International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Wednesday, May 28, 2008

Blasts in vehicle leaves six dead, five injured in Bajaur: APA




PESHAWAR : Six tribesmen were killed and five other injured when their double cabin was blasted near Malkana area in Tehsil Salarzai, Bajaur Agency late Tuesday night, said Assistant Political Agent (APA) Bajaur.
APA Bajaur Muhammad Iqbal Khattak told APP that six tribesmen believed to be associated with an extremist group have lost their lives in the blast that rocked their vehicle.
An official of Political Administration while giving first hand account of the explosion, informed that the explosive material was in the vehicle that went off with a big bang killing six of them and injuring five others.
He said the vehicle totally smashed as a result of the explosion. The administration has started investigations to probe the blast.
The site of the blast is 17 kilometers away from Khar, headquarters of Bajaur agency.

ملک کی تینوں اسٹاک مارکیٹ کریش

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں 500سے پوائنٹس کی شدید مندی ،انڈیکس کی 9ماہ قبل کی کم ترین سطح کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
کراچی اسٹاک مارکیٹ میں حیرت انگیز طور پر کے ایس ای 30انڈیکس میں بھی 749.35پوائنٹس کی کمی
بدھ کو اسٹاک مارکیٹ تجارتی خونریزی کے حوالے سے جانی جائیگی،ایم ڈی اسماعیل اقبال سیکیورٹیز اسد اقبال
کراچی+اسلام آباد+لاہور ۔ ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتحال میں بدھ کو ملک کی تینوں اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی۔کراچی اسٹاک ایکسچینج میں 500سے زائد پوائنٹس کی شدید مندی ریکارڈ کی گئی اور 100 انڈیکس 567.28پوائنٹس کی کمی کے بعد 12254.97پوائنٹس پر بند ہوا جو گزشتہ 9ماہ کی کم ترین سطح ہے۔اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج میںآئی ایس ای 10انڈیکس میں 140.39پوائنٹس کی کمی جبکہ لاہور اسٹاک مارکیٹ میں ایل ایس ای 25انڈیکس میں 200.02پوائنٹس کی کمی ہوئی۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا اور سرمایہ کاروں میں ملکی حالات و بجٹ2008-09ء پر قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں۔مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں ساڑھے 4فیصد کمی ہوئی جبکہ 57کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور293کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تاہم 9کمپنیوں کے حصص مستحکم رہے۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس کی سطح 3ستمبر2007ء کو حاصل ہونے والی سطح سے بھی گرگئی جبکہ حصص کا کاروبار 18کروڑ78لاکھ حصص سے زائد رہا۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں حیرت انگیز طور پر کے ایس ای 30انڈیکس میں بھی 749.35پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 14395.11پوائنٹس پر بند ہوا۔ایم ڈی اسماعیل اقبال سیکیورٹیز اسد اقبال کے مطابق بدھ کو اسٹاک مارکیٹ تجارتی خونریزی کے حوالے سے جانی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں تجارتی حالات گزشتہ چند ہفتوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں تاہم کسی اتھارٹی کی جانب سے اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ملکی کلیدی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی سیاسی منظر نامے کے حوالے سے کوئی واضح بیان نہیں دیا گیا ہے جس سے مزید خدشات جنم لے رہے ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ 18فروری کے انتخابات کے بعد جنم لینے والے مستحکم سیاسی مستقبل کی امیدیں دم توڑ دیں گے اور دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اور صدر مملکت پرویز مشرف کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی سے بھی سرمایہ کار پرامید نہیں ہیں۔معاشی محاذ پر ملک میں افراط ذر اور غذائی قیمتوں کی شرح1970ء کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہیں جبکہ تجارتی و جاری کھاتوں کا خسارہ بھی وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ڈیلرز کے مطابق 7جون کو اعلان کئے جانے والے بجٹ سے قبل کسی اہم سرمایہ کاری سے سرمایہ کار گریزاں ہیں جبکہ مرکزی بنک کی جانب سے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہے۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک کے حصص 7.7فیصد کمی سے 12روپے، بنک الفلاح کے حصص 5فیصد کمی سے 45.13روپے جبکہ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کے حصص 5فیصد کمی سے 123.27روپے پر ریکارڈ کئے گئے۔

کراچی میں جاپانی و چینی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافہ

قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میںکمی کی وجہ سے کیا ہے، موٹر سائیکل ادارے
کراچی۔ کراچی میں جاپانی و چینی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔چینی و جاپانی موٹر سائیکل اداروں نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میںکمی کی وجہ سے کیا ہے جبکہ میٹل شیٹیں اوردیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافہ بھی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق ہنڈا موٹر سائیکل ساز ادارے نے سی ڈی ۔70موٹر سائیکل کی قیمت52ہزار9سو90روپے کردی ہے جس میں 9سو روپے پاکستان کوالٹی کنٹرول کے لئے جاتے ہیں۔سی ڈی ۔70موٹر سائیکل کی قیمتوں میں گزشتہ 2ماہ سے بتدریج اضافہ کیا گیا ہے۔مارچ2008 ء میں اسکی قیمت49ہزار9سوجبکہ اپریل2008ء میں اسکی قیمت50ہزار8سو90روپے رہی۔اسی طرح سی جی ۔125موٹر سائیکل کی قیمت70ہزار9سو روپے سے بڑھا کر72ہزار9سو90روپے کردی گئی ہے جبکہ مارچ2008ء میں یہی موٹر سائیکل 69ہزار9سو روپے پر فروخت کی جارہی تھی۔سی ڈی ۔70 اور سی جی ۔125موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں ہنڈا کی جانب سے چند ماہ میں 3بار ترمیم کی گئی ہے جبکہ صارفین کے حقوق کی ذمہ دار متعلقہ اتھارٹیوں کی جانب سے اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے اور سارا بار صارفین کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔پاک سوزوکی اور داؤد یاماہا کی جانب سے بھی 70سی سی موٹر سائیکلوں پر 1ہزار5سو50روپے بڑھا دئے گئے ہیں۔چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلر محمد صابر شیخ کے مطابق چینی ساختہ بائیکوں کی اوسطاً ہول سیل قیمت گزشتہ ماہ کی نسبت2ہزار روپے اضافے سے 34ہزار روپے جبکہ ریٹیل قیمت3ہزار روپے اضافے سے 36ہزار روپے ہوگئی ہے۔دسمبر2007ء میں ایک ڈالر کی قیمت61روپے تھی جبکہ مئی 2008ء میں اسکی قیمت71روپے کی سطح تک پہنچ گئی تھی ۔ماہرین کے مطابق اگر روپے کی قدر میں تنزلی کا عمل یوں ہی جاری رہا تو آئندہ چند ماہ میں اسکی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے اور اوسط طبقے کی پہنچ میں واحد سواری بھی ان کی پہنچ سے باہر ہوجائیگی۔

کراچی سمیت ملک کی تمام صرافہ مارکیٹوں میں فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں ساڑھے ٤ سو روپے کی کمی

کراچی۔ کراچی سمیت ملک کی تمام صرافہ مارکیٹوں میں بدھ کوفی دس گرام سونے کی قیمتوں میں ساڑھے 4سو روپے کی کمی ہوئی۔صرافہ ذرائع کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، حیدرآباد، اسلام آباد، ملتان، کوئٹہ، راولپنڈی اور فیصل آباد میں فی دس گرام سونے کے بھاؤ 19ہزار9سو70روپے رہے علاوہ ازیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمتیں ساڑھے 29ڈالرز کی کمی سے 8سو92ڈالرز اور 50سینٹس رہیں۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر معمولی مستحکم

کراچی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر معمولی مستحکم رہی جبکہ ڈیلرز کے مطابق قلیل المدت میں ترسیلات ذر کی آمد سے مزید بہتری کی امید ہے۔بدھ کو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت خرید 67.80روپے اور قیمت فروخت68روپے رہی۔سال رواں کے آغاز سے روپے کی قدر میں 10فیصد کمی ہوچکی ہے تاہم 2ہفتے قبل اپنی ریکارڈ کم ترین سطح سے روپے کی قدر میں 2.6فیصد ترقی ہوئی ہے۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق ڈالر کی خرید اور فروخت میں وسیع فرق سے بنک کرنسی مارکیٹ میں ٹریڈنگ سے گریزاں ہیں۔ڈیلرز کے مطابق تجارتی حجم کم ہے تاہم قلیل مدت میں روپیہ مستحکم رہے گا جبکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی سخت عبوری مانیٹری پالیسی سے قیاس آرائیوں اور روپے کی تنزلی پر بند باندھنے میں مدد ملی ہے۔علاوہ ازیں روپے کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں میں یورپی یورو کی قیمت خرید 108.45روپے اور قیمت فروخت108.55روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت خرید136.40روپے اور قیمت فروخت136.50روپے رہی

اکتیس مئی کنونشن، معزول چیف جسٹس کے استقبال کے لئے تیاریاں عروج پر



پشاور۔ پشاورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اکتیس مئی کو ہونے والے وکلاء کنونشن کو کامیاب بنانے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شاندار استقبال کرنے کے لئے تیاریاں تیز کر دی گئیں ۔کنونشن کے روز پشاورہائیکورٹ کے اندر سبزہ زار میں وکلاء رہنماء اور سیاسی رہنماؤں کو اندر آنے کی اجازت ہو گی جبکہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لئے گیٹ کے باہر انتظامات کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ہائیکورٹ کے باہر بڑے بڑے سکرین لگانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے ان سکرینوں کی مدد سے ہائیکورٹ کے مین گیٹ کے باہر بیٹھے لوگوں کو کنونشن کی کاروائی دیکھنے میں مدد ملے گی اور مقررین کی تقریریں بھی آسانی سے سن اور دیکھ سکیں گے ۔معزول چیف جسٹس کے استقبال کے لئے نوشہرہ،پبی اورجی ٹی روڈ پر پشاور میں مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلم لیگ ن،جماعت اسلامی ،تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی استقبالیہ کیمپ لگانے اور معزول چیف جسٹس کا شاندار استقبال کرنے کے لئے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں ۔پبی،نوشہرہ اور چمکنی میں استقبالیہ دروازے بھی نصب کئے جا رہے ہیں ۔پانچ ہزار وکلاء اور دیگر شرکاء کے لئے لنچ بکسز کا انتظام کیا جا رہا ہے فی لنچ بکس پر سو روپے خرچہ آئے گا ۔اسی طرح رات کے وقت آتش بازی کی جائے گی جس پر لاکھوں روپے خرچ ہونگے ۔سنٹرل جیل پشاور اور جسٹس سکوائر کے مقام پر روڈ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بند کر دیا جائے گا اور پشاورہائیکورٹ کے مین گیٹ کے باہر گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد ہو گی صرف جلسے کے شرکاء کو آنے کی اجازت ہو گی ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے غیر متنازعہ شقوں کے علاوہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے غیر مشروط تعاون کا اعلان کر دیا


اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے غیر متنازعہ شقوں کے علاوہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے غیر مشروط تعاون کا اعلان کر دیا ۔ ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں واپسی نا ممکن ہے ۔ شریف برادران کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی سازش نے آزاد عدلیہ کی اہمیت کو مزید آگاہ کردیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بدھ کو انٹرویو میں کیا احسن اقبال نے کہاکہ آئینی پیکج کا مسودہ نہیں ملا ہے ہم انتظار کر رہے ہیں آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ملاقات میں نواز شریف کو یہی بتایا تھا کہ آئینی پیکج کو حتمی شکل دی جارہی ہے جیسے ہی یہ مکمل ہو گا اتحادی جماعتوں کے سپرد کر دیا جائے گا انہوں نے کہاکہ ہمیں جیسے ہی مسودہ ملا پارٹی میں مشاورت کے ذریعے تجاویز دیں گے انہوںنے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ آصف علی زرداری نے آئینی مسودہ کو حکمران اتحاد کی مشاورت سے حتمی شکل دینے کو کہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی پر صرف پاکستان مسلم لیگ (ن)نہیں بلکہ پوری قوم وکلاء سول سوسائٹی میڈیا سیاسی کارکنوں کی بھی سوئی اٹکی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہکفر سے تو معاشرہ قائم ہو سکتا ہے مگر نا انصافی کی وجہ سے معاشرے ایک وجود قائم رکھ سکتا۔۔عدلیہ کی آزادی بے حد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح نواز شریف اور شہباز شریف کو پی سی او کے ججز کے ذریعے انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی اس نے عدلیہ کی آزادی کی ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے غیر آئینی طریقوں سے جن ججز کو برطرف کیا تھا انہیں بحال کیا جائے آئین قانون کی حکمرانی انصاف کی فراہمی پاکستان کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہے انہوں نے کہاکہ ہم آنے والی نئی نسل کو ایسا پاکستان دے کر جانا چاہتے ہیں جہاں بندوق کی طاقت کے بجائے آئین اور عدلیہ کی بالادستی ہو قانون کی حکمرانی ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج میں ان نکات پر جو میثاق جمہوریت میں شامل ہے پر اتفاق ہو سکتا ہے انہوں نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں یہ بھی شامل ہے کہ اٹھاون ٹو بی کے ساتھ ساتھ سترہویں ترمیم کو اس کی غیر متنازعہ شقوں کے علاوہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے انہوں نے کہاکہ اس طرح آئینی ترمیم کے خامتے کا آئینی پیکج آتا ہے تو ہم غیر مشروط طور پر اس کی حمایت کریں گے وفاق کو مضبوط کرنے کی ہر ترمیم کی حمایت کریں گے ججز کی مدت ملازمت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے ماضی میں جب بھٹو کی ڈیکٹیٹر شپ آئی تو اس نے ججز کی مدت ملازمت کو تبدیل کیا جس کا بنیادی مقصد کسی جج کو فارغ کرنا او رکسی کو فائدہ پہنچانا تھا انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی ایسی ترمیم سے اجتناب کرے گی جسے کسی جج کے خلاف استعمال کیا جائے کسی کو فائدہ پہنچایا جائے تعطل اور بحران کی ذمہ داری پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہوں ان کے بغیر نظام میں صلاحیت موجود ہے بحرانوں کو حل کیا جا سکے ایک شخص کے اقتدار کی وجہ سے پورے ملک کو سزا مل رہی ہے انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی کے بغیر وفاقی کابینہ میں ہماری واپسی نا ممکن ہے اصولی موقف کے تحت اقتدار کو چھوڑا ہے ۔

جیسے ایٹمی دھماکے کئے تھے ویسے ہی مشرف کا دھماکہ کریں گے۔خواجہ سعد رفیق



لاہور ۔ مستعفی وزیر و مرکزی رہنما مسلم لیگ ن چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ عوام کی قوت ایمانی سے کیا تھا تا ہم موجودہ حالات میں ایک اور خونخوار ایٹم بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو قوم کو غیر ملکی تسلط سے آزادی، غاصب حکمران سے نجات اور غربت کے خاتمے کا باعث بن سکے ۔ بہادرپاکستانی قوم کو نعروں میں اپنی طاقت ضائع کرنے کی بجائے مشرف اور اس کے حواریوں کے خلاف استعمال کرنی چاہیے ۔ خواجہ سعدرفیق نے کہا کہ ہم آج اپنی دسویں سالگرہ منا رہے ہیں بدقسمتی سے ابھی تک پارلیمنٹ مکمل نہیں ہوئی نواز شریف نے وطن عزیز کو ایٹمی قوت جبکہ جنرل (ر) مشرف نے غیر ملکی کالونی بنا کر رکھ دیا ۔ حامد کرزئی جیسا کمزور شخص مشرف سے ڈرنے کی بجائے دھمکیاں دیتا رہتا ہے ۔ جیسے ایٹمی دھماکے کئے تھے ویسے ہی مشرف کا دھماکہ کریں گے ۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں جلد جمہوریت لائیں گے اور ججز کو بحال کروانا ہماری اولین ترجیحات میں ہے

زرداری نے مشرف کو ایوان صدر سے نکال باہر کرنے کی حامی بھر لی ہے ۔ نواز شریف


لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا مواخذہ کرنے کے لئے حامی بھر لی ہے ۔ لاہور میں یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ زرداری نے ابھی تک جنرل(ر) پرویز مشرف کو ایوان صدر سے نکالا نہیں ہے حالانکہ قوم نے 18 فروری کو مشرف اور اس کی پالیسیوں کے خلاف واضح فیصلہ دے دیا ہے ۔ انہیں ایوان اقتدار سے نکالنا عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنا ہے ۔ میں نے آصف علی زرداری سے بات کی ہے اور کل انہوں نے مشرف کو نکالنے کی حامی بھر لی ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ زرداری کی جگہ میں ہوتا تو 18 فروری کے بعد 19 فروری کو ہی مشرف کو ایوان صدر سے نکال باہر کرتا ۔

ذاتی دی گئی سب اذیتیوں پر مشرف کو معاف کرتا ہوں لیکن قوم اور ملک کے ساتھ کئے گئے جرائم کو معاف نہیں کیا جاسکتا، آئین وقانون کے تحت ان پر غداری کا مقدم



لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 12اکتوبر 1999ء کے بعد ان سے اور ان کے خاندان سے جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو بھی سلوک کیا اور اذیتیں دیں وہ سب کچھ انہیں معاف کرتے ہیں لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو قوم اور ملک کو نقصان پہنچایا، غیر ملکیوں کے سامنے پاکستان کا سر جھکایا ، جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں کا خون بہایا، پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض دوسرے ممالک کے سپرد اورڈاکٹر قدیر خان سے ذلت آمیز سلوک کیااور جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے سلوک کیا گیا قوم انہیں یہ سب کچھ معاف نہیں کرسکتی۔ ان جرائم پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے قوم کو خود جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زرداری سے کہہ دیا ہے کہ جج بحال نہ ہوئے تو وہ خود وکلاء کی بس میں بیٹھ کر اسلام آباد آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں منعقدہ یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے مستعفی وفاقی وزراء چودھری نثار علی خان ‘خواجہ سعد رفیق اور پاکستان مسلم لیگ (پنجاب) کے صدر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے بھی خطاب کیا۔ میاں نوازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12اکتوبر 1999ء کو ان کی منتخب حکومت پر شب خون مارنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے انہیں کال کوٹھری میں بند کردیا جہاں تین ماہ تک انہوں نے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ جہاز کی سیٹ سے باندھ کر سات گھنٹوں میں کراچی لے جایا گیا۔ مجھے زندگی اور موت کی کشمکش میںمبتلا کیا گیا۔ میرے بیوی بچوں اور والدین سے اذیت ناک سلوک روا رکھا گیا۔ میری بیوی کی گاڑی کو اٹھا کر دنیا کے سامنے تماشا بنایا گیا۔ جدہ میں میرے باپ جب اللہ کو پیارے ہوگئے تومیرے ، شہبازشریف اور میری والدہ سمیت خاندان کے کسی فرد کو ان کی میت کے ساتھ پاکستان نہیں آنے دیا گیا۔ بلاوجہ میری ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر قبضہ کیا گیا۔ میں آج یہ سب کچھ مشرف کو معاف کرتا ہوں لیکن اس نے جو پاکستان کے اندر میری قوم کو تباہی سے دوچار کیا، ملک کو غیر ملکی طاقتوں کے سامنے جھکایا، ملک میں نفرتوں کے بیج بوئے، خون کی ہولی کھیلی، جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں کا خون بہایا، پاکستان کو غائب کرکے ڈالروں کے عوض باہر بیچا ، پاکستان کے ایٹمی معمار ڈاکٹر قدیر خان سے ذلت آمیز سلوک کیا ، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر سپریم کورٹ وہائی کورٹس کے ججوں کی جو تذلیل کی قوم انہیں معاف نہیں کرسکتی۔ اس لئے یہ بات اٹل ہے کہ جس شخص نے پاکستان کو بے توقیر کیا اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے اور اسے آئین وقانون کی رو سے وہ سزا ملنی چاہئے جس کا وہ مستحق ہے۔ آج قوم کراچی سے خیبر تک متحد ہے اور کسی بھی صورت جنرل (ر) پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور پاکستان کی سربلندی کیلئے میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ ججوں کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اس کیلئے مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں 15وزارتوں کی قربانی دی ہے ۔ ہمیں اقتدار سے زیادہ پاکستان عزیز ہے اور میں نے آصف علی زرداری سے کہہ دیا ہے کہ اگر ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو میں خود وکلاء کی بس میں بیٹھ کر اسلام آباد آؤں گا۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ میں اس اجتماع میں جو جذبہ دیکھ رہا ہوں اس سے پہلے میں نے ایوان اقبال، الحمراء آرٹ کونسل یا موچی دروازہ کے جلسہ سمیت کہیں یہ جذبہ نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو شخص ایوان صدر میں بیٹھا ہے اگر وہ قوم کا یہ جذبہ دیکھ لے تو وہ خود ہی بھاگ جائے گا۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ میں پاکستان کی تقدیر بدلتے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے جب بھی کسی امتحان کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے ہمیشہ یہ شعر یاد رکھا
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
قوم اپنا ایمان مضبوط رکھے امریکہ ہماری مدد کو نہیں آئے گا ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے خود فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ جب قوم میرے خلاف فیصلہ دے دیگی تو میں خود ایوان صدر سے چلا جاؤں گا لیکن یہ جھوٹا شخص ہے۔ 18فروری کو جب قوم نے اپنا فیصلہ صادر کیا تو مشرف اور اس کے حواریوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس سے قبل اس نے کہا کہ وہ 31دسمبر 2004ء کو وردی اتار دے گا وہ اس وعدہ سے بھی مکر گیا۔ آصف علی زرداری نے ابھی تک اسے نکالا نہیں ہے ان کی جگہ میں ہوتا تو 19فروری کو مشرف ایوان صدر سے نکال باہر کرتا۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کے بچے بچے میں ہر گلی کوچے اور دیہات میں جو میں جذبہ دیکھ رہا ہوں اس سے پاکستان کی تقدیر بدلتی نظر آرہی ہے۔ میں قوم کے ساتھ مل کر انقلاب لاؤں گا اور ہم مل کر مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کریں گے۔ ڈکٹیٹر اور اس کے ایجنٹوں کو پاکستان سے نجات دلائیں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف ابھی تک اپنے مکروہ کھیل اور عزائم میں مصروف ہیں۔ 25نومبر کو جب میں پاکستان واپس آیا تو کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا آخری دن تھا۔ میں نے اور شہبازشریف نے کاغذات جمع کرائے تو بدنیتی کی بنیاد پر مسترد کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران عوام نے اپنی جان پر کھیل کر جلسوں میں شرکت کی۔ اس جدوجہد میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں پھر میں نے پاکستان بھر میں قریہ قریہ گھوم کر اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ جب مشرف نے 12اکتوبر 1999ء کو مجھے گرفتار کیا اس سے پہلے پاکستانیوں نے کبھی خودکش حملوں کا نام تک نہ سنا تھا ملک میں امن وسکون تھا کہیں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان نہیں تھا۔ ملک کی عزت تھی۔ 28مئی 1998ء کے دھماکوں کے بعد بھارتی وزیراعظم واجپائی خود چل کر پاکستان آئے اور تسلیم کیا اور کہا کہ پاکستان کو کسی مہر کی ضرورت نہیں اس کی اپنی مہر ہے لیکن گذشتہ ساڑھے آٹھ سال کے دوران قوم نے دیکھا کہ مشرف نے کراچی سے خیبر تک خون ندیوں میں بہایا ، ملک میں خودکش حملے ہونے لگے، خارجی وداخلہ پالیسی غیر ملکی ڈکٹیشن پر بنائی جانے لگی۔ ڈکٹیٹر نے پاکستان کا سر جھکادیا جو میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری وسالمیت کیلئے بہت قربانیاں دی گئی ہیں جس کیلئے میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا۔ آج ملک میں 18فروری سے بھی بڑا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں انقلاب لانے اور خوشحال بنانے کیلئے نئی نسل کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جس کیلئے پاکستان بھر کے نوجوانوں ، بچوں، بچیوں ‘ خواتین کو نوازشریف کا ساتھ دینا ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر قدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک ، دیگر انجنیئروں اور قوم کو یوم تکبیر پر مبارکباد پیش کی۔

پاکستان میں ٢٠٠٧ ء کے دوران ١٣٥ افراد کو پھانسی دی گئی ‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل

لندن ۔ پاکستان میں 2007 ء میں 310 افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 135 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جن میں ایک ایسا نوجوان بھی شامل تھا جس نے کم عمری میں قتل کیا تھا۔یہ اعداد و شمار ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے جائزے میں پیش کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نومبر 2007 ء میں محمد منشا نامی ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی جسے مارچ 2001 ء میں قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس واردات کے وقت وہ صرف پندرہ سال کا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے کہا کہ حکومت گھروں میں تشدد کے واقعات (جن میں زنا اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم شامل ہیں) کو روکنے اور ان جرائم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہی۔ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی تنظیم عورت فاونڈیش کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007 ء کے پہلے دس ماہ میں صرف صوبہ سندھ میں غیرت کے نام پر 183 خواتین اور 104 مردوں کا قتل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سن 2007 ء میں قبائلی علاقوں میں مسلح گروپوں کی طرف سے لوگوں کو یرغمال بنانے اور انہیں قتل کرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ اسلام آباد میں لال مسجد پر فوجی کارروائی کے بعد حکومتی اور فوجی تنصیبات پر خود کش حملوں میں اضافہ ہوا جس میں کم از کم 400 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ صرف جولائی کے مہینے میں تیرہ خود کش حملے ہوئے اور ان میں 194 افراد ہلاک ہوئے۔اسلامی تنظیوں کے اراکین نے درجنوں افراد کو حکومت کی جاسوسی کرنے یا اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کرنے پر قتل کیا۔ اگست کے مہینے میں طالبان کے حامی ایک گروہ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک نوعمر لڑکے کو ایک یرغمالی کا سر کاٹتے ہوئے دکھایا گیا۔قبائلی علاقوں میں عورتوں اور بچیوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ستمبر کے مہینے میں بنوں میں دو خواتین کی لاشیں ملیں جن کے ساتھ ایک پرچے پر لکھا ہوا تھا کہ یہ بدکاری میں ملوث تھیں۔ اس رپورٹ میں مارچ 2007 ء میں جنرل مشرف کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کو معذول کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا۔ اس بحران کے دوران سیاسی کارکنوں، وکلاء ، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیم کے اراکین پر پولیس تشدد کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاپتہ ہوجانے والے 400 افراد کی بازیابی کے لیے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت شروع کی۔ ان 400 افراد میں سے سو کے بارے میں پتا چلا لیا گیا۔ ان میں سے اکثر کو جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا تھا۔ پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پانچ اکتوبر کو کہا کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ لاپتہ ہونے والے لوگ حکومت کے خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں اور جو ان کو غیر قانونی طور پر قید میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ انہوں نے ایسے تمام لوگوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا اور عدالت کی یہ کارروائی دو نومبر تک جاری رہی۔ لیکن تین نومبر کو جنرل مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معزول کر دیا۔ ان سینکڑوں لاپتہ افراد کے بارے میں ابھی تک کچھ پتا نہیں ہے اور خدشہ ہے کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں سعود میمن کی مثال بھی دی گئی۔ سعود میمن جن کے احاطے میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل ہوا تھا اٹھائیس اپریل دو ہزار سات کو اپنے گھر کے پاس پائے گئے۔ وہ اپنی یاداشت کھو چکیتھے، بات کرنے کے قابل نہیں تھے اور ان کا وزن صرف چھتیس کلو گرام ہو چکا تھا۔ ان کا اٹھارہ مئی کو ایک ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے مارچ دو ہزار تین میں جنوبی افریقہ سے گرفتار کیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ اتنا عرصہ کہاں اور کس کی حراست میں رہے۔

صدر مشرف سے آرمی ہاؤس خالی کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر

لاہور ۔ صدر پرویز مشرف سے آرمی ہاؤس خالی کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی گئی ۔ یہاں بیرسٹر فاروق حسن نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پٹیشن دائر کی ۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا کہ صدر پرویز مشرف آرمی ہاوئس پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں کیونکہ 15 نومبر 2007 ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہ آرمی ہاؤس پر قابض ہیں ۔ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں کورٹ فوری طور پر نوٹس بھجوا کر آرمی ہاؤس پرویز مشرف سے خالی کر کے موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دیا جائے ۔

لانگ مارچ کا قافلہ پارلیمنٹ ہاؤس جائے گا ، لانگ مارچ سے دنیا جاگ جائے گی ۔ اعتزاز احسن


لاہور ۔ سپریم کورٹ بار کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے ججوں کو بحال کرانے اور ملک بچانے کے لیے وکلاء کے پر امن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے عوام کو دعوت عام دی ہے۔ انہوںنے طلباء سے بھی کہاکہ وہ اس لانگ مارچ میں حصہ لے کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ اعتزازاحسن نے کہاکہ اب یہ تحریک منزل کے قریب ہے اس لیے اب تساہل جائز نہیں ہے ۔آج بدھ کے روز یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہاکہ ججوں کی بحالی اب صرف وکلاء کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے ۔ لانگ مارچ کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ یہ لانگ مارچ پر امن ہو گا اور انشاء اللہ راستے میں رکاوٹیں بھی نہیں ہوں گی تاہم انہوںنے عوام سے کہاکہ اگر آپ لوگ اپنی عوامی معاشرتی سماجی اور سیاسی ذمہ داری نبھانی ہے تو گھر پر مت بیٹھیں۔ بلکہ ہمارے ساتھ چلیں ۔ انہوںنے یقین دلایا کہ سارا سفر پر امن ہو گا ۔ آرام دہ ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ ملتان سے مارچ 11 جون کو شروع ہو گا جس میں جج صاحبان وکلاء اور سول سوسائٹی کے افراد ہوں گے ۔ انہوں نے طلباء سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ جب تک ہم لوگ اسلام آباد نہیں پہنچیں گے ججوں کی بحالی کامعاملہ کھٹائی میں پڑا رہے گا۔ انہوں نے پھر عوام سے کہا کہ وہ ٹیلی ویژن پر بیٹھنے کے بجائے لانگ مارچ میں شرکت کو ترجیح دیں ۔ انہوں نے کہا ملتان سے دو دن لگیں گے جبکہ لاہور سے ایک دن لگے گا۔ انہوںنے کہاکہ حالات کے پیش نظر کوئی نیا پروگرام بھی دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہاکہ تازہ پروگرام کا افشاء اس وقت مناسب نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایا کہ لانگ مارچ کا قافلہ 12 جون شام کو اسلام آباد پہنچ جائے گا اور وہاں سیدھا پارلیمنٹ جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ گرمی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ملک بچانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معرکہ اب آخری مراحل میں ہے اس لیے اس میں تساہل اب مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے کونے کونے سے لوگ اس مارچ میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے دنیا جاگ جائے گی۔
۔۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔۔
٭۔ ۔ ۔ مشرف ٨ روز کے اندر مستعفی ہو جائیں ورنہ آرمی ہاؤس کی جانب مارچ کر سکتے ہیں، لانگ مارچ سے مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ لائحہ عمل دیں گے جو طے کیا جا چکا ہے ۔ اعتزاز احسن٭۔ ۔ ۔ ٹیپ سکینڈل میں ملوث ہونے کے باغث جسٹس عبدالحمید ڈوگر فی الفور عہدہ سے الگ ہو ں اور ٹیپ سکینڈل کی تحقیقات کروائی جائیں اگر جسٹس افتخار کو غیر آئینی طور پر کام سے روک کرجبری رخصت پر بھیجا جا سکتا ہے تو اس پر سنگین الزام پر انہیں کیوں نہیں ہٹایا گیا
لاہور۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جسٹس عبدالحمید ڈوگر ، جسٹس زاہد حسین بخاری اور سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کی نواز لیگ کے قائدین کو انتخابات سے باہر رکھنے سے متعلق کیسٹ منظر عام پر آنے کے بعد جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو کام چھوڑ دینا چاہئے اور اس معاملہ کی تحقیقات کروائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء کے لانگ مارچ کے نتیجہ میں جج صاحبان بحال نہ ہوئے تو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے جس کا تعین کرلیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اطہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہار یکجہتی کیلئے دستخطی مہم کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں رکھی گئی کتاب پر دستخط کرنے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جو سابق وزیراعلی چودھری پرویز الہی کے حوالے سے آڈیو کیسٹ جاری کی ہے اس میں سپریم کورٹ کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر ولاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید زاہد حسین اور چودھری پرویز الہی پر (ن) لیگ کے قائدین کو ضمنی الیکشن سے آؤٹ کرنے کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جس کے بعد جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا عہدہ پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غلط طریقہ سے کام سے روک کر جبری رخصت پر بھیجا جاسکتا ہے تو پھر اس قدر سنگین الزامات پر یہ جج صاحبان اپنے عہدوں پر کیوں برقرار ہیں۔ انہیں جبری رخصت پر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر فی الفور چیف جسٹس کے عہدہس ے الگ ہوں اور اس کیسٹ سکینڈل کی تحقیقات کروائی جائیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کیلئے وکلاء کی جانب سے لانگ مارچ سے متعلق چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ آٹھ اور نو جون کو وکلاء کے قافلے سندھ اور بلوچستان سے روانہ ہوں گے جو 10جون کوملتان پہنچیں گے۔ جہاں سے لانگ مارچ کا آغاز ہو گا ۔ 11 جون کو لانگ مارچ ملتان سے روانہ ہو گی جس میں وکلاء سیاسی جماعتوں کغ کارکنان اور سوک سوسائٹی کے لوگ فیملیوں سمیت شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب عدلیہ کی بحالی صرف وکلاء کا مسئلہ نہیں اس کیلئے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ وکلاء تو ڈیڑھ سال سے پیٹ پر پتھر رکھ کر تحریک چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 12 جون کو لانگ مارچ لاہور سے روانہ ہو گا جو اس شام اسلام آباد پہنچے گا اس وقت قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہو رہا ہو گا ۔ شائد ہمیں وہاں ایک روز رکنا بھی پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود جج بحال نہ ہوئے تو ہم اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے جو طے کیا جا چکا ہے لیکن ابھی اس کا اعلان مناسب نہیں ہے ۔ لیکن ابھی اس کا اعلان مناسب نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گرمی کی شدت ہمارے لانگ مارچ پر اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔ گذشتہ سال جون کی شدید گرمی میں وکلاء اور عوام نے ملتان اور دیگر شہروں میں جلوس نکالے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ سندھٗ بلوچستانٗ رحیم یار خانٗ راجن پورہٗ لیہٗ میلسیٗ بھکرٗ ملتانٗ اوکاڑہ سے عوام لاہور پہنچے گے تو دنیا دیکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف چند دن کے مہمان ہیں میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ آئندہ سات آٹھ روز کے اندر مستعفی ہو جائیں ۔ ورنہ ہم شائد آرمی ہاؤس کی جانب مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم فوج کے خلاف نہیں ہیں اس وقت فوج چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی کی قیادت میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہی ہے جس پر ہم مطمئن ہیں ہم آرمی ہاؤس کی جانب مارچ اس لئے کریں گے کہ اس پر پرویز مشرف سے لانگ مارچ کے قافلے معزول جسٹس طارق پرویز کی قیادت میں اسلام آباد آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب مشرف کیلئے صرف دو ہی راستے ہیں وہ خود صدر کاعہدہ چھوڑ دیں یا پھر پارلیمنٹ ان کا مواخذہ کرے ۔

امریکہ کے ٹو کے پہاڑوں میں اسامہ کا واہ ویلا کر کے چائنہ کے علاقوں اور پاکستان میں رسائی چاہتا ہے ۔قاضی حسین احمد



٭۔ ۔ ۔ پاکستان میں امریکی مداخلت لمحہ فکریہ ہے ، مشرف کا مواخذہ اور 2نومبر والی عدلیہ کی اشد ضرورت ہے ۔
لاہور ۔ جماعت اسلامی کے امیر اے پی ڈی ایم کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ امریکہ کے ٹو کے پہاڑوں میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا جھوٹا واہ ویلا کر رہا ہے اس کا اصل مقصد چائنہ کے علاقوں اور پاکستانی سرحدوں تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔ پاکستان کی معاشی اور دفاعی پالیسی عوامی مفادات کو مد نظر رھک کر نئے سرے سے مرتب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ امریکہ کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت لمخہ فکریہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ’’ تحریک رحمت پاکستان ‘‘ کے زیر اہتمام منعدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر تنظیم کے امیر خواجہ محمد اسلم اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید قریشی نے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بہتری اور عوامی خواہشات کو مد نظر رکھ کر جنرل (ر) پرویز مشرف کا مواخذہ تین نومبر کے اقدامات کا خاتمہ اور فوری طور پر ججز کی بحالی ہی موجودہ درپیش تمام بحرانوں کا حل ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو آپس میں ملاقاتیں کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے والی پالیسیاں بنانی چاہیے ۔ این آر او کے ذریعے ملکی خزانے کو لوٹنے والوں نے ایک دوسرے کو معاف کروادیا ہے تاہم عام آدمی کیلئے اپنے بچوں کو د و وقت کا کھانا فراہم کرن ناممکن ہوتا جارہا ہے ۔ حکمرانوں نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے اور دعوے کئے تھے ابھی تک عملی طور پر نظر نہیں آرہے، سیاسی قیادت امریکی سفارتخانے کے چکر لگانا چھوڑ دے تمام بیرونی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں ۔ امریکہ کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت لمخہ فکریہ ہے کے ٹو میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا جھوٹا واویلا شروع کیا گیا ہے ۔ عراق پر بھی ایسے ہی جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے نیو کلیئر پاور کی آڑ میں اسے نقصان پہنچایا گیا تھا ۔ امریکہ کا اصلہ مقصد کے ٹو پر چڑھائی کر کے چائنہ کے چند علاقے اور پاکستانی سرحدوں پر رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ موجودہ حالات میں پاکستانی کی معاشی اور دفاعی پالیسیوڈ کو امریکہ کی مرضی سے نہیں بلکہ عوامی خواہشات کے مطابق مرتب کرنا اشد ضروری ہے ۔ فوج کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے اس کی نئے سرے سے صف بندی کرنا ضروری ہے ۔ امت مسلمہ کو موجودہ دور میں جتنی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ امت مسلمہ کے آپس میں اتحاد کے بغیر چیلنجز سے نمٹانا ممکن ہے۔ اس موقعہ پر خواجہ محمد اسلم اور جاوید قریشی نے بھی خطاب کیا ۔

Prayers of togetherness





Bollywood actor Amitabh Bachchan along with Abhishek and Aishwarya during a visit to the Siddhivinayak temple in Mumbai on Tuesday.

Amisha Patel’s skin show!





All those who have seen the rushes of Thoda Pyar Thoda Magic are going gung ho about Amisha Patel. Apparently the actress is looking wow in a glamorous new avtaar. More than her look, there’s plenty of skin show, but no one is complaining because the actress has worked on her body and is looking very hot and happening. In fact, we hear that with this film, she is planning to revamp her onscreen image from a girl next door to a sexy siren. With a new boyfriend Kanav, who is ready to lay the world at her feet and now with her new sexy look, Amisha seems to be heading at the right direction. Now do we see Vikram Bhatt raising his eyebrows?

It’s not the end for Saif & Kareena



Though Saif Ali Khan and Kareena Kapoor have been touted the hottest couple in town, their on-screen chemistry failed to make an impact on the masses in Tashan.
But Saif disagrees with the situation. "I’ve just done one or two scenes with Kareena in the film. She was paired opposite Akshay Kumar in the film. This is not the end for us. We will definitely work together in the future. Yet I think it is for the masses to decided who clicks or who doesn’t," says Saif, who is very keen to talk about the films he’s doing. He feels that it’s important to focus on quality projects rather than sign deals without bound scripts.
His next film, the Kunal Kohli directed Thoda Pyar Thoda Magic with Rani Mukerji is a lovey-dovey role. "The film is all about a crazy businessman who is punished by the law to look after a bunch of children. The character that I play is not fond of children and our lives are in a mess when an angel descends from the clouds and makes life lovable," he elaborates. Saif is all geared to explore previously untouched territories by him. The first in this being his production company, Illuminati Films.
A-list directors like Shriram Raghvan, Imtiaz Ali and Homi Adajania have been roped in to make films for his banner. In fact Raghvan will soon embark on Agent Vinod that has Saif playing the lead. Plus there’s Karan Johar’s untitled venture to be directed by Rensil D’Silva and Farhan Akhtar’s Voice From The Sky in the pipeline.

Cannes has never been about the wardrobe for me: Aishwarya






Mumbai:While Aishwarya Rai understands the constant need for people to check out her clothes and accessories at important events, what the star actor can't fathom is why her clothes at the Cannes Film Festival become more important than what she does.
"I don't even want to think about what people thought of my clothes earlier and what they think of it now. To me how I conduct myself at Cannes and how people react to me are far more important than what I wear," Aishwarya, who has been attending the prestigious film fest since 2002, told IANS."Cannes has always been a marvellous and memorable experience. This time was no different. It's never about the wardrobe for me. I don't focus on that at all," added the actress who went there for the first time with "Devdas".She reminisces about each year she has attended the Cannes fest, saying: "That was the year of 'Devdas'. That experience remains embedded in my mind. It wasn't just about how much they liked me in a sari or walking the red carpet. It was more memorable for the standing ovation that we got after the screening of 'Devdas'. What an ovation! It was a very special experience."Next I was in Cannes as a jury member and that's where sections of the media formed their own jury and began to assess my dress. After that I was there to inaugurate the festival and thereafter each year as the brand ambassador for L'Oreal."What made Aishwarya's visit to Cannes special this year was the fact that the entire Bachchan family was there."Also," she added happily. "It was always flash visits to Cannes. This time I was actually there for four days. Otherwise, I've always been there in the middle of things. I spent two full days with the family. We're all so happy when we're together."In an interview there I was asked if our visit to Cannes was a delayed anniversary celebration. I was like... noooooo!"Apart from attending events and obliging shutterbugs, the actress managed to entertain herself by catching up with a couple of movies."I caught three and a half movies including the opening film 'Blindness' and the new 'Indiana Jones' film. And I could only catch the latter half of 'Kung Fu Panda' because I had to do some press interviews during the second half."I've to catch the rest of the film; it was so entertaining. And I also saw the new Woody Allen film 'Vicky Christina Barcelona'. And, yes, I met Woody Allen. He's wonderful."Speaking on her stunning sartorial grace on the red carpet, Aishwarya said: "I guess I had more time to prepare."She smiles at the memory of bonding with Eva Longoria of "Desperate Housewives"."We bonded so well at Cannes no one would believe we had just met. Actually Eva, Rachida Brakni, who did the original French version of 'Chaos', which I was supposed to do and who's now been taken on as L'Oreal's brand ambassador - all of us got married recently. So all three of us had something in common."She refers to meeting French actor Jean Reno as another memorable moment at Cannes."Jean Reno came up to me and said he had heard good things about my film 'Pink Panther'. These legendary actors are so hassle-free. They don't think twice about approaching you with a smile and kind words. That stays with you. So much less taxing than making an effort to avoid people," she said.On the home front, her fans are eagerly waiting to see her with Amitabh and Abhishek Bachchan in "Sarkar Raj", which is releasing June 6.

I still learn a lot from Shah Rukh: Rani Mukerji



Mumbai: Shah Rukh Khan tops her list of favourites. After a career spanning 12 years and 40 films, Shah Rukh is still the man who holds "a special place" in Rani Mukerji's professional life.
"I was considered a newcomer in 'Kuch Kuch Hota Hai', but Shah Rukh never let me feel like one. The treatment he gave in spite of his superstar status then overwhelmed me," Rani, who made her debut with "Raja Ki Aayegi Baarat" in 1996, said.She said Shah Rukh had always guided her in the right direction and she had gained a lot from him."I respect his dedication and the extra effort he puts towards his work. I still learn a lot from him," Rani told IANS on the sidelines of a function here.The two have acted together in several films, including hits like "Kuch Kuch Hota Hai," "Kabhi Khushi Kabhie Gham", "Chalte Chalte" and "Veer-Zaara".They were also seen together in the critically acclaimed offbeat film "Paheli", which was based on a short story written by Vijayadan Detha.Queried about her rapport with Saif Ali Khan, with whom she was seen in "Hum Tum" and "Ta Ra Rum Pum", Rani said: "In my recent film 'Thoda Pyaar Thoda Magic' it was a good experience working with him. But while doing 'Hum Tum' we had some reservations. With time, we get along well and have mutual respect for each other."In "Thoda Pyaar Thoda Magic", which is releasing June 27, Rani says she essays the role of an angel who has been sent by god to bring happiness in the life of a business tycoon and four orphan children.She had to do a lot of practice with action director Shyam Kaushal, especially for the flying scenes."The speciality of the role is that I have to smile throughout the film unlike my other films where I had to cry as well. Even my fans told me that they have had enough of my crying. So this film is special for me and my fans; besides, 'Thoda Pyar Thoda Magic' is my only release this year."In real life, her angel is her two-year-old niece Myiesha. "She keeps me smiling. Whenever I am free and have some time, I play with her. She keeps me going."Famously reclusive when it comes to parties and social appearances, Rani said emphatically: "I don't like parties. I am more of a family person. I prefer spending time with my family." Rani has been paired with almost all superstars except perhaps Akshay Kumar."Many projects came to me where Akshay and I were paired together but somehow the roles didn't excite me." Refusing to name the films, Rani said many of those did well. "But, we hope to do a film together."The talented actress has cut short her assignments because roles don't excite her any more."The roles or the stories that came my way did not excite me. I don't want to do a film just for doing it or to please the journalists. There was a time when I did even three or more films at a time. I did 'Veer-Zaara', 'Mangal Pandey' and 'Black' together because the roles excited me." Her much talked about marriage plans are dismissed."You people are too much interested in my marriage. But let me tell you that I don't have a marriage plan for a long, long time. I want to do a lot of films now and don't see marriage in the near future."Rani's next project is a Yash Raj Film production with Shahid Kapur to be directed by debutant Anurag Singh. The yet to be titled film will go on the floors in June.

ملک میں ڈیم بنائے جانے کا فیصلہ تمام صوبوں کے یکساں حقوق اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے ۔۔عمران خان


اسلام آباد۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ڈیم بنائے جانے کا فیصلہ تمام صوبوں کے یکساں حقوق اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے ۔ تحریک نصاف کے سینٹرل سیکرٹریٹ میں میڈیا سیل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی منصوبے پر کام کرتے وقت چاروں صوبوںکے یکساں مفادات اور حقوق کو ترجیح دی جانی چاہیئے ۔ بڑے ڈیمز کے منصوبوں کی افادیت قومی سطح پر ہوتی ہے اس لیے اگر کسی فریق کے تحفظات ہوں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی کے بحران کو حل کرنے اور محفوظ مستقبل کے لیے پانی کے بین الاقوامی ماہرین کی کانفرنس بلائی جائے اور ان سے رائے لی جائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کی تقسیم کے لیے چاروں صوبوں کے حقوق ‘ مفادات اور امنگوں کے مطابق غیر سیاسی فیصلہ کیا جائے

قومی ائیر لائن نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حج کرایوں میں ٤٠ ہزار روپے کے اضافے کی سفارش کردی

اسلام آباد۔ پی آئی اے نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب حکومت سے ا س سال عازمین حج کے کرایوں میں فی کس 40 ہزار روپے اضافے کی سفارش کردی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق پی آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ 2007 ء میں تیل کی فی بیرل قیمت پچا س ڈالر تھی جو اس سال ایک سو تیس ڈالر فی بیرل تک ہو گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ حج کرایوں میں بھی اسی شرح سے اضافہ کیا جائے جس کے بعد فی کس کرایہ پچاسی سے نوے ہزار روپے ہونے کا امکان ہے ۔ دوسری جانب وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری وکیل احمد نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں حاجیوں کے رہائشی کرایوں میں بھی سات سو ریال فی کس کا اضافہ ہو گیا ہے گزشتہ سال یہ کرایہ پچیس سو ریال تھا جو اب بتیس سو ریال ہو گیا ہے گزشتہ ریگولر اسکیم کے تحت حاجیوں سے فی کس ایک لاکھ 27 ہزاروصول کیے گئے تھے جبکہ اس سال فی کس حج اخراجات بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ سعودی حکام نے حرم کے اطراف بڑی تعداد میں رہائشی عمارتیں مسمار کردی ہیں اس لیے رواں سال حاجیوں کو رہائش بھی مسجد الحرام سے کافی دو رملے گی ۔

افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کے حالات خراب ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف طارق مجید

اسلام آباد ۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حالات اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ پاکستان میں عسکریت پسندی کے بنیادی عوامل ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات اور شدت پسندی پاکستان کیلئے سنجیدہ چیلنجز ہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد وار کورس کے شرکاء سے خطاب کیا ۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کورس اور الائیڈ فورسز وار کورس کا اہتمام کیاگیا تھا ۔ چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خطرات اور شدت پسندی پاکستان کیلئے سنجیدہ چیلنجز ہیں اور پاکستان کی افواج کی دفاعی حکمت عملی میں دونوں عوامل سب سے بڑے خطرے کے طور پر لئے جاتے ہیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ گزشتہ تیس سال سے افغانستان کے خراب حالات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی میں اضافہ ہوگیاہے۔

مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے ہم خوشحال ، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔سعودی سفیر کا خطاب

اسلام آباد ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے مثالی برادرانہ تعلقات ہیں پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے سعودی عرب کا کردار قابل تعریف ہے ہم سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں جبکہ سعودی عرب کے سفیر العواد العسیری نے کہاہے کہ مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے۔ تعاون اور تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارتخانے کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کیا ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سعودی سفارتخانے کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تقریب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد وسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی مرداری ، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ قاضی حسین احمد ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ،قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر وفاقی وزراء اور اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی ہیں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں سعودی عرب کا نیا سفارتی کمپیلکس دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات میں فروغ ، مزید پیشرفت میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا وزیراعظم نے کہاکہ پاک سعودی عرب دو طرفہ تجات اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہونا چاہیے پاکستان کی نئی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح اقتصادی ترقی ، سیاسی استحکام اور امن وامان کا قیام ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں وزیراعظم نے کہاکہ وقت کے ساتھ دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کو فروغ حاصل ہو رہاہے۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ پاکستان سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی طاقت سمجھتا ہے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی سلامتی اور استحکام میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اور مختلف عالمی اور علاقائی امور کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان یکساں موقف پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مسلم اُمہ کو درپیش چیلنج کا مکمل ادراک ہے او رہم ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری میں دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے دورے کے منتظر ہیں پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر علی عواد العسیری نے کہاکہ ہر سعودی باشندہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہے پاکستان کا استحکام پوری امُہ کا استحکام ہے اورہم خوشحال ، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا او رکہاکہ سعودی عرب پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے کوشاں ہے مضبوط پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے ہم پاکستان میں استحکام چاہتے ہیں ۔

چیف جسٹس افتخا رمحمد چو ہد ری کی بحالی کے خلاف یا صدر پرویز مشرف کی حمایت کے لیے کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ایڈم شف



اسلام آباد۔ پا کستا ن کے دو رے پر آئے ہو ئے امر یکی ارکان کا نگر یس کے وفد کے سر براہ ایڈم شف نے واضح کیا ہے کہ امر یکی کا نگر یس کے ارکا ن چیف جسٹس افتخا رمحمد چو ہد ری کی بحالی کے خلاف یا صدر پرویز مشرف کی حمایت کے لیے کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔ منتخب سیاسی جماعتوں کو مسائل جلد حل کر لینے چاہئیں۔ موجودہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہو نی چا ہیے کہ پا رلیما نی نظا م ختم نہ ہو سکے امریکی کا نگریس کے وفد کے سر بر اہ ایڈ م شف نے صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر سیاسی رہنما ؤں سے ملا قات کے بعد منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہو ریت کا استحکا م چاہتے ہیں۔ایڈ م شف نے کہا کہ وہ پا کستان کے جمہو ری ادارو ں کی مضبو طی کے لئے پا کستان کی پا رلیمنٹ کے ساتھ مل کر کا م کر نا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مو جودہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہو نی چا ہئے کہ پا رلیما نی نظا م ختم نہ ہو سکے۔انہو ں نے واضح کیا کہ ارکا ن کا نگر یس کے دورے کا مقصد چیف جسٹس کی بحالی پر کسی قسم کی لابی کر نا نہیں ہے۔انہو ں نے کہا کہ اس طر ح کے مسائل دو منتخب سیا سی جما عتوں کو جلد حل کر لینے چاہئیں ۔انہو ں نے کہاکہ وہ پاکستان کے عدالتی بحران پر کو ئی پو زیشن نہیں رکھتے ۔ایک سو ال پر ایڈ م شف نے کہا کہ ہم صدر پر ویز مشر ف کی حمایت کے لئے بھی کو ئی لا بی نہیں کر رہے ہیں۔

حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان آئینی پیکج پر ڈیڈ لاک برقرار


ججوں کی بحالی کو کسی آئینی پیکج سے منسلک نہ کیاجائے اور نہ ہی کسی ایسے آئینی پیکج کی حمایت کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن)میاں برادران کو ضمنی انتخابات سے باہر رکھنے کی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں ، حکمران اتحادقائم رہے گا،زرداری میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ایک بارپھر بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ ۔ ۔ ذرائع

اسلام آباد ۔ حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان آئینی پیکج کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں ڈیڈ لاک اُسی طرح برقرار ہے اور (ن) لیگ نے واضح کر دیا ہے کہ ججوں کی بحالی کو کسی آئینی پیکج سے منسلک نہ کیاجائے اور نہ ہی کسی ایسے آئینی پیکج کی حمایت کی جائے گی جس سے دو نومبر کی پوزیشن پر ججوں کی بحالی کے ایشو کو نقصان پہنچے ۔تاہم دونوں بڑی جماعتوں نے ایوان صدر کو پیغام دیا ہے کہ حکمران اتحاد متحد ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں ہونے والی ملاقات ایک بارپھر بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی۔ ملاقات میں (ن ) لیگ کی طرف سے میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، اسحاق ڈار ، چوہدری نثار علی خان ، جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے آصف علی زرداری ، آفتاب شعبان میرانی ، فرزانہ راجہ اور نیئر حسین بخاری شریک تھے اس ملاقات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہے کہ دو نومبر کے ججوں کی بحالی کو آئینی پیکج کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے اور تمام معزول ججوں کو اعلان مری کے مطابق ہی بحال کیا جائے جبکہ آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو آئینی پیچیدگیوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا ۔ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے کہاکہ صدر مشرف کا فوری طور پر مواخذہ کیا جائے اور سازشوں کے گڑھ ایوان صدر کو جلد از جلد خالی کروایا جائے اس پر آصف علی زرداری نے کہاکہ حالات ایسے پیدا کر دئیے جائیں کہ صدر مشرف خود ہی مستعفی ہونے پر مجبور ہو جائیں تاہم آصف علی زرداری نے صدر مشرف کے مواخذے کے بارے میں کوئی نفی میں جواب نہیں دیا ۔ ذرائع کے مطابق تاہم دونوں جماعتوں نے مختلف ایشوز پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس میں حکمران اتحاد کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ۔ ملاقات میں مذاکرات کے علاوہ ممکنہ آئینی پیکج کے حوالے سے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کا اجلاس بلانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف او رمیاں شہباز شریف کو انتخابات سے باہر رکھنے کی سازشوں کی ایک دفعہ پھر مذمت کی اور کہاکہ حکمران اتحاد کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کو یقین دہانی کرائی کہ تمام امور اتفاق رائے سے حل کر لئے جائیںگے ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ججوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ آئینی پیکج پہلے آئے گا یا قرار داد پہلے آئے گی اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بدستور قائم ہیں تاہم آصف علی زرداری کی طرف سے آئینی پیکج پہلے اسمبلی میں لانے پر زوردیاگیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) قرار داد پہلے اسمبلی میں لانے کے حق میں ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آئینی پیکج بعد میں اسمبلی میں پیش کیا جائے ۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ۔ سید یوسف رضا گیلانی


پاکستان امریکہ سے سٹریٹیجک تعلقات کو بہت اہمیت دیتاہےوزیراعظم کی امریکی کانگرس ارکان اور سینیٹرز کے وفود سے ملاقاتوں میں گفتگو

اسلام آباد۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ہے اور امریکہ کوپاکستان میں معاشی استحکام اور عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی حمایت کرے آج وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹرز وار اراکین کانگریس کے وفود نے ان سے ملاقات کی ۔ وفود میںسینیٹر بین نلسن ‘ ایڈم سیکف ‘ ایلیسن سکارز اور وائن گیلج شامل تھے۔ ا س موقع پر پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن بھی موجود تھیں ۔ وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان امریکہ سے اپنے سٹریٹجک تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور تجارت ‘ سرمایہ کاری ‘ معیشت اور سوشل سیکٹر میں مزید مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی تک رسائی کی سہولیات فراہم کرے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جو انسانیت ‘معیشت اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔ اس لیے عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں مین ان عناصر سے بات چیت کی جائے گی جو لڑائی ختم کرکے ہتھیار پھینک دیں گے اور معاشی ترقی اوردہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے حالیہ انتخابات میں ماڈریٹ اور جمہوری قوتوں کو واضح مینڈیٹ دیا ہے ا ورجمہوری قوتوں نے مرکز اور صوبوں میں اتحادی حکومتیں تشکیل دی ہیں جس سے ملکی ادارے اور جمہوریت مضبوط ہوگی ۔ امریکی سینیٹرز اور اراکین کانگرس کے وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مستحکم اورکثیر الجہتی تعلقات کا خواہاں ہے ۔ وفود کے ممبران نے وزیراعظم کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں خصوصا معیشت ‘تجارت ‘ دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں ۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ امریکی اراکین پارلیمنٹ پاکستان کی جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

آڈیو ٹیپ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد الیکشن ٹریبونل کے ججز کاسماعت سے انکار

لاہور ۔ ضمنی انتخابات کے سلسلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52اور پی پی 10سے میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے والے الیکشن اپیلٹ ٹریبونل کے ججزجسٹس طارق شمیم اور جسٹس نجم الزماں نے سماعت سے معذرت کرلی ہے ۔اپلیٹ ٹریبونل کے ججز نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے حاضر ہوکر کہا کہ وہ گزشتہ روز آڈیو ٹیپ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سماعت نہیں کرسکتے ۔ اسلئے نیا ٹریبونل بنایا جائے ۔

صدر مشرف نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ‘ مصطفیٰ کھر

لاہور ۔ پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور اگر وہ اقتدار میں رہے تو صورت حال مزید خراب ہو گی ۔ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد سب ہی آمریت کا خاتمہ تھے اور اس مقصد کے لئے سب سیاسی جماعتوں نے جدوجہد بھی کی ۔ وکلاء اور عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت کے وجود میں آنے کے بعد بھی حالات دن بدن ناسازگار ہو رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں یہ حالات مزید خراب نہ ہو جائیں اور حالات بے قابو نہ ہو جائیں ۔ غلام مصطفیٰ کھر نے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ حکمران حالات خراب کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ ٹوکری نوٹوں سے سبزی ک ٹوکری نہیں آ سکے گی ۔ جو آج حقیقت ثابت ہو گئی ہے انہوں نے کہ اکہ صدر پرویز مشرف کے بارے برتن توڑنے کے قابل رہ جائیں گے اور آج یہ بھی ثابت ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ایک زمانے میں بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا ۔ ملک اور پاکستانی اداروں کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور پاکستان کے وقار کو شدید مجروح کیا اور اگر وہ اب بھی مستند اقتدار پر براجمان رہے تو مزید بیڑہ غرق کریں گے ۔
۔۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔۔
٭۔ ۔ ۔ ماضی میں کسی بھی حکومت کو کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کرنے کی جرات نہیں ہوئی، راجہ پرویز اشرف کا طبی معائنہ کروایا جائے کیونکہ وہ ذہنی طور پر بیمار محسوس ہوتے ہیں

٭۔ ۔ ۔ اٹک سے صادق آباد تک ہرشہری کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاہتا ہے حکمرانوں نے اسے ختم کرنا ہے تو پہلے اسمبلیاں تحلیل کر کے عوام سے اس مسئلہ پر دوبارہ مینڈیٹ لیں ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر نیوکلیئر پاکستان اور مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ ہے
٭۔ ۔ ۔ حقیقی عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک کو آگے نہیں لے جایا جا سکتا ، محترمہ کو مشورہ دیا تھا کہ مشرف سے ڈیل کر کے نہ آئیں ورنہ نہ وہ بچیں گی نہ پاکستان رہے گا، پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ رکاوٹ ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مجھے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ غلام مصطفےٰ کھر
سابق گورنر پنجاب غلام مصطفےٰ کھر نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر نیو کلیئر پاکستان اور مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ اہم ہے اس کی تعمیر سے دست برداری خود کشی کے مترادف ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کی بحالی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ملک غلام مصطفے کھر نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے پیپلز پارٹی کو اس لئے ووٹ نہیں دیئے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ ختم کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز مشرف کو چیلنج کرتا ہوں کہ اٹک سے صادق آباد تک کسی شخص سے بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق رائے لے لیں جو اب اثبات میں ہی ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر اس منصوبہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اسمبلیاں تحلیل کریں اور عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لے کر آئیں ۔ راجہ پرویز اشرف کا شائد ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ان کا بھی معائنہ کروایا جانا چاہیئے ۔ کیونکہ ماضی میں کسی بھی حکمران کو اس منصوبے کو ختم کرنے کی جرات نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی انتہائی ضروری ہے کیوں کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری بحال ہو گئے تو آئندہ پانچ سال تک کوئی جرنیل جمہوریت پر شب خون مارنے کی جرات نہیں کر سکے گا ۔ ججز بحال نہ ہوئے تو حکمران آگے بھاگیں گے اور عوام ان کے پیچھے ہوں گے۔ ملک غلام مصطفےٰ کھر نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کالا باغ ڈیم کی تعمیر چاہتی تھیں اس مقصد کیلئے انہوں نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلی کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اعتماد نہیں لے لیا تھا ۔ پیپلز پارٹی میں اپنے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو میرغ راستے کی رکاوٹ نہ تھیں اور نہ ہی آصف علی زرداری رکاوٹ ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ موجود ہیں جو مجھے دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ اگر میں فنکشنل ہو جاؤں تو پارٹی کے اندر میرے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری اس وقت صرف ججوں کی وجہ سے ہی ملک میںہیں ۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کردار اب صرف برتن توڑنے کا رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 8 سال کی آمریت میں بھی مشرف سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کونہیں روک سکے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی سیاسی کارکنوں کو اقتدار میں شریک کرلیا جائے تو جمہوریت اور حکومت زیادہ مضبوط ہو گی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے ملک غلام مصطفےٰ کھر نے کہا کہ محترمہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مشرف سے ڈیل کر کے پاکستان نہ آئیں ورنہ وہ رہیں گی نہ پاکستان بچے گا ۔

کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ١٩٩٠ء سے زیادہ بڑی قوت سے تحریک آزادی اُٹھے گی، قاضی حسین احمد ، کشمیری رہنما یاسین ملک

اسلام آباد ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 1990ء سے زیادہ بڑی قوت سے تحریک آزادی اُٹھے گی ۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس تحریک کے ساتھ ہو گا۔جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ پاکستان کے عوام امریکی غلامی سے آزادی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بھارت نے آج بھی مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کیا بھارت عدل و انصاف کے اصول اختیار کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سے ملاقات کے بعد ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قاضی حسین احمد اور یاسین ملک کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہاکہ قاضی حسین احمد سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے حوالے سے جاری جدوجہد اور چار سالوںسے جاری بے نتیجہ پاک بھارت مذاکرات اور اس ضمن میں کشمیریوں میں پائی جانے والی مایوسی کے بارے میں بات چیت ہوئی انہوں نے کہاکہ ہمارا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے یہی بات دہلی میں کہی تھی کہ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ بات چیت کے ذریعے معاملہ کو آگے بڑھانا چاہیے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے ملک میں مل کر مسئلے کاحل ڈھونڈنا ہو گا۔مذاکرات میں مسئلے کا حل نظر نہ آنے پر چاروں اطراف مایوسی پھیل رہی ہے دونوں حکومتوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو مقبوضہ کشمیر میں بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا حقیقی پیشرفت کے بعد کشمیر پاکستان اوربھارت میں امن قائم نہیں ہو سکتا جنوبی ایشیاء میں قیام امن کیلئے مسئلے کا جلد از جلد حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس موقع پر قاضی حسین احمد نے کہاکہ کشمیر ہمارے دل کی دھڑکن ہے سارے کشمیری ہمارے ہیں اور کشمیر ہمارے بدن کا حصہ ہے انہو ںنے کہاکہ یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے 114دنوں کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا یہی اپروچ آزادی کا حقیقی پیغام عوام تک پہنچانے کا اصل ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے انہیں پاکستان کے عوام اور اپنے جذبہ آزادی پر بھروسہ ہے جذبہ آزادی شوق شہادت اور جذبہ جہاد کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے تمام عوام اور جہاد میں شامل تمام فریقوں کو اس ایک نکتہ پر متفق ہونا چاہے کہ جب تک بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا ترک نہیں کرتا اور اسے متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا مذاکرات کی میزسجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بھارت اگر کشمیر کو متنازعہ علاقہ ہی تسلیم نہیں کرتا تو پھر مذاکرات کی میز پر کیا بات چیت ہوتی ہے مذاکرات کی بنیادی بات ہی یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وزارت خارجہ کے لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم مذاکرات کیلئے بڑی تیاری کے ساتھ بیٹھے ہیں مگر مذاکرات کی میز پر بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور آزادکشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے انہوں نے کہاکہ اس طرح کے مذاکرات تو غیر سنجیدہ عمل ہے مزاحمت اور جدوجہد ہماری طرف نہیں بلکہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقہ میں ہو رہی ہے آزادکشمیر کے عوام کو ان کے ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں ۔ ریاست کے لوگوں کو حق خودارادیت ملنی چاہیے اقوام متحدہ کی قرار داد میں کشمیریو ںکے اس حق کو تسلیم نہیں کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ کشمیری کبھی نہیں تھکیں گے ساٹھ سالوں سے ان کے جذبہ آزادی میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 1990ء سے زیادہ قوت کے ساتھ تحریک آزادی اُٹھے گی پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہو گا انہوں نے کہاکہ بھارت عدل و انصاف کے ذریعے مسئلے کے حل کی سوچ اختیار کرے اس میں بھارت کا فائدہ ہے ۔ جنوبی ایشیاء کے یہ دونوں ممالک اہم تجارتی خطہ اور انڈسٹریل علاقہ ہے ہم بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں دشمنی نہیں ۔ تاہم بھارت کو عدل وانصاف کے اصولوں پر آنا ہو گا پاک بھارت دوستی میں اصل رکاوٹ ہی مسئلہ کشمیر ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے سٹرٹیجک تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور وہ خطے میں بھارت کی بالادستی اور بھارت کی مرضی کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے امریکہ بھارتی مسائل کو اہمیت دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ علاقے میں بھارت نے پانی پر قبضہ کر رکھا ہے ڈیمز بنانے والے ہیں پانی کا رخ تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ پاکستان کو صحرا میں تبدیل کر دیا جائے انہوں نے کہاکہ امریکہ کے غلام حکمران اس صورتحال میں چپ سادھے ہوئے ہیں قوم کواٹھنا چاہیے امریکہ سے آزادی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عوام میدان میں آئیں گے ایک سوال کے جواب میں یاسین ملک نے کہاکہ کشمیری عوام مسئلے کے بنیادی فریق ہیں مگر پچاس سالوں سے جاری پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کیاگیا نہ کوئی بریک تھرو سامنے آیا ہے کشمیری قوم کو مایوسی کی جانب دھکیلا جارہا ہے اُن کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے تاہم جدوجہد کے حوالے سے ہر گز مایوسی پیدا نہیں ہوئی 114دنوں کے دن رات کے دوروں میں لاکھوں کشمیری اس میں شامل ہوئے صدر پرویزمشرف کے چار نکات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہاکہ تینوں فریق مذاکرات کی میز پر آئیں اور فیصلہ کریں کہ تینوں فریقوں کا جو موقف سامنے آئے اس کے مطابق مسئلے کا حل نکل سکتا ہے ۔

امریکا دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیاں کر رہا ہے ،انھیں بند کیا جائے۔ ۔ ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل

امریکا کے آئندہ صدر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی اور گوانتاناموبے جیل بند کرنے کریں
صدر بش کے دور میں دنیا بھرکو روارکھا گیا
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے امریکہ سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم’’ ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘نے امریکا کے آئندہ صدر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی اور گوانتاناموبے جیل بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نومبر2008 ء میں منتخب ہونے والے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ آنے والی امریکی حکومت کے لئے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی پر اخلاقی جواز دینا مشکل ہوگاجو صدر بش کے دور میں دنیا بھرکو روارکھا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ امریکا گوانتا ناموبے جیل میں تشدد اور انسانیت سوز مظالم بند کرے اور قیدیوں کوعام عدالتوں میں پیش یا پھر انہیں آزاد کرے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا جو بڑی طاقت ہے اسے ملک اور بیرون ملک انسانی حقوق کی بحالی کے لئے مفادات سے بالا تر ہوکر کام کرنا ہوگا۔

ناسا کے خلائی مشن نے مریخ سے پہلی بار تصویر زمین پر بھیجیں


نیویارک ۔ امریکہ کی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلائی مشن نے مریخ سے پہلی مرتبہ تصاویر زمین پر بھیجی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تصاویر کی مدد سے سرخ سیارے پر زندگی کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی ۔ فینکس پر نصب مشینی ہاتھ مریخ کی سطح سے مٹی اور برف کے نمونے حاصل کریں گے اور پانی کے ذخائر یا ان کے نشانات تلاش کریں گے۔ امپیریل کالج لندن کے ڈاکٹر ٹام پک کے مطابق یہ مشن پانی کی تلاش کے لیے مریخ کی سطح کے نیچے گہری کھدائی بھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے مریخ کے گرد گھومنے والے مصنوعی سیاروں کی مدد سے سرچ سیارے کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کی گئی تھیں اوراندازہ ہے کہ مریخ کی سطح کے نیچے کسی جگہ برف اور پانی موجود ہے ۔

Diplomatic Flash




AMAM BARI SARKAR BARI,ISLAMABAD




Zardari calls on Nawaz, seeks support on constitutional package







ISLAMABAD : PPP co-chairman Asif Ali Zardari Tuesday called on PML-N chief Mian Nawaz Sharif and sought his support for the proposed constitutional package to ensure supremacy of the parliament and strengthening of democracy, party sources said. The meeting between the two leaders at the Punjab House concluded without any formal announcement as Asif Zardari rushed back to his house to receive Turkish ambassador, who was scheduled to arrive there.
The party sources termed the meeting “good chemistry” and claimed that both sides agreed to adopt a middle way to resolve issues including restoration of the deposed judges.
Later, talking to the media, PML-N Secretary Information Ahsan Iqbal said that the PPP leader briefed Nawaz Sharif about the salient features of the 62-point constitutional package.
“We have just been briefed on the highlights, so the party cannot give its final opinion quickly. PML-N is yet to receive the copy of the draft, which is still under process with Law Minister Farooq H. Naek,” he said.
To a question the PML-N leader reiterated his party’s stand that the “Murree Declaration should be implemented in its true spirit.”
“Our party has demanded from its coalition partner to undo the November 3, 2007 steps. As far as the package is concerned PML-N would give unconditional support to the points derived from the Charter of Democracy (CoD) and non-controversial matters,” Ahsan Iqbal said.
He said, “our reservations regarding reinstatement of deposed judges are still there and need further discussion to end the discrepancy.”
According to press statement issued by a Zardari House spokesman, the meeting between the leadership of Peoples Party and Muslim League (N) concluded that the proposed constitutional package will be presented for the consideration of the parliament after developing consensus amongst coalition partners.
The meeting discussed important national political issues and complete harmony was found between the two sides on all issues, the statement said.
Zardari’s delegation at the meeting included senior party leaders Aftab Shaban Mirani, Syed Nayyar Husain Bokhari and Farzana Raja while the PML-N chief’s team included Shahbaz Sharif, Ishaq Dar, Chaudhry Nisar and Ahsan Iqbal.
The PPP co-chairman presented his point of view and explained the salient features of the proposed constitutional package to the PML (N) leadership.
The statement said Zardari asked Nawaz Sharif to support PPP so that the supremacy of the parliament and civilian institutions can be restored as was desired by the electorate of Pakistan through their votes in the election 2008.
Mian Nawaz Sharif assured the PPP delegation that PML (N) will respond to PPP after having a detailed review of the proposed constitutional package.
It was agreed in the meeting that minister for law and parliamentary affairs Farooq H. Naek will present the complete constitutional package to the legal experts of PML (N) while other coalition partners will also be taken into confidence before tabling it in the National Assembly, the statement said.
“Farooq H. Naek is likely to present that package to the PML (N) legal experts in the next couple of days,” it added.

PM lauds World Bank support for Pakistan’s economic reforms







ISLAMABAD : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Tuesday lauded the World Bank assistance for Pakistan’s socio-economic development and its support to help invest in infrastructure and social sectors, like health and education. Talking to a high-powered delegation of the World Bank headed by Vice President, Praful C. Patel, who called on him at the PM’s House, Gilani said Pakistan values its relationship with its development partners particularly the World Bank.
He appreciated role of the World Bank in country’s development, and said Pakistan has a growing economy and his government will do its utmost to improve the macro-economic profile to achieve an impressive growth rate and above all, better living conditions for the people of Pakistan.
The Prime Minister hoped the World Bank would continue its active cooperation with Pakistan and help it achieve the newly laid-down priorities of overcoming energy, water and food shortages through construction of new dams and other related projects.
The World Bank Vice President, who was on his farewell call, expressed the unequivocal support of the Bank to the Prime Minister and his government.
The meeting was informed that during the recent years the World Bank’s financial support to Pakistan has increased manifold and the Bank is committed to provide concessional financing.
Patel offered financial assistance to Pakistan from a food crises response fund created by the World Bank in the wake of ongoing world food crises.
He also offered financial and technical assistance for the upcoming budget, due to be annouced on June 7.
Prime Minister Gilani said the people have high hopes from the new democratic government which is fully committed to undertake policies focusing on reducing poverty, increasing per capita income, generating more jobs and improving the living standard of the people.
He told the delegation that the government will soon introduce prudent economic policies and will ensure their successful implementation. The formation of Economic Advisory council is a step in this direction, he added.
Patel briefed the Prime Minister about the development activities being undertaken by the bank along with improvements and priorities suggested by the mission.
He affirmed that the World Bank would continue to be a partner in the development of Pakistan and would provide necessary assistance in the key areas like water and power, infrastructure, education and other social sectors and poverty alleviation.
The World Bank official assured that the agreed programme would also be delivered well in time during the course of the current financial year.
He expressed the hope that the new democratic government under the able leadership of the Prime Minister, and through its efficient economic management would change the overall outlook of the economy.
The World Bank will provide all possible cooperation and assistance in meeting those objectives, he added.
Federal Minister for Finance, Naveed Qamar, Special Assistant to the Prime Minister on Economic Affairs, Ms. Hina Rabbani Khar and Secretary Finance also attended the meeting.

‘I like Musharraf’s support for democracy’: Gilani




ISLAMABAD : Prime Minister Yousaf Raza Gilani has said what he likes most in President Pervez Musharraf is his support for democracy and his straight-forwardness. “He [Musharraf] supports democracy. He is very frank, straight-forward,” the Prime Minister said in a candid interview with a private television channel Tuesday morning, when asked what he liked most about President Musharraf.
A tˆte-…-tˆte with Prime Minister Gilani gave an insight into his likes and dislikes, where he revealed soft corners of his personal life, be it the sensitive topics like commenting on prominent personalities, or talking about dress choice, eating patterns or favourite movie stars.
When asked about President Musharraf’s statement mentioned in his memoir ‘In the Line of Fire’ saying that to govern Pakistan is one of the most difficult jobs in THE world, the Prime Minister said, “Yes, I agree with it.”
Gilani said his government supported the policies of previous government if they coincided with Pakistan Peoples Party’s manifesto.
“Whenever President Musharraf pursued in accordance with our good points, we supported him. The issues like Women Protection Bill and women’s representation in assemblies, we stood by them,” the Prime Minister said.
However, Gilani said he brought changes in previous government’s policy In THE war against terror and focused on finding root cause of the issue rather than use of military force.
Gilani said he also believed that the March 9 step by President Musharraf against judiciary cast negative impact on his political goodwill.
The Prime Minister said the government would take as challenge to resolve the issues of electricity and flour crises, law and order situation and inflation, which it inherited from the previous government.
On upcoming budget, the Prime Minister said focus would be laid upon primary education, basic health facilities and increase in wages.
The Prime Minister said his government stood by its commitment to freedom of media and would bring amendments in this regard.
“We want freedom of media. We should not mind their point of view. We are in a position to defend ourselves.”
About lawyers’ movement for the restoration of judiciary, the Prime Minister said it was the movement of entire nation with a lot of contribution by PPP.
Describing himself as a “commoner”, Gilani said he felt pain for the poor facing hardships in their lives.
“I have lived all my life among the common people. When I see that poor have no basic facilities of life, I feel a sense of guilt,” he said.
Gilani said after assuming prime minister’s office, his routine had become tough with little time for personal life, long work hours and less sleep.
“Now, I hardly get four to five hours sleep. Sometimes I have to work like a robot,” he said, adding he felt strange when his family members and children also required an appointment to talk to him due to his busy schedule.
Known for his well-dressed appearance, the 55-year old Gilani said he believed in varied experiences of costumes and could comfortably carry all styles, be it Sherwani, Shalwar Qameez or Safari Suit.
However said he was more at ease in the national dress.
“I like black colour on me, and on anybody with fair
complexion,” he said.
Gilani said he was a health conscious person and extremely particular about his eating habits.
“I have been religiously following a fitness pattern in jail like jogging, exercise and maintaining garden, though I don’t find time for such activities now,” he said.
Commenting on the personality of PPP co-chairman Asif Ali Zardari, the Prime Minister said he was inspired by Zardari’s sense of humour, who used his wit to say difficult things easily in an amusing manner.
He said Zardari’s biggest strength were his party and Benazir Bhutto’s goodwill.
---- On controversial appointment of Dr Nasim Ashraf as Chairman Pakistan Cricket Board, the Prime Minister termed it a “prerogative of the government”, however said nobody was indispensable.
Asked how much expressive he was in sharing emotions, the Prime Minister said, “I am very discreet about such things and relatively miser in expressing sentiments.”
“If depressed, I just go to sleep and do not discuss the matter with anyone,” but said he believed in “forgetting and forgiving”.
He termed the assassination of PPP chairperson Benazir Bhutto as the most unforgettable incident of his life.
The Prime Minister said he felt uncomfortable when he could not accomplish the tasks as planned according to the agenda.
“I have always lived with the thought of running short of time, and everyday I consider as the last day of my life,” he said.
Gilani did not oppose screening of Indian movies in Pakistani cinemas. He said his favourite movie stars were Aishwarya Rai and Shahrukh Khan and he never missed any of Rai’s movie in jail days on his laptop.
He recalled it as a “pleasant surprise when he unwrapped a gift box received from Indian Foreign Minister recently, all filled with movie albums of Aishwarya Rai,” adding they might have picked up the clue from his book wherein he mentioned his favourite heroine.
Gilani said good music always acted as mood lifter for him, as he liked to listen to the songs of Rafi, Lata Mangeshkar and Nayyara Noor.
The Prime Minister said best mode of enjoyment for him was talking to close friends, and recalled his jail days when he use to stroll in rain along with others including Air Marshal Waqar Azeem, IB chief Brig Imtiaz, ministers and secretaries.
What if he was not a politician, Gilani said he would have been an architect.

PML (N) wants judges restoration as per Murree declaration: Nawaz




ISLAMABAD: PML (N) leader Mian Nawaz Sharif on Tuesday said his party wants the restoration of judges according to Murree Declaration. “It will be unfortunate if the judges are not restored as per the Murree Declaration”, he said in his brief chat with the newsmen here at the inauguration of Saudi embassy.
To a question about his meeting with PPP co-chairman Asif Zardari at Punjab House, Nawaz Sharif said they discussed “important national matters”.

Pakistan govt supporting China in quake relief efforts: Sherry







ISLAMABAD : Minister for Information and Broadcasting Sherry Rehman Tuesday said that the Pakistan government was supporting China in its efforts for provision of rescue and relief to its earthquake victims. She was talking to media persons on the occasion of seeing off a mobile surgical team comprising Pakistani doctors and paramedics.
Chairman National Disaster Management Authority Lt-Gen (Retd) Farooq Ahmed Khan was also present on the occasion.
The relief goods have been sent on special directives of Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani.
The Minister said that government and people of Pakistan were deeply shocked by the severe earthquake which hit China’s Sichuan province on May 12.
She said the loss of life and property was colossal, posing a daunting challenge of relief and rehabilitation for the Chinese government.
The Minister said both countries have stood by each other in times of trial and Pakistan is grateful to the Government of China for accepting its offer of relief goods, which were dispatched to China as a token of “our feeling for the Chinese brothers.”
She said Pakistani’s assistance is a humble contribution and an effort to support its time-tested friend in its hour of need.
Sherry Rehman said that medial mission would augment medical relief activities for the affected people in the earthquake-hit areas in China.
Pakistan has also sent relief goods earlier and it is ready to contribute more if the Chinese government required more help, she said.
Chinese Ambassador to Pakistan Luo Zhaohui thanked the government and people of Pakistan for showing solidarity and support by sending medical mission besides relief goods.
He expressed his gratitude over the provision of 22,000 tents by Pakistan and welcomed the decision by the Government to send the medical team to China for relief and rehabilitation.
Before this flight Pakistan had dispatched 21,260 tents, 500 blankets, 1000 plastic mats, three tons of bottled water and four tons of medicines.
A total of four C-130 flights, five 747 cargo flights and 18 containers by road have been dispatched to China so far.