International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Saturday, July 12, 2008

دہشت گردوں سے خو ف زدہ نہیں ہیں۔ شیر ی رحمن



کسی کو قائداعظم ،ذولفقار علی بھٹو کے نظریات ہائی جیک نہیں کرنے دیں گےدوبئی میں ملک کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیاوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا تقریب سے خطاب و صحافیوں سے بات چیت

کراچی ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے ڈریں گے نہ کسی کو قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات ہائی جیک کرنے دیں گے۔ کراچی میں قائداعظم ہاؤس میوزیم کی تزئین و آرائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے سیاسی اور آئینی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا۔ قائداعظم میوزیم نئی نسل اور تاریخ کے طالبعلموں کے لئے انتہائی مفید ہے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں موجودہ قائداعظم ہاؤس میوزیم کی عمارت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے محترمہ فاطمہ جناح نے سولہ سال اپوزیشن کی سیاست کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کی رونقیں بحال کریں گے۔ اس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیری رحمن نے بے نظیر بھٹو قتل کیس پر تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کی رضامندی موجودہ حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ ایک سوال پر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ دبئی میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات کی گئی اور وفاقی کابینہ میں توسیع کا معاملہ زیر غور آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں دو مرحلے میں توسیع ہو گی اور پہلے مرحلے میں پارلیمانی سیکریٹری اور وزراء شامل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی شمولیت ابھی یقینی نہیں ہے لیکن کسی کے شامل ہونے پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابتدائی سو روز میں جو کام کئے ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی

ہنگو ، عسکریت پسندوں کے حملے میں ١٦ سیکورٹی اہلکار ٢ شہری جاں بحق

سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی 6 جنگجو ہلاکجنگجوؤں کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیادوآبہ میں دوبارہ کرفیو لگا دیا گیاہنگو۔ ہنگو میں مقامی جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں ۔ زرگڑی کے مقام پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 16 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 2شہری جاں بحق ہو گئے ہیں22 اہلکار زخمی بھی ہو گئے ہیں۔سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں ۔اطلاعات اور بعض نجی ٹی وی چینلز کے مطابق یہ واقعہ آج ہفتہ کی شام اس وقت پیش آیا جب عسکریت پسندوں نے ایف سی کے قافلے پر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے اچانک شدید فائرنگ کر دی فائرنگ میں سیکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اس واقعے میں متعدد اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ سیکورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 6 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر لیا اور گن شپ ہیلی کاپٹربھی طلب کر لیے جن سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ادھر رکن قومی اسمبلی پیر حیدر علی شاہ کی قیادت میں جرگے کا ایک وفد ہنگو پہنچ گیا ہے جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے ادھر لشکرالسلام کے سربراہ منگل باغ نے کہا ہے کہ امن معاہدہ ہمارے اور حکومت کے نہیں جرگے اور حکومت کے درمیان ہوا تھا ۔اطلاعات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایف سی کا ایک قافلہ شنارڑی قلعہ کی طرف جارہاتھا کہ زرگرری کے مقام پر اس پر عسکریت پسندوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی جس سے سیکیورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم انتظامیہ نیجانی نقصان اورزخمیوں کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے تاہم طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں انکا ایک ساتھی مارا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی تین گاڑیاں اور اسلحہ بھی طالبان کے قبضے میں ہے بتایا جاتا ہے کہ یہ مقام ہنگو شہر سے تقریباً 35کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور پہاڑوں پر طالبان کے مورچہ زن ہونے کی وجہ سے سرکاری طور پرجاں بحق یا زخمی ہونے والوں کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے ہنگو ہسپتال میں ایمر جنسی نافذکردی گئی ہے ۔جاں بحقیا زخمی ہونے والوں کو تاحال ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا اس واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پہاڑو ںپر مورچہ زن طالبان پر گولہ باری شروع کر دی ہے جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹر طلب کرنے کی بھی اطلاع ہے تاکہ ان کی آڑ میں مرنے والوں اور زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے ۔ادھر ہنگو کے علاقے دوآبہ کے بازار میں فائرنگ کے بعد وقفہ ختم ہونے سے پہلے کرفیو دوبارہ نافذ کر کے چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ہنگو کے علاقے دوآبہ میںہفتہ کی دوپہر بارہ سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تھی۔ اس دوران نامعلوم افراد نے دوآبہ بازار میں فائرنگ کر دی جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور بازار بند کر دیئے گئے۔ جبکہ فوری طور پر کرفیو دوبارہ نافذ کر دیا گیا۔ حکام نے فائرنگ کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر کے ایک گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔اس سے پہلے قبائلی عمائدین کے 40 رکنی وفد نے امن و امان کی صورتحال پر ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی تھی۔ جس میں قبائلی عمائدین نے دوآبہ سے کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب زرگری میں ایف سی کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر دو بچیاں زخمی ہو گئیں۔ جبکہ ملزمان فرار ہو گئے۔ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہنگو میں لشکر السلام کے سربراہ منگل باغ نے کہا ہے کہ انھوں نے ذاتی طور پر حکومت سے کوئی معاہدہ نہیں کیا بلکہ یہ معاہدے جرگے اور حکومت کے درمیان ہوا ہے اس لیے وہ اس معاہدے کے پاپند نہیں ہیں تاہم منگل باغ کے اس تازہ بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی مائیکل مولن خفیہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

امریکی سفارت خانے نے تصدیق کردیپاکستان کی اعلیٰ قیادت سے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گےاسلام آباد ۔ امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مائیکل مولن پاکستان کے خفیہ دورہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں ۔ اس بات کی تصدیق پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے کردی ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین مائیکل مولن نے ایک انٹرویو میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں غیر ملکی جنگجوؤں پہلے سے زیادہ منظم ہو گئے ہیں اور اس کے لئے پاکستان کے موثر کارروائی کرنا ہو گی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مائیکل مولن پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے اور قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ ان کا دورہ پاکستان ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی طرف سے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر مسلسل الزامات لگائے جارہے ہیں اور امریکی طیارے مسلسل پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پروازیں کررہے ہیں ۔

امریکا سے سرحد پار سے حملے پر شدید احتجاج کیا ہے ، پاکستان

اسلام آباد ۔ پاک فوج کے ترجمان نے ہفتہ کو کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے انگور اڈہ پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے مارٹر حملوں پر شدید احتجاج کیاہے ہفتہ کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میںپاک افغان سرحد کے قریب قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے چھ شیل فائر کئے گئے جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے چھ جوان زخمی ہوئے ۔ ترجمان نے بتایا کہ ہماری افواج نے اس پر فوری جوابی کارروائی کی اور افغانستان میں بھی متعدد جانی نقصانی کی اطلاع ملی ہے تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ سرحد پار سے مارٹر گولے اتحادی افواج نے فائر کئے یا افغان فوج نے ۔ تاہم ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اس حملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان سے حملے اور افغان حکمرانوں کے پاکستان پر الزام تراشیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور کشیدگی پیدا ہو رہی ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی امریکی افواج نے سرحد پار سے ایک چوکی پر فضائی حملے کئے تھے جس کے نتیجے میں فوج کے گیارہ سپاہی شہید ہو گئے تھے ۔

لا پتہ افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے ، غیرت مند قوم کی حیثیت سے امریکی ڈالروں کی بھیک مسترد کر دیں ۔آمنہ مسعود جنجوعہ

اسلام آباد ۔ پاکستان کے سینکڑوں لا پتہ افراد کے مظلوم لواحقین نے وزیر اعظم ، آرمی چیف ، وزارت داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ لا پتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنائیںاب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ ہفتہ کو آبپارہ چوک اسلام آباد میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاہے کہ 3 نومبر 2007 ء کی ایمرجنسی کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں مظلوموں اور بے سہارا افراد کی داد رسی کے تمام دروازے بند کئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا حکام کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنائیں کیونکہ اس امر کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ یہ لا پتہ افراد آئی ایس آئی ، ایم آئی ، اور ایس آئی بی کے زیر زمین خفیہ عقوبت خانوں میں قید ہیں جبکہ ان افراد کو دیکھنے والے سابق قیدیوں کی جانب سے جملہ بیان حلقی متعلقہ حکام کے روبرو پیش کئے جاچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ مسلمان دنیا کے ہزاروں بے گناہ مظلوم افراد جن کو ان کی حکومتوں نے امریکا کو فروخت کیاہے جو اب گوانتا نامو بے ، بگرام ائر بیس ، ابو غریب اور افریقہ یورپ اور دنیا کے کئی علاقوں میں قائم عقوبت خانوں میں جبر و تشدد کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور سب سے تکلیف دہ امریہ ہے کہ ایک پاکستانی خاتون جن کو صرف قیدی نمبر 650 یا گرے لیڈی کے نام سے جانا جاتا ہے چار سال سے افغانستان کے بد نام زمانہ امریکی قید خانے بگرام میں قید ہے جہاں اس کے ساتھ بد ترین ظلم کا ارتکاب کیا جارہاہے ۔ جبکہ اسی قید سے رہائی پانے والے بعض امریکی اور یورپی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکثر اس خاتون کی دل دوز چیخیں سنی ہیں اور اب یقین کیا جا چکا ہے کہ اس خاتون کی دماغی صحت بھی تباہ ہو چکی ہے ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود ایک پریس کانفرنس میں یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ مذکورہ خاتون بمعہ تین بچوں کے اغواء کی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہماری ملی غیرت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایک طرف ہم امریکا کے لیے مسلسل اپنے عوام کو مروا رہے ہیں اور دوسری طرف امریکی ہماری عزتوں سے کھیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری ملی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم بطور ایک غیرت مند قوم امریکا کی ڈالروں کی بھیک کو مسترد کر دیں ۔ بھوک اور افلاس برداشت کر کے ملی غیرت کو بحال کریں تاکہ آئندہ نسل ہم لوگوں پر افسوس کرنے کے بجائے اقوام عالم کے درمیان سر اٹھا کر زندگی گزار سکیں ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ ملک کے اندر ہی حل ہو جائے ہمیں عالمی عدالت اور دیگر اداروں سے رجوع نہ کرنا پڑے کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہو گی۔ انہوں نے کہاہک موجودہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے وعدے پورے کرے اور اولین ترجیح ہیں ہمارے پیاروںکو واپس لایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ٹونی بلےئر بش اور مشرف ملوث ہیں انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کی جانب سے بنائی گئی اس سلسلے میں کمیٹی سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ابھی تک اس کاکوئی کام سامنے نہیں آیا

سعودی عرب تیل کی قیمت کے ٥.٩ ارب ڈالر موخر کرنے پر آمادہ ہو گیا

ریاض ۔سعودی عرب پاکستان کو 5.9ارب ڈالر کے خام تیل کی قیمت کی ادائیگی موخر کرنے پر رضا مند ہو گیا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تیل کی آمد کی مد میں سعودی عرب کو یہ ادائیگیاں رواں مالی سال جون جولائی میں ادا کرنا تھیں لیکن سعودی عرب انہیں موخر کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔وزیر خزانہ سید نوید قمر نے تیل کی ادائیگی موخرہونے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان معاہدے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی انہوں نے کہاکہ خام تیل کی 5.9 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ملتوی ہونے سے ملک معاشی صورت حال بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی زراعت اور دیگر شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے سید نوید قمر نے نہیں بتایا کہ یہ ادائیگیاں کتنے عرصے کے لیے ملتوی ہوئی ہیں ۔ رپورٹ میں وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگیاں جون 2009ء تک موخر کی گئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی ادائیگیاں ایک سال تک موخر کرنے سے پاکستانی معیشت کو سہارا ملے گا۔ سعودی عرب پاکستان کو سالانہ 40ملین ڈالر کا خام تیل فراہم کرتا ہے۔ حکام کے مطابق سعودی عرب پاکستان ک و 40 ملین بیرل تیل سالانہ فروخت کرتا ہے جس کی فی بیرل قیمت 147 ڈالر کے حساب سے 5.9 ارب ڈالر لاگت بنتی ہے ۔ مجموعی طورپر پاکستان 73.7 ملین بیرل سالانہ تیل درآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان میں تیل کی سالانہ کھپت 135 ملین بیرل ہے۔

پنجگور سے خضدار جانے والی کوچ ٢٢ مسافروں سمیت اغواء کر لی گئی

پنجگور ۔ پنجگور سے خضدار جانے والی کوچ 22 مسافروں سمیت اغواء کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ مسافر بس رات کو پنجگور سے روانہ ہوئی تھی اور اسے ہفتہ کی صبح دس بجے خضدار پہنچنا تھا لیکن مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکی ۔ اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہو کر کوچ کے ڈرائیور اور کلینر خضدار پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا ہے کہ خضدار سے ساٹھ کلو میٹر دور پہاڑی سلسلے میں آٹھ مسلح افراد نے کوچ کو روکا اور مسافروں پر تشدد کرنے کے بعد کوچ کو مسافروں سمیت پہاڑی سلسلے میں لے گئے ۔ جہاں سے ڈرائیور اور کلینر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے کوچ کے مالکان کاکہنا ہے کہ خضدار پولیس کو اس واقعہ سے آگاہ کر دیاگیا ہے۔ فوری طور پر غواء کاروں کی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا

توسیع اور ردو بدل کے نتیجہ میں وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد ٣٠ ہو جائے گا، اتحادیوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا

اسلام آباد ۔وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے نتیجہ میں کابینہ کے ارکان کی تعداد 30ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں توسیع کے حوالے سے حکومت دور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے توسیع اور ردوبدل کے نتیجہ میں30رکنی کابینہ تشکیل دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق عوامی نشینل پارٹی سے دو وزراء مملکتجبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)سے ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیر مملکت لیا جا رہا ہے۔ اس طرح کابینہ میں مزید نئے چہرے پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے نہ ہونے کے بارے میں پی پی پی پی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے پاکستان مسلم لیگ (ن )سے بھی حتمی جواب مانگ لیا

Kashmiris Worldwide Endorse Peaceful Protest on July 13: Dr. Fai

Washington, D.C.- July 12, 2008: In glorious recognition of all those who have laid down their lives so that Kashmiri’s may live with their heads held high, Dr. Ghulam Nabi Fai, Executive Director, Kashmiri American Council/Kashmir Center joins the worldwide Kashmiri community in solemn recognition of July 13th - ‘Martyrs Day’. This somber day commemorates the ultimate sacrifice made by 22 unarmed Kashmiris who were ruthlessly slaughtered by the illegitimate Dogra regime on July 13, 1931. Now, ‘Martyrs Day’ memorializes all those innocent victims, nearly 100,000, who have been forcibly silenced by the Indian atrocities that erupted two decades ago. Dr. Fai believes, quoting Abraham Lincoln, that those who deny freedom to others deserve it not for themselves. The Kashmiri American Council/Kashmir Center is committed to finding a just and lasting peace to the disputed territory of Kashmir through a tripartite negotiations between Governments of India & Pakistan and the accreditedleadership of the State of Jammu and Kashmir. It fully endorses the call given by Syed Ali Geelani and Mirwaiz Umar Farooq for a peaceful protest towards the Martyrs Graveyard on Sunday, July 13th, 2008 that will include Kashmiri men, women and children of all racial, cultural and religious persuasions.Dr. Fai said that the monumental peaceful protests throughout Kashmir, bringing together hundreds of thousands of people from all religious, racial and cultural backgrounds, was in response to the Indian Government’s attempt at confiscating 100 acres of Kashmiri territory and was overwhelmingly successful. The resounding victory, ‘is a magnificent symbol of Kashmiri commitment to their cause of self-determination by peaceful protests, in the face of brutal oppression, and the ever-increasing unity of the Kashmiri leadership.” Moreover, Dr. Fai reiterated that ‘these protests are the largest demonstrations in recent years.’ The Kashmiri American Council/Kashmir Center strongly condemns the unforgiving and brutal repression of the Kashmiri people and expresses its deepest condolences to the hundreds injured, tortured and killed.Furthermore, Dr. Fai emphasized that the Kashmiri people’s resolve and continued commitment to peaceful protest is principled on the ongoing massive violations of their human rights, the recent gruesome discovery of over 1,000 unidentified graves and the Indian Government’s atrocious dismissal of their aspirations for self-determination. In that regard, the unanimous resolution passed by the European Parliament requesting India to allow international impartial observers to investigate the continuous unearthing of unidentified graves, is congratulatory. The Kashmiri American Council/Kashmir Center welcomes this European Parliament resolution.Dr. Fai clearly and unequivocally calls for all Kashmiris to continue to increase their solidarity at this critical juncture. He urged the Indian government to recognize that any peace initiatives without the inclusion of the legitimate representatives of the Kashmiri people, including Syed Ali Shah Geelani, Mirwaiz Umar Farooq, Mohammad Yasin Malik and Shabbir Shah would not produce any results. Moreover, he emphasized, ‘India trembles at any attempt to resolve the Kashmir crisis, frightened by its outcome, and prudence dictates the international community recognize this and apply diplomatic persuasion to initiate a peace process, with the Kashmiri leadership.’ Also, Dr. Fai stated that Indian impotence, willful ignorance and desperation to avoid a meaningful peace process and initiate wimpy attempts to pacify Kashmiri passion will fail miserably.

پاکستان پر امریکی حملہ اور قو می مجرموں کا آ خری موج میلہ ۔۔۔ تحریر :اے پی ایس


پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہاہے مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور غیر ملکی جنگجووں کی جھوٹی خبریں پھیلا کر پاکستان پر حملے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ امریکی یلغار میں دن بدن اضافہ ہورہاہے ۔ ادھر ہمارے مشرقی بارڈر پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے ۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلااشتعال ہماری چوکیوں پر فائرنگ کے واقعات ہور ہے ہیں ۔پاکستانی عوام اصل دشمن پہچانیں باوچر کی آمد کے موقع پر پشاور پر طالبان کے قبضے کی بے بنیاد افواہیں پھیلا کر خطرناک کھیل کھیلا گیا ۔ جب بھی کوئی امریکی عہدے دار پاکستان آنے والا ہوتاہے تو اسے کسی نہ کسی فوجی آپریشن یا نام نہاد طالبان و القاعدہ کی گرفتاری کی سلامی پیش کی جاتی ہے ۔ ہمارے حکمران خود ہی اپنے عوام کے خلاف ” سلطانی گواہ “ بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ روز بروز پاکستان پر حاوی ہو رہاہے اور ہم سے نت نئے مطالبات کیے جاتے ہیں عوام پر روزانہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آ گیاہے اور غریب لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ بینکوں سے رقوم حاصل کر کے خوراک کا سامان سٹا ک کر لیا جاتاہے ۔ اس طرح مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیا ئے صرف کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو لوٹ لیا جاتاہے ۔ شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ حکمران موج میلہ کررہے ہیں ۔ تاجر قیمتیں بڑھانے میں آزادہیں ۔ اخبارات میں روزانہ آٹے ، گھی ، چینی اور سیمنٹ کے نرخ بڑھنے کی خبریں چھپ رہی ہیں لیکن کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے ۔ سرمایہ دار طبقے کی حکومت ہے ۔چوروں اور ڈاکوو¿ں کی تمام لوٹ مار این آر او کے ذریعے معاف کر دی گئی ہے ۔ پوری قوم افتخار محمد چوہدری اور ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکمران خوفزدہ ہیں کہ انہیں بحال کر دیا گیا تو ان کی لوٹ مار اور کرپشن کے کیس دوبارہ زندہ ہو جائیں گے ۔عدلیہ کی آزادی کے بغیر معاشرے میں سیاسی و معاشی استحکام ممکن نہیں ہے ۔ سابق و مو جودہ حکمرانوں نے ساڑھے ساڑ ھے نو سالوں میں پاکستانی قوم کو اندھیروںمیں دھکیل دیا ہے ۔اگر یہ بھاشا ڈیم تعمیر کر لیتے تو آج نہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور نہ معاشی عدم استحکام۔ مہنگائی کا طوفان ، بے روزگاری اور بجلی کا بحران پچھلے ساڑھے آٹھ سال کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ ان ساڑھے آٹھ سال میں بجلی کا ایک میگا وارڈ تک نہیں بنا آج پاکستان کو صرف گھریلو استعمال کے لئے پانچ ہزار میگا وارڈ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ۔اگر اس میں صنعتی ضروریات بھی شامل کر لی جائیں تو یہ شارٹیج بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی افواج 20 جولائی سے پہلے اور اس کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں پر سرجیکل اسٹرائیک( اچانک حملہ ) کرسکتی ہیں۔ اگرچہ امریکی افواج پاکستانی علاقوں پر اب تک 46 حملے کرچکے ہیں لیکن اس حملے کی نوعیت ان تمام حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہہوگی ۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے امریکی پاکستان کے کسی قبائلی علاقے پر قبضہ کر لیں گے اس وقت قبائلی علاقوں میں جوصورت حال ہے وہ افغانستان جا کر امریکی قبضے کی بنا پر ہے اور امریکی مداخلت اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے ۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ جارح عالمی قوتوں کے ساتھ ہیں یا اپنی آزادی کاتحفظ کرنے والی قوتوں کے ساتھ۔ پاکستان کے عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا تھا حکومت نے اس عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھا پاکستان اسوقت حالت جنگ میں ہے ۔ اسوقت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کا تحفظ کرے لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے ان علاقوں پر فوج کشی کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی نہ صرف ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ ہماری اقدارکو بھی جو اس کے لیے ایٹمی طاقت سے بھی زیادہ خطرناک ہے ختم کردینا چاہتا ہے امریکی جیٹ طیارے اس حملے کی تیاریوں کے لیے معلومات جمع کررہے ہیںاگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت نے اس حملے کو نہیں روکا اور اس کے خلاف آواز بلند نہیںکی تو خدانخواستہ مستقبل میں پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو گا ہی لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا سیاسی قیادت کو امریکی مداخلت پر امریکہ کو خبردار کردیناچاہیے کہ وہ اپنی جنگ کو محدود کرے اور پاکستان تک نہ پھیلائے کیونکہ اس وقت فیصلہ کن طاقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ اور سیاسی قیادتوں کو اپنی وابستگیوں کا معیار اب امریکی مداخلت کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر بنانا ہو گا ۔ اور اس حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اعلان کرنا ہو گا اوراس عہد اور اعلان کے بار بار تکرار کرنا ہوگی اگرچہ پاکستان میں فوجی آمریت کی وجہ سے سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس قدر مستحکم نہیں ہوئے جس قدردوسرے جمہوری ممالک میں ہیں لیکن یہ وقت سیاسی جماعتوں کے استحکام اور عدم استحکام کا نہیں ملک کی بقا کا ہے جس کے بارے میں انہیں اب واضح طور پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ امریکہ ہمارے یہاں بھی جبرا اس جمہوریت کو نافذ کرے گا جیسی افغانستان میں ہے اور سیاسی جماعتیں عملا اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور عوامی مزاحمت کے سامنے ٹھہر نہین سکیں گی ۔ اب سیاسی قیادت کے ہاتھ میں یہ فیصلہ ہے کہ وہ ملک کی افواج کو امریکی حملوں کے خلاف مزاحمت کا حکم دیں اور پاکستان کے اقتدار کو اعلی اور خود مختاری کا تحفظ ان کا فرض ہے اس فیصلے میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے
۔اے پی ایس

Friday, July 11, 2008

امریکی افواج پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٢٠ جولائی سے پہلے سرجیکل سٹرائیک کر سکتی ہے ۔ جنرل(ر) حمید گل



اسلام آباد ۔ معروف عسکری دانشور اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیاہے کہ انہیں ایسی اطلاعات اور قرائن و شواہد مل رہے ہیں کہ امریکی افواج 20 جولائی سے پہلے اور اس کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں پر سرجیکل اسٹرائیک( اچانک حملہ ) کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی افواج پاکستانی علاقوں پر اب تک 46 حملے کرچکے ہیں لیکن اس حملے کی نوعیت ان تمام حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہہوگی ۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے امریکی پاکستان کے کسی قبائلی علاقے پر قبضہ کر لیں گے۔ جمعہ کو میڈیا کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں جوصورت حال ہے وہ افغانستان جا کر امریکی قبضے کی بنا پر ہے اور امریکی مداخلت اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے ۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ جارح عالمی قوتوں کے ساتھ ہیں یا اپنی آزادی کاتحفظ کرنے والی قوتوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا تھا حکومت نے اس عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھا۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہاکہ پاکستان اسوقت حالت جنگ میں ہے ۔ اسوقت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کا تحفظ کرے لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے ان علاقوں پر فوج کشی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی نہ صرف ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ ہماری اقدارکو بھی جو اس کے لیے ایٹمی طاقت سے بھی زیادہ خطرناک ہے ختم کردینا چاہتا ہے جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکی جیٹ طیارے اس حملے کی تیاریوں کے لیے معلومات جمع کررہے ہیںاگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت نے اس حملے کو نہیں روکا اور اس کے خلاف آواز بلند نہیںکی تو خدانخواستہ مستقبل میں پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو گا ہی لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا جنرل (ر)حمید گل نے کہا کہ سیاسی قیادت کو امریکی مداخلت پر امریکہ کو خبردار کردیناچاہیے کہ وہ اپنی جنگ کو محدود کرے اور پاکستان تک نہ پھیلائے کیونکہ اس وقت فیصلہ کن طاقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ اور سیاسی قیادتوں کو اپنی وابستگیوں کا معیار اب امریکی مداخلت کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر بنانا ہو گا ۔ اور اس حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اعلان کرنا ہو گا اوراس عہد اور اعلان کے بار بار تکرار کرنا ہوگی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں فوجی آمریت کی وجہ سے سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس قدر مستحکم نہیں ہوئے جس قدردوسرے جمہوری ممالک میں ہیں لیکن یہ وقت سیاسی جماعتوں کے استحکام اور عدم استحکام کا نہیں ملک کی بقا کا ہے جس کے بارے میں انہیں اب واضح طور پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ امریکہ ہمارے یہاں بھی جبرا اس جمہوریت کو نافذ کرے گا جیسی افغانستان میں ہے اور سیاسی جماعتیں عملا اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور عوامی مزاحمت کے سامنے ٹھہر نہین سکیں گی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اب سیاسی قیادت کے ہاتھ میں یہ فیصلہ ہے کہ وہ ملک کی افواج کو امریکی حملوں کے خلاف مزاحمت کا حکم دیں اور پاکستان کے اقتدار کو اعلی اور خود مختاری کا تحفظ ان کا فرض ہے اس فیصلے میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔

لال مسجد میں نمازجمعہ کے اجتماع میں میلوڈی سے آبپارہ تک شاہراہ کو ’’شہدا‘‘ ء روڈ رکھنے کی قرار داد منظور


اسلام آباد ۔ مرکزی لال مسجد کے نماز جمعہ کے اجتماع میں میلوڈی چوک سے آبپارہ چوک تک میونسپل روڈ کو ’’شہدا‘‘ روڈ کی قرار داد منظوری کر لی گئی جبکہ نائب خطیب لال مسجد مولانا عامر صدیق نے کہا ہے کہ لال مسجد آپریشن کے لیے تحقیقاتی کمیشن اور جامعہ حفصہ کی تعمیر میں امریکی دباؤ رکاوٹ ہے آج لال مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عامر صدیق نے کیا کہ امریکی دباؤ پر لال مسجد آپریشن کیا گیا سانحے کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے آج بھی جامعہ حفصہ کے ملبے میں معصوم طالبات اور دیگر ’’شہدا‘‘ کی نعشوں کے ٹکڑے دبے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آپریشن کے حوالے سے حکمران غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ مولانا عبدالعزیز کی 85سالہ بوڑھی والدہ کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ امریکہ کے کہنے پر آپریشن ہوا اسی لیے تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں کیا جا رہا ہے حکمران کو خدشہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو رہا اور جامعہ حفصہ کو تعمیر کیاگیا تو امریکہ کا ناراض ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے قربانیاں دینا ہو ںگی۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود جامعہ حفصہ کو تعمیر نہیں کیا گیا نہ جامعہ فریدیہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو سکا ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ میلوڈی کی وجہ سے ہم نے جامعہ حفصہ کے مقام پر خیموں میں کلاسز شروع کرنے کے اعلان میںلچک کا مظاہرہ کیا اورعلامتی طور پر ایک گھنٹہ کی کلاسز شروع کی گئیں ہیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے میلوڈی چوک کا نام ’’شہدا‘‘ چوک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لال مسجد آبپارہ روڈ میلوڈی چوک کے سانحات کی یاد میں میلوڈی سے آبپارہ تک میونسپل روڈ کا نام ’’شہدا‘‘ روڈ رکھا جائے ہزاروںنمازیوں نے ان کے اس مطالبے کی تائید کی

اسرائیلی فوج نے الخلیل کی سخت ناکہ بندی کردی



الخلیل ۔ اسرائیلی قابض فوجی دستوں نے الخلیل میں پابندیوں میں مزید اضافہ کردیا۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر چیکنگ سخت کردی اور شہر میں داخل ہونے والے تمام افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنا شروع کردیے جس سے طویل قطاریں لگ گئیں۔ عورتیں اور بچے بھی شدید گرمی میں طویل قطاریں بنانے پر مجبور ہوگئے۔ اسرائیلی فوجیوں نے دو جولائی سے یہ سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ خاص طور پر شہر سے جانے والے شہریوں کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی قابض فوجیوں نے سلفیت کے کفل حارشا گاؤں میں کرفیو نافذ کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس راستے سے اسرائیلی آباد کار گزرتے ہیں اس پر پٹرول بم پھینکا گیا ہے۔ فوجیوں نے گاؤں کا محاصرہ کرلیا۔ نیز اس گاؤں اور ملحقہ دو دیہاتوں پر آواز بم پھینکے جن سے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔فلسطینی اتھارٹی کے وزیر جیل خانہ جات ڈاکٹر احمد سویدہ نے نفحا سنٹر برائے اسیران و انسانی حقوق پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے دو ماہ قبل جن چار بھائیوں کو اغواء کرلیا گیا تھا ان کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے چار کارکنان جن کو خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا وہ نابلس جیل میں ہیں۔

امریکی اتحادی طیاروں کی انگوراڈہ میں چیک پوسٹ پر بمباری ،٩ فوجیوں سمیت ١١ افراد زخمی




وانا ۔ افغان سرحد کے قریب جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں امریکہ اور ’اتحادیوں‘ کی گولہ باری اور طیاروںکی بمباری سے ایک پاکستانی چیک پوسٹ پرمامور 9فوجیوں سمیت 11افراد زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اس کے علاوہ مارٹر کے مزید دس گولے پاکستان کی سرحدی حدود میں گرے ہیں جس میں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات کو دو بجے وانا سے پچیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب افغان سرحد کے قریب انگوراڈہ کے علاقے زیڑہ لیٹہ میں واقع ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکہ اور اس کے ’اتحادیوں‘ نے گولہ باری کے علاوہ طیاروں سے بمباری بھی کی جس کے نتیجہ میں پنجاب رجمنٹ کے 9فوجی اہلکار اور دو شہری زخمی ہو گئے ہیں اس کے علاوہ چار گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پاکستان کی حدود میں پہاڑی سلسلوں میں دس اور گولے بھی گرے ہیں لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔البتہ گولہ باری سے قیمتی پہاڑی درختوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اس علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی ہے مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہزخمی اہلکاروں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔جبکہ شہری وانا ہسپتال پہنچا دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ گولہ باری میں چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے علاقے برمل سے مزید دس سے زائد مارٹر کے گولے پاکستان کے تین مختلف علاقے انگوراڈہ، باغڑ اور موسی نیکہ میں گرے ہیں جو زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹے جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس پہلے گیارہ جون کوامریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پربمباری کی تھی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت 19افراد شہید ہوگئے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گولہ باری کے بعد امریکی جاسوس طیاروں نے جنوبی شمالی وزیرستان میں نچلی پروازیں شروع کی ہے

سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے من موہن نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کرد ئیے



نئی دہلی ۔حکمران اتحاد کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں ۔ صدر پرتھیبا پاٹیل سے ملاقات میں انہوں نے کہاکہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تیار ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے راہنماوں نے حکمران اتحاد کی حکومت گرنے سے بچانے کے یے ملک کی چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان سے رابطے تیز کر دئیے ہیں تاکہ پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد پوری کی جا سکے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پارلیمنٹ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اس حوالے سے پارلیمنٹ کا اہم اجلاس 21 یا 22 جولائی کو طلب کئے جانے کا امکان ہے۔

مقبوضہ کشمیر گورنر راج ، گورنر این این ووہرا نے مقبوضہ کشمیر کے انتظامی و آئینی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے



سری نگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم بھی صادر کردیا گیا ہے۔ 7جولائی کو وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی مستعفی ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گورنر نے ابھی تک انتظامی معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا تھا کیونکہ گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق پہلے بھارتی کابینہ کی سفارشات کا عمل دخل ہوتا ہے جس کے بعد ان سفارشات کی بنیاد پر بھارتی صدر ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر راج نافذ کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مخلوط حکومت کے گر جانے کے بعد گورنر راج نافذ کرنے کی سفارشات صدر جمہوریہ کو بھیج دیں جس کے بعد بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظور دے دی۔ گورنر ہاؤس کے مطابق ریاستی آئین کی دفعہ سیکشن92 کا استعمال کرکے ریاست کے گورنر این این ووہرا نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرکے عدلیہ کے بغیر تمام انتظامی اور آئینی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ گورنر نے ریاستی آئین کی شق Bسب سیکشن 2آف سکشن 53کے تحت اسمبلی کو بھی تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ گورنر ہاؤس ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے مستعفی اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے حکومت بنانے سے معذوری کے بعد یہ ضروری بن گیا تھاکہ ریاست میں انتظامی مشنری کو چلانے کیلئے گورنر راج نافذ کیا جائے
۔۔۔۔ تفصیلی خبر ۔۔۔۔
مقبوضہ کشمیر اسمبلی تحلیل کر دی گئی، گورنر راج نافذ کر دیا گیا
مقبوضہ کشمیر کے گورنراین این ووہرا نے تمام اختیارات سنبھال لیے

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کر کے اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ 60برسوں کے دوران یہ چوتھا موقع ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے ۔ امرناتھ شرائن بورڈ کو 99ایکڑ زمیں دیئے جانے کاحکومتی فیصلہ واپس لینے کے بعد ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج شروع کر دیا تھا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد ن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی پہلے ہی حکومت بنانے سے انکار کر چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر ایل این ووہرا نے اسمبلیاں تحلیل کر دی ہیں اور موجودہ صورتحال کی نئی دہلی کو رپورٹ بھجوا دی ہے۔جولائی کو وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی مستعفی ہونے کے بعد ریاست میں گورنر نے ابھی تک انتظامی معاملات کو اپنے ہاتھ میںنہیں لیا تھا کیونکہ گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق پہلے بھارتی کابینہ کی سفارشات کا عمل دخل ہوتا ہے جس کے بعد ان سفارشات کی بنیاد پر صدر جمہوریہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر راج نافذ کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بدھ کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد مرکز نے ریاست میں مخلوط سرکار کے گر جانے کے بعد گورنر راج نافذ کرنے کی سفارشات صدر جمہوریہ کو بھیج دیںجس کے بعد صدر جمہوریہ نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظور دے دی۔ ریاستی آئین کی دفعہ سیکشن92 کا استعمال کرکے ریاست کے گورنر این این ووہرا نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرکے عدلیہ کے بغیر تمام انتظامی اور آئینی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ گورنر نے ریاستی آئین کی شق Bسب سیکشن 2آف سکشن 53کے تحت اسمبلی کو بھی تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ راج بھون ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے مستعفی اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے حکومت بنانے سے معذوری کے بعد یہ ضروری بن گیا تھاکہ ریاست میں انتظامی مشنری کو چلانے کیلئے گورنر راج نافذ کیا جائے

چاند میں پانی کی موجودگی کا ثبوت مل گیا ، مکمل خشک ہونے کا قدیم مفروضہ غلط تھا


واشنگٹن ۔ اب سائنس کی ترقی نے چاند کے تعلق سے حقائق کا پتہ چلا لیا ہے اس طرح چاند کے متعلق کہانیاں رومانوی اور شب خوابی کی داستانیں نہیں رہی ہیں۔ سائنسدانوں نے اب زمین کی اطراف گردش کرنے والے سٹلائیٹ چاند پر پانی کی موجودگی کا ثبوت حاصل کر لیا ہے۔ 1970ء میں چاند سے حاصل کیے گئے آتش فشانی شیشہ کے چٹان کے نمونے کے تجزیہ سے پانی کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ اس طرح اس مفروضہ کو خاتمہ ہو گیا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے۔ سائنسدانوں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی گہرائی میں پانی موجود تھا چنانچہ3.3تا3.6بلین سال قبل جب چاند کے آتش فشان پھٹ پڑے تو ان سے کنکریاں وجود میں آئیں۔ البرٹوسال نے جزیزہ روہڈے میں قائم براؤن یونیورسٹی میں کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ چاند مکمل طورپر خشک تھا۔ البرٹو سال تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ چالیس سالوں تک تجربات کرتے رہے لیکن چاند پر پانی کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔وہ اس بات پر بھی مطمئن نہیں تھے کہ ہم کوئی قابل قدر کام انجام دے رہے ہیں۔ چاند کے تعلق سے کی گئی اس تحقیق کی اشاعت آج جریدہ ’نیچر‘ میں عمل میں آئی ہے۔ اس جدید تحقیق نے ان سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے جن کا یہ ایقان تھا کہ چاند اس وقت وجود میں آیا تھا جب مریخ کی جسامت والا ایک سیارہ نومولود زمین سے ٹکرا یا تھا سال اور ان کے ساتھیوں نے 1971ء میں اپولو15مشن اور 1972ء میں اپولو 17کے دوران چاند سے اکٹھا کیئے گئے چٹانی نمونوں کی جانچ اور تجزیہ کے لیے انتہائی حساس ٹکنیک کا استعمال کیا۔ ان لوگوں نے کنکریوں کی اوپری آلودہ سطح کی جانچ کے بجائے کنکریوں کی اندرونی ساخت کا تجزیہ کیا۔ جس نے انہیں پانی کی موجودگی کے ساتھ کلورین اور فلورین کی موجودگی کا بھی پتہ چلا۔ جو کاربن اور سلفر جیسے ہیں جس سے چاند میں واقع آتش فشاں سے لاوا پھٹ پڑنے کا یقین ہوتا ہے۔

حکومتی کا رکردگی: ایک ماہ میں غریب عوام کی معاشی بدحالی سے 753خود کشیاں ۔۔۔ تحریر: اے پی ایس۔ اسلام آباد

ملکی حالات بہتر ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ بگھڑے ہیں ۔ غریب آدمی بھوک سے تڑپ رہا ہے کھانے کو کھانا نہیں پینے کو صاف پانی نہیں بجلی کا بحران بد ستور جاری ہے ۔ مہنگائی پہلے کی نسبت زیادہ بڑھی ہے اگر موجودہ حکومت نے ان مسائل پر قابو نہ پایا ہوش کے ناخن نہ لیے اور پالیسیوں میں بہتری پیدا نہ کی تو اس کا مستقبل (ق) لیگ سے کم عبرت ناک نہیں ہو گا ۔ پاکستان کی بھلائی اور عوام کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے سب کو مل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور قومی فیصلے پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے آج بھی مشرف دور حکومت کی طرح غیر منتخب شخصیات بیرون ملک بیٹھ کررہی ہیں۔18فروری کے بعد عوام کو دن بدن مہنگائی کی دلدل میں پھنساکر عوام کے پیسوں سے بیرون ممالک کے دورے کئے جارہے ہیں اور پاکستانی قوم کی قسمت کے فیصلے وہاں ہو رہے ہیں عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو مضبوط کیوں نہیں کیا جا رہا ۔سابقہ دورحکومت کی طرح اب بھی قومی نوعیت کے فیصلے غیرمنتخب لوگ کررہے ہیں۔جب بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف پر ملک میں آنے پر پابندیاں تھیں تب تو بیرون ممالک مشاورت کی کوئی وجہ بنتی تھی مگر اب ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ مخلوط قیادت ملک میں فیصلے نہ کرسکے۔حکومت کی ان پالیسیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرف کی پالیسیاں جاری ہیں سخت مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا محال کردیا گیا ہے۔25 مئی سے 25جون کے دوران ملک بھر میں357 افراد نے خود کشی کی خود کشی کر نے والوں میں 127 خواتین شامل ہیں اسی عرصہ کے دوران 150 افراد نے خود کشی کر نے کی کوشش کی جنہیں بروقت طبی امداد دے کر بچالیا گیا اقدام خود کشی کر نے والوں میں 60 خواتین بھی شامل ہیں لوڈ شیڈنگ اور بجلی ،گیس ، آٹا اور دیگر اشیاء صرف کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور حکمران عوام کے پیسے پر عیاشیاں کررہے ہیں۔ آئینی پیکج میں اسٹیبلشمنٹ کو مزید اختیارات دینے کے علاوہ تین نومبر کے اقدامات کو درست اور پی سی او ججوں کو تحفظ دیا گیاہے ۔ معزول عدلیہ بآسانی ایگزیکٹو آرڈر سے بحال کی جا سکتی ہے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی انگریز نے اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد رکھ دی تھی تاکہ وہ اپنے مفادات حاصل کرتا رہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت نواب لیاقت علی خاں بھی با اختیار نہیں تھے ۔ موجودہ دور میں ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر براہ راستہ امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں ۔ما ضی میں صرف وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ امریکہ کی مرضی سے بنائے جاتے تھے مگر اب اس کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ پاکستان دشمن طاقتیں وطن عزیز کو نقصان پیچانے کیلئے طرح طرح کے ناپاک عزائم و منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی بڑی تعداد القاعدہ میں منظم ہونے کے لیے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جمع ہو رہی ہے۔ امریکی اخبار”نیو یارک ٹائمز“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان غیر ملکی جنگجوو¿ں میں ازبک شمالی افریقہ اور عرب ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ بغداد سے امریکی فوجی ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ یہ جنگجو القاعدہ کے جنگجوو¿ں کا ساتھ دینے کے لیے کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان منتقل ہوئے ہیں جہاں پر وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان مزاحمت کا ساتھ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی عراق میں اوسطاً تعداد ماہانہ کم ہو کر 40 ہو گئی ہے جو ایک سال قبل ماہانہ 110 تھی انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے اب پاکستان پر مرکوز کی ہوئی ہے نیو یارک ٹائمز نے امریکی خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے غیر ملکی جنگجوو¿ں میں مشرق و سطیٰ بعض سنی عسکریت پسند شامل ہیں اس کے علاوہ شمالی افریقہ اور وسطیٰ ایشیا سے بھی عسکریت پسند پاکستان میں داخل ہو کر القاعدہ کے ساتھ شامل ہو گئے دوسری جانب افغانستان میں نیویارک کے کمانڈر ڈیوڈ میک نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقے کے حالات انتہائی خراب ہیں اور عسکریت گروپ آسانی کے ساتھ سرحد عبور کر کے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ جبکہ افغانستان میں اتحادی فوج کی کمک کے لئے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ عرب میں بھیج دیا گیا۔ امریکی فوجی حکام نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں اتحادی فوج کو کمک پہنچانے کے لئے بحری بیڑا ابراہام لنکن خلیج سے بحیرہ عرب بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکا نے ایران پر دباو¿ بڑھانے کے لئے ابراہم لنکن کو خلیج میں تعینات رکھا تھا۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق طیارہ بردار بحری بیڑے کی بحیرہ عرب آمد سے افغانستان میں امریکی فوج کی فضائی قوت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بحری بیڑا فاٹا میں امریکی کمانڈوز کی کارروائیوں کے لئے تیار رہنے کی اطلاعات کے بعد خلیج سے روانہ کیا گیا ۔ جبکہ وکلاءتحریک نے پارلیمنٹ کو یہ واضح کیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کی بی ٹیم نہ بنے اور اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے وکلاء روز روز شاہراہ دستور سے واپس نہیں جائیں گے مقاصد کے حصول تک دھرنا دیا جائے گا حکمرانوں کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے ڈوگرہ راج تسلیم نہیں کر تے جلد حقیقی منصف عدالتوں میں آئیں گے ان خیالات کا اظہاروکلاءتحریک کے ممتاز رہنما حامد خان اسلام آباد بارایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار عصمت اللہ اور ملتان ،سیالکوٹ،گجرات،چکوال،کبیر والا،پنڈی گھیب،تلہ گنگ،اٹک،قصور اور پنجاب کے دیگر شہروں کی بار ایسوسی ایشنز کے صدور جنرل سیکرٹریز اور نمائندوں نے ججز کی بحالی کے لئے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کے سامنے وکلاءکی احتجاجی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کیا وکلاءکی احتجاجی ریلی اور پولیس کے درمیان تصادم ہو تے ہوتے رہ گیا راولپنڈی ضلعی کچہری سے وکلاء نے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ تک احتجاجی ریلی نکالی اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی ریلی میں شامل ہو گئے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جماعت کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور میاں محمد اسلم کی قیادت میں اسلام آباد بار کی ریلی میں شرکت کی پارلیمنٹ لاجز کے سامنے پولیس کی بھاری نفری نے خاردار تاریں اور سیمنٹ کے بلاک کھڑے کر کے شاہراہ دستور کو جانے والے راستے بند کر دئیے وکلاء کی احتجاجی ریلی گولی لاٹھی کی سر کار نہیں چلے گی نہیں چلے گی گر تی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا دوکے نعرے لگاتے ہوئے رکاوٹیں عبور کر دیںوکلاء ریلی ایوان صدر ، پارلمینٹ ہاو¿س سے ہوتی ہوئی سپریم کوٹ کے سامنے پہنچی، سپریم کورٹ کے اطراف سے بھی نوجوان وکلاء خار دار تاریں ایک طرف پھینکتے ہوئے سپریم کورٹ کی دیوار پر چڑھ گئے اور نعرے لگائے احتجاجی ریلی میں شہید لال مسجد بھی زبر دست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا وکلاء ریلی نے صدر پرویز مشرف پی سی او ججز کے ساتھ ساتھ آصف علی زر داری کے خلاف بھی نعرے لگائے احتجاجی ریلی کے دوران سپریم کورٹ میں ججز محصور ہو کر رہ گئے پونے بارا بجے تک سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی ریلی جاری رہی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے حامد خان نے کہا کہ ریلی کے ذریعے حکومت کو پیغام ہے کہ وہ 9 مارچ کے اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کر دے قوم اور وکلاءکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے مزید امتحان نہ لیا جائے پارلیمنٹ کے لئے یہی پیغام ہے جلد از جلد قرار داد منظور کی جائے اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججز کو بحال کیا جائے ورنا پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے جمع ہو نے کے بعد واپس نہیں جائیں گے آئندہ لاکھوں لوگوں کو لے کر آئیں گے مقاصد کے حصول تک سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے حامد خان نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری 26 جولائی کو بہاولپور بار سے خطاب کریں گے اس مقصد کے لئے 25 جولائی کو وکلاء ملتان میں جمع ہو کر چیف جسٹس کے ہمراہ بہاولپور جائیں گے احتجاجی ریلی کے اختتام پر شہدا لال مسجد کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی گئی سیالکوٹ بار کے صدر ارشد بھگو نے دعا کرائی۔پاکستان میں وجود میں آنے والی نئی جمہوری حکومت کو اپنے عوام کے جذبات کا احساس ہونا چاہیے ہے اور وہ ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھائے جس سے عوام میں اشتعال پھیلے۔ اے پی ایس۔

Thursday, July 10, 2008

It's the Oil, stupid!






The deal just taking shape between Iraq's Oil Ministry and four Western oil companies raises critical questions about the nature of the US invasion and occupation of Iraq — questions that should certainly be addressed by presidential candidates and seriously discussed in the United States, and of course in occupied Iraq, where it appears that the population has little if any role in determining the future of their country.
Negotiations are under way for Exxon Mobil, Shell, Total and BP — the original partners decades ago in the Iraq Petroleum Company, now joined by Chevron and other smaller oil companies — to renew the oil concession they lost to nationalisation during the years when the oil producers took over their own resources. The no-bid contracts, apparently written by the oil corporations with the help of U.S. officials, prevailed over offers from more than 40 other companies, including companies in China, India and Russia.
"There was suspicion among many in the Arab world and among parts of the American public that the United States had gone to war in Iraq precisely to secure the oil wealth these contracts seek to extract," Andrew E. Kramer wrote in The New York Times.
Kramer's reference to "suspicion" is an understatement. Furthermore, it is highly likely that the military occupation has taken the initiative in restoring the hated Iraq Petroleum Company, which, as Seamus Milne writes in the London Guardian, was imposed under British rule to "dine off Iraq's wealth in a famously exploitative deal."
Later reports speak of delays in the bidding. Much is happening in secrecy, and it would be no surprise if new scandals emerge.
The demand could hardly be more intense. Iraq contains perhaps the second largest oil reserves in the world, which are, furthermore, very cheap to extract: no permafrost or tar sands or deep sea drilling. For US planners, it is imperative that Iraq remain under U.S. control, to the extent possible, as an obedient client state that will also house major U.S. military bases, right at the heart of the world's major energy reserves.
That these were the primary goals of the invasion was always clear enough through the haze of successive pretexts: weapons of mass destruction, Saddam's links with Al-Qaeda, democracy promotion and the war against terrorism, which, as predicted, sharply increased as a result of the invasion.
Last November, the guiding concerns were made explicit when President Bush and Iraq's Prime Minister Nouri Al Maliki signed a "Declaration of Principles," ignoring the U.S. Congress and Iraqi parliament, and the populations of the two countries.
The Declaration left open the possibility of an indefinite long-term U.S. military presence in Iraq that would presumably include the huge air bases now being built around the country, and the "embassy" in Baghdad, a city within a city, unlike any embassy in the world. These are not being constructed to be abandoned.
The Declaration also had a remarkably brazen statement about exploiting the resources of Iraq. It said that the economy of Iraq, which means its oil resources, must be open to foreign investment, "especially American investments." That comes close to a pronouncement that we invaded you so that we can control your country and have privileged access to your resources.
The seriousness of this commitment was underscored in January, when President Bush issued a "signing statement" declaring that he would reject any congressional legislation that restricted funding "to establish any military installation or base for the purpose of providing for the permanent stationing of United States Armed Forces in Iraq" or "to exercise United States control of the oil resources of Iraq."
Extensive resort to "signing statements" to expand executive power is yet another Bush innovation, condemned by the American Bar Association as "contrary to the rule of law and our constitutional separation of powers." To no avail.
Not surprisingly, the Declaration aroused immediate objections in Iraq, among others from Iraqi unions, which survive even under the harsh anti-labour laws that Saddam instituted and the occupation preserves.
In Washington propaganda, the spoiler to US domination in Iraq is Iran. U.S. problems in Iraq are blamed on Iran. US Secretary of State Condoleezza Rice sees a simple solution: "foreign forces" and "foreign arms" should be withdrawn from Iraq — Iran's, not ours.
The confrontation over Iran's nuclear programme heightens the tensions. The Bush administration's "regime change" policy toward Iran comes with ominous threats of force (there Bush is joined by both US presidential candidates). The policy also is reported to include terrorism within Iran — again legitimate, for the world rulers. A majority of the American people favours diplomacy and oppose the use of force. But public opinion is largely irrelevant to policy formation, not just in this case.
An irony is that Iraq is turning into a US-Iranian condominium. The Maliki government is the sector of Iraqi society most supported by Iran. The so-called Iraqi army — just another militia — is largely based on the Badr brigade, which was trained in Iran, and fought on the Iranian side during the Iran-Iraq war.
Nir Rosen, one of the most astute and knowledgeable correspondents in the region, observes that the main target of the US-Maliki military operations, Moktada Al Sadr, is disliked by Iran as well: He's independent and has popular support, therefore dangerous.
Iran "clearly supported Prime Minister Maliki and the Iraqi government against what they described as 'illegal armed groups' (of Moktada's Mahdi army) in the recent conflict in Basra," Rosen writes, "which is not surprising given that their main proxy in Iraq, the Supreme Iraqi Islamic Council dominates the Iraqi state and is Maliki's main backer."
"There is no proxy war in Iraq," Rosen concludes, "because the U.S. and Iran share the same proxy."
Teheran is presumably pleased to see the United States institute and sustain a government in Iraq that's receptive to their influence. For the Iraqi people, however, that government continues to be a disaster, very likely with worse to come.
In Foreign Affairs, Steven Simon points out that current US counterinsurgency strategy is "stoking the three forces that have traditionally threatened the stability of Middle Eastern states: tribalism, warlordism and sectarianism." The outcome might be "a strong, centralised state ruled by a military junta that would resemble" Saddam's regime.
If Washington achieves its goals, then its actions are justified. Reactions are quite different when Vladimir Putin succeeds in pacifying Chechnya, to an extent well beyond what Gen. David Petraeus has achieved in Iraq. But that is THEM, and this is US. Criteria are therefore entirely different.
In the US, the Democrats are silenced now because of the supposed success of the US military surge in Iraq. Their silence reflects the fact that there are no principled criticisms of the war. In this way of regarding the world, if you're achieving your goals, the war and occupation are justified. The sweetheart oil deals come with the territory.
In fact, the whole invasion is a war crime — indeed the supreme international crime, differing from other war crimes in that it encompasses all the evil that follows, in the terms of the Nuremberg judgment. This is among the topics that can't be discussed, in the presidential campaign or elsewhere. Why are we in Iraq? What do we owe Iraqis for destroying their country? The majority of the American people favour US withdrawal from Iraq. Do their voices matter?

Noam Chomsky's writings on linguistics and politics have just been collected in "The Essential Noam Chomsky," edited by Anthony Arnove, from the New Press. Chomsky is emeritus professor of linguistics and philosophy at the Massachusetts Institute of Technology in Cambridge, Mass.

عوام سخت پر یشان ہیں ۔۔۔ اے پی ایس اسلام آباد

پاکستان کی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور قومی فیصلے پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے آج بھی مشرف دور حکومت کی طرح غیر منتخب شخصیات بیرون ملک بیٹھ کررہی ہیں۔18فروری کے بعد عوام کو دن بدن مہنگائی کی دلدل میں پھنساکر عوام کے پیسوں سے بیرون ممالک کے دورے کئے جارہے ہیں اور پاکستانی قوم کی قسمت کے فیصلے وہاں ہو رہے ہیں عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو مضبوط کیوں نہیں کیا جا رہا ۔سابقہ دورحکومت کی طرح اب بھی قومی نوعیت کے فیصلے غیرمنتخب لوگ کررہے ہیں۔جب بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف پر ملک میں آنے پر پابندیاں تھیں تب تو بیرون ممالک مشاورت کی کوئی وجہ بنتی تھی مگر اب ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ مخلوط قیادت ملک میں فیصلے نہ کرسکے۔حکومت کی ان پالیسیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرف کی پالیسیاں جاری ہیں سخت مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا محال کردیا گیا ہے۔لوڈ شیڈنگ اور بجلی ،گیس ، آٹا اور دیگر اشیاء صرف کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور حکمران عوام کے پیسے پر عیاشیاں کررہے ہیں۔ آئینی پیکج میں اسٹیبلشمنٹ کو مزید اختیارات دینے کے علاوہ تین نومبر کے اقدامات کو درست اور پی سی او ججوں کو تحفظ دیا گیاہے ۔ معزول عدلیہ بآسانی ایگزیکٹو آرڈر سے بحال کی جا سکتی ہے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی انگریز نے اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد رکھ دی تھی تاکہ وہ اپنے مفادات حاصل کرتا رہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت نواب لیاقت علی خاں بھی با اختیار نہیں تھے ۔ موجودہ دور میں ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر براہ راستہ امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں ۔ما ضی میں صرف وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ امریکہ کی مرضی سے بنائے جاتے تھے مگر اب اس کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ پاکستان دشمن طاقتیں وطن عزیز کو نقصان پیچانے کیلئے طرح طرح کے ناپاک عزائم و منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی بڑی تعداد القاعدہ میں منظم ہونے کے لیے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جمع ہو رہی ہے۔ امریکی اخبار”نیو یارک ٹائمز“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان غیر ملکی جنگجوو¿ں میں ازبک شمالی افریقہ اور عرب ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ بغداد سے امریکی فوجی ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ یہ جنگجو القاعدہ کے جنگجوو¿ں کا ساتھ دینے کے لیے کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان منتقل ہوئے ہیں جہاں پر وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان مزاحمت کا ساتھ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی عراق میں اوسطاً تعداد ماہانہ کم ہو کر 40 ہو گئی ہے جو ایک سال قبل ماہانہ 110 تھی انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے اب پاکستان پر مرکوز کی ہوئی ہے نیو یارک ٹائمز نے امریکی خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے غیر ملکی جنگجوو¿ں میں مشرق و سطیٰ بعض سنی عسکریت پسند شامل ہیں اس کے علاوہ شمالی افریقہ اور وسطیٰ ایشیا سے بھی عسکریت پسند پاکستان میں داخل ہو کر القاعدہ کے ساتھ شامل ہو گئے دوسری جانب افغانستان میں نیویارک کے کمانڈر ڈیوڈ میک نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقے کے حالات انتہائی خراب ہیں اور عسکریت گروپ آسانی کے ساتھ سرحد عبور کر کے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ جبکہ وکلاءتحریک نے پارلیمنٹ کو یہ واضح کیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کی بی ٹیم نہ بنے اور اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے وکلاء روز روز شاہراہ دستور سے واپس نہیں جائیں گے مقاصد کے حصول تک دھرنا دیا جائے گا حکمرانوں کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے ڈوگرہ راج تسلیم نہیں کر تے جلد حقیقی منصف عدالتوں میں آئیں گے ان خیالات کا اظہاروکلاءتحریک کے ممتاز رہنما حامد خان اسلام آباد بارایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار عصمت اللہ اور ملتان ،سیالکوٹ،گجرات،چکوال،کبیر والا،پنڈی گھیب،تلہ گنگ،اٹک،قصور اور پنجاب کے دیگر شہروں کی بار ایسوسی ایشنز کے صدور جنرل سیکرٹریز اور نمائندوں نے ججز کی بحالی کے لئے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کے سامنے وکلاءکی احتجاجی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کیا وکلاءکی احتجاجی ریلی اور پولیس کے درمیان تصادم ہو تے ہوتے رہ گیا راولپنڈی ضلعی کچہری سے وکلاء نے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ تک احتجاجی ریلی نکالی اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی ریلی میں شامل ہو گئے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جماعت کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور میاں محمد اسلم کی قیادت میں اسلام آباد بار کی ریلی میں شرکت کی پارلیمنٹ لاجز کے سامنے پولیس کی بھاری نفری نے خاردار تاریں اور سیمنٹ کے بلاک کھڑے کر کے شاہراہ دستور کو جانے والے راستے بند کر دئیے وکلاء کی احتجاجی ریلی گولی لاٹھی کی سر کار نہیں چلے گی نہیں چلے گی گر تی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا دوکے نعرے لگاتے ہوئے رکاوٹیں عبور کر دیںوکلاء ریلی ایوان صدر ، پارلمینٹ ہاو¿س سے ہوتی ہوئی سپریم کوٹ کے سامنے پہنچی، سپریم کورٹ کے اطراف سے بھی نوجوان وکلاء خار دار تاریں ایک طرف پھینکتے ہوئے سپریم کورٹ کی دیوار پر چڑھ گئے اور نعرے لگائے احتجاجی ریلی میں شہید لال مسجد بھی زبر دست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا وکلاء ریلی نے صدر پرویز مشرف پی سی او ججز کے ساتھ ساتھ آصف علی زر داری کے خلاف بھی نعرے لگائے احتجاجی ریلی کے دوران سپریم کورٹ میں ججز محصور ہو کر رہ گئے پونے بارا بجے تک سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی ریلی جاری رہی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے حامد خان نے کہا کہ ریلی کے ذریعے حکومت کو پیغام ہے کہ وہ 9 مارچ کے اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کر دے قوم اور وکلاءکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے مزید امتحان نہ لیا جائے پارلیمنٹ کے لئے یہی پیغام ہے جلد از جلد قرار داد منظور کی جائے اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججز کو بحال کیا جائے ورنا پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے جمع ہو نے کے بعد واپس نہیں جائیں گے آئندہ لاکھوں لوگوں کو لے کر آئیں گے مقاصد کے حصول تک سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے حامد خان نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری 26 جولائی کو بہاولپور بار سے خطاب کریں گے اس مقصد کے لئے 25 جولائی کو وکلاء ملتان میں جمع ہو کر چیف جسٹس کے ہمراہ بہاولپور جائیں گے احتجاجی ریلی کے اختتام پر شہدا لال مسجد کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی گئی سیالکوٹ بار کے صدر ارشد بھگو نے دعا کرائی۔پاکستان میں وجود میں آنے والی نئی جمہوری حکومت کو اپنے عوام کے جذبات کا احساس ہونا چاہیے ہے اور وہ ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھائے جس سے عوام میں اشتعال پھیلے۔ اے پی ایس۔

Abu Dhabi Acquires a Stake in Chrysler Building



By Charles V. Bagli
The government of Abu Dhabi bought a 90 percent stake in the landmark Chrysler Buildingon Tuesday for $800 million from German investors and Tishman Speyer Properties.
You would think that Abu Dhabi got a controlling interest in New York’s Art Deco masterpiece for that kind of money. But you would be wrong.
Despite having only a minority holding, Tishman Speyer Properties will continue to control the property, much as it has since 1997. That is because it controls the land beneath the 77-story tower with the stainless steel crown, gargoyles and elevator cabs that evoke the chrome laden autos of years gone by.
Tishman Speyer Properties did not return calls requesting comment and the often secretive Abu Dhabi Investment Council, an arm of the Gulf emirate government, was also mum.
Teresa Miller, a spokeswoman for Prudential Real Estate Investors, confirmed on Wednesday that “we no longer own a 75 percent stake in the Chrysler Building.” She declined to disclose the sale price.
Real estate executives familiar with the transaction said the other 15 percent was purchased from Tishman Speyer. The total price was $800 million, or 166 percent more than the $300 million the German investors paid in 2001.
In a separate deal, the Abu Dhabi Investment Council is negotiating to buy the retail space in the seven­-story glass Trylons, a pavilion, that Tishman Speyer built next to the Chrysler Building.
Jerry I.Speyer , the chairman of Tishman Speyer, and its partner Travelers Group, bought the skyscraper at 42nd Street and Lexington Avenue and the adjoining Kent Building in 1997 for $220 million. Mr. Speyer outwitted competing bidders for the property by pre-emptively securing a deal with Cooper Union for the Advancement of Science and Art, which owned the land underneath the tower.
Although the Chrysler Building’s lobby featured African marble and chrome and the Sky Club on the 66th floor offered spectacular views, it had a run down feel to it. Tishman Speyer poured $100 million into renovations.
Less than four years later, Travelers sold its 75 percent stake for $300 million to a real estate fund for German investors called TMW. Prudential later acquired TMW, selling the stake in the Chrysler Building on Tuesday. The funds generally buy assets for five to seven years and are not interested in being long term owners of real estate.

عوامی بوجھ میں اضافے کے بعد امریکی حملے کی تجویز ۔۔۔ تحریر: اے پی ایس

امریکی اراکین کانگریس نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کمانڈوز طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پوری طرح تیار بیٹھے ہیں۔ پاکستان قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کے خاتمے میں ناکام نظر آ رہا ہے امریکہ کو خود آپریشن کرنا پڑے گا۔ گذشتہ ہفتے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی اراکین کانگرس رییس جینی گرین ‘ ڈی ہوسٹن ‘ مائیکل میکال ‘ آر آسٹن اور ہنری کیولر اور ڈی لا ریڈو نے امریکی اخبار ”ہوسٹن کرونیکل “ کو اپنے علیحدہ علیحدہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر پاکستان قبائلی علاقوں سے دہشت گردوںکے تربیتی کیمپوں کے خاتمے اورافغانستان کے اندر در اندازی روکنے میں ناکام رہا تو امریکی کمانڈوز پاکستان کے ان قبائلی علاقوں میں از خود آپریشن کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ اراکین کانگرس نے الزام لگایا ہے کہافغانستان میں امریکہ کی اتحادی افواج کے خلاف طالبان کی کارروائیوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں جون میں عراق کی نسبت افغانستان میں زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں ۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس مائیکل میکال نے اخبار کوبتایا کہ انہوں نے وفد کے ہمراہ گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے صدرپرویز مشرف اور وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس میں انہوں نے دونوںپاکستانی رہنماو¿ں سے کہہ دیاہے کہ قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسند وں کو روکنے اور ان کے خاتمے کے لیے اضافی کارروائی کی ضرورت ہے ۔ مائیکل میکال نے کہا کہ پاکستان طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح ناکام ہو گیا ہے لہذا امریکہ معاملہ اپنے طورپر نمٹانے کے لیے پوری طرح تیار ہے ان کے مطابق پاکستان مشترکہ آپریشن کی تجویز پہلے ہی مسترد کر چکا ہے ا س صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے امریکہ کو از خود کارروائی کرنی ہو گی۔ سینیٹر میکال کاکہنا ہے کہ اس بات کی اشدضرورت ہے کہ امریکی فوج کو پاکستان کے اندر کارروائی کی اجازت دی جائے امریکی کانگرس کے دوسرے ارکان ہنری کیولر نے واضح کیا کہ پاکستان معاملات کو سنبھالے ورنہ امریکہ کو ازخود کارروائی کرنی ہو گی ۔ پاکستان دشمن عالمی طاقتوں نے پاکستان کو عدم استحکام کرنے کیلئے کئی ایک بحرانوں میں پھنسا دیا ہوا ہے اگرچہ اس کا ذمہ دار سا بقہ اور موجودہ ڈ می حکمرانوں کوٹھہرایا جا تا ہے۔ ان ڈمی حکمرانوں کو استعمال کیا گیا ہے جنھوں نے ہر وہ کا م کیا ہے جس سے ملک ترقی و استحکام کی بجائے کمزور ہوا ہے اور اس کے عوام نہ صرف ما یو س ہوئے ہیں بلکہ مصنوعی بحران پیدا کر کے ان کو دبا دیا گیا ہے۔ اقتصادی معاشی حالات درست نہیں ہیں۔ بجلی کے بحران آٹے کی قلت پینے کے پانی کی عدم دستیابی ‘ بدامنی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں فوجی آپریشن اور اس ضمن مین امریکی مداخلت میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے پارلیمنٹ اورمنتخب حکومت ‘ پرویز مشرف کے دور سے زیادہ امریکی چوکھٹ پر جھک رہی ہے اس کے خلاف بھرپور کردار ادا کرکے ملک کو خطرات اور مشکلات سے نجات د لا نا ہو گی۔ وفاق نے صوبوںکے حقوق اور وسائل پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اس کے خلاف موثر طریقے سے آگے بڑ ھنا ہوگا قومی ایشوز کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ عوام حکمران اتحاد سے مطمئن نہیں ہیں سخت مایوسی پائی جاتی ہے ۔ عوامی مایوسی اشتعال اور بغاوت کی شکل اختیار کررہی ہے ۔ روٹی ‘ کپڑا ‘ مکان دینے کی دعویدار حکومت کے دور میں مہنگائی بڑھ رہی ہے سٹاک مارکیٹ مین بدترین کریش ہے ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت گر رہی ہے ۔ملازمت پیشہ اور مزدوروںکے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہین ۔وزیر پانی وبجلی کے اعلان کے بعد ملک کے مختلف شہروں میںلوڈ شیڈنگ کا دور انیہ مزید بڑھ جاتا ہے ۔حکومتی ٹیکسوں کو ختم کرکے پٹرول کی قیمت میںپندرہ سے بیس روپے کی کمی کی جاسکتی ہے یہ اقدام اٹھانے کے بجائے عوامی بوجھ میں اضافہ کیا جارہا ہے پرویز مشرف کے خلاف عوام نے جس نفرت کا اظہار کیا اس حوالے سے حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ میں آئینی بنیاد پر پرویز مشرف کے مواخذے کے لیے اکثریت موجود ہونے کے باوجود اس سے گریز کیا جا رہا ہے اس کے برعکس پیپلزپارٹی ‘ مشرف کے ساتھ تعاون کر رہی ہے ۔ بلوچستان ‘فاٹا آپریشن ختم نہیں کیا گیا ۔ ا ورحکمران بیرونی ڈکٹیشن کے حوالے سے دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں لاپتہ افراد کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہیں ہے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے غربت ‘ جہالت ‘ مہنگائی ناانصافی کے خلاف پار لیمنٹ کو اپنا کر دار ادا کر نا ہوگا۔ آئین و قانون کی حکمرانی ‘ عدلیہ کی آزادی ‘ باضمیر ججز کی بحالی کی تحریک کو آگے بڑھایا اورصوبوںکے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد کو جاری رکھا جائے ۔ اندرونی اور بیرونی محاذ پر امریکی مداخلت اور حملوں کے مقابلے میں قوم کومتحد رہنا ہو گا تا کہ قومی سلامتی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ اے پی ایس

PM says no differences among coalition partners



DUBAI : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani said on Wednesday that the government was taking all its partners along and there were no differences within the ruling alliance. He was briefly talking to reporters here after a meeting with Pakistan People’s Party Chairman Bilawal Bhutto Zardari and Co-Chairman Asif Ali Zardari.
The overall political situation in Pakistan also came under discussion during the meeting.
Information Minister Sherry Rehman, Minister for Labour and Manpower, Syed Khursheed Ahmed Shah and Minister for Kashmir Affairs, Qamar Zaman Kaira were also present at the meeting.
Responding to a question, Prime Minister Gilani said that Parliament would decide about the impeachment of the President.
On inflation, he said that Pakistan was also facing the impact of rising prices of crude oil and food commodities in the international market.
The Government, he added, was following an effective strategy to tackle inflation and provide maximum relief to the common man.
The Prime Minister, who arrived in Dubai on Wednesday after attending D-8 Summit in Malaysia, was due to meet Sheikh Mohammed Bin Rashid Al Maktoum, UAE Vice-President and Prime Minister and Ruler of Dubai, later in the evening.

US congressmen suggest attack in Pakistan

WASHINGTON: US congressmen Wednesday said that US commandoes are quite raring to attack on Taliban in Pakistan.Talking to Houston Chronicle, he said the US forces should be allowed to launch an attack on Pakistan.According to the congressmen, Pakistan dismissed the option of joint operation in the troubled tribal areas; that is why US should take this responsibility and launch an attack on Pakistan.The lawmakers — Reps. Gene Green, D-Houston, Michael McCaul, R-Austin, and Henry Cuellar, D-Laredo — told the Houston Chronicle in separate interviews that the plans for stepped-up U.S. military operations are in response to Pakistan's failure to disrupt terrorist training camps and cross-border attacks from a region known as "the Federally Administered Tribal Areas," a remote, mountainous border area.The Bush administration is recalibrating U.S. operations in the region because of a 40 percent increase in violent attacks against U.S.-led forces in Afghanistan that have pushed U.S. casualties for the month of June beyond the monthly toll in Iraq, the lawmakers said.The Texas congressmen said they devoted much of their delegation's separate meetings with President Pervez Musharraf and Pakistan's prime minister, Yusaf Raza Gillani, last Friday to urging additional action against Islamic militants in the tribal territories.But they said Pakistani officials rejected resumption of the joint U.S.-Pakistani operations that ended in 2003, calling instead for additional U.S. military assistance and intelligence cooperation to target seven or eight terrorist leaders operating in the tribal areas.Pakistan's ineffective campaign makes it "imperative that U.S. forces be allowed to pursue the Taliban and al-Qaida in tribal areas inside Pakistan," McCaul insisted. "If we don't do something now, they're going to strike us again (in the United States) and it is going to be out of this area."Cuellar said that "either Pakistan does more or we will be taking things into our own hands," adding: "If our troops are fired on, there will be hot pursuit into that territory."Army Lt. Col. Mark Wright, serving as a spokesman for the Defense Department, said U.S. forces ''remain ready, willing and able to assist the Pakistanis and to partner with them to provide additional training and to conduct joint operations should they desire."The State Department did not respond to a request for comment.U.S. Predator aircraft, pilotless drones, have carried out at least four missile strikes against suspected terrorists inside Pakistan so far this year, killing at least 45 people, according to the Washington Post.U.S. military commanders in Afghanistan already have exercised hot pursuit on a limited basis to chase Taliban fighters and al-Qaida militants into adjacent Pakistani areas.

وکلاء کل اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ، انتظامیہ کو پروگرام سے آگاہ کر دیا گیاہے۔عصمت اللہ

راولپنڈی۔ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے گزشتہ سال مارچ سے جاری وکلاء تحریک میں ایک ماہ کے تعطل وسست روی کے بعد طے شدہ اگلے مرحلے میں کل (بروز جمعرات) جڑواں شہروں کے علاوہ پنجاب کے دیگر اضلاع سے بھی بڑی تعداد میں وکلاء سپریم کورٹ کی طرف مارچ کریں گے اس مقصد کے لئے ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے علاوہ ٹیکسلا،ایبٹ آباد ،گوجر خان، چکوال سمیت راولپنڈی ڈویژن کی تمام تحصیل بار ایسوسی ایشنوں کے وکلاء صبح 9 بجے ضلع کچہری راولپنڈی میں جمع ہوں گے جہاں پر وکلاء کے احتجاجی اجلاس کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر سردار طارق مسعود کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے سپریم کورٹ کی طرف وکلاء مارچ کے حوالے سے بدھ کے روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا کیمپ میں ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری ملک صدیق اعوان ڈسٹرکٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ جنرل سیکرٹری ساجد تنولی سابق صدر ذوالفقار عباس نقوی ،جی ایم شاہ ،اسد عباسی ،سائرہ خاتون سمیت بڑی تعداد میں وکلاء نے شرکت کی ادھر بعض اطلاعات کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وکلاء ریلی کو سیکورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ریلی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ریلی کے انعقاد کی صورت میں وکلاء قیادت پرزور دیا گیا ہے کہ وہ ریلی کا روٹ،طریقہ کار اور مقام تبدیل کریں اس ضمن میں ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے ثناء نیوز کو بتایا کہ ریلی کے حوالے سے اسلام آباد پولیس و انتظامیہ اور وکلاء کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اطلاعات بے بنیاد ہیں میرے ساتھ بعض وکلاء قائدین نے اے ڈی سی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد کو ایک ملاقات میں اپنے پروگرام اور تجاویز سے آگاہ کر دیا جس پر انہوں نے وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد حتمی اعلان کر نے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم اس ضمن میں ہمیں تاحال کوئی اطلاع نہیں دی گئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلی کا مقام بدلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا اس ملک کا کونا کونا ہمارا ہے اور ہمیں پر امن احتجاج کا پورا حق ہے سیکورٹی پرابلم یا دھماکوں کا خوف دلا کر ہماری تحریک کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ موت کو کسی جگہ پر کوئی نہیں روک سکتا ہم نے انتظامیہ پر واضح کیا ہے کہ کوئی وکیل سپریم کورٹ کے اندر نہیں جائے گا بلکہ وکلاء شاہراہ دستور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اس کے باوجود اگر پولیس یا انتظامیہ نے ریلی کو روکنے کی کوشش کی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سمیت تمام تر حالات کی ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہو گی۔

ترقی پذیر ممالک نے جی ایٹ کے گرین ہاؤس گیس کے اخراج سے متعلق فیصلہ مستر د کردیا

ٹوکیو۔ ترقی پذیر ممالک نے جی ایٹ سربراہی کانفرنس میں 2050 ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نصف کرنے کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی حدت کے حوالے سے جی ایٹ کے فیصلے کے پابند نہیں ہیں ۔ جی ایٹ ممالک نے گلو بل وار منگ کے خاتمے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کا عہد کیا ہے ۔ جاپان میں جاری دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کی تنظیم جی ایٹ کے اجلاس میں ممبر ممالک نے 2050 ء تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پچاس فیصد تک کمی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ممبر ممالک 2009 تک عالمی حدت کو کم کرنے کے لیے ایک نیا معاہدہ بھی تیار کرلیںگے اجلاس میں ترقی پذیر ملکوں بھارت اور چین کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم دونوں ممالک گرین ہاؤس گیسوں کی کمی پر راضی نہیں ہو سکے ۔

Wednesday, July 9, 2008

شہداء لال مسجد کانفرنس طالبات کی جانب سے پرویز مشرف پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ


اسلام آباد ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کی شہداء لال مسجد کانفرنس نے لال مسجد آپریشن کے حوالے سے پرویز مشرف پر مقدمہ درج کرنے ‘ عدالتی کمیشن کے قیام ‘ جامعہ حفصہ میں خیموں کے ذریعے کلاسسز شروع کرنے ‘ مولانا عبدالعزیز کی رہائی اور جامعہ فریدیہ کی بحالی کے لئے 6 جولائی سے مشترکہ اعلامیے کی توثیق کر دی ۔ جامعہ حفصہ کی پرنسپلہ ام حسان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں انصاف ناپید ہے ۔ تھانے اور عدالتیں بکتی ہیں ۔ حکمران اپنے انجام کے خوف سے ہم پر الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ ہم پہلے دہشت گرد تھے نہ اب ہیں اور نہ ہوں گے ۔ آئی جی پنجاب کو چیلنج کرتی ہوں اس نے اگر ماں کا دودھ پیا ہے تو مجھ پر جو الزام عائد کیا ہے اسے ثابت کرے ۔ ملک میں مدارس ‘ مساجد اور علماء کرام کو تحفظ حاصل نہیں ہے جبکہ نائٹ کلبوں ‘ مساج سنٹروں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ شہدائے لال مسجد کانفرنس برائے خواتین منگل کو لال مسجد کے احاطے میں میں منعقد ہوئی ۔ جس میں ہزاروں طالبات ‘ معلمات اور جامعہ حفصہ و لال مسجد کے شہداء کے ماؤں اور بہنوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس امن حسان کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کی منتظمین کی جانب سے شہداء کے ورثاء کو چادریں اور دینی کتب پیش کی گئیں ۔ کانفرنس کی گھنٹوں تک جاری رہی ۔ کانفرنس میں گو مشرف گو کے نعرے بھی لگائے گئے یہ نعرہ امن حسان نے لگوایا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ام حسان نے کہا کہ جامعہ حفصہ کی تعمیر نہ کر کے حکومت عدالتی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے صدر مشرف نے گزشتہ سال جو آپریشن اور اقدامات کئے تھے انہیں سزا ملنی چاہئے ۔ ہم پر دہشت گردی کے الزامات غلط ہیں اگر ہمیں دہشت گردی کرنا ہوتی تو اس وقت کرتے جب جامعہ حفصہ پر بم برسائے جا رہے تھے ۔ این آر او کے تحت زرداری اور دیگر سیاستدانوں کے مقدمات واپس ہو سکتے ہیں تو مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمات کو واپس کیوں نہیں لیا جاتا ۔ کانفرنس چھ جولائی شہدائے کانفرنس کے مطالبات کی توثیق کرتی ہے ۔ ام حسان نے کہا کہ ظالم حکمرانوں نے طلباء و طالبات کو آگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا ۔ فاسفورس بم برسائے گئے یہ اجڑا میدان ظلم و ستم کا نشانہ بنا ۔ بچوں اور بچیوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے شریعت کا مطالبہ کیا تھا ۔ بچوں اور بچیوں نے مساجد کو گرانے کے خلاف آواز اٹھائی ۔ ملک میں ڈاکے عام ہیں ۔ ڈاکے ڈالنے والے جرنیلوں ‘ وزیروں کے رشتے دار ہوتے ہیں بااثر افراد کے ذریعے بڑے سے بڑا ڈاکہ ڈالا جاتا ہے انتظامیہ کے اکثر لوگ ڈالروں میں بک جاتے ہیں اور قوم کی بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں ۔ یہ مساج سنٹروں کا تحفظ کرتے ہیں ۔ وسائل لوٹنے کے لئے حکومتوں میں آتے ہیں ۔ تھانے اور عدالتیں بگتی ہیں ۔ حکمران بھی بگتے ہیں ۔ امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لئے قوم کے بچوں کو ڈالروں میں بیچ دیتے ہیں ۔ اسلام جمہوریت نہیں بلکہ خلافت اور خود پر شریعت نافذ کرنے سے آتا ہے ملک میں تمام جرائم عام ہیں ۔ آنٹی شمیم اور اس جیسی خواتین فائیو سٹار ہوٹلوں میں اڈے چلا رہی ہیں خواتین کو ان کی تذلیل کرتے ہوئے محافل کی زینت بنایا جاتا ہے اور اسے روشن خیالی قرار دیا جاتا ہے پرویز مشرف ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جس کے اندر مساجد کو گرانا ‘ فحاشی کو عام کرنا ‘ سود اور شراب جائز ہو ۔ مشرف کو شریعت میں تبدیلی کی اجازت نہیں دے سکتے بارود کی بارش میں نہلانے کے باوجود ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ۔ حکمرانوں نے سمجھا تھا کہ آپریشن کے ذریعے برقعے کو ختم کر دیں گے ۔ یہ ان کی خیام خیالی تھی روشنی خیالی کا چہرہ آپریشن میں عیاں ہوا ۔ نظام کے دشمن پہلے بھی تھے آپریشن کے بعد مزید دشمن ہو گئے ہیں ۔ تعلیم یافتہ روشن خیالوں کے ہاتھوں وہ ظلم دیکھا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ ماؤں کے سامنے ان کی بچیوں اور بچوں کو چھلنی کر دیا گیا ۔ ہم دہشت گرد تھے نہ ہیں اور نہ ہوں گے ۔ الزام لگانے والے خود دہشت گرد ہیں ۔ آئی جی پنجاب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر ماں کا دودھ پیا ہے تو دہشت گردی کے حوالے سے مجھ پر جو تہمت لگائی ہے اسے ثابت کرے ۔ حکمران اپنے انجام کے خوف سے ہم الزامات لگا رہے ہیں ۔ قوم کی بیٹیوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی گئی تھی ۔ عدالتوں میں انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھایا جاتا ہے این آر او کے ذریعے سیاستدانوں کی کرپشن کو معاف کر دیا جاتا ہے نافذ شریعت کا مطالبہ کرنے والوں پر بم برسائے جاتے ہیں ۔ مولانا عبدالعزیز پر قائم جھوٹے مقدمات ختم کر کے بری کیا جائے ورنہ زرداری کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ۔ پرویز مشرف پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم ختم نہیں ہوئے ۔ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے یہ ہماری اپنی دھرتی ہے ۔ پرویز مشرف خود محفوظ راستہ تلاش کر رہا ہے ۔ جامعہ فریدیہ کو بحال کیا جائے ۔ جامعہ حفصہ کو تعمیر کیا جائے اس سے پہلے حکمران گرفت میں آئیں ۔ طلبا ء طالبات کو ان کی تعلیم کا حق دیں ۔ کانفرنس میں گو مشرف گو کے لگوائے گئے ۔ ام حسان نے کہا کہ ناانصافی کے خلاف احتجاج کا حق رکھتے ہیں ۔ غازی کی بہنیں ‘ بیٹیاں ‘ مائیں زندہ ہیں مطالبات کے لئے احتجاج کی کال دیں گے ۔ سڑکوں پر آئیں گے مظاہرے کریں گے ۔ ہمیں جینے کا حق دیا جائے ۔ یہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور قوم کی بچیوں پر بم برساتے ہیں ۔ تحریک نفاذ شریعت پنجاب کے امیر قاضی محمد مشتاق ‘ مولانا عبدالعزیز کی صاحبزادی طیبہ دعا ‘ بنت مولانا اعظم طارق ‘ جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے بعد دو ماہ تک پابند سلاسل رہنے والی طالبہ بنت مولانا عبدالعزیز ‘ حمیرہ غازی ‘ عبدالرشید غازی کی صاحبزادی کائنات سمیت بیس سے زائد طالبات معلمات نے کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ حکومت نے 83 سے زائد مساجد کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ 7 مساجد کو شہید کر دی گئیں ۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد شہداء نے جان قربان کر کے دیگر مساجد کو منہدم ہونے سے بچایا اور مزاہمتی اور مجاہدانہ کردارا ادا کیا ۔ ہم کچھ نہ کر سکے اور دیکھتے رہ گئے کہ حامہ حفصہ کو جب طالبات کے خون سے رنگین کیا جا رہا تھا تو ہر طالبہ کا فرض تھا کہ گھر سے نکلتی جامعہ حفصہ پہنچتی ۔ سب پرویز مشرف کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ رونے اور ماتم کے لئے نہیں بلکہ تجدید عہد کے لئے یہاں بیٹھے ہیں ۔ ملک میں مساجد مدارس علماء کا تحفظ نہیں ہے یہاں شراب پینے والوں ‘ نائب کلبوں ‘ مساجد سنٹروں کو تحفظ دیا جا رہا ہے ۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کا مطالبہ آئینی تھا خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریک جاری رہے گی یہ طالبہ جامعہ حفصہ ہے ۔ ملک میں شریعت ہو گی یا پھر شہادت کے راستے پرچلتے رہیں گے ۔ آج بھی جامعہ حفصہ کے ملبے میں شہید طالبات کی ہڈیاں موجود ہیں ۔

بھارت اور افغانستان سمیت تمام پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، یوسف رضا گیلانی



کوالالمپور ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت اور افغانستان سمیت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ بدھ کو یہاں ملائشیا اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہو گا کہ ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کا خواہش مند ہے کیونکہ مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر قیادت حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تین نکاتی حکمت عملی شروع کی ہے جس میں مذاکرات ترقی اور طاقت کا استعمال شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے بنیادی اسباب جاننے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غربت اس لعنت کی ایک بڑی وجہ ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے۔ معیشت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم الزام تراشی پر یقین نہیں رکھتے ہم نے چیلنجوں کو قبول کیا ہے حکومت اس کا سامنا کرے گی اور ہم معیشت کو مستحکم بنائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں امن و امان کو بہتر بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن وامان کی صورت حال بہتر ہو گی تو معیشت یقیناً بہتر ہو گی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید مراعات دی جائیں گی۔

بین الاقوامی جوڈیشنری کانفرنس٩ سے ١٢ اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔ اعتزاز احسن



لاہور۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوڈیشنری کانفرنس9سے12اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی کانفرنس کا اختتام معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے لاہور میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیو یارک بار ایسوسی ایشن نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا ہے اور انہیں اعزازی طو رپر تاحیات رکن منتخب کیا ہے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ بین الاقوامی جوڈیشری کانفرنس میں تمام معزول ججز شریک کریں گے اور پی سی او ججز کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا جائے گا وہ کسی صورت اس میں شرکت نہیں کریں گے جبکہ عدلیہ کی بحالی کے بارے میں ملک بھر کے وکلاء کا کنونشن 19 جولائی کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں منعقد ہو رہا ہے جس میں مستقبل کا لائحہ عمل اور تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں معزول ججز کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اب پارلیمنٹ ہے کیونکہ پارلیمنٹ نے اعلان مری میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ معزول ججز کو بحال کریں گے اگر بیرونی طور پر دیکھا جائے تو امریکی حکومت اور صدر بش پاکستان میں معزول ججز کی بحالی نہیں چاہتے اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک ہر صورت میں جاری رہے گی اور آج جمعرات کو بھرپور وکلاء ریلی نکالی جائے گی اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا

ایران نے شہاب تھری میزائل کا تجربہ کر لیا ‘ اسرائیل کو ہدف بنا سکتا ہے

دہلی ، تہران ۔ ایران نے بدھ کے روز شہاب تھری میزائل کاتجربہ کر لیا ۔ شہاب تھری میزائل اسرائیل تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ ادھر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے تعلق سے مغرب اور ایران کے درمیان پیدا شدہ تنازعہ شدت اختیار کرتے ہوئے اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگی تیاریوں کے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے ۔ خلیج میں جہاں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے نے خلیج فارس میں جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے وہیں ایران میں انقلابی گارڈز نے بھی میزائلوں اور بحری حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ خلیج میں جنگی مشقیں کر رہا ہے ۔ امریکی بحریہ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ایک دن قبل ہی اس نے یہ عہد کیا تھا کہ ایران کو خلیج سمندر میں آبنائے ہرمز کی آبی گزر گاہ کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ امریکی کے پانچویں بحری بیڑہ کے کموڈور پیٹرہڈسن نے ایک بیان میں کہا کہ سٹیٹ نیٹ کے نام سے شروع کی گئی ان مشقوں کا مقصد گیس اور تیل کی تنصیبات جیسے مشقوں کا مقصد گیس اور تیل کی تنصیبات جیسے سمندری انفراسٹرکچر کی حفاظت کرنے کے طریقوں کی مشق کرنا ہے ۔ ایران کے ریولوشنر گارڈ کے سربراہ نے چند دن قبل یہ بیان دیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ خلیج میں تیل لے جانے والے جہازوں کی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لے گا ۔ مغرب اور ایران کے درمیان نیوکلیئر تنازعہ پر طاقت آزمائی کے اندیشوں سے تیل کی قیتمیں 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں ۔ خلیج میں امریکی بحریہ کی جنگی مشقوں میں دو جنگی جہازوں کے ساتھ برطانیہ کا ایک جنگی جہاز اور بحرین کا ایک جہاز حصہ لے رہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹیک نیٹ جنگی مشقوں کا مقصد سمندروں میں قانونی نظام کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی ساتھ علاقائی دوستوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دینا بھی ہے ۔ دوسری طرف تہران سے موصولہ اطلاع کے مطابق ایران کے انقلابی گارڈز نے اس وارننگ کے ساتھ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل اور خلیج فارس میں امریکی بحریہ کو اصل نشانہ بنایا جائے گا ۔ اسی دوران ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مددگار نے کہا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی حملے پر اس کا پہلا جواب یہ ہو گا کہ ایران خلیج میں اسرائیل اور امریکی بحریہ پر حملے کرے گا ۔ علی شیرازی نے انقلابی گارڈز کے سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا امریکہ کی طرف سے ایران پر پہلی گولی چلنے کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے دنیا بھر امریکہ کے اہم مفادات کو جلانا شروع کر دیا جائے گا ۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں تل ابیب اور امریکہ کے بحری بیڑے وہ نشانے ہوں گے جو ایران کی انتہائی سخت جوابی کارروائی میں شعلہ پوش ہوں گے ۔ امریکہ اور اس کے اہم ترین علاقائی اتحادی اسرائیل نے کبھی بھی ایران پر حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے ۔ علی شیرازی نے کہاکہ ’’ یہودی حکومت وائٹ ہاؤس کے قائدین پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایران پر فوجی یلغار کا منصوبہ بنائیں لیکن اگر وہ لوگ اس قسم کی حماقت کر بیٹھیں تو پھر ایران بھی جوابی کارروائی کرے گا ‘‘ انہوں نے یہ بات واضح نہیں کی کہ آیا وہ تل ابیب کا ذکر کر رہے ہیں تو ایک شہر کی حیثیت سے یا پھر یہودی مملکت کے مختصر نام کے طور پر ذکر کر رہے ہیں کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران ‘ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے ۔ جبکہ انقلابی گارڈز نے لڑائی کی اپنی تیاری حالت میںتیزی پیدا کرنے کی غرض سے جنگی مشقوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے ۔ ان جنگی مشقوں میں میزائلوں اور بحریہ کے شعبہ حصہ لے رہے ہیں ۔ انقلابی گارڈ ایران کے اہم ترین بالسٹک میزائلوں کے ذمہ دار ہیں جن میں شہاب 3 میزائلوں بھی شامل ہیں ۔ یہ میزائل اسرائیل اور خلیج میں واقع امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں تاہم کشیدگی کو ختم کرنے کی غرض سے سفارتی اقدامات بھی جاری ہیں ۔ ایران نے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کی غرض سے عالمی طاقتوں کی طرف سے کی گئی پیش کش کا جواب دے دیا ہے ۔ ایران کے جواب کا تجزیہ کرنے والے مغربی ملکوں کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جواب انتہائی پیچیدہ ہے ۔علی شیرازی نے کہا کہ ’’ ایرانی قوم کسی بھی دھونس کو ہر گز قبول نہیں کرے گی ‘ ایرانی قوم ان ایمان والوں کی قوم ہے جو جہاد شہادت میں یقین رکھتی ہے ۔

بھارت ، لوک سبھا میں عدد کا کھیل شروع

نئی دہلی ۔ بھارت امریکہ نیوکلیئر معاہدہ پر 50 ماہ پرانی یو پی اے حکومت کی باہر سے تائید سے دستبرداری کے بائیں بازو جماعتوں کے فیصلے کے ساتھ ہی لوک سبھا میں عدد کا کھیل ہو گیا ہے ۔ ایوان میں یوپی اے حکومت کی تائید کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد آنے والے دنوں میں سیاسی طریقہ کار کا فیصلہ کرے گی ۔ بایاں بازو صدر جمہوریہ پرتبھاپاٹل کو تائید سے دستبرداری کے فیصلے سے رسمی طور پر واقف کرائے گا ۔ بائیں بازو کی جانب سے تائید سے دستبرداری کے فیصلے کے فوری بعد سماج وادی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے نیوکلیئر معاہدہ پر کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کی تائید کی اور لوک سبھا میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔ یہ میٹنگ اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ سماج وادی پارٹی کی کٹرحریف بی ایس پی ارکان پارلیمنٹ کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ تاکہ پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی صورت میں یو پی اے حکومت کے خلاف انہیں ووٹ دینے کی ترغیب دی جا سکے ۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نیوکلیئر معاہدہ کے مخالف ہیں ۔ بائیں بازو کے فیصلے کے بعد پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح ہے ۔ بائیں بازو جماعتیں سی پی ایم ( 43 ) ‘ سی پی آئی ( 10 ) ‘ آل انڈیا فارورڈ بلاک ( 3 ) ‘ ریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی ( 3 ) اس طرح جملہ 59 ارکان پارلیمنٹ ہیں بی جے پی کے 130 ارکان پارلیمنٹ اور بی ایس پی کے ( 17 ) ارکان حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے اگرچہ کہ شیوسینا این ڈی اے کا حصہ ہے ۔ اس نے نیوکلیئر معاہدہ کی تائید کی ہے اس کے ( 12 ) ارکان پارلیمنٹ ہیں لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر معاہدہ پر وہ این ڈی اے کے ساتھ ہے ۔ جموں وکشمیر میں پی ڈی پی کے مخلوط اتحاد سے باہر نکلنے کے باعث یو پی اے کی تائید پر اس کا موقف واضح نہیں ہے ۔ ملائم سنگھ یادو زیر قیادت سماج وادی پارٹیکے ( 39 ) ارکان پارلیمنٹ لوک سبھا میں حکومت کی تائید کے لئے تیار ہیں ۔ اس طرح یو پی اے حکومت سادہ اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتی ہے ۔ ( 543 ) رکنی لوک سبھا میں اسے اپنی بقاء کے لئے کم از کم 272 ارکان پارلیمنٹ کی تائید کی ضرورت ہے

جی ایٹ ،ڈی ایٹ اور بھوک کا شکار افراد ۔۔ تحریر : اے پی ایس





پاکستان کو اس وقت مختلف مسائل کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے دیانت دار لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ حکمرانوںکو ملک کو درپیش مشکلات پر پوری توجہ دینی چاہئے عوام کی جوحالت ہے اس سے لگ یہ رہا ہے کہ اس وقت کوئی انچارج نہیں ہے اگر کوئی انچارج ہوتا تو جو بجٹ پیش کیا گیا وہ کچھ دوسری قسم کا ہوتا اور اس میں موجودہ مسائل کو پیش نظر بھی رکھتا اور ماضی کی طرف بھی نظر رکھتا۔ قیمتیں صرف ان چیزوں کی بڑھی ہیں جو غریب زیادہ استعمال کرتے ہیں جس میں خوراک اور مٹی کا تیل شامل ہیں۔ ریاست نام کی چیز ناپید ہوتی جارہی ہے۔ اگرچہ بہت سے مسائل حکومت کو ورثے میں بھی ملے، لیکن اگر دونوں بڑی اتحادی جماعتیں مستقل رابطے میں رہتیں اور جو ایجنڈا انہوں نے اپنے ذہن میں بنایا تھا اس پر عمل درآمد کرتیں تو مسائل کو حل کرنا نسبتا آسان ہوجاتا۔ وزراءپر غیر ضروری دباو¿، ایک ایک وزیر کے پاس کئی کئی محکمے اور قیادت کی مختلف سوچ بھی اس صورتحال کو گمبھیر بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ آصف زرداری اور نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور اہم فیصلے بیرون ملک ہورہے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہماری قیادت یکجا ہوکر اتفاق رائے اور خلوص دل سے عوامی مسائل حل کرے۔ جبکہ پاکستان کی جمہوری حکومت کا مقصد ملک سے غربت کا خاتمہ ہے اور اس ضمن میں ملک کو امن کا گہوارہ اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ بنانا ہوگا۔لبرل مارکیٹ کے ذریعے خصوصی اکنامک زون ، غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کیلئے خصوصی مراعات د ینا ہوگا۔ ویسے بھی خطے میں پاکستان سے زیادہ مراعات غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کوئی ملک نہیں دے رہا، جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی کہا ہے کہ ڈی ایٹ ممالک کیلئے پاکستان کی افرادی قوت حاضر ہے، ہم نے پاکستان سے دہشت گردی، انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے کے لئے خصوصی پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، ہم پوری انسانیت کی بقاءکیلئے کام کر رہے ہیں، عالمی برادری ہماری مدد کرے، جنوبی ایشیا میں پائیدر امن کے لئے تنازعات کے پرامن حل کے میکانزم کو فوری اپنانا ہو گا، پاکستان پورے خطے کے لئے توانائی و تجارت کی گزر گاہ اور محور بن سکتا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کے مابین اقتصادی تعاون اور تجارت کو فروغ دے کر ہمیں خوشی ہو گی ترجیحی تجارت کے معاہدے، کسٹم کے معاملات میں باہمی امداد اور ممبر ملکوں کے بزنس مینوں کے لئے ویزوں کے آسانی سے اجراء کے معاہدے درست سمت اقدام ہے، ڈی ایٹ سیکرٹریٹ کو ضروری وسائل افرادی قوت مہیا کرنا ہو گی ہم سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ کی کاوشوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈی ایٹ کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا اشتراک عمل باعث اطمینان ہے۔ سربراہی کانفرنس کی سائیڈ لائن پر بزنس فورم کے انعقاد سے تجارت، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھے گا بائیو ٹیکنالوجی، حلال انڈسٹری، قابل تجدید توانائی قابل تعریف ہے، انہوں نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح عوام کے مسائل حل کرنا اور اقتصادی اصلاحات لانا ہے، پاکستانی معیشت ہر قسم کے حالات میں آگے بڑھی ہے ہم شرح نمو جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں تاجروں، بزنس مینوں کو کافی مواقع فراہم کریں گے۔ سماجی و معاشی ترقی کے لئے امن و استحکام ناگزیر ہے بھارت کے ساتھ ڈائیلاگ میں حالیہ برسوں میں مثبت ترقی ہوئی ہے ہم تمام متنازعہ امور کا پرامن حل چاہتے ہیں جس میں بنیادی تنازعہ کشمیر شامل ہے کشمری عوام کی امنگوں کے مطابق یہ مسئلہ حل کیا جائے گا۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا عزم رکھتا ہے ہمیں تنازعوں کی مینجمنٹ سے آگے بڑھ کر تنازعوں کو حل کر کے پائیدار امن سکیورٹی جنوبی ایشیا میں قائم کرنا ہو گی۔ کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے گزشتہ روز کابل میں ہونے والے خودکش حملہ میں پاکستان کی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان خود انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ افغانستان کے ساتھ طویل مشترکہ سرحد ہونے کے باعث پاکستان کو بے پناہ دباو کا سامنا ہے، پاکستان آخری آپشن کے طور پر طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اپنی رہنما بینظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا شکار ہوئیں اس لئے ہم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت سے نمٹنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔انہوں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ کابل اور اسلام آباد کے حالیہ حملے صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ سرحد پار شدت پسندوں کی آمدورفت روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دو ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر مکمل نظر رکھنا مشکل ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔ ڈی ایٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تنظیم کی پہلی اور اولین ترجیح رکن ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ ہونا چاہئے، تنظیم کا مستقبل امداد میں نہیں بلکہ تجارت میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام ممالک تینوں معاہدوں پر جلد عمل درآمد کریں گے جن کا مقصد تجارت کو فروغ دینا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں ضافہ روکنا تو ہمارے اختیار میں نہیں ہے لیکن غذائی قیمتوں میں بین الاقوامی اضافہ روکنے کیلئے پاکستان نے ملک کے اندر غذائی اجناس وافر پیدا کرنے کا پلان تیار کیا ہے، حکومت نے دہشتگردی کے قلع قمع کیلئے سہ نکاتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ہم پاکستان میں دہشتگردوں سے مذاکرات نہیں کریں گے جو قبائل ہتھیار ڈال دیں گے صرف ان سے امن معاہدے ہونگے۔ دوسرے ہم فاٹا میں اقتصادی سماجی ترقی کیلئے بھاری رقوم خرچ کریں گے تیسرے یہ کہ اگر یہ دو طریقہ کارگر ثابت نہ ہوئے دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہا تو پر اس صورت میں ملٹری ایکشن کیا جائے گا۔آٹھ ترقی پذیر ممالک (ڈی ایٹ) کی چھٹی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر باہمی تعاون کے ذریعے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے 25 نکاتی ”کوالا لمپور اعلامیہ“ جاری کیا گیا جس کے تحت افرادی قوت کے باہمی تبادلے کے ذریعے غربت کے خاتمے اور اسلامی بینکاری اور فنانس کو فروغ دینے اور حلال انڈسٹری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر حلال اشیائے خوردنی کی بڑی طلب ہے، ڈی ایٹ ممالک حلال انڈسٹری کو فروغ دیں گے۔ حلال ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے انٹرنیشنل حلال انٹیگریٹی الائنس، ملائیشیا ٹیکنیکل کارپوریشن پروگرام ،حلال ٹریننگ پروگرام کے ذریعے حلال انڈسٹری کو ڈی ایٹ ممالک فروغ دیں گے۔ حلال ٹریننگ پروگرام شروع کریں گے ڈی ایٹ ممالک کے مابین اسلامی بینکاری، اسلامی مالیات کو فروغ دیا جائیگا۔ اعلامیہ کے مطابق ڈی ایٹ گروپ کی ساتویں سربراہ کانفرنس جون 2010 میں نائیجریا میں ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش ، انڈیشیا، ایران، ملائیشیا، نایئجیریا ،پاکستان اور ترکی کے سربراہان اور وفود کے سربراہانے اعلامیہ استنبول (1997) اعلامیہ ڈھاکہ(1999) اعلامیہ قاہرہ(2001) اعلامیہ تہران(2004) اور اعلامیہ بالی2006 میں متفقہ مقاصد منازل حاصل کرنے کیلئے تمام کاوشیں کرنے کا عزم کیا تمام ممالک نے باہمی احترام یکجہتی ، امن وسماجی واقتصادی تعاون ضبط وتحمل کے فروغ کا عزم کیا۔ کوالالمپور سربراہ کانفرنس ڈی ایٹ میں تعاون کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ اس کی دس سالہ روڈ میپ اور دوسری بنیادی دستاویزات سے تعاون یکجہتی بڑھے گی ۔ عالمی فورم پر ڈی ایٹ ممالک مشترکہ موقف اختیارکریں گے، باہمی تعاون مشاورت بڑھائیں گے، ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ کریں گے، عالمی چیلنجوں سے متنوع تعاون کیساتھ نمٹنے کیلئے کوششیں دوچند کریں گے اور ترقی پذیر ممالک عالمی معیشت میں مربوط کردار ادا کریں گے۔ 8 ممالک کے سربراہوں نے انٹرنیشنل فنانشل اینڈ ٹریڈ سکیم کو بین الاقوامی تعاون کا اہم ایریا قرار دیا اور کہا کہ منصفانہ شفاف انداز میں ترقی پذیر ممالک کے اختلافات دور کرنے ہوں گے۔ ڈبلیو ٹی او جیسے بین الاقوامی اداروں اور عالمی معیشت سے ترقی پذیر ممالک مربوط انداز میں فائدہ اٹھائیں گے۔ خوراک کی اشیاءاور تیل کی قیمتوں میں تیزرفتار اضافے پر سربراہوں نے تشویش کااظہار کیا اور کہا کہ اس سے عالمی سطح پر سماجی معاشی استحکام کو خطرات لاحق ہوں گے۔ سربراہوں نے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ نجی شعبے میں مشترکہ وینچرز شروع کرنے کا عزم کیا زرعی ترقی کی اشیاءکی تجارت پر پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ مختصر میڈیم اور طویل المعیار عرصے کیلئے خوراک کی پیداوار بڑھائی جاسکے ۔ اس حوالے سے بنگلہ دیش کی ڈی ایٹ فوڈ فنڈقائم کرنے کی تجویز کو نوٹ کیا گیا اور کمیشن کو اس کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی سربراہوں نے توانائی کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی عالم قیمتوں میں بے حد اضافے پر ڈی ایٹ ممالک کو ازحد تشویش ہے اس مسئلے کو عالمی سطح پر جلد سے جلد حل کرناہوگا ۔ توانائی کے شعبے میں جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے سربراہوں نے کہاکہ انرجی کی پیداوار میں اضافے کیلئے کاوشیں تیز کردی جائیں گی۔ جبکہ جاپان کے صوبے ہکائیڈو کے پرفضا مقام تویا میں منعقد ہونے والی دنیا کے آٹھ امیر ترین ممالک کی تنظیم جی ایٹ کی سربراہ کانفرنس کے دوسرے روز رکن ممالک نے غریب افریقی ممالک کی امداد 2010ء تک دوگنی کرنے،تیل اور غذائی اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے اور 2050ء تک گرین ہاوس گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں پچاس فیصد کمی کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے،گرین ہاوس گیسز پیدا کرنے والے اہم ممالک برازیل، بھارت، چین اور روس پر گلوبل وارمنگ کے خلاف جنگ میں جی ایٹ کا ساتھ دینے پر زور دیا گیا،دنیا سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات پر غورکیا گیا،اس موقع پر عالمی بینک کے صدر رابرٹ ڈوئنگ نے کہا کہ امریکا اور یورپی یونین میں بائیو فیول کی تیاری خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے،امیر ممالک کو چاہیے کہ وہ بھوک کے شکارافراد کے لئے زیادہ سے زیادہ خوراک مہیاکریں،اس دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے غیر سرکاری تنظیموں نے امیر ترین ممالک کے خلاف اپنے مظاہرے جاری رکھے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔جاپان میں جاری جی ایٹ اجلاس میں شریک عالمی رہنما غریب افریقی ممالک کی امداد 2010ء تک دگنی کرنے،تیل اور غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے اور 2050ء تک گرین ہاوس گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں پچاس فیصد کمی کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ۔ گزشتہ برس جی ایٹ اجلاس کے دوران گروپ میں شامل ممالک نے سن 2050ء تک کاربن اخراج میں پچاس فیصد کمی لانے اور سنجیدگی سے غور کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کاربن اخراج میں کمی کرنے کا اعلان پہلے جاپان کے وزیراعظم پاسوو¿فکودا نے جاپانی جزیرے ہوکائدو میں جاری اجلاس کے دوسرے دن کیا۔اس مشترکہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ جی ایٹ ممالک اس حوالے سے ماحولیاتی تبدیلی کے کنونشن پردستخط کرنے والے اقوام متحدہ کے دیگر دوسو رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ 2050ء تک گرین ہاو¿س گیسوں کے اخراج کو نصف کیا جاسکے۔ جاپانی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چین اور بھارت سے گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے تعاون کی اپیل کریں گے۔ کانفرنس میں شریک سربراہان نے حالیہ مہینوں میں تیل اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں شریک عالمی رہنما بایوفیول کے مسئلے پر بھی بحث کریں گے کیونکہ بایوفیول کے لئے فصلوں کی پیداوار کو عالمی پیمانے پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ جی ایٹ مما لک کو خوردونوش کی اشیاءکی قیمتوں پر کنٹرول اور ماحول کے تحفظ کیلئے مربوط کوششیں کرنا ہو نگی اور غریب ملکوں کے ساتھ امداد کے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔ امیر ممالک میں بایوفیول کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ اور ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے وہ بھوک کا شکار افراد کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ خوراک مہیاکریں۔ امریکا اور یورپی یونین میں مکئی اور بنولے سے تیار کئے جانے والے ایندھن کو خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اے پی ایس