International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Saturday, April 26, 2008

وزیر اعظم قوم کو ٹی وی پر آکر اعتماد میں لیں ۔۔۔۔۔۔ تحریر چودھری شاھد نواز







وزےراعظم جناب ےوسف رضا گےلانی کو وزےراعظم کا عہدہ سنبھالے آج بےس اکےس دن ہو چکے ہےں عوام نے ان سے بہت سی امےدےں وابسطہ کر رکھی ہےں جن مےں سب سے بڑی جو امےد مہنگائی اسکے بعد ججز کی بحالی‘بجلی کے بحران کا خاتمہ ملک مےں جاری بدامنی اور خود کش دھماکوں سے نجات وغےر ہ غےرہ۔ ان سب مےں سے آج تک مےرے خےال کے مطابق عوام کو ماسوائے ججز کی آزادی ےعنی ان کے دروازوں سے پولےس کو ہٹانے کے سوائے کوئی کام نہےں ہوا ےہ بات ماننے کی ہے کہ ابھی مکمل حکومت کا وجود عمل مےں نہےں آےا مگر وہ کب آئے گا مےرے خےال مےں جب تک موجودہ نومنتخب اسمبلےوں پر صدر پروےز مشرف اور انکے لگائے گئے گورنر حضرات براجمان ہےںےہ کبھی بھی نہ اسمبلےوں کو تسلےم کرےں گے نہ موجودہ حکومت وغےرہ کو جسکی مثال حال ہی مےں ہونے والے واقعات سے ثابت ہو چکی ہے جس مےں گورنر ہاو¿س کے ہےلی کاپٹر اورجہازوں کے علاوہ سرماےہ بھی استعمال ہوا۔ حتی کہ وزےراعظم کے شہر ملتان مےں بھی سرماےہ کاری ہوتی ہوئی نظر نہےں آئی کےونکہ بجلی کا بحران تو عرصہ دراز سے چل رہا ہے مگر کےا ےہ سب سے زےادہ ےہ ملتان مےں ہی جہاں سرکاری املاک کو نشانہ بناےا گےا اور کچھ افراد کو زخمی بھی کےا گےا کہ ےہ حالات اور خراب ہوں۔ خےرمےرا مقصد کسی اور طرف نہےں توجہ مبذول کروانا ہے صرف عوام سے کےے گئے وعدوں کے متعلق بات کرنا ہے۔مےری تو جناب وزےراعظم سے ےہ درخواست ہے کہ اس زخم خورہ قوم کو جو عرصہ 9سال سے آئے روز زخم پہ زخم کھا رہی ہے کبھی مارشل لاءکی صورت مےں کبھی 9/11کی صورت مےں کبھی بلوچستان کے مسائل کی وجہ سے کبھی وانا جنوبی وزےر ستان کی وجہ سے کبھی سوات ‘اےمرجنسی کبھی مدرسوں پر بم باری اور کبھی لال مسجد کو شہےد کرنے کے واقعات کبھی 18اکتوبر کی قدرتی آفات جن مےں 80ہزار افراد لقمہ اجل بن جانے ہےں کبھی سٹےل مل کی نےلامی کی طرح کے اور کبھی اسٹاک اےکسچےنجز کے کرش کر جانے جےسے واقعات کبھی ججز کو معزول اور کبھی گرفتار اور کبھی انکو سرعام سڑکوں پر دھکے دےنے جےسے واقعات سے اور کبھی چےنی بحران کبھی آٹا بحران اور کبھی باڈروں پر ہندوستانی اور پاکستانی فوجوں کا آمنا سامنا حتٰی کہ ہماری سرحدوں کے اندر آکر افغان فوجوں کا آپرےشن جےسے واقعات سے چھلنی قوم کو کسی مرہم لگانے والے کی ضرورت ہے جناب وزےراعظم قوم نے اس سارے عرصہ مےں خاص طور پر گذشتہ سال مےں جو واقعات دےکھے ہےں وہ زخم ابھی بھرے نہےں ‘مےری مراد 12مئی کو کراچی جےسے واقعات اور پاکستانی قوم کی لےڈر محترمہ بے نظےر بھٹو جنہےں سرعام بےچ چوراہے ہلاک کر دےا گےا اور جنکی شہادت کے نشانات مٹانے کےلئے کےا کچھ نہےں کےا گےا ابھی تک قوم ان کے سوگ مےں ہے ےقےن مانےں جب شام کو کسی بھی گھر بےٹھ جائےں جونہی محترمہ کی تصوےر کسی بھی چےنل پر آ جائے تو آنکھ مےں پانی اتر آتا ہے۔ خےر ےہ تو سب جذبات والی باتےں ہےں مےری صرف وزےراعظم سے ےہ درخواست ہے کہ قوم کے زخموں پر مرہم لگائےں اس قوم نے آپ سے بہت سی امےدےں وابسطہ کی ہوئی ہےں ہمےں بھی علم ہے کہ ےہ وعدے اتنی جلدی پورے نہےں ہونگے کےونکہ گذشتہ حکومت نے تانے بانے ہی اےسے بہنے ہوئے ہےں کہ ان کو سلجھانے مےں وقت کی ضرورت ہے اعر عقل و فہم کی خدا نے ےہ سب چےزےں آپکو دی ہوئی ہےں گذشتہ10سال مےں کبھی بھی وزےراعظم نے TVپر آ کر قوم سے خطاب نہےں کےا۔ہر دفعہ ےہ صدر ہی نے کےا ہے۔کےونکہ اب حالات پہلے والے نہےں رہے اور اس لےے پرانی رواےات کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام سے محاطب ہوں اور جو اےجنڈا آپ نے قومی اسمبلی مےں پےش کےا تھا اسی کو ملا کر کوئی اچھی سی خوش خبری عوام کو دےں تاکہ عوام مےں برداشت کا عمل شروع ہو کےونکہ غےر سےاسی عناصر اور آمرےت کی باقےات ابھی اپنا کھےل شروع کر رہی ہے ےہ نہ ہو کہ ہماری بھولی اور جذباتی قوم کسی کے نرغے مےں آ جائے اور وطن عزےز کسی اور طرف چل نکلے۔

کلا شن کوف نہیں قلم اعجاز احمد

گذشتہ دنوں صو بہ سر حد کے وزیر اعلی امیر حیدرر خان ہو تی نے کیا خوب بات کہی کہ ہم اپنی نئی نو جوان نسل کے ہا تھ میں بندوق اور کلاشن کوف کی جگہ کتابیں اور قلم دیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ سر حد کی نو مُنتخب حکومت نے اپنے چند رو ز ہ اقتدار میں جتنے اقدامات کئے ہیں انکی مثال نہیں ملتی۔ ان اقدامات میں صوبہ سر حد میں نفرتوں کو ختم کر نے کے لئے بات چیت کا راستہ اختیار کر نا، لا قانونیت، ، انتہا پسندی ، دہشت گر دی کو ختم کر نے کے لئے اقدامات، انتہا پسندوں کے ساتھ صلح صفائی کاایک خو شگوارآ غاز، بیت اللہ مسعود کے ساتھ امن معا ہدہ ، صوفی محمد کی رہائی، امریکہ کے ساتھ تعلقات رکھتے وقت ملکی مفادات کو مد نظر رکھنا اور اسکے علاوہ ایسے بے تحا شا اقدامات ہیں جو انتہائی قابل تحسین ہیں۔صوبہ سر حد کے پسے ہوئے عوام موجودہ صوبائی حکومت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ جتنا جلد ہو سکے وہ اُنکے مسائل حل کر نے کے لئے کو شاں رہیں گے۔ پختون قوم کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ یہ لوگ زیادہ تعلیم یا فتہ نہیں ہوتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کے ہر خطے میں سخت محنت اور مشقت والے کام کر رہے ہو تے ہیں۔ وہ معا شرہ کبھی بھی کا میابیوں اور کامرانیوں کو چھو نہیں سکتا جب تک وہ زیادہ تعلیم یا فتہ اور خواندہ نہ ہو۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ و طن عزیز میں خواندگی اور تعلیم کی شرح بُہت زیادہ کم ہے ، جسکی وجہ سے ہم ترقی کا وہ مقام حا صل نہیں کر سکے جسکی توقع کی جا تی تھی۔میں امریکہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیاء، جر منی، فرانس، بر طانیہ اور کنیڈا کی مثا لیں اور بات نہیں کر تا بلکہ میں اُن ممالک کامیابیوں اور کا مرا نیوں کا ذ کر کر تا ہوں جو ہمارے اڑوس پڑوس میں ہیں اور جو ہمارے ساتھ تقریباً ایک ہی وقت میںآزادی کی نعمت حا صل کر چکے ہیں۔یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے تعلیم اور افرادی قوت کی ٹریننگ اور تر بیت پر بھر پور توجہ دی جسکی وجہ سے ان ممالک کی سما جی اوراقتصادی حالت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ مثلاً تھائی لینڈ کی شرح خواندگی 91فی صد ، اور فی کس جی ڈی پی 8 ہزار ڈالر، تائیوان کی شرح خواندگی97 فی صد اور فی کس جی ڈی پی 30 ہزار ڈالر، ملائیشیاءکی شرح خواندگی 91 فی صد اور فی کس جی ڈی پی 15 ہزار ڈالر، انڈو نیشیاءکی شرح خواندگی 91 فی صد اور فی کس جی ڈی پی 4ہزار ڈالر، چین اور پاکستان جو کہ تقریباً ایک وقت میں آزاد ہوئے تھے چین کی شرح خواندگی91 فی صد اور فی کس جی ڈی پی 5500 ڈالر ہے۔جبکہ اسکے بر عکس پاکستان کی شرح خواندگی40 فی صد جبکہ فی کس جی ڈی پی 2500 ڈا لر ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ہم اقتصادی اور تعلیمی طو ر پراتنے کمزور کیوں ہیں؟۔اگر حالات اور واقعات کا بغور تجزیہ کیا جائے تو اسکی بُہت ساری وجو ہات ہیں مگر اس میں سب سے بڑی وجہ جہا لت، کم علمی اور تعلیم کے میدان میں پسماندگی شامل ہے۔ فی زمانہ وہ ممالک کامیابیوں اور کا مرانیوں کی منزلیںطے کرتے ہیں۔ جنہوں نے انسانی وسائل اور تعلیم کی ترویج پر محنت کی ہوتی ہے۔یہ بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ پر ویز مشرف کے دور حکومت میں ہائیر ایجو کیشن پر ایک کثیر رقم خر چ ہوتی رہی مگر بد قسمتی سے مشرف حکومت نے ٹیکنیکل اینڈ وو کیشنل ایجو کیشن ، ایلیمنٹری ایجو کیشن اور بالخصوص پرائمری ایجو کیشن پر کوئی توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے پاکستان قوموں کی برادری میں وہ مقام حا صل نہیں کر سکا جسکی توقع ملک کے پسے ہوئے عوام کر تے ہیں۔وفاقی حکومت نے سال 2006-7 میں تعلیم کے لئے ایک خطیر رقم مختص کی، مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس بجٹ میں اُن مدوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی جو توجہ کی طالب اور مُستحق تھی۔حکومت نے سال 2007 میں وفاقی تعلیم کے لئے 24 ارب 25 کروڑ روپے مختص کئے تھے جس میں ہائیر ایجو کیشن کے لئے 19 ارب روپے، سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے 3ارب روپے پرائمری ایجوکیشن کے لئے 2 ارب روپے جبکہ انتظا میہ کے لئے ایک ارب 55 کروڑ روپے مُختص کئے۔ اگر سال 2007 کے وفاقی بجٹ کو دیکھا جائے تو اس میں پرائمری اور سیکنڈری ایجو کیشن کے ساتھ یکساںبے انصافی کی گئی ہے۔نائیجیریا کے بعد پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جہاں پر بڑی تعداد میں بچے سکول نہیں جاتے۔ یو نیسکو کے مطابق ہر ملک کو اپنے جی ڈی پی کا 5 فی صد تعلیم پر خرچ کر نا چاہئے مگر بد قسمتی سے پاکستان اپنے جی ڈی پی کا 2.5فی صد تعلیمی مد پر خر چ کررہا ہے جو انتہائی کم ہے۔ حکومتی دعووں کے باوجود بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد اس اٹیمی اور میزائیلی دور میں بھی سکول جانے سے سے قا صر ہیں۔ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے :Primary education is no doubt a cornerstone of Genearal education and to expect any success at secondry and higher levell with out a viable base in primary education is nothing but wish full thinking.اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم اُ س وقت تک سیکینڈری اور ہائیر لیول ایجو کیشن میں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتے جب تک ہمارے پرائمری نظام تعلیم میں کو تاہیاں موجود ہوں۔چند دن پہلے گورنمنٹ گرلزپرائمری سکول نمبر ٢ شین ڈند جانے کا اتفاق ہوا ۔ یہ سکول جو کہ صوابی شہر کے وسط میں واقع ہے دو کمروں پر مشتمل ہے۔ مگر بد قسمتی سے ان دوکمروں کے سکول میں 6 کلاسیں پڑ ھائی جاتی ہیں جب کہ اس سکول میں بچوں کی تعداد 250 سے لیکر 300 تک ہے۔سکول میں اتنا شور ہو تا ہے کہ کچھ سُنائی نہیں دیتا۔ سکول کی ہیڈ مسٹریس زیادہ شور کی وجہ سے ڈیپریشن اور کان کے امراض میں مبتلا ہوگئی ہے۔ اور آج کل اسلام آباد میں بیک وقت ماہر نفسیات اور ای این ٹی سپیسلسٹ سے علاج کر وارہی ہے۔ دونوں ڈا کٹروں نے سکول کی ہیڈ مسٹریس سے استدعا کی ہے کہ اُنکے دونوں امراض میں اُ س وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک شور سے نہ بچا جائے۔ بہر حال وہ بے چاری کیا کر سکتی ہے جب پیٹ ہے تو کچھ تو کر نا ہی پڑے گا۔دو کمروں کے سکول میں شور سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔میری بذات خود وزیر اعلی صوبہ سر حد اور وزیر تعلیم سے استد عا ہے کہ اس سکول میں کم ازکم دو کمرے اور تعمیر کر وائے جائیں تاکہ جو بچے دھوپ میں بیٹھ کر پڑھتے اور بیمار ہو تے ہیں کم ازکم ملک اور قوم کے اُن نو نہال بچیوں کو دھوپ سے تو بچا یا جاسکے کیونکہ یہی بچے اور بچیاں ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔سابقہ حکومت نے تو وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کے لئے تقریباً ٦٩ ارب روپے مُختص کئے تھے مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوابی کی ان سکول کی طر ح اکیسویں صدی میں ہمارے معصوم نو نہال دھوپ میں بیٹھ کر زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔مُجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر وہ پیسے گئے کدھر۔میری وفاقی وزیر تعلیم پروفیسر احسن اقبال صاحب۔ صوبہ سر حد کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی اور صوبہ سرحد کے وزیر تعلیم سے استدعا ہے کہ صوابی کے اس سکول کے ساتھ ساتھ دوسرے سکولوں میں ایسے کمرے بنائے جا ئیں اور ایسی تعلیمی پالیسی بنائی جائے تا کہ نہ تو کوئی دھوپ میں بیٹھ کر تعلیم حا صل کریں اور نہ والدین تنگ دستی اور مالی بد ھالی کی وجہ سے اپنے جگر گوشوں کو زیور تعلیم سے آراستہ نہ کر سکیں۔ہمیں ہائیر ایجوکیشن کی جگہ پرائمری، سیکنڈری ، ٹیکنیکل اور وو کیشنل ایجوکیشن کی طرف بھر پور توجہ دینی چاہئے تاکہ ہم بین لاقوامی برادری میں ایک با عزت مقام حا صل کر سکیں۔ آج کا دور تعلیم ، سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور وہ قومیں کبھی بھی عالمی سطح پر ایک مقام حا صل نہیں کر سکتیں جب تک اُنکی نئی نسل جدید زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہوں۔

جرمنی :بے نظیر بھٹو ایونیو کی قراردادمنظور، شاہدریاض گوندل کو سیاسی راہنمائوں کی مبارکباد



ایسوسی ایٹڈ پریس سروس

برلن کی سٹی کونسل نے بحث کے بعد بھاری اکثریت سے بے نظیر بھٹو ایونیو کی قرارداد کی منظوری دے دی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی لیڈرManfred Becker نے کونسل میں قرارداد پیش کی،اس پر تقریباً تمام پالیمانی گروپوں کی طرف سے بحث کی گئی۔ بحث کے بعد رائے شماری ہوئی جس میںکونسل کے ارکان نے قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔ قرارداد کے حق میں توقع سے زیادہ ووٹ آئے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، کرسچین ڈیموکریٹک یونین، گرین پارٹی اور بائیں بازو کی جماعت Die Linkeنے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی بے نظیر بھٹو ایونیو کے کے لیے سب سے اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔ قرارداد کی منظور ی پر جرمن سیاسی راہنمائوں ، Erik Gührs, Fritz Wolff, Dirk Liebeاور Schulz-Topkenنے شاہدریاض گوندل کو جو کہ پا کستان جرمن کونسل برائے ثقافت و جمہوریت کے صدر اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبر ہیں، قرارداد کی منظور ی پر مبارکباد دی ہے۔ شاہد ریاض گوندل اوران کی تنظیم "پاکستان جرمن کونسل برائے ثقافت و جمہوریت" برلن میں بے نظیر بھٹو ایونیو کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے محرک ہیں۔یہ قرارداد اب بیک وقت صوبائی کابینہ اور ثقافت کی کمیٹی کے پاس چلی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس کی خصوصی منظوری دے گی۔ کابینہ پہلے ہی اس کی منظور ی کے لیے مثبت اشارہ دے چکی ہے۔ اس سے پہلے صوبائی کابینہ نے ساٹھ کی دہائی میں امریکن صدر جان ایف کینیڈی کی وفات کے بعد اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے خصوصی منظور ی دی تھی۔ ثقافت کی کمیٹی شاہراہ کے نام کی تبدیلی پر آنے والے اخراجات، شاہراہ کے نام کی تبدیلی سے متاثر ہونے والے شہریوں، کاروبار اور اور سپورٹس کمپلیکس کا جائزہ لے گی۔ شاہراہ کا نام Weisenseer Weg تبد یل کرکے بے نظیر بھٹو ایونیو رکھنے پر لاکھوں نہیں تو ہزاروں یورو خرچہ آنے کا تخمینہ ہے۔ اگر صوبائی کابینہ بے نظیر بھٹو ایونیوکی منظور ی دے دیتی ہے( جس کا غالب امکان ہے) تو جرمنی کے درالحکومت میں یہ کسی بھی مسلمان شخصیت کے نام پر پہلی شاہراہ ہوگی۔ یہ نہ صرف بے نظیر بھٹو شہید کے لیے ایک خراجِ تحسین ہوگا بلکہ پاکستان کے تمام سیاسی راہنمائوں ، سیاسی ورکروں، صحافیوں، وکیلوں ، پاکستانی عوام اور جمہوریت کے لیے قربانی دینے والے ہر شخص کے لیے ایک اعزاز ہوگا۔اس خوشی کے موقع پر پاکستان جرمن کونسل برائے ثقافت و جمہوریت اور شاہد ریاض گوندل تمام پارلیمانی گروپوں، تما م جرمن اور پاکستانی دوستوں کا شکریہ اداکرتے ہیں جنہوں نے بے نظیر بھٹوایونیوکے لیے حمائت کی اور مستقبل میں بھی ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

Berlin City Council approved Benazir Bhutto Avenue, SPD politicians congratulate Shahid Riaz Gondal



Berlin-Lichtenberg City Council has endorsed the resolution for Benazir Bhutto Avenue with a huge majority. Parliamentary leader of Social Democratic Party (SPD) presented the resolution in the City council and asked for support. After the discussion by other parliamentary groups, the Council approved the resolution for Benazir Bhutto Avenue and transferred it to the Cultural Committee. At the same City Council has asked the Berlin provincial Cabinet for its special approval for renaming a road as Benazir Bhutto Avenue.
SPD Politicians Andreas Geisel, Erik Gührs, Dirk Liebe, Fritz Wolff and Ole Kreins congratulated Shahid Riaz Gondal who is President of Pak-German Council for Culture and Democracy and an active member of SPD. Pak-German Council for Culture and Democracy is the initiator of Benazir Bhutto Avenue in Berlin.
Parliamentary groups of Social Democratic Party, Christian Democratic Union, Green Party and the Leftist Party Die Linke have voted for the resolution. More members voted for the resolution than expected.
Berlin Provincial Cabinet will give a special approval because of the Law for renaming streets “Only Governing Mayor and the Provincial Cabinet can provide exemption to the law, they can approve the naming or renaming of street even if five years are not passed since the death of concerned personality”. Provincial Cabinet has already shown interest and willingness to approve Benazir Bhutto Avenue. This exemption to law was only used in 1960s after the death of US President John F. Kennedy.
Cultural committee will analyse costs and effects of renaming the road as Benazir Bhutto Avenue on the businesses, sports complexes and residents living on this road already.
Naming the avenue after the name of Benazir Bhutto would be a tribute to the political leaders, workers, lawyers, journalists and for the people of Pakistan who fought against fanatic elements and the establishment at the same time to restore democracy in Pakistan.
Shahid Riaz thanked all parliamentary groups and Mr. Andreas Geisel, Karin Seidel-Kalmutzky, Erik Gührs, Birgit Monteiro, Dirk Liebe, Ole Kreins, Fritz Wollf and Manfred Becker for their constant support and special efforts for Benazir Bhutto Avenue in Berlin.

China warned for increased terror risk

WASHINGTON - The United States and Britain issued new travel alerts warning of an increased terrorist threat in China Friday, as Interpol said Beijing must prepare for a possible Al-Qaeda attack at the Olympics.
The US State Department warned Americans travelling to the Asian country of a "heightened risk that extremist groups will conduct terrorist acts within China in the near future."
It said any large-scale public event, such as the Olympic Games in Beijing in August, "may present an attractive target for terrorists," and warned its citizens travelling in China to be alert.
The statement updated March travel advice which said the threat of terrorism against Americans in China "remains low."
It was issued as Britain also upgraded its terror assessment for China, where it had previously said the risk was "low."
"There is an underlying threat from terrorism in China," the Foreign Office said on its travel advice web site, although it said it was not discouraging travel there.
The change "reflects both the global risk of indiscriminate terrorist attacks and the possibility of terrorist attacks by groups opposed to the Chinese government," it said.
"Particularly in the run-up to the Olympic Games, attacks cannot be ruled out, particularly in major urban areas. They could be indiscriminate, including in places frequented by expatriates and foreign travellers," it added.
Earlier Friday, Interpol chief Ronald Noble warned China must be prepared for a possible Al-Qaeda attack on the Beijing Olympics, as well as potentially violent disruption from pro-Tibet protestors.
"We must be prepared for the possibility that Al-Qaeda or some other terrorist group will attempt to launch a deadly terrorist attack at these Olympics," he told an international conference on security for the Games in Beijing, according to a copy of his speech.
The police chief said a worldwide television audience of billions and a massive influx of foreign visitors could provide "easy cover for terrorists and ensure any attack during the Olympics would have an immediate global impact."
China's Minister of Public Security Meng Jianzhu backed his remarks, telling the conference, according to a translation of his speech: "There is no doubt that the biggest threat facing the Beijing Olympics is terrorism."
Noble told delegates the security "situation has clearly changed" since September 2007, when Interpol reported it had no specific information from its 186 member countries on direct terrorist threats to the Beijing Olympics.
He added that the wave of protests over China's crackdown in Tibet during the global Olympic torch relay had "introduced significant additional complications to the normal security considerations" for the Games.
All countries participating in the sporting events must be prepared for violent protests during the Games, he said.
The US State Department said Chinese authorities have increased security in the country's airports in recent months in light of the security concerns.
"For example, Chinese airport authorities recently implemented tighter restrictions on taking liquids, aerosols, or gels aboard flights in carry-on baggage," it said.

Blackwater Worldwide accused of shredding documents

WASHINGTON- Families of Iraqis who died in a shooting involving Blackwater Worldwide contractors accused the company of shredding documents and destroying evidence.
Lawyers for the families made the accusations in court documents but identified the source of the information only as former employees. They said officials at the company's North Carolina compound shredded documents related to ongoing investigations sometime around March 18.
Company lawyers had no immediate comment Friday night, but they are quoted in court documents as saying Blackwater took appropriate steps to make sure documents were not destroyed.
Lawyers for the Iraqis do not say what investigation the documents relate to. Blackwater, a major security contractor in Iraq, is under scrutiny in several matters.
Most notably, its guards are under investigation for a September shooting that left 17 Iraqi civilians dead. There is no indication the Justice Department is investigating shredding as part of that case.
Family members are already suing the company for alleged wrongful death in connection with the September shooting, and they asked a judge Friday to let them add document destruction to that lawsuit.
The families also say Blackwater destroyed evidence by repainting and repairing its trucks after the shooting. The company has said the work was done to protect the guards from retribution and was approved by the State Department.

Bill Gates, chairman, Microsoft Corp. speaks at the University of Washington in the last stop in the Bill Gates Unplugged tour in Seattle, on Friday.

اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو ڈالرز کی فراہمی ،قیمت میں ایک روپے کی کمی

کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو ڈالر کی فراہمی کے بعد اوپن کرنسی مارکیٹ میں جمعہ کو ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر کی قیمت 66.80 روپے سے کم ہو کر 65.80 روپے ہو گئی۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک اور ایکسچینج کمپنیوں کا ایک اجلاس ہوا جس کی صدارت اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر فارن ایکسچینج نے کی۔ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ انٹر بینک مارکیٹ اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں فرق90 پیسے ہونا چاہئے۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت انٹر بینک کے مقابلے میں40 پیسے سے زیادہ نہ ہو۔ اس موقع پر ایکسچینج کمپنیوں نے بتایا کہ بینک انہیں ڈالر فراہم نہیں کررہے جس کے باعث مارکیٹ میں ایک طرف ڈالر کی قلت ہے تو دوسری جانب بڑے پیمانے پر ڈالر کی ہولڈنگ کرلی گئی ہے۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا کہ وہ بینکوں کو ڈالر فراہم کرے گا اور بینکس یہ ڈالر ایکسچینج کمپنیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق دیں۔ اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کے بعد جن لوگوں نے ڈالر ہولڈ کر رکھا تھا انہوں نے بھی مارکیٹ میں ڈالر بیچنا شروع کر دیئے جس کے باعث جمعے کو ڈالر کی سپلائی بڑھ گئی اور ڈالر کی قیمت ایک روپے کم ہو گئی۔ مارکیٹ ذرائع کاکہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں ڈالر کی قیمت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

زرداری کل واپس آکر نواز شریف سے ملاقات کریں گے، رحمان ملک

اسلام آباد : پارلیمنٹ ہاؤس میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل جب وزیرقانون سینیٹر فاروق ایچ نائیک صحافیوں کے ایک گروپ سے معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر غیر رسمی گفتگو کررہے تھے تو وزیرپڑولیم خواجہ آصف انہیں صحافیوں سے دور لے گئے اور علیحدگی میں اہم بات چیت کی جب کہ وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے بھی کچھ دیر تک خواجہ آصف سے علیحدگی میں اہم امور پر بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ پیپلزپارٹی کے شریک چےئرمین آصف علی زرداری اتوار تک وطن واپس آجائیں گے اور پھر میاں نوازشریف سے ملاقات کریں گے۔

نئی حکومت کیلئے نیب کا راستہ تبدیل، 6 ہزار ”ملزمان“ کے نام فہرست سے خارج

اسلام آباد: نئے سیاسی لارڈز کی آمد کے ساتھ ہی قومی احتساب بیورو نے طے شدہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ اس نے خاموشی کے ساتھ اپنے سابق ملزم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، آصف زرداری، رحمن ملک اور دیگر متعدد موجودہ اور سابق وزراء کے نام اپنے بدنام زمانہ 6 ہزار سرکاری ملازمین، کاروباری افراد اور دیگر لوگوں کے نام فہرست سے خارج کردیئے ہیں۔ یہ وہ افراد تھے جن کے خلاف گزشتہ برسوں میں ایکشن لیا جاتا تھا۔ ان بڑے افراد کے ناموں کا اخراج ڈرامائی طور پر جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس وقت منظر عام پر آیا جب وقفہ سوالات کے دوران نیب نے اپنی نظر ثانی شدہ فہرست جمع کرائی۔ یہ فہرست ان افراد کے ناموں پر مشتمل تھی جن کے خلاف ایکشن لیا گیا تھا۔ اس دلچسپ پیش رفت کا سب سے اسکینڈل زدہ حصہ یہ ہے کہ ماضی کی پارلیمنٹ میں گزشتہ پانچ سال کے دوران نیب سے متعلق جب بھی کوئی سوال ایوان میں اٹھایا جاتا تو ”بدعنوان سیاستدانوں“ کی ایک طویل فہرست جلدی سے پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی تھی بلکہ اس سے بڑھ کر نیب کی ویب سائٹ ان تمام ”بدنامِ زمانہ سیاستدانوں“ کے نام ان کیخلاف قائم کئے گئے مقدمات کی نوعیت بھی بتاتی تھی۔ پارلیمنٹ میں ان ناموں کو پیش کرنے کے بعد نیب اس بات کو بھی یقینی بنایا کرتی تھی کہ ان کے نام اگلے روز میڈیا میں مناسب پبلسٹی حاصل کرسکیں۔ نیب نے زرداری کیخلاف کرپشن کے سات مقدمات دائر کئے تھے لیکن ایوان کے سامنے پیش کی جانے والی فہرست میں انکا نام شامل نہیں تھا۔ اس پیش رفت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ نیب نے جن لوگوں کے خلاف ایکشن لیا تھا ان کی ایک غیر معمولی فہرست وزیراعظم سیکریٹریٹ کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں ایوانِ زیریں میں جمع کرائی گئی تھی۔ تاہم، یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا نیب کے خوف زدہ افسران نے از خود یہ نام نکال دیئے تھے یا وزیراعظم سیکریٹریٹ کے کچھ مکینوں نے یہ عظیم کام کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، جو 8 سال تک جیل میں رہے، کے نام نے سابق سرکاری ملازم اور نیب کے سربراہ جاوید احسن کو خوف زدہ کردیا جس پر فہرست کا دوبارہ جائزہ لیا گیا اور اپنی ملازمت پر برقرار رہنے کیلئے نئے حکمرانوں کا نام فہرست سے خارج کردیا گیا۔ فہرست سے سیاست دانوں کے ناموں کے اخراج کی ایک اور بڑی وجہ، ایک ذریعے کے مطابق، یہ ہے کہ نیب نے جن لوگوں کے خلاف ایکشن لیا وہ اب قومی اسمبلی میں بڑی تعداد میں براجمان ہیں، جہاں نیب کی فہرست پیش ہونا تھی جبکہ نیب کو پہلے ہی اپنے غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اب جو فہرست پیش کی گئی ہے اس میں صرف سرکاری ملازمین اور کاروباری شخصیات کے نام ہیں۔ اس فہرست کو ایک گھنٹے تک دیکھنے کے بعد صرف پانچ یا چھ سیاست دانوں کے نام نظر آتے ہیں جن کی سیاسی اہمیت کم ہے۔ حتیٰ کہ آفتاب شیرپاؤ اور لیاقت جتوئی جیسے کچھ اعلیٰ سیاست دان جن سے ماضی میں تفتیش کی جاتی رہی اور جب یہ تاحال عدالتوں میں اپنے مقدمات لڑ رہے تھے، ان کے نام بھی فہرست سے غائب ہیں۔ یہاں تک کہ شوکت عزیز کی کابینہ کے بھی کچھ ارکان کے نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

او آئی سی کے تحت پہلا انسانی حقوق کا مرکز پاکستان میں قائم کیا جائیگا

اسلام آباد: اسلامی کانفرنس تنظیم کی قرارداد کے تحت پہلا عالمی پیمانے پر انسانی حقوق کے تحفظ کا مرکز (ہیومن رائٹس ورلڈ وائیڈ پروٹیکشن سینٹر) پاکستان میں قائم کیا جائے گا۔ کچھ عرصہ قبل اس مرکز کے قیام کیلئے او آئی سی نے اس کا چارٹر متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔ انتہائی اعلیٰ سطح کے سفارتی ذرائع نےبتایا ہے کہ مرکز کا قیام ملک میں بے داغ جمہوریت کی بحالی کا ایک اور ثمر ہے۔ اسلام آباد اس مرکز کے قیام کیلئے بہترین جگہ ہے۔ پاکستان میں مرکز کی ترقی کے حوالے سے تجاویز اپنے حتمی مرحلے میں ہیں اور او آئی سی کا یہاں کام کرنے والا ہیڈ کوارٹرز حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ مسلمانوں کی غالب اکثریت کے حامل ممالک پاکستان، سعودی عرب، ایران، سوڈان اکثر انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر تنقید کرتے ہیں جس کی وجہ اس کا غیر مغربی ممالک کے تناظر میں ثقافتی اور مذہبی خیال نہ رکھنا ہے۔ 1981ء میں انقلاب کے بعد اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے نے حقوق انسانی کے عالمی اعلامیے کے حوالے سے اپنے ملک کی پوزیشن بتاتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) یہودیوں اور عیسائیوں کی مفاہمت پر مشتمل ایک سیکولر دستاویز ہے جس پر مسلمانوں کی جانب سے اسلامی قوانین کی رو گردانی کئے بغیر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ او آئی سی کے 45 وزرائے خارجہ نے 5 اگست 1990ء کو سی ڈی ایچ آر آئی منظور کیا تھا۔ یہ اعلامیہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ رنگ، نسل، زبان، عقیدے، مذہب، سیاسی وابستگی، سماجی رتبے اور دیگر وجوہات کی بناء پر امتیاز کی ممانعت ہوگی۔ اعلامیہ میں انسانی زندگی کے تقدس کا اظہار کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ انسانی زندگی کو بچانا شریعت کی روح سے فرض ہے۔ علاوہ ازیں اس اعلامیہ میں مرد اور عورت کو ان کی نسل، رنگ اور قومیت سے قطع نظر شادی کی اجازت دی گئی ہے تاہم اس میں مذہب کو شامل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں خواتین کو یکساں انسانی وقار کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں شوہر کو خاندان کے مالیاتی اور سماجی تحفظ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، دونوں والدین کو بچوں پر حقوق دیئے گئے ہیں اور ان کیلئے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پیدائش سے قبل اور بعد میں بچے کی حفاظت کے ذمہ دار ہونگے۔ اعلامیہ میں ہر خاندان کو پرائیویسی کا حق دیا ہے۔ اسکے علاوہ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگوں کے وقت خاندان تقسیم ہوجائے تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاندانوں کی ملاقاتوں کا اہتمام کرے۔

برطانوی اہلکاروں کو اسلام آباد ایئر پورٹ پرپاکستانیوں کی برطانیہ روانگی روکنے کے اختیارات

اسلام آباد : پاکستانی حکام نے برطانوی اہلکاروں کواسلام آباد سے برطانیہ سفر کرنے والے مسافروں کی روانگی روکنے کے لئے اختیارات تفویض کر دئیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کو پاکستان کی سرزمین پر ہی ڈی پورٹ کرنے کا حق دینے کے متراد ف ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو دستاویزات میں کسی قسم کی کمی کی بناء پر برطانیہ سفر کرنے سے روک دیا گیا جبکہ مذکورہ دستاویزات کی پڑتال میزبان ملک میں (منزل پر) پہنچنے کے بعد کی جانی چاہیے تھی۔ یہ بات مزید حیران کن ہے کہ نہ صرف برطانیہ سفر کرنے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں بلکہ بہت سے واقعات میں مختلف الزامات کے تحت لوگوں کے پاسپورٹ بھی ضبط کئے گئے ہیں۔ بعض واقعات میں کئی سال پہلے برطانیہ میں مدت سے زائد قیام کرنے کاالزام لگاتے ہوئے بھی ایسا کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمیشن اور ایف آئی اے دونوں نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر ایئر لائنز رابطہ آفیسر (ALO) کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔ تا ہم دونوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ آفیسر کی تعیناتی کا مقصد مسافروں کی دستاویزات کی بنیاد پر مشاورت فراہم کرنا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن نے رابطے پر بتایا کہ اے ایل او ایئر لائنز اور ایف آئی اے دونوں کو مسافر کی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد یہ تجویز کرتا ہے کہ آیا برطانیہ یا کسی دیگر ملک سفر کرنے والے مسافر کی سفری دستاویزات درست ہیں یا نہیں۔ اے ایل او کے اختیارات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن نے کہا کہ مذکورہ افسر کو مسافروں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اے ایل او ایف آئی اے کے اہلکاروں کیساتھ ملکر مسافروں کی دستاویزات کی قانونی حیثیت جانچتا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ ”اسلام آباد ایئر پورٹ پر برٹش ایئر ویز کا کوئی افسر تعینات نہیں بلکہ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے ایک اے ایل او تعینات کیا گیا ہے۔ نامکمل دستاویزات پر مسافروں کو برطانیہ سفر کرنے کی اجازت دینے والی ایئر لائنز کو برطانوی قانون کے تحت 2 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کیا جا سکتا ہے“ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول کے تحت تمام قسم کی دستاویزات کی پڑتال اس ملک کی ذمہ داری ہے۔ جہاں سے مسافر روانہ ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں معاملہ مختلف ہے جہاں پاکستان کی سرزمین پر ہی پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا اختیار برطانوی اہلکاروں کو حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی واضح ذمہ داری حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے برطانوی اہلکاروں کواپنی سرزمین پر ایسے انتظامات کرنے کی اجازت دی۔ حاصل شدہ معلومات کے مطابق تا حال صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی یہ معاملہ درپیش ہے۔ تا ہم مستقبل میں دائرہ کار دیگر ایئر پورٹس تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ جس سے برطانیہ سفر کرنے والے پاکستانی مسافر متاثر ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اے ایل او کی تعیناتی کا مقصد برطانوی ایئر لائنز سے سفر کرنے والے مسافروں کی دستاویزات کی قانونی حیثیت کو جانچنا ہے تا ہم عملی طور پر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بہت سے واقعات میں پاکستانیوں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کے بعد انہیں کہا گیا کہ جب برطانوی ہائی کمیشن مطمئن ہو جائے گا تو پاسپورٹ اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز نے بھی اسلام آباد ایئر پورٹ پر اے ایل او کی تعیناتی کی تصدیق کی۔ تاہم یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ مذکورہ افسر کو پاسپورٹ ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے ایل او کا کام صرف رابطہ کاری ہے، کارروائی کرنا اس کا کام نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ایل او صرف برٹش ایئر لائنز کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی دستاویزات کی پڑتال کر سکتا ہے اگر آپ کے علم میں اس کے برعکس کوئی واقعہ ہے تو میں اس کی انکوائری کرا سکتا ہوں اور اگر کسی کا پاسپورٹ ضبط کیا گیا ہے تو اس کی مدد بھی کر سکتا ہوں۔ ڈی جی نے مزید کہا کہ اگر برطانیہ میں مدت سے زائد قیام کیا گیا ہے تو تب بھی پاسپورٹ ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دستاویزات میں کوئی شک موجود ہو تو امیگریشن عملہ سفارتخانے کو کیس بھجوانے کی بجائے موقع پر فیصلہ کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی برطانیہ کو اپنا رابطہ آفیسر تعینات کرنے کی اجازت محض اسلام آباد ایئر پورٹ کی حد تک ہی ہے دیگر کسی ایئر پورٹ پر برطانیہ کو ایسے افسروں کی تعینات کی اجازت نہیں۔

سینیٹ: بات کی اجازت نہ ملنے پر بابر اعوان کا احتجاج، وزیر قانون کو ڈانٹ دیا

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر بابر اعوان جمعہ کو اجلاس کے دوران اقلیتوں کے حوالے سے نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر برہم ہوگئے اور چےئرمین سے اصرار کیا کہ انہیں نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت دیجائے، لیکن چےئر مین سینیٹ محمد میاں سومرو نے کہا کہ اگر آپ کو نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجاز ت دی گئی تو سب کو دینا پڑے گی، یہ طے ہوا ہے کہ نکتہ اعتراض بعد میں ہوں گے، یہ سنکر بابر اعوان آپے سے باہر ہوگئے ،انہوں نے فاروق اے نائیک کو بھی اس وقت جھاڑ پلا دی جب انہوں نے بابر اعوان سے لہجہ دھیما کرنے کی التجا کی، بابر اعوان نے وفاقی وزیر کو ذہنی مریض قرار دیدیا، پی پی کے ان دو ارکان کی اس تلخ کلامی سے ایوان کا ماحول گرما گرم ہو گیا اور حکومتی ارکان بابر اعوان کو مناتے رہے وہ غصے میں آ کر بولتے رہے۔بابر اعوان نکتہ اعتراض پراقلیتوں کے حقوق سے متعلق بات کرنا چاہتے تھے جس پر چیئر مین سینٹ اجازت نہیں دے رہے تھے جس پر وہ غصے میں آ گئے اور انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد ایوان میں گرما گرم ہو گئی اور چیئر مین نے اجلاس نماز مغرب کیلئے ملتوی کر دیا۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف اتھارٹی کے 2005-06 کے آڈٹ کے دوران ہوا۔ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں اس پر تفصیل سے بحث ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوہاٹ ٹنل پروجیکٹ کی رابطہ سڑکوں کے اصل ڈیزائن کو تبدیل کرکے نیا روٹ دیا گیا جو مہنگا پڑا کیونکہ اس میں پہاڑ کی کٹائی کا عمل زیادہ تھا اس طرح 470ملین روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ پنڈی بھٹیاں فیصل آباد (ایم تھری) پروجیکٹ میں مٹی کی غیرضروری بھرائی سے 197.7ملین روپے کا نقصان ہوا۔ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ریونیو نے برج فنانسنگ کے نام پر ادارے کے فنڈز کو ایسے منصوبوں کے لئے منتقل کیا جس کے لئے فنڈز دستیاب نہیں تھے۔ اس طرح منافع کی مد میں 191.6ملین روپے کا نقصان ہوا۔ کوہاٹ ٹنل پروجیکٹ کے ایک پل کے ڈیزائن کی خلاف ورزی کی گئی جس کے باعث ادارے کو 154.2ملین روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ مانسہرہ‘ ناران‘ جالی کنڈ روڈ پر کنسلٹنٹ نے ادائیگی کے بلوں پر غلط شق کا اطلاق کیا جس سے 129.3ملین کے اضافی اخراجات اٹھانے پڑے۔ کوہاٹ ٹنل پروجیکٹ میں ٹھیکیدار کو درآمدی آئٹمز کے نام پر 88.8ملین روپے زائد ادا کئے گئے جبکہ ٹھیکیدار درآمدی آئٹمز کی فہرست پیش کرنے میں ناکام رہا۔ گوادر‘ تربت‘ ہوساب (ایم ایٹ) سیکشن پر ٹھیکیدار کو ہائر ریٹ دے کر79.6ملین روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ باڑیاں‘ نتھیا گلی‘ ایبٹ آباد روڈ کی تعمیر اور کوہاٹ ٹنل پروجیکٹ میں تعمیراتی فرموں کو گاڑیوں کی خریداری‘ لیب کے آلات‘ آفس ایکوئپمنٹ اور فرنیچر وغیرہ کے لئے چھ کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی لیکن اس کے ڈسپوزل کے بارے میں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ کراچی ناردرن بائی پاس تعمیر کرنے والی فرم کو این ایچ اے کے ریجنل آفس کی بلڈنگ کا ٹھیکہ ٹینڈر کئے بغیر تخمینہ لاگت سے 11.27فیصد زیادہ ریٹ پر دیا گیا جبکہ اس فرم نے مین پروجیکٹ تخمینہ لاگت سے 15.78فیصد کم ریٹ پر لیا تھا۔ اس طرح رولز کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔ اس طرح 28.2ملین کے اخراجات خلاف ضابطہ کئے گئے۔ اتھارٹی نے ڈی آئی خان مغل کوٹ پراجیکٹ میں کنٹریکٹ کی کلاز سی کا غلط اطلاق کرکے 27.7ملین کی زائد ادائیگی کی گئی۔ گوادر‘ تربت‘ ہوساب روڈ کے پروجیکٹ میں 24.3ملین کی زائد ادائیگی کی گئی۔ انڈس ہائی وے پروجیکٹ میں 20.8ملین کی زائد ادائیگی کی گئی۔ غلط بیس ریٹ کا اطلاق کرکے جنرل منیجر بلکسر نے 18.4ملین کی زائد ادائیگی کی گئی۔ راجن پور ڈی جی خان روڈ زیادہ ریٹ دے کر 16.6ملین روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔ کھاریاں ہائی وے کی بحالی اور امپروومنٹ کے پروجیکٹ پر 16.3ملین روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔ 2004 میں جاپان سے چار ٹویوٹا گاڑیاں درآمد کی گئیں اور ایک کروڑ 60لاکھ کے بلاجواز اخراجات کئے گئے۔ مکران کوسٹل ہائی وے پروجیکٹ پر 89لاکھ روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔ اوکاڑہ بائی پاس پروجیکٹ پر کنسلٹنٹ فرم کی تقرری اخبار میں اشتہار دیئے بغیر کی گئی جو رولز کی خلاف ورزی ہے۔ پنڈی بھٹیاں‘ فیصل آباد موٹر وے پر مٹی کی بھرائی ضرورت سے زیادہ کرنے سے 65لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ کوہاٹ ٹنل پروجیکٹ پر شیڈول ریٹ کی خلاف ورزی کرکے 42لاکھ روپے کی زائد ادائیگی کی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹھیکے دینے کے عمل کو شفاف بنایا جائے‘ ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور زائد ادائیگیوں کی ریکوری کی جائے۔

جسٹس افتخار ہی اصل چیف جسٹس ہیں، کوئی فارمولا قبول نہیں، قاضی حسین



اسلام آباد:جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی اصل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں  کسی قسم کا کوئی فارمولا قبول نہیں کیا جائیگا  نواز شریف سے بات کریں گے انہوں نے عدلیہ کی بحالی کاپوری قوم کے ساتھ وعدہ کیا اور اپنے ممبران سے حلف لیا ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لڑ رہا ہے  اس جنگ سے نکلنے تک پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایک انٹرویو میں قاضی حسین احمد نے کہاکہ موجود ہ حالات میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کر نے سے عوام مجلس عمل کے خلاف ہوجائیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر فوری طورپر معزول ججز کو بحال نہ کیا گیا تو اے پی ڈی ایم کا اجلاس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرینگے انہوں نے کہاکہ ہم نواز شریف کے ساتھ بات کریں گے کہ آپ نے پوری قوم کے ساتھ اپنے اراکین سے حلف لیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ امریکی جنگ دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف ہے قبائلی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے سب امریکہ کی جنگ ہے جو ہمارے فوجی لڑ رہے ہیں انہیں ہمارا نیو کلیئر پروگرام کسی صورت قبول نہیں ہے ججز کو بحال کر کے جامعہ حفصہ کی تحقیقات کرائی جائیں کہ اس میں فوج کو کیو ں استعمال کیا گیا۔

آئی پی ایل :کنگز الیون پنجاب نے ممبئی انڈینز کو 66رنز سے ہرا دیا

کراچی: انڈین کرکٹ لیگ(IPL) ورلڈ سیریز کے ایک اہم میچ میں بھارتی اداکارہ پریٹی زنٹا کی ٹیم کنگز الیون پنجاب نے ممبئی انڈینز کو 66 رنز سے شکست دے دی۔ کنگز الیون کی جانب سے 182 کا آسان ہدف شاندار فیلڈنگ اور بہترین بولنگ کی بدولت ممبئی انڈینز کیلئے پہاڑ ثابت ہوا۔ کمارا سنگا کارا نے نمایاں94 رنزبنائے اور مین آف دی میچ رہے۔ ایک موقع پر عرفان پٹھان اپنی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کرسکے یہ دلچسپ میچ ”جیو سوپر “نے اپنے کرکٹ شائقین کیلئے کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم موہالی سے براہ راست نشر کیا ۔ تفصیلات کے مطابق ممبئی انڈینز نے ٹاس جیت کر پہلے کنگز الیون کو بیٹنگ کی دعوت دی ۔ کنگز الیون کی جانب سے گوئل اور عرفان پٹھان میدان میں اوپن کرنے آئے ، اِس ٹیم کا حوصلہ اُس وقت ٹوٹ گیا جب میچ کا آغاز ہوتے ہی عرفان پٹھان 6 رنز بنا کر کیچ آؤٹ اور گوئل 18 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ کپتان یوراج سنگھ میدان میں آئے تو شائقین کو اُن کی شاندار بلے بازی کی توقع تھی مگر قسمت اُن پر بھی مہربان نہ ہوئی اور وہ بھی 18 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ کنگز الیون کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کیلئے سنگاکارا میدان میں آئے اور وکٹ کے چاروں طرف شاندار شارٹ کھیل کر ٹیم کے اسکور میں 94 رنز کا اضافہ کیا۔ اُنہوں نے 1 چھکا اور 13 چوکے مارے ۔ سہیل ، سری ناتھ اور چاولا کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے جبکہ سروان 7،جے وردھنے12رنز بنا سکے ۔ آخر میں بریٹ لی 16 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور اس طرح کنگز الیون کی پوری ٹیم مقررہ اوورز میں 182رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ۔182 رنز کا آسان ہدف عبور کرنے کیلئے ممبئی انڈینز کی جانب سے جے سوریا اور رونچھی میدان میں آئے تو بریٹ لی نے اپنی ہی گیند پر جے سوریا کا خوبصورت کیچ لیکر اُنہیں پویلین لوٹا دیا،جے سوریا 1 ایک رن بنا سکے ۔ بریٹ لی نے دوسری ہی گیند پر شاندار فیلڈنگ کرتے ہوئے رنچھی کو بھی رن آؤٹ کردیا اور اسکور کارڈ پر ممبئی انڈیز کا اسکور 2 وکٹ کے نقصان پر صرف14رنز تھا۔اوتھاپا 21 رنز بنا کر سروان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ آف اسپنر چاولا نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے ڈی جے براووکو23 اور تیواری کو 17 رنز پر کلین بولڈ کیا۔ اے ایم نیئرکو 2 اور ہربھجن سنگھ کو صفر پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے عرفان پٹھان ہیٹ ٹرک چانس پر آگئے تاہم وہ اپنی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کرسکے۔ اس موقع پر ممبئی انڈینز کا اسکوار7وکٹ پر98رنز تھا۔ شان پولاک نے اپنی ٹیم کیلئے 22 رنز کا اضافہ کیا، یوراج سنگھ نے اُن کا ناقابل یقین کیچ لیا ۔ ایم اے کھوٹی 8 جبکہ ڈی ایس کلکرنی اور اشیش نہرا2-2رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور اس طرح 182 کے جواب میں ممبئی انڈینز کی پوری ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر 116 رنز بنا کر شکست سے دوچار ہوئی۔ واضح رہے کہ ممبئی انڈیز کی قیادت IPL سیریز میں سچن ٹنڈولکر کو سونپی گئی ہے تاہم سچن ٹنڈولکر ان فٹ ہونے کے باعث ٹیم میں ابھی تک شامل نہیں ہوئے عارضی طور پر اِس ٹیم کی قیادت ہربھجن سنگھ کررہے ہیں ۔

ججوں کی بحالی: ڈیڈ لائن کا مذاق اُڑانے پر زرداری کو شدید تنقید کا سامنا

اسلام آباد:اعلان مری کے 2/ دستخط کنندگان میں سے ایک آصف علی زرداری کو ججوں کی بحالی کیلئے 30/ دن کی ڈیڈ لائن کا مذاق اڑانے پر زبردست عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ نواز شریف کیلئے قیامت کا لمحہ تیزی سے قریب آرہا ہے۔ حکومت نے جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اعلان کردہ ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے 5/ روز قبل ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے تو ایسے میں سب کی نظریں میاں نواز شریف پر مرکوز ہیں ججوں کی بحالی کے حوالے سے اتحادیوں کا وعدہ پورا کر نے میں ناکامی پر نواز شریف کا ردعمل ان کے سیاسی مستقبل کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا اور اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ وہ اب تیریں گے یا ڈوب جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے پہلے ہی پارٹی رہنماؤں سے مستقبل کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے مشاورت کا آغاز کردیا ہے 30/ اپریل وہ دن ہے جب انہیں یہ فیصلہ کر نا ہے کہ ن لیگ کے وزر اء کابینہ کے عہدے چھوڑیں گے یا زرداری کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کی طرح حقیقت پسند بن جائیں گے۔ ن لیگ کے حلقوں سے متنازع اطلاعات باہر آرہی ہیں جو پہلے سے پیچیدہ صورتحال میں مزید الجھاؤ پیدا کررہی ہیں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف وفاقی کابینہ سے اپنے و زراء کے استعفوں کے لئے تاریخ کا اعلان 30/ اپریل کو کرینگے جبکہ کچھ دیگر یہ کہتے ہیں کہ 30/اپریل کی ڈیڈ لائن پار کرلینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی قیادت وزراء کے استعفوں کے لئے 10/ مئی کی تاریخ طے کرسکتے ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ اس طرح کے کسی اعلان میں آصف زرداری کو ججوں پر حکمت عملی دوبارہ غور کرنے کے لئے مزید 10/ دن دیئے جائیں گے۔ نواز لیگ کابینہ سے نکلنے کیلئے اتحاد میں رہنے کو غور کررہی ہے ن لیگ کے ایک بااثر نمائندہ قومی اسمبلی نے اس نمائندے کو بتایا کہ آصف علی زرداری کے ارادے مکمل طور پر پتہ چل جانے کے بعد نواز لیگ کیلئے ان پر مزید بھروسہ کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی بحالی کے حو الے سے کسی شرط کا منسلک کیا جانا جیسا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے کہا جا رہا ہے قطعی ناقابل قبول ہوگا اب تک دو نوں جماعتیں وفاقی حکومت کی تشکیل کے 30/ دن کے اندر قومی اسمبلی میں سادہ قرارداد کے ذریعہ 2/ نومبر کی عدلیہ کی بحالی کے مرحلے سے بہت دور ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے 25/ مارچ کو اپنا عہدہ سنبھالا، 31/ مارچ کو ان کی کابینہ کی تشکیل ہوئی اور یکم اپریل سے الٹی گنتی شروع ہوئی لیکن پیپلزپارٹی نے ابتداء ہی سے کنفیوژن پیدا کر نا شروع کردی جبکہ زرداری نے 30/ دن کی ڈیڈ لائن کا مذاق اڑایا جس پر انہوں نے خود اتفاق کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعلان مری پر زرداری کے ردعمل نے ناصرف نواز لیگ کے اندر مایوسی پیدا کی بلکہ پیپلزپارٹی کے اندر بھی متعدد میں مایوسی پیدا ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری گزشتہ سال طاقتور غیر ملکی ضمانت کنندگان کے تحت صدر پرویز سے ڈیل کرکے خودساختہ جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے ہیں ایک سینئر تجزیہ نگار نے تبصرہ کیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے زرداری کو دھل دھلا کر مسٹر کلین بننے میں این آر او کے ذریعہ مدد دی اس کے بدلے میں زرداری کا فرض بنتا ہے کہ جس بات پر انہوں نے اتفاق کیا تھا اس پر کام کریں اور وہ ایمانداری سے یہی کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرم شیخ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں افسوس کا اظہار کیا کہ آصف زرداری نے معزز ججوں پر حملہ کیا پیپلزپارٹی کی جانب سے مجوزہ آئینی پیکیج پر انہوں نے کہا کہ وہ اسے این آر او بچاؤ پیکیج کہیں گے اٹارنی جنرل ملک قیوم کے تسلسل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ نئی حکومت کے اٹارنی جنرل ہیں جس نے ملک قیوم کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیو نکہ وہ ان سے کچھ کام لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹارنی جنرل سوئٹزرلینڈ، اسپین اور لندن جا رہے ہیں اور ہر دن ہم مختلف کیسز خارج ہونے کی خبریں سن رہے ہیں۔ منہ پھٹ وکیل نے مزید کہا کہ وہ وہاں صرف ایک شخص، آصف علی زرداری، کیلئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے حکومت نے پوری دنیا میں زرداری کے خلاف کرپشن کیس داخل کرانے اور مقدمات چلانے پر کافی روپیہ خرچ کیا اور اب اٹارنی جنرل حکومتی خرچے پر وہی کیسز خارج کرنے کیلئے جا رہے ہیں۔ اکرم شیخ کا یہ ماننا تھا کہ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آخر حکومت لوگوں کے صبر کو کیوں آزما رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع بھی زرداری پر انگلی اٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں انہوں نے این آر او سے فائدے اٹھائے اور اب ایک شخص کی ضد نے ججوں کی بحالی کو روک دیا ہے جس کے باعث حکومتی اتحاد کو خطرہ ہے۔ جمعہ کے روز ججوں کی بحالی کی قرارداد پیش کئے جانے کے بغیر قومی اسمبلی کے اجلاس کا ملتوی ہونے کے امر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ رہنماؤں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ پارٹی خود کو نہ اِدھر کی اور نہ اُدھر کی محسوس کر رہی ہے۔ گزشتہ رات آصف زرداری کی دبئی روانگی سے بھی پارٹی کو دھچکا لگا ہے جس کا یہ ماننا ہے کہ ان اہم ترین دنوں میں زرداری کو ججوں کی بحالی سے متعلق امور کو حتمی شکل دینے کیلئے ملک میں ہی ہونا چاہئے تھا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ جمعہ کو دونوں اعلیٰ ترین رہنماؤں کی ملاقات ہوگی لیکن اس حقیقت کے باوجود کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ججوں کی بحالی کے کام کو پورا کرنے کیلئے اپنی لندن روانگی ملتوی کر رکھی ہے۔ اس وقت نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن میں ہیں اور اپنے آپریشن سے قبل اپنے شوہر سے ملنے کی منتظر ہیں۔ جمعہ کے روز جاوید ہاشمی نے مبینہ طور پر کراچی میں کہا کہ میاں نواز شریف لندن روانہ ہو رہے ہیں تاہم جب مسلم لیگ (ن) کے چیف اسٹاف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں نواز شریف اور زرداری کے درمیان ملاقات کے بعد نواز لیگ کے سربراہ کی لندن روانگی ملتوی کردی گئی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع اس بات کی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ اور پی پی اتحاد برقرار رہنے کو خطرات کا سامنا ہے۔ اس ہی دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ رہنماؤں اور کابینہ کے وزراء، چوہدری نثار علی خان اور احسن اقبال کی جانب سے صدر پرویز کے ساتھ وزیراعظم کے ہمراہ ایک ہی میز پر رات کا کھانا کھانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پارٹی نے صدر پرویز کیخلاف سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے، مسلم لیگ (ن) کے وزراء صدر کے ساتھ اس ہی میز پر بیٹھ کر آخر کیسے کھانا کھا سکتے ہیں۔

محسود قبائل کو ایک ماہ میں غیر ملکیوں کو نکالنا ہوگا،15نکاتی معاہدہ تیار

نیویارک:حکومت نے قبائلی عمائدین کے ذریعے عسکریت پسندوں سے ڈیل کرنے کے لئے 15نکاتی معاہدہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت جنوبی وزیرستان سے سکیورٹی فورسز کی مرحلہ وار واپسی ہوگی اور قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان کے مطابق ان کے گروپ کی تحویل میں 100سے زائد سکیورٹی اہلکار اور سرکاری افسران موجود ہیں جن کو ڈیل طے پا جانے پر جرگے کے ذریعے رہا کیا جائے گا، محسود قبائل میں فرنٹیئر کور کو نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی رپورٹ میں اس کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کا مسودہ اس نے دیکھا ہے جس میں محسود قبائل کو حملے بند کرنے، سرکاری افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کو روکنے اور سڑکیں کھولنے کیلئے کہا گیا ہے ، ڈرافٹ میں امریکا اوردیگر کے دباؤ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ پر معاہدے کو ختم نہیں کیا جائے گا، وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈاناپیر ینو نے کہا کہ ہمیں اس پر تشویش ہے ، ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور جاری فوجی آپریشن کو معطل نہ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے، سفارتکاروں اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ حکومت استحکام پیدا کرنے کیلئے خیر سگالی کا راستہ اختیار کررہی ہے، حکام نے اسلام آباد میں بتایا کہ آصف علی زرداری نے معاہدے کے مسودے کی منظوری دیدی ہے اور اس کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے ، پی پی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ڈیل فائنل نہیں ہوئی، آصف زرداری نے محسود کے سیز فائر کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، مذاکرات جاری ہیں، محسود کے بینظیر قتل میں ملوث ہونے کے متعلق انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے بیت اللہ محسود کا نام نہیں لیا تھا، ڈرافٹ کے مطابق محسود قبائل غیر ملکی عسکریت پسندوں کو مستقبل میں علاقے سے نکالنا ہوگا، نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی عسکریت پسندوں کو معاہدے پر دستخط کے ایک ماہ کے اندر نکالنا ہوگا اور اس اچھے کام کے لئے ایک ماہ کی توسیع بھی دی جاسکتی ہے، رپورٹ کے مطابق وہ علاقے کو ملک دشمن سرگرمی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، محسود علاقے میں ترقیاتی کاموں میں مدد کریں گے، حکومتی اتھارٹی کا احترام کریں گے،حکام کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے اتحادیوں کو بریفنگ دی اور ان کی حمایت حاصل کی ، ایک افسر نے بتایا کہ 2اپریل کو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیراعظم گیلانی اورحکمراں اتحاد کے رہنماؤں کو بتایا کہ فوج عسکریت پسندوں سے امن مذاکرات سمیت سیاسی قیادت کے اقدامات کی حمایت کرے گی، مسودے کے مطابق معاہدے پر جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایڈمنسٹریٹر اور محسود قبائل کے عمائدین دستخط کریں گے، جس کے بعد قیدیوں کا تبادلہ اور محسود علاقوں سے مرحلہ وار فوج کی واپسی ہو سکتی ہے، محسود کے ترجمان مولوی عمر نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں سے فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے، تاہم پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اس کی تردید کی اور کہا کہ ابھی نہیں کیونکہ ہمیں اس سلسلے میں حکومتی احکامات موصول نہیں ہوئے،انہوں نے کہا صوبہ سرحد میں امن بحال کرنے کیلئے مذاکرات ہو رہے ہیں ، جہاں حکومت نے مالا کنڈ میں عسکریت پسند رہنماؤں سے الگ معاہدے پر دستخط کئے ہیں ، مولوی عمر نے بتایا کہ معاہدے کی توثیق کے لئے ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے مکمل عمل درآمد ہوگا۔

پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم کے درمیان ڈیڈ لاک ختم، کئی امور پر اتفاق ہوگیا

کراچی : قومی مفاہمت، سندھ میں اشتراک اقتدار اور صوبے میں امن و امان اور خوشحالی کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں ڈیڈ لاک ختم ہوگیا جبکہ دونوں جماعتوں میں حکومت سازی پر پیشرفت بھی ہوئی،ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان جلد لندن میں ملاقات بھی متوقع ہے۔تفصیلات کے مطابق مذاکرات میں پیپلزپارٹی کی طرف سے وفاقی وزراء سید خورشید شاہ، نوید قمر، سندھ کے سینئر وزیر پیر مظہرالحق اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر راشد ربانی نے حصہ لیا جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے ڈپٹی کنوینر و قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار، رابطہ کمیٹی کے اراکین سینیٹر بابر خان غوری، وسیم آفتاب اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں حکومت میں شراکت سمیت تقریباً تمام بڑے امور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے چند ایک امور رہ گئے ہیں جن پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور مشیر داخلہ رحمن ملک یا پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور متحدہ کے قائد الطاف حسین بات چیت کر کے فیصلہ کریں گے۔آن لائن کے مطابقسابق وفاقی وزیر و متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما و سینیٹر بابر خان غوری نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مابین کوئی ڈیڈ لاک نہیں ،دونوں مفاہمت کے خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم صوبہ سندھ میں قیام امن کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمتی و مذاکراتی عمل میں شریک ہے او رگزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی، ہمیں امید ہے کہ ملکی مفاد اور شہری و دیہی سندھ میں ہم آہنگی کی خاطر صوبہ سندھ کی دوبڑی جماعتوں میں مفاہمت طے پا جائے گی ۔اسلام آبادسے مانیٹرنگ سیل کے مطابق سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات ایک گھنٹہ چالیس منٹ تک جاری رہے، ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کے 99فیصد مسائل حل ہوگئے ہیں چند معاملات حل طلب ہیں جو اعلیٰ قیادت طے کرے گی۔ آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان جلد لندن میں ملاقاتمتوقع ہے۔

چین میں پاکستان کے سفیر سلمان بشیر سیکرٹری خارجہ مقرر

اسلام آباد: چین میں پاکستان کے سفیر سلمان بشیر کو سیکرٹری برائے وزارت خارجہ امور مقرر کر دیا گیا۔ گزشتہ روز ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ قبل ازیں سیکرٹری خارجہ ریاض احمد خان کا کنٹریکٹ جمعہ کو منسوخ کر دیا گیا۔دریں اثناء نمائندہ جنگ کے مطابق ایم ڈی سروے آف پاکستان اورڈی ایم جی کے گریڈ21کے افسرنیئر آغا کو بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کاایڈیشنل سیکرٹری انچارج لگایاگیا ہے۔ پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر اورڈی ایم جی کے گریڈ21کے افسر سمیع الحق خلجی کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج سپورٹس ڈویژن تعینات کیاگیاہے۔ ڈی جی نارا اورڈی ایم جی کے گریڈ21کے افسر محسن حقانی کی خدمات سندھ حکومت کے سپرد کردی گئی ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری دفاع اورسیکرٹریٹ گروپ کے گریڈ19کے افسر محمد رشید شیخ 12 اگست کو ملازمت سے ریٹائر ہوجائیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تبادلوں کاباضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ۔ پولیس گروپ کے گریڈ17کے تین افسروں عبد السلام، فرخ بشیر اوریونس چانڈیو کو گریڈ18میں ترقی دے دی گئی ہے وہ ترقی پانے کے بعد بدستور سندھ حکومت میں ہی فرائض انجام دیں گے۔

کمیٹی نے سفارشات مرتب کرکے بھجوا دیں ،قیادت ایک دو روز میں فیصلہ کریگی،فاروق نائیک

اسلام آباد : ججوں کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کمیٹی نے سفارشات مرتب کر کے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو بھجوا دی ہیں، پارٹی قیادت ایک دو روز کے اندر حتمی فیصلہ کریگی، تمام فیصلے آئین وقانون کے مطابق کئے جائیں گے اور سب سرخرو ہوں گے۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے جمعہ کی شب کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی نے ججز کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کا تیسرا دور مکمل کرلیا ہے اور اپنی سفارشات پارٹی قیادت آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو بھجوا دی ہیں پارٹی قیادت ایک یا دو دن کے اندر حتمی فیصلے کا اعلان کریگی انہوں نے کہا کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کئے جائیں گے اور سب سرخرو ہوں گے عوام بھی مطمئن ہوں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوریت میں عوام کی قربانیاں اور خون شامل ہے جمہوریت لانے کیلئے ہماری قائد محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کر دی وہ پارلیمنٹ کی بالادستی ، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی چاہتی تھیں، ہم اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اسی وژن کو لے کر چل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ججوں کی بحالی کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان پارٹی قیادت ہی کریگی۔

نگراں حکومت نے صوبے میں50 ہزار غیر قانونی بھرتیاں کیں،ہم سب نے منسوخ کردیں،وزیراعلیٰ سندھ

خیرپور: چار ماہ کی نگراں حکومت نے کراچی واٹر بورڈ اور کراچی بلدیہ سمیت سندھ میں مختلف محکموں میں پچاس ہزار غیر قانونی بھرتیاں کیں،ہم نے سب منسوخ کردیں، ارباب رحیم نے صرف دھونس اوردھاندلی سے حکومت چلائی،ارباب رحیم 18سو فائل چھوڑ گئے ہیں ۔ جن میں کئی اہم فائل ہیں۔سندھ کو 156ارب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا، غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں غربت کی شرح 46فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جیلانی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خیرپور سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمران بڑے مسائل اور بڑے بحران چھوڑ گئے ہیں ۔ مسائل اور بحرانوں پر قابو پانے کیلئے ہم جامع منصوبہ بندی کریں گے۔ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ ریاست کے اہم ستون ہوتے ہیں ہم ان تینوں ستونوں کو مضبوط کریں گے سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سابق سندھ حکومت 156 ارب روپے کے قرضے چھوڑ گئی ہے جو بڑی زیادتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ناظمین نے کرپشن کی ہے ہم ناظمین کے اختیارات کم کریں گے ۔ سندھ میں امن وامان کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ امن وامان کے مسئلے پر ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے میں ڈی پی اوز اور تھانیدار ایماندار اور میرٹ پر مقرر کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جرائم میں کمی آئی ہے ۔ نگران حکومت کے متعلق سید قائم علی شاہ نے کہا کہ نگران حکومت کو صرف الیکشن کرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن چار ماہ کے نگران حکمرانوں نے کراچی واٹر بورڈ اور کراچی بلدیہ سمیت مختلف محکموں میں پچاس ہزار افراد غیر قانونی بھرتی کئے ۔ انہوں نے کہا کہ نگران دور کی تمام بھرتیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ ارباب رحیم دور کے متعلق انہوں نے کہا کہ ارباب رحیم دور حقوق کی پامالی کا دور تھا ۔ ارباب رحیم نے دھاندلی اور دھونس سے حکومت چلائی ۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے سندھ میں غربت کی شرح 46 فیصد تک پہنچ گئی ۔ ہماری حکومت غربت کے خاتمے کے منصوبے بنائے گی۔ پہلے مرحلے میں سندھ کے 8 اضلاع میں انڈسٹریل زون قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ارباب رحیم 8 1سو فائل چھوڑ گئے ہیں جن میں کئی فائل اہم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فائلوں کا مطالعہ شروع کردیا ہے ۔ عوامی مفاد کے فائل وہ چند دنوں میں نکال کر متعلقہ محکموں کو بھیجیں گے ۔ سید قائم علی شاہ نے خیرپور میں وکلاء کالونی تعمیر کرانے اور خیرپور بار ایسوسی ایشن کو دس لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔

ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کااحتجاج جاری، علامتی بائیکاٹ

لاہور:معزول ججوں کی بحالی کے لیے ملک بھر میں وکلا کی طرف سے عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر احتجاج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی وکلا نے جمعہ کے روز عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا، بار رومز میں احتجاجی اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے، وکلا رہنماؤں نے ججوں کی بحالی کے لیے حکمراں اتحاد کے کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اعلان بھوربن پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دریں اثنائپاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان نے کہا ہے کہ مقررہ مدت میں جج بحال نہ ہوئے تو 3 مئی کو لائحہ عمل کا اعلان کریں گے‘ مری اعلامیہ میں کمیٹی بنانے کا ذکر نہیں تھا‘ ججوں کی عدم بحالی پر اپنی لڑائی سڑکوں پر لڑیں گے۔ گورنر سرحد‘ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس تک مظاہرے کریں گے۔ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اعلامیہ مری کے پابند ہیں اور تیس دن کے اندر معزول ججوں کو بحال کرنا ہوگا۔ وکلا کی تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے، ججوں کی عدم بحالی پر تحریک کو دوبارہ متحرک کیا جائے گا۔ سید رحمان خان نے کہا کہ نظریہٴ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا وقت آ چکا ہے اور آئندہ کسی کو بھی نظریہٴ ضرورت کے تحت فوجی آمریت قوم پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھرسپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹس کے معزول ججوں کی عدم بحالی کی صورت میں صوبہ سرحد میں موٴثر تحریک چلانے کے لیے سرکاری اور پرائیویٹ لا کالجوں سے فارغ ہونے والے سینکڑوں نوجوان وکلا کو آئندہ تحریک کے لیے منظم کر دیا گیا اور پورے صوبے میں ینگ لائرزکو منظم اور متحرک کرنے کے لیے رابطے مکمل کرلیے گئے اور عنقریب پشاور میں بڑے پروگرام کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 500 نوجوان وکلا پر مشتمل منظم فورس تیارکرلی گئی ہے اور آئندہ تحریک میں اس فورس کا اہم کردار ہو گا۔ ادھرخانیوال میں10بجے کے بعد وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ بارروم پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ وہاڑی سے نمائندہ جنگ کے مطابق وکلا نے علامتی ہڑتال کی‘ بارروم میں سردار غلام عباس کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ شجاع آباد سے نمائندہ جنگ کے مطابق معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اظہار یکجہتی کے لیے وکلا کی دستخطی مہم کا رجسٹر شجاع آباد بار لایا گیا‘ بار کے ڈیڑھ سو ارکان نے اس رجسٹر پر دستخط کیے‘ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کا ایسا فارمولا‘ پیکج قبول نہیں کریں گے جس میں جسٹس افتخار چوہدری کو شامل نہیں کیاجائے گا۔

بحالی کے بعد2013 تک چیف جسٹس رہوں گا، افتخار چوہدری

اسلام آباد : سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں اہم قومی امور اور ججوں کی بحالی کے معاملے پر بات چیت کی گئی ذرائع کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انہیں تین نومبر کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے ہٹایا گیا اور اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹیں گے بحالی کے بعد 2013ء تک چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہوں گا اور کسی ایسے فارمولے کو تسلیم نہیں کرینگے جس سے چیف جسٹس کی مدت ملازمت کمی کی تجاویز میڈیا میں آرہی ہیں وکلاء کی جدوجہد کامیاب ہوگی۔

ملاوٹ سے پاک جمہوریت کیلئے جدوجہد کررہے ہیں،عدلیہ جلد بحال ہوگی،نواز شریف

اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ علاقائی اقتصادی مسائل حل کرنے کیلئے پاکستان، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت تمام ممالک کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جمعہ کو پنجاب ہاؤس میں بھارتی وزیر تجارت مرلی دیوار سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کے تسلسل کے نتیجے میں بھارت ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہوا۔ سیاسی صورتحال کے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں ملاوٹ سے پاک جمہوریت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزے کی پابندیوں کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کو ترجیحی بنیادوں پرکام کرنا چاہیے۔ بھارتی وزیر نے مسلم لیگ(ن) کے قائد کو بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا اور مناسب وقت پر بھارت کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جمہوری قوتوں کا اتحاد ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے اور اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہر حال میں بر قرار رہے‘ پرویزمشرف ڈکٹیٹر ہیں اور ان کے لیے پاکستان اور اس کی سیاست میں اب کوئی جگہ نہیں، انہیں جانا ہوگا ‘ وقت آنے پر پرویز مشرف کے مواخذے سمیت آمریت سے چھٹکارے کیلئے سب کچھ کیا جائے گا ‘ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اور ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں، انہوں نے واضح کیا کہ جج بحال ہوں گے اور جمہوریت اور ججزکی بحالی کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک غیر ملکی اخبارکو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔

گندم بحران سابق حکومت کی بد انتظامی کا نتیجہ ہے،9 لاکھ 20 ہزارٹن گندم کی قلت ہوگی،وزیر خزانہ

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت کی انتہائی بدانتظامی کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہوا اور گندم کی 200 ڈالر فی ٹن برآمد اور 500 ڈالر فی ٹن درآمد کی وجہ سے ملک کو 44 ارب 90 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو کہ اس کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی، رواں مالی سال کے بجٹ میں انتخابات جیتنے کیلئے بڑے پیمانے پر غلط بیانی کی گئی یہ معاملہ بھی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھیجا جائے گا۔ملک میں 9 لاکھ 20 ہزارٹن گندم کی قلت ہوگی، بیگم بیلم حسنین کے سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کی طرف سے ایوان کو بتایا کہ بدانتظامی سے پاکستان کو گندم کی مد میں تقریباً 45 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سابقہ حکومت نے 200 ڈالر فی ٹن گندم برآمد کی۔ پروین مسعود بھٹی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر تک گندم کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ 9 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم کی قلت ہو گی۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے ڈیڑھ ملین ٹن کی درآمد کا ابھی سے انتظام کریں گے۔ اس وقت قیمتیں بہتر ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ درآمد ہونے والی گندم ہماری گندم کے مقابلہ میں تو شاید بہتر نہیں تھی بہرحال معیار کے بارے میں اس وقت کوئی شکایت نہیں آئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ملک کو یہ نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تجویز دی گئی کہ گندم کی برآمد کی اجازت دی جائے اس کے بعد درآمد کرنا پڑی اور اس کے نتیجے میں لوگ آٹے کیلئے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4 لاکھ 58 ہزار 882 میٹرک ٹن گندم برآمد کی گئی جبکہ 17 لاکھ میٹرک ٹن درآمد کرنا پڑی۔ ڈاکٹر دونیا عزیز کے سوال پر وزیر خزانہ‘ اقتصادی امور و شماریات محمد اسحق ڈار نے بتایا کہ کابینہ کے 12اپریل 2006کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ چھٹی مردم و خانہ شماری اکتوبر 2008 میں کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے بتایا کہ اجارہ داری کے رجحان کے خاتمہ کیلئے مسابقتی آرڈیننس اکتوبر2007ء میں لایا گیا۔ 70 شوگر ملز کو گزشتہ تین سال کے دوران اظہار وجوہ کے 194 نوٹس جاری کئے گئے اور 5380000 روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ ڈاکٹر دونیا عزیز کے سوال پر وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے بتایا کہ 2004-05 سے 2006-07 تک گزشتہ تین سالوں میں بیرونی ممالک سے 11350 ملین ڈالر کے قرضے اور گرانٹس لی گئیں۔ اس میں 9 ارب 33 کروڑ ڈالر کا قرضہ ہے جبکہ دو ارب 13 کروڑ ڈالر کی گرانٹس ہیں۔ قرضوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 52 سال میں ملک کا قرضہ 29 ارب تھا جبکہ 8 سال میں 24 ارب کے قرضے لئے گئے اور قرضوں کا مجموعی حجم 53 بلین ہو گیا ہے۔ یہ سابق حکومت نے 8 سال کا تحفہ قوم کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے واپڈا‘ پاور کمپنیوں اور دوسرے اداروں کو 300 ارب کی ادائیگی کرنی ہے جسے بجٹ سے چھپایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں غیر ترقیاتی اخراجات 475 ارب روپے سے بڑھ کر 1475 ارب روپے پر چلے گئے جبکہ ٹیکسوں کی آمدن محض 990 بلین روپے ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں مختلف اداروں کو ادائیگی کیلئے 318 ارب کا بجٹ رکھا گیا‘ یہ ادائیگیاں 420 ارب سے بڑھ گئی ہیں اس طرح 102 ارب کا یہ الگ نقصان ہے۔

قومی اسمبلی میں ججوں کی بحالی کیلئے قرار داد نہ آسکی،اجلاس ملتوی

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ججوں کی بحالی کے حوالے سے قرارداد پیش نہیں کی جاسکی اور اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔ ججز کی بحالی سے متعلق قرارداد کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کے تمام اراکین جن میں سینئر وزیر چوہدری نثار علی خان، وزیرقانون فاروق ایچ نائیک، وزیرپٹرولیم خواجہ آصف اور مشیر داخلہ رحمن ملک شامل ہیں، قومی اسمبلی میں موجود تھے۔ قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر پانچ آئیٹمز تھے جن میں دو توجہ دلاؤ نوٹس، وقفہ سوالات اور مقامی حکومتوں کے نظام پر تحریک التوا کے معاملات شامل تھے۔ ان میں مقامی حکومتوں کے نظام پر تحریک التوا پر بحث نہیں ہوئی۔ لاپتہ افراد کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کرنیکی تجویز کی اسپیکر نے مخالفت کی اوراسے مسترد کر دیا، نماز جمعہ کا وقت ہونے پر اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔ قومی اسمبلی کے چوتھے اجلاس میں ججز کی بحالی کی قرارداد پیش ہونے کا امکان تھا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے آخری روز ایوان میں عجیب افراتفری کا سماں تھا، ایوان میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی آمد کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی ان کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے درخواستیں پیش کرنا شروع کر دیں کئی مواقع پر ارکان کی گپ شپ کا آہنگ اتنابلند تھا کہ کارروائی متاثر ہوئی جس پر سینئر وزیر چوہدری نثار علی خان کو اسپیکر سے مداخلت کی استدعا کرنا پڑی اور کہا کہ اس شور شرابے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ مجھ سے کیا سوال پوچھا جا رہا ہے۔وزیراعظم سے ایوان میں ملاقات کرنے والوں میں اپوزیشن کے نصر اللہ بجارانی بھی شامل تھے جو اپناتعلق ہم خیال گروپ سے جوڑتے ہیں۔وزیراعظم جب وقفہ سوالات کے بعد ایوان میں داخل ہوئے تو ارکان نے زور دار ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم اور سینئر وزیر چوہدری نثار علی خان کافی دیر تک اہم امورپر بات چیت کرتے رہے جس کے دوران وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن او وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی شریک گفتگو رہے، بعد میں مشیر داخلہ رحمن ملک نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ایوان کا اجلاس ابتداء میں ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ بعد میں اسپیکر فہمیدہ مرزا نے صدارت سنبھال لی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف وزارتوں‘ محکموں‘ یونیورسٹیوں‘ تحقیقی اداروں اور پیشہ وارانہ ماہرین پر مشتمل ایک شماریاتی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اسی طرح شماریات کے کام میں ربط پیدا کرنے کیلئے تعلقہ‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں، اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا پورے ایوان کو بیٹھنا ہو گا اور ملک کو بحران سے نکالنا ہو گا۔اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے لاپتہ افراد کا معاملہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز مسترد کر دی اور کہا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے ایوان میں اس پر غور نہیں ہو سکتا،اسپیکر نے اخونزادہ چٹان کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ قبائلی خواتین کیلئے ایوان میں نشست مخصوص کی جائے۔ اسپیکر نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اس پر اتفاق رائے کر کے آئین میں ترمیم لائیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کو بھی اس بات پر زور دیا کہ قومی اسمبلی میں باجوڑ کے واقعہ پر بحث کرائی جائے، اسپیکر نے بتایا کہ جس وقت تحریک التواء زیر بحث لانا تھی مولانا اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اسپیکر نے یقین دلایا کہ آئندہ اجلاس میں اس تحریک کو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ عبدالقادر پٹیل نے کراچی سے مونا باؤ کے راستے بھارت جانے والے بعض شہریوں کی گرفتاری پر توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ان پاکستانی باشندوں کو جعلی ویزے کے الزام میں واپسی پر گرفتار کیا گیا ہے اگر ان کے پاس بھارت کے جعلی ویزے تھے تو روانگی کے وقت کیوں گرفتار نہیں کیا گیا گرفتار افراد میں عمر رسیدہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر آئت اللہ درانی نے مستونگ، کراچی، گوادر ہائی وے کے بارے میں کہا کہ ڈیڑھ سال سے اس پر کام بند ہے اس سڑک کی تعمیر کا کام دوبارہ بحال کیا جائے ندیم افضل گوندل نے کہا گنے کے کاشتکاروں کو بقایا جات کی ادائیگی نہیں کی جا رہی جس سے وہ گونا گوں مسائل سے دو چار ہیں۔

قومی اسمبلی:اسٹاک ایکسچینج اسکینڈل میں7 کھرب روپے ڈوبے ،تحقیقات فنانس کمیٹی کے سپرد

اسلام آباد : قومی اسمبلی نے جمعہ کو کارروائی کے دوران گزشتہ دور کے اسٹاک ایکسچینج اسکینڈل کی تحقیقات فنانس کمیٹی کے سپرد کر دی ۔ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے یہ کارروائی سرکاری رکن سردار ایاز صادق کے نکتہ اعتراض پر کی۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے نکتہ اعتراض کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکینڈل میں کئی بااثر لوگ ملوث ہیں اور 700ارب روپے ڈوبنے کی جامع تحقیقات ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا فراڈ تھا۔ قبل ازیں وزیر ریلوے سردار مہتاب احمد خان نے سکھر ڈویژن میں ریلوے اراضی کی فروخت کے بارے میں نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومت ایوان میں بحث کرانے اور ریلوے اراضی کی فروخت کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے کو تیار ہے۔ بعد میں سردار ایاز صادق نے 2005ء کے اسٹاک ایکسچینج اسکینڈل کے حوالے سے کہا کہ وزیر خزانہ اس اسکینڈل کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرائیں۔ تجویز کی حمایت کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ یہ بہت بڑا فراڈ تھا جس میں کئی بااثر لوگ ملوث تھے۔ انہوں نے 21نومبر 2006ء کو امریکی فرانزک رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی اور بتایا کہ پاکستانیوں کے 700ارب روپے کیسے ڈوبے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب اختیار نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے امریکی فرم کی خدمات حاصل کی تھیں تاہم فنانس کمیٹی اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کر سکتی ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ رپورٹ آنے کے بعد فنانس کمیٹی میں اس معاملے کو زیرغور لایا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس معاملے پر ٹاسک فورس کی رپورٹ آ چکی ہے جس پر اسپیکر نے ایوان کی منظوری سے اسٹاک ایکسچینج اسکینڈل کی تحقیقات فنانس کمیٹی کے سپرد کردی۔

فوجی افسروں کی ترقی:140 بریگیڈیئر اور200 کرنل بنادیئے گئے


اسلام آباد: معلوم ہوا ہے کہ مسلح افواج کے 140 سے زیادہ کرنلز کو بریگیڈیئر اور 200 سے زیادہ لیفٹیننٹ کرنلز کو کرنلز کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ ایک سینئر آفیسر کے مطابق ان ترقیوں کی منظوری فارمیشن کمانڈروں کی دو روزہ کانفرنس اور پروموشن بورڈ کے تین روزہ اجلاس میں دی گئی ہے۔ ان ترقیوں کا نوٹیفکیشن پیر 28 اپریل کو جاری کیا جائے گا۔ ترقی پانے والے افسران کو نئے رینک کے بیجز 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر لگائے جائیں گے۔ کرنل سے بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پانے والے افسران میں 30 کا تعلق آرمی میڈیکل کور اور باقی کا دیگر کورز سے ہے جبکہ کرنل کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں 65 کا تعلق آرمی میڈیکل کور ‘ تین کا آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ اور باقی افسران کا دیگر کورز سے تعلق ہے۔ بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں کرنل ضیاء سرور‘ نعیم اکبر‘ احمد فراز خان‘ محمد عاصم ملک‘ عبید الرحمن خان لودھی‘ رانا ہارون عباس خان‘ محمد نعیم اشرف‘ حسنات عامر‘ حامد علی بشیر خان‘ محمد فاروق‘ شہزاد حامد شاہ‘ عمل زادہ خان‘ فرخ سعید‘ ہمایوں عزیز‘ اشفاق احمد‘ سید محمود الحسن‘ حافظ فرید احمد‘ امیر حمزہ‘ ظفر اقبال‘ قاضی محمد اکرام احمد‘ سید شفقت اصغر‘ محمد ہمایوں سلیم‘ محمد ارشد‘ بلال اکبر‘ ظفر یاسین بابر‘ محمد عزیز احمد قریشی‘ محمد ضیاء الحق‘ توفیق طاہر‘ شیرباز‘ ابراہیم انجم‘ فرحت عباس ثانی‘ اشفاق احمد‘ شوکت علی خان‘ شمیم اکرام‘ طارق حسین مریدی‘ سوہائی ابرار احمد‘ محمد امانت علی خان‘ جمیل مسعود‘ اخلاق الرسول‘ محمد آصف اختر‘ انوار الحق چوہدری‘ محمد افضل‘ محمد عنایت اللہ خان‘ محمد صلاح الدین‘ محمد نعیم ‘ محمد حسن رضا نجب خان‘ علی فرحان‘ وسیم ایوب‘جاوید اقبال‘ محمد جنید‘ فرخ جمال‘ مسعود احمد‘ احمد مظفر شاہ‘ لیاقت علی خان‘ محمد صدیق‘ محمد جمیل‘ محمد ابوذر‘ ندیم رضا‘ محمد طیب اعظم‘ ظفر جمیل‘ آفتاب خان‘ محمد رفیق خان‘ عبداللہ خان‘ پرویز اقبال‘ عمران احمد‘ قدیر حسین‘ شیرافگن‘ شہزاد نعیم خان‘ نعیم اکبر قاضی‘ عامر اسلم خان‘ حامد محمود ڈار‘ خالد سلیم‘عبد اعجاز کاہلوں‘ زاہد احمد رعنا‘ محمد زبیر خان‘ ابوبکر امین باجوہ‘ خضر سلطان راجہ‘ انجم ارشد خان‘ صداقت علی خان‘ ٹیپو کریم‘ سید محمد رفیق احمد‘ جاوید اختر‘ اسحاق احمد‘ عبدالمجید ‘ افتخار عامر محمد صوبا سندھو‘ توقیر حسین‘ سید کرار حسین شاہ‘ عزیز احمد‘ رؤف احمد خالد‘ مشتاق احمد فیصل‘ باسط رضا ‘ محمد اکرم رعنا‘ خالد ربانی‘نعیم اظہر‘ شہزاد ملک‘ سید النبی اکبر‘ خالد محمود‘ غلام مرتضیٰ‘ افتخار احمد شاہد‘ سید حسنین بخاری‘ عمر شہزاد‘ فضل ربی‘ محمد امجد‘ نیئر فردوس‘ محمد طفیل‘ عالم تاب احمد اور محمد ولید خان شامل ہیں۔ کرنل کے عہدے پر ترقی پانے والے آئی ایس پی آر کے افسروں میں طاہر ادریس احمد ملک‘ تنویر اختر اور عتیق الرحمن شامل ہیں۔

شہری حکومت نے سٹی ناظم سے اختیارات واپس لینے کے صوبائی نوٹیفکیشن کو ماننے سے انکار کردیا

کراچی: حکومت سندھ کی طرف سے سٹی ناظم کے اختیارات سلب کئے جانے کے نوٹیفکیشن کو سٹی گورنمنٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سٹی حکومت کا حصہ ہیں۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی نے جمعہ کو دو علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر غلام عارف کو سٹی گورنمنٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن گروپ آف آفیسز کا ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر مقرر کیا ہے جبکہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر رؤف اختر فاروق کو بلڈنگ کنٹرول گروپ آف آفیسز کا ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر تعینات کردیا گیا ہے۔ سٹی گورنمنٹ کی جانب سے جاری ہوئے ان نوٹیفکیشنز کے بعد سندھ حکومت اور کراچی شہری حکومت کے درمیان شروع ہونے والی جنگ ایک نئی شکل اختیار کر گئی ہے۔ سٹی ناظم کی جانب سے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 4 دسمبر 2002ء کو سندھ حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ختم کرتے ہوئے واٹر اینڈ سینیٹیشن ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک نیا گروپ آف آفیسز قائم کیا تھا جس کا سربراہ ای ڈی او کو مقرر کیا گیا تھا جس میں سٹی ناظم مصطفی کمال نے ایس ایل جی او کے سیکشن 195 اور سیکشن 182 سب سیکشن 3 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ای ڈی او واٹر اینڈ سینیٹیشن غلام عارف خان کو ہدایت کی ہے کہ وہ بحیثیت ای ڈی او کام جاری رکھیں جبکہ دوسرے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایس ایل جی او 2001 ء کے فرسٹ شیڈول کے سیکشن 35 پارٹ ڈی کے تحت سندھ حکومت کے لوگل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت شہری حکومت میں ایک نیا گروپ آف آفیسز قائم کیا تھا جسے بلڈنگ کنٹرول گروپ آف آفیسز قرار دیتے ہوئے اس کو شہری حکومت کے ماتحت کیا گیا تھا۔ شہری حکومت نے ایس ایل جی او کے سیکشن 195 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ای ڈی او بلڈنگ کنٹرول گروپ آف آفیسز رؤف اختر فاروقی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فرائض ایس ایل جی او کے تحت ادا کریں جس کی وضاحت ایس ایل جی او کے چھٹے شیڈول میں واضح کردی گئی ہے۔ ان دونوں نوٹیفکیشنز کی کاپیاں صوبائی وزیر بلدیات کے علاوہ چیئرمین نیب، چیف سیکریٹری سندھ، گورنر، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر حکام کو بھیج دی گئی ہیں۔

حکمراں اتحاد ججوں کی بحالی پر متفق ہے،قوم جلد خوشبری سنے گی،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ قوم معزول ججز کی بحالی کی جلد خوشخبری سنے گی ، ججوں کی بحالی کے حوالے سے اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ جمہوری حکومت آزاد اور بااختیار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ جمہوری حکومت آزاد اور بااختیار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہاکہ حکمران اتحاد ججز کی بحالی پر متفق ہے اور قوم معزول ججز کی بحالی کی جلد خوشخبری سنے گی۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو معزول ججز کو بحالی کیلئے مسودہ تیار کرنے والی حکمراں اتحاد کی آئینی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کیاجن میں سینئر وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان ، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ،وزیر خرانہ اسحاق ڈار اور سینیٹر رضا ربانی شامل تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہاکہ جمہوری حکومت عوام کیساتھ کئے جانیوالے وعدوں پر قائم ہیں جبکہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت آزاد اور با اختیار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے جبکہ معزول ججز کی بحالی کیلئے قائم ہونیوالی کمیٹی جلد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیں ۔ اس موقع پر کمیٹی اراکین نے وزیر اعظم کو معزول ججز کی بحالی کیلئے ہونیوالی پیش رفت سے آگاہ کیا اور ان سے مشاورت بھی کی گئی اور بتایا گیا کہ ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے جبکہ اختلافی امور کو مشاورت کے ذریعے طے کر لیا جائے گا ۔

سی آئی اے کیجانب سے ایٹمی ری ایکٹر کی پیش کی گئی تصاویرجعلی ہیں،شام





واشنگٹن ... امریکا میں تعینات شامی سفیرعمادمصطفی نے کہا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے شام کے ایٹمی ری ایکٹر کی پیش کی گئی تصاویرجعلی ہیں ۔واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی سفیر نے کہا کہ ان تصاویر کے حوالے سے آئندہ ہفتوں میں امریکی کہانی منظر عام پر آجائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تصاویر میں دکھائی گئی عمارت کے گردونواح میں کوئی چیک پوسٹ ،خاردار تاریں اور سیکیورٹی نہیں ہے جس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر کے لئے استعمال نہیں ہورہی تھی۔داضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی سی آئی اے کی جانب سے دکھائی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں شام کی ایک عمارت دکھائی گئی تھی جس کو ستمبر 2007میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ کردیا گیا تھا ۔امریکا کے مطابق اس عمارت میں ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر جاری تھی دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے سفیربشار الجعفری نے کہا ہے کہ امریکی سی آئی اے کی جانب سے جعلی تصاویرجاری کرنے کا بنیادی مقصدشام پر ہونے اسرائیلی فضائی حملے کو جواز فراہم کرنا ہے ۔

Friday, April 25, 2008

میاں نواز شریف سے چوہدری نثار علی خان ، اسحاق ڈار اور خواجہ محمد آصف کی پنجاب ہاؤس میں اہم ملاقات

اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے جمعہ کو ججز کی بحالی کے حوالے سے کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین چوہدری نثار علی خان ، اسحاق ڈار اور خواجہ محمد آصف نے پنجاب ہاؤس میں اہم ملاقات کی ذرائع کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ کسی صورت ججز کی بحالی کے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کریں گے اس ضمن میں اقتدار کی بھی پرواہ نہیں کی جائے گی نواز شریف نے کمیٹی میں پارٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ کے حتمی موقف سے آگاہ کر دیا جائے مقررہ وقت میں ججز کی بحالی کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو کمیٹی کے حوالے سے ممکنہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ موقف پر ڈٹ جائیں مسلم لیگ (ن) کو وزارتوں کی پرواہ نہیں ہے۔اعلان مری کے حوالے سے قوم کو مایوس نہیں کریں گے نواز شریف سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ادھر ایک نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقررہ وقت میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ججز کی بحالی پر اتفاق نہ ہوا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) یکم مئی تک وفاقی حکومت سے الگ ہو جائے گی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء تیس اپریل تک وفاقی کابینہ میں شامل رہیں گے ڈیڈ لائن کے مطابق ججز بحال نہ ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے وزراء مستعفی ہو جائیں گے ۔

جنرل(ر) مشرف کی زیر نگرانی حکومت میں شامل نہیں ، کوئی بیٹھا ہے تو بیٹھا رہے اسے بھیجنے کا کوئی شوق نہیں ، تہمینہ دولتانہ

ملتان ۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی تہمینہ دولتانہ نے کہاہے کہ ہم جنرل (ر) مشرف کے زیر نگرانی حکومت میں شامل نہیں ہیں کیونکہ اب حکومت میں اختیارات وزیراعظم کے پاس زیادہ ہیں کوئی بیٹھا ہے تو اپنی جگہ بیٹھا رہے ہمیں بھی اسے بھیجنے کا کوئی شوق نہیں ہے وہ آج ملتان ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں بیگم تہمینہ دولتانہ نے کہاکہ ملک نے اگر ترقی کرنا ہے تو سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینا ہوگی موجودہ حالات میں ملکی ترقی ممکن نہ ہے جب تک ہم آلو سے چپس بنا کر مارکیٹنگ نہ کریں گے انہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت تمام مشینری باہر سے ہم سیکنڈ ہینڈ خریدتے ہیں جو کچھ ہی عرصہ بعد ختم ہو جاتی ہے ہمیں خود ایسی مشینری بنانا ہو گی اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہو گا عوام کو صاف پانی اور کھانے کی اشیاء فراہم کرنا بھی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے سے ہو گا ہمیں سائنس کو لیبارٹریوں سے باہر نکال کر عوام تک پہنچانا ہو گی انڈسٹری کو اپ گریڈ کرنا ہو گا نوجوانوں کو ملازمتیں دینا ہوں گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے دن نہ گنیں وہ ضرور بحال ہوں گے دو دن اوپر ہو سکتے ہیں یا دو دن پہلے ہوسکتے ہیں ہمارے پاس جادو کی کوئی چھڑی نہیں ہے کہ راتوں رات تمام مسائل حل کریں ڈاکٹر قدیر کی رہائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے دل تو یہی چاہتا ہے کہ تمام مسائل فوراً حل ہو جائیں اور ہم ان مسائل کو حل بھی کریں گے مگر قدم بہ قدم حل کریں گے ۔

پاکستان اور چین کا دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد۔ پاکستان اور چین نے دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ چین نے کہاہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ سویلین شعبے میں جوہری تعاون جاری رکھے گا جمعہ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ یانگ جیچی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی مذاکرات کئے مذاکرات کے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ یانگ جیچی نے وزیر شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا او رکہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم اور ہمہ وقت آزمائی دوستی ہے انہوںنے کہاکہ انہوں نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا ہے اور انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ میرے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قائم بہترین تعلقات کو آگے بڑھاناتھا انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے اہم امور پر اتفاق اور یکساں موقف پایا جاتا ہے انہوں نے اس موقع پر تائیوان اور تبت کے مسئلے پر پاکستانی حمایت پر شکریہ ادا کیا او رکہاکہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے دوستی اور تعلقات میں مزید استحکام آئے گا انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے دورے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیاگیا ہے اور انہو ںنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ذریعے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو چینی ہم منصب کی جانب سے چین کے دورے کی دعوت دے دی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بہترین ماحول ہے چین متعدد بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور چینی حکومت چین کی نجی کمپنیوں سے کہے گی کہ وہ پاکستان میں سر مایہ کاری کر یں انہو ںنے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ وہ چینی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لئے بہترین ماحول فراہم کر رہا ہے انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان سویلین شعبے میں تعاون بے حد کامیاب رہا ہے اور چین پاکستان کے ساتھ جوہری تعاون جاری رکھے گا ایران پاکستان ،بھارت گیس پائپ لائن میں چین کی شمولیت کے سوال پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس میں شمولیت کی پیش کی ہے اور ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ ہمیں اس منصوبے کے بارے میں معلومات فراہم کریں ہم اس منصوبے کے معاشی و دیگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لینا چاہتے ہیں اس کے بعد ہم کچھ فیصلہ کریں گے اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خار جہ کو پاکستان کادورہ کر نے پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ انہو ںنے چینی ہم منصب سے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی مذاکرات کیے جو بہت مثبت رہے انہوں نے کہا کہ دفاعی تعلقات سٹریٹیجک اور معاشی اتحاد پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میگا پراجیکٹ میں چینی امداد کے شکر گزار ہیں انہو ںنے کہا کہ دہشت گردی پر بھی گفتگو ہوئی ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کا یکساں موقی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے چین سے کچھ آلات بر آمد کر نے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے جس پر ہمیں مثبت رد عمل کی امید ہے انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بات ہوئی ہے جس پر چین نے اس منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کی ہیں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کے باوجود ان تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

دہشت گرد سربجیت سنگھ کی رہائی یا حکومتی رحم ؟ ملک بھر میں پھانسی کے منتظر قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل ، کوائف طلب

اسلام آباد ۔ حکومت نے ملک بھر کی جیلوں میں پھانسی کے منتظر قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر کے فیصلہ کر تے ہوئے سزائے موت کے قیدیوں کے کوائف طلب کر لئے ہیں سربجیت سنگھ کی سزا میں کمی نہیں کی گئی ہے تاہم اس کے اہل خانہ کے ویزہ میں اسلام آباد تک توسیع کر دی ہے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک نے ججز کی بحالی کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہو ں نے بتایا کہ سربجیت سنگھ کی فیملی کو اسلام آباد کا ویزہ دے دیا گیا ہے انہو ںنے کہا کہ حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر نے کے لئے قیدیوں کے کوائف طلب کر لئے ہیں سربجیت سنگھ کا معاملہ اس سے الگ ہے انہوں نے کہا کہ ان کے ایوان صدر سے رابطے ہیں نہ انہوں نے صدر پرویز مشرف سے کسی قسم کی ملاقات کی

میاں نواز شریف سے چوہدری نثار علی خان ، اسحاق ڈار اور خواجہ محمد آصف کی پنجاب ہاؤس میں اہم ملاقات

اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے جمعہ کو ججز کی بحالی کے حوالے سے کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین چوہدری نثار علی خان ، اسحاق ڈار اور خواجہ محمد آصف نے پنجاب ہاؤس میں اہم ملاقات کی ذرائع کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ کسی صورت ججز کی بحالی کے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کریں گے اس ضمن میں اقتدار کی بھی پرواہ نہیں کی جائے گی نواز شریف نے کمیٹی میں پارٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ کے حتمی موقف سے آگاہ کر دیا جائے مقررہ وقت میں ججز کی بحالی کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو کمیٹی کے حوالے سے ممکنہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ موقف پر ڈٹ جائیں مسلم لیگ (ن) کو وزارتوں کی پرواہ نہیں ہے۔اعلان مری کے حوالے سے قوم کو مایوس نہیں کریں گے نواز شریف سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ادھر ایک نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقررہ وقت میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ججز کی بحالی پر اتفاق نہ ہوا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) یکم مئی تک وفاقی حکومت سے الگ ہو جائے گی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء تیس اپریل تک وفاقی کابینہ میں شامل رہیں گے ڈیڈ لائن کے مطابق ججز بحال نہ ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے وزراء مستعفی ہو جائیں گے ۔

جاپان ”مترجم” موبائل فون بنائے گا ، فون کی تیاری میں جاپان کی تین معروف کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں

ٹوکیو ۔ جاپان میں ایک منفرد موبائل فون بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو فون کرنے والے فرد کی زبان کو سننے والے صارف کی زبان میں ترجمہ کرنے کا حاصل ہوگا۔ فون کرنے والا صارف اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے فون میں دیئے گئے ”آپشن” کا انتخاب کر کے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ گزشتہ جاپان کے ایک کثیر الاشاعت اخبار نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ اس فون کی تیاری میں جاپان کی تین معروف کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ اس فون کی تیاری کا مقصد دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں سے آشنائی نہ ہونا ہے۔ اخبار کے مطابق اگر ایک فون کرنے والا صارف انگریزی زبان میں بات کرے گا اور اس کا سننے والا ہسپانوی ہوگا تو اس کو ہسپانوی زبان میں ترجمہ شدہ آواز سنائی دے گی اور جب وہ جواب دے گا تو سننے والا اس کو انگریزی میں سنے گا۔ فون کی تیاری میں حصہ لینے والی کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فون کی تیاری سے موبائل فون اور لائن لینڈ
فون کی دنیا میں انقلابی تبدیلی واقع ہوگی۔

طالبان ‘ حماس اور ایران کے ساتھ کسی صورت مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ‘ نکولس سرکوزی

پیرس۔ فرانس کے صدر نیکولس سرکوزی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان ملیشیا ‘فلسطین میں حماس اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے مذاکرات نہیں کریں گے ۔ا گرافغانستان کی حکومت کو مستحکم نہ کیا گیا تو پاکستا ن کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں ۔ فرانسیسی صدر نے دنیا کے بعض مشکل ترین موقع پر سخت موقف کا عندیہ اور افغانستان میں اضافی فوج بھیجنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔’’ پرائم ٹی وی ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر سرکوزی نے کہا ہے کہ اگر فرانس نے افغانستان کو چھوڑ ا اور اضافی فوج بھیجنے کے اقدامات نہ کیے تو پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت رکھتا ہے کاغذ کے گھر جیسی مانند ثابت ہو گا۔ اور اس کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں لگ سکتے ہیں ۔ صدر نکولس سرکوز ی رواں ماہ افغانستان تقریباً 700 فوج بھیجنے کا فیصلہ کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں اضافی فرانسیسی فوج بھیجنے کا مقصد وہاں پر جنگ یا حملہ نہیں بلکہ افغانستان کا دفاع اور افغانیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ صدر نے بعض اطراف سے اس درخواست کو یکسر مسترد کر دیا کہ وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ بات چیت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مذکرات ان گروپوں سے نہیں ہو سکتے جنہوں نے نیل پالش لگانے والی خواتین کے ہاتھ کاٹ دیئے ، لڑکیوں کوسکول بھیجنے سے منع کیا ، سینکڑوں سالہ تاریخی بدھ مت کے مجسموں کو مسمار کر دیا اور غیرت کے نام پر خواتین کو سنگسار کیا اگر ہم ایسے لوگوں سے مذاکرات کریں تو میرا نہیں خیال کہ ہم نے اپنے وعدے پورے کئے ۔ صدر نولس نے حماس کی قیادت اور ایرانی صدر محمود احمدی نثراد کے لئے بھی ایک سخت پیغام دیا جس میں انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ حماس سے بات چیت کروں کیونکہ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اگر کوئی تنظیم یہ اعلان کرے کہ وہ اسرائیل کو نقشے سے مٹا دینا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی اصولوں پر مبنی ہے ۔

بھارت غصہ نہ کرے ، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔ امریکا

واشنگٹن ۔ یہ امید ظاہر کرتے ہوئے کہ بھارت ایران کے مسئلہ پر اپنا غصہ کم کر دے گا اور نرم روی کا رویہ اختیار کرے گا امریکا نے کہاکہ وہ نئی دہلی پر کسی بھی طرح سے انگلی نہیں اٹھا رہا ہے جس کو اس کی اپنی پسند کواپنانے اور اپنی مرضی سے جو چاہے وہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوب کو وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے واشنگٹن میں کہا ۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ( اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نائب ترجمان ٹام کیسی ) کسی بھی طرح سے بھارت پر انگشت نمائی کر رہے ہیں ۔ نئی دہلی نے پیر کے دن کیسی کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا جنہوںنے بھارت سے خواہش کی تھی کہ وہ صدر محمود احمدی نژاد سے ان کے مجوزہ دورہ کے دوران یہ کہے کہ ایران کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شرائط کی تکمیل کرنی چاہیے اور یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیوں کو روک دے ۔ بھارت نے کہا تھاکہ اسے اس مسئلہ پر امریکا کی کوئی رہبری کی ضرورت نہیں ہے۔ احمدی نژاد 29 اپریل کو نئی دہلی کا دورہ کرنے والے ہیں اور وہ صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل سے ملاقات کرنے والے ہیں ۔ وہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کو یہ بتانے والے ہیں کہ نیو کلےئر اور دیگر امور پر ایران کا موقف کیا ہے ۔ بوچر نے واشنگٹن فارن پریس سنٹر میں کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی پالیسی رہے اور وہ ان کی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کریں ۔ میںیہ نہیں سمجھتا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہمارے درمیان ایک بہت بڑا عدم اتفاق ہے۔ باوچر نے کہاکہ امریکا احمدی نژاد کے دورہ پر نظر رکھے گا اور وہ یہ دیکھے گا کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے ۔ انہوںنے کل کہا ہم ایران کے بارے میں بھارت سے بات کریں گے کیونکہ ہم علاقہ میں ہر چیز کے بارے میں ان سے بات کیا کرتے ہیں ۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے متذکرہ سینئر عہدیدار نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ ہماری پالیسیاں ساری دنیا پر عیاں ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بھارت نے یہ واضح کر دیاہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے علاقہ میں کوئی اور بھی نیوکلےئر طاقت رہے ۔ انہوں نے وضاحت کی ۔ انہیں دورہ کرنے دیجئے ہم یہ دیکھیں گے کہ اس کے کیا نتائج برامد ہوتے ہیں ۔ بھارت نے امریکا کویہ واضح پیغام بھی دے دیا تھا اور کہاتھا کہ ایران نیوکلےئر پروگرام کیسا ہونا چاہیے اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کام ہے اور واشنگٹن کو اس بارے میں رہنمایانہ خطوط مدون کرنے اور رہبری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے

چھ دن میں ججز بحال نہ ہوئے تواے پی ڈی ایم کااجلاس بلاکر لائحہ عمل مرتب کریں گے،قاضی حسین احمد

پشاور ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر چھ دن میں ججز بحال نہ ہوئے تواے پی ڈی ایم کااجلاس بلاکر لائحہ عمل مرتب کریںگے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کی بھر پور مزاحمت کریںگے اور تمام ججوں کی بحالی کے بغیر کوئی فارمولا قبول نہیں کیا جائے گا۔وہ مسجد مہابت خان پشاور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ مقررہ مدت میں جج بحال نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف کو قوم کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر اس لئے کر رہی ہے کہ امریکہ ایسا نہیں چاہتا۔ انہوںنے کہا کہ افتخار محمد چوہدری امریکہ کی ایما ء پر لاپتہ کیے جانے والے شہریوں کے بارے میں حکمرانوں سے پوچھ گچھ کررہے تھے جو امریکہ کے لئے ناقابل قبول تھا۔انہوںنے مردان دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بنیادی پالیسی تبدیلی کیے بغیر امن وامان بحال نہیں ہو سکتا۔امیر جماعت نے کہا کہ مغربی ممالک نے پاکستان کا محاصرہ کر لیا ہے اور اس کی سا لمیت کو خطرہ ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے حکمرانوں کو امریکہ سے اتحاد فی الفورختم کرنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ عدلیہ کو معزول کرنے سے انصاف کا قتل ہو گیا اور قوم کوانصاف ملنے کے لئے عوام کو بیدار ہوناہوگا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں کی حکومت اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک کے حوالے کر رہے ہیںاور دوسروںکی خوشنودی کے لئے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ منتخب حکومت جنرل مشرف کا جلد سے جلد مواخذہ کریں، ان سے جامعہ حفصہؓکے بچوں کے قتل عام کا حساب مانگا جائیگا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ کھل کر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہے اور ہمارادشمن ہے، جب تک اس کو دشمن نہیں سمجھا جائے گا اس کے مقابلے میں اپنا دفاع ممکن نہیںہوگا۔ انہوںنے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کا بال بیگا بھی نہ کر سکا ہے کیونکہ وہاں عوام اور حکومت ایک ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ انتخابات کے بعد تمام جماعتوں کے سربراہ امریکہ کے سفارتخانے میں گئے یہ خودمختاری اور آزادی کی منافی سیاست ہے۔ جماعت کے امیر نے کہا کہ امریکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور اسلامی ممالک کے حکمران بشمول پاکستان اس پر خاموش ہیں۔ انہوںنے سرحد حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ خواتین کودوبارہ اشتہارات کاحصہ بنا یا۔ نیم برہنہ خواتین کی تصاویرہر گز پختون کلچر نہیں۔ انہوںنے کہا کہ آٹا ،چاول اور گھی مہنگا کر دیا گیا ہے۔ غریب فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ سرکاری خزانہ پر سب سے پہلا حق غریب کا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ ملکی گیس پائپ لائن آئی پی آئی پر ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی



اسلام آباد ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایران پاکستان سمیت بھارت سہ ملکی گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے وزارتی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ تاہم فریقین نے پائپ لائن کمپنی کے سٹرکچر ، ٹرانسپورٹیشن ٹیرف اور ٹرانزٹ فیس کے بنیادی نکات پر اصولی اتفاق کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان آئی پی آئی گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اسلام آباد میں وزارتی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت بھارتی وزیرپٹرولیم مرلی دیوڑا اور پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر پٹرولیم خواجہ محمد آصف نے کی ۔ مذاکرات میں تین بنیادی نکات پر بات چیت کی گئی جن میںپائپ لائن کمپنی کے ڈھانچے ، ٹرانسپورٹیشن ٹیرف اور ٹرانزٹ فیس کے امور شامل ہیں جن میں سے کسی بھی نکتے پر کوئی خاص فیصلہ نہیں ہو سکا اور فریقین نے ان نکات کے بنیادی طورپر اصولی اتفاق کرلیا ہے ۔ بعد میں دونوں ملکوں کے وزراء پٹرولیم نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے و فاقی وزیر پٹرولیم خواجہ محمد اصف نے کہا کہ مذاکرات جو انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے اور منصوبے کے حوالے سے تین نکات پر بات چیت ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ مذاکرات میںا س بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے ان نکات پر دونوں وزراء پٹرولیم اپنی اپنی حکومتوں سے بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سہہ ملکی گیس پائپ لائن منصوبے پر معاہدہ کرنے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا بلکہ تمام ایشوز اگلے دو ہفتوں میں حل کر لیے جائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام نے منصوبے کی بنیاد پر اتفاق رائے پایا گیا ہے کیونکہ اس منصوبے کی دونوں ملکوں کو اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی تکمیل سے پاکستان اور بھارت کے درمیان نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس لیے اس سہہ ملکی گیس پائپ لائن منصوبے کو امن معاہد ہ قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستا ن اور بھارت کو گیس کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس وقت بھی پاکستان مین سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائن موجود ہے جس کو سیکورٹی کاکوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیں اس منصوبے کے ذریعے ساؤتھ ہارس گیس فیلڈ سے گیس مہیا کرے گا جس پر مجموعی طور پر سات ارب 50 کروڑ ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سہ ملکی گیس پائپ لائن گوادر سے نواب شاہ جائے گی جہاں سے اسے بھارت داخل کردیا جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ اگلے سال شروع ہو جائے گا اور 2012 ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس موقع پر بھارتی وزیرپٹرولیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس منصوبے میں ضرور شامل ہو گا کیونکہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک سے تعاون اور اچھے تعلقات چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ اس سے دونوں ملکوں کو ایک دوسر پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گیس پائپ لائن کے ذریعے مناسب مقدار میں اور بلارکاوٹ گیس کی سپلائی چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس منصوبے سے دستبرداری کے حوالے سے امریکہ سے کوئی دباؤ ہے نہ امریکہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ گیس ہماری ضرورت ہے جس پر ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججوں کی بحالی پر قرار داد رکوانے کی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز کی بحالی پر قرار داد رکوانے کے خلاف دائر پٹیشن ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی ۔ جمعہ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم کی عدالت میں اس پٹیشن کی مختصر سماعت ہوئی اور درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کورٹ میں پیش نہیں ہوئے ۔ جس پر عدالت نے مختصر حکم میں کہا کہ اس آئینی درخواست پر رجسٹرڈ آفس نے اعتراضا ت اٹھائے ہیں کہ اسی طرح کی ایک اور آئینی درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ممکن نہیں ہے کہ اس درخواست پر کارروائی کی جائے اور ان حالات میں یہ درخواست ناقابل سماعت ہے اس لئے اسے خارج کیا جاتا ہے

٣٠ اپریل اعلان مری اور عدلیہ کی بحالی کا دن ہو گا ۔اعتزاز احسن

سپریم بار کونسل نے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے تاہم پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑوں گا
آئینی پیکج اور ججوں کی بحالی دو الگ معاملے ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے معزول ججوں کی رائے سب سے مقدم ہے
سپریم بار کونسل کے صدر کا راولپنڈی آرٹس کونسل میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب

راولپنڈی ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ملک بھر کے وکلاء اور 16 کروڑ عوام اپنی سیاسی قیادت کی طرف سے دی گئی 30 اپریل کی تاریخ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں ہمیں کسی کی نیت پر کوئی شک شبہ نہیں بلکہ توقع ہے کہ 30 اپریل اعلان مری اور عدلیہ کی بحالی کا دن ہو گا سپریم کورٹ بار نے مجھے این اے 55 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے تاہم میں پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑوں گا اگر آصف زرداری نے یہاں سے الیکشن میں حصہ لیا تو انہیں خوش آمدید کہوں گا آئینی پیکج اور ججوں کی بحالی دو الگ معاملے ہیں آئینی بیکج کے حوالے سے معزول ججوں کی رائے سب سے مقدم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز راولپنڈی آرٹس کونسل میں جناح انسٹیٹیوٹ آف انفارمیٹکس اینڈ کامرس کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا تقریب سے انسٹیٹیوٹ کے چیئر مین و سابق وزیر اعلیٰ کے مشیر راحت قدوسی نے بھی خطاب کیا ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر تے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ آنے والا ہفتہ ملکی حالات میں مثبت پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہو گا انہو ںنے کہا کہ ہمیں کسی کی نیت پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یقین ہے کہ اعلان مری پر پوری طرح عملدر آمد کیا جائے گا موجودہ حالات میں ہم کوئی ایسی بات نہیں کر نا چاہتے کہ کوئی وکلاء کی تحریک پر انگلی اٹھائے ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کہ مجوزہ آئینی پیکج کا معزول ججوں کی بحالی سے کوئی تعلق نہیں یہ دونوں الگ معاملے ہیں تاہم آئینی پیکج کے مسئلے پر معزول ججوں سے مکمل مشاورت کی جائے گی کیونکہ اس حوالے سے ان کی رائے سب سے مقدم ہے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے وکلاء اور 16 کروڑ عوام 30 اپریل کی تاریخ کا بے صبری اور بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں یہ تاریخ وکلاء نے نہیں بلکہ سیاسی عمائدین نے مقرر کی تھی ایک اور سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کہ راولپنڈی کے حلقہ این اے 55 سے الیکشن میں حصہ لینے اور پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی کو درخواست دے رکھی ہے اگرچہ یہ سیٹ نواز شریف کی ہے لیکن انہو ںنے مجھے اس کی پیش کش کی ہے تاہم میں پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میںحصہ لوں گا لیکن اگر آصف علی زر داری نے اس حلقہ سے الیکشن لڑا تو انہیں خوش آمدید کہوں گا انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انہیں اتفاق رائے سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے تا کہ کامیاب ہو کر عدلیہ کی بحالی کے معاملے کو موثر انداز میں پارلیمنٹ میں اٹھا سکوں قبل ازیں تقریب سے خطاب کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ قائد اعظم پاکستان کو مکمل فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن ہم نے اسے کبھی فلاحی ریاست نہیں بننے دیا پے در پے مارشل لاء کی حکومتوں نے فلاحی ریاست کو قومی سلامتی کی ریاست میں تبدیل کر دیا جہاں پر عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے ہمیشہ فوج کو مقدم رکھا گیا انہو ںنے کہا کہ 40 ہزار ایٹم بم کی حامل فوجی قوت و ریاست روس بھی ا سلئے تباہ ہو گئی کہ اس کے عوام بد حال تھے انہو ںنے کہا کہ یورپ و امریکہ ہمارے لئے لاکھ برے سہی لیکن وہ اپنے عوام کے حقوق و مفادات کے محافظ ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریاستی ادارے 58 سال سے فوجی آمریت کے تسلط میں ہیں لیکن دو سال سے وکلاء عدلیہ سمیت ان اداروں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ عدل کے بغیر جمہوریت اور پارلیمان نہیں چل سکتے۔

اگر موجودہ حکومت ججز کو بحال نہ کرسکی تو یہ ملک کیلئے بڑا سیاہ دن ہوگا ۔جاوید ہاشمی

کراچی۔ مسلم لیگ ن کے سنیئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ اگر موجودہ مخلوط حکومت اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال نہ کرسکی تو یہ ملک کیلئے 9 مارچ ،12 مئی اور 9 اپریل سے بھی بڑا سیاہ دن ہوگا۔ جبکہ عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور پر صدر کے مواخذے کے بجائے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین توڑنے والے آمر کے خلاف کارروائی کرے۔ اگر اس وقت آئین توڑنے والے آمر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو ملک میں بار بار آئین ٹوٹتا رہے گا ۔ ججز کی بحالی کیلئے مسلم لیگ ن کسی آئینی پیکج کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ ججز کی بحالی اور آئینی پیکج دو علیحدہ علیحدہ معاملے ہیں ۔ اس لیئے ہمارا موقف ہے کہ ججز کی بحالی اعلان مری کے تحت آئندہ چھ روز میں کردی جائے تاہم اگر اس سلسلے میں چند روز تاخیر ہو تو برداشت کیا جاسکتا ہے مگر اصولی طور پر ججز کی بحالی مقررہ وقت پر ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم ججز کی بحالی ،آئین کے آرٹیکل 58-2B کے خاتمے ، 12 مئی کے واقعے کی انکوائری اور اس کے نتائج کو قبول کرنے کے علاوہ 9 اپریل کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کرے تو ایم کیو ایم سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ججز کواعلان مری کے مطابق بحال نہیں کیا گیا تو مسلم لیگ ن حکومت کونقصان پہنچائے بغیر وزارتوں سے علیحدہ ہوجائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو کراچی پریس کلب میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مسلم لیگ ن سندھ کے رہنما سلیم ضیاء ، نہال ہاشمی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ مخدوم ہاشمی نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں ججز کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہوتی جس طرح پاکستان میں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ججز کی بحالی میں تاخیر اور ان کے اختیارات میں کمی کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کرتے ہیں اور ججز کے اختیارات کے حوالے سے ہم کوئی معمولی تبدیلی کو بھی برداشت نہیں کریں گے اور ہمارا یہ موقف ہے کہ ججوں کو دو نومبر کی پوزیشن پر ہی بحال کیا جائے۔ انہوں نے کراچی آمد کے حوالے سے بتایا کہ میں کراچی میں وکلاء ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو ان کی جدوجہد کے حوالے سے سلام پیش کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک میں ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا مگر بدقسمتی سے کراچی کو آگ سے گزارا گیا جن میں 12 مئی اور 9 اپریل کے واقعات شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو کراچی میں ایسے حالات رونما ہوئے جس سے ایسا لگا کہ کراچی کو ملک سے الگ کردیا گیا ہے یعنی اس کی آزادی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو کراچی میں ٹرینوں کی آمد و رفت بند اور ایئرپورٹ کو سیل کردیا گیا جبکہ 9 اپریل کو طاہر پلازہ میں وکلاء کو زندہ جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے طاہر پلازہ میں جاتے ہوئے خوف محسوس ہوا کیونکہ طاہر پلازہ میں جس بربریت کا مظاہرہ کیاگیا ہے ایسے مناظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے کیونکہ طاہر پلازہ میں وکلاء کے سینکڑوں دفاتر اس طرح جل گئے کہ عمارت کی چھتیں پگھل گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور سول وسائٹی ججوں کی بحالی کے سلسلے میں ایسے کٹھن مراحل سے گزرے ہیں جن میں جانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ اب اس موقع پر قوم کو ججوں کی بحالی کی نوید سنائی جائے ۔جو عہد دونوں بڑی پارٹیوں نے قوم سے کیا تھا اسے 30 دنوں میں پورا کیا جائے کیونکہ ججوںکی بحالی کیلئے 6 دن باقی رہ گئے ہیں اور اب اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق نواز شریف صاحب لندن چلے گئے ہیں جبکہ آصف زرداری دبئی چلے گئے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ججوں کی بحالی کیلئے جو وعدہ قوم سے کیا گیا ہے اسے ہر قیمت پر پورا ہونا چاہیئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اب اعلان مری پر عمل در آمد نہیں ہوا تو یہ ملک کیلئے 9 مارچ ،12 مئی اور 9 اپریل سے بھی بڑا سیاہ دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میری تمام سیاسی قیادتوں سے اپیل ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے سلسلے میں قوم سے کیئے گئے وعدے پورا کریں اور غیر مشروط طور پر ججوں کو 2 نومبر 2007؁ء کی پوزیشن پر بحال کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ بحال نہ ہوئی تو ملک معاشی و سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا اور اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری موجودہ اتحادی حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عدلیہ کی بحالی کے بغیر جمہوریت کا کوئی تصور نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابات وزارتوں یا عہدوں کیلئے نہیں لڑے تھے ۔ اگر اعلان مری کے مطابق ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو ہم حکومت کو نقصان پہنچائے بغیر علیحدہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے سلسلے میں ہم کسی آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ججوں کی بحالی اور آئیی پیکج دو الگ الگ معاملے ہیں ۔ آئینی پیکج میثاق جمہوریت میں شامل تھا جبکہ اعلان مری میں ججوں کی بحالی کا اعلان غیر مشروط تھا ۔ اس لیئے ججوں کی بحالی غیر مشروط کی جائے جس کیلئے ہم میثاق جمہوریت کے مطابق آئینی اصطلاحات میں شامل ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں آئینی اصطلاحات کے حوالے سے جو معاملات طے کیئے گئے تھے انہیں بھی پورا کیا جائے گا تاہم اس وقت عدلیہ کا اشو یہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت آئینی پیکج لاتی ہے وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ ججوں کے اختیارات کم کیئے جانے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ججوں کے اختیارات کے حوالے سے ہم کسی فل اسٹاپ کو یا کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اعلیٰ جج کو سوموٹو ایکشن سے روکا جائے ۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہمیں محسوس ہوا کہ ہم مقصد میں ناکام ہورہے ہیں تو ہم حکومت توڑے بغیر حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے تاہم ججوں کی بحالی کے سلسلے میں دو چار دنوں کی تاخیر ہوگی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا مستقبل تاریک ہے اور وہ اپنی حمایت کھوچکے ہیں ۔ اس ملک میں کوئی بھی پارٹی پرویز مشرف کو مستقبل میں سپورٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی جبکہ یورپین یونین ان کی تمام پولیسیوں کو مسترد کرچکی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے صدر پرویز کے مواخذے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ مواخذے کیلئے دو تہائی اکثریت کا مسئلہ ہے تاہم مواخذے سے بڑی بات یہ ہے کہ صدر مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسی آمر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی نہ کی گئی تو ملک میں بار بار آئین توڑا جاتا رہے گا۔