عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم اور فاقوں پر مجبور ہیں
تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد
حکمران اتحاد میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے قومی پالیسی مرتب کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جسے جلد ہی منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے کی توقع ہے حکومت کو بندوق کی نوک پر معاملات حل کرنے کی بجائے قبائلی عمائدین سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کو ترجیح دینا ہو گی۔ غربت کے خاتمے اور امن وامان کیلئے حکمران اتحاد کو مل کر پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ جبکہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور معزول ججز کی بحالی تک ان کی جماعت وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی حکومت قومی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرے گی۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو ہر پتھر اور شجر کے پیچھے سے ایک مجاہد نکلے گا اور پوری پاکستانی قوم ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرے گی۔ عوام سے ووٹ لینے والے خطرات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بیرون ملک رہنے میں خیریت سمجھتے ہیں ملکی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے اور سازشی قوتیں حکومت کو آلہ کار بنا رہی ہیں اور ملک میں مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ امن و امان کی صورتحال ابتر ہے، علیحدگی پسند قوتیںامریکی و بھارتی پشت پناہی میں زور پکڑ رہی ہیں، قبائلی علاقوں اور سرحد میں منظم سازش کے تحت فساد کو ہوا دی جارہی ہے۔ مہنگائی کو مصنوعی طور پر بڑھایا جا رہاہے۔پٹرول،ڈیزل،بجلی، گیس، آٹے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف نیٹواورامریکی افواج افغان سرحد پر جمع ہورہی ہیں اور وہاں زمین دوزبنکر اور مورچے بنائے جارہے ہیں،دوسری طرف بھارت کشمیر بالخصوص وادی نیلم میں چھیڑچھاڑ کررہاہے۔ یہ صورتحال امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے دعویداروں اور جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کرکشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکی جنگ کے لیے پاکستان کو استعمال کیا جا رہاہے اور یہ و اضح ہوگیا ہے کہ حکمران قوم کے بجائے امریکی صف میں کھڑے ہیں۔اس خطرناک صورتحال میں ملک میں کوئی ایسی قیادت نہیں جو امید کا پیغام دے۔ 18فروری کو عوام سے ووٹ لینے والوں نے لندن اور دبئی کو اپنا مسکن بنا لیا ہے، اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بیرون ملک رہنے میں خیریت سمجھتے ہیںقوم کو امید کا پیغام دینا ہوگااور اندرون وبیرون ملک و قوم کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بنا کر اس پر عمل کرنا ہوگاجبکہ قا ضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو منظم کریں گے اور ساتھ دینے والی ہر قوت کا خیر مقدم کریں گے۔ اس کے لیے ایرانی اور چینی قیادت سے بھی رابطہ کیا جائے گا اس وقت ملک کو ایک امین اور بیدار قیادت کی ضرورت ہے پرویز مشرف سے نجات، ججوں کی بحالی،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی،مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف جدوجہد،امریکی جارحیت اور علیحدگی پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عوامی بیداری ضروری ہے۔ جبکہ امریکی صدر بش کے قریبی معاون نے کہا ہے کہ پا کستانی حکومت کی طرف سے امن معاہدے کر نے اور عسکر یت پسندوں کو ٹھکا نے دینے کی پیشکش سے انتہا ئی خو فنا ک منظر نا مہ بن رہا ہے ۔ دو ہزار چھ کے بعد پا کستان میں عسکر یت پسندی میں تین گنا اضافہ ہو اہے مگر حکومت اس کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ عسکر یت پسند ملک کو غیر مستحکم کر نا چاہتے ہیں ۔امریکی صدر کے معاون کا کہنا تھا کہ پا کستانی حکومت کی طرف سے عسکر یت پسندوں سے معاہدے کرنے اور انہیں محفوظ ٹھکا نے دینے کے جنو ن سے قبائلی علا قوں میں انتہا ئی خو فنا ک منظر نا مہ بن رہا ہے ۔ امریکی صدر بش کے معاون کا کہنا تھا کہ انہوں نے اوول آفس میں بہت قریب سے دیکھا ہے کہ امریکی پا لیسیا ں دس منٹ میں تبدیل ہو جا تی ہیں تاہم انہوں نے اس بارے میں کو ئی مثال پیش نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ پا کستانی حکومت جا رحا نہ انداز میں عسکر یت پسندوں کا پیچھا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے وہ اپنے اہداف کے حصول کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، ان کے منصوبے میں امر یکا میں نائن الیون سے زیادہ افراد کی ہلا کت شامل ہے ۔ امریکی انتظامیہ کی فہر ست میں القاعدہ ، فاٹا، ایٹمی ہتھیا روں کا پھیلا و¿ ، ایر ان کا جو ہر ی پر وگرام ، شما لی کو ریا کا نیوکلیئر ایشو اور اسرائیل فلسطین امن معاہدہ شامل ہے ۔ جبکہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں پر عسکریت پسندوں کی مدد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے جس کے ثبوت جلد پیش کریں گے۔ فاٹا کی پالیسی میں صدر کا گورنر کے ذریعے عمل دخل ہے ۔باڑہ آپریشن اے این پی کی قیادت کی درخواست اور شکایات پر کیا گیا ۔بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے عبدالحئی بلوچ اور اختر مینگل سمیت تمام بلوچ رہنماو¿ں سے رابطے ہیں فاٹا کی پالیسی میں صدر کا گورنر کے ذریعے عمل دخل ہے سیکورٹی ایجنسیوں پر عسکریت پسندوں کی مدد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ باڑہ آپریشن اے این پی کی قیادت کی درخواست اور شکایات پر کیا گیا۔ منگل باغ، نامدار اور محبوب الحق نے باڑہ کے حالات خراب کئے فاٹا میں اب حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اور اگست کے شروع میں جنوبی وزیرستان امن معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔مشیر داخلہ نے مزیدکہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں حالات پر سکون ہیں اور فاٹا کے مسائل جلد حل کر لیں گے۔ بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے عبدالحئی بلوچ اور اختر مینگل سمیت تمام بلوچ رہنماو¿ن سے رابطے ہیں ان کا کہنا تھا کہ براہمداغ بگٹی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے جس کے ثبوت جلد پیش کریں گے۔ افغانستان نے بھارتی ہائی کمیشن پر حملے کی تحقیقات کے بارے میں پاکستان کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بینک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے اور بہت جلد اچھی خبر ملے گی۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے حکومت کو اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے ان علاقوں میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو مستحکم کیا جائے گا ملک کی داخلی صورتحال کے بارے حکمران اتحاد کے غیر معمولی مشاورتی اجلاس فاٹا میں قیام امن کے لئے ممدو معاون ثابت ہو گا اور کئی معاملات میں پیش رفت ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ جمعرات کو قبائلی سینٹروں سے ملاقات میں کیا ملاقات میں وزیر اعظم نے قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لئے فاٹا کے شہروں کے لئے ایک ایک کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا ملاقات میں فاٹا میں قیام امن تعمیر و ترقی اور وسائل کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے فاٹا کی صورتحال کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے حکومت کو مفید تجاویز سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہو نے والے اس مشاورتی اجلاس کے فاٹا کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے قبائلی شہروں نے حکمران اتحاد کے اس اہم اجلاس میں ہو نے والے فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔ایسوسی ایٹد پریس سروس،اسلام آباد(اے پی ایس)
International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Thursday, July 24, 2008
امریکی کمپنی کے زیر انتظام بابل میں صدام حسین کے صدارتی محل میں جوا خانہ بنانے کی تجویز
بغداد ۔ عراق کی موجودہ حکومت سابق عراقی صدر صدام حسین کے بابل میں موجود “قصر صدارت” کو جوا خانے میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق عراقی پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق مجوزہ جوا خانہ امریکہ کمپنی چلائے گی۔ عراقی حکومت کے ترجمان روزنامے “الصباح” کے مطابق صوبے میں سرمایہ کاری کی کمیٹی نے علاقے میں سرمایہ کاری کے متعدد منصوبوں کا جائزہ لیا۔ مقامی حکومت کو یہ منصوبے دو امریکی اور روسی کمپنیوں کی طرف سے پیش کئے گئے تھے۔روزنامے میں صوبہ بابل کے گورنر سالم المسلماوی کی عرب اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو صدارتی محل میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی پیشکش شائع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین اپنے دور حکومت میں یہاں قیام کیا کرتے تھے۔ پیشکش میں کہا گیا ہے کہ دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اسے میوزیم، ہیلتھ کلب یا جوا خانہ بنا کرسرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بابل کے گورنر نے عراقی میڈیا رپورٹس کو بے بیناد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں قصر صدارت کو اتحادی افواج استعمال کر رہی ہیں، لہذا اسے کسی دوسرے مصرف میں لانے سے متعلق گفتگو خارج از امکان ہے۔العبیدی کا کہنا تھا کہ قصر صدارت کو ایک قومی میوزیم بنایا جا سکتا ہے، اور یہاں پر کانفرنس وغیرہ منعقد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ امریکی فوج کے حملے کے بعد یہاں کافی لوٹ مار ہوئی اور محل کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
پی سی او ججز اپنے خلاف نعرے سن لیں تو شائد خود ہی کام چھوڑ دیں، میرے سمیت کوئی جج نیا حلف نہیں لے گا۔ جسٹس خواجہ محمد شریف
لاہور ۔ لاہور ہائی کورٹ کے معزول جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ معزول جج وکلاء کی کمر میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔ کوئی جج نئی اپوائنٹمنٹ یا حلف نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ 14اگست کو پاکستان آزاد ہوا اور اب وکلاء استحکام پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے کی۔ جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ جج یا چیف جسٹس وہ ہوتا ہے جسے عوام تسلیم کریں۔ پی سی او ججز اگر اپنے خلاف لگنے والے نعرے سنیں تو شائد خود ہی گھر چلے جائیں۔ اگر کسی عہدہ میں عزت نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب استعفیٰ دینے سے انکار کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ عوام ان کو اتنی عزت دیں گے۔ کونسا لیڈر ایسا ہے جو 26گھنٹوں میں اسلام آباد سے لاہور پہنچا ہو۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے 9مارچ 2007ء کو عدلیہ کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ 14اگست کو پاکستان آزاد ہوا اور اب وکلاء استحکام پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں معزول ججوں کی بحالی سے کیا غریب عوام کو روٹی مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ان لوگوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے نہ ہی یہ مہنگائی اور امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جج بحال ہوئے تو یہ مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افواہیں معزول ججوں نے نیا حلف اٹھالیا ہے سب بکوا س ہے۔ ہم لوہے کی چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ میڈیا کو کوئی چیز بھی شائع یا نشر کرنے سے پہلے متعلقہ لوگوں سے رائے ضرور لے لینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میری اپنے ساتھی ججوں کے ساتھ بات ہوئی ہے ہم سب متحد ہیں اور کوئی بھی نئی اپوائنٹمنٹ یا حلف نہیں لے گا۔ ججوں سے زیادہ قربانیاں وکلاء نے دی ہیں۔ ہم اتنے بے غیرت نہیں کہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھ سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا جن لوگوں سے رابطہ کیا بھی گیا انہوں نے صاف انکار کردیا ہے۔ معزول جج وکلاء اور عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے
ملک بھر میں ٣٠٠ اعلیٰ شخصیات عسکریت پسند وں کی ہٹ لسٹ پر ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور اے این پی کی قیادت شامل
ان شخصیات میں پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور اے این پی کی قیادت سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات شامل ہیں
اسلام آباد ۔ ملک بھر میں 300اعلیٰ شخصیات عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر آ گئی ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان شخصیات کو خبر دار کر دیا ہے جو عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہیںایک انگریزی اخبار کے مطابق سی آئی ڈی کے چیف ڈی آئی جی سعود مرزا نے بتایا ہے کہ اس طرح کی خبریں درست ہیں اور مسلسل آ رہی ہیں جن کے مطابق ملک اعلیٰ شخصیات کی جان کو خطرہ ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے تمام خفیہ ادارے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی واقع کو روکا جا سکا ۔ جبکہ خفیہ اداروں کے انتہائی قریبی ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ میں شامل 300افراد میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کی قیادت بھی شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ طالبان مخالف مذہبی رہنما خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفیسران ، وزارت داخلہ کے حکام اور بعض صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شخصیات کے خاندان کے افراد بھی نشانہ بن سکتے ہیں اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کی قیادت کو پہلے بھی اس حوالے سے آگاہ کیا تھا جب کورکمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل احسن حیات پر حملے کے الزام میں جنداللہ کے اراکین کو گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے تفیتش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت بھی ان کی ہٹ لسٹ میں شامل ہے کیونکہ یہ امریکہ کے ایجنٹس ہیں۔
اسلام آباد ۔ ملک بھر میں 300اعلیٰ شخصیات عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر آ گئی ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان شخصیات کو خبر دار کر دیا ہے جو عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہیںایک انگریزی اخبار کے مطابق سی آئی ڈی کے چیف ڈی آئی جی سعود مرزا نے بتایا ہے کہ اس طرح کی خبریں درست ہیں اور مسلسل آ رہی ہیں جن کے مطابق ملک اعلیٰ شخصیات کی جان کو خطرہ ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے تمام خفیہ ادارے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی واقع کو روکا جا سکا ۔ جبکہ خفیہ اداروں کے انتہائی قریبی ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ میں شامل 300افراد میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کی قیادت بھی شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ طالبان مخالف مذہبی رہنما خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفیسران ، وزارت داخلہ کے حکام اور بعض صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شخصیات کے خاندان کے افراد بھی نشانہ بن سکتے ہیں اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کی قیادت کو پہلے بھی اس حوالے سے آگاہ کیا تھا جب کورکمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل احسن حیات پر حملے کے الزام میں جنداللہ کے اراکین کو گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے تفیتش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت بھی ان کی ہٹ لسٹ میں شامل ہے کیونکہ یہ امریکہ کے ایجنٹس ہیں۔
آپ جاننے کے حق دار ہیں” نیویارک میں ستمبر میں اسلام کے فروغ کی مہم چلائی جائے گی
نائن الیون کے موقع پراسلام کی تشہیری مہم پرانتہا پسند امریکیوں کے اعتراضات
نیویارک ۔ امریکا میں قائم ایک مسلم گروپ نے ستمبر میں نیویارک شہر کے سب وے پراسلام کی اشاعت کے لئے مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے. مہم مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک اورنائن الیون حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پر چلائی جائے گی. ”آپ جاننے کے حق دار ہیں” کے عنوان سے اشتہارات سب وے پر لگائے جائیں گے اور اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی بھی سوال کے جواب کے لئے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے رابطہ نمبر دئیے جائیں گے.گروپ میٹروپولیٹن ٹرانزٹ اتھارٹی ایم ٹی اے کو اشتہارات کی تشہیر کے لئے 48 ہزار ڈالرز ادا کر رہا ہے.اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی ویب سائٹ کے مطابق حلقہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی درست فہیم کو دوسروں تک احسن انداز میں پہنچانے اور اسلام کے بارے میں پھیلائے گئے بہت سے غلط تصورات کی وضاحت کے لئے کام کر رہا ہے.حلقے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسلام کی تشہیر کے اس منصوبے کے لئے متعدد بڑی اسلامی جماعتوں اور کمیونیٹز نے تعاون کیا ہے”. ری پبلکن پارٹی کے رکن کانگریس پیٹر کنگ نے ایم ٹی اے پر زور دیا ہے کہ وہ اس مہم کو منسوخ کر دے.ان کا موقف تھا کہ ”یہ اشتہارات خاص طور پراس لحاظ سے قابل اعتراض ہیں کہ انہیں گیارہ ستمبر کے حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پرسب ویز پرچلایا جائے گا حالانکہ سب ویزدہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے”.
نیویارک ۔ امریکا میں قائم ایک مسلم گروپ نے ستمبر میں نیویارک شہر کے سب وے پراسلام کی اشاعت کے لئے مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے. مہم مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک اورنائن الیون حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پر چلائی جائے گی. ”آپ جاننے کے حق دار ہیں” کے عنوان سے اشتہارات سب وے پر لگائے جائیں گے اور اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی بھی سوال کے جواب کے لئے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے رابطہ نمبر دئیے جائیں گے.گروپ میٹروپولیٹن ٹرانزٹ اتھارٹی ایم ٹی اے کو اشتہارات کی تشہیر کے لئے 48 ہزار ڈالرز ادا کر رہا ہے.اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی ویب سائٹ کے مطابق حلقہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی درست فہیم کو دوسروں تک احسن انداز میں پہنچانے اور اسلام کے بارے میں پھیلائے گئے بہت سے غلط تصورات کی وضاحت کے لئے کام کر رہا ہے.حلقے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسلام کی تشہیر کے اس منصوبے کے لئے متعدد بڑی اسلامی جماعتوں اور کمیونیٹز نے تعاون کیا ہے”. ری پبلکن پارٹی کے رکن کانگریس پیٹر کنگ نے ایم ٹی اے پر زور دیا ہے کہ وہ اس مہم کو منسوخ کر دے.ان کا موقف تھا کہ ”یہ اشتہارات خاص طور پراس لحاظ سے قابل اعتراض ہیں کہ انہیں گیارہ ستمبر کے حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پرسب ویز پرچلایا جائے گا حالانکہ سب ویزدہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے”.
نیب مستقل ادارہ ہے جیسے کوئی حکومت یا فرد ختم نہیں کر سکتا ، ایڈمرل ذکاء اللہ خان
راولپنڈی ۔ ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو راولپنڈی ریئر ایڈمرل محمد ذکاء اللہ خان نے واضح کیا ہے کہ نیب میں ایک مستقل ادارہ ہے جسے کوئی حکومت یافرد ختم نہیں کر سکتا نہ ہی کوئی اس کے اختیار ات سلب کر سکتا ہے یہ مکمل اختیارات اور پوری طاقت کے ساتھ کرپشن کے خلاف برسرپیکار ہے جس کا اصل ہدف سرکاری اداروں میں کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دہی کے کلچر کو جڑ سے اکھاڑنا ہے نیب سے بعض افراد کی ان کے محکموں کو واپسی بجٹ مسائل کی بنا پر کی گئی ہے ۔ عوام اور میڈیا حکومتی و سرکاری اداروں اور سول افراد کی میگا کرپشن کی نشاندہی کریں نیب مکمل تحفظ اور راز داری کے ساتھ فوری اور موثرکارروائی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز احتساب بیورو راولپنڈی میں میگا سکیورٹیز اور نظامی ٹاؤن کے مجموعی طور پر 461 متاثرین کی رقوم واپسی کے لیے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشن نیب ہیڈ کوارٹر کرنل شہزاد انور بھٹی ڈائریکٹر انوسٹی گیشن ونگ راولپنڈی کرنل نعیم اللہ ایڈیشنل ڈائریکٹر انوسٹی گیشن میجر (ر) برہان اور ڈپٹی پر اسیکوٹر جنرل نیب ذوالفقار بھٹہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔میگا سیکیورٹی کمپنی سکینڈل کے حوالے سے ڈی جی نیب نے کہا کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر علی کی قیادت میں شبانہ روز محنت کر کے اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز نے ذاتی مفاد کے لئے لوگوں کے شیئرز اور رقوم کو غیر قانونی طور پر نہ صرف کراچی اور لاہور کی سٹاک ایکسچینز میں لگایا بلکہ کھاتہ داروں کے علم میں لائے بغیر کمپنی کا نقصان پورا کرنے کے لئے ان کے شیئرز بیچ دیئے ۔ تحقیقات کے دوران کمپنی کے ڈائریکٹر ز کو گرفتار کر کے ان کی جائیداد کو منجمد کروایا تاکہ لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کا بندوبست کیا جا سکے ۔ اس دوران ایک ڈائریکٹر نے اپنے حصے کے دو کروڑ روپے سے زائد واپس کرنے کا عندیہ دیا اور 70 لاکھ کی پہلی قسط جمع کروانے پر جیل سے رہائی پائی ۔ جس کے بعد اس نے باقی ماندہ دو اقساط وقت پر جمع نہ کرائیں ۔ جس پر قانون کارروائی کر کے اس کی اور اس کے خاندان کی جائیداد نیلام کی جا رہی ہے ۔ کمپنی کے دو ملازمین سے بھی 572000 روپے وصول کئے گئے ۔ باقی تین ڈائریکٹروں کے خلاف کیس احتساب عدالت میں تیزی سے زیر سماعت ہے اور انشاء اللہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں باقی ماندہ رقم بھی حاصل کر لی جائے گی ۔ اب تک تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ روپے متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں اور آج تقریباً 77 لاکھ روپے 461 متاثرین میں تقسیم کئے جا رہے ہیں جن میں سے 44 متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقم ادا کی جائے گی اور باقی ماندہ 337 متاثرین کو 12 فیصد کے حساب سے جزوی ادائیگی کی جا رہی ہے اس کے بعد میگا سیکیورٹیز کی اسلام آباد سٹاک ایکسچینج میں سیٹ اور اس کے بچے کچے اثاثے بیچ کر اور ایک ڈائریکٹر جو کہ ڈیفالٹر ہے اس کے جائیداد کو نیلام عام کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہو گی وہ تمام متاثرین کو ادا کر دی جائے گی ۔ کیس کی سماعت بھی تیزی سے جاری ہے اور کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈائریکٹرز سے باقی ماندہ رقم بھی وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کر دی جائے گی ۔ نظامی ٹاؤن سکینڈل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نظامی ٹاؤن راولپنڈی کے متاثرین کی رقم ان کو لوٹا رہے ہیں اس ٹاؤن کا منصوبہ اخبار فروش ویلفیئر ٹرسٹ راولپنڈی کی انتظامیہ نے بنایا اور سال 1993 اور اس کے بعد غریب اخبار فروشوں اور عام لوگوں سے پیسے بٹورے متاثرین سال ہا سال کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود داد رسی حاصل نہ کر سکے ۔ سال 2007 میں نیب راولپنڈی کی مداخلت اور سرتوڑ کوششوں سے سوسائٹی کا سابقہ سیکرٹری آفتاب احمد عباسی متاثرین کی لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے پر آمادہ ہوا اس کے نتیجے میں متاثرین کی تمام رقم ماہ ستمبر 2008ء تک تین اقساط میں وصول ہو جائے گی۔ پہلی قسط آج 13متاثرین میں تقسیم کی جا رہی ہے،بقایا تمام رقم انشااللہ ستمبر 2008ء تک تقسیم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم بحیثیت ایک دور اندیش قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنا سرمایہ لگاتے وقت خوب چھان پھٹک کریں اور لالچ میں آ کر اپنا پیسہ خود اپنے ہاتھوں ضائع نہ کریں میں متعلقہ اداروں سے بھی امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں بطریقہ احسن نبھائیں گے اور لیٹروں پر نظر رکھیں گے تاکہ غریب عوام کا پیسہ لوٹا نہ جا سکے۔ بعد ازاں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد زکاء اللہ خان نے کہا کہ نیب کے ملک بھر کے دفاتر میں نظام وضع کیا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے چھوٹی ترین آپشن بارے موصول ہونے والی شکایات پر ہفتہ وار اجلاسوں میں کارروائی کوحتمی شکل دی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف نیب تنہا سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پبلک سروس ، نجی شعبہ ، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندے مل کر کرپشن کے خلاف جہاد میں آگے نکلیں جبکہ اس حوالے سے میڈیا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔ ہمارا مقصد پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تا کہ نئی نسل کو بہتر پاکستان دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دیانتداری کا راستہ ہیروشن صبح کی دلیل ہے جبکہ دنیا کا ہر وزیر بھی دیانتداری کا ہی درس دیتا ہے لہذا ضروری ہے کہ قوم کاہرفرد ہمیشہ زرق حلال کمانے کھانے اور اپنے اہل خانہ کو دینے پر توجہ صرف کرے
امریکی جزیر ہ گوانگ میں فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ ، تمام اہلکار ہلاک
واشنگٹن ۔ جزیرہ گوانگ کے قریب امریکی فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس سے عملے کے تمام اہلکار ہلاک ہو گئے حکام نے طیارے میں سوار امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو لاشیوں کی شناخت کر لی کی گئی ہے جبکہ باقی لاشوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے تباہ ہونے والا طیارہ تربیتی پروازپر تھا۔ چندروز پہلے بھی گورنگ کے قریب امریکی بمبار طیارہ بی52. گر کر تباہ ہو گیا تھا
مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بٹہ مالو میں بم دھماکہ ، ایک خاتون سمیت ٥ افراد ہلاک، ١٨ زخمی
سری نگر۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے بٹہ مالو علاقے میں ایک دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلا ک اور 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکہ ایک بس اسٹینڈ کے قریب ہوا ہے جس میں تین لوگوں کی جائے وقوعہ پر ہی موت ہوئی گئی جبکہ دو لوگوں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ مرنے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ پولیس ترجمان ڈی ایس پی شیخ فیصل نے بتایا کہ جمعرات کو دوپہربارہ بجکر پندرہ منٹ پر مصروف تجارتی علاقہ بٹہ مالو میں واقع سی آر پی ایف کی ایک چوکی پر گرینیڈ داغا جو نشانہ چوک کر سڑک پر پھٹ گیا۔فیصل کے مطابق دھماکہ کی زد میں چار غیر کشمیری پھیری والے اور ایک مقامی شہری غلام قادر ہلاک ہوگئے جبکہ کسی بھی فورسز اہلکار کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو علاج معالجہ کے لئے سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔اس ہفتے میں یہ دوسرا بم دھماکہ ہے جس میں عام راہگیر زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل بیس جولائی کو شمالی کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ میں ایک بم دھماکہ ہوا جس میں ایک مقامی گھوڑا بان اور ایک غیر کشمیری سیاح ہلاک ہوگئے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے وادی کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور تصادم آرائی کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ مقای حکام کا کہنا ہے کہ زیرزمینعسکریت پسندوں نے الیکشن سے قبل تشدد میں اضافہ کرنے کے لئے اس طرح کی کاروائیوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ واضح رہے جموں کشمیر میں حالیہ دنوں مخلوط حکومت گر جانے کے بعد فی الوقت گورنر راج نافذ ہے اور اسمبلی انتخابات نومبر میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع
گزشتہ بارہ روز میں تیل کی قیمت میں فی بیرل 30 ڈالر کمی ہوئی
نیویارک ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ بلندی کے بعد نیچے آنا شروع ہوگئی ہے اور گزشتہ بارہ روز میں تیل کی قیمت میں فی بیرل تیئس ڈالر کمی ہوئی ہے۔تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد امریکی معیشت میں سستی آنے کی وجہ سے تیل کی ڈیمانڈ میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گیارہ جولائی 2008 کو ایک بیرل تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر تھی جو عالمی منڈی میں تیل کی سب سے زیادہ قیمت تھی۔ گیارہ جولائی کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور بارہ روز میں تیئس ڈالر فی بیرل کمی واقع ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق تیئس ڈالر فی بیرل کی کمی بھی ایک ریکارڈ ہے اور اس سے پہلے تیل کی قیمت کبھی اتنی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور رواں ہفتے تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔2003 ء کے بعد تیل کی قیمت میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ 2003 ء میں عراق پر امریکی حملے کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیس ڈالر فی بیرل تھی۔ مئی 2007 ء میں ایک بیرل تیل کی قیمت پینسٹھ ڈالر تھی جو جولائی دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر ایک سو سینتالیس ڈالر ہو گئی تھی۔تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا موقف ہے کہ سٹے بازوں اور کمزورامریکی ڈالر کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ البتہ عالمی ادارے ادارے گولڈمین سیکسس کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے اگلے دو سال کے اندر تیل کی قیمت دو سو ڈالر ہو سکتی ہے۔ گولڈمین سیکسس تین سال قبل جب تیل کی قیمت پچپن ڈالر تھی پیشنگوئی کی تھی کہ یہ بڑھ کر ایک سو ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی اور اس سال جنوری میں ان کی بات درست ثابت ہوئی۔
نیویارک ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ بلندی کے بعد نیچے آنا شروع ہوگئی ہے اور گزشتہ بارہ روز میں تیل کی قیمت میں فی بیرل تیئس ڈالر کمی ہوئی ہے۔تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد امریکی معیشت میں سستی آنے کی وجہ سے تیل کی ڈیمانڈ میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گیارہ جولائی 2008 کو ایک بیرل تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر تھی جو عالمی منڈی میں تیل کی سب سے زیادہ قیمت تھی۔ گیارہ جولائی کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور بارہ روز میں تیئس ڈالر فی بیرل کمی واقع ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق تیئس ڈالر فی بیرل کی کمی بھی ایک ریکارڈ ہے اور اس سے پہلے تیل کی قیمت کبھی اتنی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور رواں ہفتے تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔2003 ء کے بعد تیل کی قیمت میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ 2003 ء میں عراق پر امریکی حملے کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیس ڈالر فی بیرل تھی۔ مئی 2007 ء میں ایک بیرل تیل کی قیمت پینسٹھ ڈالر تھی جو جولائی دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر ایک سو سینتالیس ڈالر ہو گئی تھی۔تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا موقف ہے کہ سٹے بازوں اور کمزورامریکی ڈالر کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ البتہ عالمی ادارے ادارے گولڈمین سیکسس کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے اگلے دو سال کے اندر تیل کی قیمت دو سو ڈالر ہو سکتی ہے۔ گولڈمین سیکسس تین سال قبل جب تیل کی قیمت پچپن ڈالر تھی پیشنگوئی کی تھی کہ یہ بڑھ کر ایک سو ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی اور اس سال جنوری میں ان کی بات درست ثابت ہوئی۔
شمالی جاپان میں شدید زلزلہ ، ١١٠ سے زائد افراد زخمی
لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث ٣ کاریں مٹی تلے دب گئیں
ٹوکیو ۔ جاپان کے شمالی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے باعث کم از کم ١١٠ افراد زخمی ہو گئے۔ جبکہ لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث تین کاریں مٹی تلے دب گئیں۔ جاپان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.8 ریکارڈ کی گئی حکام کے مطابق شمالی جزیرے ہائشو میں ١١٠ سے زائد افراد زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب شدید زلزلے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں تین کاریں مٹی تلے دب گئیں۔ زلزلے کے بعد وزیر اعظم کے گھر کے باہر سپیشل ٹاسک فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
ٹوکیو ۔ جاپان کے شمالی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے باعث کم از کم ١١٠ افراد زخمی ہو گئے۔ جبکہ لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث تین کاریں مٹی تلے دب گئیں۔ جاپان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.8 ریکارڈ کی گئی حکام کے مطابق شمالی جزیرے ہائشو میں ١١٠ سے زائد افراد زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب شدید زلزلے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں تین کاریں مٹی تلے دب گئیں۔ زلزلے کے بعد وزیر اعظم کے گھر کے باہر سپیشل ٹاسک فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا، اوباما کی ہرزہ سرائی
حتمی فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو کرنا ہو گا یہ امریکہ کا منصب نہیں کہ وہ اصرار کرے ، صحافیوں سے گفتگو
صدروت۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار براک اوباما نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کا حتمی فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو کرناہو گا اور یہ امریکہ کا منصب نہیں ہے کہ وہ یہ بات منوانے کے لیے اصرار کرے۔ اوباما نے یہ بات اسرائیل کے قصبے صدروت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ یہ قصبہ غزا کے فلسطینی عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔اس سے قبل اوباما نے مغربی کنارے کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ انھوں نے یروشلم میں اسرائیلی صدر ایہود اولمرت، صدر شمعون پیریز اوراسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما بنجمن نیتن یاہو سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی۔مغربی کنارے کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ سینیٹر براک اوباما کی ایک گھنٹے کی ملاقات کے دوران سینکڑوں فلسطینی سیکیورٹی عہدے دار سڑکوں پر موجود رہے۔صدر عباس کے ایک مشیر صائب ارکات نے صحافیوںکو بتایا کہ سینیٹر اوباما نے کہا ہے کہ وہ امن معاہدے کو آگے بڑھانے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کریں گے کیونکہ یہ امریکہ کے انتہائی مفاد میں ہے۔ امریکی ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے سینیٹر اوباما کے صدارتی حریف سینیٹر جان میک کین نے مارچ میں اسرائیل کے دورے کے دوران فلسطینی راہنماؤں کے ساتھ ملاقات نہیں کی تھی۔
صدروت۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار براک اوباما نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کا حتمی فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو کرناہو گا اور یہ امریکہ کا منصب نہیں ہے کہ وہ یہ بات منوانے کے لیے اصرار کرے۔ اوباما نے یہ بات اسرائیل کے قصبے صدروت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ یہ قصبہ غزا کے فلسطینی عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔اس سے قبل اوباما نے مغربی کنارے کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ انھوں نے یروشلم میں اسرائیلی صدر ایہود اولمرت، صدر شمعون پیریز اوراسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما بنجمن نیتن یاہو سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی۔مغربی کنارے کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ سینیٹر براک اوباما کی ایک گھنٹے کی ملاقات کے دوران سینکڑوں فلسطینی سیکیورٹی عہدے دار سڑکوں پر موجود رہے۔صدر عباس کے ایک مشیر صائب ارکات نے صحافیوںکو بتایا کہ سینیٹر اوباما نے کہا ہے کہ وہ امن معاہدے کو آگے بڑھانے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کریں گے کیونکہ یہ امریکہ کے انتہائی مفاد میں ہے۔ امریکی ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے سینیٹر اوباما کے صدارتی حریف سینیٹر جان میک کین نے مارچ میں اسرائیل کے دورے کے دوران فلسطینی راہنماؤں کے ساتھ ملاقات نہیں کی تھی۔
جی الیون ٹو کے گیسٹ ہا ئوس میں کو ئی غیر اخلاقی حرکت نہیں ہو تی، اہلیان جی الیون ٹو
اسلام آباد ( اے پی ایس)۔۔۔ جی الیون ٹو کے رہا ئیشوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جی الیون ٹو کے گیسٹ ہا ئوس میں کو ئی غیر اخلاقی حرکت نہیں ہوئی یہ بات انہوں نے گز شتہ روز مقامی دو اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کے رد عمل میں کہی۔ خبر میں مذ کورہ گیسٹ ہائو س خان ہائوس کا ذ کر کیا گیا تھا اہلیان جی الیون ٹو نے کہا ہے کہ ان خبروں میں کو ئی صداقت نہیں حقائق کو توڑ موڑ کر شائع کیا گیا ہے اور پیشہ وارانہ فرائض کو سامنے نہ ر کھتے ہوئے مذ کورہ گیسٹ ہائوس اور اس کے مالک مثل خان کی شہرت خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ گیسٹ ہائوس کے مالک مثل خان نے بھی کہا ہے کہ مجھ پر لگائے گئے الزام بالکل بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔
Coalition partners meeting reviews security in tribal areas, Swat, NWFP

ISLAMABAD:A meeting of the government’s coalition partners agreed on Wednesday that parliament will discuss the formation of a national policy to mobilize public support for a greater national consensus on Pakistan’s battle against extremism and militancy. The meeting chaired by Prime Minister Yousuf Raza Gilani was held to review in detail the security situation in the tribal areas, Swat and NWFP.
The meeting was attended by the coalition partners Senator Asif Ali Zardari Co-Chairman PPP, Mian Muhammad Shahbaz Sharif Chief Minister Punjab, Maulana Fazal-ur-Rehman, JUI Chief, Asfandyar Wali President ANP, Owais Ahmed Ghani Governor NWFP, Amir Haider Khan Hoti Chief Minister NWFP, Sherry Rehman Minister for Information and Broadcasting, Najimuddin Khan Minister for SAFRON, Rehman A. Malik Adviser to the Prime Minister on Interior, Gen. Ashfaq Parvez Kiyani Chief of the Army Staff, Lt. Gen. Nadeem Taj Director General ISI and Shoaib Suddal, Director General Intelligence Bureau.
There was a clear consensus that the situation warrants the evolution of long-term policies across-the-board with the support of all political partners, said a statement issued after the meeting.
The meeting noted that Pakistan’s national security and internal stability is paramount and that no one will be allowed to challenge the writ of the state.
“It was also agreed in principle that in order to mobilize public support for a greater national consensus on Pakistan’s battle against extremism and militancy, parliament will discuss the formation of a national policy to address this issue,” the statement said.
Greater cooperation between federal and provincial governments was also stressed, while the strengthening of civilian law enforcing agencies was emphasized.
To pursue the objective of making the inhabitants of the affected areas into stakeholders for a durable peace, the committee decided to increase investments in education, employment, development and infrastructure.
The main thrust of the coalition partners’ multi-pronged strategy to counter the challenge of extremism will be political engagement of the people.
The coalition partners also reiterated that Pakistan’s territory will not be used for terrorist attacks, nor will attacks from external forces on Pakistan’s sovereign soil be tolerated.
PM, Zardari meet economic team to discuss curbing inflation

ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani and the Co-Chairman PPP, Asif Ali Zardari, had a meeting with the economic team on Wednesday to discuss the current economic scenario prevailing in the country. The team included Finance Minister, Syed Naveed Qamar, Special Assistant to the Prime Minister on Finance, Ms. Hina Rabbani Khar, Governor State Bank Ms. Shamshad Akhtar and, Convener Economic Advisory Council, Shaukat Tareen.
The meeting discussed in detail the effects of the recent price hike and starting of various programmes to protect the poor from the inflationary effects of the fuel and gas prices increase.
The Prime Minister advised the economic team to follow policies that discouraged imports of luxury items and simultaneously plan pro-poor measures for any further prices increase in future.
The Prime Minister also advised the economic team to look into curbing inflation at all costs.
During the meeting it was also discussed as how the present government was forced to take very difficult decisions of passing petroleum prices increase to the people due to the previous government’s lack of action.
Musharraf, Gen Tariq Majeed discuss national security

ISLAMABAD: Chairman Joint Chiefs of Staff Committee General Tariq Majeed Wednesday called on President Pervez Musharraf and discussed with him security situation in the country. General Majeed briefed the President about important regional developments that have impact on national security.
President Musharraf said efforts were being made for ensuring the country’s armed forces be adequately equipped with resources to face the challenges.
Wednesday, July 23, 2008
حکمراں اتحاد کو گھربھیجنے کا خدشہ ۔۔۔ اے پی ایس ، اسلام آباد
پاکستان میں حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کو درپیش شدت پسندی اور امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قومی پالیسی تیار کرے گی۔ اور مذاکرات کے ذریعے شدت پسندی کا حل تلاش کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ وزیر اعظم ہاوس میں تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی۔ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان جن میں پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی اور جمعیت علماءاسلام کے مولانا فضل الرحمان شامل تھے البتہ نواز شریف کی نمائندگی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کی۔ ان کے علاوہ گورنر و وزیر اعلیٰ سرحد، وفاقی وزراء اور مشیر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس کے ابتدا میں قبائلی علاقوں اور سرحد کے حکام نے شرکاءکو صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی اس میں شریک ہوئے۔ اتحادی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ شدت پسندی کے مقابلہ کے لیے کثیرالجہتی پالیسی کا اہم حصہ عوام کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانا ہوگا۔ ’اتحادی جماعتوں نے اس پر بھی اتفاق کیا کہ سرزمین پاکستان کو کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی غیرملکی فورسز کا پاکستانی سرزمین پر حملہ برداشت کیا جائے گا۔‘ ملک میں اندرونی معاملات، امن و امان ہو یا خارجہ پالیسی، ان کو پارلیمان میں زیر بحث لایا جائے ۔’پارلیمان کے فیصلوں کے پیش نظر ہمیں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا ہوں گی۔ ضروری قرار دیا گیا کہ مذاکرات جو ہو رہے ہیں یہ بہتر عمل ہے۔ یہ ملک کی داخلی ضرورت ہے اسے آگے بڑھایا جائے۔ معاہدات پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔‘ بین الاقوامی طاقتوں کو یہ ماننا ہوگا کہ اگر ان کے مفادات ہیں تو پاکستان کے اپنے مفادات بھی ہیں۔ اجلاس خصوصی طور پر امن و امان سے متعلق تھا جس کو طلب کیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور ایک مشترکہ پالیسی طے کرنا بتایا تھا۔ وزیر اعظم کے چھبیس جولائی سے شروع ہونے والے دورہ امریکہ سے پہلے حزب اختلاف کی تجویز پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تو طلب نہیں کیا گیا تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کم از کم اتحادیوں کی سطح پر قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ادھر چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے ایک ملاقات میں امن و امان کی صورتحال پر بات کی ہے۔ جنرل طارق نے صدر کو علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا ہے جس کا ملک پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکمران اتحاد کے سربراہی اجلاس سے قبل اس بارے میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماو¿ں کا اجلاس پارٹی کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی صدارت میںاسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق ، مخدوم جاوید ہاشمی ، پیر صابر شاہ، سر انجام خان اور احسن اقبال کے شرکت کی صوبہ سرحد ، فاٹا اور بلوچستان کی صورتحال اور اہم سیاسی ایشوز پر غور کیا گیا اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا اتحادی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں اس بات کا مطالبہ کیا جائے کہ صوبہ سرحد فاٹا بلوچستان کے کسی بھی معاملے میں فوجی ایڈیشن سے گریڈ کیا جائے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے گا اور اس ایشو کے حوالے سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب، قومی موقف اختیار کیا جائے اتحادی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے حوالے سے میاں محمد شہباز شریف کے پارٹی کے قائداور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی رابطہ کیا اور ان سے سربراہی اجلاس سے متعلق تفصیلی بات چیت کی اور اہم سیاسی ایشوز پر مشاورت کی ہے۔جبکہ وفاقی حکومت نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں تعینات ہونے والے ٹیکس اکھٹا کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آر کے سربراہ عبداللہ یوسف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ عبداللہ یوسف اپنی سرکاری ملازمت کی تکمیل پر گزشتہ دو برس سے کانٹریکٹ کے تحت گریڈ اکیس میں یہ فرائص انجام دے رہے تھے۔ ان کی جگہ ریونیو ڈویڑن کے سیکرٹری احمد وقار کو ایف بی آر کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین سابق حکومت کی اقتصادی ٹیم کے دوسرے اہم رکن تھے جنہیں موجودہ حکومت نے تبدیل کیا ہے۔ ان سے پہلے سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو مستعفی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے تبدیل کر کے فرخ قیوم کو ان کی جگہ تعینات کیا تھا۔ سابق حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر شدید تنقید کے باوجود اسی ٹیم کے ساتھ اقتصادی معاملات چلانے پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی حکومت کو بعض حلقوں، بلخصوص سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر اقتصادی امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور عبدللہ یوسف کا اس ضمن میں خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ ہر آنے والی حکومت اپنی مرضی کے بیوروکریٹ کلیدی عہدوں، خاص طور پر وزارت خزانہ اور اس سے متعلقہ محکموں میں تعینات کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے ابھی تک بیوروکریسی میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ عبدللہ یوسف پرویز مشرف کے نو سالہ دور میں مختلف اہم وزارتوں کے انچارج رہے ہیں۔ تاہم انہیں اپنے آخری عہدے، چیئرمین ایف بی آر کی حیثیت سے پہلی بار کارکردگی کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس برس ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہاہے کہ پرویز مشرف کو فوری طور پر گھر نہ بھیجا گیا تو وہ ہمیں گھر بھیج دیں گے ۔ ملک میں اس لیے بار بار آئین ٹوٹتا اور فوجی مداخلت ہوتی ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والے آمر کا محاسبہ نہیں کیا جاتا ۔ جب تک ایک آمر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجاجائے گاملک میں آئین ٹوٹتا رہے گا اور جمہوریت پر شب خون مارنے کا سلسلہ جاری رہے گا حکمران اتحاد وعدے کے مطابق اتبدائی 30 دنوں میں ججز کو بحال کرتے ہوئے پرویزمشرف کا مواخذہ کر کے گھر بھیج دیتا تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو چکے ہوتے کسی بھی ادارے کو ملک و قوم کے مفاد کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے فوج محب وطن قومی ادارہ ہے مگر پرویز مشرف نے اس ادارے کی ساکھ کو بھی زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس(اے پی ایس) اسلام آباد
گمشدہ حکمراں ،گمشدہ افراد کو بازیاب کیسے کروائیں .... تحریر : چودھری احسن پریمی، اے پی ایس اسلام آباد
جمہوریت کا بنیادی اصول ہے کہ اقتدار کی تقسیم ہونی چاہیے یہ ریاست کے کسی ایک ادارے میں مجتمع نہیں نہیں ہونا چاہیے۔ وہ عدالتیں مقننہ سے علیحدہ اور آزاد ہونی چا ہیے اور وہ حکومت کے غیر قانونی احکام کے خلاف فیصلہ دینے کی مجاز ہوں وہ اس بات کی اہل ہوں کہ حکومت ( انتظامیہ ) کے خلاف فیصلہ دے سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے حکام معاشرے میں افراد کے حقوق کے تحفظ اور خدمات پر مامور ہوتے ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہیں۔ انہیں طاقت کے استعمال سے پہلے جذبہ خدمت کو بروئے کار لانا چاہیے۔ جب وہ اپنے مخصوص مفادات کیلئے اپنے عہدے کا نا جائز استعمال کرتے ہیں یا بعض صورتوں میں ریاست کے مقاصد کیلئے طاقت کا استعمال کرتے ہیں تو وہ قابل قبول اور طے شدہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔وہ بین ا لاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان لوگوں کو ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔جن کی حفاظت کی انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہوتی ہے۔ جبری گمشد گیوں کو روکنے ، ختم کرنے، اور جبری گمشدگیوں کار وائیوں پر سزا دینے کیلئے موثر قانونی،انتطامی،عدالتی، یا دوسرے اقدامات کرے عالمی کانفرنس برائے انسانی حقوق اس بات کی تجدید نو کرتی ہے کہ تمام ریاستوں کا فرض ہے کہ چاہے جو بھی حالات ہوں اس بات کی تفتیش کریں،جب کبھی اس بات پر یقین کرنے کا سبب موجود ہو کہ ایسے علاقے میں جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا ہے جو ان کی حدود میں واقع ہے اور اگر الزامات کی تصدیق ہوجائے تو اس کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ حکومت اگر اپنے کار ندوں اور ایجنسیوں کے اندر قانون کا نفاذ نہ کرسکے تو عام شہریوں پر قانون کے نفاذ کی ان سے کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی نئی حکومت سے کہا ہے کہ ان سینکڑوں افراد کے بارے معلومات فراہم کی جائیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ایمنسٹی نے کہا ہے کہ یا تو ان کو رہا کیا جائے ورنہ ان کو باضابطہ سرکاری قید خانوں میں منتقل کیا جائے۔ جن کو ز بردستی لے جایا گیا ہے اور اس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں معزول ججوں کو بحال کیا جائے اس ادارے کی ایشیاء پیسیفک شاخ کے ڈائریکٹر سلیم ظریفی نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا اصرار ہے کہ ان کی مخلوظ حکومت حقوق انسانی کا پاس کرے گی اس لیے ہمارا اصرار ہے کہ ان زبردستی کی گمشدگیوں کا معاملہ جلد از جلد حل کریں۔ ایمنسٹی انٹرنشینل نے لاپتہ افراد کے بارے میں اس رپورٹ کے اجر کے موقع پر ان افراد کے لواحقین کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومین آف رائٹس گروپ کی ایک رہنما آمنہ مسعود جنجوعہ کو پاکستان کے لیے اپنا اعزازی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ ایمنسٹی رپورٹ کا آغاز ہی آمنہ مسعود کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ ہمارلے لیے آزاد ججوں کی بحالی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے مجھے یقین ہے کہ میرے شوہر مسعود کو میرے گھر سے صرف تین کلو میٹر دور رکھا گیا ہے لیکن میں، میرے بچے اوران بچوں کے دادا، دادی نہ تو مسعود کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح کے بہیمانہ حالات سے گزر رہے ہوں گے ۔ نئی حکومت کو فوری طور پر ایسے تمام لوگوںکو بازیاب کرنا چاہیے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومین رائٹس اس وقت پانچ سو تریسٹہ غائب افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ میں کوئی سماعت نہیں ہوئی اور یوں یہ مسئلہ بھی ججوں کی بحالی کے معاملے کے ساتھ خود بخود نتھی ہو گیا۔ ڈیفنس آف ہیومین رائٹس کے مطابق تین نومبر کو ججوں کی برطرفی کے بعد سے اب تک لاپتہ افراد کے ساٹھ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ بلوچستان سے ہے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق بلوچستان میں چھ سو کے لگ بھگ لوگ لاپتہ ہیں۔ بلوچ تنظیمیں لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتاتی ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِ اعلی نواب اسلم رئیسانی ان افراد کی تعداد نو سو سے زائد کہتے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2006ء میں شہریوں کو جبری طور پر غائب کرنے کے خلاف جو کنونشن منظور کیا اس پر بہتر ممالک دستخط کر چکے ہیں اور چار ممالک نے توثیق کر دی ہے۔ پاکستان نے تاحال اس کنونشن کو تسلیم نہیں کیا۔ امریکہ بھی شریک دھشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی ممالک بالخصوص امریکہ انسانی حقوق کی کھلی پامالی کو نظرانداز کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔ کئی لاپتہ پاکستانی شہریوں نے بازیابی کے بعد بتایا کہ دورانِ حراست ان سے کئی غیرملکی انٹیلی جینس ایجنٹوں نے بھی پوچھ گچھ کی۔ لہذا ان ممالک کی حکومتیں یہ دعویٰ نہیں کرسکتیں کہ انہیں لاپتہ افراد کے حالات کا علم نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق دھشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی ممالک بالخصوص امریکہ انسانی حقوق کی کھلی پامالی کو نظرانداز کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔ کئی لاپتہ پاکستانی شہریوں نے بازیابی کے بعد بتایا کہ دورانِ حراست ان سے کئی غیرملکی انٹیلی جینس ایجنٹوں نے بھی پوچھ گچھ کی۔ لہذا ان ممالک کی حکومتیں یہ دعویٰ نہیں کرسکتیں کہ انہیں لاپتہ افراد کے حالات کا علم نہیں ہے۔ اس کے باوجود صدر پرویز مشرف متعدد مرتبہ ایمنسٹی کی رپورٹوں کو پوری طرح مسترد کرچکے ہیں۔گزشتہ برس مارچ میں پاکستانی صدر نے اس بات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا کہ سینکڑوں لاپتہ افراد انٹیلی جینس ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ بقول صدر مشرف انہیں یقین ہے کہ یہ افراد شدت پسند تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں۔ جہاں تک لاپتہ افراد کے معاملے میں نئی حکومت کی دلچسپی کا سوال ہے تو ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔وزیرِ قانون فاروق نائیک نے بھی اسی طرح کی یقین دہانی کراتے ہوئے وعدہ کیا کہ لاپتہ افراد جلد رہا ہوجائیں گے۔جبکہ بلوچستان کے نو منتخب وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی نے بھی یقین دلایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس سال مئی میں نئی حکومت نے بلوچستان میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ تاہم آج تک اس کمیشن کے ارکان، اختیارات اور تحقیقاتی دائرہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔اسی دوران وزارتِ داخلہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ارکانِ پارلیمان پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ۔ تاحال اس کمیٹی کے بھی صرف دو اجلاس ہوئے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کمیٹی کا دائرہ کار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چشم دیدگواہوں اور بازیاب افراد کے بیانات کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد میں بچے بھی شامل ہیں اور ایجنسیاں ان بچوں کو اپنے عزیزوں کے خلاف گواہی دینے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ رپورٹ میں ایک دس سالہ بچے عبداللہ کا تذکرہ ہے جسے سولہ مئی دو ہزار چھ کو اس کے والد مفتی منیر شاکر کے ہمراہ کراچی ایرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ عبداللہ نے رہائی کے بعد بتایا کہ اس کے ساتھ دورانِ حراست بدسلوکی کی گئی تاکہ وہ یہ اعتراف کرے کہ اس کے باپ کا تعلق القاعدہ سے ہے۔انکار کے بعد اسے پندرہ دن تک ایک علیحدہ سیل میں رکھا گیا۔عبداللہ کو رہائی کی پیش کش کی گئی لیکن اس نے باپ کے بغیر رہا ہونے سے انکار کردیا۔ بالاخر عبداللہ کو اٹھاون روز کی قید کے بعد پشاور میں یہ کہہ کر ایک جگہ چھوڑ دیا گیا کہ اس کے باپ کو بھی پندرہ دن میں رہا کردیا جائے گا۔ عبداللہ کے والد مفتی شاکر کو کئی ماہ بعد اگست دو ہزار سات میں رہا کیا گیا۔ اسی طرح ایک نو سالہ لڑکے اسد عثمان کو گزشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔اسے فرنٹئیر کانسٹیبلری نے پکڑ کر تربت میں ایک جگہ رکھا تھا۔اور اس وقت کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اسد کو اسوقت رہا کردیا جائے گا جب اس کا مطلوب بڑا بھائی خود کو پیش کر دے گا۔ایمنسٹی کی رپورٹ میں دسمبر2006 میں سپریم کورٹ کے روبرو بازیاب ہونے والے دس لاپتہ افراد کے بیاناتِ حلفی کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جینس اور فیلڈ انویسٹی گیشن یونٹ نے پشاور ، لاہور نوشہرہ ، اٹک فورٹ کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن کے سیل نمبر بیس اور قاسم مارکیٹ کے قریب ایف آئی اے کے مرکز، راولپنڈی کے علاقے فیض آباد ، چکلالہ سکیم تھری، ائیرپورٹ کے نزدیک پانچ سو ایک نامی ورکشاپ ، آئی ایس آئی کے حمزہ کیمپ ، گیریڑن ، اور پنڈی کینٹ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں رکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایجنسیاں ان افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں اور حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ ان ایجنسیوں کے کتنے خفیہ یا اعلانیہ نظربندی اور پوچھ گچھ مراکز پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلی جینس ایجنسیاں اکثر و بیشتر لاپتہ افراد کے لواحقین پر عدالت سے رجوع نہ کرنے اور اخباری بیانات سے پرھیز کرنے کے لئے دباو¿ ڈالتی ہیں۔ کبھی انہیں یقین دھانی کرائی جاتی ہے کہ چپ رہنے کی صورت میں ان کے عزیز جلد سامنے آ جائیں گے۔اور کبھی سنگین نتائج اور لاپتہ فرد کے دیگر عزیزوں کو اٹھانے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی لاپتہ افراد پر غائب ہونے کے کافی عرصے بعد مقدمے بھی قائم کئیگئے تاکہ ان کی گمشدگی کو قانونی جواز دیا جا سکے۔اس بارے میں ایک افغان شہری عبدالرحیم مسلم دوست کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جسے سن دو ہزار ایک میں گوانتانامو بھیج دیا گیا۔بعد ازاں اسے رہا کردیا گیا لیکن ستمبر2006 میں اسے دوبارہ پشاور کی ایک مسجد سے اس کے بچوں اور بھائی کے سامنے گرفتار کیا گیا۔کیونکہ اس نے گوانتانامو میں اپنے تجربات کو کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کے روبرو پولیس اور ایجنسیوں نے مسلم دوست کی گمشدگی سے لاعلمی ظاہر کی۔ مسلم دوست کو ایجنسیوں نے غائب کرنے کے آٹھ ماہ بعد خیبر ایجنسی کی پولٹیکل انتظامیہ کے حوالے کردیا جس نے مسلم دوست پر ایف سی آر کے تحت مقدمہ قائم کردیا۔مسلم دوست آج بھی پشاور جیل میں ہے اور مقدمے کی سماعت کا منتظر ہے۔ انٹیلجنس ایجنسیوں کے مشورے اور دھمکیاںانٹیلی جینس ایجنسیاں اکثر و بیشتر لاپتہ افراد کے لواحقین پر عدالت سے رجوع نہ کرنے اور اخباری بیانات سے پرھیز کرنے کے لئے دباو¿ ڈالتی ہیں۔ کبھی انہیں یقین دھانی کرائی جاتی ہے کہ چپ رہنے کی صورت میں ان کے عزیز جلد سامنے آ جائیں گے۔اور کبھی سنگین نتائج اور لاپتہ فرد کے دیگر عزیزوں کو اٹھانے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جوابدھی اور ان پر کنٹرول کا نظام غیر واضح اور مبہم رکھا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جولائی دو ہزار چھ میں حبسِ بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جینس پر وزارتِ دفاع کا انتظامی کنٹرول تو ہے لیکن آپریشنل کنٹرول نہیں ہے ۔لہذا ان ایجنسیوں سے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کروائی جا سکتی۔ اییمنسٹی کی رپورٹ میں عدالتی طریقِ کار پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹس ریاستی وکلائ[L:4 R:4] کی جانب سے کسی شخص کی نظربندی سے لاعلمی یا انکار کی صورت میں مزید جرح کے بغیر اکثر حبسِ بے جا کی درخواستیں خارج کردیتی ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد یہ جاننے کے لئے بہت کم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ مذکورہ شخص کس ادارے کی تحویل میں تھا اور اس ادارے کی جوابدھی کیسے ہو۔اس کے علاوہ گمشدگی کے مقدمات کی سماعت طویل عرصے کے لئے ملتوی کردی جاتی ہے۔اور یوں گمشدہ فرد اور اسکے عزیزوں کی تکالیف کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو یا تو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے یا ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر کے تسلیم شدہ عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے یا غیر قانونی حراست اور گمشدگی میں ملوث تمام افراد کو بلاامتیازِ عہدہ و مرتبہ کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس کے علاوہ تمام خفیہ نظربندی مراکز کو ختم کرکے ان کی موجودگی اور قیام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔انٹیلیجینس ایجنسیوں کو ان کے اقدامات کی جوابدہی کے لئے قانوناً پابند کیا جائیاور لاپتہ افراد سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی معاہدوں اور کنونشنز کو جلد از جلد تسلیم کیا جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس، اے پی ایس
امریکہ پاکستانی عوام کو اپنے لیڈرز خود چننے دے تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد
انتہاپسندی کی ایک وجہ لوگوں میں انتہا درجے کی مایوسی بھی ہے پاکستان کے جمہوری عمل میں امریکہ کی مداخلت کی پالیسی بھی غلط ہے پاکستان سولہ کروڑ عوام کا ملک اور ایک نیو کلیئر طاقت ہے امریکی صدارتی امید وار سینیٹر بارک اوبامہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں انہیں اس قسم کے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کہلائے جانے والے گروپس کی سرگرمیاں ان دنوں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی نمایاں طور پر جگہ پارہی ہیں اور یہاں امریکہ کے تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی پاکستانی طالبان کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں بحث جاری ہے۔ معروف پاکستانی اسکالر پرویز ہود بھائی نے اسی موضوع پر حال ہی میں واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایک پریذنٹیشن دی ہے کہ طالبان اب سے کچھ عرصے پہلے تک افغانستان کے حوالے سے جانے جاتے تھے لیکن ان کی نئی شناخت یعنی پاکستانی طالبان اب تیزی سے عام ہورہی ہے۔ پاکستانی طالبان کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر حملوں اور ان کے خلاف آپریشن کی خبریں روزانہ ملکی اور غیرملکی اخبارات کی سرخیاں بن ر ہی ہیں۔ واشنگٹن سمیت بیرونی دنیا میں ان کے بارے میں مزید جاننے اور ان کی سرگرمیوں سے نمٹنے کی حکومتی کوششوں کے حوالے سے دلچسپی میں اضافہ ہورہا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے اپنی پریذنٹشن کے آغاز میں مقامی طالبان کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا ہے ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔ تاکہ سرکاری مشینری ناکارہ ہوجائے۔ اور انھیں اس مقصد میں کچھ حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ فاٹا اور اس سے ملحق کچھ علاقوں میں آپ کو سرکاری عملداری نظر نہیں آئے گی۔ ان علاقوں میں پولیس یا تو تھانوں تک محدود ہے یا تھانے چھوڑ کر ہی چلی گئی ہے۔ طالبان کی حکمتِ عملی کا اگلا حصہ ان علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کرنا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے کہا کہ ان علاقوں میں انتہاپسندی کے رجحانات یقینناً موجود ہیں لیکن انھیں پروان چڑھانے کی ذمہ داری امریکی پالیسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے جب سرد جنگ کے زمانے میں اس وقت کی امریکی حکومت مجاہدین کو ہیرو کے طور پر پیش کرتی تھی۔ اسکے ساتھ ساتھ پرویز ہود بھائی نے اس خطے کی معاشی اور سماجی صورتحال کو بھی انتہا پسندی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انتہاپسندی کی ایک وجہ لوگوں میں انتہادرجے کی ناامیدی بھی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں غربت اور محرومی کے اثرات کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا۔ معاشرے میں کچھ لوگوں کے پاس تو بے انتہا پیسہ ہے مگر کچھ ایسے ہیں جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے محرومی جنم لیتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ انصاف تک رسائی نہ ہونا بھی انتہاپسندی میں اضافہ کرتا ہے۔ انتہاپسندی سے لڑنے کے لیے فوجی ذرائع کے استعمال کی یقیناً اہمیت ہے لیکن اس معرکے میں محض فوجی طاقت سے فتح حاصل نہیں ہوگی۔ وہاں پر ترقیاتی کام کرنے ہوں گے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔ جہاں تک فوجی کارروائی کا تعلق ہے تو وہ اسی وقت کی جانی چاہیے جب فورسز کو اس بات کو مکمل یقین ہو کہ جس جگہ وہ کارروائی کرنے جارہے ہیں وہاں دہشت گرد ہی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت بار ایسا ہوا ہے کہ بے گناہ لوگ مارے گئے جس کی وجہ سے انتہا پسندی میں کمی نہیں اضافہ ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں امریکی حملوں کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔ پرویز ہود بھائی کے مطابق پاکستان پر امریکی حملے کے بارے میں سوچنا بھی غلط ہے۔ اسکے علاوہ انہوں نے پاکستان کے جمہوری عمل میں امریکہ کی مبینہ مداخلت کو بھی غلط قرار دیا۔ پرویز ہودبھائی نے کہا کہ امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کے خطرے سے نمٹنے میں ہرگز کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحدوں پر نیٹو کی فوجوں میں اضافہ کیا جارہا ہے جس کہ وجہ سے قبائلی علاقوں اور پاکستان میں امریکی حملے کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے ان حملوں میں چند سو کے قریب طالبان مارے جائیں لیکن حملوں کے خلاف شدید عوامی ردِ عمل ہو گا۔ اور اگر بے گناہ لوگ مارے گئے تو مسائل میں بے حد اضافہ ہو سکتا ہے۔ جس قسم کے بیانات سینیٹر اوباما دے رہے ہیں ان سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان سولہ کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور یہ ایک نیوکلیر طاقت بھی۔ اسلیے غیر ذمہ دار اقدامات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ میں امریکی حکام سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ پاکستان کے سیاسی عمل میں مداخلت نہ کریں۔ اور پاکستانی عوام کو اپنے لیڈرز خود چننے دیں۔ مذاکرے میں موجود پاکستان اور افغان امور کے ماہر ڈاکٹر مارون وائن بام نے پرویز ہود بھائی کی پریذنٹیشن کے بعض نکات سے اتفاق کیا جبکہ بعض سے اختلاف یہ بات بالکل درست ہے کہ امریکی قیادت پاکستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ نہیں لگا سکی۔ وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام رہی کے پاکستان کی سول سوسائٹی عدلیہ کی بحالی کے لیے کتنی کمٹڈ ہے اور وہ ملک میں نئی قیادت دیکھنا چاہتی ہے۔ صدر مشرف سے امریکہ کی وابستگی غلط نہیں ہے لیکن یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ پاکستانی عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان میں طالبان کی جڑیں مضبوط ہونے میں امریکہ کی ماضی کی پالیسیوں کا تعلق ہے تو یہ بات کسی حد تک تو درست ہے کیونکہ اس وقت امریکہ سرد جنگ کی وجہ سے یقینناً اس خطے میں جہادی گروپس کی مدد کررہا تھا۔ لیکن اس کی تمام ذمہ داری امریکہ پر ڈالنا غلط ہوگا کیونکہ طالبان کی جانب سے اب طاقت پکڑنے کے دیگر محرکات بھی ہیں۔ وائن بام سمیت بہت سے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستانی طالبان کی سرگرمیاں علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں لیکن ان سے نمٹنے کے لیے مقامی آبادی اور نمائندوں کی مدد سے حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ جبکہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اس دورائیے پر آگیا ہے کہ اسے ہمیشہ کیلئے ایٹمی طاقت رہنا ہے یا پھر خدا نہ کرے کہ ہم ایٹمی طاقت گنوا کہ آزادی کھو بیٹھیں ۔ ہمارے پاس دونوں آپشن موجود اور فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے ۔ عوام کے مسائل حل نہ کئے تو خونی انقلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا ۔ جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا تعلیم کا زیور پہنے بغیر کوئی بھی قوم اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی ۔ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ہی ہم پاکستان کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا صحیح معنوں میں پاکستان بنا سکتے ہیں ۔ پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں کئی بار ایجنسیاں نافذ کی گئیں اور آئین کو توڑا گیا لیکن تعلیمی شعبہ میں کبھی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جو ملک کی اصل ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتنی شرمناک اور ستم ظریفی کی بات ہے کہ ہم ایٹمی پاکستان ہونے کے باوجود دودو گلی گلی کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھر رہے ہیں خود کوئی خود مختار قوم کبھی اغیار سے بھیک نہیں مانگتی بھیک مانگنے والی قوم بھی خوشحال نہیں ہو سکتی نہ ہی ترقی کر سکتی ہے ۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے راستہ سے ہٹ جانے کے باعث ہم آج تک منزل تلاش نہیں کر سکے اور اغیار پاکستان کو آزادی سے محروم کردینا چاہتے ہیں ۔ میں شرمندہ ہیںکہ ہم اپنے اپنے مقدمہ کو ٹھیک طور پر پیش نہیں کر سکے ۔ تعلیمی پسماندگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجھے رحیم یارخان کے دور افتادہ ایک سکول میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں طلبہ کو پنجاب کے دورالحکومت کے بارے میں علم نہیں ہے جبکہ یہاں ایچی سن جیسے تعلیمی ادارے ہیں جہاں اربوں روپے خرچ کئے جا تے ہیں ان دور افتادہ علاقہ میں سکولوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں اور بچ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ بچیاں ہائی سکول دور وہنے کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ماضی میں پڑھے لکھے پنجاب کے نام پر بڑے دعوے کئے گئے لیکن اربوں روپے کے فنڈز محض ذاتی تشہیر پر خرچ کردیئے گئے اگر یہ فنڈز تعلیم پر خرچ کئے جاتے تو آج ہماری بچیاں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل نہ کر رہی ہوتیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سابق حکمرانوں نے ہمیں بہت مشکلات میں چھوڑ دیا ہے جن میں تعلیمی پسماندگی کے علاوہ معزول ججوں کی بحالی اور دیگر مسائل شامل ہیں لیکن ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اندھیروں میں نہیں رہنے دیں گے اور ایسا کام کر جائیں گے کہ یہ نسلیں کہیں گی کے ہمارے بڑے ٹھوکریں کھا کر بالآخر راہ راست پر آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران ملک میں محلات تو بہت بنے لیکن غریب کی جھونپڑی پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے غریب کے مسائل حل نہ کئے تو یہاں خونی انقلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا ۔ انہوں نے بچوں کو یقین دلایا کہ پنجاب کے خزانے کو ان پر نچھاور کیا جائے گا ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پنجاب بھر میں دو ڈویڑن کی سطح پر بچوں میں ڈبیٹ کے مقابلے کروائیں گے جن میں وہ خود شرکت کریں گے ۔ انہوں نے پنجاب بھر کے سکولوں سے منتخب طلبہ کو مری کی سیر کروائے اور ان کی وزیر اعلی ہاو¿س میں مہمان نوازی کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ اس موقع پر مجید نظامی نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ میاں نواز شریف اور ان کے مرحوم والد کے سر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں شریف مرحوم اپنے سات بھائیوں میں واحد تعلیم یافتہ شخص تھے جنہوں نے اپنی محنت سے ایک بڑے صنعتکار کا درجہ حاصل کیا ۔ بچے بھی ان کی تقلید کر کے بڑے منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔ جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے باوجود حکومت آئندہ دنوں میں مزید اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موجودہ بجٹ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سسبڈی کو دسمبر تک ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 34روپے اضافہ کر چکی ہے ۔ اس اضافے کے باوجود قیمتوں میں مزید اضافے کا ارادہ کیا جا رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے موقف کے مطابق 50روپے فی لیٹر سسبڈی کے خاتمے کے لیے پٹرول کی قیمت میں مزید 16روپے فی لیٹر اضافے کیا جا سکتا ہے اس طرح ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 103روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ایران کے قائم مقام وزیر داخلہ سید مہدی ہاشمی نے ملاقات کی ہے۔ جس میں پاک ایران تعلقات علاقائی صورت حال ‘ دہشت گردی و انسانی سمگلنگ کے خاتمے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔ دونوں برادر اسلامی ممالک نے مضبوط اور مستحکم دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اسلامی ممالک نہ صرف مشترکہ تہذیب ثقافت مذہب اقدار روایات کے حامل ہیں ۔ بلکہ کئی اہم بین الاقوامی ایشوز کے حوالے سے بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان علاقے میں استحکام امن اور پائیدار ترقی کا خواہاں ہے ان مقاصد کے حصول کے لئے کوئی پاکستان کے کردار سے انکار نہیں کر سکتا ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات اور دوستی ہے ۔ ایران کے خلاف کسی جارحیت کی حمایت نہیں کی جائے گی اس طرح کے اقدامات سے خطے میں عد استحکام پیدا ہوگا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے پر امن ذرائع سے معاملات کے حل میں خطے اور اس کے عوام کے بہتر مفاد میں ہے ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
Tuesday, July 22, 2008
عوام کی جیبوں سے پیسہ کون نکال رہا ہے۔ مہنگائی سے عوام کا خود کشی میں ریکارڈ اضافہ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد
ملک دشمن عالمی طاقتوں نے پاکستان کو عدم استحکام کرنے والی اپنی شاطر چالوں سے ایسے دوراہے پہ کھڑا کردیا ہے کہ پاکستان کے عوام کو دور دور تک کو ئی امید کی کرن نظر نہیں آتی البتہ قیام پاکستان سے قبل انگریز کے مخبروں کی اولاد جو اب بھی اپنے باپ دادا کی طرح انگریز کیلئے مخبری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ان کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے ۔ جو بھی حکومت آئے یہی چہرے نظر آئیں گے۔ عوام سخت پر یشان ہیں کہ یہ ملک 16کروڑ مسلمانوں کے لیے بنا تھا یا جاگیر داروں اور قانون شکن جرنیلوں کیلئے ؟ جبکہ دوسری پریشانی عوام کی یہ ہے کہ تما م بحرانوں کو اگر موجودہ حکمران حل نہ کرسکے یا کسی وجہ سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور نئے سیٹ اپ میں بھی ان کے ما مے چاچے ہوں گے بات وہیں کی وہیں رہے گی۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں نے عوام میں نہ صرف اپنا وقار بلکہ اپنا اعتمادکھودیا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جب حکومت کا حصہ ہو کوئی ایسے عالمی معاہدے اور لوٹ مار پروگرام نہ کرے جس کا بعد میں خمیازہ عوام کو بگتنا پڑے۔ اور جاگیرداروں کے ایسے علاقے جہاں وہ سکول و کالج کا قیام عمل میں نہیں آنے دیتے وہاں بھی سیکورٹی فورسز کے دستے ب بھیجیں جا ئیں کیونکہ ایسے جاگیر داروں کا شمار بھی ان افراد میں ہوتا ہے جو حکومتی رٹ کو چیلینج کرتے ہیں۔ آئے روز کی مہنگا ئی ، بے روزگاری ، نا انصافی اور ملک بھر میں پولیس گردی سے خود کشیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی کی صورتحال یہ ہے کہ حکومت اپنے کسان سے 625روپے من کے حساب سے گندم لیتی ہے جبکہ باہر سے 1400روپے من کے حساب سے لیتی ہے یہ اپنے کسان کے ساتھ ظلم کیوں کرتے ہیں چلیں پٹرول تو باہر سے آتا ہے مگر سی این جی تو ہماری اپنی پیداوار ہے اس پر عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جاتا اس کے خلاف بھی پٹیشن دائر ہونی چاہیے اور مکمل تحقیقات ہو اور پتہ چلے کہ کون کتنا منافع کھا رہا ہے کون عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال رہا ہے۔ جبکہ پاکستان میں گزشتہ 9 ماہ کئی ہزار افرادنے خودسوزی کی ہے ۔اعداد وشمار کے مطابق خودکشیوں کی وجوہات میں گھریلو و معاشی مسائل، بے روزگاری، غربت اور تناو¿ کلیدی اسباب رہے۔تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی قومی تنظیم مددگار اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کی جانب سے پاکستان میں گزشتہ 9 ماہ کے دوران ہونے والی خودسوزیوں کے ریکارڈ مرتب کئے گئے جس کیلئے 26 قومی انگریزی، اردو اور سندھی روزناموں کی مانیٹرنگ کی گئی۔حکومت پاکستان کی جانب سے 2001ئ میں ذہنی صحت کی بہتری کیلئے مجریہ جاری کیا گیا تھا تاہم اس سلسلے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمام اقوام عالم کے لئے لازم ہے کہ اپنی عملداری کی حدود میں خودسوزیوں میں کمی کیلئے عملی اقدامات کریں۔اس سلسلے میں رہائشی علاقوں میں جراثیم کش ادویات اور اسلحہ کی فروخت کی بھی ممانعت ہے۔مددگار ٹرسٹ اور یونیسیف کی تحقیق کے مطابق 2007ء کے دوران بلوچستان میں خودسوزی کے140 ،سرحد میں 210، پنجاب میں 1529 اور سندھ میں خودسوزیوں کے1047 کیسز ریکارڈ ہوئے۔2ہزار8سو65 بچوں میں بھی خودسوزی کے کیسز ریکارڈ ہوئے جن کی عمریں 11 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔تحقیقات کے مطابق ان بچوں کی خودکشی کی وجوہات میں جارحانہ رویے، مایوسی اور والدین و اساتذہ کی جانب سے مار پیٹ اور ڈانٹ شامل تھی۔خواتین میں 18سے 30 برس کی عمر اور مردوں میں 32سے 70 سال کے درمیان خودکشی کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔خواب آور گولیاں، پانی میں ڈوب کر جان دینا، پھانسی، بجلی کے جھٹکوں سے جان ہارنا، گاڑیوں کے آگے کودجانا اور اسلحہ کے استعمال سے خودسوزی کرنا بلحاظ تعداد معروف طریقے معلوم ہوئے۔خودکشیوں کے کیسز کے اعتبار سے لاہور سرفہرست رہا جہاں 987 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد بالترتیب ملتان میں 786 ،گجرانوالہ میں 94، کراچی میں63، پشاور میں 60، فیصل آباد میں58، خیر پور میں 45 ، سکھر میں 38 ، حیدرآباد میں 36، اسلام آباد میں28 ، راولپنڈی میں 27، ٹنڈو آدم میں 22، لاڑکانہ میں 17 اور دادو میں 15 کیسز رپورٹ ہوئے۔مددگار ٹرسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے صدر مددگار ٹرسٹ ضیائ احمد اعوان کا کہنا ہے کہ غربت، پولیس تشدد، بے روزگاری، گھریلو اور خاندانی تنازعات سمیت موجودہ تیز زندگی میں پیشہ ورانہ ماحول کا تناو¿ خودسوزی کی اہم وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق سیکشن 325پی پی سی کی رو سے خودسوزی کا مرتکب قانون کا مجرم ہے تاہم عدم دلچسپی کے باعث پولیس کی جانب سے ان کیسز کی نہ تو ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے اور نہ ہی تفتیش کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خودسوزی کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان معاشرے کی بیماری کا عکاس ہے اور اسے اگر ابتدائی مراحل میں کنٹرول نہیں کیا گیا تو اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائیگا۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور کے اندر مخالفین کو دبانے کے لیے پولیس کو کھلے عام استعمال کیا ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور یورپی ممالک پاکستانی پولیس کو جدید ہتھیاروں و تربیت کی فراہمی کے لیے فنڈز فراہم کریں پاکستان میں پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کر کے ہی پولیس کو عوام دوست بنایا جا سکتا ہے ۔ پولیس سے متعلقہ خفیہ اداروں کو جدید آلات سے لیس کر کے اندرونی سیکورٹی کے معاملات ان کے سپر د کیے جائیں پاکستان میں پولیس کے نظام کو عوام دوست بنانے کے لیے سیاسی بھرتیوں اور تبادلوں کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہے اگرچہ پولیس آرڈیننس 2002 جاری کیا گیا ہے کہ لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد ممکن نہیں بنایا جا سکا ہے ۔ ملک میں بہت کم تعداد میں پبلک سیفٹی کمیشن قائم کیے گئے ہیں پولیس کو حکمران طبقہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور جو لوگ حکمرانوں کی بات مانتے رہے ہیں ان کی تقرریاں ، تبادلے اور ترقیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سزائیں صرف ان پولیس افسروں کو ملی ہیں جنہوں نے فوجی آقاو¿ں کی بات ماننے سے انکار کیا ہے گزشتہ آٹھ سالوں میں صدر پرویز مشرف نے پولیس کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کھلے عام استعمال کیا ہے نئی سیاسی حکومت کو بدعنوان اور انسانی حقوق کو پامال کرنے والی پولیس ورثے میں ملی ہے پولیس آٹھ سالوں سے فوج کی خدمت کرتی رہی ہے اور صدر پرویز مشرف کے مخالفوں کے خلاف استعمال ہوتی اور انہیں دبانے کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہے۔ اس دورن پولیس نے ماروائے عدالت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا اور انتخابات میں دھاندلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے کیونکہ پولیس کو فوجی آمروں کی بھرپور آشیر باد حاصل تھی ۔ اس روئیے کی وجہ سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے پاکستانی پولیس عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی صلاحیت نہیں رکھتی جیسا کہ فوج میں بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے پولیس کے زیر انتظام خفیہ اداروں کو اندرونی خطرات اور جرائم کی روک تھام کے لیے مزید وسائل دینے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری خصوصا امریکی اور یورپی یونین کوچاہیے کہ وہ سویلین خفیہ ایجنسیوں کو جدید تربیت اور ٹیکنیکل مدد دیں تاکہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ پاکستانی حکومت کو صرف پولیس کے مالی بجٹ اورتعداد کو ہی نہیں بڑھانا چاہیے بلکہ پولیس میں انتظامی لحاظ سے بھی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جس کے تحت سیاسی بھرتیاں بند ہوں ‘ تقرریاں ‘تبادلے ‘ بھرتیاں اور ترقیاتی میرٹ پر ہونی چاہئیں ۔ پولیس کے انتظامی اداروں کی تجاویز کواہمیت دی جانی چاہیئے اور پولیس کو عوام د وست اور شہریوں کا محافظ بنانے پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔ اور عوامی نمائندوں پریہ بات واضح کرنی چاہیئے کہ ایک اچھی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مالک ‘تربیت یافتہ اور اچھی تنخواہ دار پولیس ہی عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے ۔ جبکہ انٹرنیشنل کرائسسز گروپ نے حکومت کو دی گئی اپنی تجاویز اور جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ملک کی اندرونی سیکورٹی کی زمہ داریاں پولیس اور اس کی متعلقہ خفیہ ایجنسیوں کو دی جائیں۔ پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ‘ جرائم کے خاتمے کے لیے ان کی تربیت کی جائے ۔ ملک کی خفیہ ایجنسیوں ایف آئی ایاور آئی بی کو مضبوط کیا جائے ۔ پاکستان کی اندرونی سیکورٹی کے لیے تعینات رینجرز اور دیگر پیرا ملٹری فورسز کو ہٹا کر پولیس کو لگایا جائے ۔ پولیس کے محکمے سے بدعنوانی ختم کرکے ان کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے بدعنوان اور سیاسی حمایت یافتہ پولیس افسران کو اعلی عہدوں سے ہٹایاجائے ۔ پولیس میں نچلی سطح کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ۔ اسی طرح پولیس کے ملازمین کو مزید سہولتیںفراہم کرتے ہوئے ان کے ویلفیئر اور انکے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ اسی طرح ڈیوٹی کے دوران جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ کے لیے مراعات میں اضافہ کرتے ہوئے عوامی سطح پر اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے ۔ سینٹ کی سیٹینڈنگ کمیٹی کے تحت پولیسنگ کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ پبلک سیفٹی کمیشن کو مزید اختیارات دئیے جائین اور کمیشن کے ممبران کا انتخاب شفاف طریقے سے کیا جائے جس پر حکومت اور اپوزیشن کے دریان اتفاق رائے ہو ۔ اپنی سفارشات مین آئی سی جی نے کہا ہے کہ پولیس میںسیاسی مداخلت کو ختم کرتے ہوئے بھرتیوں ‘ تبادلوں کو خالصتا ادارے کی سطح پر کیا جائے اور ضلعی ناظم سے ڈی پی او کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے اختیار واپس لیا جائے ۔ سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ پبلک سیفٹی کمیشن ‘ نیشنل پولیس مینجمنٹ بورڈ اوروفاقی اورصوبائی کمپلینٹس بورڈز کو بااختیار بنایا جائے ۔ مقدمات کی تحقیقات کے لیے آزاد وخود مختار آفیسرز تعینات ہونے چاہئیںاور پولیس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد کو بڑھایاجائے اسی طرح سے پولیس کے معاملات میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے آئی سی جی نے اپنی سفارشات مین بین الاقوامی برادری پرزور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے امداد میں اضافہ کیا جائے اور ا مریکہ اور یورپی ممالک پولیس افسران کی تربیت کے لیے کام کریں ۔ جبکہ اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیری رحمن نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے تاہم کسی بیرونی طاقت کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے موجودہ مشکل اور نازک ترین حالات میں ہم ملک کو عدم استحکام سے بچانا چاہتے ہیں ۔ بعض ملک دشمن عناصر اسلام کا نام استعمال کررہے ہیں لیکن ہم مفاہمت سے معاملات سلجھانا چاہتے ہیں ۔ 5 سالہ کرپشن اور لوٹ مار کی صفائی کے بعد ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے موجودہ حکومت کو کم از کم چودہ ماہ کا عرصہ درکار ہے عوام تحمل کا مظاہرہ کریں پیپلزپارٹی اپنے وعدوں ‘ منشور اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے ۔ صحافت اور صحافیوں کی آزادی و فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کیے جائیں گے حکومت میڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے وزارت اطلاعات نے ماضی میں میڈیا پر پابندیاں عائد کیں ہم ایسا تاثر ختم کرنا چاہتے ہیں ہم نے بیشتر کالے قوانین ختم کیے ۔ پیمرا کو بذات خود ایک حد بندی میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈنینس کا مسودہ بھی نظر ثانی کے لیے کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے ۔ جو بعدازاں جلد اسمبلی میںپیش کردیا جائے گا۔ ویکٹم (VICTIM ) فنڈ کا آغاز کردیا جس کے شفاف استعمال کے لیے آئندہ ماہ ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی ۔ صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں حکومت ہر ممکن حد تک اپنا فرض سنبھالنے کے ساتھ مالکان کو بھی ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرے گی موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کی براہ رست کوریج کا نظام متعارف کروایا ۔ تاکہ عوام حکومتی کارکردگی سے پوری طرح آگاہ ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا وعدہ معلومات تک رسائی کا قانون ہے ۔ جس کے لیے انفارمیشن بل کا مسودہ تیاری کے مراحل میں ہے جس سے شفافیت کا نیا کلچر سامنے آئے گا ہم معلومات تک رسائی کو موثر اور فعال بنائیں گے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اس کے ادارے اپنے اندر بھی ضابطہ اخلاق کو فروغ دیں کیونکہ ایسے اقدامات ریاست پر مسلط نہیں کیے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایسی سنسنی خیز ی سے گریز کرے جس سے معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہو صحافی اپنے رویوں پر بھی دھیان دیں ۔ حکومت میڈیا پر کوئی ضابطہ اخلاق مسلط نہیں کرنا چاہتی تاہم اس حوالے سے میڈیا سے معاونت کرنے کو تیار ہے کیونکہ صحافیوں کی اپنی بدنظمی بعض تقریبات انتہائی بدمزگی کا سبب بنتی ہے اور ایسے کسی موقع پر اگرانہیں سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بائیکاٹ کی دھمکیاں دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنی ذمہ داریوںا وروعدوں اور منشور سے آگاہ ہے ۔ ورکنگ جرنلسٹوں کے لیے ویج بورد کے نفاذ پر جلد صحافی تنظیموں سے بات چیت کا آغاز کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعطم نے بھی یہ کہا کہ پاکستان اور حکومت کو فی الوقت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ پوری قوم کا اجتماعی مسئلہ ہے پچاس ڈالر فی بیرل پر تیل کی قیمت گزشتہ دور حکومت میں تھی جبکہ تجارتی خسارے میں انتہائی اضافہ ہو چکا تھا اب بھی حکومت پچاس روپے فی لیٹر پٹرول پر سبسڈی دے رہی ہے ۔ ہم نے جب چارج لیا تو خزانہ خالی تھا سابقہ حکومت نئے کرنسی نوٹ چھاپ کر مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ ہماری حکومت سے پہلے تو یوٹیلٹی سٹورز پر بھی آٹا نایاب تھا جس پر کابینہ کے ہنگامی اجلاسوں میں اس معاملے کو ہینڈل کیا گیا سابقہ حکومت نے مستقبل سے بے خوف ہو کر اس طرح گندم کا بحران پیدا کیا کہ ان کا خیال تھا کہ انہیں فرشتے دوبارہ انتخابات میں کامیاب کروائیں گیانہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کم از کم چودہ ماہ کا عرصہ درکار ہے ۔ گزشتہ حکومت نے بجلی کے انفراسٹرکچر میں ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں کی جس وجہ سے آج قوم کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 75 فیصد غذائی اشیاء امپورٹ کی جا رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کسانوں کو سہولیات دی جائیں زراعت کو ترقی دی جائے اس وقت سرحدی صورت حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے ملک خود کش حملوں کی زدمیں ہے انہوںنے چیلنج کیا کہ کوئی بھی شہری انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری تین ماہ کی کارکردگی کو سابقہ حکومت کے پانچ سال سے موازنہ کرکے دیکھ لے ۔ ہمارا مسئلہ افغان جہاد کے دور سے چلاآرہا ہے ۔ موجودہ منتخب حکومت کو اتنی مہلت ملنی چاہیئے کہ یہاںطالبانائزیشن کو پروان چڑھنے سے روکا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملک دشمن عناصر صرف اسلام کا نام استعمال کررہے ہیںلیکن ہم مفاہمت کے زریعے تمام بحرانوں پر قابو پاناچاہتے ہین حکومت موجودہ مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مشکل حالات مین ملک کو عدم استحکام میں نہیں ڈالنا چاہتے ۔ نہ ہی کوئی غیر آئینی کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے 23 جولائی کوحکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہے ۔اے پی ایس،اسلام آباد
Monday, July 21, 2008
وفاقی کابینہ میں توسیع کا حتمی فیصلہ کرلیاگیا ، ١٢ سے ١٦ ارکان کا ٢٥ جولائی کو حلف اٹھانے کا امکان
اسلام آباد ۔ وفاقی کابینہ میں توسیع کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا اور 12 سے16 ارکان کا 25 جولائی کو حلف اٹھانے کا امکان ہے ۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ان وزراء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 12 وزراء اور 2 وزراء اے این پی اور 2 جے یو آئی (ف) سے لیے جائیں گے اور فاٹا سے بھی ایک رکن قومی اسمبلی کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے متوقع وزراء ہیں فریال تالپور ‘میر ہزار خان بجارانی ‘ اعجاز خان جھکرانی ‘فرید جمال ‘ شگفتہ جمالی ‘ نواب یوسف تالپور ‘ آفتاب شعبان میرانی ‘ نبیل گبول ‘ حنا ربانی کھر ‘فرزانہ راجہ ‘ شہناز وزیر علی شامل ہیں ۔ حنا ربانی کھر اور شہناز وزیرعلی جو اس وقت وزیراعظم کی معاونین خصوصی ہیں ان کو وزیر مملکت کا عہدہ دیا جائے گا۔ 23 ‘ 24 جولائی کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) وفاقی کابینہ میں واپس آگئی تو ان تمام نئے ارکان کو وزراء مملکت کے عہدے دے دئیے جائیں گے اور (ن ) لیگ واپس نہیں آئے گی تو اس کی چھوری ہوئی وزارتیں نئے وزراء میں تقسیم کردی جائیں گی ۔
پاکستان میں گزشتہ ٩ ماہ میں ٢٦ ہزار٣٧٦ افرا نے خودسوزی کی ۔تحقیقاتی رپورٹ
کراچی ۔ مدگار ٹرسٹ اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 9 ماہ میں 26ہزار376افرا نے خودسوزی کی۔اعداد وشمار کے مطابق خودکشیوں کی وجوہات میں گھریلو و معاشی مسائل، بے روزگاری، غربت اور تناؤ کلیدی اسباب رہے۔تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی قومی تنظیم مددگار اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کی جانب سے پاکستان میں گزشتہ 9 ماہ کے دوران ہونے والی خودسوزیوں کے ریکارڈ مرتب کئے گئے جس کیلئے 26 قومی انگریزی، اردو اور سندھی روزناموں کی مانیٹرنگ کی گئی۔حکومت پاکستان کی جانب سے 2001ء میں ذہنی صحت کی بہتری کیلئے مجریہ جاری کیا گیا تھا تاہم اس سلسلے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمام اقوام عالم کے لئے لازم ہے کہ اپنی عملداری کی حدود میں خودسوزیوں میں کمی کیلئے عملی اقدامات کریں۔اس سلسلے میں رہائشی علاقوں میں جراثیم کش ادویات اور اسلحہ کی فروخت کی بھی ممانعت ہے۔مددگار ٹرسٹ اور یونیسیف کی تحقیق کے مطابق 2007ء کے دوران بلوچستان میں خودسوزی کے140 ،سرحد میں 210، پنجاب میں 1529 اور سندھ میں خودسوزیوں کے1047 کیسز ریکارڈ ہوئے۔2ہزار8سو65 بچوں میں بھی خودسوزی کے کیسز ریکارڈ ہوئے جن کی عمریں 11 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔تحقیقات کے مطابق ان بچوں کی خودکشی کی وجوہات میں جارحانہ رویے، مایوسی اور والدین و اساتذہ کی جانب سے مار پیٹ اور ڈانٹ شامل تھی۔خواتین میں 18سے 30 برس کی عمر اور مردوں میں 32سے 70 سال کے درمیان خودکشی کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔خواب آور گولیاں، پانی میں ڈوب کر جان دینا، پھانسی، بجلی کے جھٹکوں سے جان ہارنا، گاڑیوں کے آگے کودجانا اور اسلحہ کے استعمال سے خودسوزی کرنا بلحاظ تعداد معروف طریقے معلوم ہوئے۔خودکشیوں کے کیسز کے اعتبار سے لاہور سرفہرست رہا جہاں 987 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد بالترتیب ملتان میں 786 ،گجرانوالہ میں 94، کراچی میں63، پشاور میں 60، فیصل آباد میں58، خیر پور میں 45 ، سکھر میں 38 ، حیدرآباد میں 36، اسلام آباد میں28 ، راولپنڈی میں 27، ٹنڈو آدم میں 22، لاڑکانہ میں 17 اور دادو میں 15 کیسز رپورٹ ہوئے۔مددگار ٹرسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے صدر مددگار ٹرسٹ ضیاء احمد اعوان کا کہنا ہے کہ غربت، پولیس تشدد، بے روزگاری، گھریلو اور خاندانی تنازعات سمیت موجودہ تیز زندگی میں پیشہ ورانہ ماحول کا تناؤ خودسوزی کی اہم وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق سیکشن 325پی پی سی کی رو سے خودسوزی کا مرتکب قانون کا مجرم ہے تاہم عدم دلچسپی کے باعث پولیس کی جانب سے ان کیسز کی نہ تو ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے اور نہ ہی تفتیش کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خودسوزی کا تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان معاشرے کی بیماری کا عکاس ہے اور اسے اگر ابتدائی مراحل میں کنٹرول نہیں کیا گیا تو اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائیگا۔
کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا
کے ایس ای 100 انڈیکس میں 139.52پوائنٹس، ایل ایس ای 25میں 106.49 اور آئی ایس ای 10انڈیکس میں 111.92 پوائنٹس کا اضافہ
کراچی۔ کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 139.52 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس کا انقطاع 10374.30 پوائنٹس پر ہوا۔کاروباری سرگرمیاں 265 کمپنیوں تک محدود رہیں جن میں سے 118کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 133کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 14کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے علاوہ ازیں مارکیٹ میں کاروباری حجم 9کروڑ38لاکھ حصص سے زائد رہا اور کے ایس ای 30انڈیکس 152.30پوائنٹس اضافے سے 11559.58پوائنٹس پر بند ہوا۔ماہرین کے مطابق آئل، سیمنٹ اور فرٹیلائیزر سیکٹر کے حصص کی خریداری جاری رہی تو مارکیٹ مزید بہتری کی جانب جائیگی۔مارکیٹ میں پیر کو کاروبار میں نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک 59لاکھ89ہزار5سو حصص کی خرید و فروخت کے ساتھ سرفہرست رہا جس کے حصص 44 پیسے اضافے سے 9روپے48پیسے، ڈی جی خان سیمنٹ کے حصص 2روپے43پیسے اضافے سے 51روپے3پیسے، عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 6روپے20پیسے اضافے سے 130روپے20پیسے، اینگرو کیمیکلز کے حصص 6روپے5پیسے اضافے سے 217روپے5پیسے، نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے49پیسے اضافے سے 115روپے48پیسے، لکی سیمنٹ کے حصص 3روپے77پیسے اضافے سے 79روپے27پیسے اور او جی ڈی سی ایل کے حصص 5روپے41پیسے اضافے سے 113روپے71پیسے رہے۔دوسری جانب لاہور اسٹاک ایکس چینج میں بھی ایل ایس ای 25انڈیکس میں 106.49پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 3229.56پوائنٹس کی سطح پر ریکارڈ ہوا۔کاروباری سرگرمیاں 95کمپنیوں تک محدود رہیں جن میں سے 36کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 19کے حصص کی قیمتوں میں کمی رہی جبکہ 40کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ میں آئی ایس ای 10 انڈیکس میں 111.92پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 2439.74پوائنٹس رہا جبکہ کاروباری حجم 9لاکھ29ہزار حصص سے زائد رہا۔
کراچی۔ کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 139.52 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس کا انقطاع 10374.30 پوائنٹس پر ہوا۔کاروباری سرگرمیاں 265 کمپنیوں تک محدود رہیں جن میں سے 118کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 133کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 14کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے علاوہ ازیں مارکیٹ میں کاروباری حجم 9کروڑ38لاکھ حصص سے زائد رہا اور کے ایس ای 30انڈیکس 152.30پوائنٹس اضافے سے 11559.58پوائنٹس پر بند ہوا۔ماہرین کے مطابق آئل، سیمنٹ اور فرٹیلائیزر سیکٹر کے حصص کی خریداری جاری رہی تو مارکیٹ مزید بہتری کی جانب جائیگی۔مارکیٹ میں پیر کو کاروبار میں نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک 59لاکھ89ہزار5سو حصص کی خرید و فروخت کے ساتھ سرفہرست رہا جس کے حصص 44 پیسے اضافے سے 9روپے48پیسے، ڈی جی خان سیمنٹ کے حصص 2روپے43پیسے اضافے سے 51روپے3پیسے، عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 6روپے20پیسے اضافے سے 130روپے20پیسے، اینگرو کیمیکلز کے حصص 6روپے5پیسے اضافے سے 217روپے5پیسے، نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے49پیسے اضافے سے 115روپے48پیسے، لکی سیمنٹ کے حصص 3روپے77پیسے اضافے سے 79روپے27پیسے اور او جی ڈی سی ایل کے حصص 5روپے41پیسے اضافے سے 113روپے71پیسے رہے۔دوسری جانب لاہور اسٹاک ایکس چینج میں بھی ایل ایس ای 25انڈیکس میں 106.49پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 3229.56پوائنٹس کی سطح پر ریکارڈ ہوا۔کاروباری سرگرمیاں 95کمپنیوں تک محدود رہیں جن میں سے 36کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 19کے حصص کی قیمتوں میں کمی رہی جبکہ 40کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ میں آئی ایس ای 10 انڈیکس میں 111.92پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 2439.74پوائنٹس رہا جبکہ کاروباری حجم 9لاکھ29ہزار حصص سے زائد رہا۔
سونے کی قیمتوں میں ٢ سے ٣ فیصد اضافہ
کراچی۔ ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں 2سے 3 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ قیمت350 روپے اضافے سے 26ہزار روپے جبکہ فی 10 گرام سونا 300 روپے اضافے سے 22ہزار285روپے ہوگیا ہے۔
کوئٹہ میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ‘ ٦ فوجی جاں بحق
کوئٹہ ۔ فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چھ فوجی جاں بحق جبکہ بڑی تعداد میں عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق پیر کی صبح صوبہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی کے نزدیک ہفتے کے روز عسکریت پسندوں نے ایک فوجی گاڑی پر حملہ کردیا ۔ ترجمان کے مطابق فوجی دستوں کو اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کے دو کیمپ تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جھڑپ میں بڑی تعداد میں عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں
٦٧ کروڑ بھارتی کھلی جگہوں پر رفع حاجت کر تے ہیں
نئی دہلی ۔ دنیا میں تقریباً ایک ارب بیس کروڑ افراد اب بھی رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں کا استعمال کر تے ہیں اور ہندوستان میں ایسے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے صفائی ستھرائی اور پینے کے صاف پانی کی سپلائی سے متعلق عالمی تنظیم صحت کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں تقریباً67 کروڑ افراد کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے لئے جاتے ہیں اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پوری دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد گھٹ رہی ہے 1990ء میں یہ تعداد 24 فیصد تھی جو 2006ء میں گھٹ کر 18 فیصد ہو گئی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں حالات میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تصدیق شدہ شناختی کارڈ کے بغیر موبائل سم جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی
اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تصدیق شدہ قومی شناختی کارڈکے بغیرموبائل سم جاری کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ کے لیے کوئی موبائل سم کسی بھی شخص کو دینے کی بجائے پوسٹل ایڈریس پر بھیجا جائے گا اس حوالے سے پی ٹی اے کو فروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں پیر کو وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بغیر تصدیق کے موبائل سم جاری نہیں کئے جائیں گئیں جبکہ موبائل سم کسی شخص کو دینے کی بجائے ان کی طرف سے فراہم کردہ پوسٹل ایڈریس پر بھیجا جائے گا اور حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کو اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے ثناء نیوز کو بتایا کہ حکومت نے جو فیصلہ دیا ہے ان کے مطابق اب کسی شخص کو موبائل سم ان کی طرف سے فراہم کردہ پوسٹل ایڈریس پر بھیجی جائے گی، کوئی موبائل کمپنی او دکاندار کسی شخص کو خود موبائل سم حوالے نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹل ایڈریس پر موبائل سم بھیجنے سے صارف کے پوسٹل ایڈریس کی تصدیق بھی کرنے میں مدد بھی ملے گی
امریکہ کا بی باون طیارہ جزیرہ گوام میں گر کر تباہ
واشنگٹن ۔ امریکہ کا جدید لڑاکا طیارہ بی باون فضائی پریڈ کے دوران پرواز کے فوراً بعدجزیرہ گوام میں گر کر تباہ ہو گیا بمبار طیارے پر عملے کے چھ ارکان سوار تھے جن میں سے دو کو جزیرہ گوام کے پانیوں سے نکال لیا گیا ہے ۔ جن کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ معلوم نہ ہو سکا نیوی کے ریسکیو عملہ ‘ کوسٹ گارڈ اور مقامی آگ بجھانے والا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور دیگر لاپتہ ارکان اور طیارے کے ملبہ کی تلاش شروع کر دی امریکہ فضائیہ کے مطابق حادثہ منگل کی صبح 9 بجکر 45 منٹ پر آپرا ہاربر سے تقریباً 30 میل شمال مغرب کی جانب پیش آیا ۔ واضح رہے کہ جزیرہ گوام میں رواں سال B-52 طیارے کے حادثہ کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ فروری 2008 ء کو بھی ایک B-52 طیارہ انڈرسن ایئر فورس بیس سے اڑان کے فوراً بعد گر کر تباہ ہوا تھا جس مین 2 پائلٹ نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر محفوظ رہے تھے فوج نے اس طیارے کے نقصان کی لاگت 1.4 ارب ڈالر لگایا تھا
حکومتی رٹ چیلنج کرنے کی صورت میں طاقت کا استعمال ہوگا، صوبائی کابینہ سرحد
پشاور ۔ سرحد کا بینہ نے صوبے میں امن وامان کے قیام کے لئے مذاکرات اور جرگوں کی راہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا اور شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کو اولیت دی جائے گی ۔صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں طاقت کا استعمال کیاجائے گا انہوں نے کہا کہ ہم کسی کی ڈیڈ لائن سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی ہم عسکریت پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے ۔اے این پی کی موجودہ حکومت مقررہ مدت پوری کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر غور و خوص ہوا کہ شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پہلے مارشل لاء نافذ ہو کر منتخب حکومتیں ختم کی جاتی رہیں اب عسکریت پسندوں کے ہاتھوں حکومتیں ختم ہوتی رہیں گی اگر یہ روایت قائم ہوئی تو آئندہ جمہوری حکومتوں کا بساد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ختم ہو گا ۔کابینہ نے سوات امن معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا تہیہ کیا اور فیصلہ کیاگیا کہ گرفتار ہونے والے دیگر کو بھی رہا کیا جائے گا ۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ معاہدے کے مطابق تین ماہ کے اندر شریعت نافذ کی جائے گی اور فوج کا انخلاء اس صورت ہو گا جب سوات میں مکمل امن قائم نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ سوات میں سکولوں کو بموں سے اڑایا جا رہا ہے مسلح افراد کی گشت جاری ہے ایسی صورتحال میں چیک پوسٹوں کا خاتمہ ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہنگو میں قیام امن کے لئے ثالثی جرگہ تشکیل دیا جا چکا ہے ۔حکومت کی جانب سے اسے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کی سطح پر امن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں کو نمائندگی دی جائے گی۔اس کمیٹی کے ذریعے عوام کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے گا
پاکستان میں طالبانائزیشن کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے ۔ شیر ی رحمان

راولپنڈی ۔ اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیری رحمن نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے تاہم کسی بیرونی طاقت کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے موجودہ مشکل اور نازک ترین حالات میں ہم ملک کو عدم استحکام سے بچانا چاہتے ہیں ۔ بعض ملک دشمن عناصر اسلام کا نام استعمال کررہے ہیں لیکن ہم مفاہمت سے معاملات سلجھانا چاہتے ہیں ۔ 5 سالہ کرپشن اور لوٹ مار کی صفائی کے بعد ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے موجودہ حکومت کو کم از کم چودہ ماہ کا عرصہ درکار ہے عوام تحمل کا مظاہرہ کریں پیپلزپارٹی اپنے وعدوں ‘ منشور اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے ۔ صحافت اور صحافیوں کی آزادی و فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی سہ پہر راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے دورے کے موقع پر منعقدہ بریفنگ میں کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات اکرم شہیدی اور پرنسپل انفارمیشن افسر و ایم ڈی پی تی وی غلام رسول باجوہ بھی موجود تھے۔ شیریں رحمان نے اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے لیے دو کروڑ 9 لاکھ روپے کے فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے چیک پریس کلب کے صدر کو دیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ آپ کی نمائندہ حکومت میڈیا کے حوالے سے انتہائی حساس ہونے کے ساتھ مسائل سے آگاہ ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کیے جائیں گے حکومت میڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے وزارت اطلاعات نے ماضی میں میڈیا پر پابندیاں عائد کیں ہم ایسا تاثر ختم کرنا چاہتے ہیں ہم نے بیشتر کالے قوانین ختم کیے ۔ پیمرا کو بذات خود ایک حد بندی میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈنینس کا مسودہ بھی نظر ثانی کے لیے کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے ۔ جو بعدازاں جلد اسمبلی میںپیش کردیا جائے گا۔ ویکٹم (VICTIM ) فنڈ کا آغاز کردیا جس کے شفاف استعمال کے لیے آئندہ ماہ ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی ۔ صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں حکومت ہر ممکن حد تک اپنا فرض سنبھالنے کے ساتھ مالکان کو بھی ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرے گی موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کی براہ رست کوریج کا نظام متعارف کروایا ۔ تاکہ عوام حکومتی کارکردگی سے پوری طرح آگاہ ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا وعدہ معلومات تک رسائی کا قانون ہے ۔ جس کے لیے انفارمیشن بل کا مسودہ تیاری کے مراحل میں ہے جس سے شفافیت کا نیا کلچر سامنے آئے گا ہم معلومات تک رسائی کو موثر اور فعال بنائیں گے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اس کے ادارے اپنے اندر بھی ضابطہ اخلاق کو فروغ دیں کیونکہ ایسے اقدامات ریاست پر مسلط نہیں کیے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایسی سنسنی خیز ی سے گریز کرے جس سے معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہو صحافی اپنے رویوں پر بھی دھیان دیں ۔ حکومت میڈیا پر کوئی ضابطہ اخلاق مسلط نہیں کرنا چاہتی تاہم اس حوالے سے میڈیا سے معاونت کرنے کو تیار ہے کیونکہ صحافیوں کی اپنی بدنظمی بعض تقریبات انتہائی بدمزگی کا سبب بنتی ہے اور ایسے کسی موقع پر اگرانہیں سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بائیکاٹ کی دھمکیاں دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنی ذمہ داریوںا وروعدوں اور منشور سے آگاہ ہے ۔ ورکنگ جرنلسٹوں کے لیے ویج بورد کے نفاذ پر جلد صحافی تنظیموں سے بات چیت کا آغاز کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعطم نے بھی یہ کہا کہ پاکستان اور حکومت کو فی الوقت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ پوری قوم کا اجتماعی مسئلہ ہے پچاس ڈالر فی بیرل پر تیل کی قیمت گزشتہ دور حکومت میں تھی جبکہ تجارتی خسارے میں انتہائی اضافہ ہو چکا تھا اب بھی حکومت پچاس روپے فی لیٹر پٹرول پر سبسڈی دے رہی ہے ۔ ہم نے جب چارج لیا تو خزانہ خالی تھا سابقہ حکومت نئے کرنسی نوٹ چھاپ کر مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ ہماری حکومت سے پہلے تو یوٹیلٹی سٹورز پر بھی آٹا نایاب تھا جس پر کابینہ کے ہنگامی اجلاسوں میں اس معاملے کو ہینڈل کیا گیا سابقہ حکومت نے مستقبل سے بے خوف ہو کر اس طرح گندم کا بحران پیدا کیا کہ ان کا خیال تھا کہ انہیں فرشتے دوبارہ انتخابات میں کامیاب کروائیں گیانہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کم از کم چودہ ماہ کا عرصہ درکار ہے ۔ گزشتہ حکومت نے بجلی کے انفراسٹرکچر میں ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں کی جس وجہ سے آج قوم کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 75 فیصد غذائی اشیاء امپورٹ کی جا رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کسانوں کو سہولیات دی جائیں زراعت کو ترقی دی جائے اس وقت سرحدی صورت حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے ملک خود کش حملوں کی زدمیں ہے انہوںنے چیلنج کیا کہ کوئی بھی شہری انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری تین ماہ کی کارکردگی کو سابقہ حکومت کے پانچ سال سے موازنہ کرکے دیکھ لے ۔ ہمارا مسئلہ افغان جہاد کے دور سے چلاآرہا ہے ۔ موجودہ منتخب حکومت کو اتنی مہلت ملنی چاہیئے کہ یہاںطالبانائزیشن کو پروان چڑھنے سے روکا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملک دشمن عناصر صرف اسلام کا نام استعمال کررہے ہیںلیکن ہم مفاہمت کے زریعے تمام بحرانوں پر قابو پاناچاہتے ہین حکومت موجودہ مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی کارروائی برداشت نہیں کی جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مشکل حالات مین ملک کو عدم استحکام میں نہیں ڈالنا چاہتے ۔ نہ ہی کوئی غیر آئینی کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 23 جولائی کوحکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہے
معز ول ججوں کی بحالی کیلئے ١٤ اگست کی ڈیڈ لائن دی ہے اور اس کے ساتھ ١٥ اگست کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ اعتزاز احسن کا سیمینار سے خطاب

لاہور ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد سب سے پہلے سپریم کورٹ بار کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات، سی این جی کی قیمتوں میں اضافے، آٹے اور بجلی کے بحران سے متعلق پٹیشن دائر کی جائے گی۔ ججوں کی بحالی پیپلز پارٹی پر قرض ہے ۔حکومت محترمہ شہید کے 9مارچ 2007ء کے بیان کو وصیت سمجھ کر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کردے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز یوم عدلیہ آزادی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ بار میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے ممبر پاکستان بار حامد خان حافظ عبدالرحمن انصاری صدر لاہور ہائیکورٹ بار انور کمال لاہور بار کے صدر منظور قادراور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ 19جولائی سے وکلاء تحریک کے چوتھے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے ہم نے حکومت کو 14اگست کی ڈیڈ لائن دی ہے اور اس کے ساتھ 15اگست کو کوآرڈی نیشن کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے ۔اگر جج بحال نہ ہوئے تو کونسل اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔انہوںنے کہا کہ 15اگست تک میں اپنی اس تجویز پر زور دیتا رہوں گا کہ اگر جج بحال نہیں ہوتے تو پھر ملک گیر دھرنوں کا فیصلہ ہونا چاہیے تمام شہروں کے کلیدی مقامات اور جی ٹی روڈ پر دو گھنٹے کے دھرنے دیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے کسان سے 625روپے من کے حساب سے گندم لیتی ہے جبکہ باہر سے 1400روپے من کے حساب سے لیتی ہے یہ اپنے کسان کے ساتھ ظلم کیوں کرتے ہیں چلیں پٹرول تو باہر سے آتا ہے مگر سی این جی تو ہماری اپنی پیداوار ہے اس پر عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جاتا۔انہوںنے کہا کہ ہماری پٹیشن کے بعد مکمل تحقیقات ہوگی اور پتہ چلے گا کہ کون کتنا منافع کھا رہا ہے کون عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال رہا ہے ۔ ممبر پاکستان بار حامد حان نے کہا کہ وکلاء متحد ہیں اور نمائندہ وکلاء کنونشن سے ان طاقتوں کو دھچکا لگا ہے جو وکلاء میں دراڑیں ڈالنا چاہتی تھیں۔ انہوںنے کہا کہ 19جولائی کے کنونشن کی پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی نے اپنے 22جون کے اجلاس میں منظوری دی تھی 22جون سے 18جولائی تک کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ پاکستان بار کونسل نے اس کی منظوری نہیں دی ۔فاروق نائیک کے کھانے کے بعد یہ باتیں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ جوجسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس مانتا ہے وہ حقیقی وکیل نہیں ہے ۔جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی پرویز مشرف کی طرح غاصب ہے۔
عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس ، صدر سوڈان کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں الزامات کی مذمت
قاہرہ ۔ عرب لیگ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر پراس بات کے لیے سخت تنقید کی کہ وہ نسل کشی کے الزامات کی بنیاد پر سوڈان کے صدر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ عرب لیگ نے کہا ہے کہ دارفور کی آویزش کو ختم کرنے کے لیے ڈپلومیسی کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔ عرب وزرائے خارجہ قاہرہ میں اس موضوع پر اپنا ہنگامی اجلاس منعقد کر رہے ہیں ۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسی اس بحران کو ختم کرنے کے لیے منصوبہ سے سوڈانی قیادت کو واقف کرانے کے لیے آج خرطوم جائیں گے۔ امر موسی نے کہا کہ وہ اگلے دو دن میں تفصیلات کا اعلان کریں گے ۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیورٹر لوئی مورینو اوکیمپو نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ دارفور میں انسانیت کے خلاف جرائم کے شبہ میں سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کریں۔ عرب لیگ کے وزارتی اجلاس کے قطعی اعلامیہ میں سیاسی تصفیہ کو ترجیح دینے اور دارفور میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے ایک اعلی سطح کا بین الاقوامی چوٹی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت پر زور دیاگیا ہے۔ عرب لیگ کی قرار داد میں بشیر کی گرفتاری کے لیے عالمی عدالت سے مانگ کرنے اور کیمپو کے غیر متوازن موقف پر تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر عدالت اس درخواست کو منظور کرتی ہے تو پہلی مرتبہ ہو گا کہ بین الاقوامی عدالت کسی ملک کے موجودہ سربراہ کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرے ۔ قبل ازیں عرب لیگ کے وزارتی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے جیبوتی کے وزیر خارجہ محمود علی یوسف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ایک خطرناک نظیر قائم کر دی ہے ۔ فرد جرم عائد کرنا سرباہان مملکت کے ساتھ نمٹنے کی ایک خطرناک نظیر ہے ۔ اس کے نہ صرف سوڈان کے لیے بلکہ سارے علاقہ کے لیے بھی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔ عرب لیگ کے اجلاس سے چند ہی گھنٹوں قبل یمن کی پارلیمنٹ نے صدر سوڈان کے خلاف الزآمات کی مذمت کرتے ہوئے ان الزامات کو غیر قانونی اور بے بنیاد قرار دیا۔ یمن کے ایوان نمائندگان نے ایک قرار داد منظور کی جس میں ان الزامات کو بالکلیہ جھوٹے اور سوڈان کے داخلی امور میں در اندازی قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا۔ یمنی پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ الزامات عرب اور مسلم ملکوں کو نشانہ بنانے کی سازش کا ایک حصہ ہے ۔ دوسرے عرب عہدیداروں نے بھی ان الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ۔ قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس میں جیبوتی کے وزیر خارجہ نے عالمی عدالت میں عائد کئے گئے الزامات پر سخت تنقید کی اور انہیں بین الاقوامی برادری کے دوہریمعیار سے تعبیر کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ساری دنیا برسہا برس سے بے بس فلسطینیوں کے مصائب کو دیکھ رہی ہے لیکن اسے ختم کرنے کے لیے وہ ذرا سی بھی حرکت نہیں کرتی
ایران پر حملے کی صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔ مائیکل مولن کا انتباہ
واشنگٹن ۔ امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔ واشنگٹن میں مقامی ٹیلی ویژن پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایڈمرل مولن نے کہا کہ ایران پر حملے کے غیر معمولی نتائج برآمد ہوں گے اور پورا مشرق وسطی طلاطم میں مبتلا ہو جائے گا۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن واستحکام کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت جوائنٹ چیف آف سٹاف اس وقت عراق اور افغانستان میں حالت جنگ میں ہیں اور ایران پر حملہ کرکے تیسرا محاذ نہیں کھولنا چاہیئے ۔ بائیک مولن نے یقین ظاہر کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن امریکہ اس تنازعہ کا پرامن حل تلاش کرلے گا۔
کشمیر میں فوجی ایک کروڑ مالیتی ہیروئین کے ساتھ گرفتار
جموں ۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں پولیس نے ایک فوجی جوان کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے ایک کروڑ روپے مالیتی ہیروئن (منشیات) برآمد کیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس نے گزشتہ رات کانڈی پٹی پر واقع انفاجہ مورہ مقام پر سومیت سنگھ کو روکا اور ایک کروڑ روپے مالیتی ہیروئن برآمد کی ۔ انہوں نے بتایا کہ سنگھ جو 13ویں جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری سے تعلق رکھتے ہیں فی الوقت اودھم پور پٹی پر تعینات ہے۔ جوان کی گرفتاری کی توثیق کرتے ہوئے فوج کے ترجمان کرنل ایس ڈی کو سوامی نے بتایا کہ جوان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور اس معاملے میں کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے
ایران میں آٹھ عورتوں کو سنگ سار کرنیکا حکم
تہران ۔ ایران میں آٹھ عورتوں اور ایک مرد کو بدکاری کے جرم میں شرعی حکم کی بنا ء پر سنگ سار کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔ملزمان کے وکلاء نے کہا ہے کہ ان کے مؤکلوں کو کسی وقت بھی سنگ سار کیا جا سکتا ہے۔وکلاء نے ایران کی اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنگ سار کیئے جانے کے حکم پر عملدرآمد کو رکوائے۔ایران کے قانون کے مطا بق بدکاری کا جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں مجرم کو سنگ سار کرنے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ برس بھی ایک شخص کو بدکاری کے جرم میں سنگسار کیا گیا تھا۔ جن آٹھ عورتوں کو سنگ سار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کی عمریں ستائیس سے تینتالیس برس کے درمیان ہیں۔ سنگ ساری کی سزا پانے والے پچاس سالہ موسیقار پر الزام ہے کہ اس نے اپنی ایک شاگرد کے ساتھ ساتھ زنا کیا۔ 2002 ء میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ محمد ہاشمی شاہرودی نے سنگ سار کی سزا پر عملدرآمد روک دیا تھا لیکن اس کے باوجود گزشتہ تین سالوں میں کم از کم تین لوگوں کو سنگ سار کیا گیا۔
یت اللہ محسود کی جانب سے دی جانیوالی دھمکی کے حق میں ہیں ، طالبان ترجمان
سوات ۔ تحریک طالبان سوات کے طالبان کے ترجمان مسلم خان نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت امن معاہدے پر عمل درآمد میں بے بس نظر آ رہی ہے اور وہ بیت اللہ محسود کی جانب سے دی گئی دھمکی سے اتفاق کرتے ہیں ۔ ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان سرحد حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر عمل درآمد میں مخلص ہیں۔ امن معاہدہ برقرار ہے اور برقرار رہے گا تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ سرحد حکومت معاہدے پر عمل درآمد میں بے بس نظر آ رہی ہے اور اب تک اس معاہدے کے تحت طالبان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں اب تک نہ تو کوئی چیک پوسٹ ختم کی گئی ہے اور نہ ہی فوج واپس بلائی گئی ہے۔ سرحد حکومت کے ساتھ طالبان تصادم نہیں چاہتے لیکن سرحد حکومت اپنے وعدے پورے کرنے ۔ مسلم خان نے کہا کہ سرحد حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کئے گئے ہیں کیونکہ سرحد حکومت نے طالبان کے خلاف ہنگو میں آپریشن کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ وہ بیت اللہ محسود کی جانب سے دی جانیوالی دھمکی کے حق میں ہیں
جعفر آباد میں ریموٹ کنٹرول بم دھما کہ ، ٤ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق
کوئٹہ ۔ جعفر آباد کے علاقے صحبت پور میں ریموٹ کنٹرول بم سے حملے میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق صحبت پور میں ایک پل کے نیچے ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا گیا تھا جیسے ہی سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پل کے قریب پہنچی تو اسے دھماکے سے اڑا دیاگیا ۔ دھماکے کے نتیجے میں چار اہلکاروں سمیت چھ مزدور اور دو راہگیر شدید زخمی ہو گئے ۔
پٹرولیم مضوعات میں اضافے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
اسلام آباد ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حالیہ اضافے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز موومنٹ محمد اشفاق چوہدری کی جانب سے پٹرولیم مضوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف پیٹیشن دائر کر گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے عرصے میں حکومت چھے مرتبہ پٹرولیم مضوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہے جوعوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی ہے لیکن اس سلسلے میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کو ہدایت جاری کر ے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اندرون ملک نقل و حمل اور علاج معالجے کی اجازت

اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی کے بارے میں دائر رٹ پر فیصلہ سناتے ہوئے سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد انہیں اندرون ملک نقل و حرکت اور علاج ومعالجہ کی اجازت دے دی ہے ۔ تاہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان میڈیا کو انٹرویو نہیں دیں گے اور ایٹمی پھیلاؤ کے بارے میں میڈیا سے بات چیت نہیں کریں گے پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندرون ملک نقل و حرکت پر عائد پابندی اٹھانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ان کو اندرون ملک نقل و حرکت کی اجازت دے دی ساتھ ہی عدالت عالیہ نے انہیں علاج معالجے کی بھی اجازت دی ۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ریسرچ ورک کے لئے لائبریری جانے کی بھی اجازت ہو گی اور وہ اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب سے بھی مل سکتے ہیں تاہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان میڈیا کو انٹرویو نہیں دیں گے اور نہ ہی ایٹمی پھیلاؤ کے بارے میں بات چیت کریں گے ۔ عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل اقبال جعفری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو جو ریلیف دی گئی ہے وہ کم ہے اور وہ اس کے خلاف ( آج ) منگل کو نظرثانی کی درخواست دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں اقبال جعفری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ حکومتی گماشتے اس میں تبدیلی نہیں لا سکتے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پروٹوکول کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں اقبال جعفری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے پروٹوکول کے لئے میں نے کوئی درخواست نہیں دی تھی ان کا پروٹوکول عوام اور دنیا کے مسلمان ہیں
کشمیریوں اور فریقین کی مرضی سے مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل سامنے آسکتا ہے ۔ صدر پرویز مشرف
اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں ، کشمیریوں کے لیے اعتماد سازی کے حوالے سے مزید اقدامات کئے جائیں گےآزاد کشمیر حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی ۔مقامی حکومتوں کے نظام کی حمایت جاری رکھیں گے عوامی مشکلات کے حل کے لیے بہترین نظام ہےآزادکشمیر کے وزیراعظم اور تحصیل ناظم مری سردار سلیم سے ملاقاتوں میں بات چیت
مری ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں۔ کشمیریوں کے لیے اعتماد سازی کے مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔تنازعہ کشمیر کشمیریوں اور تمام فریقین کی مرضی سے حل کرکے خطے میں پائیدار امن اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں تعمیر وترقی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی ۔مقامی حکومتوںکے نظام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ عوامی مشکلات کے فوری حل کے لیے مقامی حکومتیں ایک بہترین نظام ہیں بہتری کی گنجائش ہر نظام میں ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ صدر پاکستان نے ان خیالات کا اظہار آزادکشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے یہاں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ سردار عتیق احمد خان نے صدر سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر ،آزادکشمیر کی صورت حال ، آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد تعمیر و ترقی کی صورت حال سے صدر کو آگاہ کیا ۔ صدر پرویز مشرف نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ زلزلے کے بعد بھرپور انداز میں بحالی و تعمیر نو کا عمل شروع ہو ا جو کامیابی سے جاری ہے ۔ مجھے امید ہے کہ بحالی و تعمیر نو کے عمل مکمل ہونے کے بعد عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے آزادکشمیر حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار اداکرنا ہو گا۔ کشمیریوں اور تمام فریقین کی مرضی سے پائیدار حل سامنے آسکتا ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیریوں کو ظلم اور نا مساعد حالات سے نجات حاصل ہو ۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان نے اعتماد سازی کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں ۔ پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے لیے اپنی تمام کاوشیں بروئے کار لائی جائیں ۔ اس حوالے سے حکومت کی ہر کوشش کی حمایت کی جائے گی ۔تحصیل ناظم مری سے ملاقات میں صدر پرویز مشرف نے مقامی حکومتوں کے نظام کی حمایت کرتے ہوئے ناظمین کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بنیادی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے یہ نظام انتہائی مفید اور کارآمد ثابت ہو رہا ہے تاہم بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ صدر مملکت نے مری میں پودا لگا کر مون سون کی شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا ۔تحصیل ناظم سے ملاقات میں صدر نے مزید کہا کہ مقامی حکومت کا نظام عوامی مشکلات کے حل میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ اسے ختم کرنے کے بجائے اس میں ناظمین کی مشاورت سے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نظام کے حامی ہیں۔ نظام کو جاری رہنا چاہیے مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے صدر مملکت نے ناظمین کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے
مری ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں۔ کشمیریوں کے لیے اعتماد سازی کے مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔تنازعہ کشمیر کشمیریوں اور تمام فریقین کی مرضی سے حل کرکے خطے میں پائیدار امن اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں تعمیر وترقی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی ۔مقامی حکومتوںکے نظام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ عوامی مشکلات کے فوری حل کے لیے مقامی حکومتیں ایک بہترین نظام ہیں بہتری کی گنجائش ہر نظام میں ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ صدر پاکستان نے ان خیالات کا اظہار آزادکشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے یہاں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ سردار عتیق احمد خان نے صدر سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر ،آزادکشمیر کی صورت حال ، آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد تعمیر و ترقی کی صورت حال سے صدر کو آگاہ کیا ۔ صدر پرویز مشرف نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ زلزلے کے بعد بھرپور انداز میں بحالی و تعمیر نو کا عمل شروع ہو ا جو کامیابی سے جاری ہے ۔ مجھے امید ہے کہ بحالی و تعمیر نو کے عمل مکمل ہونے کے بعد عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے آزادکشمیر حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار اداکرنا ہو گا۔ کشمیریوں اور تمام فریقین کی مرضی سے پائیدار حل سامنے آسکتا ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیریوں کو ظلم اور نا مساعد حالات سے نجات حاصل ہو ۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان نے اعتماد سازی کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں ۔ پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے لیے اپنی تمام کاوشیں بروئے کار لائی جائیں ۔ اس حوالے سے حکومت کی ہر کوشش کی حمایت کی جائے گی ۔تحصیل ناظم مری سے ملاقات میں صدر پرویز مشرف نے مقامی حکومتوں کے نظام کی حمایت کرتے ہوئے ناظمین کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بنیادی سطح پر عوام کے مسائل کے حل کے لیے یہ نظام انتہائی مفید اور کارآمد ثابت ہو رہا ہے تاہم بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ صدر مملکت نے مری میں پودا لگا کر مون سون کی شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا ۔تحصیل ناظم سے ملاقات میں صدر نے مزید کہا کہ مقامی حکومت کا نظام عوامی مشکلات کے حل میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ اسے ختم کرنے کے بجائے اس میں ناظمین کی مشاورت سے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نظام کے حامی ہیں۔ نظام کو جاری رہنا چاہیے مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے صدر مملکت نے ناظمین کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
