International News Agency in english/urdu News,Feature,Article,Editorial,Audio,Video&PhotoService from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan. Editor-in-Chief M.Rafiq.

Friday, July 4, 2008

١٠٠ دنوں میں ایک وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ کیسز ضرور ختم اور اثاثے بحال ہوئے ہیں



حکمران اتحاد ٹوٹا تو مسلم لیگ(ق) پارلیمانی نظام کے استحکام میں کردار ادا کرے گی
حکومت کی جانب سے خود مختاری پر سمجھوتے کرتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونے کا خطرہ ہے
پارلیمانی لیڈر مخدوم فیصل صالح حیات کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ(ق) نے حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے بارے میں حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام سے کیے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا ہے ملک میں حکومت اور ا نتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔قیادت کافقدان اور حکمران اتحاد انتشار کا شکار ہے تاہم مسلم لیگ (ق) نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی ۔ نئی حکومت کو پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے حکمران اتحاد ٹوٹا تو مسلم لیگ (ق) جمہوری و پارلیمانی نظام کے استحکام میں اپنا کرادر ادا کرے گی ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ(ق) کے قومی اسمبلی میںپارلیمانی لیڈر مخدوم فیصل صالح حیات نے جمعرات کو مسلم لیگ(ق) کی جانب سے 19 صفحات پر مشتمل ’’ حکومت کی سو روزہ دھوکہ دہی ‘‘ پر مبنی حقائق نامہ جار ی کرتے ہوئے پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اوردہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں کے بارے میں سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل حاصل ہے ۔ ہمارے دور کی اقتصادی ٹیم بیٹھی ہوئی ہے ۔ وزارت داخلہ میں بھی ہمارے دو ر کے افسران تعینات ہیں حکومت کے پہلے دو ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 45 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انتخابات کے بعد حکومت کو قائم ہوئے 102 دن ہو چکے ہیںوزیراعظم نے حلف اٹھانے کے بعد پہلے سو دنوں کے حکومتی پروگرام کااعلان کیا تھا انہوں نے کہا کہ سو روزہ کارکردگی سے حکومت کے مزید پونے پانچ سالوں کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ہم نے ماضی سے ہٹ کر انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی نئی روایت قائم کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان سو دنوں میں مسلم لیگ(ق) واضح اور صحیح سمت پر گامزن رہی ۔ اصولوں کی سیاست کو فروغ دیا ۔وزیراعظم کی درخواست پر اپوزیشن نے انہیں اعتماد کا ووٹ دیا جس کا مقصد قوم کو متحد ومنظم کرنا تھا۔ تاکہ حکومت کو قومی ایجنڈے کے حوالے سے اگر کوئی ایجنڈا ہے تو کوئی فکر نہ ہو ۔ اگرچہ کسی سیاسی جماعت کو انتخابات میں واضح مینڈیٹ نہیں ملا ۔ ہماری خواہش ہے کہ حکومت آئینی مدت پوری کرے۔حالانکہ اپوزیشن کے خلاف انتقام کا سلسلہ شروع ہو چکاہے حکومت کے سو دن ناکامیوں پر مشتمل ہیں ۔ عوام کو دھوکہ دیاگیا ‘ قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ 1999 ء کی قیمتوں کو بحال کیا جائے گا۔ ان جماعتوں کے انتخابی منشور میں بھی عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے ہمیں توقع تھی کہ دونوں جماعتیں پہلے بھی حکومتیں کر چکی ہیں معاشی طور پر واضح روڈ میپ اور اس پر عملدرآمد کے لیے موثر میکنزم کا اعلان کریں گی ۔ان جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے حوالے سے حکومت سازی کے بارے میں ترجیحات کا اعلان کیا گیا ۔ پارلیمنٹ کو بالادست بنانے کاروڈ میپ بھی اس میں شامل ہے ۔ دونوں جماعتوں نے کہا کہ قوم نے یہی مینڈیٹ دیا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر کام کریں ۔سہانے خوش کن مستقبل کا خواب دکھایا گیا ۔ مری اعلامیہ جاری ہوا ۔ تیس دنوں کی ڈیڈ لائن گزر گئی بعدازاں اعلان مری کو سیاسی بیان قراردے دیا گیا ۔ وزیراعظم نے 24 مارچ کو اپنے انتخاب پرحلف اٹھانے سے قبل ہی اختیار ات کو استعمال کرتے ہوئے ججز کی رہائی کا اعلان کردیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں روزگار ‘معیشت ‘ماحولیات ‘ توانائی ‘ تعلیم اور مساوات کے حوالے سے اقدامات کرنے کا دعوی کیا ۔ ان کا آغاز تک نہیں ہوا ہے ۔ ہم نے نئے حکمرانوں کو مضبوط اور ساؤنڈ معیشت دی تھی ۔ حکومت کو چیلنج کرتے ہیں افسو س کہ حکومت الزامات کی سیاست کررہی ہے اس قسم کی سیاست سے عوام کے پیٹ نہیں بھرتے۔ قوم بدترین مہنگائی کی لپیٹ میں ہے گورنس نام کی کوئی چیز نہیںہے قومی ایشوز کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے ۔ نان ایشوز کو آگے رکھا جا رہا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ ان سنگین حالات کے باوجود اپوزیشن ‘ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کرے گی استحکام چاہتے ہیں اپوزیشن حکمرانوں کے لیے مسائل کھڑے نہیں کرے گی حکومت اپنے اہداف کو ترک کر چکی ہے اتحادیوں کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کی بات کی جارہی ہے ۔ وزیر اطلاعات دن میں دس بار بیان دیتی ہیں کہ اتحادیوں کو اعتماد میںلیا گیا تھا۔ کیا یہی قومی مفاہمت ہے اتحادی حکومت اس طرح چلتی ہے انہوں نے کہا کہ کیا حکومت بھی لانگ مارچ ‘ ہڑتالوں ‘ شٹر ڈاؤن میں حصہ لیتی ہے ۔ عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیاہے ۔ بجٹ میں بارہ فیصد مہنگائی کی شرح مقرر کی گئی تھی مہنگائی کی شرح تیس فیصد سے تجاوز کرچکی ہے ۔ یہ ہمارے نہیں سٹیٹ بنک کے اعداد و شمار ہیں فوڈ آئٹمز کے حوالے سے مہنگائی 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ بدامنی اور بدانتظامی عروج پر ہے ۔ مشیر داخلہ اور سرحد حکومت کے بیانات میں تضاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مذاکرات کا آپشن ناکام ہو گیا ہے جو خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ حکومت براہ راست سبسڈی سے دستبردار ہو چکی ہے وزیر پٹرولیم کے ایک غلط بیان کی وجہ سے سی این جی صارفین کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ملک پر گھنٹے کی تیزی کی طرف جا رہا ہے ۔ حل نہ کیا گیا تو گہری کھائی سے نہیں نکل سکیںگے۔20 جون کو مسلم لیگ(ن) نے ججز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں ووٹ بھی کاسٹ کیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ ووٹ نہیں دیا تھا قوم کے ساتھ مذاق ہے ۔ سو روزہ حکومتی پروگرام میں کفایت شعاری اپنانے اور پرتعیش طرز حکمرانی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات سمیت وزراء 16 سو سی سی بڑی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں وزیراعظم خود وزیراعظم کے اعلانات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ 80 رکنی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا گیا۔ وزیراعظم کے دسمبر تک مزید سولہ غیر ملکی دورے ہوںگے۔وزیراعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا عوام کے مسائل حل ہو گئے ہیں جو غیر ملکی دورے پر جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومتی ناکامی کے باوجود حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کریں گے حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ ا پنی ذمہ داری کو نبھائے ، عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ سو دنوں میں عوام کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ البتہ ان سو دنوں میں کیسز ضرور ختم ہوئے ہیں اور اثاثے بحال ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تجربہ کامیاب نہ ہوا تو قوم کے لیے جمہوریت خواب بن کر رہ جائے گی ۔ ہماری حکومت کا حساب کتاب 18 فروری کو ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم واضح طور پر تیار نہیں کیا ان کے پاس اختیارات نہیںہیں ۔ ایوان صدر تو حکومتی امور سے ہٹ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ ملک تیزی سے تنزلی کی طرف جارہا ہے ۔ دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا خطرہ ہے ۔ اگر ایسا ہوا توخود مختاری طورپر کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ق) کے پارلیمانی لیڈر نے کہاکہ حکومت کو قائم رہنا چاہیے حکمران اتحاد ٹوٹا تو مسلم لیگ(ق) اس کے باوجود کہ اس کا محدود کردار ہے ۔ پارلیمانی نظام کے استحکام میںاپنا کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں 3 ہزار پوائنٹس کا کریش آچکا ہے تاریخ کا بدترین کریش ہے ساڑھے سولہ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں ڈالر کی قیمت 60 سے 70 روپے ہو چکی ہے ۔

News channels sign of democratic culture: Ms. Sherry Rehman







KARACHI: Federal Minister for Information and Broadcasting, Ms. Sherry Rehman said here on Thursday every news channel coming on-air is a responsible outfit and a welcoming sign that a democratic culture is in place. She said this while talking to media during her visit to the office of another News Channel of Geo Television Network “Geo-English.”
Our government is in power for the last about three months and the “Geo English” has got the license, which, Ms. Sherry Rehman noted had not been issued for the last one-and-a-half-year.
Speaking about issuance of license to the new news channel, the Information Minister said this is not a gift from the government, but indeed an integral part of the fundamental rights which we had promised in hundred days programme.
Federal Information Minister said that we have been pursuing a policy of Press freedom and removal of restrictions from the mass media from the very first day.
To a question, she said now the media was free to a great extent and it has to self-regulate.
She said our commitment is about not to put curbs on the media, neither we believe in restrictions on media nor it has been part of our manifesto.
Sherry Rehman said that now the media will have to self regulate and will have to design its own code of conduct.
To become a mature and responsible media, it has to take measures itself and there should be no role of the state in it but only to facilitate the media, the Federal Minister said.
She said in three months period of our government we have fulfilled the commitments beyond the promises we made.
We have removed the black laws of Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (PEMRA). Now no one uses PEMRA to block channel, she added.
All the laws related with the media will be enacted with the consultation and inputs by the stakeholder, she said.
Speaking about new news channels, she hoped that the new channels will introduce new tradition of responsible reporting and news processing.
Earlier, the Federal Minister visited the different sections of the news channels and also met with members of its management.

Pakistan peaceful country, no intention to enter into arms race: PM







KARACHI: Pakistan is a peaceful country and has no intention to enter into an arms race in the region. This was announced by Prime Minister, Syed Yousuf Raza Gilani, here on Thursday. He was speaking as chief guest at the 89th Midshipmen Commissioning Parade at the Pakistan Naval Academy, PNS Rahbar.
The Prime Minister, however, said that Pakistan will maintain a minimum credible deterrence to ensure peace in the region and also to ensure that the ongoing process of the country’s economic development remains uninterrupted.
He also made it clear that the defence needs of the country will always remain a priority and that the government will provide all necessary resources to the armed forces of Pakistan to enable them to modernize themselves and stay in a state of readiness.
He pointed out that the sovereignty and integrity of the country could be well protected when our foreign and national security policies reflect the aspirations of the people.
While subscribing to international obligations, Pakistan desires to promote its national interests as we believe in peaceful co-existence and mutual respect, he added.
Mr. Gilani assured that the government is fully aware of the importance of Pakistan’s maritime potential. “ Therefore, we will continue to meet the requirements of Pakistan Navy in all respects”.
He said recent acquisition of modern platforms, equipment and weapons is an indication of the government’s resolve to better equip our Navy.
The Prime Minister said that advancements in modern technology which are taking place at a fast pace are cost intensive. “ We, therefore, must endeavour to achieve self-reliance; for this purpose we need to promote indigenization and pursue it with greater vigor than ever before.
He stated that Pakistan Navy’s ship-building and sub-marine construction programme, modernization of Karachi Shipyard and Engineering Works and research and development in various fields of maritime technologies are indeed good omens.
Mr. Gilani pointed out that Pakistan has been in the forefront of the international war on terror. “Being a victim of terrorism ourselves, we condemn terrorism and are committed to defeat it”, he added.
He said that Pakistan believes in the promotion of peace and security in the region and the world at large. It also believes in the freedom of the seas and trade.
The Prime Minister said that we stand committed to international order and stability and that our participation in the Coalition Maritime Campaign Plan(CMPC) reaffirms our strong commitment to regional and global security.
He stated that Pakistan Navy’s participation in the CMPC has enhanced its professional acumen. it has greatly helped in deterring terrorists and checking arms, drugs and human smuggling thereby providing safe environment for smooth maritime economic activity in the region.
Mr. Gilani said that the twice command of Maritime Task Force 150 (CTF 150) by Pakistan Navy is a testimony of our resolve to pursuing international peace and also speaks of the high professional standards of Pakistan Navy.
He stated that Pakistan’s maritime sector by virtue of a long coastline and a vast exclusive economic zone including the extended continental shelf offers immense opportunities towards sustainable economic growth.
The Prime Minister said the development of Gwadar Port and Coastal Highway are the steps in the right direction. However, we will have to go a long way to realize the full potential of our maritime sector and we must not forget that the strategic location of Pakistan can only be exploited to our advantage through the development of this vital sector.
The Prime Minister said that Pakistan today stands committed to the war against terrorism alongside the international community.
He said that Pakistan believes in the promotion of peace and security and is committed to international order and stability.
Mr. Gilani observed that Pakistan has been blessed with a unique geo-strategic location at the confluence of three important regions of the world i.e Middle East, Central Asia and South Asia. “This strategic location can only be used to our advantage through the development of maritime sector,” he said.
The Prime Minister said that Pakistan’s maritime sector by virtue of a long coastline and vast Exclusive Economic Zone (EEZ) including the Extended Continental Shelf, offers incredibly lucrative opportunities towards sustainable economic growth.
He assured that the government is fully aware of the importance of Pakistan’s maritime potentials and would meet the requirements of Pakistan Navy in all respects.
The Prime Minister urged the passing out officers to strive hard to keep pace with the rapid technological advancements in the domain of modern-day warfare. “Your are expected, not only to live up the glorious traditions of your predecessors but to achieve par excellence in professionalism”, he added.
He also extended his felicitations to the passing out officers particularly those who displayed outstanding performance and won prizes.
In his welcome address Commandant, Pakistan Naval Academy, Commodore Muhammad Tahir highlighted salient features of the training imparted to the cadets at Naval Academy.
He apprised that the current passing out team comprises 67 officers who had undergone two years comprehensive professional, academic and physical training.
The academy has been entrusted with the responsibility of training young cadets from brotherly countries of Bahrain, Kazakhstan, Maldives, Palestine, Saudi Arabia, Turkmenistan and Yemen.
Earlier, on arrival at the venue, the chief guest was presented guard of honour by a smartly turned out contingent.
Later, the Prime Minister awarded prizes and medals to the winners. Midshipman Waleed Arif was awarded Sword of Honour for his all round best performance.
Cadet Muhammed Ali received Chairman Joint Chiefs of Staff Committee Gold Medal whereas Sub Lieut Ahsan Muhammad was awarded Quaid-e-Azam Gold Medal.
Midshipman Tauseef Ashraf clinched PNA Dirk. Main Top Squadron won the Proficiency Banner.
Chief of the Naval Staff Admiral Muhammad Afzal Tahir, and Chief Minister of Sindh, Syed Qaim Ali Shah, were also present on the occasion.

Thursday, July 3, 2008

109th Corps Commanders Conference underway




RAWALPINDI: Chief of the Army Staff General Ashfaq Pervez Kayani is presiding over 109th Corps Commanders Conference, currently underway at General Headquarters (GHQ).Corps Commanders and Principal Staff Officers are participating in the moot.Besides discussing issues relating to regional geo strategic and internal security situation, the army would also determine its role with regard to circumstances in Federally Administrated Tribal Areas (FATA) during the conference, reported ARY One World.The participants would also find ways and means to further improve professional capabilities of Pakistan army. Pak-Afghan border matters would also come under discussion.The participants would also review increasing changing scenario at country’s western border and would chalk out strategy in this respect, sources concluded.

Pakistan strongly reacts to statement of Mullen



ISLAMABAD: Pakistan on Thursday reacting strongly to the statement of US Joint Chiefs of Staff Chairman Admiral Mike Mullen regarding right to attack Pakistan said no body has the right to take action inside Pakistan in the war against terrorism. "Pakistan has once again clarified that on Pakistan side of the border along Afghanistan it is the Pakistani troops who have the sole responsibility to take action against the terrorists," said Foreign Office Spokesman Muhammad Sadiq in his weekly briefing. The US Joint Chiefs of Staff Chairman Admiral Mike Mullen said on Wednesday that the United States had the right to take military action in Pakistan if it got reliable and concrete intelligence about the presence of top leadership of Taliban and Al-Qaeda, including Osama bin Laden. Commenting on the statement of Admiral Mike Mullen the Spokesman said Pakistan has a clear position on the military action - on the Afghan side of the border, the Afghan national army (ANA), ISAF and US army could take whatever action they want against the terrorists. He said that on the Pakistani side of the border it is the Pakistani troops who have the sole responsibility to take action. The spokesman also referred to the Statement of Assistant Secretary of State Richard Boucher while addressing the press on Wednesday in which Boucher clarified that it is the responsibility of Pakistani troops to take action against the terrorists inside Pakistan.

Marriage announcement very soon: Saif Ali Khan




MUMBAI: Wedding bells may not be that far away for actors Saif Ali Khan and Kareena Kapoor as the two are contemplating marriage sooner than the three-four-year target they had set earlier.
"Oh yes, much sooner. In fact, people may be hearing an announcement from us very soon. If I had my way, I'd marry her today right here in London where she's joined me," Saif told IANS over phone.
"Yes, I'm ready to make it legal any time. In any case, aren't we supposed to have gone through a secret Muslim marriage?" he says sarcastically about certain media reports.
Saif was married to Amrita Singh and after 13 years of marriage and two children, the couple separated in 2004. After he divorced Amrita, he dated Italian model Rosa Catalano, but broke up with her in 2007.
The romance between Saif and Kareena took off on the sets of "Tashan". And Saif has never sounded so fiercely committed.
"If I'm sounding that way, it's because that's how I feel. With due respects to all the other relationships in life, after my marriage to Amrita and my two kids, this is the most important relationship I've had."
Saif can barely contain his anxiety and eagerness to do the right thing.
"Of course, I'm anxious. You must understand this is the most important part of my life... so much so that at times I find even my career taking a backseat to my relationship. I've to guard against that. I must quickly learn to separate the professional from the personal."
Saif admits it would take his children Sarah and Ibrahim a while to get used to the changes in their dad's life.
"I'm not going to pretend that my children, Kareena and I have become one big family. They're intelligent kids with a mind of their own."
Sarah is in fact 13 and a lady herself. It would be quite a while before they are fully comfortable with the change in my life.
"They haven't spent that much time with Kareena to know her as well as I do. But the good thing is everyone close to me realises that this relationship is for keeps, that I've never been more serious. Now it's entirely up to me and Kareena to take the relationship to the next level."
Saif is upset with reports that he has lately been crowding his ladylove with his attentions.
"Of course, I want to be with her as much as I can. My regret is we can't be together more often.We are uncannily similar people and I've only now begun to understand why I need to be with her constantly.She complements me, as I hope I complement her. So of course, I try to be where she is."
He dislikes people intruding into his personal life and says: "I understand people want to put our relationship under a microscope. They want to know about our relationship. But there's only so much that they can know or perceive. What Kareena and I feel for each other, only the two of us know."

ISAF troops kill 25 Taliban in Afghanistan




HEART: Afghan and NATO-led forces killed 25 Taliban militants in a 10-hour gun battle in western Afghanistan, a provincial police chief said on Thursday.The militants were killed in Muqur district in Badghis province on Wednesday during a joint clean-up operation by NATO's International Security Assistance Force (ISAF), the Afghan army and police, Mohammad Ayob Niazyar said."At least 25 Taliban were killed and many were wounded in several hours of fighting after the Taliban attacked our troops," Niazyar told reporters.He said the clash started Wednesday afternoon and lasted till midnight. No NATO and Afghan forces were wounded in the fighting.The clean-up operation was conducted by Afghan army and police force supported by Spanish ISAF troops, Niazyar said.There was no immediate comment from ISAF.Badghis is an isolated rural province where Taliban attacks are relatively uncommon compared with almost daily rebel strikes in southern parts of the country.

متنازعہ جوہری پروگرام جاری رکھنے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی خارج ازامکان نہیں ‘ بش

حملے کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا ‘ مراعاتی پیکج کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ‘ ایران
واشنگٹن ۔ تہران۔ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ متنازعہ جوہری پروگرام جاری رکھنے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی خارج ازمکان نہیں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ حملے کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا ۔ امریکی صدر جارج بش نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی خارج ازمکان نہیں ہے لیکن ان کی اولین ترجیح تنازعہ کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے ۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے اقوام متحدہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی راہنما عالمی طاقتوں کی جانب سے دیئے گئے مراعاتی پیکج کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور چند ہفتوں میں اس کا جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی باتیں امریکہ کا نفسیاتی حربہ ہے ۔

٨٦ فیصد شہری حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ‘ نجی ٹی وی کا سروے

اسلام آباد ۔ ملک میں ایک نجی ٹی وی کے عوامی آراء پر مبنی سروے میں شامل 86 فیصد شہری حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی کی جانب سے 3 ماہ سے حکومتی کارکردگی کے بارے میں عوام کی آراء لی جا رہی تھی آج اس کا نتیجہ جاری کر دیا گیا ہے ۔ جس کے مطابق 86.67 عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں جبکہ 13.33 فیصد عوام حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی کی خلاف پٹیشن کی سماعت ١٥ جولائی تک ملتوی کر دی



اسلام آباد ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر قدیر خان کی نظر بندی کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت 15 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو عدالت طلب کر لیا ہے ۔ سماعت کے دوران اقبال جعفری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ حکام سے بار بار درخواست کے باوجود انہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ انہوں نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ خود جا کر دیکھیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کس حالت میں ہیں ۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے اپنے موکل کی اہلیہ کی جانب سے بھی ایک درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حراست میں نہ ہونے سے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل کا بیان عدالت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے لہذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ توہین عدالت کی درخواست میں صدر اور مشیر داخلہ کو بھی فریق بنانے کی اپیل کی گئی ہے ۔

ملکی حدود میں صرف پاک فوج ہی کارروائی کرسکتی ہے،دفتر خارجہ




اسلام آباد...دفتر خارجہ کے ترجمان ایم صادق نے کہا ہے کہ پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا اور اپنی حدود میں صرف پاکستانی فوج ہی کارروائی کر سکتی ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف بہت واضح ہے اور وہ اپنی حدود کے اندر کسی بھی غیر ملکی فورسز کو کاروائی کی اجازت نہیں دے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر28 جولائی کو امریکہ کا دورہ کریں گے، اس سے قبل8 جولائی کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے امریکہ جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات کریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی قیدیوں کی لسٹ بھارت کو فراہم کر دی ہے جبکہ بھارت کی جانب پاکستانی قیدیوں کی لسٹ آنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا دورہ بھارت مثبت رہا اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ جلد پاکسان کا دورہ کریں گے۔

تحصیل باڑہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن صراط مستقیم چھٹے روز بھی جاری ۔ فاٹا سیکرٹریٹ

پشاور۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن صراط مستقیم جمعرات کو چھٹے روز بھی جاری ہے۔ فاٹا سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق اب تک موصول ہونے والے معلومات کے مطابق کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ البتہ باڑہ بازار میں کرفیو بدستور نافذ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں بدستور گشت کررہے ہیں۔اس آپریشن میں اب تک کل 87 لوگ گرفتار کیئے جاچکے ہیں اور ان سے چار گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل قبضے میں لے لیے گئے ہیں

پیپلز پارٹی کی حکومت قومی اہمیت کے معاملات میں اتحادیوں سے مشاورت نہیں کر رہی ، نواز شریف





اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت قومی اہمیت کے تمام بڑے فیصلوں میں اتحادیوں سے مشاورت نہیں کر رہی ۔ لندن جانے سے قبل اسلام آباد ائرپورٹ پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن اور پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت تمام بڑے فیصلوں میں مسلم لیگ ن سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن صرف آمریت کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دے رہی ہے۔ انہوں نے صدر پرویزمشرف کے مستقبل کے معاملے پر امریکی دباؤ سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان کے داخلی معاملات ملک کے اندرہی طے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحمل اور بردباری کے ساتھ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ وابستگی کے جذبے کو نبھا رہے ہیں اور عوام کی امنگوں کے مطابق پیپلز پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں اوراس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم پاکستان سے آمریت کا خاتمہ کرناچاہتے ہیں ۔ نواز شریف نے کہاکہ جس شخص نے پاکستان کے ساتھ گزشتہ آٹھ سال سے جو سلوک کیاہے جس کے نتیجے میں پاکستان کا حشر نشر ہو چکا ہے ہم نہیں چاہتے کہ ایسے شخص کو دوبارہ مضبوط کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جج صاحبان کو بحال کیا جائے اور پاکستانی عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان سے نکالا جائے۔ نواز شریف نے کہاکہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ خلوص نیت سے حکومت کی حمایت اور تعاون کر رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پاکستان کواپنے معاملات کے حل کے لیے کسی کا مشورہ نہیں درکار بلکہ پاکستان اپنے داخلی معاملات کو داخلی طورپر ہی حل کرناچاہتا ہے۔ قبائلی علاقوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ قبائلی علاقے مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم اور مذاکرات کاراستہ اختیار کرنا چاہیے اور اڑھائی ماہ پہلے کے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اب اچانک پیپلز پارٹی نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر وہاں آپریشن شروع کردیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اڑھائی ماہ پہلے کیا گیا فیصلہ تبدیل کرنے کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں اور قومی نوعیت کے معاملات کے فیصلے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے ہی کئے جائیں ۔

پاکستان قابل اعتماد دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا ‘ یوسف رضا گیلانی

کراچی ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ ہے اور قابل اعتماد دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا ۔ جمعرات کو یہاں پاکستان نیول اکیڈمی میں مڈ شپ مین کی 89 ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان منفرد محل وقوع رکھتا ہے اور دنیا کے اہم خطوں کے سنگم پر واقع ہے اور میری ٹائم کے شعبے کو اس وقت فروغ دینے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں پاکستان بحریہ کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی دفاع کے لئے کم از کم اور قابل اعتماد دفاعی صلاحیت برقرار رکھیں گے اور افواج پاکستان کو مکمل وسائل فراہم کریں گے ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان امن و سلامتی کے فروغ پر یقین رکھتا ہے اس موقع پر وزیر اعظم نے کیڈٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ اپنے آپ کو جدید ٹیکنالوجی اور معلومات سے ہم آہنگ کریں ۔ وزیر اعظم نے مڈ شپ میں ولید عارف کو اعزازی تلوارعطا کی ۔

عدلیہ کی بحالی کیلئے وکلاء کا سپریم کورٹ کا بائیکاٹ اور دھرنا



اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، راولپنڈی ہائی کورٹ اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشینز نے عدلیہ کی بحالی کے لیے 10 جولائی کو سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہ دستور پر بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں فیصل آباد ، گجرات ، گوجرانوالہ ، چکوال ، ایبٹ آباد ، راولپنڈی کے وکلاء بھی شریک ہوںگے اس امر کا اظہار راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری صدیق اعوان نے جمعرات کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے وکلاء کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سپریم کورٹ اسلام آباد کچہری میں وکلاء نے گزشتہر وز عداتلوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ وکلاء نے سپریم کورٹ کی سیڑھیاں پر دھرنا بھی دیا ۔ اور ضلعی کچہری سے سپریم کورٹ تک احتجاجی ریلی نکالی ۔ ریلی کو شاہراہ دستور پر سیکرٹریٹ کے قریب قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے اہلکاروں نے روک لیا اور آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تاہم وکلاء کے شدید احتجاج پر رکاوٹین اٹھالی گئیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے تحریک انصاف کے کارکنان بھی ریلی میں شامل ہو گئے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اسلام آباد کے صدر ہارو ن الرشید کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ اس دوران شاہراہ دستور پر وزیراعظم سکواڈ کا گزر ہوا جسے دیکھ کر وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ وکلاء نے پی سی او ججز کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوے راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری صدیق اعوان نے کہا کہ 10 جولائی کو راولپنڈی سے شاہراہ دستور ا سلام آباد تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ بھرپور طاقت کا مظاہرہ کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ۔ 10 جولائی سے وکلاء تحریک کا دوبارہ بھرپورطور سے شروع ہو گی ۔ وکلاء کے احتجاج کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اطراف میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔

قو می مجرموں کے عوام کے منہ پر طما نچے ۔۔۔۔ تحریر : اے پی ایس

پارلیمنٹ بالادست نہیں ہے ۔ فیصلے پارلیمنٹ سے باہر ہو رہے ہیں ۔ 18 فروری کے انتخابات کے حوالے سے عوام نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دیا تھا پارلیمنٹ کو عوام کے اس فیصلے سے عملدرآمد کرنا چاہئے ۔ دنیا بھر میں مسائل کا حل کبھی بھی فوجی مداخلت نہیں ہوتی۔ سول حکومت خواہ کتنی بھی کمزور ہو فوجی ڈکٹیٹر شپ سے بہتر ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھا کر غلط کیا گیا ہے۔ شوکت عزیز نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کو سٹیل ملز من مرضی کی قیمت پر فروخت نہ ہونے دینے پر بے عزت کرکے ملازمت سے برطرفی کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان میں عدلیہ کی تباہی کیلئے مزید فورسز کام کررہی ہیں۔ وطن عزیز کی سلامتی خطرے میں ہے۔حکمرانوں نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کرکے سیاہ ترین باب رقم کیا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ ظلم عوامی قیادت کے دور میں ہورہا ہے جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گی۔ وکلاءاپنے مضبوط ارادوں اور مسلسل جدوجہد سے عدلیہ کو بحال کروا کر رہیں گے جس سے ملک مضبوط ہوگا۔ غیر جمہوری قوتوں نے تخریب کاروں کو کالے کوٹوں میں ملبوس کرکے تحریک کو نقصان پہنچانے کی ناپاک کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ کالا کوٹ تو بازار سے خریدا جاسکتا ہے لیکن محب وطن وکیل بازاروں میں دستیاب نہیں ہوتے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے یہ بھی کہا ہے کہ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں فوجی مداخلت سے جمہوریت اور سول اداروں کو نقصان ہی پہنچا ہے۔ سول حکومت خواہ کتنی بھی کمزور ہو فوجی ڈکٹیٹر شپ سے بہتر ہوتی ہے۔ فوج میں اگر چھ چور ہیں تو پھر بھی چھ لاکھوں فوجیوں کو چور کہنا درست نہیں۔ پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے سٹیل ملز کو صرف 21ارب 68کروڑ روپے میں بیچنے کی کوشش کی اور مجھے ساتھ دینے پر پرکشش مراعات وگرنہ بے عزت کرکے نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوںنے کہاکہ دباو¿ ڈال کر مجھ پر دستخط کروائے گئے مگر میں نے حاضر دماغی سے بینکوں کیلئے دانستہ طور پر اگلی تاریخوں کے چیک کاٹے تاکہ جو کوئی بھی ادارے کو خریدے اسے ادائیگی کرنی پڑے۔ اسی دوران اللہ کا کرم ہوا اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایکشن لیتے ہوئے نجکاری روک دی جس سے نہ صرف قوم کا اثاثہ بچ گیا بلکہ ہزاروں لوگوں کا روزگار بھی محفوظ رہا۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی کابینہ نے قومی اداروں کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ کمزور کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عراق یا افغانستان میں انسانی حقوق کے تحفظ یا جمہوریت کی بہتری کیلئے نہیں آیا ۔ اس کا مقصد مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ اسرائیل کو مضبوط کرنے کیلئے پاکستان اور ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔ بلوچستان کے معدنی ذخائر پر بھی اس کی نظریں جمی ہیں۔ عالمی منڈی میں فوڈ آئٹمز اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس پر جلد قابو پانے کا امکان ہے۔ عالمی اداروںکی تحقیق کے مطابق عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل پہنچنے کا امکان ہے خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے گندم اور ضروری فوڈ آئٹمز پر توجہ دینا ہو گی۔ عالمی منڈی میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 100 سے 180 فیصد اضافے کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے ۔ مختلف سطح پر صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ قیمتیں کم ہو سکیں معیشت کے استحکام کے حوالے سے ملک میں 30 لاکھ میکرو فنانس کلائنٹس کا حدف حاصل کرنا ہو گا۔ ملکی معیشت کو بہتر سمت حاصل ہو گی۔ غذائی قلت پر قابو کے لئے زرعی پیداوار کو بڑھانا ہو گا ۔ عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان دینے کے دعویداروں نے ملک میں شوکت عزیز سے بھی بدترحالات پیدا کردئیے ہیں۔طالبان کے ساتھ کیا گیا امن معاہدہ توڑنے سے دشمنوں کو مفاد حاصل ہوگا۔فاٹا میں آپریشن کی بھرپور مذمت کرتے ہیں حکومت نے اشیاءکی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر کے شوکت عزیز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات،بجلی،گیس اور کئی دوسری اشیاء کے نرخ بڑھانے کے بعد اب آٹے کی قیمت میں اضافہ عوام پر بدترین ظلم ہے۔روٹی کپڑا اور مکان کے دعویداروں نے پہلے تو پاکستانی عدلیہ کو قتل کیا اور اب ہوشربا مہنگائی کے ذریعے عوام کا جینا دشوار کردیا ہے۔عوام، حکومت کے ان اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ جبکہ عوام کے خیال میں فاٹا میں آپریشن انتہائی ظالمانہ کاروائی ہے۔حقائق عوام کے سامنے لائے جائیںاور بتایا جائے کہ امن معاہدہ کون توڑ رہا ہے۔ان کے مطابق امن معاہدے کا خاتمہ پاکستان کے دشمنوں کے انٹرسٹ میں ہے۔ملک بھر میں یکم جولائی 2007ء سے 30 جون 2008ء کے دوران اشیاء صرف کی قیمتوں میں 114 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ لگڑری اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے اور غریبوں کے منہہ پر دھڑا دھڑ طمانچے رسید کئے جا رہے ہیں اور اب یہ عالم ہو رہا ہے کہ غریب کسی کو منہہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے۔صارف نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا رجحان عوام اور حکومت کے لئے نقصان دہ ہے جس نے گزشتہ 2 سالوں کے دوران حکومت کو شدید بحرانوں میں مبتلا کیا ہے اور حکومتی ادارے اپنی بدعنوانیوں اور غفلت کے باعث اس نقصان دہ رجحان کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں۔مارکیٹ رپورٹ کے مطابق جولائی 2007 سے جون 2008 کے دوران دال مسور نمبر 1 کی قیمت میں 114 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی قیمت 56 روپے فی کلو سے بڑھ کر 118 روپے فی کلو ہو گئی ۔دال مسور 2 نمبر 83 فیصد اضافے سے 52 روپے سے بڑھ کر 90 روپے ،دال ارہر 1 نمبر 49 فیصد اضافے سے 55 روپے فی کلو سے بڑھ کر 82 روپے فی کلو، دال ارہر 2 نمبر کی قیمت 60 فیصد اضافے کے ساتھ 50 روپے فی کلو سے بڑھ کر 80 روپے فی کلو ،کالا چنا 57 فیصد اضافے کے ساتھ 35 روپے فی کلو سے بڑھ کر 55 روپے فی کلو ،چنا نمبر 2 کی قیمت 67 فیصد اضافے کے ساتھ 30 روپے فی کلو سے بڑھ کر 51 روپے فی کلو، آٹا تھیلی پیک 10 کلو 64 فیصد اضافے کے ساتھ 170 روپے سے بڑھ کر 280 روپے ، دس کلو آٹا فائن فی کلو 75 فیصد اضافے کے ساتھ 16 روپے سے بڑھ کر 28 روپے ،فی کلو میدہ 40 فیصد اضافے کے ساتھ 18 روپے فی کلو سے بڑھ کر 30 روپے فی کلو ،6 فیصد اضافے کے ساتھ چینی 30 روپے فی کلو سے بڑھ کر 32 روپے فی کلو ،ڈالڈا گھی 55 فیصد اضافہ کے ساتھ 498 روپے فی 5 کلو گرام سے بڑھ کر 775 روپے فی کلو گرام، ڈالڈا گھی ڈھائی کلو 51 فیصد اضافے کے ساتھ 260 روپے سے بڑھ کر 395 روپے، ڈالڈا گھی ایک کلو 53 فیصد اضافہ کے ساتھ 100 روپے سے بڑھ کر 153 روپے فی کلو ،ڈالڈا تیل 35 فیصد اضافے کے ساتھ 498 روپے فی 5 لیٹر سے بڑھ کر 785 روپے فی 5 لیٹر، حبیب بناسپتی 5 لیٹر 498 روپے سے بڑھ کر 775 روپے فی 5 لیٹر‘ گھی 16 کلو گرام 1290 روپے سے بڑھ 1950 روپے فی 16 کلو گرام جبکہ تیل 16 لیٹر 1950 روپے فی 16 کلو گرام ہو گیا ہے۔چاول کرنل باسمتی سپر78 فیصد اضافے کے ساتھ 70 روپے فی کلو سے بڑھ کر 125 روپے فی کلو، کرنل باسمتی 65 روپے فی کلو سے بڑھ کر 110 روپے فی کلو، کرنل شاہی 65 روپے فی کلو سے بڑھ کے 100 روپے فی کلو، ونڈ7 باسمتی 60 روپے فی کلو سے بڑھ کر 95 روپے فی کلو، باسمتی سیلہ 60 روپے فی کلو سے بڑھ کر 110 روپے فی کلو ،اری 25.6 روپے فی کلو سے بڑھ کر 40 روپے فی کلو ہو گئے اور دودھ کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ۔ فی کلو دودھ کے نرخ 28 روپے سے بڑھ کر 42 روپے فی کلو ہو گئے ۔مرغی کے گوشت کی قیمت 100 روپے فی کلو سے بڑھ کر 150 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی۔ گائے کے گوشت کی قیمت 130 روپے فی کلو سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو جبکہ بکرے کے گوشٹ کی قیمت 240 روپے فی کلو سے بڑھ کر 320 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو عبور کر گئی۔ سرخ مرچ ثابت کی قیمت 180 روپے فی کلو سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو، سرخ مرچ پسی ہوئی 170 روپے فی کلو سے بڑھ کر 210 روپے فی کلو، دھنیا ثابت فی کلو 80 روپے سے بڑھ کر 180 روپے ،ہلدی پسی ہوئی 100 روپے فی کلو ،لونگ فی کلو 340 روپے سے بڑھ کر 510 روپے فی کلو، الائچی فی کلو 390 روپے سے بڑھ کر 490 روپے فی کلو ،مرچ سیاہ 330 روپے فی کلو سے بڑھ کر 360 روپے فی کلو ،زیرہ سفید 210 روپے فی کلوسے بڑھ کر 300 روپے فی کلو ،زیرہ سیاہ 480 روپے فی کلو ، سبز الائچی 210 روپے فی کلو سے بڑھ کر 300 روپے فی کلو ،زیرہ سیاہ 480 روپے فی کلو،، کھوپرا ثابت 100 روپے فی کلو سے بڑھ کر 190 روپے فی کلو ،سپریم چائے 250 گرام 70 روپے سے بڑھ کر 83 روپے، دال مونگ دھلی کی قیمت 57 روپے فی کلو سے کم ہو کر 53 روپے فی کلو، دال مونگ دہلی 2 نمبر 52 روپے فی کلو سے کم ہو کر 44 روپے فی کلو ،دال مونگ چھلکا 52 روپے فی کلو سے کم ہو کر 51 روپے فی کلو ،دال ماش ثابت کی قیمت 60 روپے سے کم ہو کر 57 روپے فی کلو ،دال ماش ثابت 68 روپے فی کلو سے کم ہو کر 66 روپے اور کشمش گول 160 روپے سے کم ہو کر 150 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ صارفین نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمگلنگ کے دروازے بند کئے جائیں‘ درآمدات وبرآمدات پر گہری نظر رکھنے کے لئے صوبائی سطح پر کمیشن قائم کئے جائیں جبکہ زرعی اجناس کی برآمدات مکمل طور پر بند کی جائے تاکہ مقامی اجناس پہلے اپنے عوام کے کام آسکیں ۔مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اجناس اور اشیاء صرف کی رسد کے لئے ٹرین کے نظام کو استعمال کرنے سے بھی کاروباری لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پنجاب کی امین مارکیٹ میں گندم کے نرخ بڑھنے کے بعد پشاور میں آٹے کی قیمت میں 4 روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ہے ۔ 20 کلو تھیلے کی قیمت 80 روپے اضافے کے بعد ایک بار پھر 500 روپے تک جا پہنچی ۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ میں اضافے اور پنجاب سے گندم کی فراہمی میں کمی بتائی گئی ہے ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق 20 کلوگرام تھیلے کی قیمت 420 روپے سے بڑھ کر 500 روپے ہو گئی ہے جبکہ فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت 100 کے اضافے کے بعد 550 روپے سے تجاوز کر گئی ہے ۔ آئندہ چند روز میں آٹے کے نرخوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ جس کے باعث پشاور میں آٹے کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے ۔ ادھر پنجاب کے وزیر خوراک ملک ندیم کامران نے کہا ہے کہ مہنگا آٹا فروخت کرنے والوںکے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ لاہور میں ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہاکہ آٹے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت 365 روپے ہے جبکہ پرچون کی قیمت 375 مقرر کی گئی ہے ۔ اے پی ایس

Wednesday, July 2, 2008

مظلوم عوام کے ٹیکس سے حکمرانوں کی عیاشیاں ۔۔۔ تحریر اے پی ایس،اسلام آباد

فاٹا میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے آپریشن کی بجائے معاملات بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں حکومت کی طرف سے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر ظلم ہے عوام کو تاریکی میں ڈبو کر حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی سمیت فاٹا کے علاقوں میں فوجی آپریشن ظالمانہ اقدام ہے اور اس سے ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا آصف زر داری اور صدر مشرف اپنے اقتدار کے بچاو کے لئے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے عوام کو اپنی افواج سے لڑا رہے ہیں جو پاکستان کے مستقبل کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے کچھ بھی ہو حکومت کو تمام معاملات گفت و شنید سے حل کر نے چاہئیں اور غیر ملکی مفادات کی خاطر اپنے معصوم شہریوں کی جانیں نہیں لینی چاہئیں پشاور پر طالبان کے قبضے کی خبریں چلا کر عوام میں مایوسی اور بے چینی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے اور فاٹا پر اتحادی افواج کے حملے کے لئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریب عوام پر ظلم کیا گیا ہے موجودہ حکومت کے چار ماہ میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ اوائل میں یہی حکومت اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اوائل میں یہی حکومت اشیاءکی قیمتوں کو پچاس فیصد کم کر نے کے دعوے کر رہی تھی عوام نے گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے بجلی کا بحران پیدا کر کے عوام کو تاریکیوں میں ڈبودیا گیا ہے جبکہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاو¿س میں ایک منٹ کے لئے بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ہے غریب عوام کی طرف سے ادا شدہ ٹیکس کے پیسے پر حکمران عیش و عشرت کر رہے ہیں جبکہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محدود وسائل کے اندر مکمل کیا گیا ہے ۔مغربی ممالک پاکستان کو توڑ کر اس ایٹمی پروگرام پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کا انحصار ملک کی قیادت پر ہے ۔ہمیں ایٹمی پروگرام بچانے کے لئے ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جن پر قوم کو اعتماد ہو۔ہمارے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے لئے ملک میں غداروں کی کمی نہیں ،ملک بچانے کے لئے میر صادق اور میر جعفر جیسے غداروں سے خبردار رہنا ہو گا ۔ ایک پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ محفوظ ہاتھ کیا ہیں ۔ یہ کس کی حفاظت میں ہے کیونکہ یہ قوموں کے لیڈروں پر منحصر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں ترکی کس قدر مشکلات میں تھا لیکن مصطفی کمال نے دشمنوں کو بھگا کر ملک کو بچالیا ۔ اصل میں لیڈر پر قوم کا اعتماد تھا اور عوام اس کے ساتھ تھے ۔ اسی طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے مخالف قوتوں کے خلاف کامیابی حاصل کر کے ہمیں یہ ملک دیا ۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے لیڈر کس قسم کے ہیں اور قوم کو ان پر اعتماد کس قدر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جانوروں کے بچوں پر بھی کوئی بڑا جانور حملہ کردے تو وہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے اور اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اصل بات کمٹمنٹ کی ہے ۔ اگر یہ نہ ہو اور لیڈر کو کسی کی فکر نہ ہو تو پھر حفاظت میں ہونے یا نہ ہونے کاکوئی مقصد نہیں ہوتا امریکہ 2015ء تک پاکستان کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے آج سے آٹھ دس سال پہلے ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہا تھا کہ پاکستان 2015ء تک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور انہی لوگوں نے 1951-52ء میں کہا تھا کہ 25سال کے اندر اندر پاکستان ٹوٹ جائے گا اور 25سال پورے نہیں ہونے پائے تھے کہ پاکستان 20سال کے اندر ٹوٹ گیا ۔ ہم واحد مسلمان ملک ہیں جو ایٹمی طاقت ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آج تک کسی دوسری تہذیب نے مغربی تہذیب کو خطرے میں نہیں ڈالا ہم لوگ وہ لوگ ہیں جو پیرس تک پہنچ گئے تھے اسلام واحد تہذیب اور مذہب ہے جس نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ابھی بھی چند دن پہلے پوپ نے اعلان کیا کہ ان مسلمانوں کی آبادی عیسائیوں سے زیادہ ہے جو اسلام قبول کررہے ہیں ۔ مغرب کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں وہ ہمیں کبھی قبول ہی نہیں کریں گے ۔ یہ لوگ اپنے منصوبے کے مطابق بلوچستان کو توڑ دیں گے اور سرحد کو توڑ کر افغانستان سے ملا ئیں گے اور صوبہ سندھ اس کو بھی خود مختار بنا دیں گے ۔ جو پنجاب ہے اس کے پاس سب کچھ ہے یہاں ایٹم بم ہیں پنجاب سے بھارت کا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے ۔ ان کا منصوبہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان ٹوٹ جائے اور پنجاب کو وہ اس بات پر راضی کرلیں گے کہ آپ وفاق میں نہیں ہیں آپ ایٹمی پروگرام کو آئی اے ای اے کے مطابق ڈھال دیں جس طرح شمالی کو ریا نے کیا ۔ اس منصوبے کو بڑی خوبصورتی سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور اس ملک میں غداروں کی کمی نہیں ہے جو آپ کو مل جائیں گے اور گورنر بننے کو تیار ہوں گے ایک مچھلی پورے تالابکو گندا کردیتی ہے ۔ سراج الدولہ کے لئے میر جعفر انگلینڈ سے نہیں آیا تھا ٹیپو سلطان کے خلاف میر صادق انگریزوں نے نہیں بھیجا تھا اس لیے غداروں کی کمی نہیں ہے ۔ ہمارے ایٹمی پروگرام پر بہت کم پیسہ خرچ ہوا دوسرے ممالک اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن ہم نے بہت کم خرچے میں ایٹم بم بنایا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آج ہم اسی لئے سکون سے رہے رہے ہیں کیونکہ ایٹمی طاقت ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے آخر میں یہ بھی کہا کہ ہم نے اس ملک کی حفاظت کی ہے۔اے پی ایس

Tuesday, July 1, 2008

Amendments in law for tribal areas prepared: Naek




ISLAMABAD: Minister for law Farooq H Naik said the report about amendments in the law in force in Swat and tribal areas will be presented to the prime minister.He was talking to the journalists after meeting of the committee for legislation in FATA and Swat on Tuesday, adding coalition partners should not talk about quitting the alliance adding it would encourage the opponents. The ordinance will be promulgated in tribal areas after it is passed by assembly. The proposals floated in the assembly meeting aimed at bringing amendment in the laws in place in Swat and FATA will be acceptable to people, he assured. The laws being reformed included Fata regulations and Shariah law. With the implementation of these laws, peace would come in the area, he held.

Asif Ali Zardari says west invested in Pakistan’s military but not in its people







ISLAMABAD: PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari has said that the west invested in Pakistan’s weapons and military but not in its people with the result that the international community had to pay a terrible price for using Pakistan for its short-term political objectives. “We were exploited under colonialism, manipulated as a tool of cold war intrigue, made into surrogate for a war against the Soviets in Afghanistan, and when that war was won, Pakistan and Afghanistan were abandoned to the forces of extremism and fanaticism”, he said in his key note address at the Socialist International Congress in Athens, Greece, on Tuesday.
He said that Pakistan was now the Petri dish of international terrorism and that was a product of failed international politics and not our creation.
The PPP leader said Pakistan could still be converted into a successful model of modernity for 1.3 billion Muslims on earth for which the help of the international community was needed.
“We can’t do it alone. We need the help of the world. If we succeed, we will contain extremism and terrorism. But if we fail, the world will fail with us”.
Asif Ali Zardari urged the world to convene a South and Central Asia Regional Conference to coordinate a multi-faceted international programme to not only contain terrorism militarily, but to choke off the social and economic oxygen of the fire of terrorism by rebuilding the economies and infrastructure of our region.
A prosperous Pakistan will smash the remnants of terrorism from our frontiers better than the bullets, missiles and tanks of the super-powers, he said.
Pleading for the socio economic development of Pakistan he said that it will ensure not only Pakistan’s but also the entire world’s stability.
He said that Pakistan stood against terrorism not as surrogates but as partners to the civilized world because we are fighting for the very soul of Pakistan adding that Pakistan had suffered more victims of terrorism than any nation on earth, including the United States on September 11th.
“Has the UN, or the United States, or the United Kingdom, contributed one cent to the victims of terrorism in our land”?
The PPP leader said people of Pakistan have confidence and hope in their future and it was imperative to address their long neglected social, economic and infrastructure needs.
“We will restore law and order to our land and attack fanaticism and terrorism wherever it rears its ugly head”.
The PPP Co-Chairman said that the government in Pakistan plans to bring economic, political and social transformation of the tribal areas - the hotbed of terrorist activity, and integrate these areas into the mainstream of Pakistani society.
He said that Pakistan was facing a looming energy and water crisis that threatened its resurgence. He said that to meet the challenge the government will create 2,200 new megawatts of power this year alone and tackle the water issue on an emergency basis reducing water consumption by one half.
He said that education had been made a high priority “not just because it is right, but also because it is in the long term strategic interests of Pakistan and the world”.
About the political madrasas and education curriculum he said, “In Pakistan political madrasas have spread hatred and intolerance. We will move to provide a uniform and responsible national curriculum, both for public and seminary education, so that the children of Pakistan have an opportunity for the future free of intimidation and coercion. And if political madrasas will not conform to the national curriculum, we will shut them down.”
He said that Shaheed Mohtarma Bhutto’s life was taken away from her but no one can take away her dreams and her vision that inspired the entire world. Men and women can be killed but great ideas are immortal, he said.

بش انتظامیہ پاکستانی پالیسیوں کی حمایت کرے، امریکی ماہر

واشنگٹن ۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کی سابق ڈائریکٹر ڑینا ڈورمانڈے نے بش انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی پالیسیوں کی حمایت کرے۔ ڑینا ڈور مانڈے کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پسماندہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے دل جیتنے کی ضرورت ہے۔ امریکی جریدے کرسچن سائنس مانٹر میں لکھے گئے مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جانتا ہے کہ یہ طویل جنگ ہے اس مسئلے کا حل بھی طویل المدتی ہونا چاہئے اس کے لئے جمہوریت مستحکم کرکے فاٹا اور صوبہ سرحد میں فوجی کارروائی کی بجائے جمہوری عمل آگے بڑھایا جائے۔ ڑینا ڈورمانڈے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے دو گروپ ہیں جن میں سے ایک گروپ جمہوریت اور امریکی پالیسیوں کا مخالف ہے اور سیکورٹی فورسز اسی کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔ دوسرا گروپ روزگار، تعلیم اور اپنے علاقوں میں بنیادوں سہولتوں کا مطالبہ کررہا ہے اس گروپ سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تو حکومت پاکستان دہشت گردی کی اصل جڑ کا خاتمہ کرسکے گی۔

ایران کو سمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دیں گے۔امریکہ

ماناما ۔ امریکی بحریہ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کیون جے کوس گرف نے ایران کو خبر دار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کو دنیا کے لئے تیل کی سپلائی کاسمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دے گا ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی کمانڈر نے بحرین میں پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے کہا کہ ایران سمندری راستہ بند نہیں کرے گا اور اگر اس نے ایسی کوشش کی تو امریکہ ایران کو سمندری راستہ بند کر نے کی اجازت نہیں دے گا یہ بات امریکی چیف نے ایران کے انقلابی گارڈز کے چیف کے بیان کے رد عمل میں کہی جس میں گزشتہ ہفتے ایرانی چیف نے کہا تھا کہ یہ فطری امر ہے کہ جب ملک پر حملہ ہو تا ہے تو وہ اپنے دشمن کے خلاف تمام صلاحیتیں اور حربے استعمال کر تا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ خلیج فارس اور سمندری راستہ کو روکنا بھی ہمارا ایک ہتھیار ہو گا واضح رہے کہ یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان توانائی کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے اور دنیا کا 40 فیصد خام تیل اسی سمندری راستے کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے امریکن بحریہ کے وائس ایڈمرل کوس گرف نے کہا کہ اگر ایران نے سمندری راستہ بند کیا تو یہ ایکشن امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ عالمی برادری کے خلاف ہو گا

منگل کو بھی ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں مندی

کراچی۔ ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں منگل کو بھی مندی کا رجحان جاری رہا اور تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں انڈیکس کا انقطاع منفی زون میں ہوا۔کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 67.50 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 12221.53 پوائنٹس پر منقطع ہوا۔ملک کی کیپیٹل مارکیٹوں میں اتھارٹیز کی جانب سے کوئی دلچسی نہیں لی جارہی ہے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مارکیٹ اسٹیبلائیزیشن اقدامات کے بعد تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے جبکہ مارکیٹ میں درستگی کے لئے لئے جانے والے یہ اقدامات بھی ناکام ہوگئے ہیں۔منگل کو کراچی اسٹاک ایکس چینج میں مجموعی طور پر 225 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میںسے 54 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 165 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 6 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے ریکارڈ ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم گزشتہ یوم کی نسبت کچھ بہتر رہا اور 4کروڑ69 لاکھ سے زائد رہا مزید براںکے ایس ای 30 انڈیکس میں بھی 95.85 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 14230.42 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔پیر کو بھی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینجز میں کاروبار منفی زون میں منقطع ہوا تھا اور منگل کو بھی لاہور سمیت اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے۔لاہور اسٹاک مارکیٹ میں ایل ایس ای 25 انڈیکس میں 38.76 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 3830.03 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔مارکیٹ میں مجموعی طور پر89 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میں سے 6 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 43 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 40 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جبکہ مارکیٹ میں کاروباری حجم 28 لاکھ64 ہزار حصص سے زائد رہا۔اسلام آباد اسٹاک ایکس چینج میں آئی ایس ای 10 انڈیکس میں 7.46 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس 2742.18 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔مارکیٹ میں مجموعی طور پر 105 کمپنیوں کے حصص سرگرم رہے جن میں سے 29 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ اور 76 کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔دوسری جانب کراچی اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل کے حصص 0.03 فیصد اضافے سے 124 روپے40پیسے ریکارڈ ہوئے دیگر نمایاں کمپنیوں میں عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 0.67 فیصد کمی سے 160روپے40پیسے، پاکستان اسٹیٹ آئل کے حصص 2.77 فیصد اضافے سے 428روپے79پیسے اور پاکستان آئل فیلڈز کے حصص 0.75 فیصد کمی سے 362روپے10پیسے ریکارڈ ہوئے۔

پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

اسلام آباد ۔ پیٹرولم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز موومنٹ کے چیئر مین ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کر دیا ہے پی پی پی پی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فریق بنایا گیا ہے اس حوالے سے انہوں نے طاہر محمود ایڈووکیٹ اور محمد علی ایڈووکیٹ کے ذریعے پٹیشن دائر کی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے تین ماہ میں شدید مہنگائی ہوئی ہے مہنگائی کے باعث رواں سال کے پہلے پانچ ماہ 539 افراد خود کشیاں کر چکے ہیں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ روٹی،کپڑا اور مکان تو دور کی بات ہے اس وقت زندگی کی سانس بر قرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرول اور گیس کی سابقہ قیمتوں کو بر قرار رکھنے کا حکم جاری کیا جائے حکمران اتحاد کی قیادت کے علاوہ پٹیشن میں وزارت پیٹرولیم،اوگرا وزارت خوراک کو فریق بنایا گیا ہے پٹیشن آج (بدھ کو) کاڈسٹ پر آنے اور فریقین کو نوٹسز جاری ہو نے کا امکان ہے

اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد ۔ اوگرا نے قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلو صارفین کے لئے نرخوں میں 31 سے 120 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے 300 سے زائد گیس یونٹس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے لئے نرخوں میں 70 سے 120 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 50 سے 200 کیوبک میٹر گیس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل و صنعتی صارفین کے لئے گیس کے نرخوں میں اضافہ 31 فیصد کیا گیا ہے تاہم ان صارفین سے ماہانہ کم از کم چارجز 30 سے 40 فیصد ہوں گے اس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جو گھریلو صارفین کے جو پہلے 5 سلیپ تھے انہیں بڑھا کر 7 کر دیا گیا ہے ہر سلیپ کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے پہلے گھریلو صارفین کے لئے زیادہ سے زیادہ قیمت310 روپے ملین مکعب بی ٹی یو تھی جس میں اضافہ کر کے 688 روپے کر دیا گیا ہے نئے ٹیرف کے تحت 300 سے 400 یونٹس کی قیمت407.31 روپے 400 سے 500 یونٹس کی قیمت529.31 روپے جبکہ 500 یونٹس سے گیس استعمال کر نے والے گھریلو صارفین کے لئے نرخ 688.35 روپے ایم ایم بی ٹی یو ہو گی واپڈا اور کے ای ایس سی کے پاور اسٹیشنوں کے لئے گیس کے نرخ بڑھا دئیے گئے اس طرح گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے سی این جی کی قیمت میں بھی 13 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اس طرح 300 یونٹس سے زائد گیس استعمال کر نے والے تندوروں پر کمرشل نرخوں کا اطلاق ہو گا ۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب کی قومی و صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا

اسلام آباد ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ ،بلوچستان صوبہ سرحد کے ضمنی انتخابات کے سر کار ی کانوٹیفکیشن کے بعد پنجاب میں قومی اسمبلی کی چار اور پنجاب کی اسمبلی کی گیارہ نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا سر کاری سطح پر اعلان کر دیا ہے تفصیلات کے مطابق این اے 52 راولپنڈی میں کامیاب امیدوار محمد صفدر،این اے 55 سے حاجی پرویز خان، این اے 131شیخوپورہ سے راجہ افضل حسین اور این اے 147 اوکاڑہ سے کامیاب امیدوار خرم جہانگیر ووٹو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اسی طرح پی پی 59 فیصل آباد سے قاسم ضیاء ،پی پی 124سیالکوٹ سے رانا شمیم احمد خان ،پی پی 219 خانیوال سے کرم داد و اہلہ،پی پی 229 پاکپتن سے سر دار واجد علی،پی پی 243 ڈی جی خان سے سر دار ذوالفقار علی کھوسہ، پی پی 258 مظفر گڑھ سے مخدوم زادہ ہارون احمد سلطان ،پی پی 277 بہاولنگر سے میاں فدا حسین ،پی پی 70فیصل آباد سے رانا ثناء اللہ،پی پی 99 گوجرانوالہ سے قیصر اقبال،پی پی 154 لاہور سے سید زعم حسین قادری اور پی پی 171 ننکانہ صاحب سے رانا محمد ارشاد کی کامیابی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔

امریکہ میں تیل بحران شدت اختیار کر گیا کمی پورا کرنے کے لیے وینزویلا سے درآمد کرے گا

واشنگٹن ۔ امریکہ نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں گزشتہ پانچ سالوں کی نسبت تیل کی پیدوار میں11.7 فیصد کمی کے باعث وہ اپنی بڑھتی ہوئی تیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وینزویلا سے خام تیل اور پیٹرولیم مضوعات درآمد کر ے گا جبکہ وینزویلا نے اپنے اتحادی چین کو تیل کی فراہمی بڑھا دی ہے۔ امریکہ نے 2008ء کے پہلے چار ماہ میں وینزویلا سے روزانہ تقریباً1.13 ملین بیرل خام آئل اور پیٹرولی مضوعات درآمد کرتا تھا اب وہ اپنی درآمدات میں اضافہ کرے گا گزشتہ سالوں میں امریکہ نے وینزویلا سے اپنی تیل درآمدات میں کمی کی تھی جس سے وینزویلا کی تیل انڈسٹری کو کافی نقصان ہوا تھا اس کے تدارک کے لیے انہوں نے تیل کی مضوعات بھارت اور چین کو برآمد کرنا شروع کر دی تھی۔ وینزویلا کی آئل کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری یومیہ پیداوار تقریبا 3.2ملین بیرل یومیہ ہے جب کہ مارکیٹ میں اس کا استعمال تقریباً 2.4 ملین بیرل ہے لندن کے ماہر معاشیات لیوڈرولس نے کہا ہے کہ امریکہ میں تیل کی درآمد میں کمی پیٹرولیم مضوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ امریکہ یومیہ تقریباً9لاکھ 90 ہزار بیرل خام تیل اور 1لاکھ 44 ہزار بیرل پیڑولیم مضوعات وینزویلا سے درآمد کرتا ہے۔گزشتہ سال وینزویلا اپنی پیداوار کا تقریباً 60فیصد امریکہ کو برآمد کرتا تھا اور اس میں سالانہ 3فیصد اضافہ ہوتا تھا جبکہ اس کی تقریباً 6.2فیصدبرآمدات میں کمی ہوئی ہے واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر ہوگوشاوز نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تیل خریدنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہ کی تو وہ اس کو تیل کی سپلائی بند کردے گا اور کہا کہ وینزویلا اپنی تیل کی مارکیٹ کو وسیع کرکے وینزویلا اپنی تیل کی پیداوار کو یومیہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار ایشیائی ممالک کو برآمد کرتا ہے اور 2010ء تک اس کی برآمدات تقریباً دو گنی ہو جائے گی۔

جوہری معاہدے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا: من موہن سنگھ

نئی دہلی ۔ بھارت امریکی جوہری تعاون معاہدے پر تقریباً دو ہفتوں سے جاری تعطل اور حکومت کو لاحق خطرات کے درمیان وزیر اعظم من موہن سنگھ نے پہلی بار اپنی خاموشی توڑی اور کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد سے قبل وہ پارلیمنٹ کا سامنا کرنے لے لیے تیار ہیں۔اپنی رہائش پر ایک تقریب کے موقعے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور نیوکلیر سپلائیر گروپ کے ساتھ جاری مذاکرات کو مکمل کرنے کی اجازت دے دی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذکرات کی تکمیل اور معاہدے پر عمل درآمد سے قبل وہ پارلیمنٹ کے سامنے تمام امور واضح طور بیان کر دیں گے۔وزیر اعظم نے بائیں بازو کی دھمکی کی شدّت کو کم کرتے ہوئے اس امید کااظہار کیا کہ اس معاملے پر اتفاقِ رائے کی گنجائش اب بھی موجود ہے اور حکومت بائیں بازو سمیت تمام لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے۔دوسری طرف اس مسئلے پر بائیں بازو کا موقف مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم گروپ آٹھ کی کانفرنس میں شریک ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت بین الاقوامی توانائی کی ایجنسی سے مذاکرات میں پیش رفت کر رہی ہے اور اس صورت میں ہم حکومت سے کسی بھی وقت دست کش ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ سات جولائی کو گروپ آٹھ کی کانفرنس میں جانے سے پہلے اس مسئلے کو سلجھا لینا چاہتے ہیں۔

پاکستان کو موجودہ حالات میں ٤ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔یوسف رضا گیلانی



کراچی ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں چار بڑے چیلنجز کا سامان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک خودمختار ادارہ ہے اور صرف پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔ ہماری ترجیحات میں زراعت کو فروغ دینا ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لائیو اسٹاک و فشریشز کے شعبے کو ترقی دینا شامل ہے۔ ملک میں سوئی گیس سمیت دیگر شعبوں کے ٹیرف میں اضافے کا اثر کم آمدنی والے طبقے پر نہیں ہوگا۔معاشی شرح نمو 7فیصد کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60سالہ تقریبات کے موقع پر منعقدہ مالیاتی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاد اختر ، صوبائی و وفاقی وزراء اور مشیران جبکہ کاروباری کمیونٹی سے بھی کثیر نمائندگی موجود تھی۔ وزیر اعظم نے تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ملک کو سیاسی و معاشی محاذ پر 4بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ، اندرونی عدم استحکام اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں جن کے تدارک کیلئے اقدامات کیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں بینکاری نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیہی علاقوں تک بینکاری نظام کی توسیع کیلئے موجودہ حکومت مکمل کوششیں کررہی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جو صرف پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیحات میں زراعت کو فروغ دینا ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور لائیو اسٹاک و فشریشز کے شعبے کو ترقی دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر کم سے کم انحصار کرنے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے ہی حکومت کی جانب سے زرعی مشینری آلات کی درآمد پر عائد 5فیصد ڈیوٹی سے اس شعبے کو مثتثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ ملک میں سوئی گیس سمیت دیگر شعبوں کے ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کا اثر غریبوں یا کم آمدنی والے طبقے پر نہیں ہوگا ، حکومت انہیں مخصوص فنڈز کے ذریعے زرتلافی دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے پانچ برسوں کیلئے معاشی شرح نمو 7فیصد کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات کیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے گوادر فش فارمز کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا اعلان بھی کیا۔ علاوہ ازیں تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
۔۔۔۔۔ تفصیلی خبر ۔۔۔۔۔
حکومت مجموعی معاشی استحکام بحال کرے گی، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا عزم
مالی سال 2007-08ء اقتصادی اعتبار سے چیلنجز کا سال تھا
معاشی افزائش کی رفتار میں کمی، گرانی کی شرح میں اضافہ،شرح تبادلہ میں عدم استحکام اور بھاری مالیاتی و بیرونی کھاتوں کے خسارے کلیدی چیلنجز ہیں
مانیٹری استحکام اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے اسٹیٹ بینک کا مسلسل تعاون ناگزیر ہے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر لرننگ ریسورس سینٹر، کراچی میں اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام ایک روزہ ڈیولپمنٹ فائنانس کانفرنس سے خطاب

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زری اور مالیاتی اتھارٹیز کے درمیان بہتر ربط اور ہم آہنگی کے ذریعے مجموعی معاشی استحکام کو بحال کیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بات منگل کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر لرننگ ریسورس سینٹر، کراچی میں اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام ایک روزہ ڈیولپمنٹ فائنانس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ختم ہونے والا مالی سال 2007-08ء اقتصادی اعتبار سے چیلنجز کا سال تھا۔ ملک کو اس وقت چار بڑے معاشی چیلنج درپیش ہیں جن میں معاشی افزائش کی رفتار میں کمی، گرانی کی شرح میں اضافہ،شرح تبادلہ میں عدم استحکام اور بھاری مالیاتی و بیرونی کھاتے کے خسارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مجموعی معاشی عدم توازن میں اضافے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک اپنی مالی استطاعت سے دور ہے۔ یہ چیلنجز بہت سخت ہیں تاہم ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت کا عزم بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مالیاتی اور زری اتھارٹیز کے درمیان بہتر ربط اور ہم آہنگی کے ذریعے حکومت ایک مناسب عرصے میں مالیاتی استحکام بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مالیاتی خسارے کو جو گذشتہ سال تقریباً 7 فیصد تھا رواں مالی سال (2008-09)ء کے دوران کم کرکے جی ڈی پی کے 4.7 فیصد تک لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت مالیاتی خسارے کو وسط مدتی عرے کے دوران جی ڈی پی کے 3.0 سے 3.5 فیصد کی حد کے اندر محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جبکہ حکومت آئندہ پانچ برسوں کے دوران معاشی نمو کی شرح 6 فیصد سے 7 فیصد کے درمیان رکھنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا محور زراعت، اشیاء سازی اور خدمات کے شعبوں میں معیاری نمو ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنا اور ٹیکس پالیسیوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کے بڑے پالیسی اہداف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی ترقی کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گی کیونکہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجی شعبہ معاشی افزائش کا حقیقی انجن اور روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ حکومت کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے۔ حکومت کا کردار ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، جس میں نجی شعبہ موثر انداز میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کی جارحانہ مہم اور نجی شعبے کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے گا۔حال ہی میں اعلان کردہ وفاقی بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کی حکومت نے سبسڈیز کوکم کرنے کے علاوہ ان کا از سر نو تعین کیا ہے۔ بجٹ خسارے کی شرح کو 4.7 فیصد کے اندر رکھنے کے لئے سبسڈیز کو کم کرنا ضروری تھا اور سبسڈیز کے از سر نو تعین کا مقصد بنیادی طور پر ہدف شدہ سبسڈی فراہم کرنا ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے تاہم حکومت کا 40 فیصد سے زیادہ مالیاتی خسارہ سبسڈی بل کی وجہ سے ہے۔ڈیویلپمنٹ فائنانس کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے معیشت، انفرااسٹرکچر اور صنعت بالخصوص عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ملک بھر میں مالیاتی سہولتوں تک رسائی کو بڑھانے کی غرض سے ایک جامع ڈیولپمنٹ فائنانس گروپ کے قیام کے لئے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز، ایس ایم ای، ہاؤسنگ اور مائیکرو فائنانس کے شعبوں کے لئے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل اور گائیڈ لائنز کے اجرا کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے قرضہ دہی میں بہتری آئے گی۔ خصوصی قرضہ دہی کے لئے مناسب تربیت بھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گی۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جدید مالیاتی سہولتوں سے محروم آبادی کو بینکاری کی سہولتوں کی فراہمی سے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو براہ راست تقویت مل رہی ہے۔ حکومت نے وفاقی بجٹ میں زرعی شعبے کے لئے ایک جامع مراعتی نظام فراہم کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے کمرشل بینک زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 200 بلین روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس قرضہ دہی سے کم از کم 20 لاکھ قرض گیروں کو سہولت ملے گی جو گذشتہ چند برسوں کے مقابلے میں دگنی سطح ہے۔ اس میں سے 75 فیصد چھوٹے قرض گیر ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی رسائی کو بڑھانے کے لئے اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فصلوں کے بیمے پر پریمئیم پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ختم کردی ہے جبکہ “سفید انقلاب” کے لئے خصوصی اقدام کے تحت لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر کے لئے 1.5 بلین روپے اور فشریز سیکٹر کی ترقی کے لئے 1.1 بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات کو سراہا جو انتہائی مہارت کا حامل ادارہ ہے اور اس نے معیشت کی نگرانی کے لئے موثر طریقہ کار وضع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹری استحکام اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے اسٹیٹ بینک کا مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ڈاکٹر شمشاد اختر کو بہترین سینٹرل بینک گورنر کی حیثیت سے دو ایوارڈز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔کانفرنس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر، وفاقی وزیر محنت، افرادی قوت و اوور سیز پاکستانیز سید خورشید احمد شاہ، وزیر اعظم کی اسپیشل اسسٹنٹ برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور محترمہ حنا ربانی کھر اور وزیر اعظم کی اسپیشل اسسٹنٹ محترمہ شہناز وزیر علی نے شرکت کی۔

پاکستان کی داخلی پالیسی میڈان پاکستان ہونی چاہئے ۔نوازشریف


لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی داخلی پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی اس بارے میں غیر ملکی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس امر کا اظہار میاں نوازشریف نے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سے اپنی رائے ونڈ کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا۔ امریکی وفد میں رچرڈ باؤچر اور لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر برائن ڈی ہنٹ سمیت پانچ افراد شامل تھے جبکہ میاں نوازشریف کی معاونت وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان ، خواجہ سعد رفیق اور سعید مہدی نے کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے امریکی عہدیداروں پر قبائلی علاقوں میں آپریشن ، معزول ججوں کی بحالی اور خطہ کی صورتحال سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر اپنا موقف واضح کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی داخلی پالیسی کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی دباؤ کا متحدمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی داخلہ پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی۔ میاں نوازشریف نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے کہا کہ امریکہ اب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمایت چھوڑ دے۔ انہوں نے کہاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے عوام کی ترقی اور روشن مستقبل ، معزول ججوں کی بحالی اور پاکستان کے سیاسی استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کانٹا ہیں جب تک یہ کانٹا دور نہیں ہوتا پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا اور نہ ہی پاکستان میں جمہوری اور عدالتی معاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ میاں نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران بندوق کے زور پر مسلط کی جانے والی مشرف کی پالیسی بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی عہدیداروں پر اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ غیر ملکی پاکستان کی دوست طاقتیں اگر پاکستان کے داخلی استحکام میں سہولت فراہم نہیں کرسکتیں تو انہیں اس میں مداخلت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق اگرچہ امریکی عہدیداروں کا موقف مسلم لیگ (ن) کے موقف کے قریب نہ تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی فرد واحد کی بجائے پاکستان کے عوام سے دوستی چاہتا ہے اور پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ کل وزیراعظم سے ملاقات میں ہم اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے رچرڈ باؤچر پر واضح کیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریسن کے حق میں نہیں ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ہو یا پاکستان کے داخلی استحکام کا مسئلہ ان تمام معاملات پر پالیسی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد وضع کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری وطن واپس آئیں گے تو ان تمام معاملات کو ان کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متعلق سب سے بڑی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ہمیں حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے کسی معاہدہ یا اس کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ علم ہے کہ کیا معاہدہ کیا گی اور خلاف ورزی کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی کہی گئی کہ پشاور پر بھی قبضہ ہوسکتا ہے لیکن تین روز گزر جانے کے باوجود کہیں بھی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی پھر آخر وہ لوگ کہاں غائب ہوگئے اور سلحہ کہاں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کوئی خاص پیغام لے کر نوازشریف کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے امریکی عہدیداروں پر یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں جب بھی کوئی امریکی عہدیدار پاکستان آیا اس سے قبل قبائل یا بلوچستان میں آپریشن کرکے انہیں لاشوں کے تحفے دیئے گئے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ہے اور ان کے پاکستان آنے سے 24گھنٹے پہلے خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) قبول نہیں کرتی۔

کینیڈا : لاکھوں مکھیاں سڑک پر ، ماہرین کی قابو میں رکھنے کی کوششیں

ٹورنٹو۔ مشرقی کینیڈا میں ماہرین اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ شہد کی تقریباً بیس لاکھ مکھیاں قابو سے باہر نہ ہونے پائیں جو ایک ہائی وے پرلاری الٹنے کے بعد اس میں سے نکل پڑی ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ اب تک حالات اس لیے قابو میں ہیں کہ بارش کی وجہ سے شہد کی مکھیاں اسی لاری کے ارد گرد منڈلا رہی ہیں۔ماہرین کی ایک ٹیم دھوئیں کی مدد سے شہد کی مکھیوں کو پْر سکون رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور بعد میں ان کو اڑانے کی ترکیب کی جائے گی۔ ہائی وے پر ایمبولینس گاڑیاں کھڑی کردی گئی ہیں کہ کہیں کسی کو مکھیوں نے کاٹ لیا تو فوری طبی مدد فراہم کردی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ لاری میں شہد کی مکھیوں کے 330 کریٹ تھے جب یہ لاری سینٹ لینارڈو کے قریب نیو برنزوک میں الٹ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مکھیاں اس لیے ادھر ادھر نہیں گئیں کہ علاقے میں بارش ہو رہی تھی لہذا وہ گاڑی کے قریب ہی منڈلاتی پھر رہی ہیں۔ پولیس کے ترجمان ڈیرک سٹرونگ نے بتایاکہ ’شہد کی مکھیوں کو بارش اچھی نہیں لگتی۔ اب ہزاروں کی تعداد میں مکھیاں لاری کے عقبی حصے کے آس پاس اور فٹ پاتھ کے اوپر اڑ رہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ مکھیاں ایک فصل کی تیاری کے لیے استعمال کی گئی تھی اور جب یہ حادثہ پیش آیا تو انہیں واپس لایا جا رہا تھا۔ بعد میں ہائی وے بند کردی گئی اور مکھیوں کے ماہرین سفید حفاظتی لباس پہن کر موقع پر پہنچ گئے تاکہ کسی طرح مکھیوں کو ٹرک میں واپس لایا جا سکے۔ کینیڈا کے ایک صحافی نے جب ٹرک کے بہت قریب جانے کی کوشش کی تو کئی مکھیوں نے انہیں ڈنگ مارا۔ تاہم ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر موقع پر مکھیاں پالنے والے ماہرین نہ پہنچے تو مکھیوں کے زندہ بچنے کا امکان کم ہو جائے گا۔

کرم ایجنسی میں طوری قبائل نے ٤٤ ایف سی اہلکار کامیاب مذاکرات کے بعد رہا کر دیئے

کرم ایجنسی ۔کرم ایجنسی میں قبائل نے ایف سی کے 44مغوی اہلکاروں کو جرگے کی کوششوں کے بعد رہا کردیا ۔کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ محمد اعظم خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ پیواڑ کے علاقے میں قبائل نے 44ایف سی اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا جن کی بازیابی کے لئے پارہ چنار سے 25رکنی جرگہ قبائل کے پاس بھیجا گیا رات گئے قبائل کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد 44 مغوی ایف سی اہلکاروں کو رہا کرکے جرگہ اور پولیٹیکل حکام کے حوالے کردیاگیا ۔دوسری جانب طوری قبائل کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ سرکاری گاڑیوں میں مخالف منگل قبیلے کے لوگ سرکاری وردی پہن کر تری منگل جارہے ہیں جس پر انہیں اغوا کیا گیا تھا

خیبر ایجنسی ‘ وادی تیراہ میں دو گروہوں میں تازہ جھڑپیں ‘ ٧ افراد ہلاک ‘ ١١ زخمی ہو گئے

تیراہ ۔ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں متحارب گروپوں کے درمیان جاری تازہ لڑائی میں مزید 7افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ11افراد زخمی ہیں۔خیبر ایجنسی علاقے وادی تیراہ میں گزشتہ گیارہ روز سے جاری جھڑپوں میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے۔ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے سندہ پال میں دو مذہبی گرہوں کے مابین جاری جھڑپوں میں تازہ جھڑپ میں سات افراد ہلاک اور گیار ہ زخمی ہو گئے ۔گیارہ روز سے جاری جھڑپ میں مجموعی طور پر اکیاسی افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دو مذہبی گرپوں میں جھڑپوں میں اب تک پا نچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیراورکزئی نے فاٹا کے بارے میں اسفندر یار ولی‘ قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمان ‘ سمیع الحق اور قبائلی ارکان کے مشترکہ جرگہ

اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے فاٹا کی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے اسفند یار ولی خان ، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان ، مولانا سمیع الحق اور قبائلی ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل جرگہ کی تجویز دے دی ۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا بالخصوص خیبر ایجنسی کی صورتحال پر غور کے لیے قبائلی اراکین پارلیمنٹ کا اہم اجلاس ایک دو روز میں منعقد ہو گا۔ گزشتہ روز ایک انٹرویو میں منیر خان اورکزئی نے کہاہے کہ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوںکے حوالے سے جماعت اسلامی ، جے یو آئی ( ف ) ، اے این پی ، جے یو آئی ( س ) کے سربراہوں ان جماعتوں کے دو دو نمائندوں اورقبائلی ارکان پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے جو علاقے کا دورہ کرے ہمیں یقین ہے مسائل کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم ہاوس میں منعقدہ بریفنگ جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی دیگرفوجی حکام نے حکمران اتحاد کے قائدین کو بریفنگ دی تھی یہی طے ہوا تھاکہ پارلیمنٹ کی اکثریت جو فیصلہ کرے گی اسی پر عمل کیا جائے گا۔ فاٹا کے بارے میں پارلیمنٹ میں پالیسی بنائے گی مگر ایسا نہیں ہو رہاہے ۔ صدر پرویز مشرف امریکا سے خوفزدہ ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اس کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے پارلیمنٹ کابینہ کسی کو اعتماد میں نہیں لیا جارہاہے ۔ نہ رائے لی جاتی ہے ۔ سابقہ پالیسی کو جاری رکھا گیا ہے۔ صورتحال پر غور کے لیے ایک دو روز میں فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ کا اجلاس ہو گا ۔

بھارتی ریاست جھار کھنڈ میں پولیس سٹیشن دھماکے سے اڑا دی گئی ‘ ڈی ایس پی سمیت ٣ اہلکار ہلاک ‘ ٤ زخمی

نئی دہلی ۔ بھارت کی ریاست جھار کھنڈ میں پولیس سٹیشن کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا گیا جس میں ڈپٹی پولیس سپرنٹینڈنٹ اور 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ۔ جبکہ 4 اہلکار شدید زخمی ہو گئے ۔ ’’ آل انڈیا ریڈیو ‘‘ کے مطابق پولیس سٹیشن کو بارودی سرنگ سے اڑانے کا یہ واقعہ گزشتہ شام پیش آیا ۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پولیس کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ ڈی ایس پی اور 3 پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ۔

افغانستان کے صوبہ میدان وردگ میں بم دھماکہ ‘ خواتین اور دو بچے سمیت ٦ افراد ہلاک

کابل ۔ افغان صوبہ میدان وردگ میں بم دھماکے کے باعث خواتین اور ان کے دو بچوں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے ۔ پجواک خبررساں ادارے کے مطابق بم دھماکے کا واقعہ گزشتہ رات کو پیش آیا جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ایک افغان سینئر اہلکار عنایت مہنگل نے 6 ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ ہلاکتیں فضائی حملے میں ہوئی ہیں ۔

ماہ جون افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا، ٤٥ فوجی ہلاک

کابل ۔ گزشتہ ماہ جون میں عراق کی نسبت افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج پر طالبان کے حملوں میں تقریباً45فوجی ہلاک ہوئے۔ جو کہ 2001ء کے بعد ایک ماہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ادھر دوبئی میں دہشت گردی اور سیکورٹی کے حوالے سے قائم ایک سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر مصطفیٰ الانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں خراب سیاسی صورتحال کے پیش نظر طالبان کو بہتر ماحول مل رہا ہے گزشتہ ماہ طالبان نے ایک جیل کو توڑ کر886جنگی قیدیوں کو رہا کروایا تھا جس کے بعد پینٹاگون نے مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ماہ جون اتحادی افواج کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا جس میں 45کے قریب بین الاقوامی فوجی مارے گئے جن میں 27امریکی اور 13برطانوی فوجی تھے اور دوسری طرف عراق میں گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 31ہے جنہیں 29صرف امریکہ کے ہیں۔ جبکہ جارجیااور آزربائیجان کا ایک ، ایک فوجی شامل ہے۔ عراق میں اس وقت تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 94ہزار ہے جبکہ خطے میں تقریباً 4ہزار برطانوی بھی موجود ہیں۔ دوبئی میں سیکورٹی اور دہشت گردی کے حوالے سے قام ایک سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر مصطفی الانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسند منظم ہورہے ہیں اور مزید حملے کر رہے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان میں خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے طالبان کو بہتر ماحول مل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جون کے مہینے میں افغانستان میں580 افراد ہلاک ہوئے جنہیں 440کے قریب جنگجو، 34عام شہری اور 44افغان سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ جبکہ اس سال اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2100تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے نواز شریف سے مرکز میں اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا

پشاور۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان خان نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ آئینی پیکج کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ آئینی پیکج کا مقصد معزول ججوں کی بحالی میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ہمار ا موقف ہے کہ پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کی جائے اور ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جائے ۔وہ پشاورہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت پیکج کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور اس کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہ پیکج درست نہیں اور اس کے ذریعے تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس لئے انہوں نے اس پیکج کو مسترد کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے
موقف سے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے ۔جب تک اصلی منصف اور ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان بار کونسل کو مجوزہ آئینی پیکج حوالے کیاگیا ہے اور کونسل پیکج کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر جو تجاویز دیگی مرکزی حکومت نے ان تجاویز کو آئینی پیکج میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔وفاقی وزیرقانون نے کونسل کے اجلاس میں وعدہ کیا کہ جو بھی تجاویز کونسل کی جانب سے ملیں گی ان تجاویز پر غور کیا جائے گا اور ان کو حکومت میں شامل چار بڑی جماعتوں کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے آئینی پیکج وصول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پیکج میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج پر پاکستان بار کونسل کے ہر رکن انفرادی رائے دیں گے ان کی رائے میں یہ پیکج نامنظور ہے ۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی غیر موثر ہوئی ہے ۔یہ تحریک منظم اور موثر ہے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)کو آئینی پیکج سے اختلاف ہے اور نواز شریف کو حکمرا ن جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرنا چاہیے اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھ کر وکلاء کا ساتھ دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اعلان مری پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اب نواز شریف کو مرکز میں اقتدار میں رہنا درست نہیں انہوں نے کہا کہ جب پی سی او کے ججوں نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو اس کے خلاف پنجاب میں ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت ہے اور پنجاب ہی میں ان کی جماعت جلوس نکالتی ہے اور ہڑتال کرتی ہے ۔عجیب و غریب بات ہے کہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے ۔سید رحمان خان نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔

میڈ ان پاکستان داخلہ پا لیسی ۔۔۔۔تحریر: شیخ قیصر



مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فی الحال وہ علیحدہ نہیں ہو رہے جولائی کا پورا مہینہ وہ دیکھیں گے تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ مہلت نہیں دی۔ انھیں 15مئی کے بعد سے سرحد میں آپریشن سمیت کسی بھی معاملے اور فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا جا ر ہا اگر معاملات حل نہ ہوئے تو مرکزی مجلس عاملہ سے رہنمائی اور پھر ان سے بات کی جائے گی۔ پنجاب میں ان کی پوزیشن مستحکم ہے۔ فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر آپریشن پر بحث اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں ناگزیر ہے۔ آج بھی خارجہ پالیسی وہی ہے جو 18فروری سے پہلے پرویز مشرف کے دور میں تھی ‘ قبائلی علاقوں اوردیگر مسائل کے حل کیلئے قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنے کا اختیار فوج یا کسی جماعت کے لیڈر کے پاس نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں ‘قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن اصل میں فوج کشی ہے اور آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قبائلیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے مرہم رکھا جائے، صرف قبائلی علاقوں ہی نہیں پورے ملک کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں ‘ بہت سی بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور یہاں پر امن نہیں چاہتیں ‘حکومتی اتحاد کا مستقبل اعلان مری پر عملدرآمد سے وابستہ ہے اس میں کسی کو شکو ک وشبہات کا شکار نہیں ہونا چاہیے ‘ حکومتی اتحاد سے علیحدگی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے لیکن جب ن والے سمجھیں گے کہ اتحاد میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں باہر آجائینگے ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی داخلی پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی اس بارے میں غیر ملکی دباو¿ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ا مسلم لیگ (ن) نے امریکی عہدیداروں پر قبائلی علاقوں میں آپریشن ، معزول ججوں کی بحالی اور خطہ کی صورتحال سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی پالیسی کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی دباو¿ کا متحدمل نہیں ہے۔ پاکستان کی داخلہ پالیسی میڈ ان پاکستان ہوگی۔ امریکہ اب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حمایت چھوڑ دے جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے عوام کی ترقی اور روشن مستقبل ، معزول ججوں کی بحالی اور پاکستان کے سیاسی استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کانٹا ہیں جب تک یہ کانٹا دور نہیں ہوتا پاکستان میں استحکام نہیں آسکتا اور نہ ہی پاکستان میں جمہوری اور عدالتی معاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ میاں نوازشریف نے امریکہ پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران بندوق کے زور پر مسلط کی جانے والی مشرف کی پالیسی بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی عہدیداروں پر اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ غیر ملکی پاکستان کی دوست طاقتیں اگر پاکستان کے داخلی استحکام میں سہولت فراہم نہیں کرسکتیں تو انہیں اس میں مداخلت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ دہشت گردی کی جنگ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق اگرچہ امریکی عہدیداروں کا موقف مسلم لیگ (ن) کے موقف کے قریب نہ تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی فرد واحد کی بجائے پاکستان کے عوام سے دوستی چاہتا ہے اور پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں مسلم لیگ ن اپنے مطالبات سامنے ر کھنے والی ہے مسلم لیگ (ن) نے رچرڈ باو¿چر پر واضح کیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے حق میں نہیں ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ہو یا پاکستان کے داخلی استحکام کا مسئلہ ان تمام معاملات پر پالیسی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد وضع کی جانی چاہئے آصف علی زرداری وطن واپس آئیں تو ان تمام معاملات کو ان کے سامنے اٹھایا جائے مسلم لیگ (ن) کو خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متعلق سب سے بڑی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے کسی معاہدہ یا اس کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ علم ہے کہ کیا معاہدہ کیا گی اور خلاف ورزی کیا ہوئی۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ پشاور پر بھی قبضہ ہوسکتا ہے لیکن تین روز گزر جانے کے باوجود کہیں بھی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی پھر آخر وہ لوگ کہاں غائب ہوگئے اور سلحہ کہاں چلا گیا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کوئی خاص پیغام لے کر نوازشریف کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی ماضی میں جب بھی کوئی امریکی عہدیدار پاکستان آیا اس سے قبل قبائل یا بلوچستان میں آپریشن کرکے انہیں لاشوں کے تحفے دیئے گئے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ہے اور ان کے پاکستان آنے سے 24گھنٹے پہلے خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کردیا گیا جس کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) قبول نہیں کرتی۔

US ‘won't allow' Iran to shut key Gulf oil route



MANAMA - The commander of the US navy's Fifth Fleet warned on Monday that the United States will not allow Iran to shut the Strait of Hormuz, the Gulf sea lane through which much of the world's oil is supplied.
"They will not close it... They will not be allowed to close it," Vice-Admiral Kevin J. Cosgriff told a press conference in Bahrain, where the Fifth Fleet is based.
His remarks followed comments by the chief of Iran's elite Revolutionary Guards, General Mohammad Ali Jafari, who issued a new warning last week against any attack against his country over its controversial nuclear drive.
"It is natural that when a country is attacked it uses all of its capabilities against the enemy, and definitely our control of the Persian Gulf and the Strait of Hormuz would be one of our actions," Jafari said.
The strait between Iran and Oman is a vital conduit for energy supplies, with as much as 40 percent of the world's crude passing through the waterway from Gulf suppliers.
"Certainly if there is fighting... the scope will be extended to oil, meaning its price will increase drastically. This will deter our enemies from taking action against Iran," Jafari said.
Cosgriff said: "The latest Iranian statements are not helpful."
He insisted that that the international community will work to protect navigation in the Strait of Hormuz, adding that any action by Iran "will not be an action against the United States but against the international community".
According to news reports, more than 100 Israeli warplanes staged a training exercise with Greece earlier this month to prepare for a possible long-distance strike and as a warning to Tehran.
But Cosgriff said he did not see "any reason for Israel to strike Iran" in the short term.
Iran has been slapped with three sets of UN sanctions over its defiance of Security Council ultimatums to suspend uranium enrichment, the process which produces nuclear fuel for civilian reactors but in highly extended form can also make the fissile core for an atomic bomb.
Iran insists its nuclear ambitions extend only to generating electricity for a growing population but both Israel and the United States suspect it of trying to develop a bomb.
There have been several confrontations between Iranian and US vessels in the Gulf this year.
Iran, the OPEC oil cartel's number two producer, has said that using oil as weapon is not on its agenda -- but has also not ruled it out.
A former head of Israel's Mossad foreign intelligence agency, Shabtai Shavit, said in comments published on Sunday that the Jewish state had one year to destroy Iran's nuclear programme or face the risk of coming under nuclear attack.
Israel has the Middle East's sole if undeclared nuclear arsenal.

US Supreme Court underplayed on campaign trail



WASHINGTON - The next president of the United States may be able to appoint several Supreme Court justices -- the powerful judges whose rulings affect the daily lives of Americans -- yet the issue is underplayed on the presidential campaign trail.
The US Supreme Court has nine justices, of which five are considered conservative and four are considered moderate or liberal.
Supreme Court experts believe that at least three of the justices -- John Paul Stevens, 88, Ruth Ginsburg, 75, and David Souter, who at 68 has always felt uncomfortable in the spotlight -- are likely to retire in the next four years.
While two of them were appointed by Republican presidents, all three are now strongly identified with the court's liberal bloc.
If Republican John McCain is elected president he could appoint conservative judges and steer the court firmly to the right -- but if Democrat Barack Obama is elected and appoints liberal judges, he could only maintain the current balance, barring unforeseen health crises among the other court members.
"The composition of the high court is one of the most important issues at stake in the November election," wrote online news site Slate senior editor Dalhia Litwick in a recent editorial.
"While the justices cannot bring down gas prices or bring the troops home, their decisions in the coming years will affect just about everything else," the legal expert wrote.
This year many of the court's decisions were reached by consensus, such as those concerning business rights and workplace discrimination.
But the conservative-liberal split was sharp on crucial issues like the legal rights of prisoners held at the US military base in Guantanamo Bay, Cuba, the ruling stating that capital punishment must be reserved for murder cases, and the overturn of the ban on handguns in the home in the nation's capital.
Obama has promised, if elected, to appoint justices showing "empathy."
McCain has vowed to name only conservative judges like Chief Justice John Roberts and Samuel Alito, both in their 50s and appointed in 2005 by President George W. Bush.
Adding one, two or even three conservative judges would heavily tip the Supreme Court's balance to the conservative side.
While McCain and Obama have commented on the Supreme Court's latest rulings, no new rulings are expected before the election, and the crucial issue is likely once again to underplayed on the campaign trail.
McCain has made some overtures to the Republican party's right-wing base, saying he would appoint conservative judges, while Obama has stressed party unity and steered away from bipartisan squabbling in his campaign.
Under the US constitution all Supreme Court nominations must be confirmed by the Senate, where Democrats will likely increase their majority in the November election regardless of the presidential vote outcome.
So if McCain is elected president, there would likely be an epic confirmation battle over his future choice for a Supreme Court justice.
In the current court the swing vote is held by Justice Anthony Kennedy -- nominally a conservative but who voted to for Guantanamo prisoner rights and against imposing the death penalty on child rapists.
Conservative activists have seized on these two "setbacks' to stress the court's need for more "good judges,' in order to deprive Kennedy of this pivotal role.
Liberals, on the other hand, have raised the alarm.
"One more Bush Justice on the Court, and the decision would likely have gone the other way," said Kathryn Kolbert, president of the left-wing group People for the American Way.
Kolbert's comment came after the Guantanamo ruling giving war-on-terror prisoners the right to challenge their detention in a civilian court.
"That's why it's so important for Americans to realize that in this election year, the Supreme Court is on the ballot," she said.