International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Sunday, June 29, 2008

Bakhtawar receives more human world award on BB’s behalf







ISLAMABAD:More human world award has been conferred on Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed for her meritorious services in the field of democracy and humanity.
According to PTV special ceremony to confer the award was held near the French capital Paris.Ms Benazir Bhutto’s daughter Bakhtawar Bhutto Zardari received the award.
The award is given to persons who rendered laudable services to democracy, humanity and play important role in strengthening of democratic norms.
Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto worked for international peace, democracy and liberty during her entire life time. She is being awarded as an acknowledgement to her services.
A delegation of Pakistan Peoples Party led by its secretary general Jehangir Badr also attended the function. Nearly twelve hundred personalities from 120 countries attended the ceremony.
The delegation included PPP Balochistan President Lashkari Raisani, Barrister Masood Kausar,Taj Haider,etc.

Mushahid elected Vice President of International Political Organization







ISLAMABAD: Senator Mushahid Hussain, Secretary General of Pakistan Muslim League has been elected Vice President for Asia of the Centrist Democrat International (CDI), an international grouping of political parties belonging to the centre.
A meeting of CDI was held in Paris on June 27, which was attended by the Chairman of the CDI, former President of Mexico, Vicente Fox and its President, the speaker of the Italian Parliament, Ferdinando Casini.
Thirty political parties from Asia, Africa and Europe participated in the meeting, where the PML Secretary General, Senator Mushahid Hussain was unanimously elected as Vice President for Asia.
He was also especially invited by the former President of Mexico to attend the next meeting of the CDI Executive Committee which will be held in Mexico in November 2008.
Senator Mushahid Hussain briefed the meeting on developments in Pakistan, specially the smooth, democratic transition in Pakistan after the free and fair elections of February 18, 2008.
He also told the meeting that a new factor in Pakistani politics was the emergence of a strong and assertive middle class which was making its presence felt through the movement for restoration of judiciary in cooperation with the civil society, NGOs and a vibrant and independent media.
He said that these developments had strengthened Pakistan’s democracy and these were uniting factors on issues facing the state and society.
He also briefed the CDI meeting about the PML role saying that it had
emerged as the second largest party of the country with a vote bank of 8 million,
which was political present in the four provinces of Pakistan and the PML is playing its role as the main opposition.

Three killed, three hurt in Quetta firing incident




QUETTA: At least three people including a four-year child were killed and three others sustained critical injuries after unknown gunmen opened indiscriminate firing at a group of people near Golimaar Chowk, Brewery area here Sunday.
According to reports, the assailants who were in a car sprayed with bullets a group of people who were presumably beside a road waiting for a bus.
As a result three people including a four-year child who was playing nearby died on the spot while three other persons including two children sustained critical injuries.
Area people rushed the injured to the BMC hospital where they were stated to be in critical conditions.
Police said the incident may be result of an old enmity.
Sariab police have cordoned off the area and started further investigation.

پشاور کو محفوظ بنانے کے لئے خیبر ایجنسی آپریشن شروع کیا گیا ۔مشیر برائے داخلہ رحمان ملک



پشاور ۔وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ خیبر ایجنسی آپریشن شروع کرنے کا بنیادی مقصد پشاور شہر کو محفوظ کرنا تھا جس میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں ۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر ہاؤس میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا ۔ جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت ‘ سیکیورٹی فورسز کے حکام نے شرکت کی ۔ رحمان ملک نے اس موقع پر کہا کہ خیبر ایجنسی آپریشن پشاور کو محفوظ بنانے کے لئے شروع کیا گیا اور پشاور کو محفوظ بنانے میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی طرف سے امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل حمایت کرے گی ۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق آئی جی سرحد ملک نوید نے مطالبہ کیا کہ اس آپریشن کو مکمل کیا جائے اور سوات آپریشن کی طرح ادھورا نہ چھوڑا جائے جبکہ پولیس کو جدید سازو سامان اور ہتھیار فراہم کیا جائے کیونکہ پولیس کے پاس عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آلات و ہتھیار نہیں ہے ۔ اس پر وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمان ملک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کو تمام ضروری آلات اور ہتھیار فراہم کئے جائیں گے ۔ جبکہ 8بکتر بند گاڑیاں پولیس کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پشاور میں ایف سی اور پولیس کے دستے گشت کر رہے ہیں جبکہ خیبر ایجنسی سے ملحقہ پشاور کی سرحدوں پر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے ۔

پاکستان کی نئی حکومت نے ٣ ماہ میں ٣٥٥ ارب کا قرضہ حاصل کیا ہے ، بجٹ خسارہ ٩ فیصد سے بڑھ گیا، افراط زر بڑھنے کا خدشہ



اسلام آباد ۔ پاکستان میں ساڑھے تین ماہ قبل قائم ہونے والی نئی حکومت نے سابق اور نگراں حکومت کے نو ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے لیے گئے مجموعی قرضوں سے زیادہ قرضہ حاصل کیا ہے۔جولائی 2007ء سے 14جون 2008ء تک حکومت نے اسٹیٹ بینک سے مجموعی طور پر 651ارب روپے قرضہ لیا، اْس میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں بننے والی حکومت کا حصہ 355ارب روپے ہے۔ اِس وقت بجٹ خسارہ نو فی صد سے زیادہ ہے اور مرکزی بینک، بینکاری نظام اور دوسرے ذرائع سے حاصل کیے گئے قرضے ایک ہزار ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔نئی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ سال ختم ہونے سے قبل بجٹ خسارہ کم کیا جائے گا۔تاہم، مرکزی بینک کے اعداد و شمار دیکھتے ہوئے تجزیہ نگاروں کو تشویش ہے کہ حکومت کی طرف سے بھاری قرضہ لینے کی وجہ سے صورتِ حال میں بہتری کے امکانات نہیں ہیں اور افراطِ زر بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔اسٹیٹ بینک قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار سے حکومت کو مسلسل آگاہ کررہا ہے، اور مناسب اقدام کی ضرورت کرنے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی بھی اختیار کی گئی مگر حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجہ سے پالیسی کے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔افراطِ زر کے بارے میں تازہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں گذشتہ برس اِسی مدت کے مقابلے میں 26فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔ کم آمدنی والے طبقے پر افراطِ زر اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

پاکستان اپنے شہری کو لینے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کا الزام

نئی دہلی ۔ پاکستانی نڑاد محمد پرویز سوڈا جو مہاراشٹر کی جیل میں آٹھ سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے پاکستانی محمد پرویز سوڈا اب ممبئی پولیس کے مہمان بن گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے انہیں واپس بلانے کے لیے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔سوڈا کو ممبئی کی ایک عدالت نے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی ایجنٹ اور جعلی کرنسی پھیلانے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا دی تھی۔سوڈا کی یہ سزا گزشتہ برس دسمبر میں مکمل ہو چکی تھی اور اس کے بعد انہیں پاکستان بھیجنا تھا لیکن پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں ملا جس کی وجہ سے سوڈا ممبئی میں رہنے پر مجبور ہیں۔ساکی ناکہ پولیس سٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر یشونت واڈکر نے بی بی سی کو بتایا ’انہیں واپس پاکستان بھیجنے کے لیے میں نے ممبئی پولیس کی سپیشل برانچ سے تحریری رابطہ قائم کیا تھا تاکہ پاکستانی ہائی کمیشن سوڈا کو ویزا بھیج سکیں۔ تاہم ابھی تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔اس دوران سوڈا کے پاسپورٹ کی مدت بھی ختم ہو گئی اور اس صورتحال نے سوڈا کو مزید پریشانی میں ڈال دیا۔دوسرا کوئی راستہ نظر نہ آنے کے سبب اب انہوں نے احتجاجا بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ حالت خراب ہونے پر انہیں شہر کے راجہ واڑی اسپتال میں داخل کیا گیا۔اپنا دوست بنا لیا وہ مجھے اپنا دوست مانتے ہیں لیکن شروع میں حالات ایسے نہیں تھے۔دو پولیس کانسٹیبل ہمیشہ میری نگرانی کرتے تھے لیکن پھر ایک ماہ کی سخت نگرانی کے بعد انہوں نے مجھے اپنا دوست بنا لیامحمد پرویز سوڈا انسپکٹر واڈکر کے مطابق ان کے سمجھانے پر سوڈا نے بھوک ہڑتال ختم کر دی اور اس کے بعد سے انہوں نے سوڈا کی وطن واپسی کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ سپیشل برانچ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر سنیل راما نند نے بی بی سی کو بتایا کہ عام طور پر کسی بھی غیر ملکی شہری کی وطن واپسی کے لیے وہاں کی حکومت اسے خود بلاتی ہے اور پھر ہماری حکومت اسے وطن بھیجنے کا انتظام کرتی ہے۔ کمشنر نے مزید بتایا’سوڈا کے معاملہ میں فروری سن دو ہزار چھ میں دلی میں وزرائے خارجہ کی ہوئی مشترکہ میٹنگ میں ذکر ہوا تھا۔سن دو ہزار سات میں اس کی سزا کی معاد مکمل ہو گئی لیکن اس کے بعد سے پاکستانی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ہے اور جب تک جواب نہیں آتا وہ سوڈا کو زبردستی بھیج نہیں سکتے۔ کمشنر سوڈا کے معاملہ میں نئے سرے سے ہندستانی محکمہ وزارت خارجہ سے درخواست کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماں نے لڑکی تلاش کر رکھی ہے میری والدہ نے میرے لیے لڑکی ڈھونڈھ لی ہے وہ وہاں سے میری وطن واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا محمد پرویز سوڈا سوڈا کی وطن واپسی کے لیے ایک طرف پولیس کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب سوڈا اس دوران پولیس کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔وہ مجھے اپنا دوست مانتے ہیں لیکن شروع میں حالات ایسے نہیں تھے۔دو پولیس کانسٹبل ہمیشہ میری نگرانی کرتے تھے لیکن پھر ایک ماہ کی سخت نگرانی کے بعد انہوں نے مجھے اپنا دوست بنا لیا۔ سوڈا کے لیے پولیس سٹیشن میں ہی ایک الگ کمرہ دیا گیا ہے جہاں پولیس نے ان کے لیے نیا بستر اور نئے کپڑے بھی بنوائے ہیں۔ سوڈا ممبئی پولیس کی مہمان نوازی سے خوش ہیں لیکن انہیں اپنے گھر کی یاد ستاتی ہے’ میری والدہ نے میرے لیے لڑکی ڈھونڈھ لی ہے وہ وہاں سے میری وطن واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ سوڈا یہ یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ ان کے وطن کو ان کی ضرورت نہیں ہے اس لیے وہ انہیں واپس بلانا نہیں چاہتے۔

مقبوضہ کشمیر میں حکمران اتحاد ٹوٹ گیا، گورنر راج نافذ ہونے کا امکان



سری نگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں حْکمران اتحاد ٹوٹنے کے بعد بھارتی حکومت نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے مقبوضہ کشمیر کی مخلوط حکومت میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی شرائن بورڑ کو منتقل کی گئی زمین کا حکم نامہ منسوخ کرنے کے مطالبہ پر اقتدار سے الگ ہوگئی ہے۔پی ڈی پی کی حکومت سے علیٰحدگی کے بعد ستاسی رْکنی ریاستی اسمبلی میں کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کی حکومت اپنے اکیس ارکان اسمبلی اور گیارہ حمایتیوں کے باوجود اقلیت میں آگئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ چھ روز سے پوری وادی میں ہندوؤں کو جنگلاتی اراضی کی منتقلی سے متعلق سرکاری حکمنامے کی منسوخی کے حق میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اپنی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پی ڈی پی کی صدر، محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ’ہم نے چونکہ تیس تاریخ تک کا وقت دیا تھا، لیکن ہلاکتوں کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری ہے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مسٹر آزاد کی حکومت کا حصہ نہیں بنے رہیں گے۔ بعد ازاں حکومت میں شامل پی ڈی پی کے بعض وزراء نے حال میں ریاستی گورنر کا منصب سنبھالنے والے ہندوستان کے سابق ہوم سیکریٹری نریندر ناتھ ووہرا کو حمایت واپس لینے سے متعلق پارٹی کا مکتوب اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔قابل ذکر ہے کہ ریاست میں اس طرح کا آئینی بحران ایک ایسے وقت پیدا ہوگیا ہے جب اسمبلی کی مدتِ کار میں صرف اڑھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد اب ریاست میں حکومت کا قائم رکھنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو گورنر غلام نبی آزاد کو طلب کر کے انہیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہیں یا پھرانتخابات میں بہت کم وقت کے پیش نظر انہیں نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا حکم دیں۔ ایک تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ریاست میں گورنر راج کی سفارش کریں۔زمین کی منتقلی کا یہ قضیہ چھبیس مئی کو اْس وقت سامنے آیا تھا جب ریاستی حکومت کے کابینہ اجلاس میں امرناتھ شرائن بورڑ کو آٹھ سو کنال زمین کی منتقلی کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ’ہم لوگ اس فیصلے میں شریک تھے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ اخلاقی طور اس بات کے پابند تھے، کہ جس فیصلہ کی وجہ سے پورا کشمیر جل رہا ہے، اسے بدلنے کے لیے اقدام کریں۔ چونکہ آزاد نے ہمارے مطالبے پر دھیان نہ دیا سو ہم حکومت سے الگ ہوگئے۔یاد رہے کہ سنہ دو ہزار دو میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں تین تین سال تک اقتدار میں رہنے کے معاہدے کی شرط پر پی ڈی پی اور کانگریس نے بعض آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت قائم کی تھی اوردو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک ہندوستان کے سابق وزیرداخلہ مفتی محمد سعید ریاست کے وزیراعلیٰ رہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات دو ہزار پانچ میں اقتدار کی منتقلی کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔

اسرائیل حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لیں گے ‘ ایران کی وارننگ



تہران ۔ ایران کے انقلابی گارڈز کے کمانڈر ان چیف محمد علی جعفری نے کہاہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کیا جاتا ہے تو ایران خلیج میں تیل کی منتقلی کی انتہائی اہم گزرگا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کنٹرول کرے گا ۔ اخبار جام جم کے مطابق اس ماہ ایران پر امکانی حملے کے لئے اسرائیل کی ریہرسل سے متعلق نیویارک ٹائمز میں ایک اطلاع کی اشاعت کے بعد سے ایران پر امکانی حملے کے بارے میں قیاس آرائیاں گرم ہو گئی ہیں ۔ محمد علی جعفری نے کہا دشمن کے زیر حملہ کسی بھی ملک کے لئے یہ ایک فطرہ بات ہے کہ وہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے اپنی ساری صلاحیت اور مواقع کو بروئے کار لائے ۔ جہاں تک توانائی کی موجودہ اصل سمندری گزر گاہ کا تعلق ہے ایران یقینی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرلو کرنے کے لئے کارروئای کرے گا ۔ ماصی مں ایرانی عہدیداروں نے اس بارے میں ملے جلے اشارے دیئے تھے کہ وہ کسی بھی ٹکراؤ کی صورت میں تیل کو ہتھیار کی صورت میں استعمال کریں گے ۔ دنیا کے چوتھے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ایران ور مغرب اور اسرائیل کے درمیان نیوکلیئر منصوبوں پر کشیدگی تیل کی قیمتوں کو آسمان کی اونچائیوں تک پہنچانے میں مددگار بنی ہے ۔ جعفری نے کہا کہ اگر ہمارے اورعلاقہ کے باہر سے دشمن کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے تو یقینی طور پر اس کا دائرہ تیل کے موضوع تک پہنچ جائے گا ۔ انقلابی گارڈ کے کمانڈر نے علاقہ کے ملکوں کو وارننگ دی کہ وہ اپنے علاقہ کو ایران پرکسی بھی حملے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ امریکہ نے علاقہ میں فوجی سٹیشن قائم کر لئے ہیں جن میں ایران کے پڑوسی ممالک عراق اور افغانستان بھی شامل ہیں ۔ کمانڈر ان چیف نے کہا کہ اگر علاقہ سے باہر کے دشمنوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف علاقائی ملکوں کی سرزمین کا استعمال کیا تو متعلقہ ملکوں کی حکومتیں اس کی ذمہ دار ہوں گی اور واضح طور پر اسی انداز میں کارروائی کرنے کا ہمیں حق حاصل رہے گا ہم دشمنوں کی فوجی صلاحیتوں پر کہیں بھی ضرب لگا سکتے ہیں ۔ جنرل جعفری نے اسرائیل کو بھی کہا کہ اسرائیل ‘ ایران کے میزائلوں کی رینج میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میزائلوں کی طاقتو صلاحیت اتنی زیادہ ہے کہ صیہونی حکومت اپنی ساری قابلیتوں کے باوجود اس کاسامنا نہیں کر سکتی ۔

مٹہ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے متعدد افراد ہلاک

سوات ۔ سوات کے علاقے مٹہ میں فوجی قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا جس میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے ذرائع کے مطابق فوجی قافلہ شیر پلم چیک پوسٹ سرہنڈا جا رہا تھا کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بن گیا۔ جس کے باعث متعدد افرادکے جاں بحق اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ تھا۔ تاہم ذرائع نے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔ تاہم بعض غیر سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حملے میں دو اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہو ئے ہیں۔

نئی دہلی میں کشمیریوں پر ٢٠٠ انتہاء پسندوں کو حملہ ، کشمیروں پر پتھراؤ

سرینگر ۔ ہندوانتہاپسند تنظیموں کے مشتعل کارکنوں نے آج اس وقت نئی دلی میں جموں وکشمیر ہاؤس پر دھاوابول کر کشمیر مخالف نعرے بازی کی جب مقبوضہ کشمیر کے وزیر خزانہ طارق حمید قرہ وہاں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق بجرنگ دل اور ویشو ہندو پریشد سے وابستہ 200سے زائد کارکن آج صبح ساڑھے گیارہ بجے پرتھوی راج روڑ نئی دلی میں کشمیر ہاؤس کے باہر نمودار ہوئے اور پی ڈی پی ، کانگریس اور کشمیر کے خلاف زبردست نعرے لگائے ۔ اس موقعہ پر مشتعل کارکنوں نے کشمیر ہاؤس کی عمارت پر شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں کئی کھڑکیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے۔ اس موقعہ پر ہاؤس کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروںنے مشتعل کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے احتجاج اور نعرے بازی کے ساتھ ساتھ پتھراؤ کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد میں پولیس کی مزید نفری وہاں پہنچی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کرکے انہیں وہاں سے بھگا دیا۔ اس موقعہ پر پرتھوی راج روڑ پر کچھ دیر کیلئے گاڑیوں کی آمد ورفت بھی معطل رہی تاہم بعد میں حالات معمول پر آگئے۔

اسرائیلی فوج دہشت گرد ہے ۔نیدر لینڈ کے سابق وزیر اعظم



مقبوضہ بیت المقدس ۔ اسرائیلی روزنامے ’’ہارٹز‘‘ کے مطابق نیدر لینڈ کے سابق وزیر اعظم اور اسرائیل کے نقاد اینڈریاس اگت نے اسرائیلی قابض فوجوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم کے طور پر کام کررہی ہیں۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں نے اس علاقے کا 1999ء میں دورہ کیا تھا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اسرائیلی فلسطینیوں پر کیسے ظلم کرتے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں اگت نے ایک ویب سائٹ کا آغاز کیا تھا جس میں انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم کا مرتکب ہوتا ہے جس سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور نسل پرستی پر مبنی پالیسیاں پروان چڑھتی ہیں۔ سائٹ میں الخلیل شہر کی دیواروں پر تحریر ایک نعرے کی تصویر شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عربوں کو گیس چیمبرز میں پھینک دیا جائے۔‘‘نیدر لینڈ کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اس بات پر شرم محسوس ہوتی ہے کہ جب وہ برسراقتدار تھے اس وقت انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں آواز بلند نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں فلسطینیوں کے حق میں اب کیوں اس قدر بے باکی سے بات کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب صبرہ و شتیلا میں اجتماعی قتل عام ہوا تھا اس کی میں نے مذمت کی تھی اور وہ بھی نرم لفظوں میں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میرے دل میں فلسطینیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ اس وقت پیدا ہوا کہ جب بیت لحم سے تعلق رکھنے والا ایک فلسطینی طالب علم اپنی یونیورسٹی میں نیدر لینڈ نہ پہنچ سکا نہ امتحان دے سکا کیونکہ اسرائیلی چیک پوائنٹ پر اسرائیلی فوجیوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں پر جانوروں کی طرح چلے اور کتے کی طرح بھونک کر دکھائے اور جب مجبوراً وہ یہ سب کچھ کررہا تھا تو اسرائیلی فوجی قہقہے لگا رہے تھے کہ ’’تمام فلسطینی کتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ پھر مجھے اقوام متحدہ کی انتالیس قراردادوں کا خیال آیا جن میں اسرائیل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے خالی کردے لیکن یہ تمام قراردادیں ضائع گئیں۔ صدام حسین پر چار قراردادوں کے بعد حملہ کردیا گیا لیکن اسرائیل اکتیس قراردادوں کے بعد بھی سلامت ہے۔

خیبر ایجنسی میں آپریشن جاری ‘ ایف سی کے تازہ دم دستے بھی پہنچ گئے ‘ انصار الاسلام کا دفتر ‘ نجی جیل تباہ



خیبر ایجنسی ۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں آپریشن کے لئے ایف سی کے تازہ دم دستے باڑہ پہنچ گئے ہیں ذرائع کے مطابق 5 روزہ آپریشن کے دوسرے دن جمرود قلعہ سے باڑہ پہنچا دیئے جو 20 گاڑیوں پر مشتمل تھے ۔ ان 400 اہلکاروں نے باڑہ بازار میں غیر معمولی گشت شروع کر دیا ہے ۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے سپاہ اور شلوبر میں عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز نے آپریشن کرکے عسکریت پسند رہنما منگل باغ کے دو ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا اور دو ٹھکانے تباہ کر دئیے۔دوسری جانب منگل باغ نے شوری کا اجلاس نا معلوم مقام پر طلب کر لیا ہے۔سپاہ میں سیکورٹی فورسز سے جھڑپ میں ایک عسکریت پسند ہلاک اور دو سیکورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔تحصیل باڑہ میں غیر اعلانیہ کر فیو نافذ کر دیا گیاہے اور علاقے پر گن شپ ہیلی کاپٹر وقفے وقفے سے پرواز کر رہے ہیں ۔سیکورٹی فورسز نے پشاور سے باڑہ جانے والے تمام راستے بند کر دئیے ہیں ۔ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوسرے دن شلوبر میں انصار الالسلام کے نجی جیل دفتر کو مسمار کر دیا اور سیکیورٹی فورسز نے میرا کاخیل کی طرف پیش قدمی کی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ آپریشن ہفتہ کے روز شروع کیا گیا تھا اور دوسرے دن کے آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے شلوپر کے مقام پر محبوب مرکز پر قبضہ کر لیا اور اکاخیل کے علاقے میں لنگڑا پیر زیارت کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جہاں 3 امریکی ہیلی کاپٹروں کے پرزوں کو لوٹ لیا ۔سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے تحصیل باڑہ کے دیگر مقامات کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے ۔ باڑہ بازار سے کئی کلومیٹر فاصلے پر سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے باعث باڑہ بازار میں کرفیو میں غیر اعلانیہ نرمی کر دی گئی ہے ۔ مقامی لوگ باڑہ بازار کے راستے پشاور جا رہے ہیں ۔ باڑہ میں فوجی آپریشن کے باعث خیبر ایجنسی کی دو دیگر تحصیلوں لنڈی کوتل اور جمرود میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ پاک افغان بارڈر طورخم پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے مقامی تنظیم لشکر اسلام کے امیر نے کہا ہے کہ وہ حکومت سے لڑنا نہیں چاہتے ۔ ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیم کے امیرنے کہا کہ حکومت ان کے گھروں اور مراکز کو مسمار کر رہی ہے لیکن پھر بھی وہ پرامن ہیں ۔ دوسری جانب وادی تیراہ میں مخالف تنظیم انصار السلام کے امیر کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ وہ اپنی مخالف تنظیم لشکر اسلام کے حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے لئے ہتھیاروں سے مورچہ زن ہیں اور اپنی مخالف تنظیم کے حملے کا بھرپور جواب دیں گے ۔

اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ کشمیریوں کو حق خودارادیت حاصل ہو، نواز شریف



لاہور۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زود دیا ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے پیدائشی حق کے حصول کے ساتھ ساتھ علاقے میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کی رائیں ہموار ہوں ، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن حکمران جماعت کے سنیئر نائب صدر راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر کے سیاسی راہنماؤں قائم مقام صدر و سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر سیکرٹری جنرل مسلم کانفرنس شاہ غلام قادر اور وزیر اعظم پاکستان کے سابق مشیر ممبر کشمیر کونسل سردار فاروق سکندر ایڈووکیٹ کے ہمراہ آج رائے ونڈ لاہور میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی فاروق حیدرنے بتایا کہ میاں نواز شریف سے ہمارے وفد کی ایک گھنٹے کی اس ملاقات میں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال حریت کانفرنس کے وفد کے حالیہ دورے اور تازہ ترین ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی ہے اور انہوں نے اپنی اور اپنی جماعت مسلم لیگ کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد کی بھر پور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی (سی بی ایمز) کے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اورقابل قبول حل کی راہیں ہموار ہوں۔ دونوں طرف کی کشمیری قیادت کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہونے والی بات چیت میں بھر پور شریک کے مواقع حاصل ہوںاور ریاست تمام حصوں میں رہنے والے کشمیر کی خواہشات و جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کے مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے وفد سے ملاقات کے دوران بھی ان کے وفد کے نمائندے میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں موجود تھے اور سابق وزیر اعظم بیر سٹر سلطان محمود چوہدری بھی میاں نواز شریف اورحریت کانفرنس کے راہنماؤں کے درمیان مسئلہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں تفصلی بات چیت ہوئی ہے۔ اور اس ملاقات کے دوران بھی قائد مسلم لیگ نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ کے اصولی، دیرینہ اور ٹھوس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کی منزل کے حصول تک ان کی ہر ممکن حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حریت کانفرنس کے وفد سے ملاقات سے قبل میاں نواز شریف نے سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان سے رابطہ کر کے اس ملاقات میں آزاد کشمیر کی نمائندگی کے سلسلے میں بات چیت کی تھی۔ سردار سکندر حیات خان علالت کے باعث اس ملاقات میں شریک نہ ہو سکے اور ان کی طرف سے بھی ہمارے وفد نے اس ملاقات میں نمائندگی کی ہے ایک سوال کے جواب میں راجہ فاروق حیدر خان نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی مسلم لیگی راہنماؤں سے لاہور میں ہمارے وفد کی ملاقات حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات کے دوران بھی ہم میں شریک تھے۔ اس طرح مجموعی طور پر ہمارے ان سے دوگھنٹے تک تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں کشمیر اور آزاد کشمیر کی مجموعی صورتحال کے تمام اہم پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے۔

پشاورآپریشن کی آگ پورے صوبے میں پھیل سکتی ہے۔ سیاسی و مذیبی جماعتیں



اسلام آباد ۔ حکومتی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) اور جمعیت علماء اسلام ( ف ) نے واضح کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے قرب و جوار میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بارے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ان سے مشورہ لئے بغیر یہ اقدام اٹھایا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے کہا ہے کہ آپریشن میں معصوم اور بے گناہ لوگ مارے گئے تو ماضی اور آج کی حکومت میں کیا فرق ہو گا ۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام ( ف ) نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں عالمی کھیل جاری ہے افغان حکومت کے اٹک پل تک توسیع کے نعرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ صوبہ سرحد کی جغرافیائی تقسیم کا کھیل ترک کیا جائے ۔ جماعت اسلامی پاکستان نے بھی اس حوالے سے تحفظات خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا میں سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا ‘ جے یو آئی ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور ایم ایم کے ممتاز راہنما حافظ حسین احمد نے آپریشن کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کیا ۔ ثناء نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے علاقے میں حالات انتہائی سنگین بتائے جاتے ہیں حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے بظاہر یہی کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کوئی ایسا فارمولا ہے تو آپریشن کا جواز ہو سکتا ہے تاہم اگر آپریشن کے دوران معصوم بے گناہ عام آبادی کو نشانہ بنایا گیا ۔ بے گناہ لوگ جاں بحق ہوئے تو آپریشن نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ بے گناہ لوگوں کا نشانہ بننے سے سوال اٹھے گا کہ آج کے دور ماضی کی حکومت میں کیا فرق ہے ۔ بہرحال احتیاط ضروری ہے ۔ فل پروف نظام کے تحت امن قائم ہو سکتا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ان اقدامات سے مزید امن خراب ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حالات بظاہر تو خراب ہی نظر آ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی قوتیں جو استحکام نہیں چاہتیں حالات کو خراب کئے سازش کے تحت حالات کو بگاڑ سکتی ہیں کہ معاملے کا پرامن حل موجود ہوتا ہے سیاسی حل تلاش کیا جائے ۔ انہوں نے مجرموں کی سرکوبی کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا ۔تاہم معصوم اور بے گناہ لوگوں کونشانہ نہیں بننا چاہئے انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ جمعیت علماء اسلام آباد (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر ایجنسی میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بڑے منصوبے کے تحت جغرافیائی تقسیم کے معاملات ہیں طاقت کے استعمال سے جنگ نہیں تھمے گی بلکہ تنازعہ اور نقصانات کو تسلسل ملے گا ۔ ملک کے مستقبل کو تاریک کردیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ مسئلہ آج کا پیدا کردہ نہیں ہے ۔نائن الیون کے بعد افغانستان میں جارحیت ہوئی غیر ملکی افواج افغانستان میں موجود ہے ۔ رفتہ رفتہ اس آگ پھیلاؤ صوبہ سرحد تک پہنچ گیا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت اور گرد نواح میں یہ صورت حال یک دم پیدا نہیں ہوئی ۔ غلط پالیسیوں اور لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے ۔طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے وقتی طور پر فتح مندی کا جشن تو ضرور منا لیا جائے گا مگر تنازعہ کو تسلسل حاصل ہو گا ۔ حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب تک آنکھیں بند کر کے کیوں بیٹھے رہے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والوں کا تعین کیا جائے ۔پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور عراق میں طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان حالات کے ذمہ دار ہیں انہیں وفادار قرار دیا جاتا ہے اور ان حالات کی نشاندہی کرنے والوں کو غدار اور باغی قرار دیا جاتا ہے ۔ دکھ کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے صوبہ سرحد کے حالات کو قابو میں رکھا ۔ کوئی حادثہ رونما ہو بھی جاتا تو فوری طور پر رابطہ اور جرگہ کے ذریعے مسئلہ کو حل کرلیا جاتا ۔ پانچ سالوں تک حالات کو سنبھالے رکھا ۔ صوبہ سرحد کے حکمران نا کام ہو چکے ہیں ۔ ہمیں وہ مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکیں البتہ مذاکرات کے حامی ہیں خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے امریکی قیادت نے عالمی کھیل جاری ہے ۔ نیٹو نے اسلام اور امت کو ہدف بنا رکھا ہے ۔ کرزئی کسی اور کی زبان میں بات کررہا ہے اور ہم میں اتنی سکت نہیں ہے کہ اس کا جواب دے سکیں۔جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہاکہ آپریشن کھلا ظلم ہے امریکی ایما پر امن کے لیے سیاسی عمل کو سبوتاژ کیا جا رہاہے جس میں ایجنسیوں کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے عالمی قوتوں کا کھیل جاری ہے ۔ موجودہ حکومت ویژن سے محروم ہے ۔ ایشوز کے حوالے سے حقیقی قومی اپروچ کو خود مختار نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل مسئلہ عدلیہ کی بحالی اور عوام کی معاشی و اقتصادی بدحالی ہے عدلیہ کی بحالی ہی سے قوم یکسوئی کے ساتھ صحیح سمت میں اقدام اٹھا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور مشیر داخلہ امریکی لائن کی بنیاد پر صورت حال کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں ۔ ایسی آگ لگائی جا رہی ہے جو ان کی کوشش کے باوجود نہیں بجھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کی سرکوبی کی کون مخالفت کر سکتا ہے مگر ایسے حالات کیوں بنے ۔ حکومت اس آڑ مین امریکی مفادات ا ور اس کی جانب کے طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کررہی ہے ۔ جمعیت علماء اسلام(ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ پشاور اور قرب وجوار میںآپریشن انتہائی خطرناک اور قابل مذمت ہے ۔ ایم ایم اے کی حکومت نے پانچ سالوں تک حالات کو سنبھالے رکھا ۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں صورت حال انتہائی پرامن تھی بندوبستی علاقوں میں امن تھا۔ مخدوش حالات اے این پی کی حکومت کی پہلی ناکامی ہے انہوں نے کہا کہ آپریشن کے اثرات پورے صوبے میں پھیلیںگے۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ بات سمجھ میں آنی چاہیے کرزئی اور سرحد کے حکمرانوں میں ہم آہنگی کافی گہری ہے اور افغان حکومت کی جانب سے اٹک پل تک حکمرانی پرانا نعرہ ہے جس پر علاقہ کے لیے پرتولا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پی پی اور مسلم لیگ(ن) الگ الگ سرگوشی کے بجائے حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا ۔ ملک ک ی سالمیت کو خطرات سے دو چار نہ کیا جائے ۔ اس حوالے سے کوتاہی برتی جا رہی ہے پوری قوم کا مشترکہ معاملہ ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ سے باہر سیاسی جماعتوں کو بھی اس ایشو کے بارے میں اعتماد میںلے ۔

ٹوئینٹی ، ٹوئینٹی کو ’فن کرکٹ‘اور ’ مسالہ کرکٹ ‘کہنا مناسب ہو گا، حنیف محمدکی خصوصی بات چیت



کراچی ۔ پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی حنیف محمد کا نام آتے ہی ان کی زبردست بلے بازی اور ان کے رنوں کے ریکارڈ نظر کے سامنے آ جاتے ہیں۔ بھارت کے سنیل گاوسکر اور سچن ٹنڈولکر سے پہلے جس کھلاڑی کو کرکٹ کا اصل لٹل ماسٹر کہا جاتا تھا وہ حنیف محمد ہیں۔ پاکستان کے اس کلاسک بلے باز کو میدان پر ان کی یکسوئی اور گراؤنڈ شارٹ کے لیے بھی یاد کیا جا تا رہا ہے کیونکہ وہ گیند کو ہوا میں اٹھا کر لمبے شاٹ کم ہی کھیلا کرتے تھے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی 337 رنوں کی اننگز جو 970منٹ طویل تھی کرکٹ کی سب سے لمبی اننگز میں شمار کی جاتی رہی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی یہ اننگز سیکنڈ اننگز میں بنائی جانے والی واحد ٹرپل سنچری ہے۔ کرکٹ کے یہ بے تاج بادشاہ دھوم دھڑا کے سے بھرے ٹونٹی ، ٹونٹی کرکٹ کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں انقلاب کر بتایا 20اوور کے یہ مقابلے صرف عوام کی دلچسپی کے لیے ہیں ۔ اس طرح کے مقابلوں کو کرکٹ کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ انہیں فن کرکٹ یا مسالہ کرکٹ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ لیکن وہ ان مقابلوں کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کی قدر کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق کرکٹ ایک بہت مہنگا کھیل ہے ۔ صرف ٹیسٹ کرکٹ سے اس کھیل کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ پہلے یک روزہ کرکٹ کھیل کے لیے آمدنی کمانے کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ ٹی ٹوینٹی بھی اس طرح کے مقابلے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھا کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس سے کرکٹروں کی تکنیک کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس طرح کے مقابلوں سے دو یا تین سال ختم بھی ہو جائے ۔ واضح رہے کہ حنیف محمد کو گزشتہ رات پہلے کیسٹرول لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔۔ ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حنیف محمد کے 337 رنوں کی اننگز کے علاوہ ان کے ذریعے بنائے گئے 449 رن بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کی ایک بڑی اننگز میں شمار کی جاتی ہے۔ انہوں نے آج کے دور میں کرکٹ کھیلتے وقت حفاظتی انتظامات کی بھی تعریف کی۔ حنیف نے جب 449رن بنائے تھے توان کے ساتھ عبدالعزیز پچ پر موجود تھے جن کی کچھ دنوں بعد ایک آف سپنر دلدار اعوان کی گیند سینے میں لگنے کی وجہ سے موت واقع ہو گئی تھی۔ حنیف نے اس بارے میں بتایا کہ عزیز کو ہسپتال لے جاتے وقت ان کی موت واقع ہو گئی تھی ۔ اگر حالات حاضرہ جیسے حفاظتی انتظامات اس وقت موجود ہوتے تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ تحقیق کے بعد یہ واضح ہوا کہ عزیز کے دل کی حالت کچھ پیچیدہ تھی جس پر گیند لگنے سے حالت اور بدتر ہو گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے ریورس سویپ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ حنیف کو ریورس سویپ کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ریورس سویپ کھیلنے کی شروعات میں نے کی ہے لیکن دراصل یہ شاٹ میرے بھائی مشتاق محمد نے پہلی بار کھیلا تھا۔ اب یہ شارٹ 20اووروں اور 50اووروں کے مقابلوں میں بہت زیادہ مقبول ہو چکا ہے جو کھیل کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔

Paramilitary soldiers patrol near Bara, a town in the Khyber tribal region near the Afghan border. Pakistani security forces began an offensive agains




Paramilitary soldiers patrol near Bara, a town in the Khyber tribal region near the Afghan border. Pakistani security forces began an offensive against Taliban militants in Khyber tribal region who were threatening the main northwestern city of Peshawar.

Iran threatens to block Gulf oil route if attacked



TEHERAN - Iran reiterated that it would block the oil export route in the Persian Gulf if attacked, a Teheran newspaper reported Saturday.
'It is understood that a country would use all possible options against an aggressor if militarily attacked. In that case, Iran would also intensify control of the Persian Gulf and Strait of Hormuz,' the commander of the paramilitary Revolutionary Guards told Jam'e Jam daily.
General Mohammad Ali Jafari also warned neighbouring countries not to take part in any military strike plans against Iran.
The general made the statement in reference to reports that the United States and Israel might attack the main Iranian nuclear site in Natanz, central Iran, after the Islamic state once again refused to suspend its uranium enrichment programme.
In earlier statements, President Mahmoud Ahmadinejad warned that the country would be justified in using all options in the event of an attack. He also had not ruled out blocking the Persian Gulf blockade and using controls on oil supplies as a weapon.
A major part of regional oil exports are piped through the Persian Gulf and the Strait of Hormuz, and a blockade could trigger a worldwide energy crisis.
Jafari also warned Israel that the Jewish state was within the range of Iranian missiles and indicated that any Israeli attack on Iranian nuclear sites would be retaliated against by missile attacks.
Earlier this month, the Israeli air force held an exercise that US officials say appeared to be a rehearsal for a potential attack on Iran's nuclear facilities.
Iran's medium-range Shahab-3 missile reportedly has a range of between 1,300 and 2,000 kilometres and is said to be able to reach any part of Israeli territory.

Militant killed in Pakistani operation near Peshawar

PESHAWAR- Pakistani forces shot dead a Islamist militant Saturday after launching an offensive against rebels threatening the northwestern city of Peshawar, a security official said. Hundreds of troops backed by tanks moved into the volatile Khyber district which lies between Peshawar and the Afghan border on Saturday to take on rebels loyal to Mangal Bagh, a local Islamist leader trying to enforce religious law.
"A militant fired at a paramilitary Frontier Corps patrol, fire was returned and he was killed. This is the only known casualty in the operation so far," a senior security official told AFP."The operation is against criminals and it will continue until it meets a success," the official said."The objective is to establish the writ of the government and stop these gangsters, criminals from using the territory to harass the local population and the neighbouring areas," he added.Officials say Mangal Bagh's group is independent from the Taleban movement opposing security forces across northwestern Pakistan, although its goals of imposing Islamic Sharia law are similar.

Boucher to hold talks with Pakistani politicians




ISLAMABAD: The US Assistant Secretary of State for South Asia, Richard Boucher, will call on Nawaz Sharif in Lahore on July 2 just prior to the start of his make-or-break talks between the PML-N and the PPP on the restoration of the deposed judges.Credible sources told here on Saturday that in the face of the brewing political crisis in Pakistan in the month of July, Boucher’s upcoming visit was of great importance. However, an American spokesperson told this scribe that Boucher’s visit, starting from June 30, was part of the ongoing series of his “routine visits” to Islamabad.He will meet a number of people from different sections of the society during this visit. Boucher, however, may not be able to call on Asif Ali Zardari during his four-day long sojourn as the latter is on a foreign tour and will be back in Islamabad on July 5, the PPP spokesman Farhatullah Babar told . However, sources said the main objective of Boucher‚Äôs visit was to meet the whole political leadership of the country. During his meeting with Nawaz, Richard Boucher will discuss the current political situation, including the widening rift between the ruling coalition partners on the judicial crisis, sources said.Boucher will also discuss the ongoing operation on the Pak-Afghan border with Pakistani political leadership, an official said. Previously, Boucher had met with the PPP and the PML-N leaders in London on May 11 when the talks to resolve the judicial issue between the two major parties were on the verge of collapse. The United States, however, had distanced itself from the issue of restoration of the judges, saying it was an issue that Pakistan could best find a solution to.

Foreign Minister fooling the nation: JI




LAHORE: Jamaat-e-Islami Pakistan has flayed the statement of Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi given in Delhi after meeting his Indian counterpart that Pak-India talks process will continue for peacefully resolving contentious issues.JI Secretary General Syed Munawar Hassan, in a statement on Saturday, said history witnesses that India has neither been sincere in talks with Pakistan nor has she ever been sincere in resolving the Kashmir issue. Munawar said no doubt the disputes between the two countries could be resolved through talks, but talks could only be successful when both sides were serious and sincere for talks. He said the foreign minister had avoided protesting against the construction of the dams India had been illegally constructing on the Pakistani rivers to turn the country into desert. He added illegal construction of dams and massacre of Kashmiri Muslims were the most pressing issues but the foreign minister had not mentioned them.

Pentagon to deploy 30,000 troops to Iraq in 2009






WASHINGTON: The U.S. Defense Department is preparing to order roughly 30,000 troops to Iraq early next year in a move that would allow the United States to maintain 15 combat brigades in the country through 2009, US media reported. The deployments would replace troops currently there. But the decisions could change depending on whether Gen. David Petraeus, the top U.S. commander in Iraq, should decide in the fall to further reduce troop levels in Iraq. Several officials familiar with the deployments spoke on condition of anonymity because the orders have not yet been made public. According to the officials, three active-duty Army brigade combat teams, one Army National Guard brigade and two Marine regimental combat teams are being notified that they are being sent to Iraq in early 2009. The Guard unit is the 56th Brigade Combat Team, 28th Infantry Division, from the Pennsylvania National Guard. Members of that unit, a large brigade with heavily armoredStryker vehicles, were told last October they should be prepared to deploy to Iraq early in 2009. The order this week is the formal notice that includes a more specific period. Currently, the final brigade involved in the military buildup in Baghdad last year is pulling out of Iraq. That departure will leave 15 combat brigades there, compared with a high of 20 for much of the past year. Other smaller units are also there, including troops doing security, logistics, air assaults, intelligence and medical aid. Overall, there are about 146,000 forces in Iraq, and that number is expected to dip to about 142,000 by mid-July when that last unit is out. That total is at least 7,000 more than the number of troops in Iraq before the buildup began early last year. Petraeus told Congress in May he probably will recommend further troop reductions in Iraq, but he did not provide details. If he should decide in the fall that fewer brigades will be needed in Iraq during the next year, there is the chance that brigades could simply be directed to the war in Afghanistan instead. There is a broad consensus that more troops are needed in Afghanistan, both to train the security forces and to fight insurgents. Defense Secretary Robert Gates and President George W. Bush told NATO allies this year that they would increase troop levels in Afghanistan in 2009 in response to the growing violence.

Sindh passes Rs267b budget after FB passage




KARACHI: Sindh Assembly Saturday unanimously passed Rs 267.764 billion Sindh budget for fiscal 2008-09 after passage of Finance Bill, 2008 which, too, was carried unanimously.Introducing the Finance Bill, Sindh Chief Minister Syed Qaim Ali Shah said it was aimed at rationalizing certain duties and cess for which it was expedient to amend relevant laws.In the Finance Bill, the government has removed the levy on CDC for transfer of shares.The Chief Minister said that it was done at the request of Karachi Stock Exchange as this levy was not levied on transfer of shares in any other Stock Exchange.In the Finance Bill, through an amendment in the Stamp Act, 1899 in its application to the Province of Sindh, in Article 31, Clause (a), for the entries in column 2, the following entries shall be substitued:i. 1.5 percent of the face value of shares subject to a minimum of one rupees on physical and on withdrawal from CDC.ii.0.10 of the face value of shares deposited to the Central depository Company.Another amendment related to Sindh Finance Act, 1994 whereby in section 9, sub-section (1) for the provision, the following shall be substituted:i. “Provided that cess on gold shall be charged at the rate of 0.125 percent of the total value assessed by the Custom Authorities”.Through another amendment, the government levied cess on the weight of goods upon their entering in and using the infrastructure of the province and the distance covered within the Province.Accordingly, the rate of cess along with the distance on weight of goods upto 1250 Kg will be 0.80 percent of total values of goods as assessed by the Custom Authorities plus one paisa per Kilometer; 0.81 percent on exceeding 1250 Kg but not exceeding 2030 Kg, 0.82 percent on exceeding 2030 Kg but not exceeding 4060 Kg; 0.83 percent on exceeding 4060 Kg but not exceeding 8120 Kg; 0.84 percent on exceeding 8120 Kg but not exceeding 16,000 Kg and 0.85 percent on exceeding 16,000 Kg.In the Finance, the government has levied one time luxury tax on an imported and locally manufactured or assembled motor cars of specified category, registered in Sindh with effect from 1st July 2008.The category of motor car and the rate of tax will be as under:Imported car 3000 cc and above Rs 100,000, 2000 to 2999 CC Rs 50,000, 1500 to 1999 CC Rs 5000 and locally manufactured or assembled cars of 1500 cc and above Rs 5000.The Government will not levy tax if purchased by federal or provincial governments; a transport or commercial vehicle, exempt from taxation and a motor vehicle or class of motor vehicles notified by the Government.After statement by the Chief Minister regarding objects and reasons, the Bill was taken up Clause by Clause and finally passed without any opposition.

Pakistan taking on Sri Lanka Today in Asia Cup




KARACHI: India beats Bangladesh by seven wickets in its first match of Super Four leg while Pakistan taking on Sri Lanka here at National Stadium today. In the first game of Super Four leg between India and Bandledesh, India chased the target with run rate of 6.55 runs per over. Raina hammered 116 runs with three sixers and 11 boundaries. He was followed by Gambhir who smashed 90 runs out of 84 balls with one sixer and ten fours. Gautam Gambhir and Suresh Raina kept piling up the runs from the generosity of Bangladesh 's fielders. Earlier, Bangladesh scored 283 on the loss of six wickets. The specialty of Bangladesh batting was Alok who smacked 115 runs on 96 balls with five excellent sixes and ten boundaries, thus, becoming the first batsman to have hit a hundred against India in ODI cricket. He added 112 runs in sixth-wicket partnership with Mahmudulla, which is also an Asia Cup record for this wicket. The previous record was 103, set by Sri Lanka’s Sanath Jayasuriya and Tillekeratne Dilshan also against India, at Colombo in 2004. In the second match of Super Four Leg Pakistan playing aganist defending champions Srilanka, Sri lankan team already won their both group matches.
In today’s fixture Pakistan would be using Abdul Rauf in place of injured Pace bowler Umer Gul as Asia Cup technical committee allowed Pakistan team management to use other option in place of injured pacer. While according to Pakistan teams' coach Jeff Lawson, Pakistan is planning to use Left arm fast bowler, Wahab Riaz, he has played four one day international.

Malavika files case against producer




NEWYORK: Actress Malavika is now acting in the film Samrajyam.Malavika has alleged that she could not perform some dance steps as she was pregnant.
The producer of the film Anajaneyulu then entered her caravan and asked her to show whether she was really pregnant. Malavika says that Anjaneyulu has misbehaved with her.
The producer denies this and he said that it was Malavika who was harassing him.
She had not been reporting for shooting for some time and this had resulted in the film getting delayed. The two are now sticking to their respective stand and are ready to fight it out in court.
Anjaneyulu says that he will file a defamation case against her in court and seek 75 lakhs as compensation.
Malavika had alleged sometime back that actor Rajendra Prasad had kissed her on the lips during the shooting of a film.

Yasin Malik among 15 injured in Srinagar




SRINAGAR: Kashmiri liberation leader Yasin Malik among fifteen others wounded on Saturday when Indian Army opened fire on a protest rally held against the transfer of land to a Hindu pilgrim body.

Leader of Jammu and Kashmir Liberation Front (JKLF) was leading a protest rally at the summer-capital of disputed valley when he was come under-fire by Indian troops, said eyewitnesses.“Central Reserve Police also tortured Malik who suffered bullet injuries in the incident,” a JKLF spokesman told the newsmen, adding that the liberation leader was rushed to the nearby hospital where his condition was being reported critical. Meanwhile, Indian army raided at the headquarters of All Parties Hurriyat Conference (APHC) in Srinagar and arrested five leaders of the alliance. The detainees include Democratic Freedom Party chief Shabbir Shah, JK National Front president Naeem Ahmed Khan and three others who were later transferred to unknown place.

OGRA increases POL prices




KARACHI: The Oil and Gas Regulatory Authority (OGRA) has increased the prices of petrol and diesel by 10 percent and the price of kerosene oil by 30 percent.
According to the sources the new prices of petrol and high speed diesel will be Rs 75.69 per litre and Rs 55.15 per litre respectively while light diesel, kerosene oil and high octane petrol will now be sold at Rs 49.06, Rs 49.73 and Rs 88.86 per litre respectively.
A senior government official had said on June 15 that the government had planned to automatically pass on any increase in world oil prices to domestic consumers and phase out subsidies entirely by the end of 2008.

Army Chief given powers for tribal areas operation




ISLAMABAD: Defence Minister Chaudhry Ahmed Mukhtar said all the powers regarding operation in the tribal areas have been delegated to Army chief General Ashfaq Kayani.Talking to journalists on the occasion of 10th Pakistan International Footwear Exhibition here, he said parliament had several debates on situation in tribal areas; however, in a meeting with Prime Minister Makhdoom Yousuf Raza Gilani, all the powers in this regard have been deputed to the Army Chief.Ahmed Mukhtar maintained that peace and law and order to the tribal areas would be ensured at all costs and if they had to fight, they will not flinch back from it.Pakistan is facing no danger at all, he added.

Security officials’ curbs terrorist plan


QUETTA : Officials confiscated vehicle from which 600 kilograms of explosive were taken in custody here late Saturday night.



QUETTA : Officials confiscated vehicle from which 600 kilograms of explosive were taken in custody here late Saturday night.According to the details security officials got the information that miscreants were transporting heavy amount of explosives from Afghanistan using Chaman Quetta highway, which will be used for terrorist activities in the city.When security officials stop an ambiguous vehicle for checking, people in the car started firing and escaped, after ward security personal confiscated vehicle and around 600 kg of explosives were taken under custody.Later officials cordon off the entire area and started searching for offenders.

Security forces take control of Bara in Khyber Agency


PESHAWAR: The security forces operation was completed in Bara area and Bara areas including Akakhel and Sanober have been brought under government control by the FC personnel on Saturday.



PESHAWAR: The security forces operation was completed in Bara area and Bara areas including Akakhel and Sanober have been brought under government control by the FC personnel on Saturday.
Security forces have taken control of Bara in an operation against miscreants in Khyber Agency. The Inspector General of FC, Major General Muhammad Alam Khattak has said that operation would continue and last for five days.
Sources said that mortar shells have been fired from Qila Shahkas of FC in tehsil Jamrood.
Meanwhile, additional contingents of security forces have been dispatched to tehsil Bara from tehsil Jamrood. During the operation, two hideouts of a local religious movement Lashkr-e-Islam were blown up and security forces also destroyed the house of movement’s chief Mangal Bagh.
The security forces convoy comprised of six armored vehicles and tanks. In Aka Khel area, a commander of Lashkr-e-Islam, Shoaib was killed in clashes with security forces while 3 security personnel were also injured.
The security forces have taken positions on vital points in the area. After the successful operation, the Khasadar Force personnel are seen patrolling around the area.
The offensive in the Khyber tribal region marked the first major military action, which the newly elected government has taken against the militants operating in the tribal areas along the border with Afghanistan.
Earlier in clashes in the region, seven persons were killed in gunfight between two warring groups in tehsil Tirah of Khyber tribal region.
The death toll in week-long clashes between Lashkar-e-Islam and Ansar-ul-Islam groups in Khyber Agency has reached to 68 with fresh fatalities, after which the security agencies cordoned off Bara area in the tribal region.

تاجر تنظیموں کی اپیل پر میاں نوازشریف سے اظہار یکجہتی اور عدالتی فیصلے کے خلاف لاہور میں مکمل شٹر ڈاؤن



لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمنی الیکشن کیلئے نااہل قرار دیئے جانے کے خلاف انجمن تاجران پاکستان اور قومی تاجر اتحاد لاہور کی اپیل پر صوبائی دارالحکومت میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔ تفصیلات کے مطابق انجمن تاجران پاکستان کے صدر حاجی مقصود بٹ اور قومی تاجر اتحاد لاہور کے صدر اظہر سعید بٹ نے میاں نوازشریف کی نااہلی پر میاں نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) سے اظہار یکجہتی کیلئے شٹر ڈآؤن کی کال دی تھی۔ ہفتہ کے روز تاجر تنظیموں کی کال انتہائی کامیاب رہی اور شہر کے تمام بڑے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ بند رہنے والی مارکیٹوں میں برانڈرتھ روڈ، بیڈن روڈ، ہال روڈ، مال روڈ، شاہ عالم مارکیٹ، لنڈا بازار، لبرٹی مارکیٹ، مین مارکیٹ گلبرگ، بادامی باغ، آٹو مارکیٹ، لٹن روڈ، بانساں والا بازار، رنگ محل، ملتان روڈ، عابد مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور دیگر کاروباری مراکز شامل ہیں۔

امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دئیے جانے والے ٤ ایف سولہ طیارے پاکستان پہنچ گئے




اسلام آباد ۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دئیے جانے والے 4 ایف سولہ طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں یہ طیارے ہفتہ کو مصف ایئر بیس سرگودھا پہنچے امریکہ اور پاکستان کے درمیان جاری دفاعی تعاون کی یہ زندہ مثال ہے ان طیاروں چاروں ایف 16 طیاروں کو پاک فضائیہ میں شامل کر لیا گیا چند روز قبل امریکہ ایوان نمائندگان اور پھر سینٹ کی جانب سے پاکستان کے لئے ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی اقتصادی امداد کی منظوری بھی دی گئی تھی اور اس میں یہ بات بھی سامنے آ ئی تھی کہ 28 جون کو چار ایف 16 طیارے پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے اور اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں اب مزید دو باقی ایف سولہ طیارے بھی پاکستان کو مل جائیں گے امریکی حکام کے مطابق باقی دو ایف سولہ طیارے بھی بہت جلد پاکستان کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔

پی ٹی سی ایل نے انٹر نیٹ کے لئےگھریلو لینڈ لائنوں اور ڈیٹا سروسز کے چارجز میں ٤٥٠ سے ٧٠٠ فیصد تک اضافہ کر دیا


اسلام آباد ۔ پی ٹی سی ایل نے انٹر نیٹ کے لئے گھریلو لینڈ لائنوں اور ڈیٹا سروسز کے چارجز میں 450سے 700فیصد تک اضافہ کر دیا ہے ۔ پی ٹی سی ایل کی طرف سے جاری ٹیرف کے مطابق نئے ریٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے دو میگا بائیٹس 30سیکنڈ ایم بی پی ایس کے موجودہ ٹیرف 1750روپے فی کلو میٹر سالانہ سے بڑھ کر 7871روپے ہو جائے گا اسی دوران 34میگا بائٹس 30سیکنڈایم بی پی ایس کا ریٹ 21ہزار روپے فی کلو میٹر سالانہ سے بڑھ کر ایک لاکھ 40ہزار روپے کیا گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل سرکولر میں انٹر نیٹ سروس پروائیڈر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے پرائیویٹ آئی ایس پیز کے مطابق یہ انڈسٹری ختم کرنے کی ایک سازش ہے اگر حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا تو تمام انٹر نیٹ اور ڈی اے سیل کنکشن چوبیس گھنٹے کیلئے بند کردئیے جائیں گے۔

ڈاکٹر شعیب سڈل ڈی جی آئی بی تعینات ، نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا



اسلام آباد ۔ انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل کو تبدیل کر کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی ) مقرر کر دیاگیا ہے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے ڈاکٹر شعیب سڈل کو چند ماہ پہلے ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو سے تبدیل کر کے انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس کے عہدے کا چارج دیا گیا اور آج ان کا تبادلہ کر کے ڈی جی آئی بی لگا دیاگیا ہے

صوبہ سرحد میں جغرافیائی تقسیم کے منصوبے پر عملدر آمد ہو رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان



اسلام آباد ۔ جمعیت علماء اسلام آباد (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر ایجنسی میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بڑے منصوبے کے تحت جغرافیائی تقسیم کے معاملات ہیں طاقت کے استعمال سے جنگ نہیں تھمے گی بلکہ تنازعہ اور نقصانات کو تسلسل ملے گا ۔ ملک کے مستقبل کو تاریک کردیا جائے گا ۔ ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ مسئلہ آج کا پیدا کردہ نہیں ہے ۔نائن الیون کے بعد افغانستان میں جارحیت ہوئی غیر ملکی افواج افغانستان میں موجود ہے ۔ رفتہ رفتہ اس آگ پھیلاؤ صوبہ سرحد تک پہنچ گیا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت اور گرد نواح میں یہ صورت حال یک دم پیدا نہیں ہوئی ۔ غلط پالیسیوں اور لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے ۔طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے وقتی طور پر فتح مندی کا جشن تو ضرور منا لیا جائے گا مگر تنازعہ کو تسلسل حاصل ہو گا ۔ حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب تک آنکھیں بند کر کے کیوں بیٹھے رہے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والوں کا تعین کیا جائے ۔پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور عراق میں طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان حالات کے ذمہ دار ہیں انہیں وفادار قرار دیا جاتا ہے اور ان حالات کی نشاندہی کرنے والوں کو غدار اور باغی قرار دیا جاتا ہے ۔ دکھ کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے صوبہ سرحد کے حالات کو قابو میں رکھا ۔ کوئی حادثہ رونما ہو بھی جاتا تو فوری طور پر رابطہ اور جرگہ کے ذریعے مسئلہ کو حل کرلیا جاتا ۔ پانچ سالوں تک حالات کو سنبھالے رکھا ۔ صوبہ سرحد کے حکمران نا کام ہو چکے ہیں ۔ ہمیں وہ مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری سنبھال سکیں البتہ مذاکرات کے حامی ہیں خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے امریکی قیادت نے عالمی کھیل جاری ہے ۔ نیٹو نے اسلام اور امت کو ہدف بنا رکھا ہے ۔ کرزئی کسی اور کی زبان میں بات کررہا ہے اور ہم میں اتنی سکت نہیں ہے کہ اس کا جواب دے سکیں

Govt believes in freedom of judiciary; reinstatement of judges: PM









LAHORE:Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Saturday said that the government believes in independence of judiciary and rule of law and is committed to the reinstatement of the deposed judges. “ The draft of the constitutional package has been handed over to the coalition partners, and after consensus on the package it will be tabled in the parliament,” he said while talking to reporters at the airport after his arrival in the provincial metropolis.
He said the parliament was a supreme institution and any decision about the constitutional package will be taken in the parliament.
The Prime Minister said that there was complete unity among the coalition partners and if there will be any major difference of opinion on any point it will be resolved through dialogue.
He said PPP was committed to the continuity of the coalition government to strengthen democracy in the country.
“If the coalition government won’t succeed it will be something very unfortunate and harmful for the democracy,” he said and added that all decisions of the coalition government were being taken after due consultation.
He hoped that all coalition partners would play their role to keep the coalition intact.
The Prime Minister termed the disqualification of Mian Nawaz Sharif a great setback for democracy.
He said during his visit to NWFP he assured the provincial government that the federal government believes in provincial autonomy and it was the responsibility of the provincial government to protect life and property of the citizens.
To a question, the PM said the government believes in negotiations instead of operation against militants to resolve all issues. However, he said it is up to the NWFP government to take any decision in this regard.

Benazir was an icon of democracy: Dr Fehmida







ISLAMABAD : Speaker National Assembly Dr Fehmida Mirza on Saturday said that Benazir Bhutto was an icon of democracy and a popular leader of Muslim Ummah and the world. She was talking to the participants of Shaheed-e-Jamhoriat Mohtarma Benazir Bhutto Cycle Rally.
The rally was organised by Kasoor Athletics Association.
Dr Fehmida said that Benazir was torch-bearer of democracy and human rights and always advocated for equality, justice and human well-being.
The speaker said that Shaheed Mohtarma loved Pakistan and its people and despite threats to her life she came back to Pakistan.
She said that it was desire of the masses to see Mohtarma Benazir Bhutto as leader of the house but her sudden death shattered their dreams.
She said that Mohtarma Benazir carried forward the democratic and social mission of late Zulfiqar Ali Bhutto for which she made sacrifices.
The speaker said that Mohtarma wanted to see Pakistan a strong and prosperous country where its inhabitants can lead a comfortable life.
Dr Fehmida appreciated the cyclists’ way to celebrate the birth anniversary of Benazir Bhutto and added that this was the best way to pay tributes to her and to create awareness among the masses about the spirit of her mission.
Leader of the cyclists rally Sabir Kasoori said that the rally started on June 21 from the shrine of Baba Bulley Shah in Kasoor and reached Sports Complex Islamabad on June 27.
He said that the rally members were encouraged by the warm receptions given to them by the masses all along the route.
He thanked the leaders, party workers and masses for their warm welcome to the rally members.

حکومتی عملداری اور خیبر آ پریشن ۔۔۔۔ تحریر اے پی ایس،اسلام آباد



قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مخالفین کے کئی مراکز اور موچوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا سب سے بڑا مقصد پشاور کے مضافات میں گزشتہ کچھ عرصے سے جرائم کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا تھاہے۔ جبکہ وفاقی مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ خاص خاص اہداف پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ جمعہ کو باڑہ میں شروع کی جانے والی کارروائی ابھی تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کے علاوہ بعض اہم مراکز اور مورچوں کو تباہ کردیا ان کے مطابق آپریشن کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ مخالفین کی طرف سے کی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں دیکھی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کو ٹینک، توپخانے اور بکتر بندگاڑیوں کی مدد بھی حاصل تھی اور علاقے میں مکمل طور پر کرفیو نافذتھا جبکہ بعض راستوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا کہ یہ کارروائی کسی گروہ یا فرد کے خلاف نہیں کی کی گئی بلکہ اس کا مقصد قبائلی علاقے باڑہ میں حکومتی عملداری کی بحالی اور ان جرائم کی روک تھام کرنا تھا پشاور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر حکومت نے فرنٹیئر کور کو اجازت دے دی کہ وہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دے تحصیل باڑہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کا سب سے بڑا مرکز تھا س لیے انہوں نے پہلے یہاں سے کاروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پشاور کے آس پاس علاقوں میں موجود بعض دیگر چھوٹے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔’یہ بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہے جوگزشتہ پندرہ سال سے پنپ رہا تھا لہذٰا اس آپریشن کے ذریعے مسئلے سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ دوسری طرف خیبر ایجنسی کے پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لشکر اسلام کے خلاف کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تحصیل باڑہ کے علاقے گنداو¿، کوئیی اور آس پاس کے گاو¿ں میں واقع لشکرِ اسلام کے مراکز اور مورچوں کو توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کارروائی اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ وہاں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ’الٹے سیدھے‘ سکول اور مدرسے بنائے گئے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پشاور میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغواء کے باعث صورتحال بگڑ گئی تھی اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اردگرد بھی خاص خاص مقام پر جرائم پیشہ لوگ ہیں اور ان سے صوبائی حکومت نمٹ رہی ہے کیونکہ صوبے میں قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت مخصوص اہداف پر کارروائی کرتی ہے تو مرکزی حکومت اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ اگر ان کو فورس یا لاجسٹک کی ضرورت ہو تو ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں‘۔ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مبینہ مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیا ن ہونے والی ایک جھڑپ میں نو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں فوج کی بیرکوں پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے جمعہ کی صبح باڑہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سنڈا پل کے علاقے میں لشکر الاسلام کے مسلح افراد نے پہاڑ پر واقع انصارالاسلام کے مورچے پر قبضہ کرنے کے لیے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کردیا تھا۔اہلکار کے مطابق پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں لشکرالاسلام کے آٹھ اور انصارالاسلام کا ایک مبینہ جنگجو ہلاک ہوگیا جبکہ دونوں طرف سے چار چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔تاہم فریقین نے ہلاکتوں سے متعلق متضاد دعوے کیے ہیں۔ انصارالاسلام کے ترجمان مولانا مستمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑائی کے دوران مخالف فریق کے بارہ افراد ہلاک کیے گئے ہیں جن میں سے آٹھ کی لاشیں انکے پاس ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ادھر لشکرالاسلام کے ایک رہنما مستری گل نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انکے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے دوران انکی مخالف تنظیم انصارالاسلام کے سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں فریقین اپنا نقصان کم جبکہ دوسرے کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ تحصیل باڑہ میں دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مقامی لوگوں کے مطابق اب تک دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں اور علاقے میں بظاہر حکومتی عملداری ختم ہوگئی ادھر صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔دیر کے ضلعی رابطہ افسر ڈاکٹر عطاء الرحمن کے مطابق ابتدائی تفتیش کے بعد چالیس افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ سترہ افراد اب بھی زیرحراست ہیں ۔ انکے بقول حراست میں لیے گئے افراد میں سے پانچ زیادہ مشکوک افراد بھی شامل ہیں جن میں دو مقامی اور تین افغان ہیں۔انکے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی عمارت میں جمعہ کے روز ہی تقریباً پانچ سو سے زیادہ فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ جنوبی اضلاع لکی مروت، پیزو، اورسرائے نورنگ میں بھی اضافی فوج کو تعینات کردیا گیا ہے فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے تاجہ زئی چوک پر خاردار تاریں بچھاکر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔دوسری طرف پولیس نے دعویٰ کیا کہ پشاور کے مصروف بازار صدر میں کے ایک کار پاکنگ میں تخریب کاری میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی کو قبضہ میں لے لیا گیا جس سے ساڑھے چار کلو وزنی دو اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا گیا پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان نے بتایا کہ گاڑی میں نصب ٹائم بم کا بروقت نہ پھٹنے سے وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے گاڑی سے دھواں اٹھتے دیکھکر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ انکے بقول بعد میں فائر بریگیڈ کو بلاکر آگ بجھائی گئی اور پولیس نے گاڑی سے دو ساڑھے چار کلو وزنی اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا۔فوج اور پولیس کے اہلکار لکی مروت کے راستے بنوں، میانوالی اور پشاور کی طرف جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لیتے رہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت کی درخواست پر صوبے کے جنوبی اضلاع میں تقریباً بارہ ہزار اضافی فوجیوں کو تعیبنات کیا گیا۔ تاکہ ان علاقوں میں طالبانائزیشن کا عمل روکا جاسکے۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیرستان میں متعدد چوکیاں تباہ کی گئی ہیں قبائلی جرگے نے شمالی وزیرستان میں قائم کردہ حفاظتی چوکیوں کے خاتمے تک مقامی طالبان سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا گیا۔پینتالیس رکنی جرگے میں شامل ملک قادر خان نے بتایاتھا کہ انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر سے ملاقات میں واضح کر دیا تھا کہ جب تک حکومت شمالی وزیرستان میں قائم چیک پوسٹوں کو نہیں ہٹاتی تب تک جرگہ طالبان سے مذاکرات کرنے شمالی وزیرستان نہیں جائے گا۔ملک قادر کے مطابق ’ہم گورنر سے کہا کہ پانچ ستمبر کے معاہدے کے مطابق حکومت نئی چیک پوسٹ قائم نہیں کر سکتی لیکن حکومت نے ایسا کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ان کے مطابق انہوں نے گورنر سے کہا کہ اس شرط کو قبول کیے بغیر وہ طالبان سے مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ طالبان کا واحد مطالبہ یہی ہے کہ چیک پوسٹوں کو ہٹایا جائے لہذٰا ایسی صورت میں جرگے کا واپس میران شاہ جانا بے فائدہ ہوگا۔ملک قادر کا کہنا تھا کہ گورنر نے کہا کہ چیک پوسٹیں ہٹانے کے سلسلے میں وہ بے بس ہیں لہذٰا جرگہ ویسے جا کر طالبان کو معاہدے کی بحالی پر رضامند کرے لیکن بقول ان کے جرگے نے گورنر کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ جرگے نے چیک پوسٹوں کو ہٹائے جانے پر غور کرنے کے لیے گورنر کو چار دن کی مہلت دی اور بقول ان کے اگر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی تو جرگہ امن معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا تھا۔ملک قادر خان نے بتایا کہ جرگے نے چیک پوسٹوں کو ہٹائے جانے پر غور کرنے کے لیے گورنر کو چار دن کی مہلت دی تھی اور بقول ان کے اگر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی تو جرگہ امن معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ پینتالیس رکنی جرگے نے میران شاہ میں اپنے چند روزہ قیام کے دوران مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعدپشاور میں گورنر سرحد کو ملاقات کے دوران صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا اور اسے پروگرام کے مطابق طالبان سے مذاکرات کرنے واپس میران شاہ جانا تھا۔پینتالیس رکنی جرگہ صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی کی سفارش پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے چار اراکینِ قومی اسمبلی مولانا نیک زمان، مولانا معراج الدین، مولانا صالح شاہ اور مولانا عبدالمالک کے علاوہ سابق سینیٹر متین شاہ بھی شامل تھے۔جرگے میں شمالی وزیرستان کے پندرہ، جنوبی وزیرستان کے آٹھ، خیبر ایجنسی کا ایک، ،اورکزئی ایجنسی اور جنڈولہ کے دودو، باجوڑ، پارہ چنار، بنوں اور پشاور کے تین تین قبائلی عمائدین شامل ہیں۔ امن جرگے کے انکار کے بعد شمالی وزیرستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان جاری جنگ بندی سے متعلق آخری امید بھی بظاہر دم توڑ گئی جس سے نہ صرف علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر مرتب ہونے کا خدشہ بلکہ قبائلی علاقے میں القاعدہ کے دوبارہ منظم اور شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق امریکہ کے اعلی حکومتی اہلکاروں کے خدشات دور کرنے کی حکومتی کوششیں بھی زائل ہوسکتی تھی۔قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور صوبہ سرحد کے ضلع کرک میں ہونے والے دو مختلف بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے تھے۔خیبر ایجنسی کے پولٹیکل انتطامیہ کا کہنا تھا ضلع پشاور سے متصل تحصیل جمرود کے علاقے وزیر ڈنڈ میں ایک زوردار بم دھماکہ ہوا تھاجس میں دو افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ جمرود کے تحصیلدار خالد کنڈی نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا تھاکہ بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کہیں جارہا تھا کہ حادثاتی طور پر اسکے جسم کے ساتھ بندھا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جسکے نتیجے میں حملہ آور سمیت ایک راہ گیر ہلاک ہو گیا انہوں نے مزید بتایا کہ مبینہ خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء کو تحویل میں لے لیا گیا جس جگہ دھماکہ ہوا اس سے تقریباً پچاس گز کے فاصلے پر خاصہ دار فورس کی ایک چوکی واقع ہے۔ دوسرا بم دھماکہ صوبہ سرحد کے ضلع کرک سے تقریباً چالیس کلومیٹر مغرب کی جانب بہادر خیل نامی گاو¿ں میں پاک فضائیہ کے سابق سکواڈن لیڈر کی رہائش گاہ کے سامنے ہوا جس میں دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکہ میں آتش گیر مادے کا استعمال کیا گیا ۔ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں مسلح قبائلیوں نے ایک مذہبی تنظیم کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ بند کر دی تھی اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا تھادوسری طرف پولیس نے پشاور کے علاقے شیخان میں ایک مزار پر حملے میں آٹھ افراد کو قتل کرنے کے جرم لشکر اسلام نامی مذہبی تنظیم کے امیر منگل باغ اور دیگر کارکنوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا مظاہرین کی قیادت کرنے والے خیبر امن کمیٹی کے صدر شاکر آفریدی کے مطابق حکومت کی موجودگی میں دن دہاڑے لشکر اسلام کے امیرمنگل باغ اور ان کے مسلح حامی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کی گاڑیاں چھین رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک مقامی انتظامیہ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرتی پاک افغان شاہراہ نہیں کھولی جائےگی۔ شاہراہ صبح دس بجے سے بند تھی جس کی وجہ سے افغانستان سے آنے جانے والی ہزاروں گاڑیاں شاہراہ کے دونوں جانب کھڑی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مذہبی تنظیم لشکر اسلام کے سینکڑوں کارکنوں نے شیخان گاو¿ں میں واقع بابا صاحب مزار پر حملہ کرکے نو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔ حملے میں لشکر اسلام کے ایک حامی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ شیخان گاو¿ں پشاور اور قبائلی علاقے باڑہ کے سنگم پر واقع ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مذہبی تنظیم لشکر اسلام اور کوکی خیل قبیلے کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی طے پاگئی تھی مقامی مشران کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھاجس میں دونوں فریقوں نے شرکت کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ کی کوششوں سے متحارب گروہوں کے مابین عارضی فائر بندی ہوگئی جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ادھر تحصیل جمرود میں جھڑپوں کے بعد بندوبستی علاقے میں پیدا شدہ صورتحال پر غوروغوض کےلیے فرنٹیر ہاو¿س پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا تھاجس کی صدارت وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کی۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے قبائلی علاقے میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ قبائلی علاقے کی اس آگ کو بندوبستی علاقے تک نہ پھیلنے دیا جائے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ایریا کے گرد مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کی منظوری دی اور حکم دیا کہ دیوار کی تعمیر پر مزید وقت ضائع کئے بغیر عملی کام شروع کیا جائے تاکہ رہائشی اور انڈسٹریل علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ خیبرایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ لڑائی کا سلسلہ عارضی طورپر بند ہے تاہم متحارب گروہ ایک بار پھر شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوگئے تھے انہوں نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس کے قریب بتائی سرکاری ذرائع کا کہنا تھاکہ سکیورٹی فورسز شاہ کس کے علاقے میں داخل ہوگئی تھی اور وہاں موجود لشکر اسلام کے مسلح حامیوں کے بنائے ہوئے مورچوں کے سامنے پوسٹیں بنانی شروع کردئیں تھیں۔ ادھر لشکر اسلام کے کمانڈر منگل باغ نے ایف ایم ریڈیو سے تقریر میں سکیورٹی فورسز کو شام تک علاقہ چھوڑ دینے کی مہلت دی یہ بھی اطلاعات تھیں کہ مذہبی تنظیم کی جانب سے دھمکیوں کے بعد باڑہ سب ڈویڑن میں تعینات زیادہ تر حاضہ دار اور لیوی اہلکار ڈیوٹیاں چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمرود تحصیل سے لائن افسر سمیت پندرہ خاصہ دار اہلکاروں کو بھی اغواءکیا دوسری طرف کشیدگی کی وجہ سے شاہ کس اور وزیر ڈھنڈ کے علاقوں سے مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی بھی کی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ شاہ کس سے ملحقہ پشاور کے علاقے حیات آباد سے بھی لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ حیات آ باد انڈسٹریل اسٹیٹ میں اسی کے قریب کارخانے بھی بند ہوگئے جبکہ متاثرہ علاقے میں تمام تجارتی مراکز اور بازاربند ہیں جبکہ جمرود تحصیل میں تمام تعلیمی ادارے اور نجی و سرکاری دفاتر بھی بند ہیں۔ خیبرایجنسی کے سنگم پر واقع پشاور شہر کا ایک بڑا تجارتی مرکز کارخانو مارکیٹ بھی کشیدگی کی وجہ سے مکمل طورپر بند ہے۔ خیبر ایجنسی میں شدت پسندی بڑھتی جا رہی ہے پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مقامی شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تیراہ کے دور دراز علاقے سنڈہ پال اور آس پاس کے گاو¿ں میں شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام اور انصار السلام کے مسلح حامیوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کرتے رہے جبکہ جنگ بندی کے سلسلے میں ابھی تک انتظامیہ اور نہ ہی قبائلی مشران کی جانب سے کسی قسم کے کوئی اقدامات کیے گئے اس سلسلے میں مقامی انتطامیہ سے بارہا رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ یہ جھڑپیں تحصیل باڑہ سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور ہوئیں جہاں پر رسائی انتہائی مشکل تھی۔ جس علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے مسلح حامیوں کے درمیان لڑائی ہوئی اسے انصار السلام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ لشکر اسلام کی کوشش تھی کہ تحصیل باڑہ کے بعد ان علاقوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ خیبر ایجنسی میں مبینہ طور پر سرگرم کئی مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے لڑائیاں جاری تھیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین سمیت عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت پشاور کے سنگم پر واقع اس قبائلی ایجنسی میں حکومتی عملداری تقریباً ختم ہوچکی تھی۔