International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Friday, July 18, 2008
لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی سمیت ١٢ شخصیات کے خلاف مقدمہ کی سماعت اور ان کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد روک دیا
لاہور۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج محمد بخش مسعود ہاشمی کی طرف سے سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی ، سابق چیف سیکرٹری سلمان صدیق اور سابق وزیر صحت سمیت 12 افراد کے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد اور سیشن جج کو کیس کی سماعت سے روکتے ہوئے آئندہ سماعت 21 جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد بخش مسعود ہاشمی کی طرف سے مذکورہ شخصیات کے خلاف وارنٹ بدھ کے روز جاری کئے گئے تھے جس پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید زاہد حسین نے ازخود نوٹس لیا تھا ۔ جس کی سماعت آج جسٹس مولوی انوار الحق نے کی اور ماتحت عدالت کو کیس کی سماعت سے روکتے ہوئے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد بھی روک دیا ۔ ان شخصیات کے خلاف میو ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر مسعود حسین جس پر زلزلہ سے متاثرہ ایک لڑکی سے ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا اور اسے گرفتار کیا گیا تھا نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا کیونکہ اس پر الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا اور عدالت نے اسے بری کردیا تھا ۔ جس کے بعد ڈاکٹر مسعود نے سابق وزیر اعلی سمیت 12 افراد کے خلاف قذف آرڈیننس کے تحت استغاثہ دائر کیا تھا اور یہ شخصیات عدالت کی طرف سے بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئیں تھی ۔ گذشتہ روز میو ہسپتال کے وائس پرنسپل آفتاب باجوہ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے قبل ان کے موکل کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ۔
ہنگو میں سرحد حکومت کے کہنے پر فوجی آپریشن جاری
پشاور+ ہنگو + وادی تیراہ+ وانا ۔ ہنگو میں سرحد حکومت کے کہنے پر فوجی آپریشن جاری ہے جس دوران مزید 5 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جس کے بعد دو دن میں آپریشن کے دوران مارے جانے والوں کی تعداد 13ہو گئی ہے ۔ امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں بدستور جاری ۔جنوبی وزیرستان میں امریکا کیلئے جاسوسی کے الزام میں محسود قبائل کے تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔لشکر اسلا م نے اپنے دو کمانڈر وں کی ہلا کت کے بعد وادی تیر اہ کا علاقہ شلوبر درپیرخا لی کر دیا شانگلہ کے علاقے الپوری سے دھماکا خیز مواد میں استعمال ہونے والی دھات کرومائیٹ کے چار سو ٹرک ضبط کر لئے گئے ۔جمعہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئیبتایا کہ ہنگو آپریشن کے دوران پانچ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ جس کے بعد دو دن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خاتمے تک ہنگو میں آپریشن جاری رہے گا۔اس سے پہلے زرگری، شیناوڑی اور دیگر علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق اور چھبیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں پچیس مکانات بھی تباہ ہوئے۔ زرگری کا کنٹرول فورسز نے سنبھال لیا ہے اور شیناوڑی، شمس الدین بانڈہ، دولڑی بانڈہ سمیت مختلف علاقوں کی طرف سیکورٹی فورسز پیش قدمی کر رہی ہیں۔شرپسندوں نے علاقے خالی کر دیئے ہیں فوجی آپریشں کی وجہ سے مقامی لوگ ہنگو، کوہاٹ اور پشاور نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ہنگو میں نقل مکان کرنے والوں کے لئے تین ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں ادھر ہنگو میں تیسرے روز اور دوآبہ میں نویں روز بھی کرفیو نافذ ہے۔ ادھر وادی تیراہ میں لشکر اسلا م نے اپنے دو کمانڈر وں کے مارے جانے کے بعد وادی تیر اہ کا علاقہ شلوبر درپیرخا لی کر دیا جبکہ باڑہ کے علا قے سبا ہ میں دھما کے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا ۔لشکر اسلام اور انصا ر الا سلا م کے درمیا ن گذشتہ روز وادی تیر اہ کے علاقے شلو بر درپیر میں شدیدلڑائی ہوئی تھی۔جس سے لشکراسلا م کے دواہم کما نڈر مارے گئے ۔لڑائی کے بعد لشکر اسلا م نے علا قہ خا لی کر دیا جس کے بعد انصار الاسلا م کے مسلح افراد شلوبردرپیر میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔دوسر ی جا نب علما ء کا جر گہ قیا م امن کے لئے 22جولا ئی کو وادی تیر اہ پہنچے گا۔ادھر رتحصیل با ڑہ کے علا قے سباہ نیہڑواڑہ کے پہاڑی مکان میں دھماکے سے ایک شخص ہلا ک اورتین افراد زخمی ہوگئے۔زخمیو ں کو ڈوگر ہ اسپتال منتقل کر دیا گیاہے۔ جنوبی وزیر ستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا کیلئے جاسوسی کے الزام میں محسود قبائل کے تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔ جنوبی وزیرستان سے تین روز پہلے محسود قبائل کے تین افراد کو اغواء کیا گیا تھا۔ جن کی لاشیںجمعہ کو کاروان منذا کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔ تین افراد کی لاشوں کے قریب سے ایک خط ملاہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے امریکی فوج کیلئے جاسوسی کرتے تھے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ تینوں افراد عسکریت پسندوں کے گھر اور ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے تھے ۔ جس کے بعد امریکا کے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں سے بمباری کی جاتی تھی۔ ادھر پشاور کے قریب شانگلہ کے علاقے الپوری سے دھماکا خیز مواد میں استعمال ہونے والی دھات کرومائیٹ کے چار سو ٹرک ضبط کر لئے گئے۔ صوبہ سرحد کے وزیر معدنیات محمود زیب نینجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ شانگلہ کے علاقے الپوری سے کرومائیٹ سے بھرے چار سو ٹرک قبضے میں لئے گئے ہیں۔ محمود زیب کے مطاق کرومائیٹ کو پولیس حکام کی ملی بھگت سے اسمگل کیا جانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار پولیس حکام سمیت وزارت معدنیات کے ای ڈی او اور ایم ڈی او کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ کرومائیٹ کی دھات دھماکا خیز مواد میں استعمال کی جاتی ہے۔ جبکہ اس دھات کو کیمیکل اور لوہا بنانے کے کام میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
وادی تیراہ ‘ لشکر اسلام اور انصار الاسلام میں جھڑپ ‘ ٦ افراد ہلاک
پشاور ۔ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے درمیان جھڑپ میں مزید 6 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے ۔ لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے درمیان تین ہفتے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ جھڑپوں میں اب تک 140 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جمعیت العلمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل رانا شجاع الملک کا کہنا ہے کہ تیراہ میں 22 جولائی کو دونوں تنظیموں کے راہنماؤں سے مذاکرات کئے جائیں ۔
گیلانی اگر محترمہ کے وزیراعظم ہیں تو افتخار محمد چودھری کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا چیف جسٹس نہیں ہوسکتا۔اعتزاز احسن

لاہور۔ وکلاء پیپلز پارٹی کے آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کرتے۔ آئینی پیکج کو تسلیم کرنے کا مطلب ایک ڈکٹیٹر کے 3نومبر 2007ء کے اقدام کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔ یوسف رضا گیلانی اگر محترمہ بے نطیر بھٹو شہید کے وزیراعظم ہیں تو ان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی ہونے چاہئیں۔ کل آل پاکستان نمائندہ وکلاء کنونشن میں ملک گیر دھرنوں سمیت اہم فیصلے لئے جانے کی توقع ہے ۔ جسٹس افتخار محمد چودھری 26جولائی کو بہاولپور میں کنونشن سے خطاب کریں گے۔ کراچی ہائی کورٹ جسٹس ڈوگر کی آمد پر وکلاء پر تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔ جسٹس ڈوگر سندھ بھر میں رسوائی کے باعث بہتر ہے بار میں نہ جائیں۔ ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران طاہر بیگ، امداد اعوان، عمرانہ بلوچ، امین جاوید، مسرت گیلانی اور خواجہ اظہر صدیق بھی موجود تھے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ کل لاہور ہائی کورٹ کے کراچی ہال میں منعقد ہونے والے آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن میں دیگر تجاویز کے ساتھ ایک تجویز یہ بھی دی جائے گی کہ پاکستان کے تمام شہروں کے اہم مقامات بشمول جی ٹی روڈ اور چوراہوں پر وکلاء اور سوک سوسائٹی دو گھنٹے کیلئے دھرنا دیں ۔ اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو اس دھرنا سے وکلاء کی تحریک مزید مضبوط ہوگی اور اگر کچھ لوگوں کی لاکھوں وکلاء وسوک سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کے لانگ مارچ سے آنکھیں نہیں کھلیں تو وہ کھل جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو اس دھرنے کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک دھرنے سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا تعلق ہے میں ان سے پیشگی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگوں گا کیونکہ ہمیں عدلیہ کی بحالی کیلئے کوئی بھی قربانی دینا ہوگی۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری 25جولائی کی شام کو ملتان پہنچیں گے اور اگلی صبح 26جولائی کو بہاولپور کیلئے روانہ ہوں گے جہاں پر وہ بہاولپور بار سے خطاب کریں گے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پہلے کی طرح چیف جسٹس کا بھرپور استقبال کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر جنہیں ہم چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتے سندھ کی جن بارز میں گئے ہیں انہیں سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر بار میں 700وکلاء میں سے صرف 35وکلاء موجود تھے جنہیں ملازمتیں دینے کے وعدے کئے گئے تھے۔ اسی طرح لاڑکانہ بار میں بھی لاڑکانہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد علی شیخ اور سیکرٹری موجود نہیں تھے اور باہر سینکڑوں وکلاء کے ہمراہ احتجاج کیا گیا۔ کراچی ہائی کورٹ میں گذشتہ روز جب جسٹس ڈوگر پہنچے تو باہر وکلاء اور سوک سوسائٹی کے لوگوں نے شدید احتجاج کیا جو انتہا کا تھا۔ ان نہتے لوگوں پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس حوالے سے ملک گیر احتجاج کیلئے بھی کل کے کنونشن میں لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے معزول چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس صبیح الدین کے صاحبزادے سمیت نعیم قریشی، جاوید بخاری اور دیگر وکلاء کے جسٹس ڈوگر کے حکم پر رہا ہونے سے انکار پر بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 20جولائی جس روز سپریم کورٹ کے 13رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ کے ذریعے جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کیا تھا ہر سال عدلیہ کی بحالی کا دن منایا جائے گا اور اس روز بارز میں ان ججوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں گی جو اس فیصلہ میں شامل تھے اور بعد میں پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ جبکہ 3نومبر جس روز ایک ڈکٹیٹر نے ایک بار پھر آئین شکنی کی اور 60ججوں کو گھر بھیج دیا کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ اس بار کیونکہ 20جولائی اتوار کو ہے اس لئے میں تمام بار ایسوسی ایشنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ 21جولائی کو یوم آزادی عدلیہ منائیں اور ان ججوں کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے یہ عظیم فیصلہ سنایا۔ اس سوال پر کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں آئینی پیکج کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے اعتزاز احسن نے کہا کہ محترمہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر کے باہر کھڑے ہوکڑ کہا تھا کہ افتخار محمد چودھری ان کے چیف جسٹس ہیں اور چیف جسٹس رہیں گے۔ ان کو وہ خود بحال کریں گی اور جو پرچم ان کے گھر سے اتارا گیا ہے وہ خود وہاں آکر لہرائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ آئینی پیکج کو تسلیم کرنے کا مطلب ڈکٹیٹر کے 3نومبر 2007کے ان پانچوں اقدامات کو تسلیم کرنا ہے جن کے تحت 60ججوں کو برطرف کیا گیا، انہیں گرفتار کرکے فیملی سمیت نظر بند بھی کیا گیا شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کے بعد دوسرا بڑا پیپلز پارٹی کی جانب سے اعلان مری کی صورت میں آیا جس پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دستخط موجود ہیں اور انہوں نے پوری قوم کے سامنے معزول ججوں کو قرارداد کے ذریعے 30دن کے اندر بحال کرنے کا عہد کیا۔ پیپلز پارٹی عہد شکنی نہیں کرسکتی اور اگر یوسف رضا گیلانی محترمہ کے وزیراعظم ہیں تو پھر ان کے چیف جسٹس بھی افتخار محمد چودھری کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتے۔ اگر یوسف رضا گیلانی ججوں کی رہائی کی جگہ انہیں بحال کرنے کا لفظ استعمال کرلیتے تو پانچ منٹ کے اندر معزول جج صاحبان بحال ہوجاتے۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ ان کی بحالی کیلئے کسی ایگزیکٹو آرڈر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کے پاس سینٹ میں اکثریت نہیں ہے اس لئے آئینی پیج دوتہائی اکثریت سے منظور نہیں ہوسکے گا۔
صدر بش ہر شعبے میں ناکام شخص ہیں، نینسی پلوسی

واشنگٹن ۔ امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی نے صدر بش کو ہر شعبے میں ناکام شخص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ نینسی پلوسی نے جمعرات کو صدر بش سے ملاقات کی ۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ صدر بش ہر معاملے میں ناکام شخص ہیں چاہے وہ جنگ کی معاملہ ہو یا معیشت کا۔ ان کی ناکامیاں ہر شعبے میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھا یا کہ بش تیل کمپنیوں کو امریکہ میں تیل دریافت کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اپنے تیل کادس فیصد بھی مارکیٹ میں لے آئے تو عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو جائیں۔
خوف و ہراس میں صحافی لکھنے سے احتراز کر رہے ہیں

سائوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے کہ صحافی لکھنے سے حتراز کر رہے ہیں۔ صحافیوں اور اخباری مالکان کو دھمکیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ملزم کو گریبان سے پکڑنے کی روایت کمزور پڑتی نظر آرہی ہے۔ کسی پر اپنے نظریات کو اسلحہ کے زور پر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جمعرات کے روز سیفما کے زیر اہتمام ''بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور آزادی صحافت'' کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے۔ ارشاد احمد حقانی، مجیب الرحمن شامی، منو بھائی، آئی اے رحمان، عبدالقادر حسن، ڈاکٹر مہدی حسن، حمید اختر، نجم سیٹھی، الطاف قریشی، خالد چودھری، عاصمہ جہانگیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امتیاز عالم نے کہا کہ اسلحہ لے کر سڑکوں پر گھومنے اور لوگوں پر زبردستی اپنے نظریات مسلط کرنے والوں کا خیال ہے کہ وہ امن پسند، حب الوطنی اور روشن مستقبل کی بات کرنے والوں کو خاموش کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 فروری سے پہلے ملک پر ایک آمر کی حکومت تھی اور عوام نے 18 فروری کوجو مینڈیٹ دیا ابھی تک اس کے نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی علاقوں اور پشاور میں صورتحال پرامن نہیں ہے تو اسلام آباد میں بھی امن کی فضا قائم نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا جمہوری رائے ہر ایک شہری کا حق ہے اور ہمیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند حلقہ بندوق کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے جبکہ صحافی کے پاس بندوق نہیں اور یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان متاثرہ افراد اور ادارے کے ساتھ ہیں جن کو خطرناک دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس معاملے میں اتحادی جماعتوں کو بھی ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ انہوں نے اے پی این ایس، سی پی این ای، پنجاب یونین آف جرنلسٹ، لاہور پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان اقدامات کا نوٹس لیں اور اخبارات و ٹی وی والے ان افراد کی خبروں کا بائیکاٹ کریں۔ بعد ازاں مجیب الرحمن شامی نے کہاکہ پاکستان میں کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طاقت کے زور پر اپنی رائے کو منوائے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست شدید خطرات سے دوچار ہے اور شریعت کے نفاذ کا مطالبہ ہر کسی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایک صحافی پر حملہ تمام صحافتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ وزیرستان، سوات اور پشاور میں ہمارا اخبار قابل قبول نہیں ہے اور ہمیں دھمکی آمیز فون آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا تمام عملہ اورصحافی شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ہمارے ادارے کی ایڈیٹوریل پالیسی کے خلاف ہیں جبکہ ہماری ایڈیٹوریل پالیسی کسی کے خلاف نہیں ہے۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب سے بنی ہے جبر اور آمریت کے خلاف جمہوری روایت قائم رکھنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی برداشت کی پارٹی ہے۔ اب تک اس پارٹی پر تمام حکمرانوں نے تشدد کے ہر حربے آزمائے لیکن اس پارٹی نے برداشت کا دامن نہیں چھوڑا۔ اس لئے بینظیر بھٹو شہید کو امن کا ایوارڈ دیا گیا۔ بعد ازاں عاصمہ جہانگیر، ارشاداحمد حقانی اور دیگر نے خطاب کیا۔
At 24, Katrina sprints on path to successJul 17

New Delhi:As she turns 24, Britain-born Katrina Kaif, who was initially written off by critics for her strong foreign accent, can boast of having carved a niche in Bollywood in just five years.
Her birthday Wednesday will see a family get-together as her mother and sisters are arriving in Mumbai from abroad to celebrate. "Katrina is working. She is doing radio interviews for her forthcoming film 'Singh Is Kinng'. As far as celebrations go, she will dine with her family members," a source close to the actress told IANS.Katrina ventured into Hindi films from London in 2003 and struggled a lot mainly because of her accent and height. But then last year, she proved her mettle with four hits - "Namastey London", "Apne", "Partner" and "Welcome. This year too she repeated the success story with "Race" and gave credit to her fans for her success."I don't think it's a matter of where you place yourself. It's a matter of how your fans feel about you and where the industry finds you. At this particular place I think I am lucky to be able to say that I do get offers for a lot of films," Katrina said.She is one of eight siblings, all girls. Her mother is British and her father is from Jammu and Kashmir.The actress spent her formative years in Hawaii, but later moved to London. She started modelling accidentally when she was in Hawaii at the age of 14. Thereafter she continued modelling in London till she moved to Mumbai, pursuing a movie career.While climbing the ladder of success, the actress kept her focus intact."I am pretty clear about what I want to do. I don't want to go down the road doing serious cinema. I am happy doing commercial films. The fun films give the audience time to escape the monotony in everyday life," she said. Now all eyes are set on her films "Singh Is Kinng" and "Yuvraj". While the former is a romantic comedy and sees her once again with Akhsay Kumar, the latter is a musical extravaganza and will see her teaming up with real life beau Salman Khan."'Singh Is Kinng' is a comedy. Director Rajkumar Santoshi's script is one of the best scripts I have ever heard." Katrina has now moved on to bigger banners like Yash Raj Films. She will soon be seen in "Ajab Prem Ki Ghazab Kahani" with Ranbir Kapoor.
عراق کے شہروں تعلفر اور موصل میں ٣ کار بم دھماکوں میں ٢٢ افراد ہلاک، ١٠٣ زخمی
بغداد ۔ عراق کے شہروں تلعفر اور موصل میں 3 کار بم دھماکوں میں 22افراد ہلاک اور 103زخمی ہو گئے ہیں پہلا دھماکہ تلعفر شہر میں ہوا جس میں20 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو ئے جبکہ موصل میں دو الگ الگ کار بم دھماکوں میں 2افراد ہلاک اور 13زخمی ہو گئے۔
وزیر اعلٰی سندھ نہیں ، سندھ کابینہ میں تبدیلی کا امکان ہے۔ ۔ ۔ نثارکھوڑو
لاڑکانہ ۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو تبدیل نہیں کیا جارہا ہے تاہم سندھ کابینہ میں تبدیلی کا امکان ہے۔سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو نے لاڑکانہ میں اپنی رہائش گاہ پرنجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزراء کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کی کارکردگی سے عوام کو فائدہ ہو۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کابینہ میں تبدیلی کا امکان موجود ہے تاہم وزیر اعلیٰ سندھ کو تبدیل نہیں کیا جارہا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے صوبوں کے مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ مالی مشکلات بھی حل ہوں گی۔ ان کاکہنا تھا کہ 1998 ء کے بعد سے مردم شماری نہیں ہوئی ،اس لئے اس سال مردم شماری کرکے این ایف سی ایواڑد دیا جانا چاہئے اور یہ ایوارڈ وصولیوں، مردم شماری،غربت اور رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم ہونے چاہئیں۔
عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی کے لئے ملک گیر احتجاج جاری
وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کئےلاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا گیا
اسلام آباد+ لاہور+ کراچی+ کوئٹہ+ ملتان ۔ عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی کے لئے ملک گیر احتجاج جاری ہے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ ججز کی بحالی کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ریلیاں نکالیں۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ریلی سے پہلے احتجاجی اجلاس میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر منظور قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ پرویز مشرف سے پہلے آصف علی زرداری اور نواز شریف کو رخصت ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انہیں دوبارہ عوام کی عدالت میں آنا ہے۔ اجلاس کے بعد وکلاء مال روڈ پر آگئے۔ جہاں ہائی کورٹ بار کے وکلاء مسلم لیگ ن تحریک انصاف خاکسار تحریک اور جماعت اسلامی کے کارکن بھی ریلی میں شامل ہو گئے۔ مظاہرین ججز کی بحالی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچے اور احتجاج کے بعد پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ وکلاء نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے۔ کراچی میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ بار سے وکلاء کی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن اور جنرل سیکریٹری نعیم قریشی کر رہے تھے ریلی کے شرکاء نے ججز کی بحالی کے حق میں اور آصف علی زرداری اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کے بعد پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی اور حکومت سے ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ اندرون سندھ کے کئی شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا استقبال کرنے پر دادو ڈسٹرکٹ بار کے لئے ملتان کی خواتین وکلاء کی جانب سے چوڑیوں اور دوپٹوں کا تحفہ بھیجوایا گیا۔ تخت بھائی میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مقررین نے پی پی کے قائدین اور حکومت سے ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ پشاور سمیت صوبہ سرحد میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ججوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد+ لاہور+ کراچی+ کوئٹہ+ ملتان ۔ عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی کے لئے ملک گیر احتجاج جاری ہے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ ججز کی بحالی کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ریلیاں نکالیں۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ریلی سے پہلے احتجاجی اجلاس میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر منظور قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ پرویز مشرف سے پہلے آصف علی زرداری اور نواز شریف کو رخصت ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انہیں دوبارہ عوام کی عدالت میں آنا ہے۔ اجلاس کے بعد وکلاء مال روڈ پر آگئے۔ جہاں ہائی کورٹ بار کے وکلاء مسلم لیگ ن تحریک انصاف خاکسار تحریک اور جماعت اسلامی کے کارکن بھی ریلی میں شامل ہو گئے۔ مظاہرین ججز کی بحالی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچے اور احتجاج کے بعد پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ وکلاء نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے۔ کراچی میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ بار سے وکلاء کی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن اور جنرل سیکریٹری نعیم قریشی کر رہے تھے ریلی کے شرکاء نے ججز کی بحالی کے حق میں اور آصف علی زرداری اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کے بعد پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی اور حکومت سے ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ اندرون سندھ کے کئی شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا استقبال کرنے پر دادو ڈسٹرکٹ بار کے لئے ملتان کی خواتین وکلاء کی جانب سے چوڑیوں اور دوپٹوں کا تحفہ بھیجوایا گیا۔ تخت بھائی میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مقررین نے پی پی کے قائدین اور حکومت سے ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ پشاور سمیت صوبہ سرحد میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ججوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
عالمی ریکارڈ یافتہ اٹلی کا کوہ پیما پاکستان کی پہاڑیوں میں لاپتہ
امدادی کارکنوں نے کوہ پیما کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کر دی
سلام آباد۔ آکسیجن کے بغیر ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سرکر کے عالمی ریکارڈ قائم کر نے والا اٹلی کا کوہ پیما پاکستان میں کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں نانگا پربت کی پہاڑیوں پر چڑھتے ہوئے گر کر لاپتہ ہو گیا ہے امدادی کارکنوں نے اس کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے اٹلی کا معروف کوہ پیما کارل انٹر کریکر پاکستان کے مغربی پہاڑی سلسلے میں نانگا پربت کی پہاڑیوں میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کوہ پیمائی کر رہا تھا اس دوران برفانی طوفان کی زد میں آنے کی وجہ سے اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور گر گیا امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کوہ پیماکی ہلاکت کا خدشہ ہے جبکہ اٹلی کی حکومت نے ماہر امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم ایورسٹ کے ٹو سی این آر بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو اس کوہ پیما کو تلاش کرے گی دوسرے دونوں کوہ پیما پہاڑ سے نیچے اترنے کی کوشش کر رہے ہیں 37 سالہ انٹر کریکر ایک معروف کوہ پیما تھا جس نے آکسیجن کے بغیر 2004 میں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو کی چوٹیاں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا
سلام آباد۔ آکسیجن کے بغیر ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سرکر کے عالمی ریکارڈ قائم کر نے والا اٹلی کا کوہ پیما پاکستان میں کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں نانگا پربت کی پہاڑیوں پر چڑھتے ہوئے گر کر لاپتہ ہو گیا ہے امدادی کارکنوں نے اس کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے اٹلی کا معروف کوہ پیما کارل انٹر کریکر پاکستان کے مغربی پہاڑی سلسلے میں نانگا پربت کی پہاڑیوں میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کوہ پیمائی کر رہا تھا اس دوران برفانی طوفان کی زد میں آنے کی وجہ سے اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور گر گیا امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کوہ پیماکی ہلاکت کا خدشہ ہے جبکہ اٹلی کی حکومت نے ماہر امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم ایورسٹ کے ٹو سی این آر بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو اس کوہ پیما کو تلاش کرے گی دوسرے دونوں کوہ پیما پہاڑ سے نیچے اترنے کی کوشش کر رہے ہیں 37 سالہ انٹر کریکر ایک معروف کوہ پیما تھا جس نے آکسیجن کے بغیر 2004 میں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو کی چوٹیاں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا
موجودہ حکومت نے اگرججز بحال نہ کئے تو اس کا حشر ق لیگ سے بھی بدتر ہو گا ۔عمران خان
امریکہ اپنی غلط پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں اپنے لئے نفرت پیدا کر رہا ہےچوک اعظم ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لیہ کے ضلعی صدر شیخ نذر حسین ایڈووکیٹ سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ اپنی غلط پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں اپنے لئے نفرت پیدا کر رہا ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے امریکہ اور منسٹرز کو بتایا ہے کہ پرویز مشرف تمہیں غلط رپورٹوں کے ذریعے پھنسا رہا ہے اور آپ طالبان کے نام پر پختونوں کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں جو کہ سرا سر آپ کیلئے گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ دشمن سے بدلہ لینا پختونوں کی سرشت میں شامل ہے پختون اور طالبان میں فرق کو سمجھو اور جنگ کے نام پر نہ دنیا کو نیست ونابود کرو اور نہ اپنی بربادی کا سامان اکٹھا کرو انہوںنے وکلاء تحریک کے حوالے سے کہاکہ موجودہ حکومت نے اگرججز بحال نہ کئے تو اس کا حشر ق لیگ سے بھی بدتر ہو گا انہوں نے بتایا کہ تاحال حکومت ججزکی بحالی میں مخلص نہیں لگتی ۔
Pakistan not fighting proxy war: Gilani

LAHORE:Prime Minister Syed Yousaf Raza Gilani Thursday said that Pakistan was a sovereign country and it was not fighting a proxy war. “ Pakistan is not fighting the war of any other country as the war on terror is in our own interests,” he said while talking to newsmen after the Graduation Ceremony of the 88th National Management Course and the 3rd Senior Management Course here at Administrative Staff College.
He said that he had met with Governor NWFP and other stake holders of tribal areas including representatives of districts hit by militancy and added “ they are as loyal to the country as I am.”
He said the government believes in dialogue and action is a last option to maintain law and order in the tribal areas.
To a question, the Prime Minister said Pakistan was a nuclear state and there was no external threat to the country.
Yousaf Raza Gilani said that people of FATA want development in health, education and economic sectors.
“To bring them into mainstream of national development, talks would be held with them besides initiating development schemes in these areas,” he added.
To a question about his next visit to America, he said Pakistan has bilateral relations with US and America was cooperating with Pakistan in science, health, information technology and education sectors.
“ My visit to US will help strengthen bilateral relations with US,” he added.
He said that Islam is a religion of peace and preaches a message of love adding some handful elements are destroying the image of Islam by carrying out terrorist activities.
“ Our forefathers spread Islam in the subcontinent by message of love and peace,” he added.
To a question, the Prime Minister said that PPP was sincere to restore judges and it was seeking constitutional ways to restore them adding Parliament is a proper forum to resolve the issue.
To another question about Ch Shujaat and Pervaiz Elahi meeting with Asif Ali Zardari, he said that Pervaiz Elahi was leader of opposition and he also gave the vote of confidence to him.
“There are always bridges in the politics but I have no information about any meeting,’ he added.
The prime minister said that he had invited Asif Ali Zardari, Nawaz Sharif, Maulana Fazal Rehman and Asfand Yar Wali to discuss issue pertaining to the country.
Pakistan attaches importance to its relations with Russia: PM
ISLAMABAD:Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Thursday said Pakistan attaches importance to its relationship with Russia which is based on mutual respect and similarity of views on various regional and international issues. He was talking to Khalid Khattak, Pakistan’s Ambassador designate to Russian Republic here at the PM House.
The Prime Minister said there is great potential for collaboration in the energy and communication sectors and Russian companies can invest in these fields.
The Prime Minister said that Khalid’s appointment as Ambassador to the Russian Federation will further enhance the existing relations between the two countries.
Khalid Khattak said that he will utilize all his energies to strengthen relations between the two countries.
PML-N not to support constitutional amendments to restore judiciary: Ahsan Iqbal
ISLAMABAD: Secretary Information of Pakistan Muslim League (PML-N) Ahsan Iqbal said on Thursday his party would not support any constitutional amendment in the parliament to restore the deposed judiciary.
Talking to a private television (GEO News), he said PML-N wanted reinstatement of the deposed judiciary under the Bhurban Declaration as reached between PPP and PML-N.
He said a simple resolution in the parliament and an executive order by the Prime Minister was needed for reinstatement of the deposed judges .
Ahsan Iqbal said it was political will that was needed to resolve the issue.
He linked success of the coalition government with resolution of the judges’ issue, adding in democratic set up, political parties should respect the public sentiments.
Ahsan Iqbal urged PPP to abide by the Bhurban Declaration and end the situation of uncertainty with regard to reinstatement of the deposed judiciary.
Haqqani brushes aside reports of allied forces’ crossing over into Pakistan
ISLAMABAD:Pakistan Ambassador to the United States Hussain Haqqani Thursday said that there is no threat of Americans troops crossing the Durand line in order to hunt down Taliban militants.
Talking to Dawn News he said Washington has also denied media reports earlier this week that NATO troops are amassing near Pak-Afghan border to launch attack inside Pakistani territory.
He said talks of hot pursuit are only the opinion of a few individuals which is contrary to the US policy.NATO forces have the mandate to operate only inside Afghanistan therefore they cannot cross over into Pakistan.
He rejected rumours that Pakistan’s government might allow NATO troops to take action against Al-Qaeda chief Usama Bin Laden inside Pakistan.
He urged Afghan authorities to act against Taliban militants in their country just like Pakistan is taking action against the militants inside its territory.
ISLAMABAD:Pakistan Ambassador to the United States Hussain Haqqani Thursday said that there is no threat of Americans troops crossing the Durand line in order to hunt down Taliban militants.
Talking to Dawn News he said Washington has also denied media reports earlier this week that NATO troops are amassing near Pak-Afghan border to launch attack inside Pakistani territory.
He said talks of hot pursuit are only the opinion of a few individuals which is contrary to the US policy.NATO forces have the mandate to operate only inside Afghanistan therefore they cannot cross over into Pakistan.
He rejected rumours that Pakistan’s government might allow NATO troops to take action against Al-Qaeda chief Usama Bin Laden inside Pakistan.
He urged Afghan authorities to act against Taliban militants in their country just like Pakistan is taking action against the militants inside its territory.
Musharraf urges steps to check diminishing natural forests
ISLAMABAD: President Pervez Musharraf has stressed for immediate action to stop damage to the diminishing natural forests in the country. In a message on the commencement of Monsoon Tree Plantation Campaign starting tomorrow (Thursday), President Musharraf said the natural forests on mountains, riverside and Indus delta are under great stress due to high demands for wood by dependent communities, which needed proper attention.
The President said the scope of forestry has expanded in the wake of growing global issues relating to climate change, biodiversity and desertification, with entire world convinced on the role of forests in mitigating such issues.
He expressed satisfaction on Pakistan for maintaining its overall forest cover upto five percent despite increase in population and resultant needs.
He said though financial and human resources available with Provincial Forest Departments are insufficient to achieve the Millennium Development Goals for enhancing forest cover upto six percent, but the federal government would fully supplement their programmes.
President Musharraf hoped that Provincial Forest Departments would make all out efforts to best use the investment and take board all segments of society including civil society organizations, farmers, students, civilian and armed forces for the success of plantation campaign.
Baitullah’s threat to NWFP Govt beyond of understanding: Mian Ifitkhar
PESHAWAR:NWFP Minister for Information Mian Iftikhar Hussain said Thursday that the present government was enjoying confidence of the majority of people and therefore would complete its constitutional term.
Responding to news regarding threats to the provincial government by Baitullah Mehsood, the Minister said that threats to such a democratic and peace-loving government was beyond understanding, says a handout. He said that government would not follow the dictates of the person, a group nor would step down.
“We are for negotiations not for a single person or group rather our peace efforts are aimed at bringing peace for the whole nation and humanity”, he maintained.
Mian Iftikhar Hussain said that anybody opposing peace talks and trying to make it a failure would be dealt with an iron hand and the government would be justified to take any step for establishing the writ of the government and maintaining law and order in the province.
PML-N committed to restore free judiciary: Shahbaz
LAHORE: Punjab Chief Minister Mian Shahbaz Sharif has said that PML-N is committed to supremacy of law and restoration of an independent judiciary. Talking to a three-member delegation of LAWASIA Mission led by its President Mah Weng Kwai, who called on him at CM Secretariat here Thursday, he said that people have supported this strong stance of N-League through their vote in the general election.
PML-N always advocted a transparent system for the appointment of superior courts’ judges, he said, adding that in this regard a clear-cut method was agreed upon in the Charter of Democracy signed by leaders of PML-N and PPP.
The Chief Minister said that besides consultation with concerned bar association and bar council, recommendations of joint parliamentary committee with equal representation of treasury and opposition members, had also been declared mandatory for the appointment of judges.
“Revolutionary measures have been taken for the judges of subordinate courts in Punjab and their salaries have been increased upto 300 per cent, while a number of steps have also been taken to improve facilities in the courts,” he maintained.
Shahbaz Sharif clarified that Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry had truly become the symbol of struggle.
An independent judiciary and timely provision of justice are essential for the survival and stability of the country, he observed.
The delegation sought detailed information about the method of appointment of judges in a transparent manner under the CoD.
The delegation said the matter of provision of justice is no longer confined to geographical boundaries but has become and international issue and lawyers’ struggle has attracted attention of the entire world.
The delegation members assured their full support to the efforts for the independence of judiciary in the country and said that they would provide complete information about the lawyers’ movement in Pakistan to the council members so that they could play their due role in the legal struggle in this regard.
The delegation comprised Christopher Leong and Executive Officer and Secretary of LAWASIA for Asia and Pacific, Miss Janet Neville whereas Punjab Law Minister Rana Sanaullah and MNAs Khawaja Muhammad Asif and Ayaz Sadiq were also present.
Govt writ to be maintained at all costs: Rehman Malik
LONDON:The Advisor to the Prime Minister on Interior Rahman Malik has said that the government’s writ in the restive tribal areas would be maintained at all cost while the armed forces were fully capable of defending the territorial integrity of the country. He was speaking at a hastily arranged press conference at the Pakistan High Commission on Thursday afternoon after cutting short his tour of UK. The Advisor is returning to Pakistan later in the evening a day ahead of his scheduled programme.
Mr.Malik spoke of the conspiracies being hatched by the enemies of Pakistan to destabilise the country but said this would never be allowed to happen. He informed the media of the recent action taken by the Government to re-assert its writ in the areas around Peshawar and Bara and said the situation has been brought under control.
He said law enforcing agencies arrested 100 persons including 32 deputy commanders of the hard core militant organisations while their radio station was also destroyed.
Strongly rebutting reports of Government inaction in the tribal areas, the Advisor said the country would not accept any dictation from aboad and the action was being taken in the larger national interests.
Malik referred to his meetings with the British Home Secretary Jacqui Smith and Foreign Secretary David Miliband and said he informed them about the efforts being made by Pakistan in counter terrorism.
The British officials were informed that due to the measures taken by Pakistan, suicide bombings decreased substantially in Punjab and NWFP while the government has also taken a number of measures for the development of FATA.
The focus of his discussion with the British leaders was exchange of youth visits, forced marriage issue, understanding British culture and matters relating to immigration and security.
Mr.Malik said during his recent visit to Afghanistan and discussion with President Hamid Karzai, he emphasized the need for better policing of the border. Although President Karzai agreed to his proposals and despite three reminders, no progress has been made in this regard.
He mentioned the steps taken by Pakistan at the border check posts at Chaman and Torkham including the introduction of biometric cards but said the facilitation desk on the Afghan side had been destroyed by the Afghan soldiers.
The Advisor said Pakistan was still playing host to some 3 million refugees and has urged Afghanistan to initiate development projects so that these refugees could return home and get suitable jobs.
He said Balochistan dissidents with the help of some countries were active to destabilise the province and the country as a whole.
Referring to situation on Pak-Afghan border, he said NATO, Afghanistan and Pakistan were responsible for its control. He said Pakistan was discharging its duties faithfully while Afghanistan needs to do the same on its side.
Prior to addressing the press conference, the Advisor called on PML-N Chief Nawaz Sharif at his Park Lane residence and discussed general political situation in Pakistan. Malik said he also informed Mr. Sharif about his visit to UK and his interaction with the British officials.
Pakistan High Commissioner to UK Wajid Shamsul Hasan and other senior High Commission officials were also present on the occasion.
On the complaints of the media persons, the Advisor announced to transfer with immediate effect five officials who had been working in visa section for over 10 years.
He appreciated the recent measures taken by the High Commissioner to facilitate persons coming to the High Commission for the attestation of their documents and other papers.
Govt ready to fight dengue threat: Sherry
ISLAMABAD: The Federal Minister for Health Ms Sherry Rehman has taken a strong note of the reports of the presence of a confirmed case of dengue fever in Islamabad. Expressing concern at the prospects of the outbreak of the disease in the Capital, the Federal Health Minister ordered immediate measures to combat the disease. “The government is determined to prevent the spread of disease this year. Unlike the past, we will not let it become a serious threat to the public health this time.”
Ms. Rehman said that controlling the outbreak of the disease is a challenging task since the global prevalence of dengue has grown dramatically in recent decades. “The disease is now endermic in more than 100 countries of the world. The control of dengue depends on preventive measures more than curative measures. We are preparing strategy for both the curative and preventive sides to control the disease.
The Ministry of Health is launching a media campaign to inform the public of the ways to prevent the epidemic.
Ms Rehman informed that the Directorate of Malaria has already launched a host of preventive measures to combat the disease. “Apart from the supply of important resources to the infected persons to curb the chances of the further spread of the disease, the government is launching a residual spraying and fogging operation in the Capital today.
A print media campaign aimed at raising awareness of the masses about the prevention measures including the reduction of breeding places in the residential areas, is also being launched.”
The Federal Minister also called for community efforts to control the spread of the virus that is transmitted by the mosquito Aedes Aegypti. “Since the mosquito can survive and breed in domestic settings, each individual will have to play his/her role in preventing the outbreak of the disease.
The vector mosquito can best be controlled through environmental management and chemical methods. Proper solid waste disposal and improved water storage practices, including covering containers to prevent access of mosquitoes, are very important.
The government is ready to assist communities in implementing vector control measures. Only a joint effort by the government and the communities can ensure that the dengue does not turn into an epidemic claiming dozens of lives, as it has in the past.”
PM to chair high level meeting on PTCL employees problems
ISLAMABAD:Prime Minister Yousaf Raza Gilani would chair a high level meeting being convened Friday to discuss the situation emerging out of the country-wide protests by the PTCL employees. The meeting would review the problems of the employees of Pakistan Telecommunication Company (PTCL) and work out means to resolve the same.
The meeting would be attended by Finance Minister Syed Naveed Qamar, Minister for Kashmir Affairs Qamaruzzaman Kaira, Minister for Water and Power raja Pervaiz Ashraf, Minister for Labour, Manpower and Overseas Pakistanis, Syed Khursheed Shah, Secretary Interior Kamal Shah, Secretary Information Technology, Director General Rangers, Chief Commissioner Islamabad, Inspector General of Police Islamabad and other senior officials.
The meeting would also suggest measures to deal with the situation and discuss means for resolution of the problems of the PTCL employees.
ISLAMABAD:Prime Minister Yousaf Raza Gilani would chair a high level meeting being convened Friday to discuss the situation emerging out of the country-wide protests by the PTCL employees. The meeting would review the problems of the employees of Pakistan Telecommunication Company (PTCL) and work out means to resolve the same.
The meeting would be attended by Finance Minister Syed Naveed Qamar, Minister for Kashmir Affairs Qamaruzzaman Kaira, Minister for Water and Power raja Pervaiz Ashraf, Minister for Labour, Manpower and Overseas Pakistanis, Syed Khursheed Shah, Secretary Interior Kamal Shah, Secretary Information Technology, Director General Rangers, Chief Commissioner Islamabad, Inspector General of Police Islamabad and other senior officials.
The meeting would also suggest measures to deal with the situation and discuss means for resolution of the problems of the PTCL employees.
بیت اللہ محسود نے سرحد حکومت کو پانچ روز میں مستعفی ہو نے کا الٹی میٹم دے دیا
سرحد حکومت پانچ دن میں مستعفی ہو جائے ورنہ بھر پور کاروائیاں کریں گے۔طالبان رہنما کی دھمکیبیت اللہ محسود کی دھمکی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔میاں افتخار حسینعوام نے امن کے قیام کے لئے مینڈیٹ دیا، دھمکیاں نہ دی جائیں ،صوبے میں ہر صورت امن قائم کریں گےصوبائی وزیر اطلاعات کا بیت اللہ محسود کی دھمکی پر رد عمل
میران شاہ ۔ طالبان رہنما بیت اللہ محسود نے سرحد حکومت کی پانچ روز میں مستعفیٰ ہونے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر وہ اس دوران مستعفی نہ ہوئی تو اس کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں گے ادھر صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ بیت اللہ محسود کی دھمکی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں بیان غیر ذمہ دارانہ ہے دھمکیاں نہ دی جائیں ہم امن چاہتے ہیں ایک نجی ٹی وی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بیت اللہ محسود کے ترجمان مولوی عمر نیدعویٰ کیا کہ بیت اللہ محسود نے اے این پی کی حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے پانچ دن کا الٹی میٹم دیا ہے بصورت دیگر حکومت کے خلاف طالبان بھرپور کارروائی کریں گے مولوی عمر کے مطابق سرحد حکومت نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا مگر ان پر عملدر آمد نہ کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف معاہدے کئے اور دوسری طرف طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں سوات میں امن معاہدے کے باوجود کارروائی جاری رہی اور طالبان کو گرفتار کیا گیا ان کے گھروں پر حملے کئے گئے اس لئے بیت اللہ محسودکو مجبوراً اپنا امن معاہدہ ختم کرنا پڑا ہے انہو ںنے کہاکہ سرحد میں اے این پی اپنے وعدے پر پورا نہیں اتری اس لئے سرحد حکومت کو پانچ دن میں مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے اور اگر اس دوران سرحد حکومت مستعفی نہ ہوئی تو اس کے خلاف منظم کارروائیاں کی جائیں گی ۔ادھر صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے بیت اللہ محسود کی دھمکی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم طالبان سر براہ کی دھمکی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے ہمیں عوام نے امن کے لئے مینڈیٹ دیا ہے اور ہر صورت امن قائم کریں گے ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں ہم امن چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے میںامن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اس کے لئے حکومت پہلے ہی سے متعدد آپشنز پر کام کر رہی ہے اس کے لئے طالبان کے ساتھ امن معاہدے تک کئے گئے ہیں۔
میران شاہ ۔ طالبان رہنما بیت اللہ محسود نے سرحد حکومت کی پانچ روز میں مستعفیٰ ہونے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر وہ اس دوران مستعفی نہ ہوئی تو اس کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں گے ادھر صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ بیت اللہ محسود کی دھمکی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں بیان غیر ذمہ دارانہ ہے دھمکیاں نہ دی جائیں ہم امن چاہتے ہیں ایک نجی ٹی وی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بیت اللہ محسود کے ترجمان مولوی عمر نیدعویٰ کیا کہ بیت اللہ محسود نے اے این پی کی حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے پانچ دن کا الٹی میٹم دیا ہے بصورت دیگر حکومت کے خلاف طالبان بھرپور کارروائی کریں گے مولوی عمر کے مطابق سرحد حکومت نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا مگر ان پر عملدر آمد نہ کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف معاہدے کئے اور دوسری طرف طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں سوات میں امن معاہدے کے باوجود کارروائی جاری رہی اور طالبان کو گرفتار کیا گیا ان کے گھروں پر حملے کئے گئے اس لئے بیت اللہ محسودکو مجبوراً اپنا امن معاہدہ ختم کرنا پڑا ہے انہو ںنے کہاکہ سرحد میں اے این پی اپنے وعدے پر پورا نہیں اتری اس لئے سرحد حکومت کو پانچ دن میں مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے اور اگر اس دوران سرحد حکومت مستعفی نہ ہوئی تو اس کے خلاف منظم کارروائیاں کی جائیں گی ۔ادھر صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے بیت اللہ محسود کی دھمکی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم طالبان سر براہ کی دھمکی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے ہمیں عوام نے امن کے لئے مینڈیٹ دیا ہے اور ہر صورت امن قائم کریں گے ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں ہم امن چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے میںامن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اس کے لئے حکومت پہلے ہی سے متعدد آپشنز پر کام کر رہی ہے اس کے لئے طالبان کے ساتھ امن معاہدے تک کئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ١٧جولائی ٢٠٠٧ء کے کچہری بم دھماکے کے شہداء کو خراج عقیدت
اسلام آباد ۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نےآج جمعرات کی شام ضلع کچہری اسلام آباد میں 17جولائی 2007ء کو بم دھماکہ میں جاں بحق شہداء کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھائی ۔ اس موقع پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے ۔یاد گار شہداء تحریک بحالی عدلیہ پر چراغ بھی روشن کیے گئے اور زبردست الفاظ میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔شہداء کی یادگار پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں اور شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی گئی ۔گزشتہ سال آج ہی تاریخ 17جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ضلع کچہری آمد سے چند لمحوں قبل پنڈال کے باہر پیپلز پارٹی کے استقبالیہ کیمپ میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 18افراد جاں بحق اور بڑی تعداد کارکن زخمی ہو گئے تھے ۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے گزشتہ شام ٹھیک آٹھ بجے سیکورٹی کے بعض ایشوز کے باوجود شہداء کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھائی تاہم چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب نہیں کیا ۔ اس موقع پر راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر سردار عصمت اللہ خان ،اسلام آباد بار کے صدر ہارون رشید ، ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے وائس پریذڈنٹ فرحاد اقبال خٹک سمیت اٹک ،جہلم ، تلہ گنگ ، چکوال ،ٹیکسلا ،فتح جنگ کی بار ایسو سی ایشنز کے نمائندوں نے بھی یاد گار پر گلدستہ رکھے اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں ۔ اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔ تقریب کے مقام کے چاروں اطراف میں خاردار تاریں لگائی گئیں تھیں جبکہ داخلی راستہ پر واک تھرو گیٹس لگا ئے گئے تھے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد سے قبل وکلاء اور سول سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں محمد اسلم نے کہا کہ گزشتہ سال پیپلز پارٹی کے استقبالیہ کیمپ کے قریب ریت کے ڈھیر میں بم نصب کیا گیا تھا جس کے دھماکے سے 18افراد شہید ہو گئے ۔ تحریک کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے کہ تحریک جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بحال کرتے ہوئے پرویز مشرف کو آئین کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے ۔ قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔ 17جولائی کے شہداء کے خون سے یہ تحریک مزید مضبوط ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ افتخار محمدذ چوہدری ہی عوامی مظلومیت کا ا زالہ کر سکتے ہیں ۔ سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا کہ ملک کی اقلیتیں بھی وکلاء تحریک کے شانہ بشانہ ہیں ۔ آزاد عدلیہ کے بغیر نہ جمہوریت چل سکتی ہے اور نہ مظلوموں بے کسوں کو انصاف مل سکتا ہے ۔پیپلز پارٹی کے رہنما ملک شبیر بابر نے کہا کہ وکلاء کے شانہ بشانہ ہیں عدلیہ کی آزای ججز کی بحالی چاہتے ہیں سول سوسائٹی کے رہنما راجہ جمیل عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان تحریک کے ساتھ مخلص ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت مخلص نہیں ہے ۔حکمران اتحاد عدلیہ کو بحال کرتے ہوئے پرویز مشرف کی چھٹی کرائے ۔ اس سے قبل کہ پرویز مشرف قومی اسمبلی کا مواخذہ کریں ۔ آمریت کی اس آخری نشانی امریکی ایجنٹ کو نکال دیا جائے ۔ وکلاء کی تحریک عدلیہ کی آزای آئین کی بالا دستی پارلیمنٹ کے استحکام کی تحریک ہے ۔ اس موقع پر جاوید سلیم شورش ایڈوکیٹ نے تحریک بحالی عدلیہ کے شہداء کی روح کی ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کرائی ۔
بھارت ، فورسز آبرو ریزی میں ملوث ہیں، حقوق انسانی
نئی دہلی ۔بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ باغیوں کو کچلنے کیلئے تعینات بھارتی سیکورٹی فورسز اور حکومت کی حمایت یافتہ سلوا جوڈم ملیشیا مقامی خواتین کے خلاف آبروریزی اور قتل جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔ یہ بات حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی۔ رپورٹ میں بھارت کی مرکزی حکومت نے ان بھیانک جرائم میں ملوث سیکورٹی اور سلوا جوڈم ملیشیا کے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2005ء کے وسط سے لیکر سلوا جوڈم اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار مقامی لوگوں کو زبردستی سرکاری کیمپوں میں لے جانے کیلئے ان کی جھگیوں کو جلانے ، انہیں قتل کرنے اور ان کی خواتین کی آبروریزی جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 50 کے قریب مقامی افراد نے سلوا جوڈم ملیشیا اور سیکورٹی فورسز کے ارکان کے ان جرائم میں ملوث ہونے کی گواہی دی ہے۔ بھارتی حکومت چھتیس گڑھ میں سرگرم سلوا جوڈم ملیشیا کی حمایت سے انکار کرتی ہے تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ریاست کے متعدد دیہات میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران سلوا جوڈم کے مسلح کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں
میری آنکھیں اور میرے پیر بے کار ہو چکے ہیں گوتناناموبے میں سسکتے بلکتے لڑکے سے تفتیش کا پہلا ویڈیو جاری
واشنگٹن ۔گونتاناموبے میں امریکہ کے خلاف جنگ سے لڑنے والے جیل میں کینیڈا کے ایک کمسن لڑے سے تفتیش کا پہلا ویڈیو کیسٹ جاری کیا گیا ہے جس میں سسکتا اور بلکتا ہوا عمر خضر کو مدد کے چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو کیسٹ عمر خضر کے وکیل نے آن لائن جاری کیا ہے۔ جس میں فروری 2003ء میں کینیڈین سیکورٹی انٹلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس )کے ایجنسیوں کے ذریعے تفتیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے گونتاناموبے میں خضر سب سے کم سن قیدی ہے جس پر افغانستان میں ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کا الزام عائد ہے۔اسے 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ15 برس کا تھا اور اس کے بعد سے مشرقی کیوبا کے امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے اسے اکتوبر میں دہشت گردی کے سلسلے میں تفتیش کے لیے امریکی فوجی کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ 20منٹ کے ویڈیو میں بار بار یہ دکھایا گیا ہے کہ اس کے ہاتھ پیٹھ پر بندھے ہوئے ہیں اور وہ روتے ہوئے مدد کے لیے فریاد کر رہا ہے۔7گھنٹے اور 30منٹ کے اس ویڈیو میں چار دنوں تک ہونے والی تفتیش کے مناظر پیش کیے گئے ہیں اس کے جسم پر چھ ماہ قبل امریکی فوجیوں کے تشدد کی نشانی صاف نظر آ رہی تھی اور لڑکا زندگی سے بالکل مایوس تھا۔ وہ چیخ رہا تھا میری آنکھیں جا چکی ہی میرے پیر جواب دے چکے ہیں۔ حکومت امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ 2002ء میں افغانستان میں القاعدہ کے کمپاونڈمیں چار گھنٹے تک ہونے والی امریکی طیاروں کی بمباری میں بچ جانے والا یہ واحد لڑکا تھا جس نے باہر آنے کے بعد ایک دستی بم سے ایک امریکی سرجنٹ کو ہلاک کر دیا تھا۔ خضر کے امریکی وکیل لفٹینیٹ کمانڈربل کیسبولر نے کینیڈا کی کامنس کمیٹی کے سامنے اس پر ڈھائے جانے والے تشدد کے بجائے یہ کہا ہے کہ وہ خوفزدہ 15سالہ زخمی لڑکا ہے جسے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ جھاڑیوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس کے پیچھے جنگ ہو رہی تھی یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ کے دوران خضر کی پیٹھ میں امریکی فوجی کی دو بار گولی بھی لگی تھی۔ اس نے کہا کہ میرے آنکھ کی بینائی جا چکی ہے۔ چہرے صاف نظر نہیں آتے۔ خضر اس وقت برہم ہو کر کہتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ میں صحت مند ہوں، دیکھو میں اپنا ہاتھ بھی نہیں اٹھاسکتا ہوں۔ تفیتش کرنے والا اس سے تفتیش میں تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ تہماری آنکھیں اور پیر بالکل ٹھیک دکھائی دے رہے ہیں۔ خضر اس سے کہتا ہے کہ تم میری پروا ہ مت کرو کیونکہ کسی کو بھی میری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس سے قبل آٹھ منٹ کا ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کیا گیا تھا اس کے بعد کینیڈا کی عدالت کی اجازت کے بعدخضر کے وکلاء نے کل اس تفتیش کا مکمل ویڈیو جو پانچ ڈی وی ڈی پر مشتمل ہے ، جاری کیا ہے۔ جس وقت خضر نیتفتیش کرنے والے سے کہا کہ جیل میں اس کی کوئی مدد نہیں کی گئی اور وہ اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہے تو اس سے کہا گیا کہ وہ اس سلسلے میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا ہے۔
مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان خونریز جھڑپ ، بھارتی فوج کے کرنل سمیت ١١ فوجی اہلکار واصل جہنم ‘ ٢ مجاہدین شہید
سوپور ۔ وار پورہ سوپور میں فورسز اور مجاہدین کے مابین 18گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونریز جھڑپوں کے دوران جیش محمد کے فائنانشل چیف سمیت2 مجاہد شہید جبکہ ایک پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ جھڑپ کے دوران فوج کے لفٹنٹ کرنل اور جونیئر کمیشنڈ آفیسر، سی آر پی کے ا سسٹنٹ کما نڈنٹ اور پولیس ایک سب انسپکٹر سمیت فورسزکے 11اہلکار زخمی ہوئے ۔جھڑپ کے دوران شدید گولہ باری کے نتیجے میں ایک رہائشی مکان بھی مکمل طور خاکستر ہوا ۔جھڑپ کے بعد وہاں مظاہرین اور پو لیس کے در میانپر تشدد جھڑ پیں ہو ئیںتفصیلات کے مطابق گزشتہ روز شام قریب 8بجے پولیس ٹاسک فورس، 179سی آر پی ایف اور 22 آر آر نے وار پورہ سوپور میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غلام حسن وار ولد حاجی محمدسلطان کے رہائشی مکان میں مجاہدین کے موجود ہونے کی ایک اطلاع ملنے کے بعد پورے علاقے کو محاصرہ میںلیکر مجاہدین کی تلاش شروع کر دی۔اس دوران فورسز نے غلام حسن وار کے رہائشی مکان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو مکان میں چھپے بیٹھے مجاہدین نے فورسز پر پے درپے کئی گرینیڈ داغے اور شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہاں افراتفری پھیل گئی ۔چنانچہ فورسز نے بھی مجاہدین کی طرف سے داغے گئے گرینیڈ اور شدید فائرنگ کی جوابی کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا ۔اس جھڑپ میں فورسز نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے گزشتہ رات دیر گئے آپریشن کو صبح تک کیلئے ملتوی کر دیا ۔ تا ہم رات کے دوران ہی مجاہدین نے غلام حسن وار کے مکان سے نکل کر قر یب ہی محمد اکبر وار ولد عبدالوہاب کے مکان میں پناہ لینے کی غرض سے داخل ہو نے کی کو شش کی۔ پو لیس ذرائع کے مطابق جونہی مجاہد مذکورہ مکان میں داخل ہو ئے تو وہاں اس سے قبل ہی فورسز اہلکار چھپے بیٹھے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجاہدین نے وہاں فورسز اہلکار دیکھ کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور ان پر گر ینیڈ بھی پھینکے۔ اس کے بعد وہاں شدید تصادم آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں ایس پی او عبدالرشید نمبر 1331 موقعہ پر ہی ہلاک جبکہ پولیس ٹاسک فورس کے سب ا نسپکٹر محمد شفیع، ہیڈ کا نسٹیبل کفیل ا حمد اور کا نسٹیبل عبدالمجید کے علاوہ مکان میں موجود سی آر پی ایف 179کے ا سسٹنٹ کمانڈنٹ جتندر کمار اور کا نسٹیبل پی کبرس زخمی ہوئے۔ اس تصادم آرائی کے دوران 22آرآر کے لیفٹنٹ کر نل سنجیو کمار، جونیئر کمیشنڈ آفیسر منوج کمار، لانس نائیک سنیل کمار اور سپاہی سنجیو سنگھ بھی شدید زخمی ہوئے۔اس کے بعد بدھ کی صبح ایک بار پھر گولیوں کی گن گرج شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ عبدالرشید کے مارے جانے کے بعد مجاہدین نے اس کا ہتھیار چھین کر وہ بھی استعمال کیا اور وہ فورسز پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے ۔چنانچہ واقعہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے فوج اور پولیس کی مزید کمک وہاں پر پہنچ گئی اور انہوں نے بھاری ہتھیاروں سے مجاہدین کی خلاف شروع کیا ۔اس طویل جھڑپ کے دوران فورسز نے مکان پر کولہ باری کی جس کے نتیجے میں کل دن کے اڑھائی بجے مکان تباہ ہوا اور اس میں موجود 2مجاہد شہید ہو گئے ۔ پولیس کے مطابق مارے گئے مجاہدین کی شناخت جیش کے فائنانشل چیف ہلال احمد صوفی ولد محمد سلطان ساکن وار پورہ سوپور اور علی رضا ساکن پاکستان کے بطور ہوئی ہے ۔آئی جی آپریشنز شمالی کشمیر ڈاکٹر شری نواسن نے بتایا کہ یہ آپریشن قریب 15گھنٹوں تک جاری رہا اور اس آپریشن کے دوران کسی بھی عام شہری کی حفاظت کو یقنی بنانے کیلئے پولیس نے انہیں محفوظ مقامات کی طرف روانہ کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں مجاہد عسکری تنظیم جیش محمد سے وابستہ ہیں ااور پولیس کو یہ دونوں کافی عرصے سے مطلوب تھے ۔اس دوران جھڑپ ختم ہونے کے بعد وہاں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فورسز کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔اس موقعہ پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے،پولیس نے پریس فوٹو گرافروں جو وہاں پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے تھے کو بھی روکا اور ان کی بھی مار پیٹ کی۔ چنانچہ لوگ اس پر مشتعل ہوئے اور انہوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے لگا کر جلوس نکالا۔فوٹو گرافر ایسوسی ایشن کے صدر فاروق جاوید نے پولیس کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معا ملے کو انسپکٹر جنرل کی نوٹس میں لایا گیا ہے ادھر لوگوں نے بعد میں لاشوں کو حاصل کرکے انہیں سپرد خاک کیا۔
فاٹا کی صورتحال کے حوالے سے ذمہ داری سے آگاہ ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی
مسئلے کو طاقت کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گاقبائل عوام کی حب الوطنی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، فاٹا کی ترقی ترجحات میں شامل ہےوزیر اعظم کا ہر قبائلی رکن پارلینمٹ کو بجلی کے منصوبوں کے لیے ایک کروڑ کی اضافی گرانٹ دینے کا اعلان
فاٹا کے وفد سے ملاقات میں اظہار خیالاسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال کے حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہ علاقے میں قیام امن کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ قبائلی عوام کی حب الوطنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج جمعرات کو اسلام آباد میں فاٹا کے وفد سے ملاقات میں کیا۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کی صورتحال علاقے میں قیام امن کے حوالے سے حکومتی اقدامات سمیت دیگر امور پر ملاقات میں گفتگو ہوئی۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی انتہاء پسندی کے خلاف حکومت کی کثیر الجہتی حکمت عملی کو ہر سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔ فاٹا میں قیام امن کے لیے حکومت مخلص ہے حالات میں بہتری کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حالات کو معمول پر لانے سے نہ صرف مذاکرات کئے جا رہے ہین بلکہ فاٹا میں معاشی و سماجی حالات میں بہتری کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا کی ترقی حکومت کی ترجحات میں شامل ہے۔ فاٹا میں مسئلے کو طاقت سے نہیں بلکہ باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے وفد سے ملاقات میں فاٹا کے ہر رکن پارلمینٹ کو بجلی کی سکیموں کے حوالے سے ایک کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے
فاٹا کے وفد سے ملاقات میں اظہار خیالاسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال کے حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہ علاقے میں قیام امن کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ قبائلی عوام کی حب الوطنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج جمعرات کو اسلام آباد میں فاٹا کے وفد سے ملاقات میں کیا۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کی صورتحال علاقے میں قیام امن کے حوالے سے حکومتی اقدامات سمیت دیگر امور پر ملاقات میں گفتگو ہوئی۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی انتہاء پسندی کے خلاف حکومت کی کثیر الجہتی حکمت عملی کو ہر سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔ فاٹا میں قیام امن کے لیے حکومت مخلص ہے حالات میں بہتری کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حالات کو معمول پر لانے سے نہ صرف مذاکرات کئے جا رہے ہین بلکہ فاٹا میں معاشی و سماجی حالات میں بہتری کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا کی ترقی حکومت کی ترجحات میں شامل ہے۔ فاٹا میں مسئلے کو طاقت سے نہیں بلکہ باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے وفد سے ملاقات میں فاٹا کے ہر رکن پارلمینٹ کو بجلی کی سکیموں کے حوالے سے ایک کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے
Thursday, July 17, 2008
پاکستان مسلم لیگ (ن) ججوں کی بحالی پر پیپلز پارٹی سے فیصلہ کن مذاکرات کرے گی، ذرائع
اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن )نے ججوں کی بحالی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ حتمی اور فیصلہ کن مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے مسلم لیگ (ن)کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نواز شریف اس سلسلے میں اس ماہ کے آخر میں آصف علی زرداری سے تفصیلی اور دو ٹوک مذاکرات کریں گی کہ اگر ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کو یقین دہانی نہیں کرائی جاتی تو مسلم لیگ (ن)کے لیے حکومتی اتحاد میں شامل رہنا مشکل ہو جائے گا۔ مسلم لیگ نواز کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نواز کے اصولی موقف میں کسی بھی طرح کی لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
٧١ فیصد پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا ۔امریکی ادارے کا سروے
اسلام آباد ۔ امریکی ادارے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے پاکستان میں حالیہ سروے میں 83 فیصد پاکستانیوں نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججز کی بحالی ، 51 فیصد نے فاٹا میں فوجی آپریشن کی مخالفت ، 83 فیصد نے صدر پرویزمشرف کے استعفی یا برطرفی ، 67 فیصد نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو صدر بنانے اور 71 فیصد نے دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد سے باہر آنے کی آراء دے دیں ۔ گزشتہ روز ادارے کی اس عوامی سروے کے نتائج جاری کر دئیے گئے ہیں ۔آئی آر آئی کی جانب سے یہ عوامی سروے 1 جون سے 15 جون 2008 ء کے درمیان کرایا گیا جس میں ایک سال کی معاشی اقتصادی سمیت دیگر شعبوں کی صورتحال کے بارے میں عوام سے رائے لی گئی ۔ سروے کے لیے چاروں صوبوں کے50 اضلاع میں 223 دیہی علاقوں اور 127 شہری علاقوں کو منتخب کیاگیا ۔ 3484 افراد سے رائے کی گئی ۔ عوامی سروے کے مطابق 83 فیصد عوام نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت معزول ججز کی بحالی کی حمایت کی ہے ۔61 فیصد عوام نے مذہبی انتہا پسندی کو سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔ 45 فیصد عوام نے القاعدہ اور طالبان کو سنجیدہ مسئلہ قرار دیا ہے ۔ 83 فیصد نے مدرسہ ویلفےئر اتھارٹی کے قیام کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ 27 فیصد نے صوبہ سرحد اور فاٹا میں فوجی آپریشن کی حمایت کی ہے۔ 51 فیصد نے آپریشن کی مخالفت جبکہ 3 فیصد نے رائے نہیں دی ۔ 65 فیصد عوام نے ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے حکومتی اعلان کی حمایت کی ہے ۔19 فیصد نے مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ 71 فیصد پاکستانیوں نے رائے دی ہے کہ حکومت کو دہشت گردی کے خلاف امریکا کا اتحادی نہیں ہونا چاہیے ۔ 71 فیصد عوام نے مہنگائی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے ۔13 فیصد نے بے روزگاری کو اہم مسئلہ جبکہ 5 فیصد نے عسکریت کو بڑا مسئلہ قرار دیا ہے ۔ 92 فیصد عوام نے گندم ، پٹرول ، قدرتی گیس ، بجلی کی قلت کو سنگین مسائل قرار دیا ہے ۔86 فیصد پاکستانیوں نے کہا ہے کہ ملک درست سمت میں گامزن نہیں ہے ۔ 72 فیصد نے کہاکہ ایک سال میں معاشی حالات مزید خراب ہوئے 46 فیصد نے کہا کہ آئندہ سال کے دوران یہ حالات مزید خراب ہوں گے ۔ سروے کے مطابق پرویزمشرف کی مقبولیت کم ہو کر 3 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ میاں محمد نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے یہ 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ 83 فیصد پاکستانیوں نے رائے دی ہے کہ صدر مشرف استعفی دیں یا پھر انہیں برطرف کیاجائے ۔67 فیصد عوام نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو صدر بنانے کی رائے دی ہے
زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو میڈیا سےگفتگو کیلئے ٢٢ نکات جاری کردئیے
اسلام آباد۔ زرداری ہاؤس نے حکومتی و پارٹی پالیسی پر گفتگو کے لیے سینٹ میں قائد ایوان ، سینئر رہنماؤں اور پیپلزپارٹی کے وزراء سمیت پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو 22 ٹاکنگ پوائنٹس جاری کردئیے گئے ۔ وزراء ،سینئر رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ سے کہا گیاہے کہ انہیں جب میڈیا میں گفتگو کرنی ہو تو پارٹی کی جانب سے جاری نکات کو مدنظر رکھا جائے اور گفتگو کا آغاز سابقہ حکومت کی ناقص کارکردگی کو اجاگر کیا جائے ان ٹاکنگ پوائنٹس میں نئی حکومت کی جانب سے معزول ججز کی رہائی انہیں تنخواہوں کی ادائیگی ، لیبر پالیسی ، طلبہ ومحنت کشوں کی یونینز کی بحالی ،بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ سکیم ، اقوام متحدہ کی جانب سے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام، خواتین کے حوالے سے حکومتی اقدامات ، زراعت سے متعلق حکومتی اقدامات ، ایڈہاک ملازمین کو منتقل کیے جانے ، تمام محکموں میں ملازمتوں کی بھرتیوں کے لیے میڈیا میں اشتہارات کی اشاعت، سیاسی بنیادوں پر نکالے گئے ملازمین کی بحالی ، دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سمیت دیگر نکات کو شامل کیا گیا ہے ۔ پارٹی کے اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ ان نکات کو بھرپور طورپر اجاگر کریں۔پارٹی کے وزراء ، رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ کو ایک خط کی صورت میں یہ ٹاکنگ پوائنٹس جاری کیے گئے ہیں ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت جعلی ہے، دستاویزات ان کی شہادت کے بعد تیار کی گئیں ۔غلام مصطفی کھر
لاہور۔ سابق گورنر پنجاب وپیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ملک غلام مصطفی کھر نے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت جعلی ہے۔ انہوں نے شہادت سے قبل کوئی صیت نہیں کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی فوج کو عالم اسلام کی فوج کہنے پر قتل کیا گیا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عوام نے انہیں ووٹ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر دیئے ہیں جھوٹ بولتے ہیں۔ اس وقت ملک پر تھرڈ کلاس لیڈر شپ مسلط ہے جس کی وجہ سے ملک کی یہ حالت ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان عدل میں لاہور بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک غلام مصطفی کھر نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جعلی وصیت ان کی شہادت کے بعد تیار کی گئی ۔ جب ان کی شہادت ہوئی کسی نے ایسی وصیت کا نام نہیں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور حکومت کی باگ دوڑ ضیاء الحق کے بچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم ضیاء کا بچہ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی آمریت کے خلاف برسرپیکار تھے تو ایک شخص نے انہیں کہا تھا کہ ایوب خان بہت طاقتور ہے اس چکر میں نہ پڑو۔ جس پر بھٹو نے جواب دیا کہ آپ تاریخ نہیں جانتے جس شخص کے ساتھ طلبہ اور وکلاء نہ ہوں وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس روز لوگوں کو اپنی طاقت کا احساس ہوجائے تو کوئی رکاوٹ ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وکلاء کی تحریک کے نتیجہ میں جو لوگ آج کرسی پر بیٹھے ہیں کہتے ہیں کہ عوام نے انہیں ووٹ ججوں کی بحالی کیلئے نہیں بلکہ روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرہ پر دیا ہے۔ جو ایسا کہتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ بیٹھ کر ایسی باتیں کرنا بھٹو کی توہین ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جرات کا مظاہرہ نہ کرتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی اور نہ ہی میاں نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آتے اور الیکشن بھی اس طرح شفاف نہ ہوسکتے۔ آج بھی مشرف مضبوط اور ملک میں چودھریوں کی حکومتی ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ افتخار محمد چودھری کو افتخار چودھری وکلاء نے بنایا ہے۔ وکلاء ایک بڑی طاقت بن کر ملک میں ابھرے ہیں۔ پاکستان کی بدقمستی ہے کہ ماضی میں جب پاکستان پر مشکل وقت آتا دوست ممالک خزانوں کے منہ کھول دیتے تھے۔ آج پاکستان بے یارومددگار پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فیصلے آج سیکرٹری لیول کا ایک آدمی کررہا ہے اور وہاں (امریکہ) بیٹھ کر ڈکٹیشن دے رہا ہے۔ اس وقت ملک پر تھرڈ کلاس لیڈر شپ مسلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی پیپلز پارٹی کو نہیں چھوڑا بلکہ مجھے پارتی سے نکالا جاتا رہا ہے۔ مجھے جب بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان ڈیل کا علم ہوا تو میں نے پارٹی پلیٹ فارم سے اس کی مخالفت کی تھی۔ آج پارٹی میں جو کوئی بھی حق کی بات کرے اسے ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر جیتنے کا دعویٰ کرنے والوں کو میں چیلنج کرتا ہوں ملتان‘ فیصل آباد ، راولپنڈی اور لاہور جس شہر میں چاہیں وزیراعظم اور آصف علی زرداری اس ایشو پر میرا مقابلہ کرلیں اگر لاکھ کے مجمع میں پانچ ہزار لوگ بھی ان کی حمایت کردیںتو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جو 90روز میں مسائل حل نہیں کرسکتے وہ 90سال میں بھی نہیں کرسکیں گے۔ کارکردگی حکومت کے آخری نہیں پہلے دور میں دکھائی جاتی ہے۔ میرے مشورہ پر عمل کیا جائے تو حکمران تین ماہ میں مسائل حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ آخری سانس تک چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ رہیں گے۔
ملک کی تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں مسلسل شدید مندی ، سرمایہ کاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ، املاک کی توڑ پھوڑ
کراچی۔ کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو مسلسل مندی کے16ویں روز سینکڑوں ناراض چھوٹے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کی کھڑکیاں دروازے توڑ ڈالے اور ہجوم[L:8] کی صورت میں مارکیٹ کے باہر احتجاج کیا۔ان مطالبہ تھا کہ عارضی طور پر مارکیٹ بند کی جائے جبکہ سیکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے چئیرمین رضی الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم حل کی تلاش میں کوشاں ہیں تاہم یہ رویہ روبہ نہیں ہے۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کیلئے جارحانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے جبکہ ماہرین کے مطابق مجموعی معاشی صورتحال کی ذمہ دار کمزور اتحادی حکومت ہے اور اب حکومت کو قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی مندی کے بعد سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد انتہائی درجے کو پہنچ گیا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو حصص کی قیمتوں میں 4 فیصد کمی ہوئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.3فیصد کمی ہوئی جس کے سلسلے میں ماہرین کاکہنا ہے کہ سیاسی و معاشی بے یقینی بشمول افراط زر کی دہرے ہندسوں کی شرح اس صورتحال کی کلیدی وجوہات ہیں۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای 100انڈیکس میں جمعرات کو 278.96 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 10212.92پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔266 سرگرم کمپنیوں میں سے 45کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 212کے حصص کی قیمتوں میںکمی ہوئی جبکہ 9کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔علاوہ ازیں مارکیٹ میں کاروباری حجم 8کروڑ95لاکھ حصص سے زائد رہا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں گزشتہ پیر سے تاحال 14فیصد کمی ہوچکی ہے جبکہ 21 اپریل کو حاصل ہونے والی تاریخ کی بلند ترین سطح سے اس میں 27فیصد کمی ہوچکی ہے۔کراچی میں جمعرات کو کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جاری مندی کے مسلسل 16ویں روز سرمایہ کاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ان کی جانب سے مارکیٹ میں املاک کی توڑ پھوڑ کے علاوہ اسٹاک مارکیٹ کے گارڈن میں مظاہرہ کیا گیا جس میںکم و بیش 1000 سرمایہ کاروں نے شرکت کی انکا مطالبہ تھا کہ کراچی اسٹاک ایکس چینج کو کم از کم 2 یوم کے لئے بند کیا جائے۔مظاہرین کی دھکم پیل کے باعث 2 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔اسٹاک ایکس چینج کے گارڈن میں مجتمع مظاہرین کی جانب سے حکام کے مجوزہ 50 ارب روپے مالیت کے اسٹیبلائیزیشن فنڈز کے جلد از جلد اجراء کا مطالبہ بھی کیا گیا۔مظاہرے میں مالیاتی و تجارتی خسارے کی توسیع پذیری، افراط زر کی شرح پر قابو پانے میں حکومتی ناکامی اور عوامی مسائل کے حل میں حکومتی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور حکومت کے خلاف نعروں کے بینرز بھی آویزاں کئے گئے۔پاکستانی معیشت کی بدحالی کا اندازہ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو رواں سال کے آغاز سے 16.9 فیصد تنزلی کا شکار ہوچکا ہے جبکہ جمعرات کو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت خرید 72 روپے اور قیمت فروخت72روپے10پیسے ریکارڈ ہوئی۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں مظاہرین کی اس بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا جنہوں نے املاک کو مزید نقصان سے محفوظ رکھنے کی غرض سے اسٹاک ایکس چینج کے دروازوں کو اندر سے بند کرلیا دوسری جانب لاہور میں بھی سرمایہ کاروں کا شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا جہاں 100 سے زائد سرمایہ کاروں نے ٹائر جلائے اور سڑک بلاک کردیں۔کیپیٹل ون ایکوئیٹیز میں ڈائیریکٹر بروکریج شجاع رضوی کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لئے حکومت کو جارحانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں 3 ماہ سے جاری معاشی سست روی کو یکدم تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے تاہم حکومت کو قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک میں معاشی امور کے ماہر صائم علی کے مطابق افراط زر کی 3 دہائیوں کی بلند شرح، روپے اور ڈالر کا توسیع پذیر شرح تبادلہ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مجموعی معاشی صورتحال کو کمزور اتحادی حکومت سے نقصان پہنچا ہے۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک 1کروڑ13لاکھ77ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ والیوم لیڈر رہا جسکے حصص 5پیسے کی کمی سے 8روپے65پیسے ریکارڈ ہوئے دیگر نمایاں کمپنیوں میں حب پاور کے حصص 60پیسے کی کمی سے 24روپے، او جی ڈی سی ایل کے حصص 1روپے38پیسے کی کمی سے 105روپے50پیسے، ٹی آر جی پاکستان کے حصص 18پیسے کے اضافے سے 4روپے68پیسے جبکہ زیل پاک کے حصص 19پیسے کی کمی سے 1روپے52پیسے رہے۔
ہرات میں نیٹو کا حملہ ٥٠ افراد ہلاک ، حامد کرزئی کے ٢ ساتھی بھی مارے گئے
کابل ۔ افغانستان میں نیٹو کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 50 شہری جاں بحق ہو گئے ہیں افغان صدر حامد کرزئی کے دو قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق نیٹو کے طیاروں نے یہ فضائی کی حملہ افغانستان کے مشرقی صوبہ ہرات میں کیا جس کے نتیجے میں 50 افغان شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوںمیں افعان صدر حامد کرزئی کے دو قریبی ساتھی بھی شامل ہیں ۔
خیبر ایجنسی میں پاکستان پوسٹ پر امریکی حملے کے حوالے سے نیو پارک ٹائمز کی رپورٹ غلط اور حقائق کے برعکس ہے ۔ترجمان پاک فوج

اسلام آباد ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائم کی رپورٹ سراسر غلط اور پاکستان امریکی حکام کی یہ بات قطعاً ماننے کو تیار نہیں جس میں کہاگیا ہے کہ خیبر ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکی حملہ غلطی تھی انہوںنے کہاکہ اس حملے کو ہم غلطی نہیں مانتے جس میں ایف سی کے گیارہ اہلکار شہید ہوئے تھے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور آخری مرحلے میں ہیں اس کے بعد ہی صحیح حقائق سامنے آئیں گے۔ترجمان کاکہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود تمام پوسٹوں کے بارے میں 2003ء سے اب تک کم سے کم تین دفعہ اتحادی افواج کے ساتھ نقشوں کا تبادلہ کیا جاچکا ہے راولپنڈی میں انٹر سروسز ریلیشنز کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کو غلط اور حقائق کے برعکس قرار دیا گیا ہے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستانی پوسٹوں کا امریکی فوج کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا ترجمان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج کو پوسٹوں کی نشاندہی کیلئے باقاعدہ نقشے فراہم کئے گئے جن میں پوسٹوں پر نشان لگائے گئے تھے اس صورتحال میں نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں اتحادی افواج کو آگاہ نہ کرنے سے متعلق بات حقائق کے منافی ہے
Wednesday, July 16, 2008
نورستان ‘ عسکریت پسندوں کے حملے میں ٩ ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج علاقہ چھوڑ گئی
کابل ۔ افغان پولیس حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں فوجی اڈے پر تعینات امریکی فوج علاقہ چھوڑ کر نکل گئے ہیں ۔ جہاں رواں ہفتہ کے دوران عسکریت پسندوں کے حملہ میں 9 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے ۔ صوبہ نورستان کے پولیس افسر غلام فاروق کا کہنا ہے کہ امریکی اور افغانی فوجی وانات گاؤں کے قریب نیا تعمیر شدہ فوجی اڈہ منگل کی رات چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ اب کچھ پولیس فورس رہ گئی ہے جبکہ 50 پولیس آفیسر علاقے میں تعیناتی کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں فوری طور پر امریکی زیر قیادت اتحادی فوج یا نیٹو فورسز نے علاقے سے امریکی فوجیوں کے نکل جانے کی تصدیق نہیں کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو مسلح عسکریت پسندوں کے ایک بڑے گروپ نے نئے تعمیر شدہ فوجی اڈہ پر حملہ کر کے 9 امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا جو افغانستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران امریکی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے ۔
امریکی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ‘ وفاقی رزرو کے سربراہ کا اعتراف
واشنگٹن ۔ امریکی وفاقی رزرو کے سربراہ بان بینکی نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی معیشت کو کئی مشکلات درپیش ہے ۔ امریکی سینٹ کے روبرو بان بینکی نے امریکی معیشت کو درپیش کئی مشکلات و مسائل کے بارے میں کہا ہے کہ مالیاتی مارکیٹس اور ادارے شدید دباؤ کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث افراط زر میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت کو کئی مشکلات جس کے باعث مالیاتی مارکیٹس اور ادارے متاثر ہو رہے ہیں ۔
قومی اسمبلی ، ١٥ بلز زیر التواء صرف ایک بل منظور ہو سکا ، پلڈاٹ کی جائزہ رپورٹ
اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے 15بلز زیر التواء ہیں۔ 5سیشن منعقد ہو چکے ہیں اب تک ہدف ایک بل منظور ہو سکا لیڈرات نے 13ویں قومی اسمبلی کے پہلے بجٹ سیشن کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی۔13ویں قومی اسمبلی کے پہلے بجٹ سیشن کی مجموعی طور پر روزانہ تین سے پانچ گھنٹوں تک کارروائی ہوئی۔68فیصد اراکین نے بجٹ بحث میںحصہ لیا جبکہ 2007ء میں سابقہ حکومت کے آخری بجٹ سیشن میں 55فیصد اراکین نے بجٹ بحث میں حصہ لیا تھا۔ نئے بجٹ کی بحث میں ایوان کی 76 خواتین اراکین میں سے 64اراکین نے حصہ لیا جو کہ 84فیصد ہے ایوان میں اپوزیشن کے 34فیصد اراکین نے بجٹ بحث میںحصہ لیا ۔ بجٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کے حالیہ سیشن 19دن کام ہوا جبکہ مجموعی طور پر بجٹ سیشن 23دنوں تک منعقد ہوا جبکہ 2007ء کے بجٹ سیشن میں 11 وارننگ ڈے تھے۔ یہ سیشن مجموعی طور پر 19دنوں تک ہفتہ ہوا تھا۔ حالیہ بجٹ سیشن میں صرف ایک دن اجلاس بروقت شروع ہوا جبکہ مجموعی طور پر اجلاس آدھے گھنٹے کی تائید سے شروع ہوا حالیہ سیشن میں حکومت نے 8بلز متعارف کرائے صرف ایک فنانس بل منظور ہو سکا ۔ اس طرح مجموعی طور پر 15بلززیر التواء ہیں اس سیشن میں 1448ء سولات میں 254 کے جوابات دیئے جا سکے جس کی شرح 18فیصد بنتی ہے نئی حکومت کے پہلے بجٹ پر قومی اسمبل میں مجموعی طور پر 41گھنٹے 46 منٹ تک ہوئی۔ لیڈرات، وزیر خزانہ کے اس اعلان جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال مارچ میں بجٹ کے حوالے سے حکومتی اخراجات کے بارے میں امور کو قائم کمیٹیوں میں بحث کے لیے پیش کر دیا جائے گا، کا بھی خیر مقدم کیا ہے
چوہدری پرویز الہی کے وارنٹ گرفتاری جاری
چوہدری پرویز الہی ، مولانا فضل الرحمن ، صبا صادق ، ڈاکٹر فرزانہ نذیر اور سابق چیف سکرٹری سلمان صدیق سمیت ١١ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاریلاہور ۔ پٹشنر سیشن جج لاہور محمد بخش مسعود ہاشمی نے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ، سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن سمیت ١١ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں ٢٥ جولائی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ۔زرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے ایک دن پیشتر ہی دوبئی روانہ ہوچکے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق میو ہسپتال کے ڈاکٹر مقصود حسین نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ ایک کشمیری لڑکی عجیبہ جبین علاج کیلئے میو ہسپتال میں داخل ہوئی ۔ مدعیٰ اہلیان نے اس لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات ظاہر کر کے میرے خلاف مقدمہ درج کروادیا اور مجھے جیل بھجوادیا تاہم عدالت نے مجھے باعزت طور پر بری کردیا ۔ ڈاکٹر مقصود حسین کی درخواست پر سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ، مولانا فضل الرحمن ، سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر طاہر علی جاوید سابق صوبائی وزیر صبا صادق ، پارلیمنٹ سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر ، سابق چیف سیکرٹری پنجاب سلمان صدیق ، سابق ایس ایس پی لاہور عامر ذوالفقار سمیت ١١ افراد کو طلب کرنے کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ٢٥ جولائی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ۔ کیس کی سماعت کے موقع پر سابق ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا ، پروفیسر محمد حسین ، روبینہ سلہری اور مولانا محمد اکرم عدالت میں موجود تھے ۔
افغان صدر کے پاکستان کے خلاف بیانات سے خطے میں ترقی کا عملل متاثر ہو سکتاہے ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی
لاہور ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے افغان صدر کے پاکستان پر عائد کئے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف افغان صدر کے ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ بیان آج بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہونے سے قبل جاری کیاہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے مفاد میں ہے ۔ افغانستان میں حکومت کے استحکام کے لیے پاکستان اپنی ہر طرح کی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ افغان لیڈروں کو اس قسم کے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے بیان سے خطے میں ترقی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ ، ڈاکٹر قدیر کیس کی سماعت مکمل ، فیصلہ ٢١ جولائی تک محفوظ

اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر قدیر کے وکیل ایڈووکیٹ اقبال جعفری نے ڈاکٹر عبد القدیر کا تفصیلی خط چیف جسٹس کے حوالے کردیا ہے ادھر ڈاکٹر قدیر کیس کی سماعت مکمل ہو گئی ہے اور فیصلہ 21 جولائی تک محفوظ کر لیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت سے پہلے ایڈووکیٹ اقبال جعفری اور سرکاری وکیل کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں دونوں نے ڈاکٹر قدیر کو آئندہ دی جانے والی سہولیات کی ایک فہرست تیار کی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری وکیل احمربلال صوفی نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر قومی ہیرو ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقدمے کا فیصلہ مدعی کی توقع کے مطابق آئے گا ادھر ڈاکٹر قدیر کے وکیل اقبال جعفری نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ انہوںنے ڈاکٹر قدیر کا ایک خط چیف جسٹس کو دیا جس میں ڈاکٹر قدیر نے لکھا ہے کہ انہوں نے قومی مفادات کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور غلط بیان شائع ہونے پر اس کی تردید بھی کی ہے۔
صدر بش کی آٹھ سالہ خارجہ پالیسی ، ناقدین نے امریکا کے لیے تباہ کن قرار دیا

واشنگٹن ۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا آٹھ سالہ دور اقتدار رواں سال نومبرمیں اختتام پذیر ہونے والاہے ۔ان کی پالیسیوں کو حامیوں نے ملک کے لیے سود مند جبکہ ناقدین نے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور عراق پر جارحیت سے دنیا بھر میں امریکہ کی مقبولیت میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جوکہ پیسہ کا ضیاع ہے’’ وائس آف امریکا ‘‘ کے مطابق ہر لیڈر جسے اپنے ملک کی قیادت کا اعزاز حاصل ہو اسکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ تاریخ میں اسے سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے۔ امریکی صدر جارج بش کا دورِ صدارت اختتام کے قریب ہے۔وائس آف امریکا نے وائٹ ہاوس میں صدر بش آٹھ سال میں اہم ترین شعبوں میں ان کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹس کی ایک سیریز تیار کی ہے۔ اس سیریز کی پہلی رپورٹ گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران امریکہ کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے جس میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ اپنے دورِ صدارت میں اس شعبے میں صدر بش کی کارکردگی کو کیسے یاد رکھا جائے گا۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں عراق آتا ہے کیونکہ عراق کی جنگ کے باعث دنیا میں یہ تاثر عام ہوا کہ صدر بش خارجہ پالیسی کے اہم ترین جزو یعنی سفارتکاری اور مزاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ صدر بش کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ انھوں نے عراق کی جنگ سے پہلے سفارتکاری کو موقع دیا اور نہ صرف اقوامِ متحدہ سے قرارداد یں منظور ہونے کا انتظار کیا بلکہ برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک پر مشتمل عالمی اتحاد بھی تشکیل دیا۔ لیکن صدر بش کے ناقدین خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی کارکردگی کو ایک سے دس کے اسکیل پر صفر سے بھی نیچے گردان رہے ہیں۔ جیسے کہ واشنگٹن کے کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے بینجمن فریڈمین۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ صدر بش کی خارجہ پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس دور میں صرف اچھی بات یہ ہوئی کہ مزید ممالک پر بمباری نہیں کی گئی جیسے کہ ایران اور مجھے امید ہے کہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں کی جائے گی۔ لیکن صدر بش کی عراق پالیسی سمیت دیگر اقدامات میں طاقت کے استعمال کا عنصر بہت نمایاں رہا ہے۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا بھر میں امریکہ کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے۔ اور امریکہ کے دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ پیسے کا ضیاع ہے اور دیگر ممالک کے لیے خوف کا باعث۔ اگرچہ صدر بش کے بارے میں اس قسم کی رائے بہت سے حلقوں میں پائی جاتی ہے لیکن کچھ حلقوں میں بش انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے حمائت بھی موجود ہے۔ برائن ڈارلنگ کا تعلق ہیرٹیج فاونڈیشن نامی ایک تھنک ٹینک سے ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ صدر بش کے دور کی خارجہ پالیسی میں سفارتکاری کو نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ برائن کہتے ہیں کہ اگر آپ صدر بش کے آٹھ سالوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے بہت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ شمالی کوریا کی مثال سامنے ہے۔ 6 پارٹی مزاکرات سفارتکاری ہی ہے۔ جہاں تک طاقت کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پوری دنیا میں طاقت کے استعمال کا امکان سفارتکاری کے ایک جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر امریکہ نے حالیہ برسوں میں اپنی فوجی طاقت کے استعمال کے مظاہرے نہیں کیے ہوتے تو شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر نہیں آتا۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے امریکہ یورپ تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ صد ر بش کے دورِ صدارت میں ہی امریکہ کے قریب ترین حلیف یعنی یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کچھ سرد مہری دیکھنے میں آئی۔ بینجمین فریڈمین کے مطابق اسکی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ فریڈ مین کا کہنا ہے کہ ہم نے یورپ کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھا تھا جیسے کہ وہ ہمارے ملازم ہوں۔ یورپ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس لیے بھی کافی مختلف ہے کیونکہ ہمارا اور یورپ کا اتحاد سرد جنگ کے زمانے کی سوچ پر بنا تھا۔ لیکن اب امریکہ اور یورپ کے تعلقات تجارت اور ثقافت کی بنیاد پر ہونے چاہیں نہ کہ سیکورٹی کی بنیاد پر۔ ہمیں یورپ سے دوستی ضرور رکھنی چاہیے لیکن ان کی حفاظت کا ذمہ اب ہمارا نہیں ہے
ملائشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم بدعنوانی اور نوجوان سے زیادتی کے الزام میں گرفتار
کوالالمپور۔ ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کو بد عنوانی اور نوجوان کے ساتھ زیادتی کے الزام میں کوالالمپور کی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ انور ابراہیم کے وکیل سنکارا نیر نے صحافیوں کو بتایاکہ پولیس نے انور ابراہیم کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کی پارٹی کے ترجمان جینائی لیم نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوالالمپور پولیس نے انور ابراہیم کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیا ۔اس دوران پولیس اہلکاروں نے دھکے دیتے ہوئے انہیں پولیس گاڑی میں بٹھایا۔ انور ابراہیم کے حامیوں نے ان کی گرفتاری پر حکومت کے خلاف بھرپور مظاہرہ کرنے کا اعلان کیاہے ۔
Priyanka meets up with modelling friends for 'Fashion'

Mumbai:Working in Madhur Bhandarkar's forthcoming film "Fashion" was a walk down memory lane for Bollywood star Priyanka Chopra.
"If you remember, I started my professional life as a model. And now while doing 'Fashion', I met up with my friends from my modelling days... Noyonika Chatterjee, Jesse Randhawa, Aanchal Kumar... That was the best part of doing 'Fashion'," Priyanka told IANS."When I was modelling I was 17. So it's like a whole era has passed between then and now," said the actor, who was seen in a 'futuristic' look in her latest release "Love Story 2050".But she adds that she isn't that experienced as a model."I modelled for only three months ... between the Miss India and Miss World pageants. But yeah it was fun. I was a wide-eyed excited child then. Yes, I'm using my experiences as a model to play my character in 'Fashion'," said the former Miss World.Priyanka's character in the film undergoes a tremendous metamorphosis."And I've gone through that metamorphosis myself. Like my character, I was a small-town girl finding my way through the modelling world when I came to Mumbai. A lot of it is derived from my own experiences."The actress says shooting for films and modelling are completely different."My modelling friends complain about how patient they need to be between shots, whereas during modelling all you had to do was just go for it (the ramp)."Priyanka is happy with her role and even happier working with Bhandarkar."I do have lots of trust in him. We've wanted to work with each other for a long time. I'm glad 'Fashion' happened. I've an author-backed role."The movie has been shot almost entirely in Mumbai. "And that's a change for me because a lot of my films are shot outside the city. When you're on an outdoor (shoot), you disconnect almost completely from the rest of the world. I like travelling. I'm inherently a nomad."
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے امریکہ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ باراک اُباما

واشنگٹن ۔ امریکی صدارتی امیدوار بارک اوباما نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے امریکہ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی میری ترجیح ہو گی۔ القاعدہ کو پاکستان میں بھی نشانہ بنا سکتے ہیں ۔پاکستان سے دہشت گرد تربیت حاصل کرکے افغانستان میں داخل ہو تے ہیں۔بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف کو بلینک چیک دیا میں پاکستان کی غیر فوجی امداد میں تین گنا اضافہ کروںگا۔ ا لقاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمیکیلئے بش انتظامیہ کی حکمت عملی ڈانواں ڈول ہے نئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو واشنگٹن میں اپنی خارجہ پالیسی بیان کرتے کیا ۔ بارک اوباما جو اس وقت امریکہ کے مضبوط صدراتی امیدوار ہیں نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بش انتظامیہ کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ بش اورمیک کین امریکی فوج کو عراق میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن عراق کی حکومت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب عراق جنگ کا خاتمہ ہو گا امریکی فوج پر سے بوجھ کم ہونا چاہیے میں 16 ماہ کے اندر اندر عراق سے فوج واپس بلا کر اپنی تمام تر توجہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان پر دوں گا ۔بارک اوباما نے کہا کہ خطرات عراق میں نہیں بلکہ افغانستان پاکستان میں موجود ہیں امریکہ کی سلامتی کو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے خطرات لاحق ہیں اس لئے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے خلاف کاروائی ان کی اولین ترجیح ہے اس کیلئے القاعدہ کو پاکستان میں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بارک اوباما کاکہنا تھا کہ افغانستان سے آج بھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن او راس کے نائب ایمن الظواہری کے پیغامات آرہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ القاعدہ کسی بھی وقت پھر سے منظم ہو سکتی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گرد پاکستان سے تربیت حاصل کر کے افغانستان میں داخل ہورہے ہیں یہ نا قابل برداشت بات ہے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے انہو ںنے کہاکہ اس سے پہلے میں ایک پر خطر زبردست اور اصولی قومی دفاعی حکمت عملی اپناؤں گا ۔ جس میں نا صرف بغداد کیلئے بلکہ کابل، اسلام آباد ،ٹوکیو ، لندن ، بیجنگ اوربرلن بھی شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف کو بلینک چیک دیا لیکن میں پاکستان کی غیر فوجی امداد میں تین گناہ اضافہ کرو ں گا اپنی خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے امریکی صدارتی امیدوار نے مزید کہاکہ وہ دہشت گردوں اور ناکام ریاستوں جس میں انہوں نے ایران اور شمالی کوریاکا نام لیا کے ہاتھوں سے نیو کلیئر اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کروں گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی افواج سے اضافی بوجھ اتارا جائے بارک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کے خواہاں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں قوموں کے درمیان تعلقات کا نیادور شروع ہونا چاہیے ایران سے اپنیتعلقات کے بارے میں بارک اوباما نے کہاکہ وہ کسی ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی ایرانی قیادت کو امریکی مفادات کی طرف پیش قدمی کیلئے تیار ہونا چاہیے ملکی مفاد میں ہوا تو وہ ایرانی رہنماؤں سے ملاقات بھی کریں گے خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے اوباما کے حریف صدارتی امیدوار میک کین نے کہاکہ وہ اقتدار میں آ کر اسامہ بن لادن کو انصاف کے کہٹرے میں لائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا نیا کر دار ادا کریں گے۔
افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اتحادی طیاروں کی بمباری خواتین بچوں سمیت ٤٠ افراد جاں بحق
کابل ۔ افغانستان کے صوبے کنڑ میں اتحادی افواج کے طیاروں کی بمباری سے 40 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ اتحادی فوج نے نورستان کے علاقے دانت میں مقامی لوگوں کو علاقہ سے اپنے گھر چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا تھا علاقے کے لوگ نقل مکانی کر کے کنڑ صوبے کی طرف جا رہے تھے کہ کنڑ کے علاقے ایک درہ میں امریکی طیاروں نے ان پرحملہ کر دیا جس سے کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور چالیس افراد جاں بحق ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔شیریں رحمن

۔لاہور۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیر رحمن نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اپریشن نہیں بلکہ ایکشن ہے ۔ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔شہریوں کو تحفظ دینا ہماری اولین ترجیح ہے ۔ شہداء ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے لاہور میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو رہا ہے تا کہ صوبوں کو با اختیار بنایا جا سکے ۔ وہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔ اس موقع ہر کثیر تعداد میں صحافیوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما عزیز الرحمن چن اور الطاف قریشی بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ بڑے مینڈیٹ کے بعد بر سرار اقتدار آئی ہے ۔ محترمہ بے نظیر شہید نے تمام عمر اصولوں کی بناد پر مفاہمت کی سیاست کی تھی اور بارہا برملہ کہا تھا کہ مذہب میں انتہا پسندی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ دہشت گردوں سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے کی بجائے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیںگے جوکوئی پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گا اسے کسی قیمت برداشت نہیں کیا جائے گا تا ہم جو دہشت گرد ہتھیار پھینک دے گا اس سے مذاکرات ضرور کئے جائیںگے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پسماندہ علاقوں ترقی کے خواہش مند ہیں تا کہ وہ احساس محرومی کو ختم کیا جا سکے ۔ صحافیوں کے متعلق بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے تین نومبر کے کالے قوانین اس لئے ختم کئے گئے ہیں کہ آئندہ برس پرنٹ اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس بھی ختم کر دیا جائے گا ۔ صحافت جتنی آزاد ہو گی جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہو گی ۔ پیشہ وارانہ صحافیوں کو نوکریوں اور جان کا تحفظ ملنا چاہیے ۔ ماضی کے مقابلہ موجودہ دور میں صحافت میں جان جانے کا خطرہ بڑھ چکا ہے جبکہ تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ صحافیوں کی مشکلات کم کی جائیں گی ماضی کی بندشیں اور کالے قوانین کے برخلاف صحافیوں کو ہر ممکن تحفظ اور آزادی دی جائے گی تا کہ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض عمدگی سے سرانجام دے سکیں
Subscribe to:
Posts (Atom)

