International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Wednesday, July 2, 2008
مظلوم عوام کے ٹیکس سے حکمرانوں کی عیاشیاں ۔۔۔ تحریر اے پی ایس،اسلام آباد
فاٹا میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے آپریشن کی بجائے معاملات بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں حکومت کی طرف سے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر ظلم ہے عوام کو تاریکی میں ڈبو کر حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی سمیت فاٹا کے علاقوں میں فوجی آپریشن ظالمانہ اقدام ہے اور اس سے ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا آصف زر داری اور صدر مشرف اپنے اقتدار کے بچاو کے لئے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے عوام کو اپنی افواج سے لڑا رہے ہیں جو پاکستان کے مستقبل کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے کچھ بھی ہو حکومت کو تمام معاملات گفت و شنید سے حل کر نے چاہئیں اور غیر ملکی مفادات کی خاطر اپنے معصوم شہریوں کی جانیں نہیں لینی چاہئیں پشاور پر طالبان کے قبضے کی خبریں چلا کر عوام میں مایوسی اور بے چینی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے اور فاٹا پر اتحادی افواج کے حملے کے لئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریب عوام پر ظلم کیا گیا ہے موجودہ حکومت کے چار ماہ میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ اوائل میں یہی حکومت اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اوائل میں یہی حکومت اشیاءکی قیمتوں کو پچاس فیصد کم کر نے کے دعوے کر رہی تھی عوام نے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے بجلی کا بحران پیدا کر کے عوام کو تاریکیوں میں ڈبودیا گیا ہے جبکہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاو¿س میں ایک منٹ کے لئے بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ہے غریب عوام کی طرف سے ادا شدہ ٹیکس کے پیسے پر حکمران عیش و عشرت کر رہے ہیں جبکہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محدود وسائل کے اندر مکمل کیا گیا ہے ۔مغربی ممالک پاکستان کو توڑ کر اس ایٹمی پروگرام پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کا انحصار ملک کی قیادت پر ہے ۔ہمیں ایٹمی پروگرام بچانے کے لئے ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جن پر قوم کو اعتماد ہو۔ہمارے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے لئے ملک میں غداروں کی کمی نہیں ،ملک بچانے کے لئے میر صادق اور میر جعفر جیسے غداروں سے خبردار رہنا ہو گا ۔ ایک پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ محفوظ ہاتھ کیا ہیں ۔ یہ کس کی حفاظت میں ہے کیونکہ یہ قوموں کے لیڈروں پر منحصر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں ترکی کس قدر مشکلات میں تھا لیکن مصطفی کمال نے دشمنوں کو بھگا کر ملک کو بچالیا ۔ اصل میں لیڈر پر قوم کا اعتماد تھا اور عوام اس کے ساتھ تھے ۔ اسی طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے مخالف قوتوں کے خلاف کامیابی حاصل کر کے ہمیں یہ ملک دیا ۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے لیڈر کس قسم کے ہیں اور قوم کو ان پر اعتماد کس قدر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جانوروں کے بچوں پر بھی کوئی بڑا جانور حملہ کردے تو وہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے اور اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اصل بات کمٹمنٹ کی ہے ۔ اگر یہ نہ ہو اور لیڈر کو کسی کی فکر نہ ہو تو پھر حفاظت میں ہونے یا نہ ہونے کاکوئی مقصد نہیں ہوتا امریکہ 2015ء تک پاکستان کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے آج سے آٹھ دس سال پہلے ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہا تھا کہ پاکستان 2015ء تک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور انہی لوگوں نے 1951-52ء میں کہا تھا کہ 25سال کے اندر اندر پاکستان ٹوٹ جائے گا اور 25سال پورے نہیں ہونے پائے تھے کہ پاکستان 20سال کے اندر ٹوٹ گیا ۔ ہم واحد مسلمان ملک ہیں جو ایٹمی طاقت ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آج تک کسی دوسری تہذیب نے مغربی تہذیب کو خطرے میں نہیں ڈالا ہم لوگ وہ لوگ ہیں جو پیرس تک پہنچ گئے تھے اسلام واحد تہذیب اور مذہب ہے جس نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ابھی بھی چند دن پہلے پوپ نے اعلان کیا کہ ان مسلمانوں کی آبادی عیسائیوں سے زیادہ ہے جو اسلام قبول کررہے ہیں ۔ مغرب کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں وہ ہمیں کبھی قبول ہی نہیں کریں گے ۔ یہ لوگ اپنے منصوبے کے مطابق بلوچستان کو توڑ دیں گے اور سرحد کو توڑ کر افغانستان سے ملا ئیں گے اور صوبہ سندھ اس کو بھی خود مختار بنا دیں گے ۔ جو پنجاب ہے اس کے پاس سب کچھ ہے یہاں ایٹم بم ہیں پنجاب سے بھارت کا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے ۔ ان کا منصوبہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان ٹوٹ جائے اور پنجاب کو وہ اس بات پر راضی کرلیں گے کہ آپ وفاق میں نہیں ہیں آپ ایٹمی پروگرام کو آئی اے ای اے کے مطابق ڈھال دیں جس طرح شمالی کو ریا نے کیا ۔ اس منصوبے کو بڑی خوبصورتی سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور اس ملک میں غداروں کی کمی نہیں ہے جو آپ کو مل جائیں گے اور گورنر بننے کو تیار ہوں گے ایک مچھلی پورے تالابکو گندا کردیتی ہے ۔ سراج الدولہ کے لئے میر جعفر انگلینڈ سے نہیں آیا تھا ٹیپو سلطان کے خلاف میر صادق انگریزوں نے نہیں بھیجا تھا اس لیے غداروں کی کمی نہیں ہے ۔ ہمارے ایٹمی پروگرام پر بہت کم پیسہ خرچ ہوا دوسرے ممالک اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن ہم نے بہت کم خرچے میں ایٹم بم بنایا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آج ہم اسی لئے سکون سے رہے رہے ہیں کیونکہ ایٹمی طاقت ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے آخر میں یہ بھی کہا کہ ہم نے اس ملک کی حفاظت کی ہے۔اے پی ایس
Tuesday, July 1, 2008
Amendments in law for tribal areas prepared: Naek

ISLAMABAD: Minister for law Farooq H Naik said the report about amendments in the law in force in Swat and tribal areas will be presented to the prime minister.He was talking to the journalists after meeting of the committee for legislation in FATA and Swat on Tuesday, adding coalition partners should not talk about quitting the alliance adding it would encourage the opponents. The ordinance will be promulgated in tribal areas after it is passed by assembly. The proposals floated in the assembly meeting aimed at bringing amendment in the laws in place in Swat and FATA will be acceptable to people, he assured. The laws being reformed included Fata regulations and Shariah law. With the implementation of these laws, peace would come in the area, he held.
Asif Ali Zardari says west invested in Pakistan’s military but not in its people

ISLAMABAD: PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari has said that the west invested in Pakistan’s weapons and military but not in its people with the result that the international community had to pay a terrible price for using Pakistan for its short-term political objectives. “We were exploited under colonialism, manipulated as a tool of cold war intrigue, made into surrogate for a war against the Soviets in Afghanistan, and when that war was won, Pakistan and Afghanistan were abandoned to the forces of extremism and fanaticism”, he said in his key note address at the Socialist International Congress in Athens, Greece, on Tuesday.
He said that Pakistan was now the Petri dish of international terrorism and that was a product of failed international politics and not our creation.
The PPP leader said Pakistan could still be converted into a successful model of modernity for 1.3 billion Muslims on earth for which the help of the international community was needed.
“We can’t do it alone. We need the help of the world. If we succeed, we will contain extremism and terrorism. But if we fail, the world will fail with us”.
Asif Ali Zardari urged the world to convene a South and Central Asia Regional Conference to coordinate a multi-faceted international programme to not only contain terrorism militarily, but to choke off the social and economic oxygen of the fire of terrorism by rebuilding the economies and infrastructure of our region.
A prosperous Pakistan will smash the remnants of terrorism from our frontiers better than the bullets, missiles and tanks of the super-powers, he said.
Pleading for the socio economic development of Pakistan he said that it will ensure not only Pakistan’s but also the entire world’s stability.
He said that Pakistan stood against terrorism not as surrogates but as partners to the civilized world because we are fighting for the very soul of Pakistan adding that Pakistan had suffered more victims of terrorism than any nation on earth, including the United States on September 11th.
“Has the UN, or the United States, or the United Kingdom, contributed one cent to the victims of terrorism in our land”?
The PPP leader said people of Pakistan have confidence and hope in their future and it was imperative to address their long neglected social, economic and infrastructure needs.
“We will restore law and order to our land and attack fanaticism and terrorism wherever it rears its ugly head”.
The PPP Co-Chairman said that the government in Pakistan plans to bring economic, political and social transformation of the tribal areas - the hotbed of terrorist activity, and integrate these areas into the mainstream of Pakistani society.
He said that Pakistan was facing a looming energy and water crisis that threatened its resurgence. He said that to meet the challenge the government will create 2,200 new megawatts of power this year alone and tackle the water issue on an emergency basis reducing water consumption by one half.
He said that education had been made a high priority “not just because it is right, but also because it is in the long term strategic interests of Pakistan and the world”.
About the political madrasas and education curriculum he said, “In Pakistan political madrasas have spread hatred and intolerance. We will move to provide a uniform and responsible national curriculum, both for public and seminary education, so that the children of Pakistan have an opportunity for the future free of intimidation and coercion. And if political madrasas will not conform to the national curriculum, we will shut them down.”
He said that Shaheed Mohtarma Bhutto’s life was taken away from her but no one can take away her dreams and her vision that inspired the entire world. Men and women can be killed but great ideas are immortal, he said.
بش انتظامیہ پاکستانی پالیسیوں کی حمایت کرے، امریکی ماہر
واشنگٹن ۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کی سابق ڈائریکٹر ڑینا ڈورمانڈے نے بش انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی پالیسیوں کی حمایت کرے۔ ڑینا ڈور مانڈے کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پسماندہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے دل جیتنے کی ضرورت ہے۔ امریکی جریدے کرسچن سائنس مانٹر میں لکھے گئے مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جانتا ہے کہ یہ طویل جنگ ہے اس مسئلے کا حل بھی طویل المدتی ہونا چاہئے اس کے لئے جمہوریت مستحکم کرکے فاٹا اور صوبہ سرحد میں فوجی کارروائی کی بجائے جمہوری عمل آگے بڑھایا جائے۔ ڑینا ڈورمانڈے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے دو گروپ ہیں جن میں سے ایک گروپ جمہوریت اور امریکی پالیسیوں کا مخالف ہے اور سیکورٹی فورسز اسی کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔ دوسرا گروپ روزگار، تعلیم اور اپنے علاقوں میں بنیادوں سہولتوں کا مطالبہ کررہا ہے اس گروپ سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تو حکومت پاکستان دہشت گردی کی اصل جڑ کا خاتمہ کرسکے گی۔
ایران کو سمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دیں گے۔امریکہ
ماناما ۔ امریکی بحریہ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون جے کوس گرف نے ایران کو خبر دار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کو دنیا کے لئے تیل کی سپلائی کاسمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دے گا ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی کمانڈر نے بحرین میں پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے کہا کہ ایران سمندری راستہ بند نہیں کرے گا اور اگر اس نے ایسی کوشش کی تو امریکہ ایران کو سمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دے گا یہ بات امریکی چیف نے ایران کے انقلابی گارڈز کے چیف کے بیان کے رد عمل میں کہی جس میں گزشتہ ہفتے ایرانی چیف نے کہا تھا کہ یہ فطری امر ہے کہ جب ملک پر حملہ ہو تا ہے تو وہ اپنے دشمن کے خلاف تمام صلاحیتیں اور حربے استعمال کر تا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ خلیج فارس اور سمندری راستہ کو روکنا بھی ہمارا ایک ہتھیار ہو گا واضح رہے کہ یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان توانائی کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے اور دنیا کا 40 فیصد خام تیل اسی سمندری راستے کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے امریکن بحریہ کے وائس ایڈمرل کوس گرف نے کہا کہ اگر ایران نے سمندری راستہ بند کیا تو یہ ایکشن امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ عالمی برادری کے خلاف ہو گا
منگل کو بھی ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں مندی
کراچی۔ ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں منگل کو بھی مندی کا رجحان جاری رہا اور تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں انڈیکس کا انقطاع منفی زون میں ہوا۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 67.50 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 12221.53 پوائنٹس پر منقطع ہوا۔ملک کی کیپیٹل مارکیٹوں میں اتھارٹیز کی جانب سے کوئی دلچسی نہیں لی جارہی ہے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مارکیٹ اسٹیبلائیزیشن اقدامات کے بعد تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے جبکہ مارکیٹ میں درستگی کے لئے لئے جانے والے یہ اقدامات بھی ناکام ہوگئے ہیں۔منگل کو کراچی اسٹاک ایکس چینج میں مجموعی طور پر 225 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میںسے 54 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 165 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 6 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے ریکارڈ ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم گزشتہ یوم کی نسبت کچھ بہتر رہا اور 4کروڑ69 لاکھ سے زائد رہا مزید براںکے ایس ای 30 انڈیکس میں بھی 95.85 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 14230.42 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔پیر کو بھی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں کاروبار منفی زون میں منقطع ہوا تھا اور منگل کو بھی لاہور سمیت اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے۔لاہور اسٹاک مارکیٹ میں ایل ایس ای 25 انڈیکس میں 38.76 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 3830.03 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔مارکیٹ میں مجموعی طور پر89 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میں سے 6 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 43 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 40 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جبکہ مارکیٹ میں کاروباری حجم 28 لاکھ64 ہزار حصص سے زائد رہا۔اسلام آباد اسٹاک ایکس چینج میں آئی ایس ای 10 انڈیکس میں 7.46 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 2742.18 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔مارکیٹ میں مجموعی طور پر 105 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میں سے 29 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ اور 76 کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔دوسری جانب کراچی اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل کے حصص 0.03 فیصد اضافے سے 124 روپے40پیسے ریکارڈ ہوئے دیگر نمایاں کمپنیوں میں عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 0.67 فیصد کمی سے 160روپے40پیسے، پاکستان اسٹیٹ آئل کے حصص 2.77 فیصد اضافے سے 428روپے79پیسے اور پاکستان آئل فیلڈز کے حصص 0.75 فیصد کمی سے 362روپے10پیسے ریکارڈ ہوئے۔
پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
اسلام آباد ۔ پیٹرولم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز موومنٹ کے چیئر مین ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کر دیا ہے پی پی پی پی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فریق بنایا گیا ہے اس حوالے سے انہوں نے طاہر محمود ایڈووکیٹ اور محمد علی ایڈووکیٹ کے ذریعے پٹیشن دائر کی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے تین ماہ میں شدید مہنگائی ہوئی ہے مہنگائی کے باعث رواں سال کے پہلے پانچ ماہ 539 افراد خود کشیاں کر چکے ہیں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ روٹی،کپڑا اور مکان تو دور کی بات ہے اس وقت زندگی کی سانس بر قرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرول اور گیس کی سابقہ قیمتوں کو بر قرار رکھنے کا حکم جاری کیا جائے حکمران اتحاد کی قیادت کے علاوہ پٹیشن میں وزارت پیٹرولیم،اوگرا وزارت خوراک کو فریق بنایا گیا ہے پٹیشن آج (بدھ کو) کاڈسٹ پر آنے اور فریقین کو نوٹسز جاری ہو نے کا امکان ہے
اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا
اسلام آباد ۔ اوگرا نے قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلو صارفین کے لئے نرخوں میں 31 سے 120 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے 300 سے زائد گیس یونٹس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے لئے نرخوں میں 70 سے 120 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 50 سے 200 کیوبک میٹر گیس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل و صنعتی صارفین کے لئے گیس کے نرخوں میں اضافہ 31 فیصد کیا گیا ہے تاہم ان صارفین سے ماہانہ کم از کم چارجز 30 سے 40 فیصد ہوں گے اس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جو گھریلو صارفین کے جو پہلے 5 سلیپ تھے انہیں بڑھا کر 7 کر دیا گیا ہے ہر سلیپ کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے پہلے گھریلو صارفین کے لئے زیادہ سے زیادہ قیمت310 روپے ملین مکعب بی ٹی یو تھی جس میں اضافہ کر کے 688 روپے کر دیا گیا ہے نئے ٹیرف کے تحت 300 سے 400 یونٹس کی قیمت407.31 روپے 400 سے 500 یونٹس کی قیمت529.31 روپے جبکہ 500 یونٹس سے گیس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے لئے نرخ 688.35 روپے ایم ایم بی ٹی یو ہو گی واپڈا اور کے ای ایس سی کے پاور اسٹیشنوں کے لئے گیس کے نرخ بڑھا دئیے گئے اس طرح گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے سی این جی کی قیمت میں بھی 13 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اس طرح 300 یونٹس سے زائد گیس استعمال کر نے والے تندوروں پر کمرشل نرخوں کا اطلاق ہو گا ۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب کی قومی و صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا
اسلام آباد ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ ،بلوچستان صوبہ سرحد کے ضمنی انتخابات کے سر کار ی کانوٹیفکیشن کے بعد پنجاب میں قومی اسمبلی کی چار اور پنجاب کی اسمبلی کی گیارہ نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا سر کاری سطح پر اعلان کر دیا ہے تفصیلات کے مطابق این اے 52 راولپنڈی میں کامیاب امیدوار محمد صفدر،این اے 55 سے حاجی پرویز خان، این اے 131شیخوپورہ سے راجہ افضل حسین اور این اے 147 اوکاڑہ سے کامیاب امیدوار خرم جہانگیر ووٹو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اسی طرح پی پی 59 فیصل آباد سے قاسم ضیاء ،پی پی 124سیالکوٹ سے رانا شمیم احمد خان ،پی پی 219 خانیوال سے کرم داد و اہلہ،پی پی 229 پاکپتن سے سر دار واجد علی،پی پی 243 ڈی جی خان سے سر دار ذوالفقار علی کھوسہ، پی پی 258 مظفر گڑھ سے مخدوم زادہ ہارون احمد سلطان ،پی پی 277 بہاولنگر سے میاں فدا حسین ،پی پی 70فیصل آباد سے رانا ثناء اللہ،پی پی 99 گوجرانوالہ سے قیصر اقبال،پی پی 154 لاہور سے سید زعم حسین قادری اور پی پی 171 ننکانہ صاحب سے رانا محمد ارشاد کی کامیابی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔
امریکہ میں تیل بحران شدت اختیار کر گیا کمی پورا کرنے کے لیے وینزویلا سے درآمد کرے گا
واشنگٹن ۔ امریکہ نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں گزشتہ پانچ سالوں کی نسبت تیل کی پیدوار میں11.7 فیصد کمی کے باعث وہ اپنی بڑھتی ہوئی تیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وینزویلا سے خام تیل اور پیٹرولیم مضوعات درآمد کر ے گا جبکہ وینزویلا نے اپنے اتحادی چین کو تیل کی فراہمی بڑھا دی ہے۔ امریکہ نے 2008ء کے پہلے چار ماہ میں وینزویلا سے روزانہ تقریباً1.13 ملین بیرل خام آئل اور پیٹرولی مضوعات درآمد کرتا تھا اب وہ اپنی درآمدات میں اضافہ کرے گا گزشتہ سالوں میں امریکہ نے وینزویلا سے اپنی تیل درآمدات میں کمی کی تھی جس سے وینزویلا کی تیل انڈسٹری کو کافی نقصان ہوا تھا اس کے تدارک کے لیے انہوں نے تیل کی مضوعات بھارت اور چین کو برآمد کرنا شروع کر دی تھی۔ وینزویلا کی آئل کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری یومیہ پیداوار تقریبا 3.2ملین بیرل یومیہ ہے جب کہ مارکیٹ میں اس کا استعمال تقریباً 2.4 ملین بیرل ہے لندن کے ماہر معاشیات لیوڈرولس نے کہا ہے کہ امریکہ میں تیل کی درآمد میں کمی پیٹرولیم مضوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ امریکہ یومیہ تقریباً9لاکھ 90 ہزار بیرل خام تیل اور 1لاکھ 44 ہزار بیرل پیڑولیم مضوعات وینزویلا سے درآمد کرتا ہے۔گزشتہ سال وینزویلا اپنی پیداوار کا تقریباً 60فیصد امریکہ کو برآمد کرتا تھا اور اس میں سالانہ 3فیصد اضافہ ہوتا تھا جبکہ اس کی تقریباً 6.2فیصدبرآمدات میں کمی ہوئی ہے واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر ہوگوشاوز نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تیل خریدنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہ کی تو وہ اس کو تیل کی سپلائی بند کردے گا اور کہا کہ وینزویلا اپنی تیل کی مارکیٹ کو وسیع کرکے وینزویلا اپنی تیل کی پیداوار کو یومیہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار ایشیائی ممالک کو برآمد کرتا ہے اور 2010ء تک اس کی برآمدات تقریباً دو گنی ہو جائے گی۔
جوہری معاہدے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا: من موہن سنگھ
نئی دہلی ۔ بھارت امریکی جوہری تعاون معاہدے پر تقریباً دو ہفتوں سے جاری تعطل اور حکومت کو لاحق خطرات کے درمیان وزیر اعظم من موہن سنگھ نے پہلی بار اپنی خاموشی توڑی اور کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد سے قبل وہ پارلیمنٹ کا سامنا کرنے لے لیے تیار ہیں۔اپنی رہائش پر ایک تقریب کے موقعے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور نیوکلیر سپلائیر گروپ کے ساتھ جاری مذاکرات کو مکمل کرنے کی اجازت دے دی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذکرات کی تکمیل اور معاہدے پر عمل درآمد سے قبل وہ پارلیمنٹ کے سامنے تمام امور واضح طور بیان کر دیں گے۔وزیر اعظم نے بائیں بازو کی دھمکی کی شدّت کو کم کرتے ہوئے اس امید کااظہار کیا کہ اس معاملے پر اتفاقِ رائے کی گنجائش اب بھی موجود ہے اور حکومت بائیں بازو سمیت تمام لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے۔دوسری طرف اس مسئلے پر بائیں بازو کا موقف مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم گروپ آٹھ کی کانفرنس میں شریک ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت بین الاقوامی توانائی کی ایجنسی سے مذاکرات میں پیش رفت کر رہی ہے اور اس صورت میں ہم حکومت سے کسی بھی وقت دست کش ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ سات جولائی کو گروپ آٹھ کی کانفرنس میں جانے سے پہلے اس مسئلے کو سلجھا لینا چاہتے ہیں۔
پاکستان کو موجودہ حالات میں ٤ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔یوسف رضا گیلانی

کراچی ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں چار بڑے چیلنجز کا سامان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک خودمختار ادارہ ہے اور صرف پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔ ہماری ترجیحات میں زراعت کو فروغ دینا ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لائیو اسٹاک و فشریشز کے شعبے کو ترقی دینا شامل ہے۔ ملک میں سوئی گیس سمیت دیگر شعبوں کے ٹیرف میں اضافے کا اثر کم آمدنی والے طبقے پر نہیں ہوگا۔معاشی شرح نمو 7فیصد کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60سالہ تقریبات کے موقع پر منعقدہ مالیاتی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاد اختر ، صوبائی و وفاقی وزراء اور مشیران جبکہ کاروباری کمیونٹی سے بھی کثیر نمائندگی موجود تھی۔ وزیر اعظم نے تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ملک کو سیاسی و معاشی محاذ پر 4بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ، اندرونی عدم استحکام اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں جن کے تدارک کیلئے اقدامات کیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں بینکاری نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیہی علاقوں تک بینکاری نظام کی توسیع کیلئے موجودہ حکومت مکمل کوششیں کررہی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جو صرف پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیحات میں زراعت کو فروغ دینا ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لائیو اسٹاک و فشریشز کے شعبے کو ترقی دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر کم سے کم انحصار کرنے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے ہی حکومت کی جانب سے زرعی مشینری آلات کی درآمد پر عائد 5فیصد ڈیوٹی سے اس شعبے کو مثتثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ ملک میں سوئی گیس سمیت دیگر شعبوں کے ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کا اثر غریبوں یا کم آمدنی والے طبقے پر نہیں ہوگا ، حکومت انہیں مخصوص فنڈز کے ذریعے زرتلافی دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے پانچ برسوں کیلئے معاشی شرح نمو 7فیصد کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے گوادر فش فارمز کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا اعلان بھی کیا۔ علاوہ ازیں تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
۔۔۔۔۔ تفصیلی خبر ۔۔۔۔۔
حکومت مجموعی معاشی استحکام بحال کرے گی، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا عزم
مالی سال 2007-08ء اقتصادی اعتبار سے چیلنجز کا سال تھا
معاشی افزائش کی رفتار میں کمی، گرانی کی شرح میں اضافہ،شرح تبادلہ میں عدم استحکام اور بھاری مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے خسارے کلیدی چیلنجز ہیں
مانیٹری استحکام اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے اسٹیٹ بینک کا مسلسل تعاون ناگزیر ہے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر لرننگ ریسورس سینٹر، کراچی میں اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام ایک روزہ ڈیولپمنٹ فائنانس کانفرنس سے خطاب
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زری اور مالیاتی اتھارٹیز کے درمیان بہتر ربط اور ہم آہنگی کے ذریعے مجموعی معاشی استحکام کو بحال کیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بات منگل کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر لرننگ ریسورس سینٹر، کراچی میں اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام ایک روزہ ڈیولپمنٹ فائنانس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ختم ہونے والا مالی سال 2007-08ء اقتصادی اعتبار سے چیلنجز کا سال تھا۔ ملک کو اس وقت چار بڑے معاشی چیلنج درپیش ہیں جن میں معاشی افزائش کی رفتار میں کمی، گرانی کی شرح میں اضافہ،شرح تبادلہ میں عدم استحکام اور بھاری مالیاتی و بیرونی کھاتے کے خسارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مجموعی معاشی عدم توازن میں اضافے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک اپنی مالی استطاعت سے دور ہے۔ یہ چیلنجز بہت سخت ہیں تاہم ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت کا عزم بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مالیاتی اور زری اتھارٹیز کے درمیان بہتر ربط اور ہم آہنگی کے ذریعے حکومت ایک مناسب عرصے میں مالیاتی استحکام بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مالیاتی خسارے کو جو گذشتہ سال تقریباً 7 فیصد تھا رواں مالی سال (2008-09)ء کے دوران کم کرکے جی ڈی پی کے 4.7 فیصد تک لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت مالیاتی خسارے کو وسط مدتی عرے کے دوران جی ڈی پی کے 3.0 سے 3.5 فیصد کی حد کے اندر محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جبکہ حکومت آئندہ پانچ برسوں کے دوران معاشی نمو کی شرح 6 فیصد سے 7 فیصد کے درمیان رکھنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا محور زراعت، اشیاء سازی اور خدمات کے شعبوں میں معیاری نمو ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنا اور ٹیکس پالیسیوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کے بڑے پالیسی اہداف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی ترقی کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گی کیونکہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجی شعبہ معاشی افزائش کا حقیقی انجن اور روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ حکومت کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے۔ حکومت کا کردار ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، جس میں نجی شعبہ موثر انداز میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کی جارحانہ مہم اور نجی شعبے کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے گا۔حال ہی میں اعلان کردہ وفاقی بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کی حکومت نے سبسڈیز کوکم کرنے کے علاوہ ان کا از سر نو تعین کیا ہے۔ بجٹ خسارے کی شرح کو 4.7 فیصد کے اندر رکھنے کے لئے سبسڈیز کو کم کرنا ضروری تھا اور سبسڈیز کے از سر نو تعین کا مقصد بنیادی طور پر ہدف شدہ سبسڈی فراہم کرنا ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے تاہم حکومت کا 40 فیصد سے زیادہ مالیاتی خسارہ سبسڈی بل کی وجہ سے ہے۔ڈیویلپمنٹ فائنانس کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے معیشت، انفرااسٹرکچر اور صنعت بالخصوص عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ملک بھر میں مالیاتی سہولتوں تک رسائی کو بڑھانے کی غرض سے ایک جامع ڈیولپمنٹ فائنانس گروپ کے قیام کے لئے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز، ایس ایم ای، ہاؤسنگ اور مائیکرو فائنانس کے شعبوں کے لئے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل اور گائیڈ لائنز کے اجرا کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے قرضہ دہی میں بہتری آئے گی۔ خصوصی قرضہ دہی کے لئے مناسب تربیت بھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گی۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جدید مالیاتی سہولتوں سے محروم آبادی کو بینکاری کی سہولتوں کی فراہمی سے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو براہ راست تقویت مل رہی ہے۔ حکومت نے وفاقی بجٹ میں زرعی شعبے کے لئے ایک جامع مراعتی نظام فراہم کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے کمرشل بینک زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 200 بلین روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس قرضہ دہی سے کم از کم 20 لاکھ قرض گیروں کو سہولت ملے گی جو گذشتہ چند برسوں کے مقابلے میں دگنی سطح ہے۔ اس میں سے 75 فیصد چھوٹے قرض گیر ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی رسائی کو بڑھانے کے لئے اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فصلوں کے بیمے پر پریمئیم پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ختم کردی ہے جبکہ “سفید انقلاب” کے لئے خصوصی اقدام کے تحت لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر کے لئے 1.5 بلین روپے اور فشریز سیکٹر کی ترقی کے لئے 1.1 بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات کو سراہا جو انتہائی مہارت کا حامل ادارہ ہے اور اس نے معیشت کی نگرانی کے لئے موثر طریقہ کار وضع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹری استحکام اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے اسٹیٹ بینک کا مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ڈاکٹر شمشاد اختر کو بہترین سینٹرل بینک گورنر کی حیثیت سے دو ایوارڈز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔کانفرنس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر، وفاقی وزیر محنت، افرادی قوت و اوور سیز پاکستانیز سید خورشید احمد شاہ، وزیر اعظم کی اسپیشل اسسٹنٹ برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور محترمہ حنا ربانی کھر اور وزیر اعظم کی اسپیشل اسسٹنٹ محترمہ شہناز وزیر علی نے شرکت کی۔
پاکستان کی داخلی پالیسی میڈان پاکستان ہونی چاہئے ۔نوازشریف

لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی داخلی پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی اس بارے میں غیر ملکی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس امر کا اظہار میاں نوازشریف نے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سے اپنی رائے ونڈ کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا۔ امریکی وفد میں رچرڈ باؤچر اور لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ سمیت پانچ افراد شامل تھے جبکہ میاں نوازشریف کی معاونت وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان ، خواجہ سعد رفیق اور سعید مہدی نے کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے امریکی عہدیداروں پر قبائلی علاقوں میں آپریشن ، معزول ججوں کی بحالی اور خطہ کی صورتحال سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر اپنا موقف واضح کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی داخلی پالیسی کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی دباؤ کا متحدمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی داخلہ پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی۔ میاں نوازشریف نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے کہا کہ امریکہ اب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمایت چھوڑ دے۔ انہوں نے کہاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے عوام کی ترقی اور روشن مستقبل ، معزول ججوں کی بحالی اور پاکستان کے سیاسی استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کانٹا ہیں جب تک یہ کانٹا دور نہیں ہوتا پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا اور نہ ہی پاکستان میں جمہوری اور عدالتی معاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ میاں نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران بندوق کے زور پر مسلط کی جانے والی مشرف کی پالیسی بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی عہدیداروں پر اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ غیر ملکی پاکستان کی دوست طاقتیں اگر پاکستان کے داخلی استحکام میں سہولت فراہم نہیں کرسکتیں تو انہیں اس میں مداخلت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق اگرچہ امریکی عہدیداروں کا موقف مسلم لیگ (ن) کے موقف کے قریب نہ تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی فرد واحد کی بجائے پاکستان کے عوام سے دوستی چاہتا ہے اور پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ کل وزیراعظم سے ملاقات میں ہم اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے رچرڈ باؤچر پر واضح کیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریسن کے حق میں نہیں ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ہو یا پاکستان کے داخلی استحکام کا مسئلہ ان تمام معاملات پر پالیسی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد وضع کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری وطن واپس آئیں گے تو ان تمام معاملات کو ان کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متعلق سب سے بڑی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ہمیں حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے کسی معاہدہ یا اس کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ علم ہے کہ کیا معاہدہ کیا گی اور خلاف ورزی کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی کہی گئی کہ پشاور پر بھی قبضہ ہوسکتا ہے لیکن تین روز گزر جانے کے باوجود کہیں بھی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی پھر آخر وہ لوگ کہاں غائب ہوگئے اور سلحہ کہاں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کوئی خاص پیغام لے کر نوازشریف کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے امریکی عہدیداروں پر یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں جب بھی کوئی امریکی عہدیدار پاکستان آیا اس سے قبل قبائل یا بلوچستان میں آپریشن کرکے انہیں لاشوں کے تحفے دیئے گئے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ہے اور ان کے پاکستان آنے سے 24گھنٹے پہلے خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) قبول نہیں کرتی۔
کینیڈا : لاکھوں مکھیاں سڑک پر ، ماہرین کی قابو میں رکھنے کی کوششیں
ٹورنٹو۔ مشرقی کینیڈا میں ماہرین اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ شہد کی تقریباً بیس لاکھ مکھیاں قابو سے باہر نہ ہونے پائیں جو ایک ہائی وے پرلاری الٹنے کے بعد اس میں سے نکل پڑی ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ اب تک حالات اس لیے قابو میں ہیں کہ بارش کی وجہ سے شہد کی مکھیاں اسی لاری کے ارد گرد منڈلا رہی ہیں۔ماہرین کی ایک ٹیم دھوئیں کی مدد سے شہد کی مکھیوں کو پْر سکون رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور بعد میں ان کو اڑانے کی ترکیب کی جائے گی۔ ہائی وے پر ایمبولینس گاڑیاں کھڑی کردی گئی ہیں کہ کہیں کسی کو مکھیوں نے کاٹ لیا تو فوری طبی مدد فراہم کردی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ لاری میں شہد کی مکھیوں کے 330 کریٹ تھے جب یہ لاری سینٹ لینارڈو کے قریب نیو برنزوک میں الٹ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مکھیاں اس لیے ادھر ادھر نہیں گئیں کہ علاقے میں بارش ہو رہی تھی لہذا وہ گاڑی کے قریب ہی منڈلاتی پھر رہی ہیں۔ پولیس کے ترجمان ڈیرک سٹرونگ نے بتایاکہ ’شہد کی مکھیوں کو بارش اچھی نہیں لگتی۔ اب ہزاروں کی تعداد میں مکھیاں لاری کے عقبی حصے کے آس پاس اور فٹ پاتھ کے اوپر اڑ رہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ مکھیاں ایک فصل کی تیاری کے لیے استعمال کی گئی تھی اور جب یہ حادثہ پیش آیا تو انہیں واپس لایا جا رہا تھا۔ بعد میں ہائی وے بند کردی گئی اور مکھیوں کے ماہرین سفید حفاظتی لباس پہن کر موقع پر پہنچ گئے تاکہ کسی طرح مکھیوں کو ٹرک میں واپس لایا جا سکے۔ کینیڈا کے ایک صحافی نے جب ٹرک کے بہت قریب جانے کی کوشش کی تو کئی مکھیوں نے انہیں ڈنگ مارا۔ تاہم ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر موقع پر مکھیاں پالنے والے ماہرین نہ پہنچے تو مکھیوں کے زندہ بچنے کا امکان کم ہو جائے گا۔
کرم ایجنسی میں طوری قبائل نے ٤٤ ایف سی اہلکار کامیاب مذاکرات کے بعد رہا کر دیئے
کرم ایجنسی ۔کرم ایجنسی میں قبائل نے ایف سی کے 44مغوی اہلکاروں کو جرگے کی کوششوں کے بعد رہا کردیا ۔کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ محمد اعظم خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ پیواڑ کے علاقے میں قبائل نے 44ایف سی اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا جن کی بازیابی کے لئے پارہ چنار سے 25رکنی جرگہ قبائل کے پاس بھیجا گیا رات گئے قبائل کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد 44 مغوی ایف سی اہلکاروں کو رہا کرکے جرگہ اور پولیٹیکل حکام کے حوالے کردیاگیا ۔دوسری جانب طوری قبائل کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ سرکاری گاڑیوں میں مخالف منگل قبیلے کے لوگ سرکاری وردی پہن کر تری منگل جارہے ہیں جس پر انہیں اغوا کیا گیا تھا
خیبر ایجنسی ‘ وادی تیراہ میں دو گروہوں میں تازہ جھڑپیں ‘ ٧ افراد ہلاک ‘ ١١ زخمی ہو گئے
تیراہ ۔ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں متحارب گروپوں کے درمیان جاری تازہ لڑائی میں مزید 7افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ11افراد زخمی ہیں۔خیبر ایجنسی علاقے وادی تیراہ میں گزشتہ گیارہ روز سے جاری جھڑپوں میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے۔ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے سندہ پال میں دو مذہبی گرہوں کے مابین جاری جھڑپوں میں تازہ جھڑپ میں سات افراد ہلاک اور گیار ہ زخمی ہو گئے ۔گیارہ روز سے جاری جھڑپ میں مجموعی طور پر اکیاسی افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دو مذہبی گرپوں میں جھڑپوں میں اب تک پا نچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔
فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیراورکزئی نے فاٹا کے بارے میں اسفندر یار ولی‘ قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمان ‘ سمیع الحق اور قبائلی ارکان کے مشترکہ جرگہ
اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے فاٹا کی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے اسفند یار ولی خان ، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان ، مولانا سمیع الحق اور قبائلی ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل جرگہ کی تجویز دے دی ۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا بالخصوص خیبر ایجنسی کی صورتحال پر غور کے لیے قبائلی اراکین پارلیمنٹ کا اہم اجلاس ایک دو روز میں منعقد ہو گا۔ گزشتہ روز ایک انٹرویو میں منیر خان اورکزئی نے کہاہے کہ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوںکے حوالے سے جماعت اسلامی ، جے یو آئی ( ف ) ، اے این پی ، جے یو آئی ( س ) کے سربراہوں ان جماعتوں کے دو دو نمائندوں اورقبائلی ارکان پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے جو علاقے کا دورہ کرے ہمیں یقین ہے مسائل کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم ہاوس میں منعقدہ بریفنگ جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی دیگرفوجی حکام نے حکمران اتحاد کے قائدین کو بریفنگ دی تھی یہی طے ہوا تھاکہ پارلیمنٹ کی اکثریت جو فیصلہ کرے گی اسی پر عمل کیا جائے گا۔ فاٹا کے بارے میں پارلیمنٹ میں پالیسی بنائے گی مگر ایسا نہیں ہو رہاہے ۔ صدر پرویز مشرف امریکا سے خوفزدہ ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اس کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے پارلیمنٹ کابینہ کسی کو اعتماد میں نہیں لیا جارہاہے ۔ نہ رائے لی جاتی ہے ۔ سابقہ پالیسی کو جاری رکھا گیا ہے۔ صورتحال پر غور کے لیے ایک دو روز میں فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ کا اجلاس ہو گا ۔
بھارتی ریاست جھار کھنڈ میں پولیس سٹیشن دھماکے سے اڑا دی گئی ‘ ڈی ایس پی سمیت ٣ اہلکار ہلاک ‘ ٤ زخمی
نئی دہلی ۔ بھارت کی ریاست جھار کھنڈ میں پولیس سٹیشن کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا گیا جس میں ڈپٹی پولیس سپرنٹینڈنٹ اور 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ۔ جبکہ 4 اہلکار شدید زخمی ہو گئے ۔ ’’ آل انڈیا ریڈیو ‘‘ کے مطابق پولیس سٹیشن کو بارودی سرنگ سے اڑانے کا یہ واقعہ گزشتہ شام پیش آیا ۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پولیس کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ ڈی ایس پی اور 3 پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ۔
افغانستان کے صوبہ میدان وردگ میں بم دھماکہ ‘ خواتین اور دو بچے سمیت ٦ افراد ہلاک
کابل ۔ افغان صوبہ میدان وردگ میں بم دھماکے کے باعث خواتین اور ان کے دو بچوں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے ۔ پجواک خبررساں ادارے کے مطابق بم دھماکے کا واقعہ گزشتہ رات کو پیش آیا جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ایک افغان سینئر اہلکار عنایت مہنگل نے 6 ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ ہلاکتیں فضائی حملے میں ہوئی ہیں ۔
ماہ جون افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا، ٤٥ فوجی ہلاک
کابل ۔ گزشتہ ماہ جون میں عراق کی نسبت افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج پر طالبان کے حملوں میں تقریباً45فوجی ہلاک ہوئے۔ جو کہ 2001ء کے بعد ایک ماہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ادھر دوبئی میں دہشت گردی اور سیکورٹی کے حوالے سے قائم ایک سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر مصطفیٰ الانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں خراب سیاسی صورتحال کے پیش نظر طالبان کو بہتر ماحول مل رہا ہے گزشتہ ماہ طالبان نے ایک جیل کو توڑ کر886جنگی قیدیوں کو رہا کروایا تھا جس کے بعد پینٹاگون نے مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ماہ جون اتحادی افواج کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا جس میں 45کے قریب بین الاقوامی فوجی مارے گئے جن میں 27امریکی اور 13برطانوی فوجی تھے اور دوسری طرف عراق میں گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 31ہے جنہیں 29صرف امریکہ کے ہیں۔ جبکہ جارجیااور آزربائیجان کا ایک ، ایک فوجی شامل ہے۔ عراق میں اس وقت تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 94ہزار ہے جبکہ خطے میں تقریباً 4ہزار برطانوی بھی موجود ہیں۔ دوبئی میں سیکورٹی اور دہشت گردی کے حوالے سے قام ایک سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر مصطفی الانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسند منظم ہورہے ہیں اور مزید حملے کر رہے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان میں خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے طالبان کو بہتر ماحول مل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جون کے مہینے میں افغانستان میں580 افراد ہلاک ہوئے جنہیں 440کے قریب جنگجو، 34عام شہری اور 44افغان سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ جبکہ اس سال اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2100تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان بار کونسل نے نواز شریف سے مرکز میں اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا
پشاور۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان خان نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ آئینی پیکج کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ آئینی پیکج کا مقصد معزول ججوں کی بحالی میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ہمار ا موقف ہے کہ پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کی جائے اور ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جائے ۔وہ پشاورہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت پیکج کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور اس کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہ پیکج درست نہیں اور اس کے ذریعے تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس لئے انہوں نے اس پیکج کو مسترد کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے
موقف سے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے ۔جب تک اصلی منصف اور ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان بار کونسل کو مجوزہ آئینی پیکج حوالے کیاگیا ہے اور کونسل پیکج کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر جو تجاویز دیگی مرکزی حکومت نے ان تجاویز کو آئینی پیکج میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔وفاقی وزیرقانون نے کونسل کے اجلاس میں وعدہ کیا کہ جو بھی تجاویز کونسل کی جانب سے ملیں گی ان تجاویز پر غور کیا جائے گا اور ان کو حکومت میں شامل چار بڑی جماعتوں کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے آئینی پیکج وصول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پیکج میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج پر پاکستان بار کونسل کے ہر رکن انفرادی رائے دیں گے ان کی رائے میں یہ پیکج نامنظور ہے ۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی غیر موثر ہوئی ہے ۔یہ تحریک منظم اور موثر ہے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)کو آئینی پیکج سے اختلاف ہے اور نواز شریف کو حکمرا ن جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرنا چاہیے اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھ کر وکلاء کا ساتھ دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اعلان مری پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اب نواز شریف کو مرکز میں اقتدار میں رہنا درست نہیں انہوں نے کہا کہ جب پی سی او کے ججوں نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو اس کے خلاف پنجاب میں ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت ہے اور پنجاب ہی میں ان کی جماعت جلوس نکالتی ہے اور ہڑتال کرتی ہے ۔عجیب و غریب بات ہے کہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔
موقف سے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے ۔جب تک اصلی منصف اور ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان بار کونسل کو مجوزہ آئینی پیکج حوالے کیاگیا ہے اور کونسل پیکج کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر جو تجاویز دیگی مرکزی حکومت نے ان تجاویز کو آئینی پیکج میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔وفاقی وزیرقانون نے کونسل کے اجلاس میں وعدہ کیا کہ جو بھی تجاویز کونسل کی جانب سے ملیں گی ان تجاویز پر غور کیا جائے گا اور ان کو حکومت میں شامل چار بڑی جماعتوں کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے آئینی پیکج وصول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پیکج میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج پر پاکستان بار کونسل کے ہر رکن انفرادی رائے دیں گے ان کی رائے میں یہ پیکج نامنظور ہے ۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی غیر موثر ہوئی ہے ۔یہ تحریک منظم اور موثر ہے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)کو آئینی پیکج سے اختلاف ہے اور نواز شریف کو حکمرا ن جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرنا چاہیے اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھ کر وکلاء کا ساتھ دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اعلان مری پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اب نواز شریف کو مرکز میں اقتدار میں رہنا درست نہیں انہوں نے کہا کہ جب پی سی او کے ججوں نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو اس کے خلاف پنجاب میں ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت ہے اور پنجاب ہی میں ان کی جماعت جلوس نکالتی ہے اور ہڑتال کرتی ہے ۔عجیب و غریب بات ہے کہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔
میڈ ان پاکستان داخلہ پا لیسی ۔۔۔۔تحریر: شیخ قیصر

مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فی الحال وہ علیحدہ نہیں ہو رہے جولائی کا پورا مہینہ وہ دیکھیں گے تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ مہلت نہیں دی۔ انھیں 15مئی کے بعد سے سرحد میں آپریشن سمیت کسی بھی معاملے اور فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا جا ر ہا اگر معاملات حل نہ ہوئے تو مرکزی مجلس عاملہ سے رہنمائی اور پھر ان سے بات کی جائے گی۔ پنجاب میں ان کی پوزیشن مستحکم ہے۔ فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر آپریشن پر بحث اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں ناگزیر ہے۔ آج بھی خارجہ پالیسی وہی ہے جو 18فروری سے پہلے پرویز مشرف کے دور میں تھی ‘ قبائلی علاقوں اوردیگر مسائل کے حل کیلئے قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنے کا اختیار فوج یا کسی جماعت کے لیڈر کے پاس نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں ‘قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن اصل میں فوج کشی ہے اور آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قبائلیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے مرہم رکھا جائے، صرف قبائلی علاقوں ہی نہیں پورے ملک کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں ‘ بہت سی بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور یہاں پر امن نہیں چاہتیں ‘حکومتی اتحاد کا مستقبل اعلان مری پر عملدرآمد سے وابستہ ہے اس میں کسی کو شکو ک وشبہات کا شکار نہیں ہونا چاہیے ‘ حکومتی اتحاد سے علیحدگی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے لیکن جب ن والے سمجھیں گے کہ اتحاد میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں باہر آجائینگے ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی داخلی پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی اس بارے میں غیر ملکی دباو¿ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ا مسلم لیگ (ن) نے امریکی عہدیداروں پر قبائلی علاقوں میں آپریشن ، معزول ججوں کی بحالی اور خطہ کی صورتحال سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی پالیسی کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی دباو¿ کا متحدمل نہیں ہے۔ پاکستان کی داخلہ پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی۔ امریکہ اب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمایت چھوڑ دے جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے عوام کی ترقی اور روشن مستقبل ، معزول ججوں کی بحالی اور پاکستان کے سیاسی استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کانٹا ہیں جب تک یہ کانٹا دور نہیں ہوتا پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا اور نہ ہی پاکستان میں جمہوری اور عدالتی معاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ میاں نوازشریف نے امریکہ پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران بندوق کے زور پر مسلط کی جانے والی مشرف کی پالیسی بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی عہدیداروں پر اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ غیر ملکی پاکستان کی دوست طاقتیں اگر پاکستان کے داخلی استحکام میں سہولت فراہم نہیں کرسکتیں تو انہیں اس میں مداخلت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ دہشت گردی کی جنگ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق اگرچہ امریکی عہدیداروں کا موقف مسلم لیگ (ن) کے موقف کے قریب نہ تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی فرد واحد کی بجائے پاکستان کے عوام سے دوستی چاہتا ہے اور پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں مسلم لیگ ن اپنے مطالبات سامنے ر کھنے والی ہے مسلم لیگ (ن) نے رچرڈ باو¿چر پر واضح کیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے حق میں نہیں ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ہو یا پاکستان کے داخلی استحکام کا مسئلہ ان تمام معاملات پر پالیسی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد وضع کی جانی چاہئے آصف علی زرداری وطن واپس آئیں تو ان تمام معاملات کو ان کے سامنے اٹھایا جائے مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متعلق سب سے بڑی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے کسی معاہدہ یا اس کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ علم ہے کہ کیا معاہدہ کیا گی اور خلاف ورزی کیا ہوئی۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ پشاور پر بھی قبضہ ہوسکتا ہے لیکن تین روز گزر جانے کے باوجود کہیں بھی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی پھر آخر وہ لوگ کہاں غائب ہوگئے اور سلحہ کہاں چلا گیا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کوئی خاص پیغام لے کر نوازشریف کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی ماضی میں جب بھی کوئی امریکی عہدیدار پاکستان آیا اس سے قبل قبائل یا بلوچستان میں آپریشن کرکے انہیں لاشوں کے تحفے دیئے گئے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ہے اور ان کے پاکستان آنے سے 24گھنٹے پہلے خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) قبول نہیں کرتی۔
US ‘won't allow' Iran to shut key Gulf oil route

MANAMA - The commander of the US navy's Fifth Fleet warned on Monday that the United States will not allow Iran to shut the Strait of Hormuz, the Gulf sea lane through which much of the world's oil is supplied.
"They will not close it... They will not be allowed to close it," Vice-Admiral Kevin J. Cosgriff told a press conference in Bahrain, where the Fifth Fleet is based.
His remarks followed comments by the chief of Iran's elite Revolutionary Guards, General Mohammad Ali Jafari, who issued a new warning last week against any attack against his country over its controversial nuclear drive.
"It is natural that when a country is attacked it uses all of its capabilities against the enemy, and definitely our control of the Persian Gulf and the Strait of Hormuz would be one of our actions," Jafari said.
The strait between Iran and Oman is a vital conduit for energy supplies, with as much as 40 percent of the world's crude passing through the waterway from Gulf suppliers.
"Certainly if there is fighting... the scope will be extended to oil, meaning its price will increase drastically. This will deter our enemies from taking action against Iran," Jafari said.
Cosgriff said: "The latest Iranian statements are not helpful."
He insisted that that the international community will work to protect navigation in the Strait of Hormuz, adding that any action by Iran "will not be an action against the United States but against the international community".
According to news reports, more than 100 Israeli warplanes staged a training exercise with Greece earlier this month to prepare for a possible long-distance strike and as a warning to Tehran.
But Cosgriff said he did not see "any reason for Israel to strike Iran" in the short term.
Iran has been slapped with three sets of UN sanctions over its defiance of Security Council ultimatums to suspend uranium enrichment, the process which produces nuclear fuel for civilian reactors but in highly extended form can also make the fissile core for an atomic bomb.
Iran insists its nuclear ambitions extend only to generating electricity for a growing population but both Israel and the United States suspect it of trying to develop a bomb.
There have been several confrontations between Iranian and US vessels in the Gulf this year.
Iran, the OPEC oil cartel's number two producer, has said that using oil as weapon is not on its agenda -- but has also not ruled it out.
A former head of Israel's Mossad foreign intelligence agency, Shabtai Shavit, said in comments published on Sunday that the Jewish state had one year to destroy Iran's nuclear programme or face the risk of coming under nuclear attack.
Israel has the Middle East's sole if undeclared nuclear arsenal.
US Supreme Court underplayed on campaign trail

WASHINGTON - The next president of the United States may be able to appoint several Supreme Court justices -- the powerful judges whose rulings affect the daily lives of Americans -- yet the issue is underplayed on the presidential campaign trail.
The US Supreme Court has nine justices, of which five are considered conservative and four are considered moderate or liberal.
Supreme Court experts believe that at least three of the justices -- John Paul Stevens, 88, Ruth Ginsburg, 75, and David Souter, who at 68 has always felt uncomfortable in the spotlight -- are likely to retire in the next four years.
While two of them were appointed by Republican presidents, all three are now strongly identified with the court's liberal bloc.
If Republican John McCain is elected president he could appoint conservative judges and steer the court firmly to the right -- but if Democrat Barack Obama is elected and appoints liberal judges, he could only maintain the current balance, barring unforeseen health crises among the other court members.
"The composition of the high court is one of the most important issues at stake in the November election," wrote online news site Slate senior editor Dalhia Litwick in a recent editorial.
"While the justices cannot bring down gas prices or bring the troops home, their decisions in the coming years will affect just about everything else," the legal expert wrote.
This year many of the court's decisions were reached by consensus, such as those concerning business rights and workplace discrimination.
But the conservative-liberal split was sharp on crucial issues like the legal rights of prisoners held at the US military base in Guantanamo Bay, Cuba, the ruling stating that capital punishment must be reserved for murder cases, and the overturn of the ban on handguns in the home in the nation's capital.
Obama has promised, if elected, to appoint justices showing "empathy."
McCain has vowed to name only conservative judges like Chief Justice John Roberts and Samuel Alito, both in their 50s and appointed in 2005 by President George W. Bush.
Adding one, two or even three conservative judges would heavily tip the Supreme Court's balance to the conservative side.
While McCain and Obama have commented on the Supreme Court's latest rulings, no new rulings are expected before the election, and the crucial issue is likely once again to underplayed on the campaign trail.
McCain has made some overtures to the Republican party's right-wing base, saying he would appoint conservative judges, while Obama has stressed party unity and steered away from bipartisan squabbling in his campaign.
Under the US constitution all Supreme Court nominations must be confirmed by the Senate, where Democrats will likely increase their majority in the November election regardless of the presidential vote outcome.
So if McCain is elected president, there would likely be an epic confirmation battle over his future choice for a Supreme Court justice.
In the current court the swing vote is held by Justice Anthony Kennedy -- nominally a conservative but who voted to for Guantanamo prisoner rights and against imposing the death penalty on child rapists.
Conservative activists have seized on these two "setbacks' to stress the court's need for more "good judges,' in order to deprive Kennedy of this pivotal role.
Liberals, on the other hand, have raised the alarm.
"One more Bush Justice on the Court, and the decision would likely have gone the other way," said Kathryn Kolbert, president of the left-wing group People for the American Way.
Kolbert's comment came after the Guantanamo ruling giving war-on-terror prisoners the right to challenge their detention in a civilian court.
"That's why it's so important for Americans to realize that in this election year, the Supreme Court is on the ballot," she said.
Monday, June 30, 2008
Czech top model Petra Nemcova presents the new 'OTTO' catalogue in Hamburg, Germany, on Monday as cover picture Nemcova introduces the main catalogue
Military operation to be last option to stem militancy: PM

MULTAN: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gillani here Monday said that military operation will be the last option to stem militancy in the Frontier areas. Addressing a press conference at Multan Airport he said at the moment civilian government is taking action to deal with the militants and miscreants in THE troubled regions.
He said the army will be called only when the civilian government asks for its help and in that case too the military action will be in aid of the civilian government.
The Prime Minister said the incumbent coalition government did not enter into any agreement with any group in the Frontier areas. Rather, these agreements were reached by the previous government, he added.
He said the coalition government wanted to hold dialogue with those who want to give up militancy but due to the breach of previous agreements by the militants the government had to review its policy.
The Prime Minister said it was not possible to hold dialogue with those elements who kidnap innocent people, take citizens hostage, behead the abducted and set girls schools on fire.
He rejected as a total misconception the notion that the action against militants was being taken at the behest of the United States or Afghanistan. Our own internal security needs required the ongoing civilian government action against the militants, he added.
The Prime Minister, who was accompanied by his younger brother Syed Ahmed Mujtaba Gillani, MPA Ahmed Hassan Daher and PPP provincial information secretary Khawaja Rizwan Alam, said that he had a meeting with Afghan President Hamid Karzai and Pakistan and Afghanistan have unanimity of views on security issues.
He said Karzai’s recent remarks were quoted out of context and this created the impression of a threat to Pakistan which was not the case at all.
To a question regarding Maulana Fazlur Rahman’s observations about the operation, the Prime Minister said a strategic briefing had been arranged for the coalition partners and the Army Chief Gen Ashfaq Pervez Kiani had briefed them about the issue. He said there was no difference of opinion among them.
The Prime Minister said Pakistan and United States enjoy very cordial and friendly relations which will further grow in the times to come.
He said in many areas like economy, social and health sectors the US is extending a lot of assistance to Pakistan. He said this morning US assistant secretary of state Richard Boucher called on him and both held comprehensive talks to further strengthen the cooperation between the two friendly countries.
Syed Yousuf Raza Gilani said he expects to meet President George W. Bush on July 28 during his forthcoming visit to the US. He expressed the confidence that the relations between the two allies would be further bolstered as a result of his talks with the US president.
He said Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi during his recent visit to Delhi had conveyed his invitation to Indian Prime Minister Manmohan Singh who would pay an official visit to Islamabad very soon.
The Prime Minister said he himself might also attend the SAARC moot and meet his Indian counterpart on the sidelines of the conference.
To a question about the deposed judges, the Prime Minister said they were released by him and their salaries were paid by him. He assured that the judges would be reinstated.
The Prime Minister said the coalition government will remain intact and there was no threat to it at all.
About the hike in petrol and diesel prices he said the previous government had been giving heavy subsidy on oil thereby piling up the burden. He said the situation now was that the government had to pay subsidy of Rs 1.2 billion per day only on oil.
The Prime Minister said the World Bank, IMF and other donors were pressing the government to withdraw subsidies or face stoppage of financial assistance by them. So, he said the government had to take necessary steps.
Syed Yousuf Raza Gilani said the unprecedented surge in international oil price and the cost of food items was a global phenomenon and Pakistan was no exception.
To a question about situation in Balochistan, the Prime Minister said he had released several imprisoned Baloch leaders and the coalition government was determined to rectify the past wrongs and discrimination meted out to this province. He said that Balochistan will get its due share and rights.
About the economic situation of the country he said it was heading in the right direction and the economy would be fortified by prudent policies.
He said the government would soon announce its incentives-oriented energy policy and hoped that it would attract massive foreign investment in the energy sector.
At the domestic level too the government is taking appropriate steps to increase power generation and augment energy conservation. He said the government was in touch with brotherly Iran to import energy.
Within the next one or two years the energy crisis will be over, the Prime Minister said.
About load-shedding in Multan, he said he would ask the minister for water and power to look into the matter.
To another question the Prime Minister said that the Parliament is sovereign and supreme and President Pervez Musharraf has himself said that he would accept the verdict of the Parliament about his fate.
Answering a question, he said the root-causes of the trouble in FATA and adjoining areas were hunger, poverty and unemployment and these ought to be addressed forthwith.
He said people there are peace-loving and they want healthcare facilities, employment, trade opportunities. He said appropriate measures are being contemplated to remove their deprivations.
The Prime Minister said that PPP had won seats in the by-elections and he disagreed with a questioner who stated that the PPP’s popularity graph was declining.
About the religious schools, he said they will be regulated so that along with religious education the students could acquire modern education too and successfully compete with their counterparts from conventional schools.
Pakistan desires to strengthen ties with US: Gilani

ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Monday said Pakistan needs help and assistance from the United States to rebuild its economy and wants to strengthen the bilateral ties. Talking to a US Congressional delegation here at the Prime Minister House, he highlighted the importance Pakistan attaches to its relations with the US.
He underscored the desire to deepen bilateral cooperation in diverse fields, including defence, trade, economy, energy and social sectors.
The Prime Minister told the delegation that the government’s foremost priorities include fighting extremism and terrorism in Pakistan’s own interest as well as rebuilding the economy.
He also apprised the members of Congress of the three-pronged counter-terrorism strategy.
Prime Minister Gilani underlined the need for accelerating the ROZs initiative stressing that it would help expand economic opportunities and generate jobs.
He also under-scored the vital interest Pakistan has in a stable Afghanistan.
He apprised the delegation of the steps taken by Pakistan to strengthen security along the Pakistan-Afghanistan border as well as for the upkeep of 3 million Afghan refugees.
The Prime Minister stressed the need for the international community to support these efforts.
The members of the Congressional delegation highlighted the strategic importance of the US relations with Pakistan and reciprocated the desire to expand bilateral cooperation in various fields.
They affirmed US readiness to support Pakistan in its efforts to address the security issues and to achieve economic progress over the long term.
They said that the US regards Pakistan as its important and strategic ally and is keen to closely work with the democratic government to help it overcome its economic problems.
They said that Pakistan is a linchpin in the region and wants to expand its bilateral cooperation in all areas including trade, investment and security matters.
The Congressional delegation included Senator Benjamin Cardin, Congressman Zach Wamp, Congressman Robert Aderholt, Congressman Mike McIntyre and Congresswoman Loretta Sanchez.
The meeting was attended by Advisor to Prime Minister on Interior Rehman Malik, Advisor to Prime Minister on National Security Mahmud Durrani and Acting Secretary Foreign Affairs.
Pakistan facing different challenges: Sherry Rehman

KARACHI: Federal Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman has said that the country was facing various challenges at international and regional fronts including economic one. She was addressing on the occasion of distribution of tricycle, tri-motorcycle and donation amount cheques among the disabled.
The event was organised by the Disable Welfare Association at the Dr. Pinto Compound, the birth place of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto, here on Monday.
Information Minister said that the sacrifice presented by the Shaheed Benazir Bhutto will not go waste.
Ms. Sherry Rehman informed that she she was also born in the Dr. Pinto Compound (Dr. Pinto Nursing Home) and the Dr. Pinto was a very famous doctor that time.
The Federal Minister also raised the slogans “Zinda Hai Bibi, Zinda Hai (Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto is alive).
She said the flag of Pakistan Peoples Party (PPP), is hoisted in the power corridors after the period of 12 years and we have to provide relief to the down-trodden and deprived factions in the society.
Ms. Sherry Rehman said that the government has designed “the Cash Transfer Scheme” under Benazir Program, for the first in the history of the country.
The Federal Minister said that the dictators have always handed down a weak Pakistan to the PPP.
Ms. Sherry Rehman said our mission is to remain available for the people among them.
The Federal Minister said that in coming days, the PPP Karachi Division led by the PPP Karachi Division President, Syed Faisal Raza Abidi will resolve the problems of the masses.
She said that the message and the vision of Shaheed Benazir Bhutto was with us and the government will fulfill every promise it made with the masses.
Ms. Sherry Rehman also advised the Office Bearers of Disabled Welfare Association to present their written application about their problems.
Later, the Federal Minister handed over the keys of the tri-cycles and the tri-motorcycles to the disabled.
Earlier, the President, Disable Welfare Association, Javaid Raees, apprised the gathering about the activities and achievements of the body.
Among others, Advisor to Sindh CM, Rashid Hussain Rabbani and President PPP, Karachi Division, Syed Faisal Raza Abidi also spoke.
Later, the PPP leader, Mirza Ikhtiar Baig announced to establish a museum at Dr. Pinto Compound, where, he apprised the pictures and books about Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto will be displayed.
U.S. Congressional delegation calls on President
ISLAMABAD : A US congressional delegation on Monday discussed bilateral relations, Pakistan-U.S. counter-terrorism cooperation and regional situation with President Pervez Musharraf in Rawalpindi. President Musharraf underlined the importance Pakistan attached to its relations with the U.S. He reiterated Pakistan ‘s firm resolve to fighting terrorism and extremism.
In this regard, the President highlighted government’s comprehensive, multi-pronged strategy combining political, military and socio-economic development measures.
The President appreciated congressional support for Pakistan’s counter-terrorism initiatives, namely FATA Development Plan, Reconstruction Opportunity Zones (ROZs) and capacity building of the Frontier Corps (FC).
He emphasized the need for market access for Pakistani products in the U.S.
The congressmen conveyed their support for the strategic relationship between Pakistan and the United States.
They appreciated Pakistan’s commitment to combating extremism, and reaffirmed their support for Pakistan’s counter-terrorism efforts and social development goals, and called for strengthening the strategically important relationship.
The bipartisan delegation led by Senator Benjamin Cardin (Democrat-Maryland) includes congressmen Zach Wamp (Republican-Tennessee), Robert Aderholt (Republican-Alabama), Mike McIntyre (Democrat-North Carolina) and congresswoman Loretta Sanchez (Democrat-California).
Benazir Bhutto honoured with prestigious award
ISLAMABAD : Former Prime Minister Mohterma Benazir Bhutto Shaheed was posthumously awarded the prestigious “Prix de La Fondation” award at Monaco, says a message received here Monday. The award was received by her daughter Bakhtawar Bhutto Zardari on her behalf. The “Prix de La Fondation” is awarded by Crans Montana Forum, based in Monaco and is given to modern figures of peace, liberty and democracy. One of its characteristics is that people are awarded the prize during their lifetime although certain martyrs of liberty who have played role in world history have also been awarded the prize posthumously.
Bakhtawar Bhutto Zardari, while addressing the gathering, after receiving the award said, “it goes without saying that I wish that she were here - standing where I am now to receive the award. I know she would have been greatly honoured to have been recognized amongst so many other world leaders. As you know my mother was a martyr for liberty.
She returned to Pakistan last year to contest election in order to enable Pakistan to resume, once more, a democratic system of government.
She knew that in returning to Pakistan she was putting her life at risk”. She added that her mother repeatedly stated that where there is dictatorship the forces of extremism can flourish and that is why she believed passionately in democracy.
Finally she said that on December 27 last year she died among the people she loved and who loved her. She thanked Crans Montana for honouring her mother with this award and said that it was also a great honour for her family, her father Asif Ali Zardari, her brother Bilawal Bhutto Zardari and her sister Asifa Bhutto Zardari.
Earlier Professor Jean-Paul Carteron, Chairman Crans Montana Forum praised Mohterma Benazir Bhutto Shaheed for her courage, her deep respect for the fundamental values of democracy and her desire to create a better world.
He said that he was sure that her great sacrifice would not go waste and that the people of Pakistan will see Madam Bhutto’s dream of “grand Pakistan” come true. He hoped that the torch of Benazir Bhutto will be held aloft.
Among the other dignitaries who were given the Prix de La Fondation award included President of the Republic Sierra Leone Ernest Bai Koroma, Prime Minister of Morocco Abbas El Fassi, farmer Prime Minister of France Alain Juppe, Chief of the National League for Democracy in Burma Aung San Suu Kyi and Chairman King Faisal Centre for Research and Islamic Studies Saudi Arabia H.R.H. Prince Turki Al Faisal Al Saud.
Pakistan’s Ambassador to France, Asma Anisa, Secretary General PPP Jahangir Badar and other senior PPP leaders including the Party’s representatives in Europe and USA also attended the award ceremony.
Govt working on war-footing to resolve masses problems: Sherry Rehman
KARACHI : The Federal Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman said on Monday said that overnment was working on war-footing to resolve problems confronting the masses. She was talking to media at the inaugural of beautification and construction of Bilawal Chowrangi, situated near Bilawal House here.
Later, the Minister unveiled the plaque in this connection.
Talking to newsmen, the Minister for Information said the PPP government will carry forward the mission of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto.
She said we will maintain balance in state institutions and we have strengthened democracy.
Replying to a question about inflation, Ms. Sherry Rehman said that inflation, electricity crisis and different other problems were the gifts of the previous government.
The Federal Minister said that different measures were being taken by the government including the steps about exemption to working class in increase in gas price to provide relief to the people.
To another query, Ms. Sherry Rehman said that no one was expelled from Pakistan Peoples Party and we want to move with all.
She said that electricity crisis will be resolved by next year by increasing production.
Ms. Sherry Rehman said we were trying that problems be resolved through parliament.
Besides, women PPP activists in large number, Advisor to Sindh Chief Minister, Rashid Hussain Rabbani and President, Pakistan Peoples Party (PPP), Karachi Division, Syed Faisal Raza Abidi were also present.
قدرتی گیس کے نرخوں میں 31 فیصداضافہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں اکتیس اور سی این جی کی قیمتوں میں تینتیس فیصد اضافہ کر دیا ہے نئی قیمتوں کا اطلاق کل سے ہو گا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق آئی پی پیز اور ماہانہ دو سو کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے صارفین پر نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب بھی صارفین کو پینتیس ارب بیس کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ عام تندور کو کمرشل کٹیگری سے نکال کر گھریلو صارف میں شامل کیا گیا ہے جس سے ان کے بلوں میں بچت ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ سی این جی کی قیمت میں تیرہ روپے فی کلو اضافہ ہو گا۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت نے آئل کمپنیوں کے دو سو چھیاسی ارب روپے کے واجبات اور بنکوں کا اکیاون ارب روپے کا قرضہ بھی کلیئر کر دیا گیا ہے۔
مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کے پرانے کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں

مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کے پرانے کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں
پیپلزپارٹی کےمرکزی رہنماء مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے اندر نئے اور پرانے لوگوں کےدرمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ موجودہ حکومت میں پیپلزپارٹی کے نئے لوگ شامل ہیں جبکہ ان کا نئے لوگوں سےکوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے یہ باتیں حیدرآباد میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب شکار کھیلنے سے متعلق ایک کتاب کی تقریب رونمائی سےخطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے کئیں۔
مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے جماعت میں اختلافات پیدا ہوجائیں اگر انہیں شوکاز نوٹس بھیجا گیا تو دیکھا جائیگا۔
مخدوم امین فہیم نے کہا کہ عوام مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بیروزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حکومت کو صرف باتیں نہیں عملی طور پر عوام کے ریلیف کے لیے کچھ اقدامات کرنے ہونگے۔
انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ انہیں صدر مملکت بنایا جا رہا ہے۔ مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ وہ کسی حکومتی عہدے کےامیدوار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کوبینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کےوضع کردہ اصولوں کے تحت چلانا ہوگا۔
بینظیر بھٹو کی سالگرہ اکیس جون کی مناسبت سے راولپنڈی میں جو مشاعرہ ناہید خان اور صفدر عباسی کی میزبانی میں منعقد کیا گیا تھا اس کو بعض حلقے زرداری کےمنحرفیں کا اجتماع سمجھتے ہیں۔ اس مشاعرے میں مخدوم امین فہیم اور اعتزاز احسن شریک ہوئے تھے مگر پیپلزپارٹی سے وابستہ کسی وزیر مشیر نے مشاعرے میں شرکت نہیں کی تھی۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نوڈیرو میں بینظیر بھٹو کی سالگرہ کےموقع اپنی پریس بریفنگ میں ایک سوال کےجواب میں کہا تھا کہ ہوسکتا ہے وزیروں کو مشاعرے کی دعوت نہ ہو مگر مشاعرہ کرنے والوں سے کوئی ناراضگی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وقت کا یزید بھی بینظیر کا نام لے تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔
پیپلزپارٹی کے ایک مرکزی رہنماء نے پیپلزپارٹی کے اندر ان اختلافات کو اندرونی کشمکش قرار دیا۔ انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نئے اور پرانے لوگوں میں منقسم ہو چکی ہے۔
انہوں کئی سیاسی محفلوں میں دہرائی گئی مثال دیتے ہوئےکہا کہ آصف زرداری نے ان لوگوں کو اپنے قریب اور مرکزی کردار بنایا جن کو پورے ملک میں اپنا ذاتی حلقہ نہیں۔ انہوں نے نام لیتے ہوئے کہا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک، وزیراطلاعات شیری رحمان اور وزیر قانون فاروق ایچ نائیک پیپلزپارٹی کےنئے مالکان میں شمار ہوتے ہیں مگر انہیں عوامی پذیرائی اور حلقہ نہیں۔
ان کا خیال تھا کہ پرانی پیپلزپارٹی سے وابستہ رہنماء کسی جلدی میں نہیں ہیں اور وہ صبر سے نئی پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے حکومتی کردار کو دیکھیں گے اور ہلکی پھلکی تنقید کرتے رہیں گے۔ انہوں نے فیصلہ عوام پر چھوڑا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی نئے لوگوں کو پسند کرتے ہیں یا پرانے لوگوں کو۔
باڑہ میں امر بالمعروف کے مرکز پر میزائل حملہ، آٹھ افراد ہلاک ، چھ زخمی

لنڈی کوتل۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں مذہبی تنظیم امر بالمعروف کے مرکز پر میزائل گرنے سے آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ،نامعلوم جگہ سے فائرہونے والے میزائل نے دو منزلہ عمارت کو زمین بوس کر دیا ،زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیاگیا ۔تفصیلات کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں واقع برقمبر خیل میں علی الصبح مذہبی تنظیم امر بالمعروف کے مرکز پر نامعلوم جگہ سے فائر کیاگیا ایک میزائل لگنے سے آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ شدید زخمی ہو گئے ۔آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد بارہ بتائی جا رہی ہے ۔زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیاگیا ہلاک ہونے والوں کا تعلق امر بالمعروف کے رضا کاروں سے بتایا جا رہا ہے تاہم بعض ذرائع کے مطابق اس عمارت میں امر بالمعروف کی نجی جیل تھی اور مرنے والوں میں زیادہ تعداد قیدیوں کی تھی میزائل کا حملہ اتنا شدید تھا کہ دو منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں ۔مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث لاشیں نکالنے کی امدادی کاروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ایک نجی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے تنظیم کے امیر حاجی نامدار نے کہا کہ وہ اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حملے سے متعدد قرآن پاک کے نسخے بھی شہید ہو چکے ہیں ۔
مینگورہ ، طاہر آباد کی مارکیٹ میں دھماکے ، ٥٠ دکانیں تباہ
مینگورہ ۔ مینگورہ کے علاقے طاہر آباد کی ایک مارکیٹ میں کئی دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 54 دکانیں تباہ ہو گئیں ۔ دھماکوں کی جگہ سے متعدد خود کش جیکٹس راکٹ لانچر اور مارٹر گولے اور بھاری اسلحہ برآمد کر لیاگیا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے محلہ طاہر آباد میں دریا خان مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 54 دکانیں تباہ ہو گئیں۔ جائے وقوعہ سے کلاشنکوفیں ، دستی بم تین عدد خود کش جیکٹس راکٹ لانچرزاور مارٹر گولوں سمیت بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق لگتا ہے کہ عسکریت پسند مارکیٹ کو گودام کے طور پر استعمال کر رہے تھے
ایران کے خلاف خفیہ فوجی کارروائیوں کے منصوبہ کا انکشاف

نیویارک۔ امریکی کانگریس کے ارکان نے گزشتہ سال کے اواخر میں صدر جارج بش کی طرف سے ایران کے خلاف بہت بڑی خفیہ فوجی کارروائیوں کے لیے فنڈز کی درخواست کو منظور کرنے سے اتفاق کر لیا تھا۔ خفیہ کاروائیوں کا مقصد ایران کی قیادت کو ختم کرنا تھا۔ نیو یارکر میگزین میں شائع شدہ اطلاع میں یہ بات کہی گئی۔ سیمور ہرش کے شائع شدہ مضمون میں انتہائی رازدارانہ صدارتی فائل کا حوالہ دیا گیا ہے جس پر جارج بش کے دستخط ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق راز کی اس دستاویز کو ڈیموکریٹ اور ریپیبلکن ارکان کانگریس کے علاوہ انٹلی جنس کمیٹیوں کے سینئر ارکان کو واقف کرانا لازمی ہے۔ اس دستاویز میں ایران کے نیو کلیر عزائم کو کمزور کرنے اور حکومت کو تبدیلی کے ذریعہ ایرانی حکومت کو کمزور بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیمور ہرش نے اس دستاویز کے مواد سے جانکاری رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات کہی۔مذکورہ شخص کے بارے میں ہرش نے بتایا کہ وہ اپوزیشن اور رقومات کی منتقلی کے کاموں میں ملوث تھا۔ ہرش نے ماضی میں ایران کو نیو کلیر ہتھیار بنانے سے روکنے کی غرض سے بش نظم و نسق کے جنگی منصوبوں کے امکانات کا بھی انکشاف کیا تھا۔۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت کو تبدیل کرنا چاہیے سفارتی طریقہ سے ہو یا فوجی وسائل سے جارج بش کا حتمی نصب العین تھا۔ اس کام کے لیے جارج بش نے کانگریس سے40کروڑ ڈالر کی رقم منظور کرنے کی درخواست کی تھی جسے کانگریسی قائدین نے منظور بھی کر لیا تھا۔ ہرش نے اپنے اس مضمون میں سابق اور موجودہ ملٹری ، انٹیلی جنس اور کانگریسی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ۔
راولپنڈی فوجی قیادت اور قومی سلامتی کے عسکری اداروں کے سربراہوں کا اہم اجلاس
راولپنڈی ۔ راولپنڈی میں پاک فوج کے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں فوجی قیادت اور قومی سلامتی کے عسکری اداروں کے سربراہوں کااہم اجلاس ہوا۔ چےئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، ائر چیف مارشل تنویر محمود احمد ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افضل طاہر اور قومی سلامتی کے عسکری اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں خارجی اور داخلی سلامتی کی صورتحال سرحدوں کے حالات اور علاقائی سٹریٹجک صورتحال پر غور کیاگیا
مری کے قریب جیپ گہری کھائی میں گرنے سے ١١ افراد جاں بحق ، متعدد زخمی
مری ۔ مری کے علاقے خوشی کوٹ سے باڑیاں جانے والی ایک جیپ گہری کھائی میں جا گری جس سے گیارہ افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح خوشی کوٹ سے باڑیاں جانے والی جیپ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری جس کی وجہ سے گیارہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کام شروع کر دیا ۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جیپ میں سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ تاہم فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ جیپ میں کل کتنے افراد سوار تھے
حکومت بیرونی قوتوں کو ملک کے اندر مداخلت کا بہانہ فراہم کر رہی ہے ، قاضی حسین احمد

پشاور ۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہاہے کہ حکومت بیرونی طاقتوں کو پاکستان کے اندرمداخلت کرنے کا بہانہ فراہم کر رہی ہے اور پشاور پر طالبان کے قبضے کے خطرے کی افواہیں حکومتی ارکان نے خواہ مخواہ اڑائی ہیں۔ حالانکہ پشاور کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی طالبان پشاور پر قبضے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اصل خطرہ افعانستان میں موجود غیر ملکی فوجوں سے ہے ۔ پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہاکہ پشاور کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ حکومت ارکان نے بلا وجہ ہوائی اڑائی ہے جس کے باعث پوری دنیا میں تشویش پیدا ہو گئی ہے اور مصر اور دوسرے ملکوں سے فون آنے لگے کہ کیا ہو رہاہے کیا پاکستان پرحملہ ہونے والاہے ۔ انہوں نے کہاکہ طالبان کو ایک ہوا بنا کر پیش کیا جارہا ہے حالانکہ ایک مدت سے امریکا کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کے اندر بالعموم اورقبائلی علاقوں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مداخلت کابہانہ تلاش کیا جائے ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ بار بار ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا نہ تو دوست ہے اور نہ ہی اس کے ارادے نیک ہیں بلکہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مخالف ہے ۔ اسلامی نظریے کا مخالف ہے اور ایک مخود مختار اسلامی جمہوریہ پاکستان اس کی نظروں میں کھٹکتا ہے کیونکہ وہ اپنا دفاع خود کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی پاکستان کے لیے خطرہ ہے اور وہ بہانہ تلاش کر رہی ہے لیکن بد قسمتی سے حکومت پاکستان غلط پالیسیوں کی وجہ سے انہیں یہ بہانہ فراہم کر رہی ہے اور ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں پاکستانی افواج پاکستانی قبائل اور اسلامی تحریکوںکو نشانہ بنایا جائے اور انہیں آپس میں لڑایا جائے اور غلط فہمیاں پیدا کی جائیں ۔ قاضی حسین احمد نے کہاکہ فوج اور عوام کو ایک دوسرے کاحریف بنایا جارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ پشاور کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں ہے۔ طالبان ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں اور نہ ہی ملک کے دشمن ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام خرابیاں حکمران خود پیدا کر رہے ہیں اور ملک میں بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں ۔ اور اپنی ذمہ داریوں پر پردہ ڈال رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مہنگائی اور جرائم کے خاتمے کے سلسلے میں چشم پوشی کر رہی ہے ۔ اور اسی وجہ سے اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر وے پر کروڑوں کی ڈاکہ زنی حکومت کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ملک کے کونے کونے میں ڈاکے پڑ رہے ہیں چوریاں ہو رہی ہیں ۔ اور قتل و غارت گری جاری ہے ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ قبائلی علاقوں پر افغانستان سے میزائل داغے جارہے ہیں اور دھماکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جو حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امن و امان برقرار رکھا جائے اور غریب عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے ۔ فوج اور عوام میں ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کیا جائے تاکہ بیرونی دشمنوں کا راستہ روکا جا سکے ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ طالبان کسی بھی طرح پشاور پر قبضہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک ایک طرف کہتے ہیں کہ حکومت جاگ رہی ہے عوام سو جائیں۔ حالانکہ عوام تو جاگ رہے ہیں اور حکومت خود سوئی ہوئی ہے ۔ قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی داخلہ پالیسی کی اصلاح کرنی چاہیے اور امریکا کے ساتھ اتحاد ختم کرناچاہیے ۔ اور ملک کو مہنگائی کے سیلاب سے بچایا جائے ۔
Subscribe to:
Comments (Atom)



