کابل ۔ افغان پولیس حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں فوجی اڈے پر تعینات امریکی فوج علاقہ چھوڑ کر نکل گئے ہیں ۔ جہاں رواں ہفتہ کے دوران عسکریت پسندوں کے حملہ میں 9 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے ۔ صوبہ نورستان کے پولیس افسر غلام فاروق کا کہنا ہے کہ امریکی اور افغانی فوجی وانات گاؤں کے قریب نیا تعمیر شدہ فوجی اڈہ منگل کی رات چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ اب کچھ پولیس فورس رہ گئی ہے جبکہ 50 پولیس آفیسر علاقے میں تعیناتی کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں فوری طور پر امریکی زیر قیادت اتحادی فوج یا نیٹو فورسز نے علاقے سے امریکی فوجیوں کے نکل جانے کی تصدیق نہیں کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو مسلح عسکریت پسندوں کے ایک بڑے گروپ نے نئے تعمیر شدہ فوجی اڈہ پر حملہ کر کے 9 امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا جو افغانستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران امریکی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے ۔
International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Wednesday, July 16, 2008
امریکی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ‘ وفاقی رزرو کے سربراہ کا اعتراف
واشنگٹن ۔ امریکی وفاقی رزرو کے سربراہ بان بینکی نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی معیشت کو کئی مشکلات درپیش ہے ۔ امریکی سینٹ کے روبرو بان بینکی نے امریکی معیشت کو درپیش کئی مشکلات و مسائل کے بارے میں کہا ہے کہ مالیاتی مارکیٹس اور ادارے شدید دباؤ کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث افراط زر میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت کو کئی مشکلات جس کے باعث مالیاتی مارکیٹس اور ادارے متاثر ہو رہے ہیں ۔
قومی اسمبلی ، ١٥ بلز زیر التواء صرف ایک بل منظور ہو سکا ، پلڈاٹ کی جائزہ رپورٹ
اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے 15بلز زیر التواء ہیں۔ 5سیشن منعقد ہو چکے ہیں اب تک ہدف ایک بل منظور ہو سکا لیڈرات نے 13ویں قومی اسمبلی کے پہلے بجٹ سیشن کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی۔13ویں قومی اسمبلی کے پہلے بجٹ سیشن کی مجموعی طور پر روزانہ تین سے پانچ گھنٹوں تک کارروائی ہوئی۔68فیصد اراکین نے بجٹ بحث میںحصہ لیا جبکہ 2007ء میں سابقہ حکومت کے آخری بجٹ سیشن میں 55فیصد اراکین نے بجٹ بحث میں حصہ لیا تھا۔ نئے بجٹ کی بحث میں ایوان کی 76 خواتین اراکین میں سے 64اراکین نے حصہ لیا جو کہ 84فیصد ہے ایوان میں اپوزیشن کے 34فیصد اراکین نے بجٹ بحث میںحصہ لیا ۔ بجٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کے حالیہ سیشن 19دن کام ہوا جبکہ مجموعی طور پر بجٹ سیشن 23دنوں تک منعقد ہوا جبکہ 2007ء کے بجٹ سیشن میں 11 وارننگ ڈے تھے۔ یہ سیشن مجموعی طور پر 19دنوں تک ہفتہ ہوا تھا۔ حالیہ بجٹ سیشن میں صرف ایک دن اجلاس بروقت شروع ہوا جبکہ مجموعی طور پر اجلاس آدھے گھنٹے کی تائید سے شروع ہوا حالیہ سیشن میں حکومت نے 8بلز متعارف کرائے صرف ایک فنانس بل منظور ہو سکا ۔ اس طرح مجموعی طور پر 15بلززیر التواء ہیں اس سیشن میں 1448ء سولات میں 254 کے جوابات دیئے جا سکے جس کی شرح 18فیصد بنتی ہے نئی حکومت کے پہلے بجٹ پر قومی اسمبل میں مجموعی طور پر 41گھنٹے 46 منٹ تک ہوئی۔ لیڈرات، وزیر خزانہ کے اس اعلان جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال مارچ میں بجٹ کے حوالے سے حکومتی اخراجات کے بارے میں امور کو قائم کمیٹیوں میں بحث کے لیے پیش کر دیا جائے گا، کا بھی خیر مقدم کیا ہے
چوہدری پرویز الہی کے وارنٹ گرفتاری جاری
چوہدری پرویز الہی ، مولانا فضل الرحمن ، صبا صادق ، ڈاکٹر فرزانہ نذیر اور سابق چیف سکرٹری سلمان صدیق سمیت ١١ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاریلاہور ۔ پٹشنر سیشن جج لاہور محمد بخش مسعود ہاشمی نے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ، سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن سمیت ١١ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں ٢٥ جولائی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ۔زرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے ایک دن پیشتر ہی دوبئی روانہ ہوچکے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق میو ہسپتال کے ڈاکٹر مقصود حسین نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ ایک کشمیری لڑکی عجیبہ جبین علاج کیلئے میو ہسپتال میں داخل ہوئی ۔ مدعیٰ اہلیان نے اس لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات ظاہر کر کے میرے خلاف مقدمہ درج کروادیا اور مجھے جیل بھجوادیا تاہم عدالت نے مجھے باعزت طور پر بری کردیا ۔ ڈاکٹر مقصود حسین کی درخواست پر سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ، مولانا فضل الرحمن ، سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر طاہر علی جاوید سابق صوبائی وزیر صبا صادق ، پارلیمنٹ سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر ، سابق چیف سیکرٹری پنجاب سلمان صدیق ، سابق ایس ایس پی لاہور عامر ذوالفقار سمیت ١١ افراد کو طلب کرنے کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ٢٥ جولائی کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ۔ کیس کی سماعت کے موقع پر سابق ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا ، پروفیسر محمد حسین ، روبینہ سلہری اور مولانا محمد اکرم عدالت میں موجود تھے ۔
افغان صدر کے پاکستان کے خلاف بیانات سے خطے میں ترقی کا عملل متاثر ہو سکتاہے ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی
لاہور ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے افغان صدر کے پاکستان پر عائد کئے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف افغان صدر کے ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ بیان آج بدھ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہونے سے قبل جاری کیاہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے مفاد میں ہے ۔ افغانستان میں حکومت کے استحکام کے لیے پاکستان اپنی ہر طرح کی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ افغان لیڈروں کو اس قسم کے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے بیان سے خطے میں ترقی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ ، ڈاکٹر قدیر کیس کی سماعت مکمل ، فیصلہ ٢١ جولائی تک محفوظ

اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر قدیر کے وکیل ایڈووکیٹ اقبال جعفری نے ڈاکٹر عبد القدیر کا تفصیلی خط چیف جسٹس کے حوالے کردیا ہے ادھر ڈاکٹر قدیر کیس کی سماعت مکمل ہو گئی ہے اور فیصلہ 21 جولائی تک محفوظ کر لیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت سے پہلے ایڈووکیٹ اقبال جعفری اور سرکاری وکیل کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں دونوں نے ڈاکٹر قدیر کو آئندہ دی جانے والی سہولیات کی ایک فہرست تیار کی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری وکیل احمربلال صوفی نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر قومی ہیرو ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقدمے کا فیصلہ مدعی کی توقع کے مطابق آئے گا ادھر ڈاکٹر قدیر کے وکیل اقبال جعفری نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ انہوںنے ڈاکٹر قدیر کا ایک خط چیف جسٹس کو دیا جس میں ڈاکٹر قدیر نے لکھا ہے کہ انہوں نے قومی مفادات کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور غلط بیان شائع ہونے پر اس کی تردید بھی کی ہے۔
صدر بش کی آٹھ سالہ خارجہ پالیسی ، ناقدین نے امریکا کے لیے تباہ کن قرار دیا

واشنگٹن ۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا آٹھ سالہ دور اقتدار رواں سال نومبرمیں اختتام پذیر ہونے والاہے ۔ان کی پالیسیوں کو حامیوں نے ملک کے لیے سود مند جبکہ ناقدین نے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور عراق پر جارحیت سے دنیا بھر میں امریکہ کی مقبولیت میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جوکہ پیسہ کا ضیاع ہے’’ وائس آف امریکا ‘‘ کے مطابق ہر لیڈر جسے اپنے ملک کی قیادت کا اعزاز حاصل ہو اسکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ تاریخ میں اسے سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے۔ امریکی صدر جارج بش کا دورِ صدارت اختتام کے قریب ہے۔وائس آف امریکا نے وائٹ ہاوس میں صدر بش آٹھ سال میں اہم ترین شعبوں میں ان کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹس کی ایک سیریز تیار کی ہے۔ اس سیریز کی پہلی رپورٹ گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران امریکہ کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے جس میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ اپنے دورِ صدارت میں اس شعبے میں صدر بش کی کارکردگی کو کیسے یاد رکھا جائے گا۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں عراق آتا ہے کیونکہ عراق کی جنگ کے باعث دنیا میں یہ تاثر عام ہوا کہ صدر بش خارجہ پالیسی کے اہم ترین جزو یعنی سفارتکاری اور مزاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ صدر بش کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ انھوں نے عراق کی جنگ سے پہلے سفارتکاری کو موقع دیا اور نہ صرف اقوامِ متحدہ سے قرارداد یں منظور ہونے کا انتظار کیا بلکہ برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک پر مشتمل عالمی اتحاد بھی تشکیل دیا۔ لیکن صدر بش کے ناقدین خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی کارکردگی کو ایک سے دس کے اسکیل پر صفر سے بھی نیچے گردان رہے ہیں۔ جیسے کہ واشنگٹن کے کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے بینجمن فریڈمین۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ صدر بش کی خارجہ پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس دور میں صرف اچھی بات یہ ہوئی کہ مزید ممالک پر بمباری نہیں کی گئی جیسے کہ ایران اور مجھے امید ہے کہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں کی جائے گی۔ لیکن صدر بش کی عراق پالیسی سمیت دیگر اقدامات میں طاقت کے استعمال کا عنصر بہت نمایاں رہا ہے۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا بھر میں امریکہ کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے۔ اور امریکہ کے دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ پیسے کا ضیاع ہے اور دیگر ممالک کے لیے خوف کا باعث۔ اگرچہ صدر بش کے بارے میں اس قسم کی رائے بہت سے حلقوں میں پائی جاتی ہے لیکن کچھ حلقوں میں بش انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے حمائت بھی موجود ہے۔ برائن ڈارلنگ کا تعلق ہیرٹیج فاونڈیشن نامی ایک تھنک ٹینک سے ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ صدر بش کے دور کی خارجہ پالیسی میں سفارتکاری کو نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ برائن کہتے ہیں کہ اگر آپ صدر بش کے آٹھ سالوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے بہت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ شمالی کوریا کی مثال سامنے ہے۔ 6 پارٹی مزاکرات سفارتکاری ہی ہے۔ جہاں تک طاقت کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پوری دنیا میں طاقت کے استعمال کا امکان سفارتکاری کے ایک جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر امریکہ نے حالیہ برسوں میں اپنی فوجی طاقت کے استعمال کے مظاہرے نہیں کیے ہوتے تو شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر نہیں آتا۔ صدر بش کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے امریکہ یورپ تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ صد ر بش کے دورِ صدارت میں ہی امریکہ کے قریب ترین حلیف یعنی یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کچھ سرد مہری دیکھنے میں آئی۔ بینجمین فریڈمین کے مطابق اسکی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ فریڈ مین کا کہنا ہے کہ ہم نے یورپ کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھا تھا جیسے کہ وہ ہمارے ملازم ہوں۔ یورپ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس لیے بھی کافی مختلف ہے کیونکہ ہمارا اور یورپ کا اتحاد سرد جنگ کے زمانے کی سوچ پر بنا تھا۔ لیکن اب امریکہ اور یورپ کے تعلقات تجارت اور ثقافت کی بنیاد پر ہونے چاہیں نہ کہ سیکورٹی کی بنیاد پر۔ ہمیں یورپ سے دوستی ضرور رکھنی چاہیے لیکن ان کی حفاظت کا ذمہ اب ہمارا نہیں ہے
ملائشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم بدعنوانی اور نوجوان سے زیادتی کے الزام میں گرفتار
کوالالمپور۔ ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کو بد عنوانی اور نوجوان کے ساتھ زیادتی کے الزام میں کوالالمپور کی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ انور ابراہیم کے وکیل سنکارا نیر نے صحافیوں کو بتایاکہ پولیس نے انور ابراہیم کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کی پارٹی کے ترجمان جینائی لیم نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوالالمپور پولیس نے انور ابراہیم کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیا ۔اس دوران پولیس اہلکاروں نے دھکے دیتے ہوئے انہیں پولیس گاڑی میں بٹھایا۔ انور ابراہیم کے حامیوں نے ان کی گرفتاری پر حکومت کے خلاف بھرپور مظاہرہ کرنے کا اعلان کیاہے ۔
Priyanka meets up with modelling friends for 'Fashion'

Mumbai:Working in Madhur Bhandarkar's forthcoming film "Fashion" was a walk down memory lane for Bollywood star Priyanka Chopra.
"If you remember, I started my professional life as a model. And now while doing 'Fashion', I met up with my friends from my modelling days... Noyonika Chatterjee, Jesse Randhawa, Aanchal Kumar... That was the best part of doing 'Fashion'," Priyanka told IANS."When I was modelling I was 17. So it's like a whole era has passed between then and now," said the actor, who was seen in a 'futuristic' look in her latest release "Love Story 2050".But she adds that she isn't that experienced as a model."I modelled for only three months ... between the Miss India and Miss World pageants. But yeah it was fun. I was a wide-eyed excited child then. Yes, I'm using my experiences as a model to play my character in 'Fashion'," said the former Miss World.Priyanka's character in the film undergoes a tremendous metamorphosis."And I've gone through that metamorphosis myself. Like my character, I was a small-town girl finding my way through the modelling world when I came to Mumbai. A lot of it is derived from my own experiences."The actress says shooting for films and modelling are completely different."My modelling friends complain about how patient they need to be between shots, whereas during modelling all you had to do was just go for it (the ramp)."Priyanka is happy with her role and even happier working with Bhandarkar."I do have lots of trust in him. We've wanted to work with each other for a long time. I'm glad 'Fashion' happened. I've an author-backed role."The movie has been shot almost entirely in Mumbai. "And that's a change for me because a lot of my films are shot outside the city. When you're on an outdoor (shoot), you disconnect almost completely from the rest of the world. I like travelling. I'm inherently a nomad."
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے امریکہ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ باراک اُباما

واشنگٹن ۔ امریکی صدارتی امیدوار بارک اوباما نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے امریکہ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی میری ترجیح ہو گی۔ القاعدہ کو پاکستان میں بھی نشانہ بنا سکتے ہیں ۔پاکستان سے دہشت گرد تربیت حاصل کرکے افغانستان میں داخل ہو تے ہیں۔بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف کو بلینک چیک دیا میں پاکستان کی غیر فوجی امداد میں تین گنا اضافہ کروںگا۔ ا لقاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمیکیلئے بش انتظامیہ کی حکمت عملی ڈانواں ڈول ہے نئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو واشنگٹن میں اپنی خارجہ پالیسی بیان کرتے کیا ۔ بارک اوباما جو اس وقت امریکہ کے مضبوط صدراتی امیدوار ہیں نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بش انتظامیہ کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ بش اورمیک کین امریکی فوج کو عراق میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن عراق کی حکومت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب عراق جنگ کا خاتمہ ہو گا امریکی فوج پر سے بوجھ کم ہونا چاہیے میں 16 ماہ کے اندر اندر عراق سے فوج واپس بلا کر اپنی تمام تر توجہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان پر دوں گا ۔بارک اوباما نے کہا کہ خطرات عراق میں نہیں بلکہ افغانستان پاکستان میں موجود ہیں امریکہ کی سلامتی کو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے خطرات لاحق ہیں اس لئے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے خلاف کاروائی ان کی اولین ترجیح ہے اس کیلئے القاعدہ کو پاکستان میں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بارک اوباما کاکہنا تھا کہ افغانستان سے آج بھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن او راس کے نائب ایمن الظواہری کے پیغامات آرہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ القاعدہ کسی بھی وقت پھر سے منظم ہو سکتی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گرد پاکستان سے تربیت حاصل کر کے افغانستان میں داخل ہورہے ہیں یہ نا قابل برداشت بات ہے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے انہو ںنے کہاکہ اس سے پہلے میں ایک پر خطر زبردست اور اصولی قومی دفاعی حکمت عملی اپناؤں گا ۔ جس میں نا صرف بغداد کیلئے بلکہ کابل، اسلام آباد ،ٹوکیو ، لندن ، بیجنگ اوربرلن بھی شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف کو بلینک چیک دیا لیکن میں پاکستان کی غیر فوجی امداد میں تین گناہ اضافہ کرو ں گا اپنی خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے امریکی صدارتی امیدوار نے مزید کہاکہ وہ دہشت گردوں اور ناکام ریاستوں جس میں انہوں نے ایران اور شمالی کوریاکا نام لیا کے ہاتھوں سے نیو کلیئر اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کروں گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی افواج سے اضافی بوجھ اتارا جائے بارک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کے خواہاں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں قوموں کے درمیان تعلقات کا نیادور شروع ہونا چاہیے ایران سے اپنیتعلقات کے بارے میں بارک اوباما نے کہاکہ وہ کسی ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی ایرانی قیادت کو امریکی مفادات کی طرف پیش قدمی کیلئے تیار ہونا چاہیے ملکی مفاد میں ہوا تو وہ ایرانی رہنماؤں سے ملاقات بھی کریں گے خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے اوباما کے حریف صدارتی امیدوار میک کین نے کہاکہ وہ اقتدار میں آ کر اسامہ بن لادن کو انصاف کے کہٹرے میں لائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا نیا کر دار ادا کریں گے۔
افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اتحادی طیاروں کی بمباری خواتین بچوں سمیت ٤٠ افراد جاں بحق
کابل ۔ افغانستان کے صوبے کنڑ میں اتحادی افواج کے طیاروں کی بمباری سے 40 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ اتحادی فوج نے نورستان کے علاقے دانت میں مقامی لوگوں کو علاقہ سے اپنے گھر چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا تھا علاقے کے لوگ نقل مکانی کر کے کنڑ صوبے کی طرف جا رہے تھے کہ کنڑ کے علاقے ایک درہ میں امریکی طیاروں نے ان پرحملہ کر دیا جس سے کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور چالیس افراد جاں بحق ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔شیریں رحمن

۔لاہور۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیر رحمن نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اپریشن نہیں بلکہ ایکشن ہے ۔ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔شہریوں کو تحفظ دینا ہماری اولین ترجیح ہے ۔ شہداء ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے لاہور میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو رہا ہے تا کہ صوبوں کو با اختیار بنایا جا سکے ۔ وہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔ اس موقع ہر کثیر تعداد میں صحافیوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما عزیز الرحمن چن اور الطاف قریشی بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ بڑے مینڈیٹ کے بعد بر سرار اقتدار آئی ہے ۔ محترمہ بے نظیر شہید نے تمام عمر اصولوں کی بناد پر مفاہمت کی سیاست کی تھی اور بارہا برملہ کہا تھا کہ مذہب میں انتہا پسندی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ دہشت گردوں سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے کی بجائے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیںگے جوکوئی پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گا اسے کسی قیمت برداشت نہیں کیا جائے گا تا ہم جو دہشت گرد ہتھیار پھینک دے گا اس سے مذاکرات ضرور کئے جائیںگے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پسماندہ علاقوں ترقی کے خواہش مند ہیں تا کہ وہ احساس محرومی کو ختم کیا جا سکے ۔ صحافیوں کے متعلق بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے تین نومبر کے کالے قوانین اس لئے ختم کئے گئے ہیں کہ آئندہ برس پرنٹ اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس بھی ختم کر دیا جائے گا ۔ صحافت جتنی آزاد ہو گی جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہو گی ۔ پیشہ وارانہ صحافیوں کو نوکریوں اور جان کا تحفظ ملنا چاہیے ۔ ماضی کے مقابلہ موجودہ دور میں صحافت میں جان جانے کا خطرہ بڑھ چکا ہے جبکہ تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ صحافیوں کی مشکلات کم کی جائیں گی ماضی کی بندشیں اور کالے قوانین کے برخلاف صحافیوں کو ہر ممکن تحفظ اور آزادی دی جائے گی تا کہ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض عمدگی سے سرانجام دے سکیں
Tuesday, July 15, 2008
ہنگو:جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ، فریقین نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا
ہنگو ۔ ہنگو میں امن جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا جبکہ طالبان نے شناوڑی قلعہ خالی کر دیا۔ ہنگو میں علماء کے پندرہ رکنی جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے۔ جسے دونوں فریقین نے مثبت قرار دیا ہے۔ مذاکرات کا دوسرا دور بھی آج ہو گا۔ طالبان نے علما کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے ان کی طرف سے فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ جبکہ سرحد حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی کے وفاقی وزیر پیر حیدر شاہ کو طالبان سے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔اس سے پہلے جرگہ ارکان نے بتایا تھا کہ طالبان نے اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی، دوآبہ سے کرفیو کے خاتمے اور متوقع فوجی آپریشن ختم کرنے کے مطالبات کئے ہیں۔ دوسری جانب شناوڑی میں مقامی طالبان نے امن جرگہ کی درخواست پر ایف سی کا قلعہ خالی کر دیا ہے۔ دوآبہ میں چھٹے روز بھی کرفیو بدستور نافذ ہے اور سیکورٹی فورسز علاقے میں گشت کر رہی ہیں۔ادھر جے یو آئی کے رہنما اور ثالثی جرگہ کے سربراہ شجاع الملک نے کہا ہے کہ 17 جولائی کے گرینڈ جرگہ میں وادی تیراہ کے فریقین سے معافی نامے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مردان میں ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت میں مولانا شجاع الملک نے کہا کہ فریقین نے وادی تیراہ میں فائر بندی کے لئے جرگہ کو مکمل اختیار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17جولائی کو گرینڈ جرگے میں دونوں فریقین سے معافی نامہ حاصل کرنے کے لئے بات کی جائے گی۔ شجاع الملک کا کہنا تھا کہ بعض عناصر قبائلی علاقوں میں قیام امن کے خلاف ہیں جس کے باعث جرگہ کوششوں کے باوجود فائر بندی نہیں کرا سکا۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی جرگہ کو مالانا فضل الرحمان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
پشاور ، کیبل آپریٹرز نے تمام افغان چینلز بند کردیئے
پشاور ۔ پشاور میں کیبل آپریٹرز نے حکومت کی ہدایت پر تمام افغان چینلز بند کر دیئے۔ کیبل سے افغان چینلز بند کرنے کا فیصلہ کیبل آپریٹرز کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں تمام عہدیداران اور ممبرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات رحیم خان نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ افغان حکومت پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہی ہے اور غلط بیان جاری کئے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں افغان چینلز کی نشریات بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ جب تک افغانستان حکومت پاکستان سے معافی نہیں مانگتی پشاور میں افغان چینلز کی نشریات بحال نہیں کی جائیں گی۔
نامعلوم افراد کا ایف آر کوہاٹ خاصہ دار پوسٹ پر راکٹ حملہ ، پنجاب سے کوہاٹ جانے والے دو پولیس اہلکار اغواء
تیمرہ گرہ ۔ نامعلوم تخریب کاروں کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر تیمرہ گرہ پر میزائیلوں کا حملہ 5سیکورٹی اہلکار معمولی زخمی ، گولہ لگنے سے سرکاری ڈاکٹر کے نجی رہائش گاہ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔ ایک گولہ دیر سکاؤٹس چھاؤنی گیٹ کے ساتھ ،دو پریڈ گراؤنڈ ایک ڈی سی او رہائش گاہ اور ایک میزائل گولہ نیشنل بینک اور ٹیلی فون ایکس چینج کے قریب گرا ۔ میزائل گولے مختلف مقامات کے خالی جگہوں پر گرنے سے زیادہ جانی اور مالی نقصان نہ ہو سکا ۔ سیکورٹی فورسز نے بھی بھاری ہتھیاروں سے جوابی فائرنگ کی رات 3بجے سے نماز فجر تک دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں کی گھن گر چ آوازوں اور سیکورٹی فورسز کی روشنی کے گولے پھینکنے سے لوگ گہری نیند سے بیدار ہو کر صبح تک جاگتے رہے ۔ واقعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب نا معلوم تخریب کاروں نے ملا کنڈ پائین دن کے پہاڑوں سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ (بلا مبٹ ) کو نشانہ بنا کر دس میزائل کے گولے داغے جو مختلف مقامات کے خالی جگہوں پر گرے جس سے زیادہ مالی یا جانی نقصان نہ ہو سکا تاہم گولوں کے ٹکڑوں سے 5سیکورٹی اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ ایک گولہ لگنے سے تیمرہ گرہ ہسپتال کے سرکاری ڈاکٹر کے نجی رہائش گاہ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا اور دیگر میزائل پرڈی گراؤنڈ ڈی سی او اور رہائش گاہ کے قریب اور ٹیلی فون ایکس چینج کے ساتھ دریائے پنجکوڑہ کے کنارے درختوں میں لگے ۔ تخریب کاروی کی طر ف سے وقفے وقفے کے بعد میزائل داغنے جبکہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں بھاری ہتھیاروں کی گھن گر چ آوازیں دور دور تک سنی گئیں
لاڑکانہ ، جسٹس عبدالحمید ڈوگر کیخلاف وکلا ء کی احتجاجی ریلی
لاڑکانہ ۔ لاڑکانہ میں وکلاء نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف ریلی نکالی۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگرہائی کورٹ کی ایڈیشنل عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے لاڑکانہ آئے تھے ۔ لاڑکانہ میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر احتجاجی ریلی نکالی گئی اور یوم سیاہ منایا گیا۔ وکلاء جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی لاڑکانہ آمد اور پیپلز فورم کی جانب سے ان کے استقبال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ریلی میں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، خاکسار تحریک اور سندھ نیشنل فرنٹ کے کارکنوں نے شرکت کی۔ ریلی ڈسٹرکٹ بار سے نکالی گئی اور ڈسٹرکٹ بار کے احاطے میں ختم ہوئی۔ وکلاء نے احتجاجاً دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد علی شیخ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی سی او ججز کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر آج ہائی کورٹ کی ایڈیشنل عمارت کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ تقریب صبح گیارہ بجے ہونا تھی تاہم احتجاج کے بعد اس کا وقت تبدیل کر دیا گیا۔ دادو میں بھی جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
جنوبی افریقہ اور سوئٹزرلینڈ میں ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کے خلاف قانونی کاروائی شروع ہو چکی ہے۔حکومتی وکیل احمر بلال

اسلام آباد ۔ وفاق کے وکیل احمر بلال نے کہا ہے کہ ایٹمی سائنسدان ایک فوجی ٹارگٹ سمجھا جاتا ہے اس لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔وفاق کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواستوں پر عدالت میں جواب داخل کروایا گیا اس جواب کے حق میں دلائل دیتے ہوئے احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2004ء میں جب ڈاکٹر عبدالقدیر کا نیٹ ورک سامنے آیا تو اْس وقت سے حکومت پر بہت زیادہ بین الاقوامی دباؤ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کا نیٹ ورک دبئی، سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ میں تھا اور جنوبی افریقہ اور سوئٹزرلینڈ میں اس نیٹ ورک کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ احمر بلال نے کہا کہ اگر جج صاحب کہیں تو وہ یہ قانونی کارروائی انہیں چیمبر میں دکھا سکتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد ایران، لیبیا اور شمالی کوریا گئے تھے اور انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں جو صورتحال چل رہی ہے اْس کی وجہ سے ملک انتہائی نازک دور سے گْزر رہا ہے اور اس پر ڈاکٹر قدیر کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ بیانات حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سب سے پہلے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس ملک کے عوام دوبارہ محکوم نہ بن جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے تجویز دی ہے کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ملک میں گھومنے پھرنے کے اجازت دی جائے اور اْن کے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ پر کوئی بات نہ کی جائے۔ یہ تجویز انہوں نے منگل کے روز ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبس بیجا میں رکھنے کے حوالے سے دائر پانچ درخواستوں کی سماعت کے دوران دی۔ انہوں نے درخواست گزاروں کے وکیل جاوید اقبال جعفری اور وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل احمر بلال صوفی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمن سے کہا کہ وہ مل کر بیٹھ جائیں اور اس سلسلے میں کوئی اقدام تجویز کریں۔ درخواست گْزاروں کے وکیل جاوید اقبال جعفری نے حکومت کی طرف سے داخل کروائے گئے جواب کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جواب کے ساتھ کوئی بیان حلفی نہیں لگایا گیا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ یہ جواب کس نے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں زیر سماعت پانچ مختلف درخواستوں میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔ انہوں نے فیڈریشن کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے اس جواب کو اپنے موکل کے خلاف توہین آمیز تحریر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اْن کے مؤکل کے خلاف صرف الزام تراشی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہو۔ جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے ہیروز کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اْن کے موکل ڈاکٹر عبدالقدیر عدالت میں پیش ہوکر تمام حقائق عدالت کو بتانے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اٹارنی جنرل کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے اور ان درخواستوں کی سماعت چیمبر میں کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پیر کے روز ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ قومی راز صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ ان دی لائن آف فائر’ میں افشا کیے ہیں۔ جاوید اقبال جعفری نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس بات کا تعین کرے کہ قومی راز افشا کرنے میں کون ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور شمالی کوریا پہلے ہی اس بات کی تردید کرچکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان سے کوئی ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔ جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ ملک میں بہت سے ایسے وزیر اعظم پھر رہے ہیں جن کے پاس قومی راز ہیں لیکن اْن کے ساتھ تو ایسا سلوک نہیں کیا جاتا جیسا اْن کے موکل کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے عدالت کو بتایا تھا کہ عبدالقیر خان پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ہر کسی سے مل سکتے ہیں تاہم آج حکومت کی طرف داخل کرائے گئے جواب میں یہ واضح اشارے ملتے ہیں کہ ان پر لگائی گئیں پابندیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ اْن کے رشتہ داروں کو بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی
ذوالفقار علی بھٹواور بے نظیر بھٹو کی لاش پر سیاست کرنے والے ان میں سے کسی ایک کے بھی اصولی موقف کی ترجمانی نہیں کر رہے۔ جسٹس (ر) طارق محمود

چکوال ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس(ر) طارق محمود نے کہاہے کہ ذوالفقار علی بھٹواور بے نظیر بھٹو کی لاش پر سیاست کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ان دونوں لیڈران میں سے کسی ایک کے بھی اصولی موقف کی ترجمانی نہیں کر رہے اور اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان دو ناموں کے سہارے اس ملک پر پانچ سال حکومت کر جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے اور معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کا جو کردار سامنے آرہا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نظریات کی مکمل نفی ہے وہ اسلام آباد سے چکوال پریس کلب میں ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے انہوںنے کہاکہ اب جو کھیل شروع ہوا ہے اس میں میاں محمد نواز شریف کو کافی احتیاط سے کام لیناہوگا کیونکہ آصف علی زرداری نہ تو سیاستدان ہیں وہ ایک حادثاتی طورپر سامنے آئے ہیں اور ابھی تک اٹھارہ فروری کا جومینڈیٹ پاکستان پیپلز پارٹی کوملا ہے وہ اس کی ترجمانی کرنے سے قاصر ہیں ایک اور سوال کے جواب میں جسٹس (ر) طارق محمود نے کہاکہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے جو موجودہ دورے ہیں ان کو پورے ملک میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی طرف سے وکلاء کو جو تقسیم کرنے کی کوشش ہے وہ کامیاب نہیں ہوئی ہے اور عبدالحمید ڈوگر اپنی سروائیول کیلئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور وکلاء برادری میں ان کو جتنی پذیرائی ملی ہے وہ سب نے دیکھ لیا ہے انہوں نے کہاکہ انیس جولائی کو لاہور میں کل پاکستان وکلاء کنونشن ہو گا جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا انہوں نے کہاکہ وکلاء نے اپنے آپ کو ایک طویل جدوجہد کیلئے تیار کرلیاہے اوروکلاء کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے انہوں نے کہاکہ صدرضیاء الحق مرحوم نے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے مگر اب پیپلز پارٹی کو ان کے اپنوں کے ذریعے ہی ختم کرنے کی جو کوشش شروع ہوئی ہے اس میں اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں کامیاب دکھائی دیتی ہیں انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کامیاب رہا ہے اور اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پوری قوم ایک آزاد عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام آج اس وجہ سے زندہ ہے کہ انہوں نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا مگر موجودہ پیپلز پارٹی نے کوئی اصول اور دستور ابھی تک سامنے دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے حوالے سے وزیراعطم کا بیان اتحادی افواج کو ان علاقوں میں مداخلت کا جواز فراہم کرنا ہے ۔ترجمان طالبان مولوی ع
اگر کسی نے قبائلی علاقوں میں کارروائی کی کوشش کی تو قبائلی عوام جانوں کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گےتحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر کی صحافیوں سے گفتگو
خارباجوڑ ایجنسی ۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کے بارے میں دئیے جانے والے بیان کے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کا بیان دراصل امریکہ اور نیٹو ممالک کی لئے قبائلی علاقوںمیں مداخلت کیلئے جواز اور بہانہ بنانا ہے تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے نا معلوم مقام سے صحافیوں کے سات بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کے بارے بیان دے کر قبائلی علاقوں کے عوام کے ساتھ دشمنی کا ثبت دیا ہے انہوں نے وزیراعظم کے اس بیان کی شدید مذمت کی اور کہاکہ قبائلی علاقوں میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں ہے اور وزیراعظم صرف امریکہ اور نیٹو ممالک کیلئے قبائلی علاقوں میں کارروائی کیلئے جواز پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادی افواج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں پر حملہ کیا تو اس کے تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی اففاد کی موجودگی کے حوالے سے حالیہ بیان کے نتیجے میں قبائلی عوام کے دلوں میں حکومت کیلئے نفرت میں اضافہ ہوا ہے مولوی عمر نے کہاکہ امریکہ اور حامد کرزئی کا قبائلی علاقوں میں کارروائی کرنے کا حالیہ بیان پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہے انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کسی ملک کو اپنے علاقے میں فوجی کارروائی کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے اور اگر کسی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت اور کارروائی کرنے کی کوشش کی تو قبائلی عوام بیرونی جارحیت کے خلاف جانوں کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ بیرونی جارحیت کی صورت میں غیور قبائلی عوام اور تحریک طالبان امریکی اوراتحادی افواج کے خلاف جذبہ جہاد سے سرشار ہے اور قبائلی عوام امریکی افواج کے خلاف جہاد کیلئے چوکس اور پوری طرح تیار ہے انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ تمام بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔
خارباجوڑ ایجنسی ۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کے بارے میں دئیے جانے والے بیان کے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کا بیان دراصل امریکہ اور نیٹو ممالک کی لئے قبائلی علاقوںمیں مداخلت کیلئے جواز اور بہانہ بنانا ہے تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے نا معلوم مقام سے صحافیوں کے سات بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کے بارے بیان دے کر قبائلی علاقوں کے عوام کے ساتھ دشمنی کا ثبت دیا ہے انہوں نے وزیراعظم کے اس بیان کی شدید مذمت کی اور کہاکہ قبائلی علاقوں میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں ہے اور وزیراعظم صرف امریکہ اور نیٹو ممالک کیلئے قبائلی علاقوں میں کارروائی کیلئے جواز پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادی افواج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں پر حملہ کیا تو اس کے تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی اففاد کی موجودگی کے حوالے سے حالیہ بیان کے نتیجے میں قبائلی عوام کے دلوں میں حکومت کیلئے نفرت میں اضافہ ہوا ہے مولوی عمر نے کہاکہ امریکہ اور حامد کرزئی کا قبائلی علاقوں میں کارروائی کرنے کا حالیہ بیان پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہے انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کسی ملک کو اپنے علاقے میں فوجی کارروائی کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے اور اگر کسی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت اور کارروائی کرنے کی کوشش کی تو قبائلی عوام بیرونی جارحیت کے خلاف جانوں کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ بیرونی جارحیت کی صورت میں غیور قبائلی عوام اور تحریک طالبان امریکی اوراتحادی افواج کے خلاف جذبہ جہاد سے سرشار ہے اور قبائلی عوام امریکی افواج کے خلاف جہاد کیلئے چوکس اور پوری طرح تیار ہے انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ تمام بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔
شمالی وزیرستان سے ملحقہ پاک افغان سرحد پر اتحادی افواج کی نقل و حرکت میں اضافہ ، آئی ایس پی آر کی تردید
اسلام آباد+ وانا، میرانشاہ ۔ شمالی وزیرستان میں بیرل اور لوازہ منڈی کے قریب نقل و حرکت بڑھ گئی اور مزید سینکڑوں اتحادی فوجی علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق ٹینکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح اتحادی فوج کی تعداد تین سو کے قریب ہے ۔ اتحادی فوج کی موجودگی سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیاہے۔ اس سے پہلے شمالی وزیرستان پر امریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں مسلسل کئی ماہ سے جاری ہیں ۔دوسری طرف پاک فوج نے شمالی وزیرستان سے ملحق پاک افغان سرحد پر نیٹو افواج کے تازہ دم دستوں کی بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پیش قدمی کی خبر کی تردید کر دی ہے ۔ادھر قبائلیوں نے خبردار کیا ہے کہ نیٹوافواج نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کے فوجی ذرائع کے مطابق اتحادی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی کا موثر جواب دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی حدود میں کارروائی کا اختیار صرف پاک فوج کے پاس ہے۔ ادھر اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان سے ملحق پاک افغان سرحدی علاقوں میں نیٹوافواج نے بھاری توپ خانے اور ٹینکوں کے ہمراہ پیش قدمی کی ہے۔ ڈورچھپر، ڑاوڑ اور سیدگی کے سرحدی علاقوں میں پانچ سو اتحادی فوجی پہنچا دیئے گئے ہیں جبکہ شوال، الواڑہ منڈی اور غلام خان کے سرحدی علاقوں میں اتحادی فوج گزشتہ دس ماہ سے موجود ہے۔نیٹوافواج کے تازہ دم دستوں کے پاس اپاچی اور کوبرا ہیلی کاپٹرز کے علاوہ ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بھاری توپ خانہ ہے۔ اتحادی فوج نے ڈیورنڈ لائن پار نہیں کی ہے تاہم فوجی دستے سرحد کے قریب تعینات کر کے سرحد پر گشت میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں سخت خوف پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ افغان سرحد پر غیر معمولی فوجی نقل و حرکت نہیں ہوئی ۔
امریکی جریدے میں صدارتی امیدوار باراک اوبامہ کے کارٹون کی اشاعت ، باراک اوبامہ نے غیر شائستہ اور توہین آمیز قرار دے دیا

واشنگٹن ۔ موقر امریکی جریدے نیو یارکر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوبامہ کا ایک کارٹون شائع کیا ہے جس کے بعد اوبامہ اور ان کے روایتی حریف جان میکنن نے اس پر شدید تنقید کی ہے اور اسے توہین آمیز اور غیر شائستہ حرکت قرار دیا ہے اس کارٹون میںبارک اوبامہ کو روایتی اسلامی کپڑوں میں، اور ان کی اہلیہ کو ایک دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔دیوار پر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایک تصویر بھی ٹنگی ہوئی ہے اور اس کے نیچے امریکی قومی پرچم جلتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے لوگوں نے اوبامہ کو ’اوسامہ‘ کہہ کر، اور انہیں مسلمان قرار دیکر، یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ صدارتی انتخاب میں باراک اوبامہ کی کامیابی براہ راست دہشت گردوں کی کامیابی ہوگی۔ اوبامہ کے والد مسلمان تھے اور وہ اب بھی اپنا پورا نام باراک حسین اوبامہ لکھتے ہیں۔ لیکن وہ متعدد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔ اوبامہ اور ان کے رپبلکن حریف جان مکین، دونوں نے ہی نیو یارکر کی جانب سیاس کارٹون کی اشاعت پر سخت تنقید کی ہے۔ اوبامہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ کارٹون ’توہین آمیز اور غیر شائستہ‘ ہے۔لیکن میگزین کا کہنا ہے کہ یہ کارٹون دراصل بائیں بازو کی جانب سے سینیٹر اوبامہ پر کیے جانے والے حملوں پر ایک ’طنزیہ کمینٹ‘ ہے۔ ایک بیان میں نیو یارکر میگزین نے کہا کہ کارٹون میں، جو میگزین کے کور پر شائع کیا گیا ہے، اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے بارے میں کہی جانے والی بے بنیاد باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ میگزین کا دعوی ہے کہ اس نے سینیٹر اوبامہ پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کی اس کارٹو کے ذریعہ تنقید کی ہے اور اسی لیے اسے ’خوف کی سیاست ‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ نیو یارکر کے مطابق اس جریدے میں مسٹر اوبامہ کے بارے میں دو انتہائی سنجیدہ مضامین شامل ہیں۔لیکن مسٹر اوبامہ کے ترجمان نے کہا کہ نیو یارکر کا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ اس نے مسٹر اوبامہ کی اس شبیہہ پر طنز کیا ہے جو ان کے دائیں بازو کے مخالفین پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن زیادہ تر قارئین اسے غیر شائستہ اور توہین آمیز تصور کریں گے اور ہم بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔
Top 100 Public Intellectuals
They are some of the world’s most introspective philosophers and rabble-rousing clerics. A few write searing works of fiction and uncover the mysteries of the human mind. Others are at the forefront of modern finance, politics, and human rights. In the second Foreign Policy/Prospect list of top public intellectuals, we reveal the thinkers who are shaping the tenor of our time.
The Foreign Policy/Prospect 2008 World’s Top 100 Public Intellectuals poll is now closed.
To view the complete list of intellectuals, please click here.
Foreign Policy and Prospect will publish the results of the poll on June 23.
Aitzaz Ahsan, Pakistan
Lawyer and politician
As president of Pakistan’s Supreme Court Bar Association and a senior figure in the Pakistan People’s Party, Ahsan has played a leading role in opposing antidemocratic moves by Pakistani President Pervez Musharraf. He is author of The Indus Saga and the Making of Pakistan.
Kwame Anthony Appiah, Ghana/United States
Philosopher
Appiah is Laurance S. Rockefeller University professor of philosophy at Princeton University and author of numerous books and novels, including The Ethics of Identity.
Anne Applebaum, United States
Journalist, historian
A regular columnist for the Washington Post, Applebaum is a veteran journalist and author of Gulag: A History, a Pulitzer Prize-winning account of the Soviet prison system. She wrote “In Search of Pro-Americanism” for the July/August 2005 issue of FP.
Jacques Attali, France
Economist, writer
A past advisor to former French President François Mitterrand, Attali played a leading role in helping former Warsaw Pact countries make the transition to market economies. He is author of Noise: The Political Economy of Music. A contributing editor to Foreign Policy, Attali wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Monogamy” for the September/October 2005 issue of FP.
George Ayittey, Ghana
Economist
Ayittey is a prominent Ghanaian scholar, activist, and author of Africa Unchained: The Blueprint for Africa’s Future. As president of the Washington-based Free Africa Foundation, he argues that “Africa is poor because she is not free.” He is an economist in residence at American University.
Daniel Barenboim, Israel
Conductor, pianist, peace activist
An outspoken critic of Israeli policies in the Palestinian territories, Barenboim is “conductor for life” at the Berlin State Opera and is widely seen as a successor to Lorin Maazel at the New York Philharmonic.
Anies Baswedan, Indonesia
University president, political analyst
Currently president of Paramadina University in Jakarta and a noted researcher, Baswedan played a leading role in the student movements that helped oust Indonesian dictator Suharto.
Pope Benedict XVI, Germany/Vatican
Religious leader, theologian
Born Joseph Alois Ratzinger, Pope Benedict is a leading theologian and a staunch defender of Catholic traditions and values. Prior to his election as pope in 2005, he was a prolific author and commentator and even cofounded a theological journal, the influential Communio. Before Ratzinger’s election, R. Scott Appleby wrote “Job Description for the Next Pope” in the January/February 2004 issue of FP.
Ian Buruma, Britain/Netherlands
Essayist
A former journalist who spent years working in Asia, Buruma is best known for Murder in Amsterdam: The Death of Theo van Gogh and the Limits of Tolerance and for his commentary on faith and moral relativism. He is a widely syndicated columnist and a popular lecturer.
Fernando Henrique Cardoso, Brazil
Politician, author
An internationally renowned sociologist and a two-term former president of Brazil, Cardoso is a professor at Brown University’s Watson Institute for International Studies. He has authored numerous books, including Dependency and Development in Latin America, and is a director of the Club of Madrid. He wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Political Parties” for the September/October 2005 issue of FP.
Noam Chomsky, United States
Linguist, activist
A professor at the Massachusetts Institute of Technology since 1955, the prolific Chomsky is a groundbreaking linguist and a prominent critic of U.S. foreign policy. He wrote “What Is the International Community: The Crimes of 'Intcom'” for the September/October 2002 issue of FP.
J.M. Coetzee, South Africa
Novelist
The 2003 winner of the Nobel Prize in Literature, Coetzee wrote his most famous novels—Waiting for the Barbarians, Life & Times of Michael K , and Disgrace—while a university professor in South Africa and the United States.
Paul Collier, Britain
Development and conflict economist
Author most recently of The Bottom Billion: Why the Poorest Countries Are Failing and What Can Be Done About It, awarded the 2008 Gelber Prize, Collier is professor of economics at Oxford University and a leading expert on the governance and development challenges faced by the world’s poorest countries. He wrote “Africa’s Revolutionary Routine” in the May/June 2004 issue of FP.
Richard Dawkins, Britain
Biologist, author
Dawkins’s seminal 1976 work, The Selfish Gene, explores the role played by genes in the evolutionary process. He may be better known today for the criticisms of religion and “intelligent design” theories put forth in The God Delusion. He shares his “Epiphanies” in the May/June 2008 issue of FP.
Alex de Waal, Britain
Writer, Africa activist
A program director at the Social Science Research Council, de Waal is a frequently cited expert on the Darfur crisis and on African health issues.
Thérèse Delpech, France
Political scientist
One of France’s most respected analysts of international affairs, Delpech is director for strategic studies at the Atomic Energy Commission of France, senior research fellow at CERI (Center of International Relations Studies), and author most recently of Savage Century: Back to Barbarism.
Daniel Dennett, United States
Philosopher
Dennett is the Austin B. Fletcher professor of philosophy at Tufts University, where his life’s work is building a “philosophy of mind” to explain how human consciousness works. He is the author of Content and Consciousness, Consciousness Explained, Darwin's Dangerous Idea, and Breaking the Spell, among others.
Jared Diamond, United States
Biologist, historian
The preeminent scholar of the relationship between the environment and civilizational success, Diamond is the Pulitzer Prize-winning author of Guns, Germs, and Steel and Collapse. He is professor of geography and physiology at the University of California, Los Angeles.
Esther Duflo, France
Development economist
Duflo is the Abdul Latif Jameel professor of poverty alleviation and development economics at the Massachusetts Institute of Technology, where she studies health, poverty, and credit issues in the developing world. She wrote “21 Solutions to Save the World: Fund What Works” for the May/June 2007 issue of FP.
William Easterly, United States
Economist, aid skeptic
A scathing critic of “the ideology of development,” Easterly views much foreign aid as messianic, wasted, or even harmful to developing countries. He is professor of economics at New York University, author of The White Man’s Burden: Why the West’s Efforts to Aid the Rest Have Done So Much Ill and So Little Good, and a frequent contributor to Foreign Policy.
Shirin Ebadi, Iran
Lawyer, human rights activist
Awarded the Nobel Peace Prize in 2003 for her advocacy on behalf of Iranian dissidents and others, especially women and children, Ebadi is a human rights lawyer in Tehran and author of the memoir Iran Awakening: A Memoir of Revolution and Hope.
Umberto Eco, Italy
Medievalist, novelist
Eco’s dense novels, such as The Name of the Rose and Foucault’s Pendulum, are a dizzying blend of philosophy, biblical analysis, and arcane literary references. An expert in the burgeoning field of semiotics, he is president of the Advanced School of Humanist Studies at the University of Bologna.
Fan Gang, China
Economist
Foreign analysts watch closely the remarks of Fan, the influential director of the government-affiliated National Economic Research Institute in Beijing and a leading reform advocate, for clues about what Chinese leaders are thinking about the global economy.
Drew Gilpin Faust, United States
University president, historian
Harvard University’s first female president, Faust is a respected historian of the American Civil War and the author of six books, including most recently This Republic of Suffering: Death and the American Civil War.
Niall Ferguson, Britain
Historian
The Laurence A. Tisch professor of history at Harvard University and a senior fellow at the Hoover Institution at Stanford University, Ferguson is a prolific author best known for The Pity of War, his counterintuitive take on the British role in World War I. He wrote “Empires with Expiration Dates” in the September/October 2006 issue of FP and “A World Without Power” in the July/August 2004 issue.
Alain Finkielkraut, France
Essayist, philosopher
One of France’s most prominent columnists, the controversial Finkielkraut teaches about the “history of ideas” at the École Polytechnique in Paris and is a polemical critic of modern French society.
Thomas Friedman, United States
Journalist, columnist
Friedman—New York Times foreign affairs commentator, three-time Pulitzer Prize-winning journalist, and author of The World Is Flat and From Beirut to Jerusalem—is one of the world’s most popular and influential syndicated columnists. He wrote “The First Law of Petropolitics” for the May/June 2006 issue of FP.
Francis Fukuyama, United States
Political scientist
Renowned for declaring The End of History after the fall of the Soviet Union, Fukuyama is professor of international political economy at the School of Advanced International Studies at Johns Hopkins University and author most recently of America at the Crossroads: Democracy, Power, and the Neoconservative Legacy. He wrote “The World’s Most Dangerous Ideas: Transhumanism” for the September/October 2004 issue of FP.
Yegor Gaidar, Russia
Economist, politician
Gaidar was Boris Yeltsin’s acting prime minister from June 15 to December 14, 1992 and a proponent of “shock therapy” for the Russian economy. He is a contributing editor to FP.
Howard Gardner, United States
Psychologist, author
The John H. and Elisabeth A. Hobbs professor of cognition and education at the Harvard Graduate School of Education, Gardner is the recipient of a MacArthur “genius grant” and the author of more than 20 books, most recently Responsibility at Work and Five Minds for the Future. He wrote “21 Solutions to Save the World: An Embarrassment of Riches” for the May/June 2007 issue of FP.
Neil Gershenfeld, United States
Physicist, computer scientist
Gershenfeld heads the Center for Bits and Atoms at the Massachusetts Institute of Technology, where he takes an interdisciplinary approach to quantum computing, nanotechnology, and personal fabrication. He is author most recently of Fab: The Coming Revolution on Your Desktop—From Personal Computers to Personal Fabrication.
Malcolm Gladwell, Canada/United States
Pop sociologist, journalist
Author of Blink and The Tipping Point, Gladwell is a National Magazine Award-winning staff writer at The New Yorker.
Al Gore, United States
Climate change activist, politician
Since serving two terms as Bill Clinton’s vice president in the 1990s, Gore has become a leading advocate on climate change and a winner of the Nobel Peace Prize. He starred in the Oscar-winning documentary An Inconvenient Truth.
Ramachandra Guha, India
Historian
An Indian historian, columnist and MacArthur fellow, Guha has taught in the United States, Norway, and now in Bangalore. He is author of India After Gandhi.
Alma Guillermoprieto, Mexico
Journalist, author
A Mexican journalist and a MacArthur fellow, Guillermoprieto has written extensively in such publications as The New Yorker, The New York Review of Books, and the Washington Post. A veteran war correspondent, she is a former South America bureau chief for Newsweek and author of Dancing with Cuba. Her chronicles of Latin America’s “lost decade” were published as The Heart That Bleeds in 1994.
Fethullah Gülen, Turkey
Religious leader
A modernist Islamic scholar and leader of the movement named after him, Gülen is widely considered one of the most important Muslim thinkers alive today. He has authored more than 60 books.
Jürgen Habermas, Germany
Philosopher
Habermas’s diverse interests range from epistemology to the rule of law, but his most influential work is on the “public sphere”—the arena in which arguments about political matters take place. He is author of The Theory of Communicative Action and, most recently, The Dialectics of Secularization, a dialogue with Joseph Ratzinger.
Vaclav Havel, Czech Republic
Statesman, playwright
A leading dissident and repeated political prisoner during the Soviet era, Havel became president of Czechoslovakia after the Velvet Revolution of 1989, saw his country through a transition to a democratic market economy, and managed the split with Slovakia.
Ayaan Hirsi Ali, Somalia/Netherlands
Activist, politician
A former member of the Dutch parliament and a fierce critic of the role of women in Islam, Ali has feared for her life since writing the screenplay for Submission, the provocative short film that led to Theo van Gogh’s murder.
Christopher Hitchens, Britain/United States
Journalist, author
One of the English language’s most sought-after polemicists, Hitchens is a columnist for Vanity Fair and the author of God Is Not Great: How Religion Poisons Everything. He wrote “The Plight of the Public Intellectual” in the May/June 2008 issue of FP.
Hu Shuli, China
Journalist
Managing editor of Caijing, a top Chinese business magazine, Hu is a veteran journalist, author, and panelist for the Washington Post's PostGlobal.
Samuel Huntington, United States
Political scientist
Through such works as Political Order in Changing Societies, Huntington’s influence on his field is profound, but his most famous book is certainly The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order. Currently the Albert J. Weatherhead III professor at Harvard University, Huntington cofounded Foreign Policy in 1970. He wrote his provocative article “The Hispanic Challenge” for the March/April 2004 issue of FP.
Michael Ignatieff, Canada
Human rights theorist, politician
A past winner of the Gelber Prize for his book Blood and Belonging: Journeys into the New Nationalism, Ignatieff is a leading thinker on human rights issues. He is deputy leader of Canada’s Liberal Party and former head of Harvard University’s Carr Center for Human Rights Policy.
Tony Judt, Britain
Historian
Judt is the Erich Maria Remarque professor in European studies at New York University, author of Postwar: A History of Europe Since 1945, and a frequent contributor to the New York Review of Books.
Robert Kagan, United States
Author, political commentator
An influential columnist for the Washington Post and elsewhere, Kagan is senior associate at the Carnegie Endowment for International Peace and author most recently of The Return of History and the End of Dreams. He wrote “From Victory to Success: Looking for Legitimacy in All the Wrong Places” in the July/August 2003 issue of FP.
Daniel Kahneman, Israel/United States
Psychologist
A Nobel laureate for his work on “prospect theory,” Kahneman is senior scholar at Princeton University’s Woodrow Wilson School of Public and International Affairs and the Eugene Higgins professor of psychology emeritus at Princeton. He cowrote “Why Hawks Win” in the January/February 2007 issue of FP, which was selected for publication in The Best American Political Writing 2007.
Garry Kasparov, Russia
Democracy activist, chess grandmaster
Since his days as a world chess champion, Kasparov has become an outspoken critic of outgoing Russian President Vladimir Putin. Chairman of the United Civil Front, a democratic activist group, he wrote “21 Solutions to Save the World: A Global Magna Carta” for the May/June 2007 issue of FP.
Amr Khaled, Egypt
Muslim televangelist
An entrepreneurial preacher and broadcaster, Khaled is an accountant by training but a born evangelical leader. The moderate Khaled, who preaches a message of tolerance and personal redemption through Islam, is wildly popular among younger Muslims in the Arab world.
Rem Koolhaas, Netherlands
Architect
Koolhaas is Pritzker Prize-winning principal at the Office for Metropolitan Architecture, but his influence extends to urban theory, journalism, and beyond. The cofounder of Volume magazine, his most famous works include Maison à Bordeaux, the Seattle Public Library, and the Casa da Musica hall in Porto, Portugal. He is professor in practice at Harvard University’s architecture department and author of Delirious New York and S,M,L,XL.
Ivan Krastev, Bulgaria
Political scientist
Chairman of the Centre for Liberal Strategies in Sofia, Krastev is editor of FP’s Bulgarian edition and author of “What Russia Wants” in the May/June 2008 issue of FP.
Enrique Krauze, Mexico
Historian
Krauze is publisher of Editorial Clío and editor of Letras Libres, a Mexican cultural magazine. He is author of Mexico: Biography of Power.
Paul Krugman, United States
Economist, columnist
A fiery political commentator for the New York Times and a respected trade theorist, Krugman is a John Bates Clark Medal-winning economist at Princeton University. His most recent book is The Conscience of a Liberal. He wrote “Europe Jobless, America Penniless?” in the Summer 1994 issue of FP.
Lee Kuan Yew, Singapore
Politician, national patriarch
Lee stepped down as prime minister in 1990, but he remains a towering figure in Singaporean politics. His current post is “minister mentor,” a job created just for him. He wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Laissez-Faire Procreation” for the September/October 2005 issue of FP.
Lawrence Lessig, United States
Legal scholar, activist
The darling of cyberspace for his efforts to reduce restrictions on intellectual property, Lessig is professor of law at Stanford University and author of The Future of Ideas. He wrote “The Internet Under Siege” for the November/December 2001 issue of FP.
Steven Levitt, United States
Economist, author
Best known for coauthoring Freakonomics with Stephen J. Dubner, Levitt is the Alvin Baum professor of economics at the University of Chicago. A 2003 winner of the John Bates Clark Medal for economists under 40, his most famous work links the rise in abortions to the drop in crime rates in the United States.
Bernard Lewis, Britain/United States
Historian
Eminent scholar of the Ottoman Empire, the Middle East, and Islam, Lewis is the Cleveland E. Dodge professor emeritus of Near Eastern studies at Princeton University. His most recent book is From Babel to Dragomans: Interpreting the Middle East.
Bjørn Lomborg, Denmark
Environmentalist, statistician
Controversial for his view, as expounded upon in The Skeptical Environmentalist, that combating global crises such as HIV/AIDS ought to take precedence over fighting climate change, Lomborg wrote “21 Solutions to Save the World: Take Your Vitamins” for the May/June 2007 issue of FP.
James Lovelock, Britain
Environmental scientist
Lovelock’s great contribution to science is the famous Gaia hypothesis, the idea that Earth can be thought of as a giant organism. A developer of numerous scientific instruments used by NASA, Lovelock is author most recently of The Revenge of Gaia: Why the Earth Is Fighting Back—and How We Can Still Save Humanity.
Mahmood Mamdani, Uganda
Cultural anthropologist
Mamdani is the Herbert Lehman professor of government in the anthropology, political science, and international affairs departments at Columbia University and was director of the Institute of African Studies there until 2004. He is the author most recently of Good Muslim, Bad Muslim: America, the Cold War and the Roots of Terror.
Minxin Pei, China
Political scientist
A senior associate and director of the China Program at the Carnegie Endowment for International Peace, he is author of China’s Trapped Transition: The Limits of Developmental Autocracy and wrote “The Dark Side of China’s Rise” for the March/April 2006 issue of FP.
Ashis Nandy, India
Political psychologist
A scholar at the Centre for the Study of Developing Societies in New Delhi, Nandy studies “political psychology, mass violence, cultures and politics of knowledge, utopias and visions.”
Sunita Narain, India
Environmentalist
Director of India’s Centre for Science and Environment, Narain is a leading advocate of sustainable development and a strong supporter of fairness in environmental negotiations. She won the 2005 Stockholm Water Prize for the center’s work on water management.
Martha Nussbaum, United States
Philosopher
Nussbaum, currently the Ernst Freund distinguished service professor of law and ethics at the University of Chicago, is a classicist with a special interest in female equality. She is author most recently of Liberty of Conscience: In Defense of America's Tradition of Religious Equality and wrote “The World's Most Dangerous Ideas: Religious Intolerance” for the September/October 2004 issue of FP.
Sari Nusseibeh, Palestine
Diplomat, philosopher
Nusseibeh is professor of philosophy and president of Al-Quds University in Jerusalem. A leading Palestinian moderate, Nusseibeh worked with former Israeli Shin Bet chief Ami Ayalon in 2002 and 2003 to develop “The People’s Voice” peace initiative.
Amos Oz, Israel
Novelist, journalist
A professor of literature at Ben-Gurion University, the influential Oz was among the first to advocate a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict. He cofounded Peace Now in 1978. His most recent nonfiction book is How to Cure a Fanatic.
Orhan Pamuk, Turkey
Novelist
Pamuk won the Nobel Prize in Literature in 2006 after a year in which he faced criminal charges in Turkey for his frank comments about the Armenian genocide. His most famous books are My Name Is Red, Snow, and Istanbul: Memories and the City.
David Petraeus, United States
Military strategist
The commanding general of U.S. forces in Iraq, Petraeus is the architect of the U.S. military’s revised field manual on counterinsurgency.
Steven Pinker, Canada/United States
Linguist, psychologist
Steven Pinker is the Johnstone family professor at Harvard University and author of seven books, including The Stuff of Thought: Language as a Window into Human Nature. A frequent essayist for such publications as the New York Times, Time magazine, and Slate, Pinker focuses on language and cognition in his research.
Richard Posner, United States
Judge, author
Richard Posner is a judge on the U.S. Court of Appeals for the Seventh Circuit and the author of dozens of influential works on everything from legal philosophy and jurisprudence to catastrophic climate change. His most recent book is How Judges Think.
Samantha Power, United States
Journalist
A former foreign-policy advisor to Barack Obama’s presidential campaign, Power is best known for her Pulitzer Prize-winning book, A Problem from Hell: America and the Age of Genocide. She is the Anna Lindh professor of practice of global leadership and public policy at Harvard University’s Carr Center for Human Rights Policy.
Robert Putnam, United States
Political scientist
Putnam, a Harvard University professor of political science, is best known for Bowling Alone, his study of the decline in civic participation in the United States.
Yusuf al-Qaradawi, Egypt/Qatar
Cleric
Perhaps the most influential preacher in Sunni Islam, Qaradawi hosts the weekly show Sharia and Life on the Al Jazeera satellite channel.
V.S. Ramachandran, India
Neuroscientist
Ramachandran directs the Center for Brain and Cognition and at the University of California, San Diego. Richard Dawkins calls him the “Marco Polo of neuroscience” for his work on behavioral neurology. His best-known book is Phantoms in the Brain.
Tariq Ramadan, Switzerland
Philosopher, scholar of Islam
Born in Switzerland, Ramadan is a prominent advocate for a “European” version of Islam. A grandson of Muslim Brotherhood founder Hassan al-Banna, he was interviewed in the November/December 2004 issue of FP. His most recent book is In the Footsteps of the Prophet: Lessons from the Life of Muhammad.
Gianni Riotta, Italy
Journalist, political commentator
A columnist for the Corriere Della Sera newspaper and one of Italy’s foremost pundits, Riotta is a contributing editor to FP. He is author of the novel Prince of the Clouds and wrote “Who Wins in Iraq? Old Europe” for the March/April 2007 issue of FP.
Nouriel Roubini, Italy/United States
Economist
A widely cited expert on international macroeconomics and finance, Roubini is chairman of RGE Monitor and professor of economics at New York University’s Stern School of Business. He wrote “The Coming Financial Pandemic” in the March/April 2008 issue of FP.
Olivier Roy, France
Political scientist
One of the world’s top scholars of political Islam and terrorist movements, Roy is research director at the French National Center for Scientific Research. His 1992 book The Failure of Political Islam remains essential reading for anyone who wishes to understand contemporary Islamism.
Salman Rushdie, Britain
Novelist
His second novel, Midnight’s Children, won a prestigious Booker Prize in 1981. But Rushdie wasn’t catapulted to international fame until Iranian Ayatollah Ruhollah Khomenei condemned him to death in 1989 for writing The Satanic Verses. Rushdie was knighted in 2007.
Jeffrey Sachs, United States
Development economist
A former special advisor to U.N. Secretary-General Kofi Annan for the Millennium Development Goals, Sachs directs the Earth Institute at Columbia University. He is author of The End of Poverty and wrote “21 Solutions to Save the World: How to Stop a Serial Killer” for the May/June 2007 issue of FP.
Fernando Savater, Spain
Essayist, philosopher
Best known for his insights on ethics, religion, and terrorism, Savater is philosophy professor at the Complutense University of Madrid.
Amartya Sen, India
Development economist
Sen is an Indian-born economist whose influence spans the globe and ranges far beyond his field. He won the 1998 Nobel Prize in economics for his work on poverty, development, and democracy. Presently, he is the Lamont university professor at Harvard University.
Lilia Shevtsova, Russia
Political scientist
A senior associate at the Moscow Center of the Carnegie Endowment for International Peace, Shevtsova is author of Putin’s Russia and Russia—Lost in Transition. She wrote “Think Again: Vladimir Putin” for the January/February 2008 issue of FP.
Peter Singer, Australia
Philosopher
Singer is the Ira W. DeCamp professor of bioethics at Princeton University and a controversial advocate of “animal liberation.” His many books include Practical Ethics and Rethinking Life and Death: The Collapse of Our Traditional Ethics. Singer wrote “Here Today, Gone Tomorrow: The Sanctity of Life” for the September/October 2005 issue of FP.
Lee Smolin, United States/Canada
Physicist
Smolin is a theoretical physicist whose work on quantum gravity and “fecund universes” has established him as a leading thinker on some of the biggest questions in physics. Since, 2001, he has been a founding and senior researcher at the Perimeter Institute for Theoretical Physics in Waterloo, Ontario. Smolin is author of The Life of the Cosmos and The Trouble With Physics: The Rise of String Theory, the Fall of a Science, and What Comes Next.
Abdolkarim Soroush, Iran
Religious theorist
A leading figure on the Iranian left, Soroush is currently a visiting scholar at Georgetown University’s Berkley Center for Religion, Peace, and World Affairs. His most important works are collected in Reason, Freedom, and Democracy in Islam: Essential Writings of Abdolkarim Soroush.
Wole Soyinka, Nigeria
Playwright, activist
Winner of the 1986 Nobel Prize in Literature, Soyinka is one of Africa’s most distinguished playwrights. Soyinka was imprisoned during the Nigerian civil war and became a fierce critic of subsequent Nigerian regimes. He is formerly the Elias Ghanem professor of creative writing at the University of Nevada, Las Vegas.
Michael Spence, United States
Economist
Winner of the 2001 Nobel Prize in economics, Spence is known for his work on signaling in the job market. He is a Hoover Institution fellow, Philip H. Knight professor emeritus, and former dean of Stanford University’s Graduate School of Business.
Lawrence Summers, United States
Economist
A U.S. Treasury secretary under the Clinton administration and a former president of Harvard University, Summers is a columnist for the Financial Times and a member of the editorial board of Foreign Policy. He shared his “Epiphanies” in the March/April 2008 issue of FP.
Charles Taylor, Canada
Philosopher
Author most recently of A Secular Age, Taylor is known for his communitarian political philosophy.
Mario Vargas Llosa, Peru
Novelist, politician
An astonishingly prolific author and essayist, Vargas Llosa is one of the giants of contemporary Latin American literature. His most acclaimed work is The Green House. He is the 1994 recipient of the prestigious Miguel de Cervantes Prize.
Harold Varmus, United States
Medical scientist
A former director of the National Institutes of Health, Varmus won the Nobel Prize in Medicine (along with J. Michael Bishop) for his cancer research. He now heads the Memorial Sloan-Kettering Cancer Center in Manhattan.
J. Craig Venter, United States
Biologist, entrepreneur
Famous for trying to compete with the Human Genome Project, Venter currently heads Synthetic Genomics, a company that aims to produce alternative fuels using microorganisms.
Michael Walzer, United States
Political theorist
A leading U.S. political theorist who has written extensively about the concept of “just war,” Walzer is coeditor of the leftist quarterly Dissent. He is professor emeritus at the Institute for Advanced Study and author most recently of Politics and Passion: Toward A More Egalitarian Liberalism.
Wang Hui, China
Political theorist
Wang is professor of Chinese language and literature at Tsinghua University. Sent to the hinterlands for his role in the Tiananmen Square protests of 1989, Wang is a leading member of China’s “New Left” movement and a past editor of Dushu, one of China’s most influential literary journals.
E.O. Wilson, United States
Biologist
A two-time Pulitzer Prize-winner (for On Human Nature and The Ants) and naturalist, Wilson argues that human behavior can largely be explained by biology. He is Pellegrino university professor emeritus of entomology at Harvard University.
Martin Wolf, Britain
Journalist, columnist
Perhaps the world’s most influential economics commentator, Wolf is associate editor and a columnist for the Financial Times. He is author of Why Globalization Works and wrote “Who Wins in Iraq?: The United Nations” for the March/April 2007 issue of FP.
Yan Xuetong, China
Political scientist
Yan, a forceful advocate of China’s national strength, is director of the Institute of International Studies at Tsinghua University. Yuan Ming reviewed his 1996 book, On Analysis of China's National Interests, for the Summer 1997 issue of FP.
Muhammad Yunus, Bangladesh
Microfinancier, activist
Recipient of the 2006 Nobel Peace Prize, Yunus is the founder of the Grameen Bank and a pioneer in the field of microfinance. He shared his “Epiphanies” in the January/February 2008 issue of FP.
Fareed Zakaria, United States
Journalist, author
Zakaria is editor of Newsweek International and author of The Future of Freedom: Illiberal Democracy at Home and Abroad. He wrote “The World’s Most Dangerous Ideas: Hating America” for the September/October 2004 issue of FP.
Slavoj Zizek, Slovenia
Sociologist, philosopher
A self-described Marxist philosopher, sociologist, and cultural critic, Zizek is senior researcher at the Institute of Sociology at the University of Ljubljana.
The Foreign Policy/Prospect 2008 World’s Top 100 Public Intellectuals poll is now closed.
To view the complete list of intellectuals, please click here.
Foreign Policy and Prospect will publish the results of the poll on June 23.
Aitzaz Ahsan, Pakistan
Lawyer and politician
As president of Pakistan’s Supreme Court Bar Association and a senior figure in the Pakistan People’s Party, Ahsan has played a leading role in opposing antidemocratic moves by Pakistani President Pervez Musharraf. He is author of The Indus Saga and the Making of Pakistan.
Kwame Anthony Appiah, Ghana/United States
Philosopher
Appiah is Laurance S. Rockefeller University professor of philosophy at Princeton University and author of numerous books and novels, including The Ethics of Identity.
Anne Applebaum, United States
Journalist, historian
A regular columnist for the Washington Post, Applebaum is a veteran journalist and author of Gulag: A History, a Pulitzer Prize-winning account of the Soviet prison system. She wrote “In Search of Pro-Americanism” for the July/August 2005 issue of FP.
Jacques Attali, France
Economist, writer
A past advisor to former French President François Mitterrand, Attali played a leading role in helping former Warsaw Pact countries make the transition to market economies. He is author of Noise: The Political Economy of Music. A contributing editor to Foreign Policy, Attali wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Monogamy” for the September/October 2005 issue of FP.
George Ayittey, Ghana
Economist
Ayittey is a prominent Ghanaian scholar, activist, and author of Africa Unchained: The Blueprint for Africa’s Future. As president of the Washington-based Free Africa Foundation, he argues that “Africa is poor because she is not free.” He is an economist in residence at American University.
Daniel Barenboim, Israel
Conductor, pianist, peace activist
An outspoken critic of Israeli policies in the Palestinian territories, Barenboim is “conductor for life” at the Berlin State Opera and is widely seen as a successor to Lorin Maazel at the New York Philharmonic.
Anies Baswedan, Indonesia
University president, political analyst
Currently president of Paramadina University in Jakarta and a noted researcher, Baswedan played a leading role in the student movements that helped oust Indonesian dictator Suharto.
Pope Benedict XVI, Germany/Vatican
Religious leader, theologian
Born Joseph Alois Ratzinger, Pope Benedict is a leading theologian and a staunch defender of Catholic traditions and values. Prior to his election as pope in 2005, he was a prolific author and commentator and even cofounded a theological journal, the influential Communio. Before Ratzinger’s election, R. Scott Appleby wrote “Job Description for the Next Pope” in the January/February 2004 issue of FP.
Ian Buruma, Britain/Netherlands
Essayist
A former journalist who spent years working in Asia, Buruma is best known for Murder in Amsterdam: The Death of Theo van Gogh and the Limits of Tolerance and for his commentary on faith and moral relativism. He is a widely syndicated columnist and a popular lecturer.
Fernando Henrique Cardoso, Brazil
Politician, author
An internationally renowned sociologist and a two-term former president of Brazil, Cardoso is a professor at Brown University’s Watson Institute for International Studies. He has authored numerous books, including Dependency and Development in Latin America, and is a director of the Club of Madrid. He wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Political Parties” for the September/October 2005 issue of FP.
Noam Chomsky, United States
Linguist, activist
A professor at the Massachusetts Institute of Technology since 1955, the prolific Chomsky is a groundbreaking linguist and a prominent critic of U.S. foreign policy. He wrote “What Is the International Community: The Crimes of 'Intcom'” for the September/October 2002 issue of FP.
J.M. Coetzee, South Africa
Novelist
The 2003 winner of the Nobel Prize in Literature, Coetzee wrote his most famous novels—Waiting for the Barbarians, Life & Times of Michael K , and Disgrace—while a university professor in South Africa and the United States.
Paul Collier, Britain
Development and conflict economist
Author most recently of The Bottom Billion: Why the Poorest Countries Are Failing and What Can Be Done About It, awarded the 2008 Gelber Prize, Collier is professor of economics at Oxford University and a leading expert on the governance and development challenges faced by the world’s poorest countries. He wrote “Africa’s Revolutionary Routine” in the May/June 2004 issue of FP.
Richard Dawkins, Britain
Biologist, author
Dawkins’s seminal 1976 work, The Selfish Gene, explores the role played by genes in the evolutionary process. He may be better known today for the criticisms of religion and “intelligent design” theories put forth in The God Delusion. He shares his “Epiphanies” in the May/June 2008 issue of FP.
Alex de Waal, Britain
Writer, Africa activist
A program director at the Social Science Research Council, de Waal is a frequently cited expert on the Darfur crisis and on African health issues.
Thérèse Delpech, France
Political scientist
One of France’s most respected analysts of international affairs, Delpech is director for strategic studies at the Atomic Energy Commission of France, senior research fellow at CERI (Center of International Relations Studies), and author most recently of Savage Century: Back to Barbarism.
Daniel Dennett, United States
Philosopher
Dennett is the Austin B. Fletcher professor of philosophy at Tufts University, where his life’s work is building a “philosophy of mind” to explain how human consciousness works. He is the author of Content and Consciousness, Consciousness Explained, Darwin's Dangerous Idea, and Breaking the Spell, among others.
Jared Diamond, United States
Biologist, historian
The preeminent scholar of the relationship between the environment and civilizational success, Diamond is the Pulitzer Prize-winning author of Guns, Germs, and Steel and Collapse. He is professor of geography and physiology at the University of California, Los Angeles.
Esther Duflo, France
Development economist
Duflo is the Abdul Latif Jameel professor of poverty alleviation and development economics at the Massachusetts Institute of Technology, where she studies health, poverty, and credit issues in the developing world. She wrote “21 Solutions to Save the World: Fund What Works” for the May/June 2007 issue of FP.
William Easterly, United States
Economist, aid skeptic
A scathing critic of “the ideology of development,” Easterly views much foreign aid as messianic, wasted, or even harmful to developing countries. He is professor of economics at New York University, author of The White Man’s Burden: Why the West’s Efforts to Aid the Rest Have Done So Much Ill and So Little Good, and a frequent contributor to Foreign Policy.
Shirin Ebadi, Iran
Lawyer, human rights activist
Awarded the Nobel Peace Prize in 2003 for her advocacy on behalf of Iranian dissidents and others, especially women and children, Ebadi is a human rights lawyer in Tehran and author of the memoir Iran Awakening: A Memoir of Revolution and Hope.
Umberto Eco, Italy
Medievalist, novelist
Eco’s dense novels, such as The Name of the Rose and Foucault’s Pendulum, are a dizzying blend of philosophy, biblical analysis, and arcane literary references. An expert in the burgeoning field of semiotics, he is president of the Advanced School of Humanist Studies at the University of Bologna.
Fan Gang, China
Economist
Foreign analysts watch closely the remarks of Fan, the influential director of the government-affiliated National Economic Research Institute in Beijing and a leading reform advocate, for clues about what Chinese leaders are thinking about the global economy.
Drew Gilpin Faust, United States
University president, historian
Harvard University’s first female president, Faust is a respected historian of the American Civil War and the author of six books, including most recently This Republic of Suffering: Death and the American Civil War.
Niall Ferguson, Britain
Historian
The Laurence A. Tisch professor of history at Harvard University and a senior fellow at the Hoover Institution at Stanford University, Ferguson is a prolific author best known for The Pity of War, his counterintuitive take on the British role in World War I. He wrote “Empires with Expiration Dates” in the September/October 2006 issue of FP and “A World Without Power” in the July/August 2004 issue.
Alain Finkielkraut, France
Essayist, philosopher
One of France’s most prominent columnists, the controversial Finkielkraut teaches about the “history of ideas” at the École Polytechnique in Paris and is a polemical critic of modern French society.
Thomas Friedman, United States
Journalist, columnist
Friedman—New York Times foreign affairs commentator, three-time Pulitzer Prize-winning journalist, and author of The World Is Flat and From Beirut to Jerusalem—is one of the world’s most popular and influential syndicated columnists. He wrote “The First Law of Petropolitics” for the May/June 2006 issue of FP.
Francis Fukuyama, United States
Political scientist
Renowned for declaring The End of History after the fall of the Soviet Union, Fukuyama is professor of international political economy at the School of Advanced International Studies at Johns Hopkins University and author most recently of America at the Crossroads: Democracy, Power, and the Neoconservative Legacy. He wrote “The World’s Most Dangerous Ideas: Transhumanism” for the September/October 2004 issue of FP.
Yegor Gaidar, Russia
Economist, politician
Gaidar was Boris Yeltsin’s acting prime minister from June 15 to December 14, 1992 and a proponent of “shock therapy” for the Russian economy. He is a contributing editor to FP.
Howard Gardner, United States
Psychologist, author
The John H. and Elisabeth A. Hobbs professor of cognition and education at the Harvard Graduate School of Education, Gardner is the recipient of a MacArthur “genius grant” and the author of more than 20 books, most recently Responsibility at Work and Five Minds for the Future. He wrote “21 Solutions to Save the World: An Embarrassment of Riches” for the May/June 2007 issue of FP.
Neil Gershenfeld, United States
Physicist, computer scientist
Gershenfeld heads the Center for Bits and Atoms at the Massachusetts Institute of Technology, where he takes an interdisciplinary approach to quantum computing, nanotechnology, and personal fabrication. He is author most recently of Fab: The Coming Revolution on Your Desktop—From Personal Computers to Personal Fabrication.
Malcolm Gladwell, Canada/United States
Pop sociologist, journalist
Author of Blink and The Tipping Point, Gladwell is a National Magazine Award-winning staff writer at The New Yorker.
Al Gore, United States
Climate change activist, politician
Since serving two terms as Bill Clinton’s vice president in the 1990s, Gore has become a leading advocate on climate change and a winner of the Nobel Peace Prize. He starred in the Oscar-winning documentary An Inconvenient Truth.
Ramachandra Guha, India
Historian
An Indian historian, columnist and MacArthur fellow, Guha has taught in the United States, Norway, and now in Bangalore. He is author of India After Gandhi.
Alma Guillermoprieto, Mexico
Journalist, author
A Mexican journalist and a MacArthur fellow, Guillermoprieto has written extensively in such publications as The New Yorker, The New York Review of Books, and the Washington Post. A veteran war correspondent, she is a former South America bureau chief for Newsweek and author of Dancing with Cuba. Her chronicles of Latin America’s “lost decade” were published as The Heart That Bleeds in 1994.
Fethullah Gülen, Turkey
Religious leader
A modernist Islamic scholar and leader of the movement named after him, Gülen is widely considered one of the most important Muslim thinkers alive today. He has authored more than 60 books.
Jürgen Habermas, Germany
Philosopher
Habermas’s diverse interests range from epistemology to the rule of law, but his most influential work is on the “public sphere”—the arena in which arguments about political matters take place. He is author of The Theory of Communicative Action and, most recently, The Dialectics of Secularization, a dialogue with Joseph Ratzinger.
Vaclav Havel, Czech Republic
Statesman, playwright
A leading dissident and repeated political prisoner during the Soviet era, Havel became president of Czechoslovakia after the Velvet Revolution of 1989, saw his country through a transition to a democratic market economy, and managed the split with Slovakia.
Ayaan Hirsi Ali, Somalia/Netherlands
Activist, politician
A former member of the Dutch parliament and a fierce critic of the role of women in Islam, Ali has feared for her life since writing the screenplay for Submission, the provocative short film that led to Theo van Gogh’s murder.
Christopher Hitchens, Britain/United States
Journalist, author
One of the English language’s most sought-after polemicists, Hitchens is a columnist for Vanity Fair and the author of God Is Not Great: How Religion Poisons Everything. He wrote “The Plight of the Public Intellectual” in the May/June 2008 issue of FP.
Hu Shuli, China
Journalist
Managing editor of Caijing, a top Chinese business magazine, Hu is a veteran journalist, author, and panelist for the Washington Post's PostGlobal.
Samuel Huntington, United States
Political scientist
Through such works as Political Order in Changing Societies, Huntington’s influence on his field is profound, but his most famous book is certainly The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order. Currently the Albert J. Weatherhead III professor at Harvard University, Huntington cofounded Foreign Policy in 1970. He wrote his provocative article “The Hispanic Challenge” for the March/April 2004 issue of FP.
Michael Ignatieff, Canada
Human rights theorist, politician
A past winner of the Gelber Prize for his book Blood and Belonging: Journeys into the New Nationalism, Ignatieff is a leading thinker on human rights issues. He is deputy leader of Canada’s Liberal Party and former head of Harvard University’s Carr Center for Human Rights Policy.
Tony Judt, Britain
Historian
Judt is the Erich Maria Remarque professor in European studies at New York University, author of Postwar: A History of Europe Since 1945, and a frequent contributor to the New York Review of Books.
Robert Kagan, United States
Author, political commentator
An influential columnist for the Washington Post and elsewhere, Kagan is senior associate at the Carnegie Endowment for International Peace and author most recently of The Return of History and the End of Dreams. He wrote “From Victory to Success: Looking for Legitimacy in All the Wrong Places” in the July/August 2003 issue of FP.
Daniel Kahneman, Israel/United States
Psychologist
A Nobel laureate for his work on “prospect theory,” Kahneman is senior scholar at Princeton University’s Woodrow Wilson School of Public and International Affairs and the Eugene Higgins professor of psychology emeritus at Princeton. He cowrote “Why Hawks Win” in the January/February 2007 issue of FP, which was selected for publication in The Best American Political Writing 2007.
Garry Kasparov, Russia
Democracy activist, chess grandmaster
Since his days as a world chess champion, Kasparov has become an outspoken critic of outgoing Russian President Vladimir Putin. Chairman of the United Civil Front, a democratic activist group, he wrote “21 Solutions to Save the World: A Global Magna Carta” for the May/June 2007 issue of FP.
Amr Khaled, Egypt
Muslim televangelist
An entrepreneurial preacher and broadcaster, Khaled is an accountant by training but a born evangelical leader. The moderate Khaled, who preaches a message of tolerance and personal redemption through Islam, is wildly popular among younger Muslims in the Arab world.
Rem Koolhaas, Netherlands
Architect
Koolhaas is Pritzker Prize-winning principal at the Office for Metropolitan Architecture, but his influence extends to urban theory, journalism, and beyond. The cofounder of Volume magazine, his most famous works include Maison à Bordeaux, the Seattle Public Library, and the Casa da Musica hall in Porto, Portugal. He is professor in practice at Harvard University’s architecture department and author of Delirious New York and S,M,L,XL.
Ivan Krastev, Bulgaria
Political scientist
Chairman of the Centre for Liberal Strategies in Sofia, Krastev is editor of FP’s Bulgarian edition and author of “What Russia Wants” in the May/June 2008 issue of FP.
Enrique Krauze, Mexico
Historian
Krauze is publisher of Editorial Clío and editor of Letras Libres, a Mexican cultural magazine. He is author of Mexico: Biography of Power.
Paul Krugman, United States
Economist, columnist
A fiery political commentator for the New York Times and a respected trade theorist, Krugman is a John Bates Clark Medal-winning economist at Princeton University. His most recent book is The Conscience of a Liberal. He wrote “Europe Jobless, America Penniless?” in the Summer 1994 issue of FP.
Lee Kuan Yew, Singapore
Politician, national patriarch
Lee stepped down as prime minister in 1990, but he remains a towering figure in Singaporean politics. His current post is “minister mentor,” a job created just for him. He wrote “Here Today, Gone Tomorrow: Laissez-Faire Procreation” for the September/October 2005 issue of FP.
Lawrence Lessig, United States
Legal scholar, activist
The darling of cyberspace for his efforts to reduce restrictions on intellectual property, Lessig is professor of law at Stanford University and author of The Future of Ideas. He wrote “The Internet Under Siege” for the November/December 2001 issue of FP.
Steven Levitt, United States
Economist, author
Best known for coauthoring Freakonomics with Stephen J. Dubner, Levitt is the Alvin Baum professor of economics at the University of Chicago. A 2003 winner of the John Bates Clark Medal for economists under 40, his most famous work links the rise in abortions to the drop in crime rates in the United States.
Bernard Lewis, Britain/United States
Historian
Eminent scholar of the Ottoman Empire, the Middle East, and Islam, Lewis is the Cleveland E. Dodge professor emeritus of Near Eastern studies at Princeton University. His most recent book is From Babel to Dragomans: Interpreting the Middle East.
Bjørn Lomborg, Denmark
Environmentalist, statistician
Controversial for his view, as expounded upon in The Skeptical Environmentalist, that combating global crises such as HIV/AIDS ought to take precedence over fighting climate change, Lomborg wrote “21 Solutions to Save the World: Take Your Vitamins” for the May/June 2007 issue of FP.
James Lovelock, Britain
Environmental scientist
Lovelock’s great contribution to science is the famous Gaia hypothesis, the idea that Earth can be thought of as a giant organism. A developer of numerous scientific instruments used by NASA, Lovelock is author most recently of The Revenge of Gaia: Why the Earth Is Fighting Back—and How We Can Still Save Humanity.
Mahmood Mamdani, Uganda
Cultural anthropologist
Mamdani is the Herbert Lehman professor of government in the anthropology, political science, and international affairs departments at Columbia University and was director of the Institute of African Studies there until 2004. He is the author most recently of Good Muslim, Bad Muslim: America, the Cold War and the Roots of Terror.
Minxin Pei, China
Political scientist
A senior associate and director of the China Program at the Carnegie Endowment for International Peace, he is author of China’s Trapped Transition: The Limits of Developmental Autocracy and wrote “The Dark Side of China’s Rise” for the March/April 2006 issue of FP.
Ashis Nandy, India
Political psychologist
A scholar at the Centre for the Study of Developing Societies in New Delhi, Nandy studies “political psychology, mass violence, cultures and politics of knowledge, utopias and visions.”
Sunita Narain, India
Environmentalist
Director of India’s Centre for Science and Environment, Narain is a leading advocate of sustainable development and a strong supporter of fairness in environmental negotiations. She won the 2005 Stockholm Water Prize for the center’s work on water management.
Martha Nussbaum, United States
Philosopher
Nussbaum, currently the Ernst Freund distinguished service professor of law and ethics at the University of Chicago, is a classicist with a special interest in female equality. She is author most recently of Liberty of Conscience: In Defense of America's Tradition of Religious Equality and wrote “The World's Most Dangerous Ideas: Religious Intolerance” for the September/October 2004 issue of FP.
Sari Nusseibeh, Palestine
Diplomat, philosopher
Nusseibeh is professor of philosophy and president of Al-Quds University in Jerusalem. A leading Palestinian moderate, Nusseibeh worked with former Israeli Shin Bet chief Ami Ayalon in 2002 and 2003 to develop “The People’s Voice” peace initiative.
Amos Oz, Israel
Novelist, journalist
A professor of literature at Ben-Gurion University, the influential Oz was among the first to advocate a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict. He cofounded Peace Now in 1978. His most recent nonfiction book is How to Cure a Fanatic.
Orhan Pamuk, Turkey
Novelist
Pamuk won the Nobel Prize in Literature in 2006 after a year in which he faced criminal charges in Turkey for his frank comments about the Armenian genocide. His most famous books are My Name Is Red, Snow, and Istanbul: Memories and the City.
David Petraeus, United States
Military strategist
The commanding general of U.S. forces in Iraq, Petraeus is the architect of the U.S. military’s revised field manual on counterinsurgency.
Steven Pinker, Canada/United States
Linguist, psychologist
Steven Pinker is the Johnstone family professor at Harvard University and author of seven books, including The Stuff of Thought: Language as a Window into Human Nature. A frequent essayist for such publications as the New York Times, Time magazine, and Slate, Pinker focuses on language and cognition in his research.
Richard Posner, United States
Judge, author
Richard Posner is a judge on the U.S. Court of Appeals for the Seventh Circuit and the author of dozens of influential works on everything from legal philosophy and jurisprudence to catastrophic climate change. His most recent book is How Judges Think.
Samantha Power, United States
Journalist
A former foreign-policy advisor to Barack Obama’s presidential campaign, Power is best known for her Pulitzer Prize-winning book, A Problem from Hell: America and the Age of Genocide. She is the Anna Lindh professor of practice of global leadership and public policy at Harvard University’s Carr Center for Human Rights Policy.
Robert Putnam, United States
Political scientist
Putnam, a Harvard University professor of political science, is best known for Bowling Alone, his study of the decline in civic participation in the United States.
Yusuf al-Qaradawi, Egypt/Qatar
Cleric
Perhaps the most influential preacher in Sunni Islam, Qaradawi hosts the weekly show Sharia and Life on the Al Jazeera satellite channel.
V.S. Ramachandran, India
Neuroscientist
Ramachandran directs the Center for Brain and Cognition and at the University of California, San Diego. Richard Dawkins calls him the “Marco Polo of neuroscience” for his work on behavioral neurology. His best-known book is Phantoms in the Brain.
Tariq Ramadan, Switzerland
Philosopher, scholar of Islam
Born in Switzerland, Ramadan is a prominent advocate for a “European” version of Islam. A grandson of Muslim Brotherhood founder Hassan al-Banna, he was interviewed in the November/December 2004 issue of FP. His most recent book is In the Footsteps of the Prophet: Lessons from the Life of Muhammad.
Gianni Riotta, Italy
Journalist, political commentator
A columnist for the Corriere Della Sera newspaper and one of Italy’s foremost pundits, Riotta is a contributing editor to FP. He is author of the novel Prince of the Clouds and wrote “Who Wins in Iraq? Old Europe” for the March/April 2007 issue of FP.
Nouriel Roubini, Italy/United States
Economist
A widely cited expert on international macroeconomics and finance, Roubini is chairman of RGE Monitor and professor of economics at New York University’s Stern School of Business. He wrote “The Coming Financial Pandemic” in the March/April 2008 issue of FP.
Olivier Roy, France
Political scientist
One of the world’s top scholars of political Islam and terrorist movements, Roy is research director at the French National Center for Scientific Research. His 1992 book The Failure of Political Islam remains essential reading for anyone who wishes to understand contemporary Islamism.
Salman Rushdie, Britain
Novelist
His second novel, Midnight’s Children, won a prestigious Booker Prize in 1981. But Rushdie wasn’t catapulted to international fame until Iranian Ayatollah Ruhollah Khomenei condemned him to death in 1989 for writing The Satanic Verses. Rushdie was knighted in 2007.
Jeffrey Sachs, United States
Development economist
A former special advisor to U.N. Secretary-General Kofi Annan for the Millennium Development Goals, Sachs directs the Earth Institute at Columbia University. He is author of The End of Poverty and wrote “21 Solutions to Save the World: How to Stop a Serial Killer” for the May/June 2007 issue of FP.
Fernando Savater, Spain
Essayist, philosopher
Best known for his insights on ethics, religion, and terrorism, Savater is philosophy professor at the Complutense University of Madrid.
Amartya Sen, India
Development economist
Sen is an Indian-born economist whose influence spans the globe and ranges far beyond his field. He won the 1998 Nobel Prize in economics for his work on poverty, development, and democracy. Presently, he is the Lamont university professor at Harvard University.
Lilia Shevtsova, Russia
Political scientist
A senior associate at the Moscow Center of the Carnegie Endowment for International Peace, Shevtsova is author of Putin’s Russia and Russia—Lost in Transition. She wrote “Think Again: Vladimir Putin” for the January/February 2008 issue of FP.
Peter Singer, Australia
Philosopher
Singer is the Ira W. DeCamp professor of bioethics at Princeton University and a controversial advocate of “animal liberation.” His many books include Practical Ethics and Rethinking Life and Death: The Collapse of Our Traditional Ethics. Singer wrote “Here Today, Gone Tomorrow: The Sanctity of Life” for the September/October 2005 issue of FP.
Lee Smolin, United States/Canada
Physicist
Smolin is a theoretical physicist whose work on quantum gravity and “fecund universes” has established him as a leading thinker on some of the biggest questions in physics. Since, 2001, he has been a founding and senior researcher at the Perimeter Institute for Theoretical Physics in Waterloo, Ontario. Smolin is author of The Life of the Cosmos and The Trouble With Physics: The Rise of String Theory, the Fall of a Science, and What Comes Next.
Abdolkarim Soroush, Iran
Religious theorist
A leading figure on the Iranian left, Soroush is currently a visiting scholar at Georgetown University’s Berkley Center for Religion, Peace, and World Affairs. His most important works are collected in Reason, Freedom, and Democracy in Islam: Essential Writings of Abdolkarim Soroush.
Wole Soyinka, Nigeria
Playwright, activist
Winner of the 1986 Nobel Prize in Literature, Soyinka is one of Africa’s most distinguished playwrights. Soyinka was imprisoned during the Nigerian civil war and became a fierce critic of subsequent Nigerian regimes. He is formerly the Elias Ghanem professor of creative writing at the University of Nevada, Las Vegas.
Michael Spence, United States
Economist
Winner of the 2001 Nobel Prize in economics, Spence is known for his work on signaling in the job market. He is a Hoover Institution fellow, Philip H. Knight professor emeritus, and former dean of Stanford University’s Graduate School of Business.
Lawrence Summers, United States
Economist
A U.S. Treasury secretary under the Clinton administration and a former president of Harvard University, Summers is a columnist for the Financial Times and a member of the editorial board of Foreign Policy. He shared his “Epiphanies” in the March/April 2008 issue of FP.
Charles Taylor, Canada
Philosopher
Author most recently of A Secular Age, Taylor is known for his communitarian political philosophy.
Mario Vargas Llosa, Peru
Novelist, politician
An astonishingly prolific author and essayist, Vargas Llosa is one of the giants of contemporary Latin American literature. His most acclaimed work is The Green House. He is the 1994 recipient of the prestigious Miguel de Cervantes Prize.
Harold Varmus, United States
Medical scientist
A former director of the National Institutes of Health, Varmus won the Nobel Prize in Medicine (along with J. Michael Bishop) for his cancer research. He now heads the Memorial Sloan-Kettering Cancer Center in Manhattan.
J. Craig Venter, United States
Biologist, entrepreneur
Famous for trying to compete with the Human Genome Project, Venter currently heads Synthetic Genomics, a company that aims to produce alternative fuels using microorganisms.
Michael Walzer, United States
Political theorist
A leading U.S. political theorist who has written extensively about the concept of “just war,” Walzer is coeditor of the leftist quarterly Dissent. He is professor emeritus at the Institute for Advanced Study and author most recently of Politics and Passion: Toward A More Egalitarian Liberalism.
Wang Hui, China
Political theorist
Wang is professor of Chinese language and literature at Tsinghua University. Sent to the hinterlands for his role in the Tiananmen Square protests of 1989, Wang is a leading member of China’s “New Left” movement and a past editor of Dushu, one of China’s most influential literary journals.
E.O. Wilson, United States
Biologist
A two-time Pulitzer Prize-winner (for On Human Nature and The Ants) and naturalist, Wilson argues that human behavior can largely be explained by biology. He is Pellegrino university professor emeritus of entomology at Harvard University.
Martin Wolf, Britain
Journalist, columnist
Perhaps the world’s most influential economics commentator, Wolf is associate editor and a columnist for the Financial Times. He is author of Why Globalization Works and wrote “Who Wins in Iraq?: The United Nations” for the March/April 2007 issue of FP.
Yan Xuetong, China
Political scientist
Yan, a forceful advocate of China’s national strength, is director of the Institute of International Studies at Tsinghua University. Yuan Ming reviewed his 1996 book, On Analysis of China's National Interests, for the Summer 1997 issue of FP.
Muhammad Yunus, Bangladesh
Microfinancier, activist
Recipient of the 2006 Nobel Peace Prize, Yunus is the founder of the Grameen Bank and a pioneer in the field of microfinance. He shared his “Epiphanies” in the January/February 2008 issue of FP.
Fareed Zakaria, United States
Journalist, author
Zakaria is editor of Newsweek International and author of The Future of Freedom: Illiberal Democracy at Home and Abroad. He wrote “The World’s Most Dangerous Ideas: Hating America” for the September/October 2004 issue of FP.
Slavoj Zizek, Slovenia
Sociologist, philosopher
A self-described Marxist philosopher, sociologist, and cultural critic, Zizek is senior researcher at the Institute of Sociology at the University of Ljubljana.
یوسف رضا گیلانی ’’ایک اور نائن الیون ہونے والا ہے ‘‘کا بیان واپس لیں، وہ امریکہ کو قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی ترغیب دے رہے ہیں
لاہور ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بش کی زبان بول رہے ہیں ۔ ایک اور نائن الیون کا بیان واپس لیں۔ عوام کی 18فروری کے بعد حکومت سے توقعات پوری نہیں ہوسکیں ۔حکومتی اتحاد ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذہ میں ناکام رہا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف ایک بار پھر مضبوط ہوگئے ہیں۔ مطالبات منظور کروائے بغیر مسلم لیگ (ن) وزارتوں میں واپس آئی تو عوام کو شدید مایوسی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے خلاف اتحادی فوجوں کی جارحیت کے خلاف ملتان چونگی چوک میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ مظاہرین سے چماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن، ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ، جماعت اسلامی لاہور کے قائم مقام امیر امیر العظیم اور جماعت اسلامی شعبہ خارجہ امور کے سربراہ عبدالغفار عزیز نے خطاب کیا۔ مظاہرین نے جماعت اسلامی کے پرچم، بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی دہشت گردی اور حکمرانوں کی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین ’’ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘‘ اور ’’ امریکہ کی بربادی تک جنگ رہے گی‘‘ اور ’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ سید منور حسن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وفاقی اور صوبہ سرحد کی حکومتوں کو براہ راست امریکہ چلا رہا ہے۔ ملک میں آج بھی 18فروری کے الیکشن سے پہلے کی پالیسیاں جاری ہیں۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے ’’ ایک اور نائن الیون‘‘ ہونے والا ہے بیان سے عوام کوسخت مایوسی ہوئی ہے ۔ وزیراعظم کو اپنا یہ بیان فوری واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر اتحادی فوجوں کی آئے دن مداخلت انتہائی قابل مذمت ہے۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ 18فروری کے الیکشن کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن حکمرانوں نے انتہائی مایوس کیا ہے نہ جنرل (ر)پرویز مشرف کا مواخذہ ہوسکا اور نہ ہی جج بحال ہوسکے جبکہ مہنگائی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ سب کچھ آئینی تقاضوں کے برعکس کیا جارہا ہے۔ پرویز مشرف جو الیکشن کے بعد آرمی ہاؤس میں چھپ گئے تھے آج کراچی سٹیڈیم میں جاکر عوام میں بیٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اے پی ڈی ایم کا انتخابی بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا ہے کیونکہ انتخابات میں عوامی توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے ہیں۔ ہماری سرحدیں بھی مزید غیر محفوط ہوگئی ہیں۔ امریکہ اور اس کی اتحادی فوجوں کو صرف جذبہ جہاد کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ فرید احمد پراچہ نے کہاکہ وزیراعظم کو ایک اور نائن الیون ہونے والا ہے جیسا بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ وہ خود امریکہ کو پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نائن الیون جیسے اقدامات کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو امریکہ کے حوالے نہیں کرنے دیا جائے گا بلکہ ان سے پاکستان کے ایک ایک شہری کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ صرف مشرف ہی نہیں ان کے درباری بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔ ان کا مقدر اڈیالہ جیل ہے۔ امیر العظیم نے کہاکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد بش ہے جس کے دونوں ادوار میں کوئی دن ایسا نہیں گذرا جب مسلم دنیا کو کوئی نیا زخم نہ ملا ہو۔ افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے بعد اب وہ ایران اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کا پروگرام بنا رہا ہے۔ انہوں نے سوڈان کے صدر کو عالمی عدالت میں طلب کرنے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ ایسے اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے بش کی ساتھی بنی ہوئی ہے۔ عبدالغفار عزیز نے کہا کہ عالمی عدالت میں سوڈان کے صدر کو نہیں بلکہ مشرف کو کٹہرے میں لانا چاہئے وہ عالمی مجرم بش کا ایجنٹ ہے۔
شوہر کی فرمانبرداری ‘ ایک مسلم خاتون ‘ فرانسیسی شہریت کے حصول میں ناکام ہو گئی ، عدالت کی عجیب و غریب رولنگ ‘ کئی مقامی دانشوروں کی تنقید
پیرس ۔ فرانس کی ایک عدالت نے ایک برقعہ ( حجاب ) پوش مراقشی نثراد مسلم خاتون فیضہ مبشر ( 32 سالہ ) کو محض اس بنیاد پر فرانسیسی قومیت سے انکار کر دیا ہے کہ وہ ( خاتون ) اپنے شوہر کی ’’ حد درجہ ‘‘ فرمانبردار ہیں ۔ عدالت ( کونسل آف سٹیٹ ) نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ مذکورہ خاتون کے مذہبی رسومات‘ فرانسیسی اقدار سے ’’ ہم آہنگ ‘‘ نہیں ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ یہ خاتون اپنے مرد رشتہ داروں کی بالکل ہی مطیع ہیں ۔ ایسی اطاعت کو وہ اپنے معمول سمجھتی ہیں ۔ ان رشتہ داروں کو چیلنج کرنے کا کوئی خیال بھی ان کے گوشتہ ذہن میں نہیں آیا ۔ فیضہ مبشر ‘ 2000 سے فرانس میں مقیم ہیں ۔ انہوں نے ایک فرانسیسی شہری سے شادی کی ہے اور فرانسیسی زبان میں روانی سے بات چیت کر سکتی ہیں وہ تین بچوں کی ماں ہیں ۔ انہوں نے فرانسیسی قومیت کے لئے درخواست دی تھی لیکن 2005 ء میں اس بنیاد پر ان کی درخواست مسترد کر دی گئی کہ وہ ( فرانسیسی اقدار سے ) پوری طرح ’’ ہم آہنگ نہیں ہیں ۔ فیضہ مبشر نے اس فیصلہ کے خلاف کونسل آف سٹیٹ میں اپیل دائر کی اوراس کونسل میں بھی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی ۔ فرانس میں تقریباً 70 لاکھ مسلمان رہتے ہیں یورپ کے کسی ملک میں یہ سب سے بڑی مسلم اکثریت ہے فرانسیسی معاشرہ کے دانشور طبقہ نے عدالت بالا ( کونسل آف سٹیٹ ) کی رولنگ کو افسوسناک قرار دیا ہے پروفیسر قانون دانیال لوچک اور ہیومن رائٹس لیگ ( فرانس کے صدر ) جین پیری دیوبوائز نے کہا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی رولنگ ہے کہ جس کے تحت کسی شخص کے مذہبی عمل کی بنیاد پر اس کو فرانسیسی شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے ۔
کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی کالم نگار ممتاز احمد خاکسار پر میر پور میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت
میر پور ۔( پ ر ) کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کالم نگار ممتاز احمد خاکسار پر میر پور میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔تنظیم کے عہدیداران منو بھائی ،اوریا مقبول جان،ممتاز احمد بھٹی،رشید ملک،رضوانہ سید،محمد اکرم خان فریدی،خلیل الرحمٰن قادری،نذیر حق،رشید ملک،رضوانہ سید،عامر رضا،احسن پریمی و دیگرکالم نگاروں نے حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتاز احمد خاکسار پر ہونے والے حملے کے زمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
امریکہ نے اپنی پالیسیاں تبدیل نہ کی تو تیل کی عالمی قیمت ٣٠٠ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے ‘ ایران ‘ ونیز ویلا
تہران ، کارکاس ۔ ایران کے صدر محمود احمدی نثراد اور ونیز ویلا کے صدر ہوگو شاویز کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی پالیسیاں تبدیل نہ کیں تو تیل کی عالمی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے ۔ احمدی نثراد نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت مختلف وجوہات کی بناء پر بڑھ سکتی ہے ان میں سے ایک وجہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے حملے کی دھمکیاں ہیں صدر ہوگوشاویز نے بھی تیل کی عالمی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی ایکسن موبل کارپوریشن کی جانب سے ونیز ویلا کے اثاثے منجمد کرنے کی کوشش کامیاب ہوئی تو امریکہ کو تیل کی فراہمی بند کر دی جائے گی ۔ جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کئی گنا بڑھ جائے گی ۔
دبئی میں ساحل سمندر پر غیر اخلاقی حرکات کے الزام میں ٧٩ افراد گرفتار

ابو ظہبی ۔ دبئی پولیس نے ساحل سمندر پر غیر اخلاقی حرکات و سکنات کرنے والے 79 افراد کو حراست میں لے لیا ۔ جن میں زیادہ تر تعداد مغربی سیاحوں کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق دبئی کی پولیس حکام نے ساحل سمندر پر نصب واچ ٹاور کے ذریعے ان مردوں اور عورتوں پر نظر رکھتے ہیں جو برہنہ انداز میں ساحل پر گھومتے پھرتے ہیں ۔ حکام کے مطابق یہ مہم اس وقت تیز کر دی گئی جب ایک برطانوی جوڑے کو ایک ساحل پر غیر اخلاقی حرکات کا سر عام مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ دبئی میں قائم جرائم کی تحقیقات کرنے والے ایک ادارے کے ترجمان زوئر ہارون نے کہاہے کہ ہم نے ایسے 79 افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔ جو کہ ساحل سمندر پر تفریح کیلئے آنے والی فیملیز کے ساتھ بد تمیزی کر رہے تھے ۔ حکام کے مطابق ایسے افرادکو پہلے وارننگ دی جاتی ہے اور اگر دوبارہ وہی شکایات سنی یا دیکھی جائیں تو ایسے افراد کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت پبلک مقامات پر اسے بورڈ بھی آویزاں شروع کر دئیے ہیں جن پر غیر ملکی سیاحوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ پبلک مقامات پر مغربی اور غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں کیونکہ دبئی ایک اسلامی ملک ہے۔
خیبر ایجنسی ‘ لشکر اسلام اور انصار اسلام میں جھڑپ ‘ مزید ٥ افراد ہلاک ‘ ٨ زخمی
خیبر ایجنسی ۔خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں متحارب دو مذہبی گروہوں لشکر اسلام اور انصار اسلام کے مابین تازہ جھڑپ کے نتیجے میں 5افراد ہلاک اور 8افراد زخمی ہوگئے ہیں،دوسری جانب قبائلی علاقوں پر جاسوسی طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں علاقہ شلوبرمیں لشکر اسلام اور انصارالسلام کے مابین تازہ جھڑپ میں مزید 5افراد ہلاک اور 8افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ جھڑپ میں فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ۔تین ہفتوں سے جاری جھڑپ کے نتیجے میں اب تک 133افرادہلاک اور 200سے ذائد زخمی ہوچکے ہیں ،دوسری جانب باجوڑ ایجنسی ،مہمند ایجنسی ،کرم ایجنسی ،شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں جاسوس طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے ،جس سے قبائل میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ،قبائل نے حکومت سے جاسوس طیاروں کی پرواز کا سلسلہ روکنے اور غیر ملکی مداخلت روکنے کی اپیل کی ہے۔
دیر بازار اور اسکاوٹس قلعہ پر راکٹ حملے ‘ ٦ افراد زخمی
دیر ۔ ضلع لوئر دیر میں نامعلوم سمت سے دیر سکاوٹس کے قلعہ اور بازار پر راکٹ حملوں میں 6 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔لوئر دیر پولیس نے بتایا کہ نامعلوم سمت سے دیر سکاوٹس قلعہ کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا گیا ہے پولیس کے مطابق نامعلوم سمت سے چھ راکٹ فائر کئے گئے ہیں جن میں ایک راکٹ بازار میں بھی لگا ہے پولیس کے مطابق بازار میں راکٹ فائر ہونے سے چند ایک دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے پولیس ذرائع کے مطابق دیر سکاوٹس کو نشانہ بنانے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ چند ایک جگہوں سے چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے پولیس کے مطابق واقعہ کی مزید تفتیش جاری ہے اور جہاں راکٹ گرنے سے نقصان ہوا ہے جائزہ لیا جارہا ہے۔
عرب لیگ نے سوڈان کے بحران پر ١٩ جولائی کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
قاہرہ ۔ عرب لیگ نے جنگی جرائم کی عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے سوڈان کے صدر عمر الالبشیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے مطالبہ سے متعلق بحران پر بات چیت کیلئے وزراء خارجہ سطح کا ہنگامی اجلاس 19 جولائی کو طلب کر لیا۔ عرب کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ کے چیف آف سٹاف ہاشم یوسف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ نے سوڈانی صدر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے سے متعلق صورتحال پر بات چیت کیلئے وزراء خارجہ سطح کا ہنگامی ا جلاس 19 جولائی بروز ہفتہ عرب لیگ کے ہیڈ کوارٹر قاہرہ میں طلب کیا ہے۔ ہاشم یوسف نے کہا کہ اس سلسلے میں بدھ کو عرب لیگ کے مستقل نمائندوں کے ہونے والے اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ عرب لیگ کی جانب سے یہ اقدام سوموار کو عالمی جنگی عدالت کی جانب سے سوڈانی صدر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر اٹھایا گیا۔
بھارتی کانگریس ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کر رہی ہے: کمیونسٹ پارٹی
نئی دہلی ۔بھارت امریکہ جوہری تعاون معاہدے پر یو پی اے حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کے بعد بائیں بازو اب سڑکوں پر محاذ آرائی کر رہا ہے اور اس کے رہنما حکومت پر سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں۔محاذ نے دہلی میں معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا آغاز کیا جس میں تقریر کرتے ہوئے کمیونسٹ رہنما اے بی بردھن نے الزام لگایا کہ حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے ممبران کی خرید و فروخت کر رہی ہے۔ انھوں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایک ایک رکنِ اسمبلی کو 25 کروڑ روپے میں خریدا جا رہاہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت کو عام آدمی کی نہیں بلکہ امریکہ سے دوستی کی فکر ہے۔ پہلے کانگریس یہ نعرہ لگاتی تھی کہ’کانگریس کا ہاتھ، عام آدمی کے ساتھ’، مگر اب یہ نعرہ ہے کہ’ کانگریس کا ہاتھ، امریکہ کے ساتھ۔’ خیال رہے کہ ہاتھ کانگریس کا انتخابی نشان ہے۔پرکاش کرات نے حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لینے کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کی آزادانہ خارجہ پالیسی کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہے اور یہ کہ ہم امریکہ کے جونیئر پارٹنر بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ادھر کانگریس بائیں بازو کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ایٹمی رتھ یاترا نکال رہی ہے جس پر معاہدے کی حمایت میں بینر لگے ہوئے ہیں۔اس رتھ یاترا کے ذریعے عوام کو بتایا جا رہاہے کہ یہ معاہدہ ملک اور عوام کے حق میں کس قدر مفید ہے۔
کیا امریکہ اپنے سمندروں میں تیل کی تلاش شروع کردے گا؟
امریکہ میں زیر سمندر تیل کی تلاش پر 1990 ء میں پابندی عائد کر دی گئی تھیبش نے یہ پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے ‘ کانگریس سے توانائی کے نئے ذخائر کی تلاش میں مدد کی درخواست کی ہے
واشنگٹن ۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دنیا کو اس وقت جس مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس میں یہ سوال تواتر سے کیا جاتا رہا ہے کہ امریکہ اپنے ہاں تیل کے ذخائر کی تلاش کیوں نہیں کرتا۔ امریکہ میں زیرِ سمندر تیل کی تلاش پر1990 میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ لیکن اب صدر بش نے یہ پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اور کانگریس سے کہا ہے کہ وہ توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش میں ان کے اقدامات میں مدد کرے۔ لیکن بہت سے مبصرین کے مطابق اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کانگریس اس پابندی کو ختم کردے خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب کہ انتخابی مہم کے دوران ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین امریکہ کے ساحلوں پر تیل کی تلاش کے منصوبے کی زبردست حمائت کررہے ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت والی کانگریس کی جانب سے اس منصوبے کی توثیق کے امکانات بہت کم ہیں۔ وائٹ ہاوس کے مطابق صدر بش نے جن علاقوں میں تیل کی تلاش پر سے پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے وہاں سے تقریباً 18 ارب بیرل تیل حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ تیل کی کمی کو پورا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق صدر بش کا یہ اعلان تیل کی قیمتوں کے بحران اور توانائی کے نئے ذرائع کے حصول سے زیادہ ایک سیاسی حربہ ہے کیونکہ اس اعلان کے نتیجے میں مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ امریکہ میں تیل کے نئے ذرائع کی تلاش کی مخالفت کرنے والوں میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی نمایاں ہیں اور بعض مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں ان تنظیمیوں کی جانب سے صدر بش کے اعلان پر زیادہ منفی ردِ عمل سامنے آسکتا ہے۔
واشنگٹن ۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دنیا کو اس وقت جس مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس میں یہ سوال تواتر سے کیا جاتا رہا ہے کہ امریکہ اپنے ہاں تیل کے ذخائر کی تلاش کیوں نہیں کرتا۔ امریکہ میں زیرِ سمندر تیل کی تلاش پر1990 میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ لیکن اب صدر بش نے یہ پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اور کانگریس سے کہا ہے کہ وہ توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش میں ان کے اقدامات میں مدد کرے۔ لیکن بہت سے مبصرین کے مطابق اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کانگریس اس پابندی کو ختم کردے خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب کہ انتخابی مہم کے دوران ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین امریکہ کے ساحلوں پر تیل کی تلاش کے منصوبے کی زبردست حمائت کررہے ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت والی کانگریس کی جانب سے اس منصوبے کی توثیق کے امکانات بہت کم ہیں۔ وائٹ ہاوس کے مطابق صدر بش نے جن علاقوں میں تیل کی تلاش پر سے پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے وہاں سے تقریباً 18 ارب بیرل تیل حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ تیل کی کمی کو پورا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق صدر بش کا یہ اعلان تیل کی قیمتوں کے بحران اور توانائی کے نئے ذرائع کے حصول سے زیادہ ایک سیاسی حربہ ہے کیونکہ اس اعلان کے نتیجے میں مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ امریکہ میں تیل کے نئے ذرائع کی تلاش کی مخالفت کرنے والوں میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی نمایاں ہیں اور بعض مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں ان تنظیمیوں کی جانب سے صدر بش کے اعلان پر زیادہ منفی ردِ عمل سامنے آسکتا ہے۔
ترکی ، بغاوت میں ملوث ٨٦ افراد پر فردِ جرم ، فرد جرم عائد کئے جانے والوں میں ریٹائرڈ فوجی جنرل ، دانشور اور حکومت مخالف صحافی شامل ہیں
انقرہ ۔ ترکی میں سرکاری وکیلوں نے چھیاسی افراد پر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے پر فرد جرم عائد کی ہے۔جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں ریٹائرڈ فوجی جنرل، حکومت مخالف صحافی اور دانش ور بھی شامل ہیں۔ان افراد کو ایک خفیہ اور انتہائی قوم پرست گروپ ارگینیکون کے بارے میں تفتیش کے بعد لیا گیا ہے اور یہ تفتیش سال بھر پہلے استمبول کے ایک مکان سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے بعد شروع کی گئی تھی۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حکومتی جماعت، اے کے پی کی جانب سے اپنے مخالفین کو دبانے کی ایک کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِس تفتیش کا دائرہ ترکی کی آئینی عدالت کی جانب سے اے کے پی کو تحلیل کردینے کے کیس کی منظوری کے بعد بڑھایا گیا ہے۔ ترکی میں حکمراں جماعت کے مبینہ سکیولر مخالف مشاغل کے سبب اسے ختم کیے جانے کی کوششوں پر کشیدگی میں کافی دنوں سے اضافہ ہوا ہے۔آئینی عدالت اے کے پارٹی کے خلاف ایک مقدمے پر غور کر رہی ہے جس میں حکمراں جماعت پر ترکی میں سکیولر آئین کے برخلاف شرعی قانون کے نفاذ کا الزام ہے۔ ترکی کے وزیرِ اعظم اور صدر جن کا تعلق اے کے پی جماعت سے ہے اس مقدمے میں نامزد ہیں اور انہیں ان کے عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں نے اور ان کی جماعت نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پارٹی کے خلاف ایک مہم کا حصہ ہے۔ پیر کو پراسیکیوٹر نے استمبول کی عدالت میں چھیاسی افراد کے خلاف الزامات درج کرائے تھے جن میں سے اڑتالیس افراد پہلے ہی حراست میں ہیں۔ ترک عدالت کو دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا چھیاسی مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ترکی میں فوج نے کئی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کیا ہے اور فوج یہ سمجھتی ہے کہ وہ ملک کی سکیولر اقدار کی حتمی محافظ ہے۔ترکی میں کئی سکیولر مزاج لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اے کی پارٹی جس کے بہت سے ارکان سابق اسلام پسند ہیں، ترکی میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کی طرف سے جامعات میں حجاب پہنے پر پابندی کو ختم کرنے کی کوششیں ایک طرح کی گواہی ہیں کہ یہ پارٹی اسلامی نظام چاہتی ہے۔
ایران پر حملے کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے ، بین الاقوامی برادری صبر سے کام لے ، بھارت
نئی دہلی ۔ بھارت نے ایران کے خلاف کوئی فوجی طاقت کے لازمی طور پر استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے کہ اس سے سارے علاقہ میں تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس بحران کی یکسوئی کے لیے بات چیت کا انعقاد عمل میں لایا جائے اس کی جانب سے بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں ۔ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے ناگزیر استعمال سے متعلق اطلاعات کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بتایا کہ جن وسائل پر ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے ۔ ان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دینے سے متعلق بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ بھارت ایسے کسی فوجی حملے کا مخالف ہے جو ناقابل قبول بین الاقوامی طرز عمل کے مترادف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جن مسائل پر ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان بات چیت جاری ہے ان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ۔ بھارت ابھی بھی بات چیت اور ڈپلومیسی کا حامی ہے اور وہ دھمکیاں دینے یا طاقت کے استعمال کا مخالف ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران پر فوجی حملے سے ساری علاقہ میں تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور خلیج میں رہنے والے پانچ ملین بھارتیوں کی زندگیوں اور گزر بسر و نیز عالمی معیشت پر نامواقف اثرات مرتب ہوں گے ۔ ترجمان نے وضاحت کی ۔ بھارت تمام متعلقہ حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ افہام و تفہیم اور گفت و شنید کے پر امن راستے کو اختیار کریں ۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر پیپلز پارٹی کی عہد شکنی پر حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کیلئے دباؤ میں اضافہ
لاہور۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے عہد وفا نہ کرنے پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر حکومتی اتحاد سے الگ ہونے سے متعلق دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اعلان مری کے تحت ججوں کی بحالی سے مکر جانے پر مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت پر شدید دباؤ ہے کہ اگر رواں ماہ کے آخر تک معزول جج بحال نہیں کئے جاتے تو مسلم لیگ (ن) کو حکومتی اتحاد سے باہر آجانا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق جو مستعفی وزراء اور ارکان قومی اسمبلی قیادت سے دو ٹوک فیصلہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں ان میں خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف اور چودھری نثار علی خان شامل ہیں۔
ایران پر حملے کی امریکہ اور اسرائیل کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی ‘ صدر شام بشارالاسد کا انتباہ
پیرس ۔ شام کے صدر بشارالاسد نے کہا کہ نیوکلیئر پروگرام کے لئے ایران پر فوجی حملہ کی امریکہ ‘ اسرائیل اور دنیا کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کی قیاس آرائیوں کو اس رپورٹ کے بعد تقویت حاصل ہوئی ہے کہ اسرائیل نے فضائیہ کی ایک مشق کی ہے جو دراصل اس طرح کے حملے کے لئے ایک ریہرسل تھی ۔ اسد نے فرانس کے انٹر ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ۔ ’’ اس کی قیمت امریکہ اور کرہ اراض کو چکانی پڑے گی ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حملہ کیا گیا تو اسرائیل کو اس جنگ کی براہ راست قیمت چکانی پڑے گی ‘ ایران نے یہ بات کہہ دی ہے کہ مسئلہ اقدام اور ردعمل کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جب مغربی ایشیاء میں اس طرح کا اقدام کیا جائے تو کوئی ردعمل کے تسلسل پر قابو نہیں پا سکے گا جو کئی برسوں یا کئی دہوں پر محیط ہو سکتا ہے ‘‘ اسد نے کہا کہ منطق یہ کہتی ہے کہ شدید نتائج و عواقب کے سبب ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا لیکن اس طرح کے اندازے موجودہ امریکی نظم و نسق کے مزاج سے میل نہیں کھاتے ۔ صدر شام نے کہا کہ یہ نظم و نسق ایک ایسا نظم و نسق ہے جو جنگ کا حیلہ تلاش کرنے والا ہے اس پر ہماری یا بیشتر یورپی ملکوں کی منطق کا اطلاق نہیں ہو گا ۔ ‘‘ ایران نے مغرب کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ سیویلین ایٹمی پروگرام کی آڑ میں خفیہ طور پر نیوکلیئر ہتھیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ صرف برقی پیدا کرنے کے لئے اعلیٰ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا خواہاں ہے ۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وہ واحد نیوکلیئر طاقت ہے ۔ جس کے بارے میں صہیونی مملکت نے تاہم اس طرح کے ہتھیار رکھنے کی کبھی توثیق یا تردید نہیں کی ۔ بشارالاسد نے کہا کہ اگر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ پر پہنچنے کے لئے 6 مہینوں سے 2 سال تک عرصہ درکار ہو سکتا ہے اگر دونوں فریقین جنہوں نے بلواسطہ مذاکرات منعقد کئے دوبدو مذاکرات کے لئے تیار ہو جائیں ۔ اسد نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ پر دستخط ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے لئے 6 ماہ سے 2 سال کا عرصہ درکار ہو گا اگر دونوں فریقین راست مذاکرات میں سنجیدگی سے مصروف ہو جائیں ۔ صدر شام نے جو یورپی یونین اور بحر روم کے ساحلی ملکوں کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے ان دنوں فرانس میں ہیں اپنے اس سابقہ بیان کا اعادہ کیا کہ انہیں راست مذاکرات کے آغاز کا یقین نہیں ہے ۔ تا وقت کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش آئندہ جنوری میں عہدہ نہ چھوڑ دیں ۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایک امکانی معاہہ کے لئے وقت کے تعین کے لئے ان کی گھڑی صرف ایک مرتبہ دوبدو مذاکرات کے ساتھ ہی شروع ہو جائے گی ۔ اس دوران اسرائیل نے شام پر زور دیا کہ وہ اپنے قدم پیچھے نہ ہٹائے ۔ وزیر اعظم اسرائیل ایہود المرٹ کے ترجمان نے اسد کے انٹرویو پر ردعمل جاننے کی خواہش پر کہا کہ امن کے لئے ہم سنجیدہ ہیں موجودہ موقع کو بیچ راستہ میں چھوڑ دینا ایک مذاق ہو گا ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اولمرٹ نے وزیر اعظم ترکی طیب اردگان کے ذریعہ شام کے صدر کو ایک پیغام بھیجا ہے اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے ۔
بین العقائد عالمی کانفرنس کل میڈرڈ میں شروع ہو گی ، شاہ عبد اللہ افتتاح کریں گے
مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل ، پہلے اجلاس کی صدارت قائد میلینیم ورلڈ پیس باوا جین کریں گے
میڈرڈ ۔ خادم حرمین شریفین و حکمران سعودی عرب شاہ عبد اللہ ( کل ) 16 جولائی کو بین الاقوامی بین العقائد کانفرنس کا افتتاح کریں گے ۔ اس کانفرنس کی میزبان مسلم ورلڈ ( ایم ڈبلیو ایل )نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ۔ اس سہ روزہ کانفرنس میں توقع ہے کہ مختلف مداہب بشمول عیسائیت ، یہودیت ، ہندو ازم اور بدھ ازم کے زائد از 200 رہنما شرکت کریں گے ۔ افتتاحی اجلاس سے اسپین کے شاہ جان کارلوس ، اس ملک کے وزیر اعظم جے ایل راڈیگس زپاٹیرو اور سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایل عبداللہ الترکی خطاب کریں گے ۔ پہلے اجلاس کا موضوع ’’ مذاکرات اور اس کی مذہبی و تہذیبی اساس ‘‘ ہو گا ۔ سیکرٹری جنرل میلینیم ورلڈ پیسچوٹی کانفرنس باوا جین اس پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے ۔ اسلامک بینک ( دبئی ) کے ایگزیکٹو حسین حامد بموضوع ’’ اسلام میں مذاکرات ‘‘ پر اظہار خیال کریں گے ۔ لبنان کے وزیر تہذیبی امور طارق متری ( رکن ورلڈ کونسل آف چرچس ) ’’ عیسائیت میں مذاکرات ‘‘ کے موضوع پر تقریر کریں گے اپیل آف کنسائنس فاونڈیشن کے آتھر شینر اورانٹر فیتھ فاونڈیشن کے ڈائریکٹر ایم ایم ورما بھی خطاب کریں گے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت سعودی ، شوری کونسل کے صدر صالح بن حمید کریں گے ۔ اس اجلاس میں مختلف مقررین ’’ آج کے معاشرہ میں مذاکرات کی اہمیت ‘‘ پر روشی ڈالیں گے ۔ صدر کمیٹی آف ورلڈ پارلیمنٹ برائے امن و مذہب ( جاپان ) نچیکو لیوانو ایک مقالہ پیش کریں گے ۔ صدر کلچرل فاونڈیشن برائے امن ( اسپین ) پروفیسر ایف ایم ڈرا کوزا ، ’’پر امن بقائے باہم پر مذاکرات کے اثرات ‘‘پر خطاب کریں گے ۔مراکش اکیڈمی کے رکن عبد الہادی تازی ، بین الاقوامی تعلقات پر مذاکرات کے موضوع پر ایک مقابلہ پیش کریں گے۔ صدر نشین انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسلام( لبنان ) رضوان السید ، تہذیبوں کے تصادم کی اپیلوں کے پیش نظر مذاکرات کی اہمیت کے موضوع پر روشنی ڈالیں گے۔ تیسرے اجلاس کا موضوع ’’ بات چیت کے دائرہ میں مشترکہ انسانی اقدار‘‘رکھا گیاہے۔ عالمی کانفرنس برائے امن و مذاہب ( امریکا ) کے جنرل سیکرٹری ، ویلینیم ایف وینڈلی صدارت کریں گے ۔ کونسل برائے امریکا اسلامی تعلقات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض ، عالمی فورم برائے قربت اسلامی مسالک ( ایران ) کے سیکرٹری جنرل محمد علی تشکیل ، ہندوستان کے شنکر اچاریہ اوم کارسرسوتی اور پانٹیشل برائے بین المذاہب مذاکرات ( وٹیکا ) کے ایم اے گگجوٹ مقالہ پیش کریں گے ۔ چوتھا اجلاس بموضوع مذاکرات کے فروغ کی اہمیت منعقد ہو گا۔ یہودی کانگریس ( لا طینی امریکا و کریبین ) کے سیکرٹری جنرل ربی کارڈیو اپیل میں صدارت کریں گے ۔ مقررین میں متحدہ عرب امارات کے عزالدین مصطفیٰ ، بدھسٹ ایسوسی ایشن آف چائنا کے جیوچنگ اور اردن کے مرکز برائے مذہبی بقائے باہم کے حداد اور مصری شوری کونسل کے رکن نبیل ایل بیبادی شامل ہیں ۔ اختتامی اجلاس جمعہ 18 جولائی کو صبح دس بجے شروع ہو گا ۔ مسلم ورلڈ لیگ کے ایسوسی ایشن سیکرٹری عبد الرحمان ، قطعی اعلامیہ سنائیں گے۔
میڈرڈ ۔ خادم حرمین شریفین و حکمران سعودی عرب شاہ عبد اللہ ( کل ) 16 جولائی کو بین الاقوامی بین العقائد کانفرنس کا افتتاح کریں گے ۔ اس کانفرنس کی میزبان مسلم ورلڈ ( ایم ڈبلیو ایل )نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ۔ اس سہ روزہ کانفرنس میں توقع ہے کہ مختلف مداہب بشمول عیسائیت ، یہودیت ، ہندو ازم اور بدھ ازم کے زائد از 200 رہنما شرکت کریں گے ۔ افتتاحی اجلاس سے اسپین کے شاہ جان کارلوس ، اس ملک کے وزیر اعظم جے ایل راڈیگس زپاٹیرو اور سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایل عبداللہ الترکی خطاب کریں گے ۔ پہلے اجلاس کا موضوع ’’ مذاکرات اور اس کی مذہبی و تہذیبی اساس ‘‘ ہو گا ۔ سیکرٹری جنرل میلینیم ورلڈ پیسچوٹی کانفرنس باوا جین اس پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے ۔ اسلامک بینک ( دبئی ) کے ایگزیکٹو حسین حامد بموضوع ’’ اسلام میں مذاکرات ‘‘ پر اظہار خیال کریں گے ۔ لبنان کے وزیر تہذیبی امور طارق متری ( رکن ورلڈ کونسل آف چرچس ) ’’ عیسائیت میں مذاکرات ‘‘ کے موضوع پر تقریر کریں گے اپیل آف کنسائنس فاونڈیشن کے آتھر شینر اورانٹر فیتھ فاونڈیشن کے ڈائریکٹر ایم ایم ورما بھی خطاب کریں گے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت سعودی ، شوری کونسل کے صدر صالح بن حمید کریں گے ۔ اس اجلاس میں مختلف مقررین ’’ آج کے معاشرہ میں مذاکرات کی اہمیت ‘‘ پر روشی ڈالیں گے ۔ صدر کمیٹی آف ورلڈ پارلیمنٹ برائے امن و مذہب ( جاپان ) نچیکو لیوانو ایک مقالہ پیش کریں گے ۔ صدر کلچرل فاونڈیشن برائے امن ( اسپین ) پروفیسر ایف ایم ڈرا کوزا ، ’’پر امن بقائے باہم پر مذاکرات کے اثرات ‘‘پر خطاب کریں گے ۔مراکش اکیڈمی کے رکن عبد الہادی تازی ، بین الاقوامی تعلقات پر مذاکرات کے موضوع پر ایک مقابلہ پیش کریں گے۔ صدر نشین انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسلام( لبنان ) رضوان السید ، تہذیبوں کے تصادم کی اپیلوں کے پیش نظر مذاکرات کی اہمیت کے موضوع پر روشنی ڈالیں گے۔ تیسرے اجلاس کا موضوع ’’ بات چیت کے دائرہ میں مشترکہ انسانی اقدار‘‘رکھا گیاہے۔ عالمی کانفرنس برائے امن و مذاہب ( امریکا ) کے جنرل سیکرٹری ، ویلینیم ایف وینڈلی صدارت کریں گے ۔ کونسل برائے امریکا اسلامی تعلقات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض ، عالمی فورم برائے قربت اسلامی مسالک ( ایران ) کے سیکرٹری جنرل محمد علی تشکیل ، ہندوستان کے شنکر اچاریہ اوم کارسرسوتی اور پانٹیشل برائے بین المذاہب مذاکرات ( وٹیکا ) کے ایم اے گگجوٹ مقالہ پیش کریں گے ۔ چوتھا اجلاس بموضوع مذاکرات کے فروغ کی اہمیت منعقد ہو گا۔ یہودی کانگریس ( لا طینی امریکا و کریبین ) کے سیکرٹری جنرل ربی کارڈیو اپیل میں صدارت کریں گے ۔ مقررین میں متحدہ عرب امارات کے عزالدین مصطفیٰ ، بدھسٹ ایسوسی ایشن آف چائنا کے جیوچنگ اور اردن کے مرکز برائے مذہبی بقائے باہم کے حداد اور مصری شوری کونسل کے رکن نبیل ایل بیبادی شامل ہیں ۔ اختتامی اجلاس جمعہ 18 جولائی کو صبح دس بجے شروع ہو گا ۔ مسلم ورلڈ لیگ کے ایسوسی ایشن سیکرٹری عبد الرحمان ، قطعی اعلامیہ سنائیں گے۔
عمر البشیر کی متوقع وارنٹ گرفتاری ‘ امریکہ کا سوڈان میں سیکیورٹی میں اضافے کا اعلان
واشنگٹن ۔امریکہ نے سوڈان کے صدر عمر البشیر پر جنگی جرائم کی عالمی عدالت سے فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد ان کی متوقع وارنٹ گرفتاری جاری کرنے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے سوڈان میں سیکیورٹی میں اضافے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سین میک کارمک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے نہ صرف سوڈان میں مناسب سیکیورٹی اقدامات اٹھائے ہیں بلکہ سوڈانی حکومت کو امریکی اور دیگر غیر ملکی باشندوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے یاد دہانی بھی کرائی ہے ۔
سرطان کا کھوج لگانے والا جدید آلہ تیار
آلہ اتنا طاقتور ہے کہ یہ خون کے لاکھوں طاقتور خلیوں میں اکیلے کینسر سیل کو بھی ڈھونڈ سکتا ہے
واشنگٹن ۔ طبی ماہرین نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جوکینسر کیان خلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے جو پھیپھڑوں کے ٹیومرز سے الگ ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ آلہ کینسر کے خلیوں پر دواؤں کے اثرات کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ یہ آلہ بوسٹن کی میساچیوسٹس جنرل کی ایجاد ہے۔ آلے کے استعمال پر اسپتالوں میں تجربات ہوچکے ہیں اور اِس کی تفصیل نیو انگلینڈ کے ’جَرنل آف میڈیسن‘ میں چھپ چکی ہے۔ یہ آلہ اتنا طاقت ور ہے کہ یہ خون کے لاکھوں طاقتور خلیوں میں اکیلے کینسر سل کو بھی ڈھونڈھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر ڈینیل ہیربر جو بوسٹن کے میساچیوسٹس جنرل اسپتال کے کینسر سینٹر میں ڈائریکٹر ہیں کہتے ہیں کہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہم مریض کے خون میں کینسر سیلز کانمونہ لے سکتے ہیں اور اسی وقت ان کو گن سکتے ہیں۔ ان کا موازنہ کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی مریض کے کینسر سیلز کسی دوا کے خلاف کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہر سال دس لاکھ سے زیادہ افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں اور صرف15% اس کی تشخیص کے بعد 5 سال یا اس سے زیادہ زندہ رہ پاتے ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئے ٹیسٹ سے لوگوں کو بچانے یا زیادہ عرصہ زندہ رکھنیمیں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر ڈینیل کہتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کی بدولت مہینوں کے بدلے ہم دنوں میں یہ جان سکیں گے کہ مریض پر دوا کا کیا اثر ہو رہا ہے اور کیا یہی دوا جاری رکھی جائے یا تبدیل کی جائے اور اگر بدلی جائے تو کس قسم کی دوا زیادہ فائدہ مند ہو گی۔ کئی عشروں سے ڈاکٹروں نے کینسر کا پتہ چلانے کی لیے بائیوپسیز اور کیٹ سکینز پر انحصار کیا ہے مگر بائیوپسیز میں خون کے بہہ جانے یا انفکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور یہ جاننے میں مہینے لگتے ہیں کہ کیا کینسر پھیل رہا ہے۔ سکینز سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کینسر سیلز کو کس حد تک ختم کیا گیا ہے تو اس سے علاج کو مریض کے مطابق نہیں ڈھالا جا سکتا۔ اس نئے ٹیسٹ میں بزنس کارڈ کے برابر سیلکون چپ استمال کی جاتی ہے۔ یہ چپ 80 ہزار انتہائی چھوٹے پلرز سے ڈھکی ہوئی ہے جس میں سے خون آسانی سے گزر جاتا ہے مگر کینسر سیلز اس کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ ماہرین نے پھپھڑوں کے مرض میں مبتلا 27ایسے مریضوں پر ٹیسٹ کیا جن کا مرض جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل چکا تھا۔ چپ نے ہر مریض کے جسم میں پھیلنے والے سیلز کی تعداد کی صحیح جانچ کی اور ہر مرتبہ ان سیلز کا تقریباً 90% درست موازنہ کیا۔ ڈاکٹر ڈیوڈ کاربون کا تعلق ناشویل میں واقع کینسر کے ایک سینٹر سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں مختلف قسم کے کینسر میں مبتلا مریضوں پر اس کا تجربہ کیا جائے گا۔ٹیسٹ ابھی تک تجرباتی مرحلوں میں ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اگلے تین سال میں یہ آلہ کینسر کے مریضوں کے لیے دستیاب ہوگا۔
واشنگٹن ۔ طبی ماہرین نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جوکینسر کیان خلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے جو پھیپھڑوں کے ٹیومرز سے الگ ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ آلہ کینسر کے خلیوں پر دواؤں کے اثرات کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ یہ آلہ بوسٹن کی میساچیوسٹس جنرل کی ایجاد ہے۔ آلے کے استعمال پر اسپتالوں میں تجربات ہوچکے ہیں اور اِس کی تفصیل نیو انگلینڈ کے ’جَرنل آف میڈیسن‘ میں چھپ چکی ہے۔ یہ آلہ اتنا طاقت ور ہے کہ یہ خون کے لاکھوں طاقتور خلیوں میں اکیلے کینسر سل کو بھی ڈھونڈھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر ڈینیل ہیربر جو بوسٹن کے میساچیوسٹس جنرل اسپتال کے کینسر سینٹر میں ڈائریکٹر ہیں کہتے ہیں کہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہم مریض کے خون میں کینسر سیلز کانمونہ لے سکتے ہیں اور اسی وقت ان کو گن سکتے ہیں۔ ان کا موازنہ کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی مریض کے کینسر سیلز کسی دوا کے خلاف کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہر سال دس لاکھ سے زیادہ افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں اور صرف15% اس کی تشخیص کے بعد 5 سال یا اس سے زیادہ زندہ رہ پاتے ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئے ٹیسٹ سے لوگوں کو بچانے یا زیادہ عرصہ زندہ رکھنیمیں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر ڈینیل کہتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کی بدولت مہینوں کے بدلے ہم دنوں میں یہ جان سکیں گے کہ مریض پر دوا کا کیا اثر ہو رہا ہے اور کیا یہی دوا جاری رکھی جائے یا تبدیل کی جائے اور اگر بدلی جائے تو کس قسم کی دوا زیادہ فائدہ مند ہو گی۔ کئی عشروں سے ڈاکٹروں نے کینسر کا پتہ چلانے کی لیے بائیوپسیز اور کیٹ سکینز پر انحصار کیا ہے مگر بائیوپسیز میں خون کے بہہ جانے یا انفکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور یہ جاننے میں مہینے لگتے ہیں کہ کیا کینسر پھیل رہا ہے۔ سکینز سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کینسر سیلز کو کس حد تک ختم کیا گیا ہے تو اس سے علاج کو مریض کے مطابق نہیں ڈھالا جا سکتا۔ اس نئے ٹیسٹ میں بزنس کارڈ کے برابر سیلکون چپ استمال کی جاتی ہے۔ یہ چپ 80 ہزار انتہائی چھوٹے پلرز سے ڈھکی ہوئی ہے جس میں سے خون آسانی سے گزر جاتا ہے مگر کینسر سیلز اس کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ ماہرین نے پھپھڑوں کے مرض میں مبتلا 27ایسے مریضوں پر ٹیسٹ کیا جن کا مرض جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل چکا تھا۔ چپ نے ہر مریض کے جسم میں پھیلنے والے سیلز کی تعداد کی صحیح جانچ کی اور ہر مرتبہ ان سیلز کا تقریباً 90% درست موازنہ کیا۔ ڈاکٹر ڈیوڈ کاربون کا تعلق ناشویل میں واقع کینسر کے ایک سینٹر سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں مختلف قسم کے کینسر میں مبتلا مریضوں پر اس کا تجربہ کیا جائے گا۔ٹیسٹ ابھی تک تجرباتی مرحلوں میں ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اگلے تین سال میں یہ آلہ کینسر کے مریضوں کے لیے دستیاب ہوگا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

