International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, April 23, 2008

Inam Aziz was voice of truth: speakers




LONDON : Rich tributes were paid to the journalistic skills of late Inam Aziz at a function held at the Pakistan High Commission on Tuesday to mark the publication of his book “Stop Press: A life in journalism”.
This account of Inam’s life in journalism was originally written in Urdu but the English translation has been done by a noted US-based journalist and writer Khalid Hasan who specially flew from Washington to attend the event.
Speaking on the occasion, Pakistan High Commissioner to the United Kingdom, Dr.Maleeha Lodhi praised the services rendered by Inam Aziz in the field of journalism.
She said after reading the book, she admired the courage and professionalism of Inam in upholding the truth in times of adversity. She noted that books convey the intellectual development of the communities and Inam’s autobiography has aptly shown his bravery and conviction in telling the readers the real facts.
Khalid described Inam as one of the stalwarts of Urdu journalism in Pakistan who rose to become the editor of the London edition of the Jang. He said during the era of General Ziaul Haq in Pakistan, Inam’s daily Millat was the only newspaper that fought his dictatorship with courage and sincerity.
“He lost both his money and his health in that lonely fight but will always occupy a place of honour in Pakistan’s history as a result of his crusade against military rule and for his part in the establishment of representative government in the country.”
He narrated many interesting anecdotes about the journalistic abilities of Inam with whom he had close friendship while based in London. “He was a master of headlines who translated news with great clarity and speed,” said Khalid.
He said book provides a clear insight into the growth of journalism in Pakistan and the pressures and setbacks suffered by the country’s journalists in their endeavour to report the truth.
Inam’s colleague Hamraz Ahsan spoke of their days working together in bringing out the London edition of Millat while similar messages were read out on behalf of his BBC colleagues Raza Ali Abdi and Asif Jilani.
Son Imtiaz Aziz spoke of his father’s passion for journalism and upholding freedom of speech and his trials and tribulations. Inam died in 1993, aged 65 years.
Minister Press Imran Gardezi conducted the largely attended proceedings.

Actress Nicole Kidman urges support for campaign to eliminate violence against women







UNITED NATIONS : Oscar-Award winning actress and U.N. Development Fund for Women (UNIFEM) Goodwill Ambassador Nicole Kidman and senior world body officials have called for greater support for an online petition aimed at eliminating violence against women.
“Every voice counts, and every amount counts,” Ms. Kidman told reporters at UN Headquarters in New York, urging people to add their names to the campaign and donors to step up funding for the cause. “Let survivors of violence around the world know that they can count on us.”
When asked about her motivations in taking part in the movement, the Ambassador said that as a mother of two who is seven months pregnant, she seeks to help both her own children and children around the world have a “better life.”
Since its launch late last November, the “Say NO to violence against women” petition has garnered more than 200,000 supporters.
“By signing on, citizens send an unequivocal message to leaders around the world, letting their governments know that they want to see decisive action,” Joanne Sandler, UNIFEM Executive Director, said at the press conference. “They want to see an end to impunity, services for survivors and, most importantly, strong investments in prevention.”
In a welcome development, governments have started to sign on to the campaign, including the entire Senegalese Cabinet, led by the West African nation’s President, she added.
In response to a journalist’s question over whether the current number of signatures is a disappointment, Ms. Sandler said that she is thrilled at the current response, observing that”this is something that catches on over time.”
Deputy Secretary-General Asha-Rose Migiro said that the UN system is now converging around this key topic, noting that in February, Secretary-General Ban Ki-moon kicked off a multi-year global campaign bringing together the world body, governments and civil society to try to end violence against women and called it an issue that “cannot wait.”
Characterizing it as the “most pervasive human rights violation,” Ms. Migiro said that violence against women “transcends borders, cultures and economic differences.”
Calling on the international community to cooperate in stemming the scourge, UN Foundation (UNF) President Timothy Wirth said that everyone can play a part.
“Taking the simple step of signing on to this campaign sends the message that enough is enough, and that the cycle of violence must stop now,” he said.

میں تو اب ایک نیا پاکستان دیکھ رہا ہوں،عمران خان



کراچی . ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 81 فیصد پاکستانی چیف جسٹس کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں، ان دونوں لیڈروں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ پبلک کے مینڈیٹ کے تحت فیصلہ کیا ہے اور اتنی ہی اکثریت جنرل مشرف کو چاہتی ہے کہ وہ ملک کا پیچھا چھوڑیں، آنے والے دنوں میں ایک عجیب منظر نظر آرہا ہے کے جواب میں عمران خان نے کہا میں تو اب ایک نیا پاکستان دیکھ رہا ہوں۔ ایم کیو ایم کے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا پیپلز پارٹی الیکشن جیت گئی ہے اب پاور شیئرنگ کیوں چاہتے ہیں۔

سہ ملکی ارکان پارلیمنٹ کا سیمینار، اٹھاون ٹو بی موضوع سخن رہا



اسلام آباد منگل کو اسلام آباد میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کے ارکان پارلیمنٹس کے مشترکہ سیمینار میں 58(2) بی کے صدر کے تحلیل اسمبلی کا صوابدیدی اختیار ، تینوں ملکوں کے پارلیمنٹرینز کا موضوع سخن بنا رہا ۔ اس سیمینار کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاسٹ) نے کیا تھا۔ جس میں ملک کی قابل ذکر جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹس نے اظہار خیال کیا ۔ افغان پارلیمنٹرینز کی دلچسپی تھی کہ جمہوری نظام میں کیا چیک اینڈ بیلنس ہونے چاہئیں اور صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن کیلئے کیا ہونا چاہئے۔ پاکستان کی جانب سے مسلم لیگ (قائداعظم) کے رہنما اور پارلیمانی حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ ریاض فتیانہ ، بھارتی راجیہ سبھا کی سابق ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر نجمہ ہیبت اللہ ، افغان پارلیمنٹرینز انجینئر محمد آصف ، خانم طیبہ زاہدی، میر زاہد، خانم جج راحیلہ ، سید ہاشم فولاد نے اس مکالمے میں اظہار خیال کیا۔ افغان پارلیمنٹرینز کا کہنا تھا کہ محفوظ جمہوریت کی اڑان کیلئے تجربہ کار پائلٹ کی ضرورت ہے تاکہ کریش لینڈنگ سے بچا جاسکے اور محفوظ لینڈنگ ہوسکے ۔ افغان پارلیمنٹرینز نے کہا کہ ہمارے ہاں پارلیمنٹ شباب پر نہیں، یہ بچہ پارلیمنٹ ہے۔ اسے گھٹنوں کے بل چلنے دیں جس پر ریاض فتیانہ نے کہا کہ ہمارے ہاں دو مرتبہ خاتون (بے نظیربھٹو) وزیراعظم رہی ہیں اور پہلی مرتبہ ایک خاتون قومی اسمبلی کی اسپیکر منتخب ہوئی ہیں ۔ کابینہ بن گئی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس میں خواتین کی نمائندگی بھی ہوگی ۔ بھارتی ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر نجمہ ہیبت اللہ نے ریاض فتیانہ کو یاد دلایا کہ آپ کی موجودہ کابینہ میں بھی ایک خاتون وزیر ہیں جن کا نام ہے بیگم تہمینہ دولتانہ، افغان پارلیمنٹرینز نے اپنے پاکستانی ہم منصب نشینوں سے پوچھا کہ وزیروں کو کیسے پریشرائز کیا جائے۔ ریاض فتیانہ نے جواب دیا کہ آپ پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات اور تحریکوں کے ذریعے وزیروں پردباؤ ڈال سکتے ہیں۔ افغانیوں نے پھر سوال کیا کہ کسی وزیر کو کیسے نکالا جائے تو ڈاکٹر نجمہ ہیبت اللہ نے کہا کہ وزیر کو صرف وزیراعظم ہی برطرف کرسکتا ہے۔

موجودہ سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ قبول نہیں،قاضی حسین احمد




کراچی. امیرجماعت اسلامی قاضی حسین احمد کا بیان سامنے آیا ہے کہ ہمیں موجودہ سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ قبول نہیں قاضی حسین احمد نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی فیصلہ ہے،موجودہ سپریم کورٹ حقیقی نہیں جعلی کورٹ ہے جو 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے بعد پرویز مشرف نے پی سی او کے تحت تشکیل دی تھی۔ہم پی سی اور چیف جسٹس پر اعتماد نہیں کرسکتے ،ہم تو چاہتے ہیں کہ وہ جلدی سے جائیں اور افتخار محمد چوہدری آئیں۔اس سوال پر کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس موجودہ حکومت کا ایسا بنیادی ستون ہے جس کی وجہ سے موجودہ مخلوط حکومت کا قیام ممکن ہوا،قومی مفاہمتی آرڈیننس کے حکمِ امتناعی کواسی سپریم کورٹ نے ہٹایا تھا،اب مخلوط حکومت کے ججز کے بحا لی کے عزم کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں،جواب دیتے ہوے قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس پر جب ججز بحال ہوں گے تب بات کریں گے۔گریجویشن کی شرط کے خاتمے سے بعض سیاسی رہنماؤں کہ پہنچنے والے ممکنہ فائدے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ جب میں سپریم کورٹ کو ہی نہیں مانتا تو اس کے فیصلے پر کیا تبصرہ کروں۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پارلیمنٹ دوتہائی اکثریت کے ذریعے سترھویں ترمیم کو ختم اور صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا متنازع ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ




کراچی. ہائر ایجوکیشن کمیشن نے متنازع ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک باقاعدہ کمیٹی بھی بنادی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بتایا کہ ٹینور ٹریک سسٹم اور فارن فیکلٹی ہائرنگ پروگرام پر بھی دوبارہ غور کیا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس 2002ء میں صدر مملکت کی ہدایت پر ٹاسک فورس نے تیار کیا تھا اور پھر اسے بتدریج ملک کی جامعات میں نافذ کردیا گیا تھا۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی مخالفت کے باوجود بلوچستان یونیورسٹی ایکٹ ختم کر کے ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس نافذ کردیا گیا تھا ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس میں یونیورسٹی کے منتخب جمہوری اداروں سینڈیکٹ اور اکیڈمک کونسل کے اختیارات محدود کر کے وائس چانسلر کے عہدے کو زیادہ طاقتور بنادیا گیا تھا جبکہ وائس چانسلر کے عہدے کی مدت 4سال سے بڑھا کر 5سال کردی گئی تھی۔ اسی آرڈیننس کے باعث بلوچستان یونیورسٹی کے کئی ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں سے بھی نکالا گیا یہی وجہ ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کی صورتحال دگرگوں ہے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ کراچی میں فیڈرل اردو یونیورسٹی اسی ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کے تحت قائم ہوئی اورا س یونیورسٹی کو 5سال گزرنے کے باوجود استحکام میسر نہیں آیا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نےبتایا کہ اس آرڈیننس کی تیاری میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ہاتھ نہیں تھا۔ صدر مملکت نے ایک ٹاسک فورس بنائی تھی جس میں آغا خان یونیورسٹی کے سابق صدر شمس قاسم لاکھا ، لمس کے بابر علی اور دیگر افراد شامل تھے، اس ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں یہ آرڈیننس تیار ہوا اور اکتوبر 2002ء میں وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی جبکہ ہائر ایجوکیشن اس کے بعد قائم ہوا تھا انہوں نے کہا کہ ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس پر نظر ثانی کر کے اسے بہتر بنایا جارہا ہے اسی طرح ٹینور ٹریک سسٹم اور فارن فیکلٹی ہائرنگ پروگرام پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی بنادی گئی ہے۔

قرار داد کے ذریعے جج بحال نہیں ہوسکتے ، ملک قیوم ، ہم ایسا کرینگے، وفاقی وزیر

کراچی. اٹارنی جنرل پاکستان ملک عبدالقیوم نے کہا ہے کہ محض ایک پارلیمانی قرار داد کے ذریعے جج بحال نہیں ہوسکتے ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ دونوں قائدین کے درمیان ہونے والی پریس کانفرنس میں نے پوری طرح سنی ہے جس صرف یہ کہا گیا ہے کہ ہم ججوں کو بحال کریں گے اور اس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور وہ کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اُسے قبول کیا جائے گا۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی پر کسی کو اعتراض نہیں البتہ اُنہیں بحال کرنے کا طریقہ کار پر اعتراض ہے۔اس پر مزید بحث اُس وقت اچھی لگے گی جب اِس سلسلے میں قرار داد پیش ہوگی ۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججوں کی بحالی پر وزیر اعظم کا مشورہ ضرور لیا جاتا ہے البتہ ابھی تک وزیر اعظم کا کوئی مشورہ میرے سامنے نہیں آیا ۔ میر ہمایوں عزیز کرد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک عبدالقیوم ہماری حکومت کے اٹارنی جنرل نہیں ، وہ محض ون مین شو کا کردار ادا کررہے ہیں اُنہیں جو حکم ملتا ہے وہ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ معزول جج صرف پارلیمانی قرار داد کے ذریعے ہی بحال ہوں گے ، ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اس طرح بحال ہو کہ مستقبل میں اُس کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔ ایک سوال پر ہمایوں کرد کا کہنا تھا کہ اُلٹی گنتی پر کوئی یقین نہیں رکھتا ، گنتی ہمیشہ سیدھی ہونی چاہئے۔ججوں کے ٹرن اوور سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ، ہم عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے بلوچستان یونیورسٹی کے چانسلر صفدر کیانی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد ملک میں دہشت گردی کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ دہشت گردوں کے کیا مقاصد ہیں۔ پاکستان مسلم دُنیا کی ایٹمی قوت ہے اور اسے غیر مستحکم کرنے کیلئے محترمہ کی شہادت، بلوچستان آپریشن جیسی سازش ہو رہی ہیں ۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے علاوہ کوئی اور سازش نہیں کررہا ، اٹارنی جنرل کا بیٹھے رہنا بھی ایک سازش ہے۔ سازشی عناصر نہیں چاہتے تھے کہ نوازشریف اور آصف زرداری اکٹھے ہوجائیں ، یہ تمام لوگ اپنی انا کی خاطر اس ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگارہے ہیں۔ سازشیں اس وقت تک کارفرما نہیں ہوں گی جب تک ہم متحد رہیں گے۔ چیف جسٹس کی بحالی ہماری جدوجہد کا پہلا قدم ہے ۔یہ پارلیمان سازشوں کے خلاف جنگ کررہی ہے ۔ اطہر من اللہ سب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ معزول جج بحال ہوکر آصف زرداری کے پرانے کیس دوبارہ اوپن کریں گے تو اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ جج غیر جانبدار ہوتے ہیں تاہم جو فیصلے ہو چکے ہیں ہمیں اُنہیں بھلاکر آگے کی طرف چلنا ہے ۔دونوں سیاسی قائدین نے 3-4 مرتبہ قوم کے سامنے اپنے وعدے کو دہرایا ہے اور دونوں لیڈران کو عوامی امنگوں کا بخوبی علم ہے اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ قوم سے کیا ہوا ہر وعدہ پورا کیا جائے گا۔ اقبال ظفر جھگڑانے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 8 برس آمریت کے خلاف جدوجہد کی ، چند قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتیں لہٰذا جو دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔

آئی پی ایل: دہلی ڈیئر ڈیولز نے دکن چارجرز کو 9 وکٹوں سے ہرا دیا

کراچی . انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں منگل کو دہلی ڈیئرڈیولز نے کپتان وریندر سہواگ کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت لکشمن کے دکن چارجرز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔ جیو سوپر نے راجیو گاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم حیدرآباد دکن سے میچ براہ راست نشر کیا۔تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرے اسٹیڈیم میں ہوم سائیڈ دکن چارجرز کے کپتان وی وی ایس لکشمن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، شائقین کرکٹ کے لیے یہ مناظر بڑے جوش بھرے تھے جب آسٹریلین بولنگ کے مضبوط ستون اور دنیائے کرکٹ میں اپنی بالادستی کا لوہا منوانے والے میک گرا اپنے ہی ہم وطن جارحانہ بلے باز ایڈم گلکرسٹ کے مقابل تھے تو دوسری جانب ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں تیزترین سنچری بنانے والے پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی کومحمد آصف کی تیز ترین گیندوں کا سامنا کرنا تھا۔ تجربے کار میک گرا کے پہلے اوور میں ایڈم گلکرسٹ اور گوپال صرف ایک رن ہی بناسکے۔گلکرسٹ نے دوسرے اوور میں آصف کی لیگ اسٹمپ سے باہر جاتی گیند کو زوردار چھکے میں تبدیل کیا تو پورا اسٹیڈیم خیرمقدمی نعروں سے گونج اٹھالیکن اسی اوور میں محمد آصف نے گلکرسٹ کو بولڈ کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے دیا۔ ایڈم گلکرسٹ کا دوسرے ہی اوور میں آؤٹ ہوجانا دکن چارجرز کے لیے پریشانی کا باعث تھا، اس وقت ٹیم کا اسکور بھی صرف 9رنز تھا۔چھٹے اوور کی پہلی گیند پر آصف نے خوبصورت اور تیزرفتاران سوئنگ بال پر دکن چارجرز کے کپتان لکشمن کی مڈل اسٹمپ اکھاڑی تو دہلی ڈیئر ڈیولز کے حامیوں کی خوشی دیدنی تھی۔ آصف اورمیک گرا کی نپی تلی بولنگ کے سامنے دکن چارجرز5.1اوورز میں صرف 23رنز ہی بناسکے تھے۔8ویں اوور میں40کے مجموعی اسکور پر ونے گوپال نے ماہروف کو اونچاشاٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن باؤنڈری لائن پر موجوددھاون نے کیچ لیکر دکن چارجرز کو ایک اور نقصان پہنچایا۔10ویں اوور میں آسٹریلیا کے ممتاز آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈ بھی ماہروف کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ 45رنز پر 4کھلاڑی آؤٹ ہونے پر دکن چارجرز کو مشکلات کاسامنا تھا ، ایسے میں شاہد آفریدی بیٹنگ کے لیے کریز پر آئے تو شائقین نے بھرپور انداز میں ان کا استقبال کیا۔ ہر ایک کو یہ توقع تھی کہ آفریدی اپنے زوردار چوکوں اور چھکوں سے ہر ایک کو محظوظ کریں گے لیکن 13ویں اوور کی پہلی گیند پر سوئپ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آفریدی صرف 2 رنز بناکر بھاٹیا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو 60رنز پر 5کھلاڑی آؤٹ کا اسکور ڈیئرڈیولز کی شاندار بولنگ کی کہانی سنارہا تھا، صرف روہت شرما ہی اپنی ٹیم دکن چارجرزکا اسکور مستحکم پوزیشن پر لے جانے کیلئے ڈٹے ہوئے تھے۔ شرما نے کئی زوردار اور اونچے شاٹس کھیل کر ڈیئر ڈیولز کی بولنگ لائن کو چیلنج کیا۔ شرما کی نصف سنچری 31گیندوں پر 4 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے مکمل ہوئی۔ اننگز کے 18ویں اوور میں شرما نے ماہروف کو آڑے ہاتھوں لیا اور 2چھکوں اور 3 مسلسل چوکوں کے ذریعے 26 رنز سمیٹے۔ دکن چارجرز نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 142 رنز بنائے، روہیت شرما 36 گیندوں پر شاندار 66 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ دہلی ڈیئر ڈیولز کی جانب سے آصف، ماہروف اور بھاٹیا نے 2,2 وکٹیں حاصل کیں۔ 143رنز کے ہدف کے تعاقب میں دہلی ڈیئر ڈیولز کی اننگز کا آغاز گوتم گمبھیر او وریندر سہواگ نے کیا، ان کے مقابل بولر سری لنکا کے چمندا واس تھے۔ ڈیئرڈیولز کو پہلا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب چوتھے اوور میں گوتم گمبھیر 12 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے، اس وقت ٹیم کا اسکور 31 رنز تھا۔ وریندر سہواگ اپنے مخصوص انداز میں بولرز کی درگت بناتے رہے، سہواگ کی نصف سنچری 27گیندوں پر 7 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے مکمل ہوئی۔ اننگ کے 13ویں اوور میں سہواگ نے اینڈریو سائمنڈ کے اوور میں 3چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 30 رنز بنائے۔ دہلی ڈیئر ڈیولز نے سہواگ کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت 143 رنز کا ہدف صرف 13 اوور میں ایک وکٹ کھوکر حاصل کرلیا۔ سہواگ نے 41 گیندوں پر 6 چھکوں کی مدد سے 94 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔

ایم کیو ایم کے وزیر نے500 ارب کے سر کاری مکانات ساڑھے 4 ارب میں الاٹ کردیئے،رحمت کاکڑ




اسلام آباد . قومی اسمبلی میں گزشتہ روز نجی کارروائی کے دن کراچی میں سرکاری مکانوں کے الاٹیوں کو مالکانہ اہلیت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے ایشو پر وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات حاجی رحمت اللہ کاکڑ اور ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی کے درمیان جھڑپ ہو گئی،رحمت اللہ کاکڑ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے وزیر نے 500ارب کے سرکاری مکان ساڑھے چار ارب میں الاٹ کئے۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے کی۔ یہ جھڑپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، محمد حنیف عباسی، چوہدری محمد برجیس طاہر ملک ابرار احمد اور حمیر حیات خان روکھڑی کی جانب سے پیش کئے گئے توجہ دلاؤ نوٹس کے دوران ہوئی۔ ان ممبران نے مطالبہ کیا کہ سیکٹر جی سکس کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں اور انہیں رینجرز کے ذریعے مکانوں سے بے دخل نہ کیا جائے محرکین نے کہا کہ بعض بیواؤں اور ریٹائرڈ ملازمین کو رینجرز کے ذریعے بے دخل کرنے کا پلان بنایا گیا ہے اس فیصلے سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ سابق وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات صفوان اللہ نے کراچی میں سرکاری مکانوں کے الاٹیوں کو ملکیت کے سرٹیفکیٹ جاری کر دیئے ہیں پھر جی سکس کے مکینوں سے نا انصافی کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کم از کم انہیں فلیٹس بنا کر مالکانہ حقوق پر دیئے جائیں تاکہ وہ کہیں نہ کہیں سر چھپا سکیں۔ رحمت اللہ کاکڑ نے کہا کہ تجویز ہے کہ جی سکس کے موجودہ مکانوں کو گرا کر مرحلہ وار کثیر المنزلہ فلیٹس تعمیر کئے جائیں تاکہ ان میں موجودہ الاٹیوں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکے اورمزید سرکاری ملازمین کو بھی الاٹمنٹ کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی 17410سرکاری ملازم سرکاری مکان کیلئے ویٹنگ لسٹ پر ہیں اور ریٹائرڈ ملازم مکان خالی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ 15دن کے اندر جی الیون میں ایک ہزار فلیٹس کے رہائشی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھاجائے گا۔ کراچی کے سرکاری مکانوں کے بارے میں وزیرہاؤسنگ و تعمیرات نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ہے سرکاری ریٹ پر انکی قیمت ساڑھے چار ارب روپے ہے جبکہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کی قیمت 4.5ٹریلین ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں بباہنگ دھل کہتا ہوں کہ یہ الاٹمنٹ بوگس دستاویز پر کی گئی ایک افسر کو اسلام آباد سے لے جا کر فراڈ کے ذریعے ملکیت کے لیٹرز جاری کئے گئے اس افسر کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح سرکاری جائیداد کو بیچا گیا تو کل یہ ایوان بھی کسی کے ہاتھ بک جائے گا۔ ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراقبال محمد خا ن نے جذباتی لہجے میں دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر غلط بیان سے کام لے رہے ہیں کراچی کے مکانوں کے الاٹیوں کو محض سرٹیفکیٹ دیئے گئے تھے کوئی غلط کام نہیں کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جوچالیس پچاس سال سے وہاں رہ رہے ہیں سرٹیفکیٹ سے ان کی شناخت ہوجائیگی ۔جی سکس کے مکینوں کو بھی ان کا حق ملناچاہئے۔ حاجی رحمت اللہ کاکڑ نے ملکیت کاایک سرٹیفکیٹ لہراتے ہوئے کہا کہ پورا ایوان یہ لیٹر دیکھ لے یہ لیٹر کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری کئے گئے یہ اس شخص کی کارستانی ہے جو میری سیٹ پر بیٹھا تھا اب وہاں کثیر المنزلہ عمارتیں بن گئی ہیں 1800سرکاری دکانوں کا کچھ پتہ نہیں کہاں گئی ہیں۔

معزول ججوں کی بحالی ،ممکنہ حکومتی اقدام سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ عدلیہ کے صلاح مشوروں میں بھی تیزی

لاہور. اعلیٰ عدلیہ میں بھی معزول ججوں کی بحالی کے حکومت کے کسی ”ممکنہ اقدام“ سے نمٹنے کے لئے سوچ بچار اور صلح مشوروں کا سلسلہ تیزی پکڑ گیا ہے ۔ اعلیٰ ترین عدالتی حلقوں نے بتایا ہے کہ اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر معزول ججوں کی بحالی کے لئے حکمران اتحاد کے درمیان ہونے والی تمام بات چیت اور اقدامات کا انتہائی باریک بینی سے مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے جن کا 3نومبر کو ججوں کی معزولی اور نئی عدلیہ کے قیام میں اہم کردار رہا ہے نے بتایا کہ معزول ججوں کی بحالی کے لئے جاری تمام کارروائیوں کو اعلیٰ عدلیہ بڑے گہرے انداز سے دیکھ رہی ہے اور اگر حکومت ججوں کی بحالی کے لئے کوئی عملی قدم اٹھاتی ہے تو موجودہ عدلیہ کا ردعمل بھی سامنے آئے گا اس سے ایک نیا آئینی و عدالتی بحران بھی جنم لے سکتا ہے کیونکہ معزول ججوں کی بحالی سے موجودہ عدلیہ کا سارا ڈھانچہ بدل سکتا ہے ۔ انہوں نے سوال پر بتایا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کسی قرارداد یا ججوں کی بحالی کے کسی حکم یا کارروائی پر اعلیٰ عدلیہ عمل درآمد روک دے ، ماضی میں پارلیمنٹ کے فیصلوں کوسپریم کورٹ کی طرف سے معطل کرنے کی مثالیں موجود ہیں ۔ پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی ترمیم کو بھی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا اس لئے یہ کہنا کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے معاملہ میں دخل نہیں دے سکتی یہ غلط ہے ۔ ” اس سلسلہ میں جب اعلیٰ عدلیہ کے ایک سینئر جج سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم تو ابھی دیکھ رہے ہیں جب کچھ ہو گا تو دیکھیں گے کیا کرنا ہے ۔ صدر پرویز مشرف کے ایک قانونی مشیر نے بتایا کہ موجودہ عدالتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اگر جج بحال ہوں گے تو عدلیہ قبول کر سکتی ہے، وگرنہ ریل گاڑی کے انجن کے آگے ریل کا ڈبہ لگے گا تو ریل گاڑی ضرور الٹ جائے گی انجن کے پیچھے ڈبے لگا کر انجن کو طاقتور بنانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی عدلیہ کا موجودہ سیٹ اپ برقرار رکھتے ہوئے ہو گی تو شاید کوئی بحران پیدا نہ ہو وگرنہ ملک میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے ۔

عوامی مینڈیٹ کیخلاف عمل کرنے سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے





نیو یارک . امریکی کانگریس کیلئے تیار کردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف پر معزول ججوں کی بحالی کیلئے کبھی دباؤ نہیں ڈالا اور ان کا غیر مقبول پاکستانی صدر پر زیادہ انحصار سے واشنگٹن میں ایجنسیوں کے درمیان تنازعات شروع ہوسکتے ہیں۔رپورٹ میں آصف زرداری کو پاکستان کی متنازع شخصیت قرار دیا ہے‘ جو وقتاً فوقتاً خود کو پیپلزپارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کرکے مزے لیتے نظر آتے ہیں۔اگرچہ پیپلزپارٹی مختلف حیلے بہانوں سے معاملے کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے‘ تاہم امریکی کانگریس ان کے بارے میں بخوبی جانتی ہے کہ وہ ذوالفقار بھٹو کی اوکسفورڈاور ہاورڈ سے تعلیم یافتہ بیٹی بے نظیر کے نان گریجویٹ شوہر ہیں۔اعتزازاحسن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ پیپلزپارٹی کی روایتی افسر شاہی میں طاقت کے نئے مرکز کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور بہت سوں کے نزدیک مستقبل میں پارٹی لیڈر بن سکتے ہیں۔نواز شریف کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ مغرب مخالف سخت بیانات کے بعد واشنگٹن میں ان کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی طرف سے امریکی عہدیداروں کو تقریباً ڈانٹ پڑی ہے جب انہوں نے نیگرو پونٹے سے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بارے میں کوئی وعدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔رپورٹ میں نئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے فوج کو سیاست سے دور رکھنے کے فیصلے کی تعریف کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاگیا ہے کہ آرمی کی طرف سے معزول ججوں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اقدامات میں مداخلت یا مشرف کی جلد رخصتی کیلئے دباؤ غیر جانبدارانہ ساکھ کو متاثر کرسکتا ہے۔کانگریس ریسرچ سروس کی طرف سے کانگریس اور ہاؤس آف کمیٹیز کیلئے تیار کردہ رپورٹ میں ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ کو یہ تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کا پاکستان میں عدلیہ کی بحالی میں کردار سرگرم نہیں رہا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مشرف کی ایمرجنسی کے تحت معزول کئے گئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کے ا سٹیٹس کے بارے میں جب سینٹ میں سوال کیا گیا تو ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ جان نیگرو پونٹے نے تسلیم کیا کہ امریکی حکومت اس معاملے پر خاموش رہی ہے۔”مشرف کی طرف سے مارچ 2007 ء میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کئے جانے کے نتیجے میں شروع ہونے والی وکلا تحریک 2007ء میں پھیلنے والے اینٹی مشرف جذبات اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم پہلو ہے‘ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ‘ وکلا ابھی تک عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہیں اور سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے جس کی جسٹس چوہدری برسر عام حمایت کررہے ہیں“۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ پر مشرف کے کریک ڈاؤن پر امریکی حکومت کو بے حسی کا الزام دیا ہے پنجابی اعتزاز احسن پیپلزپارٹی میں طاقت کا نیا مرکز بن سکتے ہیں اوربہت سے لوگوں کے نزدیک مستقبل کے پارٹی لیڈر ہوسکتے ہیں انتخابات میں کامیابی سے قبل اس بات کے اشارے مل رہے تھے کہ پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے زرداری احسن کو اپنے نائب کا عہدہ دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مشرف کے بارے میں کہا گیا ہے کہ2007ء کے دوران اہم پاکستانی اتحادی پرویز مشرف کی گرتی ہوئی مقبولیت اور کم ہوتے سیاسی اثرورسوخ کے باعث بش انتظامیہ کے پاس قابل بھروسہ انتخابی عمل اور نتائج کے انتظار کے بعد کوئی پلان بھی نہیں ہے اور کوئی قابل عمل آپشن نہیں بچا ہے ۔ان نتائج کے مطابق جن میں مشرف کے پارلیمانی اتحادیوں کو بھر پور شکست ہوئی بش انتظامیہ کی طویل مدت سے اختیار کردہ پالیسی ناکام ہوگئی اور پرویز مشرف سے الگ سویلین اور ملٹری رہنماؤں کے ساتھ مزید قریبی رابطہ رکھنے کا دباؤ ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی حد تک امریکی حکومت نے پیپلز پارٹی پر مشرف کی حامی مسلم لیگ ق کی باقیات کے ساتھ معاہدہ کرنے کا دباؤ ڈال کراسلام آباد میں اتحاد بنائے جانے کے عمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی ۔رپورٹ کے مطابق کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بش انتظامیہ ابھی اس پالیسی سے چمٹی ہوئی ہے جس کے ساتھ وہ مورچہ بند مشرف کو کمزوری اور عوامی حمایت سے محرومی کے باوجود اقتدار میں رکھنا چاہتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس پالیسی سے واشنگٹن میں مختلف اداروں کے درمیان تنازعات کھڑے ہوسکتے ہیں کیونکہ کچھ سفارتکاروں نے کہا ہے کہ مشرف کومسترد کرنے والے مینڈیٹ کے خلاف عمل کرنے سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

30روزہ مدت پنجاب کابینہ کے قیام کے بعد شروع ہوئی، رکن کمیٹی




اسلام آباد- زرداری اور نواز شریف کی قائم کردہ 6 رکنی کمیٹی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات میں شدید کمی، مدت ملازمت اور ریٹائرمنٹ کی عمر کے تعین جیسے معاملات پر غور کریگی۔ مذکورہ کمیٹی میں شامل ایک رکن نے بتایا کہ مری اعلامیے میں دی گئی 30 روزہ مدت منگل کو پنجاب کابینہ کے قیام کے بعد شروع ہوئی ہے کیونکہ اب وفاقی و صوبائی تمام حکومتوں کی تشکیل مکمل ہو گئی ہے۔ مذکورہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ عام طور پر پایا جانے والا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ججوں کی بحالی کیلئے دی گئی مہلت 30 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ہم کسی الٹی گنتی یا ڈیڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے عملی سوچ اپنانا ہو گی۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مذکورہ رکن کی بات چیت سے قبل خود آصف زرداری یہ واضح کر چکے تھے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے اعلان مری کے مطابق 30 اپریل کی ڈیڈ لائن کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ وکلاء رہنماؤں نے اس موقف کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ کمیٹی کے رکن نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس اتنی بے لگام طاقت بھی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کے اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے 4 یا 5 ججوں کی ایک کمیٹی موجود ہونی چاہیے۔ اس سے ایک مناسب توازن قائم ہو جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ کوئی فرد واحد اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کر سکے۔ مذکورہ رکن نے کہاکہ کمیٹی ایک جامع پیکیج تیار کریگی۔ جس میں عدلیہ سے متعلق تمام مسائل کا حل موجود ہوگا۔ لہٰذا اس کام کے لئے اہم ترین گروپ یعنی وکلاء برادری سے بھی مشاورت کی جائیگی تاکہ کمیٹی جس پیکیج کو بھی حتمی شکل دے وہ ہر خاص و عام کے لئے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اپنے رہنماؤں کے غور کیلئے ایک شاندار دستاویز تیار کرے گی جو بعد ازاں فیصلہ کریں گے کہ مذکورہ پیکیج قابل قبول ہے یا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کمیٹی کے اراکین کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔

کمیٹیوں سے معاملات طے نہیں ہونگے،ججوں کا مسئلہ جلد حل کیا جائے، شجاعت






اسلام آباد . پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکمران ججوں کا معاملہ جلد طے کریں تاکہ عوامی مسائل پر بھی توجہ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ججز کی بحالی کے حامی ہیں۔کمیٹیوں سے معاملات طے نہیں ہوتے،اس طرح 30دن بھی گذر جائیں گے۔ منگل کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری شجاعت نے کہا کہ حکمران اب عوامی مسائل پر توجہ دیں،ججوں کا معا ملہ آئینی طور پر حل نہیں ہوتا تو سیاسی طریقہ نکال لیا جائے۔ انہوں نے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پریس کانفرنس سنی ہے میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ 30 دن بھی گزر جائیں گے اب یہ معاملہ بھی کمیٹی کے سپرد ہوگیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ججز کا معاملہ جلد حل ہوتا کہ یہ دوسرے عوامی مسائل پر توجہ دے سکیں۔ ملک میں آٹا ، بجلی کا بحران ہے یہ سب حل کریں۔

زرداری اور نواز نے ججوں کی بحالی تک لندن کے دورے ملتوی کردیئے





اسلام آباد . پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ججوں کی بحالی تک اپنے حالیہ دورہ لندن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات قابو سے باہر ہوں اور اتحاد میں کوئی اختلاف پید ا ہو۔نواز شریف عدلیہ کی بحالی 30اپریل سے قبل چاہتے ہیں جبکہ آصف زرداری کو اس ڈیڈلائن سے اتفاق نہیں۔قابل اعتبار ذرائع نےبتایا کہ نواز شریف اورآصف زرداری کے درمیان ہونے والی ون ٹو ون ملاقات میں نواز شریف نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ مسلم لیگ (ن) ججوں کی بحالی کے معاملے پر اعلان مری کینتیجے میں متفقہ تاریخ 30اپریل سے ایک دن بھی آگے نہیں جاسکتی،جس کے جواب میں آصف زرداری نے ہنستے ہوئے جواب دیا ”مجھے (جیو)ٹی وی کے کاؤنٹ ڈاؤن پر اعتبار نہیں ہے“ لیکن انہوں نے ان الفاظ کی وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ 30اپریل کی تاریخ کے حوالے سے سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ اہلیہ کلثوم نواز سرجری کے لئے لندن جا چکی ہیں لیکن نواز شریف نے اپنا دورہ ملتوی کردیا اور آصف زرداری کو بتایا کہ وہ ایسا ججوں کی بحالی یقینی بنانے کیلئے کر رہے ہیں۔اس کے جواب میں آصف زرداری نے نواز شریف کو بتایا کہ الطاف حسین سے ملاقات کیلئے وہ بھی لندن جانا چاہتے ہیں لیکن میں بھی اپنا دورہ ملتوی کررہا ہوں۔میڈیا پر دکھائے جانے والے معاملات سادہ نہیں ہیں کیونکہ ابھی بھی کچھ پیچیدہ معاملات ہیں جن کو کمیٹی طے کرے گی جو کہ دونوں جماعتوں کے نمائندوں اور وکلاء پر مشتمل ہو گی۔قطع نظر اس کے کہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا ہے دونوں رہنماؤں نے ججوں کی بحالی کی قرارداد کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے کہ وہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرے،حالانکہ پریس کانفرنس میں آئینی پیکج کی تیاری کیلئے کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد پارٹیوں میں بھی رابطے شروع ہو گئے ہیں اور ن لیگ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کمیٹی جلد از جلد تشکیل دی جائے تاکہ 30اپریل سے قبل قرارداد پیش کی جاسکے۔پیپلز پارٹی میں موجود ذرائع کے مطابق آصف زرداری آئینی پیکج کو قرارداد سے منسلک کرنے، قرارداد کو پیش کرنے اور ججوں کی بحالی سے قبل آصف زرداری (ن)لیگ سے کچھ مفاہمت چاہتے ہیں۔یہ وہی پیکج ہے جس کے تحت پیپلز پارٹی افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں تخفیف چاہتی ہے لیکن مسلسل ا س کی نفی کرتی آئی ہے۔دونوں جماعتوں کی جانب سے بیانات اور اعلانات حقائق اور بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتوں سے یکسر مختلف ہیں۔پیپلز پارٹی آئینی پیکج کے حوالے سے بہت گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کی مدت ملازمت کو مقرر کردیا جائے لیکن درحقیقت وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔پارٹی کے قابل اعتبار ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کو جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کچھ اختلافات ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمیدڈوگرکے ساتھ ہی چلا جائے۔ذرائع کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری کے قومی مفاہمتی آرڈیننس(این ۔آر ۔او)کے معاملے دوبارہ اٹھانے کے حوالے سے کچھ خدشات موجود ہیں۔این ۔آر۔ او جسے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ متنازع قانون کی حیثیت حاصل ہے جس کے تحت چند مخصوص افراد کو رعایت دی گئی ،جن میں آصف زرداری سر فہرست ہیں جن کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی کرپشن کے کئی مقدمات کا سامنا تھا۔آئینی پیکج کے حوالے سے (ن)لیگ کا کہنا ہے کہ حکمراں اتحاد میں ترامیم کے حوالے سے اتفاق رائے کے بعد پیکج پر پارلیمنٹ میں بحث کی جاسکتی ہے اور اسے پاس بھی کیا جاسکتا ہے ۔مسلم لیگ (ن)کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی پیکج اور ججوں کی بحالی کی قرارداد میں کسی قسم کا کوئی بھی ربط نہیں چاہتے۔آصف علی زرداری اور نواز شریف کی مشترکہ پریس کانفرنس میں شریک ہونے والے میڈیا کے نمائندے دونوں رہنماؤں اور خصوصاً آصف زرداری کے جوابات سے مطمئن نہیں تھے،دونوں رہنماعوام کی توقعات کے مطابق ججوں کی بحالی اور معاملات کے طے ہوجانے کے حوالے سے خاصے پرامید ہیں جبکہ (ن)لیگ کے ایک رہنما کا خیال ہے کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے قرارداد ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد اگلے ماہ پیش کی جائے گی جبکہ دیگر تمام رہنماؤں کو پورا یقین ہے کہ 30اپریل سے قبل اس تمام جدوجہد کا مقصد حاصل کر لیا جائے گا۔

حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہوئی،نوید قمر،مضبوط تعلقات ناگزیر ہیں،فاروق ستار





اسلام آباد، کراچی . اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان بات چیت میں مفاہمت کو آگے بڑھانے کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ بات چیت کے بعد سید نوید قمر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ سے حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مابین مضبوط تعلقات ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر اور متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ منگل کو اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز تو نہیں لیکن ان میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا ایک اور دور جمعہ کو اسلام آباد میں ہوگا، مزید براں پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کیلئے پارٹی رہنما خورشید شاہ اور نوید قمر کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صحافیوں کے بات چیت کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے اس میں تمام معاملات خاص طور پر حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان اور خاص طور پر سندھ کے عوام کیلئے ایک بہتر ماحول پیدا کرنا ہے ،ہماری کوشش ہے کہ سندھ کے دو بڑے عناصر کے اشتراک سے یہ بات آگے بڑھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بات چیت میں مضبوط تعلقات کیلئے مذاکرات جاری ر کھنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس بات پر ہمارا اصولی اتفاق ہوگیا ہے کہ ہمارے درمیان صورتحال سے قطع نظر پارلیمنٹ کے اندر اور صوبائی اسمبلی میں ایک مضبوط اور مستحکم تعلقات کار ناگزیر ہیں اور ایسے تعلقات کار کے قیام کے حوالے سے اصولی اتفاق ہوگیا ہے جو ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ دونوں جماعتوں کے مذاکرات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں پیر مظہر الحق ، ذوالفقار مرزا، شازیہ مری، متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار کی سربراہی میں عادل صدیقی، بابر غوری، ڈاکٹر رضی، وسیم الدین احمد اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے شرکت کی۔ وزیرا علی سندھ سید قائم علی شاہ منگل کی شب اسلام آباد میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے مذاکرات اور بعض اہم اجلاسوں میں شرکت کے بعد واپس کراچی پہنچ گئے، علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر اور متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ منگل کو اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز تو نہیں لیکن خوشگوار انداز میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا ایک اور دور جمعہ کو اسلام آباد میں ہوگا، منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم کا بنیادی ایجنڈا وسیع تر اشتراک عمل کے فارمولے کو طے کرنا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کی سیاسی صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف ہے اور وہاں کی اس امر کی متقاضی ہے کہ شہری اور دیہی خلیج کو ختم کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ بھاری مینڈیٹ ملنے کے بعد تینوں بڑی جماعتوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحمل، بردباری اور سنجیدگی سے آگے بڑھیں۔ بے لچک اور سخت رویے موقف سے معاملات بہتر نہیں بلکہ پیچیدہ ہوں گے لہذا اس انداز سیاست کو بدلنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا استحکام بنیادی چیز ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری مذاکراتی ٹیم کی ججوں کی بحالی سے متعلق قرارداد کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان قومی مفاہمت اور حکومت سازی کے سلسلے میں مذاکرات کا اگلا دور جمعہ کو ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں منگل کو ہونے والے اجلاس میں دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹیموں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا، جس پر تین گھنٹے تک غور وخوص کیا گیا، ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور جن نکات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے اس پر دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹیمیں اپنے اپنے قائدین سے صلاح و مشورہ کر کے آئندہ کے اجلاس میں غور کریں گی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ اور نوید قمر کو بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آئندہ اجلاسوں میں شامل ہوں گے۔

خام تیل کی ریکارڈقیمت،120 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب





نیویارک ... عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ ایک سو انیس اعشاریہ سات چار ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تاہم مارکیٹ بند ہونے پر تیل کی قیمت ایک سو انیس اعشاریہ تین سات ڈالر فی بیرل رہی۔نیویارک کی عالمی منڈی میں مستقبل کے سودوں کے لئے خام تیل کی فی بیرل انیس اعشاریہ سات چار ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔مارکیٹ کے اختتام پر تیل کی قیمت ایک سو انیس اعشاریہ تین سات ڈالر فی بیرل تک آگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں امن وامان کی خراب صورت حال کے سبب سپلائی میں رکاوٹ ، امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور تیل کی پیداوار میں اضافے سے اوپیک کا انکار تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں ۔ادھر لندن میں بھی خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو پندرہ ڈالر سے تجاوز کرگئی اور ایک سوپندرہ اعشاریہ نوپانچ ڈالر پر مارکیٹ بند ہوئی۔ ۔

ہلری کلنٹن کی اہم ریاست میں جیت





ہلری کلنٹن نے بڑی ریاستوں میں باراک اوبامہ کو شکست دی ہے
ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی دوڑ میں ہلری کلنٹن نے پینیسلونیا پرائمری میں اپنے حریف باراک اوبامہ کو شکست دے دی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلری کلنٹن نے پینیسلونیا میں فتح حاصل کر لی ہے لیکن کتنے مارجن سے فتخ حاصل کی وہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ ابتدائی اندازوں کے ہلری کلنٹن نے رائمری ووٹنگ میں چون فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ باراک اوبامہ کو چھیالیس فیصد ووٹ ملے۔
مبصرین کے مطابق پینیسلونیا کی پرائمری ووٹنگ میں ہلری کلنٹن کی فتح کے باوجود باراک اوبامہ کے ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے امکانات ہلری کلنٹن سے اب بھی بہتر ہیں۔
پینیسلونیا پرائمری ووٹنگ سے پہلے باراک اوبامہ کو ایک سو اٹھتیس مندوبین کی برتری حاصل تھی جو اب کم ہوگی لیکن پھر بھی ہلری کلنٹن سے زیادہ ہے۔
امریکہ میں نومبر میں صدارتی انتخاب ہونے ہیں لیکن ڈیموکریٹک پارٹی ابھی تک اپنے امیدوار کا انتخاب نہیں کر پائی ہے۔
پینیسلوینا میں ہلری کلنٹن کی فتخ کے بعد ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کا فیصلہ سپر مندوب اگست میں کریں گے۔
پینیسلونیا آخری بڑی پرائمری ریاست تھی۔اطلاعات کے مطابق بھاری تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔
ڈیمریٹ امیدوار کو پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے دوہزار پچیس مندوبین کی ضرورت ہے۔ باراک اوبامہ کے مندوبین کی تعداد 1645 ہے جبکہ ہلری کلنٹن کے مندوبین کی تعداد 1507 ہے۔

صدر کو مانتا ہوں نہ گورنر کو: کھوسہ







دوست محمد کھوسہ عبوری دور کے وزیر اعلی پنجاب بنے ہیں
پنجاب کے وزیراعلی سردار روست محمد کھوسہ نے کہا ہے کہ وہ نہ تو صدر پرویز مشرف کو پاکستان کے صدر کے طور پر قبول کرتے ہیں اور نہ ہی گورنر پنجاب خالد مقبول کو گورنرمانتے ہیں۔
وزیراعلی پنجاب نے یہ بات پنجاب کابینہ کی حلف برداری تقریب کے بعد مال روڈ پر واقع وزیراعلیٰ کے دفتر میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں کہی۔اس موقع پر اُنہوں نے پنجاب کے نئے وزراء کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اتحادی جاعتوں کے رہنماء صدر مشرف کے مواخذے کا وقت اور طریقہ کار طے کریں گے۔
اُن کے بقول صدر مشرف کچھ دنوں کے بعد جانے والے ہیں اور اتحادی جماعتیں جلد ہی پاکستان کواس بوجھ سے نجات دلائیں گی۔
کھوسہ نے صدر مشرف کے مواخذے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کا عمل پہلے اُوپر سے شروع ہوگا اور بعد میں اُن کے ساتھیوں کو فارغ کرنے کی باری بھی آئے گی۔
گورنر پنجاب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اُن کے گورنر کے ساتھ محض پیشہ وارانہ حد تک روابط ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ وہ صدر مشرف کے تعینات کردہ ہیں اور اگر وہ صدر مشرف کو صدر نہیں مانتے تو اُن کے تعینات کردہ گورنر کو کیسے مانیں گے۔
مسلم لیگ نواز کے سینئر پالیمنٹیرین اور پنجاب کے نو منتخب وزیر برائے قانون و پالیمانی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ اتحادی جماعتیں ایک آئینی پیکج پر صلاح مشورہ کر رہی ہیں۔ اور اس آئینی پیکج کے تحت صدر مشرف اور اُن کے ساتھیوں کے فارغ ہونے کا طریقہ کار بھی واضع ہو جائے گا۔
وزیر اعلی پنجاب نے یہ بھی کہا کہ ’جب تک صدر مشرف کی سانسیں چلیں گی تب تک اُن کے ساتھیوں کی سانسیں بھی چلتی رہیں گی اور اُن کی سانوں کی بندش کے ساتھ ہی اُن کے رفقاء کی سانسیں بھی بند ہو جائیں گیں۔

Pentagon reaffirms respect for Pakistan sovereignty




WASHINGTON: The Pentagon has said Pakistan is a vital partner in the fight against terrorism in the region and reaffirmed its respect for the country’s sovereignty.
“We respect Pakistan’s sovereignty and have very good cooperation and coordination with them in counterterrorism efforts on the Afghan border,” a Defense Department spokesman said.
The spokesman, asked to comment in the context of a media report claiming US commanders in Afghanistan suggesting actions against militants that may be hiding on the Pakistani side of the border, said he was not aware of any such suggestions. The New York Times also reported over the weekend that the Bush Administration had rebuffed such suggestions.
“Pakistan is the most vital ally in the region” in combating terrorism, Lt Col Mark Wright said as he also acknowledged the country’s key anti-terror role and sacrifices over the years.
“We recognize that Pakistan has lost hundreds of its security personnel in the war on terror and the Pakistani people have also suffered,” he stated. The State Department, commenting on the findings of a government oversight agency, had also defended Pakistan’s counterterrorism role. It reminded that the country had captured hundreds of al-Qaeda operatives since September 11, 2001 and deployed more than 100,000 security forces on its Afghan border to curb terrorism activities.

Musharraf urges greater market access in EU




ISLAMABAD : President Pervez Musharraf Tuesday urging greater market access for Pakistani goods in the European Union through preferential trade arrangements (PTA) said it would help country alleviate poverty.President Musharraf said this would enable Pakistan maintain the momentum of its economic growth and help in poverty alleviation and creating employment, which had a direct bearing on the security situation in the country.
Talking to European Union’s High Representative on Foreign and Security Policy Javier Solana, the President stressed the importance of having a PTA that includes Pakistan’s proposals for a free trade agreement with the EU.
Solana said the European Union wanted to establish a long term relationship with Pakistan based on mutual interest and respect. He said the EU was aware of Pakistan’s economic situation and the need for greater market access which was being considered.
The President underlined the importance Pakistan attached to its relationship with the European Union in diverse fields.
Solana said his visit to Pakistan was reflective of importance European Union attached to Pakistan, particularly in terms of its socio-economic development and its role in the stabilization of Afghanistan and in regional peace and security.
Solana also congratulated the President on the February general election in Pakistan and on the transition to democracy in the country.
He said the election had been fair, transparent and peaceful and had resulted in a new dispensation in accordance with the wishes of the people of Pakistan.
The President underlined government’s multi pronged strategy in confronting terrorism and extremism that includes political, economic and military strategies.
He also apprised Solana of measures taken by Pakistan on the Afghanistan border which has resulted in considerably reducing infiltration into Afghanistan.
Solana agreed with Pakistan’s multi pronged approach in confronting extremism and terrorism and said that it needs to be adopted on either side of the border.
Solana expressed best wishes for Pakistan’s stability and prosperity and solidarity with the people and leadership of Pakistan.

Development in NWFP, among government’s priorities: PM




ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Tuesday said the government’s policies would focus on the provision of basic facilities like clean drinking water, education and healthcare in all areas of the country, particularly NWFP.He was was talking to the MNAs of the ruling coalition belonging to NWFP here at his Parliament House chamber this evening.
The Prime Minister said the government is determined to taking concrete measures for poverty alleviation by increasing employment and income generation opportunities, particularly in underdeveloped areas of the country.

He said the government would give priority to infrastructure development and the provision of basic facilities. That is why, he said, despite 100-day austerity programme, development funds worth Rs. 10 million would be allocated at the discretion of every MNA, regardless of party affiliation, during the current financial year.
About the wheat and Atta shortage, the Prime Minister said the country is facing crisis because of the wrong policies of the previous government.
He said today, to facilitate availability of Atta to the people, the ban on inter-district movement of wheat and Atta has been lifted.
The Prime Minister said a meeting of the representatives of all the provinces would soon be convened to formulate a joint strategy for meeting this challenge.
He said the law-enforcement agencies have been directed to check smuggling of wheat and Atta.
The legislators from NWFP apprised the Prime Minister of various issues relating to their constituencies particularly regarding power and Atta shortage.
They also asked for the provision of natural gas, education and health facilities, for their respective areas.
They informed the Prime Minister that the people of Tribal Areas are appreciative of Prime Minister’s announcement regarding the abolition of FCR.
The MNAs, hailing from the quake-affected areas also informed the Prime Minister that various irregularities were committed in the reconstruction and rehabilitation of affected areas and people.
The Prime Minister said the matter would be probed to ensure that the whole exercise is carried out in a transparent manner and no injustice is meted out to anyone.

PM Gilani seeks increased EU economic facilities for Pakistan




ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Tuesday said that Pakistan attaches great importance to its relations with the European Union and desires to further increase cooperation in all the fields.He was talking to Javier Solana High Representative of the European Union who called on him here at the Prime Minister Secretariat this afternoon.
The Prime Minister said that there is great scope to raise the existing level of trade and commercial ties between Pakistan and European Union and called for extending the economic facilities to Pakistan as being given to other countries.
The Prime Minister appreciated the role of the European Union Observers during the general election in Pakistan and their valuable observations made in their report.
The formation of democratic government as a result of these elections should now encourage investors from European Union to invest in Pakistan as democracy ensures transparency and level playing field, he added.
While appreciating the European Union’s role in promoting peace and security in the world and in the region, the Prime Minister asked all the members of the European Union to extend assistance in supporting the multi-pronged strategy to combat extremism which stems from economic deprivation and disparity.
The Prime Minister while reiterating the coalition government’s commitment to fight terrorism and extremism in all its forms and manifestations said that it was part of the agenda of all the political parties in the government.
The success of moderate forces in the general elections has given a new impetus to this commitment, he added.
“Our strategy to combat terrorism particularly in areas bordering Afghanistan include economic dispensation, political dialogue and administrative measures”, the Prime Minister said.
These efforts, he added would promote democratic values and help bring the area in the fold of national activities. He however reaffirmed that no compromise will be made with the militants.
The Prime Minister said that law and order coupled with economic difficulties are the main challenges inherited by the government. The policies are being devised accordingly to overcome the difficulties being faced by the people, he added.
“The focus of our policies is to create economic opportunities and promote industrial and agricultural output. The main hurdle in this context is the energy shortage for which extensive plans and programmes are being prepared”, he added.
The Prime minister while referring to the political developments in Pakistan said that the people have reposed confidence on our manifesto which mentions the revival of 1973 constitution in its original form which was unanimously passed by all political parties.
The supremacy of the parliament is enshrined in the 1973 constitution which clearly defines the role of all institutions of the state, he added.
As regards the regional situation the Prime Minister said that Pakistan wants good relations with all its neighbours in the interest of peace and economic prosperity of the region.
While referring to the telephonic contacts by the leaders of neighbouring countries including India and Afghanistan after his assumption of office, the Prime Minister said that their sentiments were very encouraging and he hoped that the same spirit of goodwill will continue to prevail.
Javier Solana while congratulating the Prime Minister on his election said that his presence and meetings with the leadership is a manifestation of European Union’s support for the democratic government in Pakistan.
The European Union desires to forge stronger and comprehensive relations with Pakistan covering trade and development cooperation as well, he added.

PM assures implementation of Murree Declaration






ISLAMABAD : Prime Minister Yousuf Raza Gilani on Tuesday assured the ruling coalition partners that Murree Declaration for restoration of deposed judges would be implemented in its true spirit.The Prime Minister assured the parliamentary party meeting of PPP, PML (N) and ANP in the Parliament House that the leaders of Pakistan Democratic Alliance (PDA) were sincere in implementation of Murree Declaration signed between Mian Nawaz Sharif and Asif Zardari, senior PPP leader Izhar Amrohvi told reporters after the meeting.
He said the resolution for restoration of judges is likely to be tabled in the National Assembly on Thursday (April 24) as the session would be prorogued on Friday.
Meanwhile, sources in the parliamentary meeting quoted the Prime Minister as saying that he was ready to issue an executive
order for restoration of pre-November 3 judiciary, if demanded by PDA leaders.
The Prime Minister asked the members of the National Assembly to submit development schemes worth rupees one million for their respective constituencies before April 30, he said.
He said timely submission of the schemes will ensure release of funds in the next budget, sources added.
The Prime Minister is expected on Wednesday to again chair the parliamentary meeting in which some important decision are likely to be taken, sources said.

ECC discusses prevailing price situation




ISLAMABAD : The Economic Coordination Committee (ECC) here on Tuesday approved the exemption of sales tax on packed fruits and vegetables to reduce their price.The ECC met here under the chairmanship of the Prime Minister, Syed Yousuf Raza Gilani and reviewed the price situation prevailing in the country.
The ECC was told that the entire world was facing extra-ordinary situation due to the unprecedented rise in oil and food prices which have effected Pakistan as well.
The ECC reviewed the prices of essential food items including wheat, ghee, rice, sugar, and asked the concerned Ministries/Divisions to ensure adequate supply of these commodities to avoid further build up in prices.
The ECC was apprised of the progress made on wheat procurement by the provincial governments and PASSCO and directed the Federal and Provincial procurement agencies to speed up the procurement process to achieve the targets.
While expressing government’s strong commitment to control hoarding and smuggling at all cost, the Prime Minister directed the provincial governments as well as concerned law enforcement agencies to adopt strict measures to stop any possibility of smuggling. It was further decided that there should be no restriction on inter-district movement of wheat.
The ECC felt that private sector has to be encouraged to play its due role in the purchase and supply of wheat to the flour mills so that atta remains available at reasonable price to the people.
The role of utility stores in providing essential food items including wheat flour and edible oil/ghee was also discussed in the meeting. The ECC noted that the price differences between the USC and the market for wheat flour and edible oil/ghee have increased substantially and needed phased rationalization.
The governor State Bank of Pakistan briefed the meeting about the state of economy. She informed the meeting about the balance of payments, export/import and foreign exchange reserves situation, interest rate and overall monetary situation.
The governor SBP informed the ECC that foreign exchange reserves of the country stood at US$ 12.7 billion on April 19, 2008 and were likely to improve with the passage of time. The Finance Minister informed the ECC that there were inflows in the pipeline, which will augment the foreign exchange reserves.
The Commerce Secretary informed the ECC that almost 80 percent additional increase in total imports during the first nine months (July-March) was accounted by five items, namely wheat, POL products, palm oil, raw cotton and fertilizer.
The meeting also accorded approval for allowing the Secretaries Committee, headed by Finance Minister to monitor the supply demand and price situation of various food items to take urgent decisions at the committee’s level in anticipation of the approval of ECC.

Zardari, Nawaz reiterate commitment to restore deposed judges





ISLAMABAD : Pakistan People’s Party (PPP) co-chairman Asif Ali Zardari and Pakistan Muslim League-N chief Nawaz Sharif Tuesday reaffirmed commitment to restore the deposed judges in line with the March 9 Bhurban declaration.They reiterated the resolve at a news conference after two days of talks at the Punjab House during which they discussed proposals to implement the pledge.“Political forces are in harmony and pursuing legal process to implement the Bhorban Declaration in letter and spirit,” said the PPP co-chairman.
In response to a question regarding countdown about implementation of the Bhurban declaration, Mr. Zardari said he did not believe in countdown.
He said democracy means dialogue and consultation and this process has been moving forward in the right direction,” the PPP leader said.
Both leaders said it was decided to constitute a committee to finalize draft of a parliamentary resolution for reinstatement of the deposed judges.
They denied speculation about a deadlock between the coalition partners.
Nawaz Sharif said a resolution would be presented to the parliament soon.
Asif Ali Zardari said political and democratic forces are in harmony to implement the decision reached in Bhurban. A broad-based committee will give final shape to resolution for reinstatement of the deposed judges, he said.
A constitutional package will follow the resolution to ensure justice for all, he added.
The PPP co-chairman said efforts are underway to change the system so that a judge who extends support to a dictator in future is taken to task.
Mian Nawaz Sharif said the PDA government fully stands by the Bhurban. He categorically denied that there was any deadlock in connection with the judges restoration.
“We are bound to honour Bhurban declaration and reinstate the judges within a period of 30 days,” he said.
The desire of certain people to break the coalition will not materialize, the PML-N chief said.
Minister for Law and Justice Farooq H Naek said there was complete harmony among the coalition partners on all the issues including restoration of deposed judges in accordance with the Bhurban declaration. He condemned the disinformation campaign of vested interests.
Naek said a committee would give final shape to the proposals to restore judges in consultation with the legal fraternity.
The PML-N Chief was assisted by Shahbaz Sharif, Raja Zafar-ul-Haq, Ch. Nisar Ali Khan, Ahsan Iqbal, Javed Hashmi and Khwaja Muhammad Asif while PPP Co-chairman Asif Zardari was accompanied by Sherry Rahman, Rehman Malik and Farooq H. Naek.

کوئٹہ سریاب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صفدر حسین کیانی کو ہلاک کردیا

کوئٹہ۔ کوئٹہ سریاب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صفد ر حسین کیانی کو ہلاک کردیاتفصیلات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صدر حسین کیانی مغرب کی نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے کہ دونامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے آتشیں اسلحہ سے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی جاںبحق ہوگئے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعش کو ہسپتال پہنچادیا اورضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا پولیس نے نامعلو م ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔

بلوچستا ن کا بینہ کل حلف اٹھائے گی ،کا بینہ میں چھ وزارتیں جمعیت علما ء اسلام کو دی جا ئیں گی

کوئٹہ۔بلوچستان کی 35رکنی کا بینہ کل (بدھ) حلف اٹھا رہی ہے ۔ کا بینہ میں چھ وزارتیں جمعیت علما ء اسلام کو دی جا ئیں گی ۔ بلو چستا ن کی 35 رکنی کا بینہ کی تشکیل کے لئے وزیر اعلیٰ بلو چستان نو ا ب اسلم رئیسائی نے اتحا دی جما عتوں سے مذاکر ات مکمل کر لئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے جے یو آئی کے صو بائی امیر مولانا محمد خا ن شیر انی سے ملاقات کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتا یا کہ صو با ئی کا بینہ کی تشکیل کے لئے مشاور ت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔کابینہ میں چھ وزارتیں جمعیت علماء اسلا م کو دی جائیں گی ۔جے یو آئی کے مو لا نا عبد الو اسع سینئر وزیر ہوں گے۔سینٹ کے ضمنی الیکشن کے حو الے سے نو ا ب اسلم رئیسائی نے کہا کہ پیپلز پا رٹی اور جے یو آئی میں اتحا د ہوگیا ہے ۔بلو چستا ن سینٹ کی ٹیکنو کر یٹ کی نشست کے لئے ملک ممتا ز حسین اورجنرل نشست کے لئے مولانا غفو ر حید ر ی دو نو ں جما عتو ں کے مشتر کہ امید وار ہو ں گے

قومی خزانہ لوٹنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب دوست محمد کھوسہ

مسائل راتوں رات حل نہیں کئے جا سکتے
ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیںکہ مسائل راتوں رات حل کر لیں
کابینہ عوام کی توقعات پر پورا اترے گی ہر وزیر اپنے محکمے کا ذمہ دار ہو گا
وزیر اعلیٰ پنجاب کا پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا ہے کہ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ راتوں رات مسائل حل کر دیں۔لاہور میں پنجاب کابینہ کی تقریب حلف برداری کے بعد صوبائی وزراء کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ان کی کابینہ عوام کی توقعات پر پورا اترے گی ہر وزیر اپنے محکمے کا ذمہ دار ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کابینہ کا دوسرا مرحلہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔سردار دوست محمد کھوسہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے ہمارے لئے مشکلات اور مصیبتیں چھوڑی ہیں جنہیں حل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایسے اعلیٰ افسر تعینات کئے جا رہے ہیں جو عوام کو ریلیف دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب سے ان کے تعلقات صرف سرکاری سطح پر ہیں۔ پریس کانفرنس میں راجہ ریاض احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے منشور الگ الگ ہیں لیکن عوام کی بھلائی کے کام کرنا ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔

نواز شریف ،آصف علی زرداری اور اسفند یار ولی خان سے ہاؤیر سولانا کی ملاقاتیں ، انتخابات کے بارے میں مبصرین کی رپورٹ پر تبادلہ خیال

اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف،پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان سے منگل کو اسلام آباد میں یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سوالانا نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے سیاسی حالات ، خطے کی صورتحال، اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بارے میں مبصرین کی رپورٹس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا اس موقع پر یورپی یونین نے پاکستان کے قومی ایشوز کے بالخصوص انتہا پسندی کے حوالے سے مخلوط حکومت کی پالیسی کی تعریف کی۔ قومی رہنماؤں نے عام انتخابات کے حوالے سے یورپی کمیشن کے مبصرین کی رپورٹ کاخیر مقدم کیاہے او رکہاہے کہ رپورٹ میں اٹھائے گئے معاملات اہم نوعیت کے ہیں ۔سابقہ حکمران اتحاد نے سرکاری مشینری کو استعمال کرتے ہوئے دھاندلیاں کیں ۔جس کا واضح اظہار رپورٹ میں بھی موجود ہے ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہاکہ آمریت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے نواز شریف نے یورپی یونین کی رپورٹ میں اٹھائے گئے معاملات اور سفارشات کا خیر مقدم کیا اورکہاکہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع نہیں تھے خود ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے تھے

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی انجنیئرنگ کی ڈگری تسلیم نہ کرنے کا معاملہ سابقہ حکومت کا ہے ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی ، احسن اقبال

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی انجینئرنگ کی ڈگری کو تسلیم نہ کرنے کے تمام تر معاملے کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر ہے ذمہ داری کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ۔ منگل کے روز بیگم روبینہ سعادت قائم خانی ،ڈاکٹر عذرا افضل پیجو ہو ۔ نواب عبد الغنی تالپور ، بیگم یاسمین رحمان اور میر ہز ار خان بجارانی کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر تعلیم نے ایوان نے خطاب کرتے ہوئے ۔ کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی انجینئرنگ کی ڈگری کو تسلیم نہ کرنے کی ذمہ دار سابقہ حکومت ہے ۔ سابق وزیر تعلیم اور چیئر مین ہائیر ایجوکیشن کے باعث پیدا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جو بھی پیشہ وارانہ ادارہ ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی میں ایسا پروگرام شروع نہ کیا جائے جو پروفیشنل باڈی کی معیار کے مطابق نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے ایشو میں طلبا اور والدین کا کوئی قصور نہیں جبکہ ان لوگو ں کا ہے جنہوں نے چند پیسے بچانے کے لئے پروفیشنل باڈی کی شرائط کو پورا نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی اور ہم نے اس معاملے کو پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سامنے رکھا ہے ۔ جو اس معاملے کو جلد حل کر ے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن اس سے حوالے سے ضروری مانیٹرنگ سسٹم مقرر کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اس ادارے میں ضروری اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسی غفلت کر کے بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر ہم طلبا اور ان کے والدین کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری حکومت طلباء کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنے دے گی

ججز کی بحالی کے حوالے سے مجوزہ کمیٹی میں وکلاء کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ، مخدوم جاوید ہاشمی کی میڈیا سے بات چیت

اسلام آباد ۔ حکمران اتحاد کی جانب سے ججز کی بحالی کے معاملے پر مجوزہ چھ رکنی کمیٹی میں وکلاء کو بھی شامل کرنے کافیصلہ کیاگیا ہے اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سنیئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ قوم سے کئے گئے وعدے کو پورا ن ہیں کیاگیا تو قوم کبھی ان سیاسی جماعتوں کو معاف نہیں کرے گی انہوں نے کہاکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ججز کی بحالی کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے ہمیں مشکلات کا اندازہ ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ایساکیاگیا تو قوم کبھی ان سیاسی جماعتوں کو معاف نہیں کرے گی موجودہ حکومتی سیٹ اپ سے بہت زیادہ عوامی توقعات وابستہ ہیں سیاسی طورپر آگے بڑھنے کیلئے عوامی توقعات کو پورا کرنا ناگزیر ہے انہوں نے کہاکہ قوم اپنے مسائل کا حل ضرور چاہتی ہے مگر سب کی خواہش ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اورپارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو

ایوان صدر میں بیٹھے چند لوگ ججوں کی بحالی کے حوالے سے بہت مضطرب ہیں۔ اعتزاز حسن

اور ایوان صدر کوججوں کی بحالی قبول کرنی پڑے گی
ججوں کے بارے میں آئینی پیکج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا
این اے 55 سے ضمنی انتخاب لڑنے کیلئے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دے رکھی ہے، میاں نواز شریف نے بھی حمایت کا عندیہ دیا ہے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ایوان صدر کو ججوں کی بحالی قبول کرنی پڑے گی ایوان صدر میں بیٹھے چند لوگ ججوں کی بحالی کے حوالے سے بہت مضطرب ہیں ججوں کے بارے میں آئینی پیکج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا این اے 55 سے ضمنی انتخاب لڑنے کیلئے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دے رکھی ہے، میاں نواز شریف نے بھی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر میں بیٹھے چند لوگ ججوں کی بحالی کے حوالے سے بہت مضطرب ہیں اور ایوان صدر کوججوں کی بحالی قبول کرنی پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں کے بارے میں آئینی پیکج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے این اے 55 سے ضمنی انتخاب لڑنے کیلئے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دے رکھی ہے اور میاں نواز شریف نے بھی انہیں حمایت کا عندیہ دیا ہے تاہم اگر آصف زرداری نے اس حلقے سے الیکشن لڑ ا تو وہ خیر مقدم کریں گے۔ اس مو قع پر مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیس دن کے اندر جج بحال کرنے کا وعدہ پورے کرنے کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معزول ججوں کے حوالے سے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ ججوں کی بحالی کا طریقہ کار وضع کرے گی۔

ہندو مذہب کو فروغ دینے پر بھارتی ڈراموں ا ور غیر شائستہ صابن کے اشتہار پر پابندی درست فیصلہ ہے ۔ حامد کرزئی

کابل۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے حکومت کی طرف سے ہندو مذہب کو فروغ دینے پر ممبئی بھارتی ڈراموں اور غیرشائستہ صابن کے اشتہار پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قومی ‘ اخلاقی معیارات اورثقافت کے خلاف ہے ۔افغان صدر حامد کرزئی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا ٹیلی ویژن معاشرتی ‘ اخلاقی معیارات کی بنیاد پر ہماری ثقافت کو پیش کرے ۔گزشتہ روزوزیر ثقافت نے بھارت کے مشہور ڈرامہ سیریل کو بند کروایا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ اس چینل پر چلائے جانے والے ڈراموں میں ہندو تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا جا رہا تھا جو کہ اسلامی روایات کے برعکس ہے ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائر قاضی محمد فاروق نے وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائر قاضی محمد فاروق نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کی سربراہی میں 8 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اراکین میں صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب ، صوبائی الیکشن کمشنر سندھ ، جوائنٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان ، الیکشن کمیشن کے جوائنٹ سیکرٹری ایڈمنسٹریشن ۔ کمیشن میں مقامی حکومتوں سے متعلق جوائنٹ سیکرٹری ، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیکشن افسر ( قانون ) شامل ہیں۔ انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی ذمہ داریوں میں انتخابات سے متعلق قواعد و ضوابط قوانین میں ترامیم سفارشات اور تجویز مرتب کرنا ہے ۔انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی کا قیام بین الاقوامی اور ملکی مبصرین اور مشنز کی رپورٹس بالخصوص یورپی یونین ، کینیڈین ہائی کمیشن کی مبصر رپورٹس کی روشنی میں قائم کی گئی ہے ۔

Tuesday, April 22, 2008

جسٹس افتخار کو بحال نہ کر نا ملک کی بد قسمتی ہو گی۔ ۔ ۔ بھگوان داس

آئینی ترمیم کی باتوں سے لگتا ہے پارلیمنٹ ججوں کو تحفظ دینے کو تیار نہیں
جج بحال نہ ہوئے تو جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی
قومی اسمبلی فردِ واحد کے غیر آئینی حکم کو مسترد کیوں نہیں کر سکتی
سابق جسٹس کا کوئٹہ میں وکلاء سے خطاب

کوئٹہ ۔ سا بق جسٹس ر انا بھگوان داس نے کہا ہے کہ جسٹس افتخا ر چو ہدری کے بغیر دیگر ججو ں کی بحالی ملک اور آئین کی بد قسمتی ہو گی ۔آئینی ترمیم کی باتوں سے لگتا ہے پارلیمنٹ ججوں کو تحفظ دینے کو تیار نہیںجج بحال نہ ہوئے تو جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی۔ کو ئٹہ میں وکلا ء سے خطا ب کر تے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ غیر آئینی اقدا ما ت ختم کر نے کے لئے آئینی تر میم کی با تو ں سے لگتا ہے کہ پا رلیمنٹ ججو ں کو تحفظ دینے کے لئے تیا ر نہیں ہے۔جسٹس بھگوان داس نے سوال کیا کہ قومی اسمبلی فر د واحد کا غیر آئینی حکم کیو ں مستر د نہیں کر سکتی ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخا ر چو ہد ری کے بغیر دیگر ججو ں کی بحالی ملک اور آئین کی بد قسمتی ہو گی جس سے جمہو ریت کی جڑ یں کھو کھلی ہو جا ئیں گی،ملک میں جمہوریت کے فروغ اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے معزول ججوں کی بحالی ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم معزول ججوں کے ساتھ ہے پاکستانی عوام کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ انھیں اس ملک میں انصاف چاہیے اور یہ انصاف انھیں وہی عدلیہ دے سکتی ہے جس نے تمام فیصلے انصاف پر کیے۔انہوں نے کہا کہ ججوں کو معزول کر کے ملک کو بحران سے دوچار کیا گیا،اب مزید بحران سے بچنے کے لیے ججوں کا بحال ہونا ضروری ہو گیا ہے ۔

عالمی برادری کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تعریف متعین کرنی چاہیے اور اس میں ریاستی دہشت گردی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے ۔قاضی حسین احمد



لاہور۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد سے منگل کے روز برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے اور برطانوی وزارت خارجہ کے ساؤتھ ایشیا اور افغانستان ڈیسک کے انچارج ایڈم تھامسن نے اسلام آباد میںان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ برطانوی ہائی کمشنر اور وزارت خارجہ کے اہلکار نے قاضی حسین احمد سے پاک افغان تعلقات ، قبائلی علاقہ جات کی صورتحال، سرحد حکومت کی مذاکرات پالیسی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ قاضی حسین احمد نے برطانوی وفد کو بتایا کہ مذاکرات ہی تمام مسائل کے حل کا راستہ ہیں اور مستقبل میں اس کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تعریف متعین کرنی چاہیے اور اس میں ریاستی دہشت گردی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جو فلسطین اور کشمیر میں نئے المیوں کو جنم دے رہی ہے ۔ افغانستان اور عراق کا ذکر کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ بیرونی جاحیت کا مقابلہ کرنے والے لوگوں کو کس طرح انتہا پسند قرار دیا جا سکتا ہے ؟ جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے کے حق کو تسلیم کیا ہے ۔ نئی حکومت اور ججوں کی بحالی سے متعلق استفسار کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ نئی حکومت کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ہم جلد ی میں اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کریں گے اور نہ فی الحال ایجی ٹیشن کا ارادہ ہے ۔ ہم نئی حکومت کو کارکردگی دکھانے کا موقع دینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی طے شدہ مسئلہ ہے ۔ حکمران اتحاد نے 30 دن میں قوم سے ججوں کی بحالی کا وعدہ کیا ہے ۔ اس میں بدگمانی کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دس دن باقی رہ گئے ہیں یہ بھی گزر جائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ چیف جسٹس سمیت تمام جج اسی مدت میں بحال ہو جائیں گے ۔

عوامی مینڈیٹ کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیں گے ۔ نواز شریف



ججز بحال ہوں گے ‘9 اپریل کے المناک واقعات کی ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات ناگزیر ہیں ‘
سابق وزیراعظم وکی کلاء کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات میں جمہوری قوتوں کو واضح مینڈیٹ ملا ہے ۔ کسی صورت عوامی مینڈیٹ کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے ۔ قومی کی خواہشات کے مطابق ججز بحال ہوں گے کراچی میں 9 اپریل کے المناک واقعات کی ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات ناگزیر ہیں ۔ سیاسی وجمہوری قوتوں اور وکلاء برادری میں قومی ایشوز کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج منگل کوپنجاب ہاؤس اسلام آباد میںکراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نعیم قریشی کی قیادت میں وکلاء کے وفد سے ملاقات میں کیا ۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ 12 مئی کو کراچی میں رونما ہونے والے سانحے کے حوالے سے ان کی جماعت کا واضح اور اصولی موقف ہے ۔ سانحے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے ۔ 9 اپریل کے المناک واقعات کی تحقیقات بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ان واقعات کی وجہ سے ہم نے ایم کیو ایم کے حوالے سے حکومت سازی سمیت مختلف مواقع پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہاکہ انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے آئین اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے ۔ آئین اور قانون سے کوئی مبرا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ جو بھی قانون شکنی میں ملوث ہو اس پر گرفت کی جائے انہوں نے ملک میں آئین کی بالادستی ‘ جمہوریت اور ججز کی بحالی کے حوالے سے وکلاء برادری کی جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور جمہوری قوتوں کی جانب سے وکلاء کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

قومی اسمبلی میں ججز کی بحالی کی قرار دادمنظور ہوتے ہی ایگزیکٹوآرڈر جاری کریں گے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی



اسلام آباد۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ قومی اسمبلی میں ججز کی بحالی کی قرار داد منظور ہوتے ہی وہ بحالی کے بارے میں ایگزیکٹو آڈر جاری کر دیں گے۔ قومی اسمبلی میں قرار داد ( جمعرات ) کوپیش کئے جانے کا امکان ہے ۔ آئندہ ماہ سے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء شروع ہو جائے گا ۔ ارکان قومی اسمبلی میں کورم کا مسئلہ پیدا نہ ہونے دیں او رایوان میں اپنی بھرپور حاضری کو یقینی بنائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پی پی پی پی ، مسلم لیگ(ن) ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے ارکان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے ایجنڈے اور ججز کی بحالی کی قرار داد سے متعلق امو رپر مشاورت کی گئی وزیراعظم نے کہاکہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ججز کی بحالی کے حوالے سے معاملات طے ہو رہے ہیں ایگزیکٹو آرڈر اس وقت جاری کیاجائے گا جب دونوں جماعتوں کے قائدین اس معاملے پر متفق ہو جائیں گے تیس مئی سے قبل ارکان قومی اسمبلی سے دس لاکھ روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں پارلیمانی پارٹی کو بتایا گیا کہ آئندہ 9دنوں میں ججز کی بحالی کے بارے قرار داد قومی اسمبلی میں پیش ہو جائے گی وزیراعظم نے کہاکہ جمہوریت کے استحکام کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ارکان ایوان میں اپنی بھرپور حاضری کو یقینی بنائیں اعلیٰ بیورو کریٹ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ یہ معاملہ حکمران اتحاد کی کمیٹی طے کرے گی۔ حکمران اتحاد کی جانب سے طے شدہ تمام امور پر من و عن عملدرآمد ہو گا اجلاس کے بعد پی پی پی پی کے پارلیمانی سیکرٹری اظہار امروہی نے صحافیوں کو بتایاکہ وزیراعظم نے اعلان مری کے مطابق ججز کی بحالی کی یقین دہانی کرائی ہے ارکان سے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں ہیں انہوں نے بتایا کہ بعض اعلیٰ سرکاری حکام کی مدت ملازمت میں توسیع پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔انہوں نے بتایاکہ قومی اسمبلی میں ججز کی قرارداد چوبیس اپریل کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

پنجاب کی ١٤ رکنی صوبائی کابینہ نے حلف اٹھالیا، حلف برداری کے بعد کارکنوں کے گو مشرف گو کے نعرے



٭۔ ۔ ۔ حلف اٹھانے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے 8اور پیپلز پارٹی کے 6وزراء شامل ہیں، ایک اقلیتی رکن بھی شامل
٭۔ ۔ ۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض پہلے ہی سینئر صوبائی وزیر کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں، صوبائی کابینہ کی تعداد 15ہوگئی

لاہور۔ پنجاب کی 14 رکنی صوبائی کابینہ نے آج حلف اٹھا لیا ۔ گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے ان سے حلف لیا ۔حلف اٹھانے کے بعد پنجاب کی کابینہ کے ارکان کی تعداد 15ہوگئی۔ حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض بھی موجود تھے ۔ صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے 8 اور پیپلز پارٹی کے 6 وزراء شامل ہیں ۔صوبائی وزراء میں مسلم لیگ (ن) کے فیصل آباد سے رانا ثناء اللہ ، لیہ سے ملک احمد علی اولکھ، ساہیوال سے ندیم کامران ، لاہور سے چوہدری عبدالغفور ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن ، ملتان سے احسان الدین قریشی ، بہاولپور سے اقبال چنڑ اور اقلیتی رکن کامران مائیکل شامل ہیں ۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے صوبائی کابینہ میں شامل ہونے والے وزراء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے حاجی محمد اسحاق ، نیلم جبار ، اوکاڑہ سے محمد اشرف خاں سوہنا ، سیالکوٹ سے ڈاکٹر تنویر اسلام ، لاہور سے فاروق گھرکی اور گجرات سے تنویر اشرف کائیرا شامل ہیں ۔ کابینہ میں شامل ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے دو وزراء رانا ثناء اللہ اور مجتبیٰ شجاع الرحمن صوبائی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں ۔ حلف اٹھانے کے بعد انہیں چھ ماہ کے اندر پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہونا ہو گا ۔ حلف مکمل ہوتے ہی تقریب میں موجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کارکنوں جنہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں بنادھ رکھی تھیں نے زبردست نعرہ بازی شروع کردی اور گو مشرف گو ،میاں نوازشریف زندہ باد اور جئے بے نظیر کے نعرے لگائے۔

اعلان بھوربن کے مطابق ٣٠ دنوں میں قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے پابند ہیں ۔ مشترکہ پریس کانفرنس



حکمران اتحاد نے اعلان بھوربن کے مطابق ججز کی بحالی سے متعلق وسیع البنیاد کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیاججز کی بحالی ک معاملے پر کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا ۔ معمولی اختلاف رائے کو دور کرلیا گیا ہےحکمران اتحاد ٹوٹنے کی خواہش پوری نہیں ہو گی ۔ سیاسی و جمہوری قوتوں میں مکمل ہم آہنگی ہے ۔اعلان بھوربن کے مطابق 30 دنوں میں قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے پابند ہیںجلد ہی ججز کی بحالی سے متعلق قرا رداد ایوان میں پیش کردی جائے گی ۔ آئینی پیکج بعد کی بات ہے ۔میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری دو روزہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب اسلام آباد ۔ حکمران اتحاد نے اعلان بھوربن کے مطابق ججز کی بحالی کااعلان کرتے ہوئے اس ضمن میں وسیع البنیاد کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکمران اتحاد نے واضح کیا ہے کہ ججز کی بحالی ک معاملے پر کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا ۔ معمولی اختلاف رائے کو دور کرلیا گیا ہے ۔ حکمران اتحاد ٹوٹنے کی خواہش پوری نہیں ہو گی ۔ سیاسی و جمہوری قوتوں میں مکمل ہم آہنگی ہے ۔ اعلان بھوربن کے مطابق 30 دنوں میں قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے پابند ہیں ۔جلد ہی ججز کی بحالی سے متعلق قرا رداد ایوان میں پیش کردی جائے گی ۔ آئینی پیکج بعد کی بات ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دونوں جماعتوں کے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے معاملہ طے کرنے کے لیے حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے مذاکرات 2 روز تک پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئے ۔ گزشتہ روز مذاکراتی دور کے بعد دونوں جماعتوں کے قائدین کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ مذاکرات میں میاں محمد نواز شریف کی معاونت میاں شہباز شریف ‘ مخدوم جاوید ہاشمی ‘ راجہ ظفر الحق ‘ چوہدری نثار علی خان ‘ خواجہ محمد آصف ‘ احسن اقبال جبکہ آصف علی زرداری کی معاونت فاروق ایچ نائیک ‘ شیری رحمان ‘ سید خورشید شاہ اور رحمان ملک نے کی ۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ججز کی بحالی کے معاملے پر ا ختلافات دور ہو گئے ہیں۔ جس کے مطابق ججز کے حوالے سے آئینی پیکج ‘ معزول ججوں کی بحالی سے متعلق قرار داد سے منسلک نہیں ہو گا۔ مذاکراتی عمل مکمل ہونے کے بعد وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے مشترکہ اعلامیے کا اعلان کیا اور کہا کہ اعلامیہ بھوربن کے مطابق ججز بحال ہوں گے۔ قرار داد کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے وسیع البنیاد کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ہوا ہے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر دونوں جماعتوںکے درمیان اتفاق ہے ۔ اور یہ معاملہ بھوربن کے مطابق حل کیا جائے گا اس بارے میں مکمل اتفاق رائے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے ان افواہوں اور بے بنیاد اطلاعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے جو مخصوص مقاصد کے لیے پھیلائی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں فیصلہ کیا گیاہے کہ اتحادی جماعتوں کی ایک کمیٹی قانون دانوں سے صلاح و مشورے کے بعد اس حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طورپر بعض معاملات پر موقف جدا ہو سکتا ہے لیکن اجتماعی طور پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ سیاسی اور جمہوری قوتوں میں ہم آہنگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں سے عوام میں جوتوقعاتوابستہ کی ہیں عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ اعلان بھوربن کے مطابق ججز کی بحالی کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا ہے ججز کو اعلان بھوربن کی روح کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوا تھا۔ اعلان بھوربن پر عملدرآمد کریںگے۔ فاروق نائیک نے مشترکہ اعلامیہ کا اعلان کردیا ہے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ وسیع البنیاد کمیٹی قائم ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ تیس دنوں مین ججوں کی بحالی کے پابند ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ججز کے حوالے سے آئینی پیکج آئے گا ملک ‘ پارلیمنٹ کے لیے ایسا ضروری ہے ‘ انصاف قائم ہو گا۔ ججز آکر آٹے کی قیمت کم نہیں کردیںگے انصاف کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے آئینی پیکج ضروری ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ مجھے نواز شریف نے نہیں بلکہ لغاری نے گرفتار کروایا تھا اور فوج نے مجھے گورنر ہاؤس سے گرفتار کیاتھا۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے خون کا بدلہ نظام تبدیل کرکے لیںگے میں کسی سے اس خون کا بدلہ نہیں مانگ رہا ہے میں اپنے غم کی بجائے قوم کے غم دور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی ججز نے آمر کو موقع دیا تو اس جج کو ٹانگ دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ وعدے کے مطابق ججز کی بحالی کے حوالے سے قرار داد پارلیمنٹ میں آئے گی آئینی پیکج بعد کی بات ہے ۔ عوام نے پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دئیے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ الٹی گنتی کے خلاف ہوں سہالہ ریسٹ ہاؤس میں بھی گنتی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جب میں نے اس گنتی کو تسلیم نہیں کیا تو دوسروں کی گنتی کیسے مان سکتا ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ حکمران اتحاد ٹوٹنے کی خواہش رکھنے والوں کی یہ خواہشات ادھوری رہ جائیں گی۔ نواز شریف نے کہا کہ منتخب جماعتیں بات کررہی ہیں۔ آمریت سے بات نہیں ہو رہی ہے ۔ دونوں جماعتوں کی بات چیت ہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے ۔ معاملات میں جو معمولی سی رکاوٹیں رہ گئی تھیں انہیں دور کرلیا گیا ہے ۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں نوازشریف نے تو مجھے پنڈی والی بھی سیٹ دیدی ہے ۔ میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ ملک عوامی ‘ جمہوری نمائندوںکے ہاتھوں میں ہوتا تو ملک ٹوٹتا ‘ بنگلہ دیش بنتا نہ عدالتیں ‘ آئین اورپارلیمنٹ ٹوٹتا