International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Tuesday, June 24, 2008

حکمران اتحاد کا مستقبل دائو پر ۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس (ایسوسی ایٹڈ پر یس سروس )،اسلام آباد


پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں اور پنجاب حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس ایک اور آڈیو ٹیپ ہے جس میں ایک حکمران پی سی او کے ججز کو ہدایت دے رہا ہے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے کے تناظر میں قومی اسمبلی میں تفصیلی خطاب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل ایک ایک جماعت اپنی پالیسی واضح کرے ۔ پلوں کے نیچے پانی بہہ چکا ہے ۔ جب تک یہ حالات رہیں گے ۔ پاکستان کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بقا مضبوط ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تقریب میں مولانا فضل الرحمان بار بار کہہ رہے تھے کہ صوبہ سرحد ہاتھ سے جا رہا ہے ۔ یہ ایوان کیوں منتخب کیا گیاہے ۔ ملک کی بقا اور مستقبل کی ضمانت دیں لیکن آج وہی کچھ ہو رہاہے جو آٹھ سالوں تک ہوتا رہا جعلی سپریم کورٹ کو تحفظ دیا جا تا ہے ۔ پی سی او ججز پولیس کے تحفظ میں ہوتے ہیں۔ ہم دھوپ میں ٹھہر کر شاہراہ دستور پر احتجاج کرتے تھے۔ ہم وفاقی کابینہ اور حکومت میں نہیں ہیں جو کچھ کہتے ہیں عمل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈھیٹ لوگ کرسی سے چمٹے رہتے ہیں عوام ملامت کرتے ہیں چھپ کر یہ ایوان صدر اور آرمی ہاو¿س میں بیٹھتے ہیں ۔ نواز شریف کے بارے میںلاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر پریشانی اور ہنسی آتی ہے ہم نے پندرہ وفاقی وزارتوں کی قربانی دی ایسے فیصلے ہمیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتے ۔ جب نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا ہم جب خوفزدہ نہیں ہوئے فاسق اور غاصب حکمران نے ہم کو آٹھ سال بربریت آمریت کا نشانہ بنایا ۔ پی سی او کے ججز کے فیصلوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) قائم رہے گی ۔ فوجی وردی میں ملبوس جرنیل ، انتظامیہ ، ایجنسیوں کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کو طاقت نہیں ملتی ۔ ہم عوامی قوت پر یقین رکھتے ہیں یہ جتنا دبانے کی کوشش کریں گے مسلم لیگ(ن) اتنی ابھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اہم ترین مسئلہ ہے ۔ جس ملک میں دو بار وزیراعظم رہنے والے لیڈر اور اہم حکومتی جماعت کو انصاف نہ ملے ۔ اس ملک میں سب کچھ ہے ۔ انصاف نہیںہے آخری وقت تک وفاق کی حفاظت کریں گے۔ زبانی کلامی سے ملک مستحکم نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلے کے پس منظر میں کون ہے ۔ ڈوری کون ہلا رہا ہے ۔ ایک بار کاغذات نامزدگی منظور ہو جائے تو کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔انتخابات کے بعد رٹ ہو سکتی ہے جعلی لوگو ں کے ذریعے پٹیشن دائر کی گئی ہے ہفتہ کے دن جب چھٹی ہوتی ہے بینچ ٹوٹ گیا ۔ نواز شریف کے تائید کنندہ تجویز کنندہ کو فریق نہیں بنایا گیا ۔نیا بینچ پیر کو بنا دو گھنٹوں میںپاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعت کے لیڈر کو اس کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ۔ ماضی میں جب سپریم کورٹ کے تیرہ ججز کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں آچکا ہے ۔ ہائی کورٹ کے تین ججز نے اسے اڑا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ آڈیو ٹیپ ریکارڈ پر موجود ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ ایک اور ٹیپ ہے گھناو¿نی ٹیپ ہے ایک بڑے حکمران نے پی سی او ججز کو ہدایات دیں۔ مطالبہ ہے کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ حکومت فیصلہ کرے کہ یہ آئینی ججز ہیں یا غیر آئینی ہیں پی سی او کے غیر قانونی ا ور غیر آئینی ججز کو فاسق حکمران نے مسلط کیا یہی حکومت ان ججز کو تحفظ دے رہی ہے ۔ غلط فیصلوں پر شاہراہ دستور پر پابندیاں ہو گئی ۔ دفاتر کو تحفظ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ججز سے ہمارے کوئی تعلقات نہیں ہیں اصول کے تحت جن ججز کا ساتھ دے رہے ہیں جب تک آزاد عدلیہ بحال نہیں ہو گی ۔ سنگین بحران رہے گا۔ معمول کی کارروائی کو معطل کرکے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ ہم نے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ۔لال مسجد پر حملہ ، وزیرستان میں فوج کو قتل کر ایا گیا ہے ہم نے احتجاج کیا۔ یہ سب کچھ ہیں اور آزاد عدلیہ نہیں ہے ملک کی بقائ آزادعدلیہ میں ہے ۔ نواز شریف کی نااہلی سے جدوجہد میںفرق نہیں کرے گا۔ 100 بار نااہل قرار دے دیں ۔ 2002 ئ میں مسلم لیگ ن کو ایوان سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی صرف مسلم لیگ ن تھی ۔ عوام نے چاہا کہ 18 سے 93 پنجاب میں 43 سے 118 ارکان ہو گئے ہیں۔ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے پنجاب میں حکومت پہنچنے کی خواہش نہیں ہے ۔ہم نے ملک کو آئین قانون کے مطابق چلانے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔غلطی نہ دہرائی جائے ۔ اپوزیشن قوم سے وعدہ کرے فوجی وردی کے ساتھ چمٹ کر ایوان اور اقتدار میں نہیں لائیں گے ۔ حکومتی بینچوں پر موجود پی پی پی کے حوالے سے یقین ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ارکان کو اپنے دل کی آواز کا موقع دے ۔ ملکر پاکستان کو بچانا ہے۔ غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور واشنگٹن کے بجائے اسلام آباد میںفیصلوں سے حقیقی آزادی ملے گی۔ جس ملک میں انصاف بک رہا ہو نا پید ہو اس ملک کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں 18 فروری کو عوام نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا آج میڈیا پر پابندیا ہے شاہراہ آئین کو بند کیا جاتا ہے پی سی او ججز ایجنسیوں کے جھرمٹ میں فیصلے کر رہے ہیں ۔ ہم نے دو ٹوک فیصلہ کرنا ہے ۔ ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر اور حواریوں سے رشتہ توڑنا ہے۔ غیر قانونی غیر آئینی ججز کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہو گا ۔ فیصلہ کن جدوجہد ہے ۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں اہم فیصلوں کا وقت ہے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کون اپنے موقف پر ڈٹا رہا ۔ سپیکر نے کہا کہ بحث ہو سکتی ہے ۔ دور آرائ ہیں۔ بحث پر وقت لگے ۔ مسلم لیگ ن سے ایک اور رکن کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کا فریق نہ بنائے جانے کے خلاف دو تجویز کنندگان کی اپیل پر سپریم کورٹ نے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مختصر سماعت کی ۔ نواز شریف کے تجویز کنندہ ظفر اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی لیکن اکرم شیخ ایڈووکیٹ اشتر اوصاف اور اے کے ڈوگر پر مشتمل پینل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنی درخواست میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے ( کل ) بدھ تک کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔ جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان وفاق کی جانب سے وفاق کی ایما پر لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا رہی ہے کہ جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ اپیل میں استدعا کی جائے گی کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ضمنی حلقے کا الیکشن ملتوی کر دیا جائے
پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دئیے جانے کے خلاف قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ حکومتی جماعت کے اراکین نے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور آزاد عدلیہ کے حق میں اور پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔ قبل ازیں اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کاایک ایسا حادثہ ہے جس سے قوم کے مقبول ترین لیڈر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جو بارہ سالوں سے جدوجہد کر رہا ہے ۔اس کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ دیا گیا ہے ۔ ہماری حلیف جماعت خود ان عدالتوں پر اعتماد نہیں رکھتے۔ بے نظیر کے سانحے کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔نواز شریف کے خلاف فیصلہ عدلیہ کا نہیں بلکہ آمر کا ہے عدلیہ کے فیصلے ہمارے مستقبل کی نسلوں کو زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں ۔اگر اس پارلیمنٹ نے فیصلے نہیں کئے تو عوام کے ہاتھ اور ہمارے گریبان ہوں گے ۔ ہمارا عہد وزارتوں کے لیے نہیں ہوتا ۔ ہم نے پیپلز پارٹی سے اقتدار کے لیے ہاتھ نہیں ملایا تھا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ مسلم لیگ ( ن ) کے اراکین واک آو¿ٹ کریں گے جس پر مسلم لیگ ن کے اراکین ایوان سے چلے گئے مسلم لیگ ن کے اراکین کے قومی اسمبلی کے ہال سے شاہراہ دستور تک احتجاجی مارچ کیا اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دیا ۔مسلم لیگ (ن )نے پی سی او ججز پر عدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ پی سی او ججوں کو غیر آئینی سمجھتے ہیں اس لیے ان کے سامنے کوئی اپیل نہیں کریں گے، منگل کو یہاں قومی اسمبلی سے مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی کے واک آو¿ٹ کے بعد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے راہنما اور قومی اسمبلی میں قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت روز اول سے سمجھتی ہے کہ پی سی او ججز آئینی اور قانونی ججز نہیں ہیں اور یہ کسی اور کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے جو قوم سے کھیلا جا رہا ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اصل عدلیہ کے ارکان ہمارے رشتہ دار نہیں ہیں وہ صرف آزاد عدلیہ کے علمبردار ہیں اور اسی لیے ہم ان کی سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18فروری سے پہلے پی سی او ججز پرویز مشرف کی ایما پر کام کرتے تھے لیکن یکم اپریل کے بعد پی سی او ججز جو کچھ کرتے ہیں وہ حکومتی ایما پر کرتے ہیں اور یہ صور ت حال ہمارے لیے قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت پی سی او ججز کے سامنے اپیل دائر نہیں کرے گی ۔ پاکستان کے عوام اور دنیا یہ سن لے اور کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ اگر مسلم لیگ ن کا ہر رکن قومی اسمبلی غیر آئینی طو ر پر نااہل قرار دے دیا جائے تب بھی ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور نہ جھکیں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بھی نواز لیگ کی مجبوری نہیں ہے اور ن لیگ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ہر چیز قربان کر دے گی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ بعد میں انہوںن ے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی اور سنٹرل ایگزیکٹوکی میٹنگ ہو گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گااس موقع پر ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی جاوید ہاشمی نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی تارخ میں ایک اور تاریخی دن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے والی عدلیہ کو پوری قوم نااہل قرار دے رہی ہے اور یہ عدلیہ جو ایک آمر کی باندی ہے اس عدلیہ نے ایک آمر کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس نے پاکستان کے محبوب ترین راہنما کو نااہل قرار دے کر پوری قوم کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تاریکی اور ناانصافی کو ہر صورت مٹائیں گے اور قوم کے روشن مقدر کے لیے جدوجہد کرتے رہیںگے۔مسلم لیگ ن کے راہنما احسن اقبال نے کہا کہ پی سی او ججزصدر پرویز مشرف کے پروردہ ہیں اس لیے مسلم لیگ ن انہیں قانونی اور جائز نہیں سمجھتی ۔ کیونکہ صدر پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ان غیر آئینی ججوں کو تعینات کیا ہے اور یہ غیر آئینی جج آئین کی نگرانی نہیں کرسکتے اور نہ ہی ملک میں امن و امان بحال کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہیں ضرور جانا ہو گا اور عدلیہ بحال ہو کر رہے گی انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ 2 نومبر کی پوزیشن پر بحال نہ کی گئی تو پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ وفاقی حکومت نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل دیتے ہوئے شاہراہ دستور کو ایک بار پھر نوگو ایریا میں تبدیل کردیا ۔ اراکین اسمبلی ، پارلیمنٹ کے وزارتوں کے ملازمین اور صحافیوں کو شاہراہ پر داخلہ کی اجازت نہ دی گئی سیکورٹی اہلکاروں نے اپوزیشن کے چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ کو بھی پارلیمنٹ جانے سے روک دیا جس پر قومی اسمبلی میں انہوں نے شدید احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح ایک بار پھر اسلام آباد کی عوام ی حکومت کی طرف سے سیکورٹی کے نام نہاد انتظامات کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے جب منگل کی صبح پارلیمنٹ ہاو¿س میں جانے والی شاہراہ دستور کو تمام افراد کے لیے بند کردیا گیا حکومت نے اپنی حلیف جماعت مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاو¿س کے ارد گرد سیکورٹی کے ا نتظامات کرتے ہوئے ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث نہ صرف شاہراہ دستور پر کئی کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیںلگ گئیں پولیس اہلکاروں نے اراکین اسمبلی کو بھی قومی اسمبلی جانے نہ دیا مسلم لیگ(ق) کے ریاض حسین پیرزادہ جو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جار ہے تھے کو اپنا تعارف کرانے پر بھی سیکورٹی اہلکاروں نے اجازت نہ د ی تاہم ان کے شدید احتجاج کے بعد انہیں اجازت دی گئی جبکہ دیگر افراد جن میں صحافی ،پارلیمنٹ ہاو¿س اور وزارتوں کے اہلکار شامل تھے کو اپنے کارڈ دیکھانے کے باوجود اجازت نہ دی گئی اس صورت حال کے باعث شاہراہ دستور ایک بار پھر نو گو ایریا بن گئی ۔ ریاض حسین پیرزادہ نے اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بحران ختم کیوں نہیں ہوتا ہم اپنے ہی ملک میں یرغمال بن چکے ہین حکمرانوں کو کیوںیقین نہیں آتا کہ وہ حکومت میں آچکے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے واضح کر دیا ہے کہ آزاد عدلیہ اور نواز شریف کو انتخابات سے نااہل قرار دیئے جانے کے خلاف کوئی بڑا سیاسی اقدام اٹھایا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے منگل کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے نمائندہ وفد نے قائم مقام پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں ملاقات کی ۔ مخدوم جاوید ہاشمی ‘ احسن اقبال دیگر اہم رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ذرائع کے مطابق آزاد عدلیہ بحال نہ ہونے پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) نے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) حکمران اتحاد کا حصہ نہیں رہے گی ۔ اعلان مری کے مطابق ججز کو بحال کیا جائے ‘ پی سی او کے ججز قابل قبول نہیں ہیں ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے حوالے سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ججز کی بحالی میں تاخیر سے حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ ( ن ) کو نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا ۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 123 کے ضمنی انتخابات نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل کافیصلہ آنے تک ملتوی کر دئے جائیں ۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے وفاقی حکومت باضابطہ درخواست کرے گی ۔ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں میں انہوں نے کہاکہ بے حد دکھ اور افسوس ہواہے کہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیاگیاہے ۔ قوم نے جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت بڑی قیمت دی ہے ۔ ایک ایک رکن ان کی بھرپور جدوجہد ہے ۔ ہم نے عوام کو عزت اور اسکا راج قائم کرنا ہے ۔ طاقت کے اصل سرچشمہ اس ہاوس ، آئین کو طاقتور اور اداروں کو مضبوط عدلیہ اور میڈیا کو آزاد کرنا ہے ۔ میثاق جمہوریت کے حوالے سے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے لندن میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے ۔پنجاب میں مسلم لیگ ن اور وفاق میں پی پی پی کو مینڈیٹ ملا۔ میثاق جمہوریت میں معاہدہ کیا کہ غیر آئینی غیر قانونی طریقے سے ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرائیں گے۔ عوام کے اجتماعی شعور کو دھوکا نہیں دیں گے ۔ اداروں میں ایسے فیصلے ہونے چاہئیں جن کو عوام کو تسلیم کریں ورنہ اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ میں نے نواز شریف ، چوہدری نثار علی ، مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال کے ساتھ مشاورت کی ہے ۔ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمارے پاس نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا آپشن اور عدالت کا حکم آنے تک 123 حلقہ میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی اپیل کریں گے ۔اداروں کو چاہیے کہ وہ اس طرح اپنی ساکھ قائم کریں کہ عوام ان کا عزت و احترام کرے ۔ اتحادیوں کے جذبات جو مجروح ہیں اس پر افسوس ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو ایک دوسرے پر تنقید سے گریزکرنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن نے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت اپنے اتحادیوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے جمہوریت کی نفی ہو اور نہ ہی میاں نواز شریف کے انتخابات پر کوئی قدغن لگانے کا سوچا ہے انہوں نے مسلم لیگ ن کے راہنماوں سے درخواست کی کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ وزیر اعظم سے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی اور این اے 123کے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرانے کی بھی کوشش کریں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت عوام دوست فیصلوں کی خواہاں ہے اور اپنے اتحادیوں سے مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور لائی کورٹ کے اس فیصلے پر آصف علی زرداری کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نون لیگ سے محاذ آرائی کے بجائے ہم آہنگی چاہتی
ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سروس اے پی ایس۔

مایوس قوم کے ساتھ ایک اور سنگین مذاق ۔۔۔۔۔ تحریر : اے پی ایس،اسلام آباد




وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عہد کیا ہے کہ ایک بار نہیں اگر ١٠٠ بار بھی ہمیں نا اہل قرار دے دیا جائے پھر بھی ہم ان جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سر جھکائیں گے اگر مجھے الٹا بھی لٹکا دیا جائے یا میر ے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو پھر بھی میں ان مشرف کے جعلی ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا ۔ ایوان صدر سازشوں کا منبع بن چکا ہے اور ہمارے خلاف سازشیں کرنے والی وہ قوتیں عناصر ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ دونوں بھائی اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کریں ۔ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ غریبو ںکو تعلیم اور ہسپتالوں میں نہیں مفت دوائی دلواسکیں ملک کو بحرانوں سے نکال کرخوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکی یہ وہ سازشی عناصر ہیں جو ہمیں عوام سے دور رکھنے کے لئے دن رات ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمارا ایک بار پھر ان عدالتوں سے ایمان اٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو مشرف اور ان کے حواریوں کے اشاروں پر نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ عدالتوں میں بیٹھے پر وہ لوگ ہیں جو 1999ء کے ایکشن کے خلاف خاموش رہے ۔جنہوں نے نہ صرف 3نومبر کے غیر آئینی اقدام پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ اس کی حمایت بھی کی یہ وہ لوگ ہیں جو جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے قتل پر خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور عدلیہ کی بحالی تک خاموشی سے نہیں بٹھیں گے ۔ خواہ اس کے لئے ہمیں حکومت کیا جان کسی بھی قربانی دینی پڑ ی پرواہ نہیں کریں گے ۔مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہاہے کہ ضمنی انتخابات میں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ۔ فیصلے کے خلاف اپنے رد عمل میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے یہ آمر کا لکھا ہوا فیصلہ ہے جو سنا دیا گیا ہے انہو ںنے کہاکہ پٹیشنر آمروں کے ٹاو¿ٹ ہوتے ہیں جو ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں قوم ہمارے ساتھ ہے اور عدلیہ دونومبر کی پوزیشن میں ضرور بحال ہو گی اور ہم اس وقت تک چین سے نہیںبیٹھیں گے جب تک عدلیہ بحال ، مشرف کا مواخذہ نہیں ہوتا اور 1999ء کا آئین بحال نہیں ہوتا جب تک یہ تینوں مقاصد حاصل نہیں ہوتے پاکستانی عوام چین سے نہیں بیٹھے گی اوران مقاصد کے حصول کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے سازش کا مقابلہ ہم اپنے اتحاد حکمت عملی سے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ان مقاصد کے حق میں ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاہے کہ فنانس بل کی منظوری سے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ ہم نے 29ججوں کافنانس بل میں ذکر آنے سے پی سی او ججز کو تسلیم کرلیا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے یہ ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے کسی فرد یا کمیٹی کی ذاتی غلطی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کا واضح ایجنڈہ ہے کہ ہم پی سی او ججز کو قبول نہ کریں گے ۔ فنانس بل سے ججز کی بحالی کے طریقے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے قوم یہ امیدلگائے بیٹھی تھی کہ لیڈر اس کی رہنما کریں گے اور راستہ دکھائیں گے مگر تاثر یہ پھیلتا جارہاہے کہ لیڈر پیچھے اور قوم اس کے آگے جارہی ہے تمام پارٹیوں کے لیڈرز کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ قوم کواب مزید طفل تسلیوں میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ قوم کو نقصان پہنچانے والوں میں جہاں آمروں کا حصہ ہے وہاں سیاستدانوں کابھی کرادار کوئی قابل فخر نہ ہے عوام کے صبر کا جام اب چھلک رہاہے ۔ رہنما و¿ں نے اس کا احساس نہ کیاتو وقت ہاتھوں سے نکل جائے گا ۔ عدلیہ کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ آمروں کاراستہ کوئی نہ روک سکے گا اور آئندہ نسلیں ہمیں نہ معاف کریں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے حلیفوں سے گلہ ہے ہم نے ہمیشہ نیک نیتی سے ان کا ساتھ دیا ہے مگر شیری رحمان اور دوسرے وزرائ نے ٹیکنیکل غلطی کو پوری پارٹی کا فیصلہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی ہے دراصل پارٹی لائن واضح نہ تھی اس لئیے سب اراکین نے منی بل کے لیے ووٹ دے دیا مجھے کیونکہ شک تھا اس لیے میں میاں نوازشریف سے اجازت لیکر وووٹ نہ دیا ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم ججز کی بحالی قرارداد کے ذریعے چاہتے ہیں جومری ڈیکلریشن میں واضح ہے ہم کسی صورت ججز کی تعداد بڑھانے کے حق میںنہ ہیں منی بل کے ذریعہ ججوں کی بحالی کاذریعہ نہ آئینی ہے نہ قانونی نہ اخلاقی طورپر درست ہے ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے ہیں ججزکی بحالی ہیقوم ملک اور آئین کو بچاسکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل قرار دیئے جانے سے متعلق فیصلہ کی اطلاع جیسے ہی پنجاب اسمبلی میں پہنچی تو ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان میں بجٹ پر بحث چھوڑ کر گو مشرف گو ، پی سی او ججز نا منظور ، مشرف کا جو یار ہے وہ غدار ہے اور دیگر نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔ سپیکر نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بجٹ پر بحث روک دی اور اجلاس ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ بجٹ پر بحث آج مکمل ہونا تھی جو نہیں کی جا سکی لہذا اب کل بھی بجٹ پر بحث جاری رہی گی ۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تمام ارکان ایوان سے باہر آگئے اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر زبردست نعرہ بازی شروع کر دی ۔ ارکان اسمبلی گو مشرف گو، پی سی او ججز نا منظور اور مشرف کو پھانسی دو ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرو ، ہم نہیں مانتے مشرف تیرے ضابطے ، مشرف کی عدلیہ نا منظور کے نعرہ لگاتے ہوئے واپڈا ہاو¿س کی جانب سے جلو س کی شکل میں مال روڈ پر آگئے اور سڑک پر لیٹ کر ٹریفک بلاک کر دی ارکان اسمبلی نے اس موقع پر نعرے لگاتے ہوئے سینہ کوبی بھی کی اور تقریبا آدھا گھنٹہ تک ٹریفک بلاک رکھنے کے بعد افلاح بلڈنگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں واپس آگئے اور صدر مشرف اور پی سی اوججز کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی جاری رکھی ۔مسلم لیگ (ن ) کے رہنما احسن اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کو پاکستانی عدلیہ جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر جگہسائی سے تعبیر کیا ہے اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی مقبولیت کو عالمی سطح پر بھی مانا جارہا ہے دو دن قبل امریکی تھینک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت 86فیصد سے زائد ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ دو دفعہ وزیر اعظم رہنے والے اور 86فیصد مقبول رہنما کو اگر انتخاب کے لئے نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جگ ہسائی کا باعث بنے گا ۔ اس فیصلے نہ ہمارے اس موقف کو بھی سچ ثابت کردیا ہے کہ پی پی اور عدلیہ سے کسی قسم کے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ یہ پی سی او عدالتیں نہیں بلکہ جنرل مشرف کے حامی ججز ہیں وہ مشرف کے ایجنڈے پر عملدر آمد کرا رہے ہیں تاکہ جمہوریت اور مخلوط حکومت کو ناکام بنایا جائے اور مشرف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ 4مہینے ہونے کو ہیں مگر حکومت مشرف کے دیے ہوئے نظام اور مشرف کے اٹارنی جنرل کی حکومت ختم نہیں کر سکی ہم اپنے اتحادیوں سے بھی یہ پوچھیں گے کہ ہمارے خلاف جو ایکشن جاری ہے اور جمہوریت کی بساط الٹتی نظر آرہی ہے وہ اس پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں اب ایک جمہوری حکومت ہے اور اس کی موجودگی میں غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے دیے جارہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ یہ حکومت موثر نہیں ہے ۔ آج بھی نظام کار مشرف کے پاس ہے اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا تو شاید اس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مشرف کے حامی نواز شریف کی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے کہ اگر نواز شریف اسمبلی میں آگئے تو وہ ایک چیلنج ہوں گے اور شہباز شریف پر بھی بطور وزیر اعلیٰ ایک تلوار لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ گورنر پنجاب کی تعیناتی کی گئی وہ اس کا شاف نہ ہے ۔ ایسی سب باتیں 18فروری کے عوامی فیصلے کی نفی کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کے ساتھ گہری سازش ہے ۔ مگر یہ ایسے فیصلے ہیں جن کی حیثیت پاکستان کی تاریخ میں ردی کی ٹوکری سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہم اس فیصلے کی مذمت اور مزاحمت کریں گے کیونکہ یہ عدلیہ کا نہیں پی سی او ججز کا فیصلہ ہے یہ مشرف کی عدالتوں کا فیصلہ ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے آج پیر کو میان نواز شریف کے این اے 123 اور میاں شہباز شریف کے پی پی 48 بھکر سے مختلف مقدمات کی سماعت کررہا تھا یہ سماعت پیر کو بارہ بجے تک مکمل ہو گئی اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اس کے بعد تقریبا ساڑھے چھ بجے عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے تحت میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے ا ور میاں نواز شریف کی این اے 123 سے انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ د وسری جانب میاں شہباز شریف جو انتخابات میں کامیاب ہو چکے تھے ان کا معاملہ بننے والی ٹریبونل کے سپرد کردیا گیا ہے تاہم اس وقت تک میاں شہباز شریف بطور وزیراعلی اپنا کام جاری رکھ سکیں گے عدالت کا یہ فیصلہ سننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بھاری تعداد میں کارکن جمع ہو گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے فیصلے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے لائرز ونگ کے مختلف عہدے داروں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا شدید احتجاج کرتے ہوئے ” گو مشرف گو “ کے نعرے لگائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے میاں نواز شریف کو نہ صرف قومی اسمبلی لے جانے سے روکا گیا بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کی گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے این اے 123 سے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے اور ان کے خلاف نور الہی نامی شخص نے مختلف اعتراضات فائل کیے گئے تھے جن کے تحت طیارہ سازش کیش مختلف بینکوں کا ڈیفالٹر ہونے اور عدالتوں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرنے کے ممکنہ الزامات عائد کیے گئے تھے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کا فی الحال مختصر فیصلہ سامنے آیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ایک دو دن میں جاری کردیا جائے گا تاہم اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ میاں نواز شریف پٹشنر نور الہی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ حقیقی طورپر درست ہیں ۔ طیارہ ساز ش کیس ‘سپریم کورٹ پر حملہ کیس مختلف بنکوں کے ڈیفالٹر ہونا شامل ہے ۔ اس سے قبل جو بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس پر وکلاء نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ا ن ججز کی مختلف حوالوں سے سابق حکومت (ق) سے ان کی وابستگی تھی اس لیے ان سے صحیح فیصلے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ جسٹس حسنات نے اس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔نتیجتا یہ بینچ ٹوٹ گیا تھا۔مسلم لیگ ( ن ) کے راہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی 29 ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں شریک نہیں تھی اور نہ ہی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو جج تسلیم کرتے ہیں ۔ پیر کو پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فنانس بل میں 21 ججوں کی کلاز پر رائے شماری نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے اس موضوع پر اظہار خیال ضرور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پالیسی زیادہ واضح نہ ہو سکی ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 29 ججوں کی کلاز صوتی ووٹ سے منظور ہوئی اور اس صوتی ووٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی کوئی آواز شامل نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے آج انہوں نے اسمبلی میں کھڑا ہو کر اپنی جماعت کی پالیسی کی وضاحت کی اور کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان اسمبلی نے فنانس بل کی منظوری میں یقیناً شریک تھے لیکن 29 ججوں کی کلاز میں حصہ نہیں لیا ۔ اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ لاتعلق رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پی سی او ججوں کو ہم اس طرح جائز جج نہیں مانتے اور معزول ججوں کی بحالی بھوربن معاہدے کے تحت ایگزیکٹو آرڈر سے ہونی چاہئے ۔ جبکہ پاکستان بار کونسل کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے ججوں کی تعداد کو 16سے بڑھا کر29کرنے کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرویزمشرف کے 3نومبر کے اقدامات کو تحفظ دینے کی ایک کوشش ہے جسے پاکستان کے وکلاءاور عوام تسلیم نہیں کرتے تاہم وہ معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے آل پاکستان وکلاء نمائندگان کنونشن میں ملک بھرکے تمام شہروں میں ہفتہ میں ایک دفعہ جمعرات کے روز وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ اور ریلی کے موقعہ پر اہم مقامات پر تین گھنٹے کیلئے وکلاء کے دھرنے کی تجویز دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر افتخار محمد چودھری دیگرمعزل ججوں کو معاہدہ بھوربن کے تحت ایک قراردا دکے زریعے بحال کیاجائے اور اس کیلئے قانو ن سازی کی کوئی ضرورت نہ ہے تاہم اگر معزول ججوںکو بحال نہ کیا گیا تو وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکمرانوں کو معزول جج ہر صورت میں بحال کرنا ہونگے کیونکہ ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہونے سے سرمایہ کاری نہ ہورہی ہے اورترقی وخوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے پی سی او ججوں کو تسلیم نہیںکیااور نہ ہی پی سی او ججوں کو تسلیم کرے گی تاہم حکومت نے معزول ججوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرکے معزول ججوں کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اب آئنی پیکیج کے زریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر پی سی او ججوں کو بھی بحال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء نے کامیاب لانگ مارچ اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلا کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھ لیا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر کی بار ایسوسی ایشنوں نے پاکستانی وکلاءکی تحریک کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ دس غیر ملکی یونیورسٹیوں نے معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیدی ہے جبکہ دنیا بھر کی62بار ایسوسی ایشنوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کی جرات کی وجہ سے تاحیات ممبر شپ دیدی ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی نے چیف جسٹس افتخا رمحمد چودھری کو میڈل آف فریڈم کا ایواڈ دیا ہے جو یونیورسٹی کی طرف سے دیا جانے والا تیسرا ایوارڈ ہے تاہم بارسلونہ کی بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بھر کے وکلاء کو اعزاز ی ممبر شپ دیدی ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جلد ہی انٹرنیشنل لائرز کانفرنس بلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی کسی تنظیم نے بھی اسلام آباد میں دھرنے کا فیصلہ نہیں کیاتھا تاہم ملک میں وکلاء کے تمام فیصلے پاکستان بار کونسل کررہی ہے جس نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھاجس میں دھرنے کا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا تاہم وہ وکلاء اور عوام کے دھرنے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کی تحریک پرامن ہے اور پرامن ہی رہے گی تاہم ڈاکٹر شیرافگن پر تشدد کے واقعہ کی وجہ سے وکلاء دنیا بھر میں بدنام ہوئے اور بعض کالم نگاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن کووکلاء نے بچایا تھا لیکن ڈاکٹر شیرافگن پر تشد د کے واقعہ کے بعد ایک سازش کے تحت کراچی میں وکلاء کو قتل کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان با رکونسل کے صدر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے اور ا ب واپس نہ آرہے ہیں تاہم اگر ملک میں عدلیہ آزاد ہوتی تو شوکت عزیز کو ملک سے بھاگنے کا موقعہ نہ ملتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کے کامیاب لانگ مارچ نے ساری دنیا میں وکلائکے وقار کو بڑھایا ہے تاہم جب تک معزول جج بحال نہیں ہوجاتے اس وقت تک وکلا کی تحریک جاری رہے گی ۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ تاریخی ہے تاہم لانگ مارچ مزاحمتی موبائیل دھرنا بھی تھا جو9جون کو شروع ہوا اور اس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معزول ججوں کی بحالی سے پارلیمنٹ اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی ۔ اس سے قبل کنونشن سے پنجا ب با رکونسل کے وائس چےئرمین اسلم سندھو ایڈووکیٹ ، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف کوآرڈنیٹر اطہر من اللہ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ارشد محمود بگو ایڈووکیٹ کے علاوہ ڈویثرن بھر کی پندرہ تحصیلوں کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدور نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں ممبران پنجاب با رکونسل ایم اظہرچودھری ، رانا نصر اللہ خان کے علاوہ سینکڑوں وکلاء شریک تھے جنہوں نے گو مشرف گو کے زبردست نعرے بھی لگائے جبکہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر چودھری اعتزاز احسن کا سیالکوٹ آمد پر بھرپور استقبال کیاگیااور ان پر منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ایک جلوس کی شکل میں انوار کلب آڈیٹوریم لایا گیا جہاں چار گھنٹے سے زائد عرصہ تک کنونشن جاری رہا ۔اے پی ایس۔

سو بار بھی نا اہل قرار دیا جائے جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سرجھکائیں گے۔ شریف برادران کا عہد



لاہور ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عہد کیا ہے کہ ایک بار نہیں اگر ١٠٠ بار بھی ہمیں نا اہل قرار دے دیا جائے پھر بھی ہم ان جعلی ججوں کے سامنے جائیں گے نہ سر جھکائیں گے اگر مجھے الٹا بھی لٹکا دیا جائے یا میر ے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو پھر بھی میں ان مشرف کے جعلی ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا ۔ ایوان صدر سازشوں کا منبہ بن چکا ہے اور ہمارے خلاف سازشیں کرنے والی وہ قوتیں عناصر ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ دونوں بھائی اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کریں ۔ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ غریبو کو تعلیم اور ہسپتالوں میں نہیں مفت دوائی دلواسکیں ملک کو بحرانوں سے نکال کرخوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکی یہ وہ سازشی عناصر ہیں جو ہمیں عوام سے دور رکھنے کے لئے دن رات ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمارا ایک بار پھر ان عدالتوں سے ایمان اٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو مشرف اور ان کے حواریوں کے اشاروں پر نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں بیٹھے پر وہ لوگ ہیں جو 1999ء کے ایکشن کے خلاف خاموش رہے ۔جنہوں نے نہ صرف 3نومبر کے غیر آئینی اقدام پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ اس کی حمایت بھی کی یہ وہ لوگ ہیں جو جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے قتل پر خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ججوں کو نہیں مانیں گے اور عدلیہ کی بحالی تک خاموشی سے نہیں بٹھیں گے ۔ خواہ اس کے لئے ہمیں حکومت کیا جان کسی بھی قربانی دینی پڑ ی پرواہ نہیں کریں گے

شریف برادران ، مسلم لیگ لائرز ونگ کا اجلاس ، مسلم لیگ (ن) کا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نہ جانے کا فیصلہ

لاہور ۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف او روزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ اور میاں نواز شریف کے میڈیا ایڈوائزر کا ایک مشترکہ اجلاس رائیونڈ لاہور میں پیر کی شب منعقد ہوا ۔ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں متفقہ طورپر فیصلہ کیاگیا ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیںکیاجائے گا ۔اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہاکہ معزول کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے انہیں جو بھی قیمت چکانا پڑی چکائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ سے انصاف کی توقع نہ تھی اس لئے دونوں بھائی اس بینچ کے سامنے پیش نہیں ہوئے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک معزول ججز بحال نہیں ہوتے ان کامکمل بائیکاٹ کیا جائے گا کسی ایک کیس میں بھی شریف برادران یا مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پیش نہیں ہو

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری میں دوگھنٹے تک اہم ملاقات

اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان وزیراعظم ہاؤس ا سلام آباد میں پیر کو اہم ملاقات ہوئی ۔ یہ ملاقات تقریبا دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی ۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان مشیر داخلہ رحمان ملک اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی محمود علی درانی بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال کے علاوہ کابینہ میں توسیع ‘ آئینی پیکج اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کے معاملات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں فیصلہ کیا گیاہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد آئینی پیکج کو جولائی کے وسط تک قومی اسمبلی میںپیش کیا جائے گا اور آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو اعتماد میں لیا ۔

نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ،صدیق الفاروق


اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہاہے کہ ضمنی انتخابات میں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے اور عدل کے فیصلوں کے منافی ہے ۔ فیصلے کے خلاف اپنے رد عمل میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے یہ آمر کا لکھا ہوا فیصلہ ہے جو سنا دیا گیا ہے انہو ںنے کہاکہ پٹیشنر آمروں کے ٹاؤٹ ہوتے ہیں جو ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں قوم ہمارے ساتھ ہے اور عدلیہ دونومبر کی پوزیشن میں ضرور بحال ہو گی اور ہم اس وقت تک چین سے نہیںبیٹھیں گے جب تک عدلیہ بحال ، مشرف کا مواخذہ نہیں ہوتا اور 1999ء کا آئین بحال نہیں ہوتا جب تک یہ تینوں مقاصد حاصل نہیں ہوتے پاکستانی عوام چین سے نہیں بیٹھے گی اوران مقاصد کے حصول کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے انہو ںنے کہاکہ سازش کا مقابلہ ہم اپنے اتحاد حکمت عملی سے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ان مقاصد کے حق میں ہے۔

پی سی او ججز کوکسی صورت قبول نہ کریں گے ، مخدوم جاوید ہاشمی



ملتان ۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاہے کہ فنانس بل کی منظوری سے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ ہم نے 29ججوں کافنانس بل میں ذکر آنے سے پی سی او ججز کو تسلیم کرلیا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے یہ ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے کسی فرد یا کمیٹی کی ذاتی غلطی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کا واضح ایجنڈہ ہے کہ ہم پی سی او ججز کو قبول نہ کریں گے ۔ وہ گذشتہ روز اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ۔ انہوںنے کہاکہ فنانس بل سے ججز کی بحالی کے طریقے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے قوم یہ امیدلگائے بیٹھی تھی کہ لیڈر اس کی رہنما کریں گے اور راستہ دکھائیں گے مگر تاثر یہ پھیلتا جارہاہے کہ لیڈر پیچھے اور قوم اس کے آگے جارہی ہے تمام پارٹیوں کے لیڈرز کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ قوم کواب مزید طفل تسلیوں میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ قوم کو نقصان پہنچانے والوں میں جہاں آمروں کا حصہ ہے وہاں سیاستدانوں کابھی کرادار کوئی قابل فخر نہ ہے عوام کے صبر کا جام اب چھلک رہاہے ۔ رہنما ؤں نے اس کا احساس نہ کیاتو وقت ہاتھوں سے نکل جائے گا ۔ عدلیہ کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ آمروں کاراستہ کوئی نہ روک سکے گا اور آئندہ نسلیں ہمیں نہ معاف کریں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے حلیفوں سے گلہ ہے ہم نے ہمیشہ نیک نیتی سے ان کا ساتھ دیا ہے مگر شیری رحمان اور دوسرے وزراء نے ٹیکنیکل غلطی کو پوری پارٹی کا فیصلہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی ہے دراصل پارٹی لائن واضح نہ تھی اس لئیے سب اراکین نے منی بل کے لیے ووٹ دے دیا مجھے کیونکہ شک تھا اس لیے میں میاں نوازشریف سے اجازت لیکر وووٹ نہ دیا ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم ججز کی بحالی قرارداد کے ذریعے چاہتے ہیں جومری ڈیکلریشن میں واضح ہے ہم کسی صورت ججز کی تعداد بڑھانے کے حق میںنہ ہیں منی بل کے ذریعہ ججوں کی بحالی کاذریعہ نہ آئینی ہے نہ قانونی نہ اخلاقی طورپر درست ہے ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے ہیں ججزکی بحالی ہیقوم ملک اور آئین کو بچاسکتی ہے۔

دوسری شادیاں کرانے کے چکر میں دوخاوندوں نے دو ساتھیوں کی مدد سے اپنی بیویوں کا گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا

ڈیرہ غازی خان ۔ دوسری شادیاں کرانے کے چکر میں دوخاوندوں نے دو ساتھیوں کی مدد سے اپنی بیویوں کا گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بیویاں دوسری شادی کرنے میں رکاوٹ ڈال رہی تھی ۔ جبکہ معمولی جھگڑے پر سات افراد نے سوٹوں اور کلہاڑیوں سے وار کر کے ایک مخالف کو موت کے گھاٹ اتار کر دوسرے مخالف کو شدید زخمی کر کے فرار ہوگئے ۔ تفصیل کے مطابق حدود تھانہ محمد پور ، موضع بخارہ شریف کے سیف اللہ کھوکھر نے بتایا کہ ملزمان ممتاز حسین وغیرہ تین افراد نے ملزم اللہ وسایہ کے ایماء پر میری ہمشیرہ مسماۃ نجمہ بی بی اور مسماۃ نظام خاتون ان شوہروں نے دونوں کا گلہ دبا کر رات کے ڈیڑھ بجے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزمان ممتاز حسین اور وزیر حسین دونوں بھائی دوسری شادیاں کرنا چاہتے تھے کہ ان کی بیویاں راضی نہ تھیں۔ ملزمان نے انہیں ناحق قتل کر دیا ہے۔ جبکہ حدود تھانہ سٹی راجن پور موضع جاگیر گبول کے فیض اللہ سرگانی نے بتایا کہ ملزمان حبیب اللہ وغیرہ سات افراد کے ساتھ معمولی جھگڑا ہوا تھا کہ ملزمان نے بدلہ لینے کی غرض سے کلہاڑیوں اور سوٹوں سے وار کر کے میرے والد سیف اللہ اور میرے بھائی عبدالغفور کو تشدد کرکے شدید زخمی کر دیا۔ جبکہ میرا والد غلام سرور زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ۔ متعلقہ تھانوں کی پولیس نے مدعیان کے بیان پر ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔

مولانا فضل الرحمن کو دل کا دورہ ، ہسپتال داخل ، طبی معائنے کے بعد فارغ



اسلام آباد ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کو پیر کو دل کی تکلیف کے باعث پولی کلینک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی امداد دی اور بعد ازاں طبی معائنے کے بعد ان کی طبعیت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فارغ کردیا ڈاکٹروں کے مطابق مولانا کی حالت تسلی بخش ہے اور ڈپریشن کی وجہ سے انہوں نے دل کی تکلیف محسوس کی اب وہ بالکل ٹھیک ہیں اور خطرے کی کوئی بات نہیں ۔

میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں مشرف اور پی سی او ججز کے خلاف زبردست نعرہ بازی ، سپیکر نے اجلاس کل صبح تک ملتوی کردیا

لاہور ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل قرار دیئے جانے سے متعلق فیصلہ کی اطلاع جیسے ہی پنجاب اسمبلی میں پہنچی تو ارکان صوبائی اسمبلی نے ایوان میں بجٹ پر بحث چھوڑ کر گو مشرف گو ، پی سی او ججز نا منظور ، مشرف کا جو یار ہے وہ غدار ہے اور دیگر نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔ سپیکر نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بجٹ پر بحث روک دی اور اجلاس کل صبح دس بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ بجٹ پر بحث آج مکمل ہونا تھی جو نہیں کی جا سکی لہذا اب کل بھی بجٹ پر بحث جاری رہی گی ۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تمام ارکان ایوان سے باہر آگئے اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر زبردست نعرہ بازی شروع کر دی ۔ ارکان اسمبلی گو مشرف گو، پی سی او ججز نا منظور اور مشرف کو پھانسی دو ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرو ، ہم نہیں مانتے مشرف تیرے ضابطے ، مشرف کی عدلیہ نا منظور کے نعرہ لگاتے ہوئے واپڈا ہاؤس کی جانب سے جلو س کی شکل میں مال روڈ پر آگئے اور سڑک پر لیٹ کر ٹریفک بلاک کر دی ارکان اسمبلی نے اس موقع پر نعرے لگاتے ہوئے سینہ کوبی بھی کی اور تقریبا آدھا گھنٹہ تک ٹریفک بلاک رکھنے کے بعد افلاح بلڈنگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں واپس آگئے اور صدر مشرف اور پی سی اوججز کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی جاری رکھی ۔

Monday, June 23, 2008

نواز شریف نا اہلی فیصلہ ، عدلیہ ، جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق ہے ۔ احسن اقبال



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن ) کے رہنما احسن اقبال نے لاہور ہائی کورٹ کے نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کو پاکستانی عدلیہ جمہوریت اور قوم سے سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر جگہسائی سے تعبیر کیا ہے اپنے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی مقبولیت کو عالمی سطح پر بھی مانا جارہا ہے دو دن قبل امریکی تھینک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت 86فیصد سے زائد ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ دو دفعہ وزیر اعظم رہنے والے اور 86فیصد مقبول رہنما کو اگر انتخاب کے لئے نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جگ ہسائی کا باعث بنے گا ۔ اس فیصلے نہ ہمارے اس موقف کو بھی سچ ثابت کردیا ہے کہ پی پی اور عدلیہ سے کسی قسم کے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔ یہ پی سی او عدالتیں نہیں بلکہ جنرل مشرف کے حامی ججز ہیں وہ مشرف کے ایجنڈے پر عملدر آمد کرا رہے ہیں تاکہ جمہوریت اور مخلوط حکومت کو ناکام بنایا جائے اور مشرف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ 4مہینے ہونے کو ہیں مگر حکومت مشرف کے دیے ہوئے نظام اور مشرف کے اٹارنی جنرل کی حکومت ختم نہیں کر سکی ہم اپنے اتحادیوں سے بھی یہ پوچھیں گے کہ ہمارے خلاف جو ایکشن جاری ہے اور جمہوریت کی بساط الٹتی نظر آرہی ہے وہ اس پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں اب ایک جمہوری حکومت ہے اور اس کی موجودگی میں غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے دیے جارہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ یہ حکومت موثر نہیں ہے ۔ آج بھی نظام کار مشرف کے پاس ہے اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا تو شاید اس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مشرف کے حامی نواز شریف کی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے کہ اگر نواز شریف اسمبلی میں آگئے تو وہ ایک چیلنج ہوں گے اور شہباز شریف پر بھی بطور وزیر اعلیٰ ایک تلوار لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ گورنر پنجاب کی تعیناتی کی گئی وہ اس کا شاف نہ ہے ۔ ایسی سب باتیں 18فروری کے عوامی فیصلے کی نفی کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کے ساتھ گہری سازش ہے ۔ مگر یہ ایسے فیصلے ہیں جن کی حیثیت پاکستان کی تاریخ میں ردی کی ٹوکری سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہم اس فیصلے کی مذمت اور مزاحمت کریں گے کیونکہ یہ عدلیہ کا نہیں پی سی او ججز کا فیصلہ ہے یہ مشرف کی عدالتوں کا فیصلہ ہے ۔

نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا



لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قراردے دیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے آج پیر کو میان نواز شریف کے این اے 123 اور میاں شہباز شریف کے پی پی 48 بھکر سے مختلف مقدمات کی سماعت کررہا تھا یہ سماعت پیر کو بارہ بجے تک مکمل ہو گئی اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اس کے بعد تقریبا ساڑھے چھ بجے عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے تحت میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے ا ور میاں نواز شریف کی این اے 123 سے انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ د وسری جانب میاں شہباز شریف جو انتخابات میں کامیاب ہو چکے تھے ان کا معاملہ بننے والی ٹریبونل کے سپرد کردیا گیا ہے تاہم اس وقت تک میاں شہباز شریف بطور وزیراعلی اپنا کام جاری رکھ سکیں گے عدالت کا یہ فیصلہ سننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بھاری تعداد میں کارکن جمع ہو گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے فیصلے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے لائرز ونگ کے مختلف عہدے داروں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا شدید احتجاج کرتے ہوئے ’’ گو مشرف گو ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے میاں نواز شریف کو نہ صرف قومی اسمبلی لے جانے سے روکا گیا بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کی گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے این اے 123 سے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے اور ان کے خلاف نور الہی نامی شخص نے مختلف اعتراضات فائل کیے گئے تھے جن کے تحت طیارہ سازش کیش مختلف بینکوں کا ڈیفالٹر ہونے اور عدالتوں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرنے کے ممکنہ الزامات عائد کیے گئے تھے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کا فی الحال مختصر فیصلہ سامنے آیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ ایک دو دن میں جاری کردیا جائے گا تاہم اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ میاں نواز شریف پٹشنر نور الہی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ حقیقی طورپر درست ہیں ۔ طیارہ ساز ش کیس ‘سپریم کورٹ پر حملہ کیس مختلف بنکوں کے ڈیفالٹر ہونا شامل ہے ۔ اس سے قبل جو بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس پر وکلاء نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ا ن ججز کی مختلف حوالوں سے سابق حکومت (ق) سے ان کی وابستگی تھی اس لیے ان سے صحیح فیصلے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ جسٹس حسنات نے اس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔نتیجتا یہ بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

کشمیریوں سے ہمارا خون کا رشتہ ہے ‘ بات چیت میں کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا ‘ آصف زرداری



اسلام آباد ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے ۔ حریت کانفرنس کے وفد کی قیادت میر واعظ عمر فاروق نے کی ۔ ملاقات میں مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات اور کئی دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بے نظیر بھٹو کے قتل پر آصف علی زرداری سے تعزیت کی اور فاتحہ پڑھی ۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کئے جانے والے مذاکرات میں کشمیریوں کی شرکت لازمی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ حریت کانفرنس کو کشمیریوں کا نمائندہ تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی آصف علی زرداری نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوششیں مزید تیز کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ حریت کے وفد نے بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی اور ان سب شہیدوں کے لئے دعا کی جنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے ہمارا خون کا رشتہ ہے اور پیپلزپارٹی کشمیر کے مسئلے پرہی وجود میں آئی ۔ بعد میں جہانگیر بدر نے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی اور حریت رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں طے پایاگیا کہ اے پی ایچ سی اور پیپلزپارٹی کے درمیان شہید بھٹو کے قائم کردہ تعلقات کو قائم رکھیں گے اور انہیں مزید آگے بڑھایا جائے گا ۔ طے پایا کہ اے پی ایچ سی اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشمیر کے دونوں جانب کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن میں طلبہ یوتھ وکلاء ‘ تاجروں اور عوام کے منتخب نمائندوں اور سیاسی پارٹیوں کے وفود کا تبادلہ کیا جائے گا ۔ اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ان کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں ۔ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اے پی ایچ سی کشمیریوں کی نمائندہ جماعت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عزم دہرایا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے باہمی مشاورت کی جائے گی ۔ دیگر اقدامات اور ایسی کاوشیں تیز تر کی جائیں گی جن سے مسئلہ کشمیر کا دیر پا حل تلاش کیا جا سکے ۔جس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر جب بھی بات ہو گی کشمیریوں کے موقف کو مدنظر رکھا جائے گا ۔

بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اہمیت دی جائے گی ۔یوسف رضا گیلانی





اسلام آباد۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد نے حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل اور پاک بھارت امن مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل ہی اس خطے میں امن کی ضمانت ہے اور بھارت کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اہمیت دی جائے گی اس موقع پر کشمیری رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاک بھارت مذاکرات کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پرمظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو بھی شریک کیا جائے کیونکہ کشمیریوں کی شرکت کے بغیر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ حریت کانفرنس کے وفد نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت پرا ن کا شکریہ ادا کیا

٢٩ ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا پی سی او والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتے ‘ چوہدری نثارعلی خان



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ ( ن ) کے راہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی 29 ججوں کی کلاز پر رائے شماری میں شریک نہیں تھی اور نہ ہی وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو جج تسلیم کرتے ہیں ۔ پیر کو پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فنانس بل میں 21 ججوں کی کلاز پر رائے شماری نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر نے اس موضوع پر اظہار خیال ضرور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پالیسی زیادہ واضح نہ ہو سکی ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 29 ججوں کی کلاز صوتی ووٹ سے منظور ہوئی اور اس صوتی ووٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی کوئی آواز شامل نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے آج انہوں نے اسمبلی میں کھڑا ہو کر اپنی جماعت کی پالیسی کی وضاحت کی اور کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان اسمبلی نے فنانس بل کی منظوری میں یقیناً شریک تھے لیکن 29 ججوں کی کلاز میں حصہ نہیں لیا ۔ اور نہ ہی ووٹ ڈالا بلکہ لاتعلق رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پی سی او ججوں کو ہم اس طرح جائز جج نہیں مانتے اور معزول ججوں کی بحالی بھوربن معاہدے کے تحت ایگزیکٹو آرڈر سے ہونی چاہئے ۔

سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کو تسلیم نہیں کرتے یہ پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کی کوشش ہے ۔اعتزاز احسن




سیالکوٹ ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے ججوں کی تعداد کو 16سے بڑھا کر29کرنے کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرویزمشرف کے 3نومبر کے اقدامات کو تحفظ دینے کی ایک کوشش ہے جسے پاکستان کے وکلاء اور عوام تسلیم نہیں کرتے تاہم وہ معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے آل پاکستان وکلاء نمائندگان کنونشن میں ملک بھرکے تمام شہروں میں ہفتہ میں ایک دفعہ جمعرات کے روز وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ اور ریلی کے موقعہ پر اہم مقامات پر تین گھنٹے کیلئے وکلاء کے دھرنے کی تجویز دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر افتخار محمد چودھری دیگرمعزل ججوں کو معاہدہ بھوربن کے تحت ایک قراردا دکے زریعے بحال کیاجائے اور اس کیلئے قانو ن سازی کی کوئی ضرورت نہ ہے تاہم اگر معزول ججوںکو بحال نہ کیا گیا تو وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکمرانوں کو معزول جج ہر صورت میں بحال کرنا ہونگے کیونکہ ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہونے سے سرمایہ کاری نہ ہورہی ہے اورترقی وخوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے ۔سوموار کی دوپہر انوار کلب آڈیٹوریم میں ڈویثرنل وکلاء کنوکشن سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پی سی او ججوں کو تسلیم نہیںکیااور نہ ہی پی سی او ججوں کو تسلیم کرے گی تاہم حکومت نے معزول ججوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرکے معزول ججوں کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اب آئنی پیکیج کے زریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر پی سی او ججوں کو بھی بحال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء نے کامیاب لانگ مارچ اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک چلا کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھ لیا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر کی بار ایسوسی ایشنوں نے پاکستانی وکلاء کی تحریک کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ دس غیر ملکی یونیورسٹیوں نے معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیدی ہے جبکہ دنیا بھر کی62بار ایسوسی ایشنوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کی جرات کی وجہ سے تاحیات ممبر شپ دیدی ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی نے چیف جسٹس افتخا رمحمد چودھری کو میڈل آف فریڈم کا ایواڈ دیا ہے جو یونیورسٹی کی طرف سے دیا جانے والا تیسرا ایوارڈ ہے تاہم بارسلونہ کی بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بھر کے وکلاء کو اعزاز ی ممبر شپ دیدی ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جلد ہی انٹرنیشنل لائرز کانفرنس بلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی کسی تنظیم نے بھی اسلام آباد میں دھرنے کا فیصلہ نہیں کیاتھا تاہم ملک میں وکلاء کے تمام فیصلے پاکستان بار کونسل کررہی ہے جس نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھاجس میں دھرنے کا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا تاہم وہ وکلاء اور عوام کے دھرنے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کی تحریک پرامن ہے اور پرامن ہی رہے گی تاہم ڈاکٹر شیرافگن پر تشدد کے واقعہ کی وجہ سے وکلاء دنیا بھر میں بدنام ہوئے اور بعض کالم نگاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن کووکلاء نے بچایا تھا لیکن ڈاکٹر شیرافگن پر تشد د کے واقعہ کے بعد ایک سازش کے تحت کراچی میں وکلاء کو قتل کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان با رکونسل کے صدر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے اور ا ب واپس نہ آرہے ہیں تاہم اگر ملک میں عدلیہ آزاد ہوتی تو شوکت عزیز کو ملک سے بھاگنے کا موقعہ نہ ملتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء کے کامیاب لانگ مارچ نے ساری دنیا میں وکلاء کے وقار کو بڑھایا ہے تاہم جب تک معزول جج بحال نہیں ہوجاتے اس وقت تک وکلاء کی تحریک جاری رہے گی ۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ تاریخی ہے تاہم لانگ مارچ مزاحمتی موبائیل دھرنا بھی تھا جو9جون کو شروع ہوا اور اس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معزول ججوں کی بحالی سے پارلیمنٹ اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی ۔ اس سے قبل کنونشن سے پنجا ب با رکونسل کے وائس چےئرمین اسلم سندھو ایڈووکیٹ ، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف کوآرڈنیٹر اطہر من اللہ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ارشد محمود بگو ایڈووکیٹ کے علاوہ ڈویثرن بھر کی پندرہ تحصیلوں کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدور نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں ممبران پنجاب با رکونسل ایم اظہرچودھری ، رانا نصر اللہ خان کے علاوہ سینکڑوں وکلاء شریک تھے جنہوں نے گو مشرف گو کے زبردست نعرے بھی لگائے جبکہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ پاکستان بار کونسل کے صدر چودھری اعتزاز احسن کا سیالکوٹ آمد پر بھرپور استقبال کیاگیااور ان پر منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ایک جلوس کی شکل میں انوار کلب آڈیٹوریم لایا گیا جہاں چار گھنٹے سے زائد عرصہ تک کنونشن جاری رہا

پاکستان کے اندر کاروائیوں کی دھمکی غیر دانش مندانہ ہے، کونڈولیزارائس

واشنگٹن ۔ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے پاکستان کی سرحد کے اندر تک عسکریت پسندوں کا پیچھا کرنے کی افغانستان کی دھمکی کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو سرحد پر عسکریتپسندوں سے نمٹنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنی چاہیںاور دونوں ملکوں کو اپنے اپنے علاقوں میں مسائل سے خود نمٹنا چاہیے

Sunday, June 22, 2008

وزیر اعظم کا دورہ جہا نیاں ۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد




پیپلزپارٹی کے شہیدوں نے اپنے خون سے جمہوریت کی آبیاری کی ہے اور یہ سلسلہ انشاءاللہ جاری رہے گا۔ وہ دن دور نہیں جب پی پی پی کا ایک اور راہنما بے نظیر کے نام پر صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن ہو گا۔ اس سے قبل پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی نے بے نظیر بھٹو شہید کے نام کے ساتھ حلف اٹھایا تھا۔ جبکہ آصف علی زرداری نے مبہم الفاظ میں یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ کے صدر کا تعلق سندھ سے ہو گا ۔ کچھ ملک دشمن سازشی عناصر پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ عناصر اپنے مقاصد میں نا کا م ہوں گے۔ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر پاکستان کو بچایا ہے اور انشاء اللہ ہم اسے آگے لے کر جائیں گے ۔ محض قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی درست نہیں کیونکہ کوئی بھی آنے والی اسمبلی سادہ اکثریت سے نئے جج بھی بنا سکتی ہے اس لیے ججوں کی بحالی آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ہونی چاہیئے۔ حکومت میں ہوتے ہوئے ان پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں جن کا انہیں احساس ہے اور وہ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر ی کے دل کی آواز سمجھتے ہیں ۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی کہا ہے کہ قوم مایوس نہ ہو معزول ججز بحال اورعدلیہ ضرور آزاد ہو گی ہم میثاق جمہوریت پر قائم اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیاجائے گا عوام اور اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا پارلیمنٹ سے ترامیم منظور کرائی جائیں گی 1973ء کا آئین اصلی شکل میں بحال کیا جائے گا پریس کو آزاد کیاجائے گا جہانیاں کو گیس کی جلد فراہمی ہو گی کچی آبادیوںکے غریب عوام کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں گے اور آبیانہ معاف کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔ پریس کلب اور بار ایسوسی ایشن کو 10/10لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں اوربٹل کے علاقے میں پانی کی فراہمی کیلئے ری ماڈلنگ کی جائے گی ۔ وہ آج جہانیاں میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما راو¿ سعادت علی خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جہانیاں میرا دوسرا گھر ہے اور اس کے مسائل میرے اپنے مسائل ہیں انکو ضرور حل کیاجائے گا اس موقع پر انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ ضمنی انتخاب میں مرید حسین شاہ کا ضرور ساتھ دیں کیونکہ وہ ایک مخلص اور عوام دوست انسان ہیں ان پر ساری پارٹی کا اعتماد ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم بے نظیر بھٹو کے مشن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم روٹی کپڑا اورمکان کا اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے اور عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں گے عوام کو مایوس نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کا خون رائیگاں نہیں جائے گا وہ زدہ ہیں اور عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی وزیراعظم نے کہاکہ 73ء کا آئین ضرور بحال ہو گا اورہم عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ میں ترمیم لائیںگے آئین و قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی ججز بہت جلد بحال کئے جائیں گے عدلیہ اور پریس آزاد کریں گے اور بے نظیر بھٹو کے تمام خواب اور عوام کی خواہشات کو پورا کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم جہانیاں کے تمام مطالبات پورے کریں گے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کچی آبادی کے لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے ، آبیانہ معاف کرنے ، علاقے کو گیس کی فراہمی ممکن بنانے اور پریس کلب اور بار ایسوسی ایشن کو دس ، دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ۔وزیراعظم نے اس موقع پر آبیانہ کی پچاس لاکھ کی رقم خود دینے کا اعلان بھی کیا وزیراعظم نے کہاکہ پانی کی مطلوبہ مقدار کو یقینی بنانے کیلئے کھالے کشادہ کرنے کا بھی اعلان کرتاہوں۔ وزیراعظم نے کہاکہ قوم مایوس نہ ہو ہم انکے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور ان کے تمام مسائل حل ہوں گے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور عدلیہ کو آزاد اور ججوں کو ضرور بحال کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا ان کے مشن کو ہر حال آگے بڑھایا جائے گا ۔ وزیر خارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ قائم ودائم رہے گا۔انہو ںنے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اوراتحادی جماعتوں کی حکومت پانچ سال کی اپنی مدت پوری کرے گی اور عوام کے تمام مسائل حل کرے گی انہوں نے کہاکہ عوام سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کو پسند نہیں کریں گے اور ضمنی انتخابات میں انہیں شکست فاش سے دو چار کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا وعدہ ضرور پورا کیاجائے گا اور 73ء کے آئین کو اصلی شکل میں واپس لایاجائے گا انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کیاجائے گا اور آئندہ پیکج کے ذریعے تمام ججوں کو بحال کیاجائے گا وزیر خارجہ نے کہاکہ جہانیاں وہ خطہ ہے جہاں پر بھٹو کے نظریات کے قیام کی بنیاد رکھی گئی وزیراعظم نے عوام سے کہاکہ وہ ضمنی انتخابات میں لوٹوں اور کھوٹوں کو مسترد کردیں انہوں نے کہاکہ شوکت عزیز نے جو معیشت کی مضبوطی اور ملک کی خوشحالی کے دعوے جھوٹے نکلے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کریں گے جو کہیں گے وہ ضرور کریں گے ہم دھرتی سے بے وفائی نہیں کریں گے اس موقع پر شہید بے نظیر بھٹو کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی تاج پوشی بھی کی گئی تاج پوشی پیپلز پارٹی آرگنائزیشن جہانیاں کے سرپرست نعیم طارق نے وزیراعظم کو قرآن کا نسخہ پیش کیا جبکہ شیخ طالب حسین نے تاج پوشی کی رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذر نے سپاس نامہ پیش کیا اور اپنے مطالبات اور مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2008-09 ئ کے مالیاتی بل کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ججوں کی تعداد 16 سے بڑھا کر 29 کرنے ‘ سمیت دیگر بلز کی منظوری دیدی ہے جبکہ حکومت نے پاکستان پینل کوڈاور لا کوڈ آف کریمنل پروسیجر سمیت 6 بلوںکو واپس لے لیا ۔ اتوار کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر نے آئندہ مالی سال کا مالیاتی بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی قرارداد پیش کی جس کی اپوزیشن کی جانب سے حمایت کی گئی تاہم اپوزیشن کی جانب سے مالیاتی بل پر مسلم لیگ(ق) کی رکن قومی اسمبلی بشری رحمان اور اقلیتی رکن قومی اسمبلی اکرم مسیح گل نے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی خصوصی اجازت پرخطاب کیا ۔ جس کے بعد وزیر خزانہ سید نوید قمرنے ایوان میں مالیاتی بل 2008-09 ء منظوری کے لیے پیش کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بالترتیب 2008-09 ئ سے چھ بل واپس لے لیے ہیں جبکہ سینٹ آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کو مالیاتی بل کے حوالے سے بھیجی گئی 76 سفارشات میں سے 51 سفارشات کو منطور کرلیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ایساو ہوا ہے کہ مالیاتی بل میں سینٹ کی تجاویز کو اتنی تعداد میں منظور کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے ایوان مین مالیاتی بل شق وار پیش کیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے ایوان میںشق وار منظوری دیدی ۔ آئندہ مالیاتی بل میں جن بلوںکو قومی اسمبلی نے منظور کیا ہے ان میں سپریم کورت کے ججوں کی تعداد سولہ سے بڑھا کر 29 کرنے ‘ غیر ہنر مند ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 46 سو سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کرنے ‘ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر کی ریٹائرمنٹ کی عمر62 سال سے بڑھا کر65 سال کرنے ‘خوشحالی بنک آرڈنینس 2000 ء کو ختم کرنے ‘ اسلام آباد میںس روسز پر ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد سے بڑھاکر 16 فیصد کرنے ‘ سیلز ٹیکس ‘ انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ضروری ترامیم سمیت دیگر بل کی منظوری دیدی ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی میں شق وار مالیاتی بل کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں بڑھانے کی شق کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ق)ا ور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس شق کے لیے ایوان میں رائے شماری سے لاتعلقی اختیار کی اور اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی بشری رحمان ‘ عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ہماری جماعت بھی ججوں کی بحالی چاہتی ہے مگر فنانس بل کے ذریعے ججوں کے طریقہ کار مناسب نہیں ہے اور یہ قانون کی خلاف ورزی ہے ۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری ایاز میر نے ایوان میں کھڑے ہو کرکہا کہ مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد میں اضافہ غیر قانونی ہے انہوں نے کہا کہ جب آئین میں ججوں کی تعداد سولہ ہے اور مالیاتی بل میں ججوں کی تعداد کس قانون کے تحت 29 کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ایک شخص نے آئین ا ور عدلیہ کا مذاق اڑایا تھا اب یہ پارلیمنٹ میں فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے جس پر وزیر خزانہ سید نوید قمر نے کھڑے ہو کر کہا کہ فنانس بل میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)کے سینئر راہنما سینیٹر اسحاق ڈار سمیت اعلی قیادت کے مشورے کے بعد فیصلہ کیاگیا ہے ۔ اس سے قبل وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت مالیاتی بل 2008-9 میں چھ ترامیم واپس لے رہی ہے ۔ جس میںپاکستان پینل کوڈ 1860 ‘کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 ‘ فارن ایکس چینج ریگولیشن ا یکٹ 1947 ‘ پٹرولیم پروڈکٹس (ڈویلپمنٹ سرچارجز ) آرڈنینس 1961 ‘ مضاربہ اور مضاربہ آرڈنینس 1980 ‘ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 میں ترامیم سے متعلق بل شامل ہیں ۔وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ ججوں کو آئینی پیکج کے ذریعے ہی بحال کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ججوں کی سینارٹی 2 نومبر والی عدلیہ کے مطابق ہی رہے گی ۔ پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ججوں کو آئینی پیکج کے زریعے ہی بحال کیا جائے گا۔ جس کا مسودہ تمام اتحادی جماعتوں کو مشاورت کے لیے دے دیا گیا ہے ۔ تاہم کسی بھی اتحادی جماعت کی جانب سے آئینی پیکج پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد 16 سے 29 کرنے کا مقصد نئے ججوں کی تنخواہ کے لیے بجٹ منظور کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی جلد بحالی چاہتے ہیںا س سلسلے میں ہم پی سی او کے تحت نئے آنے والے ججوں کو بھی ان کی جگہ موجود رکھنا چاہتے ہیں ا نہوں نے کہاکہ فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا اقدام آئین اور قانون کے مطابق ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتیں آئینی پیکج میں ترامیم کی رائے دے سکتی ہیں ۔ تاہم حتمی طورپر آئینی پیکج کا فیصلہ پارلیمان کرے گا جو اس ملک کا بالادست ادارہ ہے ۔ ایک اورسوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ عدالتوں بالخصوص اعلی عدلیہ میں ججوں کی اقلیت یا اکثریت ہونے کا کوئی تصور نہیں۔ سپریمک ورت میں ہر جج کو تنخواہ اور اختیارات برابر حاصل ہیں اور وہ عوام کو انصاف فراہم کرتے ہیں اس لیے ججوں کے درمیان اختلافات یا گروپنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جتنے بھی جج ہیں انہیں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت ، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کا بول بالا ہو ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت آنے والے ججز کو ان کے عہدے پربرقرار رکھنے سے ججوں کی سینارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اورججوں کی سینارٹی وہی رہے گی جو 2 نومبر والی عدلیہ کی تھی ۔

PM dinner after finance bill


پیپلز پارٹی عوامی جمہوری پارٹی ہے یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کو چلایاجائے گا۔ناہید خان





اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی عوامی جمہوری پارٹی ہے یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کو چلایاجائے گا اس کو اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی بنانے والوں کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ۔حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ فوری طور پر محترمہ شہید کے قتل کی تحقیقات کروائیں۔ کارکنوں کا یہ نعرہ ہے کہ وہ بی بی کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ایک نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بہت نرم دل اور سادہ خاتون تھیں۔وہ ہر کسی کی مشکل اور مصیبت پر تڑپ جایاکرتی تھیں انہوں نے کہا کہ وہ ہر وقت اپنے بچوں کیلئے پریشان رہتی تھیں ۔بے نظیر کے بارے میں جو بھی باتیں میرے پاس ہیں وہ جلد عوام کے سامنے کتاب کی صورت میں لاؤں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے محترمہ کے ساتھ زندگی کے عجیب وغریب اور تکلیف دہ لمحات دیکھے ہیں جس میں ہمیشہ انہیں صبر کرنے والی خاتون پایاہے انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے مطابق میں اُن کے دایاں طرف بیٹھی تھی ان کی شہادت پر مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ شہید ہو گئیں ہیں اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نظیر کے قاتلوں کو ہماری زندگی میں بے نقاب کرے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ اُن کے مقاصد کیا تھے ۔ انہوں نے کہاکہ میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی جنگ ہر سطح پر لڑوں گی یہ میرا اُن سے وعدہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کروانا یانہ کروانا ان کی فیملی کافیصلہ تھا میں اس وقت ہوش وحواس میں نہ تھی ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے جو ہمیشہ قائم رہے گی۔ بے نظیر نے تیس سال تک پارٹی کو متحد رکھا اور اگراب بھی پارٹی کو متحرمہ شہید کے نقش قدم پر چلایا جائے تو یہ متحد اور باقی رہے گی پیپلز پارٹی کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی نہیں رہی بلکہ یہ عوامی پارٹی ہے جو کوئی بھی اس کو اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی بنانے کی کوشش کرے گا اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے کارکن ہی اس کو قائم ودائم رکھ سکتے ہیں اورمیں پارٹی لیڈر شپ سے اُمید کرتی ہوں کہ وہ کارکنوں کی قدر کریں گے انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ہمیں پہلے دن ہی صدر پرویز مشرف سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں اور جن لوگوں کو بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں اپنے قاتل نامزد کیاتھا ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں انہوں نے کہاکہ بہت سی ایسی چیزیں ہیںجن کی تحقیقات ہم پاکستان میں ہی کروا سکتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کی تحقیقات کروائے انہوں نے کہاکہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ قاتلوں کو بے نقاب کریں حکومت سے میرا مطالبہ ہے کہ وہ محترمہ شہید کے قتل کی تحقیقات کروائے ۔ کارکنوں کا یہ نعرہ ہے کہ ہم بی بی شہید کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے ۔اپنے انٹرویو کے دوران ناہید خان کی آنکھیں غم سے نم دیدہ ہو گئیں اور رو پڑیں ۔

فلپائن بحری جہاز ڈوبے سے٧٠٠ افراد ہلاک

منیلا۔ فلپائن میں سمندری طوفان سے ایک مسافر بحری جہاز ڈوبنے سے اس میں سوار تمام ٧٠٠ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اطلاعات کے مطابق اس میں کل ٧٠٠ مسافر سوار تھے جو تمام کے تمام ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ بحری جہاز سی بیان جزیرے کے ساحل کے قریب ڈوب گیا ۔ شدید سمندری طوفان کی وجہ سے یہ جہاز اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور الٹ کر ڈوب گیا ۔ادھر فلپائن میں سمندری طوفان کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر ١٥٠سے زائد ہو گئی ہے ۔ سمندری طوفان اتوار کو وسطی فلپائن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ حکام نے ١٠٠ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ۔ جبکہ درجنوں افراد لاپتہ بھی ہیں ۔




عوام اور اداروں کو مضبوط بنایا جائےگا پارلیمنٹ سے ترامیم منظور کرائی جائیں گی ۔وزیراعظم کا جہانیاں میں جلسہ عام سے خطاب



جہانیاں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قوم مایوس نہ ہو معزول ججز بحال اورعدلیہ ضرور آزاد ہو گی ہم میثاق جمہوریت پر قائم اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیاجائے گا عوام اور اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا پارلیمنٹ سے ترامیم منظور کرائی جائیں گی 1973ء کا آئین اصلی شکل میں بحال کیا جائے گا پریس کو آزاد کیاجائے گا جہانیاں کو گیس کی جلد فراہمی ہو گی کچی آبادیوںکے غریب عوام کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں گے اور آبیانہ معاف کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔ پریس کلب اور بار ایسوسی ایشن کو 10/10لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں اوربٹل کے علاقے میں پانی کی فراہمی کیلئے ری ماڈلنگ کی جائے گی ۔ وہ آج جہانیاں میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما راؤ سعادت علی خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جہانیاں میرا دوسرا گھر ہے اور اس کے مسائل میرے اپنے مسائل ہیں انکو ضرور حل کیاجائے گا اس موقع پر انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ ضمنی انتخاب میں مرید حسین شاہ کا ضرور ساتھ دیں کیونکہ وہ ایک مخلص اور عوام دوست انسان ہیں ان پر ساری پارٹی کا اعتماد ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم بے نظیر بھٹو کے مشن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم روٹی کپڑا اورمکان کا اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے اور عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں گے عوام کو مایوس نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کا خون رائیگاں نہیں جائے گا وہ زدہ ہیں اور عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی وزیراعظم نے کہاکہ 73ء کا آئین ضرور بحال ہو گا اورہم عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ میں ترمیم لائیںگے آئین و قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی ججز بہت جلد بحال کئے جائیں گے عدلیہ اور پریس آزاد کریں گے اور بے نظیر بھٹو کے تمام خواب اور عوام کی خواہشات کو پورا کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم جہانیاں کے تمام مطالبات پورے کریں گے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کچی آبادی کے لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے ، آبیانہ معاف کرنے ، علاقے کو گیس کی فراہمی ممکن بنانے اور پریس کلب اور بار ایسوسی ایشن کو دس ، دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ۔وزیراعظم نے اس موقع پر آبیانہ کی پچاس لاکھ کی رقم خود دینے کا اعلان بھی کیا وزیراعظم نے کہاکہ پانی کی مطلوبہ مقدار کو یقینی بنانے کیلئے کھالے کشادہ کرنے کا بھی اعلان کرتاہوں۔ وزیراعظم نے کہاکہ قوم مایوس نہ ہو ہم انکے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور ان کے تمام مسائل حل ہوں گے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور عدلیہ کو آزاد اور ججوں کو ضرور بحال کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا ان کے مشن کو ہر حال آگے بڑھایا جائے گا ۔ وزیر خارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ قائم ودائم رہے گا۔انہو ںنے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اوراتحادی جماعتوں کی حکومت پانچ سال کی اپنی مدت پوری کرے گی اور عوام کے تمام مسائل حل کرے گی انہوں نے کہاکہ عوام سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کو پسند نہیں کریں گے اور ضمنی انتخابات میں انہیں شکست فاش سے دو چار کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا وعدہ ضرور پورا کیاجائے گا اور 73ء کے آئین کو اصلی شکل میں واپس لایاجائے گا انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کیاجائے گا اور آئندہ پیکج کے ذریعے تمام ججوں کو بحال کیاجائے گا وزیر خارجہ نے کہاکہ جہانیاں وہ خطہ ہے جہاں پر بھٹو کے نظریات کے قیام کی بنیاد رکھی گئی وزیراعظم نے عوام سے کہاکہ وہ ضمنی انتخابات میں لوٹوں اور کھوٹوں کو مسترد کردیں انہوں نے کہاکہ شوکت عزیز نے جو معیشت کی مضبوطی اور ملک کی خوشحالی کے دعوے جھوٹے نکلے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کریں گے جو کہیں گے وہ ضرور کریں گے ہم دھرتی سے بے وفائی نہیں کریں گے اس موقع پر شہید بے نظیر بھٹو کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی تاج پوشی بھی کی گئی تاج پوشی پیپلز پارٹی آرگنائزیشن جہانیاں کے سرپرست نعیم طارق نے وزیراعظم کو قرآن کا نسخہ پیش کیا جبکہ شیخ طالب حسین نے تاج پوشی کی رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذر نے سپاس نامہ پیش کیا اور اپنے مطالبات اور مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا

آئندہ صدر کا تعلق سندھ سے ہو گا، محض قرار داد سے ججوں کی بحالی درست نہیں۔ آصف علی زرداری



نواب شاہ ۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے شہیدوں نے اپنے خون سے جمہوریت کی آبیاری کی ہے اور یہ سلسلہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔ یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ان کی جماعت کا ایک اور راہنما بے نظیر کے نام پر صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن ہو گا۔ اس سے قبل پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی نے بے نظیر بھٹو شہید کے نام کے ساتھ حلف اٹھایا تھا۔ آصف علی زرداری نے مبہم الفاظ میں کہا کہ آئندہ کے صدر کا تعلق سندھ سے ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ملک دشمن سازشی عناصر پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ عناصر اپنے مقاصد میں انکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر پاکستان کو بچایا ہے اور انشاء اللہ ہم اسے آگے لے کر جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ محض قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی درست نہیں کیونکہ کوئی بھی آنے والی اسمبلی سادہ اکثریت سے نئے جج بھی بنا سکتی ہے اس لیے ججوں کی بحالی آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں ہوتے ہوئے ان پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں جن کا انہیں احساس ہے اور وہ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر ی کے دل کی آواز سمجھتے ہین ۔ نواب شاہ میں صحافیوں کی رہائشی کالونی کے حوالے سے آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ناظم سے بات کریں گے۔

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال ٢٠٠٨-٠٩ ء کے مالیاتی بل کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔ قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2008-09 ء کے مالیاتی بل کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ججوں کی تعداد 16 سے بڑھا کر 29 کرنے ‘ سمیت دیگر بلز کی منظوری دیدی ہے جبکہ حکومت نے پاکستان پینل کوڈاور لا کوڈ آف کریمنل پروسیجر سمیت 6 بلوںکو واپس لے لیا ۔ اتوار کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر نے آئندہ مالی سال کا مالیاتی بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی قرارداد پیش کی جس کی اپوزیشن کی جانب سے حمایت کی گئی تاہم اپوزیشن کی جانب سے مالیاتی بل پر مسلم لیگ(ق) کی رکن قومی اسمبلی بشری رحمان اور اقلیتی رکن قومی اسمبلی اکرم مسیح گل نے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی خصوصی اجازت پرخطاب کیا ۔ جس کے بعد وزیر خزانہ سید نوید قمرنے ایوان میں مالیاتی بل 2008-09 ء منظوری کے لیے پیش کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بالترتیب 2008-09 ء سے چھ بل واپس لے لیے ہیں جبکہ سینٹ آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کو مالیاتی بل کے حوالے سے بھیجی گئی 76 سفارشات میں سے 51 سفارشات کو منطور کرلیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ایساو ہوا ہے کہ مالیاتی بل میں سینٹ کی تجاویز کو اتنی تعداد میں منظور کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے ایوان مین مالیاتی بل شق وار پیش کیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے ایوان میںشق وار منظوری دیدی ۔ آئندہ مالیاتی بل میں جن بلوںکو قومی اسمبلی نے منظور کیا ہے ان میں سپریم کورت کے ججوں کی تعداد سولہ سے بڑھا کر 29 کرنے ‘ غیر ہنر مند ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 46 سو سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کرنے ‘ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر کی ریٹائرمنٹ کی عمر62 سال سے بڑھا کر65 سال کرنے ‘خوشحالی بنک آرڈنینس 2000 ء کو ختم کرنے ‘ اسلام آباد میںس روسز پر ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد سے بڑھاکر 16 فیصد کرنے ‘ سیلز ٹیکس ‘ انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ضروری ترامیم سمیت دیگر بل کی منظوری دیدی ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی میں شق وار مالیاتی بل کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں بڑھانے کی شق کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ق)ا ور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس شق کے لیے ایوان میں رائے شماری سے لاتعلقی اختیار کی اور اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی بشری رحمان ‘ عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ہماری جماعت بھی ججوں کی بحالی چاہتی ہے مگر فنانس بل کے ذریعے ججوں کے طریقہ کار مناسب نہیں ہے اور یہ قانون کی خلاف ورزی ہے ۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری ایاز میر نے ایوان میں کھڑے ہو کرکہا کہ مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد میں اضافہ غیر قانونی ہے انہوں نے کہا کہ جب آئین میں ججوں کی تعداد سولہ ہے اور مالیاتی بل میں ججوں کی تعداد کس قانون کے تحت 29 کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ایک شخص نے آئین ا ور عدلیہ کا مذاق اڑایا تھا اب یہ پارلیمنٹ میں فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے جس پر وزیر خزانہ سید نوید قمر نے کھڑے ہو کر کہا کہ فنانس بل میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)کے سینئر راہنما سینیٹر اسحاق ڈار سمیت اعلی قیادت کے مشورے کے بعد فیصلہ کیاگیا ہے ۔ اس سے قبل وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت مالیاتی بل 2008-9 میں چھ ترامیم واپس لے رہی ہے ۔ جس میںپاکستان پینل کوڈ 1860 ‘کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 ‘ فارن ایکس چینج ریگولیشن ا یکٹ 1947 ‘ پٹرولیم پروڈکٹس (ڈویلپمنٹ سرچارجز ) آرڈنینس 1961 ‘ مضاربہ اور مضاربہ آرڈنینس 1980 ‘ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 میں ترامیم سے متعلق بل شامل ہیں ۔

پاکستان میں جلد خونی انقلاب آنے والا ہے ۔عبدالستار ایدھی

کوئٹہ ۔ ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ اس وقت سب سے سرمایہ دار اور ظالم سیاستدان ہے یہ غریبوں کو لوٹتے ہیں اور اپنے گھر بھرتے ہیں اب پاکستان میں خونی انقلاب ہی اس ملک کی بہتری کیلئے ہو سکتا ہے اور خونی انقلاب کے بعد ہی تمام مسئلے حل ہونگے پاکستان میں جلد خونی انقلاب آنے والا ہے سیاستدانوں نے غریبوں کو لوٹا ہے اور اپنے آپ کو امیر بنایا ہے مجھے امریکہ دوبئی سمیت دیگر ممالک نے مستقل رہائش کی پیشکش کی گئی مگر میں نے انکار کردیا انہوںنے یہ بات اتوار کے روز کراچی سے شروع کی گئی بھیک مہم کوئٹہ پہنچ کر ختم کرنے کے بعد کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوںنے کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان میں ہی رہنا چاہتا ہوں اور یہاں پر ہی مرنا چاہتا ہوں اس وقت میری عمر 90سال ہے چلنے پھرنے میں تھوڑی سے کمزوری ہے مگر میرا مشن بھیک ہے کیونکہ میں لوگوں سے بھیک مانگ کر ملک کے دو کروڑ سے زیادہ عوام کو روٹی دیتا ہوں بڑا سرمایہ دار چھوٹا سرمایہ دار کو مارتا ہے بڑا زمیندار چھوٹے زمیندار کا جگر کاٹتا ہے میں تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہوں میرے بھیک مشن میں مدد کریں میں کوئٹہ سے جب حب چوکی تک غریبوں کو کھانا کھلانے کیلئے تمام سینٹروں پر لنگر کھول رہا ہوں میں باہر بھیک مانگنے نہیں جاؤنگا میں تم سے ہی بھیک مانگوں گا تم کو ہی آزماؤں گا تمہارے ہی آدمیوں کو دو ٹائم کا کھانا لنگر کے ذریعے اور کپڑے دونگا انہوںنے کہا جب میں کوئٹہ آرہا تھا تو مجھے ڈرایا گیا کہ میں کوئٹہ نہیں جاؤں وہاں کے لوگ خطرنا ک ہے مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ بلوچستان کے لوگ محب وطن اور پیار کرنے والے ہے مجھے حب چوکی سے لے کر کوئٹہ تک لاکھوں روپے لوگوں نے دئیے ہیں اور محبت دئیے ہیں میرے ساتھ جو لڑکیاں کام کررہی ہے وہ بلوچ ہے اور مقامی ہے اور سب میرے ساتھ تعاون کررہے ہیں انہوںنے کہا کہ ملک میں بیروزگاری ظلم استحصال کے سامنے اکھیلا نہیں لڑ سکتا یہ طبقہ خونی انقلاب کو دعوت دے رہا ہے میرا کام لوگوں کو صحیح بات بتانا ہے کوئی مانے نہ مانے ان کی مرضی میں نے لبنان میں ایک ماہ دس روز رہا صحبت اللہ کی لڑکیوں نے اسرائیل کے چھکے چھڑا دئیے یہ جنگ بند نہیں ہوتا تو اسرائیل ختم ہو جاتا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اسرائیل کی طاقت نہیں تھی جو ان سے لڑ سکتا لبنان کو برباد کرنے لگا لوگوں نے ہجرت کرکے بیروت جانے لگے میں نے لڑکیوں سے کہا گارڈن میں کیمپ لگانے کیلئے جس جگہ سے اور جہاں سے بھی سامان ملتا تھا وہ سامان لیتا تھا میں نے قریب سے ظلم دیکھا بیروت اپنی جگہ پر لبنان اپنی جگہ پر قائم رہا میں نے جتنا مدد کرنی تھی کی میرے پاس پندرہ لاکھ ڈالر تھے میں امن پسند بند ہ ہوںلوگوں کو ان کے حقوق دو ہم صرف ٹیکس چوری اور اللہ کی زکواۃ پوری پوری دینگے غریب ختم کرینگے میں نے اسلحہ نہیں اٹھایا میرا اسلحہ بھیک مانگنا اور غریبوں کو کھانا کھلانا کپڑے دینا کہ وہ بھی ہر انسان کی طرح زندگی بسر کریں۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے ۔میر واعظ عمر فاروق

اسلام آباد ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس انصاری کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے منظم پالیسی تشکیل دے ۔ لاہور سے اسلام آباد آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت نے کشمیری قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط سمیت دوستی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کو مرکزی نقطہ قرار دیئے بغیر اور کشمیریوں کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر خطے میں پائیدار قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں اور انتخابات مسئلہ کشمیر کا حل نہیں اس لیے حریت کانفرنس بھارت کے زیر انتظام آئندہ انتخابات کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے دورے میں صدر ، وزیر اعظم اور اہم سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔میر واعظ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن کی فضا برقرار رہے کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے یہ کشمیر یوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے جسے کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کی روشنی میں حل کیا جائے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکراتی عمل سے کشمیریوں کی شرکت ضروری ہے۔دریں اثناء آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیریوں کو بھی ان مذاکرات میں شامل کیا جائے ۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں آزاد کشمیر کی قیادت اور عوام بھی برابر کے شریک ہیں اور مصنوعی لکیروں کو ختم کر نے اور کشمیریوں کے مستقبل کے تعین کے لیے جان و دل سے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کی نئی جمہوری حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو ترجیحات طے کی ہیں وہ بلاشبہ حوصلہ افزا ہیں اور حریت کانفرنس کو دورے کی دعوت اسی کی ایک کڑی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ ان افراد کے لیے یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ جو مسئلہ کشمیر میں پیشرفت نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ گو پیشرفت ہوئی ہے لیکن مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ صرف بس یا ٹرک سروس ہونے سے معاملہ حل نہیں ہوتا اور ضرورت میںامر کی ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوںکے درمیان ہیلی کاپٹر سروس شروع کی جائے انہوں نے کہا کہ حکومت بھارت کی جانب سے اب بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ اور وہ پاکستان کی تقلید نہیں کر رہا اور بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدام کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی اس کے حق میں ہے۔2006ء کے زلزلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ اسی کی بدولت آزاد کشمیر میں بحال اور تعمیر نو کا عمل زور و شور سے جاری ہے جبکہاس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں صورت حال یکسراس سے مختلف ہے۔ اور چند ہفتے پہلے کشمیر کی 800کنال اراضی امرناتھ شرائن بورڈ کو دے دی گئی ہے اور اس سلسلے میں بھارت ایک سوچے سمجھتے منصوبے کے تحت کشمیر کی تہذیب و ثقافت اور سیاسحت کی صنعت تباہ و برباد کر رہا ہے اور فوجی تسلط میں وسعت لائی جا رہی ہے ۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اب آر پار کی کشمیری قیادت کو مل کرتگ و دو کرنا ہو گی اور یہ کہ کشمیریوں کی شرکت کے بغیر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی عمل آگے نہیںبڑھ سکتا اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شرکت کے بغیر بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان بھی دو طرفہ بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہے اور اتحاد کی داعی ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بھی مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔

فلپائن میں سمندری طوفان ١٥٠سے زائد افراد ہلاک ہو گئے

منیلا ۔ فلپائن میں سمندری طوفان کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر ١٥٠سے زائد ہو گئی ہے ۔ سمندری طوفان اتوار کو وسطی فلپائن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ حکام نے ١٠٠ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ۔ جبکہ درجنوں افراد لاپتہ بھی ہیں ۔ ادھر جزیرہ لونگ لون کی سمندری حدود میں جہاز ڈوبنے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے ۔ جہاز میں 740 مسافر سوار تھے۔

ججوں کو آئینی پیکج کے ذریعے ہی بحال کیا جائے گا۔ وزیر قانون وانصاف فاروق ایچ نائیک



اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ ججوں کو آئینی پیکج کے ذریعے ہی بحال کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ججوں کی سینارٹی 2 نومبر والی عدلیہ کے مطابق ہی رہے گی ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ججوں کو آئینی پیکج کے زریعے ہی بحال کیا جائے گا۔ جس کا مسودہ تمام اتحادی جماعتوں کو مشاورت کے لیے دے دیا گیا ہے ۔ تاہم کسی بھی اتحادی جماعت کی جانب سے آئینی پیکج پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد 16 سے 29 کرنے کا مقصد نئے ججوں کی تنخواہ کے لیے بجٹ منظور کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی جلد بحالی چاہتے ہیںا س سلسلے میں ہم پی سی او کے تحت نئے آنے والے ججوں کو بھی ان کی جگہ موجود رکھنا چاہتے ہیں ا نہوں نے کہاکہ فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا اقدام آئین اور قانون کے مطابق ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتیں آئینی پیکج میں ترامیم کی رائے دے سکتی ہیں ۔ تاہم حتمی طورپر آئینی پیکج کا فیصلہ پارلیمان کرے گا جو اس ملک کا بالادست ادارہ ہے ۔ ایک اورسوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ عدالتوں بالخصوص اعلی عدلیہ میں ججوں کی اقلیت یا اکثریت ہونے کا کوئی تصور نہیں۔ سپریمک ورت میں ہر جج کو تنخواہ اور اختیارات برابر حاصل ہیں اور وہ عوام کو انصاف فراہم کرتے ہیں اس لیے ججوں کے درمیان اختلافات یا گروپنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جتنے بھی جج ہیں انہیں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت ، عدلیہ کی آزادی اور انصاف کا بول بالا ہو ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت آنے والے ججز کو ان کے عہدے پربرقرار رکھنے سے ججوں کی سینارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اورججوں کی سینارٹی وہی رہے گی جو 2 نومبر والی عدلیہ کی تھی ۔

آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی بحالی قبول نہیں ہے ‘ چوہدری نثار علی خان



اسلام آباد ۔ مسلم لیگ ( ن ) کے راہنما چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ مسلم لیگ ( ن ) کو آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی بحالی قطعاً قبول نہیں ہے ۔ بعض دیگر ایسے اہم امور ہیں کہ جو آئینی پیکج کے ذریعے نمٹائے جا سکتے ہیں ۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) کا بنیادی موقف وہ 80 نکات ہیں جو پیپلزپارٹی نے آئینی پیکج میں رکھے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی ان کی پارٹی کو کسی بھی طرح آئینی پیکج کے ذریعے قبول نہیں ہے اور وہ صرف اور صرف بھوربن معاہدے کے ذریعے ہی ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض دیگر اہم امور کے حوالے سے ان کی پارٹی آئینی پیکج کو اہم ذریعہ سمجھتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ ججوں کو قومی اسمبلی کی قرار داد کے ذریعے ہی بحال کیا جائے گا ۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کا پہلا بجٹ ہے ۔۔۔ تحریر : اے پی ایس،اسلام آباد



سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد سولہ سے بڑھا انتیس کرنے کی تجویز اتوار کو قومی اسمبلی سے مالیاتی بل کے ساتھ منطور ہونے کے باوجود وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا ہے کہ معزول جج صرف آئینی پیکج کی منظوری پر ہی بحال ہوں گے۔اتوار کے روز قومی اسمبلی نے سالانہ بجٹ دو ہزار آٹھ اور نو کو قانونی جواز فراہم کرنے والے فائننس یا مالیاتی بل کی منظور دی جس میں وہ شق بھی شامل ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ مالیاتی بل کی شق نمبر اٹھارہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کا تعین کرنے والے انیس سو ستانوے کے ایکٹ میں ترمیم کر کے اس تعداد کو انتیس کر دیا جائے اور یہ ترمیم تین نومبر دو ہزار سات کے روز ہونے والی تبدیلیوں سے بھی بالا قرار دی جائے۔‘ جبکہ ایاز میر نے کہا ہے کہ مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانا آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ یہ تو آمروں کا طریقہ ہے کہ وہ درست کام کو بھی چور دروازوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک منتخب حکومت کو آئین کا اس طرح سے تماشہ بنانا زیب نہیں دیتا۔فائننس بل میں شامل جب یہ شق ایوان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی گئی تو حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جانب سے بیگم عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ججوں کی تعداد بڑھانے کی حامی ہے تاہم اس کے لیے جو طریقہ کار حکومت نے اختیار کیا ہے وہ نا مناسب ہے۔ انہوں نے مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد میں اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی جماعت کی جانب سے اس بارے میں ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس شق کی مخالفت نہ کئے جانے کے بعد رائے شماری کے بغیر ہی مالیاتی بل کی دیگر شقوں کی طرح یہ شق بھی منظور کر لی گئی۔ ججز سپریم کورٹ ایکٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے بعد حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے رکن ایاز امیر نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھانا آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ نکتہ اعتراض پر تقریر کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ یہ تو آمروں کا طریقہ ہے کہ وہ درست کام کو بھی چور دروازوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک منتخب حکومت کو آئین کا اس طرح سے تماشہ بنانا زیب نہیں دیتا۔ ایاز امیر کے مو¿قف کا جواب دیتے ہوئے تجویز کے محرک وزیر خزانہ نوید قمر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز پر تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اس لئے اس موقع پر اتحادی جماعت کے ایک رکن کا اعتراض بلا جواز ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی فہمید مرزا نے ایازامیر کے نکتہ اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تجویز پر منظوری کے بعد بحث کرنا بے مقصد ہے اگر اتحادی جماعتوں کے درمیان اس بارے میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے پارٹی کی سطح پر حل کیا جائے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما چودھری نثار نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت بھی ججوں کو اس طرح سے بحال کرنے کے حق میں نہیں ہے اور اس مقصد کے لئے صرف اور صرف انتظامی حکم کی حمایت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آج ان کی جماعت نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت فنانس بل کی مخالفت نہیں کی تاہم اگر اس شق پر رائے شماری کی نوبت آتی تو ان کی جماعت اس رائے شماری میں حصہ نہ لے کر اپنے مو¿قف کا اظہار کرتی۔ وزیر قانون فاروق نائیک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں ججوں کی تعداد میں اضافے کی شق شامل کرنے کا مقصد ان تمام ججوں کے مالیاتی معاملات کو پیچیدگی سے محفوظ رکھنا تھا۔ وزیر قانون نے کہا کہ جہاں تک تین نومبر کو معزول قرار دیئے گئے ججوں کا تعلق ہے، تو وہ اس آئینی پیکج کی منظوری کے بعد ہی بحال ہوں گے جس پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے ایک روز پہلے اقتصادی سروے پیش کیا تھا وزیر خزانہ نوید قمر نے وزارت دفاع کے بجٹ کی تفصیل چھیالیس برس میں پہلی بار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے پیش کر دیں جس پر پارلیمنٹ میں ارکان نے سیاسی تقسیم سے بالا تر ہو کر حکومت کو اس ’تاریخی‘ موقع پر مبارکباد پیش کی۔دو صفحات پر مشتمل پاکستان کی مسلح افواج کے اخراجات پر مشتمل اس مختصر تفصیل کے مطابق دفاع کے لیے مختص کردہ دو سو چورانوے ارب روپے کا بڑا حصہ آرمی کے لیے رکھا گیا ہے جس کی کل مالیت ایک سو اٹھائیس ارب روپے ہے۔ فضائیہ اور بحریہ کے لیے بالترتیب اکہتر اور انتیس ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ مسلح افواج کی اسٹیبلشمنٹ یا انتظامی اخراجات کا تخمینہ چھیاسٹھ ارب روپے لگایا گیا ہے۔ آرمی بجٹ کا بڑا حصہ اپنے ملازمین پر صرف کرے گی جس کے لیے اکہتر ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح فضائیہ اور بحریہ بھی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ ملازمین پر خرچ کریں گے جبکہ فضائیہ کے آپریشنل اخراجات سولہ ارب اور بحریہ کے چار ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ چار دہائیوں میں یہ پہلی بار ہے کہ حکومت نے دفاعی بجٹ کی تفصیل پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی ہے جسکے بعد اب نہ صرف دونوں ایوانوں میں بلکہ پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں بھی اس بجٹ پر بحث کی جا سکے گی اور دیگر وزارتوں کی طرح اگر کوئی رکن اس بجٹ میں مختص کسی بھی رقم کے بارے میں کوئی بھی اعتراض اٹھاتا ہے تو مسلح افواج کے نمائندوں سے اسکی جواب طلبی کی جا سکے گی۔ سینیٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے دفاعی بجٹ کی یہ تفصیل قائد ایوان رضا ربانی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت میں دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین نے دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر حکومت کو مبارکبار دی۔ انہوں نے کہا کہ اب عوامی نمائندے نہ صرف دفاعی بجٹ پر بحث کر سکیں گے بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت ملے گی کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اب صرف چند گنے چنے سیاسی رہنما رہ گئے ہیں جو بلوچستان میں رہتے ہوئے وفاق کی بات کرتے ہیں سینیٹ کے اجلاس میں منگل کو بلوچستان اور عدلیہ کے حوالے سے جذباتی اور تقاریر کی گئیں اور سینیٹ ارکان نے ا±ن سے مکمل سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میر جان جمالی اور مسلم لیگ ق کے سینیٹر نے بلوچوں کو حقوق نہ ملنے کی صورت میں علیحدگی کا مطالبہ کرنے کی دھمکی دی۔ پیپلزپارٹی سےتعلق رکھنے والے سینیٹر صفدر عباسی نے بھی بجٹ پر بحث کے دوران ججوں کو بحال نہ کرنے اور مختلف معاملات میں میرٹ کو نظرانداز کرنے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر حزب اختلاف اور اقتدار کے بعض ارکان سے داد سمیٹی۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر جان جمالی نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ اگر مرکز نے بلوچستان کو اسکے حقوق سے اب بھی محروم رکھا تو وہ وقت دور نہیں جب وہاں جانے کے لیے پاکستانیوں کو پاسپورٹ درکار ہو گا۔ جان جمالی کا کہنا تھا کہ اب صرف چند گنے چنے سیاسی رہنما رہ گئے ہیں جو بلوچستان میں رہتے ہوئے وفاق کی بات کرتے ہیں لیکن اگر مرکز کی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو پھر ’ہم بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوں گے‘۔ جان جمالی نے کہا کہ ’میرا تعلق اس خاندان سے ہے جس کا انیس سو چونتیس سے محمد علی جناح کے ساتھ تعلق ہے جب وہ قائد اعظم بھی نہیں بنے تھے لیکن اب میرے لیے بھی وفاق کی بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے بلوچ تحریک کے رہنما اکبر بگٹی کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اکبر بگٹی کے مطالبات کے مطابق بلوچستان کو اسکے وسائل کے مطابق رقم ادا کر دے ورنہ وقت بہت تیزی سے ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور اب بات خودمختاری سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ جان جمالی نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملنے جا ر ہے ہیں اور اس ملاقات میں انہی معاملات پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’میری دعا ہے کہ اس ملاقات سے ہماری توقعات ہوری ہوں ورنہ حالات خراب ہو سکتے ہیں‘۔ گزشتہ تین ماہ میں ایسے فیصلے ہوئے ہیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی اس جذباتی تقریر پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بیشتر ارکان نے انکی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی نشست پر جاکر جان جمالی کو مبارکباد دی۔ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صفدر عباسی نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پریس میں حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ میرٹ کو نظرانداز کر رہی ہے۔ صفدر عباسی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں ایسے فیصلے ہوئے ہیں جن سے عدل کے اصولوں سے انحراف کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو جو کچھ کیا اس سے دو آئینی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ایک پرویز مشرف کی بطور صدر آئینی حیثیت سے متعلق ہے اور دوسری اعلی عدلیہ کے ساٹھ ججوں کی برطرفی ہے۔صفدر عباسی نے ججوں کی بحالی کے بارے میں اپنی جماعت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ انکے بقول ایسا کرنے سے سیاسی بحران مزید گہرا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو اعلان بھوربن کے مطابق ہی بحال ہونا چاہیے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آئینی ترمیم ججوں کی بحالی کے لیے ضروری ہے تو یوں ہی سہی لیکن ایسا فوراً ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی میں مزید تاخیر عوام برداشت نہیں کریں گے۔ سینیٹ نے ججوں کی تعداد بڑھانے سمیت فنانس بل کے ذریعے قوانین میں مجوزہ بعض ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے قومی اسمبلی میں فنانس بل کے تحت ججوں کی تعداد میں اضافے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔اس درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے کی۔عدالت نے کہا کہ فنانس بل میں ان ججوں کی تعداد بڑھانے کی صرف تجویز دی گئی ہے لہذا یہ ناقابل سماعت ہے۔ درخواست گذار اظہر مقبول شاہ نے بدھ کو درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ستر کے تحت ججوں کی تعداد بڑہانے کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور قانون سازی ہونے کے بعد ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی میں پاس ہونے کے بعد ا±سے سینیٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جس کے بعد اسے منظوری کے لیے صدر کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بل پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہونے دیا جائے اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے پارلیمنٹ کو موقع دیا جانا چاہیے۔ درخواست گذار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں کی تعداد فنانس بل کے ذریعے بڑھائی گئی تو پھر سینیٹ اور صدر کا کردار ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے اس لیے وہ فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھا کر انتیس کرنے کی تجویز دی تھی اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون سے مشاورت کی تھی۔ دریں اثناء پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے سمیت فنانس بل کے ذریعے قوانین میں مجوزہ بعض ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بارے میں پیش کی گئی تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دی ہے۔ سینیٹ نے ایوان صدر اور قومی سلامتی کونسل کے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے سمیت متعدد بجٹ تجاویز کی بھی منظوری دی ہے۔ سینیٹ میں بجٹ پر بحث مکمل ہونے کے بعد بدھ کے روز سینیٹرز نے تحاریک اور مختلف قراردادوں کے ذریعے بجٹ میں مختلف ترامیم کی سفارشات، تجاویز اور مطالبات پیش کئے۔ واضح رہے کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے بجٹ کے بارے میں اختیارات صرف اس پر بحث تک ہی محدود ہیں اور بجٹ کو قانونی جواز فراہم کرنے والی دستاویز فنانس بل میں ترمیم سینیٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ اسی بنا پر حزب اختلاف کے تین سینیٹرز نے تحریک استحقاق کے ذریعے فنانس بل کا معاملہ ایوان بالا میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی آڑ میں ملکی قوانین میں ستائیس ترامیم فنانس بل کے ذریعے منظور کرنے کی کوشش کی ہے جس میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے جیسا اہم معاملہ بھی شامل ہے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے اکہتر ارب اور انیس کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔پچھلے چھ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ بجٹ سیشن کے دوران حزب اختلاف کا شور شرابے اور فنانس بل کی کاپیاں پھاڑنے والا اسمبلی میں موجود نہیں تھا۔یہ شاید پہلا موقع ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ حزب اختلاف کے بغیر پییش کیا گیا ہے اس لیے ایوان میں صوبائی وزیر خزانہ عاصم کرد گیلو کی بجٹ تقریر کے دوران مکمل خاموشی تھی۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف میں ایک ہی رکن ہیں سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند اور وہ بھی ایک ہی مرتبہ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت آئے تھے جب اراکین اسمبلی حلف لے رہے تھے اس کے بعد وہ اسمبلی کے اجلاس میں کبھی نہیں آئے۔ آج بھی انھوں نے چھٹی کی درخواست دی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بجٹ سے پہلے وفاقی حکومت سے بھیک مانگتے تھے جس کے بعد بلوچستان حکومت بجٹ پیش کرنے کے قابل ہوئی ہے۔سابق پانچ سالہ دور میں حزب اختلاف میں بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اراکین جن میں موجودہ وزیر اعلی موجود ہوتے تھے تو بجٹ تقریر کے دوران شدید نعرہ بازی کی جاتی ڈیسک بجائے جاتے اور بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دی جاتیں اور بقول اس وقت کے اپوزیشن اراکین کے یہ احتجاج مسلم لیگ کی ناقص پالیسیوں کے خلاف کیا جاتا تھا۔ ماضی میں مسلم لیگ قائد اعظم جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت نے خسارے کے پانچ بجٹ پیش کیے اوراب پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی مخلوط حکومت میں بھی تقریباًپانچ ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اصل خسارہ آٹھ ارب روپے سے زیادہ کا تھا لیکن وفاقی حکومت کی تین ارب روپے کی امداد کے بعد یہ خسارہ کم ہو کر پانچ ارب روپے تک رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پندرہ ارب چھہتر کروڑ روپے رکھے گئے ہیں لیکن اس بجٹ میں نیا ترقیاتی منصوبہ کوئی نہیں ہے زیادہ تر رقم پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے مختص ہے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کےذمے بلوچستان کے اربوں روپے ہیں اگر صوبے کو مل جائیں تو بلوچستان حکومت اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے سے جاری منصوبوں پر کافی لاگت ہو چکی ہے اور چونکہ وہ منصوبے بھی عوامی مفاد کی خاطر شروع کیےگئے ہیں اس لیے انہیں جاری رکھا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے بات کی گئی ہے کہ یا تو اسلام آباد یہ رقم ادا کرے اور یا اس قرضے کو آسان قرض یا سافٹ لون میں تبدیل کر دیا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی مخلوط حکومت تقریباً پانچ ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اصل خسارہ آٹھ ارب روپے سے زیادہ کا تھا لیکن وفاقی حکومت کی تین ارب روپے کی امداد کے بعد یہ خسارہ کم ہو کر پانچ ارب روپے تک رہ گیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے عید کے دنوں میں دیہاتوں کے فقیر شہروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کے دنوں میں پیسے کما کر واپس گاو¿ں چلے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی حکومتیں ایسی ہی ہیں جون کے مہینے میں اسلام آباد جا کر بھیک مانگتے ہیں اور پھر بجٹ تیار ہوتا ہے وگرنہ دیگر تین صوبوں کی طرح بلوچستان کا بجٹ بھی پہلے پیش کر دیا جاتا۔ سردار اسلم بزنجو بلوچستان میں واپڈا کے وزیر ہیں لیکن انھوں نے بجٹ تقریر سے پہلے واپڈا کے خلاف باتیں کیں اور کہا کہ ان کے پاس کوئی احتیارات نہیں ہیں لوگوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ فنانس بل میں اعلی عدلیہ کے ججوں کی اسامیوں میں جو اضافہ کیا جا رہا ہے ان اسامیوں پر پی سی او ججوں کو تعینات کیاگیا تو ان کی جماعت اس کی مخالفت کرے گی۔مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت سینئر رہنماو¿ں کے ایک غیر رسمی مشاورتی اجلاس کے بعد احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ وفاقی بجٹ میں اعلی? عدلیہ کے ججوں کی تعداد میں اس لیے اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے کہ ان اسامیوں پر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا تقرر کیا جائے۔ صدر کے موخذاے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کل سے پہلے اسی وقت صدر کے موخذاے کی تحریک لانے کو تیار ہیں تاہم ان کواپنی اتحادی جماعتوں کی طرف سے گرین سنگل کا انتظار کر رہے ہیں اور جیسے ان کو سنگل مل گیا تو مسلم لیگ نون اس معاملے میں سب سے آگے ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی بنیاد ججوں کی بحالی کے وعدہ پر رکھی گئی تھی اور ججوں کی بحالی سے یہ اتحاد مضبوط ہوگا۔ ان کے بقول حکمران اتحاد کی کامیابی کا انحصار دو باتوں ہے کہ کس قدر جلدی صدر پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں اور کس قدر جلدی ان ججوں کو بحال کیا جاتا ہے جن کو صدر پرویز مشرف نے برطرف کیا تھا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا آئینی پیکیج کے حوالے سے قائم کمیٹی نے نواز شریف کو بریف کیا ہے اور آئینی پیکیج میں ان نکات پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق ہیں البتہ عدلیہ کی بحالی بارے میں چند نکات پر متبادل تجاویز تیار کرلی گئیں ہیں۔ ججوں کی بحالی کسی آئینی ترمیم کے ذریعے نہیں بلکہ اعلان مری میں دیئےگئے طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ججوں کی بحالی کے لیے کسی آئینی ترمیم کا سہارا لیا گیا تو صدر پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی اور آئینی طور پر درست تسلیم کرلیں گے۔ اجلاس میں نواز شریف نے پارٹی رہمناوں کو آصف زرداری کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا۔ اے پی ایس۔