.
But Teheran remained defiant in the long-running standoff over nuclear work it says is designed to generate electricity but which the West fears is aimed at making bombs.
Its deputy foreign minister was quoted as saying the world's fourth-largest oil producer would withdraw assets from Europe in the face of tightening sanctions against the country.
Another senior official, parliamentary speaker Ali Larijani, warned the West against "provoking" the Islamic Republic.
Teheran said on Tuesday that new punitive measures imposed on it this week by the 27-nation European Union over its nuclear plans could damage diplomatic efforts to resolve the dispute.
EU foreign policy chief Javier Solana handed Iran an offer on June 14 of trade and other benefits proposed by the United States, Russia, China, Britain, Germany and France in a new bid to end a row that has helped push oil prices to record highs.
Solana told Reuters on Thursday Iran had still not replied to the incentives offer aimed at coaxing it into halting uranium enrichment, which can have both civilian and military uses, but hoped for an answer soon.
"That is what we were told, that they would think about it and they would give us an answer soon," Solana said in Geneva.
"In the meantime, we will keep the double track open," he said, referring to carrot-and-stick diplomacy towards Teheran. "We want to have a solution which is diplomatically negotiated."
The dispute between the West and Teheran has sparked fears of a military confrontation that would disrupt vital oil supplies. Last week a U.S. newspaper report said Israel had practiced for a possible strike against Iran's nuclear sites.
Market Jitters
Energy experts are concerned any conflict in Iran could lead to a shutdown of the Strait of Hormuz, a narrow waterway separating Iran from the Arabian Peninsula through which roughly 40 percent of the world's traded oil is shipped.
Washington says it is focusing on diplomatic pressure to thwart Iran's nuclear ambitions but has not ruled out military action if that were to fail.
Iran's Revolutionary Guards warned the United States it would face a "tragedy" if it attacked the country.
"If you want to move towards Iran make sure you bring walking sticks and artificial legs because if you came you will not have any legs to return on," Mohammad Hejazi, a senior commander of the elite Guards, was quoted as saying.
Hejazi's comments followed market talk of a military strike against Iran's nuclear sites, which was denied by a senior Iranian nuclear official on Tuesday.
British Foreign Secretary David Miliband stressed the importance of a diplomatic solution: "The diplomatic track has to work -- the alternatives are appalling," he wrote in a commentary in the International Herald Tribune newspaper.
Iran's refusal to halt enrichment has drawn three rounds of limited U.N. sanctions since 2006 and the EU on Monday agreed new punitive measures targeting businesses and individuals the West says are linked to Iran's nuclear and ballistic programmes.
Deputy Foreign Minister Mahdi Safari said in an interview published on Wednesday that Iran, which is making windfall oil revenue gains, would transfer funds from the EU and invest elsewhere.
"If you withdraw more than $100 billion, then of course this will bring about a scarcity of money and have an impact on the world economy," Mahdi told Austrian daily Die Presse.
Europe would lose out as a result of the newly imposed measures, he said: "We have gas and oil resources everyone wants to buy. Now we are trading mostly with Asian countries."

Is the Rani, Preity era over?





TWO OF Bollywood’s top actresses are finding themselves out of job as producers and even advertisers are shying away from them.
And the reason? They haven’t had any hits in the last two-years and seem to be a tad too involved in their personal lives.
The ladies in question are Rani Mukherji and Preity Zinta.
Love Versus Career The downfall of these two women begun when they started dating their respective boyfriends, Aditya Chopra and Ness Wadia.
Preity started focusing more on impressing prospective mother-in-law Maureen Wadia who didn’t warm up to having a filmy bahu. Rani restricted her self to signing only boyfriend Aditya’s, YashRaj Film projects. Unfortunately for her, YashRaj despite being a production house, fell like a pack of cards and so did Rani’s career.
Though, Aditya fought with his family and divorced wife Payal, and is reportedly getting ready to tie the knot with Rani, he is yet to acknowledge her publicly.
Rani too has denied her link-up with Adi as she doesn’t want to displease him, but she feels that their affair has affected her career badly as other filmmakers don’t want to cast her and upset Adi.
“Aditya doesn’t want Rani to speak about his relationship because he’s an extremely private person and moreover his parents don’t approve of the relationship. However, he’s madly in love with her and plans to marry her after he finishes directing his film Rab Ne Bana Di Jodi.” Recently Rani received yet another major blow.
Nestle Munch has sacked her as their brandambassador and buzz is that newcomer Asin will replace her.
A source from Nestle reveals, “Our brand is looking for someone who’s younger and popular and Rani doesn’t fit in either category.” Selective acting Rani’s best friend turned sworn enemy Preity is also sailing in the same boat. A favourite with YashRaj and Karan Johar, Preity is out of work because Kajol has agreed to work with Karan and Adi prefers Rani over her.
Preity hasn’t had any major release since the debacle of Jhoom Barabar Jhoom.
However, she claims that she’s getting selective.
“I’ve reached a stage in my career where I can experiment with different kind of roles. I’ve worked hard and am now in a position to reject certain offers and do small yet meaningful films.” But all in the industry know that she has not been offered any plum roles.
A source from the industry reveals, “Preity was busy travelling around with Ness and hasn’t been able to concentrate on films. Her film The Last Lear with Amitabh is stuck and the only other film she has is Jahnu Barua’s Bas Ek Pal opposite Shiney Ahuja which she kept postponing as she got busy with the cricket team she bought along with Ness Wadia. Some say that she has lost interest in the film.” Even on the cricket front luck didn’t favour Preity as her team Punjab XI, couldn’t make it to the IPL finals.
But Preity’s increasing camaraderie with cricketer Yuvraj Singh, her team’s captain made much more news. Photographs of Preity hugging Yuvraj after matches made the rounds.
This definitely didn’t go down well with long standing boyfriend Ness.
The constantly stuck-atthe-hip couple is no longer seen together in public and rumour has it that they are having relationship issues thanks to Preity’s closeness to Yuvraj.
A source close to Preity reports, “Preity and Ness were driving in Punjab to promote their team and they had a huge fight because of Preity’s friendship with Yuvraj. Following which, Ness stopped the car and dumped Preity on a deserted road.” Preity even recently came up with a quote saying, “Which couple doesn’t have ups and downs.” End of an era? Apart from dealing with their personal issues, Preity and Rani are also facing competition from the younger brigade of actresses such as Kareena, Katrina and Deepika who are slowly making a mark in Bollywood.
With age on their side these girls can work with a variety of actors whilst Preity and Rani don’t seem to have too much of an option.
Even the Khans; Aamir, Salman, Shah Rukh and Saif are opting to star with the newer and younger breed of girls.
Could this signal the end of yet another era in Bollywood?