International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Thursday, April 17, 2008
ق لیگ کی لوٹ مار بے نقاب کرکے ایک ایک پائی کا حساب لیں گے۔ شہباز شریف
حاصل پور ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں دیانتدار آفسران تعینات کیے جائیں گے جرائم بڑھنے کی وجہ کرپٹ پولیس آفیسر ہیں اب ان کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج لاہو رمیں چوہدری محمد جمیل جوہر ایڈووکیٹ ‘ سابق چیئرمین بلدیہ حاصل پور و پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار قومی اسمبلی حلقہ نمبر 186 این اے حاصل پور کی زیر قیادت وکلاء و پارٹی وفد سے ملاقات کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے کسی آمر کے لیے کوئی ہمیں دبا نہیں سکتا جب تک ہم اداروں خصوصا عدلیہ پارلیمنٹ اور میڈیا کو مضبوط نہیں کرتے آمروں سے نجات ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اور وکلاء زندہ ہیں آمروں کو برداشت نہیں کر سکتے وکلاء نے اس جدوجہد میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر عوامی عزت حاصل کی ہے ہمیں مل کر اداروں اور ملک کی تعمیر وترقی کرنی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو قانون کی حکمرانی والا ملک دیا جاسکے اگر ہم قانون اصولوں اور ضابطوں پر چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں د ے سکتی ہماری قوم کو ترقی کے لیے قانو ن کی حکمرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ا نہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی بحالی کا اپنے اراکین اسمبلی سے حلف لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معزول ججز کو رہائی دلائی ہے اور جلد ہی انہیں ان کے عہدوں پر بحال کریں گے آمریت کے سہارے چلنے والی سابق حکومت نے ملک کو آٹے ‘ بجلی پانی دہشت گردی لاقانونیت اور بدترین معاشی بحران سے دو چار کیے رکھا لیکن عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے ہم انقلابی اقدامات اٹھائیں گے۔اب ایسے کرپٹ رائشی لوٹ مار میں ملوث کام چور افسران و اہلکاروںکو کسی بھی صورت میں تعینات نہیں کیا جائے گا بلکہ دیانتدار بااخلاق اچھے کردار اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افسران و اہلکاروں کو تعینات کرکے ان کی حوصلہ افزئای کی جائیگی جبکہ بداخلاق کرپٹ ‘ عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افسران کو برطرف کرکے گھر بھیجنے کے علاوہ ل وٹ مار کرنے والوں کا بلا متیاز احتساب ہوگا کام چور کرپٹ اہلکار افسران اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ وہ سزا کے لیے تیار رہیں ۔ ا نہو ں نے کہا کہ عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں صوبے سے غربت ‘جہالت اور پسماندگاگی کا خاتمہ کردیںگے انہوں نے کہا کہ آئندہ تمام فیصلے اتحادیوں سے باہمی مشاورت اورتقرریاں و تبادلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے اور امن وامان کی ناقص کارکردگی اور جرائم پر کنٹرول نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو انتشار کی نذر کرنے والوں کو عوام نے مسترد کردیا ہے ہمیں اقتدار خیرات میں نہین ملا یہ اللہ تعالی کی مہربانی اور عوام کی بے پناہ محبت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جمہوری پارٹیوں پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے غیر جمہوری آمریت پسند قوتوںکو صفایا کردیا جو ماضی میں بھی جمہوریت کے خلاف سازش میں ملوث تھے اور اب بھی محلاتی سازشوں میں مصروف ہین لیکن اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہم اوچھے ہتھکنڈوں سے نمٹنا جانتے ہیں ۔ آج پورے ملک میں (ق ) لیگ اپنے کرتوتوں کی و جہ سے عوامی نفرت کی علامت کا نشان بن چکی ہے اور ان کے ظلم کے ستائے ہوئے لوگ جگہ جگہ ان کا انڈوںا ور ڈنڈوں سے استقبال کرتے ہیں یہ تو مکافات عمل ہے چوہدری برادران خواہ مخواہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا کراپنی سیاسی ساکھ بچانے کی کوشش کررہے ہیں جنہوں نے پانے دوراقتدار میں اقرباء پروری اور ظلم وستم کا بازار گرم کیے رکھا اب پرویز مشرف کے لیے پاکستان اوراقتدار میں کوئی جگہ نہیں(ق) لیگ کی لوٹ مار کو بے نقاب کرکے ایک ایک پائی وصول کریں گے اعلان مری پر ہر صورت عملدرآمد ہو گا۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کی زبردست مزاحمت کی جائے گی ۔جسٹس (ر ) وجیہہ الدین
امریکہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پرویز مشرف کو نومبر تک صدر کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے
وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،
اسلام آباد ۔ وکلاء تحریک کے ممتاز رہنما جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے واضح کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کی زبردست مزاحمت کی جائے گی ۔ امریکہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پرویز مشرف کو نومبر تک صدر کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ری پبلکن کو خوف ہے کہ پرویز مشرف نکال دئیے گئے تو کانگریس اور صدارتی انتخابات ہار جائے گی ۔ وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اسلام آباد سے سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم اور اسلام آباد بار کے صدر ہارون رشید نے بھی خطاب کیا ۔ جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے وکلاء سے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے شروع کی گئی تحریک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور اب وہ وقت دور نہیں جب تمام ججز بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہت سے مصائب اور مالی مشکلات کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھا اور اب ان کی جدوجہد رنگ لانے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے عزم پر قائم رہتی ہیں اور اتنے مصائب و الا م کے باوجود ان کے عزم و حوصلے میں ذرا برابر لغزش نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی مستند جدوجہد ہے ۔ یوم شہداء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے طاہر پلازہ کراچی کا دورہ کیا جو کچھ دیکھا زبان سے بیان کرنا نا ممکن ہے ۔ طاہر پلازہ میں جو ظلم و تشدد ہوا ہے بیان نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے اس واقعہ کو درندگی کی بہت بڑی علامت قرار دیا اور کہا کہ وکلاء کو زندہ جلا دیا گیا ۔ اس قسم کے تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔تحریک پوری دنیا میں درست قرار دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب باتیں ہو رہی ہیں کہ آئینی ترمیم کے ذریعہ افتخار چوہدری سپریم کورٹ ،صبح الدین ہائی کورٹ ،طارق پرویز پشاور ہائی کورٹ سے یک لخت فارغ ہو جائیں مگر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی صورت چیف جسٹس صاحبان کی مدت میں کمی نہیں ہونے دیں گے اور ایسی ترمیم پاکستان میں کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی ۔ اب یہ بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ فلک شیر کو چیف جسٹس بنا دیا جائے ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ غیر آئینی غیر قانونی ہے ہمیں یقین واثق ہے کہ خود شیر فلک بھی ایسی کسی آفر کو قبول نہیں کریں گے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔ جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے کہا کہ پہلی تو بات ہے کہ ایسا ہو گا نہیں اگر ہو گا تو ہم بہرحال موجود ہیں اور بھر پور مزاحمت کریں گے اور عالمی سطح پر بھی اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں نومبر کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں اگر اس وقت پرویز مشرف کو نکال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ری پبلکن پارٹی کانگریس اور صدارتی دونوں انتخابات ہار جائے گی ۔ اس لئے امریکہ کی کوشش ہے کہ پرویز مشرف کو اگر زیادہ نہیں تو نومبر پار کرادیں تاکہ وہاں پر انتخابات ہو جائیں ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ اس وقت ہم پاکستان میں سپر پاور کی پوزیشن تہہ و بالا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پرویز مشرف کو ہر صورت رکھنے کی کوشش کرے گی ۔افغانستان کے لوگ امریکہ میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ری پبلکن پارٹی کانگریس اور صدارتی انتخابات میں بھی ہارے گی ۔ اس لیے ری پبلکن جنرل (ر ) پرویز مشرف کو نومبر پار کرانا چاہتی ہے تاکہ اس کے تمام انتخابات ہو جائیں اور امریکہ پرویز مشرف کو نومبر تک رکھنے کے لئے وہ سب کچھ کریں گے جو انہیں ضرورت ہو گا ۔ وکلاء نے اپنے رہنماؤں کے لائحہ عمل کے مطابق آگے چلنا ہے ۔ اسلام آباد بار کو ان کی بے مثال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اسلام آباد کے وکلاء نے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کا سامنا کیا اور تمام رکاوٹوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا ۔ وکلاء اپنی تحریک کو مضبوط اور اتحاد رکھیں ۔ وکلاء نے ہر مشکل وقت میں قوم کو ثابت قدم رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کامیابی کے قریب ہے تحریک کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،
اسلام آباد ۔ وکلاء تحریک کے ممتاز رہنما جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے واضح کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کی زبردست مزاحمت کی جائے گی ۔ امریکہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پرویز مشرف کو نومبر تک صدر کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ری پبلکن کو خوف ہے کہ پرویز مشرف نکال دئیے گئے تو کانگریس اور صدارتی انتخابات ہار جائے گی ۔ وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اسلام آباد سے سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم اور اسلام آباد بار کے صدر ہارون رشید نے بھی خطاب کیا ۔ جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے وکلاء سے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے شروع کی گئی تحریک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور اب وہ وقت دور نہیں جب تمام ججز بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہت سے مصائب اور مالی مشکلات کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھا اور اب ان کی جدوجہد رنگ لانے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے عزم پر قائم رہتی ہیں اور اتنے مصائب و الا م کے باوجود ان کے عزم و حوصلے میں ذرا برابر لغزش نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی مستند جدوجہد ہے ۔ یوم شہداء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے طاہر پلازہ کراچی کا دورہ کیا جو کچھ دیکھا زبان سے بیان کرنا نا ممکن ہے ۔ طاہر پلازہ میں جو ظلم و تشدد ہوا ہے بیان نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے اس واقعہ کو درندگی کی بہت بڑی علامت قرار دیا اور کہا کہ وکلاء کو زندہ جلا دیا گیا ۔ اس قسم کے تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔تحریک پوری دنیا میں درست قرار دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب باتیں ہو رہی ہیں کہ آئینی ترمیم کے ذریعہ افتخار چوہدری سپریم کورٹ ،صبح الدین ہائی کورٹ ،طارق پرویز پشاور ہائی کورٹ سے یک لخت فارغ ہو جائیں مگر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی صورت چیف جسٹس صاحبان کی مدت میں کمی نہیں ہونے دیں گے اور ایسی ترمیم پاکستان میں کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی ۔ اب یہ بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ فلک شیر کو چیف جسٹس بنا دیا جائے ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ غیر آئینی غیر قانونی ہے ہمیں یقین واثق ہے کہ خود شیر فلک بھی ایسی کسی آفر کو قبول نہیں کریں گے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔ جسٹس (ر ) وجیہہ الدین نے کہا کہ پہلی تو بات ہے کہ ایسا ہو گا نہیں اگر ہو گا تو ہم بہرحال موجود ہیں اور بھر پور مزاحمت کریں گے اور عالمی سطح پر بھی اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں نومبر کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں اگر اس وقت پرویز مشرف کو نکال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ری پبلکن پارٹی کانگریس اور صدارتی دونوں انتخابات ہار جائے گی ۔ اس لئے امریکہ کی کوشش ہے کہ پرویز مشرف کو اگر زیادہ نہیں تو نومبر پار کرادیں تاکہ وہاں پر انتخابات ہو جائیں ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ اس وقت ہم پاکستان میں سپر پاور کی پوزیشن تہہ و بالا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پرویز مشرف کو ہر صورت رکھنے کی کوشش کرے گی ۔افغانستان کے لوگ امریکہ میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ری پبلکن پارٹی کانگریس اور صدارتی انتخابات میں بھی ہارے گی ۔ اس لیے ری پبلکن جنرل (ر ) پرویز مشرف کو نومبر پار کرانا چاہتی ہے تاکہ اس کے تمام انتخابات ہو جائیں اور امریکہ پرویز مشرف کو نومبر تک رکھنے کے لئے وہ سب کچھ کریں گے جو انہیں ضرورت ہو گا ۔ وکلاء نے اپنے رہنماؤں کے لائحہ عمل کے مطابق آگے چلنا ہے ۔ اسلام آباد بار کو ان کی بے مثال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اسلام آباد کے وکلاء نے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کا سامنا کیا اور تمام رکاوٹوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا ۔ وکلاء اپنی تحریک کو مضبوط اور اتحاد رکھیں ۔ وکلاء نے ہر مشکل وقت میں قوم کو ثابت قدم رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کامیابی کے قریب ہے تحریک کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
٣ نومبر کی ایمرجنسی اور پی سی او عدلیہ کا گلا گھونٹنے کیلئے لگائی گئی ۔جسٹس (ر) رانا بھگوان داس

٭۔ ۔ ۔ پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ کو یہ حق نہیں پہنچاتا کہ وہ اسے کوئی جواز فراہم کرے٭۔ ۔ ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو بغیر کسی تحریر آرڈر کے اپنے اہلخانہ سمیت گھروں میں قید کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ رانا بھگوان داسلاہور ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی اور پی سی او عدلیہ کا گلا گھونٹنے کیلئے لگائی گئی تھی ۔ اس غیر آئینی حکم سے انکار پر 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ کو یہ حق نہیں پہنچاتا کہ وہ اسے کوئی جواز فراہم کرے ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججوںکو بغیر کسی تحریر آرڈر کے اپنے اہلخانہ سمیت گھروں میں قید کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ممبر پاکستان بار حامد خان نے بھی خطاب کیا جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انور کمال ، سپریم کورٹ بار کے نائب صدر غلام نبی بھٹی ، سیکرٹری امین جاوید چوہدری ، رانا اسد اللہ ، حافظ عبدالرحمان انصاری سمیت وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ قبل ازیں جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کی آمد پر وکلاء نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کے علاوہ ان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھگوان داس نے کہا کہ میں اللہ تعالی کا مشکور ہوں کہ جس نے مجھے ہمیشہ ثابت قدم رکھا ہے ، میری ریٹائرمنٹ کے بعد جس طرح آپ نے مجھے آج یہاں عزت ، محبت اور شفقت دی ہے میں انتہائی مشکور ہو ۔ انہوں نے کہا کہ وکالت ایک باعزت پیشہ ہے اس سے وابستہ افراد مصیبتوں کے ستائے ہوئے لوگوں کیلئے قانونی جنگ لڑتے ہیں اور جن کو اپنے حقوق کا علم نہیں انہیں اس کی آگاہی دیتے ہیں ۔ وکلاء صرف کالے کوٹ کا نا م نہیں بلکہ یہ ایک ا ادارہ ہے ، ایک تشخص ہے جس کا معاشرہ احترام کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے عوام زندہ بھی ہیں مجھے امید ہے کہ لاہوریے عدلیہ کی آزادی کی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور عدلیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، عدلیہ کے بغیر وکلاء نڈر اور بے خوف نہیں ہو سکتے اور اسی طرح وکلاء کی معاونت کے بغیر عدلیہ آزاد نہیں ہوسکتی ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اچھے فیصلے اچھے وکلاء کی معاونت سے ہوتے ہیں دونوں ایک دوسرے کی معاونت کے بغیر اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بھوکے رہ کر پولیس کا تشدد برداشت کر کے ثابت قدم رہتے ہوئے تحریک جاری رکھی ہے جس پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر مختلف ادوار میں حملے ہوتے رہے ہیں ہر دور میں عدلیہ کو کمزور اور تابع کرنے کیلئے مداخلتیں ہوتی رہی ہیں اگر عدلیہ کمزور ہو گی تو وکلاء کا پیشہ کمزور ہو جائے گا لیکن تمام رکاوٹوں کے باوجود عدلیہ اپنی آزادی کی جنگ وکلاء کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ 2007ء کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہوئے انہیں معطل کردیا گیا اور گھر میں نذر بند کردیا گیا ۔ یہ عدلیہ کو رسوا کرنے کی کوشش تھی جس کے خلاف وکلاء ،عدلیہ اور پوری سوسائٹی نے مداخلت کی ، لا ہور بار کا اس حوالے سے سب سے اہم کردار رہا ہے ۔ جب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بار کے استقبالیہ میں شرکت کیلئے آئے تو چار گھنٹے کا سفر 25 گھنٹے میں طے ہو سکا ۔ جس طرح کا استقبال لاہور میں کیا گیا اس سے پورے ملک کے عوام اور وکلاء کو تقویت ملی اور پھر 20جولائی کو عدلیہ کے وقار اور عزت کی بحالی کا فیصلہ ہوا لیکن پھر اڑھائی ماہ بعد ہی عدلیہ پر دوسرا وار کیا گیا جو صریحا بد نیتی پر مبنی تھا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے پی سی او جاری کردیا گیا ۔ اس ایمرجنسی یا پی سی او سے کوئی حکومت یا پارلیمنٹ گھر نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے عدلیہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی اور 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اپنی اس تحریک میں ثابت قدم رہیں ان کی منزل نزدیک سے نزدیک تر آتی جارہی ہے ۔ جسٹس (ر) بھگوان داس نے کہا کہ 1981ءٗ 2000ء اور 3 نومبر 2007ء کو آنے والے پی سی اوز میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ 81ء میں جنرل ضیاء الحق کے پی سی او سے بعض ججوں نے انکار کیا لیکن انہوں نے پنشن کی مراعات قبول کرلیں اسی طرح 2000ء میں جاری ہونے والے پی سی او سے بھی چیف جسٹس سمیت 6 ججوں نے انکار کیا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ قبول کرتے ہوئے انہوں نے بھی پنشن وصول کی لیکن 3نومبر 2007ء کو جاری ہونے والے پی سی او سے جن ججوں نے انکار کیا انہوں نے آج تک اسے تسلیم نہیں کیا انہوں نے پنشن کی مراعات قبول نہیں کیں اور وہ آج بھی آئینی جج ہیں اور اس بات کو پوری قوم بھی تسلیم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 23 نومبر 2007ء کی سپریم کورٹ کا فیصلہ خودساختہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں جب پی سی او جاری کرنے والا شخص خود یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے3 نومبر کو غیر آئینی اقدام کیا ہے ۔ تو پھر خودساختہ عدالت کے پاس اس اقدام کو جائز قرار دینے کا کیا جواز تھا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو خاندان سمیت بغیر تحریری آرڈر کے گھر میں قید رکھا گیا کسی کو ملنے کی اجازت نہ دی گئی اس اقدام کی نہ تو قانون اجازت دیتا ہے نہ ہی یہ اخلاقی ہے بلکہ اس سے ہمارے ملک کا عالمی سطح پر وقار مجروح ہوا ہے ۔ پوری دنیا کے سامنے ہم شرمسار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سب کو چاہیے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر احکامات کو مسترد کردیں
قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ٣٨ خالی نشستوں کے انتخابات کے شیڈول میں رد وبدل
اسلام آباد ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 38 خالی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے شیڈول میں توسیع کر دی ہے انتخابات 3 جون کی بجائے 18 جون کو ہوں گے ۔ جمعرات کو رد و بدل کا تفصیلی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیاسی جماعتوں کی سہولت کے لیے شیڈول میں رد و بدل کیاگیا ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہاہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے جاری اجلاسوں کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو ضمنی انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگی کے حوالے سے مشکلات کا خدشہ تھا سیاسی جماعتوں کی سہولت کے لیے ضمنی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کیاگیا ہے ۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے شیڈول کی منظوری دے دی ہے ۔18 جون کو انتخابات ہوں گے اور 6 مئی تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکیں گے ۔نظر ثانی شیڈول کے مطابق 7 مئی سے 13مئی تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی ۔ 17 مئی تک ریٹرننگ آفیسران کے فیصلوں کے حوالے سے اپیلیں دائر ہو سکیں گی۔ 24 مئی کو اپیلیں نمٹا دی جائیں گی ۔ 26 مئی تک کوئی امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکے گا اور اسی روز یعنی 26 مئی کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔ 18 جون کو ضمنی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ قومی اسمبلی کی 8 اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 خالی نشستوں پر انتخابات ہوں گے ۔ 18 جون کو جن حلقوں میں انتخابات ہوں گے ان میں این اے 11 مردان ، این اے 52 راولپنڈی ، این اے 55 راولپنڈی ، این اے 119 لاہور ، این اے 123 لاہور ، این اے 31 شیخوپورہ ، این اے 147 اوکاڑہ ، این اے 207 قمبر شہداد کوٹ لاڑکانہ شامل ہیں اسی طرح صوبائی حلقوں میں پی پی 10 راولپنڈی ، پی پی 48 بھکر ، پی پی 59 فیصل آباد ، پی پی 70 فیصل آباد ، پی پی 99 گوجرانوالہ ، پی پی 107 حافظ آباد ، پی پی 118 منڈی بہاؤ الدین ، پی پی 124 سیالکوٹ ، پی پی 141 لاہور ، پی پی 154 لاہور ، پی پی 171 ننکانہ صاحب ، پی پی 219 خانیوال ، پی پی 229 پاکپتن ، پی پی 243 ڈی جی خان ، پی پی 258 مظفر گڑھ ، پی پی 277 بہاول نگر ، پی پی 295 رحیم یار خان ، پی ایس 30 خیر پور ، پی ایس 44 مٹیاری حیدر آباد ، پی ایس 62 تھرپارکر ، پی ایف 20 چارسدہ ، پی ایف 45 ایبٹ آباد ، پی ایف 59 بٹگرام ، پی ایف 75 لکی مروت ، پی ایف 81 سوات ‘پی ایف 91 اپر دیر ، پی ایف 92 اپر دیر ، پی بی 9 پشین ، پی بی 32 جھل مگسی ، پی بی 44 لسبیلہ شامل ہیں ۔ پولنگ کی تاریخ میں پندرہ روز کی توسیع کی گئی ہے ۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز کا دورہ ، وزیر اعظم کو ایٹمی اثاثوں کے بارے میں بریفنگ
اسلام آباد۔ سٹریجک پلاننگ ڈویژن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے ملک کے ایٹمی اثاثے ایک موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملکی اور قومی دفاع کو یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے ۔ جمعرات کو سٹریجک پلاننگ ڈویژن کی جانب سے ان کے سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم کو پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام اور سٹریجک دفاعی صلاحیت کے بارے میں بریفننگ دی گئی ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے پہلے دور ے پر جمعرات کو راولپنڈی میں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز پہنچے ۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر وزیراعظم کا خیر مقدم کیا ۔ اور مسلح افواج کے ایک چاک و چوبند دستے نے وزیر اعظم کو سلامی پیش کی ۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے ساتھ ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ وارانہ امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم کو جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر ز میںسٹریجک پلاننگ ڈویژن کی جانب سے ملک کے ایٹمی اثاثوں اور سٹریٹجک دفاعی پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے عزم کیا ہے کہ پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیت میں مزید اضافے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے دفاعی صلاحیت کے بارے میں موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کم از کم دفاعی صلاحیت کے اصول پر قائم ہے ۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں میں پاکستان مثبت کردار ادا کرتا رہے گا انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں ۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ مسلح افواج ملک کا اثاثہ ہیں اور دفاع کے لئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے ۔ بریفنگ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ‘ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار ‘ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ‘ وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان ‘ قومی سلامتی کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر محمود علی درانی ‘ چیئرمین چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید بھی موجود تھے ۔
BSF hands over Pakistani boys to Pak Rangers

LAHORE: Indian Border Security Force (BSF) Thursday released the detained Pakistani boys, Azhar Ali and Zohaib and handed them over to Pakistan rangers. The boys are being taken to Hyderabad Rangers.The boys were declared innocent after investigation conducted by the concerned Indian authorities. Consequently the authorities decided to release the boys.It may be mentioned here that Azhar Ali, 17 and Zohaib, 10 had, by mistake, crossed the India-Pakistan border and arrested by Indian security forces a few days back.
Japan court says Iraq dispatch unconstitutional
TOKYO - Japan’s dispatch of air force troops to Iraq breaches the country’s pacifist constitution, a court said on Thursday, but the government said the court’s comments will not affect the current dispatch.
Japan has about 210 air force personnel in Kuwait, from where they airlift supplies to the U.S.-led forces in Baghdad and other regions of Iraq.
More than 1,100 people, including a former Japanese ambassador to Lebanon, had brought a suit demanding that the dispatch be suspended and seeking damages of around $100 per person, a spokesman for the Nagoya High Court said.
The court dismissed the case itself, saying it could not rule on the suspension of the dispatch and that the plantiffs did not suffer psychological damage, the spokesman said.
But it appended a comment saying that the dispatch violated Article Nine of Japan’s 1947 constitution, which renounces war and forbids the use of force to settle international disputes, as well as a special law that enabled the country to send troops to Iraq while limiting their activities to non-combat regions, he added.
“We will consult with the related ministries as to whether legal measures such as an appeal are necessary, but this will not influence the current activities of the air force in any way,” Chief Cabinet Secretary Nobutaka Machimura said.
The defence ministry said it could not comment on the case until it checks the ruling.
Japan withdrew some 600 ground troops from the southern Iraqi city of Samawa in 2006 after a non-combat mission lasting more than two years.
The troop dispatch was a symbol of Tokyo’s willingness to put “boots on the ground” for close ally the United States in the riskiest mission for its troops since World War Two.
But it was opposed by many at home for stretching the limits of the constitution.
Japan has about 210 air force personnel in Kuwait, from where they airlift supplies to the U.S.-led forces in Baghdad and other regions of Iraq.
More than 1,100 people, including a former Japanese ambassador to Lebanon, had brought a suit demanding that the dispatch be suspended and seeking damages of around $100 per person, a spokesman for the Nagoya High Court said.
The court dismissed the case itself, saying it could not rule on the suspension of the dispatch and that the plantiffs did not suffer psychological damage, the spokesman said.
But it appended a comment saying that the dispatch violated Article Nine of Japan’s 1947 constitution, which renounces war and forbids the use of force to settle international disputes, as well as a special law that enabled the country to send troops to Iraq while limiting their activities to non-combat regions, he added.
“We will consult with the related ministries as to whether legal measures such as an appeal are necessary, but this will not influence the current activities of the air force in any way,” Chief Cabinet Secretary Nobutaka Machimura said.
The defence ministry said it could not comment on the case until it checks the ruling.
Japan withdrew some 600 ground troops from the southern Iraqi city of Samawa in 2006 after a non-combat mission lasting more than two years.
The troop dispatch was a symbol of Tokyo’s willingness to put “boots on the ground” for close ally the United States in the riskiest mission for its troops since World War Two.
But it was opposed by many at home for stretching the limits of the constitution.
US could drop N.Korea sanctions before verification
WASHINGTON - U.S. Secretary of State Condoleezza Rice said on Thursday that verifying any North Korean nuclear declaration would take time and suggested Washington may drop some sanctions on Pyongyang before this is complete.
Separately, a senior U.S. official said an American team would visit North Korea next week to discuss how to verify the "complete and correct" accounting of its nuclear programs that Pyongyang was due to deliver by Dec. 31.
North Korea's failure to produce the declaration has bogged down a 2005 multilateral deal under which the poor, communist state committed to abandon all nuclear weapons and programs in exchange for diplomatic and economic incentives.
The declaration has been held up partly because of Pyongyang's reluctance to discuss any transfer of nuclear technology to other countries, notably Syria, as well as to account for its suspected pursuit of uranium enrichment.
Uranium enrichment could provide North Korea with a second way to produce fissile material for nuclear weapons in addition to its plutonium-based program, which it used to test an atomic device in October 2006.
Under the second-phase of the six-party deal, once North Korea has produced its nuclear declaration, the United States is expected to relieve it of sanctions under the U.S. state sponsors of terrorism list and Trading With the Enemy Act.
In the third phase, North Korea is expected to dismantle its nuclear facilities at Yongbyon and to abandon all nuclear weapons in exchange for further economic and diplomatic benefits.
"Verification takes some time because these are complex programs, this is a nontransparent society, there is a history here of surprises and so it will take some time -- even past the second phase -- for verification to completely play out," Rice told reporters at a news conference.
"Just because we ... believe obligations may have been met in the second phase, if there is evidence as we are into the third phase that something was not true ... there is always the ability and the absolute intention to react," she added.
The agreement to denuclearize the Korean Peninsula was reached among the two Koreas, China, Japan, Russia and the United States.
Separately, a senior U.S. official said an American team would visit North Korea next week to discuss how to verify the "complete and correct" accounting of its nuclear programs that Pyongyang was due to deliver by Dec. 31.
North Korea's failure to produce the declaration has bogged down a 2005 multilateral deal under which the poor, communist state committed to abandon all nuclear weapons and programs in exchange for diplomatic and economic incentives.
The declaration has been held up partly because of Pyongyang's reluctance to discuss any transfer of nuclear technology to other countries, notably Syria, as well as to account for its suspected pursuit of uranium enrichment.
Uranium enrichment could provide North Korea with a second way to produce fissile material for nuclear weapons in addition to its plutonium-based program, which it used to test an atomic device in October 2006.
Under the second-phase of the six-party deal, once North Korea has produced its nuclear declaration, the United States is expected to relieve it of sanctions under the U.S. state sponsors of terrorism list and Trading With the Enemy Act.
In the third phase, North Korea is expected to dismantle its nuclear facilities at Yongbyon and to abandon all nuclear weapons in exchange for further economic and diplomatic benefits.
"Verification takes some time because these are complex programs, this is a nontransparent society, there is a history here of surprises and so it will take some time -- even past the second phase -- for verification to completely play out," Rice told reporters at a news conference.
"Just because we ... believe obligations may have been met in the second phase, if there is evidence as we are into the third phase that something was not true ... there is always the ability and the absolute intention to react," she added.
The agreement to denuclearize the Korean Peninsula was reached among the two Koreas, China, Japan, Russia and the United States.
Danish journalist union sues anti-Islam groups
Copenhagen - The Danish Union of Journalists said Thursday it wanted damages from two Danish anti-Islam groups that used a newspaper cartoonist's work without his permission.
Acting on behalf of newspaper cartoonist Kurt Westergaard, the union said it wanted 200,000 kroner (42.000 dollars) in damages for the illegal use of the cartoon that depicted the prophet Mohammed with a bomb in his turban.
It was published on websites and placards in connection with a protest in March, despite a court order.
The cartoon also figured in a controversial anti-Islam film made by Dutch opposition legislator Geert Wilders, who later removed it after being contacted by the Danish Union of Journalists and its Dutch counterpart.
Westergaard's cartoon was one of 12 published in newspapers that sparked violent protests in 2006 by Muslims worldwide and triggered a boycott of Danish goods.
Leading Danish newspapers reprinted the cartoons in February after Danish security police said they had averted an alleged plot to murder Westergaard.
Acting on behalf of newspaper cartoonist Kurt Westergaard, the union said it wanted 200,000 kroner (42.000 dollars) in damages for the illegal use of the cartoon that depicted the prophet Mohammed with a bomb in his turban.
It was published on websites and placards in connection with a protest in March, despite a court order.
The cartoon also figured in a controversial anti-Islam film made by Dutch opposition legislator Geert Wilders, who later removed it after being contacted by the Danish Union of Journalists and its Dutch counterpart.
Westergaard's cartoon was one of 12 published in newspapers that sparked violent protests in 2006 by Muslims worldwide and triggered a boycott of Danish goods.
Leading Danish newspapers reprinted the cartoons in February after Danish security police said they had averted an alleged plot to murder Westergaard.
Dutch embassy in Pakistan relocated
ISLAMABAD - The Netherlands has moved its embassy in the Pakistani capital Islamabad to a hotel due to security worries following the release of an anti-Koran film by a Dutch politician.
“We didn’t feel safe anymore in that building for the time being, so we decided to shift temporarily,” an embassy spokeswoman told Reuters on Thursday. The embassy was previously housed in a building in a residential neighbourhood in Islamabad.
Titled “fitna”, an Arabic term sometimes translated as ”strife”, the controversial film by anti-immigration lawmaker Geert Wilders accuses the Koran of inciting violence.
The film has drawn strong condemnation and protests from Islamic countries, including Pakistan. An al Qaeda-linked Web site last month called for Wilders’ death and an increase in attacks on Dutch soldiers in Afghanistan
“Obviously, our country has been on a higher profile because of this film and that’s why we are on alert for any sort of information coming in regarding our security situation,” the spokeswoman said.
Pakistan, a predominantly Muslim nation of 160 million people, has denounced the film as an attempt to propagate the politics of hate and xenophobia.
Hardline Islamic groups have held protests against the film as well as the reprinting of a cartoon of Islam’s Prophet Mohammad in Danish newspapers in February.
However, the reaction was more restrained compared with the violence in 2006 over the printing in Europe of the cartoons lampooning Prophet Mohammad, when more than 50 people, including five in Pakistan, were killed in riots in Asia, the Middle East and Africa.
Pakistan’s National Assembly, parliament’s lower house, on Tuesday passed a resolution denouncing the Dutch Koran film and the reprinting of the cartoons in Danish newspapers.
In February, Pakistani authorities ordered Internet service providers to block the popular YouTube Web site after several films purporting to be Wilder’s 15-minute movie appeared on it.
The ban was later lifted after YouTube removed the content deemed insulting to Islam.
“We didn’t feel safe anymore in that building for the time being, so we decided to shift temporarily,” an embassy spokeswoman told Reuters on Thursday. The embassy was previously housed in a building in a residential neighbourhood in Islamabad.
Titled “fitna”, an Arabic term sometimes translated as ”strife”, the controversial film by anti-immigration lawmaker Geert Wilders accuses the Koran of inciting violence.
The film has drawn strong condemnation and protests from Islamic countries, including Pakistan. An al Qaeda-linked Web site last month called for Wilders’ death and an increase in attacks on Dutch soldiers in Afghanistan
“Obviously, our country has been on a higher profile because of this film and that’s why we are on alert for any sort of information coming in regarding our security situation,” the spokeswoman said.
Pakistan, a predominantly Muslim nation of 160 million people, has denounced the film as an attempt to propagate the politics of hate and xenophobia.
Hardline Islamic groups have held protests against the film as well as the reprinting of a cartoon of Islam’s Prophet Mohammad in Danish newspapers in February.
However, the reaction was more restrained compared with the violence in 2006 over the printing in Europe of the cartoons lampooning Prophet Mohammad, when more than 50 people, including five in Pakistan, were killed in riots in Asia, the Middle East and Africa.
Pakistan’s National Assembly, parliament’s lower house, on Tuesday passed a resolution denouncing the Dutch Koran film and the reprinting of the cartoons in Danish newspapers.
In February, Pakistani authorities ordered Internet service providers to block the popular YouTube Web site after several films purporting to be Wilder’s 15-minute movie appeared on it.
The ban was later lifted after YouTube removed the content deemed insulting to Islam.
17 dead in Afghan suicide blast: governor
KABUL - Seventeen people were killed and 25 injured in a suicide bomb attack Thursday in front of a mosque in southwest Afghanistan, a provincial governor said.
"There was a suicide bombing in front of the city's mosque and at this time we know that at least 17 people have been killed," said Ghulam Dastgir Azad, governor of Nimroz province.
"Initial investigations indicate that there might have been more than one bomber."
Two police were among the dead in the evening attack in the city of Zaranj, the provincial capital, while the others were civilians, the governor said.
Thirteen militants were killed elsewhere in Afghanistan, which is witnessing a surge in violence, on Thursday.
Taliban rebels are waging an insurgency to bring down the US-backed government of President Hamid Karzai and oust tens of thousands of foreign troops deployed in the country.
"There was a suicide bombing in front of the city's mosque and at this time we know that at least 17 people have been killed," said Ghulam Dastgir Azad, governor of Nimroz province.
"Initial investigations indicate that there might have been more than one bomber."
Two police were among the dead in the evening attack in the city of Zaranj, the provincial capital, while the others were civilians, the governor said.
Thirteen militants were killed elsewhere in Afghanistan, which is witnessing a surge in violence, on Thursday.
Taliban rebels are waging an insurgency to bring down the US-backed government of President Hamid Karzai and oust tens of thousands of foreign troops deployed in the country.
Pakistan believes in maintaining minimum credible deterrence: PM

ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani reiterating his government’s commitment to the country’s strategic programme said on Thursday that Pakistan believed in maintaining Minimum Credible Deterrence as a cornerstone of its national security policy. “Pakistan’s security will always remain his government’s highest priority”, he said after attending a detailed briefing on various dimensions of Pakistan’s nuclear programme at the Strategic Plans Division, the Secretariat of National Command Authority in Rawalpindi today.
The Prime Minister, however, added that as a responsible, declared and acknowledged nuclear power, Pakistan would continue to play a positive role in the international efforts aimed at non-proliferation.
He expressed satisfaction over the effectiveness of Command and Control Structures of Pakistan’s nuclear capability and said that the structures, which have now matured, were well conceived and elaborate.
“It has been ensured that while our nuclear assets are safe and secure, the force development as per needs of Pakistan’s Minimum deterrence is progressing well”, the Prime Minister added.
The briefing was also attended by Minister for Defence, Chaudhary Ahmad Mukhtar, Minister for Foreign Affairs, Makhdoom Shah Mahmood Qureshi, Minister for Finance, Revenue, Economic Affairs and Statistics, Mohammad Ishaq Dar, Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman, National Security Adviser, Mahmud Ali Durrani and Chairman Joint Chiefs of Staff Committee, General Tariq Majeed.
Earlier, on arrival at the Joint Staff Headquarters, the Prime Minister was received by the Chairman Joint Chiefs of Staff Committee.
A smartly turned out Armed Forces Contingent presented guard of honour to the Prime Minister.
The Prime Minister met the CJCSC for some time and discussed matters pertaining to the Armed Forces.
Gilani vows to strengthen democracy, institutions

ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Thursday vowed to strengthen democracy and institutions in the country by taking along the opposition and thanked them for giving him the vote of confidence. “People have great hope in this parliament and if this parliament again fails to deliver, they will be greatly disappointed,” he said in a speech in the National Assembly.
“That is why we talk of supremacy of parliament. We want institutions to strengthen. We want opposition to strengthen and for this objective we are ready to cooperate with the opposition.”
Prime Minister Gilani said he was grateful to the opposition for supporting the coalition government’s resolution calling for UN probe into Benazir Bhutto’s assassination.
“We want reconciliation and take the house along. When Peoples Party and Pakistan Muslim League can work together then why not the whole house,” he added.
He assured that his government will not victimize any political worker and said he will personally look into such cases.
Referring to provincial matters which were raised by some members, the Prime Minister told the house that in such cases the provincial governments should first be contacted to collect the required information.
The federal government, he added, does not immediately have the relevant information about the provincial matters and asked the advisor to interior ministry to immediately gather details and take remedial measures.
Earlier, Faisal Saleh Hayat from PML (Q) said a new tradition was set by the opposition when they gave vote of confidence to the Prime Minister and added, they gave a “fresh political perspective”.
He called for forgetting the past acrimonies and start a new era for the people of Pakistan where all the initiatives be implemented across the board without the discrimination of treasury or opposition benches.
Gilani visits JS Headquarters

RAWALPINDI : Prime Minister Yousuf Raza Gilani visited the Joint Services Headquarters here Thursday, where he was briefed about defence matters. Chairman Joint Chiefs of Staff Committee General Tariq Majeed received the Prime Minister, who was presented guard of honour by a contingent of armed forces.
General Tariq Majeed gave briefing to Prime Minister Gilani on matters relating to defence and security. Ministers for defence, finance, information and foreign affairs were also present on the occasion.
Govt to consider banning book hurting Christians’ feelings

ISLAMABAD : The government on Thursday said it will consider banning controversial book Da Vinchi Code, which was centre of controversy among the Christians over a year ago and is available in the market in Pakistan. “We will consider this (banning the book) as in the name of freedom of expression, the feelings of followers of any religion should not be hurt,” Information Minister Sherry Rehman said in the National Assembly.
Christian member of PML (Q) Akram Masih Gill on a point of order told the house that the book, earlier banned by his government, was once again available in the market.
Similarly, he added, an English movie channel HBO on cable will screen the movie on Friday night, which should also be jammed by the government.
“The film is not based on facts and has insulted Jesus Christ,” Gill said.
The Information Minister said although her government does not believe in banning channels, but it will look into the matter.
No possibility to accredit any foreign official to Pakistan’s command authority: Shah

ISLAMABAD : Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi Thursday categorically denied to give any representation to any foreign official in the National Command Authority and added that there will be no compromise on Pakistan’s nuclear programme of nation interest. Talking to newsmen at Foreign Office at the weekly briefing along with spokesman Muhammad Sadiq, the Foreign Office said, the National Command Authority (NCA) composed of the President, Prime Minister, Foreign Minister, Defence Minister and others but there is no possibility to accredit any foreign official.
The Foreign Minister said, “There is no possibility to give any accreditation to any foreigner to NCA either through any “hot or cold line” as it is the matter of our national interest and there will be no compromise on it.”
The Minister further said, “There is no question of allowing access to any outsider to Strategic Plans Division (SPD) for any other purpose.”
Fehmida urges World Parliaments to work for peace, prosperity
ISLAMABAD : Fehmida Mirza, Speaker National Assembly has urged the world Parliaments to come forward and work in close cooperation for promoting peace and prosperity, eliminate poverty and gender discrimination and explosion from the world. She said this in her address to the 118th Assembly of the Inter Parliamentary Union in Cape Town, South Africa today.
The Speaker said the Parliaments have important role to ensure equality and human dignity at national and international level. She said that we must encourage and facilitate ratification of International conventions on human rights, promote gender mainstreaming and ensure protection of minorities and disadvantage groups. She said that globalization offers great opportunities but its benefits are unevenly shared. She said that this injustice must be addressed and the benefits shared evenly for the benefit of development and good governance for promoting worldwide economic and social development.
She said that the world today was concerned and vulnerable to the threat of terrorism targeting innocent civilians. She said that we need to put up a united front and defeat the evil designs of terrorists. We also need a legal definition of terrorism, distinguishing between the legitimate freedom movements and terrorism. she said. Dr. Fehmida Mirza underlined the need for evolving a comprehensive strategy, to address the root causes of this terrorism was needed including redressal of political and economic injustices against nation and people in many parts of the world. She said that we should put an end to defamation of Islam and Muslim, work for enlightenment, moderation and alliance of civilizations. She said that the IPU and UN must be strengthened to achieve these goals. She said that was need to reform the Un to get better results and peaceful resolution of disputes in conformity with the principles of justice and international law.
She said that the lofty goals of peace and prosperity can be attained only if we have the political will to work tougher with spirit of mutual coexistence.
Referring to the recent election in Pakistan, Dr. Fehmida Mirza said that the people of Pakistan suffered a lot for the democracy. She said that the denial of democracy bred extremism and terrorism, leading to the assassination of Mohtarma Benazir Bhutto. She said that democracy today was firmly established in Pakistan that needed to be guarded against intrigues. She said that Pakistan needed support of the international community to strengthen democracy, to alleviate poverty and finish extremism from Pakistan.
She said that the recent election in Pakistan has demonstrated that Pakistani society is moderate and this fact was reflected by voting for moderates. She said that women’s representation in public affairs was central to the functioning and strengthening of democracy and also crucial to the struggle against oppression. She urged the IPU Parliament to ensure women empowerment and gender equality in their respective countries.
Govt not to victimize any political worker: Rehman Malik
ISLAMABAD : Advisor to the Interior Ministry Rehman Malik on Thursday assured the National Assembly that the government will not allow victimization of political workers. Speaking on a number of points of order, Malik said he will contact the provincial governments to get the relevant information and then inform the house.
“In collaboration with the provincial governments, a joint investigating team will be formed and take action on all FIRs registered to victimize political workers,” he said.
The PPP, he added, has been the most victimized party of Pakistan whose top leaders including Shaheed Benazir Bhutto and Asif Zardari have remained incarcerated.
“There will be no victimization of any political party or its workers as we believe in taking along everybody,” he added.
Abdul Qadir Patel from PPP drew attention to the killing of some ten political workers in Karachi.
He said all of them, including four of his polling agents, were kidnapped, tortured and after brutal killing their bodies were dumped in front of their homes.
“All those found involved will be caught and brought to justice,” Malik said.
Sardar Bahadur Khan Sehar pointed out the kidnapping and gang-rape of a class four girl in his area and said after the passage of one week, the perpetrators of this heinous crime have not been arrested nor a DNA test carried out on the body.
Rehman Malik expressed his regret over the gruesome incident and assured the family of the victim that “they will see a positive result within two weeks.”
EC extends bye-polls date till June 18
ISLAMABAD : Election Commission of Pakistan Thursday announced to extend the date of bye-election due to ongoing sessions of National and Provincial assemblies and insufficient time for political parties for the run of elections.
Secretary Election Commission, Kanwar Muhammad Dilshad said, “it was difficult for the political parties to pay proper attention to the issue of awarding tickets to respective candidates and run their campaigns.”
“Therefore, in order to facilitate political parties and the candidates for attaining the tickets of parties of their choice, the schedule for the election is being revised,” he said.
Giving the fresh schedule for the polls, he said, the nomination papers would be filed between April 15 to May 6, scrutiny of nomination papers would take place from May 7 to May 13, 2008 and last date for filing of appeals on acceptance and rejection of the nomination papers would be May 17.
Last date for deciding the appeals by the tribunals has been set for May 24, last date for withdrawal of candidature would be May 26, final list would be issued on May 26 and the polling will be held on June 18, 2008.
The National Assembly constituencies of polling include NA-11 Mardan, NA-52 Rawalpindi, NA-55 Rawalpindi, NA-119 Lahore, NA-123 Lahore, NA-131 Sheikhupura, NA-147 Okara and NA-207 Larkana.
Moreover, the constituencies of polling form the Punjab Assembly provincial assembly include PP-10 Rawalpindi, PP-48 Bhakkar, PP-59 Faisalabad, PP-70 Faisalabad, PP-99 Gujranwala, PP-107 Hafizabad, PP-118 Mandi Bahauddin, PP-124 Sialkot, PP-141 Lahore, PP-154 Lahore, PP-171 Nankana Sahib, PP-219 Khanewal, PP-229 Pakpattan, PP-243 D G Khan, PP-258 Muzaffargarh, PP-277 Bahawalnagar and PP-295 Rahimyar Khan.
In Sindh, the constituencies of polling include PS-30 Khairpur, PS-44 Mattiari-cum-Hyderabad and PS-62 and in NWFP Assembly the constituencies are PF-20 Charsadda, PF-45 Abbottabad, PF-59 Battagram, PF-75 Lakki Marwat, PF-81 Swat, PF-91 Upper Dir-I and PF-92 Upper Dir-II.
From Balochistan province, the constituencies are PB-9 Pishin, PB-32 Jhal Magsi and PB-44 Lasbela.
گجرات کی خبریں ۔۔۔۔۔ عامر بیگ مرزا، مرزا یوسف ایسوسی ایٹڈ پریس سروس

قائد کمپیوٹر کالج اینڈ الاویس ایجو کیشنل اکیڈمی جی ٹی ایس چوک گجرات میں ٹی بی اینٹی پاکستان ایسو سی ایشن لاہور جس کا ریجن آفس محلہ خالد آباد میں موجود ہے کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مہمان خصوصی پروفیسر طاہر اشفاق اور پروفےسر طاہر وڑائچ تھے اس موقع پر پرنسپل شاہد محمود ، اظہر شبیر قاری بابر کے علاوہ طلباءو طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی افتخار احمد DMHS نے ٹی بی کے متعلق خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی بی کی پہلی سٹیج میں مریض کو آٹھ ماہ تک لگاتا ر فری دوائی دی جاتی ہے اگر مریض ایک دن کی بھی دوائی نہیں لیتا تو اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ اس نے اپنا علاج دوبارہ سے شروع کروانا ہے ٹی بی اینٹی پاکستان ایسو سی ایشن لاہور کا آغاز1954میں ہوا 1956 فاطمہ جناح نے اس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس وقت 55 ہزار روپے عطیہ دیا تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے اس دن سے لیکر آج تک ہماری تنظیم کا کام فری علاج ، فری میڈیسن دلوانا ہے ویسے تو عزیز بھٹی ہسپتال میں بھی فری چیک اپ ہوتا ہے آپ لوگوں کو اس بیماری کے متعلق بتانے کا یہ فائدہ ہے کہ اگر آپ کہیں بھی کسی کو کھانستے ہوئے لگاتار دیکھتے ہیں اوراس کو فوری طور پر عزیز بھٹی ہسپتال میں لائیں اور اس کا چیک اپ کروائیں اس بیماری کے جراثیم بڑی جلدی دوسروں میں منتقل ہو جاتے ہیں اس سے بچائو کی اختیاطی تدابیر یہ ہےں کہ جس کو ٹی بی ہو اس کو اپنے منہ پر ماسک چڑھا کر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ اس کے جراثیم دوسروںکو منتقل نہ ہو جائےں یہ ایسے جراثیم ہوتے ہیں کہ جن کو اگر تیزاب میں ڈالا جائے تو یہ ختم نہیں ہوتے کسی کو اگر یہ بیماری ہو تو اسے ججھک محسوس نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس ک فوری علاج کرانا چاہیے تاکہ یہ مرض بڑھ نہ سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(عامربےگ مرزا) سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل گجرات ملک ضیاءالدین نے ملاقاتی عامر سہیل کو گجرات جیل میں چرس سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چیکنگ کے دوران 50 گرام چرس کے ہمراہ گرفتار کرلیا جو اس نے انڈر وئیر میں چھپا رکھی تھی تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سہیل احمد ولد غلام شبیر قوم جٹ سکنہ نت گجرات جو اپنے حقیقی بھائی سزائے موت کا قیدی غلام سرور ولد غلام شبیر عرف کالا نت کی ملاقات کرنے کیلئے آیا مذکورہ شخص کی تلاشی پر مامور ایس جی وارڈن نمر 2733 نے زیر نگرانی انچارج اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ محمد یار نے تلاشی لی تو اس کے انڈر وئیر سے پچاس گرام چرس برآمد ہوئی ملک ضیاءالدین جو موقع پرموجود تھے نے فورا ایکشن لیتے ہوئے سہیل عامر ولد غلام شبیر کے خلاف جیل کے اندر چرس سمگل کرنے کی کوشش کا پرچہ درج کرکے تھانہ سول لائن کے حوالہ کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات( مرزا یوسف) افتخار احمد
MCA کے والدمحترم عبد الرشید راجپوت محلہ خالد آباد گلی نمبر 2گذشتہ روز وفات پا گئے ان کی نماز جنازہ دارہ گلاب شاہ قبرستان میں ادا کی گئی جس میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی جس میں ناظم حاجی منظور ڈار ، حاجی محمد سردار ، اصغر بٹ ، کونسلر وقار بٹ ، علامہ خواجہ شکیل احمد اویسی ، پروفےسر طاہر اشفاق اویسی ، میاں اختر علی اویسی آستانہ عالیہ اسلامیہ کے علاوہ کثیر تعددا موجود تھی ختم قل بروز ہفتہ صبح نو بجے جامع مسجد فاروقیہ محلہ خالد آباد میں پڑھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(مرزا یوسف) یونین کونسل صبور کے گائوں بنیاں میں کیبل بچھانے کا مطالبہ گائوں کی مذہبی شخصیات کے اتحاد کی بدولت حل ہو گیا متفقہ فیصلہ ہوا ہے کہ کیبل کسی قیمت پر بچھانے کی اجازت نہ دی جائے معززین علاقہ نے ڈاکٹر طارق سلیم ، حاجی مشتاق احمد چوہدری اصغر علی ، ماسٹر محمدیونس، محمد فاضل نمبردار، قاری اسرار احمد عباسی ، حافط محمد اسلم میلاد کمیٹی جماعت اہل سنت جماعت اسلامی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا یاد رہے کہ چند سال قبل بھی ایک کوشش ہوئی جس پر معززین گائوںنے ڈاکٹر طارق سلیم کی رہائش گاہ پرمتفقہ فیصلہ کیا تھا جس کے نتےیجے میں کیبل نہ بچھا ئی جا سکی دوسری بار میلاد کمیٹی نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ایک بار پھر گائوں کے متفقہ اتحاد نے اس سازش کو ناکام بنا دیا دریں اثناءمذہبی جماعتوں نے رولیہ بزر گوال میںکیبل پر فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والی فلموں کو روکنے کیلئے حکام بالا سے اپیل کی ہے تاکہ علاقہ میں کشیدگی اور بد امنی کو پھیلنے سے روکا جا سکے انھوںنے کہا کہ نوجوانوں کے اخلاق بگاڑنے کی ہر سازش ناکام بنا نا ہمارا مذہبی اخلاقی فریضہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(عامربےگ مرزا )تھانہ بی ڈویژن کے ایس ایچ او ریاض کدھر نے ڈی پی او نجیب اکرم مان کی ہدایت کے مطابق اپنے علاقہ سے جرائم کے خاتمے کا تہیہ کررکھا ہے انھوںنے اپنی ٹیم جس میں یعقوب اےس آئی نے رشید ولد شریف محلہ غازی کھوکھر سے 12بور بندوق اور گلنواز اے ایس آئی نے علی رضا ولد نذیر احمد محلہ احمدآباد سے ایک بوتل شراب اور قمر ضیاءاے ایس آئی نے 45گرام چرس سبیل ولد محمد نذیر محلہ سلطانہ آباد سے برآمد کرکے پرچہ درج کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(عامربےگ مرزا)تھانہ سول لائن کے انچارج ناصر بٹ نے جرائم کے خاتمہ کیلئے اپنے تھانہ کے افسران اور کانسٹیبلان کو ہدایت دے رکھی ہے کہ ڈی پی او نجیب اکرم مان کے حکم کے مطابق منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ کی روک تھام کو عملی جامہ پہنائےں گے گذشتہ روز ریاض ایس آئی نے ملک سکندر ولد اورنگزیب سکنہ شادمان سے 30بور پسٹل سب انسپکٹر صفدر نے صدف ولدطارق محمود آف ناروالی سے 60گرام چرس محمد ریاض سب انسپکٹر نے افتخار ولد اللہ دتہ آف بزرگوال سے 25گرام چرس برآمد کرلی ایس ایچ او نے کہا کہ علاقہ میں اسلحہ کی نمائش اور منشیات فروشوں کاگھیرہ تنگ کررکھا ہے علاقہ میں جرائم کی روک تھام کیلئے میں اور میری ٹیم دن رات کوشاں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(عامربےگ مرزا) تھانہ صدر کھاریاں نے ڈی پی او گجرات نجیب اکرم مان کی ہدایت کے مطابق فاروق ولدنذیر کٹھیالہ شیخاں سے 8MM رائفل ،حضر ولدمحمد حسین سکنہ میانہ گوندل سے12بور بندوق ، اشرف ولد سردار خان ہانڈوال سے 222بور رائفل نصر اقبال ولد احمد سکنہ کٹھیالہ شیخاں سے 44بور رائفل برآمد کرکے پرچہ درج کر لیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات(عامربےگ مرزا)پٹرو لنگ پو لےس کے شےر جوانوں کا رشوت نہ دےنے پر نوجوان پر وحشےانہ تشد دپولےس تھانہ کنجا ہ کا مقدمہ درج کر نے سے انکار تفصےل کے مطابق پٹرولنگ پو لےس چوکی ساروکی کے چھ شےر جوانوں غلام عباس سکنہ ساروکی کو گھر جاتے ہوئے موٹر سائےکل کو روک لےا اور کاغذات چےک کر نے کے بعد 500سو روپے رشوت کا مطالبہ کےا غلام عباس کے انکار پر اس کو مارنا شروع کر دےا مارنے کے بعد چوکی لےے گئے وہاں جا کر پولےس کے شےر جوانوں نے وحشےانہ تشدد کا نشانہ بناےا اور 4000ہزار روپے نقدی و موبائل چھےن لےاحالت غےر ہونے پر سٹرک کنارے پھےنک دےا بعدازاں تشد د کا نشانہ بننے والا نوجوان جب تھانہ کنجا ہ پہنچا تو محرر نواز کو درخواست دی تو اس نے کہاکہ ہم ان کے خلاف اےکشن نہےں لےے سکتے کےوں کے وہ ہمارے بھائی ہےں جس پر غلام عباس نے علاقہ مجسٹرےٹ ضیاءطارق کو درخواست دی جس پر اےکشن لےتے ہوئے علاقہ مجسٹرےٹ نے اےم اےس عزےز بھٹی شہےد طاہر عباس گوند ل کو ہداےت کی ہے غلام عباس کا مےڈےکل کےا جائے اور ڈی پی او گجرات کو مقدمہ درج کر نے کی بھی ہداےت کر دی ہے ۔ اس خبر کی تصاوےر مےل کر دی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گجرات (عامربےگ مرزا) بیگم شاہانہ فاروقی صدر شعبہ خواتین مسلم لیگ پنجاب ، خدیجہ فاروقی ایم پی اے اور رابعہ فاروقی نے صفیہ جاوید چوہدری کو پاکستان مسلم لیگ ضلع گجرات شعبہ خواتین کا صدر نامزد ہونے پر مبارکباد دی ہے انھوںنے کہاکہ صفیہ جاوید چوہدری جو سابق ایم پی اے ہیں نے بے پناہ کام کیے اور ان کا حق بنتا تھا انشاءاللہ ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ان کو شعبہ خواتین کا صدر بنایا گیا ہمارا بھر پور تعاون ان کے ستھ رہے گا ہم انشاءاللہ ایک ٹیم کی صورت میں کام کریں گے اور چوہدری برادران کی مضبوطی کیلئے مل کر اہم کردار ادا کریں گے مجھے امید ہے کہ صفیہ جاوید چوہدری بھی پہلے کی متحرک رہیں گی اور پارٹی کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریںگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Beijing Olympic Torch Relay leaves for India
ISLAMABAD : The Beijing Olympic Torch Relay left for India here Wednesday night after a spectacular show at the Indoor Liaquat Gymnasium.
Pakistan’s Olympic Chief Lt. Gen. ® Syed Arif Hasan and Chinese Ambassador to Pakistan Yau Hui saw off the members of the Olympic Torch Relay at PAF Base Chaklala for New Delhi, the next stop on its worldwide tour.
The relay will trek a total distance of 137000 kms on its worldwide tour of 22 cities of 19 countries of the world.
Besides Islamabad the Olympic Torch so far has visited Almaty, Istanbul St. Petersburg, Moscow, London, Paris, Sans Francisco, Dares us salam and Muscat.
CDA board approves opening of Sector H-17 276 slum-dwellers to be given plots in G-8
IslamabadThe Capital Development Authority (CDA) on Wednesday approved a plan to open Sector H-17 reserved for private educational institutions. The CDA board approved the summary of Urban Planning Directorate to allow establishment of large private educational institutions in the new sector spread over an area of 817 acres. Private parties would purchase land for schools on their own from current owners of land in Sector H-17, while the civic body would receive development charges for basic facilities like water supply, sewerage system and roads.The layout and building plans and scrutiny of plans would be approved by the CDA on receiving plans from managements of educational institutions, including schools, colleges and universities. The minimum area of each plot would be 100 kanals.The board meeting chaired by CDA Chairman Kamran Lashari approved another summary of the Urban Planning Directorate for allotment of another 276 three-marla plots in the ‘katchi abadi’ of Sector G-8/1. The project was a part of upgradation of slums where mainly sanitary workers have been residing for quite some time.The CDA plans to allot another 150 plots to the dwellers of ‘katchi abadi’ of Sector G-8/1 later.The board members also decided to allow a private party to set up a facility for visa-seekers along 3rd Avenue near Diplomatic Enclave on build-operate and transfer (BoT) basis. The work on the project was, however, started prior to approval by the CDA board.
آٹا،بجلی، مہنگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرچودھری احسن پریمی

ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے پاکستان میں 18 فروری2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ میں ان انتخابات کو مسابقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے، سرکاری میڈیاجانبدار رہااور سابق حکمران جماعت اور نگران انتظامیہ کو کوریج دی گئی، سابق حکمران جماعت ق لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا تاہم انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی قبولیت حاصل رہی۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور چیف انتخابی مبصر مائیکل گیلر نے بدھ کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کی حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فروری 2008ء کے انتخابات مسابقتی تھے اور عوام و سیاسی جماعتوں نے نتائج کو قبول کیاتاہم پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچے اور صورتحال میں مستقل مسائل موجود ہیں، اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ پاکستانی حکام، سیاسی جماعتوں اور شہری معاشرے پر زور دیا کہ وہ سرعت سے انتخابی اصلاحات سرانجام دیں اور وہ ایک سال بعد دوبارہ پاکستان آکر حالات میں پیش رفت کا مشاہدہ اور اپنی رپورٹ یورپی پارلیمنٹ کو پیش کرینگے۔ مائیکل گیلر نے مزید کہاکہ انتخابات میں زیادہ اہم کردار ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے ادا کیا اور اس عمل کی گہری جانچ پڑتال کی تاہم مجموعی ڈھانچے اور حالات کے تحت منعقدہ انتخابات میں سنگین مسائل درپیش رہے اور انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں سابق حکمران جماعتوں کے حق میں تعصب کے باعث یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور کارکردگی پر اعتماد میں کمی نظر آئی، انتخابی مہم مدھم اور سست روی کا شکار رہی اور انتخابات سلامتی کے مخدوش حالات میں ہوئے جبکہ انتخابی اجتماعات پر حملوں کے دوران 100 سے زائد سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، جن میں ایسے ہی ایک المناک واقعہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شکایات اور اپیلوں کے طریقہ کار پر اعتماد کی کمی ہے ۔مائیکل گیلر نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان میں انتخابی عمل میں اصلاحات کیلئے ہرممکن مدد دینے کو تیارہے کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کے ڈھانچے اور حالات میں اصلاح کیلئے 82 سفارشات دی گئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے،انتخابی قانون سازی کا مشاورتی اندازسے جائزہ لیاجائے، مخصوص حل طلب معاملات میں انتخابی انتظامیہ کی خود مختاری اور شفافیت، شکایات اور اپیلوں کے ضوابط اور امیدوار کی شرائط پر حد سے زیادہ پابندیاں شامل ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر متعلقہ افراد کی مشاورت سے مشروط ہو اور اس میں ان کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے جبکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہئے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ خودمختار تقرری کے حامل ججوں کو عدالتوں اور ٹربیونلز کے پاس آنیوالی انتخابی اپیلوں کو بروقت نمٹانا چاہئے، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کئے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہئے۔ یورپی یونین انتخابی مبصر مشن نے انتخابی مشاہدہ کاری کے عرصے کے دوران پاکستانی عوام کے تعاون، اعانت اور پذیرائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نئی حکومت کو ورثے میں ملی ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیائ الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ قوم امن پسند ہے ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔
Abuse of Afghan prisoners at US facility
WASHINGTON - Military interrogators assaulted Afghan detainees in 2003, using investigation methods they learned during self-defense training, according to Pentagon documents released on Wednesday.
Detainees at the Gardez Detention Facility in southeastern Afghanistan reported being made to kneel outside in wet clothing and being kicked and punched in the kidneys, nose and knees if they moved, the documents show.
A 2006 Army review of the case concluded that the detainees were not abused but that the incident revealed misconduct that warrants further action.”
The documents, which were turned over Wednesday evening to the American Civponsive to shifting global prices.
The company had not been able to take full advantage of soaring dairy prices over the past season because it usually signs supply contracts with key customers up to a year in advance.
World dairy prices began rising dramatically at the end of last year, but Fonterra had already committed a lot of product to deals signed at lower prices.
Ferrier said he expects initially that some 20 percent of Fonterra’s New Zealand milk products will be sold through the new Web site, GlobalDairyTrade.
The system will be run by an independent trading manager and Fonterra said it will eventually allow its supply partners and possibly even competitors to participate.
This is likely to lead to enhanced price transparency,” Ferrier said.
GlobalDairyTrade represents a significant shift away from some of the contracting practices that we have traditionally used,” he said.
The global dairy market, once disrupted by massive stockpiles like Europe’s butter mountain,” is evolving because of rapid changes in supply and demand, as well as in global stock levels.
Online trading would help Fonterra and its customers manage their exposure to changing prices, and key sales results from the web site will be made public.
Over time, a global benchmark will emerge, and farmers and customers will be able to see trends clearly through the season,” Ferrier said.
Fonterra controls more than one-third of international dairy product trade.
Detainees at the Gardez Detention Facility in southeastern Afghanistan reported being made to kneel outside in wet clothing and being kicked and punched in the kidneys, nose and knees if they moved, the documents show.
A 2006 Army review of the case concluded that the detainees were not abused but that the incident revealed misconduct that warrants further action.”
The documents, which were turned over Wednesday evening to the American Civponsive to shifting global prices.
The company had not been able to take full advantage of soaring dairy prices over the past season because it usually signs supply contracts with key customers up to a year in advance.
World dairy prices began rising dramatically at the end of last year, but Fonterra had already committed a lot of product to deals signed at lower prices.
Ferrier said he expects initially that some 20 percent of Fonterra’s New Zealand milk products will be sold through the new Web site, GlobalDairyTrade.
The system will be run by an independent trading manager and Fonterra said it will eventually allow its supply partners and possibly even competitors to participate.
This is likely to lead to enhanced price transparency,” Ferrier said.
GlobalDairyTrade represents a significant shift away from some of the contracting practices that we have traditionally used,” he said.
The global dairy market, once disrupted by massive stockpiles like Europe’s butter mountain,” is evolving because of rapid changes in supply and demand, as well as in global stock levels.
Online trading would help Fonterra and its customers manage their exposure to changing prices, and key sales results from the web site will be made public.
Over time, a global benchmark will emerge, and farmers and customers will be able to see trends clearly through the season,” Ferrier said.
Fonterra controls more than one-third of international dairy product trade.
Mehreen wants date with Musharraf

NEW DELHI: Pakistani national in Miss World competition, Mehreen Wednesday said she is desirous of date with President Pervez Musharraf.According to Indian TV report, the beauty queen from Pakistan is quite fond of Pervez Musharraf. The Indian media showed her saying that if she finds a date with Pervez Musharraf, she would choose Australia for the purpose.Mehreen holds Musharraf extremely handsome and good-looking, saying, ‘Pervez Musharraf looks charming and very awesome in his military uniform.’‘He is in power and everybody loves the powerful,’ Mehreen said adding she never met President Musharraf.
20 dead in Khyber Agency clashes
PESHAWAR: At least 20 people were killed and dozens others injured in the clashes between two belligerent factions here on Wednesday night in Khyber Agency.The gunbattle has come to a halt in the wee hours of Thursday morning.According to sources, the two rival groups entered into exchanging the firing in Khyber Agency area of Jamrood late in Wednesday night. The both sides used light to heavy arms against one another, killing 20 men and injuring several others.A mass exodus from the area is being witnessed, as the people are frightened. After the ceasefire, the injured were transported to the hospital; however, the whole area still wears tense looks.
No political meeting, rally without prior permission

ASSOCIATED PRESS SERVICE
ISLAMABAD: Federal Interior Ministry has directed all the four provinces not to allow any political meeting without prior permission.According to the sources, this has been decided for improving the law and order situation. Now, the prior permission will be necessary for holding political meetings and rallies.This has also been said that venues should be decided for meetings at district and tehsil level and allow such meetings by establishing people’s corners within three months in all the four provinces.
مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب

اولپمک مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی گئی
چین کی جانب محو سفر اولمپک مشعل کو بدھ کو پاکستان میں ایک رنگا رنگ تقریب میں روشن کیا گیا۔ سخت حفاظتی انتظامات میں ہونے والی محدود سی یہ تقریب پُر امن رہی اور کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم بعض حاضرین نے مشعل کو صرف ایک سٹیڈیم کے اندر محدود کر دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
صدر مملکت جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد کےجناح سپورٹس کمپلیکس میں ہونے والی مشعل برداری کی اس رنگا رنگ تقریب کا آغاز فوجی بینڈ کے مظاہرے سے ہوا۔
تقریب کے لیے سجائے گئے خصوصی سٹیج کے سامنے دو اونچے اونچے پنڈالوں پر موجود حاضرین نے، جن میں ایک بہت بڑی تعداد سکول کے بچوں کی تھی، مشعل کی آمد کے اعلان پر صدارتی گارڈز کے خصوصی گُھڑ سوار دستے پر اولmپک مشعل کے شعلے کو لانے والی خصوصی لالٹین کا پرجوش استقبال کیا۔
اس شعلے کو سٹیج پر لایا گیا جہاں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ر) عارف حسن نے استقبالیہ کلمات کہے جس کے بعد صدر اور وزیراعظم کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ سٹیج پر اس حفاظتی لالٹین سے اولمپک مشعل کو روشن کیا گیا۔
سمیع اللہ کے بعد یہ مشعل پاکستان کے پینسٹھ مایہ ناز سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کے ہاتھوں ہوتی ہوئی سکواش کے سابق چیمپئین جہانگیر خان کے پاس پہنچی جہنوں نے لیاقت جمنیزیئم میں موجود بڑی مشعل کو روشن کیا
صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر یہ مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی۔ سمیع اللہ کے بعد یہ مشعل پاکستان کے پینسٹھ مایہ ناز سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کے ہاتھوں ہوتی ہوئی سکواش کے سابق چیمپئین جہانگیر خان کے پاس پہنچی جہنوں نے لیاقت جمنیزیئم میں موجود بڑی مشعل کو روشن کیا۔
تقریب کے میزبان لیفٹنٹ جنرل عارف حسن نے تقریب کے بارے میں بتایا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ اسے ان انیس ممالک میں منتخب کیا گیا جہاں اس مشعل نے چین پہنچنے سے پہلے جانا ہے۔
حفاظتی لالٹین کے ذریعے اولمپک مشعل کا یہ شعلہ جہاز کے ذریعے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا۔حفاظتی نکتہ نظر سے ان تقریبات کو اصل پروگرام کے مقابلے میں بہت مختصر کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق ، اولمپکس مشعل برداروں کو تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے، استقبالیہ تقریب کے لیے سپورٹس سٹیڈیم پہنچنا تھا ۔ تاہم سیکورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔
صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر یہ مشعل پاکستان کے ہاکی لیجنڈ اور سابق کپتان سمیع اللہ کے حوالے کی۔
عارف حسن نے بتایا کہ انتظامی کمیٹی نے اس مشعل کے لیے تین مختلف روٹس تجویز کیے تھے لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر مختصر ترین روٹ کو منتخب کیا گیا۔
سکول کے بچوں کی ایک بڑی تعداد اس تقریب کو دیکھنے کے لیے موجود تھی۔ساتویں جماعت کی طالبہ نازش کا کہنا تھا کہ اولمپک مشعل کو دیکھنا انکی زندگی کا ایک حسین تجربہ ہے۔
تاہم بہت سے طلباء نے شکوہ کیا کہ انکے بہت سے ساتھی اس تقریب کو دیکھنے نہیں آسکے اور اگر یہ مشعل شہر کے بیچوں بیچ گزرتی تو یہ نادر موقع سب کے لئے یادگار لمحہ بن سکتا تھا۔
نویں جماعت کے طالب علم زبیر نے بتایا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث حکومت کا فیصلہ ٹھیک ہے کہ اسے محدود کر دیا گیا ہے لیکن اگر یہ شہر سے گزاری جاتی تو زیادہ مزا آتا۔
خود پاکستانی سابق اولمپئین سمیع اللہ کا بھی کہنا تھا کہ اولمپک مشعل لے کر شہر کے بیچوں بیچ گزرنے کا اپنا مزا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مشعل شہر سے گزرتی تو گلی محلے کے لوگ بھی اس سے محظوظ ہوتے جیسا کہ دیگر کئی ملکوں میں ہوا۔ لیکن حکومت کی بھی چند مجبوریاں ہیں جن کی وجہ یورپ کے بعض ممالک میں مشعل جانے کے موقع پر ہونے والے واقعات ہیں۔
بعد میں پاکستان میں چین کے سفیر نے اولمپک ٹارچ کے ماڈل بطور سووینئر صدر اور وزیراعظم کو پیش کئے۔ موسیقی کے پروگرام کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
اب جو بھی ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ،اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو گا ، یوسف رضا گیلانی

ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں پر امن لوگ ہیں ، عوام بھی پر امن رہیں ، لاہور اور رائے ونڈ میں بات چیت
معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بات چیت
لاہور ۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آج بدھ کے روز لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس کے بعد اور رائے ونڈ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔رائے ونڈ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔عوام اپنے اندر اتحاد پیدا کریں عوام پر امن رہیں ۔ہم پر امن عوام کے ذریعے اس ملک میں حالات بہتر کریں گے ۔یقیناً ملک میں امن ہو گا تو معاشی ترقی بھی ہو گی اس لیے ہم پورے ملک کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی ہمیں ورثے میں ملی ہے ۔کراچی میں آپریشن کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم ڈرانے دھمکانے والی سیاست میں ملوث نہیں ہیں ہم پرامن لوگ ہیں ہم پر امن طور پر مسائل حل کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر میاں نواز شریف بھی موجود تھے تاہم انہوں نے اخبار نویسوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ قبل ازیں لاہور میں ایس سی سی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سارک کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہاہے ۔ سارک ممالک پر امن اور ترقی پسند ہونا چاہیے۔ ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔ 21 ویں صدی چیلنجز سے بھرپور ہے ہمیں اپنی طاقت اور کمزوری کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی وضع کرنا ہو گی ۔انہوں نے کہاکہ سارک ممالک نے آزادانہ تجارت کامعاہدہ کر رکھا ہے ۔ ہم تمام ممالک سارک کے مقاصد پورے کرنے کے لیے کمٹڈ ہیں ۔پاکستان نے سارک کی بزنس کمیونٹی کو قیادت فراہم کی ہے یہ ایک چیلنج بھی ہے مجھے یقین ہے اس چیلنج سے عہدہ براء ہوں گے ۔ہم لمبے راستے پر چل رہے ہیں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کے روز لاہور میں دو بچوں کے ساتھ ریل کے سامنے چھلانگ لگانے والی خاتون کے ہاں بھی گئے انہوں نے مذکورہ خاتون کی بچیوں کی شادی ، مالی امداد اور رہائشی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہوتا ترقی کیسے ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان ججز کی بحالی پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججز اعلان مری کے مطابق بحال ہوں گے ۔
Bipasha Basu to endorse US-based perfume brand

New Delhi:Bollywood actress Bipasha Basu will endorse US-based perfume brand Alcome Perfumes and Cosmetics who are venturing into Indian market.
"By having Bipasha as its brand face, our company looks forward for a better money making opportunity in India," Sanjeev Nayyar, vice president, Alcome Perfumes & Cosmetics, said in a press statement.The company has stepped into the Indian market keeping in view the rising markets of cosmetics and toiletries here. "Our brand will be stepping into Indian markets through retail chains. It plans to set up alliances with chains like Big Bazaar, Spencers etc," he added.The company has anticipated to draw a benefit of about Rs.1.5 billion in the first year and is expects to soar up to Rs.5 billion within the next five years.Apart from India, the company is marketing its products in 68 countries of the world including the US, Australia, along with more than 38 countries in Europe, North America, Middle East and Far East.
Subscribe to:
Posts (Atom)


















