International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, May 28, 2008

افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کے حالات خراب ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف طارق مجید

اسلام آباد ۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حالات اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ پاکستان میں عسکریت پسندی کے بنیادی عوامل ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات اور شدت پسندی پاکستان کیلئے سنجیدہ چیلنجز ہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد وار کورس کے شرکاء سے خطاب کیا ۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کورس اور الائیڈ فورسز وار کورس کا اہتمام کیاگیا تھا ۔ چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خطرات اور شدت پسندی پاکستان کیلئے سنجیدہ چیلنجز ہیں اور پاکستان کی افواج کی دفاعی حکمت عملی میں دونوں عوامل سب سے بڑے خطرے کے طور پر لئے جاتے ہیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ گزشتہ تیس سال سے افغانستان کے خراب حالات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی میں اضافہ ہوگیاہے۔

مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے ہم خوشحال ، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔سعودی سفیر کا خطاب

اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے مثالی برادرانہ تعلقات ہیں پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے سعودی عرب کا کردار قابل تعریف ہے ہم سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں جبکہ سعودی عرب کے سفیر العواد العسیری نے کہاہے کہ مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے۔ تعاون اور تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارتخانے کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کیا ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سعودی سفارتخانے کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تقریب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد وسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی مرداری ، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ قاضی حسین احمد ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ،قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر وفاقی وزراء اور اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی ہیں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں سعودی عرب کا نیا سفارتی کمپیلکس دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات میں فروغ ، مزید پیشرفت میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا وزیراعظم نے کہاکہ پاک سعودی عرب دو طرفہ تجات اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہونا چاہیے پاکستان کی نئی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح اقتصادی ترقی ، سیاسی استحکام اور امن وامان کا قیام ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں وزیراعظم نے کہاکہ وقت کے ساتھ دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کو فروغ حاصل ہو رہاہے۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ پاکستان سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی طاقت سمجھتا ہے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی سلامتی اور استحکام میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اور مختلف عالمی اور علاقائی امور کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان یکساں موقف پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مسلم اُمہ کو درپیش چیلنج کا مکمل ادراک ہے او رہم ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری میں دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے دورے کے منتظر ہیں پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر علی عواد العسیری نے کہاکہ ہر سعودی باشندہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہے پاکستان کا استحکام پوری امُہ کا استحکام ہے اورہم خوشحال ، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا او رکہاکہ سعودی عرب پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے کوشاں ہے مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے ہم پاکستان میں استحکام چاہتے ہیں ۔

چیف جسٹس افتخا رمحمد چو ہد ری کی بحالی کے خلاف یا صدر پرویز مشرف کی حمایت کے لیے کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ایڈم شف



اسلام آباد۔ پا کستا ن کے دو رے پر آئے ہو ئے امر یکی ارکان کا نگر یس کے وفد کے سر براہ ایڈم شف نے واضح کیا ہے کہ امر یکی کا نگر یس کے ارکا ن چیف جسٹس افتخا رمحمد چو ہد ری کی بحالی کے خلاف یا صدر پرویز مشرف کی حمایت کے لیے کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔ منتخب سیاسی جماعتوں کو مسائل جلد حل کر لینے چاہئیں۔ موجودہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہو نی چا ہیے کہ پا رلیما نی نظا م ختم نہ ہو سکے امریکی کا نگریس کے وفد کے سر بر اہ ایڈ م شف نے صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر سیاسی رہنما ؤں سے ملا قات کے بعد منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہو ریت کا استحکا م چاہتے ہیں۔ایڈ م شف نے کہا کہ وہ پا کستان کے جمہو ری ادارو ں کی مضبو طی کے لئے پا کستان کی پا رلیمنٹ کے ساتھ مل کر کا م کر نا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مو جودہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہو نی چا ہئے کہ پا رلیما نی نظا م ختم نہ ہو سکے۔انہو ں نے واضح کیا کہ ارکا ن کا نگر یس کے دورے کا مقصد چیف جسٹس کی بحالی پر کسی قسم کی لابی کر نا نہیں ہے۔انہو ں نے کہا کہ اس طر ح کے مسائل دو منتخب سیا سی جما عتوں کو جلد حل کر لینے چاہئیں ۔انہو ں نے کہاکہ وہ پاکستان کے عدالتی بحران پر کو ئی پو زیشن نہیں رکھتے ۔ایک سو ال پر ایڈ م شف نے کہا کہ ہم صدر پر ویز مشر ف کی حمایت کے لئے بھی کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔

حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان آئینی پیکج پر ڈیڈ لاک برقرار


ججوں کی بحالی کو کسی آئینی پیکج سے منسلک نہ کیاجائے اور نہ ہی کسی ایسے آئینی پیکج کی حمایت کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن)میاں برادران کو ضمنی انتخابات سے باہر رکھنے کی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں ، حکمران اتحادقائم رہے گا،زرداری میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ایک بارپھر بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ ۔ ۔ ذرائع

اسلام آباد ۔ حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان آئینی پیکج کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں ڈیڈ لاک اُسی طرح برقرار ہے اور (ن) لیگ نے واضح کر دیا ہے کہ ججوں کی بحالی کو کسی آئینی پیکج سے منسلک نہ کیاجائے اور نہ ہی کسی ایسے آئینی پیکج کی حمایت کی جائے گی جس سے دو نومبر کی پوزیشن پر ججوں کی بحالی کے ایشو کو نقصان پہنچے ۔تاہم دونوں بڑی جماعتوں نے ایوان صدر کو پیغام دیا ہے کہ حکمران اتحاد متحد ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں ہونے والی ملاقات ایک بارپھر بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی۔ ملاقات میں (ن ) لیگ کی طرف سے میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، اسحاق ڈار ، چوہدری نثار علی خان ، جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے آصف علی زرداری ، آفتاب شعبان میرانی ، فرزانہ راجہ اور نیئر حسین بخاری شریک تھے اس ملاقات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہے کہ دو نومبر کے ججوں کی بحالی کو آئینی پیکج کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے اور تمام معزول ججوں کو اعلان مری کے مطابق ہی بحال کیا جائے جبکہ آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو آئینی پیچیدگیوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا ۔ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے کہاکہ صدر مشرف کا فوری طور پر مواخذہ کیا جائے اور سازشوں کے گڑھ ایوان صدر کو جلد از جلد خالی کروایا جائے اس پر آصف علی زرداری نے کہاکہ حالات ایسے پیدا کر دئیے جائیں کہ صدر مشرف خود ہی مستعفی ہونے پر مجبور ہو جائیں تاہم آصف علی زرداری نے صدر مشرف کے مواخذے کے بارے میں کوئی نفی میں جواب نہیں دیا ۔ ذرائع کے مطابق تاہم دونوں جماعتوں نے مختلف ایشوز پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس میں حکمران اتحاد کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ۔ ملاقات میں مذاکرات کے علاوہ ممکنہ آئینی پیکج کے حوالے سے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کا اجلاس بلانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف او رمیاں شہباز شریف کو انتخابات سے باہر رکھنے کی سازشوں کی ایک دفعہ پھر مذمت کی اور کہاکہ حکمران اتحاد کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کو یقین دہانی کرائی کہ تمام امور اتفاق رائے سے حل کر لئے جائیںگے ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ججوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ آئینی پیکج پہلے آئے گا یا قرار داد پہلے آئے گی اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بدستور قائم ہیں تاہم آصف علی زرداری کی طرف سے آئینی پیکج پہلے اسمبلی میں لانے پر زوردیاگیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) قرار داد پہلے اسمبلی میں لانے کے حق میں ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آئینی پیکج بعد میں اسمبلی میں پیش کیا جائے ۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ۔ سید یوسف رضا گیلانی


پاکستان امریکہ سے سٹریٹیجک تعلقات کو بہت اہمیت دیتاہےوزیراعظم کی امریکی کانگرس ارکان اور سینیٹرز کے وفود سے ملاقاتوں میں گفتگو

اسلام آباد۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ہے اور امریکہ کوپاکستان میں معاشی استحکام اور عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی حمایت کرے آج وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹرز وار اراکین کانگریس کے وفود نے ان سے ملاقات کی ۔ وفود میںسینیٹر بین نلسن ‘ ایڈم سیکف ‘ ایلیسن سکارز اور وائن گیلج شامل تھے۔ ا س موقع پر پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن بھی موجود تھیں ۔ وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان امریکہ سے اپنے سٹریٹجک تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور تجارت ‘ سرمایہ کاری ‘ معیشت اور سوشل سیکٹر میں مزید مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی تک رسائی کی سہولیات فراہم کرے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جو انسانیت ‘معیشت اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔ اس لیے عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں مین ان عناصر سے بات چیت کی جائے گی جو لڑائی ختم کرکے ہتھیار پھینک دیں گے اور معاشی ترقی اوردہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے حالیہ انتخابات میں ماڈریٹ اور جمہوری قوتوں کو واضح مینڈیٹ دیا ہے ا ورجمہوری قوتوں نے مرکز اور صوبوں میں اتحادی حکومتیں تشکیل دی ہیں جس سے ملکی ادارے اور جمہوریت مضبوط ہوگی ۔ امریکی سینیٹرز اور اراکین کانگرس کے وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مستحکم اورکثیر الجہتی تعلقات کا خواہاں ہے ۔ وفود کے ممبران نے وزیراعظم کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں خصوصا معیشت ‘تجارت ‘ دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں ۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ امریکی اراکین پارلیمنٹ پاکستان کی جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

آڈیو ٹیپ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد الیکشن ٹریبونل کے ججز کاسماعت سے انکار

لاہور ۔ ضمنی انتخابات کے سلسلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52اور پی پی 10سے میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے والے الیکشن اپیلٹ ٹریبونل کے ججزجسٹس طارق شمیم اور جسٹس نجم الزماں نے سماعت سے معذرت کرلی ہے ۔اپلیٹ ٹریبونل کے ججز نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے حاضر ہوکر کہا کہ وہ گزشتہ روز آڈیو ٹیپ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سماعت نہیں کرسکتے ۔ اسلئے نیا ٹریبونل بنایا جائے ۔

صدر مشرف نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ‘ مصطفیٰ کھر

لاہور ۔ پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور اگر وہ اقتدار میں رہے تو صورت حال مزید خراب ہو گی ۔ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد سب ہی آمریت کا خاتمہ تھے اور اس مقصد کے لئے سب سیاسی جماعتوں نے جدوجہد بھی کی ۔ وکلاء اور عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت کے وجود میں آنے کے بعد بھی حالات دن بدن ناسازگار ہو رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں یہ حالات مزید خراب نہ ہو جائیں اور حالات بے قابو نہ ہو جائیں ۔ غلام مصطفیٰ کھر نے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ حکمران حالات خراب کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ ٹوکری نوٹوں سے سبزی ک ٹوکری نہیں آ سکے گی ۔ جو آج حقیقت ثابت ہو گئی ہے انہوں نے کہ اکہ صدر پرویز مشرف کے بارے برتن توڑنے کے قابل رہ جائیں گے اور آج یہ بھی ثابت ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ایک زمانے میں بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا ۔ ملک اور پاکستانی اداروں کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور پاکستان کے وقار کو شدید مجروح کیا اور اگر وہ اب بھی مستند اقتدار پر براجمان رہے تو مزید بیڑہ غرق کریں گے ۔
۔۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔۔
٭۔ ۔ ۔ ماضی میں کسی بھی حکومت کو کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کرنے کی جرات نہیں ہوئی، راجہ پرویز اشرف کا طبی معائنہ کروایا جائے کیونکہ وہ ذہنی طور پر بیمار محسوس ہوتے ہیں

٭۔ ۔ ۔ اٹک سے صادق آباد تک ہرشہری کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاہتا ہے حکمرانوں نے اسے ختم کرنا ہے تو پہلے اسمبلیاں تحلیل کر کے عوام سے اس مسئلہ پر دوبارہ مینڈیٹ لیں ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر نیوکلیئر پاکستان اور مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ ہے
٭۔ ۔ ۔ حقیقی عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا ، محترمہ کو مشورہ دیا تھا کہ مشرف سے ڈیل کر کے نہ آئیں ورنہ نہ وہ بچیں گی نہ پاکستان رہے گا، پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ رکاوٹ ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مجھے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ غلام مصطفےٰ کھر
سابق گورنر پنجاب غلام مصطفےٰ کھر نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر نیو کلیئر پاکستان اور مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ اہم ہے اس کی تعمیر سے دست برداری خود کشی کے مترادف ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ملک غلام مصطفے کھر نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے پیپلز پارٹی کو اس لئے ووٹ نہیں دیئے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ ختم کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز مشرف کو چیلنج کرتا ہوں کہ اٹک سے صادق آباد تک کسی شخص سے بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق رائے لے لیں جو اب اثبات میں ہی ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر اس منصوبہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اسمبلیاں تحلیل کریں اور عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لے کر آئیں ۔ راجہ پرویز اشرف کا شائد ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ان کا بھی معائنہ کروایا جانا چاہیئے ۔ کیونکہ ماضی میں کسی بھی حکمران کو اس منصوبے کو ختم کرنے کی جرات نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی انتہائی ضروری ہے کیوں کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری بحال ہو گئے تو آئندہ پانچ سال تک کوئی جرنیل جمہوریت پر شب خون مارنے کی جرات نہیں کر سکے گا ۔ ججز بحال نہ ہوئے تو حکمران آگے بھاگیں گے اور عوام ان کے پیچھے ہوں گے۔ ملک غلام مصطفےٰ کھر نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاہتی تھیں اس مقصد کیلئے انہوں نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلی کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اعتماد نہیں لے لیا تھا ۔ پیپلز پارٹی میں اپنے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو میرغ راستے کی رکاوٹ نہ تھیں اور نہ ہی آصف علی زرداری رکاوٹ ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ موجود ہیں جو مجھے دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ اگر میں فنکشنل ہو جاؤں تو پارٹی کے اندر میرے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری اس وقت صرف ججوں کی وجہ سے ہی ملک میںہیں ۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کردار اب صرف برتن توڑنے کا رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 8 سال کی آمریت میں بھی مشرف سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کونہیں روک سکے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی سیاسی کارکنوں کو اقتدار میں شریک کرلیا جائے تو جمہوریت اور حکومت زیادہ مضبوط ہو گی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے ملک غلام مصطفےٰ کھر نے کہا کہ محترمہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مشرف سے ڈیل کر کے پاکستان نہ آئیں ورنہ وہ رہیں گی نہ پاکستان بچے گا ۔

کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ١٩٩٠ء سے زیادہ بڑی قوت سے تحریک آزادی اُٹھے گی، قاضی حسین احمد ، کشمیری رہنما یاسین ملک

اسلام آباد ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 1990ء سے زیادہ بڑی قوت سے تحریک آزادی اُٹھے گی ۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس تحریک کے ساتھ ہو گا۔جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ پاکستان کے عوام امریکی غلامی سے آزادی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بھارت نے آج بھی مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کیا بھارت عدل و انصاف کے اصول اختیار کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سے ملاقات کے بعد ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قاضی حسین احمد اور یاسین ملک کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہاکہ قاضی حسین احمد سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے حوالے سے جاری جدوجہد اور چار سالوںسے جاری بے نتیجہ پاک بھارت مذاکرات اور اس ضمن میں کشمیریوں میں پائی جانے والی مایوسی کے بارے میں بات چیت ہوئی انہوں نے کہاکہ ہمارا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے یہی بات دہلی میں کہی تھی کہ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ بات چیت کے ذریعے معاملہ کو آگے بڑھانا چاہیے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے ملک میں مل کر مسئلے کاحل ڈھونڈنا ہو گا۔مذاکرات میں مسئلے کا حل نظر نہ آنے پر چاروں اطراف مایوسی پھیل رہی ہے دونوں حکومتوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو مقبوضہ کشمیر میں بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا حقیقی پیشرفت کے بعد کشمیر پاکستان اوربھارت میں امن قائم نہیں ہو سکتا جنوبی ایشیاء میں قیام امن کیلئے مسئلے کا جلد از جلد حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس موقع پر قاضی حسین احمد نے کہاکہ کشمیر ہمارے دل کی دھڑکن ہے سارے کشمیری ہمارے ہیں اور کشمیر ہمارے بدن کا حصہ ہے انہو ںنے کہاکہ یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے 114دنوں کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا یہی اپروچ آزادی کا حقیقی پیغام عوام تک پہنچانے کا اصل ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے انہیں پاکستان کے عوام اور اپنے جذبہ آزادی پر بھروسہ ہے جذبہ آزادی شوق شہادت اور جذبہ جہاد کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے تمام عوام اور جہاد میں شامل تمام فریقوں کو اس ایک نکتہ پر متفق ہونا چاہے کہ جب تک بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا ترک نہیں کرتا اور اسے متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا مذاکرات کی میزسجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بھارت اگر کشمیر کو متنازعہ علاقہ ہی تسلیم نہیں کرتا تو پھر مذاکرات کی میز پر کیا بات چیت ہوتی ہے مذاکرات کی بنیادی بات ہی یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وزارت خارجہ کے لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم مذاکرات کیلئے بڑی تیاری کے ساتھ بیٹھے ہیں مگر مذاکرات کی میز پر بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور آزادکشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے انہوں نے کہاکہ اس طرح کے مذاکرات تو غیر سنجیدہ عمل ہے مزاحمت اور جدوجہد ہماری طرف نہیں بلکہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقہ میں ہو رہی ہے آزادکشمیر کے عوام کو ان کے ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں ۔ ریاست کے لوگوں کو حق خودارادیت ملنی چاہیے اقوام متحدہ کی قرار داد میں کشمیریو ںکے اس حق کو تسلیم نہیں کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ کشمیری کبھی نہیں تھکیں گے ساٹھ سالوں سے ان کے جذبہ آزادی میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 1990ء سے زیادہ قوت کے ساتھ تحریک آزادی اُٹھے گی پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہو گا انہوں نے کہاکہ بھارت عدل و انصاف کے ذریعے مسئلے کے حل کی سوچ اختیار کرے اس میں بھارت کا فائدہ ہے ۔ جنوبی ایشیاء کے یہ دونوں ممالک اہم تجارتی خطہ اور انڈسٹریل علاقہ ہے ہم بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں دشمنی نہیں ۔ تاہم بھارت کو عدل وانصاف کے اصولوں پر آنا ہو گا پاک بھارت دوستی میں اصل رکاوٹ ہی مسئلہ کشمیر ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے سٹرٹیجک تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور وہ خطے میں بھارت کی بالادستی اور بھارت کی مرضی کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے امریکہ بھارتی مسائل کو اہمیت دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ علاقے میں بھارت نے پانی پر قبضہ کر رکھا ہے ڈیمز بنانے والے ہیں پانی کا رخ تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ پاکستان کو صحرا میں تبدیل کر دیا جائے انہوں نے کہاکہ امریکہ کے غلام حکمران اس صورتحال میں چپ سادھے ہوئے ہیں قوم کواٹھنا چاہیے امریکہ سے آزادی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عوام میدان میں آئیں گے ایک سوال کے جواب میں یاسین ملک نے کہاکہ کشمیری عوام مسئلے کے بنیادی فریق ہیں مگر پچاس سالوں سے جاری پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کیاگیا نہ کوئی بریک تھرو سامنے آیا ہے کشمیری قوم کو مایوسی کی جانب دھکیلا جارہا ہے اُن کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے تاہم جدوجہد کے حوالے سے ہر گز مایوسی پیدا نہیں ہوئی 114دنوں کے دن رات کے دوروں میں لاکھوں کشمیری اس میں شامل ہوئے صدر پرویزمشرف کے چار نکات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہاکہ تینوں فریق مذاکرات کی میز پر آئیں اور فیصلہ کریں کہ تینوں فریقوں کا جو موقف سامنے آئے اس کے مطابق مسئلے کا حل نکل سکتا ہے ۔

امریکا دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیاں کر رہا ہے ،انھیں بند کیا جائے۔ ۔ ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل

امریکا کے آئندہ صدر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی اور گوانتاناموبے جیل بند کرنے کریں
صدر بش کے دور میں دنیا بھرکو روارکھا گیا
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے امریکہ سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم’’ ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘نے امریکا کے آئندہ صدر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی اور گوانتاناموبے جیل بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نومبر2008 ء میں منتخب ہونے والے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ آنے والی امریکی حکومت کے لئے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی پر اخلاقی جواز دینا مشکل ہوگاجو صدر بش کے دور میں دنیا بھرکو روارکھا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ امریکا گوانتا ناموبے جیل میں تشدد اور انسانیت سوز مظالم بند کرے اور قیدیوں کوعام عدالتوں میں پیش یا پھر انہیں آزاد کرے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا جو بڑی طاقت ہے اسے ملک اور بیرون ملک انسانی حقوق کی بحالی کے لئے مفادات سے بالا تر ہوکر کام کرنا ہوگا۔

ناسا کے خلائی مشن نے مریخ سے پہلی بار تصویر زمین پر بھیجیں


نیویارک ۔ امریکہ کی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی مشن نے مریخ سے پہلی مرتبہ تصاویر زمین پر بھیجی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تصاویر کی مدد سے سرخ سیارے پر زندگی کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی ۔ فینکس پر نصب مشینی ہاتھ مریخ کی سطح سے مٹی اور برف کے نمونے حاصل کریں گے اور پانی کے ذخائر یا ان کے نشانات تلاش کریں گے۔ امپیریل کالج لندن کے ڈاکٹر ٹام پک کے مطابق یہ مشن پانی کی تلاش کے لیے مریخ کی سطح کے نیچے گہری کھدائی بھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے مریخ کے گرد گھومنے والے مصنوعی سیاروں کی مدد سے سرچ سیارے کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کی گئی تھیں اوراندازہ ہے کہ مریخ کی سطح کے نیچے کسی جگہ برف اور پانی موجود ہے ۔

Diplomatic Flash




AMAM BARI SARKAR BARI,ISLAMABAD




Zardari calls on Nawaz, seeks support on constitutional package







ISLAMABAD : PPP co-chairman Asif Ali Zardari Tuesday called on PML-N chief Mian Nawaz Sharif and sought his support for the proposed constitutional package to ensure supremacy of the parliament and strengthening of democracy, party sources said. The meeting between the two leaders at the Punjab House concluded without any formal announcement as Asif Zardari rushed back to his house to receive Turkish ambassador, who was scheduled to arrive there.
The party sources termed the meeting “good chemistry” and claimed that both sides agreed to adopt a middle way to resolve issues including restoration of the deposed judges.
Later, talking to the media, PML-N Secretary Information Ahsan Iqbal said that the PPP leader briefed Nawaz Sharif about the salient features of the 62-point constitutional package.
“We have just been briefed on the highlights, so the party cannot give its final opinion quickly. PML-N is yet to receive the copy of the draft, which is still under process with Law Minister Farooq H. Naek,” he said.
To a question the PML-N leader reiterated his party’s stand that the “Murree Declaration should be implemented in its true spirit.”
“Our party has demanded from its coalition partner to undo the November 3, 2007 steps. As far as the package is concerned PML-N would give unconditional support to the points derived from the Charter of Democracy (CoD) and non-controversial matters,” Ahsan Iqbal said.
He said, “our reservations regarding reinstatement of deposed judges are still there and need further discussion to end the discrepancy.”
According to press statement issued by a Zardari House spokesman, the meeting between the leadership of Peoples Party and Muslim League (N) concluded that the proposed constitutional package will be presented for the consideration of the parliament after developing consensus amongst coalition partners.
The meeting discussed important national political issues and complete harmony was found between the two sides on all issues, the statement said.
Zardari’s delegation at the meeting included senior party leaders Aftab Shaban Mirani, Syed Nayyar Husain Bokhari and Farzana Raja while the PML-N chief’s team included Shahbaz Sharif, Ishaq Dar, Chaudhry Nisar and Ahsan Iqbal.
The PPP co-chairman presented his point of view and explained the salient features of the proposed constitutional package to the PML (N) leadership.
The statement said Zardari asked Nawaz Sharif to support PPP so that the supremacy of the parliament and civilian institutions can be restored as was desired by the electorate of Pakistan through their votes in the election 2008.
Mian Nawaz Sharif assured the PPP delegation that PML (N) will respond to PPP after having a detailed review of the proposed constitutional package.
It was agreed in the meeting that minister for law and parliamentary affairs Farooq H. Naek will present the complete constitutional package to the legal experts of PML (N) while other coalition partners will also be taken into confidence before tabling it in the National Assembly, the statement said.
“Farooq H. Naek is likely to present that package to the PML (N) legal experts in the next couple of days,” it added.

PM lauds World Bank support for Pakistan’s economic reforms







ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Tuesday lauded the World Bank assistance for Pakistan’s socio-economic development and its support to help invest in infrastructure and social sectors, like health and education. Talking to a high-powered delegation of the World Bank headed by Vice President, Praful C. Patel, who called on him at the PM’s House, Gilani said Pakistan values its relationship with its development partners particularly the World Bank.
He appreciated role of the World Bank in country’s development, and said Pakistan has a growing economy and his government will do its utmost to improve the macro-economic profile to achieve an impressive growth rate and above all, better living conditions for the people of Pakistan.
The Prime Minister hoped the World Bank would continue its active cooperation with Pakistan and help it achieve the newly laid-down priorities of overcoming energy, water and food shortages through construction of new dams and other related projects.
The World Bank Vice President, who was on his farewell call, expressed the unequivocal support of the Bank to the Prime Minister and his government.
The meeting was informed that during the recent years the World Bank’s financial support to Pakistan has increased manifold and the Bank is committed to provide concessional financing.
Patel offered financial assistance to Pakistan from a food crises response fund created by the World Bank in the wake of ongoing world food crises.
He also offered financial and technical assistance for the upcoming budget, due to be annouced on June 7.
Prime Minister Gilani said the people have high hopes from the new democratic government which is fully committed to undertake policies focusing on reducing poverty, increasing per capita income, generating more jobs and improving the living standard of the people.
He told the delegation that the government will soon introduce prudent economic policies and will ensure their successful implementation. The formation of Economic Advisory council is a step in this direction, he added.
Patel briefed the Prime Minister about the development activities being undertaken by the bank along with improvements and priorities suggested by the mission.
He affirmed that the World Bank would continue to be a partner in the development of Pakistan and would provide necessary assistance in the key areas like water and power, infrastructure, education and other social sectors and poverty alleviation.
The World Bank official assured that the agreed programme would also be delivered well in time during the course of the current financial year.
He expressed the hope that the new democratic government under the able leadership of the Prime Minister, and through its efficient economic management would change the overall outlook of the economy.
The World Bank will provide all possible cooperation and assistance in meeting those objectives, he added.
Federal Minister for Finance, Naveed Qamar, Special Assistant to the Prime Minister on Economic Affairs, Ms. Hina Rabbani Khar and Secretary Finance also attended the meeting.

‘I like Musharraf’s support for democracy’: Gilani




ISLAMABAD : Prime Minister Yousaf Raza Gilani has said what he likes most in President Pervez Musharraf is his support for democracy and his straight-forwardness. “He [Musharraf] supports democracy. He is very frank, straight-forward,” the Prime Minister said in a candid interview with a private television channel Tuesday morning, when asked what he liked most about President Musharraf.
A tˆte-…-tˆte with Prime Minister Gilani gave an insight into his likes and dislikes, where he revealed soft corners of his personal life, be it the sensitive topics like commenting on prominent personalities, or talking about dress choice, eating patterns or favourite movie stars.
When asked about President Musharraf’s statement mentioned in his memoir ‘In the Line of Fire’ saying that to govern Pakistan is one of the most difficult jobs in THE world, the Prime Minister said, “Yes, I agree with it.”
Gilani said his government supported the policies of previous government if they coincided with Pakistan Peoples Party’s manifesto.
“Whenever President Musharraf pursued in accordance with our good points, we supported him. The issues like Women Protection Bill and women’s representation in assemblies, we stood by them,” the Prime Minister said.
However, Gilani said he brought changes in previous government’s policy In THE war against terror and focused on finding root cause of the issue rather than use of military force.
Gilani said he also believed that the March 9 step by President Musharraf against judiciary cast negative impact on his political goodwill.
The Prime Minister said the government would take as challenge to resolve the issues of electricity and flour crises, law and order situation and inflation, which it inherited from the previous government.
On upcoming budget, the Prime Minister said focus would be laid upon primary education, basic health facilities and increase in wages.
The Prime Minister said his government stood by its commitment to freedom of media and would bring amendments in this regard.
“We want freedom of media. We should not mind their point of view. We are in a position to defend ourselves.”
About lawyers’ movement for the restoration of judiciary, the Prime Minister said it was the movement of entire nation with a lot of contribution by PPP.
Describing himself as a “commoner”, Gilani said he felt pain for the poor facing hardships in their lives.
“I have lived all my life among the common people. When I see that poor have no basic facilities of life, I feel a sense of guilt,” he said.
Gilani said after assuming prime minister’s office, his routine had become tough with little time for personal life, long work hours and less sleep.
“Now, I hardly get four to five hours sleep. Sometimes I have to work like a robot,” he said, adding he felt strange when his family members and children also required an appointment to talk to him due to his busy schedule.
Known for his well-dressed appearance, the 55-year old Gilani said he believed in varied experiences of costumes and could comfortably carry all styles, be it Sherwani, Shalwar Qameez or Safari Suit.
However said he was more at ease in the national dress.
“I like black colour on me, and on anybody with fair
complexion,” he said.
Gilani said he was a health conscious person and extremely particular about his eating habits.
“I have been religiously following a fitness pattern in jail like jogging, exercise and maintaining garden, though I don’t find time for such activities now,” he said.
Commenting on the personality of PPP co-chairman Asif Ali Zardari, the Prime Minister said he was inspired by Zardari’s sense of humour, who used his wit to say difficult things easily in an amusing manner.
He said Zardari’s biggest strength were his party and Benazir Bhutto’s goodwill.
---- On controversial appointment of Dr Nasim Ashraf as Chairman Pakistan Cricket Board, the Prime Minister termed it a “prerogative of the government”, however said nobody was indispensable.
Asked how much expressive he was in sharing emotions, the Prime Minister said, “I am very discreet about such things and relatively miser in expressing sentiments.”
“If depressed, I just go to sleep and do not discuss the matter with anyone,” but said he believed in “forgetting and forgiving”.
He termed the assassination of PPP chairperson Benazir Bhutto as the most unforgettable incident of his life.
The Prime Minister said he felt uncomfortable when he could not accomplish the tasks as planned according to the agenda.
“I have always lived with the thought of running short of time, and everyday I consider as the last day of my life,” he said.
Gilani did not oppose screening of Indian movies in Pakistani cinemas. He said his favourite movie stars were Aishwarya Rai and Shahrukh Khan and he never missed any of Rai’s movie in jail days on his laptop.
He recalled it as a “pleasant surprise when he unwrapped a gift box received from Indian Foreign Minister recently, all filled with movie albums of Aishwarya Rai,” adding they might have picked up the clue from his book wherein he mentioned his favourite heroine.
Gilani said good music always acted as mood lifter for him, as he liked to listen to the songs of Rafi, Lata Mangeshkar and Nayyara Noor.
The Prime Minister said best mode of enjoyment for him was talking to close friends, and recalled his jail days when he use to stroll in rain along with others including Air Marshal Waqar Azeem, IB chief Brig Imtiaz, ministers and secretaries.
What if he was not a politician, Gilani said he would have been an architect.

PML (N) wants judges restoration as per Murree declaration: Nawaz




ISLAMABAD: PML (N) leader Mian Nawaz Sharif on Tuesday said his party wants the restoration of judges according to Murree Declaration. “It will be unfortunate if the judges are not restored as per the Murree Declaration”, he said in his brief chat with the newsmen here at the inauguration of Saudi embassy.
To a question about his meeting with PPP co-chairman Asif Zardari at Punjab House, Nawaz Sharif said they discussed “important national matters”.

Pakistan govt supporting China in quake relief efforts: Sherry







ISLAMABAD : Minister for Information and Broadcasting Sherry Rehman Tuesday said that the Pakistan government was supporting China in its efforts for provision of rescue and relief to its earthquake victims. She was talking to media persons on the occasion of seeing off a mobile surgical team comprising Pakistani doctors and paramedics.
Chairman National Disaster Management Authority Lt-Gen (Retd) Farooq Ahmed Khan was also present on the occasion.
The relief goods have been sent on special directives of Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani.
The Minister said that government and people of Pakistan were deeply shocked by the severe earthquake which hit China’s Sichuan province on May 12.
She said the loss of life and property was colossal, posing a daunting challenge of relief and rehabilitation for the Chinese government.
The Minister said both countries have stood by each other in times of trial and Pakistan is grateful to the Government of China for accepting its offer of relief goods, which were dispatched to China as a token of “our feeling for the Chinese brothers.”
She said Pakistani’s assistance is a humble contribution and an effort to support its time-tested friend in its hour of need.
Sherry Rehman said that medial mission would augment medical relief activities for the affected people in the earthquake-hit areas in China.
Pakistan has also sent relief goods earlier and it is ready to contribute more if the Chinese government required more help, she said.
Chinese Ambassador to Pakistan Luo Zhaohui thanked the government and people of Pakistan for showing solidarity and support by sending medical mission besides relief goods.
He expressed his gratitude over the provision of 22,000 tents by Pakistan and welcomed the decision by the Government to send the medical team to China for relief and rehabilitation.
Before this flight Pakistan had dispatched 21,260 tents, 500 blankets, 1000 plastic mats, three tons of bottled water and four tons of medicines.
A total of four C-130 flights, five 747 cargo flights and 18 containers by road have been dispatched to China so far.

Tuesday, May 27, 2008

US Congressmen laud Pakistan’s counter-terrorism efforts







ISLAMABAD : US Congressmen lauded Pakistan’s commitment to combating extremism in a meeting with President Pervez Musharraf on Tuesday and reaffirmed their support for the country’s counter-terrorism efforts and social development goals. Two U.S. Congressional delegations, led by Senator Ben Nelson and Congressman Adam Schiff, called separately on the President in Rawalpindi.
“Pakistan-U.S. relations, counter-terrorism cooperation, domestic and regional developments were discussed during the meetings,” a Foreign Office spokesman said in a statement.
President Musharraf said Pakistan attaches importance to Congressional support for the broadening and deepening of relations to the mutual benefit of the two countries.
He highlighted Pakistan’s contribution to the international counter-terrorism efforts, while underlining the importance of the government’s comprehensive strategy which combined political, military, and socio-economic dimensions.
The discussions also covered efforts to strengthen security along the Pakistan-Afghanistan border.
President Musharraf underlined importance of Congressional support for counter-terrorism initiatives of the government that included FATA Development Plan, capacity building of the Frontier Corps (FC) and establishment of the ROZs.
The visiting Members of Congress conveyed their support for the important relationship between Pakistan and the United States.
The Congressional delegation led by Senator Ben Nelson (Democrat-Nebraska) included Allen Boyd (Democrat-Florida) and Nick Lampson (Democrat-Florida).
The delegation led by Congressman Adam Schiff (Democrat-California) comprised Allyson Schwartz (Democrat-Pennsylvania) and Wayne Gilchrest (Republican-Maryland).

Democracy best suited to counter terrorism; Gilani







ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousaf Raza Gilani Tuesday said democracy was the best system to combat terrorism and urged the US to support government’s endeavours in stabilizing its economy and improve living standard of the people. These views were expressed by Prime Minister in his meetings with two separate delegations comprising US Senators and members of House of Representatives at the PM House.
The delegations comprised Senator Ben Nelson, Congressman Adam Schiff, Congressman Allyson Schwarz, and Congressman Wayne Gilch and US Ambassador in Pakistan Ms. Anne Patterson.
The Prime Minister said Pakistan values its strategic relationship with the US and desires to further expand its cooperation in trade, investment, economic and social sectors.
He urged the US to provide greater market access to Pakistani products in the US.
The Prime Minister termed terrorism a global phenomenon and a great threat to humanity that has ruined economic development and global peace. The world community, he said has to develop a collective approach to arrest the trend of terrorism and extremism by addressing its root causes.
Gilani stressed the need for increased intelligence sharing between the two countries to address the issue effectively and urged the Senators to ensure early passage of legislation pertaining to the ROZs.
The Prime Minister said his government pursuing a three-pronged strategy against terrorism will go for a political dialogue with moderate elements that have renounced war and laid down arms.
Besides he said, the government was focussing on economic uplift, empowerment of tribal areas through establishment of ROZs while continuing its campaign against extremists and terrorists. Pakistan believes in a varying combination to eventually help achieve the common objective, he added.
Gilani recalling the recent general election said the people of Pakistan have given a clear mandate in favour of the moderate and democratic forces who formed coalition governments both at the center and in the provinces which augers well for strengthening all state institutions and democracy.
While appreciating Pakistan’s efforts in countering extremism and terrorism, the members of the delegation said the relations of the United States with Pakistan and its people were very important and expressed desire by the US for developing a stable and multi-faceted relationship with Pakistan.
The members of the delegation apprised the Prime Minister that there were ample opportunities to further expand their ties in economic, trade, defence and counter terrorism areas.
They expressed the confidence that the US law makers would be keen to work with the democratic government in Pakistan.

Terrorism serious threat faced by nation: Tariq Majeed




Rawalpindi: Chairman Joint Chiefs of Staff Committee General Tariq Majid has said that threat of terrorism and violent extremism is a serious challenge to the nation and therefore, it figures out most prominently in our security calculus today. He expresed these remarks while addressing the participants of Armed Forces War Course, National Defence Course and Allied Officers War Course at National Defence University here at Islamabad Tuesday morning.
General Tariq Majid dwelt at length on counter terrorism and counter insurgency efforts by Pakistan and mentioned that Pakistan has been combating this threat even before 9/11, and had instituted numerous measures to tackle extremism and terrorism including banning of militant religious organisations and establishment of Anti terrorist courts etc.
Overviewing the current manifestation of militancy, CJCSC said it was primarily due to two major factors. First the blow back effects of the unfortunate developments in Afghanistan since last three decades which has proliferated the extremist elements and secondly, our un-fettered support to the ongoing global efforts against terrorism, particularly the coalition forces’ operations in Afghanistan and proactive military operations within our own area.
Describing overreaching strategy of Pakistan’s Government, he emphasized that a comprehensive four pronged strategy has been conceived for dealing with militancy and extremism, combining force application, political measures, socio economic development and revitalization of civil administration.
General Tariq emphasized that the nature and dynamics of this threat are such that there are no quick fixes nor any country by itself has the capacity to completely clamp down or defeat it. Only strategic patience and trust based collaborative approach by the comity of nations can help us win this war. Therefore, viewing counter terrorism and counter insurgency in its regional dimension, we must harmonize policies and shore up coordination for implementation rather than pursuing incompatible approaches in dealing with the issue.
The CJCSC stressed greater focus on winning hearts and minds through political and socio-economic mainstreaming of the troubled areas. He said that while development has to be broad based, three aspects are critical to changing the mindset and developing stakes of the people in ensuring security: increase in literacy, greater political space/absorption and direct involvement/incentives to the locals in the economic activity.
Earlier on arrival at NDU, Lieutenant General Hamid Khan, President National Defence University welcomed the CJCSC.

Thousands rally in Seoul against US beef deal

SEOUL- Police arrested 29 protesters Tuesday while breaking up an overnight rally in South Korea's capital by thousands of activists opposed to a beef-import deal with the U.S. that has sparked fears of mad cow disease.
The demonstration, which initially drew some 3,000 people in Seoul, ended in the early hours of Tuesday as riot police moved in to break it up. Sporadic clashes occurred but no serious injuries were immediately reported.
The protesters have demanded that the government renegotiate the beef agreement, which critics say does not protect the country from beef infected with mad cow disease.
Nullify the agreement," the protesters chanted as they were stopped by some of the 7,000 riot police blocking off streets downtown.
Thousands of South Koreans, mostly students and other young people, have held similar vigils and street rallies on a near-daily basis against the April 18 deal to resume U.S. beef imports.
Twenty-nine protesters were detained and were being questioned, said a police officer at the Seoul Metropolitan Police Agency. He spoke on condition of anonymity because he was not authorized to speak to media.
The latest detentions came hours after police freed 36 out of 68 demonstrators arrested at separate rallies Sunday and Monday. Police said they will decide later Tuesday whether to prosecute the 32 others.
The protests are perhaps the biggest domestic challenge faced so far by Lee, who took office three months ago. Lee last week sought to reassure the country over the safety of U.S. beef, but failed to ease public anger.
Lee, who was scheduled to depart Tuesday for a visit to China, has been criticized for making too many concessions on the beef issue to prompt the U.S. Congress to approve a free trade agreement. South Korea and the U.S. agreed to the landmark accord last year to slash tariffs and other trade barriers, but the deal must still be endorsed by legislatures in both countries.
Scientists believe mad cow disease, or bovine spongiform encephalopathy, spreads when farmers feed cattle with recycled meat and bones from infected animals. In humans, Creutzfeldt-Jakob disease, a rare and fatal malady, is linked to eating meat products contaminated with the cattle disease.

Alarming: Half of Lahore population drinks water with faecal contents

LAHORE — Half of Lahore population has been drinking water having faecal contents, and even those living in the so-called posh areas are no exception.
According to a report of the Institute of Public Health, waste discharged from bowels (faeces) has been found in about half of the drinking water samples collected from almost all parts of Lahore. The samples tested by the institute were sent to it by different agencies including the city district government during the first two weeks of the month. IPH’s Epidemiologist Prof. Farkhanda Kokab says the institute had tested some 92 drinking water samples between May 1 and 15 and found faeces in 43 of them. "The presence of faeces in potable water is very dangerous and alarming. The authorities concerned must take a serious note of it and do the needful," she said and maintained that posh areas were no exception in this case. "The best solution to ensure the cleanliness of drinking water is to boil it," she suggested.
Because of the poor quality of water being provided by the government agency, people are switching over to bottled water. The number of bottled water users is going up by the day and the number of such companies is also on the rise. The price of 1.5 litre bottle of water is Rs 30, or equivalent to one litre of milk. This price is about 70 per cent of the soft drink of the same size. Time is not far off when the water, milk and soft drinks will be available at about the same price.
Punjab Environment Protection Department (EPD) Director (Monitoring) Dr Shagufta Shahjahan said the department carried out tests of drinking water samples collected from different parts of the province off and on. In Lahore, she said, 25 per cent water samples were found 'unfit’ for drinking in the last survey. She said the department had written to the city district government and Water and Sanitation Agency (Wasa) to chlorinate and clean the water supply lines.
An EPD survey shows that the defective sewerage system is one of the main reasons of water contamination. Due to defective system, sewage mixes with the water supply lines. The survey suggests that the discharge of industrial effluents into the subsoil through holes should be banned in order to avoid ground water contamination.

Iran hiding weapons studies: UN watchdog



VIENNA - The UN atomic watchdog has expressed serious concern that Iran is still hiding information about alleged studies into making nuclear warheads and defying UN demands to suspend uranium enrichment. The International Atomic Energy Agency (IAEA) said in a report released late Monday that Iran must provide 'substantive' information if it is to convince the international community that its nuclear drive is peaceful.
The alleged studies suggest Iran may have been trying to develop a nuclear warhead, convert uranium and test high explosives and a missile re-entry vehicle, said the report.
The report, to be discussed by the IAEA's board of governors at a June 2-6 meeting, said intelligence from a number of sources suggest Iran has conducted the studies. Iran has repeatedly dismissed the allegations as 'baseless' and the intelligence as 'forged'.
The IAEA demanded that Iran, which already faces UN Security Council sanctions over its refusal to halt uranium enrichment, disprove the allegations.
'Substantive explanations are required from Iran to support its statements on the alleged studies and on other information with a possible military dimension,' the report insisted.
'The alleged studies ... remain a matter of serious concern. Clarification of these is critical to an assessment of the nature of Iran's past and present nuclear programme.'
The IAEA 'is continuing to assess the information and explanations provided by Iran. However, at this stage, Iran has not provided the agency with all the information, access to documents and access to individuals necessary to support Iran's statements.'
The IAEA 'is of the view that Iran may have additional information, in particular on high explosives testing and missile-related activities, which could shed more light on the nature of these alleged studies and which Iran should share with agency.'
The watchdog said Iran is still refusing to suspend uranium enrichment, the process that can be used to make fissile material for an atomic bomb, despite three rounds of UN sanctions.
In all, Iran was operating about 3,500 uranium-enriching centrifuges at its main nuclear site in Natanz, the report said.
Teheran has told the IAEA it hopes to have some 6,000 centrifuges running within months, a target that agency experts say is achievable, a senior official close to the Vienna-based watchdog said.
US and European officials said the report showed that Iran was continuing to stonewall the agency's long-running investigation into its atomic drive.
'The report shows in great detail how much Iran needs to explain, and how little it has,' said the US ambassador to the IAEA, Gregory Schulte.
The IAEA's director general Mohamed ElBaradei 'does not report progress, he does not report cooperation,' Schulte added.
'It's disappointing, although perhaps not surprising, given Iran's long history of evasiveness over the real purpose of its nuclear programme,' said an EU diplomat.
Nevertheless, Iran's ambassador Ali Asghar Soltanieh insisted his country had answered all outstanding questions.
'We have left no question unanswered. We have given all the explanations needed as far as we are concerned,' Soltanieh told AFP in a telephone interview.
'We have given 200 pages of explanations' with regard to the so-called weaponisation allegations, Soltanieh continued. 'We have dealt with this in depth.'
The Iranian envoy insisted the new report was 'a vindication and reiteration of the peaceful nature of Iran's nuclear activities.'
Iran would not suspend enrichment, Soltanieh said. 'We will continue enrichment, while not suspending our cooperation with the IAEA.'
EU foreign policy chief Javier Solana said Monday he hoped to travel to Iran soon to present a new offer from major world powers on suspending enrichment.
Solana said in Brussels that he met Iran's Foreign Minister Manouchehr Mottaki in Lebanon on Sunday but had no date for his proposed trip.

صدر کرسی اور سیاسی جما عتیں این آر او کا دفاع کر رہی ہیں ۔۔ تحریر اے پی ایس،اسلام آباد



ججز کی بحالی کے حوالے سے جو سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے وہ یہ کہ صدر پر ویز مشرف ضد کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار چودھری نہیں کوئی اور ہوگا کوئی مائنس ون اور کوئی مائنس ٹو کا فا ر مولا پیش کر رہا ہے آصف زرداری بھی این آر او پر آکر اپنی رفتار آہستہ کر لیتے ہیں حا لانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جناب آصف زرداری سے گزارش ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ پر جو مقدمات بنائے گئے تھے وہ سرا سر سیا سی انتقام کا نتیجہ تھے اگرچہ آپ کی مسکراہٹ معنی خیز ہوتی ہے اس کے با وجود آپ ایک سادہ انسان ہیں۔ کیونکہ این آر او آپ کیلئے نہیں بلکہ سابقہ حکومت میں لوٹ ما ر کرنے والی کی اپنی ضرورت تھی سابقہ ادوار میں شوکت عزیز سمیت تما م ق لیگ کے قومی مجرموں نے اپنا دفاع کرنے کیلئے این آر او ایجاد کیا لیکن آصف زرداری پر پر ویز مشرف کی وساطت سے احسان عظیم کر دیا۔اور آصف زرداری صاحب شرم کے ما رے اور احسان کی خاطر ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی د و ٹوک بات ہی نہیں کر رہے۔ جناب آصف زرداری کو چاہیے کہ وہ صدر کو فارغ کریں اس کے نتیجے میں اگر این آر او ختم ہوتا ہے تو اس میں بھی آپ کی بہتری ہے آپ اپنے مقد مات کے حو الے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کروایں کہ میرے اوپر تمام مقد مات صرف سیاسی انتقام کا نتیجہ تھے جبکہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے سابقہ دور کے قو می مجر موں کو قانون کی گرفت میں دیںاور قانون کی با لا دستی کو یقینی بنائیں۔ جو اسمبلی اپنا مستقبل نہیں جانتی وہ مہنگائی، بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کر سکتی جس اسمبلی کو یہ معلوم نہیں کہ صدر پرویز مشرف اگلے لمحے اس کا کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ وہ کیا پلاننگ کرے گی اور عوامی خواہشات کیسے پوری کرے گی۔ پہلے صدر پرویز مشرف کو ایوان صدارت سے الگ کرنا ہوگا اس کے بعد مہنگائی، بے روزگاری کو کنٹرول کرنے بارے سوچا جا سکتا ہے۔ جبکہ جاوید ہاشمی نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرمی ہاو¿س سے ناجائز قبضہ ختم کرائیں، اس موقع پر انہوں بتایا کہ 10 جون کوملتان سے وکلا کا لانگ مارچ شروع ہورہا ہے نواز لیگ نے اسے کامیاب بنانے کیلئے ٹیمیں بنا دی ہیں، اگر صدر پرویز مشرف 58ٹو بی کے ذریعے غیرآئینی اقدام اٹھاتے ہوئے اسمبلیوں کو برخاست کر دیتے ہیں اور پی سی او والے جج ان کے اس اقدام کو آئینی قرار دے دیتے ہیں تو پھر کیا راستہ بچے گا؟ صدر پرویز مشرف کی خواہش ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح پاکستان میں پارلیمنٹ کو توڑ کر لمبے عرصے کے لیے حکومت پر قابض ہو جائیں۔ آصف علی زرداری کو آئینی پیکیج لے کر صدر پرویز مشرف کے پاس جانے کی بجائے عوام کے پاس آنا چاہئے کیونکہ اس بات کی توقع نہ ہونے کے برابر ہے کہ آصف علی زرداری پرویز مشرف کو اپنے دلائل سے اقتدار سے الگ ہونے پر قائل کر لیں گے۔ ڈاکوو¿ں کو پکڑ کر جلانے کا جو طریقہ کارعوام نے اپنایا ہے۔ یہ عدالتوں پر کھلا عدم اعتماد ہے۔ عدالتی نظام بحال نہ ہوا تو معاشی نظام بھی بحال نہیں ہو سکے گا۔ آئینی مسودے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ مسودہ جب سامنے آئے گا اس کے پہلوو¿ں پر غور کرکے فیصلہ کریں گے۔ گورنر پنجاب کے پاس اپنے کوئی اختیارات نہیں کہ وکلا کے لانگ مارچ کو روک سکیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجودتمام طاقتور سیاسی قوتوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے سامنے لائے جانیوالے پیکیج کی حمایت نہ کی تو یہ پالیمنٹ سے منظور نہیں ن لیگ کے اہم رہنما چوہدری نثار علی خان نےکے مطابق ہم پارلیمنٹ سے پیکیج منظور کرانے کی پوزیشن میں ہیں جبکہ ہمیں سینٹ میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے“۔ ن لیگ کے رہنما نے کہاکہ آئینی پیکیج سے کوئی نتائج برآمد نہیں ہونگے اور اسکا مقصد صرف ججوں کے ایشو سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے ق لیگ کی سینٹ میں بہت زیادہ نشستیں ہیں اور وہ صدر پرویز کے اختیارات کے خاتمے کی کوشش پر اپنی پوزیشن واضح کرچکی ہے ۔ ن لیگ اور اس طرح وکلاء کمیونٹی بھی ساتھ نہیں ہے چوہدری نثار نے توقع ظاہر کی کہ شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کا مجوزہ آئینی پیکیج سے متعلق پر امید ہونا بے محل نہیں ہوگا۔”جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے ہم پیکیج میں اٹھائے گئے تمام ایشوز کے حقیقی طورپر حامی ہیں لیکن ہماری مکمل حمایت 2نومبر کی عدلیہ کی قومی اسمبلی کی معمول کی قرار داد کے بعد ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحالی کیلئے ہے تاکہ برطرف جج واپس آجائیں“ انکی پارٹی ججوں کی بحالی کیلئے آئینی ترمیم کا فریق نہیں بنے گی کیونکہ یہ 3نومبر کے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا اور اسکی توثیق ہوگی جوکہ مری ڈیکلریشن کی خلاف ورزی ہے۔ چوہدری نثار طلب کئے جانے پر سوموار کو پیپلزپارٹی کے آئینی پیکیج پر نواز شریف اور شہباز شریف سمیت ن لیگ کے رہنماو¿ں سے مشاورت کیلئے لاہور روانہ ہوگئے جو کہ انہیں موصول ہوچکا ہے یہ عمل آئندہ چند روز جاری رہیگا جس میں مجوزہ ترامیم کا غور سے جائزہ لیا جائیگا اور پارٹی کا حتمی موقف سامنے آئیگا ۔ن لیگ کے ایک اور رہنما نے کہا ہے کہ پیکیج کچھ نہیں صرف صورتحال کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے زرداری کی توجہ مسلسل ہٹائی جارہی ہے کہ اسکے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوائے اس کے کہ لوگوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے معزول ججوں کو واپس لایا جائے۔ آئینی پیکیج سامنے آنے کی خوشی قبل از وقت ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ زرداری اس سارے معاملے کو کیسے سنبھالیں گے ۔ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز مفروضے کے علاوہ کچھ نہیں کہ صدر پرویز مجوزہ آئینی ترمیم کو قبول کرلیں گے اور اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کردینگے ”میں نہیں سمجھتا کہ زرداری کی مہارت مشرف کو پیکیج سے اتفاق یا عہدے سے رخصت ہونے پر قائل کرلے گی“۔ صدر پرویز مشرف سے نجات کا قابل عمل راستہ صرف انکا مواخذہ ہے بجائے اسکے کہ انکی رخصتی کیلئے بے سود کوششیں کی جائیںمعزول ججوں کی بحالی سے پاکستان کو درپیش بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے حامی ق لیگ، پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور متحدہ قومی موومنٹ مشرف کے اختیارات میں کمی کے کسی عمل پر ردعمل شروع کر دیتے ہیں یا کہیں اور بہت زیادہ مصروف ہو جاتے ہیں۔ جبکہ این اے 123 سے (ق) لیگ کے امیدوار اخلاق گڈو دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ نواز شریف نے راولپنڈی این اے52 سے کا غذات نامزدگی واپس لینے کا اعلان کیا ہے، اس حلقے میں انکے مخالف امیدوار راجہ محمد ناصر کی انتخابی درخواست لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے 28 مئی کیلئے شریف برادران کو نوٹس جار ی کر دیئے ہیں،اسی طرح مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کیخلاف ایک درخواست پرانہیں نوٹس جاری کر دیاگیا ہے۔ادھر نواز شریف نے مشاورتی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ لاہور سے ان کے انتخابات لڑنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی،ا ور اب وہ مستند اور غیر متنازعہ امیدوار کے طور پر حصہ لیں گے اس لئے وہ قومی اسمبلی کے حلقہ 52 راولپنڈی سے کاغذات نامزدگی واپس لے رہے ہیں اسی طرح میاں شہباز شریف بغیر کسی قانونی ہیچ کے امیدوار ہونگے۔اس موقع پر میں میاں شہباز شریف، اسحاق ڈار، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، رانا مشہود، اشتر اوصاف علی، نصیر بھٹہ بھی موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم دونوں بھائیوں کو اسمبلی سے باہر رکھنے کی جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کا ایک نمونہ آج آپ سب نے دیکھ لیا ہو گا۔ چودھری پرویز الٰہی کی آواز سب پہچانتے ہیں ، ہمیں پہلے معلوم ہوا تھا کہ صدر بنفس نفیس اس منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔ ساری قوم کے سامنے حقائق آ چکے ہیں اگر یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو الیکشن، آئین اور قانون کی کیا اہمیت ہوتی۔ ساری قوم کی یہ خواہش تھی کہ 18 فروری کے بعد منظر بدل جائے اور سازشوں کا وہ کھیل تماشا بند ہو جائے لیکن افسوس کہ ابھی بھی سازشیں جاری ہیں، ٹربیونل میں پی سی او ججز کے سامنے پیش ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس بارے ہمارا موقف اصولی اور واضح ہیں، ہم پی سی او ججز کو جج نہیں مانتے انہیں نہ دل مانتا ہے نہ قوم مانتی ہے نہ ضمیر مانتا ہے۔ قرارداد کے حوالے سے زرداری کے کہنے پر ہم نے پی سی او ججز کے حوالے سے کڑوا گھونٹ بھی پی لیا تھا لیکن چونکہ اعلان مری پر عمل نہیں ہوا اسی لئے اب ہم اس کے بھی پابند نہیں رہے۔ اس موقع پر میاں شہباز شریف نے کہا کہ زہر کا تریاق زہر سے ہی نکلتا ہے۔ میاں نواز شریف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو برقرار رکھنے کی صورت میں 3 نومبر کے اقدامات کو تحفظ حاصل ہو جاتا، انڈیمنٹی صرف پارلیمنٹ دے سکتی ہے سپریم کورٹ کو اس کا اختیار حاصل نہیں، ہم نے اصول اور اقدار کو برقرار رکھنا ہے اور آئندہ نسلوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہمیں یہ جنگ جاری رکھنا ہے، ایک اور سوال کے جواب میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ ان پی سی او والے ججز کو ہم نہیں مانتے، 3 نومبر 2007ء کو ان ججز نے غلامی کا طوق پہن لیا تھا اور چھڑی کے اشاروں پر ناچنا شروع کر دیا، انہوں نے قاتل کو بے گناہ اور ظالم کو مظلوم قرار دینا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کفر کی حکومت تو برقرار رہ سکتی ہے مگر ناانصافی کی نہیں۔ 3 نومبر کی متنازع معزولی کے بعد پہلی مرتبہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کسی اہم امریکی عہدیدارنے ان کے گھر میں ملاقات کی اور عین ممکن ہے کہ امریکی رہنماو¿ں کی ایسی اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں جاری رہیں۔تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے انصاف کے رکن سینیٹرز فین گولڈ نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ان کی رہائش گاہ پر اعتزاز احسن، جسٹس(ر)طارق محمود اورسپریم کورٹ کے وکیل اطہر من اللہ کی موجودگی میں ملاقات کی۔مبصرین کے مطابق یہ ملاقات معزول چیف جسٹس اورپاکستان کے دورے پر آئے ہوئے3 امریکی سینیٹرزسے مزید ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرسکتی ہے،جس میں امریکی عہدیدار اپنے دوست صدرپرویزمشرف کے مصیبت زدہ وقت میں ان سے کیاکچھ لے سکتے ہیں ۔وہ سب کچھ جس کیلئے وہ گذشتہ چند دنوں سے پاکستان میں لابنگ کررہے ہیں۔ امریکی ارکان کانگریس نے پیرکوصدرپرویزمشرف،وزیراعظم یوسف رضاگیلا نی اور (ن) لیگ کے رہنماچوہدری نثارسے ملاقات کی ۔تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹرز فائن گولڈ نے صدر پرویز مشرف سے صدارتی کیمپ آفس میں ملاقات میں پاکستان میں جمہوریت کے قیام اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر صدر پرویز مشرف نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کسی کو خوش کرنے کیلئے نہیں بلکہ اصولی اور قومی مفاد میں ہے ، پاکستان دہشت گردوں کو کوئی رعایت نہیں دیگا، القاعدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ پہاڑوں میں چھپ رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران صدر پرویز مشرف نے کہا کہ انتہا پسندی اوردہشت گردی کو شکست دینے کیلئے فوج کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے اور حکومت اسی پر عمل پیرا ہے تاہم دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی۔ وہ بطور صدر اپنا آئینی کردار ادا کررہے ہیں اور حکومت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں جبکہ ان کی خواہش ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ بھی اپنی آئینی مدت پوری کرئے۔دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی ارکان کانگریس سے ملاقات میں کہا کہ ہماری جمہوری حکومت دہشت گردی انتہا پسندی کا ڈٹ کرمقابلہ کریگی اورپاکستان کے بہتر ین مفاد میں کثیر الجہتی حکمت عملی بنا کر دہشت گردی کے مسئلے کو موثر طور پر حل کیا جائیگا۔ اس موقع پرامریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن بھی ملاقات کے دوران موجود تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کی جڑ کو ختم کئے بغیر یہ لعنت ختم نہیں ہو سکتی۔ علاوہ ازیں امریکی سینیٹ کے 5 رکنی وفدنے خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن سینیٹرز فائن گولڈ کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی جس میں پاک بھارت تعلقات، مسئلہ کشمیراور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے سمیت باہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیا گیا ۔ پنجاب ہاو¿س میں ہونیوالی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔چوہدری نثارنے وفد سے بات پر زور دیا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے طاقت کے استعمال کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے امریکی وفدکوبتایا کہ ہم بھارت کے ساتھ تعلقات کوبہتربنانے کے خواہاں ہیں، مسئلہ کشمیر ان تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع امور کو مذاکرات سے حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دباو¿ ڈالے تاکہ خطے کے عوام کیلئے امن اور خوشی کی فضا یقینی بنائی جاسکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اپوزیشن لیڈر چوہدری پرویز الٰہی کے آڈیو ٹیپ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الٰہی کا عدلیہ پر شریف برادران کے کاغذات مسترد کرنے کیلئے دباو¿ ڈالنا غیرجمہوری اور مکروہ سازش ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ماضی میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت کے اقدامات بھی ہمیشہ مشکوک رہے ہیں اور وہ اقتدار کیلئے منفی ہتھکنڈے استعما ل کرتے رہے ہیں مگر پاکستان کے عوام نے 2008ء کے انتخابات میں ایسے انداز حکمرانی کے خلاف اپنا واضح فیصلہ دیا ہے تاہم کچھ لوگ اب بھی اس فیصلے سے سبق حاصل نہیں کررہے۔ تمام سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ وہ اس قسم کی پس پردہ سازشوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ دوسری جانب امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رس فن گولڈ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ عدلیہ کے معاملے کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، بھارت سمیت ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، قبائلی علاقوں میں مذاکرات سے امن و امان قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ امریکی سینیٹر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن اور وفاقی وزیر دفاع چوہدری احمد مختار بھی موجود تھے۔ آصف علی ز رداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی جماعت ہے، ہم جمہوری اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قیام کیلئے وہاں کے قبائلی عمائدین کیساتھ مذاکرات حوصلہ افزاء ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم وہاں پر امن و امان قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، بلوچستان میں بھی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر امریکی کانگریس کے سینیٹر رس فن گولڈنے آصف علی زرداری کو یقین دلایا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے ہر طرح کا تعاون فراہم کرے گا ۔ غذائی اجناس کے حالیہ بحران پر انہوں نے امریکا کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہاہے کہ آڈیو ٹیپ میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ ملک کا نظام خراب کرنے میں ان کا ہاتھ ہے۔ ماضی میں بھی ملک قیوم کی ٹیپیں سامنے آ چکی ہیں، اب بھی جو ٹیپ سامنے آئی ہے وہ درست لگتی ہے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیلوں میں میاں برادران چاہے خود عدالت میں پیش نہ ہوں وکیل پیش کریں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے موٹر وے کے راستے فیصل آباد جانے کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ وقت نہ لگے لوگ پھر بھی سڑکوں پر آ گئے چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد 2013ء تک ہے وہ دوبارہ بحال ہوں گے آئینی پیکیج کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئینی پیکیج اچھا اقدام ہے اس سے پارلیمنٹ مضبوط ہو گی جو بھی عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹ ہو گا اس کا گراف گرے گا چاہے وہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری ہی کیوں نہ ہو ۔اعتزاز احسن نے کہا وہ ایسے آئینی پیکیج کی حمایت کریں گے جس سے صدر پرویز کے اختیارات کم ہوں ۔ بش انتظامیہ یہ نہیں چاہتی کہ صدر پرویز مشرف مستعفی ہوں کیونکہ صدر پرویز امریکی مفادات کے تحفظ کی علامت ہیں۔ ہمارے رہنما اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں انہیں نہ ملک کی پروا ہے نہ عوامی مینڈیٹ کی بلکہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے، ذاتی مفادات کیلئے ملک کے مستقبل کو داو¿ پر لگایا جارہا ہے، جس سے سوائے انتشار اور بے یقینی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس وقت ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما این آر او کو بچا رہے ہیں جبکہ صدر اپنی کرسی بچارہے ہیں۔ اب فوج مداخلت نہیں کرے گی اور ملک جس صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے اس میں تصادم ہی نظر آتا ہے جس کا انجام بالآخر انتخابات پر ہی منتج ہوگا۔ اب جو حالات نظر آتے ہیں اس میں بحران در بحران ہی نظر آتا ہے موجودہ حکومت نے اچھا موقع گنوادیا اب تک حکومت کی پالیسی ہی واضح نہیں ہوئی ہے معاشی بحران سے عوام تنگ آگئے ہیں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ملک انتشار کی طرف جارہا ہے بجٹ سے زیادہ ججز کی بحالی مسئلہ ہے۔ تحریر اے پی ایس اسلام آباد

امریکی کانگریس کے وفد کی پاکستانی قیادت اور معزول چیف جسٹس سے ملاقاتیں




امریکی سینیٹر رس فائن گولڈامریکی سنیٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے رکن سنیٹر رسفائن گولڈ نے پیر کو صدر پرویز مشرف اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جِس میں دوطرفہ تعلقات، پاکستان میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق معاملات پر بات چیت کی۔
سنیٹر فائن گولڈ نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے بھی اسلام آباد میں اُن کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی اور پاکستان کے عدالتی بحران پر تبادلہٴ خیال کیا۔

اِس ملاقات میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن بھی موجود تھے جِنہوں نے صحافیوں کو معزول چیف جسٹس اور امریکی سینیٹر کے مابین ہونے والی بات چیت کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا:’وہ، ظاہر ہے حیران تھے کہ کسی ملک میں چیف جسٹس کو اِس طرح گرفتار رکھا جا سکتا ہے۔ حال ہی سے متعلق کم از کم فائن گولڈ نے تو بالکل اتفاق کیا بلکہ اُن کو جب یہ کہا گیا کہ یہ ایگزیکیوٹو آرڈر سے ہو سکتا ہے، تو اُنہوں نے کہا کہ ایگزیکیوٹو آرڈر کی بھی کیا ضرورت ہے، جب یہ غیر قانونی کام ہے تو غیر قانونی کام ہے۔‘

واضح رہے کی امریکی کانگریس کے دو مختلف وفود اِن دِنوں پاکستان میں موجود ہیں جو امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق پاک۔امریکہ تعلقات اور یہاں کی سیاسی صورتِ حال پر سیاسی قیادت، رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور وکلا تنظیم کے عہدے داروں سے ملاقات میں خصوصاً عدالتی بحران پر آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔

استعفوں کا فیصلہ اٹل ہے ، ججوں کی بحالی کے بعد وزارتوں میں واپس نہیں آئیں گے ، بجٹ تقریر نہیں پڑھ رہا ۔ اسحاق ڈار


لاہور۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر و مستعفی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ بجٹ تقریر نہیں پڑھ رہے ۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ میاں نواز شریف نے معزول ججوں کی بحالی تک وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اصولی فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی وزارتوں سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے

حکومت نے کالا باغ ڈیم منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا



لاہور۔ وفاقی حکومت نے کالا باغ ڈیم منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے لئے بجٹ میں کوئی فنڈز مختص نہیں ہوں گے،اور دکانیں رات نو بجے بند کرانے کے فیصلے پر صوبائی حکومتیں عمل درآمد کرائیں گی۔وہ واپڈا ہاؤس لاہور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیر پانی وبجلی کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم جیسے متنازعہ منصوبے کی قوم کو کوئی ضرورت نہیں،اور اس کے لئے مختص فنڈز دوسرے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔راجہ پرویز اشرف نے بجلی کی بچت کے اقدامات کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ دکانیں رات نو بجے بند کرانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ اور چاروں وزراء اعلیٰ کا ہے، اس پر عمل درآمد کے لئے تاجروں سے اپیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند روز میں ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھنے پر بجلی کی پیداوار میں پانچ سو میگاواٹ کے اضافے سے لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوگی۔ لیکن اس مسئلے سے مکمل نجات اگلے سال کے ّآخر تک ممکن ہوسکے گی۔اس سے پہلے وفاقی وزیر پانی و بجلی نے واپڈا ہاو?س میں ایک اجلاس کے دوران بتایا کہ لوڈ شیڈنگ میں کمی کے لئے نجی پاور کمپنیوں اور واپڈا کے بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی بھی بڑھائی جارہی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ منگلا ڈیم کی اونچائی بڑھانے کا منصوبہ اسی سال ستمبر میں مکمل ہوگا اور بھاشا ڈیم کے ٹینڈر اگلے سال جاری کر دیئے جائیں گے۔

پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا، میاں نواز شریف کی رہائش گاہ پر سیاستدانوں، ریٹائرڈ جج صاحبان، وکلاء ، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا

لاہور۔ ریٹائرڈ جج صاحبان ، وکلاء، دانشوروںاور سینئر صحافیوں کے اجلاس میں پی سی او ججوں کو تسلیم نہ کرنے کے فیصلہ کا اعادہ کیا گیا ۔ اجلاس پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف ، پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف ، اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ خان کے علاوہ سید الزمان صدیقی، جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم، جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال، سابق صدر و جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ، جسٹس (ر) رشید اے رضوی ، انور کمال ایڈووکیٹ ، منظور ملک ایڈووکیٹ، محمد نعیم ایڈووکیٹ، خواجہ محمود احمد ایڈووکیٹ، اشتراوصاف ایڈووکیٹ، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی، خواجہ احمد بلال، ابصار عالم، حامد میر، پرویز بشیر ، سلمان غنی، عرفان صدیقی، عاصمہ جہانگیر، بشری اعتزاز ، مسز تسلیم حسن، رانی کامل، بیگم نسیم شاہ، حسن نقی، احمد رقیہ اور دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں شریف برادران کے پی سی اوو ججوں کے سامنے خود پیش نہ ہونے کے فیصلہ کی بھی تائید کی گئی ۔

مولانافضل الرحمن نے آئینی پیکج پر اتفاق رائے کیلئے حکمران اتحاد کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا



اسلام آباد ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آئینی پیکج پر اتفاق رائے کیلئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ آصف علی زرداری کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو آج ( منگل ) آئینی پیکج کی کاپی سپرد کی جائے گی ۔ مولانا فضل الرحمن نے سترہویں ترمیم کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ پی سی او کے تحت وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے نواز شریف اور صدر رفیق تارڑ کی برطرفی پر انتظامی حکم کے تحت ان کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا پرویز مشرف خود کو آئینی صدر سمجھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر آرمی ہاؤس کو چھوڑ دینا چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی (ف) کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے جو آئینی پیکج تیار کیا ہے اس وقت تک اس کی نقول ہمیں نہیں دی گئی ہیں اس سلسلے میں آصف علی زرداری سے رابطہ کیا تھاتاکہ فوری طور پر آئینی پیکج کی تفصیلات مل سکیں آصف علی زرداری نے آج (منگل کو ) آئینی پیکج کی کاپی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہماری پارلیمانی پارٹی نے شدت کے ساتھ اس ضرورت کو محسوس کیا ہے کہ آئینی پیکج کے حوالے سے وزیراعظم کی سربراہی میں پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کا اجلاس ہونا چاہیے تاکہ حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کا ایک متفقہ موقف سامنے آسکے انہوں نے کہاکہ صرف دو جماعتوں کے درمیان بات چیت نیتجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی بات چیت کے دائرے کو تمام اتحادی جماعتوں تک وسیع کیاجائے مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چین میں آنے والے زلزلے اور نقصانات پر چین کے عوام اور چینی حکومت کے ساتھ بھرپور ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیاگیا ہے چین کے ساتھ ہمارے دیرینہ گہرے تعلقات ہیں اور چینی قوم جس صدمے سے دو چار ہوئی ہے اس پر پوری قوم کو دکھ ہے ۔ ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اصولی طور پر ہمارا یہ دیرینہ موقف ہے کہ پارلیمنٹ کے اختیارات کو بڑھنا چاہیے ظاہر ہے پارلیمانی طرز حکومت میں تمام تر انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں ماضی میں یہ انتظامی اختیارات صدر کے پاس چلے گئے جنہیں وزیراعظم کو منتقل ہونا چاہیے انہو ںنے کہاکہ جب تک آئینی پیکج کا مسودہ سامنے نہیں آتا اس کی جزیات میں نہیں جا سکتے سارے بحران سے نکلنا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت تحریک کیلئے نہیں ہوتی حکومت کو ذمہ داری کا ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے فریقین کے تعاون سے بحران کو قانون سازی کے ذریعے حل کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ گزشتہ پانچ سالوں میں بھی ہم عبوری دور سے گزر رہے تھے ایل ایف او کو پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی تحفظ نہیں دیا جاتا تو پالریمنٹ کا وجود ہی غیر آئینی تھا انہوں نے کہاکہ کچھ دو کچھ لو کی بنیاد پر ہم نے سترہویں ترمیم کے حوالے سے معاہدہ کیاتھا تاہم صدر کی جانب سے عہد کو توڑا گیا اب ہمارا موقف وہ نہیں ہو سکتا جو سترہویں ترمیم کے وقت تھا۔ آئینی پیکج کے ذریعے سترہویں ترمیم کو مکمل طور پر ختم کیا جائے انہوں نے کہاکہ ساڑھے تین سالوں تک جب سترہویں ترمیم کو ووٹ دینے کو ہمارا جرم قرار دیا جاتا رہا اسی سترہویں ترمیم کو برقرارکیوں رکھا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ سترہویں ترمیم کو ختم کرتے ہوئے آئین کو 1999ء کی پوزیشن پر بحال کیا جائے پھر یہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس میں کیا اصلاحات اور ردوبدل چاہتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صدر پرویزمشرف کے مواخذے کے حوالے سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے اس وقوت کے استعمال کا کیا یہ وقت ہے تاہم باہمی مشاورت سے اس مسئلے کو طے کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں بتایا جائے کہ ججز کیلئے معیار میثاق جمہوریت ہے یا اعلان مری ہے انہوں نے کہاکہ پورے زور و شور اور دعوؤں کے ساتھ میثاق جمہوریت قوم کے دل و دماغ پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اب اعلان مری میثاق جمہوریت کی اہمیت کیوں ختم کر دی گئی ہے دونوں جماعتوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے نئی صورتحال کیوں پیدا کر دی ہے آزاد عدلیہ کے بارے میں ترجیحات یکسر کیو ںتبیدل ہوگئیں ہیں سابقہ پی سی او کیوں آئینی حیثیت اختیار کر گیا انہوں نے کہاکہ تین نومبر 2007ء کا پی سی او غلط اقدام تھا تو بارہ اکتوبر 1999ء کا اقدام بھی غیر آئینی اور جمہوریت پر شب خون تھا لیکن دوسرے پی سی او کے تحت صرف انتظامی آرڈر کے ذریعے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی کیوں بات کی جارہی ہے پی سی او کے تحت وزیراعظم نواز شریف اور صدر رفیق تارڑ کو برطرف کیوں کیاگیا تھا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نواز شریف اور رفیق تارڑ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ اس وقت نہ صرف جمہوریت اور پارلیمنٹ کا قتل کیاگیا بلکہ صدر کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا اور منتخب وزیراعظم کو قید کر دیا گیا تھا ظاہر ہے کچھ تو مشکلات اور رکاوٹیں تو ہوں گی کہ اس بحالی کا مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ یہ مثال قائم ہو گی کہ ایک صوبے کی حکومت تحریک کی نگرانی کرے گی ایک جج کو ایک صوبے میں آئینی چیف جسٹس تسلیم کیا جائے گا اور وہ روڈ پر کھڑا ہو گا ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مطالبات کی ہم حمایت کرتے ہیں تاہم لانگ مارچ سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوںگی بحران سے نکلنے کی یہ شکل نہیں ہوتی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہاکہ اگر پرویزمشرف خود کو آئینی اور قانونی صدر سمجھتے ہیں تو انہیں آرمی ہاؤس چھوڑ کر مکمل طور پر ایوان صدر منتقل ہو جانا چاہیے

معاشی اقتصادی سماجی ترقی سیاسی استحکام اور عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات ہمارا قومی ایجنڈا ہے ۔سید یوسف رضا گیلانی


اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ پاکستان کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کسی کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دے گا معاشی اقتصادی سماجی ترقی سیاسی استحکام اور عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات ہمارا قومی ایجنڈا ہے دہشت گردوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں تعینات غیر ملکی سفارتکاروں کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ کے موقع پر کیا ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کسی کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پاکستان کی سیکورٹی فورسز ہی کریں گی انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے کوئی بات چیت کی جائے گی نہ انہیں ان سے کوئی سمجھوتہ کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ ہماری سیکورٹی فورسز میںد ہشت گردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون چاہتے ہیں اور مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کے خواہاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی قومی ترجیحات میں سیاسی استحکام ‘ معاشی ‘ اقتصادی و سماجی ترقی شامل ہے ان کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ٹھوس اور جامع اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ نئی جمہوریت ملک میں غربت میں کمی ‘ روزگار کی فراہمی ا ور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر کام کررہی ہے جمہوریت کا ستحکام اور پائیدار معاشی ترقی چاہتے ہیں تقریب میں غیر ملکی سفارتکاروں کا وزیراعظم سے یوسف رضا گیلانی سے تعارف کرایا گیا ۔ اس تقریب کا مقصد سفارتی نمائندوں کے ذریعے عالمی برادری کو منتخب جمہوری حکومت کی پالیسیوں اور ترجیحات سے آگاہ کرنا تھا۔ وفاقی وزراء ‘ سیکرٹریز اور اعلی حکام نے بھی ا ستقبالیہ میں شرکت کی ۔