International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Monday, July 7, 2008

بھارتی حکمران اتحاد میں پھوٹ سے حکومت نہیں گرے گی‘ تجزیہ کار

واشنگٹن ۔ بھارت کے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کے ٹوٹنے کے باوجود کانگریس کی حکومت نہیں گرائی جا سکے گی۔امریکہ بھارت جوہری معاہدہ اور بھارتی حکومت میں خلفشار کے موضوع پرہونے والے وائس آف امریکہ کے پروگرام راؤنڈ ٹیبل میں ہندوستان ٹائمز کے ڈپٹی ایڈیٹر و تجزیہ کار ونود شرما، ڈاکٹر ظفر آغااورپروفیسر نوراحمد بابانے شرکت کی۔ونود شرما نے حکومتی اتحاد کے اندر اختلافات کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی واحد وجہ بھارت امریکہ جوہری معاہدہ ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں اس معاہدے کی مخالف ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ توانائی کی جن ضروریات کا پرچار کیا جاتا ہے یہ معاہدہ ان کو پورا نہیں کرسکتا البتہ اس کے سیاسی پہلو بھارت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا بھارت کو ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امریکہ کے دباؤ کا خدشہ ہے، ونود شرما نے کہا کہ بھارت کے جمہوری ادارے مضبوط ہیں ، ریاست خارجہ پالیسی کی تشکیل میں خودمختار ہے اور وہ پاکستان کی طرز پر امریکہ کی تابعدار نہیں ہو سکتی تاہم کچھ پارلیمانی حلقے اس بات کا خدشہ ضرور رکھتے ہیں۔تجزیہ کار کا خیال تھا کہ کانگریس امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور کچھ اتحادیوں کے الگ ہونے کی صورت میں بھی اس کی حکومت قائم رہے گی کیونکہ یونائیٹد نیشنل الائنس کے ایک بڑی جماعت سماج وادی پارٹی نے گانگریس کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ لہٰذا وزیراعظم من موہن سنگھ کو اعتماد کا ووٹ لیتے وقت ضروری عددی حمایت حاصل ہو گی۔ظفر آغا کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے سے بھارت کی خودمختاری پر آنچ ضرور آ سکتی ہے اور یہ خدشہ بے جا نہیں ہے کہ امریکہ اس ڈیل کے فعال ہونے کے بعد گاہے بگاہے بھارت کی خارجہ پالیسی پر بالعموم اور ایران بھارت تعلقات پربالخصوص اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی جریدوں نے بھارت امریکہ جوہری معاہدے پر بحث شروع کر رکھی ہے اور محتاط اندازوں کے مطابق بھارتی عوام کی اکثریت کو اس معاہدے پر کوئی تشویش نہیں ہے۔ لہذا کا نگریس کی قیادت بلا خوف آئی اے ای اے جا سکتی ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر نور احمد بابا نے بھادہلی اور بھارتی کشمیر کے ایوانوں میں سیاسی ہلچل کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی اور کانگریس اس وقتی بحران پر قابو پا لے گی

No comments: