International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.
Sunday, June 1, 2008
کیا واشنگٹن ایک غیر مستحکم پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے,عوام کیخلاف ایک بہت بڑی سازش : تحریر اے پی ایس ،اسلام آباد
آئینی پیکج کی منظوری تک پارلیمنٹ خطرے میں رہے گی کیونکہ ماضی کی ترامیم نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کردیا ہے۔ جمہوریت کے فروغ کیلئے ایسی تمام ترامیم کا خاتمہ ضروری ہے کا لا باغ ڈیم کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں بحث کرانا ضروری نہیں ہے یہ ایک سیاسی معاملہ تھا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے پارلیمنٹیرینز ، سیاستدانوں اور میڈیا کوکردار ادا کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ پارلیمنٹ کو عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگااور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو پارلیمانی جمہوری نظام کے راستے میں حائل ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں مسلم دنیا کی پہلی خاتون اول سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی لائیو کوریج کے انتظامات کئے جارہے ہیں لیکن میڈیا کارروائی کے حذف شدہ حصے ہرگز شائع اور نشر نہ کرے، 8سالہ آمریت کے بعد جمہوریت پنپنے لگی ہے اب مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے سیشنز کیلئے پارلیمنٹ کیلنڈر تیار کرلیاگیا ہے ۔ بچت مہم کے تحت قومی اسمبلی بجٹ کے 35کروڑ روپے حکومت کو واپس کردےئے ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں میڈیا اور پارلیمان کے درمیان بہتر اور قریبی رابطے ضروری ہیں۔ میڈیا پارلیمنٹ کے فیصلوں کوعوام تک پہنچانے کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے ، اس کردار کو وسعت دینا ضروری ہے ۔ جس کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی لائیو کوریج کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عوام کی پارلیمنٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ۔ صحافیوں اور سیاسی ورکرز نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اسی لئے 8سالہ دور آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی کو ساری دنیا میں سراہا جارہا ہے ۔ جس کا احساس مجھے آئی پی یو کی کانفرنس سے ہوا جو حال ہی میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہوئی تھی ۔ آئی پی یو پارلیمنٹ کے اجلاس کی صدارت دراصل پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز تھا ۔ انہوں نے کہاکہ 8سالہ آمریت کے بعد ملک میں جمہوریت پنپنے لگی ہے ۔ ہمیں منفی کے بجائے مثبت پہلوو¿ں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ اسپیکر نے میڈیا سے کہاکہ قومی اسمبلی کی کارروائی کے حذف شدہ حصوں کو ہرگز شائع اور نشر نہ کیاجائے۔ اس بارے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔مسائل اجاگر کرنے اور پالیسی سازی میں میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پارلیمان کے باہر فیصلے کرنے کے اختیارات حاصل ہیں کیو نکہ قوم نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور جب یہ معاملہ اسمبلی میں لایا جائے تو اس پر ارکان اسمبلی بحث کریں اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ تجویز کردہ قانونی سازی کے معاملات پر اپنا ابتدائی کام مکمل کریں ،انہوں نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سیاسی معاملہ تھا اور تین صوبوں نے ویسے بھی اس کے خلاف قراردادیں پاس کردیں تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔اسیر ارکان پارلیمنٹ کو پیش کرنے کے اصول پر عملدرآمد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس پر قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں نے ماضی سے سبق سیکھ لئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزراءکی پارلیمان میں موجودگی کو یقینی بنانا پارٹی قائدین کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی اس معاملے پر نظر رکھیں گی تا کہ ارکان اسمبلی کی کارروائی میں شریک ہوں۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے گزارش ہے کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران صحافیوں کو پریس کارڈ حاصل کرنے میں دشواری کو بھی ختم کیا جائے کیونکہ سابقہ اجلاسوں کے دوران کارڈ جاری کرے والے متعلقہ ا ہلکاروں کا رویہ دیکھنے میں یہ آیا ہے ایسے صحافی جن کی ایکریڈیشن کے علاوہ اپنے اخبار یا ایجنسی کے ڈیکلریشن بھی ہیں ان کو بھی پریس کارڈ حاصل کرنے میں ذلیل کیا جاتا ہے جبکہ ان کا یہ حق ہے اور متعلقہ اہلکاروں کا یہ فرض ہے کہ قومی اسمبلی کے پریس کارڈ کے اجراء اور اس کے حصول میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ جبکہ سپیکر قو می اسمبلی سے گزارش ہے کہ وہ پی آئی ڈی سے نئی میڈیا لسٹ منگوائیں تاکہ اس کے مطابق بعد میں شامل ہونے والے ایکریڈٹ صحافیوں اور میڈیا کے اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔ کیونکہ ہر اجلاس کے دوران ان اداروں کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے جبکہ فٹ پاتھوں پر ملنے والے صحافی جن کی کسی اخبار یا کسی بھی صحافتی ادارے سے وابستگی نہیں وہ کارڈ پہلے حاصل کر لیتے ہیں۔ اور اس بات کا بھی سختی سے نوٹس لیا جائے کہ ایک ادارے کو بیس بیس کارڈ جاری کر دیے جاتے ہیں جبکہ کسی ادارے کو ایک کارڈ بھی جاری نہیں کیا جا تا اس ضمن میں سپیکر قو می اسبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن ، اور پی آئی او چودھری غلا م حضور باجوہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ تما م اداروں کے ساتھ اگرچہ یکساں سلوک نہیں کیا جا تا تو کم از کم کسی کو نظر انداز بھی نہ کیا جا ئے۔ اگرچہ بڑے اداروں کا پارلیمانی رپورٹنگ کہلئے سٹاف زیادہ ہے لیکن کسی کو یہ بھی حق نہیں پہنچتا کسی ادارے کے اٰ یڈ یٹر کو نظر انداز کر کے کسی دوسرے ادارے کے کیمرہ مین کو تر جیح دیں۔ مذکورہ بالا حکام سے آخری گزارش ہے کہ متعلقہ اہلکار جو اسمبلی کے پریس کارڈ کے اجراءکے فرائض پر مامور ہیں انھیں یہ بھی پتہ ہو کہ ڈائر یکٹر( پارلیمنٹ) پریس، پی آئی ڈی بڑا ہوتا ہے یا پی آئی او کیونکہ گذشتہ دنوں راقم الحروف کا پریس کارڈ کے حصول کیلئے پی آئی ڈی جانے کا اتفاق ہوا۔اس ضمن میں راقم الحروف نے ایک درخواست اور ایکریڈیشن کارڈ کی کا پی متعلقہ برانچ کے ایک اہلکار کو دی۔ یہ اہلکار جو کارڈ بنانے کے فرائض پر ما مور ہے وہ اس ادارے کا نائب قاصد تھا وہ تکرار کرنے لگا کہ آپ درخواست پر میڈم کے دستخط کروالیں میں نے اسے کہا کہ جب پی آئی او صاحب نے ایکریڈیشن کا رڈ پر دستخط کئے ہوئے ہیں تو میڈم کے دستخطوں کی کیا ضرورت ہے میں نے اسے مزید کہا کہ آپ یہ درخوست میڈم کو دے دینا وہ خود دیکھ لے گی کہ اس کا کا رڈ بنا نا ہے کہ نہیں۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے اہلکار جنہیں یہ معلوم نہیں کہ پی آئی او بڑا ہوتا ہے یا ڈائریکٹر یا اگر انھیں یہ ساری باتیں معلوم ہیں تو سمجھ لیں کہ وہ خواہ مخواہ دوسرں کو پریشان کر رہے ہیں۔ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھی رہے تاہم دوستی کو نظر لگ گئی اور سازشوں کے ذریعے فاصلے پیدا ہوئے، وہ ہفتہ کو شاہی سید کی رہائش گاہ پر اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں 12مئی کے واقعات پر افسوس ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ ہم قریب آگئے اور دوستیاں مضبوط ہو رہی ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی پشتو اور اردو بولنے والوں کے درمیان بھائی چارے کیلئے کام کرے گی، ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرکے آگے بڑھنا چاہئے ہم کل بھی بھائی تھے اور آج بھی بھائی ہیں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج میں صوبے کا نام پختون خواہ نام رکھنا خوش آئند ہے، اسفند یار ولی نے کہا کہ آپ بھی بھائی چارہ اور امن کی کوشش کریں اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، نیک نیتی سے کام کرکے لوگوں کے مسائل حل کرینگے، آئندہ کسی سازش کا شکار نہیں ہونگے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہے ۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور عوامی نیشنل پارٹی نے سانحہ 12مئی 2007ء کی تحقیقات عدالتی کمیشن کے ذریعے کرانے پر اتفاق کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار ، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کے ہمراہ شاہی سید کی رہائش گاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر محمد امین خٹک ، ایم کیو ایم کے رہنما بابر خان غوری، شعیب احمد بخاری ، وسیم آفتاب و دیگر بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اے این پی کے رہنماو¿ں کا ممنون ہوں کہ انہوں نے ملاقات کا اہتمام کیا، یہ ملاقات ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی خواہش پر کی جارہی ہے اور اس سے دونوں جماعتوں کے درمیان محبت اور اخوت بڑھے گی، غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا اور دونوں جماعتیں ملکر شہر کراچی کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ 1980ء کی دہائی میں ایک سازش کرتے ہوئے کراچی میں قیام پزیر اکائیوں کو دست گریباں کرایا گیا اس موقع پر قائد تحریک الطاف حسین نے جیل سے ولی خان کے نام لکھے گئے خط میں باچا خان کے فلسفے سے اتفاق کرتے ہوئے یہ پیغام دیا تھا کہ سازشوں کا قلع قمع کیا جائے اور بھائیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے ، ہم آہنگی کا یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن اس کے ساتھ سازشیں بھی چلتی رہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی اور ایم کیو ایم ہمیشہ فطری اتحادی رہی ہیں اور دونوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی کیلئے کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے اس بات کا شدت سے احساس کیا جارہا تھا کہ غلط فہمیاں دور کی جائیں ، دل سے ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور کراچی میں موجود کثیر یکجہتی بحران سے مشترکہ طور پر نمٹا جائے انہوں نے کہا کہ آج ہماری دونوں کی کوششیں رنگ لائیں اور ہم اس موقع پر قوم کو خوشخبری دینا چاہتے ہیں، ہمارے درمیان بہت سے ایشوز پر بات ہوئی ہے اور دونوں جماعتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اگر صوبائی سطح پر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا تو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی ملکر مسئلے کا حل نکالیں گے ہم یہاں خلوص دل سے آئے ہیں اور مل جل کر کام کریں گے ، اسی میں سب کی بھلائی ہے‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بجلی وپانی کے بحران سے ملکر نمٹنا ہو گا۔ ایک سوال پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حالیہ رابطے کے سبب دوریاں ختم ہوں گی‘ فاصلے مٹیں گے اور جو خوف کی فضا ہے اس کا یقینا خاتمہ ہو گا۔ اس موقع پر اسفند یار ولی نے کہا کہ ہمارے درمیان دو تین باتوں پر تبادلہ خیال ہوا ہے اور اس بات پر اتفاق ہے کہ اس شہر کو دونوں جماعتوں نے روشنیوں کا شہر بنانے میں کردار اد اکیا ہے‘ ہمارے دو تین اہم ایشو ہیں جس پر بات کرنا چاہتے ہیں اس میں کچی آبادی‘ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم قبائلی علاقوں میں امن قائم کر سکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں‘ ہم متحد ہو کر مسئلے حل کر سکتے ہیں تاہم اس کے لئے ایک ہی ملاقات میں سب کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں جو قومی مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے دونوں جماعتیں آگے بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی انا کو چھوڑ کر آگے جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملاقات میں سارے معاملات ختم نہیں ہو سکتے اس کے لئے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک سوال پر اسفند یار ولی نے کہا کہ ہم نواز شریف کو بھی اس بات کے لئے ضرورت پڑنے پر تیار کریں گے کہ وہ کراچی میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ صوبائی قیادتیں ملکر مسئلے کا حل نکال لیں گی اور الطاف حسین کو زحمت نہیں دینا پڑیگی۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ تو حکومتوں میں شامل ہیں تو پھر یہ مطالبہ کس سے کررہے ہیں تو اسفند یار ولی نے کہا کہ ہم حکومت میں شامل ضرور ہیں لیکن حکومت میں اہم شراکت دار کوئی اور جماعت ہے جس کی رضا مندی ضروری ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات پر بالکل متفق ہیں کہ سانحہ 12 مئی کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ جبکہ عوام نے کہا ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت میں کارروائی اور اعتماد کی کمی نے ملک کو بند گلی کی طرف دھکیل دیا ہے جبکہ شکست خوردہ لیکن ضدی صدر اس سیاسی نظام کو تباہ کرکے اپنا بدلہ لینے کیلئے پرعزم ہیں جس کو وہ قابو نہیں کرپائے۔ ایک ایسے وقت میں جب مختلف اقسام سے بھرپور اتحادی مجمع کی نہ کوئی سمت متعین ہے اور نہ اسے کسی بات کا پتا ہے، سیاسی قیادت اپنی صلاحیتوں سے ہونے والے نقصانات اور معاملات پر قابو پانے میں افسوس اور نا امیدی کے ساتھ ناکام ہو رہی ہے۔ مینڈیٹ بالکل واضح طور پر صدر پرویز مشرف کے خلاف تھا لیکن انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور زبردستی خود کو منوا رہے ہیں، امید کر رہے ہیں کہ دوسرے غلطیاں کریں گے اور انہیں اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس مل جائے گی اور ساکھ بحال ہوجائے گی۔ یہ خطرناک سوچ ملکی مفاد کے خلاف ہے اور اس سے ملک کو المناک نقصان ہوسکتا ہے جو کہ ان کی سوچ او رسمجھ سے بالاتر ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ایک ایسا اتحاد تشکیل دیا ہے جو بے رنگ ہے اور اصولوں، خیالات اور کسی بھی طرح کے معیار سے عاری ہے اور ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک قو می تجزیہ نگارنے یہ بھی کہا ہے کہ ملک کو جن بڑے، تباہ کن اور خوفناک سیاسی، سماجی اور معاشی بحرانوں کا سامنا ہے، اس کے بارے میں سیاستدان پریشان ہیں اور نہ ہی فوجی جرنیل۔ دونوں خاموشی کے ساتھ الزام اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر عالمی بینک اور امداد دینے والے دیگر مغربی اداروں نے ایسے سخت اور مشکل مطالبات کرنا شروع کردیئے ہیں کہ قومی اتحاد کی ایک حکومت کو بھی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ان پر عملدرآمد میں مشکلات پیش آئیں گی؛ جس سے پہلے سے کچلے ہوئے عوام دل شکستہ اور بے یارو مددگار ہوجائیں گے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ورلڈ بینک نے الٹی میٹم دیا ہے کہ چند ماہ میں بجلی کے نرخوں میں 110 فیصد اضافہ کیا جائے یعنی بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت ساڑھے پانچ روپے سے ساڑھے 12 روپے ہوجائے گی۔ یہ مشورہ نہیں بلکہ ایک حکم ہے۔ سیاسی طور پر اس طرح کے اضافے کا مطلب کیا ہوگا یہ بالکل واضح ہے۔ اسی طرح سے صدر پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جوکروں کو انتخابات میں جتوانے کیلئے جس طرح سے ہر سخت اور مشکل فیصلے کو ٹال دیا، اس سے نئی حکومت کے پاس پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم کرنے، اسٹاک ایکسچینج پر اثر انداز ہونے یا کسی اور طرح کی چالاکی دکھانے کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ مغربی طاقتیں، خصوصاً امریکا، اب تک پریشان ہیں کہ آخر کس کی حمایت کی جائے۔ آسان آپشن یہ ہے کہ صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور صدر پرویز کی حمایت جاری رکھی جائے لیکن امریکا کو یہ احساس نہیں کہ جب تک مشرف کرسی پر موجود رہیں گے، ملک میں استحکام نہیں آئیگا۔ اس ہی پریشانی میں نئی حکومت کی مدد کرنے کی بجائے، واشنگٹن پھندے کو مزید کسنے میں مصروف ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے اس نے پاکستان کی جانب سے خرچ کی گئی رقم کی نقد ادائیگی روک دی ہے۔ اس نے سعودی عرب کے بازو بھی مروڑ دیئے ہیں کہ پاکستان کو سستا یا مفت تیل فراہم نہ کیا جائے جس طرح وہ ماضی میں آمروں کو فراہم کرتا رہا ہے۔ اس نے پاکستان پر دباو¿ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف / عالمی بینک کو بھی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے اپنے اسٹیٹ بینک، جسے نظام کی ناکامیوں کیخلاف دفاع کرنا چاہئے تھا، نے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجانا اور بحران سے خبردار کرنا شروع کردیا ہے۔ اسلئے اگر واشنگٹن ایک غیر مستحکم پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ بہتر حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن اگر وہ یہ سوچ رہا ہے کہ اسلام آباد پر دباو¿ ڈال کر جمہوری تجربہ جلد ناکام ہوجائے گا اور پاکستانی عوام مخالف دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کیلئے ایک اور جرنیل فوجی حکمرانی نافذ کردے گا تو وہ بہت دور کی سوچ رہا ہے۔ تیزی سے گزرتے ہوئے گھنٹے، دن اور ہفتے ایک ایسی مستحکم حکومت کا تقاضا کرتے ہیں جو حقیقی مسائل کو حل کرسکے لیکن وہ ترکیب جو استعمال کی جا رہی ہے وہ ساکھ سے محروم صدر، پارلیمنٹ میں سمجھوتہ کرچکی سیاسی قیادت اور ہر غلطی پر پردہ ڈالنے والی لچکدار عدلیہ کا ملیدہ ہے۔ ایسے کام نہیں چلے گا۔ لیکن وہ لوگ جنہیں فیصلہ کرنا ہے، صدر پرویز مشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، آصف علی زرداری اور چیف جسٹس افتخار چوہدری، ایک ہی صفحے پر موجود نہیں ہیں، ہر کوئی اپنی انا کا غلام ہے، اور یہ سب ایک ایسا ملیدہ بنا رہے ہیں جسے نام نہاد جمہوریت کہتے ہیں اور جس کیلئے ہر کوئی چلّا رہا تھا۔ یہ عوام کیخلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ ہر ایک کی جانب سے چالبازیاں کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ صدر کو بالآخر جانا ہی ہے کیونکہ وہ اپنی اننگز کھیل چکے ہیں، اسلئے انہیں مستعفی ہوجانا اور نظام کو اپنے استحکام کے راستے تلاش کرنے دینا چاہئے۔ زرداری صاحب کو وہی کہنا چاہئے جو وہ سمجھتے ہیں اور مزید امیج اور ساکھ کو گرنے نہ دیں۔ تین نومبر کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردینا چاہئے لیکن اس وقت انہیں کام جاری رکھنے کا اشارہ دینا چاہئے تاکہ وہ کوئی بڑا کردار ادا کرسکیں۔ جنرل کیانی جلد فیصلہ کرلیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور قوم کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے۔ یہ وہ ہی ہیں جن کی وجہ سے نیا نظام سنبھل نہیں پا رہا ۔ اصولوں پر چلنے والوں کو کوئی نہیں جھکا سکتا منزل حاصل کرکے رہیں گے۔ وکلا کوتقسیم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں،دیکھنا ہے بازوئے قاتل میں ابھی کتنا دم باقی ہے۔ عدلیہ کا وقار اور خود مختاری بحال کرنے کیلئے وکلا کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے قابل قدر کردار ادا کیا ہے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کیلئے مل کرجدوجہد کرنی ہے دیکھنا ہے کہ بازوئے قاتل میں ابھی کتنا دم باقی ہے۔ مشن اور کاز بڑا نوبل ہے۔ 9 مارچ کے بعد وکلا نے تحریک کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ جب آپ اصولوں پرچل رہے ہوں تو کوئی آپ کو جھکا نہیں سکتا عوام اپنی جدوجہد کو حتمی منزل تک پہنچائیں گے۔مالیاتی خسارے میں ریکارڈ اضافہ ہو ا ہے اور مہنگائی بڑھے گی، حکومت مالیاتی خسارہ کنٹرول کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے معاشی خرابیوں کے باوجود یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ 15/ برسوں کے دوران ساختی اصلاحات اور آزادکاری کے اقدامات کے نتیجے میں معیشت میں بنیادی طور پر لچک پیدا ہوئی ہے اور اگر مزید اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنے پر توجہ دی جائے اور اصلاحی اقدامات کیے جائیں تو معیشت کی نمو کی رفتار پھر تیز ہوسکتی ہے۔ ملکی معیشت بڑھتے ہوئے دباو¿ کا شکار ہے کئی منفی ملکی و عالمی واقعات اہم معاشی اظہاریوں (Economic Indicators) میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں جس کے باعث توقع ہے کہ رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح 5.5سے 6/فیصد کے درمیان ہوگی جبکہ افراط زر کی شرح بھی 11/ سے 12/? فیصد کے درمیان رہے گی سالانہ جاری حسابات کا خسارہ بطور فیصد جی ڈی پی ریکارڈ سطح پر پہنچنے و الا ہے حکومت کو نہ صرف مالیاتی خسارے کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے بلکہ اپنے اخر اجات پورے کرنے کے لیے مرکزی بینک کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی قرضے حاصل کر نے کے لیے انتظامات کرنے پڑیں گے۔ حکومت کی جانب سے بڑی مالیت میں لیے گئے قرض کا اثر خاص طور پر مالی سال 2008ء میں نمایاں رہا 10/ مئی 2008ئ تک یہ قرض بڑھ کر 551.0 ارب تک پہنچ گیا جو ایک ریکارڈ ہے مالی سال کے اسی مدت میں یہ قرضہ صرف 45.7 ارب روپے ہے اس طرح حکومت کی و اجب الادا مجموعی قرض 940.6 ارب روپے ہوگیا ہے اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ سال 2008ء کی صرف پہلی ششماہی کی معلومات دستیاب ہیں تاہم اندازہ ہے کہ جولائی تا مارچ کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے تناسب کے لحاظ سے مالی سال 2007ء کے سالانہ خسارے سے زیادہ ہوگا۔ حد سے بڑھے ہوئے مالیاتی تحرک، توانائی کی متعینہ قیمتوں میں اضافہ، شرح مبادلہ میں حالیہ تبدیلیوں اور مسلسل سخت موقف سے بھی ملک کا تجارتی خسارہ کافی حد تک بہتر ہونے کی توقع ہے یہ خسارہ کافی عرصے سے بڑھتا چلا جارہا ہے اب اسے کم کرنا ضروری ہے، رواں مالی سال کے دوران بجٹ توازن منفی 6.5 سے منفی 7/ فیصد اور کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس منفی 7.3 فیصد سے منفی 7.8 فیصد ہوگا جبکہ ان دونوں کا ہدف بالترتیب منفی 4 اور منفی 5 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ ورکرز ریمٹس ہدف 5.8ارب ڈالر کے ہدف سے بڑھ کر 6.2 سے 6.7 ارب ڈالر تک ہوجائے گا جبکہ ملکی درآمدات 34/ ارب ڈالر اور برآمدات 19.9 ارب ڈالر ہوگی مالیاتی اثاثے 13.7 فیصد کے ہدف سے بڑھ کر 17/ سے 19/ فیصد کے درمیان ہونگے۔ جولائی سے اپریل کے دوران مالیاتی خسارہ 3.6 فیصد ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ جی ڈی پی کا 1.9 فیصد تھا اسی طرح تجارتی خسارہ 7.8سے بڑھ کر جی ڈی پی کا 10.7 فیصد اور روا ں حساب کا خسارہ 4.6فیصد سے بڑھ کر 7/ فیصد ہوگیا جولائی سے اپریل تک کے دوران خالص غیر ملکی سرمایہ کاری 5.9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3.6 ارب ڈالر ہوگئی۔جولائی سے اپریل تک کے دوران افراط زر کی شرح 9.8 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران یہ شرح 7.8 فیصد تھی اس طرح بڑی صنعتوں کی شرح افزائش 9/ فیصد سے کم ہو کر 4.8 فیصد رہ گئی جبکہ ٹیکس وصولی کی شرح بھی 20/ فیصد سے کم ہو کر 16.3 فیصد ہوگئی۔ صدر پرویزمشرف کے خلاف سرگرم سابق فوجی افسران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی وہ آزاد عدلیہ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ سیاسی جماعتوں کیلئے ایک سخت پیغام میں سابق فوجی افسران نے کہا ہے کہ غلط کام کرنے پر مشرف کا احتساب ہونا چاہئے۔ بریگیڈیئر (ر) میاں محمد محمود کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں سابق فوجی افسران نے کہا کہ معاشرہ جسٹس افتخار چوہدری کی واپسی چاہتا ہے اور وہ اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی قلی خان کی موجودگی کو خاص طور پر نوٹ کیا گیا کیونکہ جنرل پرویز مشرف کی جگہ وہ آرمی چیف بننے والے تھے لیکن محلاتی سازشوں کا شکار بن گئے۔ نواز شریف نے ہمیشہ علی قلی خان کے خلاف دیئے گئے مشورے کو اہمیت دینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں شریک دیگر نمایاں شخصیات میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، لیفٹیننٹ جنرل (ر) جمشید گلزار کیانی، میجر جنرل (ر) شفیق احمد، میجر جنرل (ر) ایم ارشد ملک، میجر جنرل (ر) ہدایت نیازی، میجر جنرل (ر) ایم اے زبیری، بریگیڈیئر (ر) خادم حسین، بریگیڈیئر (ر) میاں محمود، بریگیڈیئر (ر) تاج، بریگیڈیئر (ر) عبدالسلام، بریگیڈیئر (ر) عربی خان، لیفٹیننٹ کرنل (ر) دالیل اور کیپٹن (ر) ظہیر الدین بابر شامل تھے۔ اجلاس کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) سلام اختر نے کہا کہ اجلاس میں 10 جون کو وکلاء برادری کی جانب سے ہونے والے لانگ مارچ میں شرکت کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ سابق فوجی افسران نے اس موقع پر زیادہ سے زیادہ سابق فوجیوں کو شرکت کرنے پر راضی کرنے کیلئے ر ضامندی ظاہر کی ہے۔ سابق فوجی افسران کو بھیجی گئی ایک اپیل میں کہا گیا ہے کہ صورتحال اب یہ ہوچکی ہے کہ ہم تماشائی بن کر مزید نہیں بیٹھ سکتے او رہمیں اس مشکل گھڑی میں مطلوبہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ سابق فوجی افسران کے گروپ نے، تاہم، واضح کیا کہ سابق فوجی کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) سلام نے کہا، ”ہم قوم کے بہترین مفاد میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں پرویز مشرف کے تین نومبر کے غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس بحران پر شدید تشویش لاحق ہے جس کا سامنا پاکستان کر رہا ہے“۔سابق فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر صدر پرویز مشرف نے 10 جون سے قبل استعفیٰ نہیں دیا تو سابق فوجی وکلاء تحریک میں بھرپور طریقے سے شامل ہوجائیں گے، پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا قانون کے مطابق ٹرائل کیا جانا چاہئے، ایکس سروس مین سوسائٹی وکلاء تحریک کی بھرپور حمایت کرے گی، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ اجلاس میں اس بات کا اصولی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کو 10 جون تک کا ٹائم دیا جائے گا تاکہ وہ صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دیدیں تاہم اگر انہوں نے اس دوران استعفیٰ نہیں دیا تو ان کی تنظیم وکلاء تحریک میں شامل ہو جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد ان کی تنظیم معزول ججز کی بحالی کیلئے وکلاء کی جدوجہد میں برابر کی شریک ہو گی اور ان کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ پارلیمانی ریاست میں آذادعدلیہ کا کرداربہت اہم ہے ۔آزاد عدلیہ کے بغیر نظام حکومت مضبوط نہیں ہوسکتا عوام نے اس ملک میں 14مہینے پہلے فیصلہ کرلیا تھا کہ اس ملک میں قانون اور عدلیہ آزاد ہوگی جب افتخار چودھری نے نو مارچ کو ایک آمر کے سامنے انکار کیا تھا تو انھیں یقین نہ تھا کہ سولہ کروڑ عوام ان کے ساتھ ساتھ آج کھڑ ے ہوں گے ساٹھ سال تک ملک میں آئین کو پامال کیا گیا ۔ چیف جسٹس کو اکاموڈیٹ کرنے کی بات کی گئی مگر انھوں نے انکار کر دیا افتخار چودھری نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ کسی کے سامنے نہیں جھکوں گااگر وہ نو مارچ کو جھک جا تے تو قوم سے غداری ہوتی۔تیرہ مارچ کووہ پہلی مرتبہ اپنے گھر سے تن تنہا نکلا اس وقت وکلارہنما اعتزاز احسن ،منیر اے ملک،علی احمد کرد،طارق محمود اور حامد خان نے ان کا ساتھ دیا جو آج تک ہم سب کے سامنے آج بھی مو جود ہیں ساری دنیا میں کبھی کسی نے اتنی بڑی تحریک نہیں چلائی جتنی پاکستان میں چلائی گئی ہے ۔ عوام نے اپنے لیے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے یہ اقدام کیا ہے اور اب لوگوں نے سوچ لیا کہ لوگوں کو گھروں پر انصاف ضرور ملے گا ۔ میڈیا وکلا کی تحریک کی آواز ہے جب آزاد عدلیہ نہیں ہوگی توپھر لوٹ مار اور دہشتگردی ہوگی اور کراچی کے واقعے سے ایسا لگتا ہے کہ لوگ خود گلی کو چوں میں فیصلہ کر رہے ہیں 72فیصدلوگ عدالتوں سے مطمئن نہیں ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کے حق میں ہیں ایسے میں لوگ کہا ں جائیں کیونکہ اب عدالتوں میں انصاف نہیں مل رہا ہے لوگوں کو معلوم ہے کہ اب جسٹس صبیح الدین جیسے ججز عدالت میں موجود نہیں ہیں منتخب زیراعظم نے صرف ایک حکم دیا تو ججز کے گھر سے رکاوٹیں ہٹا دیں گئیں یہ جمہوریت کی طاقت ہے عوام کی کوشش ہے کہ عدلیہ کی آذادی کی تحریک کامیا ب ہو ۔ اگر عدلیہ آ ز اد ہوگی توجمہوری ڈھانچے کی مدد کرے گی اور عدلیہ آزاد نہ ہوئی تو وہ رکاوٹیں ڈالے گی حقیقت میں آزاد عدلیہ کا اہم کردار ہے اورجو جمہوری نظام کو تقویت بخشتی ہے یہ چیک اینڈ بیلنس کے نظام کی ضمانت ہوتی ہے کچھ بھی ہوجائے عوام آئین پاکستان کا تحفظ کریں گے کراچی میں وکلا نے جانوں کی قربانی دی اور نقصانات اٹھائے جس کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔ وکلا کو سازشوں کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یا درکھیں تحریک ضرور کامیاب ہوگی آزاد عدلیہ جمہوریت کے لئے ڈھال کا کام کرے گی اور کسی آمرکی یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ اسمبلیوں کے خلا ف کو ئی کارروائی کر سکے پاکستان کے عوام کی منزل آزاد عدلیہ کی بحالی ہے ۔جو جلد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ اے پی ایس ،اسلام آباد
آئینی پیکیج کی منظوری تک پارلیمنٹ خطر ے میں رہے گی ،فہمیدہ مرزا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ آئینی پیکج کی منظوری تک پارلیمنٹ خطرے میں رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کی ترامیم نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کردیا ہے۔ جمہوریت کے فروغ کیلئے ایسی تمام ترامیم کا خاتمہ ضروری ہے ۔ وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں نیو ز کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ کا لا باغ ڈیم کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں بحث کرانا ضروری نہیں ہے،انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ تھا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے پارلیمنٹیرینز ، سیاستدانوں اور میڈیا کوکردار ادا کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ پارلیمنٹ کو عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگااور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو پارلیمانی جمہوری نظام کے راستے میں حائل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی لائیو کوریج کے انتظامات کئے جارہے ہیں لیکن میڈیا کارروائی کے حذف شدہ حصے ہرگز شائع اور نشر نہ کرے، 8سالہ آمریت کے بعد جمہوریت پنپنے لگی ہے اب مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے سیشنز کیلئے پارلیمنٹ کیلنڈر تیار کرلیاگیا ہے ۔ بچت مہم کے تحت قومی اسمبلی بجٹ کے 35کروڑ روپے حکومت کو واپس کردےئے ہیں۔اسپیکر نے کہاکہ عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں میڈیا اور پارلیمان کے درمیان بہتر اور قریبی رابطے ضروری ہیں۔ میڈیا پارلیمنٹ کے فیصلوں کوعوام تک پہنچانے کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے ، اس کردار کو وسعت دینا ضروری ہے ۔ جس کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی لائیو کوریج کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عوام کی پارلیمنٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ۔ صحافیوں اور سیاسی ورکرز نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اسی لئے 8سالہ دور آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی کو ساری دنیا میں سراہا جارہا ہے ۔ جس کا احساس مجھے آئی پی یو کی کانفرنس سے ہوا جو حال ہی میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہوئی تھی ۔ آئی پی یو پارلیمنٹ کے اجلاس کی صدارت دراصل پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز تھا ۔ انہوں نے کہاکہ 8سالہ آمریت کے بعد ملک میں جمہوریت پنپنے لگی ہے ۔ ہمیں منفی کے بجائے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ اسپیکر نے میڈیا سے کہاکہ قومی اسمبلی کی کارروائی کے حذف شدہ حصوں کو ہرگز شائع اور نشر نہ کیاجائے۔ اس بارے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مسائل اجاگر کرنے اور پالیسی سازی میں میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہئے۔اسلام آباد سے طارق بٹ کے مطابق ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پارلیمان کے باہر فیصلے کرنے کے اختیارات حاصل ہیں کیو نکہ قوم نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور جب یہ معاملہ اسمبلی میں لایا جائے تو اس پر ارکان اسمبلی بحث کریں اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ تجویز کردہ قانونی سازی کے معاملات پر اپنا ابتدائی کام مکمل کریں ،انہوں نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سیاسی معاملہ تھا اور تین صوبوں نے ویسے بھی اس کے خلاف قراردادیں پاس کردیں تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔اسیر ارکان پارلیمنٹ کو پیش کرنے کے اصول پر عملدرآمد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس پر قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں نے ماضی سے سبق سیکھ لئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزراء کی پارلیمان میں موجودگی کو یقینی بنانا پارٹی قائدین کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی اس معاملے پر نظر رکھیں گی تا کہ ارکان اسمبلی کی کارروائی میں شریک ہوں۔
Saturday, May 31, 2008
Judges’ issue after consensus, long march part of democracy: PM
ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Saturday said judges’ issue will be resolved in consensus with coalition partners on legal matters, and termed the call by lawyers for a long march as part of democratic norms. In an interview with a private television channel, Prime Minister dispelled impression that his government was not clear on the issue of judges’ reinstatement.
“Our intention is very clear on the issue, however we are cautious not to get into another crisis in an attempt to resolve the present one,” the Prime Minister said.
He said the issue would be resolved after all concerned parties develop a consensus on modalities and legalities of the issue.
“I am two hundred percent sure that the issue will be resolved by us,” he said.
The Prime Minister said the call for long march given by lawyers fraternity was part of democratic norms, and recalled similar movements launched by his party when in opposition to press for their demands.
“Long marches are part of democracy,” he said and added that Pakistan People’s Party had great contribution to the lawyers’ movement, as majority of lawyers actively supporting the issue belonged to PPP.
Gilani did not agree with the notion that coalition with PML(N) did not work out, and said parting ways by Mian Nawaz Sharif was not due to his annoyance with the government, but because of the commitment made to the nation.
“Their commitment was on timings, ours to resolve the issue,” he said.
“I can tell you one thing that Mian Sahib will not leave us. We are not fielding candidates against each other, even the PML(N) is not fielding its candidate against my son,” Gilani said.
The Prime Minister admitted that his government could not resolve the issue of judges within the deadline and said politics should involve flexibility.
Asked whether the parliament or the street power will determine President’s future, Gilani said, “May be we do not go for either of the two options,” and added the parliament was supreme and could take a decision.
He said many forces including bar associations, ex-armymen and civil society were playing their role as pressure groups on the issue.
He said people had given their decision through polls by electing moderate forces “for the change of system rather than change of persons”.
On relationship with President, Gilani said he had to keep on working within a system to run day-to-day state affairs, rather it was a “tight-roped” situation.
“People come and go. President will go, I will go. But the system has to be there. We want to maintain a balance of power between parliament and the presidency,” he said.
He said the government was working with coalition partners to bring changes in country’s system and strengthening institutions like parliament, judiciary and Election Commission for their smooth functioning.
The Prime Minister said the government would not compromise on the country’s sovereignty.
“On sovereignty, dignity, honour and self-respect, we will never compromise,” he said when asked about involvement of United States in country’s affairs.
Gilani said in his meeting with President George Bush he condemned in strong words the military strike by coalition forces in Damadola, and stressed increased intelligence sharing between Pakistan and the United States.
“I told President Bush to identify those who disturb our peace, and we will take action ourselves,” he said.
On government’s strategy against terrorism, the Prime Minister said his government believed that phenomenon of terrorism could not be rooted out through force only.
He referred to the government’s three-pronged policy based on socio-economic development, economic and job opportunities for the uplift of tribal people, so as to check their involvement in terror activities.
On future of peace accord with tribal clans, the Prime Minister said the pact was signed at provincial level, however the federal government did not enter into any such agreement.
On government’s stance over the Kashmir issue Prime Minister Gilani said Pakistan desires resolution of the core issue, otherwise misunderstandings will continue to hamper ties between the two countries.
“I hope there will be more confidence building between the two countries with a new civilian government in place.”
He said Pakistan desires good relations with all its neighbours, and in particular with India. He pointed that the Confidence Building Measures and the recent round of secretary-level talks were part of this exercise.
Questioned about the scrapping of Kalabagh dam project, Gilani said for the past 60 years the nation was made a fool and no government in the past carried it out.
“We have always stood by the stance that we cannot move forward on Kalabagh dam unless there is consensus,” Gilani said.
He said the present government has not been able to develop consensus on the controversial project but said it may develop at a later stage.
Prime Minister Gilani said the shortage of water was a serious issue and may even lead to future wars and was working on a comprehensive plan to build more dams besides seeking alternative sources for energy. He said the government will soon announce a new energy policy.
About the escalating prices of food, Prime Minister Gilani said the phenomenon was not confined to Pakistan, but was of global nature, with rising oil prices an important factor.
He said Pakistan has the advantage of being an agricultural country and the government will be promoting this sector in a big way to ensure there was no shortage of food in future.
Gilani was critical of previous governments for not increasing price of fuel and passing the heavy burden onto the new government.
“However we have accepted the challenge as the people have reposed confidence in us and we will face these,” he added.
About the 100-day program, he said there were several political issues, but sounded optimist that the government would achieve the targets.
Gilani endorsed the measures taken by the State Bank of Pakistan and said these were aimed at controlling the inflation.
Mentioning the volatility in stock market, the Prime Minister said “let me assure you Pakistan is in safe hands and will put the economy on the right track.”
Gilani also dispelled apprehension that the country will again seek IMF’s assistance and said it will be able to resolve issues on its own.
Asif Ali Zardari gives approval to constitutional package after few amendments
ISLAMABAD : Co-Chairman Pakistan Peoples Party (PPP) Asif Ali Zardari has given approval to the Constitutional Package which was submitted to him on Friday night by Federal Law Minister Farooq H. Naek. Co-Chairman suggested some changes which were incorporated into the package. After getting approval from Co-Chairman PPP Asif Ali Zardari and making necessary changes, the Law Minister Farooq H. Naek has started handing over the package to all the coalition partners, said a statement issued here by the Ministry of Law, Justice, Parliamentary Affairs and Human Rights Division.
Package could not be handed over directly to Asfandyar Wali Khan, Central President ANP because he is in Karachi.
However, the Constitutional Package was handed over by the Law Minister to Ms. Bushra Gohar, Central Vice President ANP as requested Asfandyar Wali Khan.
The Law Minister also had a telephonic conversation with Maulana Fazal- ur-Rahman who is in Saudi Arabia. Maulana Fazal-ur-Rehman congratulated the Law Minister, terming the Constitutional Package a great victory for the democracy. On Maulana Fazal-ur-Rehman’s request, the Law Minister handed over the Constitutional Package to his representative Mufti Abrar.
A representative member of MQM has also received the package which will be sent to MQM Chief Altaf Hussain in London.
The Law Minister, after discussion with PML (N) leader Khawaja Asif, is flying to Lahore on Sunday morning to hand over the Constitutional Package personally to Mian Muhammad Nawaz Sharif, Quaid PML (N). The meeting is fixed at 10 a.m in Raiwind.
It is clearly written on the package that changes can be made in the Constitutional Package as per suggestions from all the coalition partners and others.
Parliament to sort out all issues: Gilani
LAHORE : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani has said that the Parliament is the supreme institution and it will sort out all matters including the issue concerning the President. At a press briefing soon after landing at the old airport here Saturday, he said that PPP government would not go on a solo flight and take all its coalition partners along while deciding about major issues.
Gilani dispelled the impression about differences between the PPP and PML-N over the issue of the President, adding that all matters would be settled by taking all the stakeholders into confidence. The Parliament is the supreme forum and whenever the coalition will have two-thirds majority, it will sort out the issue of the President, he said.
The Prime Minister said, “It was Mohtarma Benazir Bhutto’s political sagacity that President Pervez Musharraf doffed his army uniform.”
He said PPP had always rendered great sacrifices for the restoration of democracy, supremacy of judiciary, parliament and the 1973 Constitution and sacrifices had no parallel in the entire sub-continent.
About the Kalabagh dam project Gilani said that the PPP’s stance had always been that it should be constructed with consensus of all the four provinces.
He asked as to why no government constructed Kalabagh dam during the last 60 years. “We do not tell lies to masses on the controversial dam,” he said, responding to a questioner.
The Prime Minister said that the government was focusing on construction of small dams to cater to the energy and water needs of the country.
To a question about Balochistan, Gilani said, “There is sense of deprivation in Balochistan and we will settle all issues of the province through dialogue.”
He said PPP co-chairman Asif Ali Zardari would soon call an All Parties Conference in Balochistan. He added that the government had stopped Army operation in Balochistan and the situation was improving there gradually.
Earlier, Punjab Governor Salman Taseer welcomed the Prime Minister, while Provincial Senior Minister Raja Riaz Ahmed, Punjab Finance Minister Tanvir Ashraf Kaira, Excise and Taxation Minister Mian Mujtaba Shuja-ur-Rehman, MNAs Samina Ghurki and Tasleem Qureshi, PPP Lahore President Aziz-ur-Rehman Chan and Imtiaz Safdar Warraich were also present.
Providing relief to poor govt’s priority: Gilani
ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Saturday said that providing relief to the people especially those in the lowest income groups, is the topmost priority of the government in the forthcoming budget. Chairing a meeting to discuss budgetary matters at the PM House, he said the government is well aware of the problems of the poorest and vulnerable groups.
He said they are facing hardships due to food inflation and expressed government’s strong resolve to address their needs through various incentives.
Explaining government’s priorities, the Prime Minister stressed the need to incorporate measures which helps in addressing the challenges the country was facing.
He said that boosting of agriculture and manufacturing growth, overcoming energy and water shortages, developing human resource as well as providing relief to the lowest income groups are the real objectives to be incorporated in the budget.
The Prime Minister said that construction of small dams, incentives for private sector to invest in the power generation projects, increased allocation for water conservation and management are some of the areas that need focused attention to meet the growing demand of energy.
In order to improve the overall socio-economic condition of the country, he said that concrete proposals need to be adopted for launching of new schemes which help in creating job opportunities both in the manufacturing and agriculture sector.
The meeting was attended by the Minister for Defence Chaudhry Ahmed Mukhtar, Minister for Finance Syed Naveed Qamar, Special Assistant to PM on economic Affairs Ms. Hina Rabbani Khar, Special Assistant to PM Ms. Shahnaz Wazir Ali, Deputy Chairman Planning Commission, Salman Farooqi, Members of economic advisory committee, Chairman FBR, Secretary Finance and Secretary Planning.
Govt. to take measure in the budget to consolidate economy: Naveed Qamar
ISLAMABAD : Minister for Finance, Revenues Economic Affairs and Privatization, Syed Naveed Qamar said on Saturday that special attention would be given to consolidation the economy to bring it on right track. The government inherited a sluggish economy and in the forthcoming budget special measure would be take for providing safety nets to the poor segment of the society.
“In the first year of the government, the focus will be on the consolidation of the economy and bring it on right track while in the next four years emphasis will be laid on the progress and accelerate the economic growth of the for the socio economic development of the country and welfare of its people”, he said this while addressing the Pre-Budget Seminar organized by the Express News and Channel here at a local hotel today.
Chairman Federal Board of Revenue (FBR) M.Abdullah Yousuf , Former Finance Minister Sartaj Aziz, Former Advisor on Agriculture Shafi Niaz, Abid Hassan of the World Bank, renowned economist Qaiser Bengali, President FPCCI Tanvir Ahmed Sheikh and Vice President All Pakistan Textile Manufacturers Association (APTMA) also spoke on the occasion.
Syed Naveed Qamar said that in the forthcoming budget would focus on the targeted subsidies to the poor segment of the society so that they could get the real benefit of the facility.
He added that government would also focus on reducing the non-development expenditures and steps would also be taken for mobilizing the revenues and broaden tax regime for the prosperity of the country.
He said that for the first time in the parliamentary history of the country, the defence budget will be debated in the parliament.
He criticized the policies of the previous government and said that Pakistan which is an agriculture country and feeds in the region while the previous government first exported the wheat at low prices and imported the commodity on the high prices causing losses to the country.
The Finance Minister added that government would also focus on the development of manufacturing and agriculture sector for employment generation and enhanced production.
Syed Naveed Qamar added that Pakistan is facing with economic challenges and crisis adding said “Every crisis will be turned into an opportunity”.
Speaking on the occasion Shafi Niaz called for development of agiclture sector and provision of maximum facilities to encourage the farmers for increasing per acre production.
Sartaj Aziz speaking on the occasion called for political stability for the economic development of the country.
He also called for development of agriculture and manufacturing sectors in the country.
He also stressed the need for providing economic relief to the poorest segment of the society through Baitul Maal and NGOs and creating employment opportunities to the people for poverty reduction.
Abdullah Yousuf speaking on the occasion also called for development of agriculture for the prosperity of the country.
Qaiser Bengali on the occasion stressed the need for utilizing the railways for transportation of goods instead of trucks for reducing import bill for the benefit of the country.
Abid Hassan in his remarks said that government should live in its means and reduce its budget deficit.
The other speakers stressed the need for promotion of agriculture and manufacturing sectors for the prosperity of the country.
Clocks to be advanced by an hour from Sunday
ISLAMABAD: Country’s people will move forward their clocks by one-hour from Sunday to get maximum benefit from the daylight in the wake of power crisis. Addressing a press conference, Minister for Water and Power Raja Pervaiz Ashraf on Saturday said the government has prepared comprehensive plan to overcome loadshedding problem in the country within a year.
The minister said power will also be saved by implementing energy conservation plan under which in coming 90 days from first of June all shopping plaza owners will be asked to close their shops after 9 p.m.
Similarly, WAPDA will not supply power to billboards using electric lights besides saving through management of street lights. He said shopkeepers will be encouraged to close their shops on Friday instead of Sunday.
He said under the decision of special cabinet meeting all government offices have been issued direction to stop use of air conditioners during 8 a.m. to 11 a.m..
He said international standard energy saver bulbs are being purchased to promote culture of installing such bulbs in the country. He added steps are also being taken to control line losses and those officials who will involve in such losses will face action.
He said the special meeting of the cabinet has decided that experts and concerned stakeholders will be involved in the planning to overcome power shortage problem in the country by implementing their inputs.
The minister said the country is facing 4,500 MW power shortfall in power generation and low level of water in the dams. The minister however said the government has planned to resolve loadshedding problem within a short period.
He said after one year, there will be no loadshedding in the country as the government is taking sincere steps in this regard following the direction of the Prime Minister.
He said the government has planned to include 6,000 MW power in the system. He said the government will encourage private sector to invest in power sector to overcome the power crises and to facilitate the electricity customers.
He said oil price in international market is gradually increasing however the government is trying to maintain the power tariff. He said the government affords subsidy of 80 paisa per unit despite the fact that expenses on thermal unit increases.
COAS witnesses annual field firing at Tilla Ranges
RAWALPINDI : The Chief of Army Staff, General Ashfaq Parvez Kayani Saturday visited Tilla field firing ranges near Jhelum to witness annual field firing and battle inoculation maneuvers conducted in near real operational environment.
A large number of troops participated in the exercise. Talking to the troops on this occasion, Chief of Army Staff appreciated their training standard. He said Pakistan Army has a challenging task of responding to the full spectrum of conflict. While Low intensity Conflict remains in sharp foucs, the importance of maintaining a high degree of response capability against conventional threat cannot be ignored. He emphasized the need for the Army to remain focused on professional excellence.
Earlier, Corps Commander Mangla, Lieutenant General Nadeem Ahmed received the Chief of Army Staff at Tilla field firing ranges.
PPP committed to restoring pre-Nov 3 judiciary, change in system: Rabbani
ISLAMABAD : Leader of the house in Senate, central PPP leader Raza Rabbani, while reiterating the commitment of PPP to restore pre-November 3 judiciary and change in the system, Saturday said there should be no confusion in this regard.
Talking to a private television channel late Friday night the PPP leader said that people have given the mandate to major political parties in February 18 election to change the system and bring the rule of law in the country and the coalition partners will honor it.
He however said that it was not possible to address all the issues overnight adding the people will see visible change with the passage of time.
Rabbani said PPP represents the people of Pakistan and it will make all the decisions by keeping their aspiration on priority.
The party will not bow before any external pressure in formulating its domestic policies and running the day to day affairs, he said.
He said as for the revival of pre-November 3 judiciary is concerned there is no difference between PPP and PMLN adding the parties however have the difference of opinion as far the methodology is concerned.
The people of Pakistan have given clear verdict against the policies of prevous government and the coalition partners have similarity of views in this regard.
He said any move in to reform the system should be well planned.
He said before going for ant impeachment process, the coalition partners should ensure the required support of parliamentarians because a failed attempt would be disastrous for the democracy.
He was of the opinion that at present the number game is not complete for impeachment.
To a question he said the recent telephonic contact of US President George W. Bush with President Musharraf will have no impact on the verdict of people on February 18.
He said the coalition government is taking the gradual steps to ensure the sovereignty of the country.
ایک بےگناہ منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑی لگ سکتی ہے تو ایک قاتل آمر کو کیوں نہیں لگ سکتی‘ ساجد میر

ریاض ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ اگر منتخب وزیراعظم کو ایک آمر ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر سکتا ہے تو قوم پر مسلط ایک قاتل آمرکو ہتھکڑی کیوں نہیں لگ سکتی جس کے ہاتھ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے خون سے رنگے ہوں اور جس نے آئین کو روند کرجمہوریت اورعدالت عظمیٰ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔ آج اگر پرویز مشرف کو کٹہرے میں نہ لایا گیا تو کل کو کوئی دوسرا طالع آزما آسکتا ہے۔ وہ ریاض میں مرکزی جمعیت اہل حدیث سعودی عرب کی طرف سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ جس سے مرکزی ناظم اعلیٰ حافظ عبدالکریم اور سعودی عرب کے امیر مولانا عبدالمالک مجاہد نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہاکہ پرویز مشرف نے عالم اسلام میں پاکستان کی نظریاتی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے‘ روشن خیالی کے نام پر دینی اقدار کو تباہ کیا‘ دینی مدارس اور علماء کی تضحیک کی‘ مساجد کو شہید کیا۔ پاک فوج اوردیگر قومی اداروں میں دین پسند افسران کو چن چن کر کنارے لگایا‘ ان کی تنزلیاں کیں۔ مشرف کا 9 سالہ دور سیاہ ترین رہا۔ اگر اب بھی اسے محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی گئی تو یہ ملک و قوم کے ساتھ غداری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ مشرف کو بچانے کی کوشش کر کے سولہ کروڑ عوام کی رائے کی نفی کر رہا ہے اور ایک لحاظ سے وہ جمہوریت کی بجائے ایک آمرکو بچا کر جمہوریت دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مگرتمام ملکی و غیر ملکی سازشوں کے باوجود مشرف کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اس کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین کی عالم اسلام کیلئے خدمات خصوصاً پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ہر موقع پر دوستی کا حق ادا کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور اس امرپر زو ر دیا کہ عالم اسلام امریکہ کی دہشت گردی کے نام پر جاری پالیسی میں تبدیلی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ عراق‘ افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کو روکا جائے۔
آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد آئینی پیکج کا مسودہ ایم کیو ایم ، اے این پی اور جے یو آئی کے حوالے کر دیاگیا
وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کل میاں نواز شریف کو رائے ونڈ میں ملاقات کے بعد آئینی پیکج کا مسودہ دیں گے
اسلام آباد ۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی منظوری سے آئینی پیکج میں کچھ ترامیم کے بعد اس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ آئینی پیکج گزشتہ رات وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کو بھجوایا تھا آصف علی زرداری کی طرف سے منظوری اور کچھ ترامیم کے بعد وفاقی وزیر قانون نے آئینی پیکج اتحادی جماعتوں کو بھجوانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ وزارت قانون کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آئینی پیکج کا مسودہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان کو براہ راست نہیں دیا جا سکا کیونکہ وہ ان دنوں کراچی میں ہیں اس لئے آئینی پیکج کا مسودہ اے این پی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر کو اسفند یار ولی کے کہنے پر فراہم کیا گیا ہے وفاقی وزیر قانون نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کو آئینی پیکج کے حوالے سے ٹیلی فون کیاہے جو ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں مولانا فضل الرحمن نے وفاقی وزیر سے کہاکہ آئینی پیکج کی تیاری جمہوریت کی عظیم فتح ہے مولانا فضل الرحمن کے کہنے پر آئینی پیکج کا مسودہ ان کے نمائندے مفتی ابرار کے سپرد کر دیا گیا ہے ایم کیو ایم کے ایک نمائندے نے بھی آئینی پیکج کے مسودے کی کاپی وصول کر لی ہے جو لندن میں الطاف حسین کو بھیجی جائے گی وفاقی وزیر قانون نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف سے مشاور ت کے بعد آج اتوار کو لاہور جائیں گے اور آئینی پیکج کا مسودہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے سپرد کریں گے ۔ وفاقی وزیر قانون اور میاں نواز شریف کی ملاقات کل دس بجے لاہور رائے ونڈ میں ہو گی ۔ آئینی پیکج پر یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے کی جائے گی۔
اسلام آباد ۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی منظوری سے آئینی پیکج میں کچھ ترامیم کے بعد اس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ آئینی پیکج گزشتہ رات وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کو بھجوایا تھا آصف علی زرداری کی طرف سے منظوری اور کچھ ترامیم کے بعد وفاقی وزیر قانون نے آئینی پیکج اتحادی جماعتوں کو بھجوانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ وزارت قانون کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آئینی پیکج کا مسودہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان کو براہ راست نہیں دیا جا سکا کیونکہ وہ ان دنوں کراچی میں ہیں اس لئے آئینی پیکج کا مسودہ اے این پی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر کو اسفند یار ولی کے کہنے پر فراہم کیا گیا ہے وفاقی وزیر قانون نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کو آئینی پیکج کے حوالے سے ٹیلی فون کیاہے جو ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں مولانا فضل الرحمن نے وفاقی وزیر سے کہاکہ آئینی پیکج کی تیاری جمہوریت کی عظیم فتح ہے مولانا فضل الرحمن کے کہنے پر آئینی پیکج کا مسودہ ان کے نمائندے مفتی ابرار کے سپرد کر دیا گیا ہے ایم کیو ایم کے ایک نمائندے نے بھی آئینی پیکج کے مسودے کی کاپی وصول کر لی ہے جو لندن میں الطاف حسین کو بھیجی جائے گی وفاقی وزیر قانون نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف سے مشاور ت کے بعد آج اتوار کو لاہور جائیں گے اور آئینی پیکج کا مسودہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے سپرد کریں گے ۔ وفاقی وزیر قانون اور میاں نواز شریف کی ملاقات کل دس بجے لاہور رائے ونڈ میں ہو گی ۔ آئینی پیکج پر یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے کی جائے گی۔
بھارتی فضائیہ نے لداخ میں ٤٣ سال پرانا ائیر بیس دوبارہ کھول دیا
جموں ۔ بھارتی ائیر فورس نے چائنہ بارڈر کے نزدیک لداخ میں اپنا پرانا ائیر بیس دوبارہ کھول دیا ہے ۔ بھارتی فورس نے جموںو کشمیر میں لداخ کے پہاڑی علاقے میں اپنا 43 سال پہلے بند کیا ائیر بیس ہفتے کے روز کھول دیا ہے ۔ یہ ائیر بیس 1962 ء میں چائنہ بھارت جنگ کے دوران بنایا گیا تھا جسے 1965 ء میں بند کردیا گیا تھا۔ ائیر فورس کا کمانڈر آف چیف باربرا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اتنی اونچائی پر ائیر بیس کا کھولنا دنیا میں بھارت کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ ائیر بیس قراقرم سے 8 کلومیٹر جنوب میں چائنہ بارڈر کی طرف ہے مستقبل میں بھارتی ائیر فورس یہاں سے این 32 ٹرانسپورٹ ائیر کرافٹ کی پروازیں شروع کرنا چاہتی ہے ۔ بھارتی ائیر فورس کے ذرائع کے مطابق یہ ہماری کوششوں کا حصہ ہے کہ ہم پاک چائنہ بارڈر کے نزدیک دور دراز کے علاقوں میں اپنی ہوائی پروازوں کو بہتر بنائیں ۔
ہماری تحریک کی طاقت عوام اور وکلاء ہیں۔افتخار محمد چوہدری کا اٹک بار سے خطاب

اٹک ۔ چیف جسٹس ، جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ ہماری تحریک کی طاقت عوام اور وکلاء ہیں وقت آگیا ہے کہ وکلاء بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے تین اصولوں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو لے کر آگے بڑھیں اور ہر طرح کے لالچ کو ٹھکرا دیں ۔ ہمارا نعرہ اس ملک میں آئین وقانون کی بالادستی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور جاتے ہوئے اٹک بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے آج بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میں نے وکلاء کا ایک بار پھر جم غفیر دیکھا ہے ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اٹک میں ہمارا اتنا والہانہ استقبال ہو گا میرے پاس الفاظ نہیں کہ جن سے میں وکلاء اور یہاں کے لوگوں کا شکریہ ادا کر سکوں ، میرا ملک اس وکلاء تحریک کے ہر اول دستے میں سے ہے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ان گمنام ڈاکٹروں کا شکر ادا کیا جنہوں نے بلا جواز جیلوں میں ڈالے گئے وکلاء قیدیوں کی دیکھ بھال کی ان وکلاء کو بغیر کسی وجہ کے جیلوں میں ڈالا ہوا تھا ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے وکلاء کے استقبال کیلئے اپنی دکانیں اور کاروبار بند کئے ہیں۔ میرے دلوں میں عوام کے لئے بے پناہ محبت ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بعد اگر ہمارا کوئی مدد گار ثابت ہوا تو وہ آپ لوگ ہیں ۔ میں طلبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں میں تاجروں کا بھی مشکور ہوں جنہو ںنے اپنا قیمتی وقت ہمارے لئے وقف کیا ہے سٹیج تو کمزور ہو سکتا ہے لیکن اٹک کے عوام کمزور نہیں ہو سکتے ۔ اسلام آباد کی ججز کالونی میں کوئی بھی وا قع رونما ہوتا ہے تو لطیف آفریدی کا فون آ جاتا ہے۔ جو وو اپنی زبان میںکہتا ہے ’’ تُسی فکر نہ کرو اسیں تہاڈے نال ہاں ‘‘ ۔ ہمارا عہد ہے اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رکھنی ہے دیکھنا ہے کہ ہمارے بازؤوں میں کتنی طاقت ہے میری ہماری طاقت عوام ہیں۔ اٹک کے وکلاء نے 9مارچ سے ثابت کیا کہ جب بھی ان کی ضرورت پڑی وہ شاہراہ دستور اسلام آباد میں موجود رہے ان کے سامنے صرف ایک ہی مشن تھا عدلیہ کی آزادی ، آئین و قانون کی بالادستی ، اسلام آباد ججز کالونی میں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا اٹک کے وکلا ء پہنچ جاتے میں ان کا انتہائی شکر گزار ہوں وکلاء اس ارادے کے ساتھ یہاں جمع ہیں کہ ہم نے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے ہم نے ابھی کتنی جدوجہد کرنی ہے اس کیلئے ہم پر عزم ہیں پاکستان کے تمام وکلاء صاحبان سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ قائداعظم کے تین نکات کی پاسداری کریں اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں وکلاء کی عظمت کو سلام پیش کرتا کرتاہوں جنہوں نے ہر قسم کی پیشکش اور لالچ کو مسترد کیا انہوں نے کہا کہ وکلاء کو ہر طرح کا لالچ دیا جارہے ۔ اس سے قبل بار سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنما علی احمد کرد نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اگر 10جون تک ججز بحال نہ ہوئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ضرور اور جلد اپنی کرسی پر بیٹھیں گے اور مشرف کو اب جانا ہو گا پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں یہ سب سے بڑا لانگ مارچ ہے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے انہوں نے کہاکہ ہم لڑنا اورٹکرانا نہیں چاہتے ہمارے لئے تمام ادارے قابل احترام ہیں اسمبلی کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں یہ پاکستان کے عوام کی اسمبلی ہے ہم مخلوط حکومت کی قدر کرتے ہیں کیونکہ یہ سیاسی لوگوں پر مشتمل ہے مگر اگر یہ اسمبلی اور حکومت مشرف سے ملی ہوئی ہیں تو اس کا حساب دینا ہو گا انہوں نے کہاکہ یہ اسمبلیاں وکیلوں کی قرضہ دار ہیں اور اگر ججز بحال نہ ہوئے تو اسمبلیوں اور مخلوط حکومت کی بقاء کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں ابھی کافی دن ہیں انہوں نے کہاکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں ہمارا ججز کی بجالی اور عدلیہ کی آزادی کے بغیر اور کوئی مطالبہ نہیں اس وقت ملک شدید بحرانوں کی لپیٹ میں ہیں شدید مہنگائی بے روز گاری ہے امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب ہے انہو ںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے فرائض انجام دے اس لئے ہم نے حکومت کو 17مئی کے بجائے 10جون تک کی مہلت دی ہے اگر 10جون تک ججز بحال نہ ہوئے پھر دما دم مست قلندر ہو گا علی احمد کرد نے کہاکہ ہم دوبارہ یہاں آئیں گے ۔انہوں نے عوام ، وکلاء سے درخواست کی کہ وہ ججز کی بحالی تک وکلاء تحریک کا ساتھ دیں ۔ اس سے قبل جب چیف جسٹس اٹک پہنچے توعوام میں زبردست جوش و خرو ش بذریعہ جی ٹی روڈ ہٹیاں پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد نے منوں پھول کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے چیف جسٹس کا شایان شان استقبال کیا۔ (ن) لیگ کے ایم این اے شیخ آفتاب احمد جب استقبال کیلئے معزول چیف جسٹس کی گاڑی کے پاس گئے تو چیف جسٹس کے ڈرائیور نے دروازے کا شیشہ نیچے کیا جس پر شیخ آفتاب احمد نے چیف جسٹس سے ہاتھ ملایا
نوازشریف کا صدر کے مواخذے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا، جب پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت ہوگی تو مواخذے کی تحریک پر پیش رفت کریں گے۔ سید یوسف رضا گیلانی

لاہور۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نے میاں نوازشریف کا صدر کا مواخذہ کرنے کا مطالبہ قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد ملک سے آمریت کا خاتمہ، عدلیہ کی بحالی اور پارلیمان کو سپریم بنانا ہے۔ جب بھی ہمارے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ میں مطلوبہ اکثریت ہوگی اس وقت آئینی اور جمہوری طریقے سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک پر پیش رفت کریں گے اور اس بارے میں کوئی سولو فلائٹ نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال گورنر پنجاب سلمان تاثیر، پیپلز پارٹی لاہور کے صدر حاجی عزیز الرحمن چن، مسلم لیگ (ن) کے صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن ودیگر نے کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے پارلیمنٹ کو سپریم بنانا ہے تاکہ ججز کی بحالی اور صدر کے مواخذے سمیت تمام فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جاسکیں۔ پارلیمنٹ کو سپریم بنانے کیلئے چاروں اتحادی جماعتوں سے مشورے کررہے ہیں اور کوئی فیصلہ اکیلے نہیں کریں گے۔ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو ختم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ ساٹھ سالوں میں کوئی بھی حکومت کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کرسکی اس لئے ہم بھی قوم سے کوئی ایسا وعدہ نہیں کریں گے جسے پورا نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں احساس محرومی ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے اس کا یہ احساس ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بہت جلد پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بلوچستان جائیں گے جہاں وہ بلوچستان کے لیڈروں کی آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے جس میں ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے گی۔ ہم پہلے ہی بلوچستان میں فوج کے آپریشن کو ختم کرچکے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شریف برادران کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی

اسلام آباد۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شریف برادران کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی ہے ۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف اور پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرنے والے انتخابی ٹربیونل کے منقسم ہونے پرالیکشن کمیشن نے شریف برادران کو انتخابات لڑنے کی اجازت دیدی ہے ۔ اس طرح انتخابات میں کامیابی پر میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلی ہوں گے اور عبوری وزیراعلٰی دوست محمد کھوسہ اپنے عہدے سے ہٹ جائیں گے۔
مسلم لیگ ( ن ) کا ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں امیدوار نہ کھڑے کرنے کااعلان
لاہور ۔ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی خالی نشستوں پر امیدوار نہ لانے کا اعلان کیا ہے میاںنواز شریف کی صدارت میں پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں راولپنڈی کے حلقوں این اے52 سے کیپٹن صفدر اور این اے 55 سے حاجی پرویز خان امیدوار ہوں گے ۔لاہور کے حلقوں این اے 129 سے حمزہ شہباز شریف اوراین اے 123 سے میاں نواز شریف امیدوار ہوں گے۔ اسی طرح این اے 131 شیخوپورہ سے احمد عتیق کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیاگیا ۔ این اے 147 اوکاڑہ کی نشست آصف علی زرداری کی درخواست پر خالی چھوڑی گئی ہے ۔ یہ نشست میاں منطور احمد وٹو نے خالی کی بھکر پی پی 124 پی پی 141 اور پی پی 154 سے میاں شہباز شریف پی پی 54 فیصل آباد سے چوہدری صفدر رحمان پی پی 70 فیصل آباد سے رانا ثناء اللہ خان ، پی پی 99 سے حسن سیف اللہ پی پی 107 حافظ آباد سے میاں شاہد حسین بھٹی پی پی 171 ننکانہ صاحب سے رانا محمد ارشد پی پی 243 سے سردار ذوالفقار خان کھوسہ امیدوار ہوں گے جبکہ پی پی 295 رحیم یار خاان کی نشست وزیر اعظم کے بیٹے عبد القادر گیلانی کے لیے خالی چھوڑی گئی
مشرف کے بعد آصف زرداری بھی امریکہ کے غلام بن چکے، اب میاں نوازشریف واضح سٹینڈ لیں ۔عمران خان

٭۔ ۔ ۔ آصف زرداری عوامی مینڈیٹ کے الٹ چل رہے ہیں ، وہ اپنی ذات کو بچانے کیلئے عدلیہ کو کسی صورت بحال نہیں ہونے دیں گے۔
لاہور ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے دن گنے جاچکے ہیں اور وہ ایوان صدر میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے۔ آصف علی زرداری امریکہ کے غلام بن چکے ہیں۔ اب میاں محمد نوازشریف کو کوئی واضح سٹینڈ لینا چاہئے۔ وہ آج سگریٹ نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو الیکشن میں جو مینڈیٹ دیا ہے آصف علی زرداری اس کے الٹ چل رہے ہیں۔ وہ عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کررہے بلکہ صدر پرویز مشرف کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کو تحفظ دے رہا ہے اور آصف علی زرداری نے بھی امریکہ کی غلامی شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کرپشن کی ہے ۔ اب وہ اپنی ذات کو بچانے کیلئے عدلیہ کو کسی صورت آزاد نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنا رکھا ہے جبکہ اختیارات سارے کے سارے آصف علی زرداری کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف 18فروری کو الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی اے پی ڈی ایم کی بات مان لیتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ میاں نوازشریف کو بھی اب واضح موقف اپنا لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے یہ مذاق زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اے پی ڈی ایم ملک کی موجودہ صورتحال پر جلد قومی کانفرنس بلائے گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔
لاہور ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے دن گنے جاچکے ہیں اور وہ ایوان صدر میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے۔ آصف علی زرداری امریکہ کے غلام بن چکے ہیں۔ اب میاں محمد نوازشریف کو کوئی واضح سٹینڈ لینا چاہئے۔ وہ آج سگریٹ نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو الیکشن میں جو مینڈیٹ دیا ہے آصف علی زرداری اس کے الٹ چل رہے ہیں۔ وہ عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کررہے بلکہ صدر پرویز مشرف کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کو تحفظ دے رہا ہے اور آصف علی زرداری نے بھی امریکہ کی غلامی شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کرپشن کی ہے ۔ اب وہ اپنی ذات کو بچانے کیلئے عدلیہ کو کسی صورت آزاد نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنا رکھا ہے جبکہ اختیارات سارے کے سارے آصف علی زرداری کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف 18فروری کو الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی اے پی ڈی ایم کی بات مان لیتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ میاں نوازشریف کو بھی اب واضح موقف اپنا لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے یہ مذاق زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ اے پی ڈی ایم ملک کی موجودہ صورتحال پر جلد قومی کانفرنس بلائے گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔
امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے دور رکھا جائے، عبدالرشید ترابی
اسلام آباد ۔ جماعت اسلامی آزاد کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ ملک میں بحران خانہ جنگی اور مہنگائی کا طوفان امریکہ کی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی وجہ سے ہو رہا ہے،آزاد خارجہ پالیسی بناکر امریکہ کو اپنے جگہ پر نہیں رکھاجاتاتو اس وقت تک بحران ختم نہیں ہو گا،انھوں نے کہا کہ سخاکوٹ میں ہماری گاڑی پر فائرنگ سے وہاں کے حالات کی سنگینی کا پتہ دیتی ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انھوں نے کہا کہ غزہ میں 15لاکھ فلسطینیوں کو معاشی ناکہ بندی کے نام پر اسرائیل اور امریکہ قتل کرنا چاہتے ہیں،روزانہ فلسطینی بچے دودھ نہ ہونے کی وجہ سے اور ہسپتالوں میں ادویات اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شہید ہورہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سعودی عر ب کا کردار تنارعات کے حل کے حوالے سے شاندار رہا ہے ،سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ اپنے تیل کی پیداوار میں سے کچھ حصہ اپنے بھائیوں کی جان بچانے کے لیے فلسطینیوں کو فراہم کریں،انھوں نے کہاکہ امریکہ نہیں چاہتاکہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو ایسے میں او آئی سی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے،متاثرین زلزلہ کی بحالی اوربے روزگاری کے خاتمے کے لیے انھوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو ڈیڈ لائن دے رکھی ہے اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے توہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ کر ٤٤ ارب ٥٩ کروڑ ڈالر ہوگیا
اسلام آباد ۔ رواں مالی سال کے دوران غیر ملکی قرضوں میں اب تک تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ سال ختم ہونے میں ابھی چار ہفتے باقی ہیں۔ اِس سال اب تک ہونے والے اِس اضافے کے ساتھ پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ کر 44ارب59کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔ حکومتی حلقے اِس کی بڑی وجہ توازنِ ادائگی کے بڑھتے ہوئے خسارے کو قرار دے رہے ہیں۔ ملک میں نافذ فسکل ریسپونسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ کے تحت حکومت ہر سال بیرونی قرضوں میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے 2.5فی صد کی شرح سے کمی کی پابند ہے۔ اِس سال حکومت کو بیرونی قرضوں کے حجم کو جی ڈی پی کے 27فی صد سے کم کرکے 24.5فی صد کرنا تھا۔ تاہم، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دورانِ سال معیشت کی جو صورتِ حال رہی اْس میں حکومت کے لیے یہ حدف حاصل کرنا ممکن نہیں اور یہ تناسب 27فی صد ہی رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے نو ماہ کے دوران حکومت نے پانچ ارب 58کروڑ ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے تاکہ جاری اکاؤنٹ کے خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ جون 2007 میں ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ 39ارب ڈالر تھا جو اب بڑھ کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں اضافے کی وجہ سے حکومت پر بیرونی قرضے لینے کے لیے دباؤ بڑھا جب کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی اِس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے۔ پاکستانی زرِ مبادلہ کے ذخائر گذشتہ چند ماہ میں چار ارب ڈالر سے زائد کمی کے بعد اِس وقت تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
سوات ۔دہشت گردی اور تشدد ، دو سالوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ‘ اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا
سوات ۔ تقریباً دو سال سے جاری انتہا پسندی اور تشدد کے نتیجے میں اگر ایک طرف سینکڑوں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں اور اربوں روپے مالی املاک کو نقصان پہنچا ہے تو دوسری طرف اِس کے نتیجے میں سیاحت کے شعبے کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے۔ حاجی زاہد خان، صدر، ہوٹل ایسو سی ایشن سوات نے بتایا کہ صرف ہوٹل کے شعبے سے وابستہ نہ صرف 40ہزار کے لگ بھگ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، بلکہ تشدد اور دہشت گردی کے نتیجے میں سوات کی سیاحت سے وابستہ شعبوں کو گذشتہ سال تین ارب روپے سے زیادہ کانقصان ہوا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ گذشتہ دِنوں صوبہ سرحد حکومت اور مولانا فضل اللہ کی قیادت میں مبینہ طالبان جنگ جوؤں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سیاحت کے شعبے میں بہتری آئے گی۔ ہوٹل ایسو سی ایشن سوات کے سیکریٹری حاجی دْعا خان نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ ’لوگ ابھی تک خوف زدہ ہیں۔ لوگوں کی دِلوں میں وہ پرانا والا خوف بیٹھا ہوا ۔ خیال رہے کہ صوبائی حکومت اور مبینہ طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ماضی کے بنسبت سوات بھر میں گذشتہ چند دِنوں سے حالات پْرسکون ہیں اور دہشت گردی سے متاثر ہونے والے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے آپ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن پیر سے شروع ہو گا

اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن ( پیر ) سے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گا۔ اجلاس میں ایک خاتون ایم این اے سمیت تین نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے ۔ اجلاس سے قبل ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی اور حکومت و اپوزیشن پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس ہوں گے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کل سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی صدارت میں سہ پہر پانچ بجے شروع ہو گا ۔ نو منتخب رکن قومی اسمبلی فریال تالپور ، پی پی پی پی کے آفتاب شعبان میرانی ، اور جے یو آئی ( ف ) کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی مولانا عطاء الرحمان اپنی رکنیت کا حلف اٹھائیں گے ۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل بجٹ سیشن کی تفصیلات طے کرنے کے لیے ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہو گا جبکہ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) سمیت دیگر جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی ہوں گے۔ جس میں بجٹ سیشن کے حوالے سے اپنی اپنی جماعتوں کی حکمت عملی طے کی جائے گی ۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارٹی کے قائد میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہو گا
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی پشاور روانگی کے موقع پر اسلام آباد میں مختلف مقامات پر استقبال
اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہفتہ کو پشاور بار سے خطاب کے لیے اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو اسلام آباد میں مختلف مقامات پر ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ۔ اور انہیں بھرپور انداز کے ساتھ جلوس کے ہمراہ رخصت کیا گیا ۔ پشاور روانگی کے لیے معزول چیف جسٹس اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اسلام آباد سے اراکین قومی اسمبلی انجم عقیل خان ‘ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ‘ جماعت اسلامی کے سابق ایم این اے میاں محمد اسلم نے ان کا استقبال کیا ۔ جماعت اسلامی ‘ مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی ۔ جنہوں نے معزول چیف جسٹس کے حق میں زبردست نعرے لگائے ۔ سندھ ہائی کورٹ کے بعض معزول ججز بھی چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ اسلام آباد میں مختلف مقامات پر ان کا استقبال کیا گیا گولڑ ہ موڑ پر ریلی نے ان کا استقبال کیا اور ان پر گل پاشی کی۔ وکلاء کے سرکردہ رہنما علی احمد کرد اور دیگر رہنما بھی چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔
سابق فوجی جرنیلوں کا ججز کی بحالی کیلئے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان
صدر مشرف10 سے پہلے مستعفی ہو جائیں ‘ انہیں محفوظ راستہ دے کر غیر آئینی اقدامات پر ٹرائل کیا جائےمشرف کے استعفی کے بعد بھی ججز بحال نہ ہوئے تو ہم تحریک کا حصہ رہیں گےایکس سروس مین کے غیر معمولی اجلاس میں فیصلہ ‘ اجلاس میں سٹیل ملز کے سابق چیئرمین جنرل(ر) عبدالقیوم بھی شریک ہوئے
راولپنڈی ۔ سابق فوجی جرنیلوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی نے ججز کی بحالی کے لیے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف سے 10 جون سے پہلے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دیا جائے اور آرٹیکل 6 کے تحت غیر آئینی اقدامات کے حوالے سے اس کا ٹرائل کیا جائے ۔ ایکس سروس مین سوسائٹی کا غیر معمولی اجلاس ہفتہ کو راولپنڈی میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کراچی سٹیل ملز کے سابق چیئرمین جنرل(ر) عبدالقیوم ‘ جنرل(ر) حمید گل ‘ جنرل(ر) جمشید گلزار کیانی ‘ جنرل(ر) ہدایت اللہ ‘جنرل(ر) اکرام اللہ ‘ جنرل(ر) صلاح الدین ترمذی ‘ جنرل(ر) متین ‘ جنرل (ر) ارشد ‘ بریگیڈیئر (ر) فہد نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ججز کی بحالی کے حوالے سے وکلاء کے لانگ مارچ کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریٹائرڈ فوجی افسران و اہلکار لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے ۔ بھرپور طریقے سے اس میں شرکت کی جائے گی ۔ اجلاس کے بعد جنرل(ر) عبدالقیوم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی نے پرویز مشر ف کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نئے صدر کا انتخاب ہو سکے انہوں نے کہا کہ وکلاء کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہم نے ایک لائحہ عمل طے کرلیا ہے ۔ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کے لیے 10 جون تک کا ٹائم فریم دیا گیا ہے ۔ غیر آئینی اقدامات کے حوالے سے جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے استعفی کے بعد بھی ججز بحال نہ ہوئے تو ہم تحریک کا حصہ رہیں گے۔ججز کی 2 نومبر 2007 کی پوزیشن پر بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ ریٹائرڈ فوجی افسران و اہلکار ایک پلیت فارم سے منظم ہو کر تحریک کا حصہ بنیں گے۔ پرویز مشرف صدارت کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ عوام نئے صدر کا انتخاب کرسکیں ۔
راولپنڈی ۔ سابق فوجی جرنیلوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی نے ججز کی بحالی کے لیے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف سے 10 جون سے پہلے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دیا جائے اور آرٹیکل 6 کے تحت غیر آئینی اقدامات کے حوالے سے اس کا ٹرائل کیا جائے ۔ ایکس سروس مین سوسائٹی کا غیر معمولی اجلاس ہفتہ کو راولپنڈی میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کراچی سٹیل ملز کے سابق چیئرمین جنرل(ر) عبدالقیوم ‘ جنرل(ر) حمید گل ‘ جنرل(ر) جمشید گلزار کیانی ‘ جنرل(ر) ہدایت اللہ ‘جنرل(ر) اکرام اللہ ‘ جنرل(ر) صلاح الدین ترمذی ‘ جنرل(ر) متین ‘ جنرل (ر) ارشد ‘ بریگیڈیئر (ر) فہد نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ججز کی بحالی کے حوالے سے وکلاء کے لانگ مارچ کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریٹائرڈ فوجی افسران و اہلکار لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے ۔ بھرپور طریقے سے اس میں شرکت کی جائے گی ۔ اجلاس کے بعد جنرل(ر) عبدالقیوم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایکس سروس مین سوسائٹی نے پرویز مشر ف کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نئے صدر کا انتخاب ہو سکے انہوں نے کہا کہ وکلاء کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہم نے ایک لائحہ عمل طے کرلیا ہے ۔ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کے لیے 10 جون تک کا ٹائم فریم دیا گیا ہے ۔ غیر آئینی اقدامات کے حوالے سے جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے استعفی کے بعد بھی ججز بحال نہ ہوئے تو ہم تحریک کا حصہ رہیں گے۔ججز کی 2 نومبر 2007 کی پوزیشن پر بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ ریٹائرڈ فوجی افسران و اہلکار ایک پلیت فارم سے منظم ہو کر تحریک کا حصہ بنیں گے۔ پرویز مشرف صدارت کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ عوام نئے صدر کا انتخاب کرسکیں ۔
الیکشن ٹربیونل کا میاں برادران کے خلاف دائر اپیلوں پر اختلافی فیصلہ، اپیلیں چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادیں
اختلافی فیصلہ کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ مؤثر ہوگیا اب میاں برادران الیکشن لڑ سکتے ہیںچیف الیکشن کمشنر کو اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں آج آخری دن تھاالیکشن کمشنر مزید الیکشن ٹربیونل تشکیل دے سکتے ہیں۔ اشتر اوصاف علی خان
لاہور۔ الیکشن ٹربیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اور صدر میاں شہبازشریف کے خلاف دائر اپیلوں پر اختلافی فیصلہ سنانے کے بعد اپیلیں چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادیں۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹربیونل نے ضمنی الیکشن لڑنے سے متعلق میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کے خلاف اعتراضات کی سماعت جمعہ کے روز مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جس کے بعد آج ہفتہ کے روز 12بجے دو رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ ٹربیونل کے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اعتراضات کے حوالے سے پیش کی جانے والی دستاویزات اور شہادتوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جن کی بنیاد پر میاں نوازشریف یا میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دیا جاسکے۔ دونوں الیکشن لڑنے کے مکمل طور پر اہل ہیں۔ جبکہ ٹربیونل کے دوسرے رکن جسٹس اکرم قریشی نے اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف دونوں کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دیدیا جس کے بعد اپیلیں چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادی گئیں۔ فیصلہ سننے کے بعد میاں برادران کے وکیل اشتر اوصاف علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان نے دائر کی گئی اپیلوں کا جائزہ لینے کے بعد جو سپلٹ فیصلہ دیا ہے اس کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ مؤثر ہوگیا ہے اور میاں نوازشریف وشہبازشریف دونوں الیکشن لڑنے کے مکمل طور پر اہل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کو ان اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں، آج آخری دن تھا چیف الیکشن کمشنر کوئی مزید الیکشن ٹربیونل بھی نہیں بناسکتے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے میاں نوازشریف وشہبازشریف کے خلاف اپیلیں دائر کیں ان کا متعلقہ حلقوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس موقع پر میاں نوازشریف کے دوسرے وکیل نصیر احمد بھٹہ نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ اگر چہ واضح نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جب ایسا اختلافی فیصلہ آجائے تو ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ خود بخود مؤثر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن ٹربیونل چیف الیکشن کمشنر کو اپیلیں واپس نہیں بھیج سکتا لہذا اب میاں نوازشریف اور شہبازشریف دونوں الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ فیصلہ کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے میاں نوازشریف کے حق میں اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ میاں نوازشریف کے وکلاء اس اعلان کے بعد کہ میاں برادران الیکشن لڑنے کے اہل ہوگئے ہیں کارکنوں نے جشن منایا اور مٹھائی بھی تقسیم کی۔
لاہور۔ الیکشن ٹربیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اور صدر میاں شہبازشریف کے خلاف دائر اپیلوں پر اختلافی فیصلہ سنانے کے بعد اپیلیں چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادیں۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹربیونل نے ضمنی الیکشن لڑنے سے متعلق میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کے خلاف اعتراضات کی سماعت جمعہ کے روز مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جس کے بعد آج ہفتہ کے روز 12بجے دو رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ ٹربیونل کے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اعتراضات کے حوالے سے پیش کی جانے والی دستاویزات اور شہادتوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جن کی بنیاد پر میاں نوازشریف یا میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دیا جاسکے۔ دونوں الیکشن لڑنے کے مکمل طور پر اہل ہیں۔ جبکہ ٹربیونل کے دوسرے رکن جسٹس اکرم قریشی نے اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف دونوں کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دیدیا جس کے بعد اپیلیں چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادی گئیں۔ فیصلہ سننے کے بعد میاں برادران کے وکیل اشتر اوصاف علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان نے دائر کی گئی اپیلوں کا جائزہ لینے کے بعد جو سپلٹ فیصلہ دیا ہے اس کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ مؤثر ہوگیا ہے اور میاں نوازشریف وشہبازشریف دونوں الیکشن لڑنے کے مکمل طور پر اہل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کو ان اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں، آج آخری دن تھا چیف الیکشن کمشنر کوئی مزید الیکشن ٹربیونل بھی نہیں بناسکتے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے میاں نوازشریف وشہبازشریف کے خلاف اپیلیں دائر کیں ان کا متعلقہ حلقوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس موقع پر میاں نوازشریف کے دوسرے وکیل نصیر احمد بھٹہ نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ اگر چہ واضح نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جب ایسا اختلافی فیصلہ آجائے تو ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ خود بخود مؤثر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن ٹربیونل چیف الیکشن کمشنر کو اپیلیں واپس نہیں بھیج سکتا لہذا اب میاں نوازشریف اور شہبازشریف دونوں الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ فیصلہ کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے میاں نوازشریف کے حق میں اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ میاں نوازشریف کے وکلاء اس اعلان کے بعد کہ میاں برادران الیکشن لڑنے کے اہل ہوگئے ہیں کارکنوں نے جشن منایا اور مٹھائی بھی تقسیم کی۔
نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پراعتراضات کی سماعت کے دوران ججز میں اختلاف
معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے سپرد کردیا گیا:قانون کے مطابق شریف برداران انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں ‘اشتر اوصافاختلافی فیصلے کے باعث ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ قائم رہنا چاہیئے ۔ جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی
لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پراعتراضات کی سماعت کے دوران ججز میں اختلاف کے بعد معاملے کو چیف الیکشن کمشنر کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ کاغذات نامزد گی پر اعتراضات کی سماعت کے دوران جسٹس اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو انتخابات کے لئے نااہل جبکہ جسٹس حافظ طارق نسیم نے دونوں رہنماؤں کو انتخابات کے لئے اہل قرار دیا ۔ سماعت ختم ہونے کے بعد شریف برادران کے وکیل اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق ایپلیٹ ٹریبونل فیصلے کے لئے معاملہ چیف الیکشن کمشنر کو ارسال نہیں کرسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سماعت کی مقررہ مدت آج ختم ہونے کے بعد اس حوالے سے مزید سماعت ممکن نہیں ۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر شریف برادران کے کاغزات نامزدگی منظور کرچکے ہیں اس لئے قانون کے مطابق شریف برداران انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں ۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرم قریشی اور جسٹس حافظ طارق نسیم پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخابات لڑنے کی اہلیت کے معاملے پر منقسم رائے ہونے کی بنا پر یہ معاملہ چیف الیکشن کمِشنر کو بھجوا دیا ہے۔نواز شریف کے قومی اسمبلی کے لیے جبکہ شہباز شریف کے صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی قبول کیے جانے کے فیصلے کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا تھا۔الیکشن ٹریبونل نے شریف برادران کے خلاف دائر ان اپیلوں پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ جمعہ کو محفوظ کردیا تھا۔ ٹریبونل کے رکن اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا جبکہ اسی ٹریبونل کے دوسرے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دیا۔نواز شریف کے وکیل سابق اڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ جب منقسم فیصلہ آئے تو ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے مطابق دونوں بھائی الیکشن لڑنے کے اہل ہیں اور الیکشن لڑیں گے۔ہائی کورٹ کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ’وزیر اعظم نواز شریف‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔یہ اپیلیں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف مختلف انتخابی حلقوں سے دائر کی گئی ہیں۔سیالکوٹ کے حلقے پی پی 124 سے ذوالفقار علی گھمن، بھکر سے پی پی 48 سے سید خرم شاہ، لاہور کے پی پی 141 سے اظہر خان لودھی، لاہور کے ہی پی پی 154 سے سید خرم علی شاہ نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگیوں کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقے 123 سے نور الٰہی اور راولپنڈی کے حلقے باون سے ناصر راجہ نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔جمعہ کو ہونے والی کارروائی میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ تاہم ممتاز قانون دان ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے سول سوسائٹی کی طرف سے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی حمایت میں دلائل دیے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی کی سزا معاف کر دیتے ہیں تو اس شخص کا جرم بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ صدر نے ان کی سزا معاف کردی ہے اس لیے نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل ہیں اور ان کو کسی صورت بھی نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے نواز شریف کے خلاف اپیلوں پر اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیلیں مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد کی گئی ہیں اس لیے یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ٹریبونل کے سامنے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ندیم الدین نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ان کے سامنے اس نوٹیفیکیشن کی کاپی موجود نہیں ہے جس سے وہ بتا سکیں کہ آیا نواز شریف کی سزا جزوی طور پر معاف کی گئی تھی یا مکمل طور پر۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے ٹریبونل کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اختلافی فیصلے کے باعث ریٹرننگ افسر کا فیصلہ قائم رہناچاہیئے ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران ضمنی انتخاب لڑنے کے اہل ہیں ۔ مزید یہ کہ اپیل کنندہ نے اپنی اپیل بھی واپس لے لی تھی جس کے بعد ٹریبونل کے پاس فیصلہ دینے کا جواز ہی نہیں تھا۔
لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پراعتراضات کی سماعت کے دوران ججز میں اختلاف کے بعد معاملے کو چیف الیکشن کمشنر کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ کاغذات نامزد گی پر اعتراضات کی سماعت کے دوران جسٹس اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو انتخابات کے لئے نااہل جبکہ جسٹس حافظ طارق نسیم نے دونوں رہنماؤں کو انتخابات کے لئے اہل قرار دیا ۔ سماعت ختم ہونے کے بعد شریف برادران کے وکیل اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق ایپلیٹ ٹریبونل فیصلے کے لئے معاملہ چیف الیکشن کمشنر کو ارسال نہیں کرسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سماعت کی مقررہ مدت آج ختم ہونے کے بعد اس حوالے سے مزید سماعت ممکن نہیں ۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر شریف برادران کے کاغزات نامزدگی منظور کرچکے ہیں اس لئے قانون کے مطابق شریف برداران انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں ۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرم قریشی اور جسٹس حافظ طارق نسیم پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخابات لڑنے کی اہلیت کے معاملے پر منقسم رائے ہونے کی بنا پر یہ معاملہ چیف الیکشن کمِشنر کو بھجوا دیا ہے۔نواز شریف کے قومی اسمبلی کے لیے جبکہ شہباز شریف کے صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی قبول کیے جانے کے فیصلے کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا تھا۔الیکشن ٹریبونل نے شریف برادران کے خلاف دائر ان اپیلوں پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ جمعہ کو محفوظ کردیا تھا۔ ٹریبونل کے رکن اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا جبکہ اسی ٹریبونل کے دوسرے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دیا۔نواز شریف کے وکیل سابق اڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ جب منقسم فیصلہ آئے تو ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے مطابق دونوں بھائی الیکشن لڑنے کے اہل ہیں اور الیکشن لڑیں گے۔ہائی کورٹ کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ’وزیر اعظم نواز شریف‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔یہ اپیلیں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف مختلف انتخابی حلقوں سے دائر کی گئی ہیں۔سیالکوٹ کے حلقے پی پی 124 سے ذوالفقار علی گھمن، بھکر سے پی پی 48 سے سید خرم شاہ، لاہور کے پی پی 141 سے اظہر خان لودھی، لاہور کے ہی پی پی 154 سے سید خرم علی شاہ نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگیوں کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقے 123 سے نور الٰہی اور راولپنڈی کے حلقے باون سے ناصر راجہ نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔جمعہ کو ہونے والی کارروائی میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ تاہم ممتاز قانون دان ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے سول سوسائٹی کی طرف سے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی حمایت میں دلائل دیے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی کی سزا معاف کر دیتے ہیں تو اس شخص کا جرم بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ صدر نے ان کی سزا معاف کردی ہے اس لیے نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل ہیں اور ان کو کسی صورت بھی نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے نواز شریف کے خلاف اپیلوں پر اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیلیں مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد کی گئی ہیں اس لیے یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ٹریبونل کے سامنے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ندیم الدین نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ان کے سامنے اس نوٹیفیکیشن کی کاپی موجود نہیں ہے جس سے وہ بتا سکیں کہ آیا نواز شریف کی سزا جزوی طور پر معاف کی گئی تھی یا مکمل طور پر۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے ٹریبونل کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اختلافی فیصلے کے باعث ریٹرننگ افسر کا فیصلہ قائم رہناچاہیئے ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران ضمنی انتخاب لڑنے کے اہل ہیں ۔ مزید یہ کہ اپیل کنندہ نے اپنی اپیل بھی واپس لے لی تھی جس کے بعد ٹریبونل کے پاس فیصلہ دینے کا جواز ہی نہیں تھا۔
Endless instability

Nasim Zehra
The PPP co-chairman's statement calling up the controversially-elected president general Pervez Musharraf to resign surprised many. Especially for those including other political parties, who believed that there was mere shadow boxing going on between Musharraf and the PPP, this seemingly straight talk regarding the PPP's position, was particularly surprised. Many welcomed it.
The PPP co-chairman subsequently followed up with other similar assertions in various interviews — "the PPP does not accept the president as a constitutionally elected president," "our government only has a working relationship with the president," " the public pressure to remove the president is growing," "he would not meet the president until the people would want him to meet the president" and so on.
Behind the scenes much else went on. The president was conveyed the PPP's intentions to remove 58(2)b and also the constitutional clauses to take away the President's powers to appoint services chiefs and the Governors. The Islamabad-based American officials too figured in the discussions. The president was not agreeable to the removal of these clauses. There were visits between the presidency and those involved in these discussions. However, no formal PPP party ticket holder visited the presidency. The president's public retort was that he is a constitutionally elected president and, when it occurs, his departure must be honourable and dignified.
Like much else on the political front, the Islamabad-based Americans have attempted to see these discussions through amicably. Given the US role in Pakistan's post March 2007 political crisis with General Musharraf as its central figure, the ruling coalition has been okay with the American role in the post- election power struggle in Pakistan. In the case of General Musharraf particularly Washington has been an arbiter on his behalf with all political parties. For the PPP too Washington played the role of an arbiter with General Musharraf.
However, had it not been for the March 9 2007 peoples' movement calling for Constitutional democracy, Musharraf would neither have given PPP the opening to return nor would Washington have pushed so hard that Musharraf reverse his November 3 imposition of martial law.
For Washington, General Musharraf's primary worth lay in what they believed was his able support for their war on terrorism. By contrast in Pakistan against the backdrop of growing discontent against lawlessness of the powerful and their trashing of the Constitution, General Musharraf's positive contributions faded in the peoples' minds who took to the streets.
Increasingly, for those who occupied public space, for those who participated in street protests, Musharraf was the violator of law, the man who exercised power and State authority at will. Many argued he must go.
The post-election developments raised many questions regarding Musharraf's future. What many believed was fait accompli did not happen. Instead of general Musharraf's departure, especially post-government formation it seemed he may survive. The PPP cabinet opted for decent engagement with the presidency. A calm had just begun to settle despite of course the complete rejection of the president by the country's second largest political party and also the member of the ruling coalition.
A low-level power struggle too continued as the presidency began to provide political oxygen to the defeated and increasingly divided PML-Q. However the national attention was focused on the question of the judges' restoration. The ideal scenario should have been for the coalition government to come and resolve the one issue that would have substantially served as a deterrent for future martial laws and indeed a deterrent for unconstitutional ways of elected governments too- the restoration of the judiciary.
The restoration would have generated trust and goodwill
all around including among the ranks of the elected forces and the
people of Pakistan. The power struggle facilitated by the presidency
would have also somewhat subsided. It would have freed the coalition government's mental and political energy to focus largely on the issues that are creating hell for the people — electricity shortage,
crushing inflation and shortage of flour.
The restoration question has not only not been tackled, it has been
further complicated. Now it seems to have become apart of the 62- point constitutional package to be tabled in the National Assembly.
Paradoxically, the unresolved judicial question has led to another
fresh round of 'go Musharraf go' chant. This time it includes Zardari too. And what do we see on the sidelines of parliamentary activity?
We see the reinvigorated enthusiastic connection between the presidency and the PML-Q. After having tried repeatedly yet unsuccessfully, to oust the Chaudaries and get a leader "acceptable to Zardari," the president seems to be falling back on the PML-Q. Reportedly, the Chaudaries are back as visitors of the Camp office.
To a great extent the Presidency can fairly be marked as
contributing source to political instability, political intrigue and
political confusion. Key moves that cause instability, intrigue and
confusion can be traced to the presidency, admittedly though not
without some civilian partnership. The country is now in the midst of a three dimension political volatility.
One is the power struggle which involves the president and the parliament. Musharraf seeks parliamentary support to defeat any motion to clip his constitutional powers. Two is the struggle to restore the judiciary. This struggle remains unabated since November 3 imposition of a mini-martial law and the sacking of the judiciary. Unless this issue is not resolved justly no government will be able to function normally.
Three, the latest is the 62-point political package. While its passage may not be possible for months it will generate much debate and merely generate additional political nervousness without resolving any of the outstanding political issues.
Significantly, the 62-point package presented by the PPP in consultation with its minor coalition partner the ANP, raises many questions. Will it resolve the question of the president future? No. Will it deal with clipping the presidential powers within the immediate context? No. Will it resolve the restoration of the judges? No.
Will it contribute towards creating political stability within the immediate context? No. Clearly a 62-point Constitutional package will take at least a year plus for passage. Both the required time for parliamentary discussion and debate and for the entire process of the elements of the package going to various Standing Committees would take a long time. If there is some other speedy fast-track process that the ruling coalition may have worked out, then we shall soon know about it. That however seems unlikely.
So ultimately where we stand today is a national political context which is somewhat wobbly and uncertain. It generates panic especially among the investors, it is hitting hard at an inherited economy which has already troubled and the final target of all this are the suffering Pakistanis.
The only way to arrest this continuing political stability is for the leaders of the ruling coalition to decide on the future of the president and on the best way to resolve the judicial crisis. Divided opinion and inaction on these two issues will mean continuing political instability and also worsening of the economic crisis. Quick and wise decision is a must. Pakistan and its people cannot afford indecision or intrigues against democracy by the elected representatives anymore.
Nasim Zehra is a fellow of Harvard University Asia Center, Cambridge, Mass. and Adjunct professor at SAIS Johns Hopkins University, Washington DC.
The PPP co-chairman's statement calling up the controversially-elected president general Pervez Musharraf to resign surprised many. Especially for those including other political parties, who believed that there was mere shadow boxing going on between Musharraf and the PPP, this seemingly straight talk regarding the PPP's position, was particularly surprised. Many welcomed it.
The PPP co-chairman subsequently followed up with other similar assertions in various interviews — "the PPP does not accept the president as a constitutionally elected president," "our government only has a working relationship with the president," " the public pressure to remove the president is growing," "he would not meet the president until the people would want him to meet the president" and so on.
Behind the scenes much else went on. The president was conveyed the PPP's intentions to remove 58(2)b and also the constitutional clauses to take away the President's powers to appoint services chiefs and the Governors. The Islamabad-based American officials too figured in the discussions. The president was not agreeable to the removal of these clauses. There were visits between the presidency and those involved in these discussions. However, no formal PPP party ticket holder visited the presidency. The president's public retort was that he is a constitutionally elected president and, when it occurs, his departure must be honourable and dignified.
Like much else on the political front, the Islamabad-based Americans have attempted to see these discussions through amicably. Given the US role in Pakistan's post March 2007 political crisis with General Musharraf as its central figure, the ruling coalition has been okay with the American role in the post- election power struggle in Pakistan. In the case of General Musharraf particularly Washington has been an arbiter on his behalf with all political parties. For the PPP too Washington played the role of an arbiter with General Musharraf.
However, had it not been for the March 9 2007 peoples' movement calling for Constitutional democracy, Musharraf would neither have given PPP the opening to return nor would Washington have pushed so hard that Musharraf reverse his November 3 imposition of martial law.
For Washington, General Musharraf's primary worth lay in what they believed was his able support for their war on terrorism. By contrast in Pakistan against the backdrop of growing discontent against lawlessness of the powerful and their trashing of the Constitution, General Musharraf's positive contributions faded in the peoples' minds who took to the streets.
Increasingly, for those who occupied public space, for those who participated in street protests, Musharraf was the violator of law, the man who exercised power and State authority at will. Many argued he must go.
The post-election developments raised many questions regarding Musharraf's future. What many believed was fait accompli did not happen. Instead of general Musharraf's departure, especially post-government formation it seemed he may survive. The PPP cabinet opted for decent engagement with the presidency. A calm had just begun to settle despite of course the complete rejection of the president by the country's second largest political party and also the member of the ruling coalition.
A low-level power struggle too continued as the presidency began to provide political oxygen to the defeated and increasingly divided PML-Q. However the national attention was focused on the question of the judges' restoration. The ideal scenario should have been for the coalition government to come and resolve the one issue that would have substantially served as a deterrent for future martial laws and indeed a deterrent for unconstitutional ways of elected governments too- the restoration of the judiciary.
The restoration would have generated trust and goodwill
all around including among the ranks of the elected forces and the
people of Pakistan. The power struggle facilitated by the presidency
would have also somewhat subsided. It would have freed the coalition government's mental and political energy to focus largely on the issues that are creating hell for the people — electricity shortage,
crushing inflation and shortage of flour.
The restoration question has not only not been tackled, it has been
further complicated. Now it seems to have become apart of the 62- point constitutional package to be tabled in the National Assembly.
Paradoxically, the unresolved judicial question has led to another
fresh round of 'go Musharraf go' chant. This time it includes Zardari too. And what do we see on the sidelines of parliamentary activity?
We see the reinvigorated enthusiastic connection between the presidency and the PML-Q. After having tried repeatedly yet unsuccessfully, to oust the Chaudaries and get a leader "acceptable to Zardari," the president seems to be falling back on the PML-Q. Reportedly, the Chaudaries are back as visitors of the Camp office.
To a great extent the Presidency can fairly be marked as
contributing source to political instability, political intrigue and
political confusion. Key moves that cause instability, intrigue and
confusion can be traced to the presidency, admittedly though not
without some civilian partnership. The country is now in the midst of a three dimension political volatility.
One is the power struggle which involves the president and the parliament. Musharraf seeks parliamentary support to defeat any motion to clip his constitutional powers. Two is the struggle to restore the judiciary. This struggle remains unabated since November 3 imposition of a mini-martial law and the sacking of the judiciary. Unless this issue is not resolved justly no government will be able to function normally.
Three, the latest is the 62-point political package. While its passage may not be possible for months it will generate much debate and merely generate additional political nervousness without resolving any of the outstanding political issues.
Significantly, the 62-point package presented by the PPP in consultation with its minor coalition partner the ANP, raises many questions. Will it resolve the question of the president future? No. Will it deal with clipping the presidential powers within the immediate context? No. Will it resolve the restoration of the judges? No.
Will it contribute towards creating political stability within the immediate context? No. Clearly a 62-point Constitutional package will take at least a year plus for passage. Both the required time for parliamentary discussion and debate and for the entire process of the elements of the package going to various Standing Committees would take a long time. If there is some other speedy fast-track process that the ruling coalition may have worked out, then we shall soon know about it. That however seems unlikely.
So ultimately where we stand today is a national political context which is somewhat wobbly and uncertain. It generates panic especially among the investors, it is hitting hard at an inherited economy which has already troubled and the final target of all this are the suffering Pakistanis.
The only way to arrest this continuing political stability is for the leaders of the ruling coalition to decide on the future of the president and on the best way to resolve the judicial crisis. Divided opinion and inaction on these two issues will mean continuing political instability and also worsening of the economic crisis. Quick and wise decision is a must. Pakistan and its people cannot afford indecision or intrigues against democracy by the elected representatives anymore.
Nasim Zehra is a fellow of Harvard University Asia Center, Cambridge, Mass. and Adjunct professor at SAIS Johns Hopkins University, Washington DC.
IMF and World Bank urge Pakistan to do away with subsidies

ISLAMABAD — Pakistan's new elected government has regretted to accept the joint proposal of the World Bank and the IMF to withdraw oil subsidy in the next budget. Official sources said that the Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani believed that the nation cannot withstand the "shock" of eliminating subsidies on oil, wheat and fertilizer at this stage.
The prime minister stated at a high-level meeting held yesterday on budgetary matters that the process of withdrawing subsidies can only be gradual and when the government succeeds in mobilising new resources by overhauling the weak taxation system.
New resources were required to provide "certain respite" to the poor and the lower middle-income groups in the society, the prime minister said. The visiting IMF director for South Asia and Middle East Mohsin Khan and the World Bank Vice-President for South Asia Pruful Patal had proposed to the new government to "immediately do away with all subsidies" on oil, wheat and fertilizer etc. to arrest the fast declining economic situation in the country.
Sources said that the prime minister was told that Indonesia and Sri Lanka have removed subsidies recently and that Pakistan should also swallow the "hard pill" in order to achieve the much needed macroeconomic discipline in the country. "Off course macroeconomic fundamentals need to be set right but it does not mean that we should further burden our people by removing various subsidies," a source said who attended the meeting. He said that the meeting agreed to "restrict further bleeding" in the economy by re-prioritising every thing so as to achieve economic stability.
"The situation is extremely challenging as the budget making process has been constrained due to lack of funds", the source said. He said balancing act will have to be maintained in the new budget to collect resources including from the international donor agencies and to offer some relief package to the people. It will also have increase in the salaries of the government employees. Sources said that the meeting decided to restrict Public Sector Development Programme (PSDP) in the vicinity of about Rs400-425 billion during 2008-09. In fact, they said, there will be over 10 per cent reduction in the funds being allocated for the new PSDP compared to existing development programme of 2007-08.
A senior government official when approached said that the situation was pretty difficult but not "unmanageable" and the prime minister was informed that there was no need to be panicky as the government would not accept undue demands of the donor agencies particularly with respect to eliminating subsidies. He said that the meeting decided to achieve 6.5 per cent GDP growth rate and bring down the fiscal deficit from 9.5 per cent to sustainable limit of around 5-6 per cent by further reforming the country's spineless taxation system. Responding to a question, the official said that IMF has a very "conservative view" of achieving financial discipline by doing away with all subsidies.
"We cannot accept Fund's proposal as its role is now that of a advisory body but we have to take into account WB advice which is our regular donor," he said adding that Bank's will be convinced that Pakistan at this stage cannot afford to remove all subsidies and that it may take some time to start implementing their proposal, the official said.
According to an official handout about the meeting, the prime minister said that providing tangible and concrete relief with specific financial allocations to the people especially those in the lowest income groups should be the topmost priority of his government in the forthcoming budget. le explaining government's priorities for the forthcoming budget, the he directed all the concerned officials involved in the budget making to incorporate objectives which could provide relief to the lowest income groups, boost agriculture and manufacturing growth, help in overcoming energy and water shortages, developing human resource and avoiding wastage of tax payers' money.
The prime minister said that providing relief to the poorest of the poor who are facing back breaking hardship due to high food inflation and shortage of power and other essential goods is the real objective of the elected government. He said that the government is committed to making a sizable allocation in the budget for direct income support to the poorest and vulnerable groups.
Gilani said that government will soon start rural employment generating projects to generate employment for at least 100 days per family especially in the poor and backward districts. He said that skills development programmes for both rural and urban areas will also be initiated so that employability and productivity can be increased. He said that social protection measures including health care and nutrition support for children especially girls, will also be put in place besides allocating resources for provision of safe drinking water.
The prime minister said that government will also provide relief to government employees to compensate for rising inflation especially the low paid employees.
He directed that budget should also incorporate both fiscal and development support measures to boost growth in agriculture and manufacturing sectors which would include increasing incentives to enhance profitability, output and productivity in agriculture by suitable adjustment in subsidies and timely support prices.
This he said would boost agriculture production, improve income of farming community and eliminate the possibility of food shortage in the country.
He said that fiscal and development support for manufacturing in terms of tax incentives, encouraging industrial clusters, support for technology transfer and facilitation of import of power generating small units are some of the areas to be given priority in the budget.
Israeli PM's party considers ballot over scandal
JERUSALEM - Leaders of Israel's governing Kadima party plan to meet in as little as a week to decide on an internal ballot that could replace Prime Minister Ehud Olmert, senior Kadima members said on Friday.
Olmert has so far defied a demand by his main coalition partner, Defence Minister Ehud Barak's left-leaning Labour Party, to leave office over a growing corruption scandal.
A poll by Israel's mass circulation Yedioth Ahronoth newspaper found Olmert's deputy, Foreign Minister Tzipi Livni, would win an internal vote to find a new leader for their centrist party.
Livni, Israel's chief negotiator with the Palestinians, garnered the support of 39 percent of Kadima members, according to the poll. Transportation Minister Shaul Mofaz came in second with 25 percent.
But a poll by the Maariv daily found that Livni, as Olmert's successor, would lose to Benjamin Netanyahu of the right-wing Likud Party if a general election was held today.
Lawmaker Tzachi Hanegbi, head of Kadima's central committee, told Israel Radio on Friday that Kadima delegates would convene a meeting on a leadership ballot after Olmert returns from a visit to the United States at the end of next week.
Kadima sources said Olmert wants his centrist party to put off any such vote for months, hoping to ride out the police investigation into allegations he accepted envelopes filled with cash from a Jewish-American businessman.
Olmert has denied wrongdoing but has said he would resign if indicted. The turmoil threatens to derail U.S.-backed peace talks between Israel and the Palestinians.
Sixty percent of Kadima's members believe Olmert does not have to resign at this stage in the investigation, the Yedioth Ahronoth poll found.
Olmert has responded to the crisis with a business-as-usual approach. He will meet Palestinian President Mahmoud Abbas on Monday, Palestinian negotiator Saeb Erekat said.
Israel's attorney-general, Menachem Mazuz, said on Thursday the investigation would be accelerated "in order to complete it as soon as possible." He gave no precise timeframe for a decision on whether to indict the prime minister.
Olmert has survived corruption scandals in the past.
Olmert has so far defied a demand by his main coalition partner, Defence Minister Ehud Barak's left-leaning Labour Party, to leave office over a growing corruption scandal.
A poll by Israel's mass circulation Yedioth Ahronoth newspaper found Olmert's deputy, Foreign Minister Tzipi Livni, would win an internal vote to find a new leader for their centrist party.
Livni, Israel's chief negotiator with the Palestinians, garnered the support of 39 percent of Kadima members, according to the poll. Transportation Minister Shaul Mofaz came in second with 25 percent.
But a poll by the Maariv daily found that Livni, as Olmert's successor, would lose to Benjamin Netanyahu of the right-wing Likud Party if a general election was held today.
Lawmaker Tzachi Hanegbi, head of Kadima's central committee, told Israel Radio on Friday that Kadima delegates would convene a meeting on a leadership ballot after Olmert returns from a visit to the United States at the end of next week.
Kadima sources said Olmert wants his centrist party to put off any such vote for months, hoping to ride out the police investigation into allegations he accepted envelopes filled with cash from a Jewish-American businessman.
Olmert has denied wrongdoing but has said he would resign if indicted. The turmoil threatens to derail U.S.-backed peace talks between Israel and the Palestinians.
Sixty percent of Kadima's members believe Olmert does not have to resign at this stage in the investigation, the Yedioth Ahronoth poll found.
Olmert has responded to the crisis with a business-as-usual approach. He will meet Palestinian President Mahmoud Abbas on Monday, Palestinian negotiator Saeb Erekat said.
Israel's attorney-general, Menachem Mazuz, said on Thursday the investigation would be accelerated "in order to complete it as soon as possible." He gave no precise timeframe for a decision on whether to indict the prime minister.
Olmert has survived corruption scandals in the past.
US Defence Secretary Gates starts Asian tour
SINGAPORE - US Defence Secretary Robert Gates arrived Friday in Singapore to attend a regional security conference at the start of an Asian tour which he said aims to reaffirm US engagement with the region.
Gates touched down for his fourth major trip to Asia in 17 months, and his second regional swing in about three months.
‘If there is one theme that connects the different stops, it is affirming that the United States is not distracted by wars in Iraq and Afghanistan from our long-term interests here in Asia and the cultivation and the strengthening of our relationships with allies, partners and others in the region,’ Gates said before leaving the tiny Pacific territory of Guam, his first stop.
There have been doubts among some allies over US leadership of the region, which is under the shadow of China's military build-up.
In Singapore, Gates will join over the weekend in the seventh Shangri-La Dialogue.
Also known as the Asia Security Summit, the meeting of defence and national security officials and analysts is organised by the London-based International Institute for Strategic Studies, an independent think-tank.
From Singapore, where the summit ends Sunday, Gates is to head to Thailand and South Korea.
Gates touched down for his fourth major trip to Asia in 17 months, and his second regional swing in about three months.
‘If there is one theme that connects the different stops, it is affirming that the United States is not distracted by wars in Iraq and Afghanistan from our long-term interests here in Asia and the cultivation and the strengthening of our relationships with allies, partners and others in the region,’ Gates said before leaving the tiny Pacific territory of Guam, his first stop.
There have been doubts among some allies over US leadership of the region, which is under the shadow of China's military build-up.
In Singapore, Gates will join over the weekend in the seventh Shangri-La Dialogue.
Also known as the Asia Security Summit, the meeting of defence and national security officials and analysts is organised by the London-based International Institute for Strategic Studies, an independent think-tank.
From Singapore, where the summit ends Sunday, Gates is to head to Thailand and South Korea.
Pakistan's Khan says nuclear confession was forced

ISLAMABAD - Pakistan's disgraced nuclear scientist Abdul Qadeer Khan said his confession four years ago to selling nuclear secrets was forced on him, a British newspaper reported on Friday.
‘It was not of my own free will. It was handed into my hand,’ Khan told the Guardian newspaper from his home in Islamabad, where he has been held under house arrest since 2004.
Khan refused to say whether he was a scapegoat for Pakistani generals involved in the nuclear trade, though Western diplomats, local commentators and some politicians have long doubted whether he could have acted alone.
‘I don't want to talk about it. Those things are to forget about,’ Khan said, adding that he would not cooperate with investigators from the International Atomic Energy Agency (IAEA).
Khan told the Guardian that the nuclear technology being traded to Iran or North Korea was freely available in the West.
‘They were supplying to us, they were supplying to them ... anyone who could pay,’ he was quoted as saying.
Still admired by many Pakistanis as the father of the country's atomic bomb, Khan confessed on television in early 2004 to selling nuclear secrets to Iran, North Korea and Libya.
President Pervez Musharraf once described the episode as the most embarrassing moment of his presidency, but because of Khan's status he escaped more severe punishment.
A two-month-old coalition government, formed after the defeat of Musharraf's allies in an election last February, has relaxed some restrictions on Khan, though he remained under detention at home in a smart area of Islamabad, overlooking the Margalla Hills.
Former prime minister Nawaz Sharif, who Musharraf overthrew in the 1999 coup and whose party is now a major coalition partner, has said Khan should be freed.
‘As long as you are living there is always hope,’ said Khan who has suffered ill-health during his detention.
Subscribe to:
Posts (Atom)

