International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Thursday, April 17, 2008

Beijing Olympic Torch Relay leaves for India




ISLAMABAD : The Beijing Olympic Torch Relay left for India here Wednesday night after a spectacular show at the Indoor Liaquat Gymnasium.
Pakistan’s Olympic Chief Lt. Gen. ® Syed Arif Hasan and Chinese Ambassador to Pakistan Yau Hui saw off the members of the Olympic Torch Relay at PAF Base Chaklala for New Delhi, the next stop on its worldwide tour.
The relay will trek a total distance of 137000 kms on its worldwide tour of 22 cities of 19 countries of the world.
Besides Islamabad the Olympic Torch so far has visited Almaty, Istanbul St. Petersburg, Moscow, London, Paris, Sans Francisco, Dares us salam and Muscat.

CDA board approves opening of Sector H-17 276 slum-dwellers to be given plots in G-8

IslamabadThe Capital Development Authority (CDA) on Wednesday approved a plan to open Sector H-17 reserved for private educational institutions. The CDA board approved the summary of Urban Planning Directorate to allow establishment of large private educational institutions in the new sector spread over an area of 817 acres. Private parties would purchase land for schools on their own from current owners of land in Sector H-17, while the civic body would receive development charges for basic facilities like water supply, sewerage system and roads.The layout and building plans and scrutiny of plans would be approved by the CDA on receiving plans from managements of educational institutions, including schools, colleges and universities. The minimum area of each plot would be 100 kanals.The board meeting chaired by CDA Chairman Kamran Lashari approved another summary of the Urban Planning Directorate for allotment of another 276 three-marla plots in the ‘katchi abadi’ of Sector G-8/1. The project was a part of upgradation of slums where mainly sanitary workers have been residing for quite some time.The CDA plans to allot another 150 plots to the dwellers of ‘katchi abadi’ of Sector G-8/1 later.The board members also decided to allow a private party to set up a facility for visa-seekers along 3rd Avenue near Diplomatic Enclave on build-operate and transfer (BoT) basis. The work on the project was, however, started prior to approval by the CDA board.

آٹا،بجلی، مہنگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرچودھری احسن پریمی




ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے پاکستان میں 18 فروری2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ میں ان انتخابات کو مسابقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے، سرکاری میڈیاجانبدار رہااور سابق حکمران جماعت اور نگران انتظامیہ کو کوریج دی گئی، سابق حکمران جماعت ق لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا تاہم انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی قبولیت حاصل رہی۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور چیف انتخابی مبصر مائیکل گیلر نے بدھ کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کی حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فروری 2008ء کے انتخابات مسابقتی تھے اور عوام و سیاسی جماعتوں نے نتائج کو قبول کیاتاہم پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچے اور صورتحال میں مستقل مسائل موجود ہیں، اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ پاکستانی حکام، سیاسی جماعتوں اور شہری معاشرے پر زور دیا کہ وہ سرعت سے انتخابی اصلاحات سرانجام دیں اور وہ ایک سال بعد دوبارہ پاکستان آکر حالات میں پیش رفت کا مشاہدہ اور اپنی رپورٹ یورپی پارلیمنٹ کو پیش کرینگے۔ مائیکل گیلر نے مزید کہاکہ انتخابات میں زیادہ اہم کردار ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے ادا کیا اور اس عمل کی گہری جانچ پڑتال کی تاہم مجموعی ڈھانچے اور حالات کے تحت منعقدہ انتخابات میں سنگین مسائل درپیش رہے اور انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں سابق حکمران جماعتوں کے حق میں تعصب کے باعث یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور کارکردگی پر اعتماد میں کمی نظر آئی، انتخابی مہم مدھم اور سست روی کا شکار رہی اور انتخابات سلامتی کے مخدوش حالات میں ہوئے جبکہ انتخابی اجتماعات پر حملوں کے دوران 100 سے زائد سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، جن میں ایسے ہی ایک المناک واقعہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شکایات اور اپیلوں کے طریقہ کار پر اعتماد کی کمی ہے ۔مائیکل گیلر نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان میں انتخابی عمل میں اصلاحات کیلئے ہرممکن مدد دینے کو تیارہے کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کے ڈھانچے اور حالات میں اصلاح کیلئے 82 سفارشات دی گئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے،انتخابی قانون سازی کا مشاورتی اندازسے جائزہ لیاجائے، مخصوص حل طلب معاملات میں انتخابی انتظامیہ کی خود مختاری اور شفافیت، شکایات اور اپیلوں کے ضوابط اور امیدوار کی شرائط پر حد سے زیادہ پابندیاں شامل ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر متعلقہ افراد کی مشاورت سے مشروط ہو اور اس میں ان کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے جبکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہئے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ خودمختار تقرری کے حامل ججوں کو عدالتوں اور ٹربیونلز کے پاس آنیوالی انتخابی اپیلوں کو بروقت نمٹانا چاہئے، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کئے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہئے۔ یورپی یونین انتخابی مبصر مشن نے انتخابی مشاہدہ کاری کے عرصے کے دوران پاکستانی عوام کے تعاون، اعانت اور پذیرائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نئی حکومت کو ورثے میں ملی ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیائ الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ قوم امن پسند ہے ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔


Abuse of Afghan prisoners at US facility

WASHINGTON - Military interrogators assaulted Afghan detainees in 2003, using investigation methods they learned during self-defense training, according to Pentagon documents released on Wednesday.
Detainees at the Gardez Detention Facility in southeastern Afghanistan reported being made to kneel outside in wet clothing and being kicked and punched in the kidneys, nose and knees if they moved, the documents show.
A 2006 Army review of the case concluded that the detainees were not abused but that the incident revealed misconduct that warrants further action.”
The documents, which were turned over Wednesday evening to the American Civponsive to shifting global prices.
The company had not been able to take full advantage of soaring dairy prices over the past season because it usually signs supply contracts with key customers up to a year in advance.
World dairy prices began rising dramatically at the end of last year, but Fonterra had already committed a lot of product to deals signed at lower prices.
Ferrier said he expects initially that some 20 percent of Fonterra’s New Zealand milk products will be sold through the new Web site, GlobalDairyTrade.
The system will be run by an independent trading manager and Fonterra said it will eventually allow its supply partners and possibly even competitors to participate.
This is likely to lead to enhanced price transparency,” Ferrier said.
GlobalDairyTrade represents a significant shift away from some of the contracting practices that we have traditionally used,” he said.
The global dairy market, once disrupted by massive stockpiles like Europe’s butter mountain,” is evolving because of rapid changes in supply and demand, as well as in global stock levels.
Online trading would help Fonterra and its customers manage their exposure to changing prices, and key sales results from the web site will be made public.
Over time, a global benchmark will emerge, and farmers and customers will be able to see trends clearly through the season,” Ferrier said.
Fonterra controls more than one-third of international dairy product trade.

Mehreen wants date with Musharraf







NEW DELHI: Pakistani national in Miss World competition, Mehreen Wednesday said she is desirous of date with President Pervez Musharraf.According to Indian TV report, the beauty queen from Pakistan is quite fond of Pervez Musharraf. The Indian media showed her saying that if she finds a date with Pervez Musharraf, she would choose Australia for the purpose.Mehreen holds Musharraf extremely handsome and good-looking, saying, ‘Pervez Musharraf looks charming and very awesome in his military uniform.’‘He is in power and everybody loves the powerful,’ Mehreen said adding she never met President Musharraf.

20 dead in Khyber Agency clashes

PESHAWAR: At least 20 people were killed and dozens others injured in the clashes between two belligerent factions here on Wednesday night in Khyber Agency.The gunbattle has come to a halt in the wee hours of Thursday morning.According to sources, the two rival groups entered into exchanging the firing in Khyber Agency area of Jamrood late in Wednesday night. The both sides used light to heavy arms against one another, killing 20 men and injuring several others.A mass exodus from the area is being witnessed, as the people are frightened. After the ceasefire, the injured were transported to the hospital; however, the whole area still wears tense looks.

No political meeting, rally without prior permission





ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD: Federal Interior Ministry has directed all the four provinces not to allow any political meeting without prior permission.According to the sources, this has been decided for improving the law and order situation. Now, the prior permission will be necessary for holding political meetings and rallies.This has also been said that venues should be decided for meetings at district and tehsil level and allow such meetings by establishing people’s corners within three months in all the four provinces.

مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب






اولپمک مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی گئی
چین کی جانب محو سفر اولمپک مشعل کو بدھ کو پاکستان میں ایک رنگا رنگ تقریب میں روشن کیا گیا۔ سخت حفاظتی انتظامات میں ہونے والی محدود سی یہ تقریب پُر امن رہی اور کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم بعض حاضرین نے مشعل کو صرف ایک سٹیڈیم کے اندر محدود کر دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
صدر مملکت جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد کےجناح سپورٹس کمپلیکس میں ہونے والی مشعل برداری کی اس رنگا رنگ تقریب کا آغاز فوجی بینڈ کے مظاہرے سے ہوا۔

تقریب کے لیے سجائے گئے خصوصی سٹیج کے سامنے دو اونچے اونچے پنڈالوں پر موجود حاضرین نے، جن میں ایک بہت بڑی تعداد سکول کے بچوں کی تھی، مشعل کی آمد کے اعلان پر صدارتی گارڈز کے خصوصی گُھڑ سوار دستے پر اولmپک مشعل کے شعلے کو لانے والی خصوصی لالٹین کا پرجوش استقبال کیا۔
اس شعلے کو سٹیج پر لایا گیا جہاں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ر) عارف حسن نے استقبالیہ کلمات کہے جس کے بعد صدر اور وزیراعظم کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ سٹیج پر اس حفاظتی لالٹین سے اولمپک مشعل کو روشن کیا گیا۔
سمیع اللہ کے بعد یہ مشعل پاکستان کے پینسٹھ مایہ ناز سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کے ہاتھوں ہوتی ہوئی سکواش کے سابق چیمپئین جہانگیر خان کے پاس پہنچی جہنوں نے لیاقت جمنیزیئم میں موجود بڑی مشعل کو روشن کیا

صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر یہ مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی۔ سمیع اللہ کے بعد یہ مشعل پاکستان کے پینسٹھ مایہ ناز سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کے ہاتھوں ہوتی ہوئی سکواش کے سابق چیمپئین جہانگیر خان کے پاس پہنچی جہنوں نے لیاقت جمنیزیئم میں موجود بڑی مشعل کو روشن کیا۔
تقریب کے میزبان لیفٹنٹ جنرل عارف حسن نے تقریب کے بارے میں بتایا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ اسے ان انیس ممالک میں منتخب کیا گیا جہاں اس مشعل نے چین پہنچنے سے پہلے جانا ہے۔
حفاظتی لالٹین کے ذریعے اولمپک مشعل کا یہ شعلہ جہاز کے ذریعے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا۔حفاظتی نکتہ نظر سے ان تقریبات کو اصل پروگرام کے مقابلے میں بہت مختصر کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق ، اولمپکس مشعل برداروں کو تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے، استقبالیہ تقریب کے لیے سپورٹس سٹیڈیم پہنچنا تھا ۔ تاہم سیکورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔
صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر یہ مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی۔
عارف حسن نے بتایا کہ انتظامی کمیٹی نے اس مشعل کے لیے تین مختلف روٹس تجویز کیے تھے لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر مختصر ترین روٹ کو منتخب کیا گیا۔
سکول کے بچوں کی ایک بڑی تعداد اس تقریب کو دیکھنے کے لیے موجود تھی۔ساتویں جماعت کی طالبہ نازش کا کہنا تھا کہ اولمپک مشعل کو دیکھنا انکی زندگی کا ایک حسین تجربہ ہے۔
تاہم بہت سے طلباء نے شکوہ کیا کہ انکے بہت سے ساتھی اس تقریب کو دیکھنے نہیں آسکے اور اگر یہ مشعل شہر کے بیچوں بیچ گزرتی تو یہ نادر موقع سب کے لئے یادگار لمحہ بن سکتا تھا۔
نویں جماعت کے طالب علم زبیر نے بتایا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث حکومت کا فیصلہ ٹھیک ہے کہ اسے محدود کر دیا گیا ہے لیکن اگر یہ شہر سے گزاری جاتی تو زیادہ مزا آتا۔
خود پاکستانی سابق اولمپئین سمیع اللہ کا بھی کہنا تھا کہ اولمپک مشعل لے کر شہر کے بیچوں بیچ گزرنے کا اپنا مزا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مشعل شہر سے گزرتی تو گلی محلے کے لوگ بھی اس سے محظوظ ہوتے جیسا کہ دیگر کئی ملکوں میں ہوا۔ لیکن حکومت کی بھی چند مجبوریاں ہیں جن کی وجہ یورپ کے بعض ممالک میں مشعل جانے کے موقع پر ہونے والے واقعات ہیں۔
بعد میں پاکستان میں چین کے سفیر نے اولمپک ٹارچ کے ماڈل بطور سووینئر صدر اور وزیراعظم کو پیش کئے۔ موسیقی کے پروگرام کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

اب جو بھی ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ،اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو گا ، یوسف رضا گیلانی



ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں پر امن لوگ ہیں ، عوام بھی پر امن رہیں ، لاہور اور رائے ونڈ میں بات چیت
معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بات چیت

لاہور ۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آج بدھ کے روز لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس کے بعد اور رائے ونڈ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔رائے ونڈ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔عوام اپنے اندر اتحاد پیدا کریں عوام پر امن رہیں ۔ہم پر امن عوام کے ذریعے اس ملک میں حالات بہتر کریں گے ۔یقیناً ملک میں امن ہو گا تو معاشی ترقی بھی ہو گی اس لیے ہم پورے ملک کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی ہمیں ورثے میں ملی ہے ۔کراچی میں آپریشن کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں ہیں ہم پرامن لوگ ہیں ہم پر امن طور پر مسائل حل کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر میاں نواز شریف بھی موجود تھے تاہم انہوں نے اخبار نویسوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ قبل ازیں لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سارک کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہاہے ۔ سارک ممالک پر امن اور ترقی پسند ہونا چاہیے۔ ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔ 21 ویں صدی چیلنجز سے بھرپور ہے ہمیں اپنی طاقت اور کمزوری کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی وضع کرنا ہو گی ۔انہوں نے کہاکہ سارک ممالک نے آزادانہ تجارت کامعاہدہ کر رکھا ہے ۔ ہم تمام ممالک سارک کے مقاصد پورے کرنے کے لیے کمٹڈ ہیں ۔پاکستان نے سارک کی بزنس کمیونٹی کو قیادت فراہم کی ہے یہ ایک چیلنج بھی ہے مجھے یقین ہے اس چیلنج سے عہدہ براء ہوں گے ۔ہم لمبے راستے پر چل رہے ہیں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کے روز لاہور میں دو بچوں کے ساتھ ریل کے سامنے چھلانگ لگانے والی خاتون کے ہاں بھی گئے انہوں نے مذکورہ خاتون کی بچیوں کی شادی ، مالی امداد اور رہائشی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہوتا ترقی کیسے ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان ججز کی بحالی پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ۔

Bipasha Basu to endorse US-based perfume brand




New Delhi:Bollywood actress Bipasha Basu will endorse US-based perfume brand Alcome Perfumes and Cosmetics who are venturing into Indian market.
"By having Bipasha as its brand face, our company looks forward for a better money making opportunity in India," Sanjeev Nayyar, vice president, Alcome Perfumes & Cosmetics, said in a press statement.The company has stepped into the Indian market keeping in view the rising markets of cosmetics and toiletries here. "Our brand will be stepping into Indian markets through retail chains. It plans to set up alliances with chains like Big Bazaar, Spencers etc," he added.The company has anticipated to draw a benefit of about Rs.1.5 billion in the first year and is expects to soar up to Rs.5 billion within the next five years.Apart from India, the company is marketing its products in 68 countries of the world including the US, Australia, along with more than 38 countries in Europe, North America, Middle East and Far East.

Hema Malini at an album launch





Bollywood actress and Rajya Sabha MP Hema Malini with singer Laliya Munshaw and Sarangi Maestro ustad Sultan Khan at the launch of a music album in Mumbai on Tuesday night.

Wednesday, April 16, 2008

Priyanka Chopra steps down?





Actor Priyanka Chopra may have boosted her career with some good films and great choices – Andaaz, Krrish, Aitraaz, Mujhse Shaadi Karogi , Don ... But the girl seems to be missing from the marquee these days. And while her contemporaries like Lara Dutta are picking up speed in the race, the question is: Will Priyanka be able to protect her lead and maintain being the forerunner in a competition where the likes of Kareena, Katrina and Deepika have found ground and upped their pace? While Pretty Chopra is seeing endorsing products and being constantly linked with cricketers, the lady is missing from the big screen. "Most of my films releaseonly this year, and then there are some that release next year," informs the actress. "I've been busy shooting!" she justifies. Priyanka looks forward to the release of the futuristic Love Story 2050 – a film that'll mark the debut of her boyfriend Harman Baweja, and Drona, where she plays Abhishek's bodyguard. "I'm trying to do different interesting roles," she tells us. "While 2050 is futuristic, Drona is set in a period backdrop. It was interesting doing stunts for it." About her absence from the big screen, the lady isn't perturbed. "Everybody has their time. Sometimes it happens that there are unforeseen situations and the release of your films gets delayed, and then there are times when you have a rush of releases. So it's all part of the game!" About her films in the pipeline, Chopra informs us, "Besides Drona and Love Story 2050 , there is God Tussi Great Ho with Sanjay Dutt, Madhur Bhandarkar's Fashion, Karan Johar's Dostana and Feroz Khan's Kurbani." Now, that's an impressive fare! Let's hope it's not too long before we see this pretty dish swish and swirl on celluloid.

Mischa’s trying to get fit again





The former OC star – who was recently pictured with cellulite on her thighs while wearing shorts and a sweatshirt in LA – has employed the fitness professional to help boost her energy levels. She said, “I never had a workout regime at all, but recently I have hired a personal trainer because I feel my energy level is better when I am working out. It helps to be very healthy and fit in this job.” Mischa also said despite being renowned for her unique sense of style, she was bullied at school for dressing badly.

Olympic torch relay starts amid heavy security in Pakistan

ISLAMABAD - The Pakistani leg of the Olympic global torch relay started on Wednesday, guarded by thousands of troops and police to ward off any militant threat or anti-China protest.
The ceremony took place behind closed doors at Jinnah sports stadium in Islamabad after organisers slashed the planned route through the capital at the last minute, citing security concerns.
The flame was brought on a traditional horse-driven chariot escorted by mounted bodyguards of Pakistani President Pervez Musharraf. The army band played to herald the arrival of the torch.
The lantern carrying the flame did a round of the stadium and was shown to the crowd before it was presented to Musharraf and Prime Minister Yousaf Raza Gilani
Both Musharraf and Gilani held the torch together as the authorities released balloons to the popular tunes.
The flame was handed to Pakistani field hockey hero Samiullah, the first of around 60 runners to begin the event, watched by several thousand hand-picked guests.
The heavy security in Islamabad comes as Pakistan tries to protect China, its closest ally, from further embarrassment at the hands of pro-Tibet and human rights demonstrators.
The flame will travel from Pakistan to India later Wednesday for one of the most sensitive stretches of its global voyage. India is home to more than 100,000 Tibetan refugees, many of them organised and media savvy.
Former squash star Jahangir Khan is set to light the cauldron at the end of the relay, Pakistani sources said.
The original plan was to parade the torch from the white marble presidency building and along Islamabad’s leafy main boulevard, but the entire event will now be held behind closed doors at the arena.

Nawaz, Shahbaz, Hamza get nomination papers for bye-election




LAHORE : PML-N Chief and former prime minister Mian Muhammad Nawaz Sharif, PML-N President Shahbaz Sharif and his son Hamza Shahbaz got nomination papers to participate in the coming bye-elections, here on Wednesday. Mian Nawaz Sharif got the nomination papers from the Returning Officer (RO) to contest the by-polls from the constituency NA-123 Lahore while Mian Shahbaz Sharif for PP-154 Lahore.
Hamza Shahbaz Sharif got nomination papers to participate in by-elections from PP-141 Lahore.
Mian Ikhlaq Guddoo of PML-Q also got nomination papers to take part in by-election from NA-123.
The RO of the constituencies NA-119,PP-141 issued total five nomination papers including Hamza Shahbaz while RO for NA-123 issued six nomination papers including Nawaz Sharif.
Eight intending candidates including Shahbaz Sharif got nomination papers on Wednesday to contest the bye-polls from PP-154 .

Govt. to adopt more measures to ensure freedom of media: Sherry







ISLAMABAD : Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman Wednesday said the government has already tabled a Bill in the National Assembly to remove black media laws and it would adopt more measures to ensure freedom of media. She was talking to a delegation of Cable Operators Association of Pakistan that called on the Minister under the leadership of Chairman of the Association, Khalid Sheikh here.
“The cable operators are the main source to disseminate information to the public and the new democratic government would not allow any one to block the cable TV operations in the country,” she said.
The Minister reiterated that the government believes in the freedom of information and public access to information, therefore, no one will be allowed to disrupt the free flow of information.
“A hotline service would be set up at Ministry of Information where cable operators would register their complaints of any external pressure for blocking their system or a particular TV channel,” the Minister said and added this would help ensure smooth running of the cable TV network in the country.
The members of the delegation appreciated the vision of the government for freedom of media and apprised the Minister of their problems.
The Minister assured the delegation to look into their problems.
With a view to providing a balanced coverage to the opposition’s point of view as well as the treasury benches in the parliament, Sherry Rehman directed the PTV management to ensure that the state television acts as a prime source of information to the electorate that have sent their representatives to the parliament.
“There must be no-black out of opposition as was the case during the previous regime,” the Minister said and added free clean feed of the coverage of the parliament session will be provided to the private TV channels by PTV.
Sherry Rehman also reiterated the democratic government’s resolve that media would be given access to the meetings of the parliament’s standing committees and arrangements will be made for live coverage of these meetings.

Reconciliation policy to continue: Gillni







LAHORE : Prime Minister Syed Yusuf Raza Gilani said Wednesday that PPP would continue to pursue the policy of reconciliation as it wanted to take along all political parties. He was talking to the media persons after meeting the PML-N chief Mian Nawaz Sharif at his residence at Raiwind.Asked whether the process of talks for reconciliation with the MQM was over, he said, “There are ups and downs in politics, but the policy to seek reconciliation will continue.”Mian Nawaz Sharif, Shahbaz Sharif, Chief Minister Punjab Dost Muhammad Khosa, Zulfiqar Khosa, Hussain Nawaz and Hamza Shahbaz were also present on the occasion.
To a question, the Prime Minister said that decisions on all issues would be taken in consultation with the coalition partners.
Regarding the recent demonstration in Multan, he said, “The power and flour crises are the result of the wrong policies of the previous regime, and the present government will overcome all these problems with the cooperation of the masses.”
He said miscreants were involved in the incidents in Multan who wanted to divert people’s attention from the real issues, adding that they probably targeted Multan as the Prime Minister is from there.
Gilani urged people to remain peaceful to foil the evil designs of such elements and ensure peace in the country which was vital for economic development.
To a question about the future of President Pervez Musharraf, he said, “The decision in this regard will be taken according to the constitution”.
Regarding reinstatement of the deposed judges, he said, “We are committed to take steps in this regard as per the Bhurban Declaration”.
To another question, the PM said, “I have come here to meet Mian Nawaz Sharif, and have a close association with him since long. When he was the finance minister of Punjab, I was chairman District Council Multan, and we enjoyed a good relationship”.

القائدہ ہے تو شاتمین رسول کیوں زندہ ہیں ۔۔۔ تحریر تزئین اختر




یہ مارچ2003ءکا واقعہ ہے، راولپنڈی میں فوجی افسروں کے رہائشی علاقہ ویسٹریج کے ایک گھر سے ایک عرب باشندہ گرفتار ہوا، یہ گھر ایک کیپٹن کا تھا جو اس وقت کوہاٹ میں ڈیوٹی پر تھااور جسے وہیں پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ عرب باشندہ خالد شیخ محمد ہے جو امریکہ کے نزدیک اسامہ بن لادن کا نمبر ٹو تھا اور اس کی وانٹڈ لسٹ میں ٹاپ پر تھا، حکومت کا یہ دعویٰ درست نکلا کیونکہ امریکہ نے اسے خالد شیخ محمد کے نام سے شناخت کر لیا، یہ بات بتانے والی نہیں کہ حکومت پاکستان نے حوالگی کے قانون اور طرےقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے پہلی فرصت میں امریکہ کے حوالے کر دیا جہاں اس پر مقدمہ چلا مارچ2007مےں توقعات کے عےن مطابق خالد شےخ محمد نائن الےون سمےت اور بھی بہت سے گناہ قبول کر لئے 11فروری 2008 کو اس پر جنگی جرائم اور قتل وغارت سمےت مختلف سنگےن فرد ہائے جرم عائد کر دی گئےں جن پر اسے سزائے موت ہونا ےقےنی ہے ۔ امریکی چارج شیٹ کے مطابق نائن الیون کےلئے طیارے اغواءکر کے (ٹوئن ٹاورز)(نیویارک) اور پینٹاگون(امرےکی وزارت دفاع)کو نشانہ بنانے کی ساری پلاننگ خالد شیخ محمد نے کی تھی، اس تمہید سے Èپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ خالد شیخ محمد کتنا اہم Èدمی تھا اور نائن الیون سے اب تک امریکہ سے افغانستان اور پاکستان تک جاری دہشتگردی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کا کردار کتنا بڑا تھا۔ خالد شیخ محمد ےکم مارچ کو آئی اےس آئی اور سی آئی اے کے مشترکہ آپرےشن مےں ہاتھ آےا ۔اس کی گرفتاری کے چند روز بعد میں راولپنڈی کے صحافیوں رسالت فاضل عباسی اور Èصف شبیر کے ہمراہ اس گھر گیا جہاں سے خالد شیخ محمد گرفتار ہوا، جب ہم وہاں پہنچے تو میرے ذہن میں بار بار یہ سوال کلبلا رہا تھا کہ اتنا بڑا ”ہدف“ یہاں سے پکڑا گیا ہے؟چلتے وقت میرا خیال تھا جب ہم ویسٹریج میں داخل ہوں گے تو وہاں فوج اور ایجنسیوں کے لوگوں کی بھاری نفری پوزیشنیں سنبھالے ہو گی، ہمیں جگہ جگہ روک کر شناخت طلب کی جائے گی۔ شناخت تو دور کی بات ہمیں ادھر پھٹکنے ہی نہیں دیا جائے گا اور واپس بھیج دیا جائے گا اور جب ہم جیسے تیسے کر کے اس گھر پہنچیں گے تو وہاں مسلح کمانڈوز الرٹ کھڑے ہوں گے اور اہل خانہ ایک کمرے میں بند ڈرے سہمے بیٹھے ہوں گے جہاں سیکیورٹی حکام کی موجودگی ہی میں ملاقات ہو سکے گی اور ایسی صورت میں ہم کیا پوچھیں گے اور وہ کیا بتا سکیں گے؟ مگر حیرت انگیز طور پر ایسا کچھ نہیں ہوا، ہم ویسٹریج پہنچے تو دور نزدیک کوئی غیر معمولی بات دیکھنے میں نہیں Èئی، ہم مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے سیدھے اس گھر تک پہنچ گئے اور راستے میں کہیں کوئی سیکیورٹی اہلکار نظر Èیا نہ کسی نے ہماری طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا، گھر کے اندر باہر بھی کوئی ایجنسی والا یا کمانڈو نہیں تھا۔ ہم نے بیل بجائی، ایک بزرگ نے دروازہ کھولا جو گھر کے سربراہ تھے۔ سلام دعا کے بعد وہ ہمیں اندر لے گئے، ڈرائنگ روم میں ہماری تقریباً ایک گھنٹہ تک ایسے بات چیت ہوئی جیسے بالکل نارمل حالات میں کسی کے گھر کوئی مہمان Èتا ہے اور میزبان سے مل کر چلا جاتا ہے، اس ایک گھنٹے کے دوران ہمیں گھر کے ماحول سے، گھر والوں کی کسی بات سے کسی انداز سے یہ محسوس نہیں ہوا کہ کچھ روز پہلے یہاں سے وہ Èدمی برÈمد ہوا ہے جس نے اپنی پلاننگ سے دنیا بدل کر رکھ دی تھی۔ وہاں سے واپسی کے بعد سے Èج 5برس بعد تک مجھے ان سوالوں کا جواب نہیں مل سکا کہ اتنے بڑے ”ٹارگٹ“ کی برÈمدگی پر اس گھر کے Èس پاس غیر معمولی انتظامات کیوں نہیں تھے؟اس گھر کے باسی روٹین کی طرح کےوں کر رہ رہے تھے؟انہیں اول تو زیر حراست ہونا چاہئے تھا یا زیر نگرانی اور کم از کم یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ گرفتاری کے چند روز بعد ہی وہ نارمل زندگی گزار رہے ہوں یہاں تک کہ میڈیا سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہوں۔ 11ستمبر2001ءکو جب ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا گیا تو امریکہ نے تحقیقات سے پہلے ہی اس کا الزام اسامہ بن لادن پر عائد کر دیا جو اس وقت افغانستان میں تھے، ساتھ ہی القاعدہ کا نام بھی سامنے È گیا کہ یہ کارروائی اسی تنظیم نے کی ہے اور اسی کی Èڑ لے کر امریکہ بہادر مسلمان ملکوں پر حملہ Èور ہو گیا، ”القاعدہ“ کا نام دنیا بھر میں دہشت کی علامت بن گیا اور امریکہ نے اس کے خاتمے کیلئے دہشتگردی کے خلاف جنگ چھیڑ دی جو Èج بھی جاری ہے اور نہ جانے کب تک رہے گی کیونکہ جن لوگوں کوالقاعدہ کے کرتادھرتا قرار دیا جاتا ہے ان میں سے کوئی بھی امریکہ کے ہاتھ نہیں È سکا، اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری Èج بھی کسی نامعلوم مقام پر موجود ہیں جبکہ ملاعمر جو اسامہ کے میزبان تھے ان کا بھی پتہ ٹھکانہ کوئی نہیں جانتا، ان تینوں حضرات کو امریکہ اور مغربی ممالک کا دشمن نمبر ایک مانا جاتا ہے۔ ان تینوں کا مقصد دنیا میں اسلام کا غلبہ اور امریکہ سمیت تمام اسلام دشمن قوتوں کا مکمل خاتمہ ہے جیسا کہ ان کے Èڈیو، ویڈیو پیغامات Èتے رہتے ہیں۔ ملا عمر افغانستان میں مکمل اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے، یعنی یہ تینوں ہستیاں صرف اور صرف اپنے دین کی خاطر جانیں ہتھیلی پر رکھ کر وقت کی طاقتوں سے ٹکرا رہی ہیں مگر دین تو تب تک مکمل ہی نہیں ہوتا، ایمان تب تک کامل ہی نہیں ہوتا جب تک نبی Èخر الزماں حضرت محمد کی محبت ہمارے دلوں میں موجےں نہ ماررہی ہو اور ناموس رسالت کی خاطر کٹ مرنے ےا ماردےنے کا حوصلہ اور ہمت ہمارے اندر نہ ہو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کئی برس سے عراق اور افغانستان میں دندنا رہے ہیں اور اب تو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی گھس Èئے ہیں۔ عراق میں صدام حسین کی بڑی اور مضبوط فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور اور افغانستان میں طالبان حکومت کا تورا بورا بنا دیا گیا۔ ان گزرے برسوں میں بش سے لے کر بُوچر تک تقریبا ً تمام اعلیٰ امریکی حکام نے کئی کئی بار عراق اور افغانستان کے دورے کئے مگر کیا یہ بات بہت حیرت انگیز نہیں کہ نہ تو امریکی و اتحادی فوجوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہو سکی، نہ اعلیٰ امریکی و دیگر حکام ہی کو نشانہ بنایا جا سکا۔ سوال یہ ہے کہ جو القاعدہ وقت کی سپر پاور کے اندر جا کر اس کے اقتصادی اور جنگی مراکز کو نیست و نابود کر سکتی ہے وہ القاعدہ اس وقت کیوں ناکام ہو گئی جب دشمن خود چل کر اپنے گھر سے ہزاروں مےل دور القاعدہ کے علاقوں میں È پہنچا۔ اور سوال ےہ بھی ہے کہ جو القاعدہ اللہ کے دےن کی خاطر جہاد کا علم بلند کرتے ہوئے دنےا کی سپر طاقتوں سے ٹکر لے رہی ہے وہ القاعدہ اللہ کے محبوب ترےن نبی حضرت محمد کی شان مےں گستاخی کرنے والوں کو جہنم واصل کر نے کے لئے اپنے وسائل کےوں استعمال نہےں کرتی؟ کےوں اےک نہتے عامر چےمہ کو ےہ بےڑا اٹھانا پڑتا ہے اور نذےر چےمہ کے اکلوتے فرزند کو اپنی جان گنوانا پڑتی ہے ؟ نائن الےون والی القاعدہ اگر ہے تو سلمان رشدی اور تسلےمہ نسرےن کےوں زندہ ہےں؟ ڈنمارک کے کارٹونسٹ اور ہالےنڈ کے فلمساز کےوں اہل اےمان کامنہ چڑاتے پھر رہے ہےں؟ جبکہ ان کو جہنم رسےد کرنے کے لئے نائن الےون جےسی عظےم منصوبہ بندی کی ضرورت بھی نہےں؟ القاعدہ کہاں ہے اور کہاں ہےں اسامہ بن لادن،اےمن الظواہری اور ملاعمر؟


سندھ پولیس کی تنخواہ اور دیگر مراعات میں اضافے کا اعلان





کراچی. ..وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزااور آئی جی سندھ شعیب سڈل نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے سندھ پولیس کی تنخواہ اور دیگر مراعات میں اضافے کا اعلان کیا اورکہا کہ پورے سندھ اور خصوصاًکراچی میں چوری ڈکیتی، موبائل ،گاڑیاں چھینے جانے کی وارداتیں اور دیگر اسٹریٹ کرائم کی تعداد خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے ان سب کا خاتمہ ہماری ترجیح ہے۔انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ ان وارداتوں سے آپ لوگ بھی متاثر ہو تے ہوں گے۔بے روز گاری ان چیزوں کا اہم سبب ہے اس بارے میں ایک جامع حکمت عملی طے کی جا رہی ہے جسے عنقریب پیش کیا جائے گا اور بے روز گاری کے تناسب کو کیا جائے گا۔ ہمیں اس صورت حال کو بہتر کرنا ہے ان حالات کو کنٹرول کرنا ہو گا۔جن کو حکمت عملی سے ختم کیا جاسکتا ہے ان ہی حالات کے پیش نظرپولیس سمیت دیگر جگہوں پر اہل افسروں اور اہلکاروں کو متعین کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پولیس تعداد کی بہت زیادہ کمی ہے جس کو بہتر بنایا جائے لیکن ان حالات میں بھی مخلص ہو کر کام کیا جائے تو صورت حال کو قابو کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے لندن پولیس کی مثال دیتے ہو ئے کہا کہ لندن میں 150افراد پر ایک پولیس اہلکار متعین ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ تعداد 550افراد کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک پولیس اہلکار متعین ہو تا ہے۔وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ پولیس کے کانسٹیبل کو پنجاب پولیس کے کانسٹیبل کے برابر تنخواہ دین گے اور یہ فرق ساڑھے3ہزار روپے کا ہے صورت حاکی بہتری کی صورت میں اس تنخواہ میں اضافہ بھی کیا جائے گا ۔اسی طرح خدا ناخواستہ کسی واقعے میں پولیس اہلکار کے جاں بحق ہو نے کی صورت میں پنجاب پولیس کی طرح5لاکھ روپے دئے جائیں گے جو اس سے قبل3لاکھ روپے تھے ۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ بیوہ یا اہل خانہ کو اس کی ریٹائر منٹ کی عمر تک تنخواہ بھی دی جاتی رہے گی۔

میرے قتل کے لیے قاتل کو رقم دی جاچکی ہے،ارباب رحیم




کراچی . سابق وزیراعلیٰ سندھ اور مسلم لیگ کے رہنماء ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ ملک میں لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے، عوام خود اسکا جائزہ لیں، میرے خلاف ڈھونڈ ڈھونڈ کر مقدمات بنائے جارہے ہیں،انھوں نے یہ باتیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں،انھوں نے الزام عائد کیا کہ میرے قتل کے لیے قاتل کو رقم بھی ادا کی جاچکی ہے،اگر مجھے کچھ بھی ہوا تو پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ارباب رحیم نے کہا کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا ہے حالانکہ حکومت کبھی کہتی ہے کہ ای سی ایل ختم کردیا گیا ہے پتہ نہیں حقیقت کیا ہے۔

قانونِ کرایہ داری کا مسلئہ جلد حل ہو نے والا ہے تاجر خوشخبری سننے کے لیے تیار رہیں۔ملک سہیل حسین تجارت مقدس پیشے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں ری


اسلام آباد ( ایسوسی ایٹڈ پریس سروس ) نائب صدر قومی تاجر اتحاد و جنرل سیکرٹری ٹریڈرز ویلفییر ایسوسی ایشن بلیو ایریا ملک سہیل حسین نے جنرل باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیاکہ تاجر اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرہ کر کے بلیو ایریا کی مارکیٹ کو پاکستان کی سب سے خوبصورت اور سہولتوں سے مزین مارکیٹ بنایا جا سکتا ہے اور موجودہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف بطور تاجر لوڈ شیڈنگ کا مسلئہ ختم کر دیں گے انہوں نے مزید کہا کہ بلیو ایریا کی تاجر برادری کو اسلام آباد چیمبر فیڈ ریشن چیمبر اور قومی تاجر اتحاد میںاور مصالحتی کمیٹیوں میں نمائندگی ملی ہے اور گذشتہ تین سالوں میں صدر بلیو ایریا ٹریڈرز ویلفییر ایسوسی ایشن ظفر بختاروی کی سربراہی میں چیرمین سی ڈی اے،آئیسکو ،چیف کمشنر،جی ایم نادرن سوئی گیس،انکم ٹیکس کے ممبران کو مدعو کر کے تاجروں کے بہت سے مسائل حل کروائے اور عنقریب قانونِ کرایہ داری کا مسلئہ جلد حل ہو جائے گا اور تاجروں کو جلد یہ خوشخبری سنائی دی جائے گی۔پارکنگ اور صفائی کے مسائل حل کرانے پر بھر پور توجہ دی جائے گی۔بلیو ایریا ٹریڈرز ویلفیرز ایسوسی ایشن کے صدر ظفر بختاوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ انتحاب میں وہ کسی عہدے کے امیدوار نہیں ہوں گے اور ایک کارکن کی حیثیت سے خدمت کرتے رہیں گے۔ان کا مقصد تاجروں کی عزت کو بحال کروانا ہے کیونکہ تاجروں کو وہ عزت نہیں دی گی ہے اور یہ برداشت نہیں کیا جائے گاکہ پولیس یا سی ڈی اے کے اہلکاران تاجروں کو کاروبار سے اٹھا کر لے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد جس طرح بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آئی اس حساب سے خوشحالی نہیں ہوئی اور ہم سب کو اس ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک تاجر کی حیثیت سے اپنا حصہ ادا کرنا ہوگاکیونکہ تجارت ایک مقدس پیشہ ہے اور تاجر معیشت کے فروغ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔اجلاس میں چیرمین الیکشن کمیشن حاجی امتیاز نے تاجروں کی درخواست پر الیکشن کی تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اسے24 اپریل تک کرانے کا اعلان کیااور کہا کہ کاغذات جمع کرانے کی تاریخ 19اپریل ہے۔اجلاس میںپاکستان کمپیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اور اسلام آباد چیمبر کے سینئر نائب صدر منور اقبال نے شرکت کی اور اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی قومی تاجر اتحاد کے نائب صدر اور جنرل سیکرٹری ٹریڈرز ویلفیرز ایسوسی ایشن ملک سہیل حسین نے بلیو ایریا کے تاجروں شوکت عباسی ، ساجد عباسی ،اسد رشد ،سید امین پیرزادہ،اقبال ماجد ، شیخ بلال احمد، اور صابر کاظمی کی خدمات کو سراہا۔

سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آزاد خود مختار الیکشن کمیشن بنایا جائے ۔یورپی یونین الیکشن آبزرور رپورٹ کی سفارشات



چیف الیکشن آبزرور مائیکل گیلز کا اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ سفارشات پر تبادلہ خیالانتخابی فہرستیں صاف شفاف بنانے اور انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع دیئے جانے پر اتفاق ،12 اکتوبر 1999 ء کے فوجی اقدام کے خلاف یورپی یونین کے موقف پر ملاقات میں اس کا شکریہ ادا کیا ‘ راجہ ظفر الحق
اسلام آباد ۔ یورپی یونین کے الیکشن آبزرور نے 18 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے اپنی مبصر رپورٹ میں حکومت پاکستان کو سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام اور انتخابی فہرستیں صاف شُاف بنانے کی سفارشات کو شامل کیا ہے ۔ بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے یورپی یونین کے چیف الیکشن آبزرور مائیکل گیلز نے اپنے وفد کے ہمراہ ملک کی حکومت و اپوزیشن جماعتوں کے راہنماؤں سے مشترکہ ملاقات کی ۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد ‘ پی پی پی پی کے راہنما سید نیئر حسین بخاری ‘ سابق وزیر اطلاعات پاکستان مسلم لیگ ( ق ) کے راہنما نثار اے میمن ‘ عطیہ عنایت اللہ اور عوامی نیشنل پارٹی و ایم کیو ایم کے نمائندے شامل تھے ۔ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے مشترکہ ملاقات میں 18 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے یورپی یونین کے مبصرین کی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو یورپی یونین کی سفارشات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی ۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے 18 فروری کے انتخابات کے حوالے سے اپنے نکتہ نظر اور موقف سے بھی یورپی یونین کو آگاہ کیا ۔ یورپی یونین اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اس اجلاس میں جمہوری عمل کے استحکام کے لئے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آزاد و خودمختار الیکشن کمیشن پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ جبکہ اس سفارش کو یورپی یونین کی مبصر رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے ۔ اپنی سفارشات میں یورپی یونین نے انتخابی فہرستوں کی شفائیت پر بھی زور دیا ۔ ملاقات کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہم نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں جمہوریت و آئین کی بحالی کے حوالے سے اختیار کئے گئے موقف کو احسن قرار دیا ۔ بالخصوص 12 اکتوبر 1999 ء کے فوجی اقدام کے خلاف یورپی یونین نے جس موقف کا اظہار کیا اور پاکستان میں جمہوریت آئین اور بنیادی حقوق کی بحالی کا جو مطالبہ کیا تھا یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں خامیاں موجود ہیں فہرستوں میں دہرے ووٹ در ج ہیں جس کا یورپی یونین کے مبصرین کی رپورٹ میں بھی ذکر موجود ہے ۔ صاف شفاف انتخابات کے لئے درست انتخابی فہرستیں ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے اپنے موقف کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ انتخابات کے موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع حاصل نہیں تھے ۔ صدر کی جانب سے ایک سییاسی جماعت کی پشت پناہی کی جا رہی تھی ۔ راجہ ظفرا لحق نے یورپی یونین کے ساتھ اس اجلاس کو مفید قرار دیا ۔

صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب چھوڑنا ہو گا۔جنرل ( ر ) حمید گل




اسلام آباد ۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیاء الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا ۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ حمید گل نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قوم امن پسند ہے انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے دفاعی و سیاسی تجزیہ نگار جنرل ( ر ) طلعت مسعود نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تقریباً تمام دروازے بند ہو گئے ہیں اور ان کے لئے 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا کیونکہ اس کے استعمال کا اب ماحول نہیں رہا ۔ جنرل ( ر ) طلعت مسعود نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے لئے اب کٹھن وقت آ گیا ہے اور اگر ججز بحال ہو جاتے ہیں تو ان کا اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے ۔ جنرل ( ر ) طلعت مسعود نے کہا کہ 58 ٹو بی ایک خاص ماحول میں استعمال ہو سکتا ہے اب چونکہ حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور لوگ جمہوریت چاہتے ہیں اس لئے 58 ٹو بی کے استعمال کا ماحول نہیں رہا ۔ اس لئے اگر صدر مشرف ایسا کریں گے تو عوام قبول نہیں کریں گے اور حالات بالکل خراب ہو جائیں گے ایک سوال پر جنرل ( ر ) طلعت مسعود نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے بے نظیر کو تحفظ کے لئے سیکیورٹی نہیں دی تھی جس کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو علم تھا کہ بے نظیر کے لئے خطرہ تھا ۔ بعض جنگجوؤں قوتیں ایسا کر سکتی تھیں اس لئے انتظامیہ کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنی چاہئے تھی ایسا نہ کر کے انتظامیہ نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ۔

اکستان میں امریکہ کا ایک نہیں کئی مہرے موجود ہیں ۔ قاضی حسین احمد




لاہور ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے ۔ ۔ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ اس امرکا اظہار انہوں نے منصورہ میں المجمع العالمی لتقریب بین المذاہب الاسلامیہ کے سربراہ جناب آیت اللہ محمد علی التسخیری کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے بعد صحافیوں سے ان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایرانی قولصلیٹ اور خانہ فرہنگ ایران کے سربراہ بھی موجود تھے ۔ آیت اللہ محمد علی التسخیری نے صحافیوں سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو دنیا میں موجود چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور سورج کے نیچے اسے کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔ قاضی حسین احمد نے صحافیوں سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک مہرا نہیں بلکہ بہت سے مہرے موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد نے ججوں کی بحالی پر جوعملی کمٹمنٹ دی ہے اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی پر توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد قرآن وسنت کی روشنی میں اہداف کو حاصل کرتے ہوئے یہاں اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ محمد علی التسخیری کا مقصد بھی اسلامی دنیا کو متحد کرنا ہے ۔ اس مقصد کیلئے وہ مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں ۔ ان کی پاکستان آمد کا مقصد بھی یہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ انہوں نے امت مسلمہ کو دوبارہ منظم کرنے اور اسے متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور قرآن وسنت کے حوالے سے ان مسائل کی نشاندہی کی ۔ دین کے غلبہ کیلئے امت کا متحد ہونا ضروری ہے اور یہ اس پر فرض ہے ۔

اب جو بھی ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ،اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو گا ، یوسف رضا گیلانی



ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں پر امن لوگ ہیں ، عوام بھی پر امن رہیں ، لاہور اور رائے ونڈ میں بات چیت
معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بات چیت
لاہور ۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آج بدھ کے روز لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس کے بعد اور رائے ونڈ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔رائے ونڈ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔عوام اپنے اندر اتحاد پیدا کریں عوام پر امن رہیں ۔ہم پر امن عوام کے ذریعے اس ملک میں حالات بہتر کریں گے ۔یقیناً ملک میں امن ہو گا تو معاشی ترقی بھی ہو گی اس لیے ہم پورے ملک کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی ہمیں ورثے میں ملی ہے ۔کراچی میں آپریشن کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں ہیں ہم پرامن لوگ ہیں ہم پر امن طور پر مسائل حل کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر میاں نواز شریف بھی موجود تھے تاہم انہوں نے اخبار نویسوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ قبل ازیں لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سارک کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہاہے ۔ سارک ممالک پر امن اور ترقی پسند ہونا چاہیے۔ ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔ 21 ویں صدی چیلنجز سے بھرپور ہے ہمیں اپنی طاقت اور کمزوری کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی وضع کرنا ہو گی ۔انہوں نے کہاکہ سارک ممالک نے آزادانہ تجارت کامعاہدہ کر رکھا ہے ۔ ہم تمام ممالک سارک کے مقاصد پورے کرنے کے لیے کمٹڈ ہیں ۔پاکستان نے سارک کی بزنس کمیونٹی کو قیادت فراہم کی ہے یہ ایک چیلنج بھی ہے مجھے یقین ہے اس چیلنج سے عہدہ براء ہوں گے ۔ہم لمبے راستے پر چل رہے ہیں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کے روز لاہور میں دو بچوں کے ساتھ ریل کے سامنے چھلانگ لگانے والی خاتون کے ہاں بھی گئے انہوں نے مذکورہ خاتون کی بچیوں کی شادی ، مالی امداد اور رہائشی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہوتا ترقی کیسے ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان ججز کی بحالی پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ۔

I want to direct films, but later: Manisha Koirala



Mumbai:After staying away from the arclights for a couple of years, Nepali beauty Manisha Koirala returns with "Sirf - Life Looks Greener On The Other Side". The actress also plans to take up direction in a year or two.
"Definitely, I do want to direct films. But right now the priorities are different. May be in a year or two I will start direction too," Manisha told IANS."But believe me, being an actor is the most blessed position because they are the most pampered lot," said the 30 plus actress who comes from a politically prominent family in Nepal. Her granduncle G.P. Koirala is the current prime minister there.She debuted in Bollywood with Subhash Ghai's super hit "Saudagar" and went on to star in films like "1942: A Love Story", "Bombay", "Gupt", "Dil Se" and "Kachche Dhaage".After Kamal Haasan's "Mumbai Express" in 2006, "Sirf" is the first film in which she will be playing the main lead. She made sporadic appearances in duds like "Darwaza Bandh Rakho" and "Anwar". She also went off to the US for a film course.Manisha is paired opposite Kay Kay Menon in "Sirf", a film about four couples that has been directed by Raajatesh Nayar, erstwhile assistant of Raj Kumar Santoshi."I am playing the character of Devika who is married to Kay Kay. I own an ad agency. My character is very lonely because her husband is too busy with his work. But she is strong too and holds her own even when the odds are totally against her," Manisha said.Manisha says she doesn't identify with her character in the film except that she too is a strong person in real life."Yes, I am a strong woman, but Devika is not me completely. In some places I do connect with the character and that's all. The film is about vacuum in people's life, how they think everybody else has more than them. I have never had that kind of misconception."The film also strars Sonali Kulkarni-Ranvir Shorey, Parveen Dabbas-Rituparna Sengupta and Ankur Khanna-Nauheed Cyrusi as couples. "I have worked with Kay Kay, Parveen and Ranbir. While Kay Kay is an extremely strong but subtle artiste, Parveen is extremely expressive and casual about it. Ranvir is good. They all had their own style and each is very good but Kay Kay is brilliant. He can enact the most intense scene without any histrionics."About the director, she said: "I have worked with Raajatesh during 'Lajja'. So technically I do know him. He is a very good and clear-cut director. He has a very clear vision of what he wants. Although he had trained under Santoshi, his style of filmmaking is very different.""I think 'Sirf' is closer to 'Life in a... Metro' than any of the films made by Santoshi. Because of his training and exposure, Raajatesh has shown a lot of maturity in handling the subject," she added.All the four couples belong to different levels of society and each has its own problems to deal with, but somewhere they all come across each other. En route the film has humour and also pathos at times. The film is scheduled for an April 25 release.Talking about her forthcoming projects, she said: "I am in talks with many makers for various international projects. I will choose with care. Then 'Chehra' is on the floors. In this film I play the role of a complete diva."

Deepika Padukone plays double role in 'Chandni Chowk To China'



Mumbai: Director Nikhil Advani, who has been shooting with hectic celerity in China for his new action-comedy "Chandni Chowk To China", confirms that Deepika Padukone is playing double role in the movie.
"That's right," confirmed Advani. "Deepika is doing a double role in my film."This would be Deepika's second double role after her debut "Om Shanti Om".When quizzed him about the music of the film, Advani told IANS: "While the rest of the score by Shankar-Ehsaan-Loy, with a little help from Kailash Kher, is completely original, we've used Bappi Lahiri's 'Bombay se aaya mera dost' from the film 'Aap Ki Khatir'. Bappi has reworked and re-sung the song."Advani's directorial debut "Kal Ho Naa Ho" was a runaway success at the box office, but his second film "Salaam-e-Ishq" was letdown. "Chandani Chowk to China" is a mega-budget film and is produced by Warner Brothers and Rohan Sippy.

Olympic torch tours China-friendly Pakistan



ISLAMABAD, Pakistan - Pakistan welcomed the Olympic torch Wednesday for what its pro-China government hopes will be a festive and trouble-free leg of its world tour.
Protests against China’s human rights record have marred the torch’s passage through Western cities, and Pakistan has gone to great lengths to avoid any repeat during its short stay en route to Beijing.
A plane bringing the torch from Oman arrived at the military section of Islamabad airport shortly after midnight. A Chinese Olympic official carried a lantern containing the Olympic flame down the steps of the jetliner to where Pakistani sports chiefs and the Chinese ambassador were waiting.
After briefly posing for photographers with the lantern, the officials entered the terminal. Pakistani state television said the flame would be kept at a luxury hotel overnight.
Later Wednesday, about 60 Pakistani athletes will take turns to carry it to a ceremony featuring folk music and dancing at the city’s biggest sports complex before guests including President Pervez Musharraf.
But instead of carrying the torch in relay along a 3-kilometer (nearly 2-mile) route from the white marble parliament building in Pakistan’s grid-plan capital, as originally planned, the athletes will run only around the grounds of the Jinnah Stadium.
Col. Baseer Haider, an army official helping organize the event, said the change was made because of the overall security environment” and the risk of bad weather. A violent hailstorm hit Islamabad on Tuesday.
The Pakistan Olympic Association has urged broadcasters using state TV coverage of the torch to avoid negative comments” and make no mention” of the conflict in Tibet.
Pakistan has strong and long-standing defense and economic links with China. Both are rivals of neighboring India. Musharraf is expected to return from a six-day official trip to China in time for the torch ceremony.
There have been no indications that rights groups are planning to repeat in Pakistan their protests against China, which disrupted torch relays in Paris, London and San Francisco.
The torch’s stops in Argentinian, Tanzania and Oman have been trouble-free.
However, rioting in two Pakistani cities in the past week has raised tension in a country permanently on guard against attacks by Islamic militants based its border with Afghanistan. Chinese workers were targeted in two deadly attacks last year.
We have to take care that there is no infiltration by some elements who are bent on disrupting our understanding and great relationship,” Musharraf said in China on Monday.
The turmoil over the torch relay and the growing international criticism of China’s policies on Tibet and Darfur have turned the Beijing Olympic Games which begin Aug. 8 into one of the most contentious in recent history.
The flame, which began its worldwide six-continent trek from ancient Olympia in Greece on March 24, is due in India on Thursday.
Pakistani sports stars chosen to carry the torch include Hassan Sardar, a field hockey gold-medallist in the 1984 Los Angeles games and squash legend Jahangir Khan.

UN Security Council calls for disarming Hezbollah



UNITED NATIONS - The UN Security Council called Tuesday for the disarming of Hezbollah and all other militias in Lebanon and greater progress toward a permanent ceasefire and long-term solution to the conflict between Lebanon and Israel.
A statement adopted by consensus by the 15-member council reiterates its commitment to the full implementation of all provisions of Resolution 1701” which ended the 34-day war between Israel and Hezbollah in August 2006.
That resolution reiterates a call for the disarming of all militias and bans arms transfers to them. It calls on the government to secure its borders and entry points to prevent the entry into Lebanon without its consent of arms or related materiel.”
It also calls for Israel and Lebanon to support a permanent ceasefire and long-term solution based on full respect for the U.N.-drawn Blue Line along their border, security arrangements to prevent the resumption of hostilities, and the disarmament of all armed groups in Lebanon so there will be no weapons or authority in Lebanon other than that of the Lebanese state.”
The statement adopted Tuesday took note of the progress and concerns expressed by Secretary-General Ban Ki-moon in his latest report on implementation of the resolution and emphasizes the need for greater progress on all the key issues required for a permanent ceasefire and long-term solution.”
It also called on all concerned parties, in particular in the region, to intensify their efforts in implementing resolution 1701, including by fully cooperating with the secretary-general in this regard.”
In his last report in March, Ban noted that Israel says Hezbollah is rearming and has an arsenal that includes 10,000 long-range rockets and 20,000 short-range rockets in southern Lebanon.
The report did not confirm Israel’s claim, but Ban reiterated his concern about Hezbollah’s public statements and persistent reports pointing to breaches of a U.N. arms embargo. He also expressed concern at the threats of open war against Israel” by Hezbollah leader Hassan Nasrallah.
Ban also expressed regret that the persistent deterioration of the political climate and the prolonged deadlock” over the election of a new Lebanese president which remains unresolved today have made it impossible to deal with the disarmament issue.
In a report in late October, Ban drew attention to alleged breaches of the arms embargo and the transfer of sophisticated weapons from Iran and Syria both strong backers of Hezbollah across the Lebanon-Syria border. Syria disputed the claim.
U.S. Ambassador Zalmay Khalilzad said negotiations on the good, acceptable” statement took time because it involved different countries inside and outside the Security Council
With regard to the implementation, I think there are pluses and minuses there,” he said. We would like to see more progress on disarming militias.”
France’s U.N. Ambassador Jean-Maurice Ripert said: We are very satisfied by the fact that the Security Council was in a position to adopt unanimously a presidential statement to the end of supporting Resolution 1701 implementation.”

Reconciliation policy to continue: Gillni



ASSOCIATED PRESS SERVICE



LAHORE : Prime Minister Syed Yusuf Raza Gilani said Wednesday that PPP would continue to pursue the policy of reconciliation as it wanted to take along all political parties. He was talking to the media persons after meeting the PML-N chief Mian Nawaz Sharif at his residence at Raiwind.
Asked whether the process of talks for reconciliation with the MQM was over, he said, “There are ups and downs in politics, but the policy to seek reconciliation will continue.”
Mian Nawaz Sharif, Shahbaz Sharif, Chief Minister Punjab Dost Muhammad Khosa, Zulfiqar Khosa, Hussain Nawaz and Hamza Shahbaz were also present on the occasion.
To a question, the Prime Minister said that decisions on all issues would be taken in consultation with the coalition partners.
Regarding the recent demonstration in Multan, he said, “The power and flour crises are the result of the wrong policies of the previous regime, and the present government will overcome all these problems with the cooperation of the masses.”
He said miscreants were involved in the incidents in Multan who wanted to divert people’s attention from the real issues, adding that they probably targeted Multan as the Prime Minister is from there.
Gilani urged people to remain peaceful to foil the evil designs of such elements and ensure peace in the country which was vital for economic development.
To a question about the future of President Pervez Musharraf, he said, “The decision in this regard will be taken according to the constitution”.
Regarding reinstatement of the deposed judges, he said, “We are committed to take steps in this regard as per the Bhurban Declaration”.
To another question, the PM said, “I have come here to meet Mian Nawaz Sharif, and have a close association with him since long. When he was the finance minister of Punjab, I was chairman District Council Multan, and we enjoyed a good relationship”.

Govt machinery to serve as facilitator, not regulator: PM




LAHORE : Prime Minister Syed Yusuf Raza Gillani has said that the government machinery will serve as a facilitator rather than a ‘regulator’ and that all unnecessary barriers in way of economic growth will be removed. “We will not allow the pace of economic growth of the country to be impeded, and are determined to facilitate the private sector in this connection,” he said while addressing a seminar on “Economic Freedom - a stimulator in achieving business excellence in South Asia”.
The seminar was organised by SAARC Chamber of Commerce & Industry (SCCI) in collaboration with the Federation of Pakistan Chamber of Commerce & Industry (FPCCI), supported by Friedrich Naumani Stiftung (FNS).
Governor Punjab Lt Gen ® Khalid Maqbool, President SCCI Tariq Saeed, President FPCCI Tanvir Ahmed Sheikh, Resident Representative FNS in Islamabad, Peter Andreas Bochman, and leading businessmen including Iftikhar Ali Malik were among the participants.
The Prime Minister said that SAARC is at a crucial crossroads, it has achieved much, but certainly has the potential to achieve much more.
He said that the strengths and weaknesses of SAARC need to be analyzed, and member nations should convert debate and deliberations into concrete action—in order to meet the enormous challenges of the fast changing 21st century.
The Prime Minister said that member nations of SAARC have a collective responsibility to demonstrate the courage, commitment and foresight to transform South Asia into a progressive, peaceful and prosperous region.
A paradigm shift in thinking and attitude as a whole will be required to achieve this objective, which is the sincere and earnest desire of all member states, he added.
He expressed confidence that the South Asian business community has the determination and the imagination to ensure such a transformation that could help achieve the noble objectives for which SAARC was created.
Pakistan is privileged to be the current leader of the SAARC business community, he said, adding that it is both an honour as well as a challenge.
“I am sure that the chamber under the dynamic leadership of Tariq Saeed and his capable team will add a new chapter in the history of SAARC. This can be done by enhancing economic cooperation and forging new alliances to tap the full potential of the member countries”, he said.
He said that islands of affluence and centers of excellence exist in different parts of South Asia, and emphasised upon the need to harness the potential of these centres.
SAARC has succeeded in developing and elaborating a framework for regional cooperation, he said, adding that from small beginnings limited to technical cooperation, the body is advancing towards agreements and decisions for substantive interaction.
“We have programmes aimed at social uplift, poverty alleviation, vigorous people-to-people contacts, creation of a free trade arrangement and environmental protection, which are all areas of vital importance”, he observed.
The Prime Minister said that Industry has rightly indicated that intra-regional trade of only 6 percent does not reflect the potential available in the region, adding that the business community of SAARC will surely play its due role in tapping the existing potential.
The trade liberalization program to be concluded by 2016 will provide a level playing field to all member states, he said, adding that inclusion of services in SAFTA negotiations would further widen the sphere of commercial activities in the region.
Gillani said that Pakistan as a free market economy possesses enormous potential for investment.
“Our government has embarked upon a liberalized economic policy, which will not only help in expansion of economy but also promote economic freedom in the country”, he said.
He requested the business community of SAARC to benefit from the liberalized investment and trade policies in Pakistan, and said that it will not only help strengthen relations but will also contribute positively towards regional development.
The Prime Minster said that politically elected leadership of Pakistan is very much aware of the benefits of Economic Freedom and manifesto of present government is to ensure the socio-economic freedom of the society.
In the prejudiced policies of the past regimes in the region, economic freedom has been one of the neglected items in their agenda.
Economic Freedom ensures rule of law, promotes democracy, secures basic human rights, and confers rights of doing business, he said.
“ Our party is a fervent supporter of Economic Freedom and perceives economic freedom as an instrument of economic well-being of the country.
Yousaf Raza Gillani said that the people of South Asia were engaged in commerce with each other for centuries and they must build on their ancient civilizational and commercial linkages by renewing and nurturing the economic, social and cultural ties that bind this region together.
President SCCI Tariq Sayeed in his address requested the prime minister to minimize the bureaucratic and political hurdles coming in way of promotion of business in the country.
He also praised former Prime Minister Benazir Bhutto for her initiatives and vision to bring prosperity economic well-being in Pakistan as well as South Asian region.
President FPCCI Tanveer Ahmed Sheikh said that higher economic freedom bring higher per capita income. He said that most of the countries in South Asian Region do not enjoy much economic freedom.
He emphasised upon the need to control corruption to provide freedom to the businessmen and industrialists from corrupt elements.

Parliament to decide on judges’ restoration: Gilani




LAHORE : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Wednesday said the parliament will decide about the issue of restoration of deposed judges. He was responding to questions from media after attending the SAARC seminar on ‘Economic Freedom’ held at a local hotel here.About the future of President Pervez Musharraf, the Prime Minister said that everything would be done as laid down in the constitution of the country.