International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Thursday, June 26, 2008

NWFP PA passes budget 2008-09




PESHAWAR:The NWFP Assembly on Thursday passed the annual budget for the fiscal year 2008-09 with a total outlay of Rs.170 billion with the adoption of Finance Bill.Speaker Karamatullah Khan was in the chair.
The house earlier adopted 39 demands for grants pertaining to various departments after the opposition members withdrawn all their cut motion paving the way for smooth passage of the first annual budget of the NWFP coalition government led by PPP and ANP.

راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن ) نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کرلی

راولپنڈی ۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح راولپنڈی میں بھی جمعرات کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات میں راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن ) نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کرلی ۔ انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55سے (ن ) لیگ کے امیدوار حاجی پرویز خان نے 36604ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے امیدوار (ن ) لیگ کے منحرف راہنما اعجاز خان جازی 11052ووٹ لیکر دروسرے نمبر پر رہے ۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52سے مسلم لیگ (ن ) کے امیدوا ر و سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کپٹن (ر ) صفدر نے 23000ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ان کے مد مقابل ( ق) لیگ کے امیدوار و سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کے بھائی دوسرے نمبر پر رہے اگرچہ حلقہ این اے 55سے سابق وفاقی وزیر کی حمایت یافتہ و( ق) لیگ کی نامزد خاتون امیدوار بیگم نسیم علی سمیت مجموعی طور پر 17امیدوار میدان میں تھے ۔ تاہم یہاں پر حاجی پرویز اور جازی خان میں ون ٹو ون مقابلے کا ماحول رہا ۔ اس طرح جازی خان نے اپنے رہائشی حلقہ کے پولنگ سٹیشن میں 2135جبکہ ان کے مد مقابل (ن ) لیگ حای پرویز خان نے 1998ء ووٹ حاصل کیے ۔ راولپنڈی میں پولنگ مجموعی طور پر پر امن رہی تاہم ووٹ پول ہونے کی شرح انتہائی کم رہی ۔ پولنگ کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

منڈی بہاؤ الدین حلقہ پی پی ١١٨ کے اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر ووٹوں اور نتائج سمیت اغواء

منڈی بہاؤ الدین ۔ کے حلقہ پی پی 118کے اسسٹنٹ پر یذائیڈنگ افسر کو نا معلوم افراد نے ووٹوں اور نتائج سمیت اغواء کرلیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب حلقہ پی پی 118سے میجر ذوالفقار علی گوندل اور احمد خان بھٹی کے درمیان مقابلہ تھا اور آزاد امیدوار لیاقت علی رانجھا بھی اسی حلقے سے امیدوار تھے اس حلقہ کے نواحی گاؤں سپٹا کے پولنگ اسٹیشن کے اسسٹنٹ پریڈائیڈنگ افسر تاج بارڑ حلیق کے نتائج اور ووٹ لے کر عدالت کی طرف جارہا تھا کہ اس کو نا معلوم مسلح افراد نے نتائج سمیت اغواء کر کے نا معلوم مقام پر لے گئے ہیں ۔ عدالتی اور پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کچھ نا معلوم افراد جو گاڑیوں پر سوار تھے پریذائیڈنگ افسر کو اغواء کر کے لے گئے ہیں ۔ پولیس کی بھاری نفری بھیج دی گئی ہے جبکہ عوامی حلقوں اور عدالتوں ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انہیں پیپلز پارٹی کے لوگوں نے کیا ہے ۔ کیونکہ اغواء کاروں کی گاڑیوں پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگے ہوئے تھے ۔ تاہم ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اغواء کر کے کہاں لے گئے ہیں ۔ تاہم انہیں تلاش کیا جارہا ہے ۔

ایک سنیئرمعزول جج نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وزیر اعظم اور حکمران اتحاد کے قائدین کو مجوزہ آئینی پیکج بھیج دیا ، اطہر من اللہ کی تردید

اسلام آباد۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک سنیئرمعزول جج نے عدلیہ کی بحالی کے لیے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور حکمران اتحاد نے قائد ین کو مجوزہ آئینی پیکج بھیج دیا ہے تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 3نومبر پی سی او کی معطلی اور پی سی او کے تحت حلف کے اٹھانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ 3نومبر 2007ء کے اقدامات غیر آئینی غیر قانونی ہیں ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق سینئر معزول جج نے مجوزہ آئینی پیکج کے بارے میں دیگر ججز سے بھی مشاورت کی ہے۔ حکمران اتحاد میں ججز کی بحالی کے حوالے سے اختلاف رائے کی وجہ سے یہ پیکج قائم کیا گیا ہے۔ جس میں عدلیہ کی 2 نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحالی کے بارے میں کہا گیا ہے پیکج میں مائنس ون یا ٹو کا فارمولا نہیں ہے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججز کی بحالی اوسینارٹی برقرار رکھنے کے حوالے سے تجاویز کی گئیں ہیں تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ معزول ججز نے کوئی آئینی پیکج تجویز کیا ہے نہ کریں گے ججوں کی طرف سے کسی قسم کا آئینی پیکج حکومت کو پیش کیے جانے کی خبر میں صداقت نہیں میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججز کی طرف سے کسی قسم کا آئینی پیکج حکومت کو پیش کیے جانے کی خبر بالکل جھوٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ہمیں یہ خبر سن کر بڑا تعجب اور حیرانی ہوئی ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی یہ خبر سن کر بڑا تعجب ہوا۔باقی جج صاحبان بھی حیران ہوئے ہیں جج صاحبان نے نہ کوئی پیکج دیا ہے اور نہ ہی دیں گے ، سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کا آرڈر 3 نومبر کا محفوظ ہے اور اس کے مطابق ہی سب کچھ ہو رہا ہے ججز معزول نہیں صرف انہیں کام سے روک دیا گیا ہے اطہر من اللہ نے کہا کہ اس طرح کی خبرینںوکلاء تحریک کو ناکام کرنے کی ایک کوشش ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ۔جج صاحبان نے اس کی سختی سے تردید کی ہے وہ کسی قسم کی Condemnity دیتے ہیں نہ وہ کسی قسم کا پیکج دیتے ہیں نومبر کے اقدامات غیر آئینی اور غیر قانونی تھے سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سات نومبر کو واضح الفاظ میں پی سی او کو معطل کیا تھا اور روکا گیا تھا کہ کوئی بھی اس پی سی او کے تحت نہ حلف لے گا اور نہ دے گا میں اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔

پاکستا ن میں انتہا پسندوں کو اپنی طرز کا اسلام نافذ نہیں کرنے دیں گے ۔ سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ عوام نے انتخابات میں جدت پسند قوتوں کو واضح مینڈیٹ دیا ہے او رہم نے عوامی نمائندہ حکومت تشکیل دے کر ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کا عزم کیاہے۔ ان خیالات کا اظہار آج انہو ں نے امریکی پبلک افیئر کمیٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے وفود سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا وزیراعظم نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال اور ملکی معیشت کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں معیشت کی بہتری اور ترقی کیلئے حکومت داخلی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی ہے ان عناصر سے مذاکرات کئے جارہے ہیں جنہوں نے ہتھیار ڈال کر سیاسی عمل کا حصہ بن گئے ہیں دوسرے ان علاقوں میں معاشی بہتری لائی جائے گی اور اگر ان علاقوں میں معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو پھر فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان انتہا پسندوں کو اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اورحکومت ملک میں جمہوری استحکام پارلیمانی بالادستی اور 1973کے آئین کی بحالی چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں جمہوریت پٹڑی سے نہ اترے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی وفاقی پارٹی ہے وزیراعظم نے وفد کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ اسلام اور پاکستان کا صحیح تشخص پیش کرنے میں مدد کریں اور مغرب میں پاکستان اور اسلام کے خلاف پائی جانے والی غلط فہمیوں کو کم کرنے کیلئے کوشش کریں انہوں نے کہاکہ پاکستان کو توانائی اور ڈیموں کی تعمیر کیلئے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ وزیراعطم نے وفود سے کہاکہ وہ امریکہ اور برطانیہ کے تاجروں کو حکومت کی سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں سے متعارف کرائیں تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے وفد کے رہنماؤںنے وزیراعظم کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں قابل تحسین ہیں وفد میں ڈاکٹر رضا بخاری ، پرویز لودھی ، فرید خان ، محمد ارشاد کھوکر اور ڈاکٹر شاہد طاہر شامل تھے ۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیےحکومت کو راغب کریں، میر واعظ عمر فاروق کی نوازشریف سے درخواست

لاہور ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے راہنماؤں نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے راہنما میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ حریت کانفرنس کے وفد کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے تھے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی ۔ ملاقات کے دوران میر واعظ عمر فاروق نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اپنی ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔ اور نوازشریف کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح انہوں نے اپنے سابق دور میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جو اقدامات کیے تھے اسی طرح کے اقدامات کے لیے حکومت کو راغب تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو سکے۔ انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ جس طرح انہوں نے 1997ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور ان سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی تھی اسی طرح اب بھی من موہن سنگھ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے اور تمام سیاسی راہنما بیٹھ کر ان سے بات کریں۔ نواز شریف نے انہیں یقین دلایا کہ اس سلسلے میں وہ حکومتی جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کریں گے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت جامع مذاکرات میں ٹھوس موقف اختیار کریں۔

مجھے مکمل آزادی چاہیئے ، دیوار سے لگائے جانے کے بعد اب کسی کی پرواہ نہیں کروں گا۔ ڈاکٹر قدیر خان

اسلام آباد۔ معروف ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ انہیں مکمل آزادی چاہیئے ۔ دیوار سے لگائے جانے کے بعد اب وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ٹیلی فون پر ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت ہی ان کی رہائی میں رکاوٹ بن گئی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ وہ اپنی مکمل آزادی کے لیے ہر مناسب طریقہ اختیار کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صدر پرویز مشرف کے ملک توڑنے کے حوالے سے اپنے سے منسوب بیان کی تردید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں گمراہ کن اور شر انگیز ہیں تاہم جوہری سائنسدان نے کہا کہ سرحد اور بلوچستان کی صورت حال سے دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک بچانے کے لیے حکومت کو داخلی صور تحال بہترکرنا ہو گی ۔

افغان صدر پر حملے میں پاکستان ملوث نہیں۔ کرزئی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ۔ترجمان دختر خارجہ

اسلام آباد ۔ ترجمان دفتر خارجہ محمد صادق نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گئی امداد کی تحقیقات کروانا ضروری نہیں ہے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی 8 جولائی کوا لالمپور میں جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا جائیں گے۔ 31 دسمبر 2009 ء تک پاکستان سے تمام افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ صدر کرزئی پر حملے کے حوالے سے افغان انٹیلی جنس کی رپورٹس غلط ہیں اس میں افغان وزارت دفاع کے لوگ ہی ملوث پائے گئے ہیں افغان حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی کوپاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزائن تک رسائی نہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کی دعوت پر آج 27 جون سے چار روزہ دورے پر بھارت جائیں گے جہان وہ بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات میںد ونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور خطے میں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات پر بات چیت کریںگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور دوسرے سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریںگے۔ ا س کے علاوہ وزیر خارجہ بھارت میں سنٹر فار ریسرچ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ میں بھی خطاب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی چار سے آٹھ جولائی کوالالمپور میں ہونے والے جی ایٹ ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے 8 جولائی کو ملائیشیا جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ‘ افغانستان اور نیٹو کے سہ فریقی کمیشن میں یہ طے پا چکا ہے کہ 31 دسمبر 2009 ء تک پاکستان سے تمام افغان مہاجرین ا پنے ملک واپس چلے جائیں گے اور پاکستانی حکومت اس کے مطابق ہی عملدرآمد کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے افغان صدر حامد کرزئی پر حملے کی مذمت کی تھی پاکستان اس حملے میں ملوث نہیں ہے اس طرح کی خبریں بے بنیاد اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا حصہ ہیں بلکہ افغان صدر پر حملے میں افغان وزارت دفاع کے حکام ہی ملوث پائے گئے تھے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اپنائے کیونکہ ایک دوسرے کے خلاف الزامات سے نہ تو ماضی میں کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی فائد ہ ہو گا انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا یہ دعوی کہ پاکستان سے افغانستان مین طالبان جارہے ہیں سراسر غلط ہے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کے شواہد ملے ہیں تاہم ان کی اصل تعداد کے بارے میں علم نہیں ‘ اور فاٹا میں ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے گئے ہین جبکہ سیاسی مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے انہوں نے کہاکہ میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس جن میں سوئٹزرلینڈ سے پاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزائن ملنے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ سراسرغلط ہیں پاکستان کے ایٹمی ڈیزائن تک کسی غیر ملکی کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اگر یہ سچ ہے تو پاکستان حکومت کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی ۔ اور اس ڈیزائن کوضائع کیوں کردیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک میکنزم قائم کیا جائے مہمند ایجنسی پر اتحادی افواج کے حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں امید ہے ان کو دو ہفتے کے اندر مکمل کر لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کو درخواست دے دی گئی ہے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اگلے ماہ نیویارک جائیں گے جہاں پروہ اس حوالے سے مزید پیش رفت کریں گے انہوں نے کہا کہ انٹروپول کے ساتھ پاکستان معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے حوالے سے جو امداد پاکستان کو دی تھی اس کی تحقیقات کی ضرورت نہیں اگر امریکہ چاہے تو تحقیقات ہو سکتی ہیں

پی پی ٢١٩ جہانیاں میں دوران پولنگ مخالف امیدواروں کے درمیان تصادم متعدد افراد زخمی ، کئی گرفتار

خانیوال ۔ خانیوال کے علاقے جہانیاں کے حلقہ پی پی 219میں پولنگ کے دوران دو گرہوں کے مسلح تصادم میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے کچھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اس پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حامیوں اور آزاد امید وار کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں نہ صرف لاٹھیاں اور ڈنڈے استعمال کیے گئے بلکہ سرعام فائرنگ بھی ہوئی۔ حالانکہ پولیس وہاں موجود تھی۔ اس تصادم کے باعث متعدد افراد زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے چند افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ آزاد امید وار چوہدری کرم داد واہلہ کے حمایتیوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بھائی مخدوم مرید حسین قریشی کے حامی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان پر حملہ کیا اور کھلے عام فائرنگ کی اوران کے کارکنوں پر تشدد کیا۔ بعد میں پولیس نے متعد افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔

فرانسیسی آرٹسٹ مونے کی ایک پینٹنگ ٨ کروڑ ڈالر میں نیلام

لندن ۔ فرانسیسی آرٹسٹ کلاڈ مونے کی بنائی ہوئی ’ واٹر للی پانڈ‘نامی ایک پینٹنگ 8 کروڑ ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوئی ہے جو ماضی میں اس فن کار کی فروخت ہونے والی کسی بھی پینٹنگ سے دوگنی قیمت ہے۔ لندن کے نیلام گھر کرسٹیزنے مونے کی یہ پینٹنگ منگل کی رات فروخت کی۔ اس پینٹنگ کی فروخت سے قبل اس کی قیمت کے بارے میں جو اندازے کیے گئے تھے، یہ اس سے کہیں زیادہ میں فروخت ہوئی ۔ اندازہ تھا کہ یہ تصویر ساڑھے تین کروڑ سے چارکروڑ ستر لاکھ ڈالر تک میں فروخت ہوگی۔ یہ فن پارہ ان چار واٹر للی پینٹنگز میں سے ایک ہے جس پر آرٹسٹ کے 1919ء کے کیے جانے والے اپنے دستخط موجود ہیں۔باقی تین میں ایک نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں موجود ہے اور دوسری کسی شخص کی نجی ملکیت ہے اور تیسری کو کاٹ کر اس کی دو تصاویر بنادی گئی ہیں۔ مونے کی پینٹگز کی سابقہ نیلامی کا ریکارڈ گذشتہ ماہ نیویارک میں ایک نیلامی کے دوران قائم ہوا تھا جب ان کی ایک پینٹنگ چار کروڑ دس لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی

West to pursue twin track in Iran nuclear dispute



GENEVA - Western powers will continue a twin track policy of sanctions and diplomacy towards Iran over its nuclear programme, the EU's top diplomat said on Wednesday, despite Teheran's warnings it could backfire.
Britain told Iran it will suffer growing economic and political isolation if it makes the "wrong choice" and fails to comply with U.N. demands on curbing sensitive atomic activities.
But Teheran remained defiant in the long-running standoff over nuclear work it says is designed to generate electricity but which the West fears is aimed at making bombs.
Its deputy foreign minister was quoted as saying the world's fourth-largest oil producer would withdraw assets from Europe in the face of tightening sanctions against the country.
Another senior official, parliamentary speaker Ali Larijani, warned the West against "provoking" the Islamic Republic.
Teheran said on Tuesday that new punitive measures imposed on it this week by the 27-nation European Union over its nuclear plans could damage diplomatic efforts to resolve the dispute.
EU foreign policy chief Javier Solana handed Iran an offer on June 14 of trade and other benefits proposed by the United States, Russia, China, Britain, Germany and France in a new bid to end a row that has helped push oil prices to record highs.
Solana told Reuters on Thursday Iran had still not replied to the incentives offer aimed at coaxing it into halting uranium enrichment, which can have both civilian and military uses, but hoped for an answer soon.
"That is what we were told, that they would think about it and they would give us an answer soon," Solana said in Geneva.
"In the meantime, we will keep the double track open," he said, referring to carrot-and-stick diplomacy towards Teheran. "We want to have a solution which is diplomatically negotiated."
The dispute between the West and Teheran has sparked fears of a military confrontation that would disrupt vital oil supplies. Last week a U.S. newspaper report said Israel had practiced for a possible strike against Iran's nuclear sites.
Market Jitters
Energy experts are concerned any conflict in Iran could lead to a shutdown of the Strait of Hormuz, a narrow waterway separating Iran from the Arabian Peninsula through which roughly 40 percent of the world's traded oil is shipped.
Washington says it is focusing on diplomatic pressure to thwart Iran's nuclear ambitions but has not ruled out military action if that were to fail.
Iran's Revolutionary Guards warned the United States it would face a "tragedy" if it attacked the country.
"If you want to move towards Iran make sure you bring walking sticks and artificial legs because if you came you will not have any legs to return on," Mohammad Hejazi, a senior commander of the elite Guards, was quoted as saying.
Hejazi's comments followed market talk of a military strike against Iran's nuclear sites, which was denied by a senior Iranian nuclear official on Tuesday.
British Foreign Secretary David Miliband stressed the importance of a diplomatic solution: "The diplomatic track has to work -- the alternatives are appalling," he wrote in a commentary in the International Herald Tribune newspaper.
Iran's refusal to halt enrichment has drawn three rounds of limited U.N. sanctions since 2006 and the EU on Monday agreed new punitive measures targeting businesses and individuals the West says are linked to Iran's nuclear and ballistic programmes.
Deputy Foreign Minister Mahdi Safari said in an interview published on Wednesday that Iran, which is making windfall oil revenue gains, would transfer funds from the EU and invest elsewhere.
"If you withdraw more than $100 billion, then of course this will bring about a scarcity of money and have an impact on the world economy," Mahdi told Austrian daily Die Presse.
Europe would lose out as a result of the newly imposed measures, he said: "We have gas and oil resources everyone wants to buy. Now we are trading mostly with Asian countries."

Is the Rani, Preity era over?





TWO OF Bollywood’s top actresses are finding themselves out of job as producers and even advertisers are shying away from them.
And the reason? They haven’t had any hits in the last two-years and seem to be a tad too involved in their personal lives.
The ladies in question are Rani Mukherji and Preity Zinta.
Love Versus Career The downfall of these two women begun when they started dating their respective boyfriends, Aditya Chopra and Ness Wadia.
Preity started focusing more on impressing prospective mother-in-law Maureen Wadia who didn’t warm up to having a filmy bahu. Rani restricted her self to signing only boyfriend Aditya’s, YashRaj Film projects. Unfortunately for her, YashRaj despite being a production house, fell like a pack of cards and so did Rani’s career.
Though, Aditya fought with his family and divorced wife Payal, and is reportedly getting ready to tie the knot with Rani, he is yet to acknowledge her publicly.
Rani too has denied her link-up with Adi as she doesn’t want to displease him, but she feels that their affair has affected her career badly as other filmmakers don’t want to cast her and upset Adi.
“Aditya doesn’t want Rani to speak about his relationship because he’s an extremely private person and moreover his parents don’t approve of the relationship. However, he’s madly in love with her and plans to marry her after he finishes directing his film Rab Ne Bana Di Jodi.” Recently Rani received yet another major blow.
Nestle Munch has sacked her as their brandambassador and buzz is that newcomer Asin will replace her.
A source from Nestle reveals, “Our brand is looking for someone who’s younger and popular and Rani doesn’t fit in either category.” Selective acting Rani’s best friend turned sworn enemy Preity is also sailing in the same boat. A favourite with YashRaj and Karan Johar, Preity is out of work because Kajol has agreed to work with Karan and Adi prefers Rani over her.
Preity hasn’t had any major release since the debacle of Jhoom Barabar Jhoom.
However, she claims that she’s getting selective.
“I’ve reached a stage in my career where I can experiment with different kind of roles. I’ve worked hard and am now in a position to reject certain offers and do small yet meaningful films.” But all in the industry know that she has not been offered any plum roles.
A source from the industry reveals, “Preity was busy travelling around with Ness and hasn’t been able to concentrate on films. Her film The Last Lear with Amitabh is stuck and the only other film she has is Jahnu Barua’s Bas Ek Pal opposite Shiney Ahuja which she kept postponing as she got busy with the cricket team she bought along with Ness Wadia. Some say that she has lost interest in the film.” Even on the cricket front luck didn’t favour Preity as her team Punjab XI, couldn’t make it to the IPL finals.
But Preity’s increasing camaraderie with cricketer Yuvraj Singh, her team’s captain made much more news. Photographs of Preity hugging Yuvraj after matches made the rounds.
This definitely didn’t go down well with long standing boyfriend Ness.
The constantly stuck-atthe-hip couple is no longer seen together in public and rumour has it that they are having relationship issues thanks to Preity’s closeness to Yuvraj.
A source close to Preity reports, “Preity and Ness were driving in Punjab to promote their team and they had a huge fight because of Preity’s friendship with Yuvraj. Following which, Ness stopped the car and dumped Preity on a deserted road.” Preity even recently came up with a quote saying, “Which couple doesn’t have ups and downs.” End of an era? Apart from dealing with their personal issues, Preity and Rani are also facing competition from the younger brigade of actresses such as Kareena, Katrina and Deepika who are slowly making a mark in Bollywood.
With age on their side these girls can work with a variety of actors whilst Preity and Rani don’t seem to have too much of an option.
Even the Khans; Aamir, Salman, Shah Rukh and Saif are opting to star with the newer and younger breed of girls.
Could this signal the end of yet another era in Bollywood?

Wednesday, June 25, 2008

PM for building Pakistan as peace-loving, progressive country









ISLAMABAD:Prime Minister Syed Yousaf Raza Gillani Wednesday urged the youth to build Pakistan as a peace-loving, progressive country and also stressed the need for sportsman spirit in politics. The Prime Minister made these remarks while distributing over Rs. 2.2 million worth of cash prizes among the Pakistani medal winners of 10th South Asian Games at Colombo (Sri Lanka) held August 18-28, 2006. He pledged full government support for establishing Sports Academies around the country and to help in boosting sports infrastructure for even better results in international competitions. Gillani said Pakistan was blessed with natural resources which could be better utilised by building the country’s image as a peace-loving, progressive country.
“We will take a giant step forward in economic and socio-political progress by raising an image of a peace-loving country in which life and liberty is safe and all doubts and misgivings, whatsoever, on this country are firmly dispelled”, he said.
He said the Inter-Provincial harmony and cohesion could be promoted by holding more and more sports competitions among the students and the youth of the country.
“The Government will provide all out support for establishing the National Sports Academies in the Provinces, Azad Kashmir, FATA and Northern Areas”, Gillani said.
“We will also help in further boosting and developing sports infrastructure around the country”, the Prime Minister said while referring to the Address of Welcome presented by the Federal Sports Minister, Najamuddin Khan.
He also assured of providing regular jobs to the Sportspersons of the country so that they could concentrate on their training.
In this behalf the Prime Minister announced that five Sportswomen (female athletes) would be regularised in their jobs at the Pakistan Steel Mills: Sadaf Siddiqui, Noshi Perveen, Fauzia Aurangzeb, Humaira Akbar and Sumaira Zahoor.
Disclosing that he himself was a good athlete of jumps and races and also a debater during his student days, the Prime Minister said the youth are the asset of the country and should help the government in building the true image of Islam, which is peace and progress.
He congratulated the medal-winners and also urged those not winning to stay active in life and wait for next opportunity for success. “I must say that political parties of any society should display sportsman spirit and accept the results of elections “.
He said, “We had chalked out a charter of democracy and are abiding by its spirit after the election results”.
The Prime Minister gave away the prizes valued at Rs. 20,240,000 to a total of 156 players, among them 41 gold-medallist, who had taken Pakistan to runners- up position, behind India, in the 10th South Asian Games.
Prizes were also awarded to coaches of the medal-winning individuals and teams.
Besides winning 41 golds, the 376-strong Pakistan Contingent, which included 282 sportspersons and 94 officials in 19 disciplines, also captured 43 silvers and 72 bronze medals during the eight-Nation South Asian Games.
Also present at the glittering Prize-Distribution ceremony were Federal Minister of Sports, Najamuddin Khan, Secretary Sports Muhammad Ashraf Khan and DG of Pakistan Sports Board, Muhammad Anwar Khan.
Cash prizes of Rs. 200,000, Rs. 100,000 and Rs. 50,000 each were awarded for winning gold, silver and bronze medal respectively in the Individual Games while prize criteria for Team Sports was Rs.50,000, Rs.30,000 and Rs.15,000 for Gold, Silver and Bronze medals each respectively.

Bye elections at 4 NA, 25 provincial seats tomorrow




ISLAMABAD: Bye-elections at four national and 25 provincial seats will be held tomorrow (Thursday). Supreme Court of Pakistan (SCP) Wednesday issued orders to Election Commission of Pakistan (ECP) to put off by-polls in NA-123.A meeting of ECP with Chief Election Commissioner Qazi Muhammad Farooque in chair reviewed preparations of the bye-elections scheduled to be held on Thursday.According to an election commission announcement, polling would continue from 08:00 am to 5:00 pm without any break. Public holiday has been announced on the polling day in all concerned districts.

22 militants, two foreign troops killed in Afghanistan




KABUL : US-led air strikes killed 22 Taliban militants who attacked two towns in Afghanistan with rockets on Wednesday, while two more international soldiers died in explosions, officials said.
Eastern and southern Afghanistan have seen a spike in violence along the troubled border with Pakistan in June, making this month one of the bloodiest in the six-year Taliban insurgency.
Warplanes from the US-led coalition bombed militants in eastern Paktika province overnight after the latest in a series of large-scale rebel assaults in the region, a coalition statement said.
Rebels armed with rocket launchers and machineguns attacked the province's Sarobi district centre late Tuesday but were pushed back by Afghan forces, the statement and a spokesman for the coalition said.
Militants later attacked the district centre of neighbouring Gomal, forcing the Afghan security forces to call in coalition warplanes for help, the spokesman said.
"When coalition air support arrived, the 22 militants who attacked the (Gomal) district centre were positively identified and killed," the coalition statement said.
In the neighbouring province of Paktia, Taliban fighters attacked another district centre, triggering clashes that ended without casualties, the coalition spokesman said.
A militant who was trying to lay a mine on a road was killed when the device exploded prematurely in another district in Paktia, provincial government spokesman Rohullah Samoon said.
"Several" other militants were killed during a coalition operation in the southern province of Helmand, the country's biggest opium-growing region, the coalition said in a separate statement. A dozen other rebels were detained.
The operation targeted a "militant leader known to conduct financing operations, facilitate foreign fighters and smuggle narcotics in the area," the statement said.Several weapons, suicide-vests and a cache of drugs were found and destroyed, it added.
Also in Helmand, a soldier in the US-led coalition was killed and three others were wounded when their vehicle hit a roadside bomb on Wednesday, although it was not clear if they were taking part in the same operation.
Separately, a British soldier serving with a separate NATO security force was killed in a bomb blast in Helmand on Tuesday, the British Ministry of Defence said Wednesday.
June has been a deadly month for foreign soldiers, with four killed in the past two days. Another British soldier was shot dead during combat operations in Helmand on uesday.Thirty-six of the 103 soldiers killed in Afghanistan this year died since the beginning of this month.

Bulls in driving seat at KSE




KARACHI: Bulls are in a driving seat at Karachi Stock Exchange (KSE) as 100-Index surged by 307.62 points or 2.54 % to close at 12,430.29. The turnover volume was high at 232.447 million shares as prices of 192 recorded gains and 110 sustained losses while 20 remained unchanged. A dealer at a leading brokerage house said that bull were very active in the market since the amendment in the circuit breaker limit rules by SECP and KSE late Monday. He said that market was looking strong with no negative news so far on political scenario. The market capitalization was also improved by Rs 93 billion to Rs 3.823 trillion. OGDC was the volume leader on second consecutive day with a turnover of 18.118 million shares followed by Arif Habib Sec 17.481 million shares, DG Khan Cement 14.515 million shares, NIB Bank 13.665 million shares and Lucky Cement 12.224 million shares. Nestle Pakistan recorded the highest increase of Rs 135 to 1,485 followed by Jahangir Siddiqui Co which moved up by 47.15 to 518.70 while Unilever dipped by Rs 13 to 2,350 and Siemens Pak went down by 10 to 1,430.

Asia Cup: India beat Hong Kong by 256 runs




KARACHI: India beat Hong Kong by huge margin of 256 runs in a Cricket Asia Cup match on Wednesday at National Stadium Karachi.Young Indian spinner Piyush Chawla captured four wickets, while Sehwag took two wickets of Hong Kong. Earlier, Mahendra Singh Dhoni chose to bat in his team's opening game. Dhoni 109 and Raina 101 with their centuries guided India to 374 runs total with loss of four wickets.India won by 256 runs as Hong Kong was all out at 118 runs total.

Beauties support Euro Cup teams




NEW DEHLI: Miss Turkey Sinem Sulun, Miss Germany Madina Taher, Miss Spain Claudia Moro and Miss Russia Vera Krasova (L-R) show support for their countries' national soccer teams competing in the Euro 2008.
During a rehearsal for the Ao Dai Fashion Show at Hoa Binh Theater in Vietnam's southern Ho Chi Minh city June 24, 2008.
The 57th annual Miss Universe pageant will be held in Vietnam's central Nha Trang resort city on July 14, 2008

Afghanistan blames Pakistan in Karzai attack




KABUL: An Afghan official on Wednesday accused Pakistan's intelligence agency of organizing a recent assassination attempt on Afghan President Hamid Karzai.A spokesman of Afghan intelligence agency, Saeed Ansari Wednesday claimed that the evidence and documents show that a Pakistani intelligence agency was involved in the attack.Karzai escaped unharmed in the attack during a military parade in downtown Kabul on April 27.

Punjab Assembly approves provincial budget




LAHORE: Punjab Assembly approved the annual provincial budget 2008-09 by allocating grants under a total of 41 heads including seven pertaining to development. Though opposition members of PML-Q moved 32 cut motions on various sectors but did not pursue them during the session because they were out of the house in boycott. Acting Speaker Rana Mashhood Ahmed Khan chaired the session, while Finance Minister Tanvir Ashraf Kaira moved the demands for grants in the budget 2008-09, which were passed by the house unanimously. While allocations under development heads included Rs 81.130 billion for Development, Rs 10.718 billion for Irrigation Works, Rs 354.541 million for Agricultural Improvement and Research, Rs 1.700 billion for Town Development, Rs 45.488 billion for Roads and Bridges, Rs 22.623 billion for Government Buildings and Rs 3.322 billion for Loans to Municipalities/Autonomous Bodies etc. Soon after the approval of the grants, the Finance Minister thanked the treasury and opposition's forward bloc members for their active participation in the budget discussion.

High-level meeting reviews war on terror




ISLAMABAD: A high-level meeting chaired by Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani unanimously agreed on Wednesday over the principle of use of minimum force and avoidance of collateral damage.The meeting agreed that elimination of terrorism and extremism is the gravest challenge to Pakistan's national security and to fight this menace a multi-pronged strategy will be followed. The meeting was held to review progress on the war on terror and the law and order situation in NWFP.The meeting was attended by Governor NWFP, Owais Ahmed Ghani, Chief Minister Amir Haider Khan Hoti, Makhdoom Shah Mehmood Qureshi, Minister for Foreign Affairs, Hameedullah Jan Afridi, Minister for Environment, Najamuddin Khan, Minister for SAFRON, Mahmud Ali Durrani, Advisor to PM on National Security, Rehman Malik, Advisor to PM on Interior, General Ashfaq Parvez Kayani, Chief of Army Staff and DG ISI. It was agreed that in addition to the political instrument, large scale development, economic empowerment and selective use of military force will be the other prongs of the strategy. It was decided that broad objective of this strategy will be to bring about peace, reconciliation and normalcy of life in the country and marginalize the hard core terrorists, militants and criminal elements, so that Pakistan's national interest reigns supreme. The meeting decided to ensure that local tribal customs and traditions are respected by the law enforcement agencies and ensure that all foreign fighters will be expelled from Pakistan's territory. The meeting decided that Pakistan will not allow its territory to be used against other countries, especially Afghanistan and under no circumstances will foreign troops be allowed to operate inside Pakistan. It was decided that while the Provincial governments will be responsible for their jurisdictions, the Governor NWFP will be the Chief Coordinator for all activity in FATA and maintain intimate liaison with the Federal Government, Provincial Government, important political leaders and the local Military commander. All agreements with the tribes in FATA will be backed by a robust enforcement mechanism. It was decided in case of non-compliance and violation of the agreement, the government will reserve the right to use force. The tribes will also be responsible for stopping cross border movement for militancy across the border from their areas. However this will require intimate coordination between the political and the military/security prongs of the effort. It was decided that tribes will not fight or target the Army, Frontier Corps and other law enforcing agencies in their areas. They will be made to understand that the use of force by the military will be justified if the tribes act contrary to their obligations. It was decided that Chief of Army Staff will be the Principal for application of the military effort. Although Frontier Corps NWFP and Law Enforcement Agencies will be the instruments of the Governor and Chief Minister in their respective jurisdiction for law and order, they will fall under his command for military operations. It was agreed that the Army Chief will have the authority to decide on the quantum, composition and positioning of military effort. It was agreed that the principle of use of minimum force and avoidance of collateral damage will be kept in focus; initiate swift operations based on actionable intelligence to eliminate terrorists and to stop hostile movement across the border for operations against Coalition Forces in Afghanistan; decide on the level of liaison, contact and cooperation with ISAF in Afghanistan and keep the Government appropriately informed; and keep the Prime Minister, Governor NWFP, Defence Minister and Adviser on Interior informed about the operations.

پنجاب اسمبلی ، سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کے وزیراعظم کے اعلان کو غیر اسلامی اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیدیا

لاہور۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے سائے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کے خلاف قرارداد کل پنجاب اسمبلی میں پیش کی جائے گی جسے متفقہ طور پر منظور کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب تمام مطالبات زر منظور کرلئے گئے تو بیشتر ارکان صوبائی اسمبلی نے نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران سزائے موت کے تمام قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کے اعلان پر شدید احتجاج کیا اور اسے اسلامی احکامات ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ارکان اسمبلی نے کہاکہ قتل کے مجرم کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے حقیقی ورثاء کو ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہاکہ اگر ہمیں قرآن وسنت کے برعکس قوانین بنانے ہیں تو پھر ان کے نتائج کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی رانا اعجاز احمد نے اعلان کیا کہ وہ کل پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرارداد پیش کریں گے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ جن مجرموں کو عدالتوں نے سزائے موت دی اور ان کی اپیلیں بھی عدالت نے مسترد کردیں ان کو معاف کرنے کا اختیار وزیراعظم یا حکومت کو نہیں اس لئے ان سزاؤں کو برقرار رکھا جائے۔ قتل کے مجرموں کو معافی دینے کا اختیار صرف مقتول کے حقیقی ورثاء کو ہی ہے۔

قبائلی علاقوں میں ہو نے والے تمام امن معاہدوں کی مکمل سر پرستی کی جائے گی ۔ وفاقی حکومت



اسلام آباد ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور صوبہ سرحد میں قیام امن کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہو نے والے تمام امن معاہدوں کی مکمل سر پرستی کی جائے گی معاہدوں کی خلاف ورزی پر سیکورٹی فورسز کو قوت کے استعمال کا حق حاصل ہو گا قبائل اپنی سرحدی علاقوں میں در اندازی روکنے کے ذمہ دار ہوں گے کسی بھی صورت میں فوجی طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا قبائلیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے کے پابند ہوں گے اور ان کی موجودگی اور کاروائیوں کے حوالے سے جوابدہ ہوں گے وزیر اعظم کی صدارت میں بدھ کو اسلام آباد میں صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی ،وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی،وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی،وفاقی وزیر ریاست و سرحدی امور نجم الدین خان، قومی سلامتی کے لئے وزیر اعظم کے مشیر محمود علی درانی،مشیر داخلہ رحمان ملک، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہائی پسندی کے چیلنج سے نمٹنا پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے چیلنج کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل ان کے منتخب نمائندوں قبائلی سرداروں،مقامی با اثر افراد کے ذریعے حل کیا جائے گا کثیر الجہتی حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ دوسری سطح پر قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی ترقی و خود مختیاری فراہم کی جائے گی اور تیسری سطح پر فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن موجود رہے گا کثیر الجہتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد امن کا قیام و مفاہمت معمولات زندگی کوبحال کر نا ہے اور انتہاء پسندوں دہشت گردوں و جرائم پیشہ عناصر کو تنہا کر نا ہے جو کہ پاکستان اور خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام حکومتی ادارے بشمول فوج اور سکیورٹی ایجنسیاںمقامی قبائی روایات اقدار رسوم ورواج کا پورا احترام کریں گی اور پاکستانی حدود سے غیر ملکی عسکریت پسندوں کی بے دخلی کو یقینی بنائیں گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی سر زمین کو کسی دوسرے ملک بالخصوص افغانستان کے خلاف استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اسی طرح کسی بھی غیر ملکی دستوں کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت اپنی حدود میں قیام امن کی ذمہ دار ہو گی گور نر صوبہ سرحد فاٹا میں قیام امن کے حوالے سے سر گرمیوں سے متعلق چیف کو آرڈینیٹر کا کر دار ادا کرتے ہوئے وفاقی حکومت و صوبائی حکومت اہم سیاسی رہنماؤں اور مقامی ملٹری کمانڈرز سے رابطے کے لئے کام کریں گے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فاصا میں جامع ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گور نر صوبہ سرحد وفاقی صوبائی حکومتوں سے مشاورت کریں گے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں قبائل سے ہو نے والے تمام معاہدوں کی پشت پناہی کی جائے گی اور سختی سے ان کے نفاذ و اطلاق کو یقینی بنایا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت کو قوت کے استعمال کا حق حاصل ہو گا گور نر صوبہ سرحد تمام مفاہمتی کاوشوں کی قیادت کریں گے باہمی احترام اور مقامی رسم و رواج کی بنیاد پر سیاسی معاہدوں کو یقینی بنایا جائے گا قبائل کی اپنی علاقوں سے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ملک سے نکالنے کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی اور ان علاقوں میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی اور کاروائی کے حوالے سے قبائل ذمہ دار ہوں گے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قبائل اپنے علاقوں میں در اندازی روکنے کے بھی ذمہ دار ہوں گے تاہم ان تمام معاملات کے حوالے سے سیاسی فوجی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہو گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئی بھی قبیلہ فوج فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی واضح کر دیا جائے گا کہ قبائلیوں کہ کسی بھی غیر ذمہ داری پر فوجی طاقت کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہو گی

پاکستان میں پولیس اور بجلی کے ادارے بدعنوانی میں سرفہرست ہیں ۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان کی رپورٹ

اسلام آباد۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیس اور بجلی کے ادارے بدعنوانی میں سرفہرست ہیں جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے اپنی حالی جاری رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یہ ایک بدترین بدعنوانی ہے او رپاکستان میں ہر خاندان تقریباً2330روپے سالانہ کرپشن کی ادائیگیوں میں خرچ کرتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ابتک کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان 1998ء میں کرپشن انتہائی کم سطح پر تھی جب نواز شریف کا دور تھا جبکہ 1996ء میں یہ بلند ترین سطح پر کرپشن رہی ہے ۔ اسوقت پیپلز پارٹی کا دور تھا۔ر پورٹ میں کہاگیا ہے کہ آئندہ چھ جولائی کو رپورٹ جس میں بتایا جائے گا کہ 100دنوں میں حکومت کی کارکردگی کیا رہے گی ۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ 2002ء کے بعد سے کرپشن میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ صوابدیدی اختیارات ہیں

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فاٹا میں فوجی کارروائیوں کا مکمل اختیار ، اعلیٰ سطح اجلاس کا فیصلہ



اسلام آباد ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی فاٹا میں کارروائیوں کی نگرانی کریں گے جبکہ ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورنر اور وزیراعلیٰ کی سربراہی میں امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے استعمال کئے جائیں گے اور وہ چیف آف آرمی سٹاف کی کمانڈ میں ملٹری آپریشن میں حصہ لیں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چیف آف آرٹی سٹاف کو تعداد اور فوجی کارروائیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہو گا اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ کم سے کم طاقت کا استعمال اور بڑے نقصان سے بچا جائے گا ابتدائی طور پر دہشت گردوں کے خاتمے اور سرحد پار آمدورفت کو روکنے کیلئے تیز رفتار آپریشن کئے جائیں گے ۔ یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ افغانستان کے سہ فریقی کمیشن کے ساتھ رابطہ اور تعاون کیاجائے گا اور حکومت کو اس سے آگاہ رکھا جائے گا جبکہ وزیراعظم ، گورنر سرحد ، وزیر دفاع اور مشیر داخلہ کو ہونے والی کارروائیوں سے بھی مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا ۔

مہمند ایجنسی پر امریکی فضائی حملہ بش مشرف حکمت عملی ہو سکتی ہے ‘ حامد کرزئی




نئی دہلی ۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی پر امریکی فضائی حملہ بش مشرف حکمت عملی ہو سکتی ہے پاکستان کو امریکی فضائی حملوں سے بچنے کے لئے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدام کرنا ہو گا ۔ افغانستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔ جب پاکستانی علاقوں سے افغانستان میں اتحادی فورسز پر حملے کئے جائیں گے تو پھر بھی اس قسم کی جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ بھارتی ٹی وی ’’ دور درشن ‘‘ کے مطابق صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقے طالبان اور القاعدہ کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بن چکی ہیں ۔ افغانستان صدر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاکستانی فوج کی مدد سے افغانستان میں حملے کرتے ہیں افغانستان میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لئے پاکستان میں طالبان کے مضبوط گڑھوں کو ختم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیت اللہ محسور ‘ ملاعمر اور فضل اللہ پر جان لے کہ ہم جا کر انہیں ختم کر دیں گے ۔ ہم ان تمام عناصر کو ختم کر دیں گے جو گزشتہ سات سالوں سے افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ حامد کرزئی افغانستان پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ پاکستان سے افغانستان کے علاقوں میں مداخلت کے الزام میں امریکی فورسز نے فضائی حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں پاک فوج کے کئی جوان شہید ہوئے ۔ مہمند ایجنسی پر امریکی حملوں کے بعد یہ حیرت کا باعث ہے کہ پہلی بار پینٹاگان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ۔

ٹانک ، کڑی وام سے نعمت خیل امن کمیٹی کے ٣٠ مغویوں میں سے ٢٨ کی لاشیں برآمد

ٹانک ۔ ٹانک کے علاقے کڑی وام سے نعمت خیل امن کمیٹی کے 28 افراد کی لاشیں ملی ہیں آج نعمت خیل امن کمیٹی اور طالبان کے درمیان لڑائی کے دوران نعمت خیل امن کمیٹی کے 30 ارکان کو یرغمال بنا لیا گیا تھا ۔ 30 مغویوں میں سے 28 کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بدھ کو ایف آر ٹانک کے علاقے کڑی وام سے ملیں جس کے بعد امن کمیٹی میں شامل افراد کی ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی ۔ لاشیں ملنے کے بعد جنڈولہ بازار بند کر دیا گیا ۔ ٹانک جنڈولہ شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا اور سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ سیکیورٹی فورسز کے ٹینک بکتر بند گاڑیاں اور گن شپ ہیلی کاپٹر ایف آر ٹانک کے ہیڈ کوارٹرز جنڈولہ پہنچ گئے ہیں تاہم طالبان پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر جنوبی وزیرستان چلے گئے ہیں ۔

صدرپرویز مشرف اس امریکی منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت پاکستان کو ٢٠١٥ء تک توڑ دیا جائے ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان



نیو یارک ۔ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ صدرپرویز مشرف امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور امریکہ کا منصوبہ ہے کہ2015 تک پاکستان کو توڑ دیا جائے نیویارک کے شائع ہو نے والے اردو ہفت روزہ کو فون پر دئیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ صدر مشرف وہی کچھ کر رہے ہیں جو امریکہ چاہ رہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو2015 تک پاکستان کو تقسیم کر دیا جائے انہوں نے آئی اے ای اے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ عالمی ادارہ نہیں بلکہ امریکہ اور یہودیوں کا مشترکہ ادارہ ہے انہوں نے کہا کہ میں اس ادارے کے سامنے پیش ہو نے کا پابند نہیں ہوں انہو ںنے لیبیا کے بارے میں کہا کہ پسبا جھوٹ بولتا ہے اس نے ہم سے کوئی سامان نہیں لیا بلکہ مادر نازی جس شخص نے سامان خریدا تھا انہوں نے کہا کہ اس وقت جب انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ خوف سے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کیا تھا انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ کہا جا رہا تھا ملک پر بمباری کر دی جائے گی اگر آپ نے یہ جرم اپنے سر نہ لیا انہوں نے کہا کہ دوسرا آدمی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا اب وقت آ گیا ہے کہ میں سچی تصویریں عوام کے سامنے لے آؤں انہوں نے کہا کہ میری رپورٹ محمود الرحمان رپورٹ کی طرح نہیں چھپے گی بلکہ میں نے سب کچھ اپنے بیوی بچوں کو بتادیا ہے اور جلد ہی قوم حقیقت جان جائے گی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی جان کو کسی قسم کا خطرہ ہے جو اب میں ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ میں ایک سچا اور پکا مسلمان ہوں اور زندگی موت خدا کے ساتھ میں ہے جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں میرا اس پر ایمان ہے مجھے موت سے کوئی ڈر نہیں انہوں نے ایٹمی اسلحے کی موجودگی میں بڑے پیمانے پر جو اسلحہ خریدا جا رہا ہے اس کے بارے میں کہا کہ اس اسلحے کی خریداری ایٹمی اسلحے کے سامنے کچھ نہیں اور یہ لوگ صرف کمیشن کمانے کے لئے اسلحہ خرید رہے ہیں انہو ںنے اس کی مثال کراچی کے حوالے سے دی کہ وہاں بڑے بڑے فلائی اور بن رہے ہیں لیکن اگر چھوٹے علاقوں میں جائیں تو وہاں بڑے بڑے گہرے کھڈے ہیں انہوں نے کہا کہ جب بڑی چیزیں تعمیر کی جاتی ہیں یہ کمیشن کھانے کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں بے نظیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک سمجھدار عورت تھیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بے نظیر بھٹو کو اس لئے قتل کیا گیا ہے کہ انہو ںنے ایٹمی اسلحے کی تحقیقات کر انے کا اعلان کیا تھا اور انہیں اس اعلان کی سزا دی گئی ہے نواز شریف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہادر آدمی ہے اور وہ جو بات کہتا ہے اس پر قائم رہتا ہے آصف زر داری کے حوالے سے انہو ںنے کہا کہ میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ڈاکٹر اے کیو نے بہت تعریف کی انہوں نے کہا کہ وہ ایک عظیم آدمی ہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بارے میں ڈاکٹر قدیر نے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام میں سے کچھ پہلے غیر مسلم تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے تو کیا آپ ان کو پچھلے دور سے یاد کریں گے ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ پاکستان کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے

سپریم کورٹ نے حلقہ ١٢٣ لاہور کے ضمنی انتخابات روکنے کا حکم جاری کر دیا



اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کے خلاف اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ 123 لاہور کے ضمنی انتخابات روکنے کا حکم جاری کر دیا ۔فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ سماعت 30 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔نواز شریف کے وکلا کا کہنا ہے کہ نواز شریف پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے ۔بدھ کے روز وفاق اور میاں محمد نواز شریف کے تجویز کنندگان کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے یکجا کر دیاہے ۔جسٹس موسیٰ خیل لغاری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی ۔ بینچ میں جسٹس زوار جعفری اور جسٹس فرخ محمود شامل ہیں۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبد الرحمان نے کیس کی پیروی کی جبکہ میاں نواز شریف کے تجویز کنندگان کی جانب سے اکرم شیخ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حلقہ 123 کے ضمنی الیکشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیاہے ۔دوبارہ سماعت 30 جون کو ہو گی ۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی اٹاری جنرل عبد الرحمان نے کہاکہ ہائی کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی آئینی مسئلہ پر فیصلہ کر سکے۔ انتخابی پٹیشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے قائم انتخابی ٹربیونل میں سماعت کی جاتی ہے ۔جس کے فیصلے کے حوالے سے ہائی کورٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں ۔نواز شریف کی عدالت میں غیر حاضری سے کیس کمزور نہیں ہو گا۔ سپریم کورٹ نے حلقہ 123 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ نواز شریف پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ ان کے کاغذات نامزدگی کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جزوی حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے نواز شریف کو مکمل ریلیف نہیں دیا گیا

عوام کی رائے کی پا مالی اور طاقتور مافیا ۔۔۔ تحریر : اے پی ایس

وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کیں۔ یہ درخواستیں کو ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبد الرحمن نے دائر کی جن میں سے ایک میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے جبکہ دوسری میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یہ درخواستیں سماعت کے لیے منظورکر لی تھی اورجسٹس موسیٰ لغاری، جسٹس زوار جعفری اور جسٹس فرخ محمود پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا جس نے اس کیس کی سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف کی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ متعلقہ فورم نہیں اور اس کیس کو الیکشن ٹریبونل میں بھیجنا چاہیے تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خرم شاہ نہ ہی متعلقہ حلقے کے ووٹر ہیں اور نہ ہی انہیں اس قسم کے کیس دائر کرنے کا استحقاق حاصل ہے لہذاہ یہ کیس بغیر سماعت کے لاہور ہائی کورٹ میں ہی ختم کر دینا چاہیے تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اس مقدمے میں وفاقی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے جو کہ اپنا واضح مو¿قف رکھتی ہے۔ اس سے قبل نواز شریف کے پروپوزر ظفر اقبال کے وکیل ارم شیخ نے بھی اس حوالے سے خرم شاہ کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اکرم شیخ نے بھی ایک درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ انہیں اب لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ترمیمی پٹیشن دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ان کی درخواستوں کی سماعت وفاقی حکومت کی دونوں درخواستوں کے ساتھ ہی کی جائے۔ واضح رہے کہ پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی تین رکنی فل بنچ کے رکن جسٹس حسنات احمد خان نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ۔دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بنچ تشکیل دے دیا جو درخواستوں پر دوبارہ سماعت کرے گا۔ شریف برادران کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے جو تین رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ۔ اس میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے درخواستوں پر انکار مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود کی طرف سے بنچ کی تشکیل کے اعتراض کے بعد کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان ، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس احسن بھون پر مشتمل بنچ شریف برادران کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے سماعت کررہا ہے کارووائی کے دوران مسلم لیگ لائیرز فورم پاکستان کے صدر خواجہ محمود احمد نےتین رکنی فل بنچ کی تشکیل پر اعتراض کیا اور کہا کہ بنچ کے ایک رکن قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرویز الہی کے رشتہ دار ہیں جبکہ دوسرے رکن مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے جونئیر رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر خالد رانجھا کو نواز شریف کے دور حکومت میں لاہور ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس حسنات احمد خان نے بنچ پر اٹھائے گئے اعتراض کی وجہ سے شریف براردارن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ شریف براردان کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کے خلاف سید خرم شاہ اور نورالہی نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ان درخواستوں پر نواز شریف اور شہباز شریف کو نوٹس جاری کیے تھے تاہم ان کے پیش نہ ہونے پرفل بنچ نے یکطرفہ کارروائی شروع کی تھی۔ فل بنچ کے حکم اٹارنی جنرل کے ایما پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان پیش ہوئے اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ شریف برادران کی اہلیت کا معاملہ فریقین کے درمیان ایک نجی نوعیت کا تنازعہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں لاء افسر کی معاونت درکار نہیں ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار سید خرم شاہ کے رضا کاظم نے شہباز شریف کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل کیے جس کے بعد نورالہی کے وکیل ڈاکٹر محی الدین قاضی نے دلائل کا آغاز کیا تو اسی دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کردیا۔ خیال رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے معاملے میں فریق بننے کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی ۔ یہ درخواستیں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال، حکومت پنجاب ، مسلم لیگ نون لائیرز فورم اور نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال نے دائر کی تھیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی منتخب ہوئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک وکیل اشتر اوصاف نے عندیہ دیا کہ صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ جج دو چار روز میں بحال ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بجٹ کے فوری بعد ججوں کی بحالی کی یقین دہانی کروائی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کی بات اس پر شبہ کیا جائے۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو بیان دیا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں اور ججوں کی بحالی ان کی ترجیح نہیں تو اشتر اوصاف نے کہا کہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں، لیکن یہ سب کچھ ایک دن یا چھ ماہ میں بھی انہیں دیا جاسکتا جبکہ ججوں کو ایک ہی دن میں بحال کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد میاں نواز شریف ان کے سامنے اپیل میں پیش ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے خلاف میاں نواز شریف حکمت عملی اپنی جماعت کی مشاورت سے ہی طے کریں گے انتخابی معاملات میں امیدوار خود عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور ان کے تجویز یا تائید کنندہ ہوتے ہیں وہ پیش ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر میاں صاحب خود سپریم کورٹ نہیں جاتے تو ان کے تجویز یا تائید کنندہ اپیل کرسکتے ہیں۔اشتر اوصاف نے کہا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات میں کبھی یکطرفہ طور پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اور اس مقدمے میں تو تین گھنٹے کی مختصر سماعت کے بعد ہی فیصلہ دے گیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ میاں نواز شریف کا کوئی نمائندہ عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوا تو انہوں نے کہا قطع نظر اس کے کہ کوئی پیش نہیں ہوا، بنیادی حقوق کے معاملات میں عدالتوں کو تمام پہلوو¿ں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ’میاں نواز شریف کو معافی مل چکی ہے، وہ انتخاب لڑنے کے اہل ہیں اور ان کے خلاف سرکار نے جو بھی اعتراضات اٹھائے ہیں وہ قابل پذیرائی نہیں ہیں‘۔ ان کے مطابق جب سرکاری وکیل نے خود تسلیم کیا ہے کہ میاں صاحب کو معافی مل چکی ہے تو پھر ان کی نااہلیت کا سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہبازشریف نے لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے خود عدالتِ عالیہ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شریف خاندان کے وکیل اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی۔پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جبکہ عدالتی حکم کے مطابق مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اس وقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ پیر کی رات ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں نواز شریف، شہباز شریف ، اشتراوصاف علی ایڈووکیٹ، خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور اکرم شیخ ایڈووکیٹ شامل ہوئے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنے سابقہ موقف قائم ہیں اور پی سی او کے تحت حلف لینے والوں ججوں جج کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے وہ اپنے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ اشتر اوصاف علی کے بقول نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی کیونکہ اس فیصلے سے صرف نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایک نئی ریت اور روایت ڈالی گئی ہے جس پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ مو¿قف ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف درخواستیں ہائیکورٹ کے سامنے قابل سماعت نہیں تھیں۔ ادھر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بعد ازاں ایک نجی ٹی وی چینل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کٹ جائیں گے لیکن ان ججوں کو جج نہیں مانیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے لیے حکومت کیا ہر چیز بھی چلی جائے تو یہ بڑی قربانی نہیں ہے‘۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ عدالت نے پیر کے روز تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا اور سوموار ہی کی شام کو اس فیصلہ کا اعلان کر دیا۔عدالت کے فیصلہ سناتے ہی مسلم لیگ کے حامی وکلاءنے کمرہ عدالت میں ’پی سی او جج نامنظور‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔یاد رہے کہ ان مقدمات میں نواز شریف اور شہباز شریف احتجاجاً پیش نہیں ہو رہے تھے۔ خیال رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیر اعظم اور شہبازشریف وزیر اعلی پنجاب تھے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نور الہی کے وکیل ڈاکٹر قاضی محی الدین نے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے دوران بھی مسترد کیے گئے تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جب عام انتخابات میں کوئی امیدوار نااہل ہوجاتا ہے تو کس طرح اس امیدوار کے کاغذات ضمنی انتخابات میں اہل ہوسکتا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور اس لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔کارروائی کے دوران سید خرم شاہ نے وکیل رضا کاظم نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف کے خلاف الیکشن ٹربیونل نے اختلافی فیصلہ دیا ہے اس لیے شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ سماعت کے دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کے رکن جسٹس شبر رضا رضوی پر اعتراض کیا جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالشکور پراچہ نے انہیں ہائی کورٹ آفس میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی جس پر فورم کے صدر نے اس معاملہ پر درخواست دائر کردی۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیراعظم اور شہبازشریف وزیراعلی? پنجاب تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سوموار کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اسوقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ مسلم لیگ (ن) پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی پاکستان میں حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے پارٹی کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلی مرتبہ احتجاجاً واک آو¿ٹ کیا۔مسلم لیگ کے کارکنوں نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر مظاہرہ کیا اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نعرے لگائے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور میں میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ قومی اسمبلی سے واک آو¿ٹ کرکے باہر آنے والے مسلم لیگ کے منتخب ارکان نے کہا کہ اسمبلی کے اندر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کہنا تھاکہ وہ بدھ کو نواز شریف کی نااہلیت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔اپیل کا اعلان وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی میں کل کے عدالتی فیصلے پر بحث کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابی معاملات پر سماعت کا حق انتخابی ٹرائبونلز کے پاس ہے جو کام کر رہے ہیں۔ اگر اعلان مری پر پیپلز پارٹی کاربند رہتی تو آج یہ فیصلہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ اگر صدر نے کل کو اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو انہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے معاملہ پیش کرنا پڑے گا ’لاہور ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا حق نہیں تھا تاہم انہوں نے اپنی دانست کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست کریں گے کیونکہ ضمنی انتخاب اگلے روز یعنی چھبیس جون کو منعقد ہو رہے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم قانونی معاملہ ہے اور اس کے لیئے جائز سماعت کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین خاص طور پر اپنے ہی اتحادی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مسئلے پر واضع مو¿قف اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت اس فیصلہ کے خاتمے کے لیئے تمام آئینی و قانونی ذرائع استعمال کرے گی اور انہیں امید ہے کہ فتح ان ہی کی ہوگی۔ منگل کو ایوان کی کارروائی کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما چوہدری نثار علی خان نے نقطہ اعتراض پر عدالتی فیصلے کا معاملہ اٹھایا اور تفیصلی بحث کا تقاضہ کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایوان سے معمول کی کارروائی روک کر اس معاملے پر تفصیلی بحث کروانا چاہی۔چودھری نثار نے اسمبلی میں پیپلز پارٹی پر تنقید کی تاہم سپیکر فہمیدہ مرزا نے چند اراکین کو اس معاملے پر اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے پر دو رائے ہوتی ہیں۔ چوہدری نثار نے اپنی تقریر میں ایوان سے دریافت کیا کہ وہ آج فیصلہ کرے کہ اسے جمہوریت کی جانب جانا ہے یا آمریت کی جانب۔ انہوں نے حزب اختلاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی فوجی آمر کی وردی سے چمٹ کر اقتدار میں نہیں آئیں گے جبکہ حزب اقتدار کو اپنی غلطیاں نہیں دہرانی چاہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کی اور جانوں کی قربانیاں دیں لیکن آج یہ جماعت ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ ’میں جانتا ہوں یہ ایسا نہیں کرے گی۔’ وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ ججوں نے یہ فیصلہ ان کے کہنے پر نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس فیصلے کی سماعت کے دوران مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر معزول ججوں سے متعلق اپنا مو¿قف واضح کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین اور قانون کے تحت بحال کریں گے۔ ’ڈنڈے کے زور پر انہیں بحال نہیں کیا جائے گا۔ دو غلط باتوں سے ایک درست بات نہیں بنتی۔‘ بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی وہ اپنی نشست چھوڑ دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال، اور ایاز امیر نے بھی تقاریر کیں اور کہا کہ اگر اعلان مری پر پیپلز پارٹی کاربند رہتی تو آج یہ فیصلہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر نے کل اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو انہیں پی سی او والی عدالتوں کا سہارا لیں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے شیخ وقاص نے اپنی جماعت کا مو¿قف واضح کرتے ہوئے کہا وہ تقاریر کا اپنا وقت بھی پیپلز پارٹی کو دینے کو تیار ہیں تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضع کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملہ پر مزید کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے۔ شہباز شریف راولپنڈی سے بھی بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف پنجاب اسمبلی کی ایک دوسری سیٹ سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے باوجود پی پی اڑتالیس بھکر کی نشست برقرار رکھ سکتے ہیں۔شہباز شریف بھکر کی نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے بعد اسی نشست کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ راولپنڈی کے حلقہ پی پی دس سے شہباز شریف کے مخالف تمام امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہوگئے اور انہیں اس حلقے سے بھی بلامقابلہ کامیاب قرار دیدیا گیا۔ مسلم لیگ قاف کی خاتون رکن بشری گردیزی نے پنجاب اسمبلی میں نکتہ اعتراض اٹھایا اور آئین کے آرٹیکل دوسوتیس (چار) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی سے کامیابی کے نوٹیفیکشن کے بعد ان کی بھکر والی نشست از خود خالی قرار پائی جا چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ شہباز شریف اب پی پی دس سے حلف اٹھائیں اور دوبارہ وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے عمل سے گزریں۔ منگل کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو بھکر سے مسلم لیگ نون کے رکن سعید اکبر نوانی نےنکتہ اعتراض پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر ابہام دورکرنے کے لیے رولنگ جاری کریں۔ان کی اس تجویز پر حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈیسک بجا کر اس کی حمایت کی۔ ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان نے اذان کے وقفے کے فوراً بعد کہا کہ وہ خدا کا نام لیے جانے کا انتظار کر رہے تھے اور اب وہ رولنگ دیتے ہیں چونکہ کسی شخص کے ایک سے زائد نشستوں پر امیدوار ہونے پر پابندی نہیں ہے اور شہباز شریف نے بیک وقت ایک سے زائد نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے آئین شہباز شریف کواجازت دیتا ہے کہ وہ پی پی اڑتالیس بھکر سے اپنی نشست برقرار رکھ سکیں۔منگل کو تمام دن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے حکومتی اراکین اسمبلی نکتہ اعتراض پر بات کرتے رہے اور بجٹ پر بحث نہیں ہوسکی۔ اراکین اسمبلی نے ہائی کورٹ کے ججوں اور صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ اراکین نے نواز شریف کو ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کے فیصلے کو ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ ایسا ایوان صدر کے کہنے پر ہوا ہے۔ بعد میں مال روڈ پر ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔

Tuesday, June 24, 2008

Picture News







Petition prepared to challenge LHC verdict: Naek



ISLAMABAD: Minister for Law and Justice Farooq H Naek said Tuesday that petition has been prepared to challenge the court verdict disqualifying Mian Nawaz Sharif for the bye elections. Earlier, Prime Minister Yousuf Raza Gilani in an address said the people were disappointed over the Lahore High Court verdict. The government will challenge the verdict in Supreme Court and will request for postponing the elections in NA-123.Farooq H Naek in a statement in National Assembly said that the proposed constitutional package would be tabled in the parliament after receiving proposals from the coalition partners. Talking to media he said the draft package has already been handed over to all coalition partners for seeking their proposals. The Minister said it would be finalized keeping in view suggestions from the coalition partners. To a question he said so far the party has not received any suggestions from the coalition partners. He said the PPP would welcome suggestions from any side. Answering another question, he said PPP wanted to restore deposed judges as soon as possible but it was against taking any unconstitutional step for the purpose.

Mirwaiz for structured dialogue over Kashmir




ISLAMABAD: All Parties Hurriyet Conference leader Mirwaiz Umar Farooque has called for structured dialogue between Pakistan and India over Kashmir with a timeframe.
Addressing a news conference here the Kashmiri leader said the institutionalized dialogue over Kashmir with a proper timeframe can help in progress towards seeking solution of the problem.
He called for three to four meetings in a year between the two sides on Kashmir with assessment of progress over the issue.
“We feel that we could not rapidly move forward without institutionalization of the dialogue,” he said.
Mirwaiz also suggested that the leadership of the both parts of Kashmir should also be provided opportunity to meet and discuss the issue. He proposed convening a conference of the Kashmiri leaders.
He said without involvement of Kashmiris no progress can be achieved towards resolution of the problem.
He also called for regular consultation over the issue.
“We want to break status quo while India wants to maintain it with the proposal to recognize the Line of Control as permanent border,” he added.

Govt. aware of Peshawar situation: Malik




ISLAMABAD: Interior Advisor to Prime Minister Rehman Malik Tuesday said that the government was aware of the situation surrounding Peshawar and a major action will be taken within a week. Speaking in National Assembly the Interior Advisor said the government was not negligent of the serious situation in some parts of NWFP. He said the government would provide protection to the people of the province in a way that no person would deteriorate peace in the province.Noor-ul-Haq Qadri MNA from FATA earlier said in the house that the government was unaware of the NWFP situation adding that the conditions are going out of control in the tribal areas.

Petition against AQ Khan detention adjourned




ISLAMABAD: Islamabad High Court adjourned hearing of the petition filed against detention of Dr. Abdul Qadeer Khan till Wednesday.The high court single bench comprised of the Chief Justice Sardar Muhammad Aslam heard the petition on Tuesday.Petitioner Barrister Javed Iqbal Jaffery in his arguments said Dr. Abdul Qadeer is his close friend who has been illegally detained, even his friends and relatives were not being allowed to meet him. Deputy Attorney General Raja Abdul Rehman in his arguments said Dr. Abdul Qadeer has not been kept in detention by the government. Justice Muhammad Aslam asked who has detained A.Q. Khan if he is not in the government detention. The chief justice directed the petitioner to provide the court list of those persons who want to meet him. He also directed the DAG to ensure telephone conversation of the petitioner with Dr. A.Q. Khan.

پیپلز پارٹی نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ بھی پرویز مشرف اور ق لیگ کی طرح عوامی نفرت کا نشانہ بن جائے گی ۔۔ قاضی حسین احمد



لاہور۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کو بجٹ اور فنانس بل کی منظوری کا صلہ نااہلی کی صورت میں دیا گیا ہے۔ فیصلے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، ایوان صدر اور سیاسی حریفوں کے عزائم واضح ہوگئے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل اشک شوئی کے مترادف ہے۔ نوازشریف گومگوکی کیفیت سے نکلیں اور عوام کے ساتھ مل کر ججوں کی بحالی اور پرویز مشرف سے نجات کی فیصلہ کن جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ جماعت سلامی کے کارکن بڑی تبدیلی کیلئے رابطہ عوام اور ممبر سازی مہم تیز کردیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا ڈویژن کے ضلعی ومقامی ذمہ داران اور ارکان شوریٰ کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن اور شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پی سی او ججوں سے اسی طرح کے فیصلے کی توقع تھی۔ ایک طرف این آر او کے تحت آصف علی زرداری پر تمام مقدمات ختم کردئے گئے اور ہزاروں لوگوں کی اربوں ڈالر کی کرپشن معاف کردی گئی جبکہ دوسری طرف میاں نوازشریف کو الیکشن لڑنے کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا سازشی عناصر اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور قومی مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرکے پرویز مشرف کو مواخذے سے بچانا چاہتے ہیں۔ تحفظات کے باوجو دکے قوم کے تمام طبقات نے آصف زرداری کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔ وہ قومی مفاہمت کے ذریعے ایک نئے پاکستان کی داغ بیل ڈال سکتے تھے لیکن وہ ذاتی مفادات اور خوف کے اسیر ہوگئے۔ قوم نے انہیں پرویز مشرف سے نجات اور ججوں کی بحالی کیلئے مینڈیٹ دیا تھا لیکن انہوں نے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جس کی وجہ سے سازشی عناصر کو اپنا کام دکھانے کا موقع ملا ۔ انہوں نے کہاکہ جج بحال کردیئے جاتے اور پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک پیش کردی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ ججوں کی بحالی اور پیپلز پارٹی کے رویے سے متعلق سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ فنانس بل کی منظوری کے بعد بھی ججوں کی بحالی کو آئینی پیکج سے مشروط کیا جارہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی ججوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک ڈکٹیٹر کے غیر آئینی اقدام کو درست کرنے کیلئے آئینی راستہ تلاش کرنے کی باتیں بہانہ اور وقت گزاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کو ایک فوجی ڈکٹیٹر نے غیر قانونی طورپر ہٹایا تھا۔ انہیں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جاسکتا تھا۔ آئینی پیکج کیلئے دو تہائی اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس نہیں ہے اور اس کی منظوری ناممکنات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے پوری قوم نے قربانیاں دی ہیں ان کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پیپلز پارٹی نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ بھی پرویز مشرف اور ق لیگ کی طرح عوامی نفرت کا نشانہ بن جائے گی۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ 100دن پورے ہونے کو ہیں لیکن حکمران مسائل کے حل اور غریب عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ملک میں انتہائی غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے جس کی وجہ سے سرمایہ باہر منتقل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سرحدوں کے تحفظ میں بھی ناکام نظر آتی ہے۔ دو تین ماہ سے بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے پاکستان کی فضائی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں پرواز کررہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ اب فوجیوں کو بھی قتل کیا جارہا ہے لیکن حکومت ڈھنگ سے احتجاج بھی نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ دوستی بڑھا رہے ہیں اور ویزے کی پابندیاں ختم کرکے باہم شیر وشکر ہونا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کشمیر کو پس پشت ڈالنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔

حکمران اتحاد کا مستقبل دائو پر ۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس (ایسوسی ایٹڈ پر یس سروس )،اسلام آباد


پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں اور پنجاب حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس ایک اور آڈیو ٹیپ ہے جس میں ایک حکمران پی سی او کے ججز کو ہدایت دے رہا ہے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے کے تناظر میں قومی اسمبلی میں تفصیلی خطاب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل ایک ایک جماعت اپنی پالیسی واضح کرے ۔ پلوں کے نیچے پانی بہہ چکا ہے ۔ جب تک یہ حالات رہیں گے ۔ پاکستان کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بقا مضبوط ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تقریب میں مولانا فضل الرحمان بار بار کہہ رہے تھے کہ صوبہ سرحد ہاتھ سے جا رہا ہے ۔ یہ ایوان کیوں منتخب کیا گیاہے ۔ ملک کی بقا اور مستقبل کی ضمانت دیں لیکن آج وہی کچھ ہو رہاہے جو آٹھ سالوں تک ہوتا رہا جعلی سپریم کورٹ کو تحفظ دیا جا تا ہے ۔ پی سی او ججز پولیس کے تحفظ میں ہوتے ہیں۔ ہم دھوپ میں ٹھہر کر شاہراہ دستور پر احتجاج کرتے تھے۔ ہم وفاقی کابینہ اور حکومت میں نہیں ہیں جو کچھ کہتے ہیں عمل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈھیٹ لوگ کرسی سے چمٹے رہتے ہیں عوام ملامت کرتے ہیں چھپ کر یہ ایوان صدر اور آرمی ہاو¿س میں بیٹھتے ہیں ۔ نواز شریف کے بارے میںلاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر پریشانی اور ہنسی آتی ہے ہم نے پندرہ وفاقی وزارتوں کی قربانی دی ایسے فیصلے ہمیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتے ۔ جب نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا ہم جب خوفزدہ نہیں ہوئے فاسق اور غاصب حکمران نے ہم کو آٹھ سال بربریت آمریت کا نشانہ بنایا ۔ پی سی او کے ججز کے فیصلوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) قائم رہے گی ۔ فوجی وردی میں ملبوس جرنیل ، انتظامیہ ، ایجنسیوں کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کو طاقت نہیں ملتی ۔ ہم عوامی قوت پر یقین رکھتے ہیں یہ جتنا دبانے کی کوشش کریں گے مسلم لیگ(ن) اتنی ابھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اہم ترین مسئلہ ہے ۔ جس ملک میں دو بار وزیراعظم رہنے والے لیڈر اور اہم حکومتی جماعت کو انصاف نہ ملے ۔ اس ملک میں سب کچھ ہے ۔ انصاف نہیںہے آخری وقت تک وفاق کی حفاظت کریں گے۔ زبانی کلامی سے ملک مستحکم نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلے کے پس منظر میں کون ہے ۔ ڈوری کون ہلا رہا ہے ۔ ایک بار کاغذات نامزدگی منظور ہو جائے تو کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔انتخابات کے بعد رٹ ہو سکتی ہے جعلی لوگو ں کے ذریعے پٹیشن دائر کی گئی ہے ہفتہ کے دن جب چھٹی ہوتی ہے بینچ ٹوٹ گیا ۔ نواز شریف کے تائید کنندہ تجویز کنندہ کو فریق نہیں بنایا گیا ۔نیا بینچ پیر کو بنا دو گھنٹوں میںپاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعت کے لیڈر کو اس کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ۔ ماضی میں جب سپریم کورٹ کے تیرہ ججز کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آچکا ہے ۔ ہائی کورٹ کے تین ججز نے اسے اڑا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ آڈیو ٹیپ ریکارڈ پر موجود ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک اور ٹیپ ہے گھناو¿نی ٹیپ ہے ایک بڑے حکمران نے پی سی او ججز کو ہدایات دیں۔ مطالبہ ہے کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ حکومت فیصلہ کرے کہ یہ آئینی ججز ہیں یا غیر آئینی ہیں پی سی او کے غیر قانونی ا ور غیر آئینی ججز کو فاسق حکمران نے مسلط کیا یہی حکومت ان ججز کو تحفظ دے رہی ہے ۔ غلط فیصلوں پر شاہراہ دستور پر پابندیاں ہو گئی ۔ دفاتر کو تحفظ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ججز سے ہمارے کوئی تعلقات نہیں ہیں اصول کے تحت جن ججز کا ساتھ دے رہے ہیں جب تک آزاد عدلیہ بحال نہیں ہو گی ۔ سنگین بحران رہے گا۔ معمول کی کارروائی کو معطل کرکے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ ہم نے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ۔لال مسجد پر حملہ ، وزیرستان میں فوج کو قتل کر ایا گیا ہے ہم نے احتجاج کیا۔ یہ سب کچھ ہیں اور آزاد عدلیہ نہیں ہے ملک کی بقائ آزادعدلیہ میں ہے ۔ نواز شریف کی نااہلی سے جدوجہد میںفرق نہیں کرے گا۔ 100 بار نااہل قرار دے دیں ۔ 2002 ئ میں مسلم لیگ ن کو ایوان سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی صرف مسلم لیگ ن تھی ۔ عوام نے چاہا کہ 18 سے 93 پنجاب میں 43 سے 118 ارکان ہو گئے ہیں۔ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے پنجاب میں حکومت پہنچنے کی خواہش نہیں ہے ۔ہم نے ملک کو آئین قانون کے مطابق چلانے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔غلطی نہ دہرائی جائے ۔ اپوزیشن قوم سے وعدہ کرے فوجی وردی کے ساتھ چمٹ کر ایوان اور اقتدار میں نہیں لائیں گے ۔ حکومتی بینچوں پر موجود پی پی پی کے حوالے سے یقین ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ارکان کو اپنے دل کی آواز کا موقع دے ۔ ملکر پاکستان کو بچانا ہے۔ غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور واشنگٹن کے بجائے اسلام آباد میںفیصلوں سے حقیقی آزادی ملے گی۔ جس ملک میں انصاف بک رہا ہو نا پید ہو اس ملک کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں 18 فروری کو عوام نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا آج میڈیا پر پابندیا ہے شاہراہ آئین کو بند کیا جاتا ہے پی سی او ججز ایجنسیوں کے جھرمٹ میں فیصلے کر رہے ہیں ۔ ہم نے دو ٹوک فیصلہ کرنا ہے ۔ ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر اور حواریوں سے رشتہ توڑنا ہے۔ غیر قانونی غیر آئینی ججز کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہو گا ۔ فیصلہ کن جدوجہد ہے ۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں اہم فیصلوں کا وقت ہے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کون اپنے موقف پر ڈٹا رہا ۔ سپیکر نے کہا کہ بحث ہو سکتی ہے ۔ دور آرائ ہیں۔ بحث پر وقت لگے ۔ مسلم لیگ ن سے ایک اور رکن کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کا فریق نہ بنائے جانے کے خلاف دو تجویز کنندگان کی اپیل پر سپریم کورٹ نے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مختصر سماعت کی ۔ نواز شریف کے تجویز کنندہ ظفر اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی لیکن اکرم شیخ ایڈووکیٹ اشتر اوصاف اور اے کے ڈوگر پر مشتمل پینل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنی درخواست میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے ( کل ) بدھ تک کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔ جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان وفاق کی جانب سے وفاق کی ایما پر لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا رہی ہے کہ جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ اپیل میں استدعا کی جائے گی کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ضمنی حلقے کا الیکشن ملتوی کر دیا جائے
پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دئیے جانے کے خلاف قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ حکومتی جماعت کے اراکین نے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور آزاد عدلیہ کے حق میں اور پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔ قبل ازیں اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کاایک ایسا حادثہ ہے جس سے قوم کے مقبول ترین لیڈر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جو بارہ سالوں سے جدوجہد کر رہا ہے ۔اس کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ دیا گیا ہے ۔ ہماری حلیف جماعت خود ان عدالتوں پر اعتماد نہیں رکھتے۔ بے نظیر کے سانحے کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔نواز شریف کے خلاف فیصلہ عدلیہ کا نہیں بلکہ آمر کا ہے عدلیہ کے فیصلے ہمارے مستقبل کی نسلوں کو زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں ۔اگر اس پارلیمنٹ نے فیصلے نہیں کئے تو عوام کے ہاتھ اور ہمارے گریبان ہوں گے ۔ ہمارا عہد وزارتوں کے لیے نہیں ہوتا ۔ ہم نے پیپلز پارٹی سے اقتدار کے لیے ہاتھ نہیں ملایا تھا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ مسلم لیگ ( ن ) کے اراکین واک آو¿ٹ کریں گے جس پر مسلم لیگ ن کے اراکین ایوان سے چلے گئے مسلم لیگ ن کے اراکین کے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دیا ۔مسلم لیگ (ن )نے پی سی او ججز پر عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ پی سی او ججوں کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اس لیے ان کے سامنے کوئی اپیل نہیں کریں گے، منگل کو یہاں قومی اسمبلی سے مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی کے واک آو¿ٹ کے بعد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے راہنما اور قومی اسمبلی میں قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت روز اول سے سمجھتی ہے کہ پی سی او ججز آئینی اور قانونی ججز نہیں ہیں اور یہ کسی اور کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے جو قوم سے کھیلا جا رہا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اصل عدلیہ کے ارکان ہمارے رشتہ دار نہیں ہیں وہ صرف آزاد عدلیہ کے علمبردار ہیں اور اسی لیے ہم ان کی سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18فروری سے پہلے پی سی او ججز پرویز مشرف کی ایما پر کام کرتے تھے لیکن یکم اپریل کے بعد پی سی او ججز جو کچھ کرتے ہیں وہ حکومتی ایما پر کرتے ہیں اور یہ صور ت حال ہمارے لیے قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت پی سی او ججز کے سامنے اپیل دائر نہیں کرے گی ۔ پاکستان کے عوام اور دنیا یہ سن لے اور کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اگر مسلم لیگ ن کا ہر رکن قومی اسمبلی غیر آئینی طو ر پر نااہل قرار دے دیا جائے تب بھی ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور نہ جھکیں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بھی نواز لیگ کی مجبوری نہیں ہے اور ن لیگ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ہر چیز قربان کر دے گی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ بعد میں انہوںن ے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اور سنٹرل ایگزیکٹوکی میٹنگ ہو گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گااس موقع پر ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی جاوید ہاشمی نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی تارخ میں ایک اور تاریخی دن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے والی عدلیہ کو پوری قوم نااہل قرار دے رہی ہے اور یہ عدلیہ جو ایک آمر کی باندی ہے اس عدلیہ نے ایک آمر کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس نے پاکستان کے محبوب ترین راہنما کو نااہل قرار دے کر پوری قوم کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تاریکی اور ناانصافی کو ہر صورت مٹائیں گے اور قوم کے روشن مقدر کے لیے جدوجہد کرتے رہیںگے۔مسلم لیگ ن کے راہنما احسن اقبال نے کہا کہ پی سی او ججزصدر پرویز مشرف کے پروردہ ہیں اس لیے مسلم لیگ ن انہیں قانونی اور جائز نہیں سمجھتی ۔ کیونکہ صدر پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ان غیر آئینی ججوں کو تعینات کیا ہے اور یہ غیر آئینی جج آئین کی نگرانی نہیں کرسکتے اور نہ ہی ملک میں امن و امان بحال کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہیں ضرور جانا ہو گا اور عدلیہ بحال ہو کر رہے گی انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ 2 نومبر کی پوزیشن پر بحال نہ کی گئی تو پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ وفاقی حکومت نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل دیتے ہوئے شاہراہ دستور کو ایک بار پھر نوگو ایریا میں تبدیل کردیا ۔ اراکین اسمبلی ، پارلیمنٹ کے وزارتوں کے ملازمین اور صحافیوں کو شاہراہ پر داخلہ کی اجازت نہ دی گئی سیکورٹی اہلکاروں نے اپوزیشن کے چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ کو بھی پارلیمنٹ جانے سے روک دیا جس پر قومی اسمبلی میں انہوں نے شدید احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح ایک بار پھر اسلام آباد کی عوام ی حکومت کی طرف سے سیکورٹی کے نام نہاد انتظامات کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے جب منگل کی صبح پارلیمنٹ ہاو¿س میں جانے والی شاہراہ دستور کو تمام افراد کے لیے بند کردیا گیا حکومت نے اپنی حلیف جماعت مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاو¿س کے ارد گرد سیکورٹی کے ا نتظامات کرتے ہوئے ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث نہ صرف شاہراہ دستور پر کئی کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیںلگ گئیں پولیس اہلکاروں نے اراکین اسمبلی کو بھی قومی اسمبلی جانے نہ دیا مسلم لیگ(ق) کے ریاض حسین پیرزادہ جو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جار ہے تھے کو اپنا تعارف کرانے پر بھی سیکورٹی اہلکاروں نے اجازت نہ د ی تاہم ان کے شدید احتجاج کے بعد انہیں اجازت دی گئی جبکہ دیگر افراد جن میں صحافی ،پارلیمنٹ ہاو¿س اور وزارتوں کے اہلکار شامل تھے کو اپنے کارڈ دیکھانے کے باوجود اجازت نہ دی گئی اس صورت حال کے باعث شاہراہ دستور ایک بار پھر نو گو ایریا بن گئی ۔ ریاض حسین پیرزادہ نے اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بحران ختم کیوں نہیں ہوتا ہم اپنے ہی ملک میں یرغمال بن چکے ہین حکمرانوں کو کیوںیقین نہیں آتا کہ وہ حکومت میں آچکے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے واضح کر دیا ہے کہ آزاد عدلیہ اور نواز شریف کو انتخابات سے نااہل قرار دیئے جانے کے خلاف کوئی بڑا سیاسی اقدام اٹھایا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے منگل کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے نمائندہ وفد نے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں ملاقات کی ۔ مخدوم جاوید ہاشمی ‘ احسن اقبال دیگر اہم رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ذرائع کے مطابق آزاد عدلیہ بحال نہ ہونے پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) حکمران اتحاد کا حصہ نہیں رہے گی ۔ اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے ‘ پی سی او کے ججز قابل قبول نہیں ہیں ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے حوالے سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ججز کی بحالی میں تاخیر سے حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ ( ن ) کو نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا ۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 123 کے ضمنی انتخابات نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل کافیصلہ آنے تک ملتوی کر دئے جائیں ۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے وفاقی حکومت باضابطہ درخواست کرے گی ۔ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں میں انہوں نے کہاکہ بے حد دکھ اور افسوس ہواہے کہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیاگیاہے ۔ قوم نے جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت بڑی قیمت دی ہے ۔ ایک ایک رکن ان کی بھرپور جدوجہد ہے ۔ ہم نے عوام کو عزت اور اسکا راج قائم کرنا ہے ۔ طاقت کے اصل سرچشمہ اس ہاوس ، آئین کو طاقتور اور اداروں کو مضبوط عدلیہ اور میڈیا کو آزاد کرنا ہے ۔ میثاق جمہوریت کے حوالے سے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لندن میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے ۔پنجاب میں مسلم لیگ ن اور وفاق میں پی پی پی کو مینڈیٹ ملا۔ میثاق جمہوریت میں معاہدہ کیا کہ غیر آئینی غیر قانونی طریقے سے ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرائیں گے۔ عوام کے اجتماعی شعور کو دھوکا نہیں دیں گے ۔ اداروں میں ایسے فیصلے ہونے چاہئیں جن کو عوام کو تسلیم کریں ورنہ اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ میں نے نواز شریف ، چوہدری نثار علی ، مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال کے ساتھ مشاورت کی ہے ۔ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمارے پاس نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا آپشن اور عدالت کا حکم آنے تک 123 حلقہ میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی اپیل کریں گے ۔اداروں کو چاہیے کہ وہ اس طرح اپنی ساکھ قائم کریں کہ عوام ان کا عزت و احترام کرے ۔ اتحادیوں کے جذبات جو مجروح ہیں اس پر افسوس ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو ایک دوسرے پر تنقید سے گریزکرنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن نے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت اپنے اتحادیوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے جمہوریت کی نفی ہو اور نہ ہی میاں نواز شریف کے انتخابات پر کوئی قدغن لگانے کا سوچا ہے انہوں نے مسلم لیگ ن کے راہنماوں سے درخواست کی کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ وزیر اعظم سے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی اور این اے 123کے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرانے کی بھی کوشش کریں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت عوام دوست فیصلوں کی خواہاں ہے اور اپنے اتحادیوں سے مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور لائی کورٹ کے اس فیصلے پر آصف علی زرداری کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نون لیگ سے محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتی
ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سروس اے پی ایس۔