International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Saturday, May 10, 2008

ججوں کو بحال نہ کیاگیا تو اے پی ڈی ایم وکیلوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے گی ،عمران خان



اسلام آباد ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ اگر ججوں کو بحال نہ کیاگیا تو اے پی ڈی ایم وکیلوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے گی ۔تحریک انصاف کے صدر عمران خان نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چودہ مئی کو اے پی ایم ڈی کا اجلاس ہو گا اور اس میں فیصلہ کریں گے کہ اس کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہو گی اس وقت اس ملک سے مہنگائی کا خاتمہ نا ممکن ہے ۔ پی سی او کے تحت لف لینے والے ججز کو رکھا گیاتو یہ پاکستان کی عدلیہ کے خلاف سازش ہو گی انہوں نے کہاکہ آصف زرداری ایم کیو ایم کا ساتھ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے دے رہے ہیں ۔ انہوں نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ این آر او کے تحت کرپشن کے اربوں روپے کے مقدمات تو دنوں اور گھنٹوں میں ختم ہو رہے ہیں اور عوام کے بھاری مینڈیٹ کے باوجود عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی پر اتنی دیر کیوں ہورہی ہے۔

معزول ججوں کی بحالی کیلئے مزید انتظار نہیں کریں گے، وکلاء نے سیاسی جماعتوں پراعتماد کرکے غلطی کی، اپنے قوت بازو سے معزول ججوں کو بحال کرائیں گے




لاہور۔ وکلاء 12مئی کے بعد معزول ججوں کی بحالی کیلئے مزید انتظار نہیں کریں گے۔ مشرف اور جمہوریت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ وکلاء اب سیاسی جماعتوں پر انحصار کرنے کی بجائے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تمام آئینی ججوں کو خود عدالت میں بٹھائیں گے۔ جج بحال نہ ہوئے تو مسلم لیگ (ن) بھی وزارتیں چھوڑ کر وکلاء تحریک میں ساتھ ہوگی۔ پنجاب بار کونسل کے 75ارکان کو جیلوں میں نان آفیشل وزیٹرز کا درجہ دے دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام وکلاء تحریک کے دوران قید وبند کی صعوبتوں اور ظلم کا شکار ہونے والے وکلاء کو تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنماوں اور صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایسن کے سابق صدر حامد خان ایڈووکیٹ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حافظ عبدالرحمن انصاری، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی سید افتخار حسین شاہ، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل اسلم سندھو، لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر محمد شاہ، پاکستان بار کونسل کے رکن اقبال احمد خان، پولیس تشدد کا شکار ہونے والے ثناء اللہ زاہد ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیر نے وکلاء تحریک کے دوران قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے وکلاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر چودھری عبدالغفور نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ذاتی مقاصد کیلئے نہیں بلکہ ملک کو بچانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم کا شکریہ ادار کرتے ہیں کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں معزول ججوں کی رہائی کا حکم دیا تاہم اب ان ججوں کی فی الفور بحالی بھی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر کہا تھا کہ وہ چیف جسٹس کو بحال کریں گی اور ان کے گھر پر جھنڈا بھی خود لہرائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کمیٹیوں کے چکر سے نکل کر عدلیہ کو بحال کرے۔ میاں نوازشریف وکلاء اور عوام کی جنگ لڑرہے ہیں اگر جج بحال نہ ہوئے تو مسلم لیگ (ن) وکلاء تحریک میں ان کے ساتھ ہوگی اور اگر وکلاء جیل گئے تو ان سے پہلے میں جیل جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف عدلیہ کی جنگ میں کسی طور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے ’’ قدم بڑھاؤ چیف جسٹس ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعرے بھی لگوائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حامد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء پی سی او ججوں کو قبول ںہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کل (ق) لیگ کو قاتل لیگ کہتے تھے آج خود بھی وہی کردار ادا کرکے مشرف کو مضبوط کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور مشرف اکٹھے نہیں چل سکتے۔ 12مئی کو جج بحال نہ ہوئے تو براہ راست ایکشن لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) وکلاء تحریک میں شامل ہوکر ہمارا ساتھ دے۔ سید افتخار حسین شاہ نے کہا کہ 12مئی ڈیڈ لائن ہے اس کے آگے کی تاریخ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اب ہم عدلیہ کی بحالی کیلئے حکومت کی جانب نہیں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیں اجازت دے اسلام آباد اور راولپنڈی کے وکلاء ججوں کو خود سپریم کورٹ میں بٹھادیں گے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت وکلاء کو ہائی کورٹ میں بٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دو چیف جسٹس صاحبان کی باتیں بھی کی جارہی ہیں اگر ایسا کرنا ہے تو پھر عدالتیں بھی ڈبل قائم کردی جائیں ۔ ایک انصاف کیلئے اور دوسری ظلم کیلئے۔ حافظ عبدالرحمن انصاری نے کہا کہ 12مئی 2007ء کے واقعہ پر قومی مفاہمت کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے قومی مجرم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومتی اتحاد نے مشرف سے اتحاد کرکے (ق) لیگ کی جگہ لے لی ہے۔ محمد شاہ نے کہاکہ ججوں کی بحالی میں تاخیر کرکے آمریت کو مضبوط کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے ججوں کی بحالی کا حلف اٹھائا تھا لیکن انتخابات کے تین ماہ بعد بھی جج بحال نہیں کرواسکی۔ وکلاء سیاسی جماعتوں کی جانب دیکھ کر غلط کررہے ہیں۔

ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی آٹے اور دالوں سمیت کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں

اسلام آباد۔ ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی آٹے اور دالوں سمیت کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ایک کلو مسور کی دال اب104 روپے میں ملے گی نئی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں نئے نرخ کے مطابق دال مونگ چھلکے والی42 روپے سے بڑھا کر 50 روپے اور ثابت مسور کی قیمت 84 روپے سے بڑھا کر 90 روپے کر دی گئی ہے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بیس روپے اضافہ کر کے اس کی قیمت 300 روپے بڑھا دی گئی ہے مسالوں کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے نئی قیمتوں کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں غریبوں سے اور دور ہو جائیں گی۔

سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں (ق) لیگ سے بھی تعاون کیلئے بات ہوسکتی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی



لاہور۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام سے عدلیہ کی آزادی کیلئے کئے گئے وعدے پر قائم ہیں تاہم طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ ہم ایسی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس سے آئینی اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ نہ پیدا ہو کیونکہ ملک کو بچانا اور اسے مضبوط کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے سلسلہ میں حکومت ثر امریکہ کا دباؤ نہیں ہے جب میں نے اپنی پہلی تقریر مین معزول ججوں کی رہائی کا حکم دیا تو اس وقت امریکی دباؤ کیوں سامنے نہیںآیا۔ ملکی معاملات چلانے کیلئے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد جاری رہے گا میاں نوازشریف کبھی بھی ہماری اپوزیشن نہیں بنیں گے تاہم سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں (ق) لیگ سے بھی تعاون کیلئے بات ہوسکتی ہے۔ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہی بلکہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے صوبائی ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداران سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما سمیع اللہ خان اور عزیز الرحمن چن بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت ، عدلیہ اور 73ء کے آئین کی بحالی کیلئے جتنی جدوجہد اور قربانیاں دی ہیں اتنی کسی اور جماعت نے نہیں دیں۔ ہم عدلیہ کی بحالی ایسے انداز میں کرنا چاہتے ہیں کہ آئینی اداروں کے درمیان اور ان میں تصادم نہ پیدا ہو اور ملک مزید بحرانوں کا شکار نہ ہو۔ اس سلسلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تمام امور کا بغور جائرہ لے کر ایک متفقہ لائحہ عمل دے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کی جانب سے معزول عدلیہ کی بحالی کیلئے 12مئی کی ڈیڈ لائن دینے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ ڈیڈ لائن میاں نوازشریف نے دی ہے۔ ہمیں اس سے انحراف نہیں لیکن موجودہ حالات میں ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو دیکھ بھال کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ ق لیگ سے بھی تعاون کیلئے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ میاں نوازشریف ہمارے لئے انتہائی قابل عزت ہیں۔ انہوں نے اعلان مری کے ساتھ ساتھ میثاق جمہوریت پر بھی دستخط کررکھے ہیں۔ ملک میں جمہوریت کی بقاء کیلئے ہماری ان سے کولیشن جاری رہے گی وہ کبھی بھی اپوزیشن نہیں بنیں گے۔ ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گی جب تک وہ ہتھیار نہیں پھینک دیتے۔ ہم دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ملک میں مہنگائی کی تازہ لہر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب ہمیں یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ یہ تحفہ سابق حکمرانوں کا دیا ہوا ہے۔ ہمیں تھوڑا سا وقت چاہئے جلد اس پر قابو پالیں گے۔ چاروں صوبوں میں سابقہ دور کے گورنروں کو جاری رکھنے کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ گورنروں کی تبدیلی بعد کا معاملہ ہے ہم پہلے مہنگائی پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد گورنروں کی تبدیلی پر غور ہوگا۔ صدر اور گورنروں سے میل ملاپ ضروری ہے مگر عوامی امنگوں کے فیصلے پارلیمنٹ میں ہی ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ڈسٹرکٹ گورنمنٹوں کے حق میں ہوں مگر موجودہ سیاسی سیٹ اپ غیر جماعتی ہے ایسی صورتحال میں نئی سیاسی لیڈر شپ پیدا نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ میرا سپریم کورٹ بار کے صدر چودھری اعتزاز احسن سے کوئی اختلاف نہیں وہ پارٹی کے سینئر کارکن اور ہمارے قریبی ساتھی ہیں۔ بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کی سزائے موت ختم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنی رائے صدر مملکت کو دیدی ہے حتمی فیصلے کا اختیار انہی کے پاس ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہترین تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں ہم کشمیر کا مسئلہ بھی کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں۔

حکمران اتحاد کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ، تاہم ججوں کی بحالی کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ شہباز شریف


لندن ۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہاہے کہ عوام حکمران اتحاد کو مضبوط اور ملک کے مسائل حل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تاہم ججوں کی بحالی کے بغیر یہ ممکن نہیں یہاں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ججوں کی بحالی کے لیے اگر مسلم لیگ ن کو دوبارہ سڑکوں پر بھی آنا پڑا تو اس سے دریغ نہیں کیاجائے گا ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس بارہ مئی کو طلب کر لیاہے ۔ پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ اور مرکزی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس پیر کو دن گیارہ بجے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہو گا

جسٹس افتخار چوہدری کے لئے الگ سے متوازی سپریم کورٹ کے قیام پر غور


آئینی پیکج میں متوازی سپریم کورٹ کا اختیار صرف فوجداری مقدمات ہوں گےدونوں عدالتوں کے ججوں کی مراعات برابر ہوں گی انتظامیہ ججوں کا تبادلہ کر سکے گیاسلام آباد ۔ ججوں کی بحالی کا معاملہ حل کرنے کے لئے ایک آئینی پیکج کے مسودے میں پاکستان کے اندر دو متوازی سپریم کورٹس کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر دونوں چیف جسٹس کے عہدے پر رہ سکیں گے ۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں ایک سپریم کورٹ کی سربراہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے جس میں فوجداری مقدمات اور سول کیسز کو دیکھے گی جبکہ دوسری چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں عدالت کا نام وفاقی آئینی عدالت ہو گا آئین کی تشریح قومی مفاہمتی آرڈیننس آئینی تنازعات صدر پرویز مشرف کی عہدہ صدارت کی اہلیت اور سوموٹو اختیارات کا استعمال وغیرہ کے معاملات کو یہی عدالت دیکھے گی ۔ سول اور فوجی اپیلیں سننے والی علیحدہ عدالت جس کی سربراہی معزول چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا نام دیا جائے گا یہ عدالت معزول کئے گئے ججوں اور کچھ پی سی او ججوں پر مشتمل ہو گی ۔ دونوں عدالتوں کے ججوں کی مراعات کے پیکج برابر ہوں گے اور انتظامیہ کسی بھی جج کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں تبدیل کر سکے گی ۔

اوباما بھی اسرائیل نواز نکلے ، یہودی مملکت کے دفاع کا عزم

واشنگٹن ۔ بارک اوباما نے جن کے صدر بننے کے امکان زیادہ ہیں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دوستی نا قابل چیلنج ہے اور بحیثیت صدر امریکا وہ صیہونی مملکت کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے ۔ قیام اسرائیل کے ساٹھ سال کے تکمیل کاجشن منانے کے لیے منعقد ایک تقریب سے مختصراً خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے تعلق سے امریکی عہد غیر متزلزل ہے اور میں قطعی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ دونو ںملکوں کی دوستی نا قابل انقطلاع ہے۔ اوباما نے اس موقع پر مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی لیکن کہا کہ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کی تمام تر کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں کسی بھی حیثیت سے نہ صرف اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بساط بھر کوشش کروں گا بلکہ اس میں اس بات کا بھی یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیل کے لوگ اپنے ساٹھ سال پہلے کے عہد کے مطابق پنپیں گے۔ خوشحال ہوں گے اور ترقی کریں گے ۔ بعض نکتہ چینیوں نے صیہونی مملکت کے تعلق سے اوباما پر شک ظاہر کیاتھا کیونکہ وہ مسلمان رہ چکے ہیں ۔ اوباما نے بہرحال اپنی تقریر میں اپنے اس موقف کا اعادہ نہیں کیا کہ وہ فلسطینیوں کو رعایتیں دینے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں گے۔ بارک اوباما نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو نائب صدر کی حیثیت سے منتخب کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور وہ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں انہیں شکست سے دوچار کر دیں جس میں انہیں تقریباً ناقابل تسخیر سبقت حاصل ہو چکی ہے

’ججوں کی بحالی: بحران کا خدشہ‘



ایسوسی ایٹڈ پریس سروس

ٰ
پاکستان کی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف جس طرح ججوں کی بحالی چاہتے ہیں اس طرح ججوں کی بحالی سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔سنیچر کی شام کو موبائیل ٹیکسٹ کے ذریعے بھیجے گئے اس پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر پولیس نے جج بحال کیے، جس طرح نواز شریف تجویز کرتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا‘۔ بی بی سی کے مطابق وزیر اطلاعات کے مطابق ججوں کی اس طرح بحالی پر سپریم کورٹ میں پہلے سے موجود جج پرانے ججوں کے خلاف فوری طور پر حکم جاری کریں گے۔ ’ہم پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے تمام ججوں کو اکموڈیٹ یعنی کھپا سکتے ہیں،۔ شیری رحمٰن نے مزید کہا ہے کہ جب ملک میں پہلے ہی تنازعات ہوں، اقتصادی اور سماجی دباو¿ موجود ہوں تو ایسے میں غیر ضروری تصادم سے گریز کرنا چاہیے اور ذمہ داری کا ثبوت دیا چاہیے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام لے کر ججوں کی بحالی کے بارے میں کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت جاری ہوا جب لندن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماو¿ں کے درمیاں ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ کن بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ موبائیل ٹیکسٹ شیری رحمٰن کے نام سے ان کے تعلقات عامہ کے افسر یا ’پی آر او، فائق چاچڑ نے جاری کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ بات کہاں کہی ہے تو فائق چاچڑ نے بتایا کہ یہ میڈم کا بیان ہے اور ٹیکسٹ کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شیری رحمٰن اس سے پہلے بھی بیان یا حکومتی موقف یا اس کی کوئی وضاحت کے لیے موبائیل ٹیکسٹ کا ذریعہ استعمال کرتی رہی ہیں۔

MOTHER DAY


PEMRA TO ISSUE 14 FM RADIO LICENSES, ONE NON-COMMERCIAL FM LICENSE TO SZABIST LARKANA.

ASSOCIATED PRESS SERVICE
ISLAMABAD:Pakistan Electronic Media Regulatory Authority in its 48th meeting held at Islamabad today decided to grant 14 FM radio licenses for various cities of Pakistan. In addition, education purpose FM radio licenses to SZABIST Larkana campus were also approved. With the award of these licenses, the number of licensed FM radios in Pakistan would reach to 120 while raising the number of Radio licenses for education purpose to (14) fourteen. Chairman PEMRA, Mr, Mushtaq Malik presided over the meeting.
FM radio license have been approved for Bahawalpur, Tando Allah Yar Khan, Kashmore, Bolan, Loralai, Qilla Saifullah, Attock, Uper Dir, Pishin, Qilla Abdullah, Tando Muhammad Khan, Umerkot, Kharan and Mustung cities / areas of Pakistan.
Chairman PEMRa, Mr. Mushtaq Malik said that these licensed are being issued pursuant Authority’s objective to penetrate healthy and accessible media in every nook and corner of the country. The Chairman said that PEMRA is constantly striving to adopt latest electronic media technologies in Pakistan which will not only offer wide evariety and choice to viewers but will also help in societal reforms.
The Authority while examining the current status of electronic media in Pakistan resolved to maintain level playing field for all media operators. PEMRA Authority discussed various issues pertaining to “Landing Right Holders” and licenses for satellite TV channels. Emerging media trends and future possible avenues for further healty penetration of media in country were also brought to light. Authority also approved cancellation of four (04) non-operational cable TV licenses. Further, the prospects of cable TV licensing were also discussed in order to streamline this buoyant sector of electronic media industry. The Authority members also deliberated upon and approved PEMRA budget for the financial year 2008-09.
Secretary MoI&B, Mr. Akram Shaheedi, Secretary Interiour, Syed Kamal Shal, Chairman FBR Mr. Abdullah Yousuf Ali, Chairman PTA, Mr. Shahzada Alam Malik and other members including Mr. Asad Jahangir, Mr. Omer Aziz, Dr. Seemi Naghmana and Samar Minallah besides Executive Member PEMRA Mr. Ahmad Mahmood Zahid attended the meeting.

قوم پو چھنا چاہتی ہے کہ۔؟ تحریر اے پی ایس اسلام آباد






امریکی سفیر نے کہاتھا کہ پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں اور اب اس معاملے کو چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہئے ۔ امریکی سفیر اور یورپی یونین کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ معاہدات ضرور ہوئے ہیں جو تاحال منظر عام پر نہیں آئے یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے لیکن پاکستانی قوم کو ان معاہدات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ کیا ان معاہدات میں درج ہے کہ پرویز مشرف صدر رہیں گے ۔ معاہدات کے ضمانتی کون ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔ امریکہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تنصیبات کی نگرانی امریکہ کرتا رہے گا ۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے سوال ہیں کہ جن کا قوم کو کوئی جواب نہیں مل رہا ہے ۔ گاہے گاہے وہاں سے اشارے ملتے رہتے ہیں اور اسی طرح کا ایک بہت بڑا اشارہ اب امریکی کانگرس نے دیا ہے کہ پاکستان وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہئے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ نواز شریف راہ راست پر نہیں آ رہے ۔ یہ ایک انتہائی خوفناک بات ہے لگتا ہے اگر نواز شریف امریکہ کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو پھر نواز شریف کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جیسا کہ بے نظیر بھٹو ‘ جنرل ضیاء الحق ، ذوالفقار علی بھٹو اور لیاقت علی خان سے کیا گیا ۔ اور جو بھی انکار کرے گا اسے کہنا پڑے گا کہ ” فرینڈ، ناٹ ماسٹرز “ لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی پیپلزپارٹی کے راہنما چونکہ معاہدات کے مطابق چل رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے بے نظیر بھٹو نے تو معاہدات سے بغاوت کر دی تھی ۔عوام کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ معاہدات کیا ہیں کیونکہ معاہدات کے سرعام نہ آنے سے پاکستانی پارلیمنٹ قوم کے مینڈیٹ ‘ آزادی اور حاکمیت اعلیٰ پر حرف آتے ہیں ۔ جبکہ حمید گل نے یہ بھی کہا ہے کہ یا تو ہمارے لیڈر اپنے آپ کو ان معاہدات سے الگ کریں اور راستے میں تبدیلی لائیں بصورت دیگر ملک تباہی کی طرف جائے گا ۔ قوم بغاوت کر دے گی کیونکہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں ۔ شاید امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی ہو ۔ فلسطین کی طرح وہاں حماس نے دوتہائی اکثریت حاصل کر لی تھی لیکن امریکہ نے محمود عباس کو قائم رکھا اور پرویز مشرف کی حیثیت بھی وہی ہے ۔ وقت آ گیا ہے کہ قوم اور لیڈران ان معاہدات کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کریں تاکہ پتہ چلے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ امریکہ کو اپنی امداد کا دکھ ہے تو اسے پاکستان کی قربانیوں کو بھی دیکھنا چاہئے کیا ہمارا خون اتنا ہی سستا ہے کہ امریکہ اس کو پس پشت ڈال دے ۔ اگر امریکہ امداد کا حساب مانگتا ہے تو ہمیں بھی اپنے جوانوں کے خون کا حساب مانگنا چاہئے ۔ امریکہ کو پاکستانی عوام کی رائے کا احترام کر نا چاہیے 18 فروری کو عوام نے واضح طور پر صدر مشرف اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے امریکہ کو فرد واحد کی حمایت کر نے کی بجائے پاکستان میں عوام دوست پالیسیوں کی حمایت کرنی چاہیے امریکہ کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ایک طرف امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے امریکی حکام کو چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اور مضبوط اداروں کو سپورٹ کیا جائے نہ کہ ایک آمر کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں۔ 3 نومبر کے تمام اقدامات غیر آئینی تھے اور آئین کی نظر میں کوئی اقدام یا تو آئینی ہو سکتا ہے یا غیر آئینی ماورائے آئین اقدام کی کوئی اصطلاع قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ کسی فرد واحد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو برطرف کر سکے ۔ قرار داد کا مسودہ تیار ہو چکا ہے جس کے تحت ججوں کو غیر مشروط طور پر بحال کیا جانا چاہئے اس کے بعد اگر پارلیمنٹ کوئی آئینی پیکج لانا چاہے تو یہ اس کا حق ہے ۔ عوام کی خواہش کے برعکس عدلیہ کی آزادی پر قدغن عائد کرنا درست اقدام نہیں ہو گا ۔ عوام نے حکومت کوعدلیہ کی آزادی ججوں کی بحالی اور معیشت کی بحالی سمیت تمام چیزوں کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ اس کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان اور اقتصادی بحران پر قابو پانا ہونا چاہیے۔ ۔ججوں کا مسئلہ بھی حل ناگزیر ہے اورانھیں دوسرے مسائل بھی حل کر نے چاہیے 12 مئی کو ججوں کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ ججوں کی بحالی کی قرا رداد پیش کرنے کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کرنا ہو گا جو صرف صدرہی بلا سکتے ہیں اور اگر ججوں کی تعداد بڑھانا ہوئی تو صدارتی آرڈنینس کے ذریعے ہو گی تو بھی صرف صدر ہی آرڈنینس جاری کر سکتے ہیں ۔ ججوں کی بحالی کی قرار داد پارلیمنٹ میںپیش کی جائے گی اور آئین کے مطابق پارلیمنٹ سے مراد قومی اسمبلی اور سینٹ دونون ہیں اس کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلانا ہوگا جس کا اختیار صدر کے پاس ہے قرار داد سے بحال کرنے کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کے دو طریقے سامنے آرہے ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوںکا مشترکہ اجلاس صدر طلب کریں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت صدر کے ذریعے آرڈنینس لایا جائے جو تحفظات باقی ہیں اس کے حوالے سے پارٹی سربراہان فیصلہ کریں اور جیسے ہی یہ تحفظات دور ہوںاجلاس کے لیے سمری بھجوادیں۔جبکہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے 12 مئی آخری ڈید لائن ہے اورا گر یہ فیصلہ اس دن نہ ہوا توپی ایم ایل ن جماعت وہی کرے گی جو اسے کرنا چاہیئے۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے میعاد میں بارہ مئی تک توسیع بھی کوئی مناسب فیصلہ نہیں تھا۔ ا ور اس سے مزید آگے بڑھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اگر 12 مئی کو اس حوالے سے فیصلہ نہ ہوا تو مسلم لیگ(ن) وہی کچھ کرے گی جو اسے کرنا ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ(ن) 12 مئی کی کمٹمنٹ کے حوالے سے سنجیدہ ہے ۔ اسی لیے تمام ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد بلا لیا گیا ہے ۔ بارہ مئی کو گیارہ بجے ن کااجلاس ہو گا اور اگر وعدے کے مطابق اس دن قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیا گیا تون والے اسمبلی میں جائیں گے ورنہ فیصلہ اس اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیس دنوں کے بعد بارہ مئی اور اب اگر قانونی پیچیدگیوں میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو مسلم لیگ(ن) اپنا حتمی فیصلہ کرے گی ۔ ججوں کی بحالی کے معاملے پر حکمران اتحاد میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور دونوں کی آراء مختلف ہیں۔ حکومت یا کوئی دوسری طاقت 2نومبر 2007 والی عدلیہ کو بحال ہونے سے نہیں روک سکتی۔ عوام کو امید ہے کہ جج صرف ایک حکم سے بحال کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ صرف موجودہ حکومت پر منحصر ہے۔ ججوں کی بحالی کا ایشو عوام کی نظروں، آئین اور قانونی ماہرین کے مطابق بڑا واضح ہے کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بالآخر جج بحال ہی ہوں گے دو قانونی ماہرین، کمیٹی کے ارکان ججوں کی بحالی کے ایشو پر مختلف خیالات رکھتے ہیں، اس لئے یہ معاملہ سیاسی قیادتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ یہ بڑا سادہ سا کیس ہے جس کے حل کے لئے پارلیمنٹ کی قرار داد بھی ضروری نہیں۔ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ فرد واحد کی آئین میں کی گئی ترامیم دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر آئین کا حصہ بن جائیں۔ ایک آئینی ماہر کا کہنا ہے کہ اگر صدر پرویز آرڈیننس کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر کرتے ہیں یا نفاذ سے انکار کرتے ہیں تو پارلیمنٹ کے ذریعے مذکورہ ایکٹ میں مطلوبہ ترمیم کی جاسکتی ہے تاہم آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت صدر کسی آرڈیننس جس کو وزیراعظم کا ایگزیکٹو آرڈر بھی کہا جا سکتا ہے ،پر دستخط کیلئے کسی ٹائم فریم کے پابند نہیں ہیں وہ یہ نکتہ نظر اختیار کرسکتے ہیں کہ آرڈیننس آئین یا سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے متصادم ہے اس لئے اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے ‘ یہ تاخیر کی وجہ ہوسکتی ہے۔ آرٹیکل 75 کے مطابق صدر پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو 30یوم میں منظور کرینگے یا پارلیمنٹ کو پیغام کے ساتھ واپس بھیجیں گے کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرے‘ ان کی طرف سے تجویز کردہ تبدیلیاں پارلیمان میں دوبارہ زیر غور لائی جائیں گی‘ پارلیمنٹ بل کو اصل شکل میں یا صدر کی خواہش کے مطابق ترامیم سمیت منظوری کے بعد صدر کو بھیجتی ہے تو وہ اسے نامنظور نہیں کرسکتے یعنی یہ بل اپنے آپ قانون بن جاتا ہے کیونکہ حکومتی اتحاد کی اہم پارٹیوں میں اتفاق رائے ہے اس لئے پارلیمنٹ سے ایسے کسی بل یا آئینی ترمیم کی منظوری کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘ نواز شریف حکومت کے دوران 14 ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں میں منٹوں میں منظور کرلی گئی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری بحالی کے بعد موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس موجودہ چیف جسٹس صاحبان کی جگہ لیں گے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد سے متعلق ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے علاوہ 16 جج ہونگے‘ معزول ججوں کی بحالی کے بعد تعداد 26 + 1(چیف جسٹس) کرنا پڑیگی‘ جسٹس جاوید اقبال کو بحالی میں شمار نہیں کیا جارہا جبکہ جسٹس رانا بھگوان داس پہلے ہی ریٹائر ہوچکے ہیں اگر سپریم کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر65برس برقرار رہتی ہے تو3 نومبر کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جسٹس محمد نواز عباسی آئندہ جون میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ جبکہ ججوں کی عدم بحالی پر 12 مئی کو وکلا نے” یوم سیاہ“ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ بھی ماضی کی طرح غلام ہے،وعدوں سے ہٹ کر موجودہ اسمبلی5سال تو کیا 5دن بھی نہیں چل سکتی اور اگر پارلیمنٹ ججزکو‘ آئین کے مطابق بحال نہیں کرپائی تو صدر پرویز مشرف پارلیمنٹ توڑنے میں حق بجانب ہونگے۔ا 18 فروری کو پرویز مشرف کمزور ترین تھے آج پھر سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے وہ مضبوط ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ عدلیہ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے ابتری اور بدانتظامی پیدا ہوگی، آئینی پیکیج کے نام پر عدلیہ کے پر کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ججوں کو ایک قرارداد کے ذریعے بحال کروایا جا سکتا تھا لیکن کمیٹی بنا کر اس معاملے کو الجھایا جارہاہے۔ججوں کی بحالی کی تفصیلات طے کرنے کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کی تشکیل کے عمل میں عبدالحفیظ پیرزادہ کا نام کس نے پیش کیا اس معاملے پر خاصا کنفیوڑن پایاجاتا ہے، یہ کنفیوڑن شہباز شریف کی جانب سے زرداری کے اس دعوے کو مسترد کرنے سے مزید بڑھ گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر پرویز کے اس آئینی جادوگر کو کمیٹی میں رکن کے طور پر دراصل نواز شریف کیمپ نے نامزد کیا تھا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زردای کی جانب سے میڈیا کے سامنے بہ تکرار اس انکشاف نے کئی حلقوں کی تیوریاں چڑھا دی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے عبدالحفیظ پیرزادہ کا نام کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔عبدالحفیظ پیرزادہ (جو کہ صدر پرویز کے کیمپ کے معروف رکن اور صدر پرویز کی حمایت میں سخت گیر رویہ رکھتے ہیں،)نے تین نومبر کے اقدامات، آئین کی معطلی ، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی معزولی اور پاکستان کے آئین میں فردواحد کی جانب سے ترامیم جیسے اقدامات کی حمایت کی تھی ، عبدالحفیظ پیرزادہ صدر مشرف کے تمام اقدامات کی کھلی وکالت کرتے ہیں اور وہ سکڑتی ہوئے ایوان صدر کی اعلیٰ ترین شخصیت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ، جب دبئی میں نواز شریف اور زرداری کے مابین ہونے والے مذاکرات کے دوران کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے عبدالحفیظ پیرزادہ کا نام پیش ہوا تو تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ یہ زرداری کا کام ہوگا اور اس طریقے سے انہوں نے ایوان صدر سے اپنی ڈیل کے پس منظر میں ججوں کی بحالی کی مذکورہ کمیٹی میں مشرف کیمپ کی نمائندگی یقینی بنائی ہے، لیکن زرداری کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ بڑے پیمانے پر پریشاں فکری کا باعث بن رہا ہے کہ پیرزادہ کو نواز شریف نے نامزد کیا تھا۔میاں شہباز شریف نے بتایا ہے کہ عبدالحفیظ پیرزادہ کا نام نواز شریف نے پیش نہیں کیاتھا بلکہ یہ نام خود آصف علی زرداری نے پیش کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ” ہم نے صرف آصف علی زردری کی جانب سے کی گئی نامزدگی کو قبو ل کیا تھا، ہم نے ان سے کہا تھا کہ ہم آپ کی جانب سے دیئے گئے کسی بھی نام کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں ، انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ (زرداری) اس وقت دبئی میں یہ بھی کہہ چکے تھے کہ پیرزادہ انکا دوست ہے اور یہ کہ کمیٹی میں ان کے نام کی شمولیت سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال نے کہا ہے کہ کابینہ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لین جب اعلان مری کے مطابق 30دنوں کے اندر معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیاتو ہم نے کابینہ میں شمولیت اختیار کر لی ۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہاکہ میثاق جمہوریت 2006ء میں کہاگیا تھا کہ کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں لیں گے اور ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد ان ججز نے حلف لینے سے انکار کر دیا ایمر جنسی کے نفاد کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججز نے میثاق جمہوریت پر عملدر آمد کیا تو ہم ان ججز کو ہر صورت بحال کریں گے کوئی ذاتی مفادات کا تحفظ نہیں کیاجائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ بارہ مئی تک ججز کی بحالی ممکن ہو جائے گی انہوں نے کہاکہ پی پی پی کے کارکنوں نے ہمارے ساتھ گو مشرف گو کے نعرے لگائے انہوں نے کہاکہ کچھ عناصر موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہے ہیں لیکن حکومت جمہوریت کو آگے بڑھا کر ججز کو بحال کرے گی اور اتحادی حکومت بھی آگے چلے گی ۔جبکہ اے پی ڈی ایم نے واضح کیا ہے کہ 12 مئی کو ججز بحال نہیں ہوںگے تو حکمران اتحاد اپنے اقتدار کو بھی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اور اسے عوامی غیض و غضب کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو بحال نہ کیا گیا تو وہ امام خمینی بن کر ابھریں گے۔اس ایشو پر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف امریکہ کوکرائی گئی یقین دہانی سے دستبردار ہوں قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی چودہ مئی کواسلام آباد میں اے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوںکو پرویز مشرف کی غیر آئینی صدارت کے خاتمے ‘ ججز کی بحالی کا مینڈیٹ ملا ہے ۔ حکمران اتحاد آٹھ سالہ پالیسیوں کو ختم کرکے ملک کو استعماری قوتوں سے آزادی دلائیں ۔ پرویز مشرف نے ملک کو قیام پاکستان کی منزل سے دور کیا ہے ۔ اعلان مری کا پوری قوم نے خیر مقدم کیا ہے ۔ 30 اپریل کو قوم ججز کی بحالی منتظر تھی ۔ عدلیہ کو اس قدر آزاد اور خود مختار ہونا چاہیئے کہ ریاستی ادارے اگر قانون و آئین کو توڑے تو ان پر گرفت ہو سکے ۔ پہلے سیاسی جماعتیں فوجی آمریت سے سمجھوتہ کرکے انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں جس سے آمرانہ قوتوںکو تقو یت ملتی رہی ہے ۔ حقیقی معنوں میں بااختیار پارلیمنٹ نہیں مل سکا ۔ پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں کا ملٹری ڈکیٹیٹر سے الگ ایجنڈا ہے ۔ تیس دن کا وقت ضائع کرکے حکمران اتحاد کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔ قوم کو بارہ مئی کے حوالے سے امیدیں ہیں ججز بحال ہو جائیں گے۔ حکمران اتحاد 3 نومبر اور اس کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو بھی بحال کرنا چاہتے ہیں ۔ قوم پوچھنا چاہتی ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے اس معاملے پر کیوں سمجھوتہ کیا اور وکلاء کی تحریک سے کیوں انحراف کیا جا رہا ہے ۔ فوجی آمریت کے احکامات کیوں قبول کیے جار ہے ہیں ۔ پی سی او کے تحت ججز کوقائم رکھنے سے عدلیہ آزاد نہیں ہو گی ۔ ان ججز کی بحالی کا مطلب یہ ہے کہ حکمران اتحاد نے پی سی او اور تین نومبر کے اقدامات کو قبول کر لیا ہے ۔ موقف پر ڈٹ جانے والی ججز عدلیہ میں اپنی منشاءاور مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ وہ قلیل تعداد میں ہوں گے اور یہی امریکہ چاہتا ہے کہ دوبئی اور لندن میں مذاکرات کے ذریعے ا س شک کو تقویت مل رہی ہے کہ استعماری قوتوں نے اپنے مقاصد کے لیے سیاسی قیادت کو دباو¿ میں رکھا ہوا ہے ۔ حکمران اتحاد یکسوئی کے ساتھ انتظامی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ججز کو بحال کرتا ‘ فوج اور آرمی ہاو¿س اور امریکہ سے جس ردعمل کا اظہار ہوتا پوری قوم اس کی مزاحمت کرتی ۔ پرویز مشرف مسلم لیگ(ق) ‘ آزاد اور فاٹا کے ارکان کو اکٹھا کرکے 190 ارکان جمع کر سکتے ہیں ایسے میں حکومت کی کوئی ساکھ نہیں ہو گی ۔ یقینا سنگین بحران ہے ۔ جب تک پارلیمنٹ آئین و قانون کی بالادستی اور ملک درست سمت پر گامزن نہیں ہوتا۔ کوئی بحران حل نہیں ہو گا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ قومی مفادات پر سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو قبول نہ کیا جائے ۔ پرویز مشرف غیر مقبول اور قابل نفرت بن چکے ہیں ۔ آرمی ہاو¿س ‘ ملک اور ایوان صدر کو اس شخص سے پاک کیا جائے ۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ امریکی مفادات قوم کی بقاء اور سلامتی سے براہ راست متصادم ہے ۔ عدلیہ کی آزادی درحقیقت قانون کی حکمرانی ہے ۔ پرویز مشرف امریکہ کی حمایت پر راستے کا پتھر بنا ہوا ہے ۔ یہی ایک نکاتی ایجنڈا ہونا چاہیئے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آئے اور پرویز مشرف جائے ۔ اے پی ایس اسلام آباد

Friday, May 9, 2008

Soha Ali Khan held guilty, gun license cancelled



APS
Gurgaon: Actress Soha Ali Khan was Thursday held guilty of suppressing facts while seeking renewal of her gun license, and also of allowing misuse of her weapon by her father, former cricketer Mansur Ali Khan Pataudi, allegedly in killing a blackbuck.
District Magistrate Rakesh Gupta cancelled her gun license under section 17 of the Arms Act and ordered a further inquiry into the case. “Soha can file appeal against this order in the divisional commissioner's court within 30 days. The Jhajjar police would also be informed about the decision, with the request not to release Soha's rifle to her,” Gupta said in his judgement.The rifle, which was allegedly misused by Pataudi in the blackbuck poaching, is at present in the custody of the Jhajjar police.Gupta said Soha was issued the arms license in November 1996 when she was below the legal age to acquire it. The responsibility could not be fixed because the original file on the issuance of her gun licence is missing.Replying to a question, Gupta said had the Jhajjar police informed the Gurgaon administration about the seizure of Soha's rifle in the poaching case, the administration would not have renewed her license. “We would inform the home department about this lapse on the part of the Jhajjar police. But it was the duty of the actress to inform the district administration that her rifle was in police custody at the time of the renewal. The actress knowingly suppressed this fact, hence she is guilty,” the district magistrate added. The actress has been charged with obtaining an arms license for her .22 bore rifle Nov 5, 1996, when she had not completed 21 years of age - a legal pre-requisite.The passport record of Soha, daughter of Pataudi and actress Sharmila Tagore, put her year of birth at 1978, which meant in 1996 she was 18.The Gurgaon district authorities also sent her a notice demanding an explanation about how the weapon for which she was licensed was used by her father to kill a blackbuck in Haryana's Jhajjar district in 2005. Pataudi was arrested for poaching the protected species animal, and the carcass was seized. The poaching case, registered June 5, 2005, is being tried in a wildlife and environment court in Faridabad town in Haryana.

UN suspends Myanmar flights after seizure



YANGON - The U.N. food agency suspended aid flights to cyclone-struck Myanmar on Friday after the military government seized two deliveries at Yangon airport, apparently determined to distribute supplies on its own.
The shipments of 38 tonnes of high-energy biscuits, enough to feed 95,000 people, were intended to be loaded on trucks and sent to the inundated Irrawaddy delta where most of the estimated 1.5 million victims need help.
"We're going to have to shut down our very small airlift operation until we get guarantees from the authorities that we'll be able to have the food when it arrives," U.N. World Food Programme regional director Tony Banbury told CNN.
"I am furious. It is unacceptable."
Governments around the world have been pressing Myanmar's ruling generals to open the country's borders to desperately-needed assistance and on Friday, Germany said it agreed with a proposal by France to use the U.N. Security Council.
The official death toll remains at nearly 23,000, with 42,119 people missing. Experts fear it could be as high as 100,000 in what is the worst cyclone to hit Asia since 1991, when 143,000 people were killed in Bangladesh.
The Myanmar government has stated its preference through the state-run media that it would accept "relief in cash and kind" but not foreign aid workers.
"It should be on trucks headed to the victims. You've seen the conditions they are in. That food is now sitting on a tarmac doing no good," Banbury said.
Planes loaded with food and equipment from several Asian countries have landed in Yangon in the past few days and two flights with supplies from the WFP.
"Myanmar is not in a position to receive rescue and information teams from foreign countries at the moment," a foreign ministry statement published in state-run newspapers said. "But at present Myanmar is giving priority to receiving relief aid and distributing them to the storm-hit regions with its own resources."
Impasse
In another sign of the impasse between the military rulers and countries eager to kick start a major international relief operation, the prime minister of neighbouring Thailand cancelled a planned trip there this weekend.
"After they said today they would not welcome foreign staff, there is no point of me going there," said Samak Sundaravej who had been urged by the United States and Britain to try and open the doors.
With saltwater ruining wells, grain stores and rice fields, the relief task ahead will be enormous. The United Nations estimates at least 1.5 million people out of a population of 53 million are "severely affected" -- needing food and shelter.
Survivors have been mostly fending for themselves in the swampy delta after Cyclone Nargis packing winds of up to 190 kph (120 mph) last Saturday whipped up a massive wall of sea-water that hurtled through the low-lying Irrawaddy Delta.
Children were the most vulnerable when the storm struck the delta, known as "Asia's rice bowl" in British colonial times.
UNICEF, the U.N. children's fund which has staff in Myanmar, was using commercial flights to send in supplies, spokeswoman Shantha Bloemen said.
"We have been buying what we can locally, but we are planning to send more supplies in over the next few days," she said. "But we can't confirm when those flights will be sent in."
Corpses dot the delta
Bloated corpses bobbing in canals or spreadeagled on riverbanks littered the delta. Reuters witnesses saw seven along a 5-km (3-mile) stretch from the delta town of Labutta.
Farmer Tei Lin said he had seen hundreds of bodies in the past week. "It's so difficult. Many of them are badly decomposed," he said through an interpreter.

Pakistan frees Baluch leader to bring peace

KARACHI - Pakistan's new government freed a prominent ethnic Baluch leader Friday as it tries to forge reconciliation in the restive southwest of the country.
Jubilant supporters crowded Sardar Akhtar Mengal, chief of Baluchistan National Party, as he was released from a Karachi hospital, where he was detained because of ill health.
Mengal was arrested in August 2006, accused of torturing two military intelligence officials. Supporters claimed the accusations were politically motivated.
Senior security official Arif Ahmed Khan said charges against Mengal have been withdrawn.
Pakistan's newly elected civilian government says it wants to promote dialogue with ethnic leaders in impoverished Baluchistan, scene of a long-running insurgency.
The former government of President Pervez Musharraf launched military operations against Baluch rebels, who are fighting for more autonomy and a greater share of the revenues from natural gas and other resources extracted from the region.
Tens of thousands of people have been displaced by the fighting, which is separate from the struggle between Islamic militants and security forces further north along the Afghan frontier.
An unknown number of Baluch activists are suspected held by Pakistani intelligence agencies.
“My release is victory of democracy,' Mengal told reporters after his release. “We never compromised on our principles with a dictator and did not bow before Musharraf.'
“But my release is not an issue. The issue is the thousands of people who are missing and under detention of law enforcement agencies,' he said. “Our struggle is for the autonomy of the province and Baluch control over our resources.'
The release of Mengal, a former chief minister of Baluchistan, came days after Prime Minister Yousuf Raza Gilani traveled to the province. After talks with government officials and ethnic Baluch leaders, he ordered the withdrawal of all the charges against Mengal.
Authorities have previously accused the Baluchistan National Party of links to militants that launch attacks on security forces. The party denies involvement and says it is committed to political struggle.
Despite the peace overtures, suspected Baluch rebels have intensified attacks on police and security officials.

Hezbollah routs pro-govt gunmen; controls Beirut

Hezbollah seizes west Beirut, Pro-government gunmen surrender, Pro-government leader calls for dialogue, Hezbollah forces pro-government Future News tv off air
BEIRUT - Lebanon's Iranian-backed Hezbollah took control of the Muslim part of Beirut on Friday, tightening its grip on the city in a major blow to the U.S.-backed government.
Security sources said at least 11 people had been killed and 30 wounded in three days of battles between pro-government gunmen and fighters loyal to Hezbollah, a Shi'ite political movement with a powerful guerrilla army.
The Europea_ Union, Germany and France urged calm and a peaceful resolution. Syria said the issue was an internal Lebanese affair while Iran blamed "the adventurist interferences" of the United States and Israel for the violence.
The fighting, the worst internal strife since the 1975-90 civil war, was triggered this week after the government took decisions targeting Hezbollah's military communications network. The group said the government had declared war.
In scenes reminiscent of the darkest days of the civil war, young men armed with assault rifles roamed the streets amid smashed cars and smouldering buildings.
The sound of exploding grenades and automatic gunfire echoed thoughout the night across a city still rebuilding from the 1975-90 conflict. By mid-morning the fighting had died down and Hezbollah and allied fighters were in control as loyalists put down their weapons.
The dead included a woman and her 30-year-old son, who were killed when trying to flee Ras al-Nabae -- a mixed Sunni-Shi'ite Beirut district and scene of some of the heaviest clashes.
"They were trying to flee to the mountains. Instead ... they reached the hospital, dead," said a relative of the victims, who declined to give her name because of security fears.
"It was terrifying during the night. We couldn't even move about in the house," said another woman -- a resident of Ras al-Nabae who had fled the area at first light with her children. "We spent the night in the corridor."
Saudi Arabia, a strong backer of the governing coalition, called for an emergency meeting of Arab foreign ministers over the crisis, Saudi-owned Al Arabiya television reported.
A pro-government leader called for dialogue.
"The party, regardless of its military strength, cannot annul the other," Walid Jumblatt, leader of the Druze minority, told LBC television station from his home in Beirut. "Dialogue alone brings results. Running away from dilogue is not useful."
Blow to government
Hezbollah gunmen took control of media outlets owned by governing coalition leader Saad al-Hariri, Lebanon's strongest Sunni politician. Hariri's television and radio stations went off the air.
Hezbollah, a Shi'ite group also backed by Syria, had been steadily seizing offices of pro-government factions in the predominantly Muslim western half of the city.

PM TAKING TO MEDIA AT LAHORE AIR PORT


CANADIAN HIGH COMMISSIONER AND AMBASSADOR OF IRAN CALL ON N.A SPEAKER



Islamabad:(APS) The Canadian High Commissioner David B. Collins called on Madam Speaker National Assembly Dr. Fehmida Mirza in the Parliament House, today. Talking to the Ambassador Madam Speaker said that Pakistan values high its relations with Canada and desires to further strengthen it.
Madam Speaker said that in Pakistan the real democracy has been restored after a prolong struggle and needed to be supported by all the progressive and democratic countries of the world. She said that the new Parliament was representing the progressive forces in the country that shows the majority of our country’s population was progressive, liberal and tolerant. She said that the unopposed election of Prime Minister, the election of the Speaker with big majority, appointment of the Leader of the Opposition within a month time and the timely formation of the N.A Standing Committees evinced the desire of the parliamentarian for strengthening democratic institutions and it also gave a very positive message to the people. She said that people were having great expectations from the new Parliament and it was committed to fulfill their expectations. The Speaker apprised the Ambassador that the coalition Government followed the policy of reconciliation and was taking all the political forces along with it.
The Speaker said that poverty, illiteracy and unemployment were the major problems, the people of the country were confronting. She said that enhanced cooperation with friendly countries like Canada in the economic field will help Pakistan in its programme relating to poverty alleviation and jobs provision. She appreciated the assistance by Canada given for the development in various sectors, specially during the earthquake of Oct, 2005. The Speaker also apprised the Ambassador about the working of Parliament and its Standing Committees.
H.E. David B. Collins assured the Madam Speaker of his government’s economic assistance and support for strengthening democracy in Pakistan. He expressed his desire for the new parliament to complete its constitutional tenure. He also congratulated Madam Speaker for her election as first women speaker of Pakistan and Muslim World.
The Ambassador of Iran Mashallah Shakri also called on the Speaker, in the Parliament House today. Talking to the Ambassador the Speaker said that Pakistan values high its relations with Iran and both the countries have unanimity of views on all regional and global issues. The Speaker said that relations between the two fraternal countries were based on the strong bonds of religion, history and common cultural heritage.
Dr. Fehmida Mirza said that the Muslim world was confronting great challenges which could be faced successfully through forging unity amongst the Muslim countries. She underlined the need for strengthening and enhanced role of the OIC. The Speaker said that greater exchange of Parliamentary delegations was necessary to further strengthening relations between Iran and Pakistan. She also stressed the need for enhanced exchange businessmen, intellectuals and students delegations for increasing people to people contact. She said that it was encouraging that both the countries were aspiring for other to prosper and progress.
The Speaker said that energy shortage was the main problem confronting the new government and expressed optimism that the mega gas pipelines project between Pakistan, Iran and India will bring prosperity in the region. She also underlined the need for early convening of the meeting of the Ministerial Joint Economic Committee for increasing the volume of the trade between the two coutries.
The Ambassador of Iran H.E. Mashallah Shakri said that enhanced cooperation between Iran and Pakistan will have greater impact on unity and solidarity of Islamic world. He said that Pakistan was a brotherly muslim country and Iran has always supported it on all regional and international forums. “Pakistan’s strength was Iran’s strength”, he said. The Ambassador congratulated Madam Speaker on her election as the first women Speaker of Pakistan and Islamic World and extended her, invitation to visit Iran.

EDUCATION MINISTER ATTENDED A CONFERENCE ON GERMAN EDUCATION SYSTEM IN BONN, GERMANY


ASSOCIATED PRESS SERVICE
The Federal Minister for Education Professor Ahsan Iqbal participated in a Conference of the Ministers of Education and Culture Affairs of the Lander (provinces) in the Federal Public of Germany in Bonn. The Conference was organized to discuss German Education System and the roles and powers of the states (provinces) and the Federal Ministry. A special presentation was given on the different streams leading to different educational carriers i.e. vocational, middle level professional and tertiary educations existing in Germany. The conference also focused on over all German School System, administration and roles/powers of the different levels, quality management, quality assurance, curriculum development and inter-state coordination.
The Minister met with Mr. Kurt Schmitz Temming, Vice Managing Director of Rihne-Sieg Chamber of Commerce and Industry in Bonn, Germany. During the meeting special presentation was given to the Minister on German technical and vocational education system and the role played by Chambers of Commerce and Industry.
The Minister also visited Hardtberg Gymnasium (Grammar School for Grade 5 to 12 for talented students) where the Principal of the School briefed him about administration, staffing, teaching material, involvement of parents, library and computer equipment. Later the Minister visited a primary school (Grade 1 – 4) where he was briefed about the administration, staffing, learning material, and involvement of parents in the learning process of the Children in the German system.

Improvement of national economy, law and order top priority: PM





ASSOCIATED PRESS SERVICE

LAHORE: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Friday said that improving national economy and law and order across the country was the top priority of the government. Briefly talking to media at the Lahore Airport after his arrival from Islamabad, he said that the issue of reinstatement of judges would be solved. “Let us see the outcome of the meeting being held between top leaders Asif Ali Zardari and Muhammad Nawaz Sharif in London”.The Prime Minister’s son Syed Abdul Qadir Gilani was also present on the occasion.
Responding to a question, the Prime Minister said that 100-day plan announced by him was being implemented and all issues confronting the nation would be addressed according to the commitment.
He said that all-out efforts were being made to solve the acute power shortage problem, check the high inflation, control the hike in prices of daily edibles and strengthen the national economy on top priority.
In response to question about the energy crisis, he said it would take some time to overcome it.
He said the government firmly believed in freedom of press and “we will ensure it.”
About the convening of the National Assembly session on May 12, he said it would be convened when the party command desired so.
Earlier, he was received by Punjab Governor Lt.Gen (retd) Khalid Maqbool, Minister for Irrigation Raja Raiz Ahmad, Minister Sana Ullah, MNA Samina Ghurki, Chief Secretary Punjab Javed Mahmood,IG Police Shaukat Javed,CCPO DIG Muhammad Pervaiz Rathore, Aziz Ur Rehman Chan and Munir Ahmad Khan.

Govt committed to redressing the grievances of the people of Balochistan: PM





ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Friday said the government was committed to redressing the grievances of the people of Balochistan and reiterated that steps were being taken to improve the situation. Talking Governor Balochistan Zulfiqar Ali Magsi and Chief Minister Nawab Aslam Raeesani at the PM House, the Prime Minister said a new strategy was being formulated in consultation with representatives of the provincial government for dealing with the issue of law and order in the province.He said the political forces in the province have to play a role in this regard as it would improve the security and protection of the citizens.
The Governor and Chief Minister Balochistan also briefed the Prime Minister about the supply situation of wheat and flour in Balochistan.
The government’s decision of providing 100,000 tons of additional wheat to the province for meeting its requirements was also appreciated by the entire population of the province.
The Prime Minister said the government was keeping a close watch on the wheat situation all over the country and would provide more wheat to Balochistan, if required.
He directed the provincial government in coordination with law enforcement agencies to take steps for stopping smuggling of wheat across the border.

Provincial govts. to be consulted on reforms: PM



ASSOCIATED PRESS SERVICE


ISLAMABAD: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Friday said all provincial governments and concerned organizations should be taken onboard and consulted on the report of the National Commission for Government Reforms.
Chairing a high level meeting here, he said that the the commission’s recommendations would be debated in the National Assembly to achieve the desired result of good governance and better delivery of services to the common man.
The chairman of the commission, Dr. Ishrat Hussain, presented the interim report at the meeting along with recommendations.
Prime Minister Gilani emphasised that refroms in any sector should be aimed at benefiting the common people.
“Redressing grievances and minimizing the difficulties of the people is our ultimate goal which needs to be kept in view while formulating these reforms,” he added.
He also underlined the need of changing the “Thana” culture by making it people-friendly with focus on resolving the problems of the people.
The government, he said, was promoting e-government system to ensure speedy delivery of government business and restoring people’s confidence in the elected government, in addition to ensuring general public’s access to information.
On provincial autonomy, Prime Minister Gilani said that he has already announced the abolition of concurrent list within one year and expressed the confidence that this would lead to resolving the problems of the people at the local level.
He also called for the including jail reforms in the report to address the problems being confronted by the inmates.
The Prime Minister underlined the need for the replacement of centuries old “Patwari” system by using modern technology and learning from the experiences of the developed world aimed at facilitating the masses and eradicating corruption.
He said the government is also focusing on improving the social services across the country and will extend all possible resources for the provision of education and health to the people.
The reforms, he said, also need to focus on better management of the social sector both administratively and professionally.
Earlier, in his presentation, Dr. Ishrat Hussain briefed the Prime Minister about the salient features and recommendations of the report.
The interim report on reforms presented to the Prime Minister says it will improve governance and efficiency of the government servants towards resolving people’s problems.
Prime Minister Gilani said that since parliament is the supreme forum for making policy decisions, the report should be thoroughly deliberated upon in the National Assembly after due consultation with all the four provinces.
The final approval of the recommendations, he added, would later be given by the Federal Cabinet.

Nine killed 17 injured as trawler overturns in Pabbi




PESHAWAR : An over-speeding container trawler turned turtle on main G.T. Road in Pabbi bazaar and rammed into the footpath killing nine persons and injuring seventeen others.
A Suzuki car was also crushed in the tragic episode. According to police sources, nine persons have been killed who were standing on the footpath.
The driver of the Peshawar bound trawler lost control over the steering after its tie rod broken in the congested bazaar.
Several people were trapped under the trawler. Police and rescue teams carried out rescue operations at the site.
The injured have been shifted Pabbi Hospital and Lady Reading Hospital Peshawar and admitted where condition of many injured was stated to be stable.
The names of seven dead identified are Mirajuddin Khan son of Sherian, Ali Shah son of Zahir Shah residents of Amankot, Muhammad Habib resident of Zakhel, Hameedullah Khan son of Atiqullah resident of Khan Sher Garhi, girl Neemra daughter of Noor Muhammad resident of Jehangira, Amaan Khan son of Abdus Sattar Khan resident of Kandi Tazadin and Fazal Amin son of Sattar Muhammad resident of Chowki Mumraz.
The injured identified are Khalid son of Sirajuddin resident of Aman Kot, Rais Khan son of Mukaram Khan resident of Pabbi, Asma daughter of Javed resident of Dagai Jadeed, Amin son of Alam Gul resident of Pabbi, Asiya wife of Javed resident of Dagai Qadeem, Zahida wife of Kaleemullah resident of Aman Garh, Pervez resident of Swat, Noor Qadar resident of Swat, Wajahat resident of Aman Kot, Nawaz son of Gul Rehman, Bahar Ali, Fazal Muhammad, Ayaz and Fazal Mehmmod.
Meanwhile the NWFP Chief Minister, Ameer Haider Khan Hoti expressed his deep shock and grief over the loss of precious lives in the road accident In a statement issued here, the Chief Minister directed the hospital’s administration to give special care and attention to the treatment of wounded.
The Chief Minister while expressing his sympathies with the members of bereaved families has prayed Allah Almighty to rest the departed souls in eternal peace and grant courage to them to bear this irreparable loss with patience and fortitude. The Chief Minister also prayed for the early recovery of the injured.

Pakistan’s defence impregnable: Ahmad Mukhtar





ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD : Minister for Defence Chaudhry Ahmad Mukhtar said Pakistan army is well prepared to counter the menace of terrorism.While talking to Dawn channel, he said if somebody is coming from USA to teach them to fight against terrorism they would like to learn.He said Pakistan has strengthened its role at Pak-Afghan border.
The confidence building measures (CBMs) with India are working well and Pakistan has improved relations with its neighbour.
The relations needed to be further strengthened for the mutual benefit of the two sides, he stressed.
He underlined the need to build trust with India. He said easy cross the border movement and increase in bilateral trade will bring the two countries together.He was hopeful that Kashmir issue would be resolved.
He said Pakistan has adopted a multidimensional approach to stem the tide of terrorism through negotiations and economic development.
Pakistan is keen on countering real issues like poverty, ignorance and sense of deprivation, the Minister added.

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل دہشت گردی کیس میں بری

کراچی ۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل کو رہاکر دیاگیا ۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعہ کو ان کی رہائی کے احکامات جاری کئے ۔ احکامات جاری ہونے کے بعد اختر مینگل ایک طویل قید کے بعد باہر آئے تو لوگو ںکی ایک بہت بڑی تعداد ان کے استقبال کیلئے ہسپتال کے باہر موجود تھی اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اختر میگنل نے کہاکہ گوادر بلوچوں کا ہے اور رہے گا بلوچستان کے حقوق کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو سمیت تمام بے گناہوں کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور بلوچستان میں تمام گرفتار افراد کو رہاکیا جائے انہوں نے کہاکہ ان کی رہائی جمہوریت کی جیت اور آمریت کی شکست ہے ججوں کی بحالی کے بارے میں سوال پر اختر مینگل نے کہاکہ ججوں کی بحالی محرومیوں کے ازالے کیلئے ضروری ہے انہوں نے کہاکہ تعاون پر میڈیا اورسول سوسائٹی میں انتہائی شکر گزار ہوں ۔ یاد رہے سردار اختر میگنل کو دسمبر 2006میں گرفتار کیاگیاتھا اور ہسپتال میں بھی انہوں نے دو ماہ اور دو دن گزارے ہیں

ججوں کی بحالی کیلئے ١٢ مئی کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتا نظر نہیں آتا ‘ فاروق ایچ نائیک



اسلام آباد۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ 12 مئی کو ججوں کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ ججوں کی بحالی کی قرا رداد پیش کرنے کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کرنا ہو گا جو صرف صدرہی بلا سکتے ہیں اور اگر ججوں کی تعداد بڑھانا ہوئی تو صدارتی آرڈنینس کے ذریعے ہو گی تو بھی صرف صدر ہی آرڈنینس جاری کر سکتے ہیں ۔ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کی قرار داد پارلیمنٹ میںپیش کی جائے گی اور آئین کے مطابق پارلیمنٹ سے مراد قومی اسمبلی اور سینٹ دونون ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلانا ہوگا جس کا اختیار صدر کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ قرار داد سے بحال کرنے کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کے دو طریقے سامنے آرہے ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوںکا مشترکہ اجلاس صدر طلب کریں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت صدر کے ذریعے آرڈنینس لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جو تحفظات باقی تھے اس کے حوالے سے پارٹی سربراہان فیصلہ کریں گے اور جیسے ہی یہ تحفظات دور ہوئے ہیں اجلاس کے لیے سمری بھجوادوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام لوگ موجودہ اور سابقہ سب ججوں کو قبول کرلیں تو سپریم کورٹ ججز ایکٹ کو تبدیل کرنا پڑے گا اس کے لیے بھی صدارتی آرڈنینس لانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ کمیٹی سے نکل کر پارٹی سربراہوںکے پاس جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی تک تمام کارروائی مکمل کرکے قومی اسمبلی کا سیشن کال کرنے کی کوشش کریںگے لیکن مجھے قومی اسمبلی کا اجلاس بارہ مئی تک ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ تحفظات ابھی باقی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے کہا ہے کہ کچھ چیزوں کے حوالے سے فوری اقدامات کیے جائیں اور چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کیے جائیں ان کی دل آزاری ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قیدیوں کے حوالے سے بھی قانون سازی کے حوالے سے کہا ہے اور نیب کے کالے قوانین کو بھی تبدیل کرنے کے حوالے سے مجھے ہدایت کی ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر پارلیمنٹ سے خطاب کیوں نہیں کرتے یہ ان سے پوچھا جائے

جج بھی بحال کریں گے اور دوسرے مسائل بھی حل ہوں گے جیسے ہی لیڈر اشارہ کریں گے قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جائے گا۔وزیراعظم



لاہور۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام نے ہمیں عدلیہ کی آزادی ججوں کی بحالی اور معیشت کی بحالی سمیت تمام چیزوں کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ ہماری اولین ترجیح ملک میں امن و امان اور اقتصادی بحران پر قابو پانا ہے ۔ججوں کا مسئلہ بھی حل ہو گا اور ہم دوسرے مسائل بھی حل کریں گے، لیڈر جیسے کہیں گے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد 3 روزہ دورے پر لاہور پہنچنے پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم کے طیارے نے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا توان کا استقبال گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول ، پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض مسلم لیگ کے رہنما و صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، صوبائی وزیر میاں مجتبی شجاع الرحمن ، منیر احمد ،سمیع اللہ اور پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماؤں نے کیا ۔ وزیر اعظم نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی کیلئے قرار داد پر دونوں جماعتوں کے لیڈر غور کر رہے ہیں ۔ مجھے جیسے ہی اشارہ ملے گا قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لوں گا ۔ اس سوال پر کہ کیا جج 12 مئی کو بحال ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج دونوں لیڈر مل رہے ہیں ان کی جانب سے آؤٹ کم تو آجانے دیں آپ اطمینان رکھیں جج بھی بحال ہوں گے اور قوم سے کئے گئے دوسرے وعدے بھی پورے کئے جائیں گے ۔ حکومت کی 100 دن کی ترجیحات کے نتائج نہ آنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی 100 دن پورے نہیں ہوئے اگر جج بحال ہوجائیں تو یہ بھی 100 دن کے ا ندر ہی ہوں گے ۔ صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بھی ہے، طلبہ اور لیبر یونین کی بحالی بھی کرنی ہے، پیمرا کے سیاہ قوانین کا خاتمہ بھی کرنا ہے ،گندم کے بحران سے بھی نمٹنا ہے کم از کم ان سو دن کے اندر عوام کو آٹا ملنا تو شروع ہوجانا چاہیے ۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بحران اس قدر جلد حل نہیں ہوگا ۔میں اس وقت ہر بات کا تفصیلی جواب نہیں دے سکتا، انشاء اللہ تعالی ترجیحی بنیادوں پر امن و امان اور معیشت سمیت درپیش تمام مسائل کا حل کیا جائے گا ۔

امریکہ کو پاکستانی عوام کی رائے کا احترام کر نا چاہیے۔ عمران خان



اسلام آباد ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستانی عوام کی رائے کا احترام کر نا چاہیے پارٹی کے مرکزی دفتر میں میڈیا سیل سے گفتگو کر تے ہوئے انہو ںنے کہا کہ 18 فروری کو عوام نے واضح طور پر صدر مشرف اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے امریکہ کو فرد واحد کی حمایت کر نے کی بجائے پاکستان میں عوام دوست پالیسیوں کی حمایت کرنی چاہیے امریکہ کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ایک طرف امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایم کیو ایم جو ایک فاشٹ تنظیم ہے جسے کینیڈین کورٹ نے بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے کے ساتھ امریکی حکام پاکستان میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور امریکی مداخلت پر ہی ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کیا گیا امریکی حکام م کو چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اور مضبوط اداروں کو سپورٹ کیا جائے نہ کہ ایک آمر کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں

ججوں کی بحالی کے بعد پارلیمنٹ آئینی پیکج لانا چاہے تو یہ اس کا حق ہے ‘ اعتزاز احسن


اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 3 نومبر کے تمام اقدامات غیر آئینی تھے اور آئین کی نظر میں کوئی اقدام یا تو آئینی ہو سکتا ہے یا غیر آئینی ماورائے آئین اقدام کی کوئی اصطلاع قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی فرد واحد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو برطرف کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ قرار داد کا مسودہ تیار ہو چکا ہے جس کے تحت ججوں کو غیر مشروط طور پر بحال کیا جانا چاہئے اس کے بعد اگر پارلیمنٹ کوئی آئینی پیکج لانا چاہے تو یہ اس کا حق ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ عوام کی خواہش کے برعکس عدلیہ کی آزادی پر قدغن عائد کرنا درست اقدام نہیں ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں وہ ضرور حصہ لیں گے ۔

ججوں کی بحالی سے متعلق ١٢ مئی آخری ڈیڈ لائن ہے ۔ چوہدری نثار علی









اسلام آباد۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور سینئر وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے 12 مئی آخری ڈید لائن ہے اورا گر یہ فیصلہ اس دن نہ ہوا تو ان کی جماعت وہی کرے گی جو اسے کرنا چاہیئے۔ جمعہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے میعاد میں بارہ مئی تک توسیع بھی کوئی مناسب فیصلہ نہیں تھا۔ ا ور اس سے مزید آگے بڑھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر 12 مئی کو اس حوالے سے فیصلہ نہ ہوا تو مسلم لیگ(ن) وہی کچھ کرے گی جو اسے کرنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) 12 مئی کی کمٹمنٹ کے حوالے سے سنجیدہ ہے ۔ اسی لیے اپنے تمام ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد بلا لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو گیارہ بجے ہمارا اجلاس ہو گا اور اگر وعدے کے مطابق اس دن قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیا گیا تو ہم اسمبلی میں جائیں گے ورنہ فیصلہ اس اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیس دنوں کے بعد بارہ مئی اور اب اگر قانونی پیچیدگیوں میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو مسلم لیگ(ن) اپنا حتمی فیصلہ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کے مستقبل کا فیصلہ مسلم لیگ(ن) کا مطالبہ نہیں ہے ہم تو معزول ججوں کو بحال کرانا چاہتے ہیں۔

نواز شریف نے امریکہ کی ہاں میں ہاں نہ ملائی تو ان کا انجام سابق حکمرانوں جیسا ہو سکتا ہے ‘ حمید گل



اسلام آباد ۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف نے امریکہ کی ہاں میں ہاں نہ ملائی تو خوانخواستہ ان کا انجام بھی سابق حکمرانوں جیسا ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے ڈالر عزیز ہیں لیکن اس کے سامنے پاکستانیوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل میں جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا کہ امریکی سفیر کے بیان سے پہلے یورپی یونین کے عہدیدار ہاؤیر سولانا بھی اسی طرح کی بات کر چکے ہیں ۔ امریکی سفیر نے کہاتھا کہ پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں اور اب اس معاملے کو چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہئے ۔ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا کہ امریکی سفیر اور یورپی یونین کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ معاہدات ضرور ہوئے ہیں جو تاحال منظر عام پر نہیں آئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے لیکن پاکستانی قوم کو ان معاہدات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ کیا ان معاہدات میں درج ہے کہ پرویز مشرف صدر رہیں گے ۔ معاہدات کے ضمانتی کون ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔ امریکہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تنصیبات کی نگرانی امریکہ کرتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اور بھی بہت سے سوال ہیں کہ جن کا قوم کو کوئی جواب نہیں مل رہا ہے ۔ تاہم حمید گل نے کہا کہ گاہے گاہے ہمیں وہاں سے اشارے ملتے رہتے ہیں اور اسی طرح کا ایک بہت بڑا اشارہ اب امریکی کانگرس نے دیا ہے کہ پاکستان وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہئے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ نواز شریف راہ راست پر نہیں آ رہے ۔ حمید گل نے کہا کہ یہ ایک انتہائی خوفناک بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے اگر نواز شریف امریکہ کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو پھر نواز شریف کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جیسا کہ بے نظیر بھٹو ‘ جنرل ضیاء الحق ، ذوالفقار علی بھٹو اور لیاقت علی خان سے کیا گیا ۔ اور جو بھی انکار کرے گا اسے کہنا پڑے گا کہ ’’ فرینڈ، ناٹ ماسٹرز ‘‘ لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں حمید گل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے راہنما چونکہ معاہدات کے مطابق چل رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے بے نظیر بھٹو نے تو معاہدات سے بغاوت کر دی تھی ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ معاہدات کیا ہیں کیونکہ معاہدات کے سرعام نہ آنے سے پاکستانی پارلیمنٹ قوم کے مینڈیٹ ‘ آزادی اور حاکمیت اعلیٰ پر حرف آتے ہیں ۔ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا کہ یا تو ہمارے لیڈر اپنے آپ کو ان معاہدات سے الگ کریں اور راستے میں تبدیلی لائیں بصورت دیگر ملک تباہی کی طرف جائے گا ۔ قوم بغاوت کر دے گی کیونکہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شاید امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی ہو ۔ فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے حمید گل نے کہا کہ وہاں حماس نے دوتہائی اکثریت حاصل کر لی تھی لیکن امریکہ نے محمود عباس کو قائم رکھا اور پرویز مشرف کی حیثیت بھی وہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ قوم اور لیڈران ان معاہدات کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کریں تاکہ پتہ چلے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی امداد کا دکھ ہے تو اسے پاکستان کی قربانیوں کو بھی دیکھنا چاہئے کیا ہمارا خون اتنا ہی سستا ہے کہ امریکہ اس کو پس پشت ڈال دے ۔ اگر امریکہ امداد کا حساب مانگتا ہے تو ہمیں بھی اپنے جوانوں کے خون کا حساب مانگنا چاہئے ۔ لیڈران کو امریکہ قتل کروا دیتا ہے ۔ آزادی کو سلب کر لیا جاتا ہے ۔ پارلیمان کو محدود رکھا جاتا ہے اور ہماری فوج کو استعمال کیا جاتا ہے کیا اس سب کا کوئی حساب نہیں ہے ۔

قائدین ججز کی بحالی کے بارے میں کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کریں گے ۔ یوسف رضا گیلانی



اسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ججز کی بحالی کے بارے میں کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کرلی ہیں ۔آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف ان سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کریں گے ۔حکومت قومی مفاہمت پر یقین رکھتی ہے ۔ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دوہرایا جائے گا ۔ ملک کو ترقی ، خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ تمام اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ملک میں امن وامان کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر معاشی ترقی کی رفتار تیز نہیں کی جاسکتی۔ جمعرات کو یہاں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 88 ویں کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت تین نکاتی جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ عوام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت سے نجات مل سکے اور ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے ساز کار ماحول فراہم کیا جا سکے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کو اشیاء ضروریہ کی قلت ، مہنگائی اور پانی اور توانائی کے بحرانوں کا سامنا ہے ۔آٹے اور گندم کی قلت کو دور کرنے کے لئے حکومت نے ہنگامی طورپر پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگو ںکو کم نرخوں پر اس کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ توانائی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اس بحران پر کم سے کم وقت میں قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ افراد کو دعوت دی جائے گی۔وزیر اعظم توانائی کے بحران سے ہماری سماجی اور معاشی ترقی اور سٹرکچر کو خطرات لاحق ہیں ۔ اس مسئلہ کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ توانائی کی بچت کی پالیسی بھی اپنائی جائے گی جس کے تحت دکانیں جلد بند کرنا اور پارٹیوں میں چراغاں پر پابندی شامل ہے وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ کی بالا دستی 1973 ء کے آئینی کی بحالی اور معزول ججوں کی بحالی پر یقین رکھتی ہے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اتحادی حکومت ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گی اور ملک میں ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات کرے گی ۔ مختلف سوالوں کے کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت صوبائی خود مختاری چاہتی ہے تاکہ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دئیے جا سکیں ۔ انہو ںنے کہاکہ حکومت دس سالہ اقتصادی ترقیاتی پروگرام تیار کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں اقتصادی استحکام لایا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی تاکہ انہیں ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اداروں کے استحکام میں بیوروکریسی کا اہم کردار ہے ۔صوبائی خود مختاری پر یقین رکھتے ہیں ۔ایک سال میں کنکرنٹ لسٹ کو ختم کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس آئینی اقدام کے نتیجے میں صوبوں کو مزید اختیار ات حاصل ہو نگے ۔جلد ہی قومی مشاورت کے ذریعے نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے لئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ موجودہ حکومت نعروں پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی بنیاد پر ملک اور قوم کی تقدیر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ، عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ بد انتظامی نے بھی اقتصادی مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے بارے میں وسیع سطح پر مشاورت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس دس سالہ پروگرام کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا جائے گا ۔ ایجوکیشن پالیسی میں تبدیلی کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی تعلیمی شعبے میں اہم تبدیلی ہے انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے طلبہ مثبت سر گرمیوں میں مصروف ہوں گے اور ملک کو نئی قیادت ملے گی تاہم یہ سرگرمیاں ایک محدود سطح پر ہوں گی

ہتھیار چھوڑ کر امن سے رہنے والوں کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں ۔ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ہتھیار چھوڑ کر امن سے رہنے والوں کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں ۔ حکومت پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے سیاسی سماجی و معاشی بہتری اور فوجی حکمت عملی پر مشتمل پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے ۔ گوانتا ناموبے جیل کے امریکی جنرل ہڈ پاکستان میں نہیں ہیں تاہم ان کی اسلام آباد میں تعیناتی پر عوامی جذبات سے آگاہ ہیں ۔ ان خیالا ت کا اظہار دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی پالیسی تین نکاتی ہے جس میں سیاسی ، سماجی و معاشی بہتری اور فوجی حکمت عملی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ صرف فوجی ایکشن سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں لہذا حکومت ہتھیار پھینک کر اور تشدد کو ترک کر کے امن سے رہنے کے خواہشمند افراد سے مذاکرات کررہی ہے ۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ اس پالیسی کے تناظر میں سیکورٹی کی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی واضح ہے اور اسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملکی پالیسیاں چند ہفتوں میں تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ ملکی مفاد میں آہستہ آہستہ تبدیلی کی جاتی ہے ۔ ایک سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتی ہے اور پاکستان بھارت اور کشمیریوں کے مذاکرات کے نتیجے میں مسئلہ کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گوانتاناموبے میں تعینات امریکی جنرل ہڈ کی پاکستان میں تعیناتی کی رپورٹ میڈیا میں آئی ہے ۔ وہ اس وقت پاکستان میں نہیں تاہم ان کی یہاں پاکستان میں تعیناتی پر عوامی جذبات سے آگاہ ہیں اور توقع ہے کہ یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا ۔ مغوی پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ معاملے حساسیت کے پیش نظر وہ زیادہ معلومات دینے سے قاصر ہیں تاہم طارق عزیز الدین خریت سے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ جلد رہا ہو جائیں گے ۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ پاک امریکہ تعلقات نہ صرف پاکستان بلکہ امرکیہ اور اس خطے کے مفاد میں بھی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی کا تعین حکومت کرتی ہے اور وزارت خارجہ اس پر عملدرآمد کراتی ہے ۔ افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے سوال پر محمد صادق کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان اور امریکہ کا مسئلہ ہے ۔ ممبئی میں پاکستانی سفارتخانے کے لئے بلڈنگ بننے کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ ممبئی میں قونصل خانے کے لئے ابھی کوئی عمارت نہیں لی گئی تاہم بھارت میں پاکستان ہائی کمیشن کی ایک ٹیم جلد جگہ کے حصول کے لئے ممبئی کا دورہ کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جناح ہاؤس ممبئی کو حوالے کرنے کی دو خراست ابھی تک موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جونہی مناسب جگہ یا عمارت ملی پاکستان ممبئی میں قونصل خانہ کھولے گا ۔ بھارت میں ایک اور پاکستانی کی ہلاکت پر انہوں نے بتایا کہ ان کے بارے میں ابھی بہت معلومات حاصل کرنا باقی ہیں کیونکہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ بھارت میں کیسے داخل ہوا تاہم امرتسر کی جیل میں قید تھا اور 26اپریل کو بھارت کے ایک ہسپتال میں جاں بحق ہوا ۔ اس کی میت پاکستان لانے کے لئے بھارتی حکام سے رابطے میں ہیں ۔

پاکستان کا کروز میزائل حتف ٨ رعد کا کامیاب تجربہ

پاکستان کروز میزائل ٹیکنالوجی کے حامل ممالک میں سرفہرست آ گیانئے میزائل سے زمین اور سمندر پر سٹریٹجک صلاحیت میں اضافہ ہو گیااسلام آباد۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس جدید کروز میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے۔ جمعرات کے روز پاکستان نے کروز میزائل حتف ٨ رعد کا کامیاب تجربہ کر کے اس ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت ثابت کر دیہے ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ میزائل خصوصی طور پر فضائی پلیٹ فارم سے فائر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ مقامی طور پر تیار کیا جانے والا یہ میزائل 350 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میزائل کی تیاری سے پاکستان کی زمین اور سمندر پر سٹریٹجک صلاحیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کروز میزائل کی ٹیکنالوجی صرف دنیا کے چند ملکوں کے پاس ہے۔ جدید ترین کروز میزائل ریڈار پر نظر نہ آنے کی خصوصی صلاحیت کا حامل ہے ۔ میزائل نچلی پرواز کرنے اور مختلف قسم کے وار ہیڈز کامیابی سے ہدف تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس شاندار کامیابی پر سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی ہے

پارلیمنٹ کا ڈراپ سین ہونے والا ہے ١٢ مئی کو عدلیہ بحال نہ ہوئی تو حکومت شائد پانچ دن بھی نہ چل سکے ۔مخدوم جاوید ہاشمی



لاہور ۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا ڈراپ سین ہونے والا ہے اگر عدیہ 12 مئی کو بحال نہ ہوئی تو شائد حکومت مزید پانچ دن بھی نہ چل سک ے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ پیپلز پارٹی سے ا تحاد برقرار رہے مگر عدیلہ کی بحالی کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں گے اگر معزول ججزاور پی سی او کے تحت کام کرنے والے ججز اکٹھے عدالتوں میں بیٹھے تو قوم مایوسی کے عالم میں سوچن یپر مجبور ہو جائے گی کہ عدلیہ کی بحالی بھی این آر او کے تحت کی گئی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور بار کونسل اور وکلاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مخدوم جوید ہاشمی جب خطاب کیلئے مائیک پر آئے تووکلاء نے پجوش انداز میں ان کا اسقبال کیا ان پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی۔ ’’بہادر آدمی جاوید ہاشمی ، ہاشمی تیرے جانثار بے شمار بے شمار ‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے بار روم گونجتا رہا ۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ 12 مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججز بحال ہو جائیں گے ۔ تاہم اگر ایسا نہ ہو سکا تو قوم مایوسی کے سمندر میں چلی جائے گی مگر اس سے قبل ہم عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کو سمندر میں ڈبودیں گے ۔ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد برقرار رہے تاہم عدلیہ 2 نومبر والی بحال ہو گی ۔ اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔ ہمارا قوم سے بھی یہی وعدہ ہے ہم ڈکٹیٹر کے خلاف سیہ پلائی دیوار بن جائیں گے ۔ ہم انتخابات میں حصہ لیننے کا اصولی فیصلہ کر چکے تھے مگر جمہوریت کی بقاء اور مشرف کے حامیوں کو فری ہینڈ دینے کی بجائے انتخابات میں حصہ لیا ۔ عوام 18 فروری کو جنرل (ر) مشرف کو مسترد کردیا اور وہ بھیگی بلی بن گیا مگر بد قسمتی ہے چند غیر جمہوری سوچوں کے حامل عناصر کے تعاون کے بعد وہ پھر سے مضبوط ہورہا ہے ۔ ماضی میں اسمبلیاں صرف وزارتوں کے چکروںمیں رہی تھیں مگر موجودہ دور میں ایسا نہیں ہو گا گو کہ موجودہ پارلیمنٹ بھی غلام ہے جس کا میں بھی رکن ہوں ۔ اصل طاقت فوج کے پاس ہے یہ ہر دو میں کبھی یحیی ، ایوب ، ضیاء الحق، مشرف کی شکل میں اقتدار پر شب خون مارتے رہے ہیں جو سیاسی جماعت میڈیا کا پریشر برداشت نہیں کر نا چاہتی درحقیقت وہ حقیقی جمہوریت کی عملمدار نہیں ۔ وکلاء اور میڈیا کی طاقت ملک کی ترقی کیلئے خوش بختی کی علامت ہے ۔ عدلیہ کی بحالی کیلئے دوبئی ، انگلینڈ یا اسلام آباد کہیں بھی فیصلہ ہو وکلا ء اور میڈیا کی طاقت سے بد نیت عناصر پہلے ہی خوف کی علامت بن گئی ہے ۔ چور، ڈاکو موجودہ صورتحال میں خوفزدہ ہیں ۔ کالے کوٹ والوں نے جمہوریت کی شمع روشن کرنے کیلئے اپنا خون بھی بہا ہے جو رائیگاں نہیں جائے گا ۔ عدلیہ کی بحالی کے بغیر حقیقی طور پر انتقال عوامی نمائندوں کے سپرد نہیں ہو سکتا ۔ ماضی اس چیز کا گواہ ہے ۔ موجودہ دور میں میاں نواز شریف ہی ایسا لیڈر ہے جو وطن عزیز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی فوج اقتدار پر قابض رہی ۔ بیورو کریسی اور وڈیرے اس کے آلہ کار بن گئے ۔ سکندر مرزا جیسے لوگوں نے اسمبلی توڑنے کا اختیار صدر کو دیا جو تاحال ہے ۔ وکلاء کی مضبوط تحریک کے باعث پمریت کمزور ہو رہی ہے ۔ تھوڑی سی مزید جدوجہد سے ملک سے ہمیشہ کیلئے آمریت کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ وکلاء رہنماؤں کی جانب سے ججوں کی بحالی کیلئے مسلم لیگ (ن) پر دباؤ اور پی سی او ججوں کی بحالی کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو ججوں کی بحالی کی مخالف سیاسی پارٹیوں کی ساتھی سمجھا جائے گا پر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ وکلاء برادری جس طرح مسلم لیگ (ن) پر دباؤ ڈالتی رہی ہے اسی طرح دوسری سیاسی جماعتوں پر بھی دباؤ ڈالے ۔