International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Monday, July 28, 2008

قیادت کے غلط فیصلوں سے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔مخدوم امین فہیم



اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ قیادت کے غلط فیصلوں سے پیپلز پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارت داخلہ کے تحت کئے جانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بغیر مشاورت اور غیر سنجیدہ فیصلوں کے کنفیوژن پیدا ہو ا ہے لہذا حکومت کو سوچ سمجھ اور جلد بازی کے بغیر فیصلے کر نے چاہیں تا کہ بعد میں ان کی سبکت نہ ہو کیونکہ اس وقت جو کچھ ہوا ہے موجودہ حکومت کی بدنامی ہوئی ہے جو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ باتیں کر تے ہوئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کو متحد اور ایک ہی دیکھنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ یہ کبھی تقسیم نہ ہو پیپلز پارٹی ذوالفقار اور بے نظیر بھٹو کی پارٹی ہے اور پاکستان کے غریب عوام کی جماعت ہے اسے ہم ٹوٹنے نہیں دیں گے اسے ایک ہی رکھیں گے مگر حکومت جو جلد بازیاں کر رہی ہے اس سے پیپلز پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے پیپلز پارٹی کا یہ موقف تھا کہ ایجنسیوں کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے مگر اس طرح کے فیصلوں سے حکومت کی ساکھ تیزی سے گر رہی ہے

صوبہ سندھ میں جسٹس افتخا ر کو چیف جسٹس کا پر وٹو کو ل دیا جائے ، وکلا


کراچی ۔ کراچی کے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پنجاب اور سرحد کی طرح چیف جسٹس کا پروٹوکول فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وکلاء رہنماؤں نے سندھ ہائی کورٹ، کراچی اور ملیر بارز میں نیوز کانفرنسز کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کراچی میں ان کے شایان شان استقبال کیا جائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری منیر الرحمان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی سیکورٹی کیلئے حکومت سندھ اور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ارسال کئے گئے خطوط کے جواب موصول نہیں ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت پنجاب اور سرحد کی طرح چیف جسٹس کو سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرے۔ کراچی بار کے صدر محمود الحسن اور ملیر بار کے صدر امان اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری سیکورٹی معاملات کی وجہ سے کراچی اور ملیر بار کا دورہ نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے ۔ عمران خان




اسلام آباد ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے حوالے سے برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ نے پیش رفت کی ہے ہم تحریک کے موقف پر قائم ہیں پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے 14اگست کو اسلام آباد میں بڑی سیاسی سرگرمی منعقد کی جائے گی اے پی ڈی ایم کے سر براہی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تحریک کے حوالے سے ان کی جماعت اپنے موقف پر قائم ہے 14اگست کو نہ صرف حقیقی آزادی کے یوم کے حوالے سے منایا جائے گا بلکہ اس روز اسلام آباد میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا جائے گا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آابد میں اس بڑی سیاسی سرگرمی کے پاکستان تحریک انصاف کے سر براہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن پے در پے غلطیاں کر رہی ہے اسے مزید کوئی غلطی نہیں کر نی چاہیے اور حکومت سے علیحدگی اختیار کر نی چاہیے انہوں نے کہا کہ ویسے اس حکمران اتحاد میں کوئی مشترکات نہیں ہیں آصف علی زر داری این آر او کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے مسلم لیگ ن اپنی اتحادی جماعتوں کو آج تک آمادہ نہیں کر سکی ہے عمران خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ میں اس معاملے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے تفصیلات سے آگاہ کر نا ابھی قبل از وقت ہو گا اس سے گواہان کو پریشانی ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے خلاف اس ایشو کے حوالے سے سکاٹ لینڈ کی پولیس کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔

کراچی اسٹاک ایکس چینج کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز شدید مندی

کے ایس ای 100 انڈیکس حصص کی قیمتوں میں 4 فیصد کمی سے گزشتہ ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ریکارڈآج متوقع زری پالیسی میں شرح سود میں ممکنہ اضافہ سرمایہ کاروں میں باعث تشویش ہے، ساجد بھانجیکے ایس ای 100 انڈیکس رواں سال کے آغاز سے 24.9 فیصد اور 21 اپریل کی بلند ترین سطح سے 32.8 فیصد مندی کا شکار
کراچی۔ کراچی اسٹاک ایکس چینج کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز پیر کو حصص کی قیمتوں میں 4 فیصد کمی سے گزشتہ ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق کاروباری ہفتے کے ابتدائی روز ہی انڈیکس میں مندی اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی آج(منگل)کو اعلان کی جانے والی متوقع زری پالیسی ہے جس میں شرح سود میں اعشاریہ 5 فیصد سے 1.5فیصد اضافے کا امکان ہے۔پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 4.11 فیصد یا 453.68 پوائنٹس کی مندی سے 10578.49 پوائنٹس ریکارڈ ہوا اور یوں 11 ہزار پوائنٹس کی حاصل ہونیوالی سطح ایک بار پھر گرگئی۔واضح رہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں رواں سال کے آغاز سے 24.9 فیصد اور 21 اپریل کی بلند ترین سطح سے 32.8 فیصد مندی کا شکار ہوچکا ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ میں بروکریج لیڈر ساجد بھانجی کے مطابق سرمایہ کار توقع کررہے ہیں کہ زری پالیسی میںشرح سود میں1.5 فیصد کا اضافہ ہوجائیگا جس سے ان میں کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افراط زر کی گزشتہ 3دہائیوں کی بلند ترین سطح پر قابوپانے کیلئے قرین قیاس ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان سخت مانیٹری پالیسی کا اعلان کریگا۔دوسری جانب سے آئی ایم ایف کی جانب سے بھی پاکستان کی انتظامیہ کو افراط زر کی شرح اور تجارتی و مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی ہدایات کی گئی تھیں۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو مجموعی طور پر 8کروڑ30لاکھ حصص سے زائد کا کاروبار ہوا جبکہ 270سرگرم حصص میں سے 36کی قیمتوں میں اضافہ اور 229کی قیمتیں تنزلی کا شکار ہوئیں تاہم 5 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے ریکارڈ ہوئے۔مارکیٹ میں نمایاں کمپنیوں میں بی او پنجاب 1کروڑ27لاکھ1ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ سرفہرست رہا جس کے حصص 1.30روپے اضافے سے 27.34روپے رہے دیگر نمایاں کمپنیوں میں عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 6.87روپے کی کمی سے 130روپے78پیسے، او جی ڈی سی ایل کے حصص 5.78روپے کی کمی سے 109.97روپے، این آئی بی بنک کے حصص 1روپے کی کمی سے 10روپے، ایم سی بی بنک کے حصص 6.13روپے کی کمی سے 263روپے، زیل پاک کے حصص 32پیسے کی کمی سے 2روپے3پیسے اور مائی بنک کے حصص 40پیسے کی کمی سے 15روپے70پیسے ریکارڈ ہوئے۔

سرحد کے آٹھ اضلاع ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر ہائی سکیورٹی زون میں شامل

سوات میں تحریک طالبان کی جانب سے امن معاہدہ معطل کرنے کے بعد سیکورٹی حالات بہتر بنانے کی ہدایتپشاور ۔ سوات میں تحریک طالبان کی جانب سے امن معاہدہ معطل کرنے کے بعد سرحد کے آٹھ اضلاع کو ممکنہ تخریب کاری اور دہشت گردی کے پیش نظر ہائی سکیورٹی زون میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی اضلاع میں سیکورٹی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔ سوات میں مقامی طالبان کی جانب سے امن معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کے بعد اور ممکنہ آپریشن کے پیش نظر خودکش حملوں اور امن وامان کی صورتحال کے لئے سرحد کے آٹھ اضلاع کو نئے سیکورٹی پلان کے تحت ہائی سکیورٹی زون میں شامل کر دیاگیا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو ارسال کردہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ممکنہ تخریب کاری اور دہشت گردی صوبے کے ان آٹھ اضلاع میں کی جا سکتی ہے جہاں پر تخریب کار اور دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے مقامات کے باہر کاروائی کر سکتے ہیں ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے آٹھ اضلاع کو ہائی سیکورٹی زون میں شامل کر دیا ہے ۔ ان اضلاع میں پشاور ، مردان ، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان ، نوشہرہ ، ابیٹ آباد اور ٹانک کا شامل ہیں جبکہ باقی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہ سیکورٹی کے حالات کے پیش نظر چوکس رہیں ۔ تمام سرکاری وغیر سرکاری اہم مقامات پر سیکورٹی کے دستوں میں اضافہ کیا جائے ۔ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے ۔ بین الاضلاعی کے مسافرجو کہ سراؤں ، ہو ٹلوں ، گیسٹ ہاوسز میں رہائش پذیر ہیں کی نگرانی کی جائے ۔

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے سید علی گیلانی کی قیادت میں متحد ہو جائیں ۔، آسیہ اندرابی

اسلام آباد ۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے ایک ہوکر سید علی گیلانی اس کی نمائندگی کرے۔ اسلام آباد کے ٹاؤن ہال میں آج ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہا’’میں اس بات میں یقین رکھتی ہوں کہ حریت نواز جماعتوں میں اتفاق ہو اوروہ متحد ہوکر آزادی کی جدوجہد کو منطقی انجام تک لے جائیںتاہم اتحاد کے قیام میں اصولوں کو قربان نہیں کیا جانا چاہئے‘‘۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ اس ضمن میں انہوںنے سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کے ساتھ کئی نشستیں کیں تاکہ ’’بھارت کے قبضے سے ریاست کو آزادی مل سکے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے میرواعظ عمر کو اس بات کی وضاحت کی کہ کشمیریوںکو ایک مضبوط نمائندے کی ضرورت ہے اور بزرگ حریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی اس کے لئے موزوں انتخاب ہیں اور میرواعظ نے میری تجویز سے اتفاق کیا‘‘۔ انتخابی بائیکاٹ کی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہا کہ یہ انتخابی عمل بے سود ہے اور حق خودارادیت کے سوا کشمیریوں کو اور کوئی حل قابل قبول نہیں ہے۔ انہوںنے کشمیری خواتین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن شناختی کارڈ بنوانے کے لئے اپنے فوٹو نہ دیں۔ آسیہ اندرابی نے کہا کہ ’’ہمارے لئے بھارت کے قبضہ اور ووٹر شناختی کارڈ کے اجراء کرنا بے معنی ہے اور ہمیں اپنے فوٹو اْن کے سپرد نہیں کرنے چاہئے جنہوںنے ہماری پاکیزگی کو سبوتاژ کیا ہے‘‘۔انہوںنے ان خدشات کااظہار کیا ہے کہ فوٹو گرافوں کے ذریعہ خواتین کا استحصال کیاجاسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ’’بلیک میلنگ کرنے کے قوی امکان ہے لہذا حکومت کو ووٹر شناختی کارڈوں کے بجائے کریڈ ٹ کارڈ بنانے چاہئے‘‘۔آسیہ اندرابی نے مزید کہا کہ ان کے علاقہ میں ایسے غیر اثرورسوخ رکھنے والے والے ایک غیر ریاستی ملہوترا کنبے سے تعلق رکھنے والے 15افراد کو ووٹر شناختی کارڈ اجراء کئے گئے ہیں۔بھارت نواز سیاستدانوں پر الزام لگاتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہاکہ خواہ ان کا تعلق این سی یا پی ڈی پی سے ہو، یہ بھارت کے ایجنڈے کو آگے لے جارہے ہیں اور یہ لوگ کشمیریوں کے دشمن ہیں، لہذا ان عناصر کا سماجی بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ سماج میں بڑھ رہی بے راہ روی پر تشویش کا اظہار کرتے دختران ملت سربراہ نے اس کی ذمہ داری بھارتی حکومت اور بھارت نواز سیاسی جماعتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتی ہے۔آسیہ نے کہا کہ ’’میں مسلم بھائیوں کو نصیحت کرتی ہوں کہ وہ اسلام مخالف عناصر کا ساتھ نہ دیں اور قرآن و سنت کا پابند بنیں‘‘۔انہوںنے لڑکی کے والدین پر زور دیا کہ وہ اسکول، کالج اور 15اگست کی ثقافتی سرگرمیوںمیں اپنے بچوں کو شریک ہونے سے روک دیں

انتہا پسند ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کر دی

احمدآباد ۔ بھارتی ریاست گجرات میں بم دھماکو ں کے بعد انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد نے مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کر دی ہے اور بھارت میں تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وشوا ہندو پریشد اپنی اس تحریک کے دوران ملک بھر میں جلسے جلوس اور مظاہرے کر ے گی۔ بنگلور اور احمد آباد میں ہونے والے بم دھماکوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وشوا ہندو پریشد کے جنرل سیکرٹری پراوین تو گاڈیا نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے جہادی دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پراوین تو گاڈیا نے مسلمانوں کو بھارتی فوج اور محکموں میں کوٹہ دینے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ طرزعمل بھارت کو تباہ کر دے گا۔ انتہا پسند ہندو راہنما نے مطالبہ کیا کہ بھارت میں تمام مدارس کو بند اور جہادی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک پاکستان اوربنگلہ دیش سے تجارتی اور سیاسی رابطے ختم کر دیئے جائیں ۔ بھارتی مسلم راہنماؤں نے وشوا پر یشد کے اس اعلان کو مسلم کش فسادات کرانے کی سازش قرار دیا ہے

وانا میں قبائلی سردار کے گھر پر میزائل حملہ ‘ ٦ افراد ہلاک

وانا ۔ جنوبی وزیر ستان کے مرکز وانا میں ایک قبائلی سردار کے گھر پر میزائل حملے میں ٦ افراد ہلاک ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق اعظم ورسک میں ڈیرہ خیل وزیر کے مقام پر نامعلوم سمت سے آنے والے میزائل غلام خیل وزیر کے گھر پر گرے جس کے نتیجے میں ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور 6 افراد ہلاک ہو گئے اور 3 افراد زخمی بھی ہوئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 3 مشتبہ افراد ہیں ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے 3 غیر ملکی مشتبہ افراد گھر میں پناہ لئے ہوئے تھے تاہم اس حوالے سے فوری طور پر سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ۔ مقامی افراد نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ نیٹو فورسز نے کہا ہے اس حمیل کے فوراً بعد علاقے میں نیٹو فورسز کے طیارے بھی دیکھے گئے۔

خارجہ پالیسی پارلیمنٹ میں بننی چاہیئے، نواز شریف



واشنگٹن ۔ پاکستان مسلم لیگ( ن )کے سربراہ نواز شریف نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کے بارے میں وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں چاہے جو بھی جمہوری حکومت ہو، اس کا نصب العین یہی ہونا چاہیئے کہ امریکہ سمیت تمام ملکوں کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ برقرار رہے۔لندن سے فون پر بات کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں پاکستان کی طرف سے فوجی کارروائیوں میں شدت لانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پچھلے آٹھ برسوں میں پرویز مشرف کی حکومت نے جو کیا ہے، اس کی ماضی میں مثال ملنا مشکل ہے۔ انھوں نے نہ تو کبھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا نہ کسی اور سے اس سلسلے میں مشورہ کیا۔ لیکن اگر اس کے باوجود امریکہ کو یہ شکایت ہے کہ کافی کچھ نہیں کیا تو پھر اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔انھوں نے کہا کہ ان فیصلوں کا پاکستان کے مستقبل سے گہرا تعلق ہے، اس لیے اس مسئلے کو محدود پیمانے پر حل کرنے کی بجائے پارلیمنٹ سے حل کرایا جائے۔

ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی جاری رہنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدر ، وزیر اطلاعات سمیت ١١ افراد کے خلا ف توہین عدالت کی د رخواست دائر

اسلام آباد ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل بیرسٹراقبال جعفری نے ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی جاری رہنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں 11 شخصیات کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے ۔ پیر کے روز دائر کی جانے والی درخواست میں صدر پرویز مشرف ،وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان ، اٹارنی جنرل ملک قیوم ، سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سمیت گیارہ افراد کو فریق بتایا گیاہے اور استدعا کی گئی ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ کیونکہ ان افراد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اس فیصلے میں ڈاکٹر قدیر کو اپنے اعزو اقارب اور رفقاء سے ملنے کی اجازت دی تھی لیکن ان گیارہ افراد نے اس حکم پرعملدرآمد کی راہ میں روڑے اٹکانے اور ڈاکٹر قدیر پر پابندیاں مزید سخت کردی گئیں ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کئی سالوں سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اب ان کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ۔ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔ صدر پرویز مشرف 8 اگست سے چین کے سر کاری دورے پر بیجنگ جائیں گے جہاں وہ بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر یں گے پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں وزیر اعظم دو سے تین اگت کو کولمبو میں سارک کانفرنس میں شرکت کریں گے امریکی ایئر بیس پر کوئی پاکستانی خاتون قید نہیں ہے یہ بات ترجمان دفتر خارجہ محمد صادق نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہی انہوں نے کہا صدر پرویز مشرف 8 اگست کو چین کے دورے پر بیجنگ جائیں گے اور بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے انہوں نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف کو چین کے صدر نے دورے کی دعوت دی ہے اپنے دورے کے دوران صدر پرویز مشرف چین کے صدر ہو جنتاؤ سے بھی ملاقات کریں گے اس دوران بیجنگ اولمپکس میں کئی دوسرے عالمی رہنما بھی شرکت کریں گے اس موقع پر صدر پرویز مشرف اور دوسرے عالمی رہنماؤں کے درمیان اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور عالمی معیار کے مطابق ان کی حفاظت کی جا رہی ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کافی عرصے سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ان کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی2سے 3اگست تک پاکستانی وفد کے ہمراہ سری لنکا میں ہو نے والی سارک کانفرنس میں شرکت کریں گے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے سارک کانفرنس کے دوران ملاقات کے دوران وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ملاقات کا وقت بھی طے نہیں ہوا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی سارک کے وزراء سطح کے 30ویں سیشن میں اگلی جمعرات کے روز شرکت کریں گے انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی اس دوران اپنے بھارتی ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نیم کے پندرہویں اجلاس میں پاکستانی وفد کے ہمراہ شرکت کریں گے اس اجلاس میں پاکستان سے متعلقہ کئی امور پر بات چیت کی جائے گی انہوں نے کہا کہ توقع ہے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ سے دو طرفہ معاشی سیکورٹی اور سٹریٹیجک کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعیب میں تعاون کا خواہاں ہے اور اس بات چیت میں سر مایہ کاری ایجنڈے کا اہم حصہ ہو گی امریکہ بھارت نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے اس کے قومی مفادات اہم ہیں اور ان کا ہر سطح پر تحفظ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے کئی واقعات ہوئے ہیں اور اس حوالے سے دونوں ممالک کی فلیگ میٹنگ ہو گی جس میں ان واقعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بگرام ایئر بیس پر کوئی پاکستانی خاتون قید نہیں ہے اس حوالے سے افغان حکومت اور امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی صحافی نیئر زیدی کی گرفتاری کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کے خاندان کی ہر طرح کی مدد کی جائے گی بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کر وانے کے حوالے سے تر جمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات کر انے کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر قواعد و ضوابط طے کر رہے ہیں

آمر کی پالیسیوں نے ایٹمی قوت پاکستان کو کشکول اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ میاں شہبازشریف


سیالکوٹ ۔ وزیر اعلی پنجاب میاں محمدشہبا زشریف نے کہا ہے کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم کشکول اٹھانے پر مجبور ہیں۔ ملک کو بچانے کیلئے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی اور سول سوسائٹی کو بھی اس سلسلہ میں حکومت کے ساتھ جدوجہد کرنا ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے ،لوگ گندگی ملا پانی پینے پر مجبور ہیں ۔ ہم عوا م سے کئے گئے تمام وعدے پورے کریں گے اور ملک میں صنعتوں کا جال بچھالوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شیخ محمد شفیع آڈیٹوریم میں صنعتکاروں اور برآمدکندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلی نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران جن پالیسیوں پرعمل کیا گیا اس کی وجہ سے ہی ملک میں مہنگائی اور مسائل ہیں اور آج کروڑوں عوام ایک وقت کے آٹے کیلئے ترستے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ خود کو وزیر اعلی نہیں بلکہ عوام کاخادم اعلی سمجھتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے دن رات نیک نیتی سے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے چیف منسٹر ہاؤس میں ایک خصوصی سیل بنادیا گیا ہے جوان کے مسائل اور مشکلات کے فوری حل کیلئے اقدامات کرے گا ۔وزیر اعلی نے کہا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے پاکستان کی ترقی کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے اور اس پر بزنس کمیونٹی کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمسایہ ممالک کی انڈسٹری ہم سے آگے نکل گئی ہے جوکہ بدقسمتی ہے اور یہی حال پاکستانی روپے کا ہے جو1990میں بھارت روپے کے مقابلے میں مضبو ط تھا لیکن آج بھارتی روپیہ پاکستانی روپے کے مقابلہ میں بہتر پوزیشن میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایگروانڈسٹری کو فروغ دینا ضروری ہے زراعت کے شعبہ میں ہم ڈیری فارم اور ملک پلانٹ لگاکر ملک میں زراعت کو ترقی دے سکتے ہیں اور اس منافع بخش کام سے ملک کی معیشت مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقع مل سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے پالیسی بنائے گی اور ان سے مل کر ملک کی تعمیر وترقی جاری رہے گی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ جب تک ملک میںا نصاف نہیں ہوگا کوئی شعبہ ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی معاشرے میں سکون ہوسکتا ہے اور اسی وجہ سے آزا دعدلیہ کا قیام ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جرائم کے خاتمہ کیلئے مجرموں سے مقابلوں میں شہید ہونے والے پولیس ملازمین کیلئے انعامی رقم بڑھا کر 20لاکھ روپے کردی گئی ہے تاکہ پولیس کے جوان زیادہ جواں مردی کے ساتھ مجرموں کی سرکوبی کی جنگ لڑ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو ائیر کنڈیشنڈ کرنے کیلئے اڑھائی ارب روپے خرچ کئے جائیں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کریں گے ۔ انہو ں نے کہا کہ یورپ میں پاکستانی ڈاکٹروں کا طوطی بولتا ہے لیکن یہاں لوگوں کو علاج کیلئے ڈاکٹرنہیں ملتے اورا س کی وجہ سہولیات کی عدم دستیابی ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ سابق حکومت نے ٹیوٹا جیسے اہم ادارہ کی طرف کوئی توجہ نہ دہی حالانکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد صنعت کو تربیت یافتہ ہنر مندفراہم کرنا تھا ۔قبل ازیں وزیراعلی نے ضلع کچہری میں ڈی سی اوآفس میں منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کی جس میں ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) عطاء محمد خان نے وزیرا علی پنجاب کو ضلع سیالکوٹ میں مکمل ہونے والے اور زیرتعمیر منصوبوں کے بارے بریفنگ دی

آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جانب سے ١٤ اگست کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد ۔ آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ نے ججز کی بحالی کے حوالے سے چودہ اگست کی ڈیڈ لائن ، سول نا فرمانی کی تحریک ،دھرنے اور دیگر احتجاجی پروگرامات کے بارے میں وکلاء تحریک کے اعلانات کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے موومنٹ کی سنٹرل سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت صدر پرویز مشرف کے پارلیمنٹ سے ممکنہ خطاب پر پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا ججز کی بحالی کیلئے پہیہ جام ہڑتال اور ملک گیر مظاہروں کی کال دی جائے گی ۔اے پی ڈی ایم کا سربراہ اجلاس پیر کو اسلام آباد میں اتحاد کے کنونیئر محمود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، لیاقت بلوچ ، ڈاکٹر عبدالحیی بلوچ سمیت اکیس جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس جو کہ سابقہ ایم این اے میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا کئی گھنٹوں تک جاری رہا اجلاس میں سیاسی صورتحال ، ججز کی بحالی ، فاٹا اور پاک افغان سرحد پر بگڑتی ہوئی صورتحال ، قبائلی علاقوں ، اتحادی افواج کی فائرنگ اور میزائل حملوں کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا گیا ذرائع کے مطابق اے پی ڈی ایم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعاون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکی عزائم کی تکمیل کیلئے لڑی جانے والی یہ جنگ کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اے پی ڈی ایم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعاون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عزائم کی تکمیل کیلئے لڑی جانے والی یہ جنگ کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اے پی ڈی ایم نے افغان صدر کے دھمکی آمیز بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیاکہ فاٹا میں کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیاجائے گا اے پی ڈی ایم نے 19جولائی کو وکلاء کے ملک گیر کنونشن میں ہونے والے اعلانات کی غیر مشروط حمایت کی ہے جبکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے بھی اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے استفسار پر امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہاکہ اے پی ڈی ایم کی سنٹرل سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی گئی ہے۔گزشتہ روز اے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد مرکزی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں احتجاجی پروگرام اور رابطہ عوام مہم کے حوالے سے مظاہروں ، جلسے جلوسوں کے شیڈول کا جائزہ لیا گیا۔ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ سفارشات کی روشنی میں منگل کو (آج) اے پی ڈی ایم کے قائدین فیصلوں کا اعلان کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم نے سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے جو قائدین کو بھیج دی گئیں ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے امریکی فوج کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے ، بارک اوبامہ



شکاگو ۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بارک اوبامہ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکا کے موقع پر ایک بار پھر الزام لگایاہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے محفوظ پناہ گاہیں امریکی فوج کے لیے بہت بڑے مسائل پیدا کر رہی ہیں ۔ شکاگو میں اقلیتی صحافیوں کے یونٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اوبامہ نے سینئر فوجی حکام سمیت بش انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے اس موقف کو دہرایا کہ قبائلی علاقوںمیں القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے مزید موثر تعاون کی ضرورت ہے اوبامہ نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے محفوظ ٹھکانے ہیں جس کا امریکی فوج تعاقب نہیں کر سکتی اور یہ محفوظ ٹھکانے امریکی فوج کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ اوبامہ نے کہاکہ ہم افغانستان میں ضرورت کے پیش نظر مزید فوج بھیج رہے ہیں لیکن ہمیں ان محفوظ ٹھکانوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے مزید موثر تعاون کی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے افغانستان میں استحکام لانا ہے تو پھر یہ افغانستان سے چند میلوں کے فاصلے پر پاکستان کی سرحدی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے قائم تربیتی کیمپوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر قابو پانے میں ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو فرقہ امریکیوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت کو ساتھ شامل کرناچاہیے ۔ اسی صورت میں مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار نے گزشتہ اگست کے بعدکئی مواقع پر سخت لہجے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن کو ٹھوس اینٹلی جنس شواہد ملے تو القاعدہ اور طالبان سے نمٹنے کے لیے یکطرفہ طور پر پاکستان میں کارروائی کی جائے گی

مقبوضہ کشمیر ‘ امرناتھ شرائن بورڈ کے تنازعہ پر تازہ پرتشدد واقعات ، ٢١ پولیس اہلکاروں سمیت ٥٠ سے زائد افراد زخمی ہو گئے ‘ جموں میں کرفیو نافذ

سرینگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں امرناتھ شرائن بورڈ کے تنازعہ پر تازہ تشدد واقعات میں 21 پولیس اہلکاروں سمیت 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ۔ جبکہ جموں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امرناتھ شرائن بورڈ کے تنازعے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں جموں کے علاقوں دمانہ مٹھی پرانی منڈی پریٹ قندیار ٹگیانہ اور وجے پور می ہوئیں ۔ تشدد کی تازہ کارروائیوں میں پولیس پر پٹرول بموں سے حملے کئے گئے جبکہ پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس پھینکی ۔ مظاہرین نے ایک پولیس وین سمیت کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ۔ ان جھڑپوں میں 21 پولیس اہلکاروں سمیت 50 افراد زخمی ہو گئے ۔ امرناتھ یاترا کی تقریبات دو روز کے لئے بند کر کے جموں میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔

Fancy dress competition by Soya Supreme


مہنگائی میں اضافے، لاقانونیت سے اکتائے اور حکمرانوں سے مایوس لوگ

عوام میں خود کشی کے رحجان میں مزید اضافہ۔۔۔تحریر اے پی ایس

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بدامنی ، ناانصافیاں ، مظالم ، سماجی و معاشی ناہمواریاں ودیگر مسائل نے خودکشی کے رجحان میں اضافہ کردیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے سال 2008ءکے شروعاتی 5 ماہ کے دوران کیئے گئے سروے کے بعد ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔ اس ضمن میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2008ء کے شروعاتی 5 ماہ میں جنوری تا مئی کے سروے کے مطابق 1ہزار1سو75 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا جن میں 7سو 41مرد جبکہ 2سو33 خواتین اور 55 بچے شامل ہیں۔ پولیس نے خودکشی کے 82 اور اقدام خود کشی کے 1سو5کیس درج کیئے۔ سروے کے مطابق خودکشیوں کی وجوہات غربت ، بے روزگاری ، مہنگائی ، بدامنی ، ناانصافیاں ، بڑھتے ہوئے مظالم ، سماجی و معاشرتی ناہمواریاں اور نفسیاتی مسائل ہیں۔ سروے کے مطابق ملک بھر میں کاروکاری اورغیرت کے نام پر 1سو17قتل کیئے گئے جن میں اکثریت عورتوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 13عورتوں کو تیزاب پھینک کر قتل کیا گیا جبکہ ان واقعات کی رپورٹس درج ہونے کے باوجود ان تمام کیسز اور اس سے پہلے درج ہونے والے کیسز میں سے کسی کا بھی فیصلہ نہیں ہوسکا۔حکمران طبقے اور سول سوسائٹی کے باشعور افراد کو عمومی معاشرتی رویوں میں بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ حکومت کو خصوصی طور پر معاشرتی بگاڑ پیداکرنے والی برائیوں جیسے کہ ناانصافی کا جڑ سے خاتمہ کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کوامریکہ کی طفیلی ریاست نہیں بننے دیں گے۔ ہر چوک اور چوراہے پر پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑیںگے۔کراچی کے بعد اب صوبہ سرحد کے لیے قبضہ گروپ تیار کیے جارہے ہیں۔ ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ،اور رائے عامہ کی بیداری اور عوام کو منظم کرنے کے لیے دن رات ایک کردیں گے۔مہنگائی میں اضافے، لاقانونیت سے اکتائے اور حکمرانوں اورسیاستدانو ں کی کارکردگی سے مایوس لوگ گھروں میں بیٹھنے کے بجائے روشن مستقبل کی آبیاری کے لیے ہما را ساتھ دیں۔جنوبی پنجاب میں چیف جسٹس کے شاندار استقبال نے ثابت کردیا ہے کہ کسان اور مزدور سمیت ہرطبقہ عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی ججوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں ہے، اور معزول ججوں میں پھوٹ ڈالنے کی سازش کررہی ہے اس لیے مسلم لیگ ن کو مستقبل کے حوالے سے فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ معزول جج صاحبان اپنے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں اور حکومتی جھانسے اور دھوکے میں نہ آئیں۔ پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہے،اورباوقار طریقے سے ان کی 2نومبر کی پوزیشن پر بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ملک میں اس وقت کوئی نظام اور حکومت نہیں ہے۔ انتخابی وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بے یقینی اور بے چینی کی صورتحا ل ہے ،اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن چارماہ گزرنے کے بعد بھی کوئی واضح لائحہ عمل اور پالیسی اختیار نہیں جا سکی ہے۔ افراتفری اوربدامنی چاروں طرف پھیل گئی ہے ۔مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کا جینا محال ہو گیا ہے جبکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات، بجلی،گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوںمیں اضافے کے سوا کوئی کام نہیں کرسکی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن حکمران اس کی قیمت میں مزید اضافے کی نوید سنا رہے ہیں۔ حکمران پارٹی نے عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا تو اس کے اقتدار کے دن جلد ہی پورے ہو جائیںگے امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پاکستان توڑنے کی پالیسی پر گامزن ہے، پرویز مشرف کے بعد موجودہ حکومت بھی اس کے آلہ کار کا کردار ادا کررہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور نیٹو نے افغان سرحد پراپنی فوجیں تعینات کر دی ہیں اور پاکستان پر حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور دوسری طرف قبائلیوں کواشتعال دلاکر فوج کے ساتھ لڑایا جا رہاہے تاکہ برے وقت میں فوج اپنے بازوئے شمشیر زن سے محروم ہو جائے۔ اس طرف سے قبائلی اس کے خلاف برسرپیکار ہوں اور دوسری طرف نیٹو افواج اس پر چڑھ دوڑیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دشمن کا کھیل ہے جس میں پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کو مہرے کے طورپر استعمال کیا جارہاہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملکی سلامتی اورقبائلی علاقوں میں امن و امان کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان امریکہ کی جنگ سے علیحدہ ہو جائے اور فاٹا سے فوج کو واپس بلا کر قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے مشورے سے معاملات کو حل کیا جائے۔ جبکہ ترجمان افواج پاکستان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیے جانے کا نوٹیفکیشن غلط تشریح کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے ۔ کیونکہ آئی ایس آئی اور وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں اور کام کی نوعیت مختلف ہے آئی ایس آئی کا مینڈیٹ بیرونی خطرات سے متعلق سلامتی کے لیے اسٹریٹیجک انٹیلی جنس مہیا کرنا اور اپنے دفاعی اداروں کو باخبر رکھنا ہے جبکہ وزارت داخلہ ملک کے داخلی امور نمٹائی ہے اس لیے آئی ایس ائی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی بات کرنا بڑی عجیب ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور مختلف داخلی سلامتی کے اداروں اور وزارت داخلہ کے درمیان روابط کو مزید بہتر اور موثر بنانا بنیادی مقصد ہے خاص طورپر د ہشت گرد ی کے خلاف جنگ اور داخلی سلامتی کے حوالے سے ان کے درمیان روابط کو مزید موثر بنانا ہے کچھ غلط فہمی اور غلط تشریح کی وجہ سے اس نوٹیفکیشن کی صحیح ترجمانی نہیں ہو سکی جس سے یہ غلط تاثر سامنے آیا ہے کہ آئی بی اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیا جا رہا ہے اب اس غلط تاثر کو دور کردیا گیا ہے وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے پریس ریلیز بھی جاری کردی گئی ہے کہ آئی ایس آئی بدستور وزیراعظم کے ماتحت کام کرے گی اور نوٹیفکیشن کا مقصد وزارت داخلہ اور آئی ایس آئی کے درمیان روابط کو بہتر بنانا تھا انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی وزیراعظم ، صدر اور آرمی چیف کے درمیان بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی بات کا مجھے علم ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی وزیراعظم سے حالیہ ملاقاتیں سیکورٹی کے حوالے سے تھیں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کا مینڈیٹ بیرونی خطرات سے متعلق سلامتی کے لیے اسٹریٹیجک انٹیلی جنس مہیا کرتا ہے اور اپنے دفاعی اداروں کو باخبر رکھنا ہے اور یہ اسٹریٹیجک انٹیلی جنس قومی سلامتی کے تمام اداروں کے ہوتی ہے جن میں افواج پاکستان اور اس سے منسلک دیگر ادارے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک میں خارجہ اور داخلی سیکورٹی کے الگ الگ ادارے ہوتے ہیں اور ہر قسم کے ماڈل ادارے ا س میں موجود ہوتے ہیں ہمارے ملک میں ایکسٹرنل انٹیلی جنس کی ذمہ داری آئی ایس آئی کو آئی ہے آئی ایس آئی کا کام80 سے 90 فیصد بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس مہیا کرنا ہے بیرونی خطرات سے نمٹنے والا یہ ہراول دستہ ہوتاہے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ ا ور آئی ایس آئی کی ذمہ داریاں مختلف ہیں اس لیے اسے کسی وجہ سے وزارت داخلہ کے ماتحت کرنا عجیب لگتا ہے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہی کام کرتی ہے آئی ایس آئی چیف ایگزیکٹو کو جوابدہ ہوتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق آئی ایس آئی کو وزارتِ داخلہ کے کنٹرول میں دیے جانے کا اعلان غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور وہ بدستور وزیراعظم کو ہی جوابدہ ہے۔ وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی ) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ مذکورہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ کیبنٹ ڈویڑن سے جاری ہو نے والے نوٹیفکیشن کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں سیکورٹی اداروں کے انتظامی ،مالی اور آپریشنل امور کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا ہے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ یہ دونوں ادارے 1973کے آئین کے مطابق پہلے وزیر اعظم کو اپنی رپورٹ پیش کر تے تھے تاہم اب یہ دونوں ادارے مکمل طور پر وزارت داخلہ کے ما تحت کام کریں گے اور وزار ت داخلہ کو ہی رپورٹ کر یں گے ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بش کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ لے کر جارہے ہیں آئی ایس آئی پہلے ہی پاکستان کے بیرونی دشمنوں کی نظر میں کھٹکتی تھی اس فیصلے سے تو بھارت میں دشمنوں کے دلوں میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ ختم کرنے کے بجائے اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کر کے اسے مکمل طور پر سیاسی کر دیا گیاہے اس طریقے سے آئی ایس آئی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ تو مٹی کا مادھو بنی بیٹھی ہے اور اس سے بالاتر تمام فیصلے ہو رہے ہیں اصل فیصلے جو کرنے کے ہیں ان سے گریز کیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی کی تذلیل بھی امریکہ کے ساتھ ڈیل کاحصہ ہے امریکہ نے بہت زبردست چال چلی ہے اور پاکستان کو گونگا بہرہ بنانے کی کوشش کی ہے کیونکہ آئی ایس آئی کا کردار غیر ملکی عناصر پر نظر رکھنا ہے جنرل حمید گل نے کہاکہ حکومت کو یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا چاہیے اور آئی ایس آئی کے پولیٹیکل ونگ کے ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے اس معاملے میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو بھی مداخلت کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر فوج کے ادارے میں مداخلت ہے اگرچہ آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا جائے اور اپنے لوگوں کی جاسوسی کیلئے اسے استعمال کیاجائے یہ فیصلہ پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جبکہ لندن سے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ انہیں آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق کسی فیصلے کا علم نہیں اور ایسا کوئی نوٹیفکیشن میری اجازت کے بغیر جاری نہیں ہو سکتا یہ بات انہوں نے لندن میں ایک نجی تی وی سے گفتگو کرتے ہوءکہی ۔ اس سے پہلے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی تھی کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کے غلط معنی لیے گئے تھے اور آئی ایس آئی بدستور وزیراعظم کے ماتحت ہی کام کرتی رہے گی ۔ اس سے پہلے کیبنٹ ڈویڑن کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیاتھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی انٹرسروسز انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کو انتظامی ، مالی اور آپریشنل طورپر وفاقی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دیدیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ واپس لینے کے رد عمل پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر کے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حکومت خارجی دباو¿ کے زیر اثر بھی اور وہ پاکستان کے دشمنوں کو خوش کرنا چاہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی نے وہ کام کیا جو ندیا میں کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی نہیں کر سکی مختلف ٹیلیویڑن چینلوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم آئی ایس آئی کو تباہ کر کے دم لیں گے اور یوں لگتا ہے کہ حکومت پاکستان نے خارجی دباو¿ کے باعث آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی تو ہمیشہ ہی بیرونی دباو¿ کا نشانہ رہی ہے اوریہ کہ جب وہ خود آئی ایس آئی کے سربراہ تھے تو جارج بش سنیئر نے کہا تھا کہ اب آئی ایس آئی کے باندھ دینے کا وقت آ گیا ہے اور اسی پروگرام کے تحت انہیں آئی ایس آئی سے الگ کیا گیا۔ پھر 1993 میں پیپلز پارٹی کے دور میں نیوز ویک میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں جنرل جاوید اشرف قاضی کے حوالے سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے 130افسر آئی ایس آئی سے نکال دیئے ہیں جو نظریاتی قسم کے تھے اور اب امریکہ ہم سے بہت خوش ہے ۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی چیف ایگریکٹو کو جواب دہ ہے اور اس کا شمار دنیا کی اعلی ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں ہوتا ہے اور جو کام آئی ایس آئی نے کہا وہ کسی دوسری ایجنسی نے نہیں کیا اور اس نے ایک پرپاور کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان میں اہم کردار کی حامل ہے۔ حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کروا کر ایک کچا وزیر اع۔ظم اپنی نوکری پکی کرانے کے لیے ایک تحفہ لے کر جارج بش کے پاس جا رہا تھا جو کہ غلط تھا۔ اچھا ہوا کہ یہ فیصلہ واپس ہو گیا اور آئندہ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتی ہے یہ پاکستانی کے دفاع پر ایک کاری ضرب ہوتی اور ہمارے دشمن اس جنگ میں مصروف رہتی ہے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے 61 سالوں میں صرف 36دن جنگ کی ہے جبکہ باقی وقت آئی ایس آئی ہی دشمنوں سے برسرپیکار رہی ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی فوج نظام کی آنکھوں اور کانوں کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو اچھا ہو گیا تو حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن حکومت نے بامر مجبوری واپس لیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ اے پی ایس

بیجنگ اولمپک گیمز کی تیاریاں ، اولمپک ویلج کا افتتاح کر دیا گیا

بیجنگ ۔بیجنگ میں بارہ دن بعد شروع ہونے والے ا ولمپک کھیلوں کے لیے بنائے گئے خصوصی رہائشی علاقے یعنی اولمپک ویلج کوایتھلیٹس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔چین کے باسکٹ بال کے نامور کھلاڑی یومنگ اور یو یانگ سخت حفاظتی انتظامات میں پر چم کشائی کے موقع پر موجود تھے۔نامہ نگاروں کے مطابق اس موقع پر پرتعیش اولمپکس ویلج کے اوپر فضائی آلودگی کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔لگ بھگ سولہ ہزار کھلاڑی اس خصوصی رہائشی کملپکس میں قیام کریں گے۔جس کے کچھ حصوں کے لیے بجلی شمسی توانائی کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اور کھلاڑیوں کو نلکوں میں پینے کا صاف پانی مل سکے گا۔ لمبے کھلاڑیوں کے لیے بڑے بستروں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو فراہم کیا جانے والا کھانا خصوصی موبائل لیبارٹریوں کے ذریعے چیک کیا جائے گا۔اس کمپلیکس کا افتتاح بیجنگ آرگنائزنگ کمیٹی کے نائب صدر چن زلی نے کیا۔ اولمپک کھیلوں کے بعد یہ رہایشی فلیٹس انتہائی مہنگے داموں فروخت کردیے جائیں گے اور چینی شہریوں کے لیے ایک اپارٹمنٹ کی قیمت تقریبا ایک ملین ڈالر تک ہوگی

سوات: مولانا فضل اللہ نے خود کش حملوں کی دھمکی دے دی

سوات ۔ تحریک طالبان سوات کے امیر مولانا فضل اللہ نے کہا ہے کہ دوبارہ فوجی آپریشن کیا گیا تو خود کش حملے کریں گے۔تحریک طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ نے تحصیل کبل اور مٹہ کے درمیان واقع پہاڑی علاقے تاران میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرحد حکومت چند ڈالروں کے عوض واشنگٹن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔دوبارہ فوجی آپریشن کیا گیا تو اس کا مقابلہ کرنے کی بھرپور تیاری کر لی گئی ہ اورایسی صورت حال میں خود کش حملے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گرلز اسکولوں کو اس لئے نذر آتش کیا جا رہا ہے ہ وہ سرکاری املاک ہیں اگر حکومت طالبان کے گھروں کو تباہ کرے گی تو سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے طالبان اکھٹے ہو چکے ہیں اور طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔مولانا فضل اللہ نے کہا کہ قوم کی اصلاح کرنا جرم ہے تو وہ یہ جرم کرتے رہیں گے۔دوسری جانب تحریک طالبان سوات کے ترجمان مسلم خان نے آج نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سوات سے فوج اور ایف سی واپس چلی جائے اور شریعت نافذ کر دی جائے تو وہ امن و امان کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہیں۔

لاہور:دو اسٹیج اداکاراؤں سمیت ٣ افراد زندہ جل کر جاں بحق

لاہور ۔۔ لاہور میں دوا سٹیج اداکاراؤں سمیت تین افراد گھر میں پراسرار طور پر آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یوسف پارک کا رہائشی ناصر اپنی بیوی ثناء اور بہن صائمہ کے ہمراہ گھر میں جمعے کی رات گھر میں سو رہے تھے کہ اچانک گھر میں پراسرار طور پر آگ لگنے سے تینوں بری طرح جھلس گئے۔ انھیں طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال پہنچایا گیا جہاں تینوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ معلوم ہوا ہے کہ رات کے وقت دوران پنکھا چولہے پر گرنے سے شارٹ سرکٹ کے باعث گھر میں آگ لگ گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے تینوں کی موت حادثاتی نہیں ہے اور اس کے محرکات کچھ اور ہیں۔

Sunday, July 27, 2008

معاشرتی ناہمواریوں اور نفسیاتی مسائل نے خودکشی کے رجحان میں اضافہ کردیا

سنجورو ۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بدامنی ، ناانصافیاں ، مظالم ، سماجی و معاشی ناہمواریاں ودیگر مسائل نے خودکشی کے رجحان میں اضافہ کردیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے سال 2008ء کے شروعاتی 5 ماہ کے دوران کیئے گئے سروے کے بعد ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔ اس ضمن میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2008ء کے شروعاتی 5 ماہ میں جنوری تا مئی کے سروے کے مطابق 1ہزار1سو75 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا جن میں 7سو 41مرد جبکہ 2سو33 خواتین اور 55 بچے شامل ہیں۔ پولیس نے خودکشی کے 82 اور اقدام خود کشی کے 1سو5کیس درج کیئے۔ سروے کے مطابق خودکشیوں کی وجوہات غربت ، بے روزگاری ، مہنگائی ، بدامنی ، ناانصافیاں ، بڑھتے ہوئے مظالم ، سماجی و معاشرتی ناہمواریاں اور نفسیاتی مسائل ہیں۔ سروے کے مطابق ملک بھر میں کاروکاری اورغیرت کے نام پر 1سو17قتل کیئے گئے جن میں اکثریت عورتوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 13عورتوں کو تیزاب پھینک کر قتل کیا گیا جبکہ ان واقعات کی رپورٹس درج ہونے کے باوجود ان تمام کیسز اور اس سے پہلے درج ہونے والے کیسز میں سے کسی کا بھی فیصلہ نہیں ہوسکا۔حکمران طبقے اور سول سوسائٹی کے باشعور افراد کو عمومی معاشرتی رویوں میں بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ حکومت کو خصوصی طور پر معاشرتی بگاڑ پیداکرنے والی برائیوں جیسے کہ ناانصافی کا جڑ سے خاتمہ کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔

امن معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے مزید سات افراد کو رہا کر دیا ہے، میاں افتخار حسین

نوشہرہ ۔ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے امن معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے مزید سات افراد کو رہا کر دیا ہے ۔باچا خان کے پیرو کار محبت کی زبان سمجھتے ہیں ۔پختونوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والے اپنے انجام پر غور کریں ۔ہم تاریخ کے سامنے سرخرو ہیں ۔ہم نے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا ۔اے این پی کی حکومت ہر کسی کے ساتھ امن کی بحالی کے لئے مذاکرات کی انتہا تک جانے کے لئے تیار ہے ۔با امر مجبوری افہام و تفہیم کا راستہ اختیار نہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال حکومت کا استحکام ہو گا ۔عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے ہماری حکومت کسی کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو گی نہ ہم کسی کو دھمکیاں دیتے ہیں اور نہ کسی کی دھمکیاں مانتے ہیں ۔افسوس اور عقل سے بالا تر امر یہ ہے کہ جوان سے مذاکرات کرتے ہیں ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور جو ان کے ساتھ مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان سے طاقت کی زبان میں بات کرتے ہیں ان کے ساتھ دوستیاں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اپنی رہائش گاہ پبی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت مقامی طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے ۔معاہدے کی شق کے مطابق ہم نے طالبان کے انیس افراد کو عدالتی احکامات کی روشنی میں ضمانت پر رہا کیا اور آج مزید سات افراد کو رہا کیا جا رہا ہے ۔معاہدے کی پاسداری کے باوجود صوبائی حکومت کو دھمکیاں دی گئیں،سکول جلائے گئے،مختلف علاقوں میں گشت کی جا رہی ہے،گھروں کے محاصرے ہو رہے ہیں،متوازن عدالتی نظام قائم کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو معاہدے کی پاسداری کریں ان کے ساتھ صلح کی بات ہو گی اور جو خلاف ورزی کریں گے ان کے ساتھ ان کی زبان میں بات ہو گی ۔موت و حیات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ہم کسی کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونگے ۔ہنگو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں پر امن قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انتیس افراد کو یرغمال بنایاگیا ہے ان کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اس میں ان لوگوں کاکوئی قصور نہیں وہاں فوج بہت مجبوری کے تحت آئی کیونکہ وہاں پر حکومتی رٹ کو چیلنج کیاگیا تھا ۔ان علاقوں میں امن بحال ہوتے ہی فوج مرحلہ وار بیرکوں میں چلی جائے گی۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم محبت اور افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلے کا حل چاہتے ہیں لیکن ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ مذاکرات کے حامی نہیں ان کے ساتھ دوستیاں ہیں جو سوچ سے بالا تر ہے ۔ہم تشدد کے خلاف ہیں خطے میں پختونوں کا خون بہانے پر ہمیں دکھ ہوتا ہے ۔حکومت کے خاتمے کی ڈیڈ لائن سے حکومت پر کوئی فرض نہیں پڑتا ہم پختون ہیں ہمیں پختون روایات کا پاس ہے لیکن پختونوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والے اپنے انجام پر غور کریں ۔

ڈیر ہ بگٹی ، لوٹی میں فورسز اور مزاحمت کاروں میں شدید جھڑپ ٣ سیکورٹی اہلکار اور ١٢ مزاحمت کار ہلاک

کوئٹہ ۔ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں لوٹی کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مزاحمت کاروں میں شدید جھڑپ 3سیکورٹی اہلکاراور12مزاحمت کار ہلاک ۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے لوٹی میں ٹوبہ نوکانی کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مزاحمت کاروں میں اتوار کی صبح چھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا جس میں اب تک 3سیکورٹی اہلکاراور 12مزاحمت کار جاںبحق ہوچکے ہیں ۔ترجمان فرنٹیر کور نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوٹی گیس فیلڈ کی حفاظت پر معمور فرنٹیر کور بلوچستان کی ٹوبہ نوکانی پوزیشن پر شرپسندوں نے لانگ رینج راکٹ کے گولے فائر کئے جس کے نتیجے میں فرنٹیر کور کے 3جوانو ن شدید زخمی ہوگئے جو بعد ازں زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے ۔ فرنٹیر کور نے حملے کے بعد جوابی کاروائی کی اور شرپسندوں کی جانب سے فائررکنے کے بعد جب علاقے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے 12افراد کی لاشیں ملی جن کے ساتھ ان کے خود کار ہتھیار ، موٹر سائیکل ، اور وائر لیس سیٹ بھی تھے جنہیں قبضے میں لے لیا گیا ۔ جبکہ واقع کا مقدمہ مقامی پولیس تھانہ میں در ج کروا دیا گیا ۔

پاکستان کوامریکہ کی طفیلی ریاست نہیں بننے دیں گے ہر چوک اور چوراہے پر پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑیں گے ۔۔قاضی حسین احمد



لاہور ۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کوامریکہ کی طفیلی ریاست نہیں بننے دیں گے۔ ہر چوک اور چوراہے پر پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑیںگے۔کراچی کے بعد اب صوبہ سرحد کے لیے قبضہ گروپ تیار کیے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ،اور رائے عامہ کی بیداری اور عوام کو منظم کرنے کے لیے دن رات ایک کردے گی۔مہنگائی میں اضافے، لاقانونیت سے اکتائے اور حکمرانوں اورسیاستدانو ں کی کارکردگی سے مایوس لوگ گھروں میں بیٹھنے کے بجائے روشن مستقبل کی آبیاری کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور اس جدوجہد کو نتیجہ خیز بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی لاہورڈویژن کے ضلعی ومقامی ذمہ داران اور ارکان شورٰی کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں چیف جسٹس کے شاندار استقبال نے ثابت کردیا ہے کہ کسان اور مزدور سمیت ہرطبقہ عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی ججوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں ہے، اور معزول ججوں میں پھوٹ ڈالنے کی سازش کررہی ہے اس لیے مسلم لیگ ن کو مستقبل کے حوالے سے فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ معزول جج صاحبان اپنے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں اور حکومتی جھانسے اور دھوکے میں نہ آئیں۔ پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہے،اورباوقار طریقے سے ان کی 2نومبر کی پوزیشن پر بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اس وقت کوئی نظام اور حکومت نہیں ہے۔ انتخابی وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بے یقینی اور بے چینی کی صورتحا ل ہے ،اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن چارماہ گزرنے کے بعد بھی کوئی واضح لائحہ عمل اور پالیسی اختیار نہیں جا سکی ہے۔ افراتفری اوربدامنی چاروں طرف پھیل گئی ہے ۔مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کا جینا محال ہو گیا ہے جبکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات، بجلی،گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوںمیں اضافے کے سوا کوئی کام نہیں کرسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن حکمران اس کی قیمت میں مزید اضافے کی نوید سنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکمران پارٹی نے عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا تو اس کے اقتدار کے دن جلد ہی پورے ہو جائیںگے۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پاکستان توڑنے کی پالیسی پر گامزن ہے، پرویز مشرف کے بعد موجودہ حکومت بھی اس کے آلہ کار کا کردار ادا کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف امریکہ اور نیٹو نے افغان سرحد پراپنی فوجیں تعینات کر دی ہیں اور پاکستان پر حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور دوسری طرف قبائلیوں کواشتعال دلاکر فوج کے ساتھ لڑایا جا رہاہے تاکہ برے وقت میں فوج اپنے بازوئے شمشیر زن سے محروم ہو جائے۔ اس طرف سے قبائلی اس کے خلاف برسرپیکار ہوں اور دوسری طرف نیٹو افواج اس پر چڑھ دوڑیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ دشمن کا کھیل ہے جس میں پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کو مہرے کے طورپر استعمال کیا جارہاہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملکی سلامتی اورقبائلی علاقوں میں امن و امان کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان امریکہ کی جنگ سے علیحدہ ہو جائے اور فاٹا سے فوج کو واپس بلا کر قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے مشورے سے معاملات کو حل کیا جائے۔

آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیے جانے کا نوٹیفکیشن غلط تشریح کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔ ۔ ۔ آئی ایس پی آر

راولپنڈی ۔ ترجمان افواج پاکستان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیے جانے کا نوٹیفکیشن غلط تشریح کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے ۔ کیونکہ آئی ایس آئی اور وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں اور کام کی نوعیت مختلف ہے آئی ایس آئی کا مینڈیٹ بیرونی خطرات سے متعلق سلامتی کے لیے اسٹریٹیجک انٹیلی جنس مہیا کرنا اور اپنے دفاعی اداروں کو باخبر رکھنا ہے جبکہ وزارت داخلہ ملک کے داخلی امور نمٹائی ہے اس لیے آئی ایس ائی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی بات کرنا بڑی عجیب ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور مختلف داخلی سلامتی کے اداروں اور وزارت داخلہ کے درمیان روابط کو مزید بہتر اور موثر بنانا بنیادی مقصد ہے خاص طورپر د ہشت گرد ی کے خلاف جنگ اور داخلی سلامتی کے حوالے سے ان کے درمیان روابط کو مزید موثر بنانا ہے کچھ غلط فہمی اور غلط تشریح کی وجہ سے اس نوٹیفکیشن کی صحیح ترجمانی نہیں ہو سکی جس سے یہ غلط تاثر سامنے آیا ہے کہ آئی بی اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کیا جا رہا ہے اب اس غلط تاثر کو دور کردیا گیا ہے وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے پریس ریلیز بھی جاری کردی گئی ہے کہ آئی ایس آئی بدستور وزیراعظم کے ماتحت کام کرے گی اور نوٹیفکیشن کا مقصد وزارت داخلہ اور آئی ایس آئی کے درمیان روابط کو بہتر بنانا تھا انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی وزیراعظم ، صدر اور آرمی چیف کے درمیان بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی بات کا مجھے علم ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی وزیراعظم سے حالیہ ملاقاتیں سیکورٹی کے حوالے سے تھیں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کا مینڈیٹ بیرونی خطرات سے متعلق سلامتی کے لیے اسٹریٹیجک انٹیلی جنس مہیا کرتا ہے اور اپنے دفاعی اداروں کو باخبر رکھنا ہے اور یہ اسٹریٹیجک انٹیلی جنس قومی سلامتی کے تمام اداروں کے ہوتی ہے جن میں افواج پاکستان اور اس سے منسلک دیگر ادارے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک میں خارجہ اور داخلی سیکورٹی کے الگ الگ ادارے ہوتے ہیں اور ہر قسم کے ماڈل ادارے ا س میں موجود ہوتے ہیں ہمارے ملک میں ایکسٹرنل انٹیلی جنس کی ذمہ داری آئی ایس آئی کو آئی ہے آئی ایس آئی کا کام80 سے 90 فیصد بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس مہیا کرنا ہے بیرونی خطرات سے نمٹنے والا یہ ہراول دستہ ہوتاہے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ ا ور آئی ایس آئی کی ذمہ داریاں مختلف ہیں اس لیے اسے کسی وجہ سے وزارت داخلہ کے ماتحت کرنا عجیب لگتا ہے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہی کام کرتی ہے آئی ایس آئی چیف ایگزیکٹو کو جوابدہ ہوتی ہے۔

لندن سے وزیرا عظم سید یوسف رضا گیلانی کے طیارے کو واشنگٹن روانگی میں تاخیر

لندن ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے طیارے کی پرواز میں گزشتہ روز امریکہ جانے کے لیے تاخیر ہو گئی تھی وزیر اعظم کو ایئر پورٹ سے واپس ہوٹل آنا پڑا تفصیلات کے مطابق لندن میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا طیارہ سیکورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے امریکہ کے لیے روانہ نہ ہو سکا تھا وزیر اعظم کا وفد جب ہوٹل سے ایئر پورٹ کی جانب روانہ ہوا تو انہیں بتایا گیا کہ سیکورٹی کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے ابھی پرواز امریکہ کے لیے روانہ نہیں ہو سکتی جس پر وزیر اعظم واپس ہوٹل پہنچ گئے۔ شیڈول کے مطابق آج وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی وہاں نواز شریف سے ملاقات متوقع تھی جو نہیں ہوسکی برطانیہ میں پاکستان حکام ایئرپورٹ انتظامیہ سے فلائیٹ کی روانگی میںتاخیر کے حوالے سے بات چیت کرتے رہے۔ ایک گھنٹہ بعد برطانوی حکام نے طیارے کو روانگی کی اجازت دے دی جس کے بعد وزیر اعظم کا طیارہ واشنگٹن روانہ ہو گیا۔

آئی ایس آئی کا کنٹرول ’واپس تحریر : اے پی ایس

حکومتِ پاکستان کے مطابق آئی ایس آئی کو وزارتِ داخلہ کے کنٹرول میں دیے جانے کا اعلان غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور وہ بدستور وزیراعظم کو ہی جوابدہ ہے۔ وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی ) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ مذکورہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ کیبنٹ ڈویڑن سے جاری ہو نے والے نوٹیفکیشن کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں سیکورٹی اداروں کے انتظامی ،مالی اور آپریشنل امور کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا ہے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ یہ دونوں ادارے 1973کے آئین کے مطابق پہلے وزیر اعظم کو اپنی رپورٹ پیش کر تے تھے تاہم اب یہ دونوں ادارے مکمل طور پر وزارت داخلہ کے ما تحت کام کریں گے اور وزار ت داخلہ کو ہی رپورٹ کر یں گے ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بش کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ لے کر جارہے ہیں آئی ایس آئی پہلے ہی پاکستان کے بیرونی دشمنوں کی نظر میں کھٹکتی تھی اس فیصلے سے تو بھارت میں دشمنوں کے دلوں میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ ختم کرنے کے بجائے اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کر کے اسے مکمل طور پر سیاسی کر دیا گیاہے اس طریقے سے آئی ایس آئی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ تو مٹی کا مادھو بنی بیٹھی ہے اور اس سے بالاتر تمام فیصلے ہو رہے ہیں اصل فیصلے جو کرنے کے ہیں ان سے گریز کیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی کی تذلیل بھی امریکہ کے ساتھ ڈیل کاحصہ ہے امریکہ نے بہت زبردست چال چلی ہے اور پاکستان کو گونگا بہرہ بنانے کی کوشش کی ہے کیونکہ آئی ایس آئی کا کردار غیر ملکی عناصر پر نظر رکھنا ہے جنرل حمید گل نے کہاکہ حکومت کو یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا چاہیے اور آئی ایس آئی کے پولیٹیکل ونگ کے ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے اس معاملے میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو بھی مداخلت کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیر ضروری طور پر فوج کے ادارے میں مداخلت ہے اگرچہ آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا جائے اور اپنے لوگوں کی جاسوسی کیلئے اسے استعمال کیاجائے یہ فیصلہ پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جبکہ لندن سے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ انہیں آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق کسی فیصلے کا علم نہیں اور ایسا کوئی نوٹیفکیشن میری اجازت کے بغیر جاری نہیں ہو سکتا یہ بات انہوں نے لندن میں ایک نجی تی وی سے گفتگو کرتے ہوءکہی ۔ اس سے پہلے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی تھی کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کے غلط معنی لیے گئے تھے اور آئی ایس آئی بدستور وزیراعظم کے ماتحت ہی کام کرتی رہے گی ۔ اس سے پہلے کیبنٹ ڈویڑن کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیاتھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی انٹرسروسز انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کو انتظامی ، مالی اور آپریشنل طورپر وفاقی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دیدیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ واپس لینے کے رد عمل پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر کے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حکومت خارجی دباو¿ کے زیر اثر بھی اور وہ پاکستان کے دشمنوں کو خوش کرنا چاہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی نے وہ کام کیا جو ندیا میں کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی نہیں کر سکی مختلف ٹیلیویڑن چینلوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم آئی ایس آئی کو تباہ کر کے دم لیں گے اور یوں لگتا ہے کہ حکومت پاکستان نے خارجی دباو¿ کے باعث آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی تو ہمیشہ ہی بیرونی دباو¿ کا نشانہ رہی ہے اوریہ کہ جب وہ خود آئی ایس آئی کے سربراہ تھے تو جارج بش سنیئر نے کہا تھا کہ اب آئی ایس آئی کے باندھ دینے کا وقت آ گیا ہے اور اسی پروگرام کے تحت انہیں آئی ایس آئی سے الگ کیا گیا۔ پھر 1993 میں پیپلز پارٹی کے دور میں نیوز ویک میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں جنرل جاوید اشرف قاضی کے حوالے سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے 130افسر آئی ایس آئی سے نکال دیئے ہیں جو نظریاتی قسم کے تھے اور اب امریکہ ہم سے بہت خوش ہے ۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی چیف ایگریکٹو کو جواب دہ ہے اور اس کا شمار دنیا کی اعلی ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں ہوتا ہے اور جو کام آئی ایس آئی نے کہا وہ کسی دوسری ایجنسی نے نہیں کیا اور اس نے ایک پرپاور کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان میں اہم کردار کی حامل ہے۔ حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کروا کر ایک کچا وزیر اع۔ظم اپنی نوکری پکی کرانے کے لیے ایک تحفہ لے کر جارج بش کے پاس جا رہا تھا جو کہ غلط تھا۔ اچھا ہوا کہ یہ فیصلہ واپس ہو گیا اور آئندہ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتی ہے یہ پاکستانی کے دفاع پر ایک کاری ضرب ہوتی اور ہمارے دشمن اس جنگ میں مصروف رہتی ہے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے 61 سالوں میں صرف 36دن جنگ کی ہے جبکہ باقی وقت آئی ایس آئی ہی دشمنوں سے برسرپیکار رہی ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ آئی ایس آئی فوج نظام کی آنکھوں اور کانوں کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو اچھا ہو گیا تو حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن حکومت نے بامر مجبوری واپس لیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ اے پی ایس

Saturday, July 26, 2008

اگر معزول ججز بحال ہوئے تو انہیں دوبارہ حلف اٹھانا ہوگا، فاروق ایچ نائیک



کراچی۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ اگر معزول ججز بحال ہوئے تو انہیں دوبارہ حلف اٹھانا ہوگا۔آئینی پیکج پر اتحادی جماعتوں کے درمیان تاحال مصلحت کا عمل جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے جبکہ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی آمد پر جناح ٹرمینل ائیرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی پیکج کا مسودہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کو بھیجا جاچکا ہے تاہم تاحال اس پر کوئی جواب نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے اس پر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور یہی وجہ اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تاخیر کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا آئینی پیکج پالیمنٹ میں پیش کرنا چاہتے ہیں جو تمام آئینی اور قانون تقاضے پورے کرتا ہو جبکہ اس میں کسی قسم کی تاخیر پر پاکستان پیپلز پارٹی کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے تمام ججز کی بحالی چاہتی ہے اور عوام جان چکی ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام معزول ججز بحالی کی صورت میں دوبارہ حلف اٹھائیں کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے جس سے ملک میں کوئی آئینی بحران پیدا ہوجائے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے اور حکومت تمام بحرانوں سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابھی 4 ماہ کا عرصہ گزارا ہے اور موجودہ مسائل کئی ماہ پرانے ہیں۔ماضی کی حکومتوں سے ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری کے ورثے ملے ہیں تاہم حکومت ہر شعبے میں اصلاحاتی اقدامات سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے میںکوشاں ہے۔

وفاقی حکومت نے آئی بی اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا ، کیبنٹ ڈویژن سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی ) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا ہے۔فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا ہفتہ کو کیبنٹ ڈویژن سے جاری ہو نے والے نوٹیفکیشن کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں سیکورٹی اداروں کے انتظامی ،مالی اور آپریشنل امور کو وزارت داخلہ کے ما تحت کر دیا ہے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں ادارے 1973کے آئین کے مطابق پہلے وزیر اعظم کو اپنی رپورٹ پیش کر تے تھے تاہم اب یہ دونوں ادارے مکمل طور پر وزارت داخلہ کے ما تحت کام کریں گے اور وزار ت داخلہ کو ہی رپورٹ کر یں گے ۔

سری لنکا: جھڑپوں میں ٦٦ تامل ٹائیگرز ، ٨ فوجی ہلاک

کولمبو ۔ سری لنکا میں فوج اور تامل علیحدگی پسندوں کی جھڑپوں میں 66 تامل ٹائیگرز اور 8 فوجی ہلاک ہو گئے۔ تامل علیحدگی پسندوں اور فوج کے درمیان تازہ جھڑپیں جافنا، منار، وونیا اور ولی اویا کے علاقوں میں ہوئیں۔ وزارت دفاع کے مطابق جھڑپوں میں چھیاسٹھ علیحدگی پسند اور آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔ رواں سال فوج اور تامل باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک پانچ ہزار تین سو ایک تامل علیحدگی پسند اور چار سو چونسٹھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں یکم اگست ٢٠٠٨ء کو جزوی سورج گرہن ہوگا

کراچی ۔ پاکستان میں یکم اگست 2008ء کو جزوی سورج گرہن ہوگا۔ادارہ برائے خلاء، سیارچوں اور فلکیاتی علوم (اسپاء) جامعہ کراچی کے مطابق یہ گرہن ملک کے شمال مغربی علاقوں میں جزوی طور پر دیکھا جائیگا۔ادارہ کے مطابق ملک میں سب سے پہلے گرہن پشاور میں دیکھا جائیگا جہاںیہ دوپہر 4بجکر 18منٹس پر نمودار ہوگا۔اسلام آباد میں جزوی سورج گرہن 4بجکر20منٹ، لاہور و کوئٹہ میں 4بجکر39منٹ اور کراچی و حیدرآباد میں 4بجکر40منٹ پر سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔

ضلع ڈیرہ بگٹی میں ریموٹ کنٹرول بم سے ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق ایک شدید زخمی

کوئٹہ ۔ ضلع ڈیرہ بگٹی میں ریموٹ کنٹرول بم سے ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق ایک شدید زخمی تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز نامعلوم تخریب کاروں نے پیر کوہ سے چند گز کے فاصلے پر کنڈور کے مقام پر ایک سیکورٹی فورس کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم سے اڑادیا جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی اہلکار رحیم اللہ موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا سیکورٹی اہلکار فیاض احمد شدید زخمی ہوگیا جسے مقامی ہسپتال میں داخل کردیا گیا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ۔

معاہدہ مری سے ہٹ کر بات نہیں ہو سکتی۔جاوید ہاشمی



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ مری معاہدے سے ہٹ کر بات نہیں ہو سکتی اور اگست میں اتحادیوں سے بات چیت کر کے ججز کے مسئلے کو حتمی نتیجہ تک پہنچائیں گے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ججز کی بحالی کے حوالے سے وکلاء کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کا احترام کر تی ہے انہوں نے کہا کہ ہم اگست کے بعد تک انتظار نہیں کر سکتے ۔

افغانستان میں اتحادی فوج کی فائرنگ، ٧ شہری جاں بحق

صوبہ ہلمند ۔ افغان صوبہ ہلمند میں اتحادی فوجیوں نے مسافر بس پر فائرنگ کر کے تین خواتین اور دو بچوں سمیت 7افراد کو ہلاک کر دیا۔ اتحادی فوج نے صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے سروان قلعہ میں مسافر بس پر اس وقت فائرنگ کر دی جب بس اتحادی فوجیوں کی قائم کردہ چیک پوسٹ کے قریب سے گزر رہی تھی فائرنگ سے بس میں سوار تین خواتین اور دو بچوں سمیت سات افراد جاں بحق ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق اتحادی فوجیوں نے بس پر بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کی صوبہ تخار میں طالبان نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا۔ حکام کے مطابق جوابی فائرنگ سے طالبان کمانڈر ملا عثمان ہلاک ہو گیا۔ صوبہ فرح میں افغان فوج نے ایک کارروائی کے دوران پانچ طالبان کو ہلاک اور نو کو گرفتار کر لیا گیا اس صوبے میں اتحادی فوج نے طالبان کے خلاف جمعرات کو کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

بھارت میں یکے بعد دیگرے ١٦ بم دھماکے ، ١٨سے زائد افراد ہلاک ، ١٠٠سے زائد زخمی ۔اپ ڈیٹ

احمد آباد ۔ بھارتی ریاست گجرات میں وزیر اعلیٰ نرنندر مودی کے انتخابی حلقے سمیت مختلف علاقوں میں یک بعد دیگرے 16بم دھماکوں میں کم از کم 18افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ۔ دھماکوں کے بعد سیکو رٹی فورسز نے پورے شہر کی ناکہ بندی کردی ہے جبکہ بھارت کے تمام بڑے شہروں میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی شام بھارتی ریاست گجرات کے دارالحکومت آحمد آباد میں یک بعد دیگرے گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بے جے پی کے سینئر رہنما نرنندر مودی کے انتخابی حلقے مانی نگر ،سرکھیج ، ایسان پور ،باپو نگر ،حاکسر ،نارودا پاٹیہ ،گونند وادی ،سبار متھی ریور ،ٹھاکر نگر اور جواہت چوک میں یک بعد دیگرے 16بم دھماکے ہوئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف سر کھیج کے سات مقامات پر بم دھماکے ہوئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکے اس وقت تجارتی مراکز میں کیے گئے جب وہاں لوگوں کا ہجوم تھا اور یہ بم دھماکے سائیکل سی این بس اور ٹفن بکس میں رکھے گئے تھے ۔ ان دھماکوں میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 18افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہو گئے ہیں ۔پولیس کے مطابق یہ بم دھماکے گزشتہ روز بنگلور میں ہونے والے بم دھماکوں کا تسلسل ہیں تاہم یہ بم دھماکے بنگلور بم دھماکوں سے زیادہ طاقت ور تھے جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں اور لوگ زخمی ہوئے ۔پولیس حکام کے مطابق ان دھماکوں سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور وہاں پر موجود لوگوں میں افر تفری پھیل گئی اور لوگ کھلی دکانیں چھوڑ کر جان بچانے کے لئے دھماکے کی جگہ سے بھاگ گئے ۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی آوازیں سنتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تمام زخمیوں کو قریبی ایل جے ہسپتال میں داخل کروایا گیا ۔ اس موقع پر پولیس نے پورے احمد آباد شہر کے اندر آنے اور جانیوالے تمام راستوں کی نا کہ بندی کردی اور ریلوے سٹیشن کو سیل کردیا اوراحمد آباد ایک حساس علاقہ ہے جہاں 2002ء میں مسلم کش فسادات ہوئے ۔ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا تھا ان بم دھماکوں کے بعد کسی بھی نا خوشگوار واقعے اور کشیدگی کی صورت حال سے بچنے کے لئے پورے شہر کو سیل کردیا گیا ہے اس کے علاوہ تمام موبائل کے نیٹ ورک جام کردئیے گئے اور بم ڈسپوزل سکواڈ شہر کے مختلف علاقوں میں بھیج دئیے گئے تاکہ مزید بم دھماکوں کے خدشے کو کم کیا جا سکے ۔ ان بم دھماکوں کے فوری بعد بھارتی دار الحکومت نئی دہلی ، بھارتی ریاست پنجاب ، مہا رشٹر ، ہرایا نہ اور چندی گڑ ھ میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور تمام حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات سخت کردئیے گئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈین مجاہدین نامی ایک تنظیم نے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ نرنندر مودی کو ایک ای میل بھیجیہے جس میں کہا گیا ہے کہ گجرات میں یک بعد دیگرے بم دھماکے 2002 ء کے مسلم کش فسادات کا انتقام ہیں یہ ایک کھلا چیلنج ہے اگر بم اسے روک سکتے ہو تو روک لو ۔ اس موقع پر بھارتی صدر پرا تیبھاپٹیل اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سخت الفاظ میں مذمت کی اور لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ۔ بھارتی صدر نے اپنے پیغام میں عوام سے اپیل کی امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں ۔ انہو ںنے ان بم دھماکوں پر سخت افسو س کا اظہار کیا اور کہا کہ بم دھماکے کرنے والے لوگ ملک میں امن اور ہم آہنگی کو ہدف بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے اس خوہش کا اظہار کیا کہ ان بم دھماکوں میں جو لوگ زخمی ہوئے ہیں وہ جلد صحت یاب ہو جائیں اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نے بھی لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ امن و امان خراب کی کسی کوشش کو ناکام بنائیں ۔ اس موقع پر بھارتی لوک سبھا کے قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے اس بم دھماکوں کی سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکے انسداد دہشت گردی کے ادھورے اقدامات کے باعث ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک بم دھماکے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ لیگل فریم ورک میں کچھ خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر بھارتی کے مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پٹیل نے ان بم دھماکوں کی کسی پر ذمہ داری ڈالنے کے حوالے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس میں کون ملوث ہے ۔اور نہ ہی یہ میرے اختیارات ہیں کہ میں کسی کی نشاندہی کر سکوں ۔ انہوں نے کہاکہ دھماکوں کی مزید تفصیلات آنے پر ہی معلوم ہو گا کہ دھماکوں میں کون ملوث ہے -دریں اثناء بھارتی کے مرکزی سیکرٹری داخلہ مدھوکر گوپتا نے یقین دہانی کرائی کے گجرات میں ہنگامی بنیادوں پر سیکورٹی کے تمام ضروریات کو پوراکیا جائے گا ۔اور قومی سیکورٹی گارڈ کے دستے علاقے میں بھیج دئیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بم ایکسپرٹ ٹیم بھی علاقہ میں صورت حال کاجائزہ لینے کے لئے گجرات بھیجی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گجرات سمیت دیگر تمام ریاستوں میں ایڈوائزی نوٹ تین دن قبل بھیج دیا گیا تھا اور ڈائریکٹر جنرلز اور وزارت داخلہ کے سیکریٹریز کی ملاقات جلد ہی بلایا جارہی ہے

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مفاد میں ہے ، یوسف رضا گیلانی



حکومتی رٹ کسی کو چیلنج کرنے دیں گے نہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیں گےصدر بش سے اقتصادی ، معاشی ، دفاعی اور اینٹلی جنس کے شعبوںمیں تعاون پر تبادلہ خیال ہو گاوزیر اعظم کا دورہ امریکا پر روانگی سے قبل چکلالہ ائر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ حکومتی رٹ کسی کو چیلنج کرنے دیں گے نہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیں گے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی اور کے نہیں اپنے قومی مفاد میں لڑ رہے ہیں ۔ امریکی صدر بش سے اقتصادی معاشی دفاعی اور اینٹلی جنس کے شعبوںمیں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے امریکا روانگی سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہفتہ کو اسلام آباد سے اپنے پہلے باضابطہ تین روزہ امریکی دورے پر واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں ۔ روانگی سے قبل چکلالہ ائربیس پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ دفاع ، اقتصادی امور سائنس و ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت دیگر اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو مختلف شعبوں میں بھرپور امریکی تعاون حاصل ہے ان میں دفاع صحت ، تعلیم اور اینٹلی جنس شعبوں میں تعاون سے متعلق گفتگو ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ کسی اور کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد میں لڑ رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ ہمارا اپنا مسئلہ ہے کسی اور کے مفاد میں ان کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور امریکی صدر بش کے درمیان 28 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہو گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر بش سے اہم ملاقات کی اور بین الاقوامی ایشوز پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک شاندار تعلقات میں منسلک ہیں۔ ان کے دورہ امریکا سے نہ صرف یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹ سے متعلق گول میز کانفرنس ان کی صورت میں واشنگٹن میں ہو گی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف پہلے ہی سے واشنگٹن میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں کی اس بڑی کانفرنس کے انعقاد سے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کا امکان ہے ۔وزیر اعظم کے ساتھ امریکا جانے والوں میں وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان ، مشیر داخلہ رحمان ملک ، اقتصادی امور کے لیے وزیر اعظم کی معاون خصوصی حنا ربانی کھر شامل ہیں جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لندن سے وفد میں شامل ہو جائیں گے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے تو وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر ، وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ ، وزیر امور کشمیر قمر الزمان کائرہ ، چےئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہیں رخصت کیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات میں قبائلی علاقوں پاک افغان سرحدات کی صورتحال اور افغانستان کے حالات سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ وزیر اعظم سے امریکی نائب صدر ڈک چینی ، ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوباما ،ری پبلکن صدارتی امیدوار جان میکنن ، وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس اور دیگر امریکی عہدیدار بھی ملاقاتیں کریں گے ۔

ایران میں ٦ ہزار ایٹمی سنیٹری فیوجز کام کررہے ہیں ، احمدی نژاد



تہران ۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہاہے کہ ایران کے پاس یورینیم افزودگی کیلئے چھ ہزار سنٹری فیوجز کام کر رہے ہیں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے حوالے سے مغربی ممالک کے دباؤ کو برداشت نہیں کیاجائے گا ایران کے شہرمشہد میں یونیورسٹی کے اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہاکہ ایران کے پاس چھ ہزار یورینیم افزودگی کے سنیٹری فیوجز موجود ہیں جو اس وقت کام کر رہے ہیں مئی میں امریکی واچ ڈاگ نے کہا تھا کہ ایران کے پاس 3500یورینیم افزودگی کے سینیٹری فیوجز کام کر رہے ہیں افزودہ شدہ یورینیم توانائی کے حصول اور ایٹم بم بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے ایران کا کہنا ہے کہ یورینیم افزدوگی کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے تاکہ تیل اور گیس کو زیادہ سے زیادہ فروخت کیا جا سکے۔

یمن میں خودکش کار بم دھماکہ ، ٢ افراد ہلاک ، ٢٠ زخمی

خودکش حملہ آور نے پولیس سٹیشن کے باہر کار دھماکے سے اڑا دی
صنعاء ۔ یمن کے مشرقی شہر سئیون میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے باہر خود کش کاربم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے ہیں.عینی شاہدین کے مطابق کار میں سوار خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر دھماکے سے اڑادی جس سے حملہ آور اور ایک پولیس اہلکار ہوگئے.ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں بیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار اور عام شہری شامل ہیں.العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھماکے سے بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا اور برقی رو معطل ہوگئی. تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ کس گروپ نے کیا ہے اور نہ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے.یمن اسامہ بن لادن کا آبائی وطن ہے اور اسے القاعدہ کے جنگجوؤں کی جانب سے دہشت گردی کے حملوں کا سامنا ہے .انہوں نے حالیہ مہینوں کے دوران متعدد حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے.یمن کی حکومت شمالی صوبے سعدہ میں 2004ء سے عبدالمالک الحوثی کے وفادار شیعہ باغیوں سے بھی نبردآزما ہے .یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ ختم ہو چکی ہے

پی ٹی وی پر سفارشی اینکر پرسنز کا کروڑوں روپے کا بوجھ،پی ٹی وی بینک سے قرضہ کیلئے رجوع تحریر : اے پی ایس،اسلام آباد

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ حکومتی رٹ کسی کو چیلنج کرنے دیں گے نہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیں گے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی اور کے نہیں اپنے قومی مفاد میں لڑ رہے ہیں ۔ امریکی صدر بش سے اقتصادی معاشی دفاعی اور اینٹلی جنس کے شعبوںمیں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔ امریکی انتظامیہ کے ساتھ دفاع ، اقتصادی امور سائنس و ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت دیگر اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے پاکستان کو مختلف شعبوں میں بھرپور امریکی تعاون حاصل ہے ان میں دفاع صحت ، تعلیم اور اینٹلی جنس شعبوں میں تعاون سے متعلق گفتگو ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ کسی اور کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد میں لڑ رہاہے ۔انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ ہمارا اپنا مسئلہ ہے کسی اور کے مفاد میں ان کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے ہیں ۔دہشت گردی کاخاتمہ اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور امریکی صدر بش کے درمیان 28 جولائی کو وائٹ ہاو¿س میں ملاقات ہو گی صدر بش سے اہم ملاقات اور بین الاقوامی ایشوز پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ دونوں ممالک شاندار تعلقات میں منسلک ہیں۔ ان کے دورہ امریکا سے نہ صرف یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہو گا ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹ سے متعلق گول میز کانفرنس ان کی صورت میں واشنگٹن میں ہو گی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف پہلے ہی سے واشنگٹن میں موجود ہیں ۔ سرمایہ کاروں کی اس بڑی کانفرنس کے انعقاد سے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کا امکان ہے ۔وزیر اعظم کے ساتھ امریکا جانے والوں میں وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان ، مشیر داخلہ رحمان ملک ، اقتصادی امور کے لیے وزیر اعظم کی معاون خصوصی حنا ربانی کھر شامل ہیں جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لندن سے وفد میں شامل ہو جائیں گے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے تو وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر ، وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ ، وزیر امور کشمیر قمر الزمان کائرہ ، چےئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہیں رخصت کیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات میں قبائلی علاقوں پاک افغان سرحدات کی صورتحال اور افغانستان کے حالات سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ وزیر اعظم سے امریکی نائب صدر ڈک چینی ، ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوباما ،ری پبلکن صدارتی امیدوار جان میکنن ، وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس اور دیگر امریکی عہدیدار بھی ملاقاتیں کریں گے ۔ جبکہ مالی مشکلات کے حوالے سے پی ٹی وی نے بیس کروڑ روپے کے قرضے کے حصول کے لیے بنک سے رابطہ کردیا ہے اس کی ایک بڑی وجہ ہر دور حکومت میں ایسے صحافی جو صحافت کے نام پر ایک دھبہ ہیں جوسچ کی تلاش کی بجائے سیاسی ،حکومتی اور صحافتی مزارعوں کا کر دار ادا کرتے رہے ان مزاروں نے سفارشی بیساکھیوںکا سہارا لیکر پی ٹی وی میں اپنا لاکھوں روپے ما ہا نہ کے پیکج لئے ہوئے ہیں۔ ان میں اینکر پرسن، ریسورس پرسن اور چند ایک سفارشی نیوز کا سٹر بھی ہیں۔ ہر ما ہ پی ٹی وی انھیں کروڑوں روپے ادا کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں وہ بھی لوگ شامل ہیں جو صرف ایف اے پاس ہیں جبکہ دوسری طرف یہ صورت حا ل ہے کہ جرنلزم میں ماسٹر ڈگریاں رکھنے والے روز گار کی تلاش میں فٹ پاتھوں پر اپنے جوتے گھسیٹ رہے ہیں سیاسی یتیم ہونے کی وجہ سے پی ٹی وی جیسے اداروں میں ملازمت سے محروم ہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے گزارش ہے کہ اگرچہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا بحثیت چئیر مین و ایم ڈی تعیناتی ایک خوش آئند اقدام ہے ڈاکٹر شاہد مسعود پی ٹی وی کا قبلہ تب ہی درست کر سکتے ہیں جب آپ انھیں سفارشی اینکر پرسن، ریسورس پرسن جو پی ٹی وی پر کروڑوں روپے ما ہا نہ بوجھ ہیں انھیں فارغ کر نے کا اختیار دیں۔ پی ٹی وی کا کا م اگرچہ ایک صحافتی آر گینا ئز یشن کاہے لیکن سو کر کے ایک سرکاری کا ر پو ریشن ہے لہذا اس میں کسی طرح کی بھرتی کا طریقہ بھی سرکار کے دیگر اداروں کی طرح قواعدو ضوابط والا ہونا چاہیے۔ اور اس ضمن میں ایک سلیکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لا یا جا ئے اور پی ٹی وی میں کسی طرح کی بھرتی خصوصی طور پر اینکر پرسن،ریسورس پر سن کی ضرورت کیلئے بھی پہلے اخبارات میں اشتہارات دیے جائیں بے روز گا ری کا یہ عالم ہے ماسٹر ڈگری والے بھی آجکل نائب قاصدی کرنے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ پی ٹی وی کو خسارے سے نکالنے کے لئے نادھندہ سے پوری دیانتداری سے ریکوری کی جا ئے اگر چہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق کسی وزیر کی اشتہاری کمپنی سے لاکھوں روپے رہتے ہیں اس دوران یہ بھی جانچ پڑ تال کر لی جائے کہ موجودہ حکومت میں بھی کوئی ایسی اہم عہدے پر فائز شخصیت ہے جس کی کسی اشتہاری کمپنی کی طرف سے پی ٹی وی کے کر وڑوں روپے کی ریکوری رہتی ہو کیونکہ ضروری ہے کہ پی ٹی وی کی ریکوری فی الفور کی جائے تاکہ اس مقا بلے کے رحجان اور پیشہ وارانہ فرائض میں پی ٹی وی کو بہتر سے بہتر کیا جا سکے۔ جبکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سب کمیٹی نے پی ٹی وی کے اربوں روپے کے نادہندگان کے نام شائع کرنے کا فیصلہ کرلیا اس ضمن میں پی ٹی وی سے تمام نادہندگان کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں ۔ کمیٹی نے پی ٹی وی حکام کو ان اربوں روپے کے بقایا جات کی وصولی کے لیے کوششیں تیز کرنے اور تین ماہ میں اس معاملے میں نمایاں پیش رفت کا ٹاسک دے دیا ہے ۔ ریکوری کے سلسلے میں پی ٹی وی حکام کو فری ہینڈ دیدیا گیا ہے ۔پی ٹی وی کے نادہندگان میں ایک سابق وزیر اطلاعات سمیت انتہائی بااثر شخصیات کی اشتہاری کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ پی ٹی وی حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ ریکوری میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ کسی بیوہ یا یتیم کو ہاو¿سنگ بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے چند ہزار روپے قرضے کی پاداش میں ان سے چھت چھین لی جاتی ہے جبکہ کروڑوں اربوں کے نادہندگان کے خلاف اس طرح کے سخت اقدامات سے کیوں گریز کیا جاتا ہے ۔ سب کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کو کمیٹی کے کنوینئر سینیٹر طارق عظیم کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا ۔ کمیٹی کے اراکین سینیٹر نصیر مینگل اور سینیٹر طاہرہ لطیف کے علاوہ چیئرمین پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود اور پی ٹی وی کے اعلی حکام نے اجلا س میں شرکت کی ۔ اجلاس میں پی ٹی وی کے اربوں روپے کے بقایا جات کی عدم وصولی کا معاملہ زیر غور آیا ۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف اشتہاری کمپنیوں اور اداروں کے ذمہ پونے دو ارب روپے سے زائد کی رقم واجب الادا ہے ۔ ان میں ایک ارب چالیس کروڑ روپے کے بقایا جات گزشتہ چار ماہ کے عرصہ کے ہیں ۔ پی ٹی وی کے رولز کے مطابق تین ماہ میں بلز ادا نہ کیے جانے پر ان کمپنیوں کونادہندگان میں شامل کرلیا جاتا ہے ۔ کمیٹی کو مزید بتایا کہ ان اشتہاری کمپنیوں کے مالکان اور اور پروپرائیٹر کے بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور سیاستدانوں سے گہرے مراسم ہونے کی وجہ سے ریکوری میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ نادہندگان سیاسی دباو¿ استعمال کرتے ہیں ۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایک سابق وزیر اطلاعات کی اشتہاری کمپنی 1997 ء سے نادہندہ چلی آرہی ہے ۔ کمیٹی نے پی ٹی وی کے نادہندگان کے نام شائع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ٹی وی حکام سے ان کمپنیوں کے پروپرائیٹرز اور چیف ایگزیکٹو افسران کے نام طلب کر لیے ہیں کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہدایت کی ہے کہ ریکوری کے معاملے مین کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ تین ماہ اس معاملے میںپیش رفت کی جائے اس سلسلے میں کمیٹی کا دوبارہ اجلاس اکتوبر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کمیٹی نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ مالی مشکلات کے حوالے سے پی ٹی وی بیس کروڑ روپے کے قرضے کے حصول کے لیے بنک سے رابطہ کردیا ہے ۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اربوں روپے کا بقایا جات کی وصولی کو یقینی بنایا جاتا تو یہ مالی مشکلات پیش نہ آتیں۔ پی ٹی وی انتظامیہ ریکوری کو یقینی بنانے پر بھرپور توجہ دے۔( اے پی ایس)

عقل کے دعویداروں کی شاہی دربار میں حا ضری ۔۔۔۔ تحریر: عمران چودھری



گذشتہ د نوں سرکار کے منظور نظر مدیروں اور کالم نگاروں نے شاہی دربار میں حاضری دی ہے اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی دورہ کسی ڈیل کے لیے نہیں کررہے ہیں اور کوئی منتخب حکومت کوگھر بھیج سکتا ہے نہ کسی کی جرات ہے کہ وہ قومی اسمبلی کوتحلیل کرے ۔ وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں میں کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیاہے معیشت کا استحکام اور امن وامان کاقیام حکومتی ترجیحات ہیں۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی ڈیل نہیں بلکہ صدر بش کی دعوت پر وہ امریکہ جا رہے ہیں۔ ماضی میں غیر منتخب حکمرانوں کے فیصلوں کی وجہ سے حالات ابتر ہوئے ۔ اور ان حکمرانوں نے ڈیل کے تحت غیر ملکی دورے کیے ۔ تمام فیصلے ملک کے مفاد میں کیے جائیں گے دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی رہنماو¿ں سے دہشت گردی کے خاتمے سمیت اہم امور پر بات چیت کی جائے گی ۔ امریکی اور سعودی عرب کی ممکنہ امداد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب ایسا ہو گا تو قوم کو خوشخبری سنا دی جائے گی وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں میںکوئی معاہدہ نہیںکیا تمام معاہدے سرحد حکومت نے کیے ہیںا نہوں نے کہاکہ فاٹا میں امن پسند لوگوں سے بات چیت کی جا رہی ہے ۔ ملک کی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے اور کسی کو حکومت کی عملداری میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یہ پاکستانی عوام کی اسمبلی ہے اور مختصر عرصے میں یہ فیصلہ نہیںکیا جاسکتا کہ حکومت مقبول ہے یا غیر مقبول ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو ملک میں گڑ بڑ پیدا کرنے نہیں دی جائے گی ۔ حکومت ہر حال میں امن وامان برقرار رکھے گی ۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے سرحد حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت کو چیلنج نہیں کر سکتا ۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ فاٹا میں حکومتی رٹ کو چیلنج کیا گیا تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا افغانستان میں منشیات کی رقم اسلحے کی خریداری کے لئے استعمال ہو رہی ہے موجودہ حکومت کی دو ترجیحات ہیںایک معیشت کو مضبوط کرنا دوسرا امن وامان کی صورت حال پر قابوپانا ‘ امن وامان سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے اور امن کے بغیر ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی ۔ سید یوسف رضا گیلانی نے وزارت عظمی کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی معزول ججوں کی رہائی کا حکم دے دیا تھا حکومت نے ججوں کی تنخواہ بھی جاری کردی ہے ۔ معیشت اور امن وامان کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق ہے امن ہو گاتو سرمایہ کاری ہو گی اور ملک میں خوشحالی آئے گی ججوں کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس بارے میں ہماری نیت دیکھی جائے ججوں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ ہم ججوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں ججز کی بحالی ، صدر کے مواخذے ،فاٹا کی صورتحال سمیت تمام امور پارلیمنٹ میں طے کئے جائیں گے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے نہ کوئی منتخب حکومت کو گھر بھیج سکتا ہے عوام کی سماجی حالت تبدیل کر نے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ماضی کی حکومت کی غلط پالیسیوں سے عوام پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈالنا پڑا۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی کسی کی جرا¾ت نہیں ہے تو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے گذارش ہے کہ وہ ججز کو بحال کر کے دکھا ئیں۔ جبکہ وزیر اعظم نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ما ضی میں غیر منتخب حکمرانوں کے فیصلوں کی وجہ سے حالات ابتر ہوئے اس حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی سے گزارش ہے کہ آپ بھی ما ضی کے حکمرانوں سے سبق سیکھتے ہوئے کچھ ایسے کا م کر جا ئیں تا کہ آپ کے بعد آنے والہ کوئی بھی حاکم آپ کو مورو الزام نہ ٹھہرا سکے اور آپ کو مزکورہ معاملہ پر سنجیدہ ہونا ہوگا اور آپ کو یہ بھی بات دل دماغ سے نکا لنا ہوگی کہ اڈیالہ جیل میرا دوسرا گھر ہے۔ کیونکہ جب آپ کوئی اچھا کا م کریں گے تو آپ کو ایسی نوبت نہیں آئے گی۔اگر چہ سابقہ وزیر اعظم و دیگر قومی مجرموں نے سمندر پار پناہ لینے کے اڈے بنائے ہوئے ہیں آپ تو ان سے منفرد ہیں لہذا آپ کو کا م بھی ان قومی مجرموں ہٹ کر کرنا ہوں گے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں تو آپ اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔ اے پی ایس

Friday, July 25, 2008

روشن صبح کی دلیل ۔۔ ڈی جی نیب کا عزم تحریر: اے پی یس،اسلام آباد

ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو راولپنڈی ریئر ایڈمرل محمد ذکاءاللہ خان نے واضح کیا ہے کہ نیب ایک مستقل ادارہ ہے جسے کوئی حکومت یافرد ختم نہیں کر سکتا نہ ہی کوئی اس کے اختیار ات سلب کر سکتا ہے یہ مکمل اختیارات اور پوری طاقت کے ساتھ کرپشن کے خلاف برسرپیکار ہے جس کا اصل ہدف سرکاری اداروں میں کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دہی کے کلچر کو جڑ سے اکھاڑنا ہے نیب سے بعض افراد کی ان کے محکموں کو واپسی بجٹ مسائل کی بنا پر کی گئی ہے ۔ عوام اور میڈیا حکومتی و سرکاری اداروں اور سول افراد کی میگا کرپشن کی نشاندہی کریں نیب مکمل تحفظ اور راز داری کے ساتھ فوری اور موثرکارروائی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز احتساب بیورو راولپنڈی میں میگا سکیورٹیز اور نظامی ٹاو¿ن کے مجموعی طور پر 461 متاثرین کی رقوم واپسی کے لیے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشن نیب ہیڈ کوارٹر کرنل شہزاد انور بھٹی ڈائریکٹر انوسٹی گیشن ونگ راولپنڈی کرنل نعیم اللہ ایڈیشنل ڈائریکٹر انوسٹی گیشن میجر (ر) برہان اور ڈپٹی پر اسیکوٹر جنرل نیب ذوالفقار بھٹہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔میگا سیکیورٹی کمپنی سکینڈل کے حوالے سے ڈی جی نیب نے کہا کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر علی کی قیادت میں شبانہ روز محنت کر کے اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز نے ذاتی مفاد کے لئے لوگوں کے شیئرز اور رقوم کو غیر قانونی طور پر نہ صرف کراچی اور لاہور کی سٹاک ایکسچینز میں لگایا بلکہ کھاتہ داروں کے علم میں لائے بغیر کمپنی کا نقصان پورا کرنے کے لئے ان کے شیئرز بیچ دیئے ۔ تحقیقات کے دوران کمپنی کے ڈائریکٹر ز کو گرفتار کر کے ان کی جائیداد کو منجمد کروایا تاکہ لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کا بندوبست کیا جا سکے ۔ اس دوران ایک ڈائریکٹر نے اپنے حصے کے دو کروڑ روپے سے زائد واپس کرنے کا عندیہ دیا اور 70 لاکھ کی پہلی قسط جمع کروانے پر جیل سے رہائی پائی ۔ جس کے بعد اس نے باقی ماندہ دو اقساط وقت پر جمع نہ کرائیں ۔ جس پر قانون کارروائی کر کے اس کی اور اس کے خاندان کی جائیداد نیلام کی جا رہی ہے ۔ کمپنی کے دو ملازمین سے بھی 572000 روپے وصول کئے گئے ۔ باقی تین ڈائریکٹروں کے خلاف کیس احتساب عدالت میں تیزی سے زیر سماعت ہے اور انشاء اللہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں باقی ماندہ رقم بھی حاصل کر لی جائے گی ۔ اب تک تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ روپے متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں اور آج تقریباً 77 لاکھ روپے 461 متاثرین میں تقسیم کئے جا رہے ہیں جن میں سے 44 متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقم ادا کی جائے گی اور باقی ماندہ 337 متاثرین کو 12 فیصد کے حساب سے جزوی ادائیگی کی جا رہی ہے اس کے بعد میگا سیکیورٹیز کی اسلام آباد سٹاک ایکسچینج میں سیٹ اور اس کے بچے کچے اثاثے بیچ کر اور ایک ڈائریکٹر جو کہ ڈیفالٹر ہے اس کے جائیداد کو نیلام عام کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہو گی وہ تمام متاثرین کو ادا کر دی جائے گی ۔ کیس کی سماعت بھی تیزی سے جاری ہے اور کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈائریکٹرز سے باقی ماندہ رقم بھی وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کر دی جائے گی ۔ نظامی ٹاو¿ن سکینڈل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نظامی ٹاو¿ن راولپنڈی کے متاثرین کی رقم ان کو لوٹا رہے ہیں اس ٹاو¿ن کا منصوبہ اخبار فروش ویلفیئر ٹرسٹ راولپنڈی کی انتظامیہ نے بنایا اور سال 1993 اور اس کے بعد غریب اخبار فروشوں اور عام لوگوں سے پیسے بٹورے متاثرین سال ہا سال کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود داد رسی حاصل نہ کر سکے ۔ سال 2007 میں نیب راولپنڈی کی مداخلت اور سرتوڑ کوششوں سے سوسائٹی کا سابقہ سیکرٹری آفتاب احمد عباسی متاثرین کی لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے پر آمادہ ہوا اس کے نتیجے میں متاثرین کی تمام رقم ماہ ستمبر 2008ء تک تین اقساط میں وصول ہو جائے گی۔ پہلی قسط آج 13متاثرین میں تقسیم کی جا رہی ہے،بقایا تمام رقم انشااللہ ستمبر 2008ء تک تقسیم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم بحیثیت ایک دور اندیش قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنا سرمایہ لگاتے وقت خوب چھان پھٹک کریں اور لالچ میں آ کر اپنا پیسہ خود اپنے ہاتھوں ضائع نہ کریں میں متعلقہ اداروں سے بھی امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں بطریقہ احسن نبھائیں گے اور لیٹروں پر نظر رکھیں گے تاکہ غریب عوام کا پیسہ لوٹا نہ جا سکے نیب کے ملک بھر کے دفاتر میں نظام وضع کیا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے چھوٹی ترین آپشن بارے موصول ہونے والی شکایات پر ہفتہ وار اجلاسوں میں کارروائی کوحتمی شکل دی جاتی ہے کرپشن کے خلاف نیب تنہا سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پبلک سروس ، نجی شعبہ ، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندے مل کر کرپشن کے خلاف جہاد میں آگے نکلیں جبکہ اس حوالے سے میڈیا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔ اہم مقصد پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تا کہ نئی نسل کو بہتر پاکستان دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دیانتداری کا راستہ روشن صبح کی دلیل ہے جبکہ دنیا کا ہر مذہب بھی دیانتداری کا ہی درس دیتا ہے لہذا ضروری ہے کہ قوم کاہرفرد ہمیشہ زرق حلال کمانے کھانے اور اپنے اہل خانہ کو دینے پر توجہ صرف کرے۔ایسوسی ایٹد پریس سروس،اسلام آباد

Thursday, July 24, 2008

خوفناک منظر میں ایسی کوئی قیادت نہیں جو عوام کو امید کا پیغام دے

عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم اور فاقوں پر مجبور ہیں
تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد
حکمران اتحاد میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے قومی پالیسی مرتب کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جسے جلد ہی منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے کی توقع ہے حکومت کو بندوق کی نوک پر معاملات حل کرنے کی بجائے قبائلی عمائدین سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کو ترجیح دینا ہو گی۔ غربت کے خاتمے اور امن وامان کیلئے حکمران اتحاد کو مل کر پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ جبکہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور معزول ججز کی بحالی تک ان کی جماعت وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی حکومت قومی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرے گی۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو ہر پتھر اور شجر کے پیچھے سے ایک مجاہد نکلے گا اور پوری پاکستانی قوم ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرے گی۔ عوام سے ووٹ لینے والے خطرات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بیرون ملک رہنے میں خیریت سمجھتے ہیں ملکی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے اور سازشی قوتیں حکومت کو آلہ کار بنا رہی ہیں اور ملک میں مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ امن و امان کی صورتحال ابتر ہے، علیحدگی پسند قوتیںامریکی و بھارتی پشت پناہی میں زور پکڑ رہی ہیں، قبائلی علاقوں اور سرحد میں منظم سازش کے تحت فساد کو ہوا دی جارہی ہے۔ مہنگائی کو مصنوعی طور پر بڑھایا جا رہاہے۔پٹرول،ڈیزل،بجلی، گیس، آٹے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف نیٹواورامریکی افواج افغان سرحد پر جمع ہورہی ہیں اور وہاں زمین دوزبنکر اور مورچے بنائے جارہے ہیں،دوسری طرف بھارت کشمیر بالخصوص وادی نیلم میں چھیڑچھاڑ کررہاہے۔ یہ صورتحال امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے دعویداروں اور جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کرکشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکی جنگ کے لیے پاکستان کو استعمال کیا جا رہاہے اور یہ و اضح ہوگیا ہے کہ حکمران قوم کے بجائے امریکی صف میں کھڑے ہیں۔اس خطرناک صورتحال میں ملک میں کوئی ایسی قیادت نہیں جو امید کا پیغام دے۔ 18فروری کو عوام سے ووٹ لینے والوں نے لندن اور دبئی کو اپنا مسکن بنا لیا ہے، اور خطرات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بیرون ملک رہنے میں خیریت سمجھتے ہیںقوم کو امید کا پیغام دینا ہوگااور اندرون وبیرون ملک و قوم کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بنا کر اس پر عمل کرنا ہوگاجبکہ قا ضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو منظم کریں گے اور ساتھ دینے والی ہر قوت کا خیر مقدم کریں گے۔ اس کے لیے ایرانی اور چینی قیادت سے بھی رابطہ کیا جائے گا اس وقت ملک کو ایک امین اور بیدار قیادت کی ضرورت ہے پرویز مشرف سے نجات، ججوں کی بحالی،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی،مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف جدوجہد،امریکی جارحیت اور علیحدگی پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عوامی بیداری ضروری ہے۔ جبکہ امریکی صدر بش کے قریبی معاون نے کہا ہے کہ پا کستانی حکومت کی طرف سے امن معاہدے کر نے اور عسکر یت پسندوں کو ٹھکا نے دینے کی پیشکش سے انتہا ئی خو فنا ک منظر نا مہ بن رہا ہے ۔ دو ہزار چھ کے بعد پا کستان میں عسکر یت پسندی میں تین گنا اضافہ ہو اہے مگر حکومت اس کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ عسکر یت پسند ملک کو غیر مستحکم کر نا چاہتے ہیں ۔امریکی صدر کے معاون کا کہنا تھا کہ پا کستانی حکومت کی طرف سے عسکر یت پسندوں سے معاہدے کرنے اور انہیں محفوظ ٹھکا نے دینے کے جنو ن سے قبائلی علا قوں میں انتہا ئی خو فنا ک منظر نا مہ بن رہا ہے ۔ امریکی صدر بش کے معاون کا کہنا تھا کہ انہوں نے اوول آفس میں بہت قریب سے دیکھا ہے کہ امریکی پا لیسیا ں دس منٹ میں تبدیل ہو جا تی ہیں تاہم انہوں نے اس بارے میں کو ئی مثال پیش نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ پا کستانی حکومت جا رحا نہ انداز میں عسکر یت پسندوں کا پیچھا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے وہ اپنے اہداف کے حصول کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، ان کے منصوبے میں امر یکا میں نائن الیون سے زیادہ افراد کی ہلا کت شامل ہے ۔ امریکی انتظامیہ کی فہر ست میں القاعدہ ، فاٹا، ایٹمی ہتھیا روں کا پھیلا و¿ ، ایر ان کا جو ہر ی پر وگرام ، شما لی کو ریا کا نیوکلیئر ایشو اور اسرائیل فلسطین امن معاہدہ شامل ہے ۔ جبکہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں پر عسکریت پسندوں کی مدد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے جس کے ثبوت جلد پیش کریں گے۔ فاٹا کی پالیسی میں صدر کا گورنر کے ذریعے عمل دخل ہے ۔باڑہ آپریشن اے این پی کی قیادت کی درخواست اور شکایات پر کیا گیا ۔بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے عبدالحئی بلوچ اور اختر مینگل سمیت تمام بلوچ رہنماو¿ں سے رابطے ہیں فاٹا کی پالیسی میں صدر کا گورنر کے ذریعے عمل دخل ہے سیکورٹی ایجنسیوں پر عسکریت پسندوں کی مدد کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ باڑہ آپریشن اے این پی کی قیادت کی درخواست اور شکایات پر کیا گیا۔ منگل باغ، نامدار اور محبوب الحق نے باڑہ کے حالات خراب کئے فاٹا میں اب حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اور اگست کے شروع میں جنوبی وزیرستان امن معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔مشیر داخلہ نے مزیدکہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں حالات پر سکون ہیں اور فاٹا کے مسائل جلد حل کر لیں گے۔ بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے عبدالحئی بلوچ اور اختر مینگل سمیت تمام بلوچ رہنماو¿ن سے رابطے ہیں ان کا کہنا تھا کہ براہمداغ بگٹی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے جس کے ثبوت جلد پیش کریں گے۔ افغانستان نے بھارتی ہائی کمیشن پر حملے کی تحقیقات کے بارے میں پاکستان کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بینک چینل ڈپلومیسی ہو رہی ہے اور بہت جلد اچھی خبر ملے گی۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے حکومت کو اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے ان علاقوں میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کو مستحکم کیا جائے گا ملک کی داخلی صورتحال کے بارے حکمران اتحاد کے غیر معمولی مشاورتی اجلاس فاٹا میں قیام امن کے لئے ممدو معاون ثابت ہو گا اور کئی معاملات میں پیش رفت ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ جمعرات کو قبائلی سینٹروں سے ملاقات میں کیا ملاقات میں وزیر اعظم نے قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لئے فاٹا کے شہروں کے لئے ایک ایک کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا ملاقات میں فاٹا میں قیام امن تعمیر و ترقی اور وسائل کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے فاٹا کی صورتحال کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے حکومت کو مفید تجاویز سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہو نے والے اس مشاورتی اجلاس کے فاٹا کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے قبائلی شہروں نے حکمران اتحاد کے اس اہم اجلاس میں ہو نے والے فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔ایسوسی ایٹد پریس سروس،اسلام آباد(اے پی ایس)

امریکی کمپنی کے زیر انتظام بابل میں صدام حسین کے صدارتی محل میں جوا خانہ بنانے کی تجویز

بغداد ۔ عراق کی موجودہ حکومت سابق عراقی صدر صدام حسین کے بابل میں موجود “قصر صدارت” کو جوا خانے میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق عراقی پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق مجوزہ جوا خانہ امریکہ کمپنی چلائے گی۔ عراقی حکومت کے ترجمان روزنامے “الصباح” کے مطابق صوبے میں سرمایہ کاری کی کمیٹی نے علاقے میں سرمایہ کاری کے متعدد منصوبوں کا جائزہ لیا۔ مقامی حکومت کو یہ منصوبے دو امریکی اور روسی کمپنیوں کی طرف سے پیش کئے گئے تھے۔روزنامے میں صوبہ بابل کے گورنر سالم المسلماوی کی عرب اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو صدارتی محل میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی پیشکش شائع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین اپنے دور حکومت میں یہاں قیام کیا کرتے تھے۔ پیشکش میں کہا گیا ہے کہ دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اسے میوزیم، ہیلتھ کلب یا جوا خانہ بنا کرسرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بابل کے گورنر نے عراقی میڈیا رپورٹس کو بے بیناد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں قصر صدارت کو اتحادی افواج استعمال کر رہی ہیں، لہذا اسے کسی دوسرے مصرف میں لانے سے متعلق گفتگو خارج از امکان ہے۔العبیدی کا کہنا تھا کہ قصر صدارت کو ایک قومی میوزیم بنایا جا سکتا ہے، اور یہاں پر کانفرنس وغیرہ منعقد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ امریکی فوج کے حملے کے بعد یہاں کافی لوٹ مار ہوئی اور محل کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

پی سی او ججز اپنے خلاف نعرے سن لیں تو شائد خود ہی کام چھوڑ دیں، میرے سمیت کوئی جج نیا حلف نہیں لے گا۔ جسٹس خواجہ محمد شریف

لاہور ۔ لاہور ہائی کورٹ کے معزول جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ معزول جج وکلاء کی کمر میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔ کوئی جج نئی اپوائنٹمنٹ یا حلف نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ 14اگست کو پاکستان آزاد ہوا اور اب وکلاء استحکام پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے کی۔ جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ جج یا چیف جسٹس وہ ہوتا ہے جسے عوام تسلیم کریں۔ پی سی او ججز اگر اپنے خلاف لگنے والے نعرے سنیں تو شائد خود ہی گھر چلے جائیں۔ اگر کسی عہدہ میں عزت نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب استعفیٰ دینے سے انکار کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ عوام ان کو اتنی عزت دیں گے۔ کونسا لیڈر ایسا ہے جو 26گھنٹوں میں اسلام آباد سے لاہور پہنچا ہو۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے 9مارچ 2007ء کو عدلیہ کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ 14اگست کو پاکستان آزاد ہوا اور اب وکلاء استحکام پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں معزول ججوں کی بحالی سے کیا غریب عوام کو روٹی مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ان لوگوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے نہ ہی یہ مہنگائی اور امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جج بحال ہوئے تو یہ مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افواہیں معزول ججوں نے نیا حلف اٹھالیا ہے سب بکوا س ہے۔ ہم لوہے کی چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ میڈیا کو کوئی چیز بھی شائع یا نشر کرنے سے پہلے متعلقہ لوگوں سے رائے ضرور لے لینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میری اپنے ساتھی ججوں کے ساتھ بات ہوئی ہے ہم سب متحد ہیں اور کوئی بھی نئی اپوائنٹمنٹ یا حلف نہیں لے گا۔ ججوں سے زیادہ قربانیاں وکلاء نے دی ہیں۔ ہم اتنے بے غیرت نہیں کہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھ سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا جن لوگوں سے رابطہ کیا بھی گیا انہوں نے صاف انکار کردیا ہے۔ معزول جج وکلاء اور عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے

ملک بھر میں ٣٠٠ اعلیٰ شخصیات عسکریت پسند وں کی ہٹ لسٹ پر ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور اے این پی کی قیادت شامل

ان شخصیات میں پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور اے این پی کی قیادت سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات شامل ہیں
اسلام آباد ۔ ملک بھر میں 300اعلیٰ شخصیات عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر آ گئی ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان شخصیات کو خبر دار کر دیا ہے جو عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہیںایک انگریزی اخبار کے مطابق سی آئی ڈی کے چیف ڈی آئی جی سعود مرزا نے بتایا ہے کہ اس طرح کی خبریں درست ہیں اور مسلسل آ رہی ہیں جن کے مطابق ملک اعلیٰ شخصیات کی جان کو خطرہ ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے تمام خفیہ ادارے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی واقع کو روکا جا سکا ۔ جبکہ خفیہ اداروں کے انتہائی قریبی ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ہٹ لسٹ میں شامل 300افراد میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کی قیادت بھی شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ طالبان مخالف مذہبی رہنما خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفیسران ، وزارت داخلہ کے حکام اور بعض صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شخصیات کے خاندان کے افراد بھی نشانہ بن سکتے ہیں اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کی قیادت کو پہلے بھی اس حوالے سے آگاہ کیا تھا جب کورکمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل احسن حیات پر حملے کے الزام میں جنداللہ کے اراکین کو گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے تفیتش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت بھی ان کی ہٹ لسٹ میں شامل ہے کیونکہ یہ امریکہ کے ایجنٹس ہیں۔

آپ جاننے کے حق دار ہیں” نیویارک میں ستمبر میں اسلام کے فروغ کی مہم چلائی جائے گی

نائن الیون کے موقع پراسلام کی تشہیری مہم پرانتہا پسند امریکیوں کے اعتراضات
نیویارک ۔ امریکا میں قائم ایک مسلم گروپ نے ستمبر میں نیویارک شہر کے سب وے پراسلام کی اشاعت کے لئے مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے. مہم مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک اورنائن الیون حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پر چلائی جائے گی. ”آپ جاننے کے حق دار ہیں” کے عنوان سے اشتہارات سب وے پر لگائے جائیں گے اور اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی بھی سوال کے جواب کے لئے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے رابطہ نمبر دئیے جائیں گے.گروپ میٹروپولیٹن ٹرانزٹ اتھارٹی ایم ٹی اے کو اشتہارات کی تشہیر کے لئے 48 ہزار ڈالرز ادا کر رہا ہے.اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی ویب سائٹ کے مطابق حلقہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی درست فہیم کو دوسروں تک احسن انداز میں پہنچانے اور اسلام کے بارے میں پھیلائے گئے بہت سے غلط تصورات کی وضاحت کے لئے کام کر رہا ہے.حلقے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسلام کی تشہیر کے اس منصوبے کے لئے متعدد بڑی اسلامی جماعتوں اور کمیونیٹز نے تعاون کیا ہے”. ری پبلکن پارٹی کے رکن کانگریس پیٹر کنگ نے ایم ٹی اے پر زور دیا ہے کہ وہ اس مہم کو منسوخ کر دے.ان کا موقف تھا کہ ”یہ اشتہارات خاص طور پراس لحاظ سے قابل اعتراض ہیں کہ انہیں گیارہ ستمبر کے حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پرسب ویز پرچلایا جائے گا حالانکہ سب ویزدہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے”.