جناب صدر یہ ہے وہ اٹامک بم ضرورت ہو تو اسے بطور تحفہ بھیج دیا جائے گا ‘ ہوگوشاویز کی ایرانی سفیر کے ہمراہ بش کو پیش کشکراکاس
۔ ونیز ویلا نے امریکہ کے عتاب سے بچنے کے لئے جوہری ہتھیاروں کی فیکٹری میں تیار کی گئی سائیکل تحفے میں صدر بش کو دینے کی پیش کش کی ہے ۔ ہفتہ وار ٹیلیویژن پروگرام میں ونیز ویلا کے صدر ہیوگوشاویز ایک سائیکل چلاتے ہوئے نظر آئے ۔ صدر شاویز نے بتایا کہ یہ ایران اور ونیز ویلا کے اشتراک سے لگائے گئے پلانٹ میں تیار کی گئی اٹامک سائیکل ہے ۔ اس پلانٹ کا نام اٹامک ہے اور امریکہ کا الزام ہے کہ اس میں جوہری ہتھیار تیار کئے جاتے ہیں ۔ ٹیلیویژن پر فیکٹری کے اندرونی مناظر بھی دکھائے گئے جبکہ ونیز ویلا میں ایرانی سفیر بھی صدر شاویز کے ساتھ موجود تھے ۔ صدر شاویز نے امریکی صدر بش کو مخاطب کر کے کیا کہ جناب صدر یہ ہے وہ اٹامک بم اور ضرورت ہو تو انہیں بھی ایک بطور تحفہ بھیج دیا جائے گا ۔
International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Monday, June 9, 2008
ملک و قوم سے غداری اور سر عام پھا نسی ۔ تحریر : اے پی ایس ، اسلام آباد

پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لئے 10نکات پر مشتمل چارج شیٹ جاری کردی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو استعفے کے لئے دس جون کا الٹی میٹم دیا ہے ۔توقع ہے کہ 10جون کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی تحریک مواخذہ کے لئے قومی اسمبلی میں ہمارا ساتھ دے گی چارج شیٹ کے حوالے سے ان پاس مکمل شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے حوالے سے ایسے حقائق پیش کیے جائیں گے کہ قوم دھنگ رہ جائے گی ۔ ایسے حقائق ملے ہیں پرویز مشرف کا مواخذہ لازم ہو گیا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی جانب سے جاری چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے دو بار ملک پر ما رشل لاء مسلط کیا آئین کو پامال کیا ، حلف توڑا ، منتخب وزیر اعظم کو ہتھکڑی لگائی ۔ اور بندوق کے زور پر اپنی آمریت قائم کی ۔ دوسرے نکات میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے 1999ء میں منتخب حکومت سے پوشیدہ رکھ کر معرکہ کارگل کے حوالے سے مہم جوئی کی جس میں بڑی تعداد میں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہوئے ۔ فوج کے آٹھ سے زائد جوان اور آفسروں کی قربانیاں دی گئیں ۔ یہ خون پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں پر ہے ۔ فضائیہ اور بحریہ کے سابق سربراہوں کا بیان آچکا ہے کہ انہیں کارگل آپریشن سے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ۔ 10فیصد کور کمانڈر بھی کارگل آپریشن سے لا علم تھے ۔ بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کارگل آپریشن کے بارے میں کمیشن بنایا جائے یہ قومی راز نہیں ہیں بلکہ قومی سانحہ ہے اور تحقیقاتی کمیشن قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کا منصوبہ ہو گا اور ذمہ داران انصاف کے کٹہرے میں آسکے گیں۔ چارج شیٹ کے تیسرے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے پاکستانی فوج جو کہ قومی ادارہ ہے اسے ذاتی فوج کے طور پر استعمال کیا اور اسے کرپٹ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ راشد قریشی جیسے من پسند اور منظور نظر افراد کو ترقیاں دی گئیں اور اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے لئے فوج کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے اس ادارے کا امیج متاثر ہوا ۔ فوج کو قومی مفادات کے بجائے غیر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا حصہ بنایا گیا اور وزیر اعظم ، کابینہ ، پارلیمنٹ کی منظوری اور اجازت کے بغیر فوج کو اس جنگ کا حصہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں اس جنگ کے ردعمل میں خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ۔ چارج شیٹ کے پانچوں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کے ذریعے سیاستدانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ، اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا نیب کے ذریعے سیاسی جماعت بنائی گئی اور نیب کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کر کے اس سیاسی جماعت میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا ۔ چھٹے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کا سفاکانہ قتل کیا گیا اور قومی لیڈر کے اس بیمانہ قتل میں ملوث لوگوں کو پرویز مشرف کو مبارکباد اور شاباش دی ۔ہزاروں بلوچوں کو گھروں سے غائب کیا گیا اختر مینگل اور دیگر پر جھوٹے الزامات عائد کر کے پابند سلاسل کردیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان میں ملک کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوئے ۔چارج شیٹ کے آٹھویں اہم نکتہ میں کہا گیا ہے کہ غیر کے دباو¿ پر لال مسجد لشکر کشی کی گئی بے گناہ بچوں اور بچیوں پر گولیوں اور بمبوں کی بوچھاڑ کردی گئی ۔اللہ کے گھر میں سینکڑوں لوگوں کو شہید کردیا گیا اور پرویز مشرف نے اس اجتماعی قتل عام کے افراد کو شاباش دی ۔چارج شیٹ کے نویں نکتہ میں کہا گیا کہ ملک کے طول عرض میں معصوم محب وطن افراد کو گھروں سے اٹھا لیا گیا عقوبت خانوں میں لے جا کر نت نیا تشدد کیا گیا ۔ چھ سو زائد پاکستانی مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا جس کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب لائن آف فائر میں بھی کیا ہے ۔ چارج شیٹ کے دسویں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اقربا پروری ، بے راہ روی ، کرپشن ،فیورٹ ازم کی مثالیں قائم کیں ۔اسٹیل میل ، حبیب بینک ، پی ٹی سی ایل کے نجکاری کے معاملات سامنے ہیں ۔ پرویز مشرف کے ذاتی اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ۔ 33کروڑ کا فارم ہاو¿س ، غیر ملکی اثاثہ جات یہ سب کچھ زبان زد عام خاص ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قوم کو حساب دینا ہو گا ۔ پرویز مشرف کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی اربوں کروڑوں روپے کے اثاثے کہا ں سے آگئے ۔ اپنے حواریوں اور رشتہ داروں کو این ایچ اے ، او جی ڈی سی ایل ، پی آئی اے اور ڈیفنس میں ٹھیکے دئیے گئے ۔آٹھ سالوں کے دوران انڈر ٹیبل ڈیل کے ذریعے لوگ کروڑ پتی بننے ۔ شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے پاس مواخذے کی تحریک کے حوالے سے اکثریت نہیں ہے ۔ آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پرویز مشرف 10جون تک مستعفی ہو جائیں ورنہ مواخذے کے لئے تیار ہوں ۔ مواخذہ ضروری ہے تاکہ قوم کے سامنے علی بابا اور چالیس چوروں کی داستان سامنے آسکے ۔ دو ماہ سے پیپلز پارٹی کو مواخذے کی تحریک کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی بھی مواخذے کی حامی ہے تاکہ ملک اس گندگی کو دور کیا جاسکے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک میں آرمی چیف کی تقرری میں ہمیشہ ایک لابی ملوث ہوتی ہے ۔ جرنیل لابنگ کرتے ہیں ۔چوہدری نثار علی خا ن نے پرویز مشرف کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک نیا پرویز مشرف دیکھا جو پریشان ، گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔ پرویز مشرف کھیل ہار چکے ہیں انہیں کافی دنوں پہلے کھیل ہارنے کا اعتراف کرنا چاہیے تھا ۔ رحم دلی اور قومی مفاہمت کی بات کی ہے ۔ نواز شریف کو ہتھکڑی لگائی گئی ۔ جلا وطن کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کو کک مارنے کی بات کی گئی اس وقت قومی مفاہمت یاد کیوں نہ آئی ۔ہاں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ نواز شریف کو پریس کانفرنس میں صاحب اور بے نظیر بھٹو کو صاحبہ کہہ کر ضرور پکارا ۔ یہ اصل مشرف نہیں تھے گھبرائے ،ہارے ، سہمے پرویز مشرف ہیں ۔ اگر انہیں تھوڑا وقت مل گیا تو وہ آٹھ سالہ تاریخ دوبارہ دھرا سکتے ہیں ۔ پرویز مشرف کو اس وقت رحم دلی اور مفاہمت کیوں نہ یاد آئی جب لال مسجد پر آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی چیخ و پکار اب بھی ہمارے کانوں میں گونچ رہی ہے ۔ جنوبی وزیر ستان میں فوج کشی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف آمریت کا نشان ، جمہوریت کے دشمن ، آزاد عدلیہ میڈیا ، خود مختار پارلیمنٹ کے سب سے بڑے مخالف اور امریکہ کے پٹھوں ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ قتل عام اور ملک کو تہہ و بالا کرنے والے کو قومی مفاہمت کی یاد اب کیوں آرہی ہے ۔ پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف قومی اسمبلی میں مواخذے کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔ مواخذے کی تحریک کے نتیجے میں آمریت کا دروزاہ ہمیشہ کے بند ہو گا ۔ آئین کے آرٹیکل 6کا موثر انداز میں مشرف پر لاگو ہوتا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جاری ٹیپ میں دوسری آواز پرویز مشرف کی ہے اور پرویز مشرف نے اس میں میڈیا کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ ریکارڈ ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کولیشن گورنمنٹ میں شامل ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیں ۔ ججوں کے معاملہ کو حل کرنے کیلئے آصف علی زرداری سے آج رابطہ کر وں گا تاکہ اس مسئلہ کے حل کے بعد قوم اپنی منزل کی طرف بڑھ سکے ۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے کی جانی چاہیئے ۔ اگر فیلڈ مارشل ایوب خان کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی سزا مل جاتی تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ مشرف کو آئین توڑنے اور ملک میں آمریت قائم کرنے کی جرات نہ ہوتی گذشتہ 8 سال کے دوران ہمارے خاندان کو انتہای اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمارے خاندان کو عکوبت خانوں میں ڈالا گیا آٹھ سال تک جلا وطن کیا گیا اور میرے والد وفات پا گئے تو ان کی میت کے ساتھ خاندان کے کسی فرد کو پاکستان نہ آنے دیا گیا لیکن ہم نے انتقام کی سیاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ماضی میں جو کرپشن کی گئی، غنڈہ گردی کی گئی اور یہاں قبضہ گروپ قائم ہوئے ان کا قانون کے مطابق بے لاگ احتساب کریں اور ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے لائیں پاکستانی قوم کا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہاں نائن الیون کے بعد فنڈز کے نام پر اور قرض کے نام پر جو کچھ بھی آیا انہیں درست سمت میں استعمال نہ کیا گیا اگر جنرل پرویز مشرف صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کردیتے تو وہ 6 سال میں مکمل ہو جاتی اور ملک کو 25 سو میگا واٹ بجلی میسر آنے کے علاوہ آبپاشی کیلئے پانی بھی مل جاتا ۔ صدر، وزیر اعظم اور اتحادی جماعتوں سے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کولیشن کی آڑ میں ایسے اقدامات کا حصہ ہر گز نہیں بن سکتے جو آئین اور قانون کے منافی ہوں کسی بھی طور آئین کی دھجیاں نہیں بکھیریں گے ۔ عدلیہ کی آزادی کے معاملہ پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں متفق ہیں ۔ صرف ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن ان سے حکومتی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میری یا میاں نواز شریف کی مشرف سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے اس ڈکٹیٹر نے آئین کی دھجیاں بکھیریں اور ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑے کیا ۔ کل تک مشرف ہمیں ٹھڈے مارنے کی باتیں کر رہے تھے آج وہ مفاہمت کیلئے راضی کیسے ہو گئے ہیں ۔ وزیرستان، بلوچستان میں جو کچھ ہوا اور جس طرح جنرل پرویز مشرف نے قوم کا معاشی و سیاسی جنازہ نکالا ان کے ساتھ مفاہمت کیسے کی جا سکتی ہے اور کس طرح انہیں محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں ۔ مانیٹرنگ سسٹم کو فعال کیا جائے گا اور گرین فوڈ سکیم بھی دی جائے گی اس وقت بھی آٹے کی قیمت کے حوالہ سے صورتحال دیگر صوبوں کے مقابلہ میں پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ آزاد عدلیہ کے بغیر معاشی، سیاسی اور سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے اسی لئے ہم ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت سمیت ہر طرح کے اقدامات لے رہے ہیں ۔ صحافی کالونی کو قبضہ گروپ سے واگزار کروانے کے سوال پر میاں شہبازشریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ملک بھر میں ہر شعبے میں قبضہ گروپ پیدا ہوئے لیکن اب ان کا دور ختم ہو چکا ۔ قبضہ گروپ جہاں پر بھی ہیں اس کا خاتمہ کیا جائے گا ۔ وزیراعلی پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں تاکہ حکومت کو اپنا کام کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی مطالبہ کیا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران جن میجر اور کرنل صاحبان نے سیاسی ورکروں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم سیاسی ورکروں پر مظالم کرنے والوں سے قانون کے تحت حساب لیا جائے گا۔جنرل پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم پاکستان کی زرعی زمین کو بنجر بنانا تھا۔ ہماری اولین ترجیح عوام کو انصاف کی فراہمی ، تعلیم کا فروغ اور زرعی اصلاحات ہوں گی۔ اس مقصد کیلئے ان شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے 347کے ایوان میں 265ووٹ لئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر ابھی ضمنی الیکشن ہونا باقی ہے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام اور ایوان کے ارکان نے ان پر جو اعتماد کیا ہے وہ ایمانداری کے ساتھ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران پاکستان کے ہر گلی کوچے میں ظلم وزیادتی کا بازار گرم رہا۔ سیاسی کارکنوں سے دہشت گردوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ میں ایوان کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے بے انصافی کی ، ورکروں اور سیاسی رہنماو¿ں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا ان سے قانون کے مطابق حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے بھی مطالبہ کیا کہ جن فوجی افسران نے گذشتہ آٹھ سال کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں وکارکنوں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے انتخابات سے 48گھنٹے پہلے اپنے اس وعدے کو دوہرایا تھا کہ اگر ان کے حامیوں کو شکست ہوئی تو وہ گھر چلے جائیں گے۔18فروری کے انتخابات میں قوم نے انہیں مسترد کردیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ خلافی کی اور استعفیٰ نہیں دیا۔ میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں تاکہ حکومت کو قوم کو بحران سے نکالنے اور مسائل کا حل کرنے کیلئے کام کرنے کا موقع ملے۔ اگر وہ نہیں بھی جاتے تو مشرف آمریت آج آخری سانس لے رہی ہے۔ اس ملک سے مشرف اور اس کی باقیات کا مکمل طور پر خاتمہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر جنرل (ر) پرویز مشرف آٹھ سال کے دوران محض سیاسی انتقام کی بجائے تعمیری کام کرتے ، آتے ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرواتے تو آج پاکستان کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا نہ ہوتا اور نہ ہی کسانوں کو پانی کا بحران درپیش آتا۔ پاکستان کی زرعی زمین بنجر ہونے سے بھی بچ جاتی۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کے حامیوں نے ایوان میں بیٹھنے کی بجائے اسمبلی کے باہر کیمپ لگایا جو کیمپ چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اب اسی طرح مشرف بھی بھاگنے والے ہیں۔ وہ ڈھٹائی کے ساتھ زیادہ عرصہ تک ایوان صدر میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان میں رشوت اور دھونس ودھاندلی کا بازار گرم رکھا گیا۔ دھونس اور دھاندلی سر بازار ناچ رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناچ کو بند کریں۔ تھانے عقوبت خانوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ شریف آدمی تھانے جانے سے ڈرتا ہے کیونکہ وہاں مظلوم کو مزید ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چور وچودھری اپنے پیسے کے زور پر وہاں مظلوم بن جاتے ہیں۔ اب قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ کچہریوں میں ناانصافی ہے، اس ناانصافی کو دور کرنے کیلئے ہمیں ماتحت عدلیہ میں اصلاحات لانا ہوں گی اور اس کے ججوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا لیکن ابھی بھی ہمارے پاس بہت مواقع موجود ہیں۔ جنوبی کوریا اور چین جو ہم سے بہت پیچھے تھے اگر اپنی محنت سے آج مضبوط معیشت قائم کرچکے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران احتساب کا مضبوط نظام قائم نہیں کیا جاسکا۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو برباد کیا جاتا رہا۔ سابق دور حکومت میں مشرف نے اربوں روپے اپنے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے۔ (ق) لیگ کے سابق وزیراعلی نے گذشتہ سال صرف جولائی سے نومبر تک اپنی ذاتی تشہیر پر ڈھائی ارب روپے خرچ کردیئے لیکن ہم قوم کی دولت کو اس طرح ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے مزید کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی جو ایسے منصوبے تیار کریں گی جس سے صوبہ میں ترقی اور خوشحالی آسکے۔ اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سب سے زیادہ زور انصاف کی فراہمی پر دیا جائے گا کیونکہ کوئی بھی قوم انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ تعلیم کی پرموشن دوسرا ہدف ہوگا، ملک میں آئینی ایمرجنسی نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے آخر تک پنجاب کے تمام ہائی سکولوں میں جن کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے کمپیوٹر تعلیم کا آغاز کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں کسی بھی ذہین طالب علم کا تعلق خواہ گجرات سے ہو، لیہ سے ہو یا کسی دوسرے علاقہ سے اگر وہ میرٹ پر تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتا ہے اور اس کے والدین اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو اس طالب علم کی کفیل خود پنجاب حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیسری ترجیح زرعی اصلاحات ہوں گی اور میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ تین ماہ کے اندر پنجاب بھر میں انسانی اور زرعی جعلی ادویات کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تاہم ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، انقلابی اقدامات کے ذریعے ملک کو پھر سے زرعی ملک بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اس وقت 2500میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کے وجہ سے ہسپتالوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث مریض دم توڑ جاتے ہیں کیونکہ سرکاری تو کجا پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ہسپتالوں کے پاس جنریٹر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسائل سے 350میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی لیکن ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ عوام کو غربت ، مہنگائی، خودکشیوں اور خراب امن وامان کی صورتحال سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کیلئے چھ ہزار روپے تنخواہ ناکافی ہے۔ اساتذہ ہمارے سروں کے تاج ہیں، ہم ان سب کیلئے بجٹ میں انقلابی اعلانات کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی جمہوریت کی بحالی اس کیلئے صعوبتیں برداشت کرنے اور قوم کی بہترین قیادت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پرویز مشر ف کو آئینی صدر تسلیم نہیں کرتے ان کے ساتھ صرف ورکنگ ریلشن شپ ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اب صدر مشرف سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مسئلہ بھی ضرور حل ہو گا اور ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہم نے کبھی کسی ڈکٹیٹر کا سہارا نہیں دیا ۔ جدہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ اور صدر کے درمیان تصادم کے بجائے اداروں کے اختیارات میں توازن چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم جو توقعات لے کر سعودی عرب آئے تھے وہ پوری ہو گئی ہیں ہم نے جب بھی سعودی عرب سے تعاون طلب کیا سعودی قیادت نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانا کے لیے سعودی عرب میں اپنے قیام میںتوسیع کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اقتصادی استحکام اورجمہوریت کا فروغ ہے انہوں نے کہا کہ ہم مشکلات کو مواقع میں بدلنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں ایک سوال پر سنیٹر آصف علی زردای نے کہا کہ بجٹ میں معاشرے کے غریب طبقے کے خصوصی ریلیف دیں گے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خصوصی کارڈ کا اجرائ کر رہے ہیں جس پر غریب خواتین کو 1500پندرہ سو رپے تک کی امداد مل سکے گی اور اس امداد کو اس سال بڑھا کہ 3000 ہزار روپے کریں گے آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کے مطابق ملک میں خواتین کو بااختیار بنائیں گے ۔ جبکہ ملک کے 30سابق سفیروں نے صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ اور مواخذے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ججز کی بحالی کیلئے وکلائ کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا۔سابق سفیروں نے پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی مفاد کے منافی قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیاہے کہ اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کی چیکنگ ہو سکتی ہے۔ان سابق سفیروں میں شمشاد احمد خان،ریاض کھوکھر ، اکرم ذکی ،ڈاکٹر ایس ایم قریشی، ڈاکٹر مقبول بھٹی ، نجم الثاقب خان، گل حنیف ، عظمت حسین ،توقیر حسین ،سلیم نوازخان گنڈا پور، اقبال احمد خان،اسلم رضوی ، کامران نیاز، جاوید حفیظ ، نذر عباس ، راشدسلیم خان، ایاز وزیر ،وزارت خارجہ کے سابق اسپیشل سیکرٹری شیر افگن خان شامل ہیں ۔سابق سفیروں نے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ بھرپور تعاون کیاجائے گا ۔ صدر پرویزمشرف غیر آئینی صدر ہیں پوری قوم کا مطالبہ ہے وہ مستعفیٰ ہوں انتخابی مینڈیٹ کے مطابق ان کا مواخذہ کیاجائے ۔ اتوار کواسلام آباد پریس کلب میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سابق سفیروں کے اس تیس رکنی گروپ کی جانب سے وکلاء تحریک کی حمایت میں بیان پڑھا۔ ریاض کھوکھر اور دیگر سابق سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے سابق سفیروںکے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلائ برادری اور سول سوسائٹی کی ججز کی بحالی آئین کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ، فریڈم آف پریس ، حقیقی جمہوریت کے حوالے سے جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ آئین میں واضح طورپر کہا گیا ہے عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق حکومت قائم ہو گی ۔10جون سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں سابق سفیر بھرپور طور پر شرکت کریں گے ۔ حکومت ججز کی بحالی میں ناکام ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے برطرف کیاگیا۔ تین نومبر 2007ء کو ایمر جنسی اور پی سی او غیر آئینی تھا تین نومبر 2007ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے جاری ان غیر آئینی ، غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہیں ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لاء مسلط کیاگیا۔آئین کی خلاف ورزی کی گئی ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی سلب کی گئی ، بنیادی حقوق پامال کئے گئے ۔پی سی او اور ایمر جنسی کا جواز نہیں تھا۔انہوںنے کہاکہ تین نومبر 2007ء کو سپریم کورٹ کے پی سی او اور ایمر جنسی کے خلاف فیصلے پر عملدر آمد ہونا چاہیے ۔اٹھارہ فروری کو عوام نے پرویزمشرف اور آمریت کے خلاف فیصلہ دیا9مارچ 2008ء کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اعلان مری کے ذریعے ججز کی بحالی کا وعدہ کیا ۔ وفاقی حکومت عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔سابق سفیروں نے واضح کیاہے کہ آئینی پیکج اور عدلیہ کے بارے میں اصلاحات ججز کی بحالی کے خلاف ہے آئین کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ کے خلاف دباو¿ کو مسترد کرتے ہیں۔آئین ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ، شہری آزادیوں ، سیاسی استحکام ، سماجی انصاف ، معاشی ترقی ، قومی سلامتی کیلئے ، آزاد عدلیہ ضروری ہے ۔ مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہاکہ با ضمیر سرکاری افسران اپنی مدت ملازمت کے دوران جس معاملے کے بارے میں اختلاف رائے ہو حکومت کو اس سے آگاہ کر دیتے ہیں ۔سابق سیکرٹری خارجہ نے بھی ایسے ہی ایشو کے حوالے سے حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والے سرکاری افسران آمریت کے دور میں اگر اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں تو اس سے تو آمریت کو تقویت ملتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ فرض شناس افسران ہمیشہ قومی مفاد کے مطابق اپنی رائے سے حکومت کو آگاہ کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ، ریاست کی جانب سے ناکامی کا اعتراف ہے۔حریری کمیشن والا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ناں اقوام متحدہ کا منشور اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی ملک میں ہونے والے جرم کی تحقیقات کی جائے ۔ لبنان میں سیاسی بحران تھا وہاں کے صدر رفیق الحریری کے مخالف تھے لبنان کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بھی تھا اس لئے اس معاملے کی تحقیقات اقوام متحدہ نے کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ملکی مفاد کے منافی ہے ریاض کھوکھر نے کہاکہ خارجہ امور ایک مشکل کام ہے ملکی صورتحال میں خارجہ امور کا اہم کردار ہوتا ہے خارجہ پالیسی کے حوالے سے دفتر خارجہ اپنے آپشن سے حکومت کو آگاہ کرتا ہے دفتر خارجہ میں لوگ چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے ہوتے اپنے کام سے آگاہ ہوتے ہیں ملکی مفاد کے مطابق رائے کا اظہار کیاجاتا ہے اور اپنے تجزیے کے مطابق خارجہ پالیسی کے بارے میں تجاویز دی جاتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امریکہ سے ڈکٹیشن لینا یا اس کے مفادات کا تحفظ کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے لیکن کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔جب ہماری سیاسی قیادت دن رات امریکہ سے رابطے میں رہے دفتر خارجہ کیاکر سکتا ہے۔اکرم ذکی نے کہا کہ آپ خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں مجھے ملک میں کوئی حکومت ہی نظر نہیں آرہی ہے ۔ وزیراعظم نے حلف لینے سے پہلے ججز کی رہائی کا حکم جاری کیا مگر حلف اٹھانے کے بعد کوئی اعلانات نہیں کئے۔ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے بتایا کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کے چپٹر سیون کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت بے نظیر بھٹو کی تحقیقات کی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے لیکن اس سے سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی اہم تنصیبات کے جائزہ کا خدشہ ہے کیونکہ سلامتی کونسل میں ہمارے ہمدرد ، دوست اور مخلص نہیں بیٹھے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ سابق سفیر لاہو رسے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے ہر طرح کا تعاون کیاجائے گا ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے کہاکہ پرویز مشرف کا استعفیٰ پوری قوم کا مطالبہ ان کامواخذہ ہونا چاہیے یہی عوامی مینڈیٹ کا تقاضا ہے ۔نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے حکومت سے کہا ہے کہ مجھے فوری طور پر آزاد کردیا جائے ۔ میں اپنی زندگی کے بقہ دن آزادی سے گزارنا چاہتا ہوں ۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا میری پہلی خواہش تھی اور اب دوسری اور آخری خواہش زندگی کے بقیہ دن آزادی سے گزارنا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا نگہبان ہے مجھے کسی شخص کی سیکورٹی کی ضرورت نہیں 16 کروڑ عوام مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ان سے مجھے کوئی ڈر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے بعد عوام ہی میرے محافظ ہیں ۔ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے مجھے بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت نہیں ۔ بے نظیر بھٹو بھی بلٹ پروف گاڑی میں ہی شہید ہوئیں ۔ قاضی حسین احمد محب وطن ہیں وہ ہمیشہ ملکی مفاد کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ امریکہ کی بات کرتے ہیں ۔ مجھے پاکستان میں آئے ہوئے 32سال ہوئے اور میں نے 25سال ایٹمی منصوبے کی سربراہی کی اس دوران کئی آرمی چیف آئے مگر مجھے مرزا اسلم بیگ کی دوستی اور فرض شناسی پر فخر ہے ۔ مرزا اسلم بیگ ہی صرف ایسے آرمی چیف تھے جن پر نہ صرف پاکستانی فوج بلکہ پوری قوم کو فخر ہے مرزا اسلم بیگ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اقتدار کو ٹھکرایا اور ملک میں جمہوریت لے کر آئے ۔ اگر وہ چاہتے تو 17اگست کو اقتدار پر قبضہ کر لیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور غلام اسحاق خان کو بل کر اقتدار ان کے حوالے کردیا اور فوج کو اس چکر سے نکال لیا مرزا اسلم بیگ انتہائی ذہین اور سمجھدار شخص ہیں دنیا کے معاملات پر ان کی گہری نظر ہے اور انتہائی بہادر انسان تھے ۔ امریکی دھمکیاں انہیں مرغوب نہ کر سکیں ۔ ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں مرزا اسلم بیگ اور جنرل وحید کاکڑ نے میری بہت مدد کی اور کام میں ہاتھا بٹایا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ جو شخص پاکستان کے مفاد کو عزیز رکھتا ہے وہ کبھی کسی کے دباو¿ سے مرغوب نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ہمیشہ ملک کے مفاد کی بات کرتے ہیں مگر دوسرے امریکہ کو خوش کرنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ جنرل چشتی بھی بہادر شخص ہیں جب ہم نے ایٹمی منصوبہ شروع کیا یہ اس وقت راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے ۔ انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں ہماری بہت مدد کی اور ہر قسم کا تعاون فراہم کیا ۔ اس پروگرام کے لئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کیں ۔ کرنل عبد الرحمان نے بھی اچھے انسان ہیں یہ تمام لوگ بڑے محب وطن ہیں ان کے میرے متعلق جو بیانات اور ہمدردیاں ہیں میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دھیر ے دھیرے حالات ٹھیک ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو اصل حقائق کا پتہ چلتا جارہا ہے ۔ جنرل (ر ) مرزا اسلم لیگ اور جنرل (ر ) جمشید کیانی ، جنرل (ر ) حمید گل نے تمام باتیں بتا دی ہیں ۔ واقعات کبھی چھپتے نہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہمیشہ ایمانداری اور سچی بات ہی کرنی چاہیے ۔ سٹیل ملز کے سابق چیئر مین جنرل (ر ) عبدالقیوم نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں کیسے بے ایمانی ہوئی اور اسے کتنا نقصان پہنچایا جارہا تھا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ایماندار لوگوں کی کمی نہیں ۔ حق و سچ کی بات کرنے والے بہت سے موجود ہیں ۔ دوسرے کئی قومی اثاثوں کو اونے پونے بیچا جارہا تھا مگر انہیں روک لیا گیا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ جن لوگوں کی ملک کیلئے خدمات ہیں وہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ میں نے بہت صبر کرلیا ہے اب مزید صبر کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات میں نے حکومت کو بھی بتا دی ہے ۔ جنرل چشتی اور دیگر کے دوست اگر مجھے ملنے کے لئے آنا چاہتے ہیں میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں وہ ضرور آئیں میں انہیں اپنے ہاتھوں سے چائے کافی پلاو¿ں گا اور پکوڑے اور سموسے کھلاو¿ں گا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے 1971ء کی اپنی فوجیوں کی شکست دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس کے بعد میں نے ایٹم بم بنانے کا تہیہ کیا اور اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور انہوں نے مجھے فوراً ہی بلا لیا ۔ یہ کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے وہ بہت دور اندیش تھے کہ انہوں نے میرا خط ملتے ہیں مجھے فوراً بلا لیا اور اس پروگرام کے لئے مجھے دنیا بھر کی سہولتیں فراہم کیں ۔ پروگرام کی تکمیل کا کریڈیٹ بھٹو اور میرے ساتھیوں کو جاتا ہے جنہوں نے بڑی محنت اور لگن سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں میری معاونت کی ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جس کے کہنے پر میں نے لبیک کی ان میں سے کسی نے بھی میرے متعلق ہمدردی کا کوئی ایک لفظ نہیں بولا اور اب مجھے امید ہے کہ وہ ضرور بولیں گے ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے پذیرائی نہیں ملی ۔ لوگوں کو میری آزادی کے بارے میں خواہ مخواہ غلط فہمی میں ڈال دیا گیا ہے ۔ میں آزاد نہیں ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ امید کرتا ہوں مجھے آزادی ملے اور میں آزادی نے ادھر ادھر آجا سکوں اور اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے مل سکوں ۔ موجود ہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مجھے مکمل طور پر آزاد کردے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے سیکورٹی رسک کے لئے حفاظت میں رکھا گیا ہے ۔یہ بالکل بکواس ہے ۔ لوگ میرے ساتھ محبت کرتے ہیں مجھے اپنے ملک میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سب سے بڑا محافظ اللہ کی ذات ہے اور اس کی بعد 16کروڑ عوام میرے محافظ ہیں ۔ مجھے اس ملک میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے ۔بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر اپنے آپ کو بچانا ایمان کی کمزور ی اور اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہے ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے میں نے اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو اللہ رب العزت کے سپرد کیا ہوا ہے مجھے پاکستانی قوم سے قطعی کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ خود میری محافظ ہے میں آزادی چاہتا ہوں میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ بہادری کا قدم دکھائے اور میرے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ ایک ڈکٹیٹر نے پچھلے 8سالوں میں چیف جسٹس اور مجھ سمیت جسے چاہا اٹھا کر اندر بند کردیا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے ۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں اور اس مقصد کے حصول تک عوام اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ججز ضرور بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرو اور مظلوم کا ساتھ دو ۔ اے پی ایس ا سلام آ باد
Rehman Malik, Afghan President discuss security situation

KABUL : Advisor to the Prime Minister on Interior Rehman Malik Sunday discussed the security situation on international border of two countries with Afghan President Hamid Karzai. To improve the security situation, restoration/installation of Border Biometrics Control System was emphasized in the meeting, said a press release.
President Hamid Karzai agreed to the proposal of its installation on both sides. The meeting was held in an extremely cordial atmosphere. The Advisor conveyed best wishes of Prime Minister of Islamic Republic of Pakistan and Co-Chairperson of Pakistan People’s Party Asif Ali Zardari.
The Advisor also explained the deployment of Pakistan’s security forces on the border and also raised the issue of repatriation of Afghan refugees.
Later, the Advisor held a bilateral meeting with Afghan Interior Minister Zarar Ahmad Muqbal.
The two sides agreed to task the technical teams on both sides to meet and finalize the installation. Other issues of mutual interest were also discussed.
Both sides agreed to extend full support to each other to improve security environment and bring peace in the region.
Both sides also agreed to appoint focal persons, Additional Secretary Ministry of Interior, Pakistan and Deputy Minister, Afghanistan for prompt communication and resolution of security issues.
PM Gilani leaves for Pakistan

JEDDAH: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani left for home here Sunday at the conclusion of his three-day visit to Saudi Arabia.
During the visit, the Prime Minister alongwith PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari held important talks with King Abdullah bin Abdul Aziz.
While the Prime Minister and his delegation left for Pakistan this evening, Asif Ali Zardari has extended his stay in Saudi Arabia to hold further talks with the Saudi leadership.
Gilani, Zardari perform Umra, pray for solidarity, progress of Pakistan

MAKKAH : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani along with Co-Chairman PPP, Asif Ali Zardari performed Umra here late Saturday night and prayed for peace, progress, solidarity and prosperity of Pakistan. Prime Minister Gilani and Asif Ali Zardari arrived here Saturday night from Jeddah after talks with King Abdullah bin Abdul Aziz to perform Umra.
The Prime Minister along with Asif Ali Zardari and his entourage went to the Grand Mosque - the Holy Kaab’a to perform Umra.
They offered special “nawafil” and sought the blessings of the Allah Almighty in helping the country overcome various challenges and to bring peace, security and stability.
Gilani and Zardari prayed for the well being of the people of Pakistan, and strength and courage to deal with the challenges facing the nation.
The Prime Minister and PPP leader also prayed for the soul of late Benazir Bhutto.
Pakistan’s security, economy, democracy top priorities of government: Zradari

JEDDAH: PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari Sunday said the country’s security, economy and democracy were the top priorities of PPP government and it was working on an incentives package for under-privileged section of the society.
The PPP Co-Chairman, in an informal chat with the newsmen here, blamed mismanagement and bad policies of the last decade as main reasons leading to the current economic crisis.
Zardari, who is accompanying Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani in his visit to Saudi Arabia, said Saudi Arabian leaders have always been generous to Pakistan and they always think for protecting the interests of Pakistan.
He said the visit of Prime Minister Gilani to Saudi Arabia will help give new dimensions to our ties with the Kingdom in long way, adding, Saudi Arabia would help Pakistan for improving its strategic oil reserves to make them permanent.
Zardari said the consumer financing brought a negative impact on the society. It also resulted in increased street crimes.
He questioned that when country is facing challenges on its border then how the law and order situation could be improved within minimum time.
Zardari said, “In Pakistan’s environment, we have to see many things, but it does not mean that we have any fear from anyone or in any matter. We are only concerned about 160 million people, who are leading a hard life.”
The PPP Co-Chairman said the government would provide relief ranging from Rs. 1000 to Rs 1500 to the poorest of poor in the forthcoming budget to improve their buying power and assured that it would be doubled within one year.
Turning to the political situation of the country Zardari said the PPP does not acknowledge Pervez Musharraf as a constitutional President, adding, but as by default or circumstance he (Musharraf) occupies a certain position, the government was working with him.
“Since we have to run the affairs of the state, we have a working relationship with the President”, he added.
He said, “We have put aside our personal likes and dislikes,
as we neither give advantage nor disadvantage to anyone”
Zardari said the PPP has never supported any dictator, “neither in the past nor it will do so in future.”
He said PPP had never sought support of the dictators to come into power and has always worked for real democracy.
He said his party does not believe in having relations with personalities but working for the improvement of collective political system and strengthen institutions.
Regarding budget deficit the Co-Chairman PPP said the government will take stringent measures to overcome this deficit and would never indulge in the blame game.
Regarding the strategy of the government on improving trade balance, he said all options would be utilised in this regard.
He said the government would make all out efforts to capture 1.2 billion dollars Indian market for this purpose. He said Pakistani leadership including himself will visit India in the near future to achieve this goal.
Zardari said Pakistan is an Agrarian society but unfortunately all the governments except PPP governments had neglected this sector and negative impact of this negligence are now coming out.
He expressed the confidence that the PPP-led coalition government would again give top priority to the development of the agriculture sector to overcome the food crisis.
On the judges issue, he said there are some differences between the coalition partners on the modalities of restoration of judges to resolve the issue, adding, but the PPP believes in the independence of judiciary and empowerment of Parliament.
Asif Ali Zardari has extended his stay in Saudi Arabia for further talks with the Saudi leadership.
Embassy spokesman says Pakistan pursuing comprehensive anti-terror strategy
WASHINGTON : The Pakistani embassy, rejecting assertions made in an American newspaper, has said the new government is resolved to fight terrorism through a comprehensive strategy that does not envisage talks with terrorists.
In a letter appearing in Sunday edition of the Boston Globe, an embassy spokesman stated the government’s anti-terror strategy aims at dealing with militancy in the tribal areas along the Afghan border without allowing concessions or breathing space to militants.
“This strategy includes the following: continuation of the war on terror more vigorously with the support of tribesmen; leaving the option of dialogue open with reconcilable elements, to isolate and marginalize the militants; initiating massive development projects to reduce poverty and generate employment; and working with the Afghan government to help secure the border and create conditions conducive for the repatriation of more than 3 million Afghan refugees currently in Pakistan, Press attache Nadeem Kiani wrote to editor of the newspaper.
Commenting on an editorial of the newspaper, he noted it was constructed on the false premise that the government had struck a deal with militants. “The new strategy does not envisage negotiations with the terrorists or withdrawal of troops from the Federally Administered Tribal Areas. The government has made it clear that there would be no negotiations with terrorists, and that any negotiations with those who would lay down their arms and give up militancy would be held from a position of strength and would be conditional on ending attacks on both sides of the border”.
Pakistan’s elected leadership, he reminded, considers the war on terror as Pakistan’s own war. “Our success in the war on terror is essential for the success of moderate democratic forces in Pakistan, who alone can bring real hope, peace, and prosperity to the people of the region,” the Press attache wrote.
Sunday, June 8, 2008
پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لئے ١٠ نکات پر مشتمل چارج شیٹ جاری کردی


آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو استعفے کے لئے دس جون کا الٹی میٹم دیا ہے ،توقع ہے کہ 10جون کے بعد مل کر قومی اسمبلی میں تحریک مواخذہ پیش کریں گےچارج شیٹ میں ملک پر دو بار مارشل لاء کے تسلط ،فوج کو غیر ملکی جنگ کا حصہ بنانے ،لال مسجد آپریشن ،ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نظر بندی ،کارگل آپریشن ،پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے ،نجکاری کے میگا سیکنڈل ،نیب کے ذریعے سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے اور دیگر الزامات شامل ہیںپرویز مشرف سہمے ، گھبرائے اور ہارے ہوئے شخص کی مانند ہو چکے ہیں ،کھیل ہار بیٹھے ہیں ،قوم کو حساب دینا ہو گاپارٹی کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس
اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لئے 10نکات پر مشتمل چارج شیٹ جاری کردی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو استعفے کے لئے دس جون کا الٹی میٹم دیا ہے ۔توقع ہے کہ 10جون کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی تحریک مواخذہ کے لئے قومی اسمبلی میں ہمارا ساتھ دے گی ۔ صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے حوالے سے دس نکات پر مشتمل چارج شیٹ اتوار کو قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے پارٹی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کی ۔ انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ کے حوالے سے ہمارے پاس مکمل شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے حوالے سے ایسے حقائق پیش کیے جائیں گے کہ قوم دھنگ رہ جائے گی ۔ ایسے حقائق ملے ہیں پرویز مشرف کا مواخذہ لازم ہو گیا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی جانب سے جاری چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے دو بار ملک پر ما رشل لاء مسلط کیا آئین کو پامال کیا ، حلف توڑا ، منتخب وزیر اعظم کو ہتھکڑی لگائی ۔ اور بندوق کے زور پر اپنی آمریت قائم کی ۔ دوسرے نکات میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے 1999ء میں منتخب حکومت سے پوشیدہ رکھ کر معرکہ کارگل کے حوالے سے مہم جوئی کی جس میں بڑی تعداد میں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہوئے ۔ فوج کے آٹھ سے زائد جوان اور آفسروں کی قربانیاں دی گئیں ۔ یہ خون پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں پر ہے ۔ فضائیہ اور بحریہ کے سابق سربراہوں کا بیان آچکا ہے کہ انہیں کارگل آپریشن سے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ۔ 10فیصد کور کمانڈر بھی کارگل آپریشن سے لا علم تھے ۔ بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کارگل آپریشن کے بارے میں کمیشن بنایا جائے یہ قومی راز نہیں ہیں بلکہ قومی سانحہ ہے اور تحقیقاتی کمیشن قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کا منصوبہ ہو گا اور ذمہ داران انصاف کے کٹہرے میں آسکے گیں۔ چارج شیٹ کے تیسرے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے پاکستانی فوج جو کہ قومی ادارہ ہے اسے ذاتی فوج کے طور پر استعمال کیا اور اسے کرپٹ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ راشد قریشی جیسے من پسند اور منظور نظر افراد کو ترقیاں دی گئیں اور اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے لئے فوج کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے اس ادارے کا امیج متاثر ہوا ۔ فوج کو قومی مفادات کے بجائے غیر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا حصہ بنایا گیا اور وزیر اعظم ، کابینہ ، پارلیمنٹ کی منظوری اور اجازت کے بغیر فوج کو اس جنگ کا حصہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں اس جنگ کے ردعمل میں خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ۔ چارج شیٹ کے پانچوں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کے ذریعے سیاستدانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ، اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا نیب کے ذریعے سیاسی جماعت بنائی گئی اور نیب کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کر کے اس سیاسی جماعت میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا ۔ چھٹے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کا سفاکانہ قتل کیا گیا اور قومی لیڈر کے اس بیمانہ قتل میں ملوث لوگوں کو پرویز مشرف کو مبارکباد اور شاباش دی ۔ہزاروں بلوچوں کو گھروں سے غائب کیا گیا اختر مینگل اور دیگر پر جھوٹے الزامات عائد کر کے پابند سلاسل کردیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان میں ملک کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوئے ۔چارج شیٹ کے آٹھویں اہم نکتہ میں کہا گیا ہے کہ غیر کے دباؤ پر لال مسجد لشکر کشی کی گئی بے گناہ بچوں اور بچیوں پر گولیوں اور بمبوں کی بوچھاڑ کردی گئی ۔اللہ کے گھر میں سینکڑوں لوگوں کو شہید کردیا گیا اور پرویز مشرف نے اس اجتماعی قتل عام کے افراد کو شاباش دی ۔چارج شیٹ کے نویں نکتہ میں کہا گیا کہ ملک کے طول عرض میں معصوم محب وطن افراد کو گھروں سے اٹھا لیا گیا عقوبت خانوں میں لے جا کر نت نیا تشدد کیا گیا ۔ چھ سو زائد پاکستانی مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا جس کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب لائن آف فائر میں بھی کیا ہے ۔ چارج شیٹ کے دسویں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اقربا پروری ، بے راہ روی ، کرپشن ،فیورٹ ازم کی مثالیں قائم کیں ۔اسٹیل میل ، حبیب بینک ، پی ٹی سی ایل کے نجکاری کے معاملات سامنے ہیں ۔ پرویز مشرف کے ذاتی اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ۔ 33کروڑ کا فارم ہاؤس ، غیر ملکی اثاثہ جات یہ سب کچھ زبان زد عام خاص ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قوم کو حساب دینا ہو گا ۔ پرویز مشرف کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی اربوں کروڑوں روپے کے اثاثے کہا ں سے آگئے ۔ اپنے حواریوں اور رشتہ داروں کو این ایچ اے ، او جی ڈی سی ایل ، پی آئی اے اور ڈیفنس میں ٹھیکے دئیے گئے ۔آٹھ سالوں کے دوران انڈر ٹیبل ڈیل کے ذریعے لوگ کروڑ پتی بننے ۔ شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے پاس مواخذے کی تحریک کے حوالے سے اکثریت نہیں ہے ۔ آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پرویز مشرف 10جون تک مستعفی ہو جائیں ورنہ مواخذے کے لئے تیار ہوں ۔ مواخذہ ضروری ہے تاکہ قوم کے سامنے علی بابا اور چالیس چوروں کی داستان سامنے آسکے ۔ دو ماہ سے پیپلز پارٹی کو مواخذے کی تحریک کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی بھی مواخذے کی حامی ہے تاکہ ملک اس گندگی کو دور کیا جاسکے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک میں آرمی چیف کی تقرری میں ہمیشہ ایک لابی ملوث ہوتی ہے ۔ جرنیل لابنگ کرتے ہیں ۔چوہدری نثار علی خا ن نے پرویز مشرف کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک نیا پرویز مشرف دیکھا جو پریشان ، گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔ پرویز مشرف کھیل ہار چکے ہیں انہیں کافی دنوں پہلے کھیل ہارنے کا اعتراف کرنا چاہیے تھا ۔ رحم دلی اور قومی مفاہمت کی بات کی ہے ۔ نواز شریف کو ہتھکڑی لگائی گئی ۔ جلا وطن کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کو کک مارنے کی بات کی گئی اس وقت قومی مفاہمت یاد کیوں نہ آئی ۔ہاں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ نواز شریف کو پریس کانفرنس میں صاحب اور بے نظیر بھٹو کو صاحبہ کہہ کر ضرور پکارا ۔ یہ اصل مشرف نہیں تھے گھبرائے ،ہارے ، سہمے پرویز مشرف ہیں ۔ اگر انہیں تھوڑا وقت مل گیا تو وہ آٹھ سالہ تاریخ دوبارہ دھرا سکتے ہیں ۔ پرویز مشرف کو اس وقت رحم دلی اور مفاہمت کیوں نہ یاد آئی جب لال مسجد پر آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی چیخ و پکار اب بھی ہمارے کانوں میں گونچ رہی ہے ۔ جنوبی وزیر ستان میں فوج کشی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف آمریت کا نشان ، جمہوریت کے دشمن ، آزاد عدلیہ میڈیا ، خود مختار پارلیمنٹ کے سب سے بڑے مخالف اور امریکہ کے پٹھوں ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ قتل عام اور ملک کو تہہ و بالا کرنے والے کو قومی مفاہمت کی یاد اب کیوں آرہی ہے ۔ پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف قومی اسمبلی میں مواخذے کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔ مواخذے کی تحریک کے نتیجے میں آمریت کا دروزاہ ہمیشہ کے بند ہو گا ۔ آئین کے آرٹیکل 6کا موثر انداز میں مشرف پر لاگو ہوتا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جاری ٹیپ میں دوسری آواز پرویز مشرف کی ہے اور پرویز مشرف نے اس میں میڈیا کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ ریکارڈ ہے
آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بچوں کا ٹی وی انٹرویو

قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیںمقصد کے حصول تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گےیہ ملک ہے تو ہم ہیں اس کیلئے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں ضرور دیں گے، کوئی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتاہمارا باہر کسی سے رابطہ نہیں تھا تمام واقعات ٹی وی دیکھ کر ہی پتہ چلتےہمارے والد انتہائی شفیق ہیں یہی سکھایا ہے کہ ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرو اور مظلوم کا ساتھ دومعزول چیف جسٹس کے بچوں کا ٹی وی انٹرویو
اسلام آباد ۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بچوں نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں اور اس مقصد کے حصول تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ان کی سولہ سالہ بیٹی پلوشہ اور سات سالہ بیٹے بالاچ نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں امید ظاہر کی ہے کہ ججز ضرور بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا پلوشہ نے کہاکہ نو مارچ اور تین نومبر کے بعد ہم سب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا گھر کو باہر سے تالے لگا دئیے گئے ٹیلی فون تاریں کاٹ دی گئیں تاکہ ہم باہر کسی سے رابطہ نہ کر سکیں ہمیں سکول تک جانے کی اجازت نہ تھی حتیٰ کے امتحان بھی گھر پر ہی دلوایا گیا گھر کو ہی امتحانی سنٹر بنایا گیا ہمارا باہر کسی سے رابطہ نہیں تھا تمام واقعات ٹی وی دیکھ کر ہی پتہ چلتے ۔ پلوشہ نے کہاکہ میرے ابوکبھی گھبراتے نہیں بلکہ ہر مشکل کا فراخدلی سے مقابلہ کیا ہمیں کوئٹہ منتقل کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں مگر ہم ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کیلئے اورہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار تھے۔ ایک سوال پر پلوشہ نے کہا کہ ہمارے گھر میں خفیہ آلات تک نصب تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تھی اور اسے برداشت کرنے کا اللہ نے حوصلہ دیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میرے والد کے خلاف تمام الزامات جھوٹے تھے اس لئے عوام نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تین نومبر سے آج تک میرے والد کو کوئی تنخواہ نہیں ملی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے والد انتہائی شفیق ہیں انہو ںنے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرو اور مظلوم کا ساتھ دو ۔پلوشہ نے کہاکہ ہمارے والد شفیق ہیں مگر غلط بات پر ڈانٹ دیتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اگر صدر مشرف سے ہمارے خاندانی مراسم ہوتے تو وہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہ کرتے۔ پلوشہ نے کہاکہ تمام ایشو ہی اہم ہیں مگر سب سے اہم عدلیہ کا ایشو ہے جسے جلد حل ہونا چاہیے ایک سوال پر پلوشہ نے کہا کہ عام حالات میں ججز کالونی کے تمام ججز ہمیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتے تھے مگر جب ابو کو معزول کیا گیاتو چند ججوں نے خیریت تک دریافت نہ کی جبکہ بالاچ نے کہا کہ مجھے تنہائی میں اپنے تین دوست اور اپنے نانا بہت یاد آتے تھے اور اس دوران پڑھائی اور ٹی وی دیکھنے میں ٹائم پاس کرتے تھے اور اپنے ابو کی بحالی کیلئے دعائیں مانگتا تھا۔ آخر میں بالاچ نے وکلاء کیلئے اپنے پیغام میں کہاکہ وکلاء کی تحریک کامیاب ہوگی جبکہ پلوشہ نے کہاکہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اس کیلئے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں ہم ضرور دیں گے اور کوئی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔
اسلام آباد ۔ معزول چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بچوں نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں اور اس مقصد کے حصول تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ان کی سولہ سالہ بیٹی پلوشہ اور سات سالہ بیٹے بالاچ نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں امید ظاہر کی ہے کہ ججز ضرور بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا پلوشہ نے کہاکہ نو مارچ اور تین نومبر کے بعد ہم سب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا گھر کو باہر سے تالے لگا دئیے گئے ٹیلی فون تاریں کاٹ دی گئیں تاکہ ہم باہر کسی سے رابطہ نہ کر سکیں ہمیں سکول تک جانے کی اجازت نہ تھی حتیٰ کے امتحان بھی گھر پر ہی دلوایا گیا گھر کو ہی امتحانی سنٹر بنایا گیا ہمارا باہر کسی سے رابطہ نہیں تھا تمام واقعات ٹی وی دیکھ کر ہی پتہ چلتے ۔ پلوشہ نے کہاکہ میرے ابوکبھی گھبراتے نہیں بلکہ ہر مشکل کا فراخدلی سے مقابلہ کیا ہمیں کوئٹہ منتقل کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں مگر ہم ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کیلئے اورہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار تھے۔ ایک سوال پر پلوشہ نے کہا کہ ہمارے گھر میں خفیہ آلات تک نصب تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تھی اور اسے برداشت کرنے کا اللہ نے حوصلہ دیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میرے والد کے خلاف تمام الزامات جھوٹے تھے اس لئے عوام نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تین نومبر سے آج تک میرے والد کو کوئی تنخواہ نہیں ملی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے والد انتہائی شفیق ہیں انہو ںنے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرو اور مظلوم کا ساتھ دو ۔پلوشہ نے کہاکہ ہمارے والد شفیق ہیں مگر غلط بات پر ڈانٹ دیتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اگر صدر مشرف سے ہمارے خاندانی مراسم ہوتے تو وہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہ کرتے۔ پلوشہ نے کہاکہ تمام ایشو ہی اہم ہیں مگر سب سے اہم عدلیہ کا ایشو ہے جسے جلد حل ہونا چاہیے ایک سوال پر پلوشہ نے کہا کہ عام حالات میں ججز کالونی کے تمام ججز ہمیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتے تھے مگر جب ابو کو معزول کیا گیاتو چند ججوں نے خیریت تک دریافت نہ کی جبکہ بالاچ نے کہا کہ مجھے تنہائی میں اپنے تین دوست اور اپنے نانا بہت یاد آتے تھے اور اس دوران پڑھائی اور ٹی وی دیکھنے میں ٹائم پاس کرتے تھے اور اپنے ابو کی بحالی کیلئے دعائیں مانگتا تھا۔ آخر میں بالاچ نے وکلاء کیلئے اپنے پیغام میں کہاکہ وکلاء کی تحریک کامیاب ہوگی جبکہ پلوشہ نے کہاکہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اس کیلئے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں ہم ضرور دیں گے اور کوئی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔
اللہ سب سے بڑا نگہبان ہے مجھے کسی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ١٦ کروڑ عوام مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا میری پہلی خواہش تھی ، دوسری اور آخری خواہش زندگی کے بقیہ دن آزادی سے گزارنا ہےعوام سے مجھے کوئی ڈر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے بعد عوام ہی میرے محافظ ہیںزندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے ،مجھے بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت نہیںنامور ایٹمی سائنسدان کی نجی ٹی وی سے انٹرویو
اسلام آباد ۔ نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے حکومت سے کہا ہے کہ مجھے فوری طور پر آزاد کردیا جائے ۔ میں اپنی زندگی کے بقہ دن آزادی سے گزارنا چاہتا ہوں ۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا میری پہلی خواہش تھی اور اب دوسری اور آخری خواہش زندگی کے بقیہ دن آزادی سے گزارنا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا نگہبان ہے مجھے کسی شخص کی سیکورٹی کی ضرورت نہیں 16 کروڑ عوام مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ان سے مجھے کوئی ڈر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے بعد عوام ہی میرے محافظ ہیں ۔ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے مجھے بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت نہیں ۔ بے نظیر بھٹو بھی بلٹ پروف گاڑی میں ہی شہید ہوئیں ۔ قاضی حسین احمد محب وطن ہیں وہ ہمیشہ ملکی مفاد کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ امریکہ کی بات کرتے ہیں ۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان میں آئے ہوئے 32سال ہوئے اور میں نے 25سال ایٹمی منصوبے کی سربراہی کی اس دوران کئی آرمی چیف آئے مگر مجھے مرزا اسلم بیگ کی دوستی اور فرض شناسی پر فخر ہے ۔ مرزا اسلم بیگ ہی صرف ایسے آرمی چیف تھے جن پر نہ صرف پاکستانی فوج بلکہ پوری قوم کو فخر ہے مرزا اسلم بیگ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اقتدار کو ٹھکرایا اور ملک میں جمہوریت لے کر آئے ۔ اگر وہ چاہتے تو 17اگست کو اقتدار پر قبضہ کر لیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور غلام اسحاق خان کو بل کر اقتدار ان کے حوالے کردیا اور فوج کو اس چکر سے نکال لیا مرزا اسلم بیگ انتہائی ذہین اور سمجھدار شخص ہیں دنیا کے معاملات پر ان کی گہری نظر ہے اور انتہائی بہادر انسان تھے ۔ امریکی دھمکیاں انہیں مرغوب نہ کر سکیں ۔ ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں مرزا اسلم بیگ اور جنرل وحید کاکڑ نے میری بہت مدد کی اور کام میں ہاتھا بٹایا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ جو شخص پاکستان کے مفاد کو عزیز رکھتا ہے وہ کبھی کسی کے دباؤ سے مرغوب نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ہمیشہ ملک کے مفاد کی بات کرتے ہیں مگر دوسرے امریکہ کو خوش کرنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ جنرل چشتی بھی بہادر شخص ہیں جب ہم نے ایٹمی منصوبہ شروع کیا یہ اس وقت راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے ۔ انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں ہماری بہت مدد کی اور ہر قسم کا تعاون فراہم کیا ۔ اس پروگرام کے لئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کیں ۔ کرنل عبد الرحمان نے بھی اچھے انسان ہیں یہ تمام لوگ بڑے محب وطن ہیں ان کے میرے متعلق جو بیانات اور ہمدردیاں ہیں میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دھیر ے دھیرے حالات ٹھیک ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو اصل حقائق کا پتہ چلتا جارہا ہے ۔ جنرل (ر ) مرزا اسلم لیگ اور جنرل (ر ) جمشید کیانی ، جنرل (ر ) حمید گل نے تمام باتیں بتا دی ہیں ۔ واقعات کبھی چھپتے نہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہمیشہ ایمانداری اور سچی بات ہی کرنی چاہیے ۔ سٹیل ملز کے سابق چیئر مین جنرل (ر ) عبدالقیوم نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں کیسے بے ایمانی ہوئی اور اسے کتنا نقصان پہنچایا جارہا تھا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ایماندار لوگوں کی کمی نہیں ۔ حق و سچ کی بات کرنے والے بہت سے موجود ہیں ۔ دوسرے کئی قومی اثاثوں کو اونے پونے بیچا جارہا تھا مگر انہیں روک لیا گیا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ جن لوگوں کی ملک کیلئے خدمات ہیں وہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ میں نے بہت صبر کرلیا ہے اب مزید صبر کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات میں نے حکومت کو بھی بتا دی ہے ۔ جنرل چشتی اور دیگر کے دوست اگر مجھے ملنے کے لئے آنا چاہتے ہیں میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں وہ ضرور آئیں میں انہیں اپنے ہاتھوں سے چائے کافی پلاؤں گا اور پکوڑے اور سموسے کھلاؤں گا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے 1971ء کی اپنی فوجیوں کی شکست دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس کے بعد میں نے ایٹم بم بنانے کا تہیہ کیا اور اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور انہوں نے مجھے فوراً ہی بلا لیا ۔ یہ کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے وہ بہت دور اندیش تھے کہ انہوں نے میرا خط ملتے ہیں مجھے فوراً بلا لیا اور اس پروگرام کے لئے مجھے دنیا بھر کی سہولتیں فراہم کیں ۔ پروگرام کی تکمیل کا کریڈیٹ بھٹو اور میرے ساتھیوں کو جاتا ہے جنہوں نے بڑی محنت اور لگن سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں میری معاونت کی ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جس کے کہنے پر میں نے لبیک کی ان میں سے کسی نے بھی میرے متعلق ہمدردی کا کوئی ایک لفظ نہیں بولا اور اب مجھے امید ہے کہ وہ ضرور بولیں گے ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے پذیرائی نہیں ملی ۔ لوگوں کو میری آزادی کے بارے میں خواہ مخواہ غلط فہمی میں ڈال دیا گیا ہے ۔ میں آزاد نہیں ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ امید کرتا ہوں مجھے آزادی ملے اور میں آزادی نے ادھر ادھر آجا سکوں اور اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے مل سکوں ۔ موجود ہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مجھے مکمل طور پر آزاد کردے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے سیکورٹی رسک کے لئے حفاظت میں رکھا گیا ہے ۔یہ بالکل بکواس ہے ۔ لوگ میرے ساتھ محبت کرتے ہیں مجھے اپنے ملک میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سب سے بڑا محافظ اللہ کی ذات ہے اور اس کی بعد 16کروڑ عوام میرے محافظ ہیں ۔ مجھے اس ملک میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے ۔بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر اپنے آپ کو بچانا ایمان کی کمزور ی اور اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہے ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے میں نے اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو اللہ رب العزت کے سپرد کیا ہوا ہے مجھے پاکستانی قوم سے قطعی کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ خود میری محافظ ہے میں آزادی چاہتا ہوں میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ بہادری کا قدم دکھائے اور میرے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ ایک ڈکٹیٹر نے پچھلے 8سالوں میں چیف جسٹس اور مجھ سمیت جسے چاہا اٹھا کر اندر بند کردیا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے ۔
درہ آدم خیل۔ سات سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا
رہا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق تور چپر، شیراکی اور زرغون قبیلوں سے ہے
درہ آدم خیل۔ پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغواء کیے جانے والے سات سکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ اتوار کو درہ آدم خیل کے سیاسی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حراست میں لیے جانے والے سات خاصہ دار اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کو ان کے گھروں سے اغواء کیا گیا تھا۔ رہا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق تور چپر، شیراکی اور زرغون قبیلوں سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رہا ہونے والے اہلکاروں کو کس نے اغواء کیا تھا۔ درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان نے گزشتہ روزصحافیوںسے بات چیت میں میں خاصہ دار اہلکاروں کے اغواء سے لاعملی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سے جنگ بندی ہوچکی ہے اور امن بات چیت بھی جاری ہے، لہذا یہ ان لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو امن کے عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ تقریبا دس دن قبل درہ آدم خیل میں مبینہ مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر ہر قسم حملے بند کرنے اور غیر معینہ مدت تک فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے چند روز بعد حکومت نے درہ آدم خیل سے فوج کو واپس بلاکر ان کی جگہ ملیشیاء فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کر دیا گیا تھا۔
درہ آدم خیل۔ پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغواء کیے جانے والے سات سکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ اتوار کو درہ آدم خیل کے سیاسی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حراست میں لیے جانے والے سات خاصہ دار اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کو ان کے گھروں سے اغواء کیا گیا تھا۔ رہا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق تور چپر، شیراکی اور زرغون قبیلوں سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رہا ہونے والے اہلکاروں کو کس نے اغواء کیا تھا۔ درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان نے گزشتہ روزصحافیوںسے بات چیت میں میں خاصہ دار اہلکاروں کے اغواء سے لاعملی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سے جنگ بندی ہوچکی ہے اور امن بات چیت بھی جاری ہے، لہذا یہ ان لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو امن کے عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ تقریبا دس دن قبل درہ آدم خیل میں مبینہ مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر ہر قسم حملے بند کرنے اور غیر معینہ مدت تک فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے چند روز بعد حکومت نے درہ آدم خیل سے فوج کو واپس بلاکر ان کی جگہ ملیشیاء فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کر دیا گیا تھا۔
بیرون ملک پاکستانی ہمارے سفیر ہیں ان کی فلاح و بہبود کے لئے جامع منصوبہ بنائیں گے ۔ سید یوسف رضا گیلانی

جدہ ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم آئندہ نسلوں کو ایک مضبوط پاکستان دیں گے امید ہے بیرون ملک پاکستانی ہمیشہ کی طرح ملک کا ساتھ دیں گے ہم بیرون ملک معتبر پاکستانیوں کی فلاح بہبود کے لئے جامع منصوبہ بنائیں گے پاکستانی ہنڈی کے ذریعے نہیں بلکہ بینک کے ذریعے رقوم بھیجیں ۔ سعودی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کیا ہے ہم اس کے شکر گزار ہیں وکلاء تحریک میں 90فیصد پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں اس تحریک کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں پی پی پی نے دیں آصف علی زرداری کی خواہش پر تمام سیاسی قوتوں کو حکومت میں شامل کیا گیا ۔ جدہ میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے ۔ وزیر اعظم نے پاکستانیوں سے کہا کہ حکومت کو آپ کی رہنمائی اور تعاون چاہیے ملک کو اس وقت اسی کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح پاکستان کا ساتھ دیتے رہیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں اور انشاء اللہ حکومت اسے پائیہ تکمیل تک پہنچائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے تو تنہا بھی حکومت بنا سکتے تھے مگر آصف علی زرداری کی خواہش پر تمام سیاسی قوتوں کو یکجا کر کے ایک ایسی مخلوط حکومت تشکیل دی ہے جس میں ملک کی بہت سی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور غیر جمہوری قوتیں حکومت کے خلاف صف بند ہیں مگر وہ اپنے مذموم مقاصد اور نا پاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے ۔ اسلام امن کے ذریعہ پھیلا ہے تشدد سے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک میں زیادہ تر لوگ پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ تر لوگ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیں جنہوں نے اس کے لئے جیلیں کاٹیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس تحریک کیلئے جتنی قربانیاں پی پی پی نے دیں ہیں کسی اور نے نہیں دیں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہی عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور عوام کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوششیں کی ہیں کیونکہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہی ہیں ۔ وزیر اعظم نے پاکستانیوں کی طرف سے مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دھانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستان کے تمام مسائل بتدریج حل کیے جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے پاکستانیوں سے کہا کہ اب میرا آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں ہمارا ساتھ دیں اور پنڈی کی بجائے پیسہ بینک کے ذریعہ پاکستان منتقل کریں اس سے ملک کو فائدہ ہو گا اور ملکی معیشت فروغ پائے گی ۔ آخر میں تمام پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور سعودی حکومت کے تعاون کا بھی شکر گزار ہوں ۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے ۔ سعودی حکومت ہمیشہ ہمارے دکھ کا مداوا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہم سعودی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے ۔
پی ٹی سی ایل کی طرف سے لوکل کال کا دورانیہ ٥ منٹ سے کم کر کے ٢ منٹ کرنے اور فری انکوائری کی سہولت ختم کر کے١٧ ، ١٢ کو لوکل کال چارج کرنے کے خلاف عوام
پی ٹی سی ایل کی طرف سے لوکل کال کا دورانیہ 5منٹ سے کم کر کے 2 منٹ کرنے اور فری انکوائری کی سہولت ختم کر کے1217کو لوکل کال چارج کرنے کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی فون صارفین کی بڑی تعداد نے اپنے کنکشن منقطع کروا دیئے ہیں، جس کے نتیجہ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پی ٹی سی ایل کو لاکھوں روپے ماہوار کا مالی خسارہ ہو رہا ہے،یو ننن آ ف جر نلسٹ کے صد ر ر یا ض اختر ا عو ا ن نے ایک بیان میں اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے موقع پر سابق حکمرانوں کی طرف سے عوام کو یہ تاثر دیا گیا تھا کہ نجی شعبہ میں جانے کے بعد پی ٹی سی ایل عوام کو ٹیلی مواصلات کی نہ صرف بہتر سہولیات فراہم کرے گا، بلکہ صارفین کو اس سلسلہ میں خاطر خواہ ریلیف بھی مہیا کیا جائے گا، لیکن نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے نت نئے پیکج لاگو کر کے لوگوں کو مشکلات میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں لوکل کال مفت مہیا کی جارہی ہے، لیکن پی ٹی سی ایل نے لوکل کال کا دورانیہ 5منٹ سے کم کر کے 2منٹ کر دیا ہے، جس کے نتیجہ میں صارفین کے ماہانہ بل 2سے 3گنا بڑھ گئے ہیں، اور اب پی ٹی سی ایل نے انکوائری کی مفت سہولت ختم کر کے 1217پر کال کرنے والے صارفین سے لوکل کال چارجز وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یہ کال بھی 2منٹ دورانیہ پر مشتمل ہو گی، اور اگر انکوائری ڈیوٹی پر مامور آپریٹر کال اٹینڈ کرتے ہوئے لائن پر نہیں آتا تو 2منٹ کے بعد مذکورہ کال ڈبل چارج ہو گی، جو سراسر زیادتی ہے ر یا ض اختر ا عو ا ن نے مزید کہا کہ پی ٹی سی ایل لائن رینٹ کی مد میں صارفین سے ہر ماہ بھاری رقوم وصول کرتاہے،اور اس طرح سروسز کی فراہمی کے عوض صارفین سے مزید پیسے وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے تنگ آ کر صارفین کی بڑی تعداد نے اپنے پی ٹی سی ایل فون نمبرز بند کروا کر مختلف موبائل کمپنیوں کی فراہم کر دہ سہولیات سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث پی ٹی سی ایل کو لاکھوں روپے مالیت کا ماہانہ نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی ایل کے عوام دشمن اقدامات کا سختی سے نوٹس لیا جائے، اور ماہانہ لائن رینٹ ختم کر کے صارفین کو مفت لوکل کال کی سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات عمل میں لائے جائیں
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری کی میاں شہباز شریف کو بلا مقابلہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد
اسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے صدر میاں شہباز شریف کو پنجاب کا بلا مقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کا پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انتخاب جمہوری قوتوں کی فتح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی ان کی قیادت اور صلاحیتوں پر پورا اعتماد کرتی ہے اور ان کی قیادت میں پنجاب دوبارہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان اور باصلاحیت منتظم ہیں اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے صوبے کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے
پرویز مشرف کا سیاست میں کوئی کردار نہیں رہا۔ ۔ ۔ مصطفی کھر

ملتان ۔ سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے کہا ہے کہ اب صدر پرویز مشرف کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں رہا۔ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مصطفی کھر نے کہا کہ پرویز مشرف کا سیاست میں کردار نہایت محدود ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر کے اقتدار سے جانے میں وقت نہایت کم رہ گیا ہے اور اب ان کے پاس محفوظ واپسی کا راستہ بھی نہیں رہا۔ غلام مصطفی کھر نے کہا کہ پرویز مشرف کو باعزت طریقے سے اقتدار سے علیحدہ ہوجانا چاہیے تھا لیکن اب ان کے لئے کوئی راستہ نہیں بچا۔
ایف سی کے آٹھ اہلکار ہمارے قبضہ میں ہیں ۔ طالبان کا دعویٰ
حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیںامریکہ کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ ۔ ۔ طالبان کا اعلان
مہمند ایجنسی ۔ مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے آٹھ ایف سی اہلکار قید میں رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکا کے خلاف جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مقامی طالبان کے رہنما خالد عمر نے ایجنسی کے علاقے میان منڈی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں تاہم حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ طالبان رہنما نے دعویٰ کیا کہ مقامی طالبان کے پاس آٹھ ایف سی اہلکار یرغمال ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں ظلم کر رہا ہے اور امریکا کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔ طالبان دنیا کے ہر خطے میں مظلوموں کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان خواتین کی تعلیم کے مخالف نہیں تاہم خواتین کو پردے کی ترغیب ضرور دیتے ہیں۔
مہمند ایجنسی ۔ مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے آٹھ ایف سی اہلکار قید میں رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکا کے خلاف جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مقامی طالبان کے رہنما خالد عمر نے ایجنسی کے علاقے میان منڈی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں تاہم حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ طالبان رہنما نے دعویٰ کیا کہ مقامی طالبان کے پاس آٹھ ایف سی اہلکار یرغمال ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں ظلم کر رہا ہے اور امریکا کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔ طالبان دنیا کے ہر خطے میں مظلوموں کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان خواتین کی تعلیم کے مخالف نہیں تاہم خواتین کو پردے کی ترغیب ضرور دیتے ہیں۔
امریکی خاتوں اول لارابش افغانستان کے اچانک دورے پر کابل پہنچ گئیں
سعودی قیادت نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کو تیل کی سہولت دینے پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے، سید یوسف رضا گیلانی

جدہ ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سعودی قیادت نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کو تیل کی فراہمی میں سہولت دینے پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے، جدہ میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ملاقات میں غذائی قلت تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مشکلات تیل اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی قیادت نے تیل کی فراہمی پر سہولتیں دینے پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ہمارے سیاس حالات پر تشویشن کا اظہار کیا اور کہا کہ حالات بہتر ہونے چائیں تاکہ پاکستان کے دشمن ان سے فائدہ اٹھاسکیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ سعودی عرب برادری اسلامی ملک ہونے کے ناطے سے ہمارے حالات سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل جلد تلاش کر لیں کے جواب میں سعودی موقف کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی حکومت کی شخصیت کی بجائے پاکستان کی ترقی اور استحکام کے بارے میں فکر مند ہے
میاں شہباز شریف نے اپنے منصب کا حلف اٹھا

٭۔ ۔ ۔ کولیشن گورنمنٹ کے نام پر آئین کی دھجیاں اڑانے کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے، آزاد عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے ۔شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس٭۔ ۔ ۔ صوبہ میں ہر طرح کے قبضہ گروپوں کا خاتمہ کریں گے، مہنگائی پر کنٹرول کیلئے گرین فوڈ سکیم کے اجراء کے علاوہ مانیٹرنگ سسٹم کو موثر بنائیں گے٭۔ ۔ ۔ (ق) لیگ کی حکومت کے دور میں کی گئی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم کو آگاہ کریں گے، نائن الیون کے بعد ملنے والے فنڈز اور قرضہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جاتا تو آج 25 سو میگا واٹ بجلی کی پیداوار بڑھ چکی ہوتی٭۔ ۔ ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا احتساب ہو جاتا تو ملک ٹوٹتا اور نہ ہی آئندہ کسی جرنیل کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی جرات ہوتی ۔ شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس
لاہور۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کولیشن گورنمنٹ میں شامل ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کے معاملہ کو حل کرنے کیلئے آصف علی زرداری سے آج رابطہ کر وں گا تاکہ اس مسئلہ کے حل کے بعد قوم اپنی منزل کی طرف بڑھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے کی جانی چاہیئے ۔ اگر فیلڈ مارشل ایوب خان کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی سزا مل جاتی تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ مشرف کو آئین توڑنے اور ملک میں آمریت قائم کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی موجود تھے ۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ہمارے خاندان کو انتہای اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمارے خاندان کو عکوبت خانوں میں ڈالا گیاٗ آٹھ سال تک جلا وطن کیا گیا اور میرے والد وفات پا گئے تو ان کی میت کے ساتھ خاندان کے کسی فرد کو پاکستان نہ آنے دیا گیا لیکن ہم نے انتقام کی سیاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ماضی میں جو کرپشن کی گئی، غنڈہ گردی کی گئی اور یہاں قبضہ گروپ قائم ہوئے ان کا قانون کے مطابق بے لاگ احتساب کریں اور ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہاں نائن الیون کے بعد فنڈز کے نام پر اور قرض کے نام پر جو کچھ بھی آیا انہیں درست سمت میں استعمال نہ کیا گیا اگر جنرل پرویز مشرف صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کردیتے تو وہ 6 سال میں مکمل ہو جاتی اور ملک کو 25 سو میگا واٹ بجلی میسر آنے کے علاوہ آبپاشی کیلئے پانی بھی مل جاتا ۔ صدر، وزیر اعظم اور اتحادی جماعتوں سے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کولیشن کی آڑ میں ایسے اقدامات کا حصہ ہر گز نہیں بن سکتے جو آئین اور قانون کے منافی ہوں کسی بھی طور آئین کی دھجیاں نہیں بکھیریں گے ۔ عدلیہ کی آزادی کے معاملہ پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں متفق ہیں ۔ صرف ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن ان سے حکومتی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میری یا میاں نواز شریف کی مشرف سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے اس ڈکٹیٹر نے آئین کی دھجیاں بکھیریں اور ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑے کیا ۔ کل تک مشرف ہمیں ٹھڈے مارنے کی باتیں کر رہے تھے آج وہ مفاہمت کیلئے راضی کیسے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان، بلوچستان میں جو کچھ ہوا اور جس طرح جنرل پرویز مشرف نے قوم کا معاشی و سیاسی جنازہ نکالا ان کے ساتھ مفاہمت کیسے کی جا سکتی ہے اور کس طرح انہیں محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں ۔ مانیٹرنگ سسٹم کو فعال کیا جائے گا اور گرین فوڈ سکیم بھی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی آٹے کی قیمت کے حوالہ سے صورتحال دیگر صوبوں کے مقابلہ میں پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر معاشی، سیاسی اور سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے اسی لئے ہم ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت سمیت ہر طرح کے اقدامات لے رہے ہیں ۔ صحافی کالونی کو قبضہ گروپ سے واگزار کروانے کے سوال پر میاں شہبازشریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ملک بھر میں ہر شعبے میں قبضہ گروپ پیدا ہوئے لیکن اب ان کا دور ختم ہو چکا ۔ قبضہ گروپ جہاں پر بھی ہیں اس کا خاتمہ کیا جائے گا ۔
ملک کے ٣٠ سابق سفیروں نے صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ اور مواخذے کا مطالبہ کر دیا

ججز کی بحالی کیلئے وکلاء کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیاسابق سفیروں نے پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کردیاس کے ذریعے سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کی چیکنگ کاخدشہ ہےامریکہ سے ڈکٹیشن لینا یا اُس کے مفادات کا تحفظ کرنا قومی مفاد کے منافی ہےفرض شناس اور باضمیر سرکاری افسر قومی ایشو کے بارے میں حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کرتے ہیںمارشل لاء کے دور میں اگر ملازمت چھوڑ دیتے تو اس سے آمریت کے مقاصد پورے ہوتےسابق سیکرٹریز خارجہ شمشاد احمد خان ، ریاض کھوکھر ، اکرم ذکی ، ایس ایم قریشی اور دیگر کی مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد۔ ملک کے 30سابق سفیروں نے صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ اور مواخذے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ججز کی بحالی کیلئے وکلاء کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا۔سابق سفیروں نے پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی مفاد کے منافی قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیاہے کہ اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کی چیکنگ ہو سکتی ہے۔ان سابق سفیروں میں شمشاد احمد خان،ریاض کھوکھر ، اکرم ذکی ،ڈاکٹر ایس ایم قریشی، ڈاکٹر مقبول بھٹی ، نجم الثاقب خان، گل حنیف ، عظمت حسین ،توقیر حسین ،سلیم نوازخان گنڈا پور، اقبال احمد خان،اسلم رضوی ، کامران نیاز، جاوید حفیظ ، نذر عباس ، راشدسلیم خان، ایاز وزیر ،وزارت خارجہ کے سابق اسپیشل سیکرٹری شیر افگن خان شامل ہیں ۔سابق سفیروں نے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ بھرپور تعاون کیاجائے گا ۔ صدر پرویزمشرف غیر آئینی صدر ہیں پوری قوم کا مطالبہ ہے وہ مستعفیٰ ہوں انتخابی مینڈیٹ کے مطابق ان کا مواخذہ کیاجائے ۔ اتوار کواسلام آباد پریس کلب میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سابق سفیروں کے اس تیس رکنی گروپ کی جانب سے وکلاء تحریک کی حمایت میں بیان پڑھا۔ ریاض کھوکھر اور دیگر سابق سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے سابق سفیروںکے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی ججز کی بحالی آئین کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ، فریڈم آف پریس ، حقیقی جمہوریت کے حوالے سے جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ آئین میں واضح طورپر کہا گیا ہے عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق حکومت قائم ہو گی ۔10جون سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں سابق سفیر بھرپور طور پر شرکت کریں گے ۔ حکومت ججز کی بحالی میں ناکام ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے برطرف کیاگیا۔ تین نومبر 2007ء کو ایمر جنسی اور پی سی او غیر آئینی تھا تین نومبر 2007ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے جاری ان غیر آئینی ، غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہیں ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لاء مسلط کیاگیا۔آئین کی خلاف ورزی کی گئی ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی سلب کی گئی ، بنیادی حقوق پامال کئے گئے ۔پی سی او اور ایمر جنسی کا جواز نہیں تھا۔انہوںنے کہاکہ تین نومبر 2007ء کو سپریم کورٹ کے پی سی او اور ایمر جنسی کے خلاف فیصلے پر عملدر آمد ہونا چاہیے ۔اٹھارہ فروری کو عوام نے پرویزمشرف اور آمریت کے خلاف فیصلہ دیا9مارچ 2008ء کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اعلان مری کے ذریعے ججز کی بحالی کا وعدہ کیا ۔ وفاقی حکومت عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔سابق سفیروں نے واضح کیاہے کہ آئینی پیکج اور عدلیہ کے بارے میں اصلاحات ججز کی بحالی کے خلاف ہے آئین کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ کے خلاف دباؤ کو مسترد کرتے ہیں۔آئین ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ، شہری آزادیوں ، سیاسی استحکام ، سماجی انصاف ، معاشی ترقی ، قومی سلامتی کیلئے ، آزاد عدلیہ ضروری ہے ۔ مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہاکہ با ضمیر سرکاری افسران اپنی مدت ملازمت کے دوران جس معاملے کے بارے میں اختلاف رائے ہو حکومت کو اس سے آگاہ کر دیتے ہیں ۔سابق سیکرٹری خارجہ نے بھی ایسے ہی ایشو کے حوالے سے حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والے سرکاری افسران آمریت کے دور میں اگر اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں تو اس سے تو آمریت کو تقویت ملتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ فرض شناس افسران ہمیشہ قومی مفاد کے مطابق اپنی رائے سے حکومت کو آگاہ کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ، ریاست کی جانب سے ناکامی کا اعتراف ہے۔حریری کمیشن والا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ناں اقوام متحدہ کا منشور اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی ملک میں ہونے والے جرم کی تحقیقات کی جائے ۔ لبنان میں سیاسی بحران تھا وہاں کے صدر رفیق الحریری کے مخالف تھے لبنان کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بھی تھا اس لئے اس معاملے کی تحقیقات اقوام متحدہ نے کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ملکی مفاد کے منافی ہے ریاض کھوکھر نے کہاکہ خارجہ امور ایک مشکل کام ہے ملکی صورتحال میں خارجہ امور کا اہم کردار ہوتا ہے خارجہ پالیسی کے حوالے سے دفتر خارجہ اپنے آپشن سے حکومت کو آگاہ کرتا ہے دفتر خارجہ میں لوگ چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے ہوتے اپنے کام سے آگاہ ہوتے ہیں ملکی مفاد کے مطابق رائے کا اظہار کیاجاتا ہے اور اپنے تجزیے کے مطابق خارجہ پالیسی کے بارے میں تجاویز دی جاتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امریکہ سے ڈکٹیشن لینا یا اس کے مفادات کا تحفظ کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے لیکن کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔جب ہماری سیاسی قیادت دن رات امریکہ سے رابطے میں رہے دفتر خارجہ کیاکر سکتا ہے۔اکرم ذکی نے کہا کہ آپ خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں مجھے ملک میں کوئی حکومت ہی نظر نہیں آرہی ہے ۔ وزیراعظم نے حلف لینے سے پہلے ججز کی رہائی کا حکم جاری کیا مگر حلف اٹھانے کے بعد کوئی اعلانات نہیں کئے۔ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے بتایا کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کے چپٹر سیون کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت بے نظیر بھٹو کی تحقیقات کی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے لیکن اس سے سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی اہم تنصیبات کے جائزہ کا خدشہ ہے کیونکہ سلامتی کونسل میں ہمارے ہمدرد ، دوست اور مخلص نہیں بیٹھے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ سابق سفیر لاہو رسے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے ہر طرح کا تعاون کیاجائے گا ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے کہاکہ پرویز مشرف کا استعفیٰ پوری قوم کا مطالبہ ان کامواخذہ ہونا چاہیے یہی عوامی مینڈیٹ کا تقاضا ہے ۔
پرویز مشرف کو آئینی صدر تسلیم نہیں کرتے ان کے ساتھ صرف ورکنگ ریلشن شپ ہے، آصف علی زرداری

عدلیہ کا مسئلہ بھی ضرور حل ہو گا اور ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گاپیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی جدہ میں صحافیوں سے گفتگو
جدہ ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پرویز مشر ف کو آئینی صدر تسلیم نہیں کرتے ان کے ساتھ صرف ورکنگ ریلشن شپ ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اب صدر مشرف سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مسئلہ بھی ضرور حل ہو گا اور ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہم نے کبھی کسی ڈکٹیٹر کا سہارا نہیں دیا ۔ جدہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ اور صدر کے درمیان تصادم کے بجائے اداروں کے اختیارات میں توازن چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم جو توقعات لے کر سعودی عرب آئے تھے وہ پوری ہو گئی ہیں ہم نے جب بھی سعودی عرب سے تعاون طلب کیا سعودی قیادت نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانا کے لیے سعودی عرب میں اپنے قیام میںتوسیع کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اقتصادی استحکام اورجمہوریت کا فروغ ہے انہوں نے کہا کہ ہم مشکلات کو مواقع میں بدلنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں ایک سوال پر سنیٹر آصف علی زردای نے کہا کہ بجٹ میں معاشرے کے غریب طبقے کے خصوصی ریلیف دیں گے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خصوصی کارڈ کا اجراء کر رہے ہیں جس پر غریب خواتین کو 1500پندرہ سو رپے تک کی امداد مل سکے گی اور اس امداد کو اس سال بڑھا کہ 3000 ہزار روپے کریں گے آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کے مطابق ملک میں خواتین کو بااختیار بنائیں گے
میاں شہباز شریف نے اپنے منصب کا حلف اٹھا

٭۔ ۔ ۔ کولیشن گورنمنٹ کے نام پر آئین کی دھجیاں اڑانے کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے، آزاد عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے ۔شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس٭۔ ۔ ۔ صوبہ میں ہر طرح کے قبضہ گروپوں کا خاتمہ کریں گے، مہنگائی پر کنٹرول کیلئے گرین فوڈ سکیم کے اجراء کے علاوہ مانیٹرنگ سسٹم کو موثر بنائیں گے٭۔ ۔ ۔ (ق) لیگ کی حکومت کے دور میں کی گئی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم کو آگاہ کریں گے، نائن الیون کے بعد ملنے والے فنڈز اور قرضہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جاتا تو آج 25 سو میگا واٹ بجلی کی پیداوار بڑھ چکی ہوتی٭۔ ۔ ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا احتساب ہو جاتا تو ملک ٹوٹتا اور نہ ہی آئندہ کسی جرنیل کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی جرات ہوتی ۔ شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس
لاہور۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کولیشن گورنمنٹ میں شامل ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کے معاملہ کو حل کرنے کیلئے آصف علی زرداری سے آج رابطہ کر وں گا تاکہ اس مسئلہ کے حل کے بعد قوم اپنی منزل کی طرف بڑھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے کی جانی چاہیئے ۔ اگر فیلڈ مارشل ایوب خان کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی سزا مل جاتی تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ مشرف کو آئین توڑنے اور ملک میں آمریت قائم کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی موجود تھے ۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ہمارے خاندان کو انتہای اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمارے خاندان کو عکوبت خانوں میں ڈالا گیاٗ آٹھ سال تک جلا وطن کیا گیا اور میرے والد وفات پا گئے تو ان کی میت کے ساتھ خاندان کے کسی فرد کو پاکستان نہ آنے دیا گیا لیکن ہم نے انتقام کی سیاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ماضی میں جو کرپشن کی گئی، غنڈہ گردی کی گئی اور یہاں قبضہ گروپ قائم ہوئے ان کا قانون کے مطابق بے لاگ احتساب کریں اور ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہاں نائن الیون کے بعد فنڈز کے نام پر اور قرض کے نام پر جو کچھ بھی آیا انہیں درست سمت میں استعمال نہ کیا گیا اگر جنرل پرویز مشرف صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کردیتے تو وہ 6 سال میں مکمل ہو جاتی اور ملک کو 25 سو میگا واٹ بجلی میسر آنے کے علاوہ آبپاشی کیلئے پانی بھی مل جاتا ۔ صدر، وزیر اعظم اور اتحادی جماعتوں سے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کولیشن کی آڑ میں ایسے اقدامات کا حصہ ہر گز نہیں بن سکتے جو آئین اور قانون کے منافی ہوں کسی بھی طور آئین کی دھجیاں نہیں بکھیریں گے ۔ عدلیہ کی آزادی کے معاملہ پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں متفق ہیں ۔ صرف ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن ان سے حکومتی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میری یا میاں نواز شریف کی مشرف سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے اس ڈکٹیٹر نے آئین کی دھجیاں بکھیریں اور ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑے کیا ۔ کل تک مشرف ہمیں ٹھڈے مارنے کی باتیں کر رہے تھے آج وہ مفاہمت کیلئے راضی کیسے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان، بلوچستان میں جو کچھ ہوا اور جس طرح جنرل پرویز مشرف نے قوم کا معاشی و سیاسی جنازہ نکالا ان کے ساتھ مفاہمت کیسے کی جا سکتی ہے اور کس طرح انہیں محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں ۔ مانیٹرنگ سسٹم کو فعال کیا جائے گا اور گرین فوڈ سکیم بھی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی آٹے کی قیمت کے حوالہ سے صورتحال دیگر صوبوں کے مقابلہ میں پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر معاشی، سیاسی اور سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے اسی لئے ہم ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت سمیت ہر طرح کے اقدامات لے رہے ہیں ۔ صحافی کالونی کو قبضہ گروپ سے واگزار کروانے کے سوال پر میاں شہبازشریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ملک بھر میں ہر شعبے میں قبضہ گروپ پیدا ہوئے لیکن اب ان کا دور ختم ہو چکا ۔ قبضہ گروپ جہاں پر بھی ہیں اس کا خاتمہ کیا جائے گا ۔
پرویز مشرف فی الفور مستعفی ہوں تاکہ حکومت مسائل پر قابو پانے کیلئے کام کرسکے، میاں شہبازشریف کا وزیراعلی پنجاب منتخب ہونے پر ایوان سے خطاب

جنرل کیانی آٹھ سالوں میں سیاسی رہنماؤں وکارکنوں پر مظالم کرنے والے فوجی افسران کو قرار واقعی سزا دیں٭۔ ۔ ۔ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے لیکن آٹھ سالوں میں سیاسی کارکنوں پر مظالم کا قانون کے تحت حساب لیا جائیگا، انصاف، تعلیم اور زرعی اصلاحات ہماری اولین ترجیحات ہوں گی٭۔ ۔ ۔ بجٹ میں لوئر جوڈیشری، اساتذہ اور محنت کشوں کی مالی حالت بہتر کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کا اعلان کریں گے، آئندہ سال کے آخر تک تمام ہائی سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز ہوجائیگا٭۔ ۔ ۔ جنرل مشرف کا سب سے بڑا جرم پاکستان کے عوام کو بجلی اور پانی سے محروم کرنا ہے، زرعی اراضی بنجر بنادی گئی ہے، آتے ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرتے تو آج پاکستان کو زرعی بدحالی کا سامنا نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں شہبازشریف کا وزیراعلی پنجاب منتخب ہونے پر ایوان سے خطاب
لاہور۔ نومنتخب وزیراعلی پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں تاکہ حکومت کو اپنا کام کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی مطالبہ کیا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران جن میجر اور کرنل صاحبان نے سیاسی ورکروں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم سیاسی ورکروں پر مظالم کرنے والوں سے قانون کے تحت حساب لیا جائے گا۔جنرل پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم پاکستان کی زرعی زمین کو بنجر بنانا تھا۔ ہماری اولین ترجیح عوام کو انصاف کی فراہمی ، تعلیم کا فروغ اور زرعی اصلاحات ہوں گی۔ اس مقصد کیلئے ان شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے 347کے ایوان میں 265ووٹ لئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر ابھی ضمنی الیکشن ہونا باقی ہے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام اور ایوان کے ارکان نے ان پر جو اعتماد کیا ہے وہ ایمانداری کے ساتھ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران پاکستان کے ہر گلی کوچے میں ظلم وزیادتی کا بازار گرم رہا۔ سیاسی کارکنوں سے دہشت گردوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ میں ایوان کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے بے انصافی کی ، ورکروں اور سیاسی رہنماؤں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا ان سے قانون کے مطابق حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے بھی مطالبہ کیا کہ جن فوجی افسران نے گذشتہ آٹھ سال کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں وکارکنوں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے انتخابات سے 48گھنٹے پہلے اپنے اس وعدے کو دوہرایا تھا کہ اگر ان کے حامیوں کو شکست ہوئی تو وہ گھر چلے جائیں گے۔18فروری کے انتخابات میں قوم نے انہیں مسترد کردیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ خلافی کی اور استعفیٰ نہیں دیا۔ میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں تاکہ حکومت کو قوم کو بحران سے نکالنے اور مسائل کا حل کرنے کیلئے کام کرنے کا موقع ملے۔ اگر وہ نہیں بھی جاتے تو مشرف آمریت آج آخری سانس لے رہی ہے۔ اس ملک سے مشرف اور اس کی باقیات کا مکمل طور پر خاتمہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر جنرل (ر) پرویز مشرف آٹھ سال کے دوران محض سیاسی انتقام کی بجائے تعمیری کام کرتے ، آتے ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرواتے تو آج پاکستان کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا نہ ہوتا اور نہ ہی کسانوں کو پانی کا بحران درپیش آتا۔ پاکستان کی زرعی زمین بنجر ہونے سے بھی بچ جاتی۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کے حامیوں نے ایوان میں بیٹھنے کی بجائے اسمبلی کے باہر کیمپ لگایا جو کیمپ چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اب اسی طرح مشرف بھی بھاگنے والے ہیں۔ وہ ڈھٹائی کے ساتھ زیادہ عرصہ تک ایوان صدر میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان میں رشوت اور دھونس ودھاندلی کا بازار گرم رکھا گیا۔ دھونس اور دھاندلی سر بازار ناچ رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناچ کو بند کریں۔ تھانے عقوبت خانوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ شریف آدمی تھانے جانے سے ڈرتا ہے کیونکہ وہاں مظلوم کو مزید ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چور وچودھری اپنے پیسے کے زور پر وہاں مظلوم بن جاتے ہیں۔ اب قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ کچہریوں میں ناانصافی ہے، اس ناانصافی کو دور کرنے کیلئے ہمیں ماتحت عدلیہ میں اصلاحات لانا ہوں گی اور اس کے ججوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا لیکن ابھی بھی ہمارے پاس بہت مواقع موجود ہیں۔ جنوبی کوریا اور چین جو ہم سے بہت پیچھے تھے اگر اپنی محنت سے آج مضبوط معیشت قائم کرچکے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران احتساب کا مضبوط نظام قائم نہیں کیا جاسکا۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو برباد کیا جاتا رہا۔ سابق دور حکومت میں مشرف نے اربوں روپے اپنے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے۔ (ق) لیگ کے سابق وزیراعلی نے گذشتہ سال صرف جولائی سے نومبر تک اپنی ذاتی تشہیر پر ڈھائی ارب روپے خرچ کردیئے لیکن ہم قوم کی دولت کو اس طرح ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے مزید کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی جو ایسے منصوبے تیار کریں گی جس سے صوبہ میں ترقی اور خوشحالی آسکے۔ اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سب سے زیادہ زور انصاف کی فراہمی پر دیا جائے گا کیونکہ کوئی بھی قوم انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ تعلیم کی پرموشن دوسرا ہدف ہوگا، ملک میں آئینی ایمرجنسی نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے آخر تک پنجاب کے تمام ہائی سکولوں میں جن کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے کمپیوٹر تعلیم کا آغاز کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں کسی بھی ذہین طالب علم کا تعلق خواہ گجرات سے ہو، لیہ سے ہو یا کسی دوسرے علاقہ سے اگر وہ میرٹ پر تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتا ہے اور اس کے والدین اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو اس طالب علم کی کفیل خود پنجاب حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیسری ترجیح زرعی اصلاحات ہوں گی اور میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ تین ماہ کے اندر پنجاب بھر میں انسانی اور زرعی جعلی ادویات کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تاہم ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، انقلابی اقدامات کے ذریعے ملک کو پھر سے زرعی ملک بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اس وقت 2500میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کے وجہ سے ہسپتالوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث مریض دم توڑ جاتے ہیں کیونکہ سرکاری تو کجا پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ہسپتالوں کے پاس جنریٹر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسائل سے 350میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی لیکن ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ عوام کو غربت ، مہنگائی، خودکشیوں اور خراب امن وامان کی صورتحال سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کیلئے چھ ہزار روپے تنخواہ ناکافی ہے۔ اساتذہ ہمارے سروں کے تاج ہیں، ہم ان سب کیلئے بجٹ میں انقلابی اعلانات کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی جمہوریت کی بحالی اس کیلئے صعوبتیں برداشت کرنے اور قوم کی بہترین قیادت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا
Subscribe to:
Posts (Atom)

