اسلام آباد ۔ صدر پرویز مشرف نے جنگجوؤں پر حملوں کے لیے رواں سال سی آئی اے کو فاٹا میں میزائل اڈہ قائم کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ انکشاف معروف مصنف احمد رشید نے اپنی حالیہ کتاب ’’ ڈیسنٹ ان ٹو کاز‘‘ میں کیا۔ انہوں نے لکھا ہے مائیکل میکونل اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل مائیکل میکونل اور سی آئی آے کے ڈائریکٹر جنرل مائیکل ہائیڈن نے اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قبائلی علاقے میں آپریشن کے لیے فاٹا میں سی آئی اے کے خفیہ اڈے کے قیام پر تبادلہ خیال کیا تاکہ جنگجوؤں پر بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے میزائل حملے کیے جا سکیں ان کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف اس پر رضا مند ہو گئے تھے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان یونٹس کی تربیت کے لیے امریکی سپیشل فورسز کی مدد بھی مقبول کی تھی۔
International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Tuesday, June 10, 2008
انڈونیشیا میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی لگا دی گی
جکارتہ۔ انڈونیشیا میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ انڈونیشی صدر سلوسیلوبمباک ی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کے تحت قادیانیت کی تبلیغ کرنے والوں گرفتار کر لیا جائے گا۔ قادیانیت کی تبلیغ کے خلا ف انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کیا جا رہا تھا جس کے بعد صدر نے وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کی تیار کردہ سفارشات کے تحت قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر سے جج بحال ہو سکتے ہیں تو پہلے ایسے آرڈر کے ذریعے نواز شریف کی ٩٩ء کی حکومت بحال کردینی چاہیے ۔مولانا فضل الرحمن

رحیم یار خان ۔ حکومت میں شامل جماعتوں نے پرویز مشرف کے مواخذہ کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی تو جمعیت علماء اسلامی اس کی مکمل حمایت کرے گی ۔ جے یو آئی (ف) حکومتی اتحادی ہونے کے ناطے مشرف کے خلاف کسی بھی فیصلہ پر لبیک کہے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے منگل کے روز رحیم یار خان میں جے یو آئی (ف) کی سینٹری ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر مولانا رشید احمد لدھیانوی کے گھر پریسکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینٹ میں چیف وہیب مولانا عبدالغفور حیدری سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اگر ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججز اور عدلیہ کو 2 نومبر 07ء والی ہو سکتی ہے ۔ تو بہتر ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 12 اکتوبر 99 ء کی حکومت کو بحال کر کے اقتدار نواز شریف کے حوالے کیا جائے ۔ کیونکہ یہ اقدام 3 نومبر 07ء سے زیادہ بڑا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی قومی اسمبلی اور ملک کی دیگر اسمبلیوں نے سخت ترین آمریت کے دور میں اپنی آہنی مدت کو پورا کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے اور اب بھی ملک میں کمزور ترین آمریت ہے ۔ لہذا حکومتی اتحاد میں شامل بڑی سیاسی جماعتوں کو ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے چاہیئے کہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت کو پورا کریں ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت میں شامل جماعتیں زبانی طور پر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ دل سے مخلص ہو کر کام کریں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں 1958ء میں لگنے والا مارشل لاء تھا ۔ اس کے بعد جتنے فوجی آمر آئے انہوں نے جزوی مارشل لاء لگا کر اپنا کام چلا یا ۔ سابقہ فوجی جرنیلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ (ر) جرنیل ملازمت سے فار غ ہو کر سچ بولنا شروع کردیتے ہیں اور ان کی سیاست فعال ہو جاتی ہے لیکن جب وردی میں ہوتے ہیں تو اپنے کمانڈر کے ساتھ مل کر وہ تمام کام کرتے ہیں جو ان کا لیڈر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء کے لانگ مارچ کی حمایت نہیں بلکہ حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے مخالفت کرتے ہیں ۔
٣٠ جون کو ختم ہونے والے مالی سال کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا

اسلام آباد ۔ 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر نے اسلام آباد میں اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہاکہ سال 2007-08 میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح 5.8فیصد رہی جبکہ فی کس آمدنی میں 18.4فیصد اضافہ ہوا او ریہ آمدنی 926ڈالر سے بڑھ کر 1085ڈالر فی کس ہو گی سروے کے مطابق 8ارب 40کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر 4ارب 10کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی آئندہ مالی سال کا دفاعی بجٹ آج منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ختم ہونے والی مالی سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار میں 5.8فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کا ہدف 7.2فیصد مقرر کیاگیا تھا وزیر خزانہ نے کہاکہ ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ملکی اور بین الاقوامی دباؤ اور اقتصادی شعبے میں شدید خامیوں کی وجہ سے اقتصادی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی بجٹ کی کارکردگی کے بارے میں بجٹ سے پہلے کی دستاویزات جاری کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ اس سال کے دوران اقتصادی کارکردگی پر ملکی اور بین الاقوامی دباؤ اور اقتصادی انتظام میں خامیوں کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے دس ماہ کے دوران افراط زر کی شرح 10.3فیصد رہی فی کس آمدنی میں 18.4فیصد اصافہ ہوا اور یہ 926ڈالر سے بڑھ کر 1085ڈالر رہی ٹیکسوں کی وصولی 10ارب روپے متوقع ہے جبکہ اس کا ہدف 10کھرب 25ارب روپے تھا زرعی اور صنعتی دو بڑے شعبوں میں ترقی مقررہ ہدف سے کم رہی جبکہ سروسز کے شعبے میں ترقی توقع سے زیادہ رہی وفاقی وزیر نے کہاکہ بجلی کی کمی اور افراط زر میں اضافے کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا زرعی شعبے میں ترقی صرف1.5فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف4.8فیصد تھا یہ کمی کھالوں کے کم استعمال کی وجہ سے گندم اور کپاس کی فصلیں کم ہونے کی وجہ سے ہوئی لائیو سٹاک کے شعبوں میں ترقی کی شرح 3.8فیصد رہی جبکہ اس کا اندازہ 5.7لگایاگیا۔ بڑے صنعتی شعبے کی خراب کارکردگی کی وجہ سے مینو فیکچرنگ میں ترقی 5.4فیصد رہی سروسز کے شعبے میں 8.2فیصد ترقی ہوئی جبکہ اس کا ہدف 7.1فیصد تھا مجموعی سرمایہ کاری گزشتہ سال جی ٹی پی کے 22.9فیصد کے برابر تھی اس سال کم ہو کر 21.6فیصد ہو گئی اقتصادی سروے میں سرمایہ کاری میں کمی کو روکنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے اور بجٹ کے رحجان کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ادائیگیوں کا توازن دباؤ کا شکار رہا جس کی وجہ درآمدات میں اضافہ تیل اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ روایتی اور صنعتی برآمدات میں کمی ہوئی کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 14ارب 10کروڑ ڈالر یا مجموعی ملکی پیداوار کے 8.3فیصد کے برابر رہااقتصادی سروے میں کہاگیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی وجوہات کے باعث اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔مارکیٹ کو استحکام چاہیے ہوتا ہے ہر محکمے کا آڈٹ کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ کیپٹل گین ٹیکس عائد نہ کرنے سے سرمایہ کی منتقلی کو روکا جائے گا وزیر خزانہ نے کہاکہ کیپٹل گین ٹیکس دو سال تک نہیں لگے گا انہوں نے کہاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ 6.5فیصد جی ٹی پی کا ہو گیا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ 11.6ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ تجارتی توازن 17ارب ڈالر منفی رہا انہوں نے کہاکہ مہنگائی کا تناسب پچھلے دس ماہ میں 10.2فیصد رہا نجی شعبے کو دی گئی قرضوں کی شرح14.2فیصد رہی انہوں نے کہا کہ نجی شعبوں کو دئیے گئے قرضوں کے اخراجات بڑھے اور واجبات کی وصولی میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کھانے پینے کی اشیاء 15فیصد کی شرح سے مہنگی ہوئی انہوں نے کہاکہ کیپٹل گین ٹیکس سے استثنیٰ مزید و سال جاری رہے گا انہوں نے مزید کہاکہ آج منگل کو پیش کئے جانیو الے بجٹ میں اچھی خبریں ملیں گی ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اقتصادی لحاظ سے گزشتہ سال برا رہا ۔ کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے افراط زر بڑھا انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک نے سخت مانیٹرنگ پالیسی جاری رکھی انہوں نے کہاکہ قومی بچت13.9فیصدرہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی صنعت میں 16فیصد اضافہ ہوا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستانی معیشت نے گزشتہ پانچ سالوں میں سات فیصد کی اوسط سے ترقی کی ۔ انہوں نے کہاکہ ملازمت کے قابل 27لاکھ لوگ بے روز گار ہیں پچھلے پانچ سالوں میں پاکستانی معیشت میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہم عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ معیشت کو دوبارہ بہتری پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں اسٹا ک مارکیٹ کی کیپٹلائزیشن 56ارب ڈالر ہو گی پاکستانی سٹاک مارکیٹیں عالمی سطح پر موجودہ مالی بحران سے محفوظ رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال الیکشن ،ایمر جنسی ، بے نظیر کی شہادت کی وجہ سے مشکل تھا۔6ڈالر فی بیرل پر قیمتوں کو منجمد کیا ہوا تھا انہوں نے کہا کہ کیپٹل گین ٹیکس کی چھوٹ اس لئے دی کہ سرمایہ مارکیٹ سے نہ نکلے انہوں نے کہاکہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے 2009ء میں معیشت میں بد نظمی کو ختم کرنے کے اقدامات کریں گے انہوں نے کہاکہ این ایف بی کمیشن کی تشکیل جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اچھے اور برے جو بھی اعدادو شمار ہوں عوام او راداروں کو سچ بتائیں گے گزشتہ حکومت نے مالیاتی اقدامات بروقت نہیں کئے انہوں نے کہاکہ غربت کی شرح کا درست عمل سروے کے بعد ہو گا انہوں نے کہاکہ سروے سیکٹر کا عوام سے تعلق نہیں ہوتا معاشی ترقی ایسے شعبوں میں ہو گی جس سے عوام کو براہ راست فائدہ ہو۔ تیل کی قیمتیں 140ڈالر کی سطح پر جارہی ہیں گزشتہ چند برسوں میں ترقی کا فائدہ عوام کو نہیں ہوا اگر وسائل میں اضافہ ہوا تو ترقیاتی بجٹ بڑھایا جا سکتا ہے ایف بی آر اور نان ایف بی آر آمدنی کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ بنایا ہے توانائی کے استعمال سے متعلق رد عمل تبدیل کرنا ہوگا
ملک میں ہونے والے خود کش حملوں میں ایک خاص گروپ ملوث ہے جس کا سراغ لگا لیا گیا ہے ، رحمان ملک

اسلام آباد ۔ مشیر داخلہ اے رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے خود کش حملوں میں ایک خاص گروپ ملوث ہے جس کا سراغ لگایا گیا ہے تاہم اس سے متعلق بتایا نہیں جا سکتا۔ حملہ آور صوبہ سرحد سے چوری شدہ گاڑیاں لاتے ہیں خود کش حملوں کا ہدف مرکزی نیٹ ورک دیتا ہے جس کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد افغان نیٹ ورک کرتے ہیں وکلاء کے لانگ مارچ میں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی تمام وکلاء اپنی حکومت کے رابطے میں ہیں۔ ملک کے اکثر مدارس دہشت گردی میں ملوث نہیں تاہم چند ایک مدرسوں میں انتہاء پسندوں اور دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے وہ منگل کو یہاں ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کر رہے تھے اس موقع پر سیکرٹری داخلہ شید کمال شاہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویزبھی موجود تھے چند روز قبل دہشت گردی کے ایک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے پک۔ڑی جانے والے دو لینڈ کروزر اء اورایک کاربھی میڈیا کو دکھائی گئی جن کے اندر بارود اور دیگر مواد رکھا گیا تھا ۔رحمان ملک نے کہا کہ قانون نافذ کریں گے اداروں نے دہشت گردی کی واردات ناکام بنا کر جو چھ افراد گرفتار کیے تھے ان کا تعلق ایک خاص گروپ سے ہے جن میں ایک ماسٹر مائنڈ اور تین خود کش بمبار گرفتار کیے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے راولپنڈی سے جو گاڑیاں پکڑی گئی ہیں اگر حملہ آور اپنے اہداف میں کامیاب ہو جاتے تو شہر میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوتی کیونکہ ان کے پاس تین گاڑیوں میںایک ہزار کلو گرام انتہائی طاقت ور بارود تھا انہوں نے کہا گرفتار شدگان میں سے ایک نے یہ اعتراز کیا ہے کہ اسلام آبا دکی آبپارہ مارکیٹ اور ایف ایٹ مرکز میں ان کے نیٹ ورک نے خود کش دھماکے کروائے تھے رحمان ملک نے کہا کہ درہ آدم خیل کے علاقے میں چوری شدہ گاڑیاں فروخت کی جاتی ہین جو دہشت گرد خریدتے ہیں اور پھر ان کو جرائم میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کو ہدف کے متعلق آخری لمحے بتایا جاتا ہے گرفتار شدگان کا تعلق ایک خاص تنظیم سے ہے جو ملک میں ہونے والے دیگر حملوں میں ملوث ہے۔ میں بھی ملوث ہے حتمی تحقیقات تک اس کا نام نہیں بتایا جائے گا اور نہ ہی کسی اور تنظیم کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقںو میں طالبان اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا حکومت صرف ان لوگوں سے بات چیت کر رہی ہے جو قانون کی پاسداری کرتے ہیں قانون توڑّے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی حکومت ہر حال میں اپنی رٹ قائم کرے گی تاکہ قانون کی حکمرانی ہو سکے ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہاکہ وکلاء کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا تاہم دارالحکومت کی کئی ایک عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیوژ کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت نے لانگ مارچ کے شرکاء کیلئے ایک حد بندی کی ہے جس کے اندر رہ کر وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے لانگ مارچ کے سلسلے میں تمام وکلاء رہنماؤں سے رابطے ہیں ہے اور مارچ کے شرکاء کو حکومت تمام سہولیات مہیا کرے گی انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی لانگ مارچ کے شرکاء کا استقبال کرے گا وکلاء قانون دان ہیں امید کرتے ہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے اس حوالے سے وکلاء رہنماؤں نے یقین دہانی کروائی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں ستر ہزار کے قریب دینی مدارس ہیں جن میں سے چالیس ہزار رجسٹرڈ ہیں اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن بھی حکومت کرنا چاہتی ہے دہشت گردی میں تمام مدارس ملوث نہیں صرف کچھ مدارس ہیں جو دہشت گردی کی تربیت اور تعلیم دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اپنی قوم کے بچوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب دینا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ سوات اور صوبہ سرحد میں دیگر مقامات پر طالبان سے سرحد حکومت کی بات چیت ہوئی ہے مرکزی حکومت ان کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کر رہی ہے ۔ اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے طارق پرویز نے صحافیوں کو حال ہی میں گرفتار کئے جانے والے چھ دہشت گردوں سے ابتدائی تفتیش میں حاصل ہونے والی معلومات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ڈنمارک کے سفارتخانے میں ہونے والا حملہ خود کش تھا اور یہ حملہ بھی گرفتار شدگان کے نیٹ ورک کی کارروائی تھا سرگودھا ، لاہور ، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر ، ماڈل ٹاؤن ، ایف ایٹ کچہری اور آبپارہ مارکیٹ کے حملے بھی اس نیٹ ورک کی کارروائیاں ہیں جومواد دہشت گردوں کے قبضے سے ملا ہے اس کا بارود اور بال بیرنگ ڈنمارک کے سفارتخانے پر ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والے مواد سے مماثلت رکھتا ہے انہوں نے کہاکہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں ان سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مزید دہشت گردوں کی گرفتاریاں بھی ممکن بنائی جاسکیں گی۔
Loadshedding hours to be reduced in few days: Pervaiz Ashraf

ISLAMABAD: Minister for Water and Power Raja Pervaiz Ashraf on Tuesday said loadshedding hours will be reduced within few days as additional power of 1,500MW has been added in the system.
Talking to journalists here, the minister said that Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani has approved Rs 14 billion to bear expenditure of oil supply to thermal power plants for smooth functioning.
He said from today a major chunk of the export-oriented industry will be exempted from loadshedding while power supply will also be increased to other sectors.
He added in order to give boost to agriculture sector 10-hour continues power supply will be provided at night time to get maximum production while textile industry will also be provided 100% supply of power.
He said power-looms will be provided continues spells of power to increase productivity as this export-oriented industry is a major contributor to country’s foreign exchange reservoirs.
He said water level in major reservoirs is also increasing which will also help improving power situation in the country. He added additional generation of 1,500 megawatts has been achieved through system optimization.
He said with the increase of power the shortfall is now estimated at 2,500MW from 4,000MW recorded few days back due to sincere efforts of the government to overcome the power crisis.
Pervaiz Ashraf said Pakistan already imports 25MW electricity from Iran, which will be further increased to provide electricity to Gwadar areas. He added plan to import 1,000MW electricity from Iran is being discussed which will be finalized soon in consultation with Iranian officials.
He said sufficient amount will be allocated in the budget for water and power sector keeping in view the increasing demand in these sector.
He said due to government energy conservation plan additional 400MW power is being received while the government is also planning to get electricity from alternative and renewable energy resources.
To a question, the minister said recent visit of Prime Minister and Senator Asif Ali Zardari to Saudi Arabia remained successful and several matters were discussed with Saudi officials including energy situation.
He said SAARC countries are willing to support each others to overcome the energy crisis and several plans are under consideration in this regard.
National Budget for FY-2008-09 to be presented tomorrow
ISLAMABAD : The National budget for the fiscal year 2008-09 envisaging relief measures for the masses specially the poor segment of the society and conceiving new steps for accelerating pace of economic development and growth in the country will be presented here in the National Assembly on June 11 (Wednesday).
Minister of Finance, Revenues, Economic Affairs and Privatization, Syed Naveed Qamar will present the budget at the floor of lower house and his speech will be telecast live over the Radio and Television from the Parliament House.
The consolidated outlay of the next year budget 2008-09 is likely to be over Rs 2 trillion and revenue target is also estimated to be Rs.1200 billion with a realistic GDP growth target of 5.5 percent.
The budget this financial year (2007-08) will be on infrastructure, human capital and social sector development, poverty reduction, promotion of investments and exports, agriculture sector development and provision of relief to the common man.
According to official sources the next budget would provide relief to the common man, besides accelerating pace of economic development and investment in the country.
They added that the government was keen to provide relief to the people in the next budget for which concrete measures were under active consideration.
The government has already indicated that in the Budget 2008-09, the enhancement in the salaries and pension of the government employees besides a number of measures for the relief of the people in the country.
The budgetary relief would help the people to check inflationary burden causing due to high international oil prices and food prices .
The budgetary measures would also help generate employment opportunities, check poverty and improve the quality of life of the people across the country, they remarked.
They said that the Government in the budget is also focusing on human resource development and skill development of the manpower which is indispensable ingredient for the rapid economic progress.
The government in the budget is likely to announce a number of measures for the development of agriculture and industrial sectors for generating more employment opportunities for the masses. The government is also striving to accelerate economic activities in the country and it has enhanced the volume of Public Sector Development Programme
(PSDP) for the FY208-09 to the tune of Rs.541 billion.
Pakistan’s economy has grown at an average rate of almost 7.0 percent per annum during the last five years.
They added that real GDP in the outgoing financial year (2007-08) grew by 5.8 percent against the target of 7.7 percent.
Nawaz Sharif to address lawyers’ long march in Lahore
ISLAMABAD: Pakistan Muslim League-N (PML-N) Quaid and former Prime Minister Nawaz Sharif would address the lawyers’ long march at Data Darbar, Lahore on Wednesday, said PML-N Secretary Information Ahsan Iqbal.
Addressing a news conference here Tuesday at the Central Secretariat, Ahsan Iqbal said that Nawaz Sharif who is presently in the United Kingdom to inquire after his wife Kalsoom Nawaz Sharif’s health, is coming back to home to express solidarity with lawyers.
The long march started from Karachi on Monday, is scheduled to reach Lahore on Wednesday.
Ahsan Iqbal said that the party office bearers and workers countrywide have been directed to extend every possible support to lawyers movement and show their vigorous participation in the long-march.
Replying a question, PML-N Secretary Information said that there is no change in the party’s stance and PML-N want to restore the deposed judges in line with the March 9 Declaration signed by PML-N Quaid Nawaz Sharif and PPP co-chairman Asif Ali Zardari.
JUI-F to support move for impeachment
RAHIM YAR KHAN:JUI-F central Ameer Maulana Fazal-ur-Rehman Tuesday said his party will support any move in the National Assembly for impeachment of the President as the party is a coalition partner of the government.
He stated this during a press conference at the residence of Maulana Rasheed Ahmed Ludhianvi, member, central executive committee of JUI-F here Tuesday. Chief Whip in the Senate Maulana Abdul Ghafoori Haideri and other office bearers of the party were also present.
Fazal-ur-Rehman said if possible, the deposed judges and judiciary be restored to Nov 2 position through an executive order.
He urged the ruling coalition partners to undertake concerted efforts for strengthening democracy and instituitions in the country and to weed out autocratic elements from power corridors. In this context he stressed that present assemblies must complete their tenure.
To a question he said his party was not opposed to the long march of the lawyers as he was part of the government.
Advani regrets release of controversial book on Benazir Bhutto

NEW DELHI: BJP leader L K Advani has regretted over release of controversial book on Shaheed Benazir Bhutto authored by London-based journalist Shyam Bhatia saying its contents are disturbing for any one who knew the former Prime Minister of Pakistan.
BJP Spokesperson Rajiv Pratap Rudy while quoting L K Advani said “I regret having attended the function. Had I read the contents of the book, I would not have gone for the book launch. “
The BJP leader conveyed these views to PPP spokesman Farhatullah Babar when the latter called him to register objections for releasing the book “Goodbye Shehzadi” last month.
Advani said the late Benazir Bhutto was a good friend of his and that “the contents of the book are disturbing for anyone who knew her”, Rudy said.
Advani attended the function when he was strongly pursued and he stayed there for only a few minutes, the Spokesman said adding “the few words he spoke during the launch were based on the glimpses of the book which he was told.”
Things have been put in better perspective after Advani talked to Babar, the BJP spokesman said.
Reacting to this controversial book, PPP had said legal action against Bhatia will be taken for levelling scurrilous allegations against Shaheed Benazir Bhutto. The PPP has also expressed surprise at Advani’s decision to launch the book.
PML-Q to defend president in case of any eventuality
ISLAMABAD: Pakistan Muslim League (Q) will defend President Pervez Musharraf in the parliament in case of any adventurism against him, PML-Q MNA Marvi Memon said.
Talking to private TV channel (ARYONE WORLD) she said the President would not step down from his post.
Lauding the president for presenting his point of view before the senior media persons effectively, she said that PML-Q has no other option except extending unflinching support to the President. The PML-Q will give its opinion when constitutional package is tabled in the parliament.
A six-member experts team is currently scrutinising the constitutional package, she concluded.
Govt to freeze defence allocation in the budget: Gilani

ISLAMABAD: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Monday announced that the government has decided to freeze the allocation for defence in the next national budget as a measure of Pakistan’s tangible display to seek peace with neighbours. Giving a policy statement in the National Assembly, the Prime Minister said when seen in the context of inflation and rupee-dollar parity, the defence budget of Pakistan will be reduced.
He said the ministry of defence and the chief of army staff have fully endorsed the revised format of the defence services budget estimates.
He said he expects a reciprocal gesture from its neighbour for the sake of peace and prosperity of the region.
Pakistan, Gilani added, is located in a turbulent and volatile region and therefore it cannot remain oblivious to its defence needs.
“We shall continue to strive for it without compromising on our national interests,” he added.
He said as a matter of policy, Pakistan’s defence is based on the strategy of minimum essential credible deterrence and that “we shall not enter into any arms race.”
He said at present the budget of the three services, ordnance factories and others is presented as a one line allocation. It is not approved separately but in a consolidated form for all defence services.
The government, Gilani added, has now decided to present the defence budget in a format reflecting the estimated expenditure under major ‘heads’ in the parliament.
آصف علی زرداری نے پارٹی قیادت اور عہدیداروں کو صدر کے مواخدے کیلئے تیاری شروع کرنے کی ہدایت کر دی ، خبر میں کوئی صداقت نہیں ۔ترجمان پیپلز پارٹی فرحت ا
اسلام آباد ۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی قیادت اور عہدیداروں کو صدر کے مواخذے کیلئے تیاری شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی تیاریاں بھرپور طریقے سے شروع کر دی جائیں اور پارٹی قیادت اور عہدیدار اس کیلئے کام شروع کر دیں۔جبکہ دوسرے نجی ٹی وی چینل میں ترجمان پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر کے حوالہ سے یہ بھی دعوٰی کیا جارہا ہے کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے اور آصف زرداری نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کیا جائے اور ان پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابرکا انٹرویو

اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہاہے کہ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کیا جائے اور ان پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ صدر پرویز مشرف نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے فرحت اللہ بابر نے کہاکہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم کہتے ہیں کہ صدر مشرف کا نہ صرف مواخذہ کیا جائے بلکہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی چلایا جائے ان کا کہنا تھا کہ جب تک صدر کے پاس طاقت ہے مسائل حل نہیں ہو سکتے
ججز کسی صورت بحال نہیں ہوں گے ، ملک میں نیا مارشل لاء لگنے والا ہے ۔ پیر پگاڑا

کراچی ۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا نے کہا ہے کہ ججز کسی صورت بحال نہیں ہوں گے اور ملک میں ایک اور مارشل لاء لگنے والاہے ۔ انہو ںنے یہ بات عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سے گفتگو میں کہی جنہوں نے پیر کو کنگری ہاؤس کراچی میں ان سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں شیخ رشید احمد نے پیر پگاڑا سے اپنی پارٹی کی حمایت کی درخواست کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر پگاڑا نے کہاکہ ججز کسی صورت بحال نہیںہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں تاریخ کا بدترین مارشل لاء لگنے واا ہے اس مارشل لاء کے بعد لوگ 1953ء کے مارشل لاء کو بھول جائیںگے ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کو کوئی نہیں ہٹا سکتا صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ خود مواخذے کے قابل ہیں وہ کسی کا مواخدہ نہیں کر سکتے ۔ شیخ رشید نے پیر پگاڑا کے بیان کو خوفناک قرار دیا ۔ پیر پگاڑا نے شیخ رشید کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اگر سارے مسلم لیگیوں کی بنیادیں مستحکم ہو جائیں تو ان کے درمیان اتحاد کی کوششیں بارآور ثابت ہو سکتی ہیں۔
١٩٩٩ء سے ٢٠٠٨ ء کے دوران ٥٩ ارب ٩٤ کروڑ روپے کے قرضے معاف کئے گئے ، وفاقی وزیر خزانہ واقتصادی امور سید نوید قمر

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر خزانہ واقتصادی امور سید نوید قمر نے کہا ہے کہ 1999ء سے 2008ء کے دوران 59ارب 94کروڑ روپے کے قرضے معاف کئے گئے قرضے معاف کرنے کی مستقل پالیسی نہیں ہے ۔ ایران سے ایل پی جی تین بڑے مقامات سے سمگل ہو رہی ہے۔پیر کو قومی اسمبلی میں میاں عبدالستار کے سوال کے جواب میں سید نوید قمر نے بتایا کہ 1999ء سے 2007ء کے حساباتی سالوں میں سرکاری شعبہ کے بینکوں و ڈی ایف آئی پانچ لاکھ روپے کے 4687719ملین روپے کے قرضے معاف کئے5لاکھ سے زائد کے 1306798ملین روپے کے قرضے معاف کئے گئے اس طرح کل 5994517ملین روپے کے قرضے معاف کئے گئے مختلف طریقوں سے یہ قرضے معاف کئے گئے تھے قانون کے مطابق قرضوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے اس عرصہ میں 395157افراد نے 5لاکھ روپے تک کا قرضہ حاصل کیا۔ اس طرح2739افراد تک5لاکھ روپے سے زائد تک کے قرضے معاف کئے گئے فاٹا کے عوام کو قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی ۔ قرضہ معاف کرنے والے افراد کی انفرادی تفصیلات مرتب کی جارہی ہیں اس کیلئے ایس بی پی کو ایک ماہ کی مدت درکار ہے ۔ مختلف ادوار میں زرعی ترقیاتی بینک کے قرضے معاف کئے گئے تاہم اس کو مستقل پالیسی نہیں بنایا جا سکتا فوزیہ وہاب کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہاکہ پانچ مئی 2008ء تک کراچی سٹاک ایکسچینج کی فہرست میں شامل کل 654کمپنیاں ہیں ۔ ماروی میمن کے سوال کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہاکہ تفتان ، مہمند اور پنجگور کے راستے ایران سے ایل پی جی سمگل کی جاتی ہے جہاں سے جعلی دستاویزات پر ملک بھر میں تقسیم کر دی جاتی ہے کچھ سمگل شدہ ایل پی جی مقامی طور پر بھی صرف ہوتی ہے ڈاکٹر عذرا پلیجو کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہاکہ عالمی سرمایہ کار مارکیٹوں میں قابل تبادلہ بانڈوں کے اجراء کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں حالات کی بہتری پر بانڈز کے اجراء پر غور کیاجائے گا انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومت میں 500ملین ڈالر کے 10سال تک کے سکوک 2006ء میں 300ملین ڈالر کے30 سالہ مدت اور 750ملین ڈالر کے 10 سالہ مدت کیلئے بانڈز جاری کئے گئے ۔
پاکستان کے دفاعی بجٹ کو افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے منجمند کر دیا گیا

اسلام آباد۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ کو افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے منجمند کر دیا گیا حکومت پاکستان نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ پڑوسی ممالک بھی اسی جذبے کا اظہار کریں گے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے امن پسند ملک ہیں ۔ اس امر کا اظہار وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیر کی شام قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا ۔ قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم کے اس اقدام کا بھرپور انداز میں خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن نے بھی حکومت کے اعلان کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے اہم جگہ پر واقع ہے اپنی دفاع کی ضروریات سے غفلت نہیں کر سکتے پاکستان خطے میں باہمی احترام کی بنیاد پر امن وسلامتی چاہتا ہے کم سے کم دفاعی صلاحیت پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمسایوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں افراط زر اور ڈالر کے تناسب کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے دفاعی بجٹ کو منجمند کرنے کا فیصلہ کیاہے انہوں نے کہاکہ توقع ہے کہ پڑوسی ممالک بھی اسی جذبے کا اظہار کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہو گا چیف آف آرمی سٹاف نے بھی دفاعی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی حمایت کی ہے وزارت دفاع کے ذریعے مسلح افواج کے شعبوں کو بجٹ فراہم کیا جائے گا مسلم لیگ (ق) کے چیف وہیپ ریاض حسین پیرزادہ ، ایم کیو ایم کے عبدالقادر خانزادہ نے حکومت پاکستان کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔
معزول ججوں کی بحالی کے لئے قافلے لانگ مارچ میں شرکت کے لئے کراچی سے روانہ
کراچی۔ معزول ججوں کی بحالی کے لئے وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں پر مشتمل قافلے لانگ مارچ میں شرکت کے لئے کراچی سے سکھر روانہ ہوگئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد، جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم اور دیگر رہنماؤں نے قافلوںکو سہراب گوٹھ کے مقام پر رخصت کیا۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان لائرز کنونشن کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان کی بحالی کے لئے پیر کو باقاعدہ لانگ مارچ کا آغاز ہو گیا اور وکلاء اور سول سوسائٹی کے قافلے سکھر کے لئے روانہ ہوئے جہاں سے ملتان، لاہور اور اسلام آباد کی جانب باقاعدہ لانگ مارچ کا آغاز ہو گا۔ پیر کی صبح ہی سے وکلاء بڑی تعداد میں عدالتوں میں جمع ہونا شروع ہو گئے، بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ سے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس (ر) رشید اے رضوی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک کی قیادت میں ایک قافلہ مزار قائد پہنچا قبل ازیں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن کی قیادت میں سٹی کورٹ سے اور ملیر بار ایسوسی ایشن کے صدر امان یوسف زئی کی قیادت میں ملیر کورٹ سے بھی وکلاء کے قافلے مزار قائد پہنچے جہاں جماعت اسلامی کی جانب سے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ میں موجودہ رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے وکلاء کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی، تحریک انصاف، پی پی آئی، مسلم لیگ (ن)، لیبر پارٹی، نیشنل ورکرز پارٹی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی، اسلامی جمعیت طلبہ، پاسبان، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور اے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے علاوہ کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور)، سول سوسائٹی، مزدور تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے وکلاء کا خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں لانگ مارچ کے شرکاء کے قافلے سہراب گوٹھ پہنچے جہاں جماعت اسلامی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر جماعتوں نے قافلوں کا استقبال کیا جس کے بعد قافلے سکھر کے لئے روانہ ہو گئے۔
سعودی عرب نے مستعفی ہونے پر صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو میزبانی کی پیشکش کر دی

اسلام آباد۔ سعودی عرب نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ وہ صدر پرویز مشرف کو مواخذے کے بجائے محفوظ راستہ دیں۔ سعودی عرب نواز شریف کی طرح ان کی مہمان نوازی کے لیے بھی تیار ہے ۔اخبار خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک اور امریکہ کے دباؤ کے سبب پاکستانی سیاسی جماعتیں صدر پرویز مشرف کا مواخذہ نہیں کریں گی اور صدر خود ہی مستعفی ہو جائیں گے ۔ اخبارخلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ایوان صدر کو خیر باد کہنے کا عمل مواخذہ نہیں ہونا چاہے ۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان کے سیاسی منظر میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے زمینی حقائق کے بعد صدر پرویز مشرف خطے میں بش انتظامیہ کے مفاد کے لیے ناگزیر حیثیت نہیں رکھتے۔ تاہم صدر بش پنٹاگان اورسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پالیسی سازوں کے مباحثے میں اب بھی صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کا دفاع کیا جاتا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے دباؤ کے باعث صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک نہیں پیش کی جائے گی اور رپورٹ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی کچن کیبنٹ سے مشاورت کر لی ہے اور وہ ملک چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہو چکے ہیں ۔
٢٠١٠ ء تک پنجاب کا ہر بچہ اور بچی سکول جائے گا، خواتین اور اقلیتیں صوبہ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اعتماد کا

٭۔ ۔ ۔ مخلوط حکومت کی کامیابی کا انحصار وزیر اعلی کے کندھوں پر ہے، سابق دور میں کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات کی جائیں ،غاز پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ سے کیا جائے ۔ راجہ ریاض اور مخدوم احمد محمود کا خطاب
لاہور ۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2010ء تک پنجاب بھر میں کوئی بھی بچہ یا بچی ایسا نہیں رہے گا جو سکول گوئنگ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہیں انہیں پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ اقلیتوں کو بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ 8 کلب جس پر سابق دور حکومت میں ڈیڑھ ارب روپے ضائع کئے گئے اسے ہر صورت خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی ضرور بنایا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان میں تقریب اور بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ان پر 266 ارکان اسمبلی نے اعتماد کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن نے آج بھی ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا ۔ میاں شہباز شریف نے خود پر اعتماد کرنے پر ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایوان نے ان پر جو اعتماد کیا ہے وہ اس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 50 فیصد سے زیادہ خواتین پر مشتمل ہے ہمارے دیہاتوں میں خواتین کے کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود گو اپنے خاندان کی معاشی حالت میں بہتری لارہی ہیں اور سخت محنت کر رہی ہیں ۔ اپنے خاوند، باپ یا بھائی کو کھیت میں کھانا پہنچانے کے ساتھ ساتھ چارہ اکٹھا کرنے اور دیگر امور میں بھی وہ بھرپور ہاتھ بٹاتی ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ نہ صرف دیہاتوں کی بلکہ شہروں ، قصبوں اور پورے صوبہ اور ملک کی خواتین ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ میں نہیں کہتا کہ وہ یورپ یا امریکہ کی تقلید کریں لیکن ہمارے سامنے اسلامی ممالک کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ جن میں ملائیشیا، گلف ممالک کوالمپور، کاسا بیانکا اور دیگر شامل ہیں میں خواتین نے اسلامی طرز عمل کے اندر رہتے ہوئے بینکنگ ، کمپیوٹر انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں اور دے رہی ہیں ۔یہاں بھی خواتین اسلامی طرز عمل کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یورپ یا امریکہ میں بھی جو اچھے کام ہوئے ہمیں ان کی تقلید کرنے میں کوئی ہرج نہیں ان کی ذاتی زندگی ایک طرف لیکن اجتماعی عقل اور صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے یہ وہ ممالک ہیں جہاں کوئی فرد رات کو بھوکا نہیں سوتا اور نہ ہی دوائی کے بغیر مرتا ہے جبکہ یہاں ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں سکول کی بچیاں جس تیزی سے سکول چھوڑتی ہیں انتہائی تشویشناک ہے ۔ ہمیں ان سب پر قابو پانا ہو گا،تعلیم، امن و امان ، صحت اور دوسرے شعبوںمیں انقلابی اقدامات اٹھانیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 8 کلب جس پر سابق دور حکومت میں ڈیڑھ ارب روپے ضائع کردیئے گئے اور اب جبکہ میں نے اسے خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے تو بیورو کریسی واویلا کر رہی ہے کہ یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ۔اس سے وہاں بہت رش پڑ جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیورو کریسی تب کہاں تھی جب وہاں قوم کے ڈیڑھ ارب روپے ضائع کئے جارہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اقلیتیں بھی ہمارے ملک کا اہم حصہ ہیں میں ان سے بھی کہوں گا کہ وہ بلا تفریق مذہب صوبہ اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ سابق دور حکومت میں تعلیم کے شعبہ میں جن اساتذہ کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ان کی بھرتیوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیشن بنایا جائے گا کیونکہ ایک قابل استاد کے بغیر نئی نسل کو باشعور بنانا اور تعلیم کے حقیقی زیور سے آراستہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں یونیورسل پالیسی اپناتے ہوئے 2010ء تک تمام بچوں اور بچیوں کو سکول میں داخلے کے قابل بنایا جائے گا اور سکول جانے کا کوئی بچہ یا بچی ایسی نہیں ہو گی جو تعلیم سے محروم رہے ۔ اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران صوبے کے خزانہ کو جس بے دردی سے لوٹا گیا اور صحت، تعلیم سمیت ہر شعبے میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی اس کا حساب ضرور لیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ اس احتساب کا آغاز پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت سے کیا جائے جہاں عمارت مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ہی 15 سو ملازمین بھرتی کرلئے گئے اور اربوں روپے کی کرپشن کی گئی اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو تمام معاملات کا جائزہ لے ۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کی کامیابی کا انحصار خود وزیر اعلی میاں شہباز شریف کے کندھوں پر ہے، پیپلز پارٹی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی ۔ مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی لیڈر مخدوم احمد محمود نے بھی وزیر اعلی میاں شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی جماعت کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔
مسلح افراد کی کارروائیاں جاری ہیں ‘ سوات امن معاہدہ ختم ہو گیا ‘ وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک

اسلام آباد ۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سوات میں مسلح افراد کی کارروائیوں کے بعد امن معاہدہ ختم ہو گیا ہے ۔ اسلام آباد سے 9 خودکش حملہ آور گرفتار کئے گئے ہیں ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مشیر داخلہ نے مزید کہا کہ سوات میں مسلح طالبان کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں اور کارروائیاں جاری رہنے کے بعد امن معاہدے رہنے کا کوئی جواز نہیں ۔ مشیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دارالحکومت سے 9 خودکش حملہ آور گرفتار کئے گئے ‘ گرفتار ملزمان بڑے اہداف کو نشانہ بنانا چاہتے تھے ۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر بلور نے کہا ہے کہ ہم سوات میں عسکریت پسندوں کے ساتھ کئے گئے امن معاہدے پر قائم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک نے ہماری قیادت اور وزیر اعلی سرحد کو سوات امن معاہدہ ختم کرنے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا ۔ انہوں نے کہا کہ سرحد میں امن معاہدے پر فوج اور صوبائی قیادت میں مکمل اتفاق ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم اپنے صوبے میں خون خرابہ نہیں چاہتے ‘ سوات کے عوام اس معاہدے پر خوش ہیں ۔
Monday, June 9, 2008
ونیزویلا کی جوہری ہتھیاروں کی فیکٹری میں تیار کیگئی سائیکل بش کو تحفے میں دینے کی پیش کش
جناب صدر یہ ہے وہ اٹامک بم ضرورت ہو تو اسے بطور تحفہ بھیج دیا جائے گا ‘ ہوگوشاویز کی ایرانی سفیر کے ہمراہ بش کو پیش کشکراکاس
۔ ونیز ویلا نے امریکہ کے عتاب سے بچنے کے لئے جوہری ہتھیاروں کی فیکٹری میں تیار کی گئی سائیکل تحفے میں صدر بش کو دینے کی پیش کش کی ہے ۔ ہفتہ وار ٹیلیویژن پروگرام میں ونیز ویلا کے صدر ہیوگوشاویز ایک سائیکل چلاتے ہوئے نظر آئے ۔ صدر شاویز نے بتایا کہ یہ ایران اور ونیز ویلا کے اشتراک سے لگائے گئے پلانٹ میں تیار کی گئی اٹامک سائیکل ہے ۔ اس پلانٹ کا نام اٹامک ہے اور امریکہ کا الزام ہے کہ اس میں جوہری ہتھیار تیار کئے جاتے ہیں ۔ ٹیلیویژن پر فیکٹری کے اندرونی مناظر بھی دکھائے گئے جبکہ ونیز ویلا میں ایرانی سفیر بھی صدر شاویز کے ساتھ موجود تھے ۔ صدر شاویز نے امریکی صدر بش کو مخاطب کر کے کیا کہ جناب صدر یہ ہے وہ اٹامک بم اور ضرورت ہو تو انہیں بھی ایک بطور تحفہ بھیج دیا جائے گا ۔
۔ ونیز ویلا نے امریکہ کے عتاب سے بچنے کے لئے جوہری ہتھیاروں کی فیکٹری میں تیار کی گئی سائیکل تحفے میں صدر بش کو دینے کی پیش کش کی ہے ۔ ہفتہ وار ٹیلیویژن پروگرام میں ونیز ویلا کے صدر ہیوگوشاویز ایک سائیکل چلاتے ہوئے نظر آئے ۔ صدر شاویز نے بتایا کہ یہ ایران اور ونیز ویلا کے اشتراک سے لگائے گئے پلانٹ میں تیار کی گئی اٹامک سائیکل ہے ۔ اس پلانٹ کا نام اٹامک ہے اور امریکہ کا الزام ہے کہ اس میں جوہری ہتھیار تیار کئے جاتے ہیں ۔ ٹیلیویژن پر فیکٹری کے اندرونی مناظر بھی دکھائے گئے جبکہ ونیز ویلا میں ایرانی سفیر بھی صدر شاویز کے ساتھ موجود تھے ۔ صدر شاویز نے امریکی صدر بش کو مخاطب کر کے کیا کہ جناب صدر یہ ہے وہ اٹامک بم اور ضرورت ہو تو انہیں بھی ایک بطور تحفہ بھیج دیا جائے گا ۔
ملک و قوم سے غداری اور سر عام پھا نسی ۔ تحریر : اے پی ایس ، اسلام آباد

پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لئے 10نکات پر مشتمل چارج شیٹ جاری کردی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو استعفے کے لئے دس جون کا الٹی میٹم دیا ہے ۔توقع ہے کہ 10جون کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی تحریک مواخذہ کے لئے قومی اسمبلی میں ہمارا ساتھ دے گی چارج شیٹ کے حوالے سے ان پاس مکمل شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے حوالے سے ایسے حقائق پیش کیے جائیں گے کہ قوم دھنگ رہ جائے گی ۔ ایسے حقائق ملے ہیں پرویز مشرف کا مواخذہ لازم ہو گیا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی جانب سے جاری چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے دو بار ملک پر ما رشل لاء مسلط کیا آئین کو پامال کیا ، حلف توڑا ، منتخب وزیر اعظم کو ہتھکڑی لگائی ۔ اور بندوق کے زور پر اپنی آمریت قائم کی ۔ دوسرے نکات میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے 1999ء میں منتخب حکومت سے پوشیدہ رکھ کر معرکہ کارگل کے حوالے سے مہم جوئی کی جس میں بڑی تعداد میں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہوئے ۔ فوج کے آٹھ سے زائد جوان اور آفسروں کی قربانیاں دی گئیں ۔ یہ خون پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں پر ہے ۔ فضائیہ اور بحریہ کے سابق سربراہوں کا بیان آچکا ہے کہ انہیں کارگل آپریشن سے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ۔ 10فیصد کور کمانڈر بھی کارگل آپریشن سے لا علم تھے ۔ بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کارگل آپریشن کے بارے میں کمیشن بنایا جائے یہ قومی راز نہیں ہیں بلکہ قومی سانحہ ہے اور تحقیقاتی کمیشن قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کا منصوبہ ہو گا اور ذمہ داران انصاف کے کٹہرے میں آسکے گیں۔ چارج شیٹ کے تیسرے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے پاکستانی فوج جو کہ قومی ادارہ ہے اسے ذاتی فوج کے طور پر استعمال کیا اور اسے کرپٹ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ راشد قریشی جیسے من پسند اور منظور نظر افراد کو ترقیاں دی گئیں اور اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے لئے فوج کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے اس ادارے کا امیج متاثر ہوا ۔ فوج کو قومی مفادات کے بجائے غیر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا حصہ بنایا گیا اور وزیر اعظم ، کابینہ ، پارلیمنٹ کی منظوری اور اجازت کے بغیر فوج کو اس جنگ کا حصہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں اس جنگ کے ردعمل میں خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ۔ چارج شیٹ کے پانچوں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کے ذریعے سیاستدانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ، اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا نیب کے ذریعے سیاسی جماعت بنائی گئی اور نیب کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کر کے اس سیاسی جماعت میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا ۔ چھٹے نکتہ میں کہا گیا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کا سفاکانہ قتل کیا گیا اور قومی لیڈر کے اس بیمانہ قتل میں ملوث لوگوں کو پرویز مشرف کو مبارکباد اور شاباش دی ۔ہزاروں بلوچوں کو گھروں سے غائب کیا گیا اختر مینگل اور دیگر پر جھوٹے الزامات عائد کر کے پابند سلاسل کردیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان میں ملک کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوئے ۔چارج شیٹ کے آٹھویں اہم نکتہ میں کہا گیا ہے کہ غیر کے دباو¿ پر لال مسجد لشکر کشی کی گئی بے گناہ بچوں اور بچیوں پر گولیوں اور بمبوں کی بوچھاڑ کردی گئی ۔اللہ کے گھر میں سینکڑوں لوگوں کو شہید کردیا گیا اور پرویز مشرف نے اس اجتماعی قتل عام کے افراد کو شاباش دی ۔چارج شیٹ کے نویں نکتہ میں کہا گیا کہ ملک کے طول عرض میں معصوم محب وطن افراد کو گھروں سے اٹھا لیا گیا عقوبت خانوں میں لے جا کر نت نیا تشدد کیا گیا ۔ چھ سو زائد پاکستانی مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا جس کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب لائن آف فائر میں بھی کیا ہے ۔ چارج شیٹ کے دسویں نکتہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اقربا پروری ، بے راہ روی ، کرپشن ،فیورٹ ازم کی مثالیں قائم کیں ۔اسٹیل میل ، حبیب بینک ، پی ٹی سی ایل کے نجکاری کے معاملات سامنے ہیں ۔ پرویز مشرف کے ذاتی اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ۔ 33کروڑ کا فارم ہاو¿س ، غیر ملکی اثاثہ جات یہ سب کچھ زبان زد عام خاص ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قوم کو حساب دینا ہو گا ۔ پرویز مشرف کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی اربوں کروڑوں روپے کے اثاثے کہا ں سے آگئے ۔ اپنے حواریوں اور رشتہ داروں کو این ایچ اے ، او جی ڈی سی ایل ، پی آئی اے اور ڈیفنس میں ٹھیکے دئیے گئے ۔آٹھ سالوں کے دوران انڈر ٹیبل ڈیل کے ذریعے لوگ کروڑ پتی بننے ۔ شواہد اور ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے پاس مواخذے کی تحریک کے حوالے سے اکثریت نہیں ہے ۔ آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پرویز مشرف 10جون تک مستعفی ہو جائیں ورنہ مواخذے کے لئے تیار ہوں ۔ مواخذہ ضروری ہے تاکہ قوم کے سامنے علی بابا اور چالیس چوروں کی داستان سامنے آسکے ۔ دو ماہ سے پیپلز پارٹی کو مواخذے کی تحریک کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی بھی مواخذے کی حامی ہے تاکہ ملک اس گندگی کو دور کیا جاسکے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک میں آرمی چیف کی تقرری میں ہمیشہ ایک لابی ملوث ہوتی ہے ۔ جرنیل لابنگ کرتے ہیں ۔چوہدری نثار علی خا ن نے پرویز مشرف کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایک نیا پرویز مشرف دیکھا جو پریشان ، گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔ پرویز مشرف کھیل ہار چکے ہیں انہیں کافی دنوں پہلے کھیل ہارنے کا اعتراف کرنا چاہیے تھا ۔ رحم دلی اور قومی مفاہمت کی بات کی ہے ۔ نواز شریف کو ہتھکڑی لگائی گئی ۔ جلا وطن کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کو کک مارنے کی بات کی گئی اس وقت قومی مفاہمت یاد کیوں نہ آئی ۔ہاں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ نواز شریف کو پریس کانفرنس میں صاحب اور بے نظیر بھٹو کو صاحبہ کہہ کر ضرور پکارا ۔ یہ اصل مشرف نہیں تھے گھبرائے ،ہارے ، سہمے پرویز مشرف ہیں ۔ اگر انہیں تھوڑا وقت مل گیا تو وہ آٹھ سالہ تاریخ دوبارہ دھرا سکتے ہیں ۔ پرویز مشرف کو اس وقت رحم دلی اور مفاہمت کیوں نہ یاد آئی جب لال مسجد پر آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی چیخ و پکار اب بھی ہمارے کانوں میں گونچ رہی ہے ۔ جنوبی وزیر ستان میں فوج کشی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف آمریت کا نشان ، جمہوریت کے دشمن ، آزاد عدلیہ میڈیا ، خود مختار پارلیمنٹ کے سب سے بڑے مخالف اور امریکہ کے پٹھوں ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ قتل عام اور ملک کو تہہ و بالا کرنے والے کو قومی مفاہمت کی یاد اب کیوں آرہی ہے ۔ پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف قومی اسمبلی میں مواخذے کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔ مواخذے کی تحریک کے نتیجے میں آمریت کا دروزاہ ہمیشہ کے بند ہو گا ۔ آئین کے آرٹیکل 6کا موثر انداز میں مشرف پر لاگو ہوتا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جاری ٹیپ میں دوسری آواز پرویز مشرف کی ہے اور پرویز مشرف نے اس میں میڈیا کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ ریکارڈ ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کولیشن گورنمنٹ میں شامل ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیں ۔ ججوں کے معاملہ کو حل کرنے کیلئے آصف علی زرداری سے آج رابطہ کر وں گا تاکہ اس مسئلہ کے حل کے بعد قوم اپنی منزل کی طرف بڑھ سکے ۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے کی جانی چاہیئے ۔ اگر فیلڈ مارشل ایوب خان کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی سزا مل جاتی تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ مشرف کو آئین توڑنے اور ملک میں آمریت قائم کرنے کی جرات نہ ہوتی گذشتہ 8 سال کے دوران ہمارے خاندان کو انتہای اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمارے خاندان کو عکوبت خانوں میں ڈالا گیا آٹھ سال تک جلا وطن کیا گیا اور میرے والد وفات پا گئے تو ان کی میت کے ساتھ خاندان کے کسی فرد کو پاکستان نہ آنے دیا گیا لیکن ہم نے انتقام کی سیاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ماضی میں جو کرپشن کی گئی، غنڈہ گردی کی گئی اور یہاں قبضہ گروپ قائم ہوئے ان کا قانون کے مطابق بے لاگ احتساب کریں اور ان تمام حقائق کو عوام کے سامنے لائیں پاکستانی قوم کا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہاں نائن الیون کے بعد فنڈز کے نام پر اور قرض کے نام پر جو کچھ بھی آیا انہیں درست سمت میں استعمال نہ کیا گیا اگر جنرل پرویز مشرف صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کردیتے تو وہ 6 سال میں مکمل ہو جاتی اور ملک کو 25 سو میگا واٹ بجلی میسر آنے کے علاوہ آبپاشی کیلئے پانی بھی مل جاتا ۔ صدر، وزیر اعظم اور اتحادی جماعتوں سے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کولیشن کی آڑ میں ایسے اقدامات کا حصہ ہر گز نہیں بن سکتے جو آئین اور قانون کے منافی ہوں کسی بھی طور آئین کی دھجیاں نہیں بکھیریں گے ۔ عدلیہ کی آزادی کے معاملہ پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں متفق ہیں ۔ صرف ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن ان سے حکومتی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میری یا میاں نواز شریف کی مشرف سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے اس ڈکٹیٹر نے آئین کی دھجیاں بکھیریں اور ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑے کیا ۔ کل تک مشرف ہمیں ٹھڈے مارنے کی باتیں کر رہے تھے آج وہ مفاہمت کیلئے راضی کیسے ہو گئے ہیں ۔ وزیرستان، بلوچستان میں جو کچھ ہوا اور جس طرح جنرل پرویز مشرف نے قوم کا معاشی و سیاسی جنازہ نکالا ان کے ساتھ مفاہمت کیسے کی جا سکتی ہے اور کس طرح انہیں محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں ۔ مانیٹرنگ سسٹم کو فعال کیا جائے گا اور گرین فوڈ سکیم بھی دی جائے گی اس وقت بھی آٹے کی قیمت کے حوالہ سے صورتحال دیگر صوبوں کے مقابلہ میں پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ آزاد عدلیہ کے بغیر معاشی، سیاسی اور سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہے اسی لئے ہم ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت سمیت ہر طرح کے اقدامات لے رہے ہیں ۔ صحافی کالونی کو قبضہ گروپ سے واگزار کروانے کے سوال پر میاں شہبازشریف نے کہا کہ گذشتہ 8 سال کے دوران ملک بھر میں ہر شعبے میں قبضہ گروپ پیدا ہوئے لیکن اب ان کا دور ختم ہو چکا ۔ قبضہ گروپ جہاں پر بھی ہیں اس کا خاتمہ کیا جائے گا ۔ وزیراعلی پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں تاکہ حکومت کو اپنا کام کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی مطالبہ کیا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران جن میجر اور کرنل صاحبان نے سیاسی ورکروں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم سیاسی ورکروں پر مظالم کرنے والوں سے قانون کے تحت حساب لیا جائے گا۔جنرل پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم پاکستان کی زرعی زمین کو بنجر بنانا تھا۔ ہماری اولین ترجیح عوام کو انصاف کی فراہمی ، تعلیم کا فروغ اور زرعی اصلاحات ہوں گی۔ اس مقصد کیلئے ان شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے 347کے ایوان میں 265ووٹ لئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں پر ابھی ضمنی الیکشن ہونا باقی ہے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام اور ایوان کے ارکان نے ان پر جو اعتماد کیا ہے وہ ایمانداری کے ساتھ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران پاکستان کے ہر گلی کوچے میں ظلم وزیادتی کا بازار گرم رہا۔ سیاسی کارکنوں سے دہشت گردوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ میں ایوان کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے بے انصافی کی ، ورکروں اور سیاسی رہنماو¿ں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا ان سے قانون کے مطابق حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے بھی مطالبہ کیا کہ جن فوجی افسران نے گذشتہ آٹھ سال کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں وکارکنوں پر مظالم کئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے انتخابات سے 48گھنٹے پہلے اپنے اس وعدے کو دوہرایا تھا کہ اگر ان کے حامیوں کو شکست ہوئی تو وہ گھر چلے جائیں گے۔18فروری کے انتخابات میں قوم نے انہیں مسترد کردیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ خلافی کی اور استعفیٰ نہیں دیا۔ میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں تاکہ حکومت کو قوم کو بحران سے نکالنے اور مسائل کا حل کرنے کیلئے کام کرنے کا موقع ملے۔ اگر وہ نہیں بھی جاتے تو مشرف آمریت آج آخری سانس لے رہی ہے۔ اس ملک سے مشرف اور اس کی باقیات کا مکمل طور پر خاتمہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر جنرل (ر) پرویز مشرف آٹھ سال کے دوران محض سیاسی انتقام کی بجائے تعمیری کام کرتے ، آتے ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرواتے تو آج پاکستان کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا نہ ہوتا اور نہ ہی کسانوں کو پانی کا بحران درپیش آتا۔ پاکستان کی زرعی زمین بنجر ہونے سے بھی بچ جاتی۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کے حامیوں نے ایوان میں بیٹھنے کی بجائے اسمبلی کے باہر کیمپ لگایا جو کیمپ چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اب اسی طرح مشرف بھی بھاگنے والے ہیں۔ وہ ڈھٹائی کے ساتھ زیادہ عرصہ تک ایوان صدر میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان میں رشوت اور دھونس ودھاندلی کا بازار گرم رکھا گیا۔ دھونس اور دھاندلی سر بازار ناچ رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناچ کو بند کریں۔ تھانے عقوبت خانوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ شریف آدمی تھانے جانے سے ڈرتا ہے کیونکہ وہاں مظلوم کو مزید ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چور وچودھری اپنے پیسے کے زور پر وہاں مظلوم بن جاتے ہیں۔ اب قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ کچہریوں میں ناانصافی ہے، اس ناانصافی کو دور کرنے کیلئے ہمیں ماتحت عدلیہ میں اصلاحات لانا ہوں گی اور اس کے ججوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا لیکن ابھی بھی ہمارے پاس بہت مواقع موجود ہیں۔ جنوبی کوریا اور چین جو ہم سے بہت پیچھے تھے اگر اپنی محنت سے آج مضبوط معیشت قائم کرچکے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران احتساب کا مضبوط نظام قائم نہیں کیا جاسکا۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو برباد کیا جاتا رہا۔ سابق دور حکومت میں مشرف نے اربوں روپے اپنے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے۔ (ق) لیگ کے سابق وزیراعلی نے گذشتہ سال صرف جولائی سے نومبر تک اپنی ذاتی تشہیر پر ڈھائی ارب روپے خرچ کردیئے لیکن ہم قوم کی دولت کو اس طرح ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے مزید کمیٹیاں بھی بنائی جائیں گی جو ایسے منصوبے تیار کریں گی جس سے صوبہ میں ترقی اور خوشحالی آسکے۔ اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سب سے زیادہ زور انصاف کی فراہمی پر دیا جائے گا کیونکہ کوئی بھی قوم انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ تعلیم کی پرموشن دوسرا ہدف ہوگا، ملک میں آئینی ایمرجنسی نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے آخر تک پنجاب کے تمام ہائی سکولوں میں جن کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے کمپیوٹر تعلیم کا آغاز کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں کسی بھی ذہین طالب علم کا تعلق خواہ گجرات سے ہو، لیہ سے ہو یا کسی دوسرے علاقہ سے اگر وہ میرٹ پر تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتا ہے اور اس کے والدین اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو اس طالب علم کی کفیل خود پنجاب حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیسری ترجیح زرعی اصلاحات ہوں گی اور میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ تین ماہ کے اندر پنجاب بھر میں انسانی اور زرعی جعلی ادویات کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تاہم ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، انقلابی اقدامات کے ذریعے ملک کو پھر سے زرعی ملک بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اس وقت 2500میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کے وجہ سے ہسپتالوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث مریض دم توڑ جاتے ہیں کیونکہ سرکاری تو کجا پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ہسپتالوں کے پاس جنریٹر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسائل سے 350میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی لیکن ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ عوام کو غربت ، مہنگائی، خودکشیوں اور خراب امن وامان کی صورتحال سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کیلئے چھ ہزار روپے تنخواہ ناکافی ہے۔ اساتذہ ہمارے سروں کے تاج ہیں، ہم ان سب کیلئے بجٹ میں انقلابی اعلانات کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی جمہوریت کی بحالی اس کیلئے صعوبتیں برداشت کرنے اور قوم کی بہترین قیادت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پرویز مشر ف کو آئینی صدر تسلیم نہیں کرتے ان کے ساتھ صرف ورکنگ ریلشن شپ ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اب صدر مشرف سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں عدلیہ کا مسئلہ بھی ضرور حل ہو گا اور ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہم نے کبھی کسی ڈکٹیٹر کا سہارا نہیں دیا ۔ جدہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ اور صدر کے درمیان تصادم کے بجائے اداروں کے اختیارات میں توازن چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم جو توقعات لے کر سعودی عرب آئے تھے وہ پوری ہو گئی ہیں ہم نے جب بھی سعودی عرب سے تعاون طلب کیا سعودی قیادت نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ سنیٹر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانا کے لیے سعودی عرب میں اپنے قیام میںتوسیع کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اقتصادی استحکام اورجمہوریت کا فروغ ہے انہوں نے کہا کہ ہم مشکلات کو مواقع میں بدلنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں ایک سوال پر سنیٹر آصف علی زردای نے کہا کہ بجٹ میں معاشرے کے غریب طبقے کے خصوصی ریلیف دیں گے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خصوصی کارڈ کا اجرائ کر رہے ہیں جس پر غریب خواتین کو 1500پندرہ سو رپے تک کی امداد مل سکے گی اور اس امداد کو اس سال بڑھا کہ 3000 ہزار روپے کریں گے آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کے مطابق ملک میں خواتین کو بااختیار بنائیں گے ۔ جبکہ ملک کے 30سابق سفیروں نے صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ اور مواخذے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ججز کی بحالی کیلئے وکلائ کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا۔سابق سفیروں نے پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی مفاد کے منافی قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیاہے کہ اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کی چیکنگ ہو سکتی ہے۔ان سابق سفیروں میں شمشاد احمد خان،ریاض کھوکھر ، اکرم ذکی ،ڈاکٹر ایس ایم قریشی، ڈاکٹر مقبول بھٹی ، نجم الثاقب خان، گل حنیف ، عظمت حسین ،توقیر حسین ،سلیم نوازخان گنڈا پور، اقبال احمد خان،اسلم رضوی ، کامران نیاز، جاوید حفیظ ، نذر عباس ، راشدسلیم خان، ایاز وزیر ،وزارت خارجہ کے سابق اسپیشل سیکرٹری شیر افگن خان شامل ہیں ۔سابق سفیروں نے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ بھرپور تعاون کیاجائے گا ۔ صدر پرویزمشرف غیر آئینی صدر ہیں پوری قوم کا مطالبہ ہے وہ مستعفیٰ ہوں انتخابی مینڈیٹ کے مطابق ان کا مواخذہ کیاجائے ۔ اتوار کواسلام آباد پریس کلب میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سابق سفیروں کے اس تیس رکنی گروپ کی جانب سے وکلاء تحریک کی حمایت میں بیان پڑھا۔ ریاض کھوکھر اور دیگر سابق سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے سابق سفیروںکے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلائ برادری اور سول سوسائٹی کی ججز کی بحالی آئین کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ، فریڈم آف پریس ، حقیقی جمہوریت کے حوالے سے جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ آئین میں واضح طورپر کہا گیا ہے عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق حکومت قائم ہو گی ۔10جون سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں سابق سفیر بھرپور طور پر شرکت کریں گے ۔ حکومت ججز کی بحالی میں ناکام ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے برطرف کیاگیا۔ تین نومبر 2007ء کو ایمر جنسی اور پی سی او غیر آئینی تھا تین نومبر 2007ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے جاری ان غیر آئینی ، غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہیں ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لاء مسلط کیاگیا۔آئین کی خلاف ورزی کی گئی ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی سلب کی گئی ، بنیادی حقوق پامال کئے گئے ۔پی سی او اور ایمر جنسی کا جواز نہیں تھا۔انہوںنے کہاکہ تین نومبر 2007ء کو سپریم کورٹ کے پی سی او اور ایمر جنسی کے خلاف فیصلے پر عملدر آمد ہونا چاہیے ۔اٹھارہ فروری کو عوام نے پرویزمشرف اور آمریت کے خلاف فیصلہ دیا9مارچ 2008ء کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اعلان مری کے ذریعے ججز کی بحالی کا وعدہ کیا ۔ وفاقی حکومت عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔سابق سفیروں نے واضح کیاہے کہ آئینی پیکج اور عدلیہ کے بارے میں اصلاحات ججز کی بحالی کے خلاف ہے آئین کی حکمرانی ، آزاد عدلیہ کے خلاف دباو¿ کو مسترد کرتے ہیں۔آئین ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ، شہری آزادیوں ، سیاسی استحکام ، سماجی انصاف ، معاشی ترقی ، قومی سلامتی کیلئے ، آزاد عدلیہ ضروری ہے ۔ مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہاکہ با ضمیر سرکاری افسران اپنی مدت ملازمت کے دوران جس معاملے کے بارے میں اختلاف رائے ہو حکومت کو اس سے آگاہ کر دیتے ہیں ۔سابق سیکرٹری خارجہ نے بھی ایسے ہی ایشو کے حوالے سے حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والے سرکاری افسران آمریت کے دور میں اگر اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں تو اس سے تو آمریت کو تقویت ملتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ فرض شناس افسران ہمیشہ قومی مفاد کے مطابق اپنی رائے سے حکومت کو آگاہ کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ، ریاست کی جانب سے ناکامی کا اعتراف ہے۔حریری کمیشن والا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ناں اقوام متحدہ کا منشور اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی ملک میں ہونے والے جرم کی تحقیقات کی جائے ۔ لبنان میں سیاسی بحران تھا وہاں کے صدر رفیق الحریری کے مخالف تھے لبنان کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بھی تھا اس لئے اس معاملے کی تحقیقات اقوام متحدہ نے کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس حوالے سے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا ملکی مفاد کے منافی ہے ریاض کھوکھر نے کہاکہ خارجہ امور ایک مشکل کام ہے ملکی صورتحال میں خارجہ امور کا اہم کردار ہوتا ہے خارجہ پالیسی کے حوالے سے دفتر خارجہ اپنے آپشن سے حکومت کو آگاہ کرتا ہے دفتر خارجہ میں لوگ چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے ہوتے اپنے کام سے آگاہ ہوتے ہیں ملکی مفاد کے مطابق رائے کا اظہار کیاجاتا ہے اور اپنے تجزیے کے مطابق خارجہ پالیسی کے بارے میں تجاویز دی جاتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امریکہ سے ڈکٹیشن لینا یا اس کے مفادات کا تحفظ کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے لیکن کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔جب ہماری سیاسی قیادت دن رات امریکہ سے رابطے میں رہے دفتر خارجہ کیاکر سکتا ہے۔اکرم ذکی نے کہا کہ آپ خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں مجھے ملک میں کوئی حکومت ہی نظر نہیں آرہی ہے ۔ وزیراعظم نے حلف لینے سے پہلے ججز کی رہائی کا حکم جاری کیا مگر حلف اٹھانے کے بعد کوئی اعلانات نہیں کئے۔ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے بتایا کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کے چپٹر سیون کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت بے نظیر بھٹو کی تحقیقات کی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے لیکن اس سے سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان کی اہم تنصیبات کے جائزہ کا خدشہ ہے کیونکہ سلامتی کونسل میں ہمارے ہمدرد ، دوست اور مخلص نہیں بیٹھے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ سابق سفیر لاہو رسے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے ہر طرح کا تعاون کیاجائے گا ایک سوال کے جواب میں شمشاد احمد خان نے کہاکہ پرویز مشرف کا استعفیٰ پوری قوم کا مطالبہ ان کامواخذہ ہونا چاہیے یہی عوامی مینڈیٹ کا تقاضا ہے ۔نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے حکومت سے کہا ہے کہ مجھے فوری طور پر آزاد کردیا جائے ۔ میں اپنی زندگی کے بقہ دن آزادی سے گزارنا چاہتا ہوں ۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا میری پہلی خواہش تھی اور اب دوسری اور آخری خواہش زندگی کے بقیہ دن آزادی سے گزارنا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا نگہبان ہے مجھے کسی شخص کی سیکورٹی کی ضرورت نہیں 16 کروڑ عوام مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ان سے مجھے کوئی ڈر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے بعد عوام ہی میرے محافظ ہیں ۔ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے مجھے بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت نہیں ۔ بے نظیر بھٹو بھی بلٹ پروف گاڑی میں ہی شہید ہوئیں ۔ قاضی حسین احمد محب وطن ہیں وہ ہمیشہ ملکی مفاد کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ امریکہ کی بات کرتے ہیں ۔ مجھے پاکستان میں آئے ہوئے 32سال ہوئے اور میں نے 25سال ایٹمی منصوبے کی سربراہی کی اس دوران کئی آرمی چیف آئے مگر مجھے مرزا اسلم بیگ کی دوستی اور فرض شناسی پر فخر ہے ۔ مرزا اسلم بیگ ہی صرف ایسے آرمی چیف تھے جن پر نہ صرف پاکستانی فوج بلکہ پوری قوم کو فخر ہے مرزا اسلم بیگ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اقتدار کو ٹھکرایا اور ملک میں جمہوریت لے کر آئے ۔ اگر وہ چاہتے تو 17اگست کو اقتدار پر قبضہ کر لیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور غلام اسحاق خان کو بل کر اقتدار ان کے حوالے کردیا اور فوج کو اس چکر سے نکال لیا مرزا اسلم بیگ انتہائی ذہین اور سمجھدار شخص ہیں دنیا کے معاملات پر ان کی گہری نظر ہے اور انتہائی بہادر انسان تھے ۔ امریکی دھمکیاں انہیں مرغوب نہ کر سکیں ۔ ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں مرزا اسلم بیگ اور جنرل وحید کاکڑ نے میری بہت مدد کی اور کام میں ہاتھا بٹایا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ جو شخص پاکستان کے مفاد کو عزیز رکھتا ہے وہ کبھی کسی کے دباو¿ سے مرغوب نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ہمیشہ ملک کے مفاد کی بات کرتے ہیں مگر دوسرے امریکہ کو خوش کرنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ جنرل چشتی بھی بہادر شخص ہیں جب ہم نے ایٹمی منصوبہ شروع کیا یہ اس وقت راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے ۔ انہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں ہماری بہت مدد کی اور ہر قسم کا تعاون فراہم کیا ۔ اس پروگرام کے لئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کیں ۔ کرنل عبد الرحمان نے بھی اچھے انسان ہیں یہ تمام لوگ بڑے محب وطن ہیں ان کے میرے متعلق جو بیانات اور ہمدردیاں ہیں میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دھیر ے دھیرے حالات ٹھیک ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو اصل حقائق کا پتہ چلتا جارہا ہے ۔ جنرل (ر ) مرزا اسلم لیگ اور جنرل (ر ) جمشید کیانی ، جنرل (ر ) حمید گل نے تمام باتیں بتا دی ہیں ۔ واقعات کبھی چھپتے نہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہمیشہ ایمانداری اور سچی بات ہی کرنی چاہیے ۔ سٹیل ملز کے سابق چیئر مین جنرل (ر ) عبدالقیوم نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں کیسے بے ایمانی ہوئی اور اسے کتنا نقصان پہنچایا جارہا تھا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ایماندار لوگوں کی کمی نہیں ۔ حق و سچ کی بات کرنے والے بہت سے موجود ہیں ۔ دوسرے کئی قومی اثاثوں کو اونے پونے بیچا جارہا تھا مگر انہیں روک لیا گیا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ جن لوگوں کی ملک کیلئے خدمات ہیں وہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہیں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ میں نے بہت صبر کرلیا ہے اب مزید صبر کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات میں نے حکومت کو بھی بتا دی ہے ۔ جنرل چشتی اور دیگر کے دوست اگر مجھے ملنے کے لئے آنا چاہتے ہیں میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں وہ ضرور آئیں میں انہیں اپنے ہاتھوں سے چائے کافی پلاو¿ں گا اور پکوڑے اور سموسے کھلاو¿ں گا ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے 1971ء کی اپنی فوجیوں کی شکست دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس کے بعد میں نے ایٹم بم بنانے کا تہیہ کیا اور اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور انہوں نے مجھے فوراً ہی بلا لیا ۔ یہ کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے وہ بہت دور اندیش تھے کہ انہوں نے میرا خط ملتے ہیں مجھے فوراً بلا لیا اور اس پروگرام کے لئے مجھے دنیا بھر کی سہولتیں فراہم کیں ۔ پروگرام کی تکمیل کا کریڈیٹ بھٹو اور میرے ساتھیوں کو جاتا ہے جنہوں نے بڑی محنت اور لگن سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں میری معاونت کی ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جس کے کہنے پر میں نے لبیک کی ان میں سے کسی نے بھی میرے متعلق ہمدردی کا کوئی ایک لفظ نہیں بولا اور اب مجھے امید ہے کہ وہ ضرور بولیں گے ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے پذیرائی نہیں ملی ۔ لوگوں کو میری آزادی کے بارے میں خواہ مخواہ غلط فہمی میں ڈال دیا گیا ہے ۔ میں آزاد نہیں ہوں ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ امید کرتا ہوں مجھے آزادی ملے اور میں آزادی نے ادھر ادھر آجا سکوں اور اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے مل سکوں ۔ موجود ہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مجھے مکمل طور پر آزاد کردے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے سیکورٹی رسک کے لئے حفاظت میں رکھا گیا ہے ۔یہ بالکل بکواس ہے ۔ لوگ میرے ساتھ محبت کرتے ہیں مجھے اپنے ملک میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سب سے بڑا محافظ اللہ کی ذات ہے اور اس کی بعد 16کروڑ عوام میرے محافظ ہیں ۔ مجھے اس ملک میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے ۔بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر اپنے آپ کو بچانا ایمان کی کمزور ی اور اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہے ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے میں نے اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کو اللہ رب العزت کے سپرد کیا ہوا ہے مجھے پاکستانی قوم سے قطعی کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ خود میری محافظ ہے میں آزادی چاہتا ہوں میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ بہادری کا قدم دکھائے اور میرے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ ایک ڈکٹیٹر نے پچھلے 8سالوں میں چیف جسٹس اور مجھ سمیت جسے چاہا اٹھا کر اندر بند کردیا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے ۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی معزول ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں اور اس مقصد کے حصول تک عوام اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ججز ضرور بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرو اور مظلوم کا ساتھ دو ۔ اے پی ایس ا سلام آ باد
Rehman Malik, Afghan President discuss security situation

KABUL : Advisor to the Prime Minister on Interior Rehman Malik Sunday discussed the security situation on international border of two countries with Afghan President Hamid Karzai. To improve the security situation, restoration/installation of Border Biometrics Control System was emphasized in the meeting, said a press release.
President Hamid Karzai agreed to the proposal of its installation on both sides. The meeting was held in an extremely cordial atmosphere. The Advisor conveyed best wishes of Prime Minister of Islamic Republic of Pakistan and Co-Chairperson of Pakistan People’s Party Asif Ali Zardari.
The Advisor also explained the deployment of Pakistan’s security forces on the border and also raised the issue of repatriation of Afghan refugees.
Later, the Advisor held a bilateral meeting with Afghan Interior Minister Zarar Ahmad Muqbal.
The two sides agreed to task the technical teams on both sides to meet and finalize the installation. Other issues of mutual interest were also discussed.
Both sides agreed to extend full support to each other to improve security environment and bring peace in the region.
Both sides also agreed to appoint focal persons, Additional Secretary Ministry of Interior, Pakistan and Deputy Minister, Afghanistan for prompt communication and resolution of security issues.
PM Gilani leaves for Pakistan

JEDDAH: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani left for home here Sunday at the conclusion of his three-day visit to Saudi Arabia.
During the visit, the Prime Minister alongwith PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari held important talks with King Abdullah bin Abdul Aziz.
While the Prime Minister and his delegation left for Pakistan this evening, Asif Ali Zardari has extended his stay in Saudi Arabia to hold further talks with the Saudi leadership.
Gilani, Zardari perform Umra, pray for solidarity, progress of Pakistan

MAKKAH : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani along with Co-Chairman PPP, Asif Ali Zardari performed Umra here late Saturday night and prayed for peace, progress, solidarity and prosperity of Pakistan. Prime Minister Gilani and Asif Ali Zardari arrived here Saturday night from Jeddah after talks with King Abdullah bin Abdul Aziz to perform Umra.
The Prime Minister along with Asif Ali Zardari and his entourage went to the Grand Mosque - the Holy Kaab’a to perform Umra.
They offered special “nawafil” and sought the blessings of the Allah Almighty in helping the country overcome various challenges and to bring peace, security and stability.
Gilani and Zardari prayed for the well being of the people of Pakistan, and strength and courage to deal with the challenges facing the nation.
The Prime Minister and PPP leader also prayed for the soul of late Benazir Bhutto.
Pakistan’s security, economy, democracy top priorities of government: Zradari

JEDDAH: PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari Sunday said the country’s security, economy and democracy were the top priorities of PPP government and it was working on an incentives package for under-privileged section of the society.
The PPP Co-Chairman, in an informal chat with the newsmen here, blamed mismanagement and bad policies of the last decade as main reasons leading to the current economic crisis.
Zardari, who is accompanying Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani in his visit to Saudi Arabia, said Saudi Arabian leaders have always been generous to Pakistan and they always think for protecting the interests of Pakistan.
He said the visit of Prime Minister Gilani to Saudi Arabia will help give new dimensions to our ties with the Kingdom in long way, adding, Saudi Arabia would help Pakistan for improving its strategic oil reserves to make them permanent.
Zardari said the consumer financing brought a negative impact on the society. It also resulted in increased street crimes.
He questioned that when country is facing challenges on its border then how the law and order situation could be improved within minimum time.
Zardari said, “In Pakistan’s environment, we have to see many things, but it does not mean that we have any fear from anyone or in any matter. We are only concerned about 160 million people, who are leading a hard life.”
The PPP Co-Chairman said the government would provide relief ranging from Rs. 1000 to Rs 1500 to the poorest of poor in the forthcoming budget to improve their buying power and assured that it would be doubled within one year.
Turning to the political situation of the country Zardari said the PPP does not acknowledge Pervez Musharraf as a constitutional President, adding, but as by default or circumstance he (Musharraf) occupies a certain position, the government was working with him.
“Since we have to run the affairs of the state, we have a working relationship with the President”, he added.
He said, “We have put aside our personal likes and dislikes,
as we neither give advantage nor disadvantage to anyone”
Zardari said the PPP has never supported any dictator, “neither in the past nor it will do so in future.”
He said PPP had never sought support of the dictators to come into power and has always worked for real democracy.
He said his party does not believe in having relations with personalities but working for the improvement of collective political system and strengthen institutions.
Regarding budget deficit the Co-Chairman PPP said the government will take stringent measures to overcome this deficit and would never indulge in the blame game.
Regarding the strategy of the government on improving trade balance, he said all options would be utilised in this regard.
He said the government would make all out efforts to capture 1.2 billion dollars Indian market for this purpose. He said Pakistani leadership including himself will visit India in the near future to achieve this goal.
Zardari said Pakistan is an Agrarian society but unfortunately all the governments except PPP governments had neglected this sector and negative impact of this negligence are now coming out.
He expressed the confidence that the PPP-led coalition government would again give top priority to the development of the agriculture sector to overcome the food crisis.
On the judges issue, he said there are some differences between the coalition partners on the modalities of restoration of judges to resolve the issue, adding, but the PPP believes in the independence of judiciary and empowerment of Parliament.
Asif Ali Zardari has extended his stay in Saudi Arabia for further talks with the Saudi leadership.
Embassy spokesman says Pakistan pursuing comprehensive anti-terror strategy
WASHINGTON : The Pakistani embassy, rejecting assertions made in an American newspaper, has said the new government is resolved to fight terrorism through a comprehensive strategy that does not envisage talks with terrorists.
In a letter appearing in Sunday edition of the Boston Globe, an embassy spokesman stated the government’s anti-terror strategy aims at dealing with militancy in the tribal areas along the Afghan border without allowing concessions or breathing space to militants.
“This strategy includes the following: continuation of the war on terror more vigorously with the support of tribesmen; leaving the option of dialogue open with reconcilable elements, to isolate and marginalize the militants; initiating massive development projects to reduce poverty and generate employment; and working with the Afghan government to help secure the border and create conditions conducive for the repatriation of more than 3 million Afghan refugees currently in Pakistan, Press attache Nadeem Kiani wrote to editor of the newspaper.
Commenting on an editorial of the newspaper, he noted it was constructed on the false premise that the government had struck a deal with militants. “The new strategy does not envisage negotiations with the terrorists or withdrawal of troops from the Federally Administered Tribal Areas. The government has made it clear that there would be no negotiations with terrorists, and that any negotiations with those who would lay down their arms and give up militancy would be held from a position of strength and would be conditional on ending attacks on both sides of the border”.
Pakistan’s elected leadership, he reminded, considers the war on terror as Pakistan’s own war. “Our success in the war on terror is essential for the success of moderate democratic forces in Pakistan, who alone can bring real hope, peace, and prosperity to the people of the region,” the Press attache wrote.
Subscribe to:
Posts (Atom)
