International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Sunday, April 27, 2008

ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکیج کی حمایت کر یں گے ،پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑدیئے جائیں ،نواز شر یف





اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت کرینگے،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں،عوام نے تبدیلی کیلئے مینڈیٹ دیا اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے،صدر کی موجود گی جمہوریت کیلئے خطرناک ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ایوان صدر کا مکین نہیں چاہتا کہ سیاستدان مل بیٹھیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو، انہوں نے کہا کہ میں سیاست سے فوج کے کردار کے خاتمے کا دعا گو ہوں،انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا پر کوئی پابندی دیکھنا نہیں چاہتے، 30 اپریل کو 30دن پورے ہونے والے ہیں ججوں کی بحالی کے بعد آئینی پیکج کی حمایت کرینگے اس سے قبل قومی اسمبلی میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے قرار دادکی منظوری کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا بھی ضروری ہے۔ معزول ججوں کی صرف بحالی کافی نہیں ہم انہیں عملی طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی نیت پر کوئی شک شبہ نہیں۔ ہمارے وزراء نے ملک کے وسیع تر مفاد میں صدر مشرف سے حلف لیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو توڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں آج ہمیں وعدہ کرنا ہے کہ آمریت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد نہیں ہے تو سیاست دان، صحافی اور جمہوریت بھی آزاد نہیں ہوگی۔ یہ 70 اور 80 کی دہائی نہیں ہے اب وقت بدل گیاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلی میں ہمیں بھی خود کو ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کے ساتھ ذیادتی کی قانون اور آئین توڑا اسے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ عوام نے عام انتخابات میں گزشتہ حکومت کی پالیسیوں اور آمریت کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ عوام تبدیلی کے انتظار میں ہیں اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان مری کے مطابق ہم نے ججوں کو بحال کرنا ہے اور 2 نومبر کی پوزیشن پر انہیں لانا ہے۔ اعلان مری میں ساری بات طے ہو چکی ہے۔ ہم نے 30 دن میں ایک قرار داد کے ذریعے جج بحال کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کو واضح طور پر بتا دیا کہ وہ حکومت بنائیں اپنی ذات کیلئے کسی قسم کے کوئی مطالبات نہیں کیے لیکن صدر مشرف کے حوالے سے ہمارے تحفظات تھے اس کے باوجود ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہمارے وزراء نے ان سے حلف لیا۔ اعلان مری کے تحت 30 اپریل تک ججوں کو ہم نے بحال کرنا ہے اور توقع ہے کہ اس سے پہلے پہلے اس سلسلے میں قرار داد آجائے گی لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ صرف قرار دادہی کافی نہیں ججوں کی بحالی کیلئے اسی وقت ایگزیکٹو آرڈر کا اجراء ہونا چاہیے اور ججوں کواپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیں۔ اٹھاون ٹو بی کے استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال کیوں ہوگا ہم جج بحال کر رہے ہیں جنہیں گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا انہیں نکال تونہیں رہے جو اسمبلی ملک اور عوام کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے کام کر رہی ہے اسے توڑنے کا کیا جواز ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اعلان مری پر عمل کریں گے اور عوام کی توقعات پر پورے اتریں گے اور دعا کرتے ہیں کہ اتحادی حکومت قائم رہے ماضی کی دو متحارب جماعتیں جو اس وقت ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچیں، فوج اپنا کام کرے اور سیاست میں آنے سے گریز کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے 2 نومبر کو حلف لینے سے انکار کیا تھا ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے وہی اختیارات ہونے چاہیں جو پارلیمانی جمہوریت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں مجھے مصروفیات محدود رکھنے کو کہہ رہی ہیں۔ لیکن ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں اور آمریت کے ایجنٹ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے ملک میں میڈیا کی آزادی اور بحالی جمہوریت کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ان کی جدوجہد پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے ہم میڈیا پر پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں جو بھی آئین قانون اور جمہوریت کے خلاف قدم اٹھائے اس پر ضرورتنقید ہونی چاہئے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں شرکت کرنے والے مسلم لیگی وزیروں کو علم نہیں تھا کہ صدر مشرف بھی وہاں آ رہے ہیں، اگر علم ہوتا تو وہ نہ جاتے تاہم انہوں نے کھانا مشرف کے مخالف سمت منہ کرکے کھایا، ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ ایوان صدر سے سازش ہورہی ہے اور سازشی لوگ بھی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں شریف الدین پیر زادہ اورملک قیوم کتنے بڑے سازشی انسان ہیں پرویز مشرف نے خود سازش کر کے اس ملک میں قبضہ جمایا ہوا ہے اور ان کے اردگرد سازشی ٹولہ بیٹھا ہواہے جو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور مشرف ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ضمنی انتخاب کے حوالے سے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ میں عوام سے پوچھ کر فیصلہ کرونگا ۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو توڑنا اور آئین کی دھجیاں بکھیرنا ملک اور قوم کے ساتھ بغاوت ہے جوکہ ایسا جرم ہے جس کی سزا موت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں‘ ہم تو آئین اور دستور کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں‘ لہٰذا ہم آئینی کام کرنے سے کیوں گھبرائیں‘ اگر ہم ہی ڈرگئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی۔ ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو آٹا ملے‘ بچے اسکول جائیں اور لوگوں کو انصاف ملے مگر جب انصاف دینے والے کرسیوں پر نہیں بیٹھیں گے تو انصاف کیسے ملے گا؟ یہ ساری چیزیں ادھوری رہ جائیں گی۔ ابھی پندرہ دن ہوئے ہیں کہ پنجاب حکومت بنی ہے مسائل پر قابو پانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم آئینی پیکیج لانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے کہا ہے کہ پہلے ججز کو قرارداد کے ذریعے بحال کرلیں اس کے بعد میثاق جمہوریت کے مطابق کام کریں گے اور آئینی پیکیج کی بھی حمایت کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا عمل ہم ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں کہ مذاکرات ہورہے ہیں۔

Pak students protest against move to pardon Sarabjit


Daughters of Sarabjit Singh, who is languishing in a Pakistani jail on death row, at a village near Amritsar.

LAHORE: Amidst appeals for clemency for Sarabjit Singh by his family and human rights activists, hundreds of students in Lahore took to the streets demanding that the Indian death row prisoner not be pardoned. The students marched in the city on Friday and sought withdrawal of all official moves to pardon Sarabjit, sentenced to death for alleged involvement in the 1990 blasts in Punjab province. They also said he should not be made a "hero". The demonstrators termed former Pakistani human rights minister Ansar Burney, who has sent a mercy petition on behalf of Sarabjit to President Pervez Mushrraf, an "Indian agent", The News reported on Saturday. The students said if Sarabjit is released, they would launch a joint movement against the government. The demands were made by student leaders while addressing a conference outside Lahore Press Club. They also protested against an anti-Quran movie by a Dutch lawmaker . Tulaba Jamaatud Dawah chief Muzammil Iqbal Hashmi demanded that Burney should be arrested and tried for treason. He said the release of Sarabjit would "humiliate" the whole nation. Holding banners and placards, the students shouted slogans and blocked roads. Their leaders also demanded a boycott of western products and culture and promotion of Islamic teaching. Sarabjit's April 1 hanging was deferred for 30 days by President Pervez Musharraf. His family, which is in Lahore currently, is seeking clemency for the condemned man.
Kidnappers of IG Punjab’s nephew arrested

ASSOCIATED PRESS SERVICE

LAHORE: Police has arrested four accused for kidnapping Ahsan Khan - nephew of Additional Inspector General Punjab, Khawaja Khalid Farooq.The accused kidnapped Ahsan Khan from Satoktala area of Lahore, snatched his car and withdrew 135,000 through his ATM card and ran away, police said.The police identified the accused through the footage of the surveillance camera installed inside the ATM booth and the arrested Zain-ul-Abideen along with three others from Thokar Niaz Baig.
Women rally against Dutch anti-Islam film in Karachi

ASSOCIATED PRESS SERVICE

KARACHI: Thousands of women staged a protest here against an anti-Islam film made by a Dutch lawmaker.Muslim communities have widely condemned Dutch lawmaker Geert Wilder since he released the short film online last month.More than 4,000 women from Jamaat-e-Islami and other groups attended the rally. Some of them beat an effigy of Wilder before setting it on fire.The protesters, many of them veiled, also condemned there printing of blasphemous cartoons in Denmark, and demanded that Pakistan expel the Dutch and Danish ambassadors.


Qazi wants judges restoration within 30 days

ASSOCIATED PRESS SERVICE
NOSHEHRA: Amir Jamat-i-Islami, Qazi Hussain Ahmed Saturday stressed on the government to restore the deposed judiciary within the announced deadline of 30 days.Addressing a press conference here, Qazi Hussain Ahmed said he neither doubts the intention of the government nor he wants to create any difficulties for it.“The judges issue is one of the most important matter for the government and it is seen as a test case for the newly elected democratic government…the whole nation wants the Bhurban Declaration implemented,” Qazi said.He said meeting of All Parties Democratic Movement (APDM) may be convened on May to consult the leaders had the judges not reinstated within deadline.“The present government respecting the people’s mandate should impeach the President immediately,” Qazi Hussain Ahmed stressed.


Violators of constitution to be brought to justice: Nawaz Sharif

ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD: The Head of Pakistan Muslim League-N Mian Nawaz Sharif has said those who violated the constitution, law and assemblies would be brought to justice.Addressing a press conference in Islamabad, Nawaz Sharif said there was no ambiguity over reinstatement of judges according to the Murree declaration and PML-N would like judges to be restored before April 30 through an executive order. PML-N head said restoring of deposed judges was not a criminal act for which President Musharraf would use 58-2-B. Sharif said he wanted no role of army in politics and would never become part of dictatorship. Regarding Pemra ordinance, Nawaz Sharif said there should not be any restrictions on the press and media and Pemra ordinance was no more in place. A delegation of Islamabad Union of Journalists called on Mian Nawaz Sharif in which PML-N leader eulogized struggle of journalists for the cause of democracy and free media in Pakistan.





Government committed to providing relief to people: PM




ASSOCIATED PRESS SERVICE


ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Saturday said the resilience and steadfastness displayed by people of Azad Jammu and Kashmir after the catastrophic earthquake in 2005 was a reflection of their determination to face challenges.
He was talking to a delegation of PPP Azad Jammu and Kashmir led by PPP AJK President, Chaudhry Abdul Majeed which called on him here at the PM Secretariat this evening.
The Prime Minister said the role of People’s Party workers during the difficult post earthquake period reflected their commitment to serve the people.
He expressed the confidence that the same spirit would facilitate the cause of the people of Jammu and Kashmir for the peaceful resolution of Kashmir issue in accordance with their aspirations.
The Prime Minister said the present government has inherited a number of problems including food inflation and energy shortage.
He said the government is committed to providing relief to people. In this regard, he added, a 100-day austerity programme is underway for which various initiatives are being taken.
The Prime Minister said the majority of Pakistanis have voted for the democratic forces in recent general elections, which showed their confidence in development-oriented and progressive programmes for future.
President PPP AJK informed the Prime Minister that in the 2005 earthquake four districts of AJK were badly affected where nearly 50,000 people were killed whereas numerous others were injured.
He asked for special efforts to accelerate the reconstruction of the destructed areas as well as payment of compensation for all affected people those who have still not been compensated.
The delegation invited the Prime Minister to visit the earthquake affected districts to get first hand information about the difficulties of the people.
The Prime Minister said that keeping in view the difficulties of the people in some areas he has decided to monitor the reconstruction and rehabilitation work himself and would conduct meetings of the ERRA Council on monthly basis. Soon, he said, he would also undertake a visit to the AJK.
The participants apprised the Prime Minister of various issues relating to AJK, including provision of electricity, gas and construction of roads.
They informed him that Kashmiri people are appreciative of the government’s decision to lift ban on trade and students unions.
The delegation also congratulated the Prime Minister on assuming his responsibilities as the head of the coalition government.
Earlier the meeting offered Fateha for Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed.

چو دھری شاھد نواز چیف ایڈیٹر کاسموس نیوز ایجنسی... موجودہ قومی اسمبلی اور چار اپوزیشن لیڈر خدا خیر کرے


ََ گذشتہ روز قومی اسمبلی کی گےلری مےں بےٹھے تھے کہ اےک دوست نے کان مےں آ کر کہا کہ قائد خزب اختلاف جناب پروےز الٰہی اپنے چےمبر مےں پرےس کانفرنس کر رہے ہےں۔خےر وہ ہمارے راہنما ہےں کےا ہوا جو آج اپوزےشن مےں ہےں کل حکومت مےں تھے پھر بھی آ سکتے ہےں۔انکے ساتھ رےاض پےرزادہ‘ماروی مےمن اور بہادر خان بھی موجود تھے۔ادھر تو 40کے قرےب صحافی حضرات موجود تھے اور ابھی سوالات کا سلسلہ شروع نہےں ہوا تھاکہ چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ آپ لوگ تو آ گئے لےکن کےمرہ مےن کدھر ہےں ےہ تو صرف PTVکا کےمرہ ہے۔ انہےں اےک صحافی نے ےاد دلاےا کہ آپ کی حکومت نے قومی اسمبلی مےں کےمرے لانے سے منع کےا ہوا تھا خےر سےاست دانوں کی ےاداشت بہت کمزور ہوتی ہے انکا قصور نہےں۔ اسکے بعد انہوں نے پرےس کو برےف کرنا شروع کےا انہوں نے اعلان کےا کہ قومی اسمبلی مےں تےن ڈپٹی اپوزےشن لےڈر نامزد کر رہے ہےں ۔انجےنئر امےر مقام(سرحد)فہد غوث بخش(سندھ)جام محمد ےوسف(بلوچستان) سے لےا جا رہا ہے جس کی وجہ انہوں نے ےہ کہی کہ اکثر و بےشتر وہ اسمبلی مےں موجود نہےں ہوتے تو انکی جگہ کوئی تو سنبھالے گا۔ ےعنی سےٹ خالی نہےں چھوڑنی۔انہےں ےاد دلاےا گےا کہ اےم کےو اےم کے اےک لےڈر پہلے ہی سندھ سے قومی اسمبلی مےں اپنے آپ کو اپوزےشن لےڈر کہلوا رہے ہےں مےری مراد حےدر عباس رضوی سے ہے۔اسکے جواب مےں چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ اسکو چھوڑو کوئی اور بات کرو۔اسکے بعد جناب پروےز الٰہی نے کہا کہ موجودہ حکومت غےر ملکی آڈےٹر سے آڈٹ کروانے کےلئے پروگرام بنا رہی ہے ےعنی ضلعی حکومتوں کا احتساب باہر سے آئے ہوئے CAحضرات کرےں گے جو ہمےں قبول نہےں ہے۔کےونکہ پہلے ہی ہم نے ضلعی حکومتوں کے آڈٹ کرکے انہےں پاک صاف قرار دے چکے ہےں اور انکے احتساب کےلئے ادارے بھی موجود ہےں اس سے ملکی حالات خراب ہونگے موجودہ ضلعی حکومتوں کو 2009تک وےسے ہی قانونی تحفظ حاصل ہے انہےں کوئی نہےں چھےڑ سکتا موجودہ حکومت کو عقل کے ناخن لےنے چاہئے نہ کہ احتساب کروانا چاہئے۔ہم اس کو عدالت مےں چےلنج کرےں گے وکلاءکی کمےٹی بنا دی ہے۔موجودہ حکومت نے ہمارے قائم کےے ہوئے ادارے ختم کرنے شروع کر دئےے ہےں جن مےں پڑھے لکھے پنجاب کا ٹرےفک وارڈن ادارہ بھی ہے جس مےں ہزاروں کی تعداد مےں سفارشی BAحضرات کو بھرتی کےا گےا تھا۔اور لاہور مےں شروع ہوا تھا جو بعد مےں ملتان ‘گوجرانوالہ‘بہاولپور اور فےصل آباد مےں بھی شروع کےا جانا تھا جسکی تےاری پورے زور و شور سے جاری تھی کہ سندھ کے زردارےوں اور پنجاب کے زردارےوں نے تہس نہس کر دےا اب واڈن بھی جار ہے ہےں خدا خےر کرے۔پنجاب مےں شروع ہونے والے 1122کے بارے مےں انہوں نے کہا کہ ےہ بھی حکومت بند کرنا چاہتی ہے ہم اسکو ختم نہےں ہونے دےںگے۔ اےک ہمارے دوست صحافی نے جناب پروےز الٰہی سے سوال کےا کہ جناب آپ پروےز مشرف کی چھتری سے کب نکل رہے ہےں تو انہوں نے اگنور کر دےا 2سے3مرتبہ ےہی سوال کرنے پر انہوں نے متعلقہ صحافی کو پوچھا کہ کس کے بندے ہو ےہ سوال کس نے پوچھا ہے۔ شوکت عزےز کے بارے مےں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ چلے گئے ہےں ہر سوال جو اسکے بعد ہوا ےعنی اےک صاحب نے پوچھا کہ 3ڈپٹی اپوزےشن لےڈروں کا تقرر کس قانون کے تحت ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون نہےں ہم نے کہہ دےا ہے قانون بعد مےں بتائےں گے۔چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ ہم نے چےف الےکشن کمشنر کو خط لکھا ہے کہ الےکشن شےڈول کے اعلان کے بعد جو تقررو تبادلے کےے گئے ہےں انکا نوٹس لےا جائے(کےونکہ ےہ ہمارا دورہ حکومت نہےں ہے)ہم نے غےر ملکی مبصرےن کو بھی کہا ہے کہ اب بھی آو¿ اور الےکشن مےں ہونے والی دھاندلی دےکھو اب کےوں نہےں آ رہے۔ راقم الحروف کے سوال کے جواب مےں کہ ملک مےں عوام کو آٹا نہےں مل رہا اور بہت برے حالات ہےں اس بارے مےں کچھ فرمائےں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آٹا تک عوام کی رسائی ےقےنی بنانا چاہئے ےہ انکی ناکامی ہے کہ ملک مےں آٹا مےسر نہےں ہے۔اسکے بعد انہوں نے کہا کہ گےٹ پر چلتے ہےں کےمروں کے آگے سوال جواب کرےں گے۔حافظ صاحب آ جاو¿(حافظ طاہر خلےل کو کہا)صحافی حضرات مذاق اڑاتے اور ہنستے چلے گئے مےرا تعلق چونکہ چوہدری پروےز الٰہی کے شہر سے ہے مےں چوہدری صاحب کے پاس 10سے 15منٹ بےٹھا رہا اور خدا سے دعا کرتا رہا کہ کاش کوئی اپوزےشن لےڈر عوام کے مسائل کو سنجےدگی سے لے جب تک اسطرح کے حاکم اور اسی طرح کے اپوزےشن لےڈر آتے رہےں گے عوام کا خدا ہی حافظ ہے ےعنی کوئی سوال بھی کےا جائے تو کہتے ہےں کوئی اور سوال کرو ےا پھر ”چھڈو جی“ےا پھر” خےرمٹی پاو¿جی“ اگر مسائل کو حل نہےں کرنا ےا اس کو مسئلہ ہی نہےں سمجھنا ےا اس پر مٹی ہی ڈالنی ہے تو ہمارے اربوں روپے لگا کر اسمبلےوں اور سےنٹ مےں ان لوگوں کو بےٹھے کا کےا فائدہ پھر تو ہر محلہ کا ناظم ہی بہت ہے جو پانی ‘بجلی اور صحت و صفائی کا مسئلہ تو محلہ کے اندر ہی حل کر سکتا ہے۔مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ 25سال ہو چکے ہےں چوہدری برادران کو قومی اور صوبائی اسمبلےوں مےں آتے جاتے مجھے نہےں پتہ کہ انہوں نے اےک قومی اسمبلی ےا سےنٹ مےں آنے جانے والے صحافی سے زےادہ کام کےا ہو گجرات مےں اےک قصبہ جلالپورجٹاں ہے جہاں کی آبادی آج سے پچےس سال پہلے60000ہزار تھی اور پاور لومز جو اس شہر کی رےڑھ کی ہڈی ہے کاروباری لحاظ سے‘پاور لومز کی تعداد اس وقت اس شہر مےں تقرےباً8سے10ہزار ہو گی آج اس شہر کی آبادی130000سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔اور ہونا تو ےہ چاہےے تھا کہ آبادی کے ساتھ ساتھ کاروباری مواقع پےدا ہوتے اور 8ہزرا پاور لومز سے بڑھ کر 160000ہزار ہوتےں اور اسکے ساتھ بے روزگاری بھی کم ہوتی مگر الٹا حساب آج وہاں بمشکل 800سے 1000ہزار پاور لومز چل رہی ہےں کےونکہ بجلی ہی نہےں ہے کچھ اہل ثروت حضرات نے جنرےٹر کا بندوبست کر لےا ہے لےکن ہر آدمی ےہ نہےں کر سکتا اس لےے لوگ شہر جلالپورجٹاں سے ہجرت پر مجبور ہےں۔مےرا اس وقت بات کرنے کا مقصد ےہ ہے کہ 25سال سے جلالپورجٹاں سے چوہدری برادران کے سوا کوئی MNAےا MPAےا ضلعی ناظم منتخب نہےں ہوا اگر وہ چاہتے تو اپنے باپ ےعنی چوہدری ظہورالٰہی کے گجرات کو پےرس بنانا تو آسانی سے کر سکتے تھے کےونکہ 2ماہ اور 18دن چوہدری شجاعت حسےن بھی وزےراعظم پاکستان رہ چکے ہےں خےر ےہ بات تو ہوئی بے روز گاری کی اسکے علاوہ جو تھانہ کلچر ہے اس کی مثال ہی نہےں ملتی گجرات مےں موٹر سائےکل کا نمبر لگوانے کا کوئی رواج نہ ہے آپکو 8سال 6سال پرانا موٹر سائےکل بغےر نمبر کے مل جائے گا پوچھو تو کہتے ہےں کہ وجاہت فورس کا کارکن ہے(جسکی چوہدری وجاہت حسےن نے جےو کے پروگرام کےپٹےل ٹاک مےں تردےد بھی کی تھی ےعنی وجاہت فورس کا وجود نہےں ہے)۔ شام کے بعد آپ بائی پاس سے گذر نہےں سکتے جلالپور جٹاں شہر مےں اسلام گڑھ اور کےمپ روڈ ‘کھارےاں روڈ‘چوک دومےلا جو کےنٹ کے ساتھ واقع ہے قابل دےد نظارہ پےش کر رہا ہے حالانکہ وہاں کے ناظمےن چوہدری برادران کی تسبےح پڑھتے نہےں تھکتے(اللہ معاف کرے)اور استقبال اسطرح کرتے ہےں گوےا بل کلنٹن آ گےا ہو۔ ہمےں استقبال کرنے سے تکلےف نہےں مگر ان کو کام بھی بتاو¿ نہ کہ جن سڑکوں پرچوہدری صاحب آنے نے خود آنا ہوتا ہے انکی تو حالت سدھاردو۔اگر چوہدری برادران نے 25سالوں مےں وزےراعلیٰ ‘وزےراعظم‘MNA‘MPAاور12سال وزےر بلدےات رہ کر کچھ نہےں کےا تو PPPPوالوں سے بھی امےد نہ رکھےںےہ باتےں تو وےسے ہی لکھ دی ہےں کہ اپنے حلقہ کی عوام کی خدمت نہ کرنے والے پوری قوم کی کےا خدمت کرےں گے جو مےڈےا کے چند سوالات کا جواب نہےں دے سکتے انہوں نے عوام کا سامنا کےا کرنا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اےک ہو مگر نےک ہو مےری مراد اےک اپوزےشن لےڈر سے ہے جو حکومت کے غلط کاموں کو عوام تک لے کر جائے ان چار لےڈروںجےسااےک فضل الرحمان پہلے ہی کافی تھا چار کی کےا ضرورت پےش آ گئی۔خدمت کا آغاز اپنے حلقوں سے کرےں ورنہ 5ےا4نشستوں سے بہتر اےک ہی ہے جہاں آپ وقت دے سکےں اور عوام کے دکھ سکھ مےں شرےک ہوں۔
چو دھری شاھد نواز چیف ایڈیٹر کاسموس نیوز ایجنسی

نبی آخر الزماں اور ہمارا ہندوستاں


8تا14اپرےل کے 4کالموں مےں بحث کی تھی کہ القاعدہ کہاں ہے؟ کہےں ہے تو شاتمےن رسول کےوں اب تک زندہ ہےں؟۔ ان گستاخےوں کے مقاصد کےا ہو سکتے ہےں؟القاعدہ کا ہوا کس طرح کھڑا کےاگےا؟ تو ہےن آمےز خاکوں اور فلم کے مسئلے پر اب تک القاعدہ کا کوئی کردار سامنے نہےں آےا اور اگر کسی نے جرا¿ت کی گستاخوں کو چےلنج کےا تو وہ صرف پاکستانی ہےں۔حکمران نہےں عام پاکستانی۔ اس کا ہر گز ےہ مطلب نہےں کہ ناموس رسالت کے مسئلے پر خدا نخواستہ ہم پاکستانےوں سمےت باقی مسلمانوں کو کچھ نہےں کرنا چاہےے اور القاعدہ ہی پر ےہ فرض عائد ہوتا ہے ۔بدبختوں نے پوری امت مسلمہ کی غےرت کو چےلنج کےا ہے لہٰذا اس کا جواب بھی ساری ملت اسلامےہ پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ےہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اپنی ذمہ داری انسان کو خود ہی پوری کرنا ہوتی ہے ۔ کوئی دوسرا آکر ہاتھ بٹاتا ہے نہ اس کی توقع ہی کر ناچاہےے۔ مگر اس کے باوجود کئی لوگ سوال کرتے ہےں کہ امت کا اجتماعی مسئلہ ہے تو سب اپنا کردار ادا کر ےں صرف پاکستانی ہی کےوں جانےں قربان کرےں اور دنےا بھر کی نظروں مےں شدت پسند قوم قرار پائےں ۔صرف ےہاں کےوں لوگ ڈنڈے سوٹے لے کر بدبختوں کو للکارنے سڑکوں پر نکل آئےں؟۔ان کی خدمت مےں عرض ہے کہ جس کو زےادہ تکلےف ہوتی ہے چےخ بھی اسی کی نکلتی ہے ۔ اور زےادہ تکلےف اسی کو ہوتی ہے جس کا تعلق زےادہ قرےبی ہوتا ہے ۔ ےہ فطری امر ہے حضور نبی اکرم کے ساتھ اہلےان پاکستان کا رشتہ ہی کچھ ہٹ کے ہے ۔ خصوصی نوعےت کا ہے ۔اس بات پر احباب سوال پر سوال کر سکتے ہےں کہ ےہ کےا بات ہوئی۔ حضورنبی کرےم تمام بنی نوع انسان کی طرف آخری پےغمبر بنا کر بھےجے گئے ۔ ان کے لئے ہر قوم برابر ہے اور ہر قوم کے لئے آنحضرت کے ساتھ عقےدت بھی مساوی ہے ان کے امتی بن کر تو سبھی اےک ہی صف مےں کھڑے ہو جاتے ہےں۔ پھر قبےلے اور قومےں تو رہتی نہےں۔ اےک امت اور ملت بن جاتی ہے۔ پھر پاکستانےوں کی تخصےص کےوں اور کےسے؟ توجہ دےجئے اور ملاحظہ فرمائےے۔ اس کا جواب14صدےاں قبل اللہ پاک کے آخری نبی خود دے چکے ہےں۔حضور نے فرماےا۔”مجھے ہندوستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے “غور کےجئے۔ اس اےک فقرہ مےں کتنی معرفتےں پوشےدہ ہےں ےہ بات حضور عالی مقام نے پوری دنےا مےں کسی اور خطے کے لئے نہےں کہی۔چُن کر ہندوستان کے متعلق کہی آج کا پاکستان اسی خطے کا اےک حصہ ہے جسے ماضی مےں ہند ےا ہندوستان کہتے تھے پھر اگر غازی علم دےن ناموس رسالت پر جان لے کر جان وار دےتا ہے پھر اگر والدےن کی امےدوں کا اکلوتا مرکز عامرچےمہ تن تنہا غےر ملک مےں بدبختوں کو چےلنج کر کے شہےد ہو جاتا ہے تو کےا عجب ہے ؟ اللہ کے پےارے حبےب کو ٹھنڈی ہوا ےہےں سے جانا ہے ۔غازی علم دےن اور عامر چےمہ شہےد کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے شمع رسالت کے پروانے اس خطے مےں گزرے ہوں گے جن کے بارے مےں ہمےں علم ہی نہ ہو اےسے ہی اےک اور شہےد کے متعلق گوجرانوالہ سے معزز قاری ارشد مےر نے نشاندہی کی ہے کہ رسول اکرم کی ناموس پر مرمٹنے والے پاکستانےوں مےں عامر چےمہ شہےد اور غازی علم دےن شہےد کے علاوہ غازی اللہ دتہ شہےد بھی شامل ہےں۔ انہوں نے غازی علم دےن سے بھی پہلے 1926ءمےں کنجاہ ضلع گجرات مےں اےک سکھ تھا نےدار کو شان رسالت مےں گستاخی پر موت کے گھاٹ اتاراتھا اور خود سولی چڑھ گئے تھے۔ ان کا مزار کنجاہ کے محلہ غازی پورہ کی مسجد مےں ہے۔ ےہ محلہ انہی سے منسوب ہے۔ آپ کا عرس ہر سال19مارچ کو مناےا جاتا ہے ۔ ان کے متعلق تفصےلات کتاب” گجرات کی بات“ مےں موجود ہےں جو لالہ موسیٰ کے شاعر اسحاق آشقتہ اور لےاقت علی شفقت نے تحرےر کی ہے ۔ہم ارشد مےر صاحب کے انتہائی مشکور ہےں انشاءاللہ ہم کنجاہ سے غازی اللہ دتہ پر مفصل رپورٹ منگوا کر شائع کر ےں گے تاکہ ناموس رسالت کے ان نگہبانوں کے متعلق جہاں اےک طرف ہماری موجودہ نسل کو آگاہی حاصل ہو سکے وہےں سلمان رشدی، تسلےمہ نسرےن، ڈنمارک کے بدبخت اےڈےٹروں کارٹن جسٹCARSTEN JUSTE،فلےمنگ روزFLEMING ROSEکارٹونسٹ کرٹ وےسٹر گارڈKURT WESTER GAARD اور ہالےنڈ کے ملعون فلمسازگےرٹ ولڈرGEERT WILDER کووارننگ بھی مل سکے کہ اس قوم مےں اےسے لوگ ہو گزرے ہےں اور ابھی بھی کچھ لوگ باقی ہےں جو شمع نبوت کے پر وانے ہےں اور ناموس رسالت پر مرمٹ سکتے ہےں بلاشبہ ہمارے لئے ےہ بات باعث افتخار ہے کہ حضور نبی کرےم کی شان پر جان قربان کر نے والوں کی اکثرےت کا خمےر اس خطے سے اٹھا ہے جہاں ہم جےسے گناہ گار بھی بے مقصد زندگےاں بسر کر رہے ہےں۔ ےقےناً کچھ تو ہے اس خطے مےں جو خود ہمارے پےارے نبی حضرت محمد نے ےہ بھی ارشاد فرماےا تھا کہ ” ہند مےں اےک غزوہ ہوگا مگر مےں اس مےں شامل نہےں ہوںگا “ موجودہ پاکستان اسی ہندوستان کا اےک حصہ ہے جس کی طرف حضوراکرم نے اشارہ کےا علامہ اقبال نے بھی شاےد اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کا قومی ترانہ لکھاتھا، سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور آپ دےکھ لےجئے اللہ اور اس کے رسول کے لئے کتنے بڑے بڑے کام ےہاں ہوئے۔ رسول اکرم نے ےہ باتےں14سو سال پہلے کی تھےں۔ کہنے کا مقصد ےہ ہے کہ حضور اکرم کی ہندوستان سے اور ہندوستان کی حضورنبی کرےم کے ساتھ خاص نسبت ہے گزشتہ اور جاری صدی مےں اس کے بڑے بڑے مظاہر دےکھے جاسکتے ہےں۔ اپنے محدود علم سے چند مثالےں پےش کر سکتا ہوں۔دنےا کی سب سے بڑی اسلامی رےاست14اگست1947ءکو اسی ہندوستان کے بطن سے وجود مےں آئی۔حضور نبی اکرم نے مدےنہ منورہ مےں دنےا کی پہلی اسلامی مملکت کی بنےاد رکھی اس کے 14سوسال بعد دنےا مےں جو دوسری مملکت اسلام کے نام پر وجود مےں آئی وہ پاکستان تھی۔ کےا ےہ اتفاق تھا؟ ےا حضوراکرم کی پےش گوئی سچ ثابت ہونے جارہی تھی؟ پھرکذاب اعظم، مرزا غلام احمد ملعون کی سرکردگی مےں قادےانی فتنے نے بھی ےہےں سر اٹھاےا جسے نبی آخر الزماں کے امتےوں نے جانوں پر کھےل کر اور جوانےاں جےلوں مےں کاٹ کر ناکام بناےا۔ مولانا عبدالستار نےازی اور عطاءاللہ شاہ بخاری اسی دھرتی کے سپوت تھے جسے پاکستان کہتے ہےں۔نبوت کے جھوٹے دعوےداروں کی پول اسی مٹی سے جنم لےنے والوں نے کھولی اور دودہائےوں کی جدوجہد کے بعد انہےں غےر مسلم قرار دلوا کر ہی دم لےا ۔ اس ملک کے پہلے متفقہ ،جمہوری آئےن مےں قادےانےوں کا اقلےت ٹھہراےا جانا بھی کےا اتفاق تھا؟ جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے اور ےقےناً ان کی ےہی اےک خدمت اےسی تھی جس کی وجہ سے بھٹو آج بھی زندہ ہے اور مرگئے اس کو مارنے والے۔ اےک ہوا مےں پرزے پرزے ہو کر اڑ گےا اور دوسرے کے چہرے پر ہوائےاں اڑ رہی ہےں۔ اور کےا ےہ بھی محض اتفاق تھا کہ ےہی مملکت خداداد سب سے بڑی دنےاوی طاقت اےٹم بم سے لےس ہوئی اور ےہ کرےڈٹ بھی بھٹو ہی کو جاتا ہے ۔ اسی بھٹو کو جس نے قادےانی فتنے کے تابوت مےں آخری کےل ٹھونکا تھا۔ پھر دنےا نے ےہ منظر بھی ےہےں دےکھا کہ وقت کی سپر پاور کو پاکستان نے افغانستان ہی مےں پچھاڑ کر رکھ دےا اور اس کے بعد چند سال کے اندر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ پاکستان کے ہاتھوں کھائی بالواسطہ شکست ہی کا نتےجہ تھا کہ سوےت ےونےن کے اندر سے اےک نہےں دو نہےں چھ ،چھ اسلامی رےاستےں ابھر آئےں اسی طرح اےک دنےاوی سپر پاور خاک چاٹنے پر مجبور ہوئی اور دوسری کو ےہ شوق اسی سرزمےن پر کھےنچ کر لاچکا ہے کےا ےہ بھی محض اتفاق ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دنےا کی پہلی اسلامی رےاست کو بھی وقت کی دو بڑی طاقتوں قےصر روم اور کسریٰ،اےران سے ٹکرانا پڑا، اس رےاست نے دونوں کو ناکوں چنے چبوائے، اور اسلام کے نام پر بننے والی دنےا کی دوسری رےاست کو بھی وقت کی دو بڑی طاقتوں سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ سوےت ےونےن زوال پذےر ہو چکی ہے اور اب امرےکہ رہ گےا ہے جس کی شکست کے چرچے آسمانوں مےں ہےں۔ وقت کی اکلوتی ،سب سے بڑی غےر مسلم دنےاوی طاقت اسی سرزمےن پر مٹی چاٹنے جارہی ہے ۔ اہل علم کے لئے دعوت فکر ےہ ہے کہ کےا حق اور باطل کی فےصلہ کن جنگ ہماری دھرتی پر شروع ہو چکی ہے؟ کےا غزوہ ہند کے لئے مےدان لگ چکا ہے ؟

امید ہے امن مذاکرات میں پیش رفت ہوگی ۔من موہن سنگھ



پاکستان میں جمہوریت کی بحالی ‘ مل جل کر کام کرنے کا انوکھا موقع ملا ہے
۔’’ غلط اندیشیوں اور تنگ و کوتاہ ایجنڈا‘‘ کے بغیر آگے بڑھنا چاہیئے۔ جموںو کشمیر میں تقاریب سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا خطاب

جموں ۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بھارت دونوں پڑوسی ممالک ماضی کو پیچھے چھوڑ د یں گے اور جھوٹے اندیشوں یا تنگ و کوتاہ ایجنڈوں کے بغیر فوری طورپر آگے بڑھیں گے۔ من موہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورہ کے پہلے دن کاترا میں دو تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت ظاہر کی کہ خط قبضہ کے دونوں جانب سفر کو فروغ دیا جائے اور تجارت کو آگے بڑھایا جائے جو لوگ خطہ قبضہ کے اس پار سے بھارت آنا چاہتے ہیں ان کے لیے فراخدلانہ سفری انتظامات کیے جائیں گے۔ یہ بتاتے ہوئے سرحدات ضروریات یا تقاضوں میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی ہیں ‘ من موہن سنگھ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مشترکہ معاشی وسماجی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیئے ۔ یو این آئی کے بموجب وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سماج کا ہر طبقہ پہل کرے اور اس ریاست کی تعمیر سے متعلق بہادری وشجاعت کے کام میں حصہ لے ۔ من موہن سنگھ نے ضلع ریسی میں کاترا کے قریب موضع کاکرال میں شری ماتا وشنو دیوی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کررہے تھے ‘ کہا’’ یہ میرا خواب ہے کہ نیا جموںو کشمیر بنایا جائے جہاں پر امن وامان رہے ۔ لوگ خوشحالی کی زندگی بسر کریں اور عوام کا اقتدار رہے ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ تعلیم ‘ مہارت میں اضافہ اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کے ذریعے نئے جموںو کشمیر کی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست کے عوام کو تعلیم ‘ بہتر نگہداشت ‘ صحت اور روزگار کے ذریعہ خود مختاری فراہم کی جانی چاہیئے اور اس طرح ایسے عمل کو موثر بنایا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ جب ہم ہمارے عوام کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے وہ سماجی و معاشی واجبات بن سکتے ہیں ۔ لیکن جب ہم سرمایہ کاری کریں گے وہ ایک اثاثہ بن جائیں گے۔ وہ ان کے خاندان کا اثاثہ بنیں گے۔ سماج کا اثاثہ بنیں گے۔ ہمارے ملک کا اثاثہ بنیں گے اور ساری انسانیت کا اثاثہ بنیں گے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ جموںو کشمیر کے نوجوانوں کو تعلیمی وسماجی ومعاشی اعتبار سے خود اختیاری عطا کی جائے تاکہ وہ ریاست اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ دریں اثناء جموں سے موصولہ اطلاع میں بتایا گیا کہ وزیراعظم من موہن سنگھ نے وادی چناب پر 160 میٹر طویل پل کا افتتاح کرنے کے بعد اکھنور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری نقل مقام کرنے والوں اور پناہ گزینوں کے لیے جامع باز آباد کاری پیکج کا اعلان کیا جن میںپ اکستان اور آزاد کشمیر کے رہنے والے بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت اور پاکستان موجودہ باہمی اعتماد کی فضا کو مستقل دوستی میں تبدیل کردیں گے

Saturday, April 26, 2008

پاکستان میں موجود القاعدہ اور طالبان کے مراکز حقیقی خطرہ ہیں ۔ کرزئی


نیویارک ۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود القاعدہ اور طالبان کے مراکز حقیقی خطرہ ہیں۔ امریکی اخبار’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سرحد پار طالبان کے مراکز کو بند کیے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات ناسازگار ہونے کے باعث افغانستان میں امن وترقی متاثر ہو گی ۔ اورعالمی صورت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اور اتحادی فوج کی توجہ افغانستان کے دیہات پر مرکوز ہے جبکہ حقیقی مسئلہ سرحد پار ہے اور وہیں جنگ لڑنی چاہیئے ۔ حامد کرزئی نے کہا کہ اتحادی فوج کو افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پالیسیوں میں افغان حکومت کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیئے ۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی اوراتحادی فوج طالبان اور انکے حامیوں کو گرفتار کرنا بند کرے کیونکہ ماضی میں ا ختیار کیا گیا ناروا سلوک طالبان کوہتھیار ڈالنے سے روکنے کا باعث بنے گا۔

بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کو فورا پھانسی دی جائے ۔مظاہرین



لاہور ۔ 18سال قبل بھاٹی چوک میں بم دھماکہ سے بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کے ظلم کے شکار خاندان اور اہل علاقہ نے آج بھاٹی چوک میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستان میں درجنوں انسانی جانوں کے قاتل سربجیت سنگھ کو فوری طور پر پھانسی دی جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ پہلے بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ کو جیل سے نکال کر شان وشوکت کے ساتھ بھارت بھیجا گیا جس نے وہاں پہنچنے کے بعد پاکستان کا تمسخر اڑایا اور کہا کہ پاکستانی حکام اس سے جاسوسی کا الزام تسلیم کروانے میں ناکام رہے جبکہ وہ اپنے مشن میں کامیاب رہا اور اسی ڈگر پر چلتے ہوئے سربجیت سنگھ کو معصوم اور بے گناہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے خاندان کو سرکار کے خصوصی مہمانوں کی طرح گھمایا پھرایا جارہا ہے۔ مظاہرین جن میں بھاٹی چوک بم دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے شوکت جان بٹ کا بیٹا سلیم شوکت، اس کے بہن بھائی وبیوی بچے اور بڑی تعداد میں اہل علاقہ شامل تھے انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ’’ دہشت گرد سربجیت سنگھ کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے‘‘، ’’ سربجیت سنگھ انسانیت کا قاتل ہے اسے تختہ دار پر لٹکایا جائے‘‘۔ مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی۔ اس موقع پر بم دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے شوکت جان کے بیٹے سلیم شوکت نے کہا کہ وہ اپنے باپ اور دیگر پاکستانیوں کے قاتل کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ مجھے انصاف چاہئے اگر سربجیت سنگھ کو بھارت کے حوالے کیا گیا تو میں سمجھوں گا کہ مجھے حکومت پاکستان نے باپ کے ساتھ زندہ درگور کردیا ہے۔ سلیم شوکت نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں پہلے مجھے میرا باپ اور بچپن واپس لوٹائیں پھر چاہے سربجیت سنگھ کو بھارت بھیج دیا جائے۔ سلیم شوکت نے کہاکہ سربجیت سنگھ نے 13سال کی عمر میں میرے سر سے میرے باپ کا سایہ چھین لیا۔ تفتیش کے دوران میں نے خود اس دہشت گرد کو پہچانا تھا جسے دھماکہ سے چند لمحے پہلے میں نے وہاں دیکھا تھا۔ میرا والد مجھے فوجی افسر بنانا چاہتا تھا لیکن اس ظالم نے میرے ہاتھ سے قلم چھین لیا اور میں مزدوری کرنے پر مجبور ہوگیا۔ سلیم شوکت نے کہا کہ میں نے اپنی بہنوں کی شادی قرض اٹھا کر کی۔ میرے بہن بھائی زندگی کی بنیادی خوشیوں اورباپ کی شفقت سے محروم ہوگئے جبکہ اب ایک بار پھر کشمیر سنگھ کی طرح سربجیت سنگی کی بے گناہی کا ڈراما رچایا جارہا ہے۔ مظاہرین میں شامل ظفر نامی شخص نے کہا کہ نگران وفاقی وزیر جو انسانیت کا بڑا دم بھرتے ہیں بتائیں کشمیر سنگھ کو جس شان وشوکت کے ساتھ انہوں نے بھارت کے حوالے کیا کیا وہ کشمیر سنگھ کے بھارت پہنچنے کے بعد کے بیانات پر شرمندہ بھی ہیں یا نہیں۔ بھارتی درندے پاکستان میں دھماکے کرکے ہمیں تباہ وبرباد کرتے ہیں اور ہمارے حکمران ان مجرموں کے خاندانوں سے شاہی مہمانوں جیسا سلوک کرکے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ سلیم شوکت نے کہاکہ اس کے باپ کے قاتل کو بھارت کے حوالے کیا گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کا بھی کوئی مقصد نہیں رہے گا۔ وہ سربجیت سنگھ کو خود سزا دینا چاہتا ہے۔ کسی نے اس کا ساتھ نہ بھی دیا تو وہ تن تنہا اسمبلی کے باہر جاکر احتجاج کریں گے۔ دریاں اثناء بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کے اہل خانہ جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں نے انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر سے ملاقات کی اور سربجیت سنگھ کی رہائی کیلئے کوشش کرنے کیلئے کہا۔ عاصمہ جہانگیر کافی دیر تک سربجیت سنگھ کی بہن سے بغل گیر رہیں اور یقین دلایا کہ وہ ان کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

میر واعظ کااحتجاج بروقت اور برحق ، تاہم حکومت نے اُنہیں بھوکھلاہٹ میں گرفتار کیا۔عبدالغنی شاہ



جموں۔ جموں وکشمیرمیں روزبروزبگڑتے ہوئے حالات، بے نام قبروں کی نشاندہی ، انسانی حقوق کی پامالیوں کا عروج پر پہنچنے ، وزیراعظم کے زیرو ٹالیرنس کے اعلان کے باوجود فوج اورنیم فوجیوں کی جانب سے ظلم اور زیادتیوں میںاضافہ اورترقیاں حاصل کرنے کے لئے قتل عام کرنے کیلئے مصنوعی جھڑپوں کاسلسلہ دراز ہونے کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر سونہ وار میں پُرامن طورپرمیمورنڈم دینے کی غرض سے جانے والے لوگوں پر طاقت کا استعمال کرکے جناب میر واعظ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنیکی صوبہ جموںکے حُریت رہنماؤں اورورکروں نے زوردارالفاظ میں مزمت کی ہے ۔ آج یہاں کُل جماعتی حُریت کانفرنس کے صوبائی دفتر شہیدی چوک جموں میںعہدیداران اورورکران کی ایک میٹنگ میں صوبہ جموں کے سینئر کُل جماعتی حُریت کانفرنس کے رہنما عبدالغنی شاہ نے حکومت ہند کو باخبرکیا کہ وہ یوروپی یونین ممالک، عربین ممالک ، آرگینائزیشن آف اسلامک ممالک اوراقوام عالم کی حمایت سے ہند وپاک اور کشمیری قیادت کوایک ہی لڑی میں پُرو کرمذاکرات نواز اورامن نواز با صلاحیت رہنما کا راستہ اب زیادہ دیر تک روک نہیں سکتے۔ انہوں نے مصنوعی اوربناوٹی جمہوریت نوازی کادعویٰ کرنے والے حکومت ہند کے رہنماؤں سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے ہی بنائے گئے ’’ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘‘ کے تحت پوچھے جانے پر بتاسکتے ہیں کہ جموںوکشمیر کے عوام کو پرامن طورپر اپنا متنازعہ کیس اقوام متحدہ میں دائر کرنے سے کیوں روک رہے ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ آپ کے پاس اس کاکوئی جواب نہیں؟بلکہ آپ محض طاقت کے بل پر زور زبردستی سے کشمیریوں کو گزشتہ60برس کی طرح ہی دبائے رکھنا چاہتے ہو؟ میٹنگ میں موجود محمد شفیع رفیقی ، سردارنریندر سنگھ خالصہ، سردار دویندر سنگھ ، سردار بھگوان سنگھ ، سردار کمل جیت سنگھ ،شاہنواز خان، چودھری اکبر، چودھری رزاق،شیخ عبدالرشید نے بھی کل کے واقعہ پرمذمت کی

ڈیرہ بگٹی میں بم کا زور دار دھماکہ ایک شخص زخمی ، دو کمرے تباہ

کوئٹہ ۔ ڈیرہ بگٹی میںبم کا زور دار دھماکہ ایک شخص زخمی ہوگیا دو کمرے تباہ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقہ میں بی اینڈ آر کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رکھا ہوا بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے ایک شخص کے زخمی ہوگیا اور بی اینڈ آر ریسٹ ہاؤس کے دو کمرے کو شدید نقصان پہنچا اور پولیس نے نا معلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ججز کی بحالی ٣٠ اپریل تک نہ ہونے کی صورت میں وکلاء کی طرف سے لانگ مارچ کی دھمکی

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر 30 اپریل تک ججز کو بحال نہ کیا گیا تو پھر وکلاء کی طرف سے لانگ مارچ کا اعلان کیاجائے گا اور اس حوالے سے پاکستان بار کونسل فوری طور پر وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس بلا کر لانگ مارچ کا اعلان کرے گا ۔ آج ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری چوہدری امین نے کہاہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ججز کی بحالی کی قرار داد کے بغیر ختم ہو گیا ہے پاکستان بار کونسل فوری طور پر وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس بلا کر لانگ مارچ کا اعلان کرے۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار چوہدری امیر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ججز کی بحالی کی قرار داد کے بغیر ختم ہونا قابل تشویش ہے اور اگر 30 اپریل تک قرار داد پیش نہیں کی جاتی تو پھر پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور لانگ مارچ کی کال دی جائے

موبائل کمپنیوں نے ٢٢ مئی تک ساڑھے ٧٤ لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ سیمیں بند نہ کی اور ٣٠ جون تک ساڑھے ٣ کروڑ سموں کی نادرا سے تصدیق نہ کروائی تو ٣٥ کروڑ رو

اسلام آباد۔ چیئرمین مجلس قائمہ داخلہ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ اگر موبائل کمپنیوں نے 22 مئی 2008 ء ساڑھے 74 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ سیمیں بند نہ کیں تو پی ٹی اے ان پر 35 کروڑ ر وپے تک جرمانہ کر سکتا ہے ۔ اور اگر 30 جون تک ساڑھے 3 کروڑ سموں کی تصدیق موبائل کمپنیوں نے نادرا سے نہ کروائی تو بھی ان کمپنیوں پر 35 کروڑ روپے جرمانہ ہو گا اور اگراس کے بعد بھی قواعد و ضوابط پر عمل نہ کیا گیا تو کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے موبائل کمپنیوں کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ موبائل کمپنیوں کو غیر اخلاقی اشتہارات بھی دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ تمام موبائل کمپنیوں سے آڈٹ رپورٹس لیں گے اور جن کمپنیوں نے اس کے قبل آڈٹ رپورٹ فراہم کرنے سے انکار کیا تھا ان کے خلاف کارروائی کے لیے سینٹ کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کے اجلا س کے بعد اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اسی اجلاس کا تسلسل تھا جو 22 اپریل کو ہوا تھا اس کا ایجنڈا غیر رجسٹرڈ سیمیں ہی تھیں اجلاس میںسینیٹررزاق خان ‘ سینیٹر گلشن سعید ‘ سینیٹر سعدیہ عباسی ‘ سینیٹر عبدالخالق پیرزادہ ‘ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ ‘ محمد ظفیر عباسی ‘ چیئرمین نادرا سلیم معین ‘ سیکرٹری وزارت آئی ٹی حفیظ الرحمان ‘ چیئرمین پی ٹی اے شہزاد عالم ‘ ممبر پی ٹی اے نصر الکریم غزنوی ‘ ڈپٹی سیکرٹری داخلہ اسلم ‘ کیبنٹ ڈویژن کے اسسٹنٹ سیکرٹری و دیگر اعل حکام نے شرکت کی ۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 74 لاکھ 53 ہزار پانچ سو آٹھ غیر رجسٹرڈ موبائل کنکشن جاری کیے گئے تھے جس پر کمیٹی نے موبائل کمپنیوں کو 22 مئی 2008 ء کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ ان موبائل سموں کو بند کردیا جائے ورنہ انہیں نوٹس جاری کرنے کے بعد پی ٹی اے 35 کروڑ روپے کا جرمانہ کرے گی اسی طرح ساڑھے تین کروڑ سمیں ایسی ہیں جن کی تصدیق نادرا سے نہیں کروائی گئی اگر موبائل کمپنیوں نے ان سموں کی نادرا سے تصدیق نہ کروائی تو انہیں بھی 35 کروڑ جرمانہ کیا جائے گا اور بعد میں ان کے لائسنس بھی منسوخ کردئیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے ان مسائل کو دیکھنے کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نمائندہ ‘ وزارت داخلہ کا نمائندہ ‘ چیئرمین نادرا اور پی ٹی اے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے کمپنیوں سے کہا ہے کہ ایک شناختی کارڈ پر ایک کمپنی صرف 10 سمیں جاری کر سکتی ہے دس سے زائد جن کی سیمیں جاری کی گئی ہیں انہیں بند کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ موبائل کمپنیاں جو غیر اخلاقی اشتہارات ٹی وی چینلز پر دے رہی ہیں جن میں ہیپی آورز ‘ نائٹ ٹاک شاک ‘ کی طرز کے اشتہارات ہمارے معاشرے میں اخلاقی برائیاں پھیلا رہے ہین ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کررہے ہیں ان کو کسی صورت نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل کمپنیوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ وہ تین ہفتوں کے اندر ہمیں ان تمام مسائل کے بارے میں اپنی پالیسی سے آگاہ کریں کہ اگر ان کی فرنچائز کے لوگ غیر قانونی کام کریں تو وہ ان کے خلاف کیا کارروائی کریں گے انہوں نے کہا کہ جوپالیسی موبائل کمپنیاں تین ہفتوں کے اندر لائیں گی تو پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کے پچھلے اجلاس میں تمام موبائل کمپنیوں سے ان کی آڈٹ رپورٹس مانگی تھیں جو انہوں نے دینے سے انکار کردیا تھا ہم ان کی آڈٹ رپورٹس بھی لیں گے کیونکہ آئین کے مطابق ہم ان سے آڈٹ رپورٹس طلب کر سکتے ہیں اور ان کو آڈٹ کے اعلیاداروں سے چیک کروائیں گے کہ یہ کمپنیاں کتنی سرمایہ کاری ملک کے اندر لائی ہیں اور کتنی کمی کرکے لے جا چکی ہیں انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹس طلب کرسکتے ہیں اور ان کو آڈٹ کے اعلی اداروں سے چک کروائیں گے کہ یہ کمپنیاں کتنی سرمایہ کاری ملک کے اندر لائی ہیں اور کتنی کمائی کرکے لے جا چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹس دینے سے انکار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کمیٹی فیصلہ کرکے کارروائی کرے گی ۔

صوبے میں امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،وزیراعلیٰ سرحد

پشاور۔ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبے میں قیام امن کے لئے ہونے والی کوششوں سے پر امید ہیں انہیں اطمینان اور خوشی ہے مگر بعض عناصر ایسے بھی ہیں جو امن مذاکرات اور صورتحال کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ۔مردان میں سٹی پولیس سٹیشن کے باہر جو کار بم دھماکہ ہوا ہے وہ امن کے لئے ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔ہم کسی صورت امن کے لئے ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے ۔وہ پشاور کے مقامی فائیو سٹار ہوٹل میں یونیسف کے تعاون سے محکمہ قانون کے زیر اہتمام مجوزہ چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بورڈ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حافظ سعید الحق کو مردان میں پولیس کے ہاتھوں بے گناہ مارا گیا تھا تو اس کے لئے پچاس بندوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا ۔اس بات کا بھی تعین کرنا ہو گا کہ وہ بے گناہ تھا یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مردان میں کار بم دھماکے میں جو جانیں ضائع ہوئیں اور جو زخمی ہوئے اس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی کو امن پراسس سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے بچوں کی صحیح تربیت اور پرورش نہ کرنے کی وجہ سے وہ خود کش بمبار بن جاتے ہیں ۔ہمیں ان کی صحت ،تعلیم اور محفوظ مستقبل پر توجہ دینا ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے وہ شیلٹر ،خوراک اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ سرزمین اور بچے ہمارے ہیں ہمیں ان کے روشن مستقبل کا سوچنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بچے بیمار پڑ جاتے ہیں یا انہیں معمولی تکلیف ہوتی ہے تو والدین پریشانی سے دوچار ہو جاتے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی تکلیف کم کی جائے ۔اسی طرح جو بازاروں میں بھیک مانگتے ہیں یا گرمی اور سخت سردی میں فٹ پاتھوں پر بیٹھ پر مختلف چیزیں فروخت کرتے ہیں وہ بھی ہمارے بچے ہیں ان کی پروریش ،ان کی خوراک او ر لباس کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ۔اس موقع پر صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور بیرسٹر ارشد عبداللہ نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ہم انہیں تعلیم یافتہ اور خوش دیکھناچاہتے ہیں ہم ان کے تحفظ کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں اور محکمہ قانون اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے ۔اسی سال سرحد اسمبلی میں قانون سازی کے لئے بل پیش کیا جائے گا ۔اس موقع پر سیکرٹری قانون شاہد نسیم نے بھی خطاب کیا

بچوں کو غلط استعمال کرنے پر سزاؤں سے متعلق نیا بل تیار کرلیاگیا

پشاور ۔ صوبہ سرحد حکومت نے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور انہیں ظلم سے بچانے کے لئے بل تیار کر لیا ہے جس کی منظوری سرحد اسمبلی سے لی جائے گی ۔صوبائی وزیر قانون بیرسٹر ارشد عبد اللہ اور سیکرٹری قانون شاہد نسیم چمکنی کی نگرانی میں تیار ہونے والا بل اسمبلی سے منظوری کے بعد نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پراونس ڈسٹیچوٹ اینڈ فیگسکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2008ء کہلائے گا ۔اس کے سات چیپٹرز ہونگے اور اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد یہ پورے صوبے میں نافذ العمل ہو گا ۔اسمبلی سے بل منظور ہونے کے بعد ایکٹ کے تحت چلڈرن پروٹیکشن عدالت قائم کی جائیں گی اور یہ عدالتیں پورے صوبے میں ہونگی ۔ایکٹ کے تحت چائلڈ پروٹیکشن آفیسروں کی تقرری عمل میں لائی جائے گی اور ان آفیسروں کو بروقت ضرورت پولیس کا تعاون حاصل کرنے کا اختیار ہو گا ۔ہر چالڈ آفیسر کو جس وقت پولیس کی ضرورت پڑے تو متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او انہیں پولیس کی نفری فراہم کرے گا ۔کسی بچے کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے پر سزا تین سال تک ہو گی اور پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی ہو سکے گا ۔پارٹ فائیو کی دفعہ33کے تحت نظر انداز کئے گئے بچوں کو والدین اور گارڈین کی جانب سے خوراک،کھانا،کپڑے اور علاج کی سہولیات نہ دینے اور بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر نقصان پہنچانے پر تین سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا ہو سکے گی جس طرح والدین بچوں کو اچھی نیت اور ان کے اچھے مستقبل کے لئے بعض سزا دیتے ہیں تو ایسی صورت میں اسے جرم تصور نہیں کیا جائے گا ۔بچوں کے ذریعے بھیک مانگنے پر دس سال قید کی سزا ہو سکے گی قید کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔بل ایکٹ بننے کے بعد بچوں کے ذریعے ڈرگ(منشیات)کا کام لینے پر تین سال قید کی سزا ہو سکے گی تاہم اس میں وہ ڈرگ شامل نہیں جو نوٹیفائی ہے ۔قید کے ساتھ پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے ۔جہاں منشیات کی فروخت ہو تو وہاں بچوں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ سے فرار ہونے پر سزا پانچ سال تک ہو گی ۔تمام جرائم کی تفتیش ہو گی اس کا ٹرائل ہو گا ۔ایکٹ کے تحت چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بیورو کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔بیورو کسی بھی وقت چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے رخصت اور ڈسچارج کرنے کا اختیار رکھتا ہو گا ۔عدالت کے حکم پر بیورو سے بچے کو ڈسچارج کیا جا سکے گا ۔چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بورڈ کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہو گا ۔بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کے سربراہ وزیراعلیٰ پیٹرن ان چیف یعنی چیئرپرسن ہونگے ۔ہوم سیکرٹری،سیکرٹری سوشل ویلفیئر،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،سیکرٹری پاپولیشن اینڈ ویلفیئر ،سیکرٹری تعلیم،سیکرٹری اطلاعات ،سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر جنرل بیورو ممبران ہونگے ۔

سابقہ دور کی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے گااور لوٹ مار کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔وزیراعلی پنجاب


پتوکی ۔ وزیراعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے جس دیدہ دلیری سے عوامی دولت لوٹی ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اب عوامی حکومت آچکی ہے۔ سابقہ دور کی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے گااور لوٹ مار کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔ سیاسی بنیادوں پر قائم ہونے والے تمام مقدمات ختم کردیئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رائے ونڈ چوک اور لمبے جاگیر میں مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی نے کہاکہ سابق حکمرانوں کے پیدا کئے گئے مسائل کو عوام کے تعاون سے جلد حل کریں گے۔ اگر ہم شہری اپنی ذمہ داری محسوس کریں تو مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت رائے ونڈ کے علاوہ کو خوبصورت بنانے کی کوشش کریں گے اور علاقہ میں واٹر سپلائی کا نیا منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال احمد خان کی خصوصی دعوت پر وزیراعلی پنجاب جب ان کے آبائی گاؤں لمبے جاگیر پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

تیس اپریل تک جج بحال نہ ہوئے تو اے پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا،قاضی حسین احمد


نوشہرہ ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر تیس اپریل تک معزول ججوں کو بحال نہ کیاگیا تو یکم مئی کو اے پی ڈی ایم کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے،ججوں کو بحال کرنا موجودہ حکومت کے لئے ایک ٹسٹ کیس ہے ،حکومت فوری طور پر صدر مشرف کا مواخذہ کرے ،اگر حکومت نے مشرف کا مواخذہ نہ کیا تو یہ جمہوریت کی نفی ہو گی ،ججز کی بحالی میں مسلم لیگ (ن)کا موقف واضح ہے ،ملک میں غذائی اجناس کی قلت کا ذمہ دار مشرف ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے رابطہ دفتر نوشہرہ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس وقت پوری قوم کی نظریں موجودہ حکومت کے مری معاہدے پر لگی ہوئی ہیں مری معاہدے کے مطابق ججز کی بحالی کے لئے جو ایک مہینے کا الٹی میٹم دیاگیا تھا اس میں صرف پانچ دن باقی ہیں لیکن ابھی تک دونوں پارٹیوں نے اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور اس کے لئے بلایاگیا اسمبلی اجلاس بھی ملتوی کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ عوام نے دونوں پارٹیوں کو جو میڈیٹ دیا وہ صدر مشرف کے خلاف اور ساٹھ معزول ججوں کو بحال کرنے کے لئے دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی حالات امریکہ کی ایماء پر اور اس کی خوشنودی کے لئے خراب کئے گئے ہیں ملک میں کوئی عسکریت پسند نہیں ہے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایک طرف صدر مشرف امریکہ سے دوستی اور تعلقات بہتر بنا رہے ہیں لیکن دوسری طرف امریکہ کے فوجی پاکستانی فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے خوب کاروائی کرتے ہیں جو باعث شرم ہے اور پاکستانی عوام کی غیرت کو للکارنے کے مترادف ہے وقت کا تقاضا ہے کہ صدر مشرف کا راستہ روکا جائے ۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہم معزول ججوں کی بحالی اور بعد ازاں ان کی مدت ملازمت میں کمی یا جبرا ریٹائرمنٹ کے بھی خلاف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تیس اپریل تک حکومت نے تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار نہ دیا اور معزول ججوں کو اپنی حیثیت پر برقرار نہ رکھا تو اے پی ڈی ایم یکم مئی کو اجلاس بلا کر حکومت کو ان کا وعدہ یاد دلائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں خوراک کی اشیاء کی قلت اور مہنگائی کی جو لہر ہے اور ملک میں بجلی کا جو شدید بحران ہے اس کے ذمہ دار مشرف ہیں ۔

رواں مالی سال کے آخر تک پٹرول کی مزید قیمتیں بڑھانا ہوں گی ، اسحاق ڈار


اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ رواں مالی تیس جون سے قبل پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانا ہوں گی ۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو اپنی بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں پاکستان کے اندر عالمی منڈی کے تناسب سے فرق بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی کیونکہ اگر حکومت ان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتی ہے تو اس کا اثر آئندہ کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات پر پڑے گا ۔اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تاہم پیڑول کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھائی جائیں گی لیکن مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیاجائے گا کیونکہ یہ زیادہ تر غریب لوگ استعمال کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ اس اضافے کا اثر چاول اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر نہ پڑے

مسلم لیگ ن کا ججوں کی بحالی سے متعلق موقف بالکل واضح ہے۔احسن اقبال



لندن ۔ وفاقی وزیر تعلیم اور مسلم لیگ ن کے ترجمان احسن اقبال نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی سے متعلق ان کی جماعت کا موقف بالکل واضح ہے اور مسلم لیگ ن اپنے وعدے پر قائم ہے حکمران اتحاد کراس روڈ پر کھڑا ہے۔ اتحادی جماعتوں کوایک راستہ چننا ہو گا کہ آیا اتحاد کو مضبوط کیا جائے یا مشرف کے مفادات کو تحفظ دیا جائے ۔ ایک انٹرویو میں احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت جنرل مشرف کے اقدامات کو نہیں مانتے ۔ اگر چیف جسٹس بحال نہ ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صدر مشرف نے 9 مارچ 2007 ء کو جو اقدام کیا اور ملک میں بد امنی کی جو فضاء پھیلی وہ صحیح تھی اور ہمء نے اسے قبول کیا تو پھر اس طرح گزشتہ سال سے قربانیاں اور کوششوں کا کیا فائدہ ہوا۔ اس لیے ہم اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ یا کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ۔ اگر ججز بحال نہ ہوئے تو مستقبل میں کوئی بھی جج قانون و انصاف کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اعلان مری غیر مشروط معاہدہ ہے اس میں کسی قسم کی شرط نہیں لگائی گئی ہے۔ اب مجھے یقین ہے کہ ہم ایک کراس روڈ پر کھڑے ہیں۔ جہاں پر اتحادی جماعتوں کے درمیان یہ فیصلہ ہونا ہے کہ ایا اس اتحادی حکومت کو جمہوریت کو مستحکم کرناہے یا جنرل مشرف کے مفادات کو استحکام بخشنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اتحادی پاٹنرز کو ان دو راستوں میں سے ایک راستہ چننا ہے ۔انہوں ن کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اگر ہم اس اتحاد کو مضبوط کرناچاہتے ہیں تو ہمیں صدر مشرف کے کسی بھی قسم کے مفاد سے خود کو الگ کر کے اتحاد کا محافظ بننا چاہیے ۔ 30 اپریل تک ججوں کی بحالی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہاکہ انشاء اللہ ججز کی بحالی جمہوریت کی بحالی اور ائین کی بالا دستی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ اس کے بعد چارٹر اف ڈیموکریسی میں شامل منشور کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں واضح لکھا ہے کہ تمام صدارتی اختیارات 17 ترمیم کے ذریعے حاصل کئے جا چکے ہیں وہ اس لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں اتحادی جماعتوں نے صدر مشرف کی جانب سے آئین میں کئے گئے ترامیم ختم کرنے کا عزم کیاہوا ہے اور دونوں جماعتیں چارٹر آف ڈیموکریسی عملدرآمد کی پابند ہیں ۔ جمہوریت کے سفر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ کم از کم ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے کہ وہ صدر کے ساتھ نہیں چل سکتی اور پاکستان میں جمہوری عمل اور صدر مشرف آگ اور پانی کے مترادف ہیں اور یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتی ۔ موجودہ سیٹ اپ میں صدر مشرف فٹ نہیں انہوں نے کہاکہ اب وفاق کی مضبوطی کی ضرورت ہے اور اتحادی جماعتوں کے لیے اس معاملے پر ہم آہنگی پیدا کر کے جمہوریت کے فروغ کے لیے جلد از جلد پیشرفت کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں جنرل مشرف سے کل کی بجائے آج نجات حاصل کرنا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت فروغ پا سکے ۔

پرویز مشرف جب تک ایوان صدر میں موجود ہیں سازشیں کرتے رہیں گے۔ میاں نوازشریف


اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو واضح طور پر کہا ہے کہ عوام اور ملک کے مسائل حل کرنے کا جو ہمیں موقع ملا ہے زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہے گا۔ مشرف جب تک ایوان صدر میں موجود ہیں سازشیں کرتے رہیں گے۔ اس لئے ہمیں عوامی مینڈیٹ پر جلدازجلد عملدرآمد کرنا ہوگا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔نوازشریف نے کہا ہے کہ مجھے کہا جارہا ہے کہ آپ کی زندگی کو خطرہ ہے اس لئے اپنی سرگرمیوں کو محدود کردوں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم کے دوران بھی مجھے یہی کہا جارہا تھا کہ آپ کی زندگی کو خطرہ ہے جبکہ اب اس سے بھی زیادہ خطرہ بتایا جارہا ہے ۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر میری زندگی کو خطرہ کیوں لاحق ہے۔ اب تو بہت سے مسائل بھی حل ہوچکے ہیں اور مزید کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ خطرہ جلد ٹل جائے گا۔
۔۔۔۔ مزید تفصیل ۔۔۔۔
٥٨ ٹو بی استعمال کرنے والے کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں ، نواز شریف
پاکستان میں آج بھی بعض لوگ آمریت کو دعوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں
اعلان مری پر عملدرآمد میں کوئی ابہام نہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحافیوں سے بات چیت

اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہاہے کہ بعض لوگ آج بھی آمریت کو دعوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو موجودہ پارلیمنٹ کو توڑنے کا فیصلہ کرے اس کے ہاتھ توڑ دینے چاہئے ۔ بھوربن معاہدے کے تحت ججز کو دو نومبر کی پوزیشن پر بحال ہو نا چاہیے پیمرا آرڈیننس کو مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے ۔ ججوں کی بحالی کے حوالے عوام تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ ان خیالات کااظاہر انہوں نے ہفتہ کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میںپی ایف یو جے کے وفد سے ملاقات میں کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ سیاستدانوں اور عدلیہ کو وعدہ کرناچاہیے کہ آئندہ آمریت کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ آج بھی بعض لوگ آمریت کو دعوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آزاد عدلیہ ہی سے ملک ، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی کی خود مختاری یقینی ہو گی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام نے حالات کی تبدیلی کے لیے ووٹ دئیے ہیں ۔ عدلیہ کی بحالی پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کوئی جرم تو نہیں ہے کہ پرویز مشرف پارلیمنٹ توڑ دیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت ججوں کی بحالی کے لیے 30 دن کی معیاد پر اب بھی قائم ہے۔ نواز شریف نے کہاکہ عوام نے ملک میں تبدیلی کے لیے اپنے ووٹوں کا استعمال کیا اور اگر کوئی موجودہ پارلیمنٹ کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے آمریت کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ کہ میں ججوں اور جمہوریت کی بحالی کے لیے صحافی برادری کابھی شکر گزار ہوں حالانکہ انہیں پیمراآرڈیننس جیسے سخت قوانین کا سامنا رہا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ججوں کی بحالی کوئی جرم نہیں کہ جس پر صدر پرویز مشرف اٹھاون ٹو بی کا استعمال کریں بلکہ یہ عمل پاکستان کے مفاد میں ہے ۔نواز شریف نے کہاکہ ائین اور قانون کو توڑنے والے آج نہیں تو کل انصاف کے کٹہرے میں ضرور کھڑے ہوں گے۔ نواز شریف نے کہاکہ آئندہ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی اور میڈیا کو حکومت پر تنقید کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ آئین توڑنے والوں کا ضرور احتساب ہونا چاہیے ۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی رہنماوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں کچھ راہنماوں کو شہید کیاگیا تو کئی کے کاروبار بند کر دئیے گئے کئی لیڈروں کو اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کئی رہنما سالہا سال جلا وطنی میں رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ پر امید ہیں کہ ان کے ساتھی مری ڈیکلریشن پر عملدرآمد کریں گے اور یہ کہ ان کی نیت پر کوئی شک شبہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ دعاگو ہیں کہ یہ حکومتی اتحاد قائم و دائم رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے 220 ڈالر فی ٹن گندم فروخت کر کے 440 ڈالر پر دوبارہ آمد کی ۔ صدارتی محلات پر اربوں روپے خرچ کئے گئے اور صدر پرویز مشرف کے صرف ایک دورے پر 22 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اور اس طرح قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا ۔اور اپنے منظور نظر افراد کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا حالانکہ پولیس کے سینئر سپرٹنڈنٹ کنٹریکٹ پر رکھے گئے تھے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کوئی دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ صدر مشرف جب تک موجود ہیں سازشیں ہوں گی میںنے آصف زرداری صاحب سے کہا تھا کہ یہ موقع ہے کہ ہم صدر کو رخصت کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں ۔

پاکستان کو اندرونی خطرات لاحق ہیں جس سے بچنے کے لئے ماسٹر مائنڈ عکسریت پسندوں کا قلع قمع کرنا ہو گا ۔صدر پرویز مشرف


لاہو ر ۔ صدر ر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو جاری نہ رکھنے اور انہیں تبدیل کرنے کے باعث ملک کو گڈ گورننس کے مسائل درپیش ہیں۔ پاکستان کو اندرونی خطرات لاحق ہیں جن سے بچنے کیلئے ماسٹر مائنڈ عسکریت پسندوں کا قلع قمع اور شمالی علاقہ جات میں طالبانائزیشن کے عمل کو روکنا اور بعض علاقوں میں کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کئے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ گندم کا بحران بھی اندرونی سطح پر تقسیم و ترسیل کے نظام میں عدم توازن اور بد انتظامی کی وجہ سے وجود میں آیا ۔ سات سال کے عرصہ میں بجلی کا بحران اس لئے پیدا ہوا کہ مستقبل میں زرعی و کمرشل شعبہ کے پیداواری حجم میں دو سے تین گنا ہونے والے اضافہ کو مد نظر نہیں رکھا گیا تھا ۔ ان خیالا ت کا اطہار انہوں نے آج نیشنل مینجمنٹ کالج میں منعقدہ 88ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول، چیف سیکرٹری جاوید محمود، سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین اور دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی خطرات لاحق ہیں جن سے بچنے کیلئے ماسٹر مائنڈ عسکریت پسندوں کا قلع قمع اور شمالی علاقوں میں طالبانائزیشن کے عمل کی روک تھام ہے۔ مذہبی انتہا پسند ملک میں تنظیم سازی کرکے عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہیںجو نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں خودکش حملوں کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کے نظام سے نچلی سطح تک اقتدار کی منتقلی کے مرحلہ کے باعث عام آدمی کا احساس محرومی ختم کرنے میں بھرپور معاونت ملی ہے جس سے علاقائی سطح تک معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک اس وقت آٹے، بجلی، لوڈ شیڈنگ کے بحران سے دوچار ہے جس کیلئے پالیسیوں کے تسلسل کو قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ اداروں میں سول سروسز ریفارمز اور رول آف بزنس کے شعبوں میں توازن قائم کرکے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں جو صرف پالیسیوں کے تسلسل سے ممکن ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو اس وقت سیکورٹی کے اندرونی خطرات لاحق ہیں جن سے نمٹنے کیلئے حکومت کو طویل المدتی پالیسی تشکیل دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ چند سال کے دوران شمالی علاقوں میں عسکریت پسندی کا رحجان بڑھ رہا تھا جس پر قابو پانے کیلئے مذکورہ علاقوں میں آپریشن کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ پہاڑی علاقوں میں القاعدہ اور ازبک جنگجوؤں کے زور کو ختم کرنے کیلئے سوات آپریشن ناگزیر ہوگیا تھا جس کے بعد ان علاقوں میں حالات معمول پر آگئے ہیں مگر اب بھی کچھ مقامات پر کشیدگی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان اور افغانستان سے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں نے ملک میں داخل ہوکر تنظیم سازی کی۔ طالبان کا منظم نیٹ ورک دہشت گردوں کو تربیت اور سہولیات فراہم کررہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں خودکش حملوں کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بھی طالبانائزیشن کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ دوسری جانب بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانے سمیت انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں مگر ان کے بلاجواز ہتھکنڈوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جس کے باعث وہاں کے عوام کو روزگار میسر آیا اور صوبہ میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ترجیحات میں قومی ترقی کلیدی کردار کی حامل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہکومت نے جی ڈی پی کی شرح کو سات فیصد تک بڑھایا ، فی کس آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ریونیو کا حجم ایک کھرب سے 4کھرب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح نمو بڑھنے سے ملک میں معاشی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ صدر مملکت نے کہاکہ 1999ء تک ملک کی جی ڈی پی کا حجم صرف 63ارب ڈالر تھا جو اب 160بلین ڈالر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح مالی خسارہ کو کم کرکے اور ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنا کر جی ڈی پی میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ گندم کا بحران بھی اندرونی سطح پر تقسیم و ترسیل کے نظام میں عدم توازن اور بد انتظامی کی وجہ سے وجود میں آیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں گندم کی پیداوار 23.5 ملین ٹن رہی جبکہ ملکی ضرورت 22 ملین ٹن ہے جبکہ کاشتکاروں سے 14ملین ٹن گندم خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے ناطے ملک میں زرعی اجناس کی پیداوار اور اس کے استعمال کے اعداد و شمار کا میکنزم تیار کرنا ہو گا تا کہ طلب اور رسد میں بگاڑ پیدا نہ ہو ۔ توانائی کے بحران کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ 2001 ء میں ملک میں 4 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی موجود تھی مگر صنعتی ، زرعی اور کمرشل شعبہ کے پیداواری حجم میں دو سے تین گنا اضافہ کے باعث طلب کی ضرورت کو محسوس نہ کرنے سے سات سال کے عرصہ میں ملک میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ عرصہ کے دوران صرف کمرشل گھریلواور صنعتی شعبہ میں بجلی کی طلب میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے توانائی کے حالیہ بدترین بحران سے عہدہ برآ ہونے کے لئے گیس، نیوکلیئر اور ہائروالیکٹرک کے طریقہ توانائی کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سال کے عرصہ کے دوران حکومت نے پانی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے سبکزئی اور میرانی ڈیم کے منصوبے شروع کئے جبکہ منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ جون و جولائی تک مکمل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ملکی بقاء کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے رینی ، تھل اور کچھی کینال کے منصوبوں کو بھی فوری مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ صدر پرویز مشرف نے انتظامی اداروں کے افسران پر زور دیا کہ وہ غربت، بیروز گاری، امن عامہ کی صورتحال برقار رکھنے ، معیشت کے استحکام اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے ہمہ جہتی ترقیاتی پالیسیوں و منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 8 سال کے دوران ملک میں سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنایا ہے اور امید ہے کہ ان پالیسیوں کو جاری رکھ کر بیروز گاری ، غرت کے خاتمے اور ملکے ترقی کو درپیش چیلنجز نے نمٹا جائے گا ۔ صدر مشرف نے کہا کہ حکومت نے تعلیم اور صحت کے بنیادی شعبوں کو خصوصی اہمیت دی ہے اور ان شعبوں کے بجٹ میں بھی گزشتہ چند سالوں کے دوران زبردست اضافہ کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم و تحقیق کی بدولت مہارت یافتہ افرادی قوت سامنے آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کے اداروں کے قیام سے ہنر مند افراد کو روزگار میسر آیا ہے جس سے مقامی سطح پر صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام بھرپور اٹنداز سے چل رہا ہے اور عام انتخابات کے بعد عوام کی منتخب کردہ مخلوط جمہوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مثبت جمہوریت عمل معاشی استحکام کے لئے یرھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لہذا نٹی حکومت کو آپس کے اختلافات ختم کر کے ملک کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں باہمی مشاورت سے فیصلے کرنے چاہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب حکومت دہشت گردی، انتہا ، پسندی اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے لئے اپنی تمام کاوشیں بروئے کار لائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں گندم کا قحط نہ ہے بلکہ عوام کو بد انتظامی کی وجہ سے گندم کے حصول میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے جن کو تندم ان کی ضرورت کے مطابق میسر ہے ۔ اٹنہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں غرت کے خاتمہ کے لوے بچت کارڈ سکیم متعارف کروائی گئی ہے اور نادرا کے اعداد و شمار کے مطابق شہرو ںمیں ساڑھے 3 کروڑ لوگوں نے بچت کارڈ حاصل کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کئے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ حکومت کا کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا، ٹھوس پالیسیوں کے اجراء سے عوام کی فلاح وبہبود، ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کے منصوبوں کو جلد از جلد تکمیل، ملک کو اندرونی وبیرونی خطرات سے بچانا اور جمہوری اداروں میں پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے تاکہ ملک نہ صرف معاشی طور رپ مضبوط ہو بلکہ اداروں میں گڈ گورننس کے عمل کی بھی بھرپور اصلاح ہوسکے۔ پاکستان میں گڈ گورننس کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے جن میں اداروں کی سطح پر عوام کی فلاح وببود کیلئے تشکیل دی جانے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کافقدان اور گذشتہ حکومت کی اصلاحات وپالیسیوں کا عدم تسلسل اور ان کی تبدیلی ہے۔ اداروں میں پالیسیوں کے عدم تسلسل اور رول آف بزنس کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے شعبہ کو نقصان پہنچتا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Zimbabwe opposition leads in vote recount

HARARE - Zimbabwe's main opposition party retained a lead on Saturday in an ongoing recount of ballots from last month's elections where it won a historic victory against President Robert Mugabe's ruling party.
With results from 10 of the 23 constituencies being recounted announced in the state daily The Herald, the opposition Movement for Democratic Change (MDC) retained six parliamentary seats while ZANU-PF retained four.
The results came as tensions mounted in the troubled southern African state, with a police spokesman saying that 215 opposition supporters were detained during a raid on the MDC's headquarters on Friday.
"Police rounded up 215 people... and these will be screened against participation in politically-motivated criminal activities around the country," Wayne Bvudzijena was quoted as saying.
Referring to seven new results on top of the three already announced, Utloile Silaigwana, Zimbabwe Electoral Commission spokesman, was quoted as saying: "Nothing has changed as all the candidates have retained their seats."
ZANU-PF lost its parliamentary majority for the first time since Zimbabwe's independence from Britain in 1980 in the March 29 election but a partial recount was ordered following allegations of vote fraud by the opposition.
The final result is still up in the air, however, as the remaining 13 constituencies are sufficient to return the majority to ZANU-PF amid opposition fears that the authorities are planning to rig the recount.
"We have so far finished counting in 14 constituencies. The results will be announced in due course," ZEC spokesman Silaigwana told AFP.
The ZEC is yet to announce the results of a presidential election held on the same day as the legislative polls. The MDC claims its leader Morgan Tsvangirai won an outright majority in the vote.
US Assistant Secretary of State for Africa Jendayi Frazer, who is on a tour of the region aimed at cutting off support for Mugabe, has said that Tsvangirai won a clear victory and should head any new government.
Frazer has argued that ongoing political violence meant that the result of any run-off in the presidential vote would not be credible.
But Mugabe supporters say there should be a second round of voting.
"Although official results have not yet been released, all independent tallies of the results posted outside polling stations... point to a run-off," said Justice Minister Patrick Chinamasa, The Herald reported.
Human rights groups have accused the Mugabe regime of unleashing violence and intimidation against opposition supporters in order to ensure a victory for Mugabe in the second round.
The MDC said in a statement issued on Friday that two more of its supporters had been killed in politically-motivated violence, bringing the death toll to 12 since the election.
"The MDC believes the number could be higher than this as some of the deaths could have gone unreported since a number of areas have been made no-go areas by ZANU-PF supporters," the statement said.
The opposition has called for the deployment of human rights monitors to Zimbabwe to help end the alleged torture and brutal killings taking place in a southern African nation.
"We call upon all human rights groups to urgently assist in providing shelter and support to all persons displaced by the political violence," said Priscilla Mushonga, MDC deputy secretary general.

Atomic expert questions US' Syrian reactor claim

VIENNA - A nuclear physicist close to the United Nations atomic watchdog cast doubt Saturday on the veracity of US intelligence which claimed that Syria had been building a secret atomic reactor.
'When you look at the (US intelligence services) pictures, they show only raw construction,' an expert close to the International Atomic Energy Agency (IAEA) told AFP on condition on anonymity.
'It was just the shell of a site, and the walls did not look like the ones needed for a plutonium reactor.'
Walls of a plutonium reactor 'need a lot of piping, there was nothing like that on the pictures,' he added.
On Thursday, US national security officials briefed US lawmakers, presenting intelligence they said showed Syria had been building a secret nuclear reactor with a military purpose.
They said it was being built with the help of North Korea, until the facility was destroyed by Israel in a bombing attack on September 6, 2007 -- prompting the IAEA to launch a probe on Friday.
The US evidence comprised photographs taken inside the reactor showing construction of the shield for the reactor core, and control rods and refuelling ports on top of the reactor.
Officials said the reactor and the building that housed it were similar in design to the North Korean reactor at Yongbyon, which produces plutonium.
Damascus dismissed the claims as 'ridiculous'.
The expert told AFP that it was difficult to ascertain whether the photos proved that a facility was being built along the lines of the Yongbyon reactor.
'When you look at the pictures, you don't know if the basement's structure is a platform a few centimetres (inches) thick or if it's five metres (yards) deep,' he said.
He also noted that the basement had not been destroyed, 'so it does not seem that there were things hidden there'.
If Syria had wanted to build a reactor on the site, it would have done things properly, 'not like that,' he added.
'For a plutonium reactor, you need to have a processing plant, but this site was in the middle of nowhere, far away and no roads built to drive to it,' he said.
Furthermore, 'it's strange to say Syria wanted to copy the Yongbyon reactor. It's 40 years old. We have much better technology than that and I don't think Syrians are so stupid,' the expert argued.
According to a senior US intelligence official, the reactor was destroyed as it was nearing completion, although it had not been loaded with nuclear fuel.
Israel had felt that this reactor posed such a threat that it bombed it, a move which IAEA Director General Mohamed ElBaradei deplored on Friday, because it prevented the agency's inspectors from investigating fully the allegations.
The expert rejected US claims that the reactor was ready to go into operation within 'weeks and possibly months'.
'If it was meant to be a reactor, it would have taken at least another two years to become operational,' he said.

Six young men killed in road crash

KARACHI — Six young men were crushed to death late on Thursday when their car collided with speedy dumper truck on Super Highway, some 25 miles from here.
According to Edhi and police sources, the men belonged to Hyderabad. They were going to Karachi after attending a wedding ceremony when the fatal accident took place.
The vehicle was completely destroyed in the accident and rescue personnel had to use gas cutters to remove bodies from the wreckage.

Hamas awaits Israeli response

DOHA - Hamas chief Khaled Meshaal said on Saturday his movement was awaiting an official Israeli response to the offer of a truce in the Gaza Strip, even though Israel has already poured cold water on it.
Hamas 'has requested from the Egyptian delegation a paper with the pledges that the Israeli occupation agrees upon in order to calm the situation,' Meshaal told a news conference the Qatari capital, Doha.
'Based on this paper, Hamas will decide whether to accept or refuse the easing of the situation that Egypt is trying to achieve between the Palestinians and the Israelis.'
The Hamas supremo insisted that the truce offer was an Egyptian product and that Hamas agreed to go along with it only if Israel answered certain demands.
'(Hamas) did not initiate the offer to calm the situation,' he said.
On Friday, Israeli government spokesman Mark Regev dismissed as 'not serious' a Hamas proposal for a six-month truce in the Hamas-run Gaza Strip
'Unfortunately, this appears not to be serious at all,' he said.
A day earlier, senior Hamas official Mahmud al-Zahar had said in Cairo that the Islamist movement had agreed to a ceasefire in Gaza first, which could be extended to the West Bank within six months.
Zahar, speaking after talks with Egyptian intelligence chief Omar Suleiman, said the move must be 'reciprocal, simultaneous and comprehensive' and that Israel must end its crippling blockade of the impoverished territory.
Israel responded by saying it would only stop military raids on Gaza after Hamas gives up 'terrorism' and after militants in the territory stop attacking the Jewish state and smuggling in weapons from Egypt.
Egypt has been serving as a go-between in the truce negotiations as Israel considers Hamas a terror group and refuses any direct contacts.

Iran supports proposal for China to get gas through Pakistan




ISLAMABAD : Iran Saturday supporting the idea of providing gas to China through Pakistan said it can make a commitment only after conducting a feasibility study.
Iranian Ambassador to Pakistan Masha’allah Shakeri responding to question about inclusion of China into the Iran-Pakistan-India gas pipeline project said, “We basically support, but we cannot comment about it at this stage. We have to work about and see how it can become viable.”
Pakistan has recently offered China to allow a transit gas pipeline through its territory, along the historic Karakoram Highway, to help it meet its growing industrial needs.
The Iranian ambassador however said the IPI was initially designed to incorporate the three countries. He said inclusion of fourth country in the project will require a feasibility study, before a final decision can be taken.
There was no plan to ink the IPI agreement during President Mahmoud Ahamdinejad’s “brief official stopover” in Islamabad, while on his way to a state visit to Sri Lanka.
He said involvement of multiple partners in the gas pipeline project will bring stability and viability to the multi-billion dollar project.
President Mahmoud Ahamdinejad in his talk with President Pervez Musharraf and Prime Minister Yousuf Raza Gilani will discuss bilateral matters, issues faced by the region and the Islamic world and the trilateral cooperation between Iran, Pakistan and Afghanistan with a view to bring peace and stability to the region.
The Iranian President who will be leading a high-level delegation including its Foreign and Commerce Ministers, besides its Minister for Petroleum and Energy and head of EXIM Bank of Iran.
About the Iranian President’s brief visit, he said, the Iranian ambassador said his country attaches great importance to its ties with Pakistan in all areas and they will continue to have extensive cooperation in political, security and other areas.
He said following President Khatami’s visit to Pakistan, it was now President Musharraf’s turn to come to Iran and his visit was awaited.
Ambassador Shakeri was appreciative of Pakistan’s stance on Iran’s nuclear programme for peaceful purpose.
About the delay in launching the bus service, he said Iran’s central and provincial government had already put in place the entire infrastructure and plan for the launch of the service, however it was now up to the government in Balochistan to provide the necessary facilities.
He said the service was viable as there were considerable number of passengers who wished to visit the other country for tourism and pilgrimage.
When asked about meeting of Iran’s President with any political leaders, he said it was for the host country to decide the schedule during the four-hour stopover.

President calls for policies’ continuation



ASSOCIATED PRESS SERVICE



LAHORE : President Pervez Musharraf has stressed the need for bridging the gap between policy formulation and implementation as well as their sustainability and continuation. He was addressing the participants of 88th National Management Course (BPS-18) and 3rd Senior NMC (BPS-19 and above) at National Management College here on Saturday.
The President said, “Government sector is faced with two major problems- big gap between policy formulation and implementation as well as lack of their sustainability and continuation.”
He observed there is a culture of changing policy by doing away with the policies of the previous government, which hinders the development of the country.
Musharraf said, “You represent various professions of public departments and you are indeed the backbone and driving force of the government.”
He called upon the officers to pay heed to implementation of policies, besides ensuring their sustainability.
Another grave problem is time delay in decision making which due to both vertical (delay within the department) and horizontal (time delay among the departments) create obstacles in policy implementation, he maintained.
“We must apply our minds on smooth functioning and continuation of policies,” he added.
He pointed out that there is no systematic grooming of officers and weaknesses in Annual Confidential Reports (ACRs). The officers must show moral courage while writing the ACRs, he asserted.
The President said nepotism is another menace of whole of Pakistan and the departments, which badly affects the working of departments. He stressed the need for selecting right persons and putting them on right job.
Addressing the officers at NMC, President Musharraf said, “My definition of government is that the job of a government is to ensure security, progress and development of the country and welfare and well-being of its people.”
The President emphasized upon the officers to save the nation from all external and internal dangers. “We have no offensive designs and are at peace which is our strength.”
Elaborating the economic situation, the President said Pakistan’s economy and its fundamentals are strong. The country had recorded growth of over six percent and the GDP soard from $ 63 billion in 1999 to $ 160 billion at present while revenues increased from Rs 300 billion seven years ago to Rs one trillion.
Pakistan’s exports and investment in the country also increased substantially, which is evident from the current export figure of $ 8.4 billion and remittances of $ 6 billion, he added.
The President said, “Our potential is doubling and tripling and we must understand our importance for being in a very good location.”
He said Pakistan’s fiscal deficit and balance of payment was well under control but the economic pace was derailed as “we have been facing three-fold problems of hike in prices of oil wheat and edibles since 2007.” But the basic economic indicators are correct, the President said.
“We have to put the economy again on the track, for which we have to take tough decisions to pull the nation out of the three-fold crisis.”
He said wheat prices increased manifolds, as meat consumption in China and India has almost doubled and they started growing fodder for livestock instead of wheat, and the reduced wheat yield ultimately raised its prices in the international market.
The government, he said, has taken effective measures to control wheat smuggling and hoarding.
In order to meet the edible oil requirement, he said Pakistan should review its agricultural policy and cultivate canola, sunflower and other oil-seed crops by curtailing the sugar-cane cultivation.
He said the government also focused on construction of dams—Bhasha, Merani, Subakzai etc, and canals like Thal, Jalalpur and Kachhi canal to bring the virgin land under cultivation.
President Pervez Musharraf said that fast industrial development in Pakistan widened the generation-demand gap of electricity, for which government was taking vital steps to overcome the energy crisis by initiating mega projects of hydro-electricity, coal and gas.
He said, poverty alleviation, unemployment control and skill development, promotion of health and education sector is also on government’s priority.
He said, “Pakistan can act as a funnel for Central Asian states’ trade, provided, we have well communication infrastructure- road, rail and air linkages.”
Expanded communication infrastructure in Pakistan as well as external linkage with Iran, Afghanistan and China, would guarantee socio-economic development in the country, he added.
Musharraf said, “We have to take holistic view of our problems and have to observe where the world is moving.”
After the general election on February 18, 2008, he said, coalition government came into being and if there is harmony in the coalition government, it can deliver well to fight against terrorism and resolve other problems.

PPP to continue dialogue process with all parties: Sherry




ASSOCIATED PRESS SERVICE


KARACHI- Federal Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman, has said that ‘we believe in negotiations with all the parties’. “ We will continue the process of dialogue with all”, she remarked while talking to mediamen at Karachi Airport on Saturday opon arrival here.
She was replying to a question about the latest up date regarding talks between the Pakistan Peoples Party (PPP) and Muttahida Qaumi Movement (MQM).
The Minister said “we want a government of reconciliation, the city of Karachi, province of Sindh and the country needs a new beginning.”
She pointed out that Mohtarma Benazir Bhutto sacrificed her life for the sake of politics of reconciliation.
She said “we want that there should not be politics of conflict or polarization.”
Sherry Rehman said that in a peaceful environment, the people can be extended more relief.
The Minister said we are in government and the government has to take responsible steps and shun the politics of victimization.
She stated that keeping this in view, it is our responsibility that we should go to the possible extent in this regard.
She said that our efforts would be to keep the political and democratic forces of the country in the process of political engagement.
Sherry Rehman said this is a democratic process which should lead to the betterment of the people and should also result in the tradition of resolving problems through reconciliation.
She pointed out that PPP government has initiated a process of reconciliation which requires spirit of tolerance and that of forget and forgive.
The Minister said that accountability is a must but it should be across the board.
She said, we believe that there should not be politics of victimization or witchhunt.
“ We have to give each other a chance”, Sherry Rehman remarked and said that we will have to take the country forward.
The Minister said that no problem can be resolved through the use of force and PPP is against such an approach.
She said the country is facing a number of problems and if politics of conflict is resorted to then one cannot move ahead and cannot give anything to the people.
“ We are elected people who are accountable and will give something to the people” Sherry Rehman remarked.
When a reporter asked about the progress with regard to restoration of the deposed judges, she said we all are in contact.
The Minister said there is no problem which cannot be resolved through democratic process and with a spirit of reconciliation.
“ Inshallah, we will soon give you a good news”, she further remarked.