ہنگو ۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ 29 سیکورٹی اہلکار طالبان کی تحویل میں ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائیگا ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک کی تنظیموں کو انتقامی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے مولوی عمر کا کہنا ہے کہ ہنگو میں جرگے کی مداخلت پر ہی سیکورٹی اہلکاروں کی لاشیں واپس کی گئی تھیں مولوی عمر کا کہنا ہے کہ ہنگو کے حوالے سے مقامی طالبابن کی تنظیم جو فیصلہ کرے گی وہ قبول ہو گا۔
International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Sunday, July 13, 2008
اعلان بھوربن کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کی جائے تو اس سے حکمران اتحاد مزید مضبوط ہو گا ،احسن اقبال
چکوال ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے اتوار کے روز بتایاکہ اگر اعلان بھوربن کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کی جائے تو اس سے حکمران اتحاد مزید مضبوط ہو گا مگر ججوں کی بحالی کے بغیروفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے وہ ناروال سے چکوال پریس کلب میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس آئینی پیکج کو منظور کروانے کیلئے سینٹ میں دو تہائی اکثریت موجود نہیں البتہ صدر مشرف کا مواخذہ کرنے کیلئے ہمارے پاس مکمل تعداد موجود ہے انہوں نے کہاکہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا عوامی مینڈیٹ بھی یہی ہے کہ معزول جج بحال کئے جائیں اور صدر کا مواخذہ کیاجائے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فیصلہ کرنا ہے آئینی پیکج کا معزول ججوں کی بحالی سے کئی تعلق نہیں ہونا چاہیے لہذٰا ہم انتظار میں ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت معزول ججوں کی بحالی کا دوٹوک فیصلہ کب کرتی ہے انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی لندن میں کوئی ملاقات متوقع نہیں اور اس ضمن میں ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقات جب بھی ہو پاکستان میں ہو انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) میاں نواز شریف کی قیادت میں پوری طرح سے متحد ہے اور معزول ججوں کی بحالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی انہو ںنے کہاکہ قوم میں مایوسی اور بے چینی ہے لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فیصلے کئے جائیں جس سے عوام کے مسائل حل ہوں اور ملک میں جمہوریت کو استحکام ہو کیونکہ صدر مشرف کی موجودگی میں یہ بات طے ہے کہ جمہوریت کو کبھی بھی استحکام نہیں آ سکتا
آئندہ چند دنوں میں حکمران اتحاد کے قائدین کے مشترکہ اجلاس کا امکان
اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن سے رابطوں کے نتیجہ میں آئندہ چند دنوں میں حکمران اتحاد کا مشترکہ اجلاس اور اتحاد کے قائدین کی وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ وزیراعظم نے اتوار کو ان رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اہم قومی امور کے بارے میں ان سے گفتگو کی وفاقی کابینہ میں ممکنہ توسیع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کے انتخابات پارلیمانی سیکرٹری کی تقرری کے بارے میں امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکمران اتحاد کے قائدین کو ملاقات کی دعوت دی ہے آئندہ چند دنوں میں اہم قومی ایشوز کے حوالے سے حکمران اتحاد کے اجلاس کا امکان ہے۔ نواز شریف نے وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری کے حوالے سے امور کے بارے میں چوہدری نثار علی خان کو نمائندہ نامزد کیا ہے وزیراعظم او رحکمران اتحاد کے قائدین کے درمیان ان رابطوں کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے مشترکہ جمہوری ایجنڈے میں پیشرفت پر اتفاق ہوا ہے وزیراعظم اور حکمران اتحاد کے قائدین نے سرحدی علاقوں میں امریکی اور نیٹو افواج کے میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے قائدین نے وزیراعظم کو عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے تعاون اور مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے
ڈیرہ اسماعیل خان ، شہداء کانفرنس کے اختتام پر خود کش حملہ ، حملہ آور ہلاک ٤ شرکاء زخمی
ڈیرہ اسماعیل خان ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کی جانب سے اتوار کو منعقدہ شہداء کانفرنس کے اختتام پر خود کش حملے میں حملہ آور ہلاک اور 4شرکاء شدید زخمی ہو گئے ہیں ۔ زخمیوں میں لال خان، ریاض حسین، محمد بلال اور محمد طارق شامل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق یہ خود کش حملہ شام ساڑھے چھ بجے کے قریب اس وقت ہوا جب کانفرنس کے اختتام پر شرکاء اپنے اپنے علاقوں کی طرف سے جارہے تھے کانفرنس کے دوران پولیس کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہونے والاہے تاہم خود کش حملہ آور سیکیورٹی کے تحت انتظامات ہونے کی وجہ سے کانفرنس میں تو داخل نہ ہو سکا تاہم اس نے اس کے اختتام پر ایک کوچ کے قریب جاکر دھماکے سے اڑا لیا اس کانفرنس کا مقصد ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا اس کانفرنس میں ملک بھر سے جید علماء ذاکرین اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اس کانفرنس میں ایم ایم اے کے نائب امیر علامہ ساجد نقوی نے بھی شرکت کی ۔ یہ کانفرنس اتوار کی صبح نو بجے شروع ہوئی اور ساڑھے چھ بجے شام تک جاری رہی اے آئی جی حاجی حبیب الرحمن نے ایک روز قبل سیکیورٹی کے انتظامات کا خود جائزہ لیا اور کانفرنس کے موقع پر ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان سارا دن خود بھی وہاں موجود رہے اور سیکیورٹی انتظامات کاجائزہ لیتے رہے
راولپنڈی یوم شہداء کشمیر کی تقریب ، ریاست جموں وکشمیر کے مقبوضہ حصے کو بھارت کے قبضہ سے آزاد کرانے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
راولپنڈی ۔ راولپنڈی میں کشمیر سنٹر کے زیر اہتمام یوم شہدائے کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تقریب میں منظور کی جانے والی قرار دادوں کے ذریعے جدوجہد آزادی میں مصروف کار کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاگیا اور ریاست جموں وکشمیر کے مقبوضہ حصے کو بھارت کے قبضہ سے آزاد کرانے تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا قرار داد میں تیرہ جولائی 1931ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ا کی جلائی ہوئی شمع آزادی کو نہ بھجنے دینے کا عزم ظاہر کیاگیا ایک اور قرار داد کے ذریعے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ ریاست سے فوجوں کے انخلاء مظالم کے خاتمے اور انسانی حقوق کی پامالی روکنے کیلئے اپنا کردار اداکریں اس تقریب کی صدارت کشمیر سنٹر راولپنڈی کے ڈائریکٹر سروس حسین گلگتی نے کی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما سید محمد یوسف نسیم ، مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ ، جموں وکشمیر یوتھ کونسل کے چیئرمین سردار ممتاز عباسی ، راجہ خان افسر خان ، سردار ساجد محمود ، ویمن کوآرڈی نیٹر شہناز میر ،شیخ محمد اقبال ، سردار عاصم عباسی اور عطاء الرحمن چوہان نے تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کشمیری عوام کا وکیل ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کشمیری عوام کو الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے دکھ درد سے لا تعلق نہیں رہ سکتے انہوں نے کہاکہ آزّادی کی جدوجہد میں مصروف کار اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے ممبر قومی اسمبلی نے تیرہ جولائی 1931 کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یقین ظاہر کیاکہ قربانیاں رنگ لائیں گی کشمیر کی آزادی کو اب زیادہ دیر تک دبایانہیں جا سکتا طارق فضل چوہدری نے کہاکہ الحاق پاکستان کی کامیابی تک مسلم لیگ (ن) کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ رہے گی ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے رہنما سید یوسف نسیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوم شہداء کشمیر کی تاریخی اور سیاسی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم عالمی اداروں کی بے حسی ، بھارتی فوج کے جبرو تشدد اور ہزاروں کی تعداد میں اجتماعی قبروں کی ریادت کے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تقریب سے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی راولپنڈی شاخ کے امیر عطاء الرحمن چوہان نے بھی خطاب کیا
پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پر جھنڈا لہرانے کے وعدے کو پورا کرے ۔اعتزازاحسن
اسلام آباد ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ان کے اور وزیراعظم کے چیف جسٹس ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ محترمہ شہید کے ان الفاظ کا پاس رکھے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز ضرور بحال ہوں گے چیف جسٹس کی بحالی پاکستان پیپلز پارٹی پر قرض ہے ججز کے ایشو کے حوالے سے موجودہ حکومت ٹھوکریں کھارہی ہے اسے چاہیے بے نظیر بھٹو کے اعلان کو پورا کرے اور چیف جسٹس کے گھر پر جھنڈا لہرائے گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ان کے گھر پر ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ پاکستان کے عوام جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس مانتے ہیں عبدالحمید ڈوگر کو عوام چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتے پیپلز لائرز فورم بے نظیر بھٹو شہید کے الفاظ کی پاسداری کرتے ہوئے عبدالحمید ڈوگر اپنے کنونشن میں نہ بلائے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے بھی کہا تھا کہ ایک وقت میں دو چیف جسٹس نہیں ہو سکتے وکلاء تحریک ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی جلد تمام ججز بحال ہوں گے پاکستان پیپلز پارٹی کو ججز کو بحال اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پاکستان کا جھنڈا لہرانا چاہیے کیونکہ بے نظیر نے کہاتھا جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی پاکستان کے چیف جسٹس ہیں اس ایشو پر موجودہ حکومت ٹھوکریں نہ کھائے اور پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی قائد کے بیان کی پاسداری کرے چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ لانگ مارچ کامیاب ہوئی ہے اس پر کسی کو اختلاف نہیں لوگ اس لانگ مارچ پر خوش ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد ججز کی بحالی تک جاری رہے گی انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جلد یورپ کا دورہ کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اٹھارہ جولائی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فیصلے ہوں گے اور پھر انیس تاریخ کو آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کے فیصلے ہوں گے انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ وکلاء تحریک کمزور پڑے گی تو وہ ذہن سے یہ خوش فہمی نکال دے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ججز کی بحالی کا مسئلہ ٹھنڈا پڑ جائے گا میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ججوں کی بحالی تک ٹھنڈانہیں پڑے گا سب ججز بحال ہوں گے۔گزشتہ روز پنجاب کے وکلاء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جوکوئی جج اب بھی حلف اٹھائے گا یا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری چھوڑ کر جائے گا وہ پی سی او کا جج کہلائے گا انہوں نے کہاکہ ججز جلد بحال ہوں گے اب تھوڑا راستہ باقی ہے وکلاء تحریک اپنی حکمت عملی سے دکھا دے گی کہ وہ کتنی فعال اور طاقتور تحریک ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت اس مسئلے سے ٹھوکریں کھارہی ہے انہوں نے کہاکہ افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس ہیں وہ جلد یورپ جائیں گے انہیں اس دورے کی یورپین پارلیمنٹ سے دعوت مل چکی ہے تاہم ان کے اس دورے کی تاریخ جلد طے پا جائے گی چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ میں امریکہ سے ہو کر آیا ہوں پاکستان سمیت پوری دنیا اس کو چیف جسٹس آف پاکستان مانتی ہے وہ ڈوگر کو کسی صورت نہیں مانتی ڈوگر لاڑکانہ جانا چاہتے ہیں جبکہ لاڑکانہ بار نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے انہیں بلایا ہی نہیں ہے ڈوگر سکھر بھی جانا چارہے ہیں مگر سکھر بار نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہم نے بھی انہیں نہیں بلایا ۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ جس کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے کرسی پر بٹھایا ہوا ہے جس کو عوام نہیں مانتے اس کو کتنی دیر روکیں گے اس سوال پر کہ پیپلز لائرز فورم عبدالحمید ڈوگر کو روکنا چاہتے ہیں اور ایک فنکشن پر بھی انہیں نہیں بلایاگیا جواب میں اعتزاز احسن نے کہاکہ انہیں بے نظیر کی روح کو روکنا چاہیے پیپلز لائرز فورم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس مقام پر میں اس وقت کھڑا ہوں اس جگہ پر شہید قائد نے کہا تھا کہ افتخار محمد چوہدری ان کے چیف جسٹس ہیں پاکستان کے چیف جسٹس ہیں یہ آواز پیپلز لائرز کے کانوں میں گھونجنی چاہیے بے نظیر نے کہاتھا کہ وہ خود آ کر چیف جسٹس کے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گی یہ پیپلز پارٹی اور پیپلز لائرز فورم پر قرض ہے کہ وہ اسے پورا کریں پیپلز لائرز فورم کو چاہیے کہ وہ اپنی قائد کے الفاظ کا پاس کریں اگر وہ پی پی پی کے ساتھ واقعتاً ہیں تو وہ اپنی قائد کو الفاظ کو یاد کریں میرے کانوں میں بے نظیر بھٹو کے یہ الفاظ تواتر کے ساتھ گھونجتے رہتے ہیں یہ بے نظیر بھٹو کی وصیت ہے وہ کہہ کر گئیں ہیں کہ افتخار محمد چوہدری ہی چیف جسٹس ہیں ان کے گھر پر جھنڈا لہرانا ہے پیپلز لائرز فورم کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے اور یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ایک وقت میں دو چیف جسٹس نہیں ہو سکتے اگر بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور ان کی زندگی میں تھے اسے وہ واضح کر کے گئی ہیں تو پھر ڈوگرپاکستان کا چیف جسٹس نہیں ہو سکتا ان کے وزیراعظم گیلانی اور شہید قائد نے بھی کہاہے یہ پیپلز لائرز فورم کو خیال کرنا چاہیے میری اپیل بھی پیپلز لائرز فورم والوں سے یہی ہے کہ وہ اپنی قائد کے قول کے مطابق ڈوگر کو کنونشن میں نہ بلائیں تاہم بلاتے ہیں ان کی مرضی ہے بحر حال انہیںنہیں بلانا چاہیے ۔ اگر وہ واقعی بے نظیہر بھٹو شہید کے پرو کار ہیں اگر بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار چوہدری ہیں تو پیپلزپارٹی کے وکلاء کے بھی افتخار چوہدری ہی چیف جسٹس ہیں انہوں نے توقع کی کہ پیپلز لائرز فورم کے وکلاء ہمارے ساتھ رہیں گے اور بے نظیر کے ان اقوال کو فراموش نہیں کریں گے
وعدے پورے نہ کرنے پر ن لیگ مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ جاوید ہاشمی
آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں
لاہور۔ مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے اگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو نون لیگ اپنی مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں متحدہ مسلم موومنٹ کے زیراہتمام آل پارٹیز ملک بچاؤ کانفریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججز کی بحالی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر پیپلز پارٹی کا گراف عوام میں کم ہو رہا ہے اور عوام نون لیگ کے بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ وہ ایسی مخلوط حکومت کا حصہ کیوں ہیں۔ لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی۔
لاہور۔ مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے اگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو نون لیگ اپنی مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں متحدہ مسلم موومنٹ کے زیراہتمام آل پارٹیز ملک بچاؤ کانفریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججز کی بحالی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر پیپلز پارٹی کا گراف عوام میں کم ہو رہا ہے اور عوام نون لیگ کے بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ وہ ایسی مخلوط حکومت کا حصہ کیوں ہیں۔ لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی۔
اگر امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا تو اعلان جنگ کیا جائے گا،قاضی حسین احمد
پشاور ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان میں مداخلت کی یا کوئی کاروائی کی تو اعلان جنگ ہو گا اور پاکستان کا بچہ بچہ امریکہ کے خلاف جنگ لڑے گا ۔وہ میرہ کچوڑی میں دستاربندی کی تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے لئے ناسور سے کم نہیں اور حکومت کو پاکستان سے اتحاد ختم کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے بات چیت کی جائے اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق اور افغانستان سے نکل جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کی غیرت پر حملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی ملک کی آزادی اور سالمیت کے لئے ضروری ہے اگر کسی نے اس کو نقصان پہنچایا تو تمام سیاسی اور دینی جماعتیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ملک خطرات سے دوچار ہے ۔بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پشاور پر طالبان قبضہ کریں گے مغربی میڈیا منفی پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنٹ دشمنوں سے مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔
پاکستانی سرحدی علاقے میں افغانستان سے ٢ میزائل فائر
وانا ۔ پاکستان کے سرحد ی علاقے انگور اڈہ پر افغانستان سے فائر کئے گئے دو میزائل آگرے جبکہ افغان صوبے ارزگان میں خودکش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد ہلاک ہو گئیاورلوگر سے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی کو اغوا کر لیا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ پر افغان فوج نے دو میزائل فائر کئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں اسی علاقے پر اتحادی فوج کے حملے میں آٹھ سیکورٹی اہلکار اور دو مقامی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ قمر سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے امریکی فوج کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان صوبہ ارزگان کے ضلع دہیہ رعود کے ایک بازار میں افغان اور اتحادی سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور بیس راہگیر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ حملے میں 37 راہگیر اور پانچ پولیس اہلکا ربھی زخمی ہوئے۔ حکام نے واقعے تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب صوبہ کنڑ میں اتحادی فو ج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں۔ جھڑپ میں اتحادی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صوبہ زابل میں پولیس گاڑی کو نشانہ بناکر سڑک پر بم دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں تین پولیس افسران مارے گئے۔ صوبہ بغلان میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا اتحادی فوجی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گیا۔ نورستان افغان سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں چار طالبان کو ہلاک کردیا۔ صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دوسری جانب لوگر سے نامعلوم مسلح افراد نے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی احمد زئی کو اغوا کر لیا ۔ابھی تک کسی گروپ نے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ضلع ہرنائی میں طوفانی بارش و سیلاب نے تباہی مچادی درجنوں کچے مکانات مہندم سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے
ہرنائی ۔ ضلع ہرنائی میں طوفانی بارش و سیلاب نے تباہی مچادی درجنوں کچے مکانات مہندم سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور کئی حفاظتی بندات ٹوٹ گئے ہزاروں گھرسیلاب کی زد میں ہے دوبارہ بارش اور سیلاب آنے کی صورت میں ہزاروں خاندان کا تباہ ہونے کا خدشہ ہے جسکی وجہ سے اکثر لوگوں نے اپنے گھروں کو خالی کرکے رات محفوظ مکامات پر گزاری شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے علاقے میں خوف کی فضاء ہے ندی نالوں میںشدید طغیانی آنے کی وجہ سے ہرنائی کوئٹہ روڈ اور ہرنائی سنجاوی روڈ مکمل طور پر بند ہے تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شب ہرنائی میں ہونے والے بارش و سیلاب نے تباہی مچادی ہے کلی زرمانہ ،کلی سیان،کلی ترو،کلی غڑمی ،کلی سرکان ،سید آباد،کلی لعل خان،کلی میرزا محلہ غیریب آباد ،اندڑ آباد ،جلال آباد،و گردونواح میں سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئی ہے اور درجنوں کچے مکانات منہدم ہوچکے ہے اور ایک شخص دیوار گرنے سے شدید زخمی ہوا ہے ضلع ہرنائی سیلاب اور بارش سے ہونے والے تباہی پر صوبائی ضلعی حکومت کی طرف خاموشی پر ہرنائی سیا سی رہنماؤں ،پشتونخوامیپ کے صوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال،یونین کونسل صدر ہرنائی کے ناظم مولوی عبدالحنان،پشتونخوامیپ کے رہنماء سید غفور شاہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے انہوں نے کہاکہ ہرنائی ضلع میں کسی بھی محکمہ کا کوئی زمیدار آفیسر موجود نہیں انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور بارش اور سیلاب سے ہونے والے تباہی کو مذید روکنے کیلئے اقدامات کریں ،ضلعی رابطہ آفیسر صدیق مندوخیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم تمام محکموں کے آفیسران کو الر ٹ کیا ہے اور متاثرین کے نقصانات کا جائز ہ لینے کیلئے ریونیو کے ٹیمیں روانہ کئے ہے صوبائی وزیر جیل خانہ جات ملک سلطان ترین نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعلیٰ صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر ہرنائی میں بارش اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات کریگی
جنوبی افغانستان میں خودکش حملے میں ٥ پولیس اہلکاروں سمیت ٢٤ افراد ہلاک ، ٣٠ زخمی
وانا+ کابل۔ پاکستان کے سرحد ی علاقے انگور اڈہ پر افغانستان سے فائر کئے گئے دو میزائل آگرے جبکہ افغان صوبے ارزگان میںسیکورٹی فورسز کے حملوں اور خودکش بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت73 افراد ہلاک 38 زخمی ہو گئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں 42 طالبان 24 شہری 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ادھر لوگر سے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی کو اغوا کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطامبق جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ پر افغان فوج نے دو میزائل فائر کئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں اسی علاقے پر اتحادی فوج کے حملے میں آٹھ سیکورٹی اہلکار اور دو مقامی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ قمر سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے امریکی فوج کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان صوبہ ارزگان کے ضلع دہیہ رعود کے ایک بازار میں افغان اور اتحادی سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور20 راہگیر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ حملے میں 37 راہگیر اور ایکپولیس اہلکا ربھی زخمی ہوئے۔ایک دوسرے واقعے میں طالبان نے صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیاحکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب صوبہ کنڑ میں اتحادی فو ج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں۔جس میں سیکورٹی فورسز نے40 کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دیگر دو طالبان ایک دوسرے واقعے میں مارے گئے ہیں اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں اتحادی افواج کوبھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صوبہ زابل میں پولیس گاڑی کو نشانہ بناکر سڑک پر بم دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 3پولیس افسران مارے گئے۔ صوبہ بغلان میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا اتحادی فوجی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گیا۔ نورستان افغان سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں 4 طالبان کو ہلاک کردیا۔ صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دوسری جانب لوگر سے نامعلوم مسلح افراد نے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی احمد زئی کو اغوا کر لیا ۔ابھی تک کسی گروپ نے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ہنگو ، طالبان نے ٥٠ افراد کو یرغمال بنا لیا ، یرغمالیوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار، قومی بچت و مقامی بینک کے اہلکار شامل
خیریت سے ہیں تاہم حکومت سے درخواست ہے طالبان کے ساتھیوں کو رہا کر دےیرغمالیوں کی ٹیلی فون پر برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو
ہنگو ۔ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکومت کے ساتھ جاری تصادم میں مقامی طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید کئی ’سرکاری افراد‘ کو یرغمال بنایا ہے جس سے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہوگئی ہے۔مقامی طالبان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیع فون پر ان میں سے تین یرغمالیوں کی برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کروائی ہے۔ ان میں سے ایک فرنٹئر کور کا صوبیدار، قومی بچت ادارے کا ایک کیشئر اور ایک نیشنل بنک کا اہلکار شامل ہیں۔ اورکزئی اور ہنگو میں سرگرم مقامی طالبان نے دوآبہ کے مقام پر ایک تھانے پر پولیس قبضے کے دوران تقریباً پچیس افراد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان کے تازہ دعوے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز زرگری کے مقام پر نیم فوجی ملیشیا کے ایک قافلے پر حملے کے بعد اس تعداد کو دوگنا کر دیا ہے۔ مقامی طالبان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے دو روز قبل ایک اخباری کانفرنس میں سپاہیوں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بھی ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ مقامی طالبان نے زرگری کے مقام پر ہوئی جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے میں دو سرکاری گاڑیاں بھی آئی ہیں۔ پاکستان میں مقامی طالبان کی جانب سے جاری کارروائیوں میں یہ پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اب سویلین سرکاری اداروں سے منسلک اہلکاروں کو بھی یرغمال بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل کبھی کبھار سرکاری اہلکار یرغمال بنائے گئے لیکن پھر انہیں جلد رہا کر دیا جاتا رہا ہے۔ مقامی طالبان کی موجودگی میں برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرنے والے قومی بچت کے ایک کیشئر امین جان نے بتایا کہ وہ ایک عام مسافر گاڑی فلائینگ کوچ میں کوہاٹ سے صدہ سرکاری سامان لے جا رہا تھا کہ راستے میں طالبان نے انہیں روک کر ان سے ان کا شناختی اورمحکمے کے کارڈز لے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرکاری نوکری کے چوبیس سال پورے ہوچکے ہیں اور اب مقامی طالبان سے ملنے کے بعد ان کی خواہش ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ باقی زندگی انہیں کے ساتھ گزاریں۔ ’ہمارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرتا ہے، نہ مارتا ہے۔ ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بندے حکومت چھوڑ دے جس کے بعد ہم جا سکیں گے‘۔ امین جان کا کہنا تھا کہ ابتداء میں اس کے ساتھ پانچ افراد تھے لیکن اب یرغمالیوں کی تعداد لگ بھگ پچاس ہوگئی ہے۔ ’یہ لوگ مختلف محکموں کے ہیں ۔ کسی کا تعلق ملیشیا فورس سے ہے،کسی کا بنک سے تعلق ہے اور کوئی واپڈا اور سی اینڈ ڈبلیو سے وابستہ ہیں۔ جگہ کم ہے اس لیے ان سب کو مختلف جگہوں پر رکھا ہوا ہے۔ طالبان کی موجودگی میں اٰمین جان نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔ان کا کہنا ہے کہ’یہ امیر صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ میں کسی دباؤ میں نہیں ہوں۔ بس طالبان درست ہیں یہ حکومت بالکل زیرو ہے۔ اپنے آپ کو فرنٹئر کور کا صوبیدار ظاہر کرنے والے ایک شخص شعیب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع مردان میں کاٹلانگ سے تعلق رکھتا ہے اور چھٹی پر گھر جا رہا تھا کہ طالبان نے پکڑ لیا۔ اس نے بھی کسی بدسلوکی کی شکایت نہیں کی البتہ اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کے ان کے ساتھی چھوڑنے پر وہ بھی رہا کر دیئے جائیںگے۔ ایک تیسرے یرغمال شخص صوبہ سرحد کے ضلع کرک کے محمد خورشید تھے جن کا تعلق نیشنل بنک کی صدہ شاخ سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’میری فکر نہ کریں میں اچھا ہوں بس حکومت ان طالبان سے مذاکرات کرے‘۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان یرغمالیوں کی باتوں سے کوئی تناؤ ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ جہاں سے وہ ٹیلیفون کر رہے تھے وہاں کا ماحول بھی خوشگوار معلوم ہوتا تھا۔ مقامی طالبان ان کی باتوں سے محضوض ہوتے معلوم ہوتے تھے۔ ایک مقامی طالبان رہنما نے بتایا کہ جرگے کے ذریعے حکومت سیان کے رابطے جاری ہیں۔ یہ شدت پسند حکومت سے دوآبہ کے مقام پرگرفتار ہونے والے ان کے چار ساتھیوں جن میں سے ایک سرکردہ رہنما رفیع الدین بھی شامل ہیں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سرحد حکومت کے وزیر اطلاعات افتخار حسین نے شدت پسندوں پر واضح کیا تھا کہ یرغمالیوں کو کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار مقامی طالبان کو قرار دیا جائے گا۔
ہنگو ۔ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکومت کے ساتھ جاری تصادم میں مقامی طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید کئی ’سرکاری افراد‘ کو یرغمال بنایا ہے جس سے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہوگئی ہے۔مقامی طالبان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیع فون پر ان میں سے تین یرغمالیوں کی برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کروائی ہے۔ ان میں سے ایک فرنٹئر کور کا صوبیدار، قومی بچت ادارے کا ایک کیشئر اور ایک نیشنل بنک کا اہلکار شامل ہیں۔ اورکزئی اور ہنگو میں سرگرم مقامی طالبان نے دوآبہ کے مقام پر ایک تھانے پر پولیس قبضے کے دوران تقریباً پچیس افراد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان کے تازہ دعوے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز زرگری کے مقام پر نیم فوجی ملیشیا کے ایک قافلے پر حملے کے بعد اس تعداد کو دوگنا کر دیا ہے۔ مقامی طالبان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے دو روز قبل ایک اخباری کانفرنس میں سپاہیوں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بھی ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ مقامی طالبان نے زرگری کے مقام پر ہوئی جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے میں دو سرکاری گاڑیاں بھی آئی ہیں۔ پاکستان میں مقامی طالبان کی جانب سے جاری کارروائیوں میں یہ پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اب سویلین سرکاری اداروں سے منسلک اہلکاروں کو بھی یرغمال بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل کبھی کبھار سرکاری اہلکار یرغمال بنائے گئے لیکن پھر انہیں جلد رہا کر دیا جاتا رہا ہے۔ مقامی طالبان کی موجودگی میں برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرنے والے قومی بچت کے ایک کیشئر امین جان نے بتایا کہ وہ ایک عام مسافر گاڑی فلائینگ کوچ میں کوہاٹ سے صدہ سرکاری سامان لے جا رہا تھا کہ راستے میں طالبان نے انہیں روک کر ان سے ان کا شناختی اورمحکمے کے کارڈز لے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرکاری نوکری کے چوبیس سال پورے ہوچکے ہیں اور اب مقامی طالبان سے ملنے کے بعد ان کی خواہش ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ باقی زندگی انہیں کے ساتھ گزاریں۔ ’ہمارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرتا ہے، نہ مارتا ہے۔ ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بندے حکومت چھوڑ دے جس کے بعد ہم جا سکیں گے‘۔ امین جان کا کہنا تھا کہ ابتداء میں اس کے ساتھ پانچ افراد تھے لیکن اب یرغمالیوں کی تعداد لگ بھگ پچاس ہوگئی ہے۔ ’یہ لوگ مختلف محکموں کے ہیں ۔ کسی کا تعلق ملیشیا فورس سے ہے،کسی کا بنک سے تعلق ہے اور کوئی واپڈا اور سی اینڈ ڈبلیو سے وابستہ ہیں۔ جگہ کم ہے اس لیے ان سب کو مختلف جگہوں پر رکھا ہوا ہے۔ طالبان کی موجودگی میں اٰمین جان نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔ان کا کہنا ہے کہ’یہ امیر صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ میں کسی دباؤ میں نہیں ہوں۔ بس طالبان درست ہیں یہ حکومت بالکل زیرو ہے۔ اپنے آپ کو فرنٹئر کور کا صوبیدار ظاہر کرنے والے ایک شخص شعیب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع مردان میں کاٹلانگ سے تعلق رکھتا ہے اور چھٹی پر گھر جا رہا تھا کہ طالبان نے پکڑ لیا۔ اس نے بھی کسی بدسلوکی کی شکایت نہیں کی البتہ اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کے ان کے ساتھی چھوڑنے پر وہ بھی رہا کر دیئے جائیںگے۔ ایک تیسرے یرغمال شخص صوبہ سرحد کے ضلع کرک کے محمد خورشید تھے جن کا تعلق نیشنل بنک کی صدہ شاخ سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’میری فکر نہ کریں میں اچھا ہوں بس حکومت ان طالبان سے مذاکرات کرے‘۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان یرغمالیوں کی باتوں سے کوئی تناؤ ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ جہاں سے وہ ٹیلیفون کر رہے تھے وہاں کا ماحول بھی خوشگوار معلوم ہوتا تھا۔ مقامی طالبان ان کی باتوں سے محضوض ہوتے معلوم ہوتے تھے۔ ایک مقامی طالبان رہنما نے بتایا کہ جرگے کے ذریعے حکومت سیان کے رابطے جاری ہیں۔ یہ شدت پسند حکومت سے دوآبہ کے مقام پرگرفتار ہونے والے ان کے چار ساتھیوں جن میں سے ایک سرکردہ رہنما رفیع الدین بھی شامل ہیں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سرحد حکومت کے وزیر اطلاعات افتخار حسین نے شدت پسندوں پر واضح کیا تھا کہ یرغمالیوں کو کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار مقامی طالبان کو قرار دیا جائے گا۔
پاکستان خود مختار اور آزاد ملک ہے اس پر کسی کو حملے کی اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم
کوئی بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں،کسی کو فکر مند نہیں ہونا چاہیےمٹھی بھر عناصر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں،اگر ہم دہشت گردی میں ملوث رہیں گے تو دنیا ہم پر ہنسے گیصوبوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے،کابینہ میں توسیع کا مقصد حکومتی امور کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش ہےطالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق گورنر اور وزیراعلیٰ سرحد جو حکمت عملی اپنائیں گے انہیں اجازت ہو گی،پشاور میں میڈیا سے بات چیت
پشاو ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے کسی کو اس پر حملہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی ہم کسی کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت دیں گے ۔ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اگر ہم دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے تو دنیا ہمیں کیا کہے گی ۔ہمیں ذمہ دارشہریوں کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ہمارے لئے یہ خطہ انتہائی اہم ہے ۔وہ وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی والدہ کی وفات پر فاتحہ کے بعد بلور ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمدغنی،وزیراعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی،وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور سینٹر بابر اعوان بھی موجود تھے ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں اس بات کا نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان پر کوئی حملہ کرے گا کیونکہ ہم اپنے ملک کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور پاکستانیوں کو ان پر حملے کے لئے فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم خود مختار اور آزاد ملک ہیں اور پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مٹھی بھر چند عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کی عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان مٹھی بھر عناصر کو سمجھائیں کہ وہ ملک کی ترقی کا سوچیں اور ملک کے نقصان کا نہ سوچیں۔صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن بڑھنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیراعلیٰ جو بھی حکمت عملی طے کریں گے اور وہ ان کی حکمت عملی کا ساتھ دیں گے ۔وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ وفاقی کابینہ کے ورزاء پر کوئی عدم اعتماد نہیں تاہم کابینہ میں توسیع کی جا رہی ہے جب ہم نے کابینہ بنائی تھی تو وہ انتہائی مختصر تھی اور ہم مختصر کابینہ کے ساتھ حکومت چلا رہے تھے ہمارے اتحادی مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف نے اپنے وزراء کو مستعفی کرایا مگر انہوں نے یہ استعفیٰ منظور نہیں کیا اب ہمیں مجبوراً کابینہ میں توسیع کرنا پڑ رہی ہے ۔نئے وزراء کابینہ میں شامل کئے جائیں گے تاکہ ملکی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹری سیکرٹری بنانے ہیں اور ہمیں سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل کرنی ہے وہ بھی مشاورت سے ہوگی۔طالبان کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام جو چاہیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہم کسی اور کی بات نہیں مانیں گے کیونکہ ہماری حکومت عوامی ہے اور ہم عوام کے ساتھ ہیں ۔امریکی فوجی جرنیل مولن کی پاکستان آمد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات ہیں امریکہ کے ساتھ نہ صرف ہمارا دفاعی بلکہ اقتصادی ،تعلیمی ،صحت ،دفاع اور مختلف مدوں میں تعاون ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔صوبہ سرحد میں آٹے کے بحران سے متعلق وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اس اجلاس میں تمام صوبوں کے مسائل پر بحث ہوگی اور ان کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبوں کی مشکلات کا احساس ہے اور آئندہ کے اجلا س میں اس پر غور و خوص کیا جائے گا ۔ہنگو میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بارے میں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے اہلکار جس جوانمردی ،ہمت اور سروں پر کفن باندھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں اس پر وہ انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کبھی ہتھیار نہیں پھینکے اور نہ ہی وہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ کرتے ہیں وہ ملک کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو صوبائی خود مختاری دینے اور انہیں ان کے حقوق دینے میں مخلص ہے اور صوبہ سرحد کا بجلی کے خالص منافعے کی مد میں جو حق بنتا ہے وہ اسے دلایا جائے گا۔وزیراعظم نے سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب وہ سو دن کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے تو وہ اس موقع پر اہم اعلانات کریں گے صوبہ سرحد کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گورنر سرحد اور وزیراعلیٰ سرحد اس صوبے کے نمائندے ہیں اور صوبے میں اتحادی جماعت کی حکومت ہے اس لئے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ۔
پشاو ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے کسی کو اس پر حملہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی ہم کسی کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت دیں گے ۔ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اگر ہم دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے تو دنیا ہمیں کیا کہے گی ۔ہمیں ذمہ دارشہریوں کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ہمارے لئے یہ خطہ انتہائی اہم ہے ۔وہ وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی والدہ کی وفات پر فاتحہ کے بعد بلور ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمدغنی،وزیراعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی،وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور سینٹر بابر اعوان بھی موجود تھے ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں اس بات کا نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان پر کوئی حملہ کرے گا کیونکہ ہم اپنے ملک کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور پاکستانیوں کو ان پر حملے کے لئے فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم خود مختار اور آزاد ملک ہیں اور پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مٹھی بھر چند عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کی عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان مٹھی بھر عناصر کو سمجھائیں کہ وہ ملک کی ترقی کا سوچیں اور ملک کے نقصان کا نہ سوچیں۔صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن بڑھنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیراعلیٰ جو بھی حکمت عملی طے کریں گے اور وہ ان کی حکمت عملی کا ساتھ دیں گے ۔وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ وفاقی کابینہ کے ورزاء پر کوئی عدم اعتماد نہیں تاہم کابینہ میں توسیع کی جا رہی ہے جب ہم نے کابینہ بنائی تھی تو وہ انتہائی مختصر تھی اور ہم مختصر کابینہ کے ساتھ حکومت چلا رہے تھے ہمارے اتحادی مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف نے اپنے وزراء کو مستعفی کرایا مگر انہوں نے یہ استعفیٰ منظور نہیں کیا اب ہمیں مجبوراً کابینہ میں توسیع کرنا پڑ رہی ہے ۔نئے وزراء کابینہ میں شامل کئے جائیں گے تاکہ ملکی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹری سیکرٹری بنانے ہیں اور ہمیں سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل کرنی ہے وہ بھی مشاورت سے ہوگی۔طالبان کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام جو چاہیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہم کسی اور کی بات نہیں مانیں گے کیونکہ ہماری حکومت عوامی ہے اور ہم عوام کے ساتھ ہیں ۔امریکی فوجی جرنیل مولن کی پاکستان آمد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات ہیں امریکہ کے ساتھ نہ صرف ہمارا دفاعی بلکہ اقتصادی ،تعلیمی ،صحت ،دفاع اور مختلف مدوں میں تعاون ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔صوبہ سرحد میں آٹے کے بحران سے متعلق وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اس اجلاس میں تمام صوبوں کے مسائل پر بحث ہوگی اور ان کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبوں کی مشکلات کا احساس ہے اور آئندہ کے اجلا س میں اس پر غور و خوص کیا جائے گا ۔ہنگو میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بارے میں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے اہلکار جس جوانمردی ،ہمت اور سروں پر کفن باندھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں اس پر وہ انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کبھی ہتھیار نہیں پھینکے اور نہ ہی وہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ کرتے ہیں وہ ملک کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو صوبائی خود مختاری دینے اور انہیں ان کے حقوق دینے میں مخلص ہے اور صوبہ سرحد کا بجلی کے خالص منافعے کی مد میں جو حق بنتا ہے وہ اسے دلایا جائے گا۔وزیراعظم نے سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب وہ سو دن کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے تو وہ اس موقع پر اہم اعلانات کریں گے صوبہ سرحد کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گورنر سرحد اور وزیراعلیٰ سرحد اس صوبے کے نمائندے ہیں اور صوبے میں اتحادی جماعت کی حکومت ہے اس لئے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ۔
نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور اس کی توسیع میں شرکت سے صاف انکار کر دیا
لندن میں چوہدری نثار علی خان سے اہم ملاقات ۔ ۔ ۔ مختلف ایشوز پر مشاورت
لندن ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور اس کی توسیع میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔میاں محمد نواز شریف نے واضح کیاہے کہ ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ لندن میں آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے میاں محمد نوازشریف سے اہم ملاقات کی ۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال ججز کے ایشو ،پارٹی امور اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح کیاہے کہ وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری کے امور کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی قائم نہیں کی گئی ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم کو آگاہ کر دیاگیا ہے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی نا ممکن ہے ججز کی بحالی کیلئے تو وفاقی کابینہ سے الگ ہوئے تھے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں کیسے جا سکتے ہیں اپنے فیصلے پر قائم ہیں اس حوالے سے قوم سے جو وعدہ کیاہوا ہے اس عہد کو نبھائیں گے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دوٹوک الفاظ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آگاہ کر دیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں واپسی ججز کی بحالی سے مشروط ہے۔
لندن ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور اس کی توسیع میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔میاں محمد نواز شریف نے واضح کیاہے کہ ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ لندن میں آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے میاں محمد نوازشریف سے اہم ملاقات کی ۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال ججز کے ایشو ،پارٹی امور اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح کیاہے کہ وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری کے امور کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی قائم نہیں کی گئی ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم کو آگاہ کر دیاگیا ہے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی نا ممکن ہے ججز کی بحالی کیلئے تو وفاقی کابینہ سے الگ ہوئے تھے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں کیسے جا سکتے ہیں اپنے فیصلے پر قائم ہیں اس حوالے سے قوم سے جو وعدہ کیاہوا ہے اس عہد کو نبھائیں گے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دوٹوک الفاظ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آگاہ کر دیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں واپسی ججز کی بحالی سے مشروط ہے۔
ایٹمی ڈیل ملک کی سلامتی کو خطرہ نہیں ۔ بھارتی اٹامک انرجی کمیشن
نئی دہلی۔ بھارت کے اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ انل کاکودکر کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق جوہری توانائی کے بین لااقوامی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمنٹ سے ملک کے سٹرٹیجک پروگرام پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انل کاکودر کے مطابق جوہری معاہدے سے ملک کے مفاد کو خطرہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے ہفتہ کو کہا تھا کہ اس سمجھوتے کے مسودے میں بھارت کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمینٹ مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے لیے لازمی ہے۔ واضح رہے کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ پر پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے پس منظر میں مرکزی حکومت نے اپنے بعض اعلی افسروں کو میدان میں اتار دیا ہے۔ ہفتہ کے روز و قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن، خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اور ایٹامک اینرجی کمیشن کے چیئرمین انل کاکودکر اور ویانا میں آئی اے ای اے سے ہندوستان کے اہم مذاکرات کار ڈاکٹر روی گرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ ان افسران نے صحافیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ معاہدہ کس طرح بھارت کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ میں ری ایکٹروں کے لیے بلا رکاوٹ ایندھن کی فراہمی کی گارنٹی ہے۔ افسروں کے مطابق سیف گارڈ ایگریمنٹ بھارت کے حق میں ہے اور اس میں جوہری دھماکہ کرنے پر روک لگانے یا نہیں لگانے پر کوئی بحث نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے 123 معاہدے میں بھی جوہری دھماکہ کرنے کا ذکر نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں سمجھوتے سے ہٹنے کی بات ہے۔ واضح رہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سوال پر حکومت سے بایاں محاذ الگ ہو چکا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری دھماکہ کرنے کا مجاز نہیں رہے گا۔
جنوبی افغانستان میں خودکش حملے میں ٥ پولیس اہلکاروں سمیت ٢٤ افراد ہلاک ، ٣٠ زخمی
کابل ۔ ۔ افغانستان کے جنوبی صوبہ ارزگان میں خودکش حملے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔ اتوار کو صوبائی پولیس سربراہ جمعہ گل ہمت نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے صوبہ ارزگان کے ضلع دیہرود کی مصروف مارکیٹ میں بارود سے بھری گاڑی پولیس قافلے سے ٹکرا دی۔ خودکش حملے میں 5 پولیس اہلکار اور 19 شہری ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوگئے۔ خودکش حملے کے وقت مارکیٹ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی
گزشتہ آٹھ سالوں کی تباہی کا رونا رونے کی بجائے عملی طور پر کام کرکے دکھائیں گے۔ شہبازشریف
لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا مذہب اسلام لوگوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کا درس دیتا ہے ۔ یہ اسلامی تعلیم نہیں کہ غریب کسمپرسی کی حالت میں ہوں اور امیر محلوں میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکمے ایمانداری اور لگن سے کام کریں اور عوام کے مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دیں۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت عوامی خدمت کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اراکین اسمبلی اورمسلم لیگی کارکن اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں اور قومی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی نے صوبائی حلقہ پی پی 153 میں ترقیاتی کاموں کے لئے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ وزیراعلی نے ہفتہ کے روز موسلادھار بارش کی وجہ سے نکاسی آب کی پیدا ہونے والی صورتحال پر واسا اور ایل ڈی اے حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میںعوام کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے گئے اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوا ۔ اگر متعلقہ محکمے موسم برسات شروع ہونے سے قبل تمام ضروری انتظامات کرلیتے تو عوام کو اس مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ایسا ہوا تو ان افسران کو محکموں میں برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اب کام کرنے اور عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت ہے اگر سرکاری افسران جذبے اور لگن سے کام کریں گے تو ہمارے سر کے تاج ہیں اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دیں گے تو انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سالوں میں ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا جس سے آج ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا جانے سابقہ حکومت نے کہاں پیسہ لگایا ۔ اب گزشتہ آٹھ سالوں کی تباہی کا رونا رونے کی بجائے عملی طور پر کام کرنے کا وقت ہے اور ہم انشاء اللہ کام کرکے دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلی نہیں بلکہ عوام کا خادم بن کر صوبے کے عوام کی خدمت کررہا ہوں ۔ میاں محمد شہباز شریف نے لاہور میں صفائی کی ناقص صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی کے نظام کو ہر حال میں بہتر کیا جائے گا۔ مجھے گزشتہ روز بارش کے بعد شہر میں نکاسی آب کی صورتحال اور عوام کی پریشانی دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس بات پر افسوس بھی ہوا کہ متعلقہ محکمے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار نہ تھے ۔انہوں نے کہا کہ لیگی کارکن اپنے محلوں میں ڈیوٹیاں دیں اور قومی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر مسلم لیگی کارکنوں نے اپنے حلقوں سے متعلقہ درپیش مسائل سے وزیراعلی کو آگاہ کیا۔ وزیراعلی نے چونگی امرسدھو کوٹ لکھپت کے علاقے میں سٹریٹ لائٹ کو فوری طور پر چالو کرنے اور قبرستان کے لئے جگہ کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے علاقے میں گرلز کالج کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
مسلم لیگ (ق) کا صدر مشرف کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک کی بھرپور مخالفت کرنے کا اعلان
اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک کی بھرپور مزاحمت اور مخالفت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بیرونی مداخلت ، سرحدی علاقوں میں نیٹو فورسز کے حملوں ، بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے ، حکومت کی سو روزہ کارکردگی اور اپوزیشن کے خلاف حکومت کی ا نتقامی کارروائیوں کے حوالے سے چار الگ الگ مذمتی قرار دادیں منظور کرلی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتوار کے روز اسلام آباد میں پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین، سید مشاہد حسین اور چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو مسلم لیگ(ق) ا ور اس کی اتحادی جماعتوں نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے ۔ حکمران اتحاد ان کے خلاف اصولی نہیں بلکہ ذاتی مخالفت اور مفاد کی خاطر مواخذے کی بات کررہا ہے۔ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی گئی تو پاکستان مسلم لیگ(ق) اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اجلاس میں سارے امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ملک کے حالات انتہائی مخدوش اور خطرناک ہے ۔ صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کی صور تحال افسوسناک ہے ۔ بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک صورت حال کی کوئی نوٹس نہیںلیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو پروا ہ ہوتی تو وہ ناکام ہو جاتی تو ہم یہ ضرور کہتے کہ چلیں کوشش تو کی گئی تھی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمران اتحاد ذاتی مفادات کی طرف گامزن ہے ۔ مشاہد حسین سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں 40 سے زائد رہنماؤںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اجلاس میں سرحدی علاقوں میں امریکی حملوں میں جاں بحق سویلین و فوجیوں کے دعائے مغفرت ، اسی طرح ڈاکٹر ارباب غلام رحیم ، حاجی غلام احمد بلور ، اسفند یار ولی خان اور طارق عظیم کے ساتھ ان کے رشتہ اداروں کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں چار قراردادیں منظور کی گئیں پہلی قرار داد میں بڑھتی وئی بیرونی مداخلت ، امریکہ ونیٹو فورسز کے حملوں کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) بیرونی مداخلت اور ان حملوں کے خلاف سینٹ و قومی اسمبلی میں قرا ردادیں جمع کرائیں گی ۔ دوسری قرار داد میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے کی مذمت کی گئی ہے ۔ یہ آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے ۔ نیا پنگا لیا گیا ہے ۔ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کمزور ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت نے سو دنوں میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے ۔ حکومت کوچا ہیے تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی ، اقتصادی وسائل کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ، اسی طرح سیاسی انتقام کے حوالے سے حکومتی کارروائیوں کے خلاف بھی مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں ۔ خصوصا سندھ اور بلوچستان میں انتقامی کارروائیوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا سلسلہ عروج پر ہے جو آمرانہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے ۔ ٹھٹہ میں مسلم لیگ(ق) کے تین کارکنوںکو شہید کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی قرار داد قومی مفاہمت کے حوالے سے منظور کی گئی ہے ۔ جس میںکہا گیا ہے کہ قومی مفاہمت کے لیے حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اس ایشو سیکورٹی و سلامتی ، دہشت گردی کے حوالے سے قومی اتفاق رائے کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرے ۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے بھارتی حکام کے ان بیانات جس میں کابل خود کش حملے کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ہے کی مذمت کی ہے ۔ اور ان بیانات کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرزئی ، نیٹو یا امریکہ کوئی بھی ہو پاکستا ن کو میلی آنکھ نہیں دیکھ سکتا ۔ حکومت نے اس ایشو پر معذرت خوانہ رویہ اختیار کررکھا ہے بلکہ قومی سلامتی کے ان ایشوز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرکے پاکستان کی ایجنسیوں اور اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ان ایشوز کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف اپنا متحرک اور فعال کردار ادا جاری رکھے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت رہے یا نہ رہے یا وہ کمزور ہو ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اپوزیشن میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو دن دیہاڑے سرحد ی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ بیرونی مداخلت کو نئی حکومت خود دعوت دے رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ججوں کے ایشو کو لیگل کمیٹی دیکھ رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ قومی مفاہمت کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس پنجاب میں آدھی جمہوریت ہے ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہوئی ہے ہمارے دور میں صوبائی کابینہ کی تشکیل سے پہلے اپوزیشن لیڈر کی تقرری ہوئی ۔ ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ حکومت سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ملائیشیا سے وطن واپسی پر سرکاری جہاز کو دوبئی نہیں لے جاناچاہیے تھا۔ پارٹی اجلاس کے لیے سرکاری وسائل کو استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود اپنے خلاف چارج شیٹ تیار کررہی ہے
ڈاکٹر قدیر تاریخ کا حصہ ہیں، جوہری معاملے کی مزید تفتیش نہیں کی جائے گی، شاہ محمود قریشی
امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، ہماری سیکورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کر رہی ہےاسامہ پاکستان میں نہیں، القاعدہ کے رہنما کی موجودگی کے بارے میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا، امریکہ یا دیگر بیرونی افواج کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گےبے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ،ہم تفتیش سے پہلے الزام نہیں لگانا چاہتے، وزیرخارجہ کا امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو
واشنگٹن ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوہری معاملے کی مزید تفتیش کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی مستقبل میں کوئی تفتیش نہیں کی جائے گی کہ پاکستانی فوج نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مدد کی تھی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے پاکستان امریکی یا کسی دوسرے بیرونی ممالک کی فوج کو اسامہ کی گرفتاری یا القاعدہ کے دیگر سرکرہ رہنماؤوں کی تلاش کے لیے اپنے ملک میں کارروائی کی اجازت دے گا امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہ اپنی آزادی اور خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دے گا واشنگٹن میں امریکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوہری معاملے کاکیس اب داخل دفتر کر دیا گیا ہے اور اب سلسلے میں مزید تفتیش نہیں ہو گی جو کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا کیا جا چکا ہے جو اقدامات کیے جانے تھے کئے جا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ مقصدیہ تھا کہ دنیا کو محفوظ رکھا جائے اور جوہری آلات کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ مستقبل میں نہ ہو اور یہ مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک ہمارا نظریہ ہے ڈاکٹر اے کیو خان اب تاریخ کا حصہ ہیں ان کا کوئی سرکاری رتبہ نہیں ہے جو نیٹ ورک انہوں نے تیار کیا تھا وہ توڑا جا چکا ہے وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تفتیش سے پہلے ہی الزام نہیں لگانا چاہتے ہم ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انکوائری کرانا چاہتے ہیں میں کہہ رہا ہوں کہ نہ تو ہم اس امکان کو خارج کر سکتے ہیںاور نہ ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ ہماری سرحدوں کی خلاف وزری سے باز رہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہماری فوج، پیرا ملٹری فورسز اور ریگولر فورسز کی بڑی تعداد سرحدوں پر تعینات ہے وہ موثر کارروائی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے افراتفری اور انتشار پھیلے گا پاکستان عوام اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور یہ ہماری خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان ہو گا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روزانہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو نڈولیزرائس سے ملاقات میں ان پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے نمٹ رہی ہے اورضرورت پڑنے پر خود کارروائی کرے گی شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیاکہ دراندازی کے بعض واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن امریکی فوج القاعدہ کے سربراہ دیگر سرکردہ رہنماؤوں ، طالبان ارکان یا کسی دوسرے مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن نہیں کر رہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی تلاش یا گرفتاری کے لیے امریکہ یہ کسی دوسرے ممالک کی افواج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گا ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں جانتا ہے اور نہ ہی وہ یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن دلان پاکستان میں ہے لیکن ہماری پالیسی بالکل واضح ہے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اور اگر پاکستان کو اسامہ یا کسی دوسرے ہائی ویلیو ٹارگٹ کے بارے میں ٹھوس شواہد ملے تو پاکستان خود فوری کارروائی کرے گا اس سلسلے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ ہی پاکستان کسی کو مداخلت کی اجازت دے گا کیونکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات ابھر یں گے میںتو یہ کہوں گا ہمیں موجود باہمی تعاون کی فضاء کو تقویت دینا ہو گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ تلاش کر نا ضروری ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد حل ملٹری آپشن نہیں یہ جنگ فوجی کارروائی کے علاوہ عوام کے دل اور دماغ جیت کر بھی لڑی جا سکتی ہے
واشنگٹن ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوہری معاملے کی مزید تفتیش کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی مستقبل میں کوئی تفتیش نہیں کی جائے گی کہ پاکستانی فوج نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مدد کی تھی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے پاکستان امریکی یا کسی دوسرے بیرونی ممالک کی فوج کو اسامہ کی گرفتاری یا القاعدہ کے دیگر سرکرہ رہنماؤوں کی تلاش کے لیے اپنے ملک میں کارروائی کی اجازت دے گا امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہ اپنی آزادی اور خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دے گا واشنگٹن میں امریکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوہری معاملے کاکیس اب داخل دفتر کر دیا گیا ہے اور اب سلسلے میں مزید تفتیش نہیں ہو گی جو کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا کیا جا چکا ہے جو اقدامات کیے جانے تھے کئے جا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ مقصدیہ تھا کہ دنیا کو محفوظ رکھا جائے اور جوہری آلات کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ مستقبل میں نہ ہو اور یہ مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک ہمارا نظریہ ہے ڈاکٹر اے کیو خان اب تاریخ کا حصہ ہیں ان کا کوئی سرکاری رتبہ نہیں ہے جو نیٹ ورک انہوں نے تیار کیا تھا وہ توڑا جا چکا ہے وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تفتیش سے پہلے ہی الزام نہیں لگانا چاہتے ہم ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انکوائری کرانا چاہتے ہیں میں کہہ رہا ہوں کہ نہ تو ہم اس امکان کو خارج کر سکتے ہیںاور نہ ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ ہماری سرحدوں کی خلاف وزری سے باز رہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہماری فوج، پیرا ملٹری فورسز اور ریگولر فورسز کی بڑی تعداد سرحدوں پر تعینات ہے وہ موثر کارروائی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے افراتفری اور انتشار پھیلے گا پاکستان عوام اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور یہ ہماری خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان ہو گا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روزانہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو نڈولیزرائس سے ملاقات میں ان پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے نمٹ رہی ہے اورضرورت پڑنے پر خود کارروائی کرے گی شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیاکہ دراندازی کے بعض واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن امریکی فوج القاعدہ کے سربراہ دیگر سرکردہ رہنماؤوں ، طالبان ارکان یا کسی دوسرے مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن نہیں کر رہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی تلاش یا گرفتاری کے لیے امریکہ یہ کسی دوسرے ممالک کی افواج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گا ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں جانتا ہے اور نہ ہی وہ یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن دلان پاکستان میں ہے لیکن ہماری پالیسی بالکل واضح ہے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اور اگر پاکستان کو اسامہ یا کسی دوسرے ہائی ویلیو ٹارگٹ کے بارے میں ٹھوس شواہد ملے تو پاکستان خود فوری کارروائی کرے گا اس سلسلے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ ہی پاکستان کسی کو مداخلت کی اجازت دے گا کیونکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات ابھر یں گے میںتو یہ کہوں گا ہمیں موجود باہمی تعاون کی فضاء کو تقویت دینا ہو گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ تلاش کر نا ضروری ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد حل ملٹری آپشن نہیں یہ جنگ فوجی کارروائی کے علاوہ عوام کے دل اور دماغ جیت کر بھی لڑی جا سکتی ہے
امریکہ مالی بحران سے دو چار، ایک بڑا بینک بیٹھ گیا

نیو یارک کی سٹا ک مارکیٹ میں قرضے فراہم کرنے والی امریکہ کی دو بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی شدید کمی دیکھی گئی
نیویارک ۔ کیلفورنیا میں قائم گھروں کے لیے قرضے مہیا کرنے والا ایک بڑا بینک انّڈی میک بیٹھ گیا ہے اس بینک سے کھاتہ داروں کی طرف سے مسلسل اپنی رقوم نکلونے کے بعد اس کا انتظام ریگولیٹرز نے سنبھال لیا تھا کیونکہ یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ مزید رقوم مہیا کرنے میں ناکام نہ ہو جائے۔ ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی کی تاریخ میں یہ دوسرا بڑا مالی ادارہ ہے جو کہ فیل ہو گیا ہے۔ بینک کے بنیادی نگران آفس آف ترفٹ سپرویڑن کا کہنا ہے کہ گزشتہ گیارہ دنوں میں کھاتہ داروں نے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقوم نکلوائی ہیں۔ دریں اثناء نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹ میں امریکہ کی دو بڑی قرضے فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے حصص کی قدر نصف رہ گئی ہے۔ قرضے فراہم کرنے والی ان ’ کمپنیوں فیڈرل ہوم لون مورٹگیج کارپوریشن، فریڈی میک‘ اور فیڈرل نیشنل مورٹگیج ایسوسی ایشن، فینی مے‘ کے حصص کی قیمتیں اس خوف کے باعث گرنا شروع ہوئیں کہ شائد ان کمپنیوں کا انتظام حکومت کو سنبھالنا پڑ جائے۔ فریڈی میک اور فینی مے کمپنیوں کے حصص کی قمیتیں گرنے پر صدر بش کو کہنا پڑا تھا کہ یہ دونوں کمپنیاں امریکہ کے اہم ادارے ہیں اور اعلیٰ حکومتی حکام اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر میں مصروف ہیں۔دونوں کمپنیاں مشترکہ طور پر امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے فراہم کرتی ہیں ان دونوں کمپنیوں کے بغیر کروڑوں امریکی گھر خریدنے سے محروم ہو جائیں گے۔ امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے اور گارنٹی یہی دو کمپنیاں مہیا کرتی ہیں۔یہ اپنی ہیت کے اعتبار سے دو غیر معمولی کمپنیاں ہیں جنہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل اور ان کے حصص کا کاروبار حصص بازار میں بھی ہوتا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں حالیہ بحران کی وجہ سے ان کمپنیوں کے پاس قرضے فراہم کرنے کے لیے پیسہ نہ رہے۔ ان دونوں کمپنیوں کی حصص کی قدر اسی فیصد تک کم ہو گئی۔ نیویارک ٹائمز میں جمعہ کو یہ خبر شائع ہونے سے کہ حکومت ان کمپنیوں کو بچانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے ان کے حصص کی قیمتیں تیزی سے نیچے گرنے لگیں۔ سرمایہ کاروں کو خطرہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے سے مورٹگیج یا قرضے حاصل کرنے والوں کو تو تحفظ مل جائے گا لیکن ان کا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔ تاہم حکومت کی طرف سے فوری طور پر رد عمل سامنے آیا اور وزیر خزانہ ہینک پالسن نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ان کمپنیوں کی تنظیم نو میں ان کو موجودہ حالت میں برقرار رکھے جائے گا۔ ان دونوں کمپنیوں کا خسارہ بہت سے حلقوں کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے کیونکہ کئی دیگر سرمایہ کار کمپنیوں نے ان کے حصص میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کمپنیوں کے نقصان کا اثر پوری دنیا کی اقتصادیات پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
بھارتی صدر نے ٢١ جولائی کو لوک سبھا کا اجلاس طلب کر لیا
امریکہ سے جوہری معاہدے پر کمیونسٹ پارٹیوں کی علیحدگی کے بعد یو پی ڈی کی حکومت اعتماد کا ووٹ لیں گےنئی دہلی ۔ بھارتی صدر پرتیبھاپائیل نے اس ماہ کی 21تاریخ کو لوک سبھا کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ یو پی ڈی کی حکومت اعتماد کاووٹ حاصل کر سکے ۔ امریکہ کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے پر بائیں بازو کی پارٹیوں کی طرف سے حکومت سے علحیدگی کے بعد کانگریس کی زیر قیادت یو پی ڈی کی حکومت کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہو گیا ہے۔ نئی دہلی میں یو پی ڈی کے اعلیٰ لیڈروںکے اجلاس ہوا جس میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ ادھر بائیں بازو کی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ان تمام سیاسی پارٹیوں کے خلاف ان کے رابطے ہیں جو بھارت اور امریکہ ایٹمی سمجھوتے کے خلاف معروف اختیار کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی جائیگی ۔ ایکس سروس مین سوسائٹی
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو دھمکیاں دینا باعث حیرت ہےصدر پاکستان کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو سپورٹ کر رہے ہیں ان کی موجودگی میں ہمارے علاقے کا جغرافیائی نقشہ تبدیل کیے جانے کی باتیں کیوں ہو رہی ہے ۔ بریگیڈیئر (ر) عبدالسلام اختر کی پریس کانفرنس
راولپنڈی ۔ ایکس سروس مین سوسائٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو باعث حیرت ہے اور ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گی ۔ یہاں سوسائٹی کے اجلاس کے بعد بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالسلام اختر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی کا موقف ہے کہ صدر پرویز مشرف غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر کرسی صدارت پر قابض ہیں اور اس سے نہ صرف سیاسی بلکہ ملک کی معاشی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ ایوان صدر سازشوں کا مرکز بن چکا ہے اور کراچی میں صدر پرویز مشرف کا بیان اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا دماغی توازن درست نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کے بارے میں صدر پرویز مشرف کی ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے ۔ بریگیڈیئر(ر) عبدالسلام اختر نے کہاکہ صدر کی موجودگی میں یہ کہا جانا کہ ہمارے علاقے کا جغرافیائی نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔ اورا س پر صدر کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صدر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی سپورٹ کررہے ہیں اور قوم صدر سے پوچھتی ہے کہ اس طرح کے الفاظ ان کی موجودگی میں کیوں کہے گئے اور اس پر صدر کیوں خاموش ہے ۔ عبدالسلام اختر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان کے نام نہاد اتحادیوں کی کارروائیوں اور بیانات بھی خطرے کی گھنٹی سے کسی طرح کم نہیں ہیںاور یہی نہیں بلکہ بار بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اورپاکستان کی سیکورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ہمارے متعدد جوان شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عبدالسلام اختر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اتحادیوں کی جانب سے یہ دھمکیاں اور حملے حیرت کا باعث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ علاقے میں خوف وہراس پیدا کررہا ہے جہاں پہلے ہی صورت حال خراب ہو چکی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستانی حدود میں غیر ملکی کارروائی کو اپنی خود مختاری پر ایک حملہ تصور کرتی ہے اور قوم اپنی پوری قوت سے اس کی مزاحمت کرے گی ۔صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ایکس سروس مین سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ پاکستان کے سابق فوجی حضرات وطن عزیز کی آن پر مر مٹنے کو تیار ہیں اور اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کے کوئی سیاسی عزائم ہرگز نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ سوسائٹی کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تاہم اگر صدر چاہیں تو سوسائٹی کے ارکان کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کسی بھی موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے ۔ سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ وہ پاکستان کی سول سوسائٹی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گے اور موجودہ حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے کردارادا کرے گی لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ موجودہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے ۔ حالانکہ ضرورت ہے کہ حکومتی راہنما کرداراداکرے ہوئے مناسب پالیسیاں بنائیں اور ان پر عمل کرائیں۔
راولپنڈی ۔ ایکس سروس مین سوسائٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو باعث حیرت ہے اور ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گی ۔ یہاں سوسائٹی کے اجلاس کے بعد بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالسلام اختر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی کا موقف ہے کہ صدر پرویز مشرف غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر کرسی صدارت پر قابض ہیں اور اس سے نہ صرف سیاسی بلکہ ملک کی معاشی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ ایوان صدر سازشوں کا مرکز بن چکا ہے اور کراچی میں صدر پرویز مشرف کا بیان اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا دماغی توازن درست نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کے بارے میں صدر پرویز مشرف کی ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے ۔ بریگیڈیئر(ر) عبدالسلام اختر نے کہاکہ صدر کی موجودگی میں یہ کہا جانا کہ ہمارے علاقے کا جغرافیائی نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔ اورا س پر صدر کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صدر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی سپورٹ کررہے ہیں اور قوم صدر سے پوچھتی ہے کہ اس طرح کے الفاظ ان کی موجودگی میں کیوں کہے گئے اور اس پر صدر کیوں خاموش ہے ۔ عبدالسلام اختر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان کے نام نہاد اتحادیوں کی کارروائیوں اور بیانات بھی خطرے کی گھنٹی سے کسی طرح کم نہیں ہیںاور یہی نہیں بلکہ بار بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اورپاکستان کی سیکورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ہمارے متعدد جوان شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عبدالسلام اختر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اتحادیوں کی جانب سے یہ دھمکیاں اور حملے حیرت کا باعث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ علاقے میں خوف وہراس پیدا کررہا ہے جہاں پہلے ہی صورت حال خراب ہو چکی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستانی حدود میں غیر ملکی کارروائی کو اپنی خود مختاری پر ایک حملہ تصور کرتی ہے اور قوم اپنی پوری قوت سے اس کی مزاحمت کرے گی ۔صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ایکس سروس مین سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ پاکستان کے سابق فوجی حضرات وطن عزیز کی آن پر مر مٹنے کو تیار ہیں اور اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کے کوئی سیاسی عزائم ہرگز نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ سوسائٹی کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تاہم اگر صدر چاہیں تو سوسائٹی کے ارکان کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کسی بھی موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے ۔ سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ وہ پاکستان کی سول سوسائٹی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گے اور موجودہ حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے کردارادا کرے گی لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ موجودہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے ۔ حالانکہ ضرورت ہے کہ حکومتی راہنما کرداراداکرے ہوئے مناسب پالیسیاں بنائیں اور ان پر عمل کرائیں۔
Saturday, July 12, 2008
دہشت گردوں سے خو ف زدہ نہیں ہیں۔ شیر ی رحمن

کسی کو قائداعظم ،ذولفقار علی بھٹو کے نظریات ہائی جیک نہیں کرنے دیں گےدوبئی میں ملک کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیاوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا تقریب سے خطاب و صحافیوں سے بات چیت
کراچی ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے ڈریں گے نہ کسی کو قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات ہائی جیک کرنے دیں گے۔ کراچی میں قائداعظم ہاؤس میوزیم کی تزئین و آرائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے سیاسی اور آئینی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا۔ قائداعظم میوزیم نئی نسل اور تاریخ کے طالبعلموں کے لئے انتہائی مفید ہے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں موجودہ قائداعظم ہاؤس میوزیم کی عمارت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے محترمہ فاطمہ جناح نے سولہ سال اپوزیشن کی سیاست کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کی رونقیں بحال کریں گے۔ اس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیری رحمن نے بے نظیر بھٹو قتل کیس پر تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کی رضامندی موجودہ حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ ایک سوال پر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ دبئی میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات کی گئی اور وفاقی کابینہ میں توسیع کا معاملہ زیر غور آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں دو مرحلے میں توسیع ہو گی اور پہلے مرحلے میں پارلیمانی سیکریٹری اور وزراء شامل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی شمولیت ابھی یقینی نہیں ہے لیکن کسی کے شامل ہونے پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابتدائی سو روز میں جو کام کئے ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی
ہنگو ، عسکریت پسندوں کے حملے میں ١٦ سیکورٹی اہلکار ٢ شہری جاں بحق
سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی 6 جنگجو ہلاکجنگجوؤں کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیادوآبہ میں دوبارہ کرفیو لگا دیا گیاہنگو۔ ہنگو میں مقامی جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں ۔ زرگڑی کے مقام پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 16 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 2شہری جاں بحق ہو گئے ہیں22 اہلکار زخمی بھی ہو گئے ہیں۔سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں ۔اطلاعات اور بعض نجی ٹی وی چینلز کے مطابق یہ واقعہ آج ہفتہ کی شام اس وقت پیش آیا جب عسکریت پسندوں نے ایف سی کے قافلے پر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے اچانک شدید فائرنگ کر دی فائرنگ میں سیکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اس واقعے میں متعدد اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ سیکورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 6 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر لیا اور گن شپ ہیلی کاپٹربھی طلب کر لیے جن سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ادھر رکن قومی اسمبلی پیر حیدر علی شاہ کی قیادت میں جرگے کا ایک وفد ہنگو پہنچ گیا ہے جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے ادھر لشکرالسلام کے سربراہ منگل باغ نے کہا ہے کہ امن معاہدہ ہمارے اور حکومت کے نہیں جرگے اور حکومت کے درمیان ہوا تھا ۔اطلاعات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایف سی کا ایک قافلہ شنارڑی قلعہ کی طرف جارہاتھا کہ زرگرری کے مقام پر اس پر عسکریت پسندوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی جس سے سیکیورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم انتظامیہ نیجانی نقصان اورزخمیوں کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے تاہم طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں انکا ایک ساتھی مارا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی تین گاڑیاں اور اسلحہ بھی طالبان کے قبضے میں ہے بتایا جاتا ہے کہ یہ مقام ہنگو شہر سے تقریباً 35کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور پہاڑوں پر طالبان کے مورچہ زن ہونے کی وجہ سے سرکاری طور پرجاں بحق یا زخمی ہونے والوں کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے ہنگو ہسپتال میں ایمر جنسی نافذکردی گئی ہے ۔جاں بحقیا زخمی ہونے والوں کو تاحال ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا اس واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پہاڑو ںپر مورچہ زن طالبان پر گولہ باری شروع کر دی ہے جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹر طلب کرنے کی بھی اطلاع ہے تاکہ ان کی آڑ میں مرنے والوں اور زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے ۔ادھر ہنگو کے علاقے دوآبہ کے بازار میں فائرنگ کے بعد وقفہ ختم ہونے سے پہلے کرفیو دوبارہ نافذ کر کے چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ہنگو کے علاقے دوآبہ میںہفتہ کی دوپہر بارہ سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تھی۔ اس دوران نامعلوم افراد نے دوآبہ بازار میں فائرنگ کر دی جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور بازار بند کر دیئے گئے۔ جبکہ فوری طور پر کرفیو دوبارہ نافذ کر دیا گیا۔ حکام نے فائرنگ کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر کے ایک گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔اس سے پہلے قبائلی عمائدین کے 40 رکنی وفد نے امن و امان کی صورتحال پر ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی تھی۔ جس میں قبائلی عمائدین نے دوآبہ سے کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب زرگری میں ایف سی کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر دو بچیاں زخمی ہو گئیں۔ جبکہ ملزمان فرار ہو گئے۔ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہنگو میں لشکر السلام کے سربراہ منگل باغ نے کہا ہے کہ انھوں نے ذاتی طور پر حکومت سے کوئی معاہدہ نہیں کیا بلکہ یہ معاہدے جرگے اور حکومت کے درمیان ہوا ہے اس لیے وہ اس معاہدے کے پاپند نہیں ہیں تاہم منگل باغ کے اس تازہ بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی مائیکل مولن خفیہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
امریکی سفارت خانے نے تصدیق کردیپاکستان کی اعلیٰ قیادت سے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گےاسلام آباد ۔ امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مائیکل مولن پاکستان کے خفیہ دورہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں ۔ اس بات کی تصدیق پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے کردی ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین مائیکل مولن نے ایک انٹرویو میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں غیر ملکی جنگجوؤں پہلے سے زیادہ منظم ہو گئے ہیں اور اس کے لئے پاکستان کے موثر کارروائی کرنا ہو گی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مائیکل مولن پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے اور قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ ان کا دورہ پاکستان ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی طرف سے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر مسلسل الزامات لگائے جارہے ہیں اور امریکی طیارے مسلسل پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پروازیں کررہے ہیں ۔
امریکا سے سرحد پار سے حملے پر شدید احتجاج کیا ہے ، پاکستان
اسلام آباد ۔ پاک فوج کے ترجمان نے ہفتہ کو کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے انگور اڈہ پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے مارٹر حملوں پر شدید احتجاج کیاہے ہفتہ کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میںپاک افغان سرحد کے قریب قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے چھ شیل فائر کئے گئے جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے چھ جوان زخمی ہوئے ۔ ترجمان نے بتایا کہ ہماری افواج نے اس پر فوری جوابی کارروائی کی اور افغانستان میں بھی متعدد جانی نقصانی کی اطلاع ملی ہے تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ سرحد پار سے مارٹر گولے اتحادی افواج نے فائر کئے یا افغان فوج نے ۔ تاہم ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اس حملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان سے حملے اور افغان حکمرانوں کے پاکستان پر الزام تراشیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور کشیدگی پیدا ہو رہی ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی امریکی افواج نے سرحد پار سے ایک چوکی پر فضائی حملے کئے تھے جس کے نتیجے میں فوج کے گیارہ سپاہی شہید ہو گئے تھے ۔
لا پتہ افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے ، غیرت مند قوم کی حیثیت سے امریکی ڈالروں کی بھیک مسترد کر دیں ۔آمنہ مسعود جنجوعہ
اسلام آباد ۔ پاکستان کے سینکڑوں لا پتہ افراد کے مظلوم لواحقین نے وزیر اعظم ، آرمی چیف ، وزارت داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ لا پتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنائیںاب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ ہفتہ کو آبپارہ چوک اسلام آباد میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاہے کہ 3 نومبر 2007 ء کی ایمرجنسی کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں مظلوموں اور بے سہارا افراد کی داد رسی کے تمام دروازے بند کئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا حکام کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنائیں کیونکہ اس امر کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ یہ لا پتہ افراد آئی ایس آئی ، ایم آئی ، اور ایس آئی بی کے زیر زمین خفیہ عقوبت خانوں میں قید ہیں جبکہ ان افراد کو دیکھنے والے سابق قیدیوں کی جانب سے جملہ بیان حلقی متعلقہ حکام کے روبرو پیش کئے جاچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ مسلمان دنیا کے ہزاروں بے گناہ مظلوم افراد جن کو ان کی حکومتوں نے امریکا کو فروخت کیاہے جو اب گوانتا نامو بے ، بگرام ائر بیس ، ابو غریب اور افریقہ یورپ اور دنیا کے کئی علاقوں میں قائم عقوبت خانوں میں جبر و تشدد کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور سب سے تکلیف دہ امریہ ہے کہ ایک پاکستانی خاتون جن کو صرف قیدی نمبر 650 یا گرے لیڈی کے نام سے جانا جاتا ہے چار سال سے افغانستان کے بد نام زمانہ امریکی قید خانے بگرام میں قید ہے جہاں اس کے ساتھ بد ترین ظلم کا ارتکاب کیا جارہاہے ۔ جبکہ اسی قید سے رہائی پانے والے بعض امریکی اور یورپی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکثر اس خاتون کی دل دوز چیخیں سنی ہیں اور اب یقین کیا جا چکا ہے کہ اس خاتون کی دماغی صحت بھی تباہ ہو چکی ہے ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود ایک پریس کانفرنس میں یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ مذکورہ خاتون بمعہ تین بچوں کے اغواء کی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہماری ملی غیرت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایک طرف ہم امریکا کے لیے مسلسل اپنے عوام کو مروا رہے ہیں اور دوسری طرف امریکی ہماری عزتوں سے کھیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری ملی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم بطور ایک غیرت مند قوم امریکا کی ڈالروں کی بھیک کو مسترد کر دیں ۔ بھوک اور افلاس برداشت کر کے ملی غیرت کو بحال کریں تاکہ آئندہ نسل ہم لوگوں پر افسوس کرنے کے بجائے اقوام عالم کے درمیان سر اٹھا کر زندگی گزار سکیں ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ ملک کے اندر ہی حل ہو جائے ہمیں عالمی عدالت اور دیگر اداروں سے رجوع نہ کرنا پڑے کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہو گی۔ انہوں نے کہاہک موجودہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے وعدے پورے کرے اور اولین ترجیح ہیں ہمارے پیاروںکو واپس لایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ٹونی بلےئر بش اور مشرف ملوث ہیں انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کی جانب سے بنائی گئی اس سلسلے میں کمیٹی سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ابھی تک اس کاکوئی کام سامنے نہیں آیا
سعودی عرب تیل کی قیمت کے ٥.٩ ارب ڈالر موخر کرنے پر آمادہ ہو گیا
ریاض ۔سعودی عرب پاکستان کو 5.9ارب ڈالر کے خام تیل کی قیمت کی ادائیگی موخر کرنے پر رضا مند ہو گیا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تیل کی آمد کی مد میں سعودی عرب کو یہ ادائیگیاں رواں مالی سال جون جولائی میں ادا کرنا تھیں لیکن سعودی عرب انہیں موخر کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔وزیر خزانہ سید نوید قمر نے تیل کی ادائیگی موخرہونے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان معاہدے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی انہوں نے کہاکہ خام تیل کی 5.9 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ملتوی ہونے سے ملک معاشی صورت حال بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی زراعت اور دیگر شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے سید نوید قمر نے نہیں بتایا کہ یہ ادائیگیاں کتنے عرصے کے لیے ملتوی ہوئی ہیں ۔ رپورٹ میں وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگیاں جون 2009ء تک موخر کی گئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی ادائیگیاں ایک سال تک موخر کرنے سے پاکستانی معیشت کو سہارا ملے گا۔ سعودی عرب پاکستان کو سالانہ 40ملین ڈالر کا خام تیل فراہم کرتا ہے۔ حکام کے مطابق سعودی عرب پاکستان ک و 40 ملین بیرل تیل سالانہ فروخت کرتا ہے جس کی فی بیرل قیمت 147 ڈالر کے حساب سے 5.9 ارب ڈالر لاگت بنتی ہے ۔ مجموعی طورپر پاکستان 73.7 ملین بیرل سالانہ تیل درآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان میں تیل کی سالانہ کھپت 135 ملین بیرل ہے۔
پنجگور سے خضدار جانے والی کوچ ٢٢ مسافروں سمیت اغواء کر لی گئی
پنجگور ۔ پنجگور سے خضدار جانے والی کوچ 22 مسافروں سمیت اغواء کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ مسافر بس رات کو پنجگور سے روانہ ہوئی تھی اور اسے ہفتہ کی صبح دس بجے خضدار پہنچنا تھا لیکن مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکی ۔ اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہو کر کوچ کے ڈرائیور اور کلینر خضدار پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا ہے کہ خضدار سے ساٹھ کلو میٹر دور پہاڑی سلسلے میں آٹھ مسلح افراد نے کوچ کو روکا اور مسافروں پر تشدد کرنے کے بعد کوچ کو مسافروں سمیت پہاڑی سلسلے میں لے گئے ۔ جہاں سے ڈرائیور اور کلینر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے کوچ کے مالکان کاکہنا ہے کہ خضدار پولیس کو اس واقعہ سے آگاہ کر دیاگیا ہے۔ فوری طور پر غواء کاروں کی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا
توسیع اور ردو بدل کے نتیجہ میں وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد ٣٠ ہو جائے گا، اتحادیوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا
اسلام آباد ۔وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے نتیجہ میں کابینہ کے ارکان کی تعداد 30ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں توسیع کے حوالے سے حکومت دور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے توسیع اور ردوبدل کے نتیجہ میں30رکنی کابینہ تشکیل دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق عوامی نشینل پارٹی سے دو وزراء مملکتجبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)سے ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیر مملکت لیا جا رہا ہے۔ اس طرح کابینہ میں مزید نئے چہرے پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے نہ ہونے کے بارے میں پی پی پی پی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے پاکستان مسلم لیگ (ن )سے بھی حتمی جواب مانگ لیا
Kashmiris Worldwide Endorse Peaceful Protest on July 13: Dr. Fai
Washington, D.C.- July 12, 2008: In glorious recognition of all those who have laid down their lives so that Kashmiri’s may live with their heads held high, Dr. Ghulam Nabi Fai, Executive Director, Kashmiri American Council/Kashmir Center joins the worldwide Kashmiri community in solemn recognition of July 13th - ‘Martyrs Day’. This somber day commemorates the ultimate sacrifice made by 22 unarmed Kashmiris who were ruthlessly slaughtered by the illegitimate Dogra regime on July 13, 1931. Now, ‘Martyrs Day’ memorializes all those innocent victims, nearly 100,000, who have been forcibly silenced by the Indian atrocities that erupted two decades ago. Dr. Fai believes, quoting Abraham Lincoln, that those who deny freedom to others deserve it not for themselves. The Kashmiri American Council/Kashmir Center is committed to finding a just and lasting peace to the disputed territory of Kashmir through a tripartite negotiations between Governments of India & Pakistan and the accreditedleadership of the State of Jammu and Kashmir. It fully endorses the call given by Syed Ali Geelani and Mirwaiz Umar Farooq for a peaceful protest towards the Martyrs Graveyard on Sunday, July 13th, 2008 that will include Kashmiri men, women and children of all racial, cultural and religious persuasions.Dr. Fai said that the monumental peaceful protests throughout Kashmir, bringing together hundreds of thousands of people from all religious, racial and cultural backgrounds, was in response to the Indian Government’s attempt at confiscating 100 acres of Kashmiri territory and was overwhelmingly successful. The resounding victory, ‘is a magnificent symbol of Kashmiri commitment to their cause of self-determination by peaceful protests, in the face of brutal oppression, and the ever-increasing unity of the Kashmiri leadership.” Moreover, Dr. Fai reiterated that ‘these protests are the largest demonstrations in recent years.’ The Kashmiri American Council/Kashmir Center strongly condemns the unforgiving and brutal repression of the Kashmiri people and expresses its deepest condolences to the hundreds injured, tortured and killed.Furthermore, Dr. Fai emphasized that the Kashmiri people’s resolve and continued commitment to peaceful protest is principled on the ongoing massive violations of their human rights, the recent gruesome discovery of over 1,000 unidentified graves and the Indian Government’s atrocious dismissal of their aspirations for self-determination. In that regard, the unanimous resolution passed by the European Parliament requesting India to allow international impartial observers to investigate the continuous unearthing of unidentified graves, is congratulatory. The Kashmiri American Council/Kashmir Center welcomes this European Parliament resolution.Dr. Fai clearly and unequivocally calls for all Kashmiris to continue to increase their solidarity at this critical juncture. He urged the Indian government to recognize that any peace initiatives without the inclusion of the legitimate representatives of the Kashmiri people, including Syed Ali Shah Geelani, Mirwaiz Umar Farooq, Mohammad Yasin Malik and Shabbir Shah would not produce any results. Moreover, he emphasized, ‘India trembles at any attempt to resolve the Kashmir crisis, frightened by its outcome, and prudence dictates the international community recognize this and apply diplomatic persuasion to initiate a peace process, with the Kashmiri leadership.’ Also, Dr. Fai stated that Indian impotence, willful ignorance and desperation to avoid a meaningful peace process and initiate wimpy attempts to pacify Kashmiri passion will fail miserably.
پاکستان پر امریکی حملہ اور قو می مجرموں کا آ خری موج میلہ ۔۔۔ تحریر :اے پی ایس
پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہاہے مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور غیر ملکی جنگجووں کی جھوٹی خبریں پھیلا کر پاکستان پر حملے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ امریکی یلغار میں دن بدن اضافہ ہورہاہے ۔ ادھر ہمارے مشرقی بارڈر پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے ۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلااشتعال ہماری چوکیوں پر فائرنگ کے واقعات ہور ہے ہیں ۔پاکستانی عوام اصل دشمن پہچانیں باوچر کی آمد کے موقع پر پشاور پر طالبان کے قبضے کی بے بنیاد افواہیں پھیلا کر خطرناک کھیل کھیلا گیا ۔ جب بھی کوئی امریکی عہدے دار پاکستان آنے والا ہوتاہے تو اسے کسی نہ کسی فوجی آپریشن یا نام نہاد طالبان و القاعدہ کی گرفتاری کی سلامی پیش کی جاتی ہے ۔ ہمارے حکمران خود ہی اپنے عوام کے خلاف ” سلطانی گواہ “ بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ روز بروز پاکستان پر حاوی ہو رہاہے اور ہم سے نت نئے مطالبات کیے جاتے ہیں عوام پر روزانہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آ گیاہے اور غریب لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ بینکوں سے رقوم حاصل کر کے خوراک کا سامان سٹا ک کر لیا جاتاہے ۔ اس طرح مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیا ئے صرف کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو لوٹ لیا جاتاہے ۔ شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ حکمران موج میلہ کررہے ہیں ۔ تاجر قیمتیں بڑھانے میں آزادہیں ۔ اخبارات میں روزانہ آٹے ، گھی ، چینی اور سیمنٹ کے نرخ بڑھنے کی خبریں چھپ رہی ہیں لیکن کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے ۔ سرمایہ دار طبقے کی حکومت ہے ۔چوروں اور ڈاکوو¿ں کی تمام لوٹ مار این آر او کے ذریعے معاف کر دی گئی ہے ۔ پوری قوم افتخار محمد چوہدری اور ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکمران خوفزدہ ہیں کہ انہیں بحال کر دیا گیا تو ان کی لوٹ مار اور کرپشن کے کیس دوبارہ زندہ ہو جائیں گے ۔عدلیہ کی آزادی کے بغیر معاشرے میں سیاسی و معاشی استحکام ممکن نہیں ہے ۔ سابق و مو جودہ حکمرانوں نے ساڑھے ساڑ ھے نو سالوں میں پاکستانی قوم کو اندھیروںمیں دھکیل دیا ہے ۔اگر یہ بھاشا ڈیم تعمیر کر لیتے تو آج نہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور نہ معاشی عدم استحکام۔ مہنگائی کا طوفان ، بے روزگاری اور بجلی کا بحران پچھلے ساڑھے آٹھ سال کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ ان ساڑھے آٹھ سال میں بجلی کا ایک میگا وارڈ تک نہیں بنا آج پاکستان کو صرف گھریلو استعمال کے لئے پانچ ہزار میگا وارڈ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ۔اگر اس میں صنعتی ضروریات بھی شامل کر لی جائیں تو یہ شارٹیج بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی افواج 20 جولائی سے پہلے اور اس کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں پر سرجیکل اسٹرائیک( اچانک حملہ ) کرسکتی ہیں۔ اگرچہ امریکی افواج پاکستانی علاقوں پر اب تک 46 حملے کرچکے ہیں لیکن اس حملے کی نوعیت ان تمام حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہہوگی ۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے امریکی پاکستان کے کسی قبائلی علاقے پر قبضہ کر لیں گے اس وقت قبائلی علاقوں میں جوصورت حال ہے وہ افغانستان جا کر امریکی قبضے کی بنا پر ہے اور امریکی مداخلت اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے ۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ جارح عالمی قوتوں کے ساتھ ہیں یا اپنی آزادی کاتحفظ کرنے والی قوتوں کے ساتھ۔ پاکستان کے عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا تھا حکومت نے اس عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھا پاکستان اسوقت حالت جنگ میں ہے ۔ اسوقت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کا تحفظ کرے لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے ان علاقوں پر فوج کشی کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی نہ صرف ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ ہماری اقدارکو بھی جو اس کے لیے ایٹمی طاقت سے بھی زیادہ خطرناک ہے ختم کردینا چاہتا ہے امریکی جیٹ طیارے اس حملے کی تیاریوں کے لیے معلومات جمع کررہے ہیںاگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت نے اس حملے کو نہیں روکا اور اس کے خلاف آواز بلند نہیںکی تو خدانخواستہ مستقبل میں پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو گا ہی لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا سیاسی قیادت کو امریکی مداخلت پر امریکہ کو خبردار کردیناچاہیے کہ وہ اپنی جنگ کو محدود کرے اور پاکستان تک نہ پھیلائے کیونکہ اس وقت فیصلہ کن طاقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ اور سیاسی قیادتوں کو اپنی وابستگیوں کا معیار اب امریکی مداخلت کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر بنانا ہو گا ۔ اور اس حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اعلان کرنا ہو گا اوراس عہد اور اعلان کے بار بار تکرار کرنا ہوگی اگرچہ پاکستان میں فوجی آمریت کی وجہ سے سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس قدر مستحکم نہیں ہوئے جس قدردوسرے جمہوری ممالک میں ہیں لیکن یہ وقت سیاسی جماعتوں کے استحکام اور عدم استحکام کا نہیں ملک کی بقا کا ہے جس کے بارے میں انہیں اب واضح طور پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ امریکہ ہمارے یہاں بھی جبرا اس جمہوریت کو نافذ کرے گا جیسی افغانستان میں ہے اور سیاسی جماعتیں عملا اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور عوامی مزاحمت کے سامنے ٹھہر نہین سکیں گی ۔ اب سیاسی قیادت کے ہاتھ میں یہ فیصلہ ہے کہ وہ ملک کی افواج کو امریکی حملوں کے خلاف مزاحمت کا حکم دیں اور پاکستان کے اقتدار کو اعلی اور خود مختاری کا تحفظ ان کا فرض ہے اس فیصلے میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔اے پی ایس
Friday, July 11, 2008
امریکی افواج پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٢٠ جولائی سے پہلے سرجیکل سٹرائیک کر سکتی ہے ۔ جنرل(ر) حمید گل

اسلام آباد ۔ معروف عسکری دانشور اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیاہے کہ انہیں ایسی اطلاعات اور قرائن و شواہد مل رہے ہیں کہ امریکی افواج 20 جولائی سے پہلے اور اس کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں پر سرجیکل اسٹرائیک( اچانک حملہ ) کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی افواج پاکستانی علاقوں پر اب تک 46 حملے کرچکے ہیں لیکن اس حملے کی نوعیت ان تمام حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہہوگی ۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے امریکی پاکستان کے کسی قبائلی علاقے پر قبضہ کر لیں گے۔ جمعہ کو میڈیا کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں جوصورت حال ہے وہ افغانستان جا کر امریکی قبضے کی بنا پر ہے اور امریکی مداخلت اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے ۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ جارح عالمی قوتوں کے ساتھ ہیں یا اپنی آزادی کاتحفظ کرنے والی قوتوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا تھا حکومت نے اس عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھا۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہاکہ پاکستان اسوقت حالت جنگ میں ہے ۔ اسوقت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کا تحفظ کرے لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے ان علاقوں پر فوج کشی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی نہ صرف ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتا ہے بلکہ ہماری اقدارکو بھی جو اس کے لیے ایٹمی طاقت سے بھی زیادہ خطرناک ہے ختم کردینا چاہتا ہے جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکی جیٹ طیارے اس حملے کی تیاریوں کے لیے معلومات جمع کررہے ہیںاگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت نے اس حملے کو نہیں روکا اور اس کے خلاف آواز بلند نہیںکی تو خدانخواستہ مستقبل میں پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو گا ہی لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا جنرل (ر)حمید گل نے کہا کہ سیاسی قیادت کو امریکی مداخلت پر امریکہ کو خبردار کردیناچاہیے کہ وہ اپنی جنگ کو محدود کرے اور پاکستان تک نہ پھیلائے کیونکہ اس وقت فیصلہ کن طاقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ اور سیاسی قیادتوں کو اپنی وابستگیوں کا معیار اب امریکی مداخلت کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر بنانا ہو گا ۔ اور اس حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح اعلان کرنا ہو گا اوراس عہد اور اعلان کے بار بار تکرار کرنا ہوگی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں فوجی آمریت کی وجہ سے سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس قدر مستحکم نہیں ہوئے جس قدردوسرے جمہوری ممالک میں ہیں لیکن یہ وقت سیاسی جماعتوں کے استحکام اور عدم استحکام کا نہیں ملک کی بقا کا ہے جس کے بارے میں انہیں اب واضح طور پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ امریکہ ہمارے یہاں بھی جبرا اس جمہوریت کو نافذ کرے گا جیسی افغانستان میں ہے اور سیاسی جماعتیں عملا اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اور عوامی مزاحمت کے سامنے ٹھہر نہین سکیں گی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ اب سیاسی قیادت کے ہاتھ میں یہ فیصلہ ہے کہ وہ ملک کی افواج کو امریکی حملوں کے خلاف مزاحمت کا حکم دیں اور پاکستان کے اقتدار کو اعلی اور خود مختاری کا تحفظ ان کا فرض ہے اس فیصلے میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔
لال مسجد میں نمازجمعہ کے اجتماع میں میلوڈی سے آبپارہ تک شاہراہ کو ’’شہدا‘‘ ء روڈ رکھنے کی قرار داد منظور

اسلام آباد ۔ مرکزی لال مسجد کے نماز جمعہ کے اجتماع میں میلوڈی چوک سے آبپارہ چوک تک میونسپل روڈ کو ’’شہدا‘‘ روڈ کی قرار داد منظوری کر لی گئی جبکہ نائب خطیب لال مسجد مولانا عامر صدیق نے کہا ہے کہ لال مسجد آپریشن کے لیے تحقیقاتی کمیشن اور جامعہ حفصہ کی تعمیر میں امریکی دباؤ رکاوٹ ہے آج لال مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عامر صدیق نے کیا کہ امریکی دباؤ پر لال مسجد آپریشن کیا گیا سانحے کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے آج بھی جامعہ حفصہ کے ملبے میں معصوم طالبات اور دیگر ’’شہدا‘‘ کی نعشوں کے ٹکڑے دبے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ آپریشن کے حوالے سے حکمران غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ مولانا عبدالعزیز کی 85سالہ بوڑھی والدہ کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ امریکہ کے کہنے پر آپریشن ہوا اسی لیے تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں کیا جا رہا ہے حکمران کو خدشہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو رہا اور جامعہ حفصہ کو تعمیر کیاگیا تو امریکہ کا ناراض ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے قربانیاں دینا ہو ںگی۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود جامعہ حفصہ کو تعمیر نہیں کیا گیا نہ جامعہ فریدیہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو سکا ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ میلوڈی کی وجہ سے ہم نے جامعہ حفصہ کے مقام پر خیموں میں کلاسز شروع کرنے کے اعلان میںلچک کا مظاہرہ کیا اورعلامتی طور پر ایک گھنٹہ کی کلاسز شروع کی گئیں ہیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے میلوڈی چوک کا نام ’’شہدا‘‘ چوک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لال مسجد آبپارہ روڈ میلوڈی چوک کے سانحات کی یاد میں میلوڈی سے آبپارہ تک میونسپل روڈ کا نام ’’شہدا‘‘ روڈ رکھا جائے ہزاروںنمازیوں نے ان کے اس مطالبے کی تائید کی
اسرائیلی فوج نے الخلیل کی سخت ناکہ بندی کردی

الخلیل ۔ اسرائیلی قابض فوجی دستوں نے الخلیل میں پابندیوں میں مزید اضافہ کردیا۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر چیکنگ سخت کردی اور شہر میں داخل ہونے والے تمام افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنا شروع کردیے جس سے طویل قطاریں لگ گئیں۔ عورتیں اور بچے بھی شدید گرمی میں طویل قطاریں بنانے پر مجبور ہوگئے۔ اسرائیلی فوجیوں نے دو جولائی سے یہ سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ خاص طور پر شہر سے جانے والے شہریوں کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی قابض فوجیوں نے سلفیت کے کفل حارشا گاؤں میں کرفیو نافذ کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس راستے سے اسرائیلی آباد کار گزرتے ہیں اس پر پٹرول بم پھینکا گیا ہے۔ فوجیوں نے گاؤں کا محاصرہ کرلیا۔ نیز اس گاؤں اور ملحقہ دو دیہاتوں پر آواز بم پھینکے جن سے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔فلسطینی اتھارٹی کے وزیر جیل خانہ جات ڈاکٹر احمد سویدہ نے نفحا سنٹر برائے اسیران و انسانی حقوق پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے دو ماہ قبل جن چار بھائیوں کو اغواء کرلیا گیا تھا ان کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے چار کارکنان جن کو خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا وہ نابلس جیل میں ہیں۔
امریکی اتحادی طیاروں کی انگوراڈہ میں چیک پوسٹ پر بمباری ،٩ فوجیوں سمیت ١١ افراد زخمی

وانا ۔ افغان سرحد کے قریب جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں امریکہ اور ’اتحادیوں‘ کی گولہ باری اور طیاروںکی بمباری سے ایک پاکستانی چیک پوسٹ پرمامور 9فوجیوں سمیت 11افراد زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اس کے علاوہ مارٹر کے مزید دس گولے پاکستان کی سرحدی حدود میں گرے ہیں جس میں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات کو دو بجے وانا سے پچیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب افغان سرحد کے قریب انگوراڈہ کے علاقے زیڑہ لیٹہ میں واقع ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکہ اور اس کے ’اتحادیوں‘ نے گولہ باری کے علاوہ طیاروں سے بمباری بھی کی جس کے نتیجہ میں پنجاب رجمنٹ کے 9فوجی اہلکار اور دو شہری زخمی ہو گئے ہیں اس کے علاوہ چار گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پاکستان کی حدود میں پہاڑی سلسلوں میں دس اور گولے بھی گرے ہیں لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔البتہ گولہ باری سے قیمتی پہاڑی درختوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اس علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی ہے مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہزخمی اہلکاروں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔جبکہ شہری وانا ہسپتال پہنچا دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ گولہ باری میں چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے علاقے برمل سے مزید دس سے زائد مارٹر کے گولے پاکستان کے تین مختلف علاقے انگوراڈہ، باغڑ اور موسی نیکہ میں گرے ہیں جو زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹے جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس پہلے گیارہ جون کوامریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پربمباری کی تھی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت 19افراد شہید ہوگئے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گولہ باری کے بعد امریکی جاسوس طیاروں نے جنوبی شمالی وزیرستان میں نچلی پروازیں شروع کی ہے
سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے من موہن نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کرد ئیے

نئی دہلی ۔حکمران اتحاد کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں ۔ صدر پرتھیبا پاٹیل سے ملاقات میں انہوں نے کہاکہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تیار ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے راہنماوں نے حکمران اتحاد کی حکومت گرنے سے بچانے کے یے ملک کی چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان سے رابطے تیز کر دئیے ہیں تاکہ پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد پوری کی جا سکے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پارلیمنٹ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اس حوالے سے پارلیمنٹ کا اہم اجلاس 21 یا 22 جولائی کو طلب کئے جانے کا امکان ہے۔
مقبوضہ کشمیر گورنر راج ، گورنر این این ووہرا نے مقبوضہ کشمیر کے انتظامی و آئینی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے

سری نگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم بھی صادر کردیا گیا ہے۔ 7جولائی کو وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی مستعفی ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گورنر نے ابھی تک انتظامی معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا تھا کیونکہ گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق پہلے بھارتی کابینہ کی سفارشات کا عمل دخل ہوتا ہے جس کے بعد ان سفارشات کی بنیاد پر بھارتی صدر ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر راج نافذ کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مخلوط حکومت کے گر جانے کے بعد گورنر راج نافذ کرنے کی سفارشات صدر جمہوریہ کو بھیج دیں جس کے بعد بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظور دے دی۔ گورنر ہاؤس کے مطابق ریاستی آئین کی دفعہ سیکشن92 کا استعمال کرکے ریاست کے گورنر این این ووہرا نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرکے عدلیہ کے بغیر تمام انتظامی اور آئینی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ گورنر نے ریاستی آئین کی شق Bسب سیکشن 2آف سکشن 53کے تحت اسمبلی کو بھی تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ گورنر ہاؤس ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے مستعفی اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے حکومت بنانے سے معذوری کے بعد یہ ضروری بن گیا تھاکہ ریاست میں انتظامی مشنری کو چلانے کیلئے گورنر راج نافذ کیا جائے
۔۔۔۔ تفصیلی خبر ۔۔۔۔
مقبوضہ کشمیر اسمبلی تحلیل کر دی گئی، گورنر راج نافذ کر دیا گیا
مقبوضہ کشمیر کے گورنراین این ووہرا نے تمام اختیارات سنبھال لیے
مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کر کے اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ 60برسوں کے دوران یہ چوتھا موقع ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے ۔ امرناتھ شرائن بورڈ کو 99ایکڑ زمیں دیئے جانے کاحکومتی فیصلہ واپس لینے کے بعد ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج شروع کر دیا تھا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد ن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی پہلے ہی حکومت بنانے سے انکار کر چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر ایل این ووہرا نے اسمبلیاں تحلیل کر دی ہیں اور موجودہ صورتحال کی نئی دہلی کو رپورٹ بھجوا دی ہے۔جولائی کو وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی مستعفی ہونے کے بعد ریاست میں گورنر نے ابھی تک انتظامی معاملات کو اپنے ہاتھ میںنہیں لیا تھا کیونکہ گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق پہلے بھارتی کابینہ کی سفارشات کا عمل دخل ہوتا ہے جس کے بعد ان سفارشات کی بنیاد پر صدر جمہوریہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر راج نافذ کرنے کے احکامات صادر کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بدھ کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد مرکز نے ریاست میں مخلوط سرکار کے گر جانے کے بعد گورنر راج نافذ کرنے کی سفارشات صدر جمہوریہ کو بھیج دیںجس کے بعد صدر جمہوریہ نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظور دے دی۔ ریاستی آئین کی دفعہ سیکشن92 کا استعمال کرکے ریاست کے گورنر این این ووہرا نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرکے عدلیہ کے بغیر تمام انتظامی اور آئینی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ گورنر نے ریاستی آئین کی شق Bسب سیکشن 2آف سکشن 53کے تحت اسمبلی کو بھی تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ راج بھون ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے مستعفی اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے حکومت بنانے سے معذوری کے بعد یہ ضروری بن گیا تھاکہ ریاست میں انتظامی مشنری کو چلانے کیلئے گورنر راج نافذ کیا جائے
چاند میں پانی کی موجودگی کا ثبوت مل گیا ، مکمل خشک ہونے کا قدیم مفروضہ غلط تھا

واشنگٹن ۔ اب سائنس کی ترقی نے چاند کے تعلق سے حقائق کا پتہ چلا لیا ہے اس طرح چاند کے متعلق کہانیاں رومانوی اور شب خوابی کی داستانیں نہیں رہی ہیں۔ سائنسدانوں نے اب زمین کی اطراف گردش کرنے والے سٹلائیٹ چاند پر پانی کی موجودگی کا ثبوت حاصل کر لیا ہے۔ 1970ء میں چاند سے حاصل کیے گئے آتش فشانی شیشہ کے چٹان کے نمونے کے تجزیہ سے پانی کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ اس طرح اس مفروضہ کو خاتمہ ہو گیا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے۔ سائنسدانوں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی گہرائی میں پانی موجود تھا چنانچہ3.3تا3.6بلین سال قبل جب چاند کے آتش فشان پھٹ پڑے تو ان سے کنکریاں وجود میں آئیں۔ البرٹوسال نے جزیزہ روہڈے میں قائم براؤن یونیورسٹی میں کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ چاند مکمل طورپر خشک تھا۔ البرٹو سال تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ چالیس سالوں تک تجربات کرتے رہے لیکن چاند پر پانی کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔وہ اس بات پر بھی مطمئن نہیں تھے کہ ہم کوئی قابل قدر کام انجام دے رہے ہیں۔ چاند کے تعلق سے کی گئی اس تحقیق کی اشاعت آج جریدہ ’نیچر‘ میں عمل میں آئی ہے۔ اس جدید تحقیق نے ان سائنسدانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے جن کا یہ ایقان تھا کہ چاند اس وقت وجود میں آیا تھا جب مریخ کی جسامت والا ایک سیارہ نومولود زمین سے ٹکرا یا تھا سال اور ان کے ساتھیوں نے 1971ء میں اپولو15مشن اور 1972ء میں اپولو 17کے دوران چاند سے اکٹھا کیئے گئے چٹانی نمونوں کی جانچ اور تجزیہ کے لیے انتہائی حساس ٹکنیک کا استعمال کیا۔ ان لوگوں نے کنکریوں کی اوپری آلودہ سطح کی جانچ کے بجائے کنکریوں کی اندرونی ساخت کا تجزیہ کیا۔ جس نے انہیں پانی کی موجودگی کے ساتھ کلورین اور فلورین کی موجودگی کا بھی پتہ چلا۔ جو کاربن اور سلفر جیسے ہیں جس سے چاند میں واقع آتش فشاں سے لاوا پھٹ پڑنے کا یقین ہوتا ہے۔
حکومتی کا رکردگی: ایک ماہ میں غریب عوام کی معاشی بدحالی سے 753خود کشیاں ۔۔۔ تحریر: اے پی ایس۔ اسلام آباد
ملکی حالات بہتر ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ بگھڑے ہیں ۔ غریب آدمی بھوک سے تڑپ رہا ہے کھانے کو کھانا نہیں پینے کو صاف پانی نہیں بجلی کا بحران بد ستور جاری ہے ۔ مہنگائی پہلے کی نسبت زیادہ بڑھی ہے اگر موجودہ حکومت نے ان مسائل پر قابو نہ پایا ہوش کے ناخن نہ لیے اور پالیسیوں میں بہتری پیدا نہ کی تو اس کا مستقبل (ق) لیگ سے کم عبرت ناک نہیں ہو گا ۔ پاکستان کی بھلائی اور عوام کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے سب کو مل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور قومی فیصلے پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے آج بھی مشرف دور حکومت کی طرح غیر منتخب شخصیات بیرون ملک بیٹھ کررہی ہیں۔18فروری کے بعد عوام کو دن بدن مہنگائی کی دلدل میں پھنساکر عوام کے پیسوں سے بیرون ممالک کے دورے کئے جارہے ہیں اور پاکستانی قوم کی قسمت کے فیصلے وہاں ہو رہے ہیں عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو مضبوط کیوں نہیں کیا جا رہا ۔سابقہ دورحکومت کی طرح اب بھی قومی نوعیت کے فیصلے غیرمنتخب لوگ کررہے ہیں۔جب بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف پر ملک میں آنے پر پابندیاں تھیں تب تو بیرون ممالک مشاورت کی کوئی وجہ بنتی تھی مگر اب ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ مخلوط قیادت ملک میں فیصلے نہ کرسکے۔حکومت کی ان پالیسیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرف کی پالیسیاں جاری ہیں سخت مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا محال کردیا گیا ہے۔25 مئی سے 25جون کے دوران ملک بھر میں357 افراد نے خود کشی کی خود کشی کر نے والوں میں 127 خواتین شامل ہیں اسی عرصہ کے دوران 150 افراد نے خود کشی کر نے کی کوشش کی جنہیں بروقت طبی امداد دے کر بچالیا گیا اقدام خود کشی کر نے والوں میں 60 خواتین بھی شامل ہیں لوڈ شیڈنگ اور بجلی ،گیس ، آٹا اور دیگر اشیاء صرف کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور حکمران عوام کے پیسے پر عیاشیاں کررہے ہیں۔ آئینی پیکج میں اسٹیبلشمنٹ کو مزید اختیارات دینے کے علاوہ تین نومبر کے اقدامات کو درست اور پی سی او ججوں کو تحفظ دیا گیاہے ۔ معزول عدلیہ بآسانی ایگزیکٹو آرڈر سے بحال کی جا سکتی ہے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی انگریز نے اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد رکھ دی تھی تاکہ وہ اپنے مفادات حاصل کرتا رہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت نواب لیاقت علی خاں بھی با اختیار نہیں تھے ۔ موجودہ دور میں ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر براہ راستہ امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں ۔ما ضی میں صرف وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ امریکہ کی مرضی سے بنائے جاتے تھے مگر اب اس کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ پاکستان دشمن طاقتیں وطن عزیز کو نقصان پیچانے کیلئے طرح طرح کے ناپاک عزائم و منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی بڑی تعداد القاعدہ میں منظم ہونے کے لیے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جمع ہو رہی ہے۔ امریکی اخبار”نیو یارک ٹائمز“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان غیر ملکی جنگجوو¿ں میں ازبک شمالی افریقہ اور عرب ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ بغداد سے امریکی فوجی ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ یہ جنگجو القاعدہ کے جنگجوو¿ں کا ساتھ دینے کے لیے کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان منتقل ہوئے ہیں جہاں پر وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان مزاحمت کا ساتھ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں کی عراق میں اوسطاً تعداد ماہانہ کم ہو کر 40 ہو گئی ہے جو ایک سال قبل ماہانہ 110 تھی انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ غیر ملکی جنگجوو¿ں نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے اب پاکستان پر مرکوز کی ہوئی ہے نیو یارک ٹائمز نے امریکی خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے غیر ملکی جنگجوو¿ں میں مشرق و سطیٰ بعض سنی عسکریت پسند شامل ہیں اس کے علاوہ شمالی افریقہ اور وسطیٰ ایشیا سے بھی عسکریت پسند پاکستان میں داخل ہو کر القاعدہ کے ساتھ شامل ہو گئے دوسری جانب افغانستان میں نیویارک کے کمانڈر ڈیوڈ میک نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقے کے حالات انتہائی خراب ہیں اور عسکریت گروپ آسانی کے ساتھ سرحد عبور کر کے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ جبکہ افغانستان میں اتحادی فوج کی کمک کے لئے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ عرب میں بھیج دیا گیا۔ امریکی فوجی حکام نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں اتحادی فوج کو کمک پہنچانے کے لئے بحری بیڑا ابراہام لنکن خلیج سے بحیرہ عرب بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکا نے ایران پر دباو¿ بڑھانے کے لئے ابراہم لنکن کو خلیج میں تعینات رکھا تھا۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق طیارہ بردار بحری بیڑے کی بحیرہ عرب آمد سے افغانستان میں امریکی فوج کی فضائی قوت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بحری بیڑا فاٹا میں امریکی کمانڈوز کی کارروائیوں کے لئے تیار رہنے کی اطلاعات کے بعد خلیج سے روانہ کیا گیا ۔ جبکہ وکلاءتحریک نے پارلیمنٹ کو یہ واضح کیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کی بی ٹیم نہ بنے اور اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے وکلاء روز روز شاہراہ دستور سے واپس نہیں جائیں گے مقاصد کے حصول تک دھرنا دیا جائے گا حکمرانوں کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے ڈوگرہ راج تسلیم نہیں کر تے جلد حقیقی منصف عدالتوں میں آئیں گے ان خیالات کا اظہاروکلاءتحریک کے ممتاز رہنما حامد خان اسلام آباد بارایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار عصمت اللہ اور ملتان ،سیالکوٹ،گجرات،چکوال،کبیر والا،پنڈی گھیب،تلہ گنگ،اٹک،قصور اور پنجاب کے دیگر شہروں کی بار ایسوسی ایشنز کے صدور جنرل سیکرٹریز اور نمائندوں نے ججز کی بحالی کے لئے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کے سامنے وکلاءکی احتجاجی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کیا وکلاءکی احتجاجی ریلی اور پولیس کے درمیان تصادم ہو تے ہوتے رہ گیا راولپنڈی ضلعی کچہری سے وکلاء نے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ تک احتجاجی ریلی نکالی اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی ریلی میں شامل ہو گئے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جماعت کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور میاں محمد اسلم کی قیادت میں اسلام آباد بار کی ریلی میں شرکت کی پارلیمنٹ لاجز کے سامنے پولیس کی بھاری نفری نے خاردار تاریں اور سیمنٹ کے بلاک کھڑے کر کے شاہراہ دستور کو جانے والے راستے بند کر دئیے وکلاء کی احتجاجی ریلی گولی لاٹھی کی سر کار نہیں چلے گی نہیں چلے گی گر تی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا دوکے نعرے لگاتے ہوئے رکاوٹیں عبور کر دیںوکلاء ریلی ایوان صدر ، پارلمینٹ ہاو¿س سے ہوتی ہوئی سپریم کوٹ کے سامنے پہنچی، سپریم کورٹ کے اطراف سے بھی نوجوان وکلاء خار دار تاریں ایک طرف پھینکتے ہوئے سپریم کورٹ کی دیوار پر چڑھ گئے اور نعرے لگائے احتجاجی ریلی میں شہید لال مسجد بھی زبر دست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا وکلاء ریلی نے صدر پرویز مشرف پی سی او ججز کے ساتھ ساتھ آصف علی زر داری کے خلاف بھی نعرے لگائے احتجاجی ریلی کے دوران سپریم کورٹ میں ججز محصور ہو کر رہ گئے پونے بارا بجے تک سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی ریلی جاری رہی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے حامد خان نے کہا کہ ریلی کے ذریعے حکومت کو پیغام ہے کہ وہ 9 مارچ کے اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کر دے قوم اور وکلاءکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے مزید امتحان نہ لیا جائے پارلیمنٹ کے لئے یہی پیغام ہے جلد از جلد قرار داد منظور کی جائے اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججز کو بحال کیا جائے ورنا پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے جمع ہو نے کے بعد واپس نہیں جائیں گے آئندہ لاکھوں لوگوں کو لے کر آئیں گے مقاصد کے حصول تک سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے حامد خان نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری 26 جولائی کو بہاولپور بار سے خطاب کریں گے اس مقصد کے لئے 25 جولائی کو وکلاء ملتان میں جمع ہو کر چیف جسٹس کے ہمراہ بہاولپور جائیں گے احتجاجی ریلی کے اختتام پر شہدا لال مسجد کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی گئی سیالکوٹ بار کے صدر ارشد بھگو نے دعا کرائی۔پاکستان میں وجود میں آنے والی نئی جمہوری حکومت کو اپنے عوام کے جذبات کا احساس ہونا چاہیے ہے اور وہ ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھائے جس سے عوام میں اشتعال پھیلے۔ اے پی ایس۔
Thursday, July 10, 2008
It's the Oil, stupid!

The deal just taking shape between Iraq's Oil Ministry and four Western oil companies raises critical questions about the nature of the US invasion and occupation of Iraq — questions that should certainly be addressed by presidential candidates and seriously discussed in the United States, and of course in occupied Iraq, where it appears that the population has little if any role in determining the future of their country.
Negotiations are under way for Exxon Mobil, Shell, Total and BP — the original partners decades ago in the Iraq Petroleum Company, now joined by Chevron and other smaller oil companies — to renew the oil concession they lost to nationalisation during the years when the oil producers took over their own resources. The no-bid contracts, apparently written by the oil corporations with the help of U.S. officials, prevailed over offers from more than 40 other companies, including companies in China, India and Russia.
"There was suspicion among many in the Arab world and among parts of the American public that the United States had gone to war in Iraq precisely to secure the oil wealth these contracts seek to extract," Andrew E. Kramer wrote in The New York Times.
Kramer's reference to "suspicion" is an understatement. Furthermore, it is highly likely that the military occupation has taken the initiative in restoring the hated Iraq Petroleum Company, which, as Seamus Milne writes in the London Guardian, was imposed under British rule to "dine off Iraq's wealth in a famously exploitative deal."
Later reports speak of delays in the bidding. Much is happening in secrecy, and it would be no surprise if new scandals emerge.
The demand could hardly be more intense. Iraq contains perhaps the second largest oil reserves in the world, which are, furthermore, very cheap to extract: no permafrost or tar sands or deep sea drilling. For US planners, it is imperative that Iraq remain under U.S. control, to the extent possible, as an obedient client state that will also house major U.S. military bases, right at the heart of the world's major energy reserves.
That these were the primary goals of the invasion was always clear enough through the haze of successive pretexts: weapons of mass destruction, Saddam's links with Al-Qaeda, democracy promotion and the war against terrorism, which, as predicted, sharply increased as a result of the invasion.
Last November, the guiding concerns were made explicit when President Bush and Iraq's Prime Minister Nouri Al Maliki signed a "Declaration of Principles," ignoring the U.S. Congress and Iraqi parliament, and the populations of the two countries.
The Declaration left open the possibility of an indefinite long-term U.S. military presence in Iraq that would presumably include the huge air bases now being built around the country, and the "embassy" in Baghdad, a city within a city, unlike any embassy in the world. These are not being constructed to be abandoned.
The Declaration also had a remarkably brazen statement about exploiting the resources of Iraq. It said that the economy of Iraq, which means its oil resources, must be open to foreign investment, "especially American investments." That comes close to a pronouncement that we invaded you so that we can control your country and have privileged access to your resources.
The seriousness of this commitment was underscored in January, when President Bush issued a "signing statement" declaring that he would reject any congressional legislation that restricted funding "to establish any military installation or base for the purpose of providing for the permanent stationing of United States Armed Forces in Iraq" or "to exercise United States control of the oil resources of Iraq."
Extensive resort to "signing statements" to expand executive power is yet another Bush innovation, condemned by the American Bar Association as "contrary to the rule of law and our constitutional separation of powers." To no avail.
Not surprisingly, the Declaration aroused immediate objections in Iraq, among others from Iraqi unions, which survive even under the harsh anti-labour laws that Saddam instituted and the occupation preserves.
In Washington propaganda, the spoiler to US domination in Iraq is Iran. U.S. problems in Iraq are blamed on Iran. US Secretary of State Condoleezza Rice sees a simple solution: "foreign forces" and "foreign arms" should be withdrawn from Iraq — Iran's, not ours.
The confrontation over Iran's nuclear programme heightens the tensions. The Bush administration's "regime change" policy toward Iran comes with ominous threats of force (there Bush is joined by both US presidential candidates). The policy also is reported to include terrorism within Iran — again legitimate, for the world rulers. A majority of the American people favours diplomacy and oppose the use of force. But public opinion is largely irrelevant to policy formation, not just in this case.
An irony is that Iraq is turning into a US-Iranian condominium. The Maliki government is the sector of Iraqi society most supported by Iran. The so-called Iraqi army — just another militia — is largely based on the Badr brigade, which was trained in Iran, and fought on the Iranian side during the Iran-Iraq war.
Nir Rosen, one of the most astute and knowledgeable correspondents in the region, observes that the main target of the US-Maliki military operations, Moktada Al Sadr, is disliked by Iran as well: He's independent and has popular support, therefore dangerous.
Iran "clearly supported Prime Minister Maliki and the Iraqi government against what they described as 'illegal armed groups' (of Moktada's Mahdi army) in the recent conflict in Basra," Rosen writes, "which is not surprising given that their main proxy in Iraq, the Supreme Iraqi Islamic Council dominates the Iraqi state and is Maliki's main backer."
"There is no proxy war in Iraq," Rosen concludes, "because the U.S. and Iran share the same proxy."
Teheran is presumably pleased to see the United States institute and sustain a government in Iraq that's receptive to their influence. For the Iraqi people, however, that government continues to be a disaster, very likely with worse to come.
In Foreign Affairs, Steven Simon points out that current US counterinsurgency strategy is "stoking the three forces that have traditionally threatened the stability of Middle Eastern states: tribalism, warlordism and sectarianism." The outcome might be "a strong, centralised state ruled by a military junta that would resemble" Saddam's regime.
If Washington achieves its goals, then its actions are justified. Reactions are quite different when Vladimir Putin succeeds in pacifying Chechnya, to an extent well beyond what Gen. David Petraeus has achieved in Iraq. But that is THEM, and this is US. Criteria are therefore entirely different.
In the US, the Democrats are silenced now because of the supposed success of the US military surge in Iraq. Their silence reflects the fact that there are no principled criticisms of the war. In this way of regarding the world, if you're achieving your goals, the war and occupation are justified. The sweetheart oil deals come with the territory.
In fact, the whole invasion is a war crime — indeed the supreme international crime, differing from other war crimes in that it encompasses all the evil that follows, in the terms of the Nuremberg judgment. This is among the topics that can't be discussed, in the presidential campaign or elsewhere. Why are we in Iraq? What do we owe Iraqis for destroying their country? The majority of the American people favour US withdrawal from Iraq. Do their voices matter?
Noam Chomsky's writings on linguistics and politics have just been collected in "The Essential Noam Chomsky," edited by Anthony Arnove, from the New Press. Chomsky is emeritus professor of linguistics and philosophy at the Massachusetts Institute of Technology in Cambridge, Mass.
Subscribe to:
Posts (Atom)