International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Monday, July 14, 2008

جن لوگوں نے نواب اکبر بگٹی کو محفوظ راستہ نہیں دیا تھا انہیں کسی صورت محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا،وزیراعلی پنجاب

کوئٹہ۔ مسلم لیگ (ن)کے صدر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے نواب اکبر بگٹی کو محفوظ راستہ نہیں دیا تھا انہیں کسی صورت محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا ملک کو ساٹھ سال میں ڈکٹیٹروں نے اس حال تک پہنچایا ہے اور گزشتہ آٹھ سال کے دوران ہونے والے واقعات پر سابق حکمرانوں کا محاسبہ ہوگا اورانہیں عوام کے سامنے جواب دینا پڑے گا مسلم لیگ (ن) کے تمام ارکان پارلیمنٹ اور رہنماوں نے ججوں کی بحالی کیلئے حلف اٹھایا ہے اور وہ اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم نے پہلے د ن ہی وفاقی حکومت سے کہہ دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے استعفوں سے خالی ہونے والی سیٹوں پر نئے وزراء کا تقرر کردیا جائے تاہم ہم حکومت گرنے نہیں دیں گے ہم بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے اور اسے وفاق میں مساوی حیثیت دیکر قائداعظم کے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے ہمارا عزم ہے کہ 1973ء کے آئین کے مطابق صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے یہ بات پیر کو وزیراعلی سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی ،مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق ،سابق وفاقی وزراء احسن اقبال ،مہتاب عباسی اور مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر ذوالفقار کھوسہ اور الہیٰ بخش سومروودیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی بہت بڑا مسئلہ ہے یہ صرف جسٹس افتخار کی بحالی نہیں بلکہ پاکستان کے استحکام اور سلامتی کا مسئلہ ہے اگر آج تین نومبر کے اقدامات کو تسلیم کرکے اس کو اسی طرح جانے دیا گیا تو دو ،چار سال کے بعد کوئی اور ڈکٹیٹر آجائے گا اور وہ ججوں کے ساتھ ساتھ تمام پارلیمنٹ کو بھی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے گااسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہم اس کو کریں گے نواز شریف نے پہلی مرتبہ 1991ء میں قدرتی وسائل پر رائلٹی کا حق تسلیم کیا اور صوبوں کو رائلٹی دی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتی ہے گزشتہ آٹھ سال سے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان نہیں کیا گیا یہ سب ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے ہوا ہے نواز شریف کے دور میں این ایف سی ایوارڈ دیا گیا اور اس میں وسائل کی درست تقسیم کا فارمولہ طے پایا تھا وفاق اور صوبوں کے درمیان معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے انہوں نے تینوں وزراء اعلیٰ کی کوارڈی نیشن کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس کا ہر ایک ڈیڑھ ماہ بعد اجلاس ہو اور تمام مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے وسائل کی تقسیم انصاف کی بنیاد پر ہونی چاہئے آبادی بھی فارمولے میں اہمیت رکھتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم چھوٹے صوبوں کی محرومیوںاورپسماندگی کو بھی بنیاد بنایا جائے ہم عوام کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں اور عوام کی مدد سے قائداعظم کے پاکستان کو بہتر بنائیں گے بلوچستان کے عوام کو پیشہ ور فوج اور ڈکٹیٹروں کے درمیان تفریق کرنی ہوگی پاکستان کی فوج انتہائی پیشہ وارانہ ادارہ ہے اس کے محض چند جرنیلوں نے اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ڈکٹیٹر شپ نافذ کی اور عوام کے اوپر مظالم ڈھائے جس سے نفرتیں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ پنجاب کی فوج یا سول بیورو کریسی نا انصافیاں کر رہی ہے ملک میں آج تک جتنے بھی مارشل لاء لگے اور ڈکٹیٹر آئے ان میں سے کوئی بھی پنجابی نہیں تھا اگر ففٹی ،ففٹی کا فارمولا نہ ٹھونسا جاتا تو 1971ء میں قائد کا پاکستان نہ ٹوٹتا جس نے بھی یہ کیا اس نے پاکستان کے ساتھ غداری کی ہم محض لفاظی سے کام نہیں لے رہے بلکہ چھوٹے صوبوںکا احساس محرومی دور کرنے کیلئے عملی اقدامات کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ہمیں برداشت اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ہم اسے بڑے بھائی کی حیثیت سے نہیں بلکہ سگے بھائی کی حیثیت سے ڈیل کریں گے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف ، پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام اور حکومت پنجاب کی طرف سے خیر سگالی اور محبت کا پیغام لیکر آیا ہوں بلوچستان میں نواب بگٹی کے قتل سمیت جس قسم کی بھی کوئی زیادتی ہوئی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نواب اکبر بگٹی جس نے پاکستان کیلئے ووٹ دیا وفاقی وزیر ،گورنر اور وزیراعلیٰ رہے ان کو مار دیا جاتا ہے یہ سب ڈکٹیٹر شپ کے کمالات ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیںانہوں نے بلوچستان میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کیلئے عمارت بنانے کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت پنجاب اس انسٹی ٹیوٹ میں این جی او گرافی کی مشین بھی بطور تحفہ دے گی جبکہ پنجاب کی فروٹ اورسبزی منڈیوں میں بلوچستان کے زمینداروں کو سبزیاں اور پھل فروخت کرنے کیلئے جگہیں مختص کی جائیں گی اور انہیں دکانیں دیں گے بین الصوبائی رابطوں کے فروغ کیلئے دانشوروں اور اہل قلم کے وفود بھی پنجاب کا دورہ کریں اور اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی سابق حکمرانوں نے آئین توڑا ،عدلیہ کو معطل کیا اور ججوں کو قید کیا انہوں نے بہت بڑے جرائم کا ارتکاب کیا انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا ہم نے پہلے ہی اتحادیوں سے کہہ دیا تھا کہ صدر کو فارغ کرنا چاہئے اورا ن کا محاسبہ ہونا چاہئے اگر مسلم لیگ (ن) کے پاس اکثریت ہوتی توہم پہلے دن ہی یہ کام کرتے البتہ ہمارے اتحادیوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں وہ کچھ بھی ہوں لیکن ہم اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو قائم رکھنے کا ایک ہی واحد راستہ ہے کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے تمام اکائیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور تمام اکائیوں کو مساوی حیثیت دی جائے۔انہوں نے کوئٹہ میں شاندار استقبال پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں پنجاب کے دورے کی دعوت دی ۔انہوں نے بلوچستان کے عوام کیلئے پنجاب میں بعض مراعات کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے بلوچستان کو درآمدی گندم آنے تک پچاس ہزار ٹن گندم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا جبکہ پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز اور دیگر پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلبہ کی سیٹیں 90سے بڑھا کر 220کرنے کا اعلان کیا اس کے علاوہ آبپاشی اور کاشتکاری کیلئے بلوچستان کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی پولیس کی تربیت کیلئے بھی ماسٹر ٹرینر دیئے جائیں گے

حکمرانوں کو وکلاء کی طاقت کا اندازہ نہیں ۔ چوہدری اعتزاز حسن

پارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کے بازو ہیں، جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوتی پارلیمنٹ مستحکم نہیں ہوسکتی۔ ۔ ۔حکمرانوں کو وکلاء کی طاقت کا اندازہ نہیں،وکلاء ججز کی بحالی تک تحریک جاری رکھیں گےحکمران چاہتے تھے کہ وکلاء لانگ مارچ کے بعد دھرنادیں اور وہاں ہلڑبازی ہوہلڑ بازی ہوتی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا سیمینار سے خطاب
لاہور ۔ سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہپارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کے بازو ہیں، جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوتی پارلیمنٹ مستحکم نہیں ہوسکتی۔حکمرانوں کو وکلاء کی طاقت کا اندازہ نہیں،وکلاء ججز کی بحالی تک تحریک جاری رکھیں گے حکمران چاہتے تھے کہ وکلاء لانگ مارچ کے بعد دھرنادیں اور وہاں ہلڑبازی ہو ایسا ہوتا تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی۔اس امر کا اظہا ر انہوں نے جوڈیشل کرائسس منجمنٹ کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال، لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر محمد شاہ ، شفقت چوہان اور پیر خورشید کلیم نے بھی خطاب کیا ۔بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدا لتی بحران کے باعث پاکستانی سرمایہ کار بھی دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس سے مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کے بازو ہیں۔بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکمران چاہتے تھے کہ وکلاء لانگ مارچ کے بعد دھرنادیں اور وہاں ہلڑبازی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو حکمرانوں کی جانب سے چیف جسٹس سمیت بے شمار لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کردی جاتی ۔ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو وکلاء کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کی بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان میں سے کسی نے اب عدالتوں میں بیٹھنے کی کوشش کی تو اسے بھی پی سی او جج تصور کیا جائے گا۔تقریب سے ہائیکورٹ بار کے صدر انور کمال لاہور بار کے صدر منظور قادر اور جوڈیشل کرائسس منجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین شفقت محمود چوہان نے بھی خطاب کیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ کسی کو چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتے اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو کسی سیمینار سے خطاب نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ انیس جولائی کو تحریک کے مستقبل کے حوالے سے سخت فیصلے کئے جائیں گے

نواز شریف ہمیں نہیں چھوڑیں گے ، ججوں کی بحالی کا راستہ جلد نکال لیا جائے گا ، بہت جلد کابینہ مکمل کر لیں گے ۔ یوسف رضا گیلانی

لاہور ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت کی سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے قوم کو اپنے خطاب میں بیان کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہماری اتحادی ہے نواز شریف ہمارا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ ججوں کو تنخواہیں اور آزادی فراہم کی جلد بحال کرنے کا راستہ بھی نکال لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے ، ہمارے اندرونی معاملات میں کسی کو بھی مداخلت کرنے کا نہ حق ہے اورنہ ہی یہ اجازت کسی کو دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل کے لئے 23 اور 24 جولائی کو اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں آصف علی زرداری اور نواز شریف کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پاکستان کا ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے ، تیل اور خوردونوش کی اشیاء کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑی ہیں جن کے خلاف ہرملک کی عوام سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرحد حکومت امن و امان قائم رکھنے کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جو بھی مدد مانگے گی انہیں فراہم کی جائے گی ۔ہنگو میں فوج سرحد حکومت کی خواہش پر بھیجی گئی ۔ میں نے سرحد حکومت سے قبائلی علاقوں بالخصوص ہنگو میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے ہدایت کی ہے ۔پارلیمنٹ نے صدر کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ اسے قبول کریں گے اور اقتدار چھوڑ کر الگ ہو جائیں گے ۔ اس امر کا اظہار انہوں نے لاہور ائر پورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں وزیر اعظم لاہور پہنچے تو ان کا استقبال پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد ، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر رہنماؤں نے کیا ۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور عوام کو مناسب قیمتوں پر خورد و نوش کی اشیاء فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ہم اس کی ذمہ داری سابق حکومت پر نہیں ڈالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 16 کروڑ عوام کیا چاہتے ہیں مجھے علم ہے 99 فیصد عوام ملک میں امن اور ملک کی ترقی ، خوشحالی اور عزت کے خواہاں ہیں ۔ صوبہ سرحد و قبائلی علاقوں کے خراب حالات عوام کے لئے پریشانی اور تشویش کا باعث ہیں جس سے پاکستان کا امیج ملک بھر میں خراب ہو رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے یونین کونسل سے لیکر ایم این اے تک سیاست کی ہے اور تمام عہدے بھی دیکھے ہیں اس لئے عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہو ں۔انہوں نے کہا کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمت میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے ، اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کا اثر پاکستان پر بھی آرہا ہے اسی لئے دنیا بھر میں لوگ مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان ایشوز پر ہم غریب عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکمت عملی بنا رہے ہیں جسے جلد قوم کو آگاہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر نواز لیگ کے وزراء کے کابینہ سے مستعفی ہو جانے کے باعث ہم اپنی کابینہ کو مکمل نہیں کر سکے جسے تین حصوں میں تشکیل دیا جانا تھا ابھی تک پارلیمانی سیکرٹری اور سٹینڈنگ کمیٹوں کے چیئرمین بھی نہیں بنائے جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں سے صلاح مشورے کر رہے ہیں بہت جلد کابینہ مکمل کر لی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گورنر سرحد وزیر اعلی سرحد سے ملاقات میں صوبہ میں امن و امان کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی ہے اور انہیں جلد وہاں امن قائم کرنے کے لئے کہا ہے ۔ اس حوالے سے سرحد کی صوبائی حکومت سیکورٹی کے حوالے سے جو بھی مدد طلب کرے گی اسے فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت کی سو دن کی کارکردگی اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے وضاحت میں اپنی نشری تقریر میں کروں گا جس کے لئے کابینہ سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل ای سی سی سٹرٹیجک اور پرسوں کابینہ کے اجلاس میں ان معاملات پر غور کیا جائے گا اور میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اسے ریلیف دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔ہم پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور یقین دلاتا ہوں کہ میاں نواز شریف پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ہم ن لیگ ، اے این پی ، جے یو آئی ف اور حکومت سے باہر کی جماعتوں سے مل کر حکمت عملی بنا رہے ہیں ۔صدر پرویز کے مواخذہ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ صدر خود کہہ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے وہ قبول کریں گے اور وہ 14 فروری کے عوامی مینڈیٹ کو بھی تسلیم کر چکے ہیں ۔ اس لئے پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے دیں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اسے قبول کریں گے ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے عدالت کو محسن پاکستان کی نظر بندی کے مقدمہ میں صد رپرویز مشرف اور مشیر داخلہ رحمن ملک کو فریق بنانے کی درخواست دے دی

اسلام آباد ۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے عدالت کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی کے مقدمہ میں صد رپرویز مشرف اور مشیر داخلہ رحمن ملک کو فریق بنانے کی درخواست دے دی ہے ۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے عدالت کو تجویز دی کہ اس معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چیمبر میں باعزت طورپر خوش اسلوبی سے حل کرلیا جائے ورنہ پنڈورہ بکس کھلنے کا خدشہ ہے ۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش گاہ میں ابھی جاسوسی کے آلات لگے ہوئے ہیں انہوں نے ایک بار پھر ان آلات کی تصاویر میڈیا کو پیش کیں انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان پر پابندی نہیں ہے تو انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا گزشتہ روز سیکیورٹی اہلکاروں نے میڈیا نمائندوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش گاہ تکجانے کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ بیرسٹر اقبال جعفری کو بھی حساس ادارے کی گاڑی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش گاہ تک جانے سے روکن آزادی صحافت اور آئین کی خلاف ورزی ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت دن بدن خراب ہو رہی ہے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ساڑھے چار سل قبل کی طرح انہیں سیکیورٹی کے ہمراہ گھر سے باہر آنے جانے کی اجازت دی جائے ۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے کہا کہ حکومت معاملے کو طول دینے کے بجائے باعزت طور پر اسے حل کرے ایسی کئی پردہ نشینوں کا فائدہ ہے انہوں نے کہاکہ حکومت پنڈورہ بکس نہ کھولے اہم معاملوں کے حوالے سے میں نے سٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے سربراہ قدوائی کو خط لکھا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ساڑھے چار سالوں سے حبس بیجا میں رکھا جارہا ہے

شہباز شریف ، نواب اسلام رئیسائی ملاقات ، صدر مشر ف استعفٰی دیں ۔ شہبا ز شریف

کوئٹہ ۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے صدر پرویز مشرف فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے یہ بات کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلام رئیسانی سے ملاقات میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بلوچستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بلوچستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے بلوچستان کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو بحران سے نجات دلانے کا واحد حل یہ ہے کہ صدر مشرف فوری طور پر استعفیٰ دے دیں۔ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ صدر مشرف کی رخصتی ہی ملک کے وسیع مفاد میں ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کو آمریت کے خلاف کھڑے ہونے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

سوات میں طالبان نے امن معاہدے پر عمل درآمد تک صوبائی حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کر دیا

سیکورٹی فورسز کو بتدریج واپس بلایا جائے اور سوات آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کا ازلہ کیا جائے۔ ۔ ۔ سوات طالبان کامطالبہ
سوات ۔ سوات میں طالبان نے امن معاہدے پر عمل درآمد تک صوبائی حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کا کہنا ہے کہ عنقریب 40 طالبان قیدی رہا کر دیئے جائیں گے۔ تحریک طالبان سوات کے ترجمان مسلم خان نے ٹیلی فون پرنجی ٹی وی سے بات چیت میں کہا کہ سوات امن معاہدے پر عمل درآمد تک صوبائی حکومت سے مزید مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مذاکرات میں مخلص ہے لیکن وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تیسری قوت مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔مسلم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وعدوں کے مطابق تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ سوات سے سیکورٹی فورسز کو بتدریج واپس بلایا جائے اور سوات آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کا ازلہ کیا جائے ادھر صوبہ سرحد کے سینئر بشیر احمد بلور نینجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں طالبان سے مذاکرات معمول کے مطابق جاری ہیں اور مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ20طالبان قیدیوں کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے عنقریب 40 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

کراچی بم دھماکوں میں لسانی تنظیم ملوث ہے۔ آئی جی سندھ

کراچی کے کسی مدرسے میں دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جا رہی دو ہفتوں میں 26 مغوی بازیاب کرائے گئے جبکہ سولہ ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیاسلطان صلاح الدین کا پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔ آئی جی سندھ سلطان صلاح الدین نے کہا ہے کہ کراچی بم دھماکوں میں لسانی تنظیم ملوث ہے جبکہ کراچی کے کسی مدرسے میں دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جا رہی۔ لاڑکانہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے کراچی نقل مکانی کرنے والوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم کراچی کے کسی مدرسے میں دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی بم دھماکوں میں لسانی تنظیم اور دیگر گروپ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 26 مغوی بازیاب کرائے گئے جبکہ سولہ ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں قیام امن کے لئے پولیس کو جدید اسلحہ اور ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔

فیڈرل بورڈ نے دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2008 کے نتائج کا اعلان کردیا ، دسویں جماعت کا نتیجہ مجموعی طور پر 69.40 فیصد رہا

کل57171 سٹوڈنٹس میں سے 39 ہزار 624 کامیاب
اسلام آباد ۔ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکندری ایجوکیشن( ایف بی آئی ایس) نے دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2008 ء کے نتائج کا اعلان کردیا ہے ۔ یہ اعلان پیر کی سہ پہر کو کیا گیا نتائج کے مطابق امتحانات میں 57 ہزار 171 طلباء وطالبات نے حصہ لیا جن میں ریگولر 39 ہزار 826 ا ور پرائیویٹ 17 ہزار 345 سٹوڈنٹس شامل ہیں اورمجموعی طورپر نتیجہ 69.40 فیصد رہا ہے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق فیڈرل بورڈ کے زیر اہتمام سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ ( ایس ایس سی ) کے سالانہ امتحانات اپریل اورمئی 2008 ء میں ہوئے تھے جن میں مجموعی طور پر 57 ہزار سے زائد سٹوڈنٹس نے حصہ لیا ہے ۔ 39 ہزار 826 ریگولر اسٹوڈنٹس میں سے 32 ہزار 413 سٹوڈنٹس پرائیویٹ ، ، 17 ہزار 345 سٹوڈنٹس میں سے 7 ہزار 211 سٹوڈنٹس کامیاب رہے اور نتیجہ 41.61 فیصد رہا ہے جبکہ مجموعی طورپر دسویںجماعت کا نتیجہ 6940 فیصد رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ کے مطابق سپلیمنٹری انتخابات 16 ستمبر 2006 ء کو ہوں گے جبکہ دسویں جماعت کے نتائج کے مطابق سائنس گروپ میں فرسٹ پوزیشن اسلام آباد کے ایف جی بوائز مادل سکول آئی ٹین ٹو کے رول نمبر 704715 ، محمد اطہر عظیم نے 806 نمبر لے کر حاصل کی جبکہ گیریژن بوائے ہائی سکول طفیل روڈ لاہور کے رول نمبر 710989 احمد بشیر اور رول نمبر 737966 فاطمی سید نے بالترتیب 799`799 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور تیسری پوزیشن اسلام آباد کے ماجد مشتاق رول نمبر 701120 نے 798 نمبر لے کر حاصل کی ۔ اس طرح ہیو مینٹریز گروپ میں ایف جی سرور محمد حسین شہید گرلز ہائی سکول ملتان کینٹ کی سٹوڈنٹس رول نمبر 784669 ندا امجد نے 715 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ جبکہ سیکنڈ پوزیشن پر اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز سترہ میل کے حافظ محمد سعد اللہ رول نمبر 750054 نے حاصل کی اور تھر ڈ پوزیشن پر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز سترہ میل اسلام آباد کے حافظ سمیع اللہ داؤد اور اسلام آباد ماڈل کالجز فار گرلز ایف سیون فور کی ایس حنا حسین رول نمبر 781810 نے بالترتیب 705,705 نمبر لے کر حاصل کی۔

پاک افغان سرحد پر دراندازی روکنے کے لئے عراق سے نکالی گئی امریکی فوج افغانستان میں تعینات کی جائے ۔امریکی سینیٹر کا مطالبہ

واشنگٹن ۔ امریکی سینیٹر رچرڈ لوگر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دراندازی روکنے کے لئے عراق سے نکالی گئی امریکی فوج افغانستان میں تعینات کی جائے۔ امریکی سینیٹر اور فارن ریلیشن کمیٹی کے رکن رچرڈ لوگر نے سی بی ایس ٹیلی ویڑن کو انٹریو میں کہا کہ افغانستان میں صورتحال پیچیدہ ہے۔ عراق سے واپس بلائی گئی امریکی فوج افغانستان میں تعینات کی جائے۔سینیٹر لوگر نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر القاعدہ اور طالبان سے جھڑپوں میں زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہورہے ہیں۔ سینیٹر لوگر نے کہا کہ امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مولن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں زیادہ فوج کی ضرورت ہے۔ فوجی اعتبار سے اس کی یہی منطق ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج پر دباؤ کم کرنے کے لئے عراق سے واپس بلائی گئی امریکی فوج افغانستان میں تعینات کردی جائے۔

دوآبہ میں پانچویں روز بھی کرفیو نافذ زرگری سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی

شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں بھی وقفے وقفے سے جاریامریکی طیاروں کی پروازوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس اور اشتعال پھیل گیاوادی تیراہ میں تازہ جھڑپوں میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیںحکومت نے ہنگومیںآپریشن بند نہ کیا اور ان طالبان کو رہا نہ کیا تو پورے ملک میں حملے کریں گے۔ ۔ ۔ مولوی عمرقاری سیف اللہ نے ڈمہ ڈولہ میں جاسوسی کے الزام میں دوافراد کو قتل کرکے ان کی ویڈیو جاری کر دی
ہنگو + وانا+ میران شاہ ۔دوآبہ میں پانچویں روزبھی کرفیو نافذ رہاجس کے باعث زرگری سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے ادھر شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں بھی وقفے وقفے سے جاری ہیں جبکہ تیراہ میں تازہ جھڑپوں میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پیر کو پانچویں روز بھی کرفیو نافذرہا۔ کرفیو کی وجہ سے اشیائے خوردونوش اور ادویات کے حصول میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔جس کے باعث عوام کی بڑی تعداد نے یہاں سے نقل مکانی شروع کر دی ہے دوسری جانب ہنگو سے 35 کلومیٹر دور زرگری کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔ تاہم کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس علاقے میں ہفتے کے روز طالبان کے حملے میں سترہ سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔ زرگری کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر مقامی آبادی کوہاٹ اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہی ہے ہنگو میں حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب دوآبہ میں سیکورٹی فورسز نے سات طالبان کو گرفتار کرلیا تھا جس پر طالبا ن نے مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے29سیکورٹی اہلکار یرغمال بنالئے تھے۔جبکہ جنگجوؤں نے 50 افراد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ علاقے میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ آپریشن بند نہ ہوا تو ملک بھر میں کارروائی کرینگے،ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے نامعلوم مقام سے صحافیوں سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت نے ہنگو میں طالبان کے خلاف کارروائی بند اور گرفتار طالبان کورہا نہ کیا ،تو ملک کے دیگر علاقوں میں بھی حملے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو سیکورٹی فورسز کے 29 اہلکارقتل کردیئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مولانا رفیع الدین مدرسے کا معلم ہے جسے حکومت نے گرفتار کرکے طالبان کا اہم کمانڈر قرار دیا ہے۔مولوی عمر کا کہنا تھا کہ طالبان تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں مگر حکومت آپریشن کرکے حالات خراب کررہی ہے۔دوسری جانب جیش اسلامی باجوڑ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے صحافیوں سے فون پر بات کرتے ہوئے کہاکہ امریکا کے لیے جاسوسی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ ماہ ڈمہ ڈولہ میں جاسوسی کے الزام میں دوافراد کو قتل کرکے ان کی ویڈیو جاری کی گئی تاکہ امریکا کے لیے جاسوسی کرنے والے افراد عبرت حاصل کریں۔ ۔ ادھر وادی تیراہ میں تازہ جھڑپوں میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں شمالی وجنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں پر وقفے وقفے سے جاری ہیں۔ ان پروازوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس اور اشتعال پایا جاتا ہے۔ وادی تیراہ میں لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے درمیان جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔تازہ جھڑپوں میں مزید دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ اس دوران دو گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دونوں تنظیموں کے درمیان تنازعہ دو سال قبل ایف ایم ریڈیو پر نشر ہونے والی تقاریر کے بعد شروع ہوا تھا۔ لڑائی ختم کرانے کے لئے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کا تشکیل کردہ جرگہ دونوں گروپوں سے مذاکرات کرچکا ہے۔ تاہم اس کے باوجود مصلاحتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ دوسری جانب کرم ایجنسی کے علاقوں پیواڑ اور تری منگل میں متحارب قبائل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ کرم ایجنسی کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ علاقے میں قیام امن کے لئے ابھی تک انتظامیہ نے ٹھوس اقدامت نہیں کئے اور نہ ہی کشیدگی پر قابو پانے کے لئے کوئی جرگہ تشکیل دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں نواز شریف کی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت ١١ اگست تک ملتوی



اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی اہلیت کے متعلق دائر کی گئی درخواست کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی ۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی ۔ درخواست گزار کے وکیل احمد رضاقصوری نے سماعت کے دوران لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی ۔ اس پراٹارنی جنرل ملک قیوم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تین رکن بینچ لارجر بینچ ہی ہوتا ہے وفاق کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ رحمان اور پنجاب حکومت کی طرف سے خواجہ حارث نے بھی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی ۔جس پر سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی گئی ۔

امریکا طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر کارروائی کی باتوں سے گریز کرے ۔ آصف علی زرداری



اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ امریکاطالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر کارروائی کی باتوں سے گریز کرے اورنو منتخب حکومت سے فوری معجزے کی توقع نہ کرے۔ آصف علی زرداری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکا قبائلی علاقوں میں صورت حال بہتر بنانے کے لئے نو منتخب حکومت کو وقت دے۔ انہوں نے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر امریکی فوج کی کارروائیوں کے امریکی حکام کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرتا ہے اور یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔لیکن چار مہینے کی حکومت سے کسی معجزے کی توقع کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے امریکا سے کہا کہ نئی حکومت کو اپنی پالیسیوں پر عمل کرنے دیا جائے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم دورہ امریکا میں صدر بش سے پاکستانی حدود میں نیٹو فورسز کی کارروائی کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ا نہوں نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ قبائلی علاقوں کیلئے اپنی پالیسی جاری رکھے اور کسی غیر ضروری دباؤ میں نہ آئے۔ فاٹا کی صورت حال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں طاقت کے بجائے مذاکرات سے یہ مسائل حل کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ ججز کی بحالی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ججز کا مسئلہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں۔ آصف زرداری نے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کی اطلاعات کی تردید کی۔

موجودہ پیپلز پارٹی سے کوئی واسطہ نہیں ، بہت جلد یرغمال پیپلز پارٹی کو آزاد کرائیں گے ۔مخدوم امین فہیم

بے نظیر کے ساتھیوں کو سائیڈ لائن کر دیا گیا
ٹنڈو آدم ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہاہے کہ موجودہ پیپلز پارٹی سے ان کاکوئی واسطہ نہیں ہے بے نظیر بھٹو کے ساتھیوں کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے وہ بہت جلد یرغمال پیپلز پارٹی کو آزاد کرائیں گے ٹنڈو آدم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم امین فہیم نے کہاکہ یہ آنے والے حالات ہی بتائیں گے کہ پیپلز پارٹی کس کے ہاتھ میں یرغمال ہے محمد شامل ایم این اے اور وزراء میرے دئیے ہوئے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کشمالہ طارق کی طرح انہیں بھی پارٹی سے بے دخل کیاگیا تو اس وقت دیکھا جائے گا، مخدوم امین فہیم نے کہاکہ ملک کے حالات خانہ جنگی کی طرف جارہے ہیں اس سے قبل انہوں نے مسلم لیگ فنکشن کے رہنماؤں سے ملاقات کی ۔

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو کشیدگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی پیش کش کردی

سیؤل ۔ جنوبی کوریا نے دو طرفہ کشیدگی ختم کرنے شمالی کوریا کو مذاکرات بحال کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان جنوبی کوریائی سیاح خاتون کی ہلاکت پر بڑھنے والی کشیدگی کو روکا جا سکے ۔ گرینڈ نیشنل پارٹی کے رہنما یانگ جون پیو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا 53 سالہ خاتون کی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے سرگرم تعاون کرے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات کی مزید بہتری کے لیے ضروری ہے یانگ کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت میں خاتون کی ہلاکت ، شمالی کوریا کی خوراک کی امداد کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان امن عمل کے لیے اقدامات کی تجاویز شامل ہیں۔

فیصل آباد میں صنعتی ادارے چوتھے روز بھی بند رہے ، پاور لومز انڈسٹری بھی ہڑتال میں شامل

۔ ۔ ہزاروں محنت کشوں نے احتجاجی ریلی نکالی ، دس لاکھ محنت کش بے روزگار، غیر ملکی آرڈر بھی خطرے میں پڑ گئے
فیصل آباد ۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے خلاف فیصل آباد کے صنعتی ادارے چوتھے روز بھی بند رہے جبکہ آج پاور لومز انڈسٹری بھی ہڑتال میں شامل ہو گئی ۔ گی سو بجلی کے نرخوں میں زبردست اضافہ کے خلاف ہزاروں محنت کشوں نے فیصل آباد ایوان صنعت و تجارت سے ایک بڑا جلوس بھی نکالا جو ضلعی ناظم کے دفتر پہنچ کر احتجاجی دھرنا پر ختم ہوا ۔ جلوس کے شرکاء نے فیصل آباد کے تجارتی مرکز چوک گھنٹہ گھر میں بھی احتجاج کیا ۔ محنت کشوں نے یہاں جھنڈے اور بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر گیس و بجلی کے نرخ کم کرنے سمیت حکومت کے خلاف نعرے درج تھے ۔ فیصل آباد کی صنعت بند ہو جانے سے دس لاکھ سے زائد یومیہ اجرات پر کام کرنے والے محنت کش بے روزگار ہو چکے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق گیس و بجلی کے نرخ بڑھانے کے خلاف فیصل آباد کے صنعتی اداروں کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی ۔ ہزاروں محنت کشوں نے اس موقع پر فیصل آباد صنعتی اداروں میں کام کرنے والے جن میں آج سے پاور لومز انڈسٹری بھی شامل ہو گئی ہے ۔ ایک بہت بڑا جلوس نکالا جو شہر کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا ضلعی ناظم فیصل آباد کے دفتر کے باہر پہنچا جہاں صنعتی اداروں کے مالکان اور مختلف ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات پر فوری کان نہ دھرے تو آئندہ چند روز تک بہت سے غیر ملکی آرڈر بھی کینسل ہو جائیں گے کیونکہ اس وقت ہوزری، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور پاور لومز کو چلانا ممکن نہیں رہا ۔ بجلی و گیس کے نرخوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ سے صنعتکاروں کیلئے محنت کشوں کو معاوضہ ادا کرنا بھی ممکن نہیں رہا ۔ انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تباہی سے بچائیں ۔ صنعتی بحران سے دس لاکھ سے زائد ڈیلی ویجز محنت کش بے روزگر ہو گئے ہیں اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں ۔

مشرق وسطیٰ کا تنازعہ تصفیہ کے قریب ہے ‘ اسرائیل ‘ فلسطین

پیرس ۔ اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ جلدی ہی حل ہوسکتا ہے۔انہوں نے یہ امید فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بحیرہ روم کے ساحلی ممالک اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے ظاہر کی۔اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے کے اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔فلسطینی رہنما محمود عباس نیکہا کہ دونوں فریق سنجیدہ ہیں اور قیام امن چاہتے ہیں۔نئی تنظیم کی اہم ترین ترجیحات میں مشرق وسطی کا تنازعہ حل کرنا شامل ہے لیکن ساتھ ہی وہ آلودگی اور نقل مکانی جسیے مسائل کا احاطہ بھی کرے گی۔ سربراہی اجلاس کی میزبانی کے فرائض فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے انجام دیے۔سرکوزی نے کہا کہ مشرق وسطی کے ممالک کو اپنے اختلافات اسی طرح ختم کرنے چاہئیں جیسے بیسویں صدی میں یورپ نے کیے تھے۔ سرکوزی نے کہا کہ یورپ ‘ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے ملکوں کی یونین بنانا خطے کے لئے ایک اہم جوڑ ہے سربراہی اجلاس سے قبل سرکوزی نے اولمرٹ اور عباس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور فرانس کی کوشش ہوگی کہ اقتصادی ترقی اور سیاسی پیش قدمیوں سے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور فریقین کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا کیونکہ اصل مسئلہ اعتماد کی کمی ہے۔ اولمرٹ نے کہا کہ ’ رکاوٹیں، مسائل اور اختلافات تو ہوں گے لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھے۔ عباس نے کہا کہ قیام امن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اولمرٹ نے فلسطینیوں قیدیوں کو رہا کرنے پر اصولاً رضامند ہوگئے ہیں لیکن ان کی تعداد واضح نہیں کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی کا قیدیوں کے اس تبادلے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے بارے میں حزب اللہ اور حماس سے بات چیت چل رہی ہے۔ پریس کانفرنس میں اولمرٹ نے کہا کہ وہ شام کے ساتھ بھی براہ راست بات چیت چاہتے ہیں۔بہت سے مبصرین کا خیال ہے ہے کہ قیام امن کی راہ میں دو بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ حماس سے اختلافات کی وجہ سے محمود عباس کے ہاتھ کمزور ہیں اور اولمرٹ کو اپنے ملک میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ جس نئی تنظیم کا اتوار کو افتتاح کیا گیا ہے اس میں یورپی یونین کے علاوہ شمالی افریقہ، بلقان، اسرائیل اور عرب دنیا کے ممالک شامل ہیں۔

یورپی یونین زمبابوے کے خلاف کارروائی کرے: برطانیہ

لندن ، نیویارک ۔ امریکہ کی جانب سے زمبابوے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد پر روس اور چین کے ویٹو کے ایک روز بعد برطانیہ نے زمبابوے کے خلاف کارروائی کے لیے زور دیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے دفتر نے کہا کہ وزیر اعظم نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ صدرموگابے کی حکومت کے خلاف تشدد اور متنازع انتخابات کے سلسلے میں کارروائی کریں۔ برطانیہ اور امریکہ نے اقوام متحدہ کی مجوزہ پابندیوں کے خلاف ویٹو پر روس اور چین پر نکتہ چینی بھی کی ہے۔ ووٹنگ کے بعد زمبابوے کے اقوامِمتحدہ کے لیے سفیر نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون پر امریکہ اور برطانیہ کی طرف داری کرنے کا الزام لگایا۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے اس بیان کوانتہائی غیر مناسب اور ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور شفاف انتخاب کے ذریعے کسی قانونی حکومت کے چناؤ سے متعلق زمبابوے کے عوام کے حق کا دفاع کرنے میں کچھ بھی یک طرفہ نہیں ہے۔ صدرموگابے پچھلے مہینے انتخابات سے چند روز پہلے حزبِ اختلاف کے راہنما مارگن چنگیرائی کے الگ ہوجانے کے بعد واحد امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔حزبِ اختلاف کے راہنما نے کہا ہے کہ وہ اس لیے انتخاب سے الگ ہورہے ہیں کیونکہ ریاست کے تحت ہونے والے تشدد میں ان کے سو سے زیادہ حامی ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکہ کساد بازاری میں داخل ہوچکا ہے ۔اوباما

حکومت ان دنوں بڑی مارگیج کمپنیوں کو ناکام نہیں ہونے دے گی ‘ جان میک کین
واشنگٹن ۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے امکانی صدارتی امیدوار براک اوباما نے کہا ہے کہ اس بار ے میں اب بہت کم شک و شبہ باقی ہے کہ امریکہ کساد بازاری کاشکار ہوچکاہے۔ صحافیوں سے متعدد موضوعات پرگفتگو کرتے ہوئے سینٹیر اوباما نے کہا کہ وہ امریکہ کی اہم مارگیج کمپنیوں فینی مائے اور فریڈی میک کی مالی حالت کا بڑے غور سے جائزہ لیتے رہے ہیں۔ سینیٹر اوباما نے اس وقت بہت محتاط ردعمل ظاہر کیا جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ کی ان دونوں سب سے بڑی مارگیج کمپنیوں کو اس بحران سے نکالنے کے لیے وفاقی مدد کی حمایت کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما نے سرکاری اتنظام کے تحت چلنے والی ان دونوں کمپنیوں کے بارے میں بات کی ہے۔ ان کمپنیوں کے قرضے بہت بڑھ چکے ہیں اور سٹاک کی قیمتیں 1990ء کی دہائی کے آغاز کے بعدسے اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ری پبلیکن صدارتی امیدوار جان میک کین نے کہا کہ حکومت ان دونوں بڑی مارگیج کمپنیوں کو ناکام نہیں ہونے دے گی۔ اوباما نے ہفتے کے روز سی این این کو یہ بھی بتایا کہ وہ روس کو آٹھ بڑے صنعتی ملکوں کے گروپ سے نکالنا چاہتے ہیں جیسا کہ سینیٹر مکین نے تجویز دی ہے۔ اوباما کا سی این این پر پورا انٹرویو اتوار کو براڈ کاسٹ ہورہا ہے۔

ملیریا کا نیا ممکنہ طریقہ علاج دریافت

جینیاتی دریافت سے ملیریا کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ، محقیقین
ملبورن ۔ آسٹریلوی محققین نے ملیریا کے علاج کا ایک نیا ممکنہ طریقہ دریافت کیا ہے جسے ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔سائنسدان یہ پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ملیریا کی وجہ سے خون کے سرخ خلیات کیسے متاثر ہوتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام ملیریا کے جراثیم اور متاثرہ خلیات کو جسم سے نکالنے یا ’فلش‘ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ میلبورن کے والٹر اینڈ ایلیزا ہال میڈکل رسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک گوند جیسی شہ کی وجہ سے آلودہ خلیات نسوں کی دیوار سے چپک جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس جنیاتی دریافت سے ملیریا کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ گوند آلودہ خلیات کو سپلین یا تلی میں جانے سے روکتا ہے جہاں مدافعتی نظام عام طور پر انہیں تباہ کر سکتا ہے۔سائنسدانوں نے آٹھ پروٹینز کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے یہ گوند آلودہ خلیات سے چسپاں ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی پروٹین کو ہٹا دیا جائے تو اس عمل کو روکا جاسکتاہے۔ رسرچ ٹیم میں شامل پروفیسر ایلن کاون کہتے ہیں کہ یہ دریافت ملیریا کے خلاف ایک بڑا ہتھیار بن سکتی ہے۔’اگر ہم دواؤں یا ٹیکہ سے ان پروٹینز کو نشانہ بنائیں تو ہم اس عمل کو روک سکتے ہیں۔ اگر ہم نے خلیات کی رگوں میں چپکنے کی صلاحیت ختم کردی تو ملیریا کو روکا جاسکتا ہے۔‘ ملیریا قابل علاج بیماری ہے لیکن وقت پر علاج نہ کیا جائے تو جانلیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ اس بیماری سے ہر سال دس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد افریقی بچوں کی ہوتی ہے۔

خدشہ ہے نائن الیون کی طرح کا سانحہ پیش نہ آ جائے ۔ یوسف رضا گیلانی

غیر ملکی باشندے قبائلی علاقوں سے نکل جائیں تاکہ فاٹا میں امن کا قیام ممکن ہو سکے ،امریکی حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، اتحادیوں کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہےیہ الزام غلط ہے کہ فیصلے زرداری ہاؤس میں ہوتے ہیں ، وزیراعظم بننے کے بعد ایک بار بھی زرداری ہاؤس نہیں گیانواز شریف چھوڑ کر نہیں جائیں گے ، وہ ہمارے ساتھ رہیں گے ، اتحادیوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہےوزیر اعظم کی اسلام آبادمیں صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ قبائلی علاقوںمیں قیام امن تک کارروائی جاری رہے گی ۔ان علاقوں میں ازبک ، تاجک ، اور چیچن باشندے موجود ہیں ان غیرملکیوں کی موجودگی سے خدشہ ہے کہ نائن الیون طرح کاسانحہ پیش نہ آ جائے ۔یہ غیر ملکی باشندے ہماری زمین سے نکل جائیں ۔امریکی مداخلت کسی صورت قبول نہیں ہو گی۔ امریکا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کثیر الجہتی حکمت عملی کی حمایت کرتا ہے ۔کسی بھی ایسی بات کو جو ہماری خود مختاری کے خلاف ہو برداشت نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں موٹر وے پولیس کی تقریب تقسیم ایوارڈ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں توقع ہے دہشت گردی کے حوالے سے ہماری تین نکاتی حکمت عملی اور ہمارے معاملات میں امریکا مداخلت نہیں کرے گا نہ ہم اپنی خود مختاری پر کوئی آنچ آنے دیں گے ۔اپنے علاقوں پر کسی صورت امریکی حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اتحادیوں کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے ۔فاٹا میں جاری کارروائی امن کے لیے ہے اور اس وقت تک یہ کارروائی جاری رہی گی جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا ۔غیر ملکی ہمارے قبائلی علاقوں سے نکل جائیں تاکہ یہاں امن قائم ہو سکے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ کابینہ میں توسیع ، پارلیمانی سیکرٹریز ، کی تقرری ، قائمہ کمیٹیوں کے چےئرمینوں کی نامزدگی کے حوالے سے اتحادیوں سے بات ہوئی ہے ۔میاں محمد نواز شریف نے اس حوالے سے چوہدری نثار علی خان کو نامزد کیاہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ نواز شریف ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔ ہمارے ساتھ رہیں گے ۔افہام و تفہیم سے تمام معاملات حل کریں گے۔ اپوزیشن کی قدر کرتے ہیں ۔بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے بارے میں مسلم لیگ ق کی مخالفت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مشاہد حسین سید کو معلوم ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے کی قرار داد پارلیمنٹ نے منظور کی تھی ۔ سو روزہ پروگرام کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لوں گا۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کو تفصیل سے آگاہ کیاجائے گا۔ وزیر اعظم نے واضح کیاکہ اپنی سرزمین پر شر پسندوں کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کروں گا۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں حکومت تعلیم ، صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ ا یک سوال کے جواب میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ فیصلے زرداری ہاؤس میں ہوتے ہیں ، وزیراعظم بننے کے بعد ایک بار بھی زرداری ہاؤس نہیں گیا

روحانی قوت مریضوں کو جلد شفایاب کرسکتی ہے ، امریکی ماہرین طب

واشنگٹن ۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران امریکہ کے طبی شعبے میں کی جانے والی اسٹڈیز سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ روحانیت میں پوشیدہ قوت کے ذریعے جسم کے معدافعتی نظام کو بہتر بناکر روائتی میڈیکل علاج کی نسبت مریضوں کو زیادہ جلد صحت یاب کرنا ممکن ہے۔ چنانچہ اب روحانیت کو یہاں کئی میڈیکل کالجز میں کورس کے ایک مضمون کے طورپرشامل کیا گیا ہے۔ دعا کرنا ، قدر ت کاحصہ بننا، مراقبہ کرنا یا یوگا کرنا۔ ان سب پر عمل پیرا لوگوں کے مطابق ان میں ایک چیز مشترک ہے۔ یٰعنی ایک فرد کی شخصیت کی روحانی زندگی کا ایک مضبوط حصہ جس کی صحت اور بھلائی میں بہت اہمیت ہے۔ ڈاکٹر پوکالسکی پچھلے بیس سالوں سے اس موضوع پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں آپ روحانیت کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی کے اپنی صحت کو۔ بیاسی سالہ ویرا تھامسن دو عشروں سے روحانیت پر عمل پیرا ایک بدھسٹ ہیں۔ بہت سے دوسرے مریضوں کی مانند ان کے کیس نے بھی ڈاکٹر پوکالسکی کو روحانیت میں چھپی شفا کے بارے میں جاننے میں بہت مدد دی ہے۔ ڈاکٹر پوکالسکی کے مطابق بلا تخصیص مذہب ، عقیدہ یا عمل کے روحانیت کے مثبت اثرات میڈیکل سٹڈیز سے بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر پوکالسکی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں روحانیت اور صحت کے انسٹیوٹ کی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میڈیکل سکول میں روحانیت اور صحت کی استاد بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت میں روحانیت کا سب سے اہم کردار تکلیف اور دباو میں خطرناک بیماریوں سے مقابلے کی صلاحیت ہے۔ دو ہفتے قبل بریسٹ کینسر کے علاج کی غرض سے ان کی مریضہ گوینڈا مارٹن کی مکمل ماسٹک ٹومی ہوئی ہے۔ مارٹن اپنی تیز صحت یابی کا کریڈٹ مثبت سوچ اور اپنی چرچ کمیونٹی کی توجہہ کو دیتی ہیں۔ سرطان کی مریضہ گوینڈا مارٹن کا کہنا ہے کہ میرے خیال سے اس کا بہت بڑا تعلق ہے کیونکہ سرجری کے لیے جاتے وقت ہی مجھے یقین تھا کہ میں ٹھیک ہوجاوں گی۔ اپنے مریضوں سے ملاقات میں ڈاکٹر پوکالسکی ان سے فیزیکل ، جذباتی ، سماجی اور روحانی زندگی کے حوالے بہت سے غیر روائتی سوالات کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کء حوالوں سے وہ ذہن کی طاقت کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ کئی سال قبل رابرٹ بالکم جب ڈاکٹر پوکالسکی کے پاس پہلی مرتبہ آئے تو وہ ذہنی دباو کا شکار تھے۔ آج ستاسی سال کی عمر میں وہ پہلے کبھی کے مقابلے میں کہیں بہتر محسوس کرتے ہیں۔ رابرٹ بالکم کہتے ہیں کہ میرے لیے میرا عقیدہ کافی تھا اور میری صحت یابی میں اس کی اہمیت خوراک کی اہمیت کے ہی برابر ہے۔ ڈاکٹر پوکالسکی کے مطابق وہ ذہن ، جسم اور روح کے درمیان دوستی کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں اور یہ کہ مراقبے کے دوران تبت کے مونکز اور ذہنی تصویر کشی پر کی جانے والی سٹڈیز نے روحانیت کے مثبت اثرات کو ثابت کر دیا ہے۔ تاہم وہ مانتی ہیں کہ مغربی معاشرے پر ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقہ کار کا غلبہ ہونے کے باعث صحت مندی کی پیمائش انتہائی مشکل ہے۔

آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی طرف سے ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کا انکشاف

دبئی ۔ کرکٹ کے بین الاقوامی ادارے آئی سی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت میں حال ہی میں کھیلی گئی انڈین پریمئر لیگ کے دوران ایک کھلاڑی کے سامپل میں ممنوعہ دواؤں کے اثرات پائے گئے ہیں۔آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق کھلاڑیوں کے ٹیسٹ ممنوعہ دواؤں کے استعمال کی روک تھام کے عالمی ادارے ’واڈا‘ کی نگرانی میں کیے گئے تھے۔ ابھی کھلاڑی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ پہلے اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آیا اس کھلاڑی نے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے یہ دوائیں لی تھیں یا علاج کے سلسلے میں اس کے بعد ہی کھلاڑی کے پیشاب یا خون کا دوسرا سامپل جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔ اگر اس نمونے میں بھی ممنوعہ دواؤں کے اثرات ملتے ہیں تو معاملہ آئی پی ایل کے ڈرگ ٹرائبیونل کے سامنے جائے گا۔ٹرائبیونل معاملے کا جائزہ لیکر اپنا فیصلہ سنائے گا۔ کھلاڑی کو اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوگا۔آئی پی ایل کے کمشنر للت مودی کے مطابق ’ ابھی یہ معاملہ پہلے مرحلے میں ہی ہے کیونکہ صرف ایک ہی سامپل کی جانچ ہوئی ہے۔’کھلاڑی کا نام ظاہر کرنے کا سوال اسی وقت اٹھے گا جب ہم یہ تصدیق کر لیں گے کہ جن دواؤں کے اثرات سامپل میں ملے ہیں، ان کے استعمال کی پیشگی اطلاع تو آئی پی ایل کو نہیں دی گئی تھی۔

ہمارے دور میں کسی کو جرات نہیں تھی کہ پاکستان کیخلاف زبان کھولے۔چو ہدری شجاعت حسین

موجودہ حکومت میں دنیا کا کمزور ترین حکمران ہمیں دھمکیاں دے رہا ہےپہلے تو یہ حکمران جلا وطن تھے اب لگ رہا ہے حکومت ہی جلا وطن ہے ۔مشاہد حسین سید(ق) لیگ کے صدر اور جنرل سیکرٹری کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطابپشاور ۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے حکمران اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے دور میں کسی کو جرات نہیں تھی کہ پاکستان کے خلاف زبان کھولے جبکہ اس حکومت میں دنیا کا کمزور ترین حکمران ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے جس کی اپنی حکومت ایک محل تک قائم ہے ۔ ہم قومی اسمبلی میں بھی اس بات کو اٹھائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشا ہد حسین سید کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہاکہ پہلے تو یہ حکمران جلا وطن تھے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جلا وطن ہے ہر روز بیرون ملک دورے کر رہے ہیں اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملائیشیا کا 53 افراد کے ساتھ دورہ کیا اور واپسی پر آصف علی زرداری کے کہنے پر دبئی میں حکومت کے خرچے پر رکے رہے ۔ اس بات کا حساب انہیں پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے دینا ہو گا۔ انہوں نے بھارت کی دھمکیوں اور کابل بم دھماکے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔

جمہوری ہتھکنڈے اور سیاسی بونے ۔۔۔ تحریر : اے پی ایس ، اسلام آباد

اگر اعلان بھوربن کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کی جاتی تو اس سے حکمران اتحاد مزید مضبوط ہو جاتا مگر ججوں کی بحالی کے بغیر( ن ) والے وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے آئینی پیکج کو منظور کروانے کیلئے سینٹ میں دو تہائی اکثریت موجود نہیں البتہ صدر مشرف کا مواخذہ کرنے کیلئے ان کے پاس مکمل تعداد موجود ہے اٹھارہ فروری کے انتخابات کا عوامی مینڈیٹ بھی یہی ہے کہ معزول جج بحال کئے جائیں قوم میں مایوسی اور بے چینی ہے لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فیصلے کئے جائیں جس سے عوام کے مسائل حل ہوں اور ملک میں جمہوریت کو استحکام ہو ۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن سے رابطوں کے نتیجہ میں آئندہ چند دنوں میں حکمران اتحاد کا مشترکہ اجلاس اور اتحاد کے قائدین کی وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع ہیں وزیراعظم نے حکمران اتحاد کے قائدین کو ملاقات کی دعوت دی ہے آئندہ چند دنوں میں اہم قومی ایشوز کے حوالے سے حکمران اتحاد کے اجلاس کا امکان ہے۔ نواز شریف نے وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری کے حوالے سے امور کے بارے میں چوہدری نثار علی خان کو نمائندہ نامزد کیا ہے وزیراعظم او رحکمران اتحاد کے قائدین کے درمیان ان رابطوں کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے مشترکہ جمہوری ایجنڈے میں پیشرفت پر اتفاق ہوا ہے وزیراعظم اور حکمران اتحاد کے قائدین نے سرحدی علاقوں میں امریکی اور نیٹو افواج کے میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے قائدین نے وزیراعظم کو عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے تعاون اور مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ان کے اور وزیراعظم کے چیف جسٹس ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ محترمہ شہید کے ان الفاظ کا پاس رکھے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز ضرور بحال ہونے چاہیے چیف جسٹس کی بحالی پاکستان پیپلز پارٹی پر قرض ہے ججز کے ایشو کے حوالے سے موجودہ حکومت ٹھوکریں کھارہی ہے اسے چاہیے بے نظیر بھٹو کے اعلان کو پورا کرے اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ وکلاءتحریک کمزور پڑے گی تو وہ ذہن سے یہ خوش فہمی نکال دے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ججز کی بحالی کا مسئلہ ٹھنڈا پڑ جائے گا یہ مسئلہ ججوں کی بحالی تک ٹھنڈانہیں پڑے گا ۔ اگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو نام نہاد سیاسی بونے اپنی مقبولیت کھو بیٹھیں گے آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں معزول ججز کی بحالی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر پیپلز پارٹی کا گراف عوام میں کم ہو رہا ہے اور عوام نون لیگ کے بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ وہ ایسی مخلوط حکومت کا حصہ کیوں ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کے بغیر ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان میں مداخلت کی یا کوئی کاروائی کی تو اعلان جنگ ہو گا اور پاکستان کا بچہ بچہ امریکہ کے خلاف جنگ لڑے گا ۔ امریکہ پاکستان کے لئے ناسور سے کم نہیں اور حکومت کو پاکستان سے اتحاد ختم کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے بات چیت کی جائے اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق اور افغانستان سے نکل جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کی غیرت پر حملہ ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی ملک کی آزادی اور سالمیت کے لئے ضروری ہے اگر کسی نے اس کو نقصان پہنچایا تو تمام سیاسی اور دینی جماعتیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ملک خطرات سے دوچار ہے ۔بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پشاور پر طالبان قبضہ کریں گے مغربی میڈیا منفی پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنٹ دشمنوں سے مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عوام کو اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے کسی کو اس پر حملہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی ہم کسی کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت دیں گے ۔ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اگر ہم دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے تو دنیا ہمیں کیا کہے گی ۔ہمیں ذمہ دارشہریوں کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ہمارے لئے یہ خطہ انتہائی اہم ہے ۔وہ دو روز قبل وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی والدہ کی وفات پر فاتحہ کے بعد بلور ہاو¿س میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمدغنی،وزیراعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی،وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور سینٹر بابر اعوان بھی موجود تھے ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں اس بات کا نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان پر کوئی حملہ کرے گا کیونکہ ہم اپنے ملک کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور پاکستانیوں کو ان پر حملے کے لئے فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم خود مختار اور آزاد ملک ہیں اور پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مٹھی بھر چند عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کی عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان مٹھی بھر عناصر کو سمجھائیں کہ وہ ملک کی ترقی کا سوچیں اور ملک کے نقصان کا نہ سوچیں۔صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن بڑھنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیراعلیٰ جو بھی حکمت عملی طے کریں گے اور وہ ان کی حکمت عملی کا ساتھ دیں گے ۔وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ وفاقی کابینہ کے ورزاء پر کوئی عدم اعتماد نہیں تاہم کابینہ میں توسیع کی جا رہی ہے جب ہم نے کابینہ بنائی تھی تو وہ انتہائی مختصر تھی اور ہم مختصر کابینہ کے ساتھ حکومت چلا رہے تھے ہمارے اتحادی مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف نے اپنے وزراء کو مستعفی کرایا مگر انہوں نے یہ استعفیٰ منظور نہیں کیا اب ہمیں مجبوراً کابینہ میں توسیع کرنا پڑ رہی ہے ۔نئے وزراء کابینہ میں شامل کئے جائیں گے تاکہ ملکی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹری سیکرٹری بنانے ہیں اور ہمیں سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل کرنی ہے وہ بھی مشاورت سے ہوگی۔طالبان کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام جو چاہیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہم کسی اور کی بات نہیں مانیں گے کیونکہ ہماری حکومت عوامی ہے اور ہم عوام کے ساتھ ہیں ۔امریکی فوجی جرنیل مولن کی پاکستان آمد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات ہیں امریکہ کے ساتھ نہ صرف ہمارا دفاعی بلکہ اقتصادی ،تعلیمی ،صحت ،دفاع اور مختلف مدوں میں تعاون ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔صوبہ سرحد میں آٹے کے بحران سے متعلق وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اس اجلاس میں تمام صوبوں کے مسائل پر بحث ہوگی اور ان کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبوں کی مشکلات کا احساس ہے اور آئندہ کے اجلا س میں اس پر غور و خوص کیا جائے گا ۔ہنگو میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بارے میں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے اہلکار جس جوانمردی ،ہمت اور سروں پر کفن باندھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں اس پر وہ انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کبھی ہتھیار نہیں پھینکے اور نہ ہی وہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ کرتے ہیں وہ ملک کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو صوبائی خود مختاری دینے اور انہیں ان کے حقوق دینے میں مخلص ہے اور صوبہ سرحد کا بجلی کے خالص منافعے کی مد میں جو حق بنتا ہے وہ اسے دلایا جائے گا۔وزیراعظم نے سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب وہ سو دن کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے تو وہ اس موقع پر اہم اعلانات کریں گے صوبہ سرحد کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گورنر سرحد اور وزیراعلیٰ سرحد اس صوبے کے نمائندے ہیں اور صوبے میں اتحادی جماعت کی حکومت ہے اس لئے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک کی بھرپور مزاحمت اور مخالفت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بیرونی مداخلت ، سرحدی علاقوں میں نیٹو فورسز کے حملوں ، بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے ، حکومت کی سو روزہ کارکردگی اور اپوزیشن کے خلاف حکومت کی ا نتقامی کارروائیوں کے حوالے سے چار الگ الگ مذمتی قرار دادیں منظور کرلی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتوار کے روز اسلام آباد میں پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین، سید مشاہد حسین اور چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو مسلم لیگ(ق) ا ور اس کی اتحادی جماعتوں نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے ۔ حکمران اتحاد ان کے خلاف اصولی نہیں بلکہ ذاتی مخالفت اور مفاد کی خاطر مواخذے کی بات کررہا ہے۔ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی گئی تو پاکستان مسلم لیگ(ق) اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اجلاس میں سارے امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ملک کے حالات انتہائی مخدوش اور خطرناک ہے ۔ صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کی صور تحال افسوسناک ہے ۔ بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک صورت حال کی کوئی نوٹس نہیںلیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو پروا ہ ہوتی تو وہ ناکام ہو جاتی تو ہم یہ ضرور کہتے کہ چلیں کوشش تو کی گئی تھی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمران اتحاد ذاتی مفادات کی طرف گامزن ہے ۔ مشاہد حسین سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں 40 سے زائد رہنماو¿ںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اجلاس میں سرحدی علاقوں میں امریکی حملوں میں جاں بحق سویلین و فوجیوں کے دعائے مغفرت ، اسی طرح ڈاکٹر ارباب غلام رحیم ، حاجی غلام احمد بلور ، اسفند یار ولی خان اور طارق عظیم کے ساتھ ان کے رشتہ اداروں کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں چار قراردادیں منظور کی گئیں پہلی قرار داد میں بڑھتی وئی بیرونی مداخلت ، امریکہ ونیٹو فورسز کے حملوں کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) بیرونی مداخلت اور ان حملوں کے خلاف سینٹ و قومی اسمبلی میں قرا ردادیں جمع کرائیں گی ۔ دوسری قرار داد میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے کی مذمت کی گئی ہے ۔ یہ آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے ۔ نیا پنگا لیا گیا ہے ۔ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کمزور ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت نے سو دنوں میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ ملک کی سلامتی کو داو¿ پر لگایا جا رہا ہے ۔ حکومت کوچا ہیے تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی ، اقتصادی وسائل کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ، اسی طرح سیاسی انتقام کے حوالے سے حکومتی کارروائیوں کے خلاف بھی مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں اور رہنماو¿ں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں ۔ خصوصا سندھ اور بلوچستان میں انتقامی کارروائیوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا سلسلہ عروج پر ہے جو آمرانہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے ۔ ٹھٹہ میں مسلم لیگ(ق) کے تین کارکنوںکو شہید کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی قرار داد قومی مفاہمت کے حوالے سے منظور کی گئی ہے ۔ جس میںکہا گیا ہے کہ قومی مفاہمت کے لیے حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اس ایشو سیکورٹی و سلامتی ، دہشت گردی کے حوالے سے قومی اتفاق رائے کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرے ۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے بھارتی حکام کے ان بیانات جس میں کابل خود کش حملے کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ہے کی مذمت کی ہے ۔ اور ان بیانات کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرزئی ، نیٹو یا امریکہ کوئی بھی ہو پاکستا ن کو میلی آنکھ نہیں دیکھ سکتا ۔ حکومت نے اس ایشو پر معذرت خوانہ رویہ اختیار کررکھا ہے بلکہ قومی سلامتی کے ان ایشوز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرکے پاکستان کی ایجنسیوں اور اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ان ایشوز کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف اپنا متحرک اور فعال کردار ادا جاری رکھے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت رہے یا نہ رہے یا وہ کمزور ہو ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اپوزیشن میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو دن دیہاڑے سرحد ی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ بیرونی مداخلت کو نئی حکومت خود دعوت دے رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ججوں کے ایشو کو لیگل کمیٹی دیکھ رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ قومی مفاہمت کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس پنجاب میں آدھی جمہوریت ہے ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہوئی ہے ہمارے دور میں صوبائی کابینہ کی تشکیل سے پہلے اپوزیشن لیڈر کی تقرری ہوئی ۔ ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ حکومت سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ملائیشیا سے وطن واپسی پر سرکاری جہاز کو دوبئی نہیں لے جاناچاہیے تھا۔ پارٹی اجلاس کے لیے سرکاری وسائل کو استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود اپنے خلاف چارج شیٹ تیار کررہی ہے ۔ جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوہری معاملے کی مزید تفتیش کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی مستقبل میں کوئی تفتیش نہیں کی جائے گی کہ پاکستانی فوج نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مدد کی تھی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے پاکستان امریکی یا کسی دوسرے بیرونی ممالک کی فوج کو اسامہ کی گرفتاری یا القاعدہ کے دیگر سرکرہ رہنماو¿وں کی تلاش کے لیے اپنے ملک میں کارروائی کی اجازت دے گا امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہ اپنی آزادی اور خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دے گا واشنگٹن میں امریکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوہری معاملے کاکیس اب داخل دفتر کر دیا گیا ہے اور اب سلسلے میں مزید تفتیش نہیں ہو گی جو کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا کیا جا چکا ہے جو اقدامات کیے جانے تھے کئے جا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ مقصدیہ تھا کہ دنیا کو محفوظ رکھا جائے اور جوہری آلات کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ مستقبل میں نہ ہو اور یہ مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک ہمارا نظریہ ہے ڈاکٹر اے کیو خان اب تاریخ کا حصہ ہیں ان کا کوئی سرکاری رتبہ نہیں ہے جو نیٹ ورک انہوں نے تیار کیا تھا وہ توڑا جا چکا ہے وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تفتیش سے پہلے ہی الزام نہیں لگانا چاہتے ہم ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انکوائری کرانا چاہتے ہیں میں کہہ رہا ہوں کہ نہ تو ہم اس امکان کو خارج کر سکتے ہیںاور نہ ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ ہماری سرحدوں کی خلاف وزری سے باز رہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہماری فوج، پیرا ملٹری فورسز اور ریگولر فورسز کی بڑی تعداد سرحدوں پر تعینات ہے وہ موثر کارروائی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے افراتفری اور انتشار پھیلے گا پاکستان عوام اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور یہ ہماری خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان ہو گا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روزانہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو نڈولیزرائس سے ملاقات میں ان پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے نمٹ رہی ہے اورضرورت پڑنے پر خود کارروائی کرے گی شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیاکہ دراندازی کے بعض واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن امریکی فوج القاعدہ کے سربراہ دیگر سرکردہ رہنماو¿وں ، طالبان ارکان یا کسی دوسرے مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن نہیں کر رہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے دیگر سرکردہ رہنماو¿ں کی تلاش یا گرفتاری کے لیے امریکہ یہ کسی دوسرے ممالک کی افواج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گا ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں جانتا ہے اور نہ ہی وہ یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن دلان پاکستان میں ہے لیکن ہماری پالیسی بالکل واضح ہے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اور اگر پاکستان کو اسامہ یا کسی دوسرے ہائی ویلیو ٹارگٹ کے بارے میں ٹھوس شواہد ملے تو پاکستان خود فوری کارروائی کرے گا اس سلسلے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ ہی پاکستان کسی کو مداخلت کی اجازت دے گا کیونکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات ابھر یں گے میںتو یہ کہوں گا ہمیں موجود باہمی تعاون کی فضاءکو تقویت دینا ہو گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ تلاش کر نا ضروری ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد حل ملٹری آپشن نہیں یہ جنگ فوجی کارروائی کے علاوہ عوام کے دل اور دماغ جیت کر بھی لڑی جا سکتی ہے ۔اے پی ایس

Sunday, July 13, 2008

طالبان کی تحویل میں سیکورٹی اہلکاروں کے مستقبل کا فیصلہ جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔ مولوی عمر

ہنگو ۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ 29 سیکورٹی اہلکار طالبان کی تحویل میں ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائیگا ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک کی تنظیموں کو انتقامی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے مولوی عمر کا کہنا ہے کہ ہنگو میں جرگے کی مداخلت پر ہی سیکورٹی اہلکاروں کی لاشیں واپس کی گئی تھیں مولوی عمر کا کہنا ہے کہ ہنگو کے حوالے سے مقامی طالبابن کی تنظیم جو فیصلہ کرے گی وہ قبول ہو گا۔

اعلان بھوربن کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کی جائے تو اس سے حکمران اتحاد مزید مضبوط ہو گا ،احسن اقبال

چکوال ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے اتوار کے روز بتایاکہ اگر اعلان بھوربن کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کی جائے تو اس سے حکمران اتحاد مزید مضبوط ہو گا مگر ججوں کی بحالی کے بغیروفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے وہ ناروال سے چکوال پریس کلب میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس آئینی پیکج کو منظور کروانے کیلئے سینٹ میں دو تہائی اکثریت موجود نہیں البتہ صدر مشرف کا مواخذہ کرنے کیلئے ہمارے پاس مکمل تعداد موجود ہے انہوں نے کہاکہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا عوامی مینڈیٹ بھی یہی ہے کہ معزول جج بحال کئے جائیں اور صدر کا مواخذہ کیاجائے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سیاسی فیصلہ کرنا ہے آئینی پیکج کا معزول ججوں کی بحالی سے کئی تعلق نہیں ہونا چاہیے لہذٰا ہم انتظار میں ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت معزول ججوں کی بحالی کا دوٹوک فیصلہ کب کرتی ہے انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی لندن میں کوئی ملاقات متوقع نہیں اور اس ضمن میں ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقات جب بھی ہو پاکستان میں ہو انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) میاں نواز شریف کی قیادت میں پوری طرح سے متحد ہے اور معزول ججوں کی بحالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی انہو ںنے کہاکہ قوم میں مایوسی اور بے چینی ہے لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فیصلے کئے جائیں جس سے عوام کے مسائل حل ہوں اور ملک میں جمہوریت کو استحکام ہو کیونکہ صدر مشرف کی موجودگی میں یہ بات طے ہے کہ جمہوریت کو کبھی بھی استحکام نہیں آ سکتا

آئندہ چند دنوں میں حکمران اتحاد کے قائدین کے مشترکہ اجلاس کا امکان

اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن سے رابطوں کے نتیجہ میں آئندہ چند دنوں میں حکمران اتحاد کا مشترکہ اجلاس اور اتحاد کے قائدین کی وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ وزیراعظم نے اتوار کو ان رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اہم قومی امور کے بارے میں ان سے گفتگو کی وفاقی کابینہ میں ممکنہ توسیع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کے انتخابات پارلیمانی سیکرٹری کی تقرری کے بارے میں امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکمران اتحاد کے قائدین کو ملاقات کی دعوت دی ہے آئندہ چند دنوں میں اہم قومی ایشوز کے حوالے سے حکمران اتحاد کے اجلاس کا امکان ہے۔ نواز شریف نے وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری کے حوالے سے امور کے بارے میں چوہدری نثار علی خان کو نمائندہ نامزد کیا ہے وزیراعظم او رحکمران اتحاد کے قائدین کے درمیان ان رابطوں کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے مشترکہ جمہوری ایجنڈے میں پیشرفت پر اتفاق ہوا ہے وزیراعظم اور حکمران اتحاد کے قائدین نے سرحدی علاقوں میں امریکی اور نیٹو افواج کے میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے قائدین نے وزیراعظم کو عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے تعاون اور مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے

ڈیرہ اسماعیل خان ، شہداء کانفرنس کے اختتام پر خود کش حملہ ، حملہ آور ہلاک ٤ شرکاء زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کی جانب سے اتوار کو منعقدہ شہداء کانفرنس کے اختتام پر خود کش حملے میں حملہ آور ہلاک اور 4شرکاء شدید زخمی ہو گئے ہیں ۔ زخمیوں میں لال خان، ریاض حسین، محمد بلال اور محمد طارق شامل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق یہ خود کش حملہ شام ساڑھے چھ بجے کے قریب اس وقت ہوا جب کانفرنس کے اختتام پر شرکاء اپنے اپنے علاقوں کی طرف سے جارہے تھے کانفرنس کے دوران پولیس کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہونے والاہے تاہم خود کش حملہ آور سیکیورٹی کے تحت انتظامات ہونے کی وجہ سے کانفرنس میں تو داخل نہ ہو سکا تاہم اس نے اس کے اختتام پر ایک کوچ کے قریب جاکر دھماکے سے اڑا لیا اس کانفرنس کا مقصد ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا اس کانفرنس میں ملک بھر سے جید علماء ذاکرین اور لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اس کانفرنس میں ایم ایم اے کے نائب امیر علامہ ساجد نقوی نے بھی شرکت کی ۔ یہ کانفرنس اتوار کی صبح نو بجے شروع ہوئی اور ساڑھے چھ بجے شام تک جاری رہی اے آئی جی حاجی حبیب الرحمن نے ایک روز قبل سیکیورٹی کے انتظامات کا خود جائزہ لیا اور کانفرنس کے موقع پر ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان سارا دن خود بھی وہاں موجود رہے اور سیکیورٹی انتظامات کاجائزہ لیتے رہے

راولپنڈی یوم شہداء کشمیر کی تقریب ، ریاست جموں وکشمیر کے مقبوضہ حصے کو بھارت کے قبضہ سے آزاد کرانے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

راولپنڈی ۔ راولپنڈی میں کشمیر سنٹر کے زیر اہتمام یوم شہدائے کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تقریب میں منظور کی جانے والی قرار دادوں کے ذریعے جدوجہد آزادی میں مصروف کار کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاگیا اور ریاست جموں وکشمیر کے مقبوضہ حصے کو بھارت کے قبضہ سے آزاد کرانے تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا قرار داد میں تیرہ جولائی 1931ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ا کی جلائی ہوئی شمع آزادی کو نہ بھجنے دینے کا عزم ظاہر کیاگیا ایک اور قرار داد کے ذریعے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ ریاست سے فوجوں کے انخلاء مظالم کے خاتمے اور انسانی حقوق کی پامالی روکنے کیلئے اپنا کردار اداکریں اس تقریب کی صدارت کشمیر سنٹر راولپنڈی کے ڈائریکٹر سروس حسین گلگتی نے کی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما سید محمد یوسف نسیم ، مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ ، جموں وکشمیر یوتھ کونسل کے چیئرمین سردار ممتاز عباسی ، راجہ خان افسر خان ، سردار ساجد محمود ، ویمن کوآرڈی نیٹر شہناز میر ،شیخ محمد اقبال ، سردار عاصم عباسی اور عطاء الرحمن چوہان نے تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی اور اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کشمیری عوام کا وکیل ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کشمیری عوام کو الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے دکھ درد سے لا تعلق نہیں رہ سکتے انہوں نے کہاکہ آزّادی کی جدوجہد میں مصروف کار اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے ممبر قومی اسمبلی نے تیرہ جولائی 1931 کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یقین ظاہر کیاکہ قربانیاں رنگ لائیں گی کشمیر کی آزادی کو اب زیادہ دیر تک دبایانہیں جا سکتا طارق فضل چوہدری نے کہاکہ الحاق پاکستان کی کامیابی تک مسلم لیگ (ن) کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ رہے گی ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے رہنما سید یوسف نسیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوم شہداء کشمیر کی تاریخی اور سیاسی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم عالمی اداروں کی بے حسی ، بھارتی فوج کے جبرو تشدد اور ہزاروں کی تعداد میں اجتماعی قبروں کی ریادت کے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تقریب سے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی راولپنڈی شاخ کے امیر عطاء الرحمن چوہان نے بھی خطاب کیا

پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پر جھنڈا لہرانے کے وعدے کو پورا کرے ۔اعتزازاحسن

اسلام آباد ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ان کے اور وزیراعظم کے چیف جسٹس ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ محترمہ شہید کے ان الفاظ کا پاس رکھے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز ضرور بحال ہوں گے چیف جسٹس کی بحالی پاکستان پیپلز پارٹی پر قرض ہے ججز کے ایشو کے حوالے سے موجودہ حکومت ٹھوکریں کھارہی ہے اسے چاہیے بے نظیر بھٹو کے اعلان کو پورا کرے اور چیف جسٹس کے گھر پر جھنڈا لہرائے گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ان کے گھر پر ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ پاکستان کے عوام جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس مانتے ہیں عبدالحمید ڈوگر کو عوام چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتے پیپلز لائرز فورم بے نظیر بھٹو شہید کے الفاظ کی پاسداری کرتے ہوئے عبدالحمید ڈوگر اپنے کنونشن میں نہ بلائے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے بھی کہا تھا کہ ایک وقت میں دو چیف جسٹس نہیں ہو سکتے وکلاء تحریک ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی جلد تمام ججز بحال ہوں گے پاکستان پیپلز پارٹی کو ججز کو بحال اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پاکستان کا جھنڈا لہرانا چاہیے کیونکہ بے نظیر نے کہاتھا جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی پاکستان کے چیف جسٹس ہیں اس ایشو پر موجودہ حکومت ٹھوکریں نہ کھائے اور پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی قائد کے بیان کی پاسداری کرے چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ لانگ مارچ کامیاب ہوئی ہے اس پر کسی کو اختلاف نہیں لوگ اس لانگ مارچ پر خوش ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد ججز کی بحالی تک جاری رہے گی انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جلد یورپ کا دورہ کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اٹھارہ جولائی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فیصلے ہوں گے اور پھر انیس تاریخ کو آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کے فیصلے ہوں گے انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ وکلاء تحریک کمزور پڑے گی تو وہ ذہن سے یہ خوش فہمی نکال دے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ججز کی بحالی کا مسئلہ ٹھنڈا پڑ جائے گا میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ججوں کی بحالی تک ٹھنڈانہیں پڑے گا سب ججز بحال ہوں گے۔گزشتہ روز پنجاب کے وکلاء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جوکوئی جج اب بھی حلف اٹھائے گا یا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری چھوڑ کر جائے گا وہ پی سی او کا جج کہلائے گا انہوں نے کہاکہ ججز جلد بحال ہوں گے اب تھوڑا راستہ باقی ہے وکلاء تحریک اپنی حکمت عملی سے دکھا دے گی کہ وہ کتنی فعال اور طاقتور تحریک ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت اس مسئلے سے ٹھوکریں کھارہی ہے انہوں نے کہاکہ افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس ہیں وہ جلد یورپ جائیں گے انہیں اس دورے کی یورپین پارلیمنٹ سے دعوت مل چکی ہے تاہم ان کے اس دورے کی تاریخ جلد طے پا جائے گی چوہدری اعتزاز احسن نے کہاکہ میں امریکہ سے ہو کر آیا ہوں پاکستان سمیت پوری دنیا اس کو چیف جسٹس آف پاکستان مانتی ہے وہ ڈوگر کو کسی صورت نہیں مانتی ڈوگر لاڑکانہ جانا چاہتے ہیں جبکہ لاڑکانہ بار نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے انہیں بلایا ہی نہیں ہے ڈوگر سکھر بھی جانا چارہے ہیں مگر سکھر بار نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہم نے بھی انہیں نہیں بلایا ۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ جس کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے کرسی پر بٹھایا ہوا ہے جس کو عوام نہیں مانتے اس کو کتنی دیر روکیں گے اس سوال پر کہ پیپلز لائرز فورم عبدالحمید ڈوگر کو روکنا چاہتے ہیں اور ایک فنکشن پر بھی انہیں نہیں بلایاگیا جواب میں اعتزاز احسن نے کہاکہ انہیں بے نظیر کی روح کو روکنا چاہیے پیپلز لائرز فورم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس مقام پر میں اس وقت کھڑا ہوں اس جگہ پر شہید قائد نے کہا تھا کہ افتخار محمد چوہدری ان کے چیف جسٹس ہیں پاکستان کے چیف جسٹس ہیں یہ آواز پیپلز لائرز کے کانوں میں گھونجنی چاہیے بے نظیر نے کہاتھا کہ وہ خود آ کر چیف جسٹس کے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گی یہ پیپلز پارٹی اور پیپلز لائرز فورم پر قرض ہے کہ وہ اسے پورا کریں پیپلز لائرز فورم کو چاہیے کہ وہ اپنی قائد کے الفاظ کا پاس کریں اگر وہ پی پی پی کے ساتھ واقعتاً ہیں تو وہ اپنی قائد کو الفاظ کو یاد کریں میرے کانوں میں بے نظیر بھٹو کے یہ الفاظ تواتر کے ساتھ گھونجتے رہتے ہیں یہ بے نظیر بھٹو کی وصیت ہے وہ کہہ کر گئیں ہیں کہ افتخار محمد چوہدری ہی چیف جسٹس ہیں ان کے گھر پر جھنڈا لہرانا ہے پیپلز لائرز فورم کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے اور یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ایک وقت میں دو چیف جسٹس نہیں ہو سکتے اگر بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں اور ان کی زندگی میں تھے اسے وہ واضح کر کے گئی ہیں تو پھر ڈوگرپاکستان کا چیف جسٹس نہیں ہو سکتا ان کے وزیراعظم گیلانی اور شہید قائد نے بھی کہاہے یہ پیپلز لائرز فورم کو خیال کرنا چاہیے میری اپیل بھی پیپلز لائرز فورم والوں سے یہی ہے کہ وہ اپنی قائد کے قول کے مطابق ڈوگر کو کنونشن میں نہ بلائیں تاہم بلاتے ہیں ان کی مرضی ہے بحر حال انہیںنہیں بلانا چاہیے ۔ اگر وہ واقعی بے نظیہر بھٹو شہید کے پرو کار ہیں اگر بے نظیر بھٹو کے چیف جسٹس افتخار چوہدری ہیں تو پیپلزپارٹی کے وکلاء کے بھی افتخار چوہدری ہی چیف جسٹس ہیں انہوں نے توقع کی کہ پیپلز لائرز فورم کے وکلاء ہمارے ساتھ رہیں گے اور بے نظیر کے ان اقوال کو فراموش نہیں کریں گے

وعدے پورے نہ کرنے پر ن لیگ مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ جاوید ہاشمی

آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں
لاہور۔ مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے اگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو نون لیگ اپنی مقبولیت کھو بیٹھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں متحدہ مسلم موومنٹ کے زیراہتمام آل پارٹیز ملک بچاؤ کانفریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ آئین کو پامال کرنے اور پارلیمینٹ توڑنے والے آزاد پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججز کی بحالی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر پیپلز پارٹی کا گراف عوام میں کم ہو رہا ہے اور عوام نون لیگ کے بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ وہ ایسی مخلوط حکومت کا حصہ کیوں ہیں۔ لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی۔

اگر امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا تو اعلان جنگ کیا جائے گا،قاضی حسین احمد

پشاور ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان میں مداخلت کی یا کوئی کاروائی کی تو اعلان جنگ ہو گا اور پاکستان کا بچہ بچہ امریکہ کے خلاف جنگ لڑے گا ۔وہ میرہ کچوڑی میں دستاربندی کی تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے لئے ناسور سے کم نہیں اور حکومت کو پاکستان سے اتحاد ختم کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے بات چیت کی جائے اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق اور افغانستان سے نکل جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کی غیرت پر حملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی ملک کی آزادی اور سالمیت کے لئے ضروری ہے اگر کسی نے اس کو نقصان پہنچایا تو تمام سیاسی اور دینی جماعتیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ملک خطرات سے دوچار ہے ۔بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پشاور پر طالبان قبضہ کریں گے مغربی میڈیا منفی پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنٹ دشمنوں سے مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔

پاکستانی سرحدی علاقے میں افغانستان سے ٢ میزائل فائر

وانا ۔ پاکستان کے سرحد ی علاقے انگور اڈہ پر افغانستان سے فائر کئے گئے دو میزائل آگرے جبکہ افغان صوبے ارزگان میں خودکش حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد ہلاک ہو گئیاورلوگر سے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی کو اغوا کر لیا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ پر افغان فوج نے دو میزائل فائر کئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں اسی علاقے پر اتحادی فوج کے حملے میں آٹھ سیکورٹی اہلکار اور دو مقامی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ قمر سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے امریکی فوج کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان صوبہ ارزگان کے ضلع دہیہ رعود کے ایک بازار میں افغان اور اتحادی سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور بیس راہگیر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ حملے میں 37 راہگیر اور پانچ پولیس اہلکا ربھی زخمی ہوئے۔ حکام نے واقعے تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب صوبہ کنڑ میں اتحادی فو ج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں۔ جھڑپ میں اتحادی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صوبہ زابل میں پولیس گاڑی کو نشانہ بناکر سڑک پر بم دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں تین پولیس افسران مارے گئے۔ صوبہ بغلان میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا اتحادی فوجی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گیا۔ نورستان افغان سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں چار طالبان کو ہلاک کردیا۔ صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دوسری جانب لوگر سے نامعلوم مسلح افراد نے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی احمد زئی کو اغوا کر لیا ۔ابھی تک کسی گروپ نے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ضلع ہرنائی میں طوفانی بارش و سیلاب نے تباہی مچادی درجنوں کچے مکانات مہندم سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے

ہرنائی ۔ ضلع ہرنائی میں طوفانی بارش و سیلاب نے تباہی مچادی درجنوں کچے مکانات مہندم سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور کئی حفاظتی بندات ٹوٹ گئے ہزاروں گھرسیلاب کی زد میں ہے دوبارہ بارش اور سیلاب آنے کی صورت میں ہزاروں خاندان کا تباہ ہونے کا خدشہ ہے جسکی وجہ سے اکثر لوگوں نے اپنے گھروں کو خالی کرکے رات محفوظ مکامات پر گزاری شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے علاقے میں خوف کی فضاء ہے ندی نالوں میںشدید طغیانی آنے کی وجہ سے ہرنائی کوئٹہ روڈ اور ہرنائی سنجاوی روڈ مکمل طور پر بند ہے تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شب ہرنائی میں ہونے والے بارش و سیلاب نے تباہی مچادی ہے کلی زرمانہ ،کلی سیان،کلی ترو،کلی غڑمی ،کلی سرکان ،سید آباد،کلی لعل خان،کلی میرزا محلہ غیریب آباد ،اندڑ آباد ،جلال آباد،و گردونواح میں سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئی ہے اور درجنوں کچے مکانات منہدم ہوچکے ہے اور ایک شخص دیوار گرنے سے شدید زخمی ہوا ہے ضلع ہرنائی سیلاب اور بارش سے ہونے والے تباہی پر صوبائی ضلعی حکومت کی طرف خاموشی پر ہرنائی سیا سی رہنماؤں ،پشتونخوامیپ کے صوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال،یونین کونسل صدر ہرنائی کے ناظم مولوی عبدالحنان،پشتونخوامیپ کے رہنماء سید غفور شاہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے انہوں نے کہاکہ ہرنائی ضلع میں کسی بھی محکمہ کا کوئی زمیدار آفیسر موجود نہیں انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور بارش اور سیلاب سے ہونے والے تباہی کو مذید روکنے کیلئے اقدامات کریں ،ضلعی رابطہ آفیسر صدیق مندوخیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم تمام محکموں کے آفیسران کو الر ٹ کیا ہے اور متاثرین کے نقصانات کا جائز ہ لینے کیلئے ریونیو کے ٹیمیں روانہ کئے ہے صوبائی وزیر جیل خانہ جات ملک سلطان ترین نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعلیٰ صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر ہرنائی میں بارش اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات کریگی

جنوبی افغانستان میں خودکش حملے میں ٥ پولیس اہلکاروں سمیت ٢٤ افراد ہلاک ، ٣٠ زخمی

وانا+ کابل۔ پاکستان کے سرحد ی علاقے انگور اڈہ پر افغانستان سے فائر کئے گئے دو میزائل آگرے جبکہ افغان صوبے ارزگان میںسیکورٹی فورسز کے حملوں اور خودکش بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت73 افراد ہلاک 38 زخمی ہو گئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں 42 طالبان 24 شہری 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ادھر لوگر سے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی کو اغوا کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطامبق جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ پر افغان فوج نے دو میزائل فائر کئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں اسی علاقے پر اتحادی فوج کے حملے میں آٹھ سیکورٹی اہلکار اور دو مقامی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ قمر سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے امریکی فوج کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان صوبہ ارزگان کے ضلع دہیہ رعود کے ایک بازار میں افغان اور اتحادی سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور20 راہگیر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ حملے میں 37 راہگیر اور ایکپولیس اہلکا ربھی زخمی ہوئے۔ایک دوسرے واقعے میں طالبان نے صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیاحکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب صوبہ کنڑ میں اتحادی فو ج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں۔جس میں سیکورٹی فورسز نے40 کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دیگر دو طالبان ایک دوسرے واقعے میں مارے گئے ہیں اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں اتحادی افواج کوبھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صوبہ زابل میں پولیس گاڑی کو نشانہ بناکر سڑک پر بم دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 3پولیس افسران مارے گئے۔ صوبہ بغلان میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا اتحادی فوجی زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گیا۔ نورستان افغان سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں 4 طالبان کو ہلاک کردیا۔ صوبہ غزنی میں دو خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دوسری جانب لوگر سے نامعلوم مسلح افراد نے افغان رکن پارلیمنٹ عبدالولی احمد زئی کو اغوا کر لیا ۔ابھی تک کسی گروپ نے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ہنگو ، طالبان نے ٥٠ افراد کو یرغمال بنا لیا ، یرغمالیوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار، قومی بچت و مقامی بینک کے اہلکار شامل

خیریت سے ہیں تاہم حکومت سے درخواست ہے طالبان کے ساتھیوں کو رہا کر دےیرغمالیوں کی ٹیلی فون پر برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو
ہنگو ۔ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکومت کے ساتھ جاری تصادم میں مقامی طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید کئی ’سرکاری افراد‘ کو یرغمال بنایا ہے جس سے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہوگئی ہے۔مقامی طالبان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیع فون پر ان میں سے تین یرغمالیوں کی برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کروائی ہے۔ ان میں سے ایک فرنٹئر کور کا صوبیدار، قومی بچت ادارے کا ایک کیشئر اور ایک نیشنل بنک کا اہلکار شامل ہیں۔ اورکزئی اور ہنگو میں سرگرم مقامی طالبان نے دوآبہ کے مقام پر ایک تھانے پر پولیس قبضے کے دوران تقریباً پچیس افراد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان کے تازہ دعوے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز زرگری کے مقام پر نیم فوجی ملیشیا کے ایک قافلے پر حملے کے بعد اس تعداد کو دوگنا کر دیا ہے۔ مقامی طالبان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے دو روز قبل ایک اخباری کانفرنس میں سپاہیوں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بھی ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ مقامی طالبان نے زرگری کے مقام پر ہوئی جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے میں دو سرکاری گاڑیاں بھی آئی ہیں۔ پاکستان میں مقامی طالبان کی جانب سے جاری کارروائیوں میں یہ پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اب سویلین سرکاری اداروں سے منسلک اہلکاروں کو بھی یرغمال بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل کبھی کبھار سرکاری اہلکار یرغمال بنائے گئے لیکن پھر انہیں جلد رہا کر دیا جاتا رہا ہے۔ مقامی طالبان کی موجودگی میں برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرنے والے قومی بچت کے ایک کیشئر امین جان نے بتایا کہ وہ ایک عام مسافر گاڑی فلائینگ کوچ میں کوہاٹ سے صدہ سرکاری سامان لے جا رہا تھا کہ راستے میں طالبان نے انہیں روک کر ان سے ان کا شناختی اورمحکمے کے کارڈز لے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرکاری نوکری کے چوبیس سال پورے ہوچکے ہیں اور اب مقامی طالبان سے ملنے کے بعد ان کی خواہش ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ باقی زندگی انہیں کے ساتھ گزاریں۔ ’ہمارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرتا ہے، نہ مارتا ہے۔ ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بندے حکومت چھوڑ دے جس کے بعد ہم جا سکیں گے‘۔ امین جان کا کہنا تھا کہ ابتداء میں اس کے ساتھ پانچ افراد تھے لیکن اب یرغمالیوں کی تعداد لگ بھگ پچاس ہوگئی ہے۔ ’یہ لوگ مختلف محکموں کے ہیں ۔ کسی کا تعلق ملیشیا فورس سے ہے،کسی کا بنک سے تعلق ہے اور کوئی واپڈا اور سی اینڈ ڈبلیو سے وابستہ ہیں۔ جگہ کم ہے اس لیے ان سب کو مختلف جگہوں پر رکھا ہوا ہے۔ طالبان کی موجودگی میں اٰمین جان نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔ان کا کہنا ہے کہ’یہ امیر صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ میں کسی دباؤ میں نہیں ہوں۔ بس طالبان درست ہیں یہ حکومت بالکل زیرو ہے۔ اپنے آپ کو فرنٹئر کور کا صوبیدار ظاہر کرنے والے ایک شخص شعیب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع مردان میں کاٹلانگ سے تعلق رکھتا ہے اور چھٹی پر گھر جا رہا تھا کہ طالبان نے پکڑ لیا۔ اس نے بھی کسی بدسلوکی کی شکایت نہیں کی البتہ اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کے ان کے ساتھی چھوڑنے پر وہ بھی رہا کر دیئے جائیںگے۔ ایک تیسرے یرغمال شخص صوبہ سرحد کے ضلع کرک کے محمد خورشید تھے جن کا تعلق نیشنل بنک کی صدہ شاخ سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’میری فکر نہ کریں میں اچھا ہوں بس حکومت ان طالبان سے مذاکرات کرے‘۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان یرغمالیوں کی باتوں سے کوئی تناؤ ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ جہاں سے وہ ٹیلیفون کر رہے تھے وہاں کا ماحول بھی خوشگوار معلوم ہوتا تھا۔ مقامی طالبان ان کی باتوں سے محضوض ہوتے معلوم ہوتے تھے۔ ایک مقامی طالبان رہنما نے بتایا کہ جرگے کے ذریعے حکومت سیان کے رابطے جاری ہیں۔ یہ شدت پسند حکومت سے دوآبہ کے مقام پرگرفتار ہونے والے ان کے چار ساتھیوں جن میں سے ایک سرکردہ رہنما رفیع الدین بھی شامل ہیں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سرحد حکومت کے وزیر اطلاعات افتخار حسین نے شدت پسندوں پر واضح کیا تھا کہ یرغمالیوں کو کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار مقامی طالبان کو قرار دیا جائے گا۔

پاکستان خود مختار اور آزاد ملک ہے اس پر کسی کو حملے کی اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم

کوئی بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں،کسی کو فکر مند نہیں ہونا چاہیےمٹھی بھر عناصر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں،اگر ہم دہشت گردی میں ملوث رہیں گے تو دنیا ہم پر ہنسے گیصوبوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے،کابینہ میں توسیع کا مقصد حکومتی امور کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش ہےطالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق گورنر اور وزیراعلیٰ سرحد جو حکمت عملی اپنائیں گے انہیں اجازت ہو گی،پشاور میں میڈیا سے بات چیت
پشاو ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے کسی کو اس پر حملہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی ہم کسی کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت دیں گے ۔ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اگر ہم دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے تو دنیا ہمیں کیا کہے گی ۔ہمیں ذمہ دارشہریوں کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ہمارے لئے یہ خطہ انتہائی اہم ہے ۔وہ وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی والدہ کی وفات پر فاتحہ کے بعد بلور ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمدغنی،وزیراعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی،وفاقی وزیر غلام احمد بلور اور سینٹر بابر اعوان بھی موجود تھے ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں اس بات کا نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان پر کوئی حملہ کرے گا کیونکہ ہم اپنے ملک کے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور پاکستانیوں کو ان پر حملے کے لئے فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم خود مختار اور آزاد ملک ہیں اور پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مٹھی بھر چند عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کی عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان مٹھی بھر عناصر کو سمجھائیں کہ وہ ملک کی ترقی کا سوچیں اور ملک کے نقصان کا نہ سوچیں۔صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن بڑھنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیراعلیٰ جو بھی حکمت عملی طے کریں گے اور وہ ان کی حکمت عملی کا ساتھ دیں گے ۔وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ وفاقی کابینہ کے ورزاء پر کوئی عدم اعتماد نہیں تاہم کابینہ میں توسیع کی جا رہی ہے جب ہم نے کابینہ بنائی تھی تو وہ انتہائی مختصر تھی اور ہم مختصر کابینہ کے ساتھ حکومت چلا رہے تھے ہمارے اتحادی مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف نے اپنے وزراء کو مستعفی کرایا مگر انہوں نے یہ استعفیٰ منظور نہیں کیا اب ہمیں مجبوراً کابینہ میں توسیع کرنا پڑ رہی ہے ۔نئے وزراء کابینہ میں شامل کئے جائیں گے تاکہ ملکی امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹری سیکرٹری بنانے ہیں اور ہمیں سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل کرنی ہے وہ بھی مشاورت سے ہوگی۔طالبان کے خلاف آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام جو چاہیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہم کسی اور کی بات نہیں مانیں گے کیونکہ ہماری حکومت عوامی ہے اور ہم عوام کے ساتھ ہیں ۔امریکی فوجی جرنیل مولن کی پاکستان آمد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات ہیں امریکہ کے ساتھ نہ صرف ہمارا دفاعی بلکہ اقتصادی ،تعلیمی ،صحت ،دفاع اور مختلف مدوں میں تعاون ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔صوبہ سرحد میں آٹے کے بحران سے متعلق وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اس اجلاس میں تمام صوبوں کے مسائل پر بحث ہوگی اور ان کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبوں کی مشکلات کا احساس ہے اور آئندہ کے اجلا س میں اس پر غور و خوص کیا جائے گا ۔ہنگو میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بارے میں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے اہلکار جس جوانمردی ،ہمت اور سروں پر کفن باندھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں اس پر وہ انہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے کبھی ہتھیار نہیں پھینکے اور نہ ہی وہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ کرتے ہیں وہ ملک کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو صوبائی خود مختاری دینے اور انہیں ان کے حقوق دینے میں مخلص ہے اور صوبہ سرحد کا بجلی کے خالص منافعے کی مد میں جو حق بنتا ہے وہ اسے دلایا جائے گا۔وزیراعظم نے سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب وہ سو دن کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے تو وہ اس موقع پر اہم اعلانات کریں گے صوبہ سرحد کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گورنر سرحد اور وزیراعلیٰ سرحد اس صوبے کے نمائندے ہیں اور صوبے میں اتحادی جماعت کی حکومت ہے اس لئے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ۔

نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور اس کی توسیع میں شرکت سے صاف انکار کر دیا

لندن میں چوہدری نثار علی خان سے اہم ملاقات ۔ ۔ ۔ مختلف ایشوز پر مشاورت
لندن ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور اس کی توسیع میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔میاں محمد نواز شریف نے واضح کیاہے کہ ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ لندن میں آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے میاں محمد نوازشریف سے اہم ملاقات کی ۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال ججز کے ایشو ،پارٹی امور اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح کیاہے کہ وفاقی کابینہ ، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری کے امور کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی قائم نہیں کی گئی ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم کو آگاہ کر دیاگیا ہے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی نا ممکن ہے ججز کی بحالی کیلئے تو وفاقی کابینہ سے الگ ہوئے تھے ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں کیسے جا سکتے ہیں اپنے فیصلے پر قائم ہیں اس حوالے سے قوم سے جو وعدہ کیاہوا ہے اس عہد کو نبھائیں گے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دوٹوک الفاظ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آگاہ کر دیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں واپسی ججز کی بحالی سے مشروط ہے۔

ایٹمی ڈیل ملک کی سلامتی کو خطرہ نہیں ۔ بھارتی اٹامک انرجی کمیشن

نئی دہلی۔ بھارت کے اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ انل کاکودکر کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق جوہری توانائی کے بین لااقوامی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمنٹ سے ملک کے سٹرٹیجک پروگرام پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انل کاکودر کے مطابق جوہری معاہدے سے ملک کے مفاد کو خطرہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے ہفتہ کو کہا تھا کہ اس سمجھوتے کے مسودے میں بھارت کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمینٹ مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے لیے لازمی ہے۔ واضح رہے کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ پر پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے پس منظر میں مرکزی حکومت نے اپنے بعض اعلی افسروں کو میدان میں اتار دیا ہے۔ ہفتہ کے روز و قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن، خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اور ایٹامک اینرجی کمیشن کے چیئرمین انل کاکودکر اور ویانا میں آئی اے ای اے سے ہندوستان کے اہم مذاکرات کار ڈاکٹر روی گرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ ان افسران نے صحافیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ معاہدہ کس طرح بھارت کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ میں ری ایکٹروں کے لیے بلا رکاوٹ ایندھن کی فراہمی کی گارنٹی ہے۔ افسروں کے مطابق سیف گارڈ ایگریمنٹ بھارت کے حق میں ہے اور اس میں جوہری دھماکہ کرنے پر روک لگانے یا نہیں لگانے پر کوئی بحث نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے 123 معاہدے میں بھی جوہری دھماکہ کرنے کا ذکر نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں سمجھوتے سے ہٹنے کی بات ہے۔ واضح رہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سوال پر حکومت سے بایاں محاذ الگ ہو چکا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری دھماکہ کرنے کا مجاز نہیں رہے گا۔

جنوبی افغانستان میں خودکش حملے میں ٥ پولیس اہلکاروں سمیت ٢٤ افراد ہلاک ، ٣٠ زخمی

کابل ۔ ۔ افغانستان کے جنوبی صوبہ ارزگان میں خودکش حملے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔ اتوار کو صوبائی پولیس سربراہ جمعہ گل ہمت نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے صوبہ ارزگان کے ضلع دیہرود کی مصروف مارکیٹ میں بارود سے بھری گاڑی پولیس قافلے سے ٹکرا دی۔ خودکش حملے میں 5 پولیس اہلکار اور 19 شہری ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوگئے۔ خودکش حملے کے وقت مارکیٹ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی

گزشتہ آٹھ سالوں کی تباہی کا رونا رونے کی بجائے عملی طور پر کام کرکے دکھائیں گے۔ شہبازشریف

لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا مذہب اسلام لوگوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کا درس دیتا ہے ۔ یہ اسلامی تعلیم نہیں کہ غریب کسمپرسی کی حالت میں ہوں اور امیر محلوں میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکمے ایمانداری اور لگن سے کام کریں اور عوام کے مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دیں۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت عوامی خدمت کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اراکین اسمبلی اورمسلم لیگی کارکن اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں اور قومی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی نے صوبائی حلقہ پی پی 153 میں ترقیاتی کاموں کے لئے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ وزیراعلی نے ہفتہ کے روز موسلادھار بارش کی وجہ سے نکاسی آب کی پیدا ہونے والی صورتحال پر واسا اور ایل ڈی اے حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میںعوام کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے گئے اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوا ۔ اگر متعلقہ محکمے موسم برسات شروع ہونے سے قبل تمام ضروری انتظامات کرلیتے تو عوام کو اس مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ایسا ہوا تو ان افسران کو محکموں میں برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اب کام کرنے اور عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت ہے اگر سرکاری افسران جذبے اور لگن سے کام کریں گے تو ہمارے سر کے تاج ہیں اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دیں گے تو انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سالوں میں ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا جس سے آج ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا جانے سابقہ حکومت نے کہاں پیسہ لگایا ۔ اب گزشتہ آٹھ سالوں کی تباہی کا رونا رونے کی بجائے عملی طور پر کام کرنے کا وقت ہے اور ہم انشاء اللہ کام کرکے دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلی نہیں بلکہ عوام کا خادم بن کر صوبے کے عوام کی خدمت کررہا ہوں ۔ میاں محمد شہباز شریف نے لاہور میں صفائی کی ناقص صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی کے نظام کو ہر حال میں بہتر کیا جائے گا۔ مجھے گزشتہ روز بارش کے بعد شہر میں نکاسی آب کی صورتحال اور عوام کی پریشانی دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس بات پر افسوس بھی ہوا کہ متعلقہ محکمے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار نہ تھے ۔انہوں نے کہا کہ لیگی کارکن اپنے محلوں میں ڈیوٹیاں دیں اور قومی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر مسلم لیگی کارکنوں نے اپنے حلقوں سے متعلقہ درپیش مسائل سے وزیراعلی کو آگاہ کیا۔ وزیراعلی نے چونگی امرسدھو کوٹ لکھپت کے علاقے میں سٹریٹ لائٹ کو فوری طور پر چالو کرنے اور قبرستان کے لئے جگہ کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے علاقے میں گرلز کالج کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

مسلم لیگ (ق) کا صدر مشرف کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک کی بھرپور مخالفت کرنے کا اعلان

اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک کی بھرپور مزاحمت اور مخالفت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بیرونی مداخلت ، سرحدی علاقوں میں نیٹو فورسز کے حملوں ، بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے ، حکومت کی سو روزہ کارکردگی اور اپوزیشن کے خلاف حکومت کی ا نتقامی کارروائیوں کے حوالے سے چار الگ الگ مذمتی قرار دادیں منظور کرلی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتوار کے روز اسلام آباد میں پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین، سید مشاہد حسین اور چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو مسلم لیگ(ق) ا ور اس کی اتحادی جماعتوں نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے ۔ حکمران اتحاد ان کے خلاف اصولی نہیں بلکہ ذاتی مخالفت اور مفاد کی خاطر مواخذے کی بات کررہا ہے۔ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی گئی تو پاکستان مسلم لیگ(ق) اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اجلاس میں سارے امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ملک کے حالات انتہائی مخدوش اور خطرناک ہے ۔ صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کی صور تحال افسوسناک ہے ۔ بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس افسوس ناک صورت حال کی کوئی نوٹس نہیںلیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو پروا ہ ہوتی تو وہ ناکام ہو جاتی تو ہم یہ ضرور کہتے کہ چلیں کوشش تو کی گئی تھی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمران اتحاد ذاتی مفادات کی طرف گامزن ہے ۔ مشاہد حسین سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں 40 سے زائد رہنماؤںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اجلاس میں سرحدی علاقوں میں امریکی حملوں میں جاں بحق سویلین و فوجیوں کے دعائے مغفرت ، اسی طرح ڈاکٹر ارباب غلام رحیم ، حاجی غلام احمد بلور ، اسفند یار ولی خان اور طارق عظیم کے ساتھ ان کے رشتہ اداروں کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں چار قراردادیں منظور کی گئیں پہلی قرار داد میں بڑھتی وئی بیرونی مداخلت ، امریکہ ونیٹو فورسز کے حملوں کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) بیرونی مداخلت اور ان حملوں کے خلاف سینٹ و قومی اسمبلی میں قرا ردادیں جمع کرائیں گی ۔ دوسری قرار داد میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے کی مذمت کی گئی ہے ۔ یہ آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے ۔ نیا پنگا لیا گیا ہے ۔ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کمزور ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت نے سو دنوں میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے ۔ حکومت کوچا ہیے تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی ، اقتصادی وسائل کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ، اسی طرح سیاسی انتقام کے حوالے سے حکومتی کارروائیوں کے خلاف بھی مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں ۔ خصوصا سندھ اور بلوچستان میں انتقامی کارروائیوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا سلسلہ عروج پر ہے جو آمرانہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے ۔ ٹھٹہ میں مسلم لیگ(ق) کے تین کارکنوںکو شہید کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی قرار داد قومی مفاہمت کے حوالے سے منظور کی گئی ہے ۔ جس میںکہا گیا ہے کہ قومی مفاہمت کے لیے حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اس ایشو سیکورٹی و سلامتی ، دہشت گردی کے حوالے سے قومی اتفاق رائے کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرے ۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے بھارتی حکام کے ان بیانات جس میں کابل خود کش حملے کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ہے کی مذمت کی ہے ۔ اور ان بیانات کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرزئی ، نیٹو یا امریکہ کوئی بھی ہو پاکستا ن کو میلی آنکھ نہیں دیکھ سکتا ۔ حکومت نے اس ایشو پر معذرت خوانہ رویہ اختیار کررکھا ہے بلکہ قومی سلامتی کے ان ایشوز کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرکے پاکستان کی ایجنسیوں اور اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ان ایشوز کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف اپنا متحرک اور فعال کردار ادا جاری رکھے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت رہے یا نہ رہے یا وہ کمزور ہو ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اپوزیشن میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو دن دیہاڑے سرحد ی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ بیرونی مداخلت کو نئی حکومت خود دعوت دے رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ججوں کے ایشو کو لیگل کمیٹی دیکھ رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ قومی مفاہمت کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس پنجاب میں آدھی جمہوریت ہے ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہوئی ہے ہمارے دور میں صوبائی کابینہ کی تشکیل سے پہلے اپوزیشن لیڈر کی تقرری ہوئی ۔ ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ حکومت سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ملائیشیا سے وطن واپسی پر سرکاری جہاز کو دوبئی نہیں لے جاناچاہیے تھا۔ پارٹی اجلاس کے لیے سرکاری وسائل کو استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود اپنے خلاف چارج شیٹ تیار کررہی ہے

ڈاکٹر قدیر تاریخ کا حصہ ہیں، جوہری معاملے کی مزید تفتیش نہیں کی جائے گی، شاہ محمود قریشی

امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، ہماری سیکورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کر رہی ہےاسامہ پاکستان میں نہیں، القاعدہ کے رہنما کی موجودگی کے بارے میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا، امریکہ یا دیگر بیرونی افواج کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گےبے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ،ہم تفتیش سے پہلے الزام نہیں لگانا چاہتے، وزیرخارجہ کا امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو
واشنگٹن ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوہری معاملے کی مزید تفتیش کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی مستقبل میں کوئی تفتیش نہیں کی جائے گی کہ پاکستانی فوج نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مدد کی تھی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے پاکستان امریکی یا کسی دوسرے بیرونی ممالک کی فوج کو اسامہ کی گرفتاری یا القاعدہ کے دیگر سرکرہ رہنماؤوں کی تلاش کے لیے اپنے ملک میں کارروائی کی اجازت دے گا امریکہ ہمارے سرحد عبور کرنے سے باز رہے پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہ اپنی آزادی اور خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دے گا واشنگٹن میں امریکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوہری معاملے کاکیس اب داخل دفتر کر دیا گیا ہے اور اب سلسلے میں مزید تفتیش نہیں ہو گی جو کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا کیا جا چکا ہے جو اقدامات کیے جانے تھے کئے جا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ مقصدیہ تھا کہ دنیا کو محفوظ رکھا جائے اور جوہری آلات کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ مستقبل میں نہ ہو اور یہ مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک ہمارا نظریہ ہے ڈاکٹر اے کیو خان اب تاریخ کا حصہ ہیں ان کا کوئی سرکاری رتبہ نہیں ہے جو نیٹ ورک انہوں نے تیار کیا تھا وہ توڑا جا چکا ہے وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم تفتیش سے پہلے ہی الزام نہیں لگانا چاہتے ہم ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انکوائری کرانا چاہتے ہیں میں کہہ رہا ہوں کہ نہ تو ہم اس امکان کو خارج کر سکتے ہیںاور نہ ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ ہماری سرحدوں کی خلاف وزری سے باز رہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہماری فوج، پیرا ملٹری فورسز اور ریگولر فورسز کی بڑی تعداد سرحدوں پر تعینات ہے وہ موثر کارروائی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے افراتفری اور انتشار پھیلے گا پاکستان عوام اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور یہ ہماری خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان ہو گا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روزانہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو نڈولیزرائس سے ملاقات میں ان پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے نمٹ رہی ہے اورضرورت پڑنے پر خود کارروائی کرے گی شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیاکہ دراندازی کے بعض واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن امریکی فوج القاعدہ کے سربراہ دیگر سرکردہ رہنماؤوں ، طالبان ارکان یا کسی دوسرے مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن نہیں کر رہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی تلاش یا گرفتاری کے لیے امریکہ یہ کسی دوسرے ممالک کی افواج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گا ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا نہیں خیال اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے اور نہ ہی کوئی اس بارے میں جانتا ہے اور نہ ہی وہ یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن دلان پاکستان میں ہے لیکن ہماری پالیسی بالکل واضح ہے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اور اگر پاکستان کو اسامہ یا کسی دوسرے ہائی ویلیو ٹارگٹ کے بارے میں ٹھوس شواہد ملے تو پاکستان خود فوری کارروائی کرے گا اس سلسلے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ ہی پاکستان کسی کو مداخلت کی اجازت دے گا کیونکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات ابھر یں گے میںتو یہ کہوں گا ہمیں موجود باہمی تعاون کی فضاء کو تقویت دینا ہو گا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجہ تلاش کر نا ضروری ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد حل ملٹری آپشن نہیں یہ جنگ فوجی کارروائی کے علاوہ عوام کے دل اور دماغ جیت کر بھی لڑی جا سکتی ہے

امریکہ مالی بحران سے دو چار، ایک بڑا بینک بیٹھ گیا



نیو یارک کی سٹا ک مارکیٹ میں قرضے فراہم کرنے والی امریکہ کی دو بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی شدید کمی دیکھی گئی

نیویارک ۔ کیلفورنیا میں قائم گھروں کے لیے قرضے مہیا کرنے والا ایک بڑا بینک انّڈی میک بیٹھ گیا ہے اس بینک سے کھاتہ داروں کی طرف سے مسلسل اپنی رقوم نکلونے کے بعد اس کا انتظام ریگولیٹرز نے سنبھال لیا تھا کیونکہ یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ مزید رقوم مہیا کرنے میں ناکام نہ ہو جائے۔ ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی کی تاریخ میں یہ دوسرا بڑا مالی ادارہ ہے جو کہ فیل ہو گیا ہے۔ بینک کے بنیادی نگران آفس آف ترفٹ سپرویڑن کا کہنا ہے کہ گزشتہ گیارہ دنوں میں کھاتہ داروں نے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقوم نکلوائی ہیں۔ دریں اثناء نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹ میں امریکہ کی دو بڑی قرضے فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے حصص کی قدر نصف رہ گئی ہے۔ قرضے فراہم کرنے والی ان ’ کمپنیوں فیڈرل ہوم لون مورٹگیج کارپوریشن، فریڈی میک‘ اور فیڈرل نیشنل مورٹگیج ایسوسی ایشن، فینی مے‘ کے حصص کی قیمتیں اس خوف کے باعث گرنا شروع ہوئیں کہ شائد ان کمپنیوں کا انتظام حکومت کو سنبھالنا پڑ جائے۔ فریڈی میک اور فینی مے کمپنیوں کے حصص کی قمیتیں گرنے پر صدر بش کو کہنا پڑا تھا کہ یہ دونوں کمپنیاں امریکہ کے اہم ادارے ہیں اور اعلیٰ حکومتی حکام اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر میں مصروف ہیں۔دونوں کمپنیاں مشترکہ طور پر امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے فراہم کرتی ہیں ان دونوں کمپنیوں کے بغیر کروڑوں امریکی گھر خریدنے سے محروم ہو جائیں گے۔ امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے اور گارنٹی یہی دو کمپنیاں مہیا کرتی ہیں۔یہ اپنی ہیت کے اعتبار سے دو غیر معمولی کمپنیاں ہیں جنہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل اور ان کے حصص کا کاروبار حصص بازار میں بھی ہوتا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں حالیہ بحران کی وجہ سے ان کمپنیوں کے پاس قرضے فراہم کرنے کے لیے پیسہ نہ رہے۔ ان دونوں کمپنیوں کی حصص کی قدر اسی فیصد تک کم ہو گئی۔ نیویارک ٹائمز میں جمعہ کو یہ خبر شائع ہونے سے کہ حکومت ان کمپنیوں کو بچانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے ان کے حصص کی قیمتیں تیزی سے نیچے گرنے لگیں۔ سرمایہ کاروں کو خطرہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے سے مورٹگیج یا قرضے حاصل کرنے والوں کو تو تحفظ مل جائے گا لیکن ان کا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔ تاہم حکومت کی طرف سے فوری طور پر رد عمل سامنے آیا اور وزیر خزانہ ہینک پالسن نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ان کمپنیوں کی تنظیم نو میں ان کو موجودہ حالت میں برقرار رکھے جائے گا۔ ان دونوں کمپنیوں کا خسارہ بہت سے حلقوں کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے کیونکہ کئی دیگر سرمایہ کار کمپنیوں نے ان کے حصص میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کمپنیوں کے نقصان کا اثر پوری دنیا کی اقتصادیات پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔